حاجی عثمان مجدد تھے اور ہم نے تجدیدی کارنامہ کردکھایا. عتیق گیلانی

465
0

haji-usman-tabligi-jamat-ke-akabir-or-tariqat-k-khalifa-thhe-mujjadid-thhe-hum-ne-tajdidi-karnam-kr-dikhaya

حاجی محمد عثمانؒ پر فتویٰ لگنے سے پہلے دیوبندی،اہلحدیث اور خاص طور پر تبلیغی بڑی تعداد میں بیعت تھے۔ حاجی عثمانؒ تصوف کو ولایت صغریٰ اور شریعت و تبلیغ علماء ونظام خلافت کو خلافت کبریٰ سے تعبیر کرتے۔ مسجدنور جوبلی کراچی میں بریلوی مکتب فکر کے مولانا شفیع اوکاڑی امام وخطیب تھے۔ ایک مرتبہ متولی نے ان کو منبر سے اُتارا، حاجی عثمانؒ کو منبر پر بٹھادیا اور مولانا اوکاڑی سے کہا کہ سنو، تقریر ایسی ہوتی ہے۔ حاجی عثمانؒ نے دین کو زندہ کرنیکا احساس جگایا۔ تصوف کے شہسوارکی زباں میں ایمان کی روشنی، یقین کا کمال، تقویٰ پرہیزگاری کا چراغ اور اللہ سے تعلق کی مضبوط رسی، دنیا سے بے نیازی اور بہت کچھ ہوتا ہے جو حال سے محسوس کیا جاسکتا مگر الفاظ میں اسے بیان کرنا ممکن نہیں ۔ہر صدی پر مجددآئیگا تو حاجی امداد اللہ ؒ نے تجدیدی کارنامہ انجام دیا ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے مرید مولانا الیاسؒ نے تبلیغ کا کام شروع کیا۔ مولانا احتشام الحسنؒ انکے ساتھی اور خلیفہ تھے۔اگر ان کو امیر بنایا جاتا تو آج حاجی عبد الوہاب اور مولانا الیاسؒ کے پڑ پوتے میں اختلاف نہ ہوتا۔ حاجی عثمانؒ حاجی عبد الوہاب سے بھی پہلے کے اکابرین میں شمار ہوتے تھے۔
تبلیغی جماعت کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اسٹیٹس کو اس میں ٹوٹتی ہے۔ بڑے افسر، تاجر، حکمران، مولانا اور پیرطریقت کو اپنا بستر پیٹھ پر لاد کر گلی، کوچے، محلے، شہر، بستی، ملک و بیرون ملک سردی وگرمی میں گھومنا پڑتاہے۔ اصلاح کیلئے سہ روزہ، عشرہ ، چلہ اور چارماہ لگانے کی مشق کارگر ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اس غیرمتنازعہ تبلیغی کام سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ حضرت جی مولانا یوسفؒ کی یادگار تقریروں میں وفات سے 3 دن پہلے کی آخری تقریر’’ اُمت کے جوڑ‘‘پرکہاکہ’’ حضرت سعد بن عبادہؓ جو ایک جلیل القدر صحابی اور انصار کے سردار تھے مگرخلافت کے مسئلہ پر ناراض تھے اور امت کیلئے توڑ کا باعث بنے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نہیں بخشا اور جنات نے ان کو قتل کردیا تھا‘‘۔
مولانا سید سلیمان ندویؒ کے خلیفہ مولانا اشرفؒ اسلامک ڈیپارٹمٹ پشاور یونیورسٹی کے چیئرمین تبلیغی جماعت کی سر گرمی میں حصہ لیتے تھے۔ ان کی3 باتوں سے حقائق کھلیں گے 1: کہا ’’ اب تو تبلیغی جماعت کے لنگر کی دال اچھی ہے۔ پہلے ایک من پانی میں ایک کلو دال ڈالتے تھے اور لوگ روٹیوں کے ٹکڑوں سے کشتیاں بناکر دانوں کا شکار کرتے تھے‘‘۔عوام وخواص کی اصلاح کیلئے اس لنگرکا کھانا بھی کافی تھا ،پھر خواص کیلئے الگ کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ 2: مولانا اشرفؒ نے کہاکہ’’ ایک مرتبہ ہماری جماعت پنجاب میں بریلوی کی مسجد میں گئی۔ وہاں کے امام نے کچھ لوگ بٹھا دئیے اور جب میں رسول اللہﷺ کی شان بیان کررہاتھا تو امام صاحب کہہ رہے تھے کہ بندہ ٹھیک جارہا ہے۔طائف کے واقعہ کو بیان کیا اور جب یہ کہا کہ اللہ کو اپنا دین اتناپسند ہے کہ طائف میں نبیؐ کے خون کو بھی بہادیا۔ تو امام صاحب نے کہا کہ اب یہ پٹری سے اترگیااور انکو مسجد سے باہر پھینک دو، تو ہمیں بستروں سمیت مسجد سے باہر پھینکا گیا‘‘ یہ واقعہ دیوبندی بریلوی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔ یہ نکتہ بھی بیان ہوسکتا تھا کہ کعبہ بتوں سے بھرا تھا، طائف کے لوگ شرک میں عرصہ سے ملوث تھے لیکن اللہ نے عذاب کا فیصلہ نہیں کیا مگر جب طائف والوں نے نبیﷺکا خون بہادیا تو اللہ نے طرح طرح کے عذاب نازل کرنے کیلئے فرشتے بھیج دئیے۔ شرک کی بات پر اللہ نے نہیں پکڑا مگر نبیﷺ کا خون بہانازیادہ برا لگا۔ حضرت حاجی محمد عثمانؒ فرقہ واریت کا ناسور زبردست اندازمیں ختم کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ دیوبندی بریلوی توحیدو رسالت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں جیسے اللہ و رسولﷺ میں جھگڑا ہو رہاہے اور یہ وکالت کررہے ہوں۔ توحید کو اسطرح بیان کرنا کہ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی ہو ، غلط ہے۔ بے ادبی توحید نہیں اور شانِ رسالت ﷺ کو ایسا بیان کرنا غلط ہے کہ توحید میں شرک کی آمیزش ہوجائے،شرک کوئی ادب نہیں ہے۔ 3:مولانا اشرفؒ نے کہا ’’ تبلیغی جماعت میں وقت لگانے والا کہہ رہاتھا کہ میں نے چار ماہ میں وہ کمایا جوسید عبدالقادر جیلانی نے زندگی بھر میں نہیں کمایا، جو خواجہ معین الدین چشتی نے نہیں کمایا۔۔۔ ۔۔۔بڑے بڑے اولیاء اور علماء نے نہیں کمایا۔جب وہ یہ کہہ رہاتھا تو میں نے اس کو زبان سے کچھ نہیں کہا مگر دل میں سوچا کہ ان میں کسی نے اتنا تکبر نہیں کمایا جتنا تم نے کمایا‘‘۔ بس تبلیغی جماعت کو اس رویہ سے حاجی عثمانؒ روکتے رہے ہیں۔
ایک طرف انسان اپنی تدبیر کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ بھی اپنی تدبیر کرتاہے۔ جمعہ کے دن چھٹی تھی ، جمعرات کے دن تبلیغی جماعت کا شب جمعہ ہوتاتھا۔ حاجی عثمانؒ نے مریدوں کے اجتماع کیلئے اتوار کا دن رکھا، تاکہ مقابلہ کی بات نہ ہو۔ جمعہ کے دن مسجدنور جوبلی میں عوام سے وعظ ہوتا تھا جس میں لوگوں کو تبلیغی جماعت کی باقاعدہ دعوت دیتے تھے۔ پھر تبلیغی جماعت کے بعض افراد کی طرف سے غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ تصادم کی صورت اختیار کرنے لگا تو حاجی عثمانؒ نے اعلان کردیا کہ اس کشمش سے بچنا ضروری ہے۔ جو تبلیغی جماعت ہی میں کام کرنا چاہے ، میری طرف سے مریدی کی بیعت توڑنے کی اجازت ہے اور میں ناراض نہ ہونگا تاکہ یکسوئی کیساتھ وہ وہاں اصلاح کا کام کرسکے۔ جو مرید بن کے رہے گا تو وہ وہاں نہیں جائیگا۔ میں کچھ لوگوں کو تیار کرکے رائیونڈ بھیج دوں گا تاکہ ان کو پتہ چلے کہ اصلاح کیسی ہوتی ہے۔ اس اعلان کے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو حاجی عثمانؒ کے بہت عقیدتمند مریدتھے مگر سخت مخالفت پر اُتر آئے۔ تبلیغی جماعت میں مخالف عناصر کو بڑا موقع ہاتھ آیا کہ حاجی عثمانؒ کے خلاف خوب کھل کرکھیل کھیلیں۔
