یہود کے بعد نصاریٰ بھی دعوت توحید قبول کرچکے. عتیق گیلانی کی انقلابی تحریر

552
0

قوسِ قزاح کے رنگوں سے بھرپور ہمارا یہ معاشرہ !
قدرت کا کرشمہ ہے کہ بارش کے بعد افق پر 7رنگ کا ہالہ بنتاہے اور ہم نے اپنے غیر معصوم بچپن میں سمجھا تھا کہ ہر رنگ کی ایک جدا تعبیر ہے، زیادہ تفصیلات کاپتہ نہ تھا، بس سبز رنگ جنت کی نشانی اور سرخ رنگ جہنم کی علامت، جس نے پہلے قوسِ قزح دیکھ کر رنگ پسند کیا تو کسی دوسرے کو حق نہ پہنچتا کہ وہ بھی اسی کو پسند کرلے۔معصوم کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ایک دانشور کہے کہ مغالطے کی شکار فکر معصوم نہیں ہوسکتی، دوسرا کہے کہ اس غلطی کے پیچھے مجرمانہ غفلت نہ تھی اسلئے معصومیت سے تعبیر کیا جاتاہے۔ معصومیت کی بحث میں بھی قوسِ قزاح کی طرح رنگ ہیں۔ انبیاء کرامؑ معصوم ہیں،شیعہ ائمہ اہلبیت کو معصوم سمجھتے ہیں اور عوام بچوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ وسیم بادامی کا معصومانہ سوال شہرت اختیار کرگیا، مولا بخش چانڈیو نے اسکو شرارت کہا ، بیوقوفی بھی معصومیت سے تعبیر ہوتی ہے، خاص معاملے کی بے گناہی بھی معصوم قرارپاتی ہے، اولیاء کرام ؒ محفوظ ہیں تویہ ایک طرح کی معصومیت ہے۔ عدلیہ مجرموں کو معصوم بنانے کی فیکٹریاں ہیں، دہشتگرد معصوموں کو مارتے ہیں، خفیہ ایجنسی کے اٹھانے پر مجرم بھی معصوم بنتے ہیں،سیاسی رہنما اپنے لیڈر کو معصوم ثابت کرتے ہیں۔ مذہبی طبقے کو اپنے مکتبۂ فکر کے علماء ومفتیان معصوم لگتے ہیں، دعوتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت خود پر معصومیت کا عقیدہ رکھتی ہیں، یہود کے نزدیک ان کی نسل معصوم ہے اور نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ معصوم شخصیت تھی جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور شادی تک نہ کی۔ آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی، موسیٰ ؑ نے قتل کیا، داؤد ؑ نے اللہ سے معافی مانگی اور یونسؑ نے اللہ سے معافی مانگی لیکن حضرت مسیحؑ اللہ کی پاک روح تھے۔
اہل تشیع بارہ ائمہ معصومین کا جوعقیدہ رکھتے ہیں وہ انبیاء ؑ سے زیادہ ہے اسلئے کہ نبی کریمﷺ کا فتویٰ کچھ تھا ، اللہ نے فیصلہ خاتون کے حق میں کیا۔سوال ہے کہ مجادلہ میں نبیﷺ کی معصومیت کی نفی ہے؟۔ یا یہ معصومیت کی دلیل ہے کہ اللہ نے نبیﷺ کی اصلاح کیلئے وحی سے رہنمائی کی؟۔ نبیﷺ نے اصحاب کہف کی تعداد بتانے کیلئے کل کا وعدہ فرمایا لیکن کئی دن وحی کا سلسلہ بند ہوا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ کل کیلئے کوئی بات کہا کریں تو انشاء اللہ کہیں، یہ معصومیت کی نفی یا دلیل ہے؟۔ بدر ی قیدیوں کے فدیہ پر فرمایا کہ ’’نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ انکے پاس قیدی ہوں یہانتک کہ زمین میں خوب خونریزی کرتے‘‘ یہ عصمت کی دلیل ہے یا اسکے منافی اللہ نے وحی اُتاری؟۔ یہ عقیدہ تھاکہ وحی سے رہنمائی کا نام عصمت ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے بار بار قیامت تک صرف اور صرف اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا حکم دیا، جہاں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں اولی الامر سے اللہ نے واضح طور سے اختلاف کی گنجائش بھی رکھ دی ۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت وحی کی رہنمائی تھی ، ایک اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اختلاف کیا ، سورۂ مجادلہ ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ ،حدیث قرطاس اور صلح حدیبیہ کے اختلافات واضح مثالیں ہیں۔ شیعہ ائمہ اہلبیت کیلئے بھی ایسے اختلاف کی گنجائش نہیں رکھتے تو نبیﷺ کیلئے کہاں سے رکھیں گے؟، اسلئے وہ صحابہ کرامؓ کو باغی اور گستاخ سمجھتے ہیں۔ اہلسنت کی اکثریت بھی حقائق سے ناواقف ہونے کی وجہ سے معصومیت کا غلط عقیدہ رکھتے ہیں اسلئے جب شیعہ مکتب کے دلائل کا مطالعہ کرتے ہیں تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے ان پر گستاخی کا فتویٰ لگادیا جاتاہے۔ سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں کو حقیقی اسلامی بھائی بنانے کیلئے قرآن و حدیث کے خاکے پر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ فرقہ پرستی کے ناسور سے پاکستان سمیت مسلم امہ تباہ ہوگی۔
مہذب دنیا کو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کرتاہے مگررسول اللہ ﷺ کی توہین برداشت نہیں کرتا ،ایسا کیوں؟ بس یوں سمجھ لیجئے کہ ایمان کی حرارت کیلئے یہ آخری روشنی بچی ہے تو اس پر سمجھوتہ کیسے ہو؟۔ ہمارے پلے میں ایمان کو حرارت دینے کیلئے اور کچھ بچاہی نہیں۔ دنیا بھر میں جبر وظلم کا نظام ہے، بھارت گائے کے تقدس پر موت کے گھاٹ اتاردیتاہے حالانکہ بھارت گائے کے گوشت کا بڑاایکسپورٹر ہے ،بارڈر سخت نہ ہو تو عید قربان کے موقع پر پاکستان سے اچھا کاروبار ہوتا ہے۔ سورۂ فاتحہ کے بعد پہلی سورۂ بقرہ ہے جس میں گائے ذبح کرنے کا حکم ہے۔ پاک بھارت دوستی میں گائے کی ماں خیر منائے۔ اللہ نے انکے معبود کی حیثیت سے گائے کی توہین سے منع کیا، البتہ ان پر بوجھ اور ہماری ضرورت ہو تو سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ چین سے ہماری دوستی ہے،کتے ان کی ضرورت اور ہمارے لئے فالتو ہیں مگر یہ کاروبار ہم نہیں کرتے۔ مسلمان کو دوسروں کے معبودں کی اہانت سے منع کیا گیا تو رسول ﷺ کیلئے بھی ان کا حساس ہونا ایک فطری بات ہے۔ اہانت کے قوسِ قزح کی طرح کئی رنگ ہوسکتے ہیں، دیوبندی مکتبۂ فکر نے جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا سیداابوالاعلیٰ موددیؒ پر انبیاء کرامؑ اور ام المؤمنینؓ کی گستاخی کے سنجیدہ الزامات لگائے۔ بریلوی مکتبۂ فکر نے دیوبندی اکابرؒ پر گستاخی کے فتوے لگائے اور اہلحدیث کو بھی گستاخ قرار دیاگیا۔لیکن کیایہ قانون صرف کمزورطبقے کیلئے بنایاگیاہے؟۔
حضرت ابراہیمؑ کی اولاد بنی اسرائیل کے اندر نبوت کاسلسلہ جاری تھا،ان کو اپنی نسل پر گھمنڈ کرنے کازعم بیجا نہ تھااسلئے کہ قرآن نے مخاطب کیاکہ ’’ اے بنی اسرائیل میری نعمت کو یاد کرو، بیشک میں نے جہاں والوں پر تمہیں فضیلت دی ‘‘۔ جتنے انبیاء ؑ االلہ نے ان میں بھیجے، کسی قوم میں نہیں بھیجے۔ نبوت وبادشاہت کا سلسلہ عرصہ دراز تک ان میں جاری رہا۔ اچھے ممالک ، اسباب واموال اور بہترین ذہنی صلاحیتوں سے اللہ نے ان کو مزین رکھا، جسکے اثر ات اب بھی موجودہیں۔ جب وہ دنیاوی و مذہبی گھمنڈ اور فرقہ وارانہ تعصبات کا شکار ہوئے: وقالوالن یدخل الجنۃ الا من کان ہودا او نصٰریٰ وقالت الیہود لیست النصٰریٰ علی شئی و قالت النصٰریٰ لیست الیہود علی شئی وقال الذین لایعلمون مثل قولہم ’’ اور کہتے کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودیا نصاری ہیں اور یہودنے کہا کہ نصاریٰ کسی چیز پر نہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ یہودکسی چیز پر نہیں اور ویسی گفتگو کرتے وہ جو علم نہ رکھتے تھے‘‘ دین کا منکر طبقہ پراناہے، صابی کے بارے میں اقوال ہیں کہ وہ ستارہ پرست تھے، انبیاء کرام ؑ کے مذاہب کو نہ مانتے تھے ،یاکون تھے؟مگر دین کے منکر کی حیثیت ایسی بھی ہوسکتی ہے کہ مذہبی شدت پسندوں سے بیزار طبقہ جو کسی مخصوص فکر اور مکتبۂ خیال کا پابند نہ ہو، بس اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کو کافی سمجھتاہو اور اچھے عمل کو نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہو۔ موجودہ دور میں اس کا نام سیکولرہے اور اس دور میں اس کو صابی کہا جاتاہو۔ سیکولر مذہب کا انکار نہیں کرتے لیکن مذہبی شدت پسندی پر یقین نہیں رکھتے ۔ یہ حقیقت بھی مخفی نہیں کہ قائداعظم ؒ سیکولر تھے۔اوریا مقبول جان نے عرب حکمرانوں کا کہا کہ سیکولر ہیں مسلمان نہیں اور کہا کہ ’’قائداعظم کے اسلامی پروگرام پر عمل نہ ہوا‘‘۔
جب رسول اللہﷺ پر وحی نزول ہوئی، تو آپ ﷺ کو صابی قراردیاگیا، اسلئے کہ مکہ کا مشرک طبقہ خود کو دینِ ابراہیمی کا علمبردار سمجھتاتھا، یہود ونصاریٰ بھی حضرت ابراہیمؑ کو اپنا سمجھتے تھے اور اللہ نے فرمایا کہ ’’ ابراہیم ؑ یہودی نہ تھے اور نہ نصرانی تھے اور نہ ہی مشرکوں میں سے تھے‘‘۔ بہت بڑا اقدام اسلام نے یہ اٹھایا کہ مذہبی تعصب کی نفی کردی اور اس سے بڑھ کر کیا غیر متعصبانہ نظریہ ہوسکتاہے کہ قرآن نے وضاحت کردی کہ’’ اگراللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا تو مجوس، یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کی مساجد منہدم کردی جاتیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے ذکر ہوتاہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی نہیں آخرت کے اعتبار سے بھی قرآن میں یہ اعتقاد عام کردیا کہ ’’ بیشک جو لوگ مسلمان ہیں، یہود ہیں، نصاریٰ اور صابئین ہیں، انمیں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اچھے عمل کئے ان کو اجر بھی ملے گا اور وہ خوفزدہ اور غمگین بھی نہ ہونگے‘‘۔ فرقہ وارانہ مذہبی تعصب کے شکار دنیا میں قرآن کی تعلیم پر مشرکینِ مکہ کے جہلاء نے آپﷺ پر صابی (سیکولریابے دین) ہونے کا فتویٰ لگادیا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم میں اللہ اور آخرت کا انکار نہیں تھا بلکہ مذہبی تعصبات کے شکار دنیا کو مثبت پیغام دیاگیا۔
