مفتی تقی عثمانی کے حوالے سے تجزیہ: مُلا منیر

1239
0

ہمارا معاشرہ حق، دین اور انسانیت کے بجائے پیسہ، شہرت ، اثر ورسوخ اور باطل ڈھانچے کی بنیاد پر کھڑا انقلاب کامنتظرہے

مفتی تقی عثمانی شادی بیاہ کے لفافے کو سود، ماں سے زنا اور سودی نظام کو اسلامی قرار دیاہے ،باقی سارے مدارس مخالف ہیں

اسلام کا حلیہ ہر دور میں ایسے شیخ الاسلاموں کے ذریعہ سے ہی بگاڑا گیا ہے، معاوضہ اور سرکار کی سرپرستی بھی ملتی ہے۔ ملا منیر

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سود کی سخت مخالفت کی، رسول اللہ ﷺ نے اس کی مذمت فرمائی،مگر عملی طور سے سودی معاملات کا خاتمہ حجۃ الوداع کے موقع پر پہلے چچا عباسؓ کے سود کو معاف کرنے سے کیا۔ جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ سود ایک انفرادی معاملہ اور اجتماعی مسئلہ ہے۔ جیسے خنزیر کے گوشت کو اللہ نے حرام کہا لیکن بوقتِ ضرورت بقدر ضرورت اجازت بھی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرغیوں اور جانوروں کی طرح خنزیروں کے بھی فارم بنائے جائیں، دوسرا گوشت بھی ناپید کردیا جائے تو مفتی تقی عثمانی کی آل اولاد سے اس پر سوفیصد حلال ہونے کا معاوضہ دیکر فتویٰ جاری کیا جائے، تبلیغی جماعت والے مسجدوں میں اسکے کھانے کے فضائل بیان کرنا شروع کردیں۔ مخالفت کرنے والے مذہبی جماعتیں جمعیت علماء اسلام حکومت سے مفاد لیکر اس کی سپلائی اپنے ہاتھ میں لیں، تنظیم اسلامی اور جماعتِ اسلامی کے لوگ دارالعلوم کراچی سے خرچہ پانی لیکر خنزیر گوشت کیخلاف مہم شروع کردیں کہ اللہ نے اس کو قرآن میں حرام قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کریں کہ فارمی خنزیر وں کا مدارس نے فتویٰ دیا ہے کہ یہ اسلامی ہے۔ جس طرح سود کی مخالفت کے نام پر پیسہ لیکر اسلامی بینکاری کی حمایت کی جارہی ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی جہاں مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان بیٹھے ہیں، مولانا مفتی زر ولی خان اور دیگر تمام مدارس والے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کررہے ہیں مگر اس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہورہا ہے۔ آج سود کا معاملہ ہے تو کل خنزیر کے گوشت کا ہوگا۔ مفتیان نے شروع سے جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ فقہ کے چار اماموں سے پہلے مدینہ کے سات فقہاء گزرے ہیں وہ بھی عام تصویر اور مجسمہ کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے، رسول اللہ ﷺ کے اپنے گھر میں بھی حدیث صحیحہ کیمطابق پرندے کی تصویر تھی، گھوڑے کی شکل میں کھلونا مجسمہ تھا، حضرت عائشہؓ کے حجرے میں نبیﷺ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی قبریں تعمیر ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان پر احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قتل الانسان ما اکفرہ ، من ای شئی خلق، من نطفۃ ، خلقہ فقدرہ ، ثم سبیل یسرہ ، ثم اماتہ فاقبرہ ’’مارا جائے انسان یہ کیوں ناشکری کرتا ہے؟، کس چیز سے اس کو پیدا کیا؟ ، نطفہ سے پیدا کیا!، اس کو پیدا کیا، پھر اس کا مقدر بنادیا، پھر اس کیلئے اس کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کو موت دیدی اور قبر دیدی‘‘۔ یعنی قبر بھی احسان ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے پوجے جانے والی قبروں، مجسموں اور تصویروں کو مٹانے کا فرمایا لیکن اس کی دنیاوی شکل وصورت پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ مسلمانوں کے سامنے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ حقائق بتانے کی ضرورت ہے۔