علماء ومفتیان کابدترین تجاہل عارفانہ

549
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی منیب الرحمن کا جہالت پر مبنی بیان اور مفتی تقی عثمانی کی بڑی ہٹ دھرمی!

مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن چیئرمین ہلال کمیٹی نے صحافی عامر ضیاء کو”ہم نیوز” پرانٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عین جنگ کی حالت میں بھی نمازباجماعت پڑھنے کا حکم ہے۔ اگر پاک فوج مفتی صاحب کو اپنے پاس رکھے اور کسی کاروائی میں میدانِ جنگ کے اندر آزمالے اور جب دونوں طرف لاشیں گررہی ہوں اور مفتی صاحب انفرادی نماز پڑھ کر دکھائے۔ عوام بہت غلط سمجھ رہی ہے کہ صحابہ کرام نے عین لڑائی کے وقت بھی باجماعت نماز میں رکوع وسجدہ نہیں چھوڑا۔ پاک فوج کے جوان سمجھتے ہونگے کہ ان کا ایمان مضبوط تھا، ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیںلیکن عین لڑائی میں نماز باجماعت کی بات انتہائی لغو اور غلط ہے۔ جنگ خندق میں لڑائی تو شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ خندقیں کھودنے میں بھی کئی نمازیں قضاء ہوگئیں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے خاتون پولیس کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور لوگوں کے مجمع کو نہیں دیکھا۔ جب مفتی تقی عثمانی نے حکومت کے حکم پر عمل کا کہا اور گھر میں نماز ظہرباجماعت پڑھنے کا فتویٰ دیا توپھر مساجد کے ائمہ کو اپنی جھوٹی حمایت کے نام پر حکومت سے لڑانا بہت غلط ہے۔

 

مولانا فضل الرحمن نے اپنا مؤقف بہتر پیش کیااور اس پیغام کو سمجھنا ضروری ہے!

مولانا فضل الرحمن نے بہت اچھا کیا کہ ہوشیاری سے مؤقف واضح کیا۔ مذہب کیخلاف حکومت کی سازش کامرثیہ پڑھنے کے بجائے کورونا وائرس کو انسانی مسئلہ قرار دیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ خاتون پولیس اہلکارنے کچھ غلط کیا بلکہ حکومت کے فیصلے پر نہ صرف بھرپورتعاون کو واضح کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ جس طرح مساجد کے ائمہ تعاون کررہے ہیں، اسی طرح سے بازاروں و دیگر مقامات پر بھی لوگوں کو ہماری اقتداء کرنی چاہیے۔ جب ہم فرض باجماعت نمازوں میں عوام کو بھیڑ بنانے سے منع کررہے ہیں تو عوام کو بھی تمام معاملات میں عمل درآمد کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن کو پتہ ہے کہ مساجد میں ان کی ایسی اوقات نہیں کہ وہ فتویٰ جاری کردیں اور مساجد کے ائمہ اور نمازی اس پر عمل کرنا شروع کردیں اسلئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جب دیگر مقامات سے آپ عوام کی بھیڑ نہیں روک سکتے تو مساجد کے ائمہ پر بھی مقدمات قائم کرنا درست نہیں ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ دوسری جگہوں پر بھیڑ ہے تو مساجد میں بھی اجازت ہو بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جب ہم حکومت کی بات مان رہے ہیں تو عوام کو مان لینی چاہیے۔ البتہ جب ہم تعاون کررہے ہیں تو مساجد کے ائمہ پر مقدمات درج کرنے سے زیادتی کا تأثرہی ابھرے گا۔ خصوصاً سندھ میں ایسا بہت ہوا ۔ ہم اس کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیتے بلکہ اس میں تمام مذاہب کیساتھ انسانی بنیادوں پر تعاون کررہے ہیں۔ہم اہل تشیع کے امام بارگاہوں اور عیسائی کے گرجوں،ہندوؤں کے مندروں میں اسپرے کرنے گئے۔ البتہ ہماری مساجد دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کی طرح نہیں بلکہ اس میں پنج وقتہ نمازیں ہوتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن مساجد کے ائمہ کا مزاج سمجھتے ہیں اسلئے مفتی تقی عثمانی کے فتوے کا حوالہ نہیں دیامگر حکومت جب تک زبردستی سے کام نہیں لے تو وہ کنٹرول نہیں کرسکتی ہے

 

مولانا فضل الرحمن کو اپنا مؤقف مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے

جس طرح حکومت دکان پر پابندی لگانے کے بعد بھیڑ لگانے پر دکاندار کو پکڑنے میں ہی آسانی محسوس کرتی ہے،اسی طرح مساجد میں بھیڑ لگنے پر ائمہ کیخلاف مقدمات بنانے سے ہی معاملات کنٹرول کرسکتی ہے۔ مساجد بھی عبادتگاہوں کے علاوہ دکانیں بھی بن چکی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن علماء ومفتیان کے ایک نمائندہ اجلاس میں مجھے بھی شرکت کا موقع دیں تو قرآن وسنت کے بہت سے مسائل میڈیا پر آجائیںگے اور اللہ تعالیٰ عذاب ٹال دے گا۔ مفتی منیب الرحمن نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا جس پر دیگر علماء ومفتیان کو گرفت کرنی تھی مگر وہ خود بھی تو اسی طرح سے بے حال ہیں۔جاہلوں کا ایک ہجوم ہے جس نے علماء ومفتیان کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔ مساجد کے ائمہ اور مدارس کے مفتیان کا حال حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” میں دیکھ سکتے ہیں جبکہ دوسرے طبقات علماء وحکام اور عوام کے بارے میں بھی انتہائی زبوں حالی بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ النساء کی آیت102میں حالتِ جنگ میں نماز باجماعت کے اہتمام کا اس طرح سے حکم بالکل بھی نہیں دیا جو مفتی منیب الرحمن نے اپنی جہالت کا مظاہرہ کیاہے بلکہ سفر میں جب خوف کا عالم اور پھر نبیۖ بنفس نفیس موجود ہوں تو خوف کی اس حالت میں نماز باجماعت کا اس طرح سے حکم دیا ہے کہ آدھے نماز پڑھیں اور آدھے اسلحہ لیکر پیچھے سے کھڑ ے ہوںاور سجدوں کے بعد نمازی پیچھے کھڑے ہوجائیں اور محافظ گروہ نبیۖ کیساتھ نماز پڑھے۔ اسلئے کہ کہیںتاک میں بیٹھے کفارحملہ نہ کردیں اور صحابہ رسولۖ کے پیچھے نماز پڑھنے اور حفاظت کا فریضہ انجام دینے میں کسی ایک بات سے بھی محروم نہ ہوجائیں۔ قرآن انسانی فطرت کا ترجمان ہے ۔علماء ومفتیان کو حقائق کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

 

اللہ تعالیٰ نے سفرکی نماز اور نمازِ خوف کی زبردست وضاحت فرمائی ہے مگر…….

قرآن میں قتال فی سبیل اللہ کے بعد ہجرت فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اور پھر زمین میں عام سفر کی حالت کے احکام ہیں۔ یہاں تفصیل کی زیادہ گنجائش نہیں ہے اسلئے مختصر لکھ دیتا ہوں۔
فرمایا:واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوٰة، ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا،ان الکٰفرین کانوا لکم عدوا مبینًاOواذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰة فلتقم طائفة منھم معک ولیأخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورائکم،ولتأت طائفة اُخرٰی لم یصلوا فیصلوا معک ولیأخذواحذرھم واسلحتھم ودّ الذین کفروالوتغفلون عن اسلحتکم وامتعتکم فیمیلون میلة واحدة ولاجناح علیکم ان کان بکم اذًی من مطرٍاو کنتم مرضٰی ان تضعوا اسلحتکم وخذوا حذرکم ان اللہ اعدّ للکٰفرین عذابًا مھینًاOفاذا قضیتم الصلوٰة فاذکروا اللہ قےٰمًا وقعودًا و علی جنوبکم فاذااطمأنتم فاقیموا الصلوٰة ،انّ الصلوٰة کانت علی المؤمنین کتٰبًا موقوتًاO ”جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ نماز کو مختصر کرو۔ (یہ سفر کی نمازکاحکم ہے) اگر تمہیں خوف ہو کہ کفار تمہیں آزمائش میں ڈالیںگے، بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں اورجب آپ ان میں موجود ہوں ،تو آپ ان کو نماز پڑھائیں تو ان میں ایک گروہ آپ کے ساتھ ہو اورضرور اپنا ا سلحہ بھی پکڑ کر رکھیں۔ جب سجدہ کرلیں تو آپ کے پیچھے چلے جائیں اور دوسرا گروہ آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی تو آپ کیساتھ نماز پڑھے اور بیداری میںچوکنا بنے اور اپنااسلحہ اٹھائے پکڑے رکھے۔ کافروں کی چاہت ہے کہ تمہیں اپنے اسلحے اور سامان سے غافل دیکھ کرایک دفعہ میں آپ لوگوں پر ٹوٹ پڑجائیں۔

 

علماء ومفتیان کو قرآن کی آیت کا متن دیکھ کر سفر اور خوف کی نماز کو سمجھاپڑے گا!

اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تمہیں کوئی اذیت ہو بارش سے یا تم مریض ہو کہ تم اپنااسلحہ رکھ لو۔مگر اپنی بیداری برقرار رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے رسوا کن عذاب مقرر کررکھا ہے اور جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کا ذکرکرو کھڑے ہوکراور بیٹھ کر اور اپنی کروٹیں لیتے وقت۔ پھر جب تم اطمینان کی حالت میں آجاؤ تو نماز قائم کرو، بیشک نماز وقت کی پابندی کیساتھ مؤمنوں پر فرض کی گئی ہے”۔ سورہ النساء آیت102،103۔ مفتی منیب الرحمن اچھی طرح دیکھ لے۔
سب سے پہلی بات آیت میں سفر کی نماز کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جب زمین پر چل (سفرکر)رہے ہو توتمہارے لئے کوئی حرج نہیں کہ نماز کو مختصر کرو”۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبیۖ نے سفر میں قصر بھی کیا ہے اور پوری نماز بھی پڑھی ہے۔ قرآن میں بھی دونوں صورتوں کی اجازت ہے۔ جب امام مسافر اور مقتدی مقیم ہوں تو امام مقتدیوں کو پوری نماز پڑھاسکتا ہے لیکن امام مسلکی بنیاد پر اس کو ناجائز سمجھ کر گریز کررہے ہیں۔ حضرت عائشہ کی روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبھی نبیۖ نے سفر میں اکیلی نماز بھی پڑھی ہے۔
آیت میں پھر خوف کی حالت کا ذکر ہے۔ فرمایا:” اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر آزمائش میں ڈال دیںگے ۔ بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں”۔ خطرناک خوف کی حالت میںقصر نماز پڑھنے کا بھی حکم نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام جاہل نہیں عالم باعمل تھے۔ اللہ نے خوف کی صورت میں پہلے ہی حکم واضح کیا تھا کہ ” نمازوں کی حفاظت کرو اور بیچ کی نماز کی اور اللہ کیلئے عاجزی سے کھڑے ہوجاؤ۔ اگر تمہیں خوف ہو تو چلتے چلتے یا سورای پر اللہ کو یاد کرو۔ جب امن میں آؤ توپھر اللہ کو یاد کرو(نماز پڑھو) جس طرح تمہیں سکھایا گیا جو تم پہلے نہیں جانتے تھے”۔البقرہ کی آیات238،239میں حالتِ جنگ نہیں خوف کی حالت میں یہ واضح حکم تھا۔

 

پاک فوج کے سپاہی اورمجاہد ہی حالت جنگ کی صورتحال میں نماز کو سمجھ سکتے ہیں

فرمایا:”اور جب آپ( ۖ) ان میں موجود ہوں تو ان کو نماز پڑھائیں تو ایک گروہ ان میں سے آپ کے ساتھ کھڑا رہے اورضروراپنا اسلحہ بھی اُٹھارکھیں۔ جب یہ سجدہ کرلیں تو آپ کے پیچھے ہوجائیں اور وہ گروہ آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی ہے تووہ آپ کے ساتھ نماز پڑھیںاور بیدارو چوکنا رہیں اور اسلحہ پکڑکر رکھیں اور کافرچاہتے ہیں کہ اگر غافل دیکھ لیں تمہارے اسلحہ سے تمہیںاور تمہارے سامان سے تو ایک دم تم پر جھپٹ پڑیں”۔
یہاں اس بات کی بخوبی وضاحت ہے کہ قرآن میں زور اسلحہ پر ہے نماز پر نہیں ہے۔ اگر نبیۖ باجماعت نماز پڑھانا چاہیں تو ایک گروہ کو اسلحہ سمیت چوکنا ہوکر نماز پڑھنے کا حکم ہے اور جب وہ ایک رکعت (سجدوںتک) پڑھ لیں تو پیچھے چلے جائیں اور دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی ہے وہ لوگ آپۖ کیساتھ نماز پڑھیں لیکن نماز کی حالت میں بھی اسلحہ ساتھ ہی رکھیں اور بالکل چوکنابیدار رہیں۔ اسلئے کہ کافر تاک میں رہتے ہیں اور غفلت پاکر کسی وقت بھی حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ آیت میں اسلحہ بہرحال رکھنے کی ترغیب ہی ہے۔چونکہ نماز پڑھنے کیلئے خوف کی حالت میں پیادہ اور سوار ہونے کی گنجائش واضح تھی اور جب سفر میں قصر نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی اور پھر خوف کی حالت کا بیان ہوا۔ جس میں پیادہ وسوار ہوکر نماز پڑھنے کی واضح گنجائش ہے اور اس میں باجماعت نماز پڑھنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
نبیۖ اگر ان میں موجود ہوں اور نماز پڑھانا چاہیں تو احتیاط کا تقاضہ پورا کرنے کیلئے یہ حکم دیا گیا کہ سب نماز میں شریک نہ ہوں اور جو نماز میں شریک ہوں وہ بھی چوکنا ہوں اسلحہ ساتھ رکھیں۔پاک فوج کے سپاہی اور مجاہدین فی سبیل اللہ اس آیت کی اہمیت اور مقاصد سمجھ سکتے ہیں،خیال ہے کہ فقہاء وعلماء اور ملاحضرات ان آیات کو سمجھنا بھی نہیں چاہتے ۔

