ایک آزمائش معراج اور دوسرا حلالہ ہے

447
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امت کی یہ دو آزمائش ہیںایک واقعہ معراج اور دوسراقرآن میںشجرہ ملعونہ

ان نرسل بالاٰےٰت الا ان کذّب بھا الاولون واٰتینا ثمود الناقة مبصرةً فظلمو بھا ومانرسل بالاٰیات الاتخویفًاOو اذا قلنالک ان ربک احاط بالناس وماجعلنا الریا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فمایزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO ” اور کوئی بستی نہیں مگر ہم اسکو ہلاک کرینگے قیامت سے قبل یا اسے عذاب دینگے سخت عذاب،یہ کتاب کی سطروں میں ہے اور ہم نے منع نہیں کیا کسی نشانی کو مگر اسے پہلے والے جھٹلاچکے اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی نظر آنیوالی پھر انہوں نے اس کیساتھ ظلم کیا اور ہم نہیں بھیجتے نشانی مگر ڈرانے کیلئے اور جب ہم نے کہا تیرا رب لوگوں پر حاوی ہے اور ہم نے نہیں بنایا خواب کو جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اورشجرہ ملعونہ قرآن میں اور ہم انکو ڈراتے ہیں ۔پس نہیں اضافہ کرتا انکا مگر بہت بڑی سرکشی میں”۔ (بنی اسرائیل آیات:58،59، 60)

 

واقعۂ معراج میں براق اور ہجرت کا مشکل ترین سفر صحابہ کے ایمان کی آزمائش

معراج پرفکری اختلاف مسئلہ نہیں تھا، کمزوری میں اللہ کی طاقت پرایمان حق تھا!

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میںمعراج کا واقعہ اور مختلف معاملات کاذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ولقد صرّ فنا فی ھٰذا لقراٰن لیذّکّروا و مایزیدھم الا نفورًاO ”اور تحقیق ہم نے مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر کر معاملات پیش کئے اس قرآن میںتاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر راہِ فرار اختیار کرنے کا ”۔ (بنی اسرائیل آیت:41)اور فرمایا کہ” سات آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی اورکوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کی تعریف کیساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہومگر تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو۔ بیشک وہ حلیم غفور ہے۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ اور جولوگ ایمان نہیں لاتے ،انکے درمیان چھپانے والا پردہ ڈال دیتے ہیں”۔ (بنی اسرائیل آیت: 44، 45)
اللہ نے یہ واضح کیا کہ لوگوں نے کوئی نشانی مانگ لی تو ہم نے ظاہر کردی مگر انہوں نے اس کا انکار کیا۔ ہم نے قوم ثمود کے سامنے اونٹنی رکھ دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ جبکہ ہم نے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہے اور ہم نے جو خواب آپ کو دکھایا تو لوگوں کیلئے ایک آزمائش کا ذریعہ تھا اور آزمائش کادوسرا ذریعہ قرآن میں شجرہ ملعونہ ہے۔ ہم ان کوڈراتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگربہت بڑی سر کشی کا۔ آخر یہ دو باتیں امت کی آزمائش کیوں؟۔ اس بات کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے ان دو آزمائشوں سے پہلے انسانوں پراپنے غلبے کا ذکر کیاہے۔ جب واقعہ معراج پیش آیا تو نبیۖ مکی دور کی مشکلات میں تھے اور لوگوں کیلئے یہ بہت بڑی آزمائش تھی کہ کس طرح لمحہ بھر میں اتنا بڑا واقعہ ہوسکتا ہے۔ یہ لوگوں کے ایمان کا امتحان تھا۔حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام اس میں پورے اترے۔ کافروں نے اپنی ہٹ دھرمی سے نبیۖ کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ ایمان کا امتحان بن گیا۔ کیا حضرت ابوبکر نے واقعۂ معراج کی تصدیق کی تو صدیق اکبر کا لقب پایا؟۔نبیۖ کاہجرت کے موقع پر ساتھ دینا اس سے زیادہ بڑی بات تھی،اسلئے کہ معراج کے تیز رفتار براق پر سفر کرنے والے رسول اللہۖ کیساتھ رفیقِ غار نے جن مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ غارِ ثورپر کوئی آج بھی چڑھتا ہے تو مشکلات کا احساس کرسکتا ہے۔ پھر نبیۖ کو کاندھے پر چڑھانا تاکہ تعاقب کرنے والے دشمن قدم مبارک کے نشانات کے ذریعے نہیں پہنچ سکیں۔ کوئی کافر ہوتا تو چیخ اُٹھتا کہ اپنے براق کو بلواؤ۔ حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی کے گھر میں معراج کا واقعہ ہوا تھا۔ وہ بھی ابتدائی چندمؤمنات میں سے تھیںلیکن نبیۖ کو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ واقعہ معراج کا ذکر نہ کریں اس سے صحابہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر کی محبت میں ہجرت بھی نہیں کی۔ جب مکہ فتح ہوا تو منکرین کو بھی یقین ہوگیا کہ بت مغلوب ہیں اور اللہ نے واقعی میں انسانوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اہمیت اس بات کی نہ تھی کہ واقعہ معراج جیتا جاگتا سفر تھا یا خواب تھا؟۔ بلکہ اللہ کا لوگوں پر غالب آنا ایمان تھا اور اس پر کسی صحابی یا صحابیہ نے شک کی گنجائش نہیں رکھی۔حضرت عائشہ اور حضرت ام ہانی اپنے عقیدہ معراج کے ظاہری یا خواب کی صورت پر اختلاف کرسکتی تھیں مگر اللہ کا لوگوں پر غالب آنا سب کے نزدیک یکساں یقینی تھا۔ حضرت عائشہ کی رائے یہ تھی واقعہ ٔ معراج خواب تھا اور جمہور صحابہ نے اس کو جاگتے کا واقعہ سمجھ لیا تھا۔ جب قرآن نے بھی اس کو خواب ہی قرار دیا تو اسکے خواب ہونے پر ایمان بھی کوئی کفر نہیں بلکہ عین اسلام ہے لیکن جب نبیۖ نے اس کو ظاہری حالت کا واقعہ بتایا ہو تو بھی اس پر ایمان لانااسلام کاتقاضہ تھا۔ تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشری بھی معتزلہ تھے ، سرسیداحمد خان اور غلام احمد پرویز تک معتزلہ سے متأثر تھے۔

