اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین قبلہ ایاز کے خط کا جواب، از عتیق گیلانی

579
0

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی نظریاتی کونسل کے چےئرمین محترم المقام جناب قبلہ ایاز صاحب!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! جناب کا مراسلہ پڑھ کربہت خوشی ہوئی۔ کچھ بنیادی گزارشات خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں،اس اُمید کیساتھ کہ طبیعت پر ناگوار نہیں گزریں گی، میرے لئے آپ ذاتی طور پر بڑے احترام کے لائق ہیں۔
میرے خاندان کے بزرگوں کاسلسلہ علماء اور اولیاء اللہ کا رہا لیکن والد صاحب مرحوم نے مدرسہ کی تعلیم سے فرار کی راہ اسلئے اختیار کی تھی کہ اس زمانہ میں گھر گھر جاکر طلبہ کو روٹی سالن مانگنے کیلئے ندا بلند کرنی پڑتی تھی اور کم عمر طالبوں کو یہ کرناپڑتا تھا۔ والد صاحب کی جب باری آتی تو بھیک کی آواز بلند کرنے سے شرماتے اسلئے بھاگ جاتے ۔ پھر ہمارے خاندان سے یہ سلسلہ ٹوٹا۔علماء کی قدر ومنزلت تھی لیکن علماء بننے کو معیوب تصور کرنے لگے ، اسلئے کہ یہ پیشہ زیردست طبقے کا رہ گیا، پہلے علماء مذہبی خدمات کیساتھ طب وحکمت حاصل کرکے زیرِ دست نہیں رہا کرتے تھے بلکہ دنیاوی حیثیت میں بھی دوسروں سے ممتاز مقام رکھتے۔ میرے لئے والدین اور بھائیوں سے مدارس کی تعلیم کیلئے اجازت نہ ملنے میں بغاوت کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔تبلیغی جماعت کے بزرگ حاجی عبدالوہاب سے رائیونڈ میں مشورہ لینے کی استدعا کی لیکن انہوں نے کہا کہ ’’ بھائی مجھ سے مشورہ نہ لینا‘‘۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ سے فتویٰ پوچھا کہ ’’ والدین میری خدمت کے محتاج نہیں مگر وہ مدرسے میں تعلیم کی اجازت نہیں دیتے، تو کیا اجازت کے بغیر دینی تعلیم حاصل کرسکتا ہوں‘‘۔ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا کہ ’’ میرا مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو،اسلئے کہ مدرسہ کی تعلیم فرض کفایہ ہے، آپ کے علاقے میں بھی اتنے علماء ومفتیان ہیں کہ لوگوں کی شرعی مسائل میں رہنمائی کرسکتے ہیں، آپ پر یہ کوئی فرض نہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے مشورہ نہیں فتویٰ مانگا۔ جس پر انہوں نے قدرے ناگواری میں فرمایا کہ والدین کو آپ کی خدمت کی ضرورت نہ ہو تو آپ مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ مجھے اس وقت بڑا تعجب ہوا کہ جب مولانا یوسف لدھیانوی سے یہ سنا کہ قرآن کے مصحف پر ہاتھ رکھنے سے حلف نہیں ہوتا اسلئے کہ مصحف کی صورت میں کتاب قرآن اور اللہ کا کلام نہیں اور پھر اس سے بڑا تعجب اس بات پر ہوا کہ اگلے مہینے جب بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا تو پتہ چلا کہ مولانا عبدالسمیع صاحب کو بھی اس حقیقت کا قطعی طور پر کوئی ادراک نہیں تھا۔
میری خوش قسمتی تھی کہ درسِ نظامی کی تعلیم کا موقع ملا ۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے لکھا کہ ’’ اگر اصولِ فقہ کی تعلیم پر کسی عقل والے کی نظر پڑگئی تو یہ سب بکھر کر رہ جائیگا اسلئے کہ اس میں تضادات اور واضح غلطیاں ہیں‘‘۔ ایک موقع پر فرمایا کہ ’’ علماء کو شکایت ہے کہ علماء میں استعداد اور صلاحیت نہ رہی ۔ حالانکہ مدارس کا نصابِ تعلیم ہی علماء کو کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے۔ پہلے اسلام کے عروج کا دور تھا پھر چھٹی ہجری میں انتہائی علمی انحطاط کا دور آیا تو ساتویں صدی ہجری میں زوال کی انتہاء تک پہنچنے والوں نے عجیب وغریب کتابیں لکھیں۔ مغلق عبارات، مختصر سے مختصر الفاظ میں ایسے جملے لکھنے کو کمال سمجھا گیا کہ صاحبِ کتاب نے خود بھی اپنی کتابوں کی ایک سے زائد شرحیں لکھ ڈالیں جب اس دور کی کتابوں کو نصاب تعلیم بنایا گیا تو اس سے علمی قابلیت پیدا نہیں ہوسکتی ‘‘۔مولانا آزادؒ جب بھارت کے وزیرِ تعلیم تھے تو بھی مدارس کے اربابِ اختیار سے کھلی کھلی باتیں کی تھیں جو ریکارڈ پر ہیں لیکن مدارس کے اربابِ اختیار کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا تھا۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی تقریر بھی ہفت روزہ ضربِ مؤمن کراچی کی زینت بنی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی پرانی تقریر کا حوالہ دیدیا کہ ’’30 سال سے ہمارے مدارس بانجھ ہیں۔ علامہ پیدا ہورہے ہیں، مولانا پیدا ہورہے ہیں لیکن مولوی پیدا نہیں ہورہا ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کو لوگ مولانا نہیں مولوی کہتے تھے لیکن ان کے پاس علم تھا، القاب نہیں تھے، آج القاب ہیں مگر علم نہیں ہے‘‘۔
