مدارس دہشتگردی کے مراکز، جاوید غامدی… جاوید غامدی کو کرارا جواب: عتیق گیلانی

596
0

جاوید غامدی TITچینل انٹرنیٹ ویڈیو
سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کا سبب کیا ہے؟ اور اس سے کیسے نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ ۔
جواب: دہشتگری اسوقت جو مسلمانوں کی طرف سے ہورہی ہے اسکا سبب وہ مذہبی فکر ہے جو مسلمانوں کے مدرسوں میں پڑھایا جارہا ہے جو انکی سیاسی تحریکوں میں سکھایا جارہا ہے اسکا باعث ہے اور اسمیں چار چیزیں ہر مدرسہ پڑھاتا ہے ہر مذہبی مفکر سکھاتا ہے وہ آپ کے سامنے نہ سکھائے تو بہر حال لازماً سکھاتا ہے۔ وہ چار چیزیں کیا ہیں وہ سن لیجئے؟۔ پہلی چیز یہ کہ دنیا میں اگر کسی جگہ شرک ہوگا یا کسی جگہ کفر ہوگا یا ارتداد ہوگا یعنی کوئی شخص اسلام چھوڑ دیگا اس کی سزا موت ہے اور یہ سزا ہمیں نافذ کرنیکا حق ہے۔ دوسری بات یہ سکھائی جاتی ہے کہ غیر مسلم صرف محکوم ہونے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں مسلمانوں کے سوا کسی کو دنیا پر حکومت کا حق نہیں ۔ غیر مسلموں کی ہر حکومت ایک ناجائز ہے۔ جب ہمارے پاس طاقت ہوگی ہم اس کو الٹ دینگے۔ تیسری چیز ہر جگہ سکھائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی ایک حکومت ہونی چاہیے جسکو خلافت کہتے ہیں الگ الگ حکومتیں ان کا کوئی جواز نہیں۔اورچوتھی بات یہ ہے کہ جدید نیشنل اسٹیٹ جو قومی ریاست ہے یہ ایک کفر ہے۔ اسکی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ چار باتیں ہماری مذہبی فکر کی بنیاد ہیں۔ مجھے یہ بتائیے کہ اگر یہ آپ کو سکھادی جائیں تو آپ کیا کرینگے؟۔ اس وجہ سے میں مسلسل اپنی حکومت سے بھی اور پاکستان کے لوگوں سے بھی کہہ رہا ہوں کہ جب تک آپ اس مذہبی فکر یہ Narativeہے اس کے مقابل میں اسلام کا صحیح Narativeپیش نہیں کرینگے یہ لوگ پیدا ہوتے رہیں گے ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا۔ چنانچہ میں نے پاکستان میں بہت سے آرٹیکل لکھے ہیں۔ ابھی حالیہ چند مہینے پہلے اسلام اور ریاست ایک جوابی بیانیہ Counter Narativeکے عنوان سے ایک آرٹیکل میں نے لکھا اس پر بہت بحث ہوئی۔ پاکستان میں تمام علماء نے اس پر تنقید کی پھر میں نے اس پر جواب دیا۔ اس میں بھی میں نے یہی بات واضح کی ہے کہ ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے ورنہ یہ جو اس وقت صورتحال پیدا ہوگئی ہے یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جہنم بنا دے گی دنیا کو۔ اور میں یہ آپ سے عرض کررہا ہوں کہ ایک زمانے میں یہی بات افغان جہاد کے بارے میں لکھ رہا تھا کوئی نہیں مانتا تھا۔ اس کے بعد پوری قوم نے مانا۔ آج میں آپ کو بھی متنبہ کررہا ہوں اس کیلئے تین اقدام ضروری ہیں۔ Counter Narativeپر مسلمان قوم کی تربیت ضروری ہے۔ میں نے دس نکات کی صورت میں اس کو بیان کردیا ہے۔ اسلام کا اصل Narativeکیا ہے ؟ یہ نہیں ہے اصل Narativeکیا ہے آپ پڑھ لیجئے۔ یہ ضروری ہے کہ اس پر مسلمان قوم کو Educateکیا جائے۔ دوسری کیا ہے دوسری چیز یہ ہے کہ دینی مدارس کا نظام بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ کسی علم کی اسپیشلائزیشن کی تعلیم بچے کو نہیں دی جاسکتی۔ ہر بچے کا حق ہے اس کو پہلے بارہ سال تک broad baseتعلیم دی جائے۔ اسکے بعد عالم بنے اسکے بعد سائنسدان بنے ۔ ہمارے دینی مدارس اس اصول پر کام کرتے ہیں کہ پانچ سال کے سات سال کے بچے کو عالم بنادیتے ہیں۔ اس کا حق کسی کو نہیں ہے۔ ڈاکٹر بنانے کا حق بھی نہیں ہے انجینئر بنانے کا حق بھی نہیں ہے۔ بارہ سال کے Broad baseتعلیم کے بعد جو جی چاہے بنائیے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کیلئے سول سوسائٹی تیار ہو۔ لوگ ایجوکیٹ ہوں۔ مسلم حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ بارہ سال کی Broad base تعلیم کے بغیر کسی اسپیشلائزیشن کے ادارے کو قائم نہ ہونے دیں۔ اسکے بعد جس کا جو جی چاہے دیوبندی مدرسہ بنائے، بریلوی بنائے لیکن طے شدہ بات ہے کہ بارہ سال کی Broad base تعلیم کے بعد داخلے کا حق ہو۔ مجھے بتائے کہ آپ کسی کو حق دیتے ہیں اس بات کا کہ وہ پانچ سال کے بچے کو ڈاکٹری کی تعلیم دینا شروع کردے، نہیں دیتے۔ بارہ سال کیBroad base تعلیم ہربچے کا حق ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جمعہ کامنبر علماء کیلئے نہیں ہے یہ ریاست کے حکمرانوں کیلئے ہے،اسکو واپس لانا چاہیے، اگر یہ واپس نہیں جائیگا تو عالم اسلام میں مسجدیں یا تو بریلوی کی ہو نگی یا دیوبندیوں کی ہونگی یا اہل حدیث کی ہونگی خدا کی کوئی مسجد نہیں ہوگی۔

:جاویداحمد غامدی کو کرارا جواب : عتیق گیلانی

جاوید غامدی کے یہ الزامات حقائق کے بالکل منافی ہیں۔مدارس کی تعلیم کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ۔دہشت گردی آج کی اصطلاح ہے جبکہ مدارس کا وجود ہزار سال قبل ہے البتہ نام نہاد سکالرز جنہوں نے مدارس میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی ہو تو وہ قرآن کا مفہوم غلط پیش کرکے دین کو دہشت گردی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ غامدی نے جس فن میں تعلیم حاصل کی، اپنی خدمات اس تک محدود رکھتے تو یہ اسلام، فطرت اور عقل کا بھی تقاضہ ہوتا۔ عطائی ڈاکٹروں کی طرح ان عطائی اسلامی اسکالرز کا بھی سدباب ہوتا۔ مدارس اور مذہبی جماعتوں پر تنقید کا حق سب کو ہے لیکن یہ نہیں کہ’’ الٹا چور کوتوال کو پکڑے‘‘۔ یہ افکارخلافِ حقیقت کے علاوہ بدترین قسم کے تضادات کا شکار ہیں۔دنیا میں اسلام ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ دین میں زبردستی نہیں۔ جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے لیکر آج تک قائم ہے۔ ہندوستان پر 8سو سال کی حکومت میں کس مشرک و کافر کو مدرسہ کی تعلیم نے قتل کروایا؟۔انگریز نے پوری دنیا پر ظالمانہ حکومت کی مگر اسلام عدل کا نظام چاہتا ہے۔ صدیوں خلافت قائم رہی مگر دہشتگردی نہ تھی تو اب خلافت کیونکر دہشتگردی کا ذریعہ بن جائیگی
جاوید غامدی نے تین چیزوں کی وضاحت کردی۔ 1: یہ کہ قرآن و سنت ، علماء اور مذہبی طبقات کے مقابلے میں جاوید غامدی کی ذاتی فکر کے مطابق اسلام کا مفہوم پیش کیا جائے، جو دس نکات پر مشتمل ہے۔جاوید غامدی نے سورہ مائدہ کی آیات کا بھی غلط مفہوم بیان کرتے ہوئے حکمرانوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں سیاق و سباق کے اعتبار سے تین قسم کے لوگوں کی وضاحت کرتے ہوئے الگ الگ حکم واضح فرمایا ہے۔ علماء و مشائخ اگر دنیاوی مفاد کیلئے دین کو بیچ ڈالیں تو ان پرکافر کا فتویٰ لگایا ہے اور جو حکمران اللہ کے حکم کے مطابق انصاف نہ کریں ان پر ظالم کا فتویٰ لگایا ہے اور جو عوام اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں ان پر فاسق کا فتویٰ لگایا ہے۔ ایک سوال کہ قرآن میں ماں کے پیٹ کے اندر بچے یا بچی کا علم نہ ہونے کی بات ہے جبکہ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے پتہ چلتا ہے، کے جواب میں جاوید غامدی نے کہا کہ مشرکین مکہ نے قیامت کے بارے میں سوال اٹھایا تھا کہ اس کے وقت کا پتہ نہیں تو قیامت کیسے آئے گی؟۔ جس کے جواب میں اللہ نے کہا تھا کہ جس طرح بارش اور ماں کے پیٹ میں بچے کا پتہ نہیں مگر اس کی حقیقت سے انکار نہیں کرتے ، اسی طرح قیامت کا دن بھی ہے۔
حالانکہ ان پانچ چیزوں کے بارے میں حدیث ہے کہ یہ غیب کی چابیاں ہیں۔ موجودہ دور نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی قرآن و حدیث برحق ہیں اور یہ غیب کی چابیاں ہیں۔ پہلی چیز ساعہ کا علم ہے، قیامت کو بھی ساعہ کہتے ہیں اور گھنٹے اور لمحے کو بھی ساعہ کہتے ہیں۔ سورہ معارج میں فرشتے چڑھنے کی مقدار یہاں کے ایک دن کے مقابلے میں 50ہزار سال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا، 80سال سے زیادہ کا سفر کرنے کے باوجود یہاں ایک لمحہ گزرا تھا۔ آئن اسٹائن نے ریاضی کے قاعدے سے اس نظریہ اضافیت کو درست قرار دے کر ثابت کیا، جسکے ذریعے علوم کا دروازہ کھل گیا۔ دن رات ، ماہ و سال سے زمیں کی گولائی اور اپنے محور کے گرد چکر لگانے اور سورج کے گرد چکر لگانے کے انکشاف سے ثابت ہوا کہ واقعی الساعہ (وقت)غیب کی چابی ہے۔ دوسری چیز قرآن میں بارش کا برسنا ہے، بارش میں ژالہ باری اور آسمانی بجلی کا مشاہدہ غیب کی چابی تھی۔ اللہ نے بادل کو بھی مسخر قرار دیا تھا اور جب انسان اس مشاہدے کو عملی تجربات میں لایا تو مصنوعی بجلی پیدا کرنی شروع کی۔ الیکٹرک کے ذریعے دنیا کے کارخانے اور روشن کائنات اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا تھا کہ قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا ۔ دنیا کو قرآن و حدیث کی پیشگوئی بتائی جائے تو ان کا ایمان بن جائیگا۔ تیسری چیز قرآن میں ارحام کا علم ہے۔ رحم صرف ماں کا پیٹ نہیں ہوتا بلکہ تمام جانور، پرندے اور حشرات الارض کے پیٹ اور انڈے بھی رحم ہیں۔ اسی طرح نباتات درخت پودوں کے بیج وقلم وغیرہ بھی رحم ہیں۔ آج نت نئے فارمی جانور ، مرغیاں اور پرندوں کے علاوہ پھل ، اناج، گندم اور مکئی وغیرہ اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حیوانات و نباتات کے علاوہ ایسے جوڑوں کا ذکر بھی کیا ہے جس کو اس وقت کے لوگ نہ جانتے تھے۔ جمادات میں ایٹم کے ذرات پر بھی رحم کا اطلاق ہوتا ہے ، جس پر مثبت و منفی الیکٹران بنتے ہیں۔ ایٹم بم ، ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیا بھی اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہے۔
2: جاوید غامدی نے بارہ سال تک عام تعلیم کی بات کی ہے لیکن مدارس میں جو نصاب علم کا پڑھایا جاتا ہے اس میں بارہ سال سے کم عمر کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہوتی کہ کو ئی اس کو پڑھ سکے۔ جس طرح ارفع کریم نے کم عمری میں علم میں کمال حاصل کیا اور وہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے اس طرح بعض اکابر نے پہلے کم عمری میں علم حاصل کیاہو تو یہ ان کا کمال تھا۔ بریلوی دیوبندی مدارس کا نصاب تعلیم ایک ہی ہے مگر میٹرک ، ایف اے ، بی اے اور ایم اے کے بعد بھی فرقہ وارانہ ماحول کی تعلیم دی جائے تو اسکے نتائج مختلف نہیں ہونگے ۔ یہ بہت بڑی کم عقلی کی سوچ ہے اور مذہبی ماحول سے لا علمی کا نتیجہ ہے۔ مدارس میں قرآن و سنت اور تمام مسالک کے دلائل پڑھائے جاتے ہیں۔ سوال جواب اور اشکالات کے نتیجے میں علماء و طلباء میں بڑی وسیع النظری اور وسیع الظرفی پروان چڑھتی ہے،مدارس کی تعلیم سے جمہوری تہذیب و تمدن پروان چڑھتا ہے، مسائل میں جمہور کا مسلک اور شخصیات کا مسلک پڑھایا جاتا ہے۔ اسکول و کالج اور یونیورسٹی کے مقابلے میں مدرسے کے طلبہ زیادہ با اخلاق ، باکردار اور اعلیٰ تہذیب و تمدن کا کرشمہ ہوتے ہیں۔حال ہی میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد منشیات کا اڈہ بن گیا تھا۔ قانون اور سزا نہ ہو تو یہ تعلیمی ادارے ہر وقت جنگ و جدل اور فتنہ و فساد کے مراکز بن جائیں۔ جماعت اسلامی پر انبیاء کرامؑ اور امہات المؤمنینؓ کی گستاخی کے فتوے اور الزامات لگے، دیوبندیوں پر بریلوی تسلسل کیساتھ نبیﷺ کی گستاخی کے الزامات لگاتے ہیں لیکن کسی مدرسہ میں بھی کسی کیساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشعال خان کیساتھ الزام کی بنیاد پر ہوا۔ کسی نے سلمان تاثیر کی طرح سیکیورٹی اہلکار بن کر دوسرے قتل نہیں کیا، ریاست اور یونیورسٹی میں کام خراب ہو اور الزام مدارس پر لگایا جائے؟۔
3: غامدی کا تیسرا نکتہ جمعہ پڑھانا سرکار کا حق ہے۔ جہاں جرائم پیشہ لوگوں اور منشیات کے سب سے زیادہ اڈے ہوں وہاں کا تھانہ مہنگے دام اور سفارش سے تھانیداروں کو ملتا ہے۔ شریف لوگ انصاف کے حصول کیلئے بھی تھانہ جانے میں خوف محسوس کرتے ہیں تو کیا مساجد بھی ان تھانیداروں اور بیورو کریٹوں کو حوالہ کی جائیں جنہوں نے رشوت سے معاشرے کا کباڑہ کیا ؟۔ غامدی اس عمر کو تو نہیں پہنچے ؟،اللہ فرماتا ہے ومنھم من یرد الیٰ ارزل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا ’’اور بعض لوگ وہ ہیں جو اس نکمی عمر تک پہنچتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کے بعد ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا‘‘۔
فرمایا:خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ’’تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب بنایا ‘‘۔ جس طرح ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کا اپنا اپنا مقام ہے ، اس طرح لوگوں کے ذاتی مکانات ، زمینیں ، فیکٹریاں ، کارخانے اور دفاتر ہیں۔ ذاتی ملکیت کے خاتمے کا فلسفہ ناکام ہوا۔ مزدور روس جانا پسند نہ کرتا تھا۔ اسلام میانہ روی کا دین ہے ۔ احادیث میں زمین کو مزارعت پر دینا سُود اور ناجائز ہے ۔ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا ناجائز اور سُود ہے، علماء و فقہاء نے حیلہ نکال کر جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کیاتو مزارعین غلامی سے نہ نکل سکے ۔ اگریہ حیلہ نہ ہوتا تو آج پاکستان اور دنیا میں غربت اور غلامی کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔ بیٹی بہن کم زیادہ حق مہر کے عوض نکاح میں دی جائے تو میاں بیوی جتنے چا ہیں بچے جن لیتے ہیں ۔ یہ تصور نہیں کہ اسلئے بہن یا بیٹی یا کوئی خاتون دے کہ اسکے ذریعے میرے لئے یا آدھو ں آدھ پر بچے جنواؤ۔ انسانی حقوق کا تقاضہ یہ ہے کہ جسطرح ماں باپ سے آزاد بچے پیدا ہوں ، اسی طرح زمین کی پیداوار مزارعین کیلئے غلامی کا ذریعہ نہ بنے۔ فقہاء نے لکھا کہ احادیث میں اسلئے سُود قرار دیا کہ مزارعت غلامی کا ذریعہ تھا لیکن کیا اب بھی مزارعین جاگیرداروں کی وہی بدترین غلامی کی زندگی نہیں گزار رہے ہیں؟۔
معاشرتی تہذیب و تمدن کی عوام میں اتنی غیرت ہوتی ہے کہ شک کی بنیاد پر بھی بیوی کو موت کی گھاٹ اتار دیتے ہیں جبکہ علماء و فقہاء اسکے اندر اس قدر بے غیرتی پیدا کرلیتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے والا خود اپنی بیوی کو حلالہ کی لعنت کیلئے پیش کردیتا ہے۔ کیا اس تعلیم کو عدم برداشت اور دہشتگردی کیلئے بنیاد قرار دیا جاسکتا ہے؟۔ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم یہ تعلیم دیتے ہیں کہ شادی بیاہ میں جو لفافے ایکدوسرے کو دئیے جاتے ہیں وہ سُود ہیں اور اسکے ستر گناہ ہیں اور کم از کم گناہ ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے اور دوسری طرف سُودی بینکاری کو معاوضہ لیکر اسلامی قرار دیتے ہیں تو کیا اس سے عدم برداشت اور دہشتگردی کی فضاء پیدا ہوگی؟۔ بنی اُمیہ ، بنی عباس اور خلافت عثمانیہ تک ہر دور میں فتوے ماحول کیمطابق ڈھالنے والے بیچارے کونسی دہشتگردی کی تعلیم دیتے ہیں؟۔ ہندوستان کی متحدہ قومیت کے علمبردار بھی مدارس کے علماء اور پاکستان کیلئے مسلم لیگی قیادت کیساتھ بھی علماء تھے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے حکومت الٰہیہ کا نظریہ پیش کیا، پاکستان کی اسلئے مخالفت کی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ مگرپاکستان بن گیا تو فرمایا کہ’’ مسجد بننے پر شروع میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر جب مسجد بن جائے تو اسکی حفاظت ضروری ہے۔ اگر ہندوستان کی طرف سے مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی آجائیں تو اسکے سینے میں گولیاں اتاردوں گا کیونکہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہونگے اور میں اپنے ملک کی‘‘۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن دارالعلوم دیوبندسے اسلام نہیں اقوام متحدہ کیمطابق یہ فتویٰ نہیں دلاسکتے کہ’’ کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم بند کرو‘‘۔ علماء کی بیچارگی کا یہ عالم ہے کہ مساجد میں مقتدیوں کے ڈر سے بسم اللہ پڑھنے کی نماز میں سورۂ فاتحہ ودیگر سورتوں سے پہلے جرأت نہیں کرسکتے۔ ارباب فتویٰ کے خوف کا یہ عالم ہے کہ طلاق کے درست مسئلہ کی حمایت کرکے لکھ کر فتویٰ نہیں دے سکتے۔علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓاوربی بی عائشہؓ کی جرأت کوئی کہاں سے لائے؟۔ حسینؓ کی شہادت تاریخ کا ایک سانحہ بن کر رہ گیا ہے۔
اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کیلئے قرآن و سنت اور صحابہؓ و اہل بیتؓ کی سیرت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے سردار تھے مگر جب لعان کی آیات نازل ہوئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر بیوی دیکھ لوں تو اسکو قتل کردونگا‘‘۔ نبی ﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی تو وہ عرض کرنے لگے کہ وہ بڑی غیرت والا ہے ، کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی اور جسے طلاق دی ہے تو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے (صحیح بخاری)۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ مہاجر صحابی تھے اور انکے انصاری بھائی صحابیؓ نے پیشکش کی کہ ’’ جائیداد آپ کیساتھ آدھی آدھی کرلیتا ہوں ، دو بیویاں ہیں ، جو پسند ہو، آپ لے لیں‘‘۔ یہ صحابیؓ تھے بیگمات کی صلاح سے یہ پیشکش کررہے تھے۔
اللہ کی حکمت کو دیکھئے کہ جب شوہر کی نیت میں فتور آئے تو وہ طلاق اور بیوی کوبدلنے میں غیرت محسوس نہیں کرتا مگر جب بیوی کی دوسری جگہ شادی کا مسئلہ آتاہے تو غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ جاوید غامدی کے شاگرد ڈاکٹر زبیر احمد سے ہماری ملاقات ہوئی ، ہم نے بتایا کہ جاوید غامدی نے لکھا کہ ’’ایک ساتھ تین طلاق پر سخت سزا ہونی چاہیے ‘‘ مگر حلالہ سے بڑھ کر سزا کیا ہے؟۔ ہم نے مؤقف پیش کیا تو ڈاکٹر زبیر نے بتایا کہ یہ مؤقف سو فیصد درست ہے مگر یہ ٹی وی پر پیش کیا تو ہمارا پروگرام بند کردیا جائیگا۔ اب کامران خان نے دنیا نیوز پر طلاق کا معاملہ اٹھایا توجاوید غامدی کا یہ مؤقف سامنے آیاکہ ’’قرآن میں ایک طلاق ہی کی وضاحت ہے اور پھر عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے‘‘۔ حالانکہ یہ خلافِ حقیقت اور سراسر فراڈ ہے۔
کامران خان اور دیگر اینکرپرسن کیلئے قرآن سمجھنا دشوار نہیں، طلاق کی سورۃہے ،اللہ نے عورتوں کی عدت کیلئے طلاق کا حکم دیا، عدت پوری گننے اور اس دوران بیوی کو اسکے گھر سے نہ نکالنے اور نہ خود نکلنے کا فرمایا، ہوسکتاہے کہ طلاق کے بعد اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردے ۔جب عدت کی تکمیل ہو تو معروف رجوع یا معروف الگ کرنے کا حکم دیا ہے، علیحدگی کی صورت میں دوعادل گواہ مقرر کرنے کا بھی حکم ہے اور پھر اللہ سے ڈرنے والے کیلئے راہ کھولنے کی بشارت بھی دی ہے۔
یہ فراڈہے کہ’’ اللہ نے ایک طلاق کا حکم دیا ‘‘۔ عربی میں طلاق علیحدگی کا نام ہے، آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ’’جب تم بیوی کو علیحدہ کرنا چاہو تو عدت تک کیلئے علیحدہ کرلو‘‘۔ مذہبی طبقہ طلاق کا مفہوم غلط لیتاہے، اس مفہوم سے قرآن کا ترجمہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ قرآن میں عدت تک کیلئے طلاق کا حکم ہے اورمذہبی مفہوم یہ ہے کہ’’ ایک طلاق دی تو یہ مخصوص عدت کیلئے نہیں بلکہ کمان سے نکلا ہوا وہ تیر ہے جس کا زمان و مکان سے تعلق نہیں۔1،2،3۔جو لفظ زبان سے نکل گیاوہ حتمی ، حرفِ آخر اور ہمیشہ کیلئے ہے۔ اللہ کہتاہے کہ عدت تک کیلئے طلاق دو، اور مذہبی طبقہ سمجھتاہے کہ قرآن کا یہ جملہ محض الفاظ کی رنگینی کے سوا کچھ نہیں۔ حالانکہ یہ جملہ مذہبی تصورات کا ڈھانچہ گرا دیتاہے، جس کی بنیاد پر طلاق کی باطل عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ طلاق کا مفہوم مذہبی نہیں بلکہ عربی لغت کا لفظ ہے جو عورت کو علیحدہ کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے ۔ ’’جب عورت کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو‘‘