اس سے پہلے حاجی عثمانؒ کے مریدوں طیب، جاوید اور ابراہیم نے 1500روپے سے مشترکہ چائے کا کیبن شروع کیا توحاجی عثمانؒ کی دعا سے کاروبار خوب چمک گیا،کچھ بیواؤں اور یتیموں کو بھی شریک کیا گیا توکاروبار میں مزید برکت ہوئی۔یہ دیکھ کر علماء ومفتیان نے بھی شرکت کی تمنا کردی۔ حاجی عثمانؒ نے کہا کہ علماء ومفتیان کی رہنمائی پر شرعی کاروبار کیا جائے اور کاروبار سے ملنے والے منافع کودین کیلئے وقف کرنے کی نیت کی جائے۔ ٹی، جے ، ابراہیم کے نام سے یہ مضاربہ کمپنی عوام وخواص میں بہت مقبول ہوئی۔ یہانتک کہ اس کاسودی نظام کے متبادل کے طور پر خواب دیکھا جانے لگا۔ تبلیغی جماعت نے اخبار میں اشتہار دیدیا کہ ’’ ہمارا اس کاروبار سے تعلق نہیں ‘‘۔ لیکن کراچی کے بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان بڑے پیمانے پر اس کیلئے کام کررہے تھے۔ جنکے نام پر کمپنی تھی ان کا بھی تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق بھی نہ تھا۔
حاجی عثمانؒ نے اشتہار دیکھ کر حکم دیا کہ یہ کاروبار بند کردیا جائے، اسلئے کہ تبلیغی جماعت کی ناراضگی قبول نہ تھی اور کاروبار کیلئے سب اپنا اپنا راستہ ناپ سکتے تھے۔ یتیموں و بیواؤں کا اللہ رازق ہے ۔ علماء ومفتیان نے مشورہ دیا کہ تمہارا مرشد اللہ والا آدمی ہے، تبلیغی جماعت والے کون ہیں؟۔ نام کو بدل کر یہ کاروبار جاری رکھیں۔ چنانچہ کاروبار کا نام ’’الائنس موٹرز‘‘ رکھ دیا گیا۔ اللہ کا کرنا تھا کہ جب تبلیغی جماعت سے روکنے پر بعض تبلیغی عناصر نے زبردست پروپیگنڈہ شروع کیا تو علماء ومفتیان نے کھل کر حاجی عثمانؒ ہی کا ساتھ دیا۔ دارالعلوم کراچی اور مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نے تبلیغی اکابر کی طرف سے کشتئ نوح قرار دینے وغیرہ پر بھی فتوے لگائے۔ مولانا حکیم اخترؒ نے 1986 ؁ء میں تبلیغی جماعت کے خلاف بنگلہ دیش میں تقریر کی تھی جو کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔جس میں تحریر ہے کہ علماء کرام حفظ کیساتھ تعلیم مکمل کرکے 13سال کا چلہ لگاتے ہیں، اگر تبلیغی یہ کہتے ہیں کہ اب اللہ کی راہ میں عملی طور سے نکلنا چاہیے تو یہ علماء کی توہین ہے اور اس پر کفر کا فتویٰ ہے۔ پھر اسی کتاب میں حکیم اختر ؒ نے خودبھی علماء کی توہین کی ہے۔ کہا کہ’’علماء بیعت ہوں میں شرماؤں گا بھی نہیں اور گھبراؤں گا بھی نہیں۔ قیمتی عطر کیلئے وہ بوتل نہیں لیا جاتا ، جس پر کتے بلی کی پوٹی لگی ہو‘‘۔حاجی عثمانؒ کی وجہ سے حکیم اخترؒ میں جرأت پیدا ہوئی تو علماء کی بجانے لگے۔
حکیم اختر ؒ باقاعدہ عالمِ دین نہ تھے اور حاجی عثمانؒ بھی عالم نہیں تھے۔ یہ فرق تھا کہ حاجی عثمانؒ ہر بات میں علماء کی رہنمائی ضروری سمجھتے تھے اور حکیم اختر خود ہی مولانا بن گئے تھے اور اس بنیادی وجہ سے حاجی عثمانؒ کے اندر کوئی ایسی بات نہ تھی جس کی وجہ سے ان پر گمراہی کا فتویٰ لگایا جاتا۔ حکیم اخترؒ کی اس کتاب میں ایک انتہائی گھناونی بات ہے، کسی جاہل کا شعر نقل کیاہے کہ ’’ اگر مجلس میں ایک بھی منافق ہو تو نبی کا فیض بھی نہیں پہنچتا ہے‘‘۔ حالانکہ نبیﷺ کے دور میں رئیس المنافقین اور منافقوں کی ایک فہرست موجود تھی۔ پشتو کے معروف عالم شاعر رحمان باباؒ نے پشتو میں ایک شعر کہاہے کہ’’ اگر علم کے بغیر فقیری (پیری مریدی) کروگے تواپنی کھوپڑی کو ہی آگ لگادوگے‘‘۔
اگرحضرت حاجی محمد عثمانؒ پر فتوؤں کی داستان سامنے لائی جائے تو علامہ اقبالؒ کے مشہور اشعار اس پر صادق آتے ہیں۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار سے ہوتی ہے سحر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی ایک کتاب ’’عصر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ عرصہ سے مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اگر ناشر نے شائع نہ کی تو ہم اس کو بھی احادیث کے درست ترجمہ و مفہوم کیساتھ انشاء اللہ شائع کردینگے۔ کتاب کی حدیث نمبر4کا عنوان یہ ہے ’’ بدکاری عقلمندی کا نشان‘‘۔ عن ابی ھریرہؓ قال: قال رسول ﷺ یاتی علی الناس زمان یخیّر الرجل بین العجزوالفجور فمن ادرک ذٰلک الزمان فلیخیر العجز علی الفجور (مستدرک حاکم، کنزالعمال ج۱۴، ص۲۱۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جس میں آدمی کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ احمق (ملا) کہلائے یا بدکاری کو اختیار کرے پس جو شخص یہ زمانہ پائے اُسے چاہیے کہ بدکاری اختیار کرنے کے بجائے ’’نکو‘‘ کہلانے کو پسند کرے‘‘۔
حدیث میں ایک طرف عجز اور دوسری طرف فجور کی بات ہے۔مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے کتاب پہلے لکھ دی تھی اور پھر جب علماء ومفتیان کی طرف سے بڑے دلیرانہ انداز طریقے سے الحاد، گمراہی ، زندقہ کے فتوے لگادئیے۔ پھر عقیدتمندوں کا آپس میں نکاح کرنے کو بھی ناجائز قرار دیا گیا اور لکھ دیاکہ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھرکی حرامکاری اور اولادالزنا‘‘۔مگر مولانا یوسف لدھیانویؒ کو ان فتوؤں سے سخت اختلاف تھا۔ پھر بھی ان کی جانب بھی فتویٰ منسوب کیا گیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’ یہ سب مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی خباثت تھی ، میں نے کوئی فتویٰ نہیں لکھا تھا، مفتی جمیل خان نے لکھ کر میری طرف منسوب کیا تھا‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ ’’ آپ اپنی طرف منسوب فتوے سے برأت کا اعلان کریں‘‘ تومولانا یوسف لدھیانوی کا کہنا تھا کہ ’’وہ مجبور اور معذور ہیں اسلئے یہ نہیں کرسکتے‘‘۔
حدیث کے الفاظ میں ایک طرف ان علماء ومفتیان کا چہرہ ہے جو طاقت اور پیسے کے نشے میں ایک مؤمن پر کفر گمراہی اور نکاح کی حرامکاری کے فتوے لگاکر فجور کے مرتکب تھے ، دوسری طرف مولانا یوسف لدھیانویؒ کے عاجز ہونے کی تصویرہے۔ حاجی عثمانؒ کی قبر پر بھی مولانا یوسف لدھیانویؒ جاتے رہے اور یہ بھی فرمایا تھا کہ امام مالکؒ کے خلاف فتوی دینے والوں کو جس طرح آج کوئی نہیں جانتا اور امام مالکؒ کو سب جانتے ہیں،اس طرح وقت آئیگا کہ حاجی عثمانؒ کا نام زندہ ہوگا اور مخالفت کرنے والے علماء ومفتیان کا تاریخ میں کوئی نام اور نشان نہ رہے گا۔
مجدد کا کام ہوتاہے کہ لوگوں میں دین کی تجدید کرے اور دین کی تجدید سے مراد ایمان کی تجدید ہے۔ کیفیت کے اعتبار سے ایمان میں اضافے کو تجدید کہہ سکتے ہیں۔ وقت کے مجدد تو ہمیشہ اہل اللہ رہے ہیں۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ وقت کے مجدد تھے اور اکابر دیوبند آپؒ کے مرید۔ سید احمدبریلوی ہی مجدد تھے اور شاہ اسماعیل شہید انکے مرید، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد شاہ عبدالرحیم مجدد تھے ۔شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ کے پیر حضرت خواجہ باقی باللہؒ ہی دراصل مجدد تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے تقلید کی باگیں ڈھیلی کردیں ۔ شاہ اسماعیل شہید نے تقلید پر وار کردیا، پہلے علماء دیوبند حامی تھے، پھر مولانا احمدرضا خان بریلویؒ نے ان پر ’’حسام الحرمین‘‘ سے وار کردیا اور پیچھے دھکیل دیا۔ وضاحت کیلئے المہند علی المفند (عقائد علماء دیوبند) کتاب لکھ دی۔قرآن وسنت کا احیاء نہیں ہوسکا تھا۔
آج دیوبندی بریلوی اتحاد،اتفاق اور وحدت کی فکر پیدا ہوگئی ہے۔مجدد اولیاء عظام کے مریدعلماء کرام کی تاریخ موجود ہے جنہوں نے حدیث کے مطابق ہمیشہ دین میں غلو کرنیوالوں اور دین کو باطل قرار دینے کا اپنے اپنے وقت میں بڑازبردست مقابلہ کیا۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ سے سید عبدالقادر جیلانیؒ ،عبدالحق محدث دہلویؒ ، مجدد الف ثانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حاجی محمد عثمانؒ تک اہل حق کا ایک سلسلہ موجود ہے ۔شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو واجب القتل کے فتوؤں سے2 سال تک روپوش رہنا پڑا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے مالٹاکی قید سے رہائی کے بعد اُمہ کے زوال کے 2اسباب قرار دئیے۔ ایک قرآن سے دوری ، دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ نے لکھ دیا کہ قرآن سے دوری ہی فرقہ واریت کی بنیاد ہے، لہٰذا دراصل اُمہ کے زوال کاایک ہی سبب ہے۔اللہ نے قرآن میں بھی قیامت کے حوالہ سے نبیﷺ کی یہ شکایت بتادی ہے وقال الرسول رب ان قومی اتخذوا ہذالقرآن مھجورا ’’رسول کہے گا کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ (القرآن)۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ نے مولانا انورشاہ کشمیریؒ کا لکھا کہ فرمایا:’’ میں نے ساری زندگی ضائع کردی‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’ حضرت آپ نے ساری زندگی قرآن وحدیث کی خدمت کی، ضائع نہیں کی ‘‘۔ مولانا کشمیریؒ نے فرمایا:’’ میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہی مسلک کی وکالت کی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ‘‘۔ شیخ الہندؒ کے اکثر شاگرد بہت ممتاز تھے، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا الیاس ؒ ، مولاناحفظ الرحمن سیوہاویؒ ، مولانا پیرمبارک شاہ گیلانیؒ ، مولانا خیل احمد انبیٹویؒ وغیرہ وغیرہ۔
جب میں ساتویں جماعت میں تھا تو پیرمبارک شاہ گیلانیؒ سے کانیگرم میں ملاقات ہوئی، معلوم تھا کہ دارالعلوم دیوبندکے فاضل ہیں، مجھ سے پوچھا کہ کیا بننے کا ارادہ ہے۔میں نے کہا کہ دارلعلوم دیوبند کا فاضل بننا چاہتا ہوں۔ مجھے آپکے چہرے پر توقع کے خلاف خوشی کے آثار نظر نہیں آئے۔ مجھے ہر نمازکے بعد 10مرتبہ درود شریف پڑھنے کے وظیفے کی تلقین بھی کردی۔
پیرمبارک شاہؒ نے 1923 ؁ء میں نوراسلام پبلک سکول کھولا تھا جو کانیگرم جنوبی وزیرستان میں پاکستان بننے کے بعد حکومت کو حوالہ کیا گیا تھا۔ جس میں رہنے کیلئے ہاسٹل بھی تھا اور گومل یونیورسٹی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں جدید تعلیم کے حوالہ سے پیرمبارک شاہ گیلانیؒ کا دن منایا جاتاہے۔مولانا سندھیؒ زندگی بھر مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مفتی کفایت اللہ ؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ سے لڑتے رہے کہ درسِ نظامی اور فقہی مسلکوں کو چھوڑ کر قرآن کی طرف دعوت دی جائے مگروہ لوگ کہتے رہے کہ امام مہدی جب آئیگا تو اصلاح کا کام کرلے گا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھ دیا کہ’’ آپ استاذ کی بات نہیں مان رہے ہو تو امام مہدی آئیں گے تو بھی مخالفین کی صفوں میں تم لوگ کھڑے ہوگئے‘‘۔