 

علماء ومفتیان اور شاعروں کو حالت جنگ میں نماز کی کیفیت سمجھ نہیں آسکتی!

فرمایا” اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف درپیش ہو ،بارش سے یا بیماری کی وجہ سے کہ آپ لوگ اپنا اسلحہ رکھ لیں اور بیدار وچوکنا رہیں۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے رسواکن عذاب تیار کرکے رکھا ہے ”۔ چونکہ آیت میں نماز کی حالت میں بھی اسلحہ پکڑکر رکھنے کا حکم ہے تو تکلیف کی صورت میں جب بارش سے یا بیماری کی وجہ سے ہو تو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی ۔ مگر پھر بھی بیداری پر زور دیا گیاہے۔ قرآنی آیات کا متن سمجھنے کی سخت ضرورت ہے۔ اسلام جاہلانہ جذبات کا دین نہیں ہے۔ علماء وفقہاء اپنی روٹی کیلئے بھی اللہ پر توکل نہیں کرسکتے ہیں۔ جب کبھی دشمن کے ساتھ عین لڑائی میں نماز کا وقت ہو تو سجدہ کرنا جہالت ہے۔ اسلام کو جنگ کی حالت میں جتنا مجاہد اور فوجی سمجھ سکتا ہے اتنا کوئی ملا اور شاعر نہیں سمجھ سکتا۔ یہ بکواس ہے کہ
آ گیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز قبلہ روہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود ویاز نہ کوئی بندہ رہا اورنہ کوئی بندہ نواز
لڑائی کے وقت صف میں کھڑا ہوکر نماز پڑھی جائے تو واقعی بندہ اور بندہ نواز نہ رہے گا۔ یہ المیہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل قابل ہونے کے باجود نالائق صاحبزادگان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ سید ابوالاعلیٰ مودودی عالم اورپروفیسر منیب الرحمن مفتی بن گئے تو قرآن وسنت کی تعلیمات کی رہی سہی ساکھ بھی انہوں نے بگاڑ کر رکھ دی۔ جن علماء وفقہاء کے غلط افسانوں کو عوام نہیں سمجھ رہی تھی ،ان لوگوں کی بدولت جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی گمراہ بن گیا۔ اسی طرح تبلیغی جماعت نے اپنی سرسری محنت سے ایمان واسلام کا غلط مفہوم ذہن میں بٹھالیا۔ جب تھوڑی سی مشکل آگئی تو اللہ سے سب کچھ ہونے کے ایمان کا پتہ چل گیا۔ قرآن وایمان کی درست تشریح نہ ہوتو ہمارا لکھا پڑھا ،مولوی اور شاعر طبقہ گمراہ رہے گا۔

 

قرآنی آیات کا درست مفہوم ”ہم نیوز” کی بھی خاص طور پر ذمہ داری بن گئی!