جب عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت کے تین ادوار پاکی کے بعد حیض، پاکی کے بعد حیض اور پاکی کے بعد حیض میں علیحدگی کے عمل کو تسلسل کیساتھ تین مرتبہ طلاق کہتے ہیں۔ جن عورتوں کا حمل ہو تو وہاں تین ادوار اور تین مرتبہ طلاق کا کوئی تصور نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حیض کی صورت میں عدت کا تصور دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ ’’ طلاق دومرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان سے رخصت کرنا ہے‘‘۔ نبیﷺ نے وضاحت فرمائی کہ پاکی کے دِنوں میں روکے رکھو، یہاں تک کہ حیض آجائے، (پہلی مرتبہ طلاق )پھر پاکی کے دِنوں میں روکے رہو، یہاں تک کہ حیض آجائے، (دوسری مرتبہ طلاق )پھر پاکی کے دِنوں میں معروف طریقے سے رجوع کرلو، یاپھر ہاتھ لگائے بغیر احسان سے رخصت کردو، (یہ تیسری مرتبہ کی طلاق ہے)۔ بخاری کی کتاب التفسیر سورۂ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں یہ وضاحت ہے۔ سورۂ طلاق کی میں بھی یہی وضاحت ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ رکانہؓ کے والدنے رکانہؓ کی ماں کوطلاق کے بعد کسی خاتون سے شادی کرلی،جس نے اس کی نامردی کی شکایت کردی، نبیﷺ نے اس کو چھوڑنے اور رکانہؓ کی ماں سے رجوع کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا کہ وہ تین طلاق دے چکا ، نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات کو تلاوت فرمایا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا؟۔ جواب یہ ہے کہ حدیث کا مفہوم واضح ہے اور اس حدیث سے زیادہ قرآن میں بھی یہی بات واضح ہے کہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع کا دروازہ اللہ نے کھلا رکھا ہے۔یہی سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں تفصیل سے واضح ہے۔ جہاں تک آیت میں فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ کا تعلق ہے تووہ ایک خاص صورتحال سے نتھی ہے۔ مثلاً رمضان کے روزوں میں تین عشرے ہیں۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا مغفرت کا ہے اور تیسرا آگ سے نجات کا ہے۔ پھر اگر آخری عشرہ میں مساجد کا اعتکاف ہوتو اللہ نے اس صورت میں بیویوں سے مباشرت کو منع کردیا ہے۔ یہ کتنی بڑی نالائقی ہے کہ کوئی آخری مساجدکے اعتکاف کی صورتحال نکال کر آخری عشرہ میں مباشرت پر پابندی لگائے؟۔ یہی صورتحال قرآن میں تین مرتبہ طلاق کے حوالہ سے ہے، اللہ نے بار بار عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دی مگر ایک صورت میں یہ وضاحت کی کہ’’ طلاق دومرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصتی ہے اور (رخصتی کا فیصلہ کرتے ہوئے) تمہارا لئے حلال نہیں کہ جو کچھ ان کو دیاہے ، اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خدشہ ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکوگے۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ عورت اس میں سے وہ فدیہ کردے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں، پھر اگر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے شادی کرلے‘‘۔