حضرت حاجی محمد عثمانؒ کے حلقہ ارادت میں بڑے علماء و مفتیان، فوجی افسران، پولیس افسر، سعودی عرب مدینہ اور شام وغیرہ سے تعلق رکھنے والے عرب بھی شامل تھے۔ آپ نے کہا تھا کہ ’’میرے کالے بال والے مرید امام مہدی کو دیکھ لیں گے اور میرے حلقے والے اس میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ خانقاہ بھی امام مہدی کے حوالے ہوگی‘‘۔ جن لوگوں نے مشاہدات دیکھے تھے ان کو مشاہدات کھلے عام بیان کرنے کی اجازت دی گئی۔ ایک مرید نے بتایا کہ’’ شیخ الہندؒ نے مولانا الیاسؒ کو تاج دیا جو حاجی عثمانؒ کے سر پر رکھ دیا‘‘۔ تبلیغی جماعت کی وجہ سے مدارس آباد ہوگئے ہیں لیکن مدارس میں قرآن وسنت کے بجائے ایسی تعلیم دی جارہی ہے جس کو زندگی ضائع کرنے کے برابرہی کہا جاسکتاہے۔ حضرت حاجی محمد عثمانؒ کا پروگرام تھا کہ مدرسہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائیگا۔ فٹ بال وغیرہ کا کھیل بھی رکھا جائیگا۔ مدرسہ، مسجد، خانقاہ، خدمت گاہ اور یتیم خانہ کے نام ہی مسلم اُمہ کے جوڑ کیلئے رکھے گئے تھے۔
حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے مریدوں میں اختلا فات تھے اور آپ نے فیصلہ ہفت مسئلہ لکھ کرامت مسلمہ کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش فرمائی۔مگر وہ پھر بھی اس قدر زوال کا دور نہیں تھا۔ حاجی عثمانؒ کے دوست علماء ومفتیان، مرید خلفاء و عوام اور ہمدردوں کی ہمدردیاں بھی عجیب تھیں۔ ڈاکٹر شکیل اوج شہیدؒ نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ حاجی عثمانؒ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا اور مصافحہ کرنے کی سعادت مل گئی۔ میرے مشکوٰۃ کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہیدؒ علماء ومفتیان کا فتویٰ لگنے کے بعد بیعت ہوگئے تھے۔ یہ داستان بھی لکھنے کے قابل ہے۔
مجدد ایمان کی تجدید کیسے کرتاہے۔ بس انسان کا حدیث کے مطابق وہ حال ہوجاتا ہے کہ گویا اللہ کو وہ دیکھ رہاہے اور یہ نہیں تو کیفیت یہ بن جاتی ہے کہ اللہ اس کو دیکھ رہاہے۔ احسان کا یہ درجہ مجدد کی صحبت سے بہت جلد مل جاتاہے۔جب حضرت حاجی محمد عثمانؒ کی مقبولیت ، عظمت اور توقیر کو لوگوں نے دیکھ لیا تو جو علماء ومفتیان پیر نہ بھی تھے مگرپیری کا لبادہ اُوڑھ بیٹھے ۔ جب میں نے بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا تو پیری مریدی کو توجہ دلانے کا باعث بن گیا۔ جب گھر میں بھابھی، مامی اور ماموں زاد اور خالہ زاد سے شرعی پردہ شروع کیا تو بھائی حیران تھے کہ کسی سے یہ پردہ نہیں سنا ہے مگر علماء نے تصدیق کردی کہ شریعت یہی ہے اور پھر ہمارے بڑوں کو میرے آگے بے بس ہونا پڑا تھا۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھاہے کہ معاشرے میں صرف نمائشی پردہ ہے جس سے قوم لوطؑ کے عمل میں لوگ مبتلا ہیں، اگر شریعت کی بات ہو تو شرفاء کے خاندانوں میں بھی شرعی پردے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آپؒ رسمی پردہ بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔
ہم نے دین اس کو سمجھا جو علماء کی کتابوں میں تھا اور سب کا یہ حال عرصہ سے تھا۔ دین پر عمل کرنا اسلئے ہاتھ میں انگارے پکڑنے کی طرح سخت لگتاتھامگر حقائق بہت مسخ کئے گئے تھے ۔ اللہ نے قرآن میں پردے کے احکام کی سورۂ نور میں بہت واضح تفصیل سے بتادی ۔ پھر بتایا کہ ’’ اندھے پر حرج نہیں، نہ پاؤں سے معذورپر حرج اور نہ مریض پر حرج اور نہ خود تم پر حرج کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر وں سے،یااپنی ماؤں کے گھروں سے یااپنے بھائیوں کے گھروں،یا اپنی بہنوں کے گھر وں سے،یااپنے چاچوں کے گھروں سے یااپنے پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یااپنے دوستوں کے گھروں سے اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ اور جب تم گھروں داخل ہو جایا کرو،تو خود سے سلام کیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے آداب بجالانے کا مبارک اور پاکیزہ طریقہ ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتاہے‘‘۔
ان آیات میں شرعی پردے کا جو تصور بیان کیا گیاہے وہ مذہبی شدت اور فقہی جنون کا علاج کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔ سارے رشتہ داروں کے علاوہ اندھے، لنگڑے اور مریض کیلئے بھی گھروں میں کھانے کے حوالے سے خصوصی گنجائش رکھ دی گئی ہے کیونکہ اجنبی افراد کسی کوگھر میں کھانا کھاتے نظر آئیں تو شکوک وشبہات جنم لے سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ پردے کے حوالے سے روشن تصور دنیا کے کسی خطے اور قوم میں ممکن بھی نہیں ہے۔ عام طور سے لوگ یہی کرتے ہیں جو قرآن میں لکھ دیا گیا مگر وہ دین فطرت کی تعلیم سے واقف بھی نہیں ہوتے۔ مذہبی طبقے کی جہالت کو داد اسلئے دینی چاہیے کہ ان کا جذبہ درست تھا اور ہم خود بھی نیک نیتی سے اسکے شکار بن گئے تھے۔
مجدد وقت حضرت حاجی محمد عثمانؒ نے ایمان کی تجدید نہیں کی ہوتی تو ہم شرعی پردے کی جھنجٹ میں بھی نہ پڑتے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ درست راستہ مل جائے توخود کو غلط پگڈنڈیوں پر لگائے رکھنے کے بجائے اسی کو اپنالیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے صراط مستقیم کی دعا مانگتے ہیں اور جب سیدھی راہ مل جائے تو اس پر عمل کرنا بھی شروع کردیں۔ تصویر، طلاق اور شرعی پردے کے علاوہ بہت سارے معاملات میں جو ہم نے حل کردئیے ہیں مگر اس میں ہمارا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا کمال ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ جو میرے احکام میں جدوجہد کرتے ہیں ان کیلئے ضرور بضرور راستے کھول دینگے‘‘۔ حاجی محمد عثمانؒ کی ایک تقریر کا آغاز اسی آیت سے تھا۔ ہمیں موقع ملا توانشاء اللہ اپنے مرکز سے قرآن وسنت، دین ودنیا کے حسین امتزاج کا وہ تعلیمی نصاب متعارف کرائیں گے جس سے ایک بڑا انقلاب برپا ہوگا۔ مدارس کے طلبہ واساتذہ میں صلاحیت کی خوشبو آئے گی۔ مولانا آزادؒ وزیرتعلیم تھے تو علماء سے فرمایا کہ ’’ شکایت ہے کہ علماء میں استعداد نہیں، حالانکہ نصاب تعلیم ہی کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے، جو ان کتابوں پر مشتمل ہے جو زوال کے دور ساتویں صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں‘‘۔ مفتی شفیعؒ نے کہاتھا کہ ’’ عرصہ سے مدارس بانجھ ہیں جو مولوی پیدا نہیں کررہے‘‘۔ نصاب ٹھیک ہوگا تو مدارس بانجھ نہیں رہیں گے ۔سید عتیق گیلانی