مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسکینڈل سے حلالہ کی لعنت کا فتویٰ زیادہ خطرناک و شرمناک ہے

مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسکینڈل سے حلالہ کی لعنت کا فتویٰ زیادہ خطرناک و شرمناک ہے جسکا تدارک کرنا ہوگا

سید بلال قطب نے اگر واقعی مدرسے میں سات (7)سال تعلیم حاصل کی ہے اور پھر قرآن کی آیت وحلائل آبنائکم بیٹوں کی بیگمات کا بھی پتہ نہیں تھاتو نالائق کو اسلامی اسکالر بنانا کیسا تھا؟

حنفی مسلک یہ ہے کہ عدت میں نکاح باقی رہتا ہے ۔ قرآن میں اصلاح کی شرط پر عدت میں اور عدت کی تکمیل پر رجوع ہے مگرپھر بھی قرآن کیخلاف حلالہ کی لعنت پر مجبور کیاجاتا ہے

حریم شاہ اور مفتی عبدالقوی کے اسکینڈل نے الیکٹرانک، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر بدتمیزی کا ایک طوفان برپا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”ہوسکتا ہے کہ جس چیز کو تم اپنے لئے برا سمجھتے ہو وہ تمہارے لئے خیر ہو”۔ عبدالقوی کا تعلق تبدیلی سرکار سے تھا۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے صدر تھے اور اب اس کے چچا نے پریس کانفرنس کے ذریعے سے بتایا ہے کہ اسکے مفتی کا منصب بھی ختم کردیاہے۔

سید قطب نے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور مولاناراغب نعیمی کیساتھ پروگرام میں بتایا ہے کہ اس نے خود بھی سات سالہ مدرسے کانصاب باقاعدہ پڑھاہے لیکن داڑھی اور مذہبی لبادہ نہ رکھنے کی وجہ سے اپنے ساتھ مولانا یا مفتی نہیں لگاتا ہے اور پروگرام میں علامہ طاہر اشرفی سے بھی فون پر سید قطب نے بات کی ہے۔

اگر علامہ راغب نعیمی حضرت مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے فرزند نہ ہوتے تو شاید ٹی وی (TV)اسکرین پر اتنا آنے کا موقع بھی نہ ملتا۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پہلے کسی کے نام کیساتھ مفتی لگانے کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا۔ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے بہت فتوے دئیے ہیں لیکن ان کیساتھ کسی نے ”مفتی ” نہیں لکھا۔ جب مدارس میں باقاعدہ تدریس کا نظام شروع ہوا تو اس میں ایک عالم کو فتوؤں کیلئے خاص کردیا جاتا تھا اور اس کو مفتی اپنے فرائضِ منصبی کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔ پھر جب مدارس میں مزید تدریس کا عمل منظم ہوگیا تو پھر دارالافتاء میں زیادہ مفتی بیٹھنے لگے اور پھر باقاعدہ افتاء کا کورس بھی پڑھایا جانے لگا۔ اب لوگ کورس کرنے کی بنیاد پر بھی مفتی لکھتے ہیں۔