معجزات اور کرامات برحق ہیں لیکن اسکے نام پر تجارت اور لوگوں کو بیوقوف بنانا بہت غلط ہے۔ روحانی علاج سائنس کی بنیاد پر بھی ایک نفسیاتی علاج ہوسکتا ہے لیکن سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر اللہ نے یہی کرنا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو شعبِ ابی طالب، مکی دور کی تکالیف، طائف کے سفر میں لہولہان اور حبشہ کی طرف ساتھیوں کو مہاجر اور مدینہ ہجرت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دینا تھا کہ اپنی جگہ پر دم درود سے علاج کرو، ساری دنیا جھوٹے بتوں لات، منات، عزیٰ وغیرہ کو چھوڑ کر نبیﷺ کے درِ اقدس پر سر جھکاتی اور علاج و شفایاب ہوکر جاتی لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا، یہ الگ بات ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو غارِ ثور میں سانپ نے ڈس لیا تو لعابِ دہن مبارک سے شفاء مل گئی۔ سراقہ نے سرپٹ گھوڑا دوڑا کر انعام کے چکرمیں نبیﷺ کا پیچھا کیا تو اللہ نے معجزانہ طریقے سے اس کو ٹھوکریں کھلا کر معافی مانگنے پر مجبور کیا، کسی کا دل نہیں مانتا یاگھوڑے کے دھنسنے کا واقعہ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی اور سرسید احمد خان جیسے لوگوں کی نظروں میں بناؤٹی ہوسکتا ہے لیکن موجودہ دور میں بھی امامِ انقلاب سید عتیق الرحمن گیلانی پر کار میں گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور اللہ کی قدرت سے بچ گئے۔ گاڑی خود چلارہے تھے اور گاڑی کاوہی دروازہ لیزر ہتھیار سے ایسا کٹ گیا تھا جیسے کلہاڑی سے کاٹا گیا ہو مگر پھر بھی آپ اور ساتھ میں بیٹھنے والوں کو خراش تک نہیں آئی۔
اگر شاہ صاحب وہیں بیٹھ جاتے اور لوگوں کو دم تعویذ کے نام پر دھوکہ دیتے تو طالبان بھی ان کے مرید بن جاتے۔ وہاں کے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ بریلوی کیا ہوتا ہے، گومل کا ایک خاندان اہلحدیث بن گیا، شاہ صاحب کے گھر کی نوکرانی نے کہا تھا کہ ’’وہ بریلوی بن گئے ہیں‘‘ جس پر کہا گیا کہ وہ تمہیں بریلوی سمجھتے ہیں، اس نے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ میں بریلوی ہوں۔ اہلحدیث مسجد کے امام کی تنخواہ ، کنویں کی کھدائی وغیرہ کے نام پر کچھ مفادات اٹھارہے تھے تو شاہصاحب کے بھائی پیر نثار نے ان سے کہا تھا کہ ’’یہ کونسی بات ہے کہ ایک خاندان والے کو بیک وقت اہلحدیث کا مسلک سمجھ میں آگیا‘‘۔ مفتی تقی عثمانی کے پورے خاندان والوں کو اچھا خاصہ معاوضہ مل رہا ہے ، یہ صرف اسی خاندان اسلئے سمجھ میں آیا ہے کہ سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینا درست ہے۔ پھر مفتی منیب الرحمن بھی میدان میں کود گیا، آہستہ آہستہ آخرمخالفت کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔
اللہ تعالیٰ نے اس دور میں سید عتیق گیلانی کی صورت میں ایک تحفہ دیا ہے جس کو ڈھال بناکر ملک سے فرقہ پرستی، قوم پرستی، باطل پرستی اور سارے غلط فتوؤں کا نام نشان مٹایا جاسکتا ہے، زندگی بھر ان کا ساتھ نہ دیا جائے اور فوت ہونے کے بعد علماء حق کی فہرست میں سرخیل ہوں تو یہ بھی ان کے نام پر اپنی کتابیں بیچنے کا دھندہ ہوگا۔ علماء حق کیساتھ تاریخ کے ہر دور میں یہ معاملہ رکھا گیا ہے لیکن یہ میڈیا کا دور ہے، تصویر کا مسئلہ علماء ومفتیان نے اپنے مفاد میں قبول کرلیا ، طلاق کے مسئلے کو بھی قبولیت مل رہی ہے، لوگوں کو محنت کی ضرورت نہیں صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