تین طلاق کے حوالہ سے حقائق کا ایک واضح آئینہ

671
0

انسانوں کے دلوں اور سننے پر مہریں لگ جائیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ جائے تو رحمت للعالمین ﷺ کااُسوہ حسنہ اور قرآن کی وحی بھی اثرانداز نہ ہو ان الذین کفروا سواء علیھم اانذرتھم ام لم تنذرھم لایؤمنوں Oختم اللہ علی قلوببھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ
’’ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا، ان کیلئے برابر ہے کہ ان کو آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں،وہ ایمان نہیں لائیں گے، انکے دلوں اور قوت سماعت پر اللہ نے مہر لگادی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ‘‘۔ انسان کی سمجھ میں بات نہیں آتی کہ دلوں اور سننے پر مہر کا کیا مطلب ہے؟۔ آنکھوں پر پردہ کیسے ہوسکتاہے؟۔ جب کوئی حق بات سمجھنے کے باوجود مفاد پرستی، ہٹ دھرمی، ڈھیٹ پن اور بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا انکار کرتاہے تو یہ بات خود بخود سمجھ میں آتی ہے کہ دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ سے کیا مراد ہے!۔
قرآن میں اسلام کی نشاۃ اول کے بعد مختلف سورتوں و آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کردار ادا کرنے والوں کاذکراوراحادیث صحیحہ میں وضاحت ہے ۔ فارس وخراسان اور سندھ وہند کی پاک سرزمین کے ہاتھوں فتح ہند کی بشارت سے لیکر بیت المقدس کی فتح تک کی تفصیل ہے، یہ سب نظر انداز ہو توبھی کوئی مسئلہ نہیں، پیش گوئی وقت پر پوری ہوتی ہے ، چاہے کوئی مانے یا نہیں مانے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم اللہ کی کتاب قرآن کریم کو محفوظ سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کیلئے عوام کو صحیح دعوت کیوں نہیں دیتے؟۔ صحابہ کرامؓ نے قرآن کی حاکمیت کو مانا تو دنیا کے امام بن گئے ۔ہم خوار ہوئے ہیں تارک قرآن ہوکر۔
حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا فیصلہ اور حضرت علیؓ کا فتویٰ قرآنی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔ میاں بیوی میں لڑائی، جھگڑا، طلاق، علیحدگی اور جدائی کا مسئلہ جہاں تک بھی جس نام سے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے عدت رکھ دی ہے اور اس عدت کے دوران باہمی رضامندی ، صلح اور معروف طریقے سے رجوع کا راستہ کھلا رکھاہے۔ میاں بیوی آپس میں راضی ہوگئے تو بھی یہ صلح ومعروف رجوع ہے اور معاملہ ہاتھ سے نکلنے کا اندیشہ ہو تو ایک ایک رشتہ دار دونوں کے خاندان سے فیصل مقرر کرکے بھی صلح و رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔
قرآن میں عدت کے تین مراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ میں معروف رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنے کی وضاحت ہے۔ اگراس تیسرے مرحلہ میں طلاق کا فیصلہ برقرار رہے لیکن آخری لمحے جب تک عدت پوری نہ ہو، عورت دوسری جگہ شادی نہ کرنے کی پابند رہتی ہے بلکہ شوہر ہی اس کو صلح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتاہے۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا (البقرہ:228)۔ رجوع کیلئے صلح شرط ہے۔ صلح اس صورت میں ہی ہوتی ہے جب دونوں فریق کو اختیار حاصل ہو۔ اللہ نے اسی لئے فرمایا کہ وان ارادا اصلاحا یوفق اللہ بینھما ’’اگر دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ انکے درمیان موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ معروف رجوع کا تعلق بھی باہمی صلح اور فریقین کی رضامندی کیساتھ ہے۔ اللہ نے طلاق کے بارے میں فتویٰ دیدیا کہ ’’عدت میں عورت انتظار کی پابند ہے اور شوہر ہی صلح کی شرط پر عدت کے دوران رجوع کرسکتاہے‘‘۔ جب مولوی دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت قرآن کے اندر ہم نے محصور کرکے رکھی ہے، کوئی مسلمان بھی یہ جرأت نہیں کرسکتاکہ مُلا کی اجازت اور فتویٰ کے بغیر اپنی بیوی سے رجوع کرسکے اور عوام اسکے سامنے خود بھی لیٹ جائیں اور اپنی بیگمات کو بھی حلالہ کیلئے اسکے سامنے لٹا دیں تو ایسی بے غیرت قوم کی اللہ بھی پرواہ نہیں کرتا۔
بہت سے علماء ومشائخ ڈھیٹ نہیں بلکہ وہ اپنے مذہبی ماحول کی وجہ سے سمجھ رہے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کرنا اللہ اور اسکے رسولﷺ کا حکم ہے، حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق کا حکم نافذ کرکے قرآن و سنت کو نظر انداز کیا ہوتا تو صحابہ کرامؓ کیسے اس پر خاموش رہ سکتے تھے؟۔بلاشبہ حضرت عمرؓ نے قرآن کے ہوتے ہوئے اجتہاد ی حکم ایجاد کرنے کی جسارت نہیں کی ۔ اہلحدیث اورشیعہ بکتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ نے اجتہاد کیایابدعت اختیار کی‘‘۔ جب قرآن کا واضح حکم موجود ہو تو اجتہاد شریعت نہیں کفر کا درجہ رکھتاہے۔ جبکہ حضرت عمرؓ نے اسی اصول پر عمل کیا کہ پہلے قرآن میں مسئلے کا حل دیکھا، قرآن میں مسئلے کا حل نہ نکلا تو نبیﷺ کی سنت میں تلاش کیا اور سنت میں نہیں ملا پھر اپنے طور سے اجتہاد کیا یا مشاورت سے مسئلہ حل کرنے کی طرف توجہ کردی۔
ایک شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا ہے، بیوی ناراض ہوکر گھر چلی جاتی ہے، عدت کے دوران اللہ نے صلح کی شرط پر رجوع کا راستہ کھلا رکھا ہے لیکن عورت رجوع پر آمادہ نہیں ، اسکے گھر والے بھی رجوع کیلئے کوئی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ، وہ برملا کہتے ہیں کہ آج ایک ساتھ تین طلاق دیدی ، کل کوئی حادثہ بھی پیش آسکتاہے، اس جذباتی سے رشتہ ناطہ جوڑنا نہیں چاہتے اور پورا خاندان صلح کے حق میں نہی۔ اگر شوہر زبردستی کرکے بیوی کو میکے سے نیزے و تلوار یا پستول و بندوق کے زور پر لانا چاہے تو فساد کا خدشہ ہوگا۔وہ بیوی کو لانے کے بجائے خود بھی موت کا شکار ہوسکتاہے۔ ایسی صورت میں شوہر حکمران سے فیصلے اور مدد کی توقع پر پہنچتا ہے۔ حکمران کا کام ہی عدل و انصاف کی فراہمی ہے۔ خلافت راشدہ میں فیصلے عدل ہی سے ہوتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے سامنے ایک نئی صورتحال سامنے آئی۔ معاملہ ایک ساتھ تین طلاق کا تھا اور عورت رجوع کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ اگر وہ خود راضی ہوتی یا اسکے خاندان والے صلح کیلئے رضامند ہوتے تو حضرت عمرؓ تک بات نہ پہنچتی بلکہ آپس میں رضامندی و صلح سے معاملہ طے کرلیا جاتا۔
اس واقعہ سے پہلے کوئی ایک ساتھ تین طلاق بھی دیتا تھا تو ایک طلاق قرار دی جاتی تھی، عدت کے تین مراحل میں تین طلاق کا تصور بالکل عام تھا، اب شوہر کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کے بعدعورت کی طرف سے صلح نہیں ہورہی تھی تو مسندِ خلافت نے پہلے قرآن ،پھر سنت، پھر اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرنا تھا۔ حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے فقہ واصول فقہ اور فتاویٰ کی کتابوں نے نہ تو قرآن چھپایا تھا اور نہ ہی سنت چھپائی تھی۔ قرآن میں اس معاملے کا بھرپور حل موجود تھا۔ اللہ نے شوہر کو صلح کی شرط پر رجوع کرنے کا حق دیا ، جبکہ عورت صلح پر رضامند نہیں تھی اسلئے حضرت عمرؓ نے عورت کے حق میں ہی فیصلہ دیدیا، اور ایسی ناچاکی کی صورت سے پھر بچنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ ’’جب کوئی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو ہم اس پر تین ہی نافذ کر دیں گے، جس چیز کی اللہ نے وسعت دی تھی اس کا غلط فائدہ اٹھایا جارہاہے‘‘۔ اگر حضرت عمرؓ کے علاوہ دنیا کی کوئی بھی منصف عدالت ہوتی تو یہ یہی فیصلہ جج نے کرنا تھا، اسلئے کہ جب عورت صلح پر رضامند نہ ہواور کوئی بھی جج اس کو مجبور کرے تو یہ قرآن و سنت ، عقل و فطرت اور عدل وانصاف کی خلاف ورزی ہوگی۔ دنیا کو عورت کا حق اور عدل وانصاف کا تقاضہ قرآن وسنت اور خلافتِ راشدہ نے سکھایاتھا۔
حضرت عمرؓ نے دارالافتاء کی مسند پر بیٹھ کر فتویٰ نہیں دینا تھا بلکہ مسندِ اقتدار سے عدل وانصاف کیلئے قرآن و سنت سے فیصلہ کرنا تھا، اگر عورت ایک طلاق کے بعد بھی صلح پر آمادہ نہ ہوتی تو قرآن کے مطابق حضرت عمرؓ نے یہی فیصلہ دینا تھا کہ شوہر یک طرفہ رجوع نہیں کرسکتا، اسلئے کہ قرآن میں مشروط رجوع کا حق ہی شوہر کو دیا گیاہے، طلاق کے بعد صلح کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا گیا۔ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ قرآن پر عمل کرانے کی بہترین مثال تھا۔ پھر وقت کے شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور سب سے بڑے قاضی حضرت علیؓ نے فتویٰ دیا جو قرآنی آیات کے عین مطابق تھا کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد بھی باہمی رضا اور صلح سے رجوع ہوسکتاہے‘‘ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص حضرت علیؓ کے پاس فریاد لیکر آتا کہ اس نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں تو حضرت علیؓ اس کی داد رسی اس انداز میں فرماتے کہ’’ تونے اپنا حق کھودیا ہے اور وہ تجھ پر طلاق ہوچکی ہے‘‘۔ وجہ یہ تھی کہ اگر حضرت علیؓ نے فتویٰ دیا ہوتا کہ وہ رجوع کرسکتاہے تو وہ صلح کئے بغیر بھی رجوع کرلیتا، پھر عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی تھی۔فیصلے کے برعکس فتویٰ دینا بڑے درجہ کی جہالت ہوتی۔
حضرت عمرؓ نے صلح نہ ہونے کی صورت میں طلاق کا فیصلہ برقرار رکھا ، شوہر کو غیر مشروط رجوع کا حق نہیں دیااور حضرت علیؓ نے صلح کی شرط پر رجوع کے فتوے کی وضاحت فرمادی اور انہوں بھی غیرمشروط رجوع کا حق نہیں دیا تھا۔ اگر بالفرض محال حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں متفق ہوجاتے کہ صلح کی شرط پر رجوع نہیں ہوسکتاہے تو قرآن پر پھر بھی عمل ہوجاتا اور دونوں کی بات بالکل رد کردی جاتی۔ قرآن کے واضح الفاظ کے مقابلہ میں کوئی واضح وصریح حدیث ہو تب بھی اس حدیث کو بھی رد کردیا جائے گا۔ درسِ نظامیں اسی بات کی ساری ٹریننگ دی جاتی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے ٹھیک اتفاق کیا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کا مؤقف درست تھا۔ اگر شوہر کو صلح کے بغیر کسی بھی طلاق کے بعد یک طرفہ رجوع کا حق دیا جائے تو یہ قرآن کے خلاف اور عورت کے ساتھ بدترین ظلم ہوگا۔
ائمہ اربعہ نے حکمرانوں کے ہاتھوں بہت مشکلات کی زندگی گزاری۔ آج بھی ان کا درست مؤقف عوام کے سامنے موجود نہیں۔ وہ مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیتے تھے،قرآن کی تعلیم اور عبادات پر معاوضہ ناجائز سمجھتے تھے لیکن بعد والوں نے درباری بن کر اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کردارادا کیا تھا۔ ان بیچاروں کو پتہ ہی نہ ہوگا کہ جب میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تب بھی حلالہ کا فتویٰ میاں بیوی کے درمیان رکاوٹ بنے گا۔ قرآن کی جس آیت میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے ، اس سے پہلے متصل تفصیل کیساتھ یہ وضاحت بھی ہے کہ دومرتبہ طلاق پھرمعروف رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر رخصت کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر تمہارے لئے جوکچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے واپس لینا جائز نہیں مگر یہ کہ دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو اللہ کی حدود پر دونوں قائم نہیں رہ سکیں گے اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، یہ اللہ کی حدود ہیں ،ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتاہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے جائز نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے شادی نہ کرلے۔۔۔‘‘۔
درسِ نظامی میں اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں حنفی مؤقف واضح ہے کہ اس طلاق کا تعلق متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ یہ اس طلاق کی ضمنی شئی ہے، دو مرتبہ طلاق سے اس طلاق کا براہِ راست تعلق نہیں ہوسکتا۔ رسول ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد اوتسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ علامہ ابن قیمؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر نقل کی ہے کہ ’’اس طلاق کا تعلق مرحلہ وار دو طلاقوں کے بعد تیسری مرتبہ طلاق میں بھی اس صورتحال کیساتھ خاص ہے کہ جب دونوں میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والوں نے مل کر فدیہ دینے کا فیصلہ بھی کیا ہو اور قرآن کا حکم اپنے سیاق وسباق سے ہٹانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ( زادالمعاد: علامہ ابن قیمؒ )۔
قرآن کی ایک آیت کو سیاق وسباق سے ہٹایا گیا تو باقی آیات سے رہنمائی بھی حاصل نہیں کی گئی۔ مفتی حسام اللہ شریفی کا نام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے رکھا تھا، مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ان کوشرعی مسائل کا جواب لکھنے کا حکم دیا تھا۔ کئی دہائیوں سے اخبارِ جہاں میں قرآن وسنت کی روشنی میں طلاق کا فتویٰ عام کتابوں کے مطابق دے رہے تھے مگر قرآنی احکام کو پہچانتے ہیں ،ان میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں۔ ضعیفی میں بھی غربت کی زندگی ہے، مکان بھی بالکل دب چکاہے ،پانی کے نکاس کا مسئلہ ہوگا، انکے بیٹے کو حیدر عباس رضوی نے بڑا بلیک میل کیا، یہانتک مکان بیچنے تک نوبت پہنچ چکی تھی۔سپریم کورٹ کے شرعی اپلٹ بینچ اور شرعی کورٹ کے مشیردیوبندی مکتب کے مفتی حسام اللہ شریفی بریلوی مکتب کے ابومسعود مفتی خالدحسن مجددی ، اہلحدیث کے علامہ ارشد وزیر آبادی، جماعت اسلامی کے مفتی علی زمان کشمیری اور اہل تشیع کے ڈاکٹر محمد حسن رضوی وغیرہ کی تائیدات حق کی حمایت میں تاریخ کی بہت بڑی مثال ہے، بریلوی اور دیوبندی علماء ومشائخ کھل تائیدات کررہے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی کھل کر خلاف ورزی کی تھی لیکن وہ جان بوجھ کر اپنے عزم کیساتھ اس میں خطاء کار نہ تھے جبکہ ابلیس نے تکبر اور جان بوجھ کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی،یہ فرق ملحوظِ خاطر رہنا چاہئے۔
بھنور آنے کو ہے اے اہل کشتی ناخدا چن لیں
چٹانوں سے جو ٹکرائے وہ ساحل آشنا چن لیں
زمانہ کہہ رہاہے میں نئی کروٹ بدلتا ہوں
انوکھی منزلیں ہیں کچھ نرالے رہنما چن لیں
اگر شمس و قمرکی روشنی پر کچھ اجارہ ہے
کسی بیدار ماتھے سے کوئی تارِ ضیاء چن لیں
یقیناًاب عوامی عدل کی زنجیر چھنکے گی
یہ بہتر ہے کہ مجرم خود ہی جرموں کی سزا چن لیں
جفا و جور کی دنیا سنوردی ہم نے
زہے نصیب کہ ہنس کر گزار دی ہم نے
کلی کلی ہمیں حیرانیوں سے تکتی ہے
کہ پت جھڑوں میں صدائے بہار دی ہم نے
شریعت کی راہ میں بھول بھلیاں نہیں
دینِ حق کی عظمت نکھار دی ہم نے
علماء کرام و مشائخ عظام کو کھل کر میدان میں آنا چاہیے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی