Home Dars-e-Nizami آج کامران کیساتھ اور برصغیرمیں مسئلہ طلاق پر بات (اداریہ نوشتہ دیوار،...

آج کامران کیساتھ اور برصغیرمیں مسئلہ طلاق پر بات (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

241
0

نیٹ پر ’’آج کامران خان کیساتھ‘‘ میں طلاق کے مسئلے پر افسوسناک گفتگو دیکھ لی ، جس کا خاتمہ معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کی بات پر ہوا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ جاوید غامدی بھی اس مسئلے میں قرآن وسنت کی نہیں تقلید ہی کی ترویج کررہے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے جدید تعلیم یافتہ جاہل ہیں۔ تمام نام نہاد مذہبی قدیم وجدید اسکالر قرآن کریم کی واضح آیات اور سنت کی تعلیم سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قرآن وسنت میں طلاق کا مسئلہ جتنی وضاحت کیساتھ بیان ہوا ہے ،ایک کم عقل ، کند ذہن اور جاہل کو بھی اس کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی ہے۔ اتنی موٹی بات قرآن میں واضح کی گئی ہے کہ طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح اور عدت کیساتھ منسلک ہے۔ قرآن وسنت کی کسی آیت یا حدیث سے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی اصلاح و صلح کیلئے بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات بھی اسکا واضح اور فیصلہ کن ثبوت ہیں کہ عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ بالکل کھلا ہے۔ سورۂ بقرہ کی جس آیت 230 کاحوالہ دیا جاتا ہے ،اس سے پہلے کی دو آیات 228 اور 229 میں یہ واضح ہے کہ طلاق کے تین مراحل تک خواتین کو انتظار کرنے کا حکم ہے اور تین طہرو حیض میں مرحلہ وار طلاقوں کے علاوہ عدت کے اندر باہمی اصلاح اور صلح سے رجوع کی گنجائش ہے اور پھر اسکے بعد آیت231 اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی حلالہ کے بغیر رجوع کی وضاحت ہے۔ طلاق کی زیادہ سے زیادہ تین صورتیں ہوسکتی ہیں نمبر1: دونوں کا پروگرام ہوکہ ایکدوسرے سے علیحدہ ہوجائیں۔ مرحلہ وار دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں بھی طلاق کا فیصلہ کیا جائے ۔ جس کے بعد میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنیوالے اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ آئندہ بھی رابطے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے اور اگر یہ خدشہ ہوکہ رابطے کی صورت ایسی چیز بن سکتی ہے کہ اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں ایکدوسرے کے جاندادیدہ ہونے کی بناء پر اللہ کے حدود پر قائم نہ ر ہ سکیں گے تو باوجود یہ کہ شوہر کی طرف سے کوئی دی ہوئی چیز واپس لینے کا کوئی جواز نہیں مگر اس صورت میں دونوں پر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ۔ یہی وہ صورت ہے کہ جس میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے یا نہیں ؟، بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر اس طلاق کے بعد بھی اس عورت کو اپنی مرضی سے دوسرے کیساتھ نکاح کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے آیت229کے آخر میں اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے آیت230 میں واضح کیا ہے کہ ’’ اگر پھر اس نے اس کو طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے ،یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ اس آیت میں یہ واضح ہے کہ پہلا شوہر نکاح میں رکاوٹ بن سکتاہے تو اسکا راستہ روکا گیا ہے، جبکہ ہماری اصول فقہ کی کتابوں میں اس آیت سے اس حدیث کو متصادم قرار دیا گیا ہے کہ ’’ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے‘‘۔ حالانکہ طلاق کی یہ صورت بھی قرآن میں واضح ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ اللہ کی منشاء میں رکاوٹ عورت کا ولی نہیں بلکہ اس کا سابقہ شوہر دوسرے سے نکاح میں رکاوٹ بنتا ہے۔ نبیﷺ کیلئے بھی اللہ نے فرمایا کہ ’’ آپ کی ازواج سے کبھی نکاح نہ کریں ، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے‘‘۔ بخاری شریف میں انصار کے سردارحضرت سعد بن عبادہ ؓ کے بارے میں بھی واضح ہے کہ ’’ عورت کو طلاق دینے کے بعد کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے تھے‘‘۔برطانوی شہزادہ چارلس نے بھی طلاق دی تو لیڈی ڈیانا کو فرانس میں مروادیا تھا ، جس کا مقدمہ عدالت میں چل رہاہے۔ ہمارا وزیراعظم عمران خان مشرقی غیرت کا دلدادہ نہیں بلکہ مغرب کی انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ جمائماخان نے عدت میں ہی بوائے فرینڈز سے پینگیں بڑھادی تھیں اور ریحام خان بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہ تھی، جب عمران نے ریحام خان کو طلاق دی تو ریحام خان کو پاکستان آمد پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ طلاق کی اس پہلی صورت میں اللہ نے انسانیت کا عظیم درس دیا ہے کہ اس طرح سے جدائی کا معاملہ طے ہوگیا تو شوہر دوسرے شوہرسے نکاح میں رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ بخاری میں یہ واضح ہے کہ رفاعہ القرظی ؓ نے اپنی بیگم کو مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ پھر اس کی بیگم نے دوسرے شخص سے نکاح کیا اور اس شخص کا نبیﷺ کو بتایا کہ ’’اسکے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح چیز ہے‘‘۔ نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، تو نہیں جاسکتی ہو یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی تیرا شہد نہ چکھ لے اور تو اس کا شہد نہ چکھ لے‘‘۔ اس حدیث کو بنیاد بناکر قرآن کی آیات سے انحراف کیا گیاہے۔ حالانکہ حدیث میں واضح ہے کہ اب وہ عورت دوسرے شوہر کے نکاح میں آگئی تھی۔ حدیث میں نامردی کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے ،اس میں فقہ کے بیان کردہ شرائط کے مطابق حلالہ کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ وفاق المدارس کے سابق صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ نے لکھ دیاہے کہ ’’ یہ حدیث خبر واحد ہے اور اس وجہ سے قرآن کی آیت میں نکاح پر جماع کا اضافہ بھی حنفی مسلک کے مطابق نہیں ہوسکتا ہے‘‘(کشف الباری شرح بخاری) قرآن وسنت کے منافی خواتین کے حلالے کیلئے ہردم اپنی مٹھی گرم رکھنے والا طبقہ تمام حدود وقیود کو پامال کرتے ہوئے حلالے کا فتویٰ دیتا ہے تو اس نے ایک لذت بھی دیکھی ہوتی ہے اور اس حرامکاری کی لعنت سے اسکو دلائل نہیں بلکہ اس پر زنا کی حد جاری کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زناکار کیلئے سزا سے روکنے کی حکمت واضح کردی ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ نمبر2:طلاق کی صورت یہ ہے کہ شوہر نے طلاق دی اور عورت جدائی نہیں چاہتی ہو تو عدت کی تکمیل پر بھی شوہر کو معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش ہے اور اس کا حکم سورہ البقرہ کی آیت231میں سورۂ طلاق کی آیت2میں واضح ہے لیکن اگر عورت راضی نہ ہو تو عدت میں بھی رجوع کی گنجائش اللہ نے نہیں دی ہے جو آیت228البقرہ میں واضح ہے۔ صلح سے مشروط رجوع اور معروف رجوع کا ایک ہی مطلب ہے۔ علماء ومفتیان نے مسلم امہ کو تباہ کردیا ہے۔ یہ علماء نہیں بلکہ ہٹ دھرم جاہل ہیں، قرآن کی وضاحتوں کے بعداس کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ نمبر3: طلاق کی صورت یہ ہے کہ عورت نے خلع سے طلاق لی ہو۔ علامہ تمنا عمادی نے اپنی کتاب ’’ الطلاق مرتان ‘‘ میں لکھ دیا ہے کہ’’ خلع کی صورت میں ہی عورت غلط کرتی ہے اور اس کو اس کی سزا حلالہ کی صورت میں ملنی چاہیے‘‘۔ جبکہ یہ بھی سراسر بکواس ہے۔ حلالہ کی لعنت ایک عورت کو سزا نہیں بلکہ نجیب الطرفین خاندانوں، معاشرے ، عالم اسلام اور انسانیت کی بھی یہ سزا ہے، ایک عورت کی عزت دری انسانیت کی عزت دری ہے۔ آیت232البقرہ میں خلع کی صورت میں بھی باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش واضح ہے۔اللہ سبھی کو ہدایت دے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی