رسول اللہۖ نے آخری وصیت میں نماز اور عورت کے حقوق کی تلقین فرمائی تھی۔

مہاجرمکی کے نا نوتوی اور گنگوہی میں اختلاف تھا، شیخ الہند اورمولانا حسین علی اور انکے شاگردوں کے شاگرد مولانا غلام اللہ خان،سرفراز صفدراورمولاناطاہرپنج پیری میں اور مولانا طیب اور مفتی منیر شاکرمیں بھی اختلاف ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانامحمد طیب طاہری کی طرف سے قرآن کے ترجمے میں گالیاں یوٹیوب پر دی گئی ہیں جو مفتی منیر شاکر اور انکے اختلاف کا شاخسانہ ہے۔ مذہبی طبقات میں نفرت بہت بڑھ رہی ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ قرآن کی تجلیوں سے رہنمائی ہو اب ایسی کہ پیوندِ خاک قوم بھی عروجِ ثریا پر جا پہنچے

رسول اللہۖ نے آخری وصیت میں نماز اور عورت کے حقوق کی تلقین فرما دی اور پھر کچھ فرمایا جس کی سمجھ کسی کو نہیں آئی لیکن حضرت ابوبکر نے بات سمجھ لی اور حضرت ابوبکر بہت پھوٹ پھوٹ کر روئے اسلئے کہ نبیۖ نے اپنی رخصتی کی خبر اس میں دی تھی کہ اللہ نے اختیار دیا اپنے بندے کو کہ بندوں کیساتھ رہے یا اپنے ربّ کے پاس جائے تو بندے نے اپنے رب کو ترجیح دی۔ رسولۖ کو جب طائف میں بہت اذیت پہنچائی گئی توفرشتوں نے عرض کیا کہا آپۖ جس قسم کے عذاب کا حکم فرمائیں،ہمیں اللہ نے ہرقسم کیلئے بھیج دیا ہے لیکن رسولۖ نے اہل طائف کے حق میں ہدایت کی دعا فرمائی اور فرمایا کہ اگر ان کی تقدیر میں ہدایت نہیں تو لکھ دینا اور اگر قطعی منظور نہیں تو ان کی اولاد کو ہدایت عطاء فرما۔
ہمارے ہاں مذہبی طبقات تہہ در تہہ گمراہی کا شکار ہیں۔ تبلیغی جماعت پہلے مسلمانوں کا مشترکہ اثاثہ تھی۔ پنجاب کے دیہاتوں میں ہم نے بریلوی مسلک کی مساجد میں خود بھی پڑاؤ ڈلا ہے۔ دیہات کے ائمہ مساجد تبلیغی جماعت کو غیر جانبدار اور مسلکوں سے بالاتر سمجھتے تھے۔ فضائل درود شریف بھی اس وقت تبلیغی نصاب میں شامل تھی جس سے متأثر ہوکر بہت سے بریلویوں کے ہاں اس غلط فہمی کا ازالہ ہوجاتا تھا کہ ”یہ وہابی ہیں اوریہ رسول ۖ سے بغض رکھتے ہیں”۔ پنجاب میںبریلوی دیوبندیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ تبلیغی جماعت نے نصاب سے فضائل درود شریف کو نکال کر اس کا نام فضائل اعمال رکھ دیا۔ شیخ الحدیث مولانازکریا نے اپنی آپ بیتی میں لکھا کہ رسول اللہۖ نے خواب یا مشاہدے میں فرمایاکہ شیخ زکریا اپنے معاصرین میں فضائل درود کی وجہ سے سبقت لے گئے ہیں۔ یہ کتابچہ اتحاد امت کیلئے بڑا کردار ادا کرتا تھا۔ جسکے اندر ایک واقعہ ہے کہ ایک بزرگ غالباً عبدالوہاب شیرانی نے لکھا کہ میں حج کے سفر میں والدہ کیساتھ جارہاتھا راستے میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا، اسکا پیٹ سوجھ گیا اور منہ کالا ہوا میں بہت سخت پریشان تھا کہ میں نے حجازسے ابر آتا ہوا دیکھا جس میں ایک شخص تھے اور آپ نے میری والدہ کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیر ا۔ جس کی وجہ سے اس کا منہ چمکدار سفید نورانی بن گیا اور پیٹ بھی درست ہوگیا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کون ہیں جس نے اس مصیبت میں میرا ساتھ دیا۔ فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد(ۖ) ہوں۔(فضائل درود)
دیوبندی میں دو گروہ ہیں ایک توحیدی ہیں جو دوسروں کو مشرک سمجھتے ہیں۔ توحیدیوں کی بنیاد میانوالی کے مولانا حسین علی تھے جو شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری کے استاذ تھے۔ مولانا حسین علی اور شیخ الہند دونوں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی کے شاگرد تھے۔ مولانا شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی مولانا الیاس، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا شبیراحمد عثمانی،مفتی کفایت اللہ اور مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ تھے۔ مولانا نانوتوی اور مولانا گنگوہی دونوں کے شیخ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی تھے۔ مولانا قاسم ناناتوی کہتے تھے کہ میں نے حاجی صاحب کے علم کی وجہ سے بیعت کی ہے اور مولانا گنگوہی کہتے تھے کہ میں ان سے زیادہ بڑا عالم ہوں ،ان کے علم کو نہیں مانتا ہوں۔ مولانا گنگوہی اور مولانا نانوتویکے درمیان جو فکری اختلاف تھا شیخ الہند اور مولانا حسین علی کے شاگردوں میں وہ اختلاف کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے۔مولانا طاہر پنج پیری مولانا سندھی کے بھی شاگرد تھے۔
شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ہمارے مرشد حاجی عثمان کو عبدالرحمن بن عوف کہتے تھے۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے آخری دور میں مولانا طاہر پنج پیری سے اختلافات بڑھ گئے تھے اور وہ شیخ الہند کے شاگردوں کے قریب تھے۔ حاجی عثمان سے مولانا فضل محمد استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی بیعت تھے اور خلیفہ تھے۔ میرے استاذ ہیں۔جب حاجی عثمان پر آزمائش آئی تو کہنے لگے کہ میں چندے کیلئے سعودیہ گیا ، چندہ نہیںملا،مقروض ہوگیا۔ میں نے حاجی عثمان کیخلاف بغاوت کی خبر سنی تو کئی دنوں تک کھانا نہیں کھایا اور الائنس موٹرز والوں کو حرمین میں بہت سخت جھاڑ دیا ۔ اب مقروض ہوں ، الائنس موٹرز یا آپ لوگ جو بھی میرا قرضہ ادا کرے ، اسکے ساتھ ہوں۔ میں نے بتادیا کہ جن علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتوے لگائے ۔وہ شاہ ولی اللہ ، مولانا محمد یوسف بنوری ، شیخ زکریا اور شیخ عبدالقادر جیلانی پر فتویٰ لگاکر پھنس گئے تو مولانا فضل محمد نے کہا کہ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے مولانا یوسف بنوری کو بھی بڑا ستایا تھا ،جو اللہ کے ولی کو ستاتا ہے تو اللہ کا اسکے ساتھ اعلان جنگ کی حدیث ہے۔ پھر بتایا کہ میرے پاس الائنس والے آئے تھے(قرضہ دیدیا) اور میں تو پیری مریدی کو نہیں مانتاہوں، پہلے سے پنج پیری تھا۔ مولانا فضل محمد بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث ہوتے مگر مرشد کی بیوفائی نے اس منصب تک پہنچنے نہ دیا۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق حاجی عثمان کے خلیفہ تھے۔ خواجہ ضیاء الدین جس کو چند لمحات کے بعد آرمی چیف کے عہدے سے ہٹادیا گیا اور جنرل نصیر اختر بھی حاجی عثمان کے مرید تھے۔
خطیب العصر مولانا عبدالمجید ندیم نے فتوؤں کے بعد حاجی عثمان سے کہا تھا کہ شہیدحضرت عثمان کے نام کی وجہ سے آپ بھی مظلوم بن گئے ۔ مولانا طیب پنج پیری کی آڈیو کسی نے یوٹیوب پر شیئر کی ہے جس میں وہ دیگر دیوبندی یا باغی پنج پیری مفتی منیر شاکر کے ساتھیوں سے متعلق کہتا ہے کہ” ان کو یہ شکایت ہے کہ ہمیں مسجد میں نہیں چھوڑتے ہیںجبکہ اللہ نے مشرکوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کا مسلمانوں سے مقابلہ ہو تو لیولون الادبار ” یہ اپنی پشت پھیر دینگے”۔ اسکا مطلب ہے کہ مشرکوں سے مقابلہ ہو تو مساجد میں …مارنے کے عادی ہیں اور یہ اپنی …. دینے کیلئے آمادہ ہوجاتے ہیں کہ ہمیں نہ مارو”۔
آج علماء میں نظریاتی ہم آہنگی اور کردار سازی کی بہت ضرورت ہے۔اگر مذہبی طبقے ایکدوسرے کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے رہے اور یہ سلسلہ بڑھ گیا تو پھر ریاست اور عوام کیلئے کنٹرول مشکل ہوگا۔ رسول اللہۖ نے اپنی چاچی حضرت فاطمہ بنت اسد کی میت کو لحد میں اُتارتے ہوئے فرمایا کہ یہ میری ماں ہیں۔ فقہاء نے جس طرح محرم کے مسائل بنائے ہیں ان پر غور کرنا ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button