 

نظریہ اضافیت سے معراج کا معمہ حل ہواہے لیکن شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے؟۔

قرآن میں اصل بات یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ کالوگوں پر احاطہ ہے۔ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ لوگوں پر غالب ہے۔ غلبے کا یقین ایک بہت بڑا اثاثہ ہے جس کیوجہ سے جب حق با ت سمجھ میں آجاتی ہے تو لوگوںکا خوف دل میں مانع نہیں ہوتا ہے اور جب ماحول میسر ہوتا ہے تو اس ماحول کے مطابق اظہار ضروری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں اہل حق کے گروہ کے ذریعے ایک ماحول دنیا میں بناتا ہے۔ جس کے مقابلے میں باطل کو صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی شکست ہوجاتی ہے۔
واقعۂ معراج پر مسلمانوں کا ایمان کافروں کیلئے معمہ تھا مگر جب البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت دریافت کیا تو پھر یہ معمہ نہیں رہا۔ قرآن میں دوسری بات شجرہ ملعونہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے؟۔ جبکہ اللہ نے اسکے بعد آدم کو سجدے کے واقعے کا ذکرکیا ہے۔اللہ نے حضرت آدم وحواء کو حکم دیا کہ” اس درخت کے قریب مت جاؤ، پھر ظالموں میں سے ہوجاؤگے”۔ یہ کونسادرخت تھا؟۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں اللہ نے ایک درخت کے قریب جانے سے روکا اور قرآن میں یہ حکم دیا کہ لا تقربوا الزنا ”زنا کے قریب مت جاؤ”۔قریب نہ جانے کا حکم مشترک ہے، دیکھنا یہ ہے کہ دونوں سے مراد ایک ہے یا نہیں؟۔ شیطان نے کہا کہ کیا میں تمہیں شجرة الخلد (ہمیشہ رہنے والاشجرہ نسب ) بتادوں ،جسکا مُلک کبھی ختم نہ ہو؟۔ پھر دونوں کو ورغلایااور انکے کپڑے اتروادئیے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ کیا میں نے تم دونوں کو تمہارے اس شجر سے روکا نہیں تھا؟۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے اپنے اختیار سے یہ نہیں کیا۔ اللہ نے قرآن میںروزہ کی حالت میں بیوی سے مباشرت کرنے سے منع کیاہے لیکن ایک صحابی نے بے بس ہوکر روزہ توڑ دیا تھا انسان کی یہ کمزوری ہے۔

 

قرآن میں شجرہ ملعونہ کا ادراک حدیث میں حلالہ کی لعنت سے بالکل ہوسکتا ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت آدم وحواء سے پہلا بیٹا قابیل پیدا ہوا تھاجس نے ظلم سے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا تو کیا شجرة الخلد یہی شجرہ تھا جس سے آدم وحواء خودکو نہ روک سکے تھے؟۔بخاری میں ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ جب رمضان میںرات کو بھی یہ سمجھا جارہا تھا کہ بیگمات سے مباشرت جائز نہیں تو اللہ نے فرمایا کہ علم اللہ انکم تختانون انفسکم (اللہ جانتا ہے کہ تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہو) احل لکم لیلة الصیام ان تباشروھن( تمہارے لئے روزہ کی رات ان سے مباشرت حلال ہے)۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ” اے بنی آدم! تمہیں شیطان دھوکہ نہ دے کہ تمہیں ننگا کردے جیسے تمہارے والدین کو ننگا کیا تھا اور جنت سے نکلوادیا تھا”۔قرین قیاس لگتاہے کہ ناجائز تعلق ہی شجرہ ملعونہ اور شجرہ ممنوعہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن میں شجرہ ملعونہ کا اس امت کی آزمائش سے کیا تعلق ہے؟۔ حدیث میں حلالہ کرنے اور حلالہ کروانے والے پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے اور اُمت مسلمہ میں حلالہ کی لعنت کوشجرہ ملونہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کی آیت میں اسکا ذکر اور اس امت کیلئے اسکا دوسری بڑی آزمائش ہونے کا کیا مطلب ہے؟۔
شیطان نے اتنے جوڑے جدا نہیں کئے ،اتنے خاندان تباہ نہیں کئے، اتنی بے راہ روی نہیں پھیلائی جس طرح قرآن، رحمان اور ایمان کے نام پر حلالہ کے حکم کی وجہ سے علماء ومفتیان اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ بہت لوگ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہتے ہیں لیکن علماء ومفتیان اور اُمت مسلمہ میں مسلمان کا ماحول انکے درمیان حلالہ کے نام پر رکاوٹ ہے۔ حلالہ کی لعنت سے عزتوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں،آخر یہ کب تک چلے گا؟۔

 

بدرالدین عینی اور ابن ہمام نے نامعلوم بزرگوں کی بنیاد پر حلالہ کو کارِ ثواب کہا!

جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فحاشی سے منع کیا ہے مگر لوگ اس سے باز نہیںآتے ہیں۔اسی طرح سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حلالہ کی لعنت کا راستہ کھولا نہیں بلکہ روکا ہے لیکن مولوی ومفتی حضرات مذہب کے لبادے میں اس پلید شراب سے جان نہیں چھڑارہے ہیں۔
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔بریلوی مکتبۂ فکر کے مفتی شاہ حسین گردیزی کے پاس ایک بریلوی عالم دین آئے تھے ، مختصر نشست میں زیادہ بحث میں الجھنے کی گنجائش نہ تھی۔ اس نے کہاکہ حضرت آدم ایک نبی تھے اور شجرہ ممنوعہ کے پاس جانا گناہِ کبیرہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: الذین یجتنبون کبٰئر من الاثم والفواحش الا اللمم…… . .. . فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO”اور جو لوگ کبائر گناہ سے اجتناب کرتے ہیں اور فواحش سے مگر بے بسی کے عالم میں۔بیشک تیرا رب واسع المغفرت ہے۔وہ تمہیں جانتا ہے کہ تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین تھے۔ . پس اپنے نفسوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔ اللہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ رکھتا ہے”۔(سورہ النجم : 32)
فقہ حنفی کے مشہورومعروف فقہاء علامہ بدر الدین عینی اور امام ابن ہمام نے اپنے نامعلوم بزرگوں سے نقل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ثواب کی نیت سے حلالہ کی لعنت کو کارِ ثواب قرار دیا۔ لیکن صدیاں گزرنے کے باجود کسی میں اتنی جرأت نہیں ہوسکی کہ ان معتبر ہستیوں کی بات عام کرنے کی جسارت کرتے۔ علماء ومشائخ نے توجہ نہیں دی اور بگلے آنکھیں بند کرکے مچھلیوں کا شکار کھیلتے رہے۔ جب اللہ نے شجرہ ملعونہ کا ذکر قرآن میں کیا ہے اور حدیث میں حلالے ہی کو لعنت قرار دیا گیا ہے تو یہ واقعی قرآن کے مطابق امت کیلئے آزمائش تو ہے۔ لذت بھی ایسی چیز کی جو انسان کی فطری کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہمیں جنت سے بھی نکالا گیا ہے

 

بڑے بہادر علماء حلالہ کی لعنت کو سمجھ کر اکابر کے ڈر سے حق کا فتوی نہیں دیتے!

پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے۔ دیوبندی بریلوی علماء کا تعلیمی نصاب ہی امت مسلمہ کی جان حلالے کی لعنت سے چھڑاسکتا ہے لیکن افسوس کہ بڑے بہادر کہلانے والے علماء ومفتیان اندورنِ خانہ ہمارے مؤقف سے سوفیصد متفق ہونے کے باجود کسی اور سے نہیں اپنے مکتب کے علماء و مفتیان اصاغر واکابر سے خوف کھا رہے ہیں اور قرآن وسنت کے واضح مؤقف کو قبول کرکے امت کی جان حلالے کی لعنت سے چھڑانے کی ہمت نہیں کررہے ہیں۔ مؤمن کوشجرہ ملعونہ اور اس کی پشت پناہی والوں کے مغلوب ہونے پر یقین ہے۔ ایک طرف اللہ کے واضح احکام ہیں اور دوسری طرف اتخذوا احبارھم ورہبانہم ارباباً من دون اللہ کے علمبردار ہیں۔ بظاہر یہودو نصاریٰ کے نقش قدم پر چلنے والے بہت مضبوط ہیں لیکن اللہ کی ذات سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔جس دن طلاق سے رجوع اور آیت میں حلال نہ ہونے کا راز کھل گیا تو شجرہ ملعونہ کی پشت پناہی کرنیوالے مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہونگے مگر جنہوں نے غلطی سے معاملات خراب کئے ہوں اور ان کاقصد شیطان کی پیروی نہ ہو بلکہ غلطی سے شیطان کے جال کا شکار ہوگئے ہوں تو انسان خطاء کا پتلا اور اللہ حلیم غفور ہے۔
سورہ بقرہ آیت230: فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ”پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ امت مسلمہ کے فقہاء اس آیت سے حلالہ کی لعنت کا حکم مراد لیتے ہیں اور اچھے لوگ حلالے کو لعنت سمجھ کر اس سے انتہائی نفرت بھی کرتے ہیں۔ یہ شجرہ ملعونہ واقعی بڑی لعنت اور بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ طلاق سے رجوع کیلئے جو توازن شوہر وبیوی کے درمیان رکھا ہے، جس دن امت مسلمہ نے اس توازن کو سمجھ لیا تو بات بنے گی۔

 

”میرا جسم میری مرضی” والیوں نے عورت مارچ میں بہادری کی بھی حد کردی!

سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ انسان، جانور، پرندے کے جوڑوں میں مقناطیس کی کشش کے علاوہ غیرت اور حمیت بھی ہے۔ انسانوں میں یہ فطرت نہ ہوتی تو ایک مرد اپنی بیگم سے بچے جنوانے کے بعد اس کو پھینک دیتا اور معاشرے میںعورت جانوروں یا مرغیوں کی طرح اکیلی بچے جننے اور انڈوں سے چوزے نکالنے کے بعد اپنے بچوں کا لشکر لے کر گھوم رہی ہوتی۔ جانوروں اور پرندوں میں شریف جانور بھی ہوتے ہیں جو غیرت رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو ماں باپ مل جل کر پالتے اور سنبھالتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر امن کی علامت ہیں اور اچھی نسل کی چیزوں میں جنسی بے راہ روی کا ماحول نہیں پایا جاتا ہے۔ نر ہرجگہ جنسی تشدد پر آمادہ ہوتا ہے اسلئے کوئی بھی بہادر مرغا کسی مرغی کو دیکھ کر اپنی جنسی تسکین اور تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ جب انسان اپنے مقام سے گرجاتے ہیں تو ان کو جانور بلکہ جانور سے بدتر کہا گیا ہے۔
اردو کی مشہور شاعرہ پروین شاکر نے اپنے شوہر کی بیوفائی کے باوجود جس عورت پن کا بڑا مظاہرہ کیا ہے جب تک اردو زبان زمین پر زندہ رہے، پروین شاکر کا نام بھی روشن رہے گا۔ مرد نے بھی اپنی عورت کیلئے قربانیاں دی ہیں اور وہ ساغر صدیقی کی صورت میں زندہ ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ” میرا جسم میری مرضی” کے عنوان سے عورت کے پیچھے جس طرح مافیا پڑگیا تھا تو یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ عورت مارچ میں جس طرح اسلام آباد کی عورتوں نے بہادری کی تاریخ رقم کردی ہے ۔ ایک طرف بپھرا ہوا مذہبی طبقہ تھا اور دوسری طرف نہتی خواتین کا بلٹ پروف کے بغیر پتھر کی پہنچ پر حوصلہ افزاء اسٹیج تھا، یہ کسی بدکردار اور بدعنوان عورت کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ” قوم دب جاتی ہے تو اسے دبانے والا طبقہ آخری حد تک پہنچادیتا ہے۔ پھر اس میں مزید دبنے کی گنجائش نہیں ہوتی ہے”۔

 

سورہ بقرہ :224سے 232 سمجھ میں آجائیں تو قرآن کوپذیرائی ملے گی!

قرآن کی آیت230 البقرہ سے پہلے 224سے 229تک اپنے متن کیساتھ دیکھنے کی زحمت کی جائے اور پھراسکے بعد231اور 232البقرہ بھی دیکھ لی جائیں۔ پھر سورۂ طلاق کو بھی دیکھ لیا جائے۔ یاد رہے کہ درسِ نظامی میں حنفی اصول فقہ کی داخلِ نصاب کتابوں کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شجرہ ملعونہ کو کھل کر واضح کیا جائے تو اس آزمائش سے نہ صرف پوری امت مسلمہ سرخرو ہوکر نکلے گی بلکہ پوری دنیا میں اسلام کے معاشرتی نظام کے غلبے کا ڈنکا بجے گا۔عورت آزادی مارچ کی بات کرنے والی خواتین بھی قرآن ہی کو اپنانصب العین بنالیں گی اور سب سے زیادہ عزت عربی مدارس کے علماء وطلبہ کو اسلئے ملے گی کہ لوگ قرآن کا عربی متن سیکھنے کیلئے ان کو اپنا استاذ بنائیںگے۔ قرآن مردہ قوموں کی تقدیر بدل کر زندہ کردیتاہے۔
قرآن کی ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔اللہ الفاظ پر نہیں بلکہ دل کے نقصان دہ فعل پر پکڑتا ہے۔ طلاق کا اظہار نہ ہو تو ناراضگی کی صورت میں چار ماہ کی مدت ہے ۔ اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر پکڑبھی ہوگی اسلئے کہ طلاق کا اظہار کرنے کے بعد انتظار کی مدت تین ماہ ہے۔ ایک ماہ عدت بڑھنے کا گناہ ہے۔ طلاق پرعدت اور عدت کی تکمیل کے بعدباہمی رضامندی سے صلح کادروازہ کھلاہے اور جب عورت راضی نہ ہوتو عدت میں بھی صلح کا دروازہ بندہے۔ طلاق کی تین صورتیں ہیں ، دونوں کا منشاء جدائی کا ہوتو پھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ اسکے باوجود بھی کبھی شوہر اجازت نہیں دیتا اور کبھی عورت شرم کرتی ہے اسلئے اس کاحکم آیت230 میں واضح ہے۔شوہر نے طلاق دی ہو اور عورت جدائی نہ چاہتی ہو تو اسکا حکم آیت231میں ہے۔ اور عورت نے طلاق لی ہوتوپھر اپنے شوہر کے پاس جاناچاہتی ہو تو اسکا حکم آیت232میں ہے