نسلی گھمنڈ کے شکار بنی اسرائیل یہودونصاریٰ بنی اسماعیل کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے مگر جب رسول اللہ ﷺ نے جہالت کی اندھیر نگری میں علم کے چراغ روشن کئے تو سارا عجم اس روشنی کا علمبردار بن گیا۔ مولانامبارکپوری کی سیرت نگاری میں اول انعام یافتہ کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ ہے۔ رحیق اعلیٰ درجے کی شراب اور مختوم کا معنیٰ سیل بند ہے۔ پیار سے یہ نام رکھا گیاہے لیکن اگر فرقہ وارانہ تعصبات والے عناصر اسکے خلاف بھی منفی پروپیگنڈہ شروع کردیں تو مصنف، کتاب چھاپنے والے اور انعام دینے والے سب گستاخی کے فتوے کی زد میں آجائیں گے۔ گستاخی کے معیار کو اخلاق کے ترازو میں تولنے کے بجائے عدالتی ترازو میں جانچا جائے تو عدالت کی نافرمانی کو بھی گستاخی سمجھا جاتاہے۔ حدیث قرطاس میں حضرت عمرؓ کا رسول اللہﷺ کی طرف سے وصیت نامہ لکھوانے پریہ کہنا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘ یقیناًموجودہ عدالت کی نگاہ میں گستاخی کے زمرے میںآتا ہوگااسلئے کہ عدالت اپنی حکم عدولی کو گستاخی سمجھتی ہے۔ کافی احادیث جن کو امام ابوحنیفہؒ نے اپنے معیار پر قرآن کے مطابق نہ سمجھا اور ان کی تردید کردی ، وہ بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہوگامگر نبیﷺ نے تو اپنے جانثارصحابہؓ کی تربیت ایسی کی کہ وہ ضمیر کے مطابق اختلاف کا اظہار کرتے بلکہ اللہ نے ان کا یہ فرضِ منصبی قرار دیا وامرھم شوریٰ بینھم ’’اورکسی خاص بات کو باہمی مشاورت سے طے کرتے تھے‘‘ ، صحابہؓ پر وحی نازل نہ ہوتی لیکن بسا اوقات کی ان کی رائے پر بھی وحی نازل ہوجاتی تھی جیسے بدری قیدیوں پر فدیہ اور سورۂ مجادلہ میں وضاحت ہے اسلئے نبیﷺ سے فرمایا : وشاورھم فی الامر ’’کسی خاص بات میں مشاورت کرلیا کریں‘‘۔اختلاف رائے پر گستاخی کا الزام اور سزا تو بہت دور کی بات تھی ، جبکہ صلح حدیبیہ کے معاہدے پر پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی، نبیﷺ کو بغاوت کا گمان ہونے لگاتھا لیکن گستاخی کا فتویٰ کسی پر نہیں لگایا، ذی الخویصرہ نے واقعی گستاخی کا ارتکاب کیا،کہا کہ آپﷺ انصاف نہیں کرتے!نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون کریگا‘‘ ۔ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اسکو قتل نہ کردوں؟۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ اکیلانہیں، یہ گروہ در گروہ پیدا ہونگے ، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال سے مل جائیگا۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن انکے حلق سے نیچے نہ اتریگا۔ ان کی نماز ، روزے کو دیکھ کر اپنی نماز اور روزے کو حقیر جانوگے۔یہ اسلام سے نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے ‘‘۔ رسول ﷺ نے اس گستاخ کو کوئی سزا نہ دی، ابن صائد نے نبیﷺ سے کہا کہ آپﷺ امیوں کے رسول ہیں اور میں تمام جہاں کا رسول ہوں لیکن نبیﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا۔جیوپر ڈاکٹر عامر لیاقت نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ ’’ صدیق اکبرؓ نے نئی نبوت والے کو توبہ کی ایک مہلت دی اور پھر انکے خلاف قتال کیا تھا‘‘۔پھر پاکستان میں قادیانیوں کا کیابنے گا؟۔جب ریاست کی طرف سے ایک آنکھ کا اشارہ ہوگا تو مذہبی طبقے اپنے ایمانی کیفیت کا مظاہرہ کرینگے۔ اپنے تضادات کو ٹھنڈے دل سے ختم کرنا ہوگا۔
عیسائی کے مقابلے میں یہود نے ضد میں عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنانا شروع کیا تھا، جیسے سپاہِ صحابہ والے 12ربیع الاوّل کے جلسے جلوس اور تعطیل و میلادالنبی ﷺ کو بدعت سمجھتے ہیں لیکن عشرہ محرم میں فاروقِ اعظمؓ کی تعطیل کیلئے حکومت پر زور ڈالتے ہیں۔ اس مرتبہ پختونخواہ کی حکومت نے پہلے محرم کو بھی یہ مطالبہ مان کر تعطیل کا حکم جاری کیا۔ اگر اہل تشیع محرم کے منانے سے پیچھے ہٹ جائیں تو وہ بھی تعطیل منانے کا مطالبہ نہ کرینگے۔ سعودیہ کا ماحول الگ ہے وہاں یومِ فاروق اعظمؓ منانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ۔ اسلامی اقتدار قائم ہوا تو مدینہ کے یہودیوں میں پڑوسی ہونے کے ناطے شعور بیدار ہوا۔ کچھ عرصہ بعد ان کا مؤقف بدل گیا، وہ کہنے لگے کہ ’’ ہم ہمیشہ سے توحید کے قائل رہے ہیں، کبھی شرک نہیں کیا‘‘۔ آج اسلام کی روشنی دنیا بھر میں پھیل گئی تو عیسائی بھی اپنا مؤقف بدل چکے ہیں۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔ ہم اللہ کی شادی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ صرف عیسیٰؑ نہیں بلکہ اللہ کے تمام نیک مردوں اور خواتین کو ہم خدا کے بیٹے سمجھتے ہیں اور بیٹے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خدا نے شادی کی اور اس کی وجہ سے کوئی پیدا ہوا، اس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ حج کے بعداگلے دن تمام اخبارات میں آتا ہے کہ 30لاکھ فرزندانِ توحید نے فریضہ حج ادا کیا، توا س کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ حاجی خدا کے بیٹے ہیں یا مسلمان ان کو خدا کا بیٹا سمجھنے لگتے ہیں، اس طرح عیسائی بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا رشتے کی بنیاد پر بیٹا نہیں سمجھتے، حضرت داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔ اور خدا کی شادی اور جنسی بیٹے کو ہم بھی شرک سمجھتے ہیں‘‘۔(نیٹ پرایک خاتون پادری کا بیان موجود ہے)
پوری دنیا پر حکمرانی میں بڑے مقام پر فائز امریکن ، یورپین، آسٹریلین عیسائی یہ سمجھتے ہیں کہ:
توراۃ اللہ کی کتاب تھی لیکن یہود کی طرف سے اس میں رد وبدل ہوئی۔ حدود اور سزاؤں کا بہیمانہ نظام مسائل کا حل نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا یہی مؤقف تھا اسلئے انجیل میں حدود وتعزیرات کا وجود نہیں۔ قرآن میں توراۃ اور انجیل کی آدھی اورادھوری تعلیم ہے۔ مسلمانوں نے اسکے ذریعہ خود کو اسوقت عالمی سپر طاقت بنایا، جب نصاریٰ نے عملی طور پر خدا کے دین سے روگردانی کی۔ یہود نے حدود اور تعزیرات کی سخت سزاؤں کا اندراج کیا لیکن پھر اس پر خود بھی عمل نہ کرسکے اور یہی حالت مسلمانوں کی رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے زبردست حکمتِ عملی سے کام لیکر فرمایا کہ ’’ جس نے خود زنا نہیں کیا ہو،وہی پتھر مارے‘‘ جس سے سزا کا تصور معاشرے سے ختم ہوگیا، اسلئے کہ شریف لوگ دوسرے کو مارنے میں بہت محتاط ہوتے ہیں، بلکہ وہ معاف کرنے اور درگزر کا رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن جو لوگ خود بدمعاش اور بدکار ہوتے ہیں وہ دوسروں کو سخت ردِ عمل سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ’’وہ بات کیوں کرتے ہو؟ جس پر خود عمل نہیں کرتے ‘‘۔ رسول اللہﷺ نے سنگساری کی سزا کو ٹالنے کی کوشش کی۔ ہاتھ سے پتھر نہیں مارا۔ لوگوں نے مارا، تو وہ بھاگا، کسی نے بڑاپتھر مارا ، نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ بھاگنے دیتے‘‘ اور جس نے مذمت کی کہ اپنا راز کیوں کھولا؟۔ تو نبیﷺ نے اسلئے اس کی تعریف کی کہ اس نے تو کسی کو نہیں مارا تھا۔ اپنے اوپر حد جاری کرنے کیلئے خود گواہی دی تھی۔ اسلئے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اس کی توبہ اگر پورے مدینہ والوں پر بانٹ دی جائے تو سب کو پوری ہوجائے‘‘۔
حضرت عمرؓ کے سامنے بصرہ کے گورنرحضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کے خلاف زناکی گواہی دینے کیلئے چار افراد نے ایک ایک کرکے خود کو پیش کیا ۔ پہلے کی گواہی پر حضرت عمرؓ بہت پریشان ہوئے، دوسرے پر اس سے زیادہ پریشان ہوئے، تیسرے پر پریشانی کی انتہا ء نہ رہی تو چوتھے کو آتے ہوئے ترغیب دی کہ’’ اسکے ذریعے اللہ اس صحابیؓ کو ذلت سے بچائے گا۔ پھر وہ قریب آکر گواہی دینے لگا تو حضرت عمرؓ نے چیخ مار کر کہا کہ تیرے پاس گواہی کیلئے کیا ہے؟۔ چوتھے گواہ زیاد نے کہا کہ ’’ میں نے اور کچھ نہیں دیکھا، عورت کی ٹانگیں اسکے کاندھے پر گدھے کے کان کی طرح پڑی تھیں اور میں نے سرین دیکھا ‘‘۔ راوی نے کہا کہ عمرؓ نے اتنے زور سے چلاکر کہا تھا کہ تیرے پاس کیا ہے کہ قریب تھاکہ میں ڈر کے مارے بیہوش ہوجاؤں، عمرؓ نے شہادت رد کردی اور تین گواہ پر80کوڑے کی حدِ قذف جاری کردی۔ مغیرہؓ کو بچایا لیکن گورنری سے ہٹا دیا۔ اس نے کہا کہ مجھے گورنر بنادو، تو عمرؓ نے فرمایا کہ آپ گورنری کی بات کرتے ہو؟۔ اگرگواہ پورے ہوجاتے تو سنگسار کردیتا۔ ان گواہوں میں ایک صحابیؓ حضرت ابوبکرہؓ بھی تھے ، جب حضرت عمرؓ نے ان تین افراد کو حدِ قذف کے بعد یہ پیشکش کی کہ تم کہہ دو کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا تو پھر آئندہ تمہاری گواہی قبول ہوگی۔ حضرت ابوبکرہؓ نے کہا : ضرورت نہیں کہ آئندہ میری گواہی قبول ہو ۔ باقی دو افراد نے کہا کہ ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ جمہورائمہ مجتہدین ؒ کے نزدیک عمرؓ کی پیشکش درست تھی اسلئے کہ قرآن میں توبہ کی گنجائش ہے، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ پیشکش غلط تھی اسلئے کہ قرآن میں جھوٹی گواہی دینے والوں کی توبہ قبول نہیں ۔ بخاری میں ان دوگواہ کے بھی نام ہیں۔ وہ دو گواہ معتبر ٹھہرے اور بنی امیہ و بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کے ادوار سے عدالت کو اس قسم کے معتبر شاہی اور درباری گواہوں سے تقویت ملتی رہی ۔ علیؓ سے حضرت عائشہؓ کی جنگ ہورہی تھی تو بخاری میں ہے کہ علیؓ کے لشکرمیں حضرت ابوبکرہؓ بھی تھے انہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی، جس کی قیادت عورت کررہی ہو‘‘۔ حضرت ابوبکرہؓ کی گواہی جب معتبر نہیں رہی تھی تو ان کی بیان کردہ حدیث کا بھی اعتبار ہے یا نہیں؟۔ حدیث کا اس خاص واقعہ سے تعلق تھا یا ہمیشہ کیلئے یہ بات ہے؟۔ بینظیر بھٹو کو نوازشریف اور زرداری سے بہتر قرار دیا جاتاہے۔ عشرہ مبشرہ کے دو صحابہ کرام طلحہؓ اور زبیرؓ حضرت عائشہؓ کے لشکر میں علیؓ کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ یہ اسلامی حکومت کی قانون سازی سے ممکن ہوسکا کہ چور ی و سنگساری کی وحشیانہ سزا ئیں ختم ہوگئیں۔
فقہاء نے نہلے پر دھلا کرکے زنا کی گواہی کیلئے یہ شرط رکھ دی کہ سرمہ دانی میں سلائی کی طرح گواہ چشم دید گواہی دے۔ گویا جب تک انسانی اجسام شفاف شیشے کی طرح نہ ہوں یا الٹرا ساؤنڈ سے زیادہ اچھے مشین کی طرح نہ دیکھیں تو یہ گواہی معتبر نہیں ہے۔یورپی یونین کے دباؤ کی وجہ سے پیپلزپارٹی وغیرہ نے پاکستان میں قتل کے بدلے قتل کی سزا کو ختم کرنے کی کوشش بھی اسلئے کی تھی اور کافی عرصہ تک قتل کے بدلے قتل کا سلسلہ بھی پاکستان میں رکا رہا۔ اگر پیپلزپارٹی اور سول سوسائٹی کو بھاری اکثریت ملتی تو قانون میں تبدیلی بھی لائی جاتی۔عیسائیوں کا یہ مؤقف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بے عمل یہودیوں نے اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہونے دیا اور اسلام نے انجیل کے مشن کو بہت بہترین انداز میں دنیا کے اندر نافذ کردیا۔ اسلئے عیسائی رسول اللہ ﷺ کو اول نمبر کا کامیاب قانون دان قرار دیتے ہیں ، حضرت عمرؓ نے بھی توراۃ کے شرعی حدود کو آثار قدیمہ میں ہی بدل ڈالا۔ بصرہ کے گورنر کی جو حالت بیان کی گئی ہے اس سے زیادہ تو مغرب کی دنیا میں آج بھی نہیں ۔ اسلئے حضرت عمرؓ کو بھی خاص مقام عیسائیوں نے دیا ۔ برطانیہ نے مرزاغلام احمد قادیانی سے جہاد کو منسوخ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ نے روس کے خلاف پھر جہاد کو دنیا میں منظم کردیا۔ جب روس کو شکست ہوئی اور امریکہ سپر طاقت بن گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ کو یہودی لابی نے کامیاب کروایا۔ جو اسرائیل اور روس سے بھرپور دوستی کریگا۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی غیر سیاسی جماعتیں ہیں جو نصاریٰ کے مشن کو ہی تقویت پہنچانے کا للہ فی اللہ کام کررہی ہیں کیونکہ حکومت ، حدود اورتعزیرات ان کے نصاب سے خارج ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں نے مغرب کے جمہوری نظام کو قبول کرلیا وہ بھی سمجھوتہ ایکسپریس ہیں اور مقبولِ عام علماء شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور ہلال کمیٹی کے چےئرمین مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن وغیرہ نے بینکوں کے سودی نظام کو اسلامی قرار دیا ہے۔ جن لوگوں میں خلافت کا جذبہ ہے وہ بغاوت کا سامنا کررہے ہیں ،ان میں بھی مچھلی اور جھینگے کا پتہ نہیں چلتا کہ کون شکار کررہاہے اور کون ہورہاہے؟۔ مدارس اسلام پڑھا رہے ہیں یا اپنا کاروبار جمارہے ہیں؟ ۔مینا اور طوطا کی طرح رٹے رٹائے اسلام کی تبلیغ اور دعوت دینے والے کامیاب ہیں اور اسلام کو اس کی روح کے مطابق زندہ کرنے والوں کیلئے مسلمانوں کے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں، میڈیا کو بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس وقت اشہارات دیتی ہیں جب انکے ایجنڈے پر کوئی اثر نہ پڑے۔ سودکے جواز کا فتویٰ دینے والے گنتی کے چند علماء ومفتیان معتبر اور مخالفت کرنیوالی اکثریت کی حیثیت نہیں اور پھر بھی میڈیا پر میرٹ کا راگ الاپا جاتاہے۔ جو لوگ چند مراعات یافتہ طبقے کے خلاف عوام کی اکثریت کی بات میڈیا پر کرتے ہیں ان کو بھی پاگل سمجھا جاتاہے۔
قرآن نے تو شروع سے ہی اہل کتاب سے کہا تھا کہ ’’ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب آؤ، اس بات کی طرف جس میں ہم دونوں ایک ہیں،کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسکے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرینگے‘‘۔۔۔ ’’کوئی اسکے حکموں میں شریک نہ ہوگا‘‘۔ یہودونصاریٰ اپنے پیر اور علماء کے حلال و حرام کو اللہ کے حکموں میں شریک کرتے تھے اسلئے انکے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ’’ انہوں نے اپنے احبار ورھبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا‘‘۔ توحید کی جنگ ہم جیت چکے ہیں، یہودو نصاریٰ بھی توحید کے قائل ہوگئے ۔ اب اصل جنگ نظام کی ہے اور جب دنیا کو اسلام کے نظام کا پتہ چلے گا تو انسانیت توحید کی طرح اسلام کے احکام کو بھی دنیا میں نافذ کرنے پر آمادہ ہوگی، لیکن جب مسلمان خود بھی اسلامی احکام سے واقف نہیں ہونگے تو دنیا کیسے قبول کرے گی؟۔ عیسائیوں کو یہود سے خطرہ نہیں مگر فطری دین اسلام سے بااثرطبقہ ڈرتاہے کہ ’’دنیا بھر میں عادلانہ نظام نافذ نہ ہوجائے‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان سچ ثابت ہوا ۔یہودکے نقش قدم پر خود ساختہ حلال و حرام کا دورآیا ۔ سودی نظام کو جواز فراہم کرنے کے علاوہ اجنبیت کے ادوار پر غور اورعملی اقدامات اٹھانے ہونگے اور جب معاشرے کو خالص قرآن و سنت کے مطابق ڈھال دینگے تو من حیث القوم مسلمان عروج کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ معاشرے میں انسانی کمزوری کی وجہ سے بہت سے دانستہ اور نا دانستہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن سے درگزر کی ضرورت ہے لیکن ان کا ازالہ کرنا چاہیے، ضد اور ہٹ دھرمی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ نبیﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع جاہلیت کے خون ختم کردئیے اور پہلے اپنوں میں سے ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون معاف کردیا اورچچا عباسؓ کا سود معاف کردیا تو حضرت عباسؓ نے اصل بھی معاف کردیا۔ ہمارے مولوی نے قرآن کی طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، طلاق و حلالہ کی غلط راہ پر عوام کو لگادیا، اب سوچنے کی بات یہ ہے دارالعلوم کراچی سے قرآن و سنت کے حوالہ سے بتایا گیاکہ شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین سود ہے اور اسکے ستر گناہوں میں سے کم از کم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پھر جب عوام کے ذہن میں سود کی ایسی حرمت اور گناہ بیٹھے گا تو بینکوں کے اسلامی نظام کو بھی حلالہ کی لعنت سے بڑھ کر احسان سمجھیں گے اسلئے کہ ماں سے زنا تو بہت بڑی بات ہے۔ حضرت عباسؓ کو یہ وعید سنائی جاتی تو شاید پہلے ہی سود چھوڑ دیتے۔
قرآن کے نظام کو نافذ کرنے کیلئے طرزِ نبوت کی خلافت کا قیام ضروری ہے، نہیں تو کم ازکم حیلے کا عمل چھوڑ کر حرام کو حرام سمجھا جائے ، موقع مل جائے تو عملی طور سے ختم کیا جائے۔ سیدعتیق الرحمن گیلانی