نماز (معروفات)

384
0

پنج وقتہ نماز کیلئے وضو و حالت جنابت سے غسل کا عمل صفائی ستھرائی کے علاوہ سفر حضر، گرمی سردی ہرموسم اور عمر کے ہر دور میں حضرات و خواتین کو بہار کی طرح تروتازہ رکھتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ’’بلاشبہ نماز بے حیائی اور منکرات سے روکتی ہے‘‘۔ مدینہ و مکہ میں چودہ سوسال پہلے خواتین و حضرات ، لڑکے لڑکیوں اور بچے بچیوں کا مسجد میں اجتماع منکرات سے بچنے کا ذریعہ تھا، آج خانہ کعبہ میں یہ منظر ملتا ہے مگر مسلمان تصور نہیں کرسکتا کہ ایک محلہ کی مسجد میں بھی عوام بیت اللہ کی طرح اکھٹے نماز پڑھیں۔ طرزِ نبوت کی خلافت ہو،خواتین کو حقوق ملیں تو مساجد بھر جائیں گی۔ خواتین اسلام سے محبت ،کرداراور عبادت میں مردوں سے کم نہیں ۔مارکیٹوں، مزاروں، تعلیمی اداروں اور سفر وحضر کے معمولات کی طرح مساجد میں مخلوط نظام عبادت کا تصور اُجاگر ہوگا۔ نیک گھرانے روزِروشن کی طرح نمایاں اور سب پر اثر انداز ہونگے۔دہشت گردی، چوری، ڈکیتی ،بے حیائی اور منکرات کا جڑ سے خاتمہ ہو گا۔ خواتین کی وجہ سے گھر کے مرد حضرات باجماعت نماز کی پابندی کرینگے۔ تشددکا خاتمہ اوراخلاقی معیار بہت بلند ہوجائیگا۔ محلہ میں گھر کی طرح نظام ہوگا،اڑوس پڑوس کا حق اُجاگر ہوگا،مساجدکی حفاظت کیلئے پولیس کی ضرورت ہوگی، نہ ریاست پر اضافی خرچے کا بوجھ ، ایکدوسرے کے غمی خوشی میں شریک ہونگے۔
کالج یونیورسٹی سے حج وعمرہ تک جو مسلمان اکھٹے مگر مساجد میں اجتماعی نمازنہیں جوتقویٰ اور فحاشی ومنکرات کے خاتمے کا ذریعہ تھا۔ پنجاب میں حجاب پر طالبات کیلئے اضافی نمبروں کی تجویز آئی تھی ۔ مساجد 1400سال پہلے جاہلانہ ماحول کو بدلنے کا منبع رہیں، آج بھی بن سکتی ہیں۔ خانہ کعبہ میں کوئی خواتین اور بچیوں کو اجتماعی عمل طواف اور نماز باجماعت سے نہیں روکتا، وہاں مذہب نہیں بلکہ ماحول بدلتاہے، پوری دنیا کا ماحول کو بدلنا ہوگا۔خانہ کعبہ میں ایک نماز کا ثواب لاکھ کے برابر ہے اور مسجد نبوی ﷺ اور بیت المقدس میں50ہزار کے برابرہے، مسجدوں کا رخ کرینگے تو یہ اللہ کے حکم پر عمل ہوگا کہ وارکعوا مع الراکعین ’’رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرو‘‘۔ نبی کریمﷺ نے حکم دیا کہ کوئی بیوی کو مسجد میں آنے سے نہ روکے ۔ ایک صحابیؓ نے اپنی بیگم کو روکا تو انکے والد نے زندگی بھر ان سے بات نہ کی کہ نبیﷺ کا حکم نہیں مانا ۔ یہ سنت ترک ہوئی تو ایسے شر کا دور آیا کہ عشرہ مبشرہؓ کے صحابہؓ نے بھی ایکدوسرے کو قتل کیا۔ عبداللہ بن زبیرؓ کے وقت میں کعبہ کا مطاف منجنیق کے ذریعے پتھر سے بھر دیا گیا۔ لوگوں پر مساجد میں ایسی خوف کی کیفیت طاری ہوئی کہ جہری نمازوں میں بسم اللہ پڑھنا مسجد کے ائمہ کیلئے مشکل ہوگیا۔ حضرت امام شافعیؒ پڑھنا لازم قرار دیتے تھے’’ تو ان کا منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا کہ تم رافضی ہو‘‘۔آج مساجد کے ائمہ کی اکثریت بعض طبقوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہیں، حق بات سمجھ کر بھی حق کا ساتھ نہیں دے سکتے ۔جس دن محلے کے لوگوں نے مل جل نماز پڑھنی شروع کی اور اس میں خانہ کعبہ کی طرح ماحول بنالیا تو پھر مخصوص مذہبی لبادے اور طبقے اپنی اجارہ داری مسجد اور امام پر مسلط نہ کرسکیں گے۔فرقہ واریت ختم ہوجائیگی۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’کہ لوگوں پرایک زمانہ آئیگاکہ اسلام کا کچھ باقی نہ رہیگا مگر اسکا نام ، قرآن میں سے کچھ باقی نہ رہیگا مگر اسکے الفاظ، مساجد لوگوں سے بھری ہونگی مگر ہدایت سے خالی اور انکے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے، ان سے فتنہ نکلے گا اور انہی میں لوٹے گا۔ (عضر حاضر)۔نبیﷺ نے ازواج مطہراتؓ سے فرمایا کہ’’ میرے بعد حج نہیں کرنا‘‘۔ حضرت عائشہؓ حج کیلئے گئیں اورپھرجنگوں کی قیادت کی۔ نبیﷺ نے اسی تناظر میں فرمایا کہ ’’وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی ، جس کی قیادت عورت کررہی ہو‘‘۔ (بخاری) حضرت عائشہؓ نے لبیدؓ کا شعر پڑھ کر فرمایاکہ وہ زمانے کی شکایت کررہا تھا اگر ہمارا زمانہ دیکھ لیتا تو کیا کہتا۔۔۔۔ (عصر حاضر)۔ سیاسی اور تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشرے میں گروہی تقسیم کا نقشہ طرزِ نبوت کی خلافت سے بالکل یکسر بدل جائیگا۔ مساجد ہدایت سے خالی نہیں بلکہ رشدوہداہت کا محور ومرکز بن جائیں گی۔