درسِ نظامی، اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار ‘‘ میں اس آیت کے حوالہ سے حنفی مؤقف کی بھرپور واضح ہے کہ فان طلقہا کا تعلق دومرتبہ طلاق سے نہیں بلکہ فدیہ دینے کی صورت سے ہے اسلئے کہ ف تعقیب بلا مہلت کیلئے ہے۔دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ میں فدیہ کوئی مستقل طلاق نہیں، بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ جس طرح مساجد میں اعتکاف کی صورت کے بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو چوتھا عشرہ شمار کیا جائے بلکہ رمضان کے تیسرے عشرے کی ایک صورت ہی ہے جو تیسرے عشرے کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔علامہ ابن قیمؒ نے بھی حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیاہے کہ ’’اس طلاق کا تعلق دومرتبہ طلاق کے بعد فدیہ ہی کی صورت سے سیاق وسباق کے مطابق ہے۔ کسی بھی اس پر سیاق وسباق کے بغیر اطلاق کرنا درست نہیں ہے‘‘۔ (زادالمعاد: علامہ ابن قیمؒ )
رسول اللہﷺ ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی چند سال تک کوئی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا تو وہ ایک شمار ہوتی۔ تین طلاق کا تعلق طہرو حیض کے مراحل، رجوع کا تعلق عدت سے تھا لیکن حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق کو تین قرار دیکر ناقابلِ رجوع کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ قرآن کے عین مطابق خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے کیلئے 100%درست تھا۔یہ وہ صورت تھی جس میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا برقرار ہو۔ میاں بیوی راضی تو حکومت کو مداخلت کرنے سے کوئی غرض نہیں ہوسکتی۔ بالفرض ایک مرتبہ طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہوتی تویہی فیصلہ حضرت عمرؓ ، خلفاء راشدینؓ اورتمام صحابہؓ کرتے کہ شوہر کو یکطرفہ رجوع کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا: وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا ’’ اور ان کے شوہروں کو ہی انکے لوٹانے کااس مدت میں حق ہے ، بشرط یہ کہ صلح کرنا چاہیں‘‘۔ وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکما من اہلہ و حکما من اہلہا ’’ اگر تم دونوں کی جدائی کا خوف کرو، تو ایک فیصل شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے مقرر کرلو، اگر دونوں صلح پر رضامند ہوں تو اللہ انکے درمیان موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ قرآن کے برعکس شوہر کوغیرمشروط رجوع کا حق دیا گیا۔حضرت عمرؓ کے فیصلے کی ائمہ اربعہؒ نے درست توثیق کی، ورنہ عورت شادی نہ کرسکتی تھی مگریہ تو وہم وگمان میں نہ تھا کہ ڈھیر ساری آیات کے باوجود باہمی صلح سے بھی رجوع کا راستہ روکا جائیگااور تمام حدود کو پامال کرکے حلالہ کیلئے فتویٰ بازی ہوگی۔شوہر رجوع نہیں چاہتا،تب بھی بیوی کو مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا اسلئے اللہ نے دوسرے خاوند سے نکاح کی وضاحت کردی ۔