شیخ الہند کے مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا الیاسؒ ، مفتی کفایت اللہؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، علامہ شبیراحمد عثمانیؒ اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ جیسے شاگرد تھے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ براہِ اراست انکے شاگرد نہ تھے لیکن امام الہندؒ کے لقب سے انہوں نے ہی نوازا تھا۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا تعلق سیاست نہیں خالص مذہبی ماحول و مدرسہ سے تھا۔ مفتی محمد شفیعؒ نے لکھا کہ ’’ مولانا انورشاہ کشمیریؒ نے آخری عمر میں کہا کہ ساری زندگی قرآن وحدیث کی خدمت کرنے کے بجائے مسلکوں کی وکالت میں ہی ضائع کردی ‘‘۔ شیخ الہندؒ نے کئی عشروں تک درسِ نظامی کی تدریس وتعلیم کی لیکن جب مالٹا میں قید ہوگئے تو قرآن کی طرف توجہ گئی اور پھر ان کی فکروسوچ میں واضح تبدیلی آئی۔ اُمت کے زوال کے دو اسباب بتائے ، قرآن سے دوری اور فرقہ واریت۔ مفتی محمد شفیعؒ نے لکھا کہ ’’شیخ الہندؒ نے دو اسباب کا ذکر کیا لیکن یہ درحقیقت ایک ہی سبب ہے اور وہ قرآن سے دوری ہے، فرقہ واریت بھی اسی وجہ سے پیدا ہوئی‘‘۔ شیخ الہندؒ کے خیالات میں جو تبدیلی آئی وہ درسِ نظامی کو ترک کرکے قرآن کی طرف رجوع تھا۔جس پر مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے بڑا کام بھی کیا لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ درسِ نظامی کے مذہبی طبقے پر گمراہی کی مہریں لگ چکی ہیں اور وہ ہدایت کی طرف رجوع کرنیوالے نہیں ۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے آخری عمر میں انکی بات سمجھ تو لی مگرعملی طورپر کچھ نہ ہو سکا۔
شیخ الہند کی مالٹا کی قید سے پہلے رائے یہ تھی کہ ’’ اب اصلاح کی کوئی اُمید نہیں، بگاڑ بڑھتا جائیگا، یہانتک کہ خراسان سے مہدی نکلے گا تو انکے ذریعے اصلاح ہوگی، وہ اپنی روحانی قوت سے پوری دنیا کو بدلے گا، اب چھوٹی بڑی اصلاح کی کوئی تحریک کارگرنہیں‘‘۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے شیخ الہندؒ کایہ قول نقل کیا اور اسی پر ڈٹے رہے‘‘۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی یہ تقریر بھی میڈیا میں شائع ہوئی کہ ’’ ہم اچھے برے، صحیح وغلط اور حلال وحرام کی تمیزسے عاری ہیں، یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کی رائے حق اور کس کی باطل ہے لیکن امام مہدی آئیں گے تو ان کا ہر قول صحیح اور حق ہوگا اور ان کے مخالفین کی ہر بات غلط اور باطل ہوگی۔یہ مدارس کے علماء اور طلبہ امام مہدی کیلئے لشکر تیارہورہے ہیں‘‘۔ صوابی میں پنچ پیر کے مقابلے میں شاہ منصور کے مولانا عبدالہادی نے طلبہ سے پوچھا تھا کہ امام مہدی کا مقابلہ کس سے ہوگا؟، طلبہ نے کہا کہ روس سے! مولانا نے کہا کہ جواب درست نہیں۔ طلبہ نے کہا کہ امریکہ سے۔ مولانا نے کہا نہیں بلکہ مدارس کے علماء نے اسلام کو مسخ کررکھاہے، انکے خلاف وہ جہاد کریں گے۔ مولانا سید بوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’ احیائے دین‘‘ میں لکھاہے کہ ’’ میرے نزدیک امام مہدی کی ساخت پرداخت وہ نہیں ہوگی جس مذہبی لبادے کو دیکھنے اور تاڑنے کی امید کی جارہی ہے بلکہ وہ تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ہوگا بلکہ ان کی جدتوں سے گھبرا کر مولوی اور صوفی صاحبان ہی سب سے پہلے ان کے خلاف شورش برپا کرینگے‘‘۔ مولانا سندھیؒ نے شیخ الہندؒ کے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد کا مؤقف اپنایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ’’ جو اپنے استاذ کی بات نہیں مانتے تو وہ امام مہدی نہیں بلکہ مخالفین کیساتھ ہونگے‘‘۔ بہرحال یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ شیخ الہندؒ کا پہلا مؤقف درسِ نظامی کی تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے درست تھا اسلئے کہ اس سے نااہل لوگوں نے ہی پیدا ہونا تھا۔ لیکن یہ انتہائی گمراہ کن بھی تھا اسلئے کہ ایسی روحانی شخصیت تو حضرت آدم علیہ السلام سے نبی آخر زمان خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمدﷺ تک بھی کوئی نہیں جواپنی روحانی قوت کے بل بوتے پر دنیاوی اور روحانی انقلاب برپا کرسکیں۔شیعہ بھی اسی وجہ سے گمراہ ہوگئے تھے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو اس وجہ سے پذیرائی مل رہی ہے اور دنیا میں بڑھتے جارہے ہیں اور ان کی گمراہی بھی شیخ الہندؒ کے اس قول کے مقابلے میں زیادہ نہیں اسلئے کہ امام مہدی کے بارے میں ایسا عقیدہ تمام انبیاء کرامؑ سے زیادہ حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ مرزا غلام ا حمدقادیانی نے تو ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ اصلی نبوت سے بھی بڑھ کر ہے۔مرزا غلام احمد کے پیروکار اسلئے بڑھ رہے ہیں کہ مفتیان اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی رفیع عثمانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان شجرۂ نسب کا موازنہ لکھ دیا کہ دونوں شخصیات الگ الگ ہیں جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ قرآن کی رو سے حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہوچکے ہیں اور احادیث میں حضرت عیسیٰ اور مہدی سے مراد ایک ہی شخصیت کے دونام ہیں جس کی حیثیت مثیل کی ہے جیسے مشہور مقولہ ہے کہ’’ ہرفرعون کیلئے موسیٰ ہوتا ہے‘‘۔حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک مولوی اور صوفی تھا اور اگر انگریز اس کی حمایت کرنے کے بجائے اس کومالٹا کی جیل میں ڈال دیتے تووہ بھی شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی طرح درسِ نظامی کی باطل تعلیمات سے قرآن کی طرف رجوع کرتا ۔ انگریز اسکو قیدکیوں کرتا؟ اقبال نے اسکو مجذوب فرنگی کہا :
قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغِ چمن کو
مجذوب فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی
مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن کو
اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
نومید نہ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو


مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے شیخ الہند کی طرف سے اپنائے جانے والے آخری مؤقف کو اپنا مشن بنالیا تھا مگر علماء نے ان کی فکر کو قبول نہیں کیا۔قرآن کی سورۂ فاتحہ میں صراط مستقیم کی ہدایت طلب کرنے کی دعا ہے اور سورۂ بقرہ میں قرآن کو بلاشبہ کہہ کر متقین کیلئے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام مھدی گوشۂ غیب سے نکل کر امت مسلمہ میں قرآن کی اصلی تعلیمات عام کرینگے اور سنی مکتبۂ فکر کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن ہی کے ذریعے سے نہ صرف امام مہدی پیدا ہونگے بلکہ مسلم اُمہ کیلئے بھی قرآن رشدو ہدایت کا ذریعہ ہے۔تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒ نے مدارس کے فقہی مسائل کو چھوڑ کر عوامی سطح پر ایک زبردست تحریک برپا کردی لیکن تبلیغی جماعت سے متاثر ہونے والے طبقے نے خانقاہوں اور مدارس کو ہی اپنا منبع بنالیا ہے۔ مدارس کے نصاب میں غلطیوں اور فکری اختلاف کے سبب کوئی درست فکر وجود میں نہیں آسکتی۔
سورۂ البقرہ کی ابتداء الم O ذٰلک الکتٰب لاریب فیہ O ہدی للمتقین الذین یؤمنون بالغیب Oویقیمون الصلوۃ وممارزقنٰھم ینففقون Oوالذین ےؤمنون بماانزل الیک وماانزل من قبلکO وبالاخرۃ ھم ےؤقنونOاولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحونOان الذین کفروا سواء علیھم أأ نذرتھم أم لم تنذرھم لایؤمنونOختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشٰوۃ ولھم عذاب الیمO سے کوئی بات درست فکر و عمل کی بنیاد علماء نے نہیں بنائی ۔