مفتی شاہ حسین گردیزی کے سامنے قاری اللہ داد صاحب کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ کسی نے قاری اللہ داد سے پوچھا کہ آپ مفتی ہیں تو قاری صاحب نے کہا کہ میں مفتی تو نہیں ہوں مگر مفتی کا باپ ضرور ہوں۔ ہمارے ہاں محاورہ ہے کہ اگر جانور گھر میں پلابڑھا ہو تو اسکے دانت دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دودانت یا چھ؟۔ اس کی عمر کا انسان کو پتہ ہوتا ہے۔ حریم شاہ وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فیاض الحسن چوہان سے ہوتے ہوئے مبشر لقمان کے علاوہ سرکاری حساس مقامات میں اپنی ویڈیو اور اسکینڈل کا اظہار کرچکی ہے۔ تصاویر اور ویڈیو سے لیکر سب چیزوں میں ایڈیٹنگ بھی ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے جلسۂ عام میں کہا کہ ”عمران خان نے گھر کو ریگولرائز کیا ہے اور اب ایک دوسری چیز کا ریگولرائز کرنا باقی ہے”۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مولانا کی طرف سے ذاتیات پر حملے کو قابل افسوس عمل قرار دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پر ڈیزل اور عمران خان پر عدت میں شادی کرنے کے الزام میں کوئی صداقت ہے یا نہیں لیکن قوم کے سامنے بھرپور وضاحت بہت ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت بھی ڈاکٹر نہیں لیکن اسکے ساتھ ڈاکٹر لکھنا جعل سازی ہے۔ تحریکِ انصاف میں شمولیت سے پہلے اس نے الزام لگایا کہ عمران خان نے عدت کے اندر شادی کی ہے۔ جیو ٹی وی چینل پر عمر چیمہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ثبوت ہیں کہ عمران خان کی بشریٰ بی بی سے عدت میں شادی ہوئی ہے۔ عمران خان وزیراعظم بن گئے لیکن عمر چیمہ کے اس چیلنج کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹرعامر لیاقت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی مگر اپنے الزام کی کوئی تردید نہیں کی ۔

ہم نے لکھا ہے کہ ” صحیح حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض ہے اور سعودیہ میں اسی پر عمل بھی ہورہاہے”۔ اگر بشریٰ بی بی کی عدت طلاق کے حوالے سے پوری نہ ہو تو خلع کے اعتبار سے ضرور پوری ہوئی ہوگی۔صحیح حدیث ہے کہ عورت کا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ اسکا اطلاق کنواری پر ہوتا ہے اسلئے کہ قرآن میں طلاق شدہ اوربیوہ کو نکاح کیلئے آزاد قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے علماء کرام اپنے نصاب میں قرآن وحدیث کو ٹکراتے ہوئے صحیح حدیث کو بھی رد کردیتے ہیں حالانکہ قرآن کا مقصد طلاق کے بعد اپنے شوہر کی دسترس سے آزادی دلانا ہے ۔ اگر مفتی عبدالقوی صاحب حریم شاہ سے نکاح کرنے کے جھانسے میں نہ آتے بلکہ وہ اسکے باپ سے اجازت طلب کرتے تو سید زادی کو شہرت حاصل ہونے کے بعد اسکا عزت دینا بنتا تھا۔ مفتی عبدالقوی کس طرح کے انسان ہیں؟۔ عمران خان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمران خان کے دھرنے میں پھیرے دینے والی زویا علی کہتی تھی کہ عمران خان مجھ سے شادی کرلو۔ عائشہ گلالئی کو بھی لگا تھا کہ عمران خان اس سے شادی کرنے کے موڈ میں تھا لیکن اسکے نصیب کی بارش ریحام خان اور پھر بشریٰ بی بی پربرس گئی۔

اصل بحث معاشرے کی اخلاقیات اور شریعت کی ہے۔ مفتی سے بڑا رول ماڈل وزیراعظم ہے۔ دھرنے میں ہماری سول و ملٹری اشرافیہ کی خواتین اور دوشیزاؤں نے بھی عمران اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیروکاروں نے اپنی اپنی کلاس کی نمائندگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کے ٹائیگروں نے اپنی ٹائیگرنیوں کو جس طرح سے بھنبھوڑا تھا وہ بھی قوم کے سامنے تھا۔ پھرجبری جنسی تشدد کا دائرہ بچوں اور بچیوں تک پہنچ کر تشدد سے لاش مسخ کرنے کی حدوں تک وسعت اختیار کرگیا۔ اب تو خواتین کا رونا بھی ختم ہوگیا ہے اسلئے کہ آنسو بہانا مذہبی لوگوں کی طرح محض تکلف تونہیں تھا۔

جہاں تک مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسیکنڈل کا مسئلہ ہے تو اس پر علماء کیلئے کونسی شرمندگی کا مسئلہ ہے؟۔ عربی مقولہ ہے کہ وللناس فی مایعشقون مذاہب ”لوگوں کیلئے اپنی اپنی پسندیدہ چیزوں میں اپنے اپنے مشرب ہوتے ہیں”۔ علامہ اشرفی پر شراب کا اسکینڈل مشہور ہوگیا۔ فیصل آباد کے بڑے مدرسہ میں طلبہ نے جنسی تشدد پر شیخ الحدیث مولانا نذیر احمدکے خلاف آواز اُٹھائی تھی۔ مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کا اسکینڈل مشہور ہوا تھا۔ نوازشریف پر طاہرہ سید کے اسکینڈل کی بازگشت تھی۔ سمیع ابراہیم نے مسلم لیگ کی رہنمامائزہ حمید،پرویزمشرف ، صدرزرادری کی ویڈیوز کا معاملہ اُٹھایا اور سچی بات یہ ہے کہ جب مریم نواز نے پی ڈی ایم (PDM)کے چندجلسوں میں بنوں، مالاکنڈ اور لورالائی میں شرکت نہیں کی تو یہ احسا س ہوا کہ ان علاقوں کا ماحول اتنا سازگار نہیں ہے کہ کوئی خاتون اس طرح اسٹیج پر مردوں کے مجمع میں خطاب کر سکے مگر جب اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے مریم نواز کیساتھ چند خواتین کو مردوں کی بہت قربت میں دیکھا تو بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کو اپنے لیڈر نوازشریف سے محبت ہے تو اس کا اظہار خواتین سے کچھ فاصلہ رکھ کرکیا جاسکتا ہے۔

بیت اللہ کے طواف میں بھی خواتین اجنبی مردوں کیساتھ ہڈی پسلی ایک کرکے حجرِ اسود کو چومتی ہیں تو ان کو شریعت اور اخلاقیات کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ علماء اور دانشوروں کو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر حق کی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ کوئی معیاری اخلاقیات تو نہیں لیکن شریعت میں اس کی بھی اجازت ہے کہ بی بی بشریٰ نے شوہر سے خلع لیکر اپنے مرید سے شادی رچالی ہے مگر جوہوگیا سوہوگیا۔

جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو یہ کتنا بڑا سانحہ تھا؟۔ جس کو افک عظیم کہا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اس کو اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے”۔ اس واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ غلط گمان پر بہتان لگانا بڑا جرم ہے۔ غلط بات کی تشہیر بھی درست نہیں اور جب نبیۖ کی عزت وناموس پر بہتان اور اذیت ناک معاملہ آیا تو نبیۖ نے صحابہ کرام کوپھر بھی اشتعال نہیں دلایا ورنہ تو ان لوگوں کے ٹکڑے کردئیے جاسکتے تھے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ کسی پاکدامن عورت پر بہتان لگانا اتنا بڑا جرم ہے کہ سورہ نور میں زنا کی سزا سو (100)کوڑے اور بہتان کی سزا اسی (80)کوڑے ہے اور موجودہ دور میں اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ام المؤمنین اور کسی غریب خاتون پر بہتان کی سزا قرآن نے ایک ہی رکھی ہے اور ہمارے ہاں جسکے پاس زیادہ حرام کی کمائی ہو وہ ہتکِ عزت کا بڑا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ غریب اور امیر کیلئے اسی (80)کوڑے کی سزا ایک جیسی ہے لیکن غریب کیلئے کم پیسوں کی سزا زیادہ اور امیر کیلئے کچھ نہیں ہے۔

اب آتا ہوں اصل مقصد کی طرف کہ انجینئر محمد علی مرزا، عمران خان کا بی بی بشریٰ سے خلع کے بعدنکاح اور مفتی عبدالقوی کا حریم شاہ سے اسکینڈل اتنی زیادہ بڑی بات نہیں ہے جتنی مفتی عبدالقوی کی یہ بات تھی کہ اگر کوئی محترمہ حلالہ کروانا چاہے تو میں اس کیلئے تیار ہوںکیونکہ جب مدارس میں علماء ومفتیان فتویٰ دیں گے کہ جب تک وہ عورت اس طلاق کے بعد کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی تو پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوگی۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ عورت کو حلالہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور علماء ومفتیان پھر بھی کسی منکوحہ عورت کو حلالہ کرنے پر مجبور کریں تو یہ حریم شاہ کیساتھ رنگ رنگیلے معاملات سے زیادہ گھناؤنا معاملہ ہے۔ جہاں سپریم ادارے پارلیمنٹ میں بھی اس قسم کی تقریریں ہوتی ہوں جو پیپلزپارٹی کے قادر پٹیل مراد سعید کے خلاف کررہے ہیں تو وہاں اخلاقیات کی اس قوم سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ” پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ اور شوہر سے نکاح کرلے”۔( آیت230سورة البقرة )

اس آیت میںتیسری طلاق کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ نبیۖ سے صحابی نے پوچھ لیا تھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ میں معروف رجوع کے بجائے او تسریح باحسان احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہی تیسری طلاق ہے جس کا ذکر آیت(229البقرہ) میں ہے۔ جس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی ان سے واپس لے لو مگر جب دونوں اس خوف پر متفق ہوں کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور (اے فیصلہ کرنے والو!) اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ جو شوہر نے اس عورت کو دیا ہے کہ پھر وہ عورت کی طرف سے اس کو فدیہ کردیا جائے اور یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ آیت(229)پھر اسکے بعد آیت (230)میں طلاق کا ذکر ہے۔

آیت (228)میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے تین مراحل کا ذکر کیا ہے اور اس میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کرنے کی اجازت دی ہے۔ آیت(229)میں بھی تین مراحل اور تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی ہے۔ باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بنیادی طور پر عدت اور اصلاح سے عورت کے حق کو تحفظ دیا ہے۔ یعنی عدت کے بعد عورت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور طلاق سے رجوع کیلئے باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع شرط ہے۔ طلاق کا تعلق عدد سے نہیں عدت سے ہے۔ دو مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے جس کونبیۖ بھی واضح کرچکے تھے۔ یہ تصورہی غلط ہے کہ ایک عدد طلاق دی جائے اور عدت کے بعد بھی دوعدد طلاق باقی ہوں حتی کہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح کرلے تب دو طلاق باقی ہوں اور جب دوسرا طلاق دے اور پہلا نکاح کرلے تو سوال پیدا ہوکہ پہلا نئے سرے تین طلاق کا مالک ہوگا یا پھر پہلے سے موجود دو طلاق کا مالک ہوگا؟۔

طلاق سے رجوع کیلئے بنیادی شرط باہمی اصلاح اور معروف رجوع ہے جس کی وضاحت آیت(231)اور(232)البقرہ میں بھی متصل ہے۔ اگر ایک طلاق کے بعد عدت میں عورت راضی نہ ہو تو بھی شوہر کیلئے رجوع حرام ہے اور اگر عدت کی تکمیل کے بعد میاں بیوی باہمی اصلاح اور معروف رجوع پر راضی ہوں تب بھی حلال ہے اور جہاں تک آیت(230)میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے تو اسکا مقصد عورت کو شوہر کی دسترس سے باہر نکالنا ہے۔ کیونکہ شوہر طلاق کے بعد عورت کو اس کی مرضی سے جہاں چاہے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ اس آیت نے بڑے ظالم مردوں سے عورتوں کی جان چھڑائی ہے لیکن علماء وفقہاء نے حلالہ کی لعنت رائج کردی ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

Leave a Reply

Back to top button