سنی شیعہ کے کچھ معرکة الآراء مسائل اورانکے حل کی ادنیٰ کوشش۔ عتیق گیلانی

101
0

سنی شیعہ کے کچھ معرکة الآراء مسائل اورانکے حل کی ادنیٰ کوشش۔ شیعہ مسائل اٹھارہے ہیں اور سنی کہتے ہیں کہ پہلے تم خود کو مؤمن ثابت کرکے دکھاؤ، پھر جواب دینگے۔ تم حضرت ابوبکر و عمرکو نہیں مانتے تو تم مسلمان کہاں ہو؟

یوٹیوب میدان جنگ بناہوا ہے ،شیعہ کہتے ہیں کہ جس بات پرتم ہمارے خلاف ایف آئی آر(FIR)کٹاتے ہو تو یہ تمہاری کتابوں میں لکھی ہیں،پہلے ان کا چھاپنا بند کرو، پھر ہم بھی حوالہ نہیں دیں گے

قرآن میں رسول اللہ ۖ کی طرف ” ذنب” کی نسبت گناہ نہیں بوجھ ہے اور اس سے کیا اولی الامر اور من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ مراد ہے؟ ، مولانا طارق جمیل مشکل میں پڑے۔

آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ عالمی اسلامی خلافت کیلئے ایک خلیفہ کا تقرر ہے۔ شیعہ سنی میں سب سے بڑا ، بنیادی اور اہم مسئلہ بھی یہی ہے۔ حضرت مولانا حق نواز جھنگوی نے ایک تقریر کی تھی جو ”سنی شیعہ اختلاف کا اصلی مسئلہ ” کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ” شیعہ سنی کا اصلی اختلاف قرآن پر نہیں ۔ صحابہ پر بھی نہیں ہے ، سنی شیعہ اختلاف کا اصلی اختلاف مسئلہ امامت پر ہے”۔

علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ ” سنیوں کیلئے خلافت بہت آسان ہے۔ کسی بھی شخص کو خلیفہ مقرر کیا جائے تو اس کی مشروط اطاعت ہوتی ہے جبکہ شیعہ کے ہاں امامت کا مسئلہ ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ کو اللہ نے حکم دیا کہ اپنے بعد ایک خلیفہ وامام مقرر کرو۔ حضرت علی کی امامت نص سے ثابت ہے۔ غدیر خم کے موقع پر نبیۖ نے اللہ کے حکم سے حضرت علی کو اس منصب پر فائز کردیا تھا۔ امام کی تقرری کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ حضرت علی نے حضرت حسن ، حضرت حسن نے حضرت حسین ، حضرت حسین نے حضرت زین العابدین ، اس طرح سے بارویں امام مہدی غائب علیہ السلام تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ امام پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے بلکہ قرآن وہی ہے جو رسول اللہۖ پر نازل ہوا۔ رسول اللہ ۖ کی سنت وہی ہے جس کو سب مانتے ہیں۔ البتہ شیعہ کے نزدیک امامت کا سلسلہ مخلوقِ خدا کی طرف سے نہیں ہے ۔ پہلے امام حضرت علی شیعہ کے نزدیک نبیۖ کے مقرر کردہ ہیں اور پھر دوسرے، تیسرے اور بارویں امام تک کا سلسلہ اماموں نے ہی ایکدوسرے کو نامزد کیا ہے۔ بارہ امام کو ماننے والے امامیہ کہلاتے ہیں”۔

آغا خانیوں اور بوہریوں کا سلسلہ چھ اماموں کے بعد الگ ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے فاطمیہ کے نام سے حکومت بھی کی ہے۔ ارتغرل غازی کی فلم میں کہتے ہیں کہ جو خلافتِ عثمانیہ قائم کی گئی تھی تو اس سے پہلے خلافت عباسیہ کا خاتمہ چنگیزکے پوتے ہلاکو خان نے کیا تھااور خلافت عثمانیہ والوں نے خلافت فاطمیہ کا بھی خاتمہ کردیا تھا۔

خلافتِ عثمانیہ کے ہوتے ہوئے جب پہلے مغل بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو انگریز کی موجودگی میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت بھی تھی۔ تختِ لاہور پنجاب کے سکھ رنجیت کی وجہ سے انگریز کی دسترس سے باہر تھا۔ کابل کے بادشاہ جس کے ایک بھائی نے پشاور، دوسرے نے کوئٹہ اور تیسرے نے کشمیر کا اقتدار سنبھالا تھا، راجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ ان کامعاہدہ تھا۔ حضرت سید احمد بریلوی اور آپکے مرید شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ہندوستان سے آکر مہدی خراسان کی خلافت کے آغاز کیلئے تحریک چلائی تھی۔ پشاور سے ہزارہ گئے اور بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہوگئے۔

کابل کے بادشاہ امیر دوست محمد خان نے انگریز سے جنگیں لڑیں لیکن جب اس کے بھائی والئی کشمیر نے اسکے بچوں کو انگریز پر بیچ دیا تو اس نے ہتھیار ڈال دیئے۔ ژوب کے مولانا قطب الدین آزاد کی کچی پکی معلومات اور یاداشت اچھی ہیںجس کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے اور کراچی میں رہتے ہیں۔ ان کے بقول اسکے وقت کے طالبان سیداحمدبریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کے ساتھی تھے۔

مطالعہ ٔپاکستان میں اس تحریکِ بالاکوٹ کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور شاہ ولی اللہ پر دیوبندی، بریلوی، جماعت اسلامی اور اہلحدیث متفق ہیں۔جبکہ شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”تقویة الایمان” کی وجہ سے دیوبندی بریلوی میں اختلاف کی شدت ہے۔ شاہ اسماعیل شہید کی ایک کتاب ”منصبِ امامت ” پر بریلوی مکتب کا بھی اتفاق ہے۔ جامعہ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب کا اردو ترجمہ” بدعت کی حقیقت” کے مقدمہ میں شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”منصبِ امامت ” کی بہت تعریف کی ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی نے علامہ سید جواد نقوی کے ہاں اپنی تقریر میں کہا کہ ” نصب امام اسلام میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور شیعہ نے اس کو زندہ رکھا ہوا ہے جبکہ سنیوں نے اس کو بالکل نظر انداز کیا ہوا ہے”۔ اس پر بعض شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی جیت کا جشن منایا اور بعض نے اس پر صفِ ماتم بچھایا ہے اور بہت سخت الفاظ میں اہل سنت کی امامت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں بریلوی مکتبۂ فکر کے بہت معتبر عالمِ دین نے امام کی تقرری کا مسئلہ اُٹھایا تھا لیکن دیوبندی مکتبۂ فکر کے مدارس نے جواب نہیں دیا تھا۔ یہ ساری روئیداد ہماری کتابوں میں تفصیل سے درج ہیں لیکن ساغر صدیقی کے بقول ”کچھ یادرہیں، کچھ بھول گئے”کے مصداق مگریہاں تفصیل لکھنے کی گنجائش نہیں ۔

ایک وقت تھا کہ جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے شرعی اعتبار سے ان احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا تھا جو خلافت اور جماعت سے متعلق ہیں ۔ پھر میں نے اپنے سکول کا افتتاح مولانا فضل الرحمن سے کروایا، تاکہ میرے بھائی اور جمعیت کے قائد میں مراسم باقی رہیں۔ مولانا نے افتتاحی تقریب میں ہمارے خاندان کے بزرگوں کی دینی خدمات کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ” اس خاندان میں عتیق جیسے اہل علم بھی موجود ہیں” ساتھ میں یہ بھی کہا کہ میں علماء کیساتھ ہوں۔ من شذ شذ فی النار ”جو جماعت سے ہٹ گیا وہ جہنم کی آگ میں پھسل گیا”۔ پھر میں نے اپنی کتاب ”اسلام اور اقتدار” میں احادیث کی وضاحت کی اور مولانا فضل الرحمن کا نام لیکر آخر میں لکھ دیا کہ ”عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے”۔ میں نے سپاہِ صحابہ کے اس نعرے سے پہلے مولانا کو تحفظ دیا تھا کہ ”کافر کافر شیعہ کافر، جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ عروج ملتِ اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ نامی کتاب میں نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے رہائی کے بعد شکارپور سندھ میں (1992ئ) کے ابتدائی مہینوں میںلکھی تھی۔

پھر جمعیت علماء اسلام کی شوریٰ نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کے آغاز کا اعلان کیا اور اسکے محرک مولانا خان محمد شیرانی تھے۔ مجلس شوریٰ نے فیصلہ کرلیا اور باقاعدہ اعلان لاہور کے جلسۂ عام میں کرنا تھا۔ اس وقت نوازشریف کی حکومت تھی اور جمعیت کے کارکن امید سے تھے کہ حکم ملے گا اور نوازشریف کے ماڈل ٹاؤن پر قبضہ کرکے اسلامی جمہوری اتحاد کو بازوکے زور سے ہٹادیا جائیگا لیکن فوج نے پھر مولانا فضل الرحمن کو دھمکی دی اور مولانا نے انقلاب کا اعلان کسی اور وقت پر ٹال دیا تھا۔ میرے بھائی نے اس وقت سمجھ لیا کہ اب جمعیت ایک دھوکہ ہے۔

پھرو قت آیا کہ جمعیت علماء اسلام ف ٹانک کے جنرل سیکرٹری ،امیر ، سرپرست اعلیٰ اورسب جماعتوں کے اکابر نے ہماری بھرپور حمایت کی لیکن مولانا فضل الرحمن نے بات دل پر لے لی۔ جب ٹانک کے اکابر نے جلسۂ عام میں حمایت کردی تھی تو ان کے بیانات شہہ سرخیوں کیساتھ ہمارے اخبار میں چھپ گئے۔ بس پھر مولانا بھی شاید تپ گئے۔ اگلی مرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے اخبار کے خلاف سازش تیار کی گئی اور سامنے سپاہ صحابہ والے آگئے لیکن پیچھے مولانا تھے۔ خلیفہ عبدالقیوم نے بتانا بھی چاہا لیکن میں نے بات بدل دی تھی اسلئے کہ مجھے اندیشہ تھا کہ بھائی کو پتہ چلے گا تو یہ لڑائی مذہب سے ہٹ کر خاندانی رُخ اختیار کرلے گی۔ ابوجہل کو خوف تھا کہ امیرحمزہ کو جواب دیا تو معاملہ مذہب سے خاندانی بن جائیگا اور نبیۖ نے بھی اس کودین کی حدتک رہنے دیا اور ابوجہل کا مقابلہ کرنے کے بجائے فرمایا کہ ” اگر آپ مسلمان بن جاؤ ، تو یہ میرے لئے زیادہ خوشی کی بات ہوگی”۔ سپاہ صحابہ کے خلیفہ عبدالقیوم کو ہم ان کے گھر سے ہسپتال کی مسجد میں اٹھاکر لائے۔ عبدالرؤف بلوچ وغیرہ بھی پہنچ گئے اور مجھ سے سوال کیا کہ شیعہ کافر ہیں یا مسلمان؟۔ میں نے جواب دیا کہ شیعہ کو کس بنیاد پر کافر کہوں؟۔ انہوں نے کہا کہ وہ قرآن کو نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ قرآن کو اگر سنی بھی نہیں مانیں تو وہ بھی کافر ہیں ، شیعہ بھی کافر ہیں لیکن پہلے ہم طے کرلیں کہ قرآن کو کون نہیں مانتا۔ ہمارے درسِ نظامی میں قرآن کی جو تعریف پڑھائی جاتی ہے وہ بھی قرآن کی تحریف ہے۔ پھر طے ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں علماء کا ایک پروگرام رکھ لیتے ہیں جس میں اس مسئلے پر بات چیت ہوگی۔ پہلے بھی ڈیرہ کے علماء کو ٹانک میں بلایا تھا مگر وہ نہیں آسکے تھے۔ پھر ٹانک سے مولانافتح خان اور مولانا عبدالرؤف کو بھی اس مجلس میں بلانے پر اتفاق ہوگیاتھا لیکن پھر انہوں نے ایسی فضاء بنائی کہ جیسے ہم نے بات کرنے کے بجائے مدرسہ پر حملہ کرنا ہو اور حکومت نے پابندی لگادی۔

چونکہ اصل مسئلہ شیعہ سنی مسائل کا حل پیش کرنا ہے لیکن جب تک میری تاریخ کا پتہ نہ ہو تو پھر میری بات کا بھی اعتبار نہیں ہوگا۔ قاضی عبدالکریم کلاچی فتوؤں کا ماسٹر تھا اور اس نے اپنے شاگرد پیرالطریقت مولاناشیخ محمد شفیع کو خط لکھ دیا کہ ” اس شخص پر مہدی کا دعویٰ کرنے والی بات اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس پر امت کا اجماع ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور یہ شخص نہ صرف شیعہ کو مسلمان سمجھتا ہے بلکہ ان کے دفاع میں بھی بات کرتا ہے اسلئے یہ گمراہ ہے اور جہاں تک دوسرے علمائ( جمعیت ف گروپ) کا تعلق ہے تو یہ قادیانیوں کا بھی استقبال کریںگے۔ مجھے تمہارے اوپر افسوس ہے کہ آپ عتیق کی مجالس اور تحریرمیں تائید کیوں کرتے ہیں”۔ مولانا شیخ شفیع میری حمایت میں پھر بھی ڈٹ گئے لیکن مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے جمعیت ف کے رہنماؤں نے اس خط پر الجواب صحیح لکھ کر فتوے کی تصدیق کردی۔ حالانکہ یہ فتویٰ جمعیت ف پر بھی لگایا گیا تھا کہ قادیانیوں کا بھی استقبال کرینگے۔جمعیت علماء اسلام ف ٹانک کے ضلعی امیر مولاناعبدالرؤف نے مولانا فضل الرحمن کو بھی خوب سنائیں اور قاضی عبدالکریم سے بھی کہا کہ ”اپنی بھونڈی حرکتیں چھوڑ دو”۔ ہم نے قاضی کو بڑا اچھا جواب دیا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کا صوبائی امیر تمہارا بھائی قاضی عبداللطیف ہے اور یہ فتویٰ اس پر بھی لگتا ہے اسلئے کہ شیعہ کیساتھ تحریری معاہدہ کیا ہے کہ ہم ایکدوسرے کی تکفیر نہیں کرینگے۔ اور یہ سعودی عرب اور اس سے پہلے والے حکمرانوں پر بھی لگتا ہے کہ حرم میں شیعہ کو داخل ہونے دیتے ہیں۔ پھر قاضی عبدالکریم نے مجھ سے معافی طلب کرنے کے بجائے مولانا عبدالرؤف سے معافی طلب کی تھی۔

ڈاکٹرا سرار احمد کے پروگرام عالمی خلافت کانفرنس میں قاضی عبداللطیف، طالبان کے نائب سفیر حبیب اللہ فوزی اور میں (عتیق گیلانی) ایک اسٹیج پر بیٹھے تھے اور اتفاق سے مجھے بالکل آخر ی خطاب کا موقع ملا لیکن وقت بہت کم دیا گیا تھا۔ پھر مولانافضل الرحمن بھی ہمارے گھر پر تشریف لائے تھے اور مقصد صلح صفائی تھی ۔ اس معاملے کی بہت زبردست اور دلچسپ تفصیلات ہیں لیکن جگہ اورضرورت نہیں ہے۔

اہل تشیع کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جب اپنے بعد خلافت کی فکر رکھتے تھے تو نبیۖ کو ان سے زیادہ فکر تھی اور اس پر عمل بھی کیا۔ حضرت علی نے امام کیساتھ ساتھ مسندِ خلافت کو بھی سنبھالا ہوتا تو بہت قریب کے دور میں حضرت عثمان مسندِ خلافت پر اس طرح قتل نہیں کئے جاتے کہ ان کا پانی بھی بند کردیا گیا اور مسجد کی امامت کیلئے بھی نہیں آسکتے تھے۔ حضرت علی نے پانی پہنچایا لیکن قاتلوںسے نہیں بچاسکے اور جب اس ہنگامہ خیز دور میں حضرت علی نے منصب کے ساتھ مشاورت سے مسند کو بھی سنبھالا تو امیرشام امیر معاویہ نے بغاوت کردی۔ حضرت عائشہ نے بھی نکل کر لڑنے والوں کی قیادت کی۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ کے مخالف لشکر میں موجود حضرت ابوبکرہ نے نبیۖ کی حدیث نقل کی کہ جس گروہ کی قیادت عورت کے ہاتھ میں ہو تووہ کبھی فلاح نہیں پاسکتا ہے۔ اہل سنت حضرت علی سے اتنا بغض رکھتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل کو مولا علی کہنے پر اپنی صف سے نکال دیا گیا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021