المOبیضاوی شریف درسِ نظامی کی آخری تفسیر ہے۔ لکھاہے کہ الف لام میم سے مراد اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ الف سے اللہ، لام سے جبریل اور میم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعے محمدﷺ پر یہ کتاب نازل کی ۔ میں انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی مولانا درخواستی ؒ کے مدرسے میں موقوف علیہ میں پڑھ رہا تھا ، مولانا شبیراحمد ہمارے استاذ تھے ۔ میں نے سبق کے دوران اعتراض کیا کہ یہ تضادات اور غلطیوں کا مجموعہ ہے۔ اسلئے کہ جب اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ الم سے مراد کیا ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعہ یہ کلام حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا۔ پھر الف جیم میم ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ اللہ کا پہلا حرف الف، جبریل کا جیم ہے نہ کہ لام ۔ استاذ نے کہا کہ عتیق کی بات درست ہے، تفسیر بیضاوی نے غلط لکھا ۔ اساتذہ نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی۔
ذلک الکتٰب ’’یہ وہ کتاب ہے ‘‘۔ اصول فقہ میں ہے کہ کتاب سے مراد لکھی ہوئی کتاب نہیں ۔ کیونکہ لکھے ہوئے محض نقش ہیں جونہ لفظ ہیں اور نہ معنی۔ فقہ کا مسئلہ ہے کہ ’’ قرآن کے مصحف پر ہاتھ رکھنے سے حلف نہیں، البتہ الفاظ میں کلام اللہ کہنے پر حلف ہے‘‘۔ اسکے نتیجے میں صاحب ہدایہ، علامہ شامی، فتاویٰ قاضی خان ، مفتی تقی عثمانی اور مفتی سعید خان نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کی بات لکھ ڈالی۔ ک سے کتاب اور B سے BOOKپڑھنے والے بچے کو یہ پتہ چلتا ہے کہ کتاب کیا ہے لیکن کوڑھ دماغ علماء نہیں جانتے کہ کس طرح وہ یہ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ ’’ کتاب کی تعریف یہ ہے کہ مصاحف میں جو لکھا ہوا ہے مگر لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں اسلئے کہ لکھائی محض نقش ہے الفاظ ومعانی نہیں‘‘۔ حالانکہ قرآن میں کتابت سے ہی کتاب بنتی ہے اور اس کی ڈھیر ساری آیات کے علاوہ فطرت وعقل میں بھی وضاحت ہے ۔ یہ کم عقلی صرف علماء تک محدود نہیں بلکہ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی جنرل سیکریٹری اوروائس چانسلر اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد نے بھی یہ سمجھاتھا لیکن ضعیف العمری میں بھی ان کو حقیقت سمجھ میں آگئی کہ کتاب اورل نہیں کتابت اور پڑھی جانے والی چیزہے ۔
لاریب فیہ’’ اس میں کوئی شک نہیں‘‘کتاب کی تعریف کا دوسرا جملہ ہے کہ جو متواتر طور پر نقل کیا گیا نبیﷺ سے اور اس قید سے غیرمتواتر آیات خبر مشہور و احاد نکل گئیں۔ حالانکہ قرآن میں متواتر اور غیر متواتر کے عقیدے سے بڑا گمراہانہ عقیدہ اور کیاہے؟۔ اصول فقہ میں یہ وضاحت بھی ہے کہ امام شافعیؒ کے نزدیک خبر واحد کی احادیث قابل استدلال ہیں جبکہ قرآن کے باہر قرآن کی آیات کا اعتقاد کافرانہ ہے لیکن احناف کے نزدیک قرآن سے باہر کی آیات بھی قرآن کا حصہ ہیں جس سے قرآن کی صحت پر اعتماد نہیں رہتا ہے۔ قرآن کی تعریف میں اصولِ فقہ کا تیسرا جملہ بلاشبہ کا ہے اور لکھا ہے کہ اس بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن بسم اللہ میں شک ہے اور یہ شک اتنا قوی ہے کہ اس کی وجہ سے اسکے انکار سے کوئی کافر نہیں بنتا ہے۔(اٖصول فقہ کی کتابیں : نور الانوار ، توضیح تلویح)
ہدیً للمتقین ہدایت ہے متقیوں کیلئے مگر علماء کے نزدیک یہ محض بات کی حد تک ہے ورنہ قرآن صرف امام مہدی کیلئے ہدایت ہے۔
الذین یؤمنون بالغیب علماء کا غیب پر ایمان برائے نام ہے اسلئے علامہ اقبالؒ نے لکھ دیا کہ ’’جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے‘‘
ویقیمون الصلوٰۃ علماء تنخواہ کے بغیر نمازکی امامت نہیں کرتے مگراقتدار ملتا ہے تو بے نمازیوں کو سزا دیتے ہیں۔ امام مالکؒ وامام شافعیؒ کے مسلکوں میں بے نمازی کو قتل کرنے پر اتفاق ہے مگر ایک کے نزدیک نماز قضاء کرنے پر آدمی مرتد بنتا ہے اور دوسرے کے نزدیک نماز کا نہ پڑھنے کی سزا قتل ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کی سزا زدوکوب اور قید کرنے کی ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے تو میری ان سے بھی ملاقاتیں رہی ہیں، انکا کہنا تھا کہ طلاق کے مسئلے پر آپ کا مطالعہ ہے اسلئے میں بات نہیں کرونگا ، نماز پر بات کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے کل کو آپ اقتدار میں آئیں تو بے نمازی کو کیا سزا دینگے؟۔ فقہ میں جو اختلافات ہیں اگر قرآن وسنت میں کوئی سزا ہوتی تو کوئی اختلاف ہوتا؟، کیا سزا کے خوف سے نماز پڑھنے والے کی نماز ہوگی؟۔کہنے لگے کہ میرا مقصد نماز کے فضائل پر بات تھی۔ میں نے کہا کہ نماز کے فضائل پر بات کرنے کے بجائے تبلیغی جماعت میں چلہ لگایا جائے ،غزوہ خندق میں نبیﷺ اور صحابہؓ سے نمازیں قضاء ہوگئیں ،تبلیغی جماعت میں صحابہؓ چلہ لگاتے تو نبیﷺ کو وہ خندق کھودنے کیلئے تنہا چھوڑ دیتے لیکن نماز باجماعت نہ چھوڑتے۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ یہ درست ہے کسی اور موضوع پر بات کرلیتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ افغانستان کے طالبان نے جو شریعت نافذ کی تھی ،مولانا فضل الرحمن نے بھی زبردستی داڑھی رکھوانے کو جائز قرار دیا تھا جبکہ جمعیت علماء اسلام کا ترجمان جان اچکزئی کو مقرر کیا، جو مونچھ داڑھی اور سرکے بالوں کو روزانہ کی بنیاد پر صاف کرتا ہے۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ اس بات سے میں اتفاق کرتا ہوں ، مولانا کی غلطی تھی۔مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ اب مولانا پر تنقید کردی۔ مولانا شیرانی، مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان ریاست کے نمک خوار ہوکر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے تھے، مجھ سے پوچھ لیا تو میں نے درسِ نظامی میں قرآن کی عجیب وغریب تعریف کا حوالہ دیکر کہا کہ اسکے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ جس پر مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ’’بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی اور کسی نے کہا کہ پھر وہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کی بات کررہے تھے اور یہ اپنے مطلب کی بات لے آیا‘‘۔ مولوی اتنے کوڑھ دماغ ہیں کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کوآئیڈیل قرار دینے کے باوجودمولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن میری داڑھی پر سوال اٹھارہے تھے اور جان اچکزئی کا حوالہ دینے پر مولانا فضل الرحمن کو بے جا تنقید کا نشانہ سمجھ لیا۔
مولانا عطاء الرحمن نے راہِ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی ،مولانا شیرانی سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا شیرانی نے پھر نماز کو چھوڑ کر معاشی نظام پر بات کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بھی اچھی بات ہے لیکن کس طرح سے عقلی بنیادوں پر سود کے مسائل سمجھائے جاسکتے ہیں کہ اخروٹ وغیرہ وزن کے بدلے وزن میں سود مگر گنتی میں سود نہ ہوں اور وہ بھی نقد میں؟۔ مولانا شیرانی نے آخر کار ایک لمبے چوڑے فلسفے کی کہانی شروع کردی جس میں سوال جواب کا کوئی موقع نہ تھا، جاہل علماء کو اسی سے وہ مرعوب کرتے ہونگے لیکن ہم نے زیبِ داستان کیلئے قصہ گوئی کی جان سے روح نکال دی تھی۔ یہ معروضات اسلئے پیش کررہا ہوں کہ محترم قبلہ ایاز صاحب! اسلامی نظریاتی کونسل کے ریسرچ ڈائریکٹرمولانا مفتی ڈاکٹر انعام اللہ کو پہلے بھی میں اپنی کتاب ’’ ابرِ رحمت‘‘ دے چکا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ اور مولانا شیرانی کی فکر ذرا ہٹ کے ہے۔ یہ مولوی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے معزز ارکان حقائق سے نابلد ہیں۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے زندگی کا بڑا قیمتی وقت درسِ نظامی کی تعلیم میں گزار دیا ،حالانکہ انکے والد ذوالفقار علی صاحب ایک بڑے سرکاری افسر تھے لیکن ان کی آنکھیں مالٹا کی قید میں ہی کھل سکی تھیں۔ محترم جناب قبلہ صاحب ! آپ اس جرم میں شریک نہیں رہے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کونسل کی چیئرمینی کا اعزاز ایک ایسے وقت میں بخشا کہ جب مولوی ریاست کی ضرورت نہ رہا بلکہ ریاست اب اس کی جہالت اور جذباتیت سے ہوا نکالنے کے سوفیصدموڈ میں نظر آرہی ہے۔
ومما رزقنٰھم ینفقون’’ اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ مولوی سمجھتا ہے کہ یہ میرامسئلہ نہیں۔ہوسکتا ہے کہ غریب مولوی پھر بھی خرچ کی غیرت رکھتا ہو ،مگر امیر مولوی تو دنیا کے امیرترین افراد میں شامل ہوں تب زکوٰۃ کا خود کو مستحق سمجھتاہے ۔