فرمایا:”اورجب تم نماز پڑھ چکو تواللہ کا ذکرکرو کھڑے ہوکراور بیٹھ کر اور اپنے پہلوؤں پر۔پھر جب تم اطمینان کی حالت میں آجاؤ، تو نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مؤمنین کیلئے فرض کی گئی ہے وقتوں کے مطابق”۔( النساء آیت103) مفتی منیب الرحمن کا انٹرویو نشر کرنیوالے صحافی ”ہم نیوز” کے عامر ضیاء کا فرض بنتا ہے کہ قرآن کا اصل مؤقف لوگوں کو پہنچادے۔
آیت کا یہ آخری حصہ بھی بالکل واضح کرتا ہے کہ خوف یابارش کی صورت میں اسلحہ رکھنے کی گنجائش تکلیف کی وجہ سے ہے مگر پھر بھی گھمبیر صورتحال میں بہرحال چوکنا رہنے کا حکم ہے۔
ایسی صورت میں نمازِ خوف پیادہ اور سوارہوکر بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اشارے کنایہ سے بھی۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کا ذکر کرو، کھڑے کھڑے، بیٹھے بیٹھے اور کروٹیں بدلتے ہوئے۔ کیونکہ قیام، رکوع اور سجود کا یہ متبادل عمل ہے۔ پھر جب اطمینان مل جائے تو نماز قائم کرلو۔ اسلئے کہ اللہ نے مؤمنوں پر اوقات کے مطابق فرض کی ہوئی ہے۔
سیدابوالاعلی مودودی بہت ذہین تھے اسلئے آیت کے دوسرے الفاظ پر مختلف مفسرین سے مختلف مواد نکل کیا مگر اس آخری جملے پر بالکل بھی کچھ نہیں لکھا ہے۔ حالانکہ اس بات کی سخت ضرورت تھی کہ جب نماز پڑھ لی تو پھر قیام، قعود اور جنوب پر اللہ کا ذکر کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اطمینان کے بعد پھر کس طرح نماز قائم کرنے کا حکم دیا جارہاہے۔ قرآن میں کسی تضاد کا تو بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن جب مسجد میں پنج وقتہ نماز عبادت کے علاوہ پیٹ پالنے کا بھی ایک واحدذریعہ بن جائے تو علماء ومفتیان اور تبلیغی جماعت ودعوت اسلامی کے کارکن بہت حیران ہونگے کہ نبیۖ و صحابہ کرام سے غزوہ خندق میں نمازیں کیسے قضاء ہوگئیں؟۔ اُمید ہے کہ مفتی منیب الرحمن جہالت سے اعلانیہ توبہ کرنے میں عار نہ سمجھیںگے۔

 

اگر اسلام کا درست مفہوم سمجھ میں آتا تو مذہبی طبقہ ہی کورونا کیلئے بڑا کام کرتا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصروالفواد کل اُلٰئک کان عنہ مسئولًاO”اور ایسی بات پر اپنا مؤقف پیش نہ کرو، جس کا آپ کو علم نہ ہو۔ بیشک کان ، آنکھ اور دل کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔ بنی اسرائیل آیت:36
پوری دنیا میں کورونا سے لوگ مررہے ہیں لیکن مذہبی طبقات سمیت جاہل طبقات بکواس کا طبل بجارہے تھے کہ” سازش ہے اور کچھ نہیں”۔ میرے ساتھ ایک بھتیجاتھا توخیبرپختونخواہ کی پولیس کے اہلکار کو سمجھایا کہ لوگوں سے ہاتھ مت ملاؤ۔ اس سے بیماری پھیل سکتی ہے لیکن وہ کہہ رہاتھا کہ یہ کافروں کیلئے ہے جو گندی چیزیں کھا رہے ہیں۔ پھر دوسری مرتبہ دوسرا بھتیجا ساتھ میں تھا اور خیبر پختونخواہ پاک فوج کا سپاہی کہہ رہاتھا کہ ماسک کیوں نہیں پہنے ہیں؟۔ ہم پر احتیاط کرنے کیلئے زور ڈال رہاتھا۔ جب پاک فوج کی طرف سے لاک ڈاؤن پر زور دیا گیا ہے اور وزیراعظم ڈھیلے پن کا مظاہرہ کررہاہے تو پولیس اور فوجی اہلکاروں پر بھی اسکے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو تو چلتے چلتے اور سواری پربیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتے ہو لیکن جاہل مولوی طبقہ نماز کو خوف کا تریاق بتارہاہو تو یہ علم کا فقدان اور بہت بڑی جاہلیت ہے۔ اگر مساجد کے ائمہ اور مذہبی طبقات میں اسلام وایمان کا درست تصور ہوتا تو کورونا وائرس سے آگاہی کیلئے سب سے زیادہ کام یہی طبقہ آتا لیکن یہ اپنے ساتھ جاہل تعلیم یافتہ عوام کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن کہتا ہے کہ یہاں کورونا کی وجہ سے صرف خدشہ ہے مگر حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیںہے۔ جبکہ جنگ کی حالت میں نماز پر حملہ کرنے کا حقیقی اور سوفیصد خطرہ ہوتا ہے اور پھر بھی نماز معاف نہیں ہے۔ میڈیا پر حقائق کی تبلیغ ہوجائے تو بہت کم دنوں میں جلدہی اسلام کا حقیقی چہرہ علماء ومفتیان کو سمجھ بھی آجائے گا۔