سورۂ بنی اسرائیل میں معراج مصطفیۖ کے خواب اورقرآن میں شجر ہ ملعونہ کا ذکر ہے ۔سورۂ بقرہ آیت(230) میں حلالہ کی لعنت ہے ۔ سورۂ حج میں القائے شیطانی کو منافقوں کیلئے فتنہ اور اہل علم کیلئے رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے ایریا (K-AREA)والے اپنے سودی کاروبار کی وجہ سے ہی حلالے پر ڈٹ گئے ہیں، باقی بڑے مدارس اور جامعات کے بڑے علماء ومفتیان حلالے کا حل چاہتے ہیں!

جب تک مدارس سے حلالہ کی لعنت کا اعلانیہ خاتمہ نہیں ہوگا تو معاشرے سے بے ایمانی، فحاشی اور بے حسی کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکے گا۔ رشد وہدایت کے مراکز گمراہی کے قلعے بن گئے ہیں!

شاہ ولی اللہ، مولانا ابوالکلام آزاد، سید مودودی،شیخ عبداللہ ناصح علوان، ڈاکٹر حبیب اللہ مختاراور علامہ سید ریاض حسین شاہ وغیرہ نے اسلام کے عالمگیر غلبے کی احادیث کو درست قرار دیا ہے اور قرآن میں اسلام کے تمام ادیان پر غلبہ پانے کی پیش گوئی ہے۔ اسلام کے عالمگیر غلبے کا خواب اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو معراج کے جیتے جاگتے مشاہدے میں دکھایا تھا۔ واقعہ معراج سورۂ بنی اسرائیل میں ہے۔ اردو اور عربی میں خواب کی دوقسمیں ہیں۔ ایک نیند کی حالت میں کوئی خواب دیکھنا اور دوسرا بیداری کی حالت میں نصب العین کا تعین کرنا۔ قرآن نے رسول اللہۖ کی بعثت کا نصب العین یہ بیان کردیا کہ ”تاکہ آپۖ کی بعثت سے دین حق تمام ادیان پر غالب ہوجائے” ۔واقعۂ معراج میں تمام انبیاء کرام کی امامت اس نصب العین کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ غامدی نے اپنے روحانی باپ مولانا مودودی سے اختلاف کیا کہ واقعہ معراج بیداری کا واقعہ نہیں تھا جبکہ مولانا مودودی نے اس کو بیداری کا واقعہ قرار دیا۔ مولانا مودودی بہر صورت اسلام کے غلبے کا خواب دیکھنا چاہتے تھے ،چاہے اس کیلئے جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ کے علاوہ جس طرح سے بھی ناک رگڑنی پڑے اور جاوید غامدی کو اپنے باپ سے اتنی الرجی ہوگئی ہے کہ وہ اسلام کے غلبے کی ذہنیت ہی کو اسلام کے اساسی اصولوں اور معروضی حقائق کے بالکل منافی قرار دے رہے ہیں۔
سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ نے دو چیزوں کا ذکر کیا ہے کہ ان کو لوگوں کیلئے فتنے کا سبب بنایا گیا ہے ۔ایک نبی ۖ کا وہ خواب جو اللہ نے آپۖ کو دنیا میں دکھایا تھا۔ دوسرا قرآن میں شجرہ ملعونہ کا ذکر۔ آج پوری دنیا پرکفار کا غلبہ ہے اور مسلمان مغلوب ہیں،اللہ سے نصرت کی دعائیں مانگ رہے ہیںاور مایوسی کا شکار ہورہے ہیںتو رسول ۖ کے اس خواب کوکیسے پورا ہوتے ہوئے دیکھنے کی اُمید کرسکتے ہیں کہ اسلام کا پوری دنیا کے ادیان پر غلبہ ہوگا؟۔ دوسری بات قرآن میں لوگوں کیلئے فتنے کا باعث شجرہ ملعونہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں طلاق کی ایک ایسی صورت کا ذکر کیا ہے جس کے بعد عورت اپنے پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں رہتی ،یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پھر اگر وہ طلاق دے تو اگر دونوں کو گمان ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے تودونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( آیت230البقرہ )
آیت میں حلالے کا ذکر ہے اور نبیۖ نے حلالہ کو لعنت قرار دیا، حلالہ کرنے اور کروانے والوں پر اللہ کی لعنت بھیجی اور ان کو کرایہ کا بکرا قرار دیا ہے۔
جب کوئی بیوی کو اچانک غصے میں تین طلاق دیتا ہے تو اسکے سامنے قرآن کی یہ آیت(230) البقرہ رکھی جاتی ہے اور حنفی مسلک کی غلط تشریح کافتویٰ رکھ دیا جاتاہے اور احادیث سے غلط نشاندہی فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اچھے بھلے انسان اپنی بیگمات کو مولوی کے پاس حلالہ کی لعنت کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔
حالانکہ آیت(230) البقرہ سے متصل آیت(229) البقرہ میں اس طلاق کی کیفیت بہت زبردست طریقے سے بیان کی گئی ہے کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔ نبیۖ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق قرآن کے مطابق عدت کے تین ادوار کیساتھ ہے اور آیت(229)البقرہ میں تیسری طلاق احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔ جسکے بعد اللہ نے فرمایا کہ ”پھر تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی شوہر نے دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے۔ مگر یہ کہ دونوں کو یہ خوف ہو کہ اس کی وجہ سے رابطہ ہوگا، دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ پھر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کی جائے۔ یہ اللہ کی حدودہیں۔ اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ (البقرہ آیت229)
آیت (229) میں ایک تفصیل یہ ہے کہ عدت کے تین مراحل میںتین بار طلاق دی گئی ہو اور دوسری تفصیل یہ ہے کہ میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے اس بات پر متفق ہوں کہ آئندہ رابطے کا کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جائے یہاں تک کہ شوہر کی طرف سے دی ہوئی کوئی چیز بھی واپس کرنا جائز نہیں لیکن جب رابطہ کا ذریعہ، حدود توڑنے کا خوف ہو تو پھروہ عورت کی طرف سے فدیہ کی جائے۔ اس واضح کیفیت میں حنفی مسلک یہ ہے کہ آیت (230) البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق آیت (229) البقرہ کے اس آخری حصہ میں فدیہ کیساتھ ہے۔ حضرت ابن عباس نے بھی اس کی تصریح کردی جس کو علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زاد المعاد ” میں نقل کیا ہے لیکن مفتیان حضرات حنفی مسلک کے متفقہ اصولوں سے انحراف اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایک بار میں تین طلاق پر بھی قرآن وسنت اور حنفی اصول کے خلاف حلالے کا فتویٰ جاری کرتے ہیں۔
ہم نے اپنی ایک کتاب ”عورت کے حقوق ” میں دارالعلوم کراچی کے اس فتوے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح اور پھر اس طرح کا جماع ضروری ہے کہ حلالہ کرنے والے شخص اور جس عورت کا حلالہ کیا جارہا ہو دونوں میں جماع اس طرح ہو کہ التقاء ختانین ہوجائے ۔ یعنی دونوں کی ختنوں کی جگہوں کا آپس میں ملاپ ہوجائے۔ یہ صورتحال باقاعدہ فقہ کی کتب کا حوالہ دیکر بتائی جاتی ہیں۔ عام لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ شرعی گواہوں اورباشرع لوگوں میں کیا فرق ہے؟ اور ختنوں کی جگہوں کے ملاپ سے کیا مراد ہے؟۔
لوگوں کو قرآنی آیات ، احادیث صحیحہ اور فقہی کتابوں کے حوالہ جات سے ایسا مغالطہ دیا جاتا ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی اور سیدھی سادی عورتیں اس بات پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ جب تک حلالہ کی لعنت سے گزرنا نہ پڑے تو اکٹھی تین طلاق کے بعد وہ عورت اپنے پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوسکتی ہے۔
آیت کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں کہ ” اگر پھر اس نے طلاق(تیسری) دی تواس کیلئے حلال نہیں یہاں تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ (البقرہ :230)
اور ساتھ میں آیت (229)کا ترجمہ لکھتے ہیں کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر اس کو معروف طریقے سے چھوڑنا یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔ اس کی یہ تشریح لکھ دیتے ہیں کہ طلاق رجعی دو ہی مرتبہ ہے پھر معروف رجوع ہے یا پھر رخصت کردینا ہے۔ اگر دوطلاق کے بعد تیسری طلاق دیدی تو پھر اس کیلئے وہ عورت حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ فتوے میں آیات (229) اور(230)کے اندر دو طلاق رجعی اور تیسری طلاق مغلظہ کے بعد مفتی صاحبان یہ حکم نکالتے ہیں کہ اب طلاق مغلظہ ہوچکی ہے اسلئے حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جب ہم نے دارالعلوم کراچی کے فتوؤں کو علمی انداز میں رد کرنا شروع کیا تو انہوں نے فتوے میں آیات اور احادیث کے حوالہ جات دینے کے بجائے صرف یہ لکھ کر دیناشروع کیا کہ ” صورت مسئولہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے اسلئے حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔
حالانکہ آیت (229)میںدو مرتبہ کی طلاق نہیں بلکہ تین مرتبہ کی طلاق ہے۔ نبیۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ ۔ فرمایا کہ” آیت (229) میں اوتسریح باحسان (یا احسان کیساتھ رخصت کرنا) ہی تیسری طلاق ہے”۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ دو طلاق کے بعد تیسری طلاق ہو تو پھر رجوع کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت (228) میں اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ ” عدت کے تین مراحل تک طلاق شدہ عورت نے انتظار کرنا ہے اور ان مراحل میں اسکے شوہر کو اصلاح کی شرط پر اسکے لوٹانے کا حق ہے” تو اس میں دو باتیں واضح ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ عدت کے تین ادوار ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صلح کی شرط پر ان ادوار میں رجوع کا حق ہے۔
آیت (228) میں جن تین ادوار تک عورت کوطلاق کے بعد انتظار کا حکم ہے آیت (229) میں ان تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔آیت (228) میں عدت کی پوری عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے اور آیت (229) میں معروف یعنی صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی فقہاء اور علماء ومفتیان کی طرح نہ صرف کم عقل بلکہ ہٹ دھرم بھی بن جائے کہ آیت (228) میں تین ادوار کی مدت تک انتظار اور اس میں رجوع کی اجازت دے اور آیت (229) میں اس سے متضاد بات کرے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق ہوتو رجوع کی گنجائش نہیں ؟۔ قرآن کا یہ چیلنج ہے کہ ” اگر قرآن کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف (تضادات) وہ پاتے”۔ مخالفین ایک تضاد ثابت نہیں کرسکے تھے لیکن علماء ومفتیان ان دونوں آیات میں جس طرح کا تضادبتاتے ہیں تو بقول علامہ اقبال کے کہ اللہ تعالیٰ، جبریل اور حضرت محمدۖ بھی حیران ہونگے کہ یہ وہ اسلام تو نہیں ہے جو اللہ نے جبریل کے ذریعے نبیۖ پر نازل کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک ایک آیت میں جاہلیت کا قلع قمع کردیا ہے۔ جب جاہلیت میں ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا تصور تھا اور ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بارغیرمشروط رجوع کا حق تھا۔ شوہر عورت کو طلاق دیکر عدت میں بار بار رجوع کرسکتا تھا تو اللہ نے ایک تیر سے جاہلیت کے دونوں مسائل کو شکار کردیا۔ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کا حق دیدیا تو ایک ساتھ تین طلاق پر حلالے کی بات ختم کردی اور جب رجوع کو صلح واصلاح سے مشروط کردیا تو پھر اس بگاڑ کا مکمل خاتمہ کردیا کہ بار بار عدت میں رجوع کی اجازت تو بہت دور کی بات ہے صرف ایک بار طلاق کے بعد بھی شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔
اگر شوہر بیوی کو طلاق دئیے بغیر ناراض ہو تو بھی عورت کی رضامندی کے بغیراللہ نے شوہر سے رجوع کا حق چھین لیا ہے۔ البتہ ناراضگی میں عدت تین ماہ کی جگہ چار ماہ ہے اور اللہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ جب ناراضگی میں طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ کی پکڑ ہے اسلئے کہ عورت کو عدت تین ماہ کی جگہ چار ماہ گزارنی پڑتی ہے ایک ماہ بلاوجہ انتظار کی اذیت دینے پر اللہ نے پکڑ کا فرمایا جو آیات (225،226اور227) البقرہ میں بھرپور طریقے سے واضح ہے۔
آیت (224) البقرہ طلاق کا مقدمہ ہے کہ” اللہ کو صلح میں رکاوٹ نہ بناؤ”۔ آیت (230) کے سیاق وسباق کو دیکھا جائے تودماغ کی بندگرہ بھی کھل جائیگی۔ قومی اسمبلی میں حلالہ سے چھٹکارے کیلئے اورسورۂ نور کی آیات کا بل پیش کردیا جائے تو عالمی فورم پر وزیراعظم بات کرسکے گا۔ہماری خدمات حاضر ہیں۔ جب اسلام کی طرف مسلمانوں کا رجوع ہوتو مدینہ کی ریاست کا ماحول بن جائے گا۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button