والذین یؤمنون بماانزل الیک ومانزل من قبلک وباالاخرۃ ھم یؤقنون ’’اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پرجو آپکی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ اللہ کے نازل کردہ واضح احکام پر فقہی مسائل مرتب نہیں اسلئے نبی ﷺ کی طرف نازل کردہ آیات اور سابقہ آیات پر انکے ایمان کا سوال پیدا نہیں ہوتاہے۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ سورۂ احزاب میں نبی ﷺ سے فرمایا: کہ کافروں اور منافقوں کی اتباع نہ کریں ، جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اس کی اتباع کریں۔ سابقہ قوموں کے نقشِ قدم پر چل کر یہ امت بھی عملی طور پر قرآنی احکام کے اتباع سے بالکل محروم ہوکر رہ گئی ہے۔ نام کے مسلمان ہیں اور کام کے جن کو دیکھ کر شرمائے یہود ۔ سورۂمائدہ میں توراۃ کے حوالے سے علماء و مشائخ کیلئے دین کی حفاظت کی ذمہ داری کا ذکر ہے اور تھوڑے بھاؤ کے بدلے اللہ کی آیات کو بیچنے اور اللہ کے مقابلے میں لوگوں سے ڈرنے پر یہ حکم لگایا گیا کہ ’’ جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہ لوگ کافر ہیں‘‘۔ اس کفر کے فتوے کا اطلاق علماء ومشائخ پر اسلئے ہوتا ہے کہ انکے فتویٰ سے دین بدل جاتا ہے۔ پھر حکمرانوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ جان کے بدلے جان، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کابدلہ قصاص ہے اور اسکا تعلق حکمرانوں سے ہے اور اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا گیا اور پھر اہل انجیل سے عوام الناس کا ذکر ہے جو نہ علماء ومشائخ تھے اور نہ حکمران۔ عوام کیلئے دونوں طبقے سے نرم فتویٰ ہے ان کو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر فاسق قرار دیا گیا ہے۔ میں نے غالباً 1993ء میں کتابچہ ’’ پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز‘‘ لکھا۔ جس کی تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء نے تائید کی تھی اور اس میں سورۂ مائدہ کی ان آیات کی یہ وضاحت ہے۔ مولانا فضل الرحمن اورقاضٰی فضل اللہ پہلی مرتبہ ہمارے گھر آئے تو مولانافضل نے قاضی فضل سے کہا کہ یہ ہم سے بڑے انقلابی ہیں مگرتھوڑے جذباتی ہیں۔ قاضی فضل نے ایک رسالہ پڑھنے کے بعد مولانا صالح شاہ قریشی سے کہا تھا کہ ’’ یہ جمعیت میں شامل ہوں توہماری جماعت بھی انقلابی بن جائے گی ‘‘لیکن میں نے معذرت کی تھی کہ مجھ جیسے بہت اس جماعت میں تنکے کی طرح بہہ چکے ہیں،معاف کیجئے گا۔
اولئک علی ھدیً من ربھم واولئک ھم المفلحون ’’ یہی لوگ انکے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ کیا یہ لوگ خودکواللہ کی طرف سے ہدایت پر سمجھ سکتے ہیں ؟اور کیا یہ فلاح پانیوالے ہیں؟۔ انہوں نے مذہب کے نام پر اپنی دنیا آباد اور آخرت برباد کرکے رکھ دی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے کفر کا راستہ تو اختیار نہیں کیا؟ ۔اور کہیں ان کے دلوں اور کانوں پر مہریں تو نہیں لگ چکی ہیں اور کہیں ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تو نہیں؟۔ذرا سوچنے کی سخت ضرورت ہے۔
ان الذین کفروا سواء علیھم أأ نذرتھم ام لم تنذھم لایؤمنونOختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم و علی ابصارھم غشٰوۃ ولھم عذاب الیم ’’ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ، برابر ہے کہ ان کو آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہریں لگادی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے‘‘۔ قرآن میں رسولوں کے ذریعے اتمامِ حجت اور عذاب کا فیصلہ کرنے کی وضاحت ہے۔ وماکنا معذبین حتی نبعث رسولاً ’’ اور ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کسی رسول کو مبعوث نہ کرلیں‘‘۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’ منصبِ امامت‘‘ میں لکھ دیا ہے کہ قوموں پر اتمامِ حجت جسطرح رسولوں کے ذریعے سے ہوتی ہے، اسی طرح ان کے نائبین اماموں کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔علماء کرام مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی بات مان لیتے تو بھی مولانا انورشاہ کشمیریؒ کو آخری دور میں یہ کہنا نہ پڑتا کہ زندگی ضائع کردی ۔ وہ توپھر بھی بھلے انسان تھے کہ آخر میں سہی مگر آنکھیں کھل گئیں ، بڑا افسوس تو ان لوگوں پر ہے جن کو تسلسل کیساتھ کھلے ڈھلے انداز میں درسِ نظامی کی خرابیاں بتائی جارہی ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔
غسل اور وضو کے فرائض کی ایجادات سے لیکر معاشیات تک ایک ایک چیز کا درسِ نظامی کے نصابِ تعلیم نے بیڑہ غرق کر رکھاہے۔ محترم قبلہ ایاز صاحب! پہلی فرصت میں نہ صرف مسئلہ طلاق بلکہ تمام نظریاتی مسائل کی اصلاح کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو زبردست موقع عنایت فرمایا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کے ذریعے سے اسلامی نظریاتی کونسل نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے گھمبیر مسائل کے حل کیلئے بھی بہت بڑی بنیاد بنے گی۔ مدارس کے قابل اساتذہ کرام بھی معاشی کمزوری کے سبب اس طرف توجہ نہیں دے پارہے ہیں، حالانکہ وہ ہل چکے ہیں۔
حنفی مسلک میں احادیث صحیحہ کی اسلئے تردید ہے کہ ان کی نظر میں احادیث آیات سے متصادم ہیں،تو فقہی جزیات میں تقلید کی گنجائش کیا ہوگی؟۔ احادیث صحیحہ کی تقلید نہیں تردید کی تعلیم ہوتو تقلید کہاں جائز ہوسکتی ہے؟۔ شاہ ولی اللہؒ نے فک النظام(نظام کو تلپٹ کردو) کی تعلیم کا درس مذہبی طبقے کی تقلیدی روش کیخلاف ہی دیا مگر علماء میں یہ صلاحیت ہی نہ تھی اسلئے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے ایک فتوے سے اکابرین دیوبند کو الٹے پاؤں ہنکانے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ اچھا بھی ہوا ، ورنہ الٹے سیدھے اجتہادات سے کم عقل طبقات اُمت مسلمہ کا مزید بیڑہ غرق کردیتے۔
تین طلاق کا مسئلہ بڑے پیمانے پر علماء ومفتیان کو سمجھ آیا لیکن اسکے باوجود ہٹ دھرمی کو انہوں نے اپنا شعار بنایا۔ اسلام دین ہے ، مذہبی طبقات نے اس کومسالک و مذاہب اور فرقوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن امت کی اللہ کی بارگاہ میں شکایت فرمائیں گے وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مھجورا ’’ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
محترم قبلہ ایاز صاحب! اللہ نے آپ کو اچھے وقت پر اسلام، قوم اور سلطنت کی خدمت کا موقع دیا ۔اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے درسِ نظامی سے قابل علماء اور اہل مفتیوں کی جان چھڑانے کا وقت آگیا، یہ صرف معاش کا مسئلہ ہے ۔ نوجوان لاکھوں کی تعداد میں درسِ نظامی کی نذر ہورہے ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جن کا یہ ذریعہ معاش ہے۔ مفتی عدنان کاکا خیل کیلئے ماسٹرسے اتنی عزت ، شہرت اور دولت کا وسیلہ نہ تھا ،جتنا اس نظام سے ہی وابستگی میں ان کیلئے وسیع مواقع ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو MBBSسے زیادہ مولانا خالد محمود کے اندر فائدہ دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر اسرار مرحوم، مولانا سیدابولاعلیٰ مودودیؒ اور جاوید احمدغامدی کو جو مقام دین کی وجہ سے ملا ، وہ کبھی دنیاوی تعلیم کی وجہ سے نہیں پاسکتے تھے مگر دین کی تعلیم اور مذہبی لوگوں کا حقائق کی طرف رحجان موڑنے میں کسی کی محنت کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ ان لوگوں نے درسِ نظامی کی فکر کو سلیس انداز میں قوم کے سامنے پیش کرکے مذہبی رحجان رکھنے والوں کا مزید بیڑہ غرق کردیا۔ اور اپنی طرف سے گمراہانہ سوچ کو غلام احمد پرویز وغیرہ نے پروان چڑھاکر درسِ نظامی کے فارغ التحصیل لوگوں سے بھی گمراہی میں سبقت حاصل کرلی ہے۔ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے آپ کی سرپرستی میں ایک مثبت فکر کو کھلے ڈھلے انداز میں پروان چڑھایا جائے تو یہ آپ اور ہم سب کیلئے دنیا وآخرت کی سرخروئی کا باعث بنے گی۔
محترم قبلہ صاحب! اصولِ فقہ میں لکھا ہے کہ ’’ پہلا اصول اللہ کی کتاب ہے،یہاں قرآن سے مراد صرف پانچ سو آیات ہیں، باقی قرآنی آیات قصے اور مواعظ ہیں اسلئے اصول فقہ میں زیربحث نہیں ہیں‘‘۔اگر نکاح، طلاق، غسل ، وضو اور دیگر عنوان سے قرآنی آیات لکھ دئیے جاتے تو بات سے بتنگڑ نہیں بنائے جاتے۔ اصولِ فقہ میں نکاح وطلاق کے حوالے سے جو عجیب وغریب مسائل اپنے من گھڑت اصولوں سے گھڑے گئے ہیں اگر ان کی تفصیل سامنے رکھ دی جائے تو آپ کو عجیب وغریب لگے گا کہ کس طرح کی استعداد ، صلاحیت اور علم رکھنے والے افراد کی آپ قیادت کرکے چیئرمین ہونے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جس طرح قرآن کی 500آیات کو موضوع بحث بنانے کے بجائے قرآن کی اپنی شناخت بھی مسخ کی گئی ہے اورتعریف کی بجائے تحریف کا ارتکاب کیا گیا ہے،اسی طرح طلاق کا بھی بلکہ اس سے زیادہ حال بگاڑ دیا گیا ہے۔
جناب کونسل کے پلیٹ فارم پر ریاست اور حکومت کے اہم اداروں کے اہم افراد سے مشاورت کرکے مقتدر اکابر علماء ومفتیان سے ایک کھلی میٹنگ رکھ لیں اور مجھے بھی حاضر ہونے کا حکم فرمائیں تو نہ صرف دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا بلکہ یہ اقدام قرآن وسنت کی طرف رجوع کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز۔ آئین پاکستان قرآن وسنت کا پابند ہے مگر مولوی طبقہ میں بذاتِ خود قرآن وسنت کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ اسلامی سکالروں کا بھی علماء ومفتیان سے بھی برا حال ہے۔ قرآن جس دور میں نازل ہوا تھا اور سنت جس نبیﷺ کے قول وعمل کا نام ہے ، اس وقت کوئی مدرسہ، جامعہ، سکول ، کالج اور یونیورسٹی نہیں تھی۔مدارس کے جامعات نام رکھنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں کہ جامعات میں پی ایچ ڈی :ڈاکٹرکی ڈگری ہوتی ہے۔ جس میں پی ایچ ڈی نہیں ہوسکتا ہو ،اس کو جامعہ کا نام دینا بھی ایک فراڈ یا جہالت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگر قرآنی آیات کا سلیس ودرست ترجمہ کرکے مسائل کے حل کیلئے اس کوپہلی بنیاد قرار دیا جاتا تو مسلکانہ تعصبات، فرقہ وارانہ بے راہ روی اور معاشرتی عدمِ توازن کی ساری بنیادیں ڈھ سکتی تھیں۔ غلط نصابِ تعلیم نے قوم کو اس نہج تک پہنچادیا ہے کہ ایک ہی درسِ نظامی پڑھنے والے بریلوی دیوبندی علماء ومفتیان اپنے اندر زمین وآسمان کا فرق محسوس کرتے ہیں۔ سخت ترین منافرت کے ساخت وپرداخت سے اکثریت نہیں نکل پارہی ہے۔پاکستان میں دیوبندی طالبان کو قتل ودہشت گردی کا موقع مل گیا تو بریلوی مکتبۂ فکر والوں کو مشرک سمجھ کر قتل کیا گیا، مینگورہ سوات میں ایک مذہبی شخصیت کو قتل کیا گیا اور اس کی لاش قبر سے نکال کر 3 دنوں تک چوک پر لٹکائی گئی۔ حالانکہ اس وقت پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی جس میں بریلوی مکتبۂ فکر کی نمائندہ جماعت مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماء پاکستان بھی شامل تھی۔ حالیہ احتجاج میں بھی تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو قتل کیا گیا۔ اگر بریلوی شدت پسندوں کے ہاتھ میں طاقت آئی تو گستاخانِ رسول کے نام پر دیوبندیوں کو قتل کردیا جائیگا۔ دیوبندی بریلوی کے علاوہ شیعہ سنی اور حنفی اہلحدیث کی ایکدوسرے سے بدترین منافرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دانشور شامل ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اپنا موقع کھودیا۔ اب ایک موقع اللہ تعالیٰ نے قبلہ صاحب آپ کودیدیا ہے۔مدارس کے علماء ومفتیان کا آج خود بھی درسِ نظامی پر کوئی اعتماد نہیں رہاہے اسلئے کہ10سال تک تسلسل کیساتھ ماہنامہ ضرب حق کراچی کی موجیں اس کی بنیادوں سے ٹکرارہی تھیں اور پھر کئی تصانیف خصوصاً ’’جوہری دھماکہ‘‘ اور ’’ آتش فشان‘‘ نے سب کو ہلاڈالا تھا۔ جس کی پاداش میں ایک مرتبہ مجھ پر اندھا دھند فائرنگ اور دوسری مرتبہ میرے گھر پر لشکر کشی بھی کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری جان محفوظ رکھی۔ پھر8سال تک گوشہ نشینی کی زندگی میں تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا پھر ’’ابررحمت‘‘ ودیگر تصانیف کے علاوہ ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی کے منظر عام پر لانے کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلی نظر آرہی ہے۔ اگر جناب نے حق کی آواز کو اٹھانے میں ہماری مدد فرمائی تو پاکستان میں واقعی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔
از طرف :سید عتیق الرحمن گیلانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ نوشتۂ دیوار کراچی وبانی ادارہ اعلاء کلمۃ الحق پاکستان