Home Unity شاہ ولی اللہ ٌاور مولانا عبید اللہ سندھیٌ تک کے افکار کی...

شاہ ولی اللہ ٌاور مولانا عبید اللہ سندھیٌ تک کے افکار کی ناکامی کی وجوہات

313
0

حضرت امام شاہ ولی اللہؒ ایک خوش قسمت اور بہت بڑے انسان تھے۔ بسا اوقات بڑے لوگ ہوتے ہیں مگر ان کی اتنی قسمت نہیں ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ اپنی مسلم امت کی شکایت کرینگے ۔ وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مھجورا’’ رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔مذہبی طبقوں نے قرآن کی اس شکایت کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا ہے۔ کوئی اس غفلت، بے دینی ، گمراہی اور سخت کوتاہی کا نوٹس لینے کے بجائے اس کی کان پر جوں تک نہ رینگے تواس کو ہدایت ملنے کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا؟ اور یہ قوم پھر ہدایت پانے کے بجائے کسی مہدی کا انتظار کرے گی۔ یہی تو عرصہ سے ہورہاہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے سب سے بڑا کام یہ کیا ہے کہ قرآن کا پہلی مرتبہ ہمارے لئے ترجمہ کردیا تھا۔ اس کی پاداش میں دو سال تک مسلسل واجب القتل کے فتوے لگنے سے روپوش رہنا پڑا تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا ترجمہ اسلئے کیا کہ ایک اسلام دشمن مستشرق پادری آیا تھا اور اسکے پاس قرآن کی بھرپور معلومات تھیں۔ وہ کہتا کہ قرآن میں یہ لکھا ہے، علماء اس کی بات کا انکار کردیتے لیکن جب قرآن کو دیکھا جاتا تو اس کی بات درست نکلتی۔ شاہ ولی اللہؒ نے معلوم کیا کہ وہ اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھ چکے تھے۔ پھر شاہ ولی اللہؒ نے ہندوستان کے علماء کو باصلاحیت بنانے کیلئے فارسی میں ترجمہ کردیا،تاکہ وہ اسلام دشمن عناصر کے مناظروں کا جواب دے سکیں۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کو یہ محنت مہنگی پڑگئی ، علماء نے واجب القتل کے فتوے لگادئیے۔ دو سال تو وہ روپوش رہے، پھر لوگوں کو بات سمجھ میں آئی کہ اپنے محسن کو دہشتگردی کا نشانہ بناناٹھیک نہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنی قوم سے مایوسی کے بعد تصوف کا مشاہدہ دیکھا کہ ’’ مہدی نکلنے والے ہیں‘‘۔ ایسی قوم سے انقلاب کی توقع رکھنا عبث تھی۔ حضرت شاہ ولی ؒ کے بیٹے شاہ رفیع الدینؒ و شاہ عبدالقادرؒ نے قرآن کے اردو میں بامحاورہ و لفظی تراجم کیے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنے مرشد سید احمد بریلویؒ کو خراسان سے نکلنے والے امام مہدی سمجھ کر بڑا اقدام اٹھایا کہ دنیا میں پھر سے خلافت قائم کریں گے ۔ اسی کیلئے اپنی کتاب ’’ منصبِ امامت ‘‘ بھی لکھ ڈالی ۔ انگریز نے خوشی کیساتھ یہ کھیل کرنے دیا، تاکہ پنجاب وسرحد میں رنجیت سنگھ کی حکومت کو کمزور کیا جائے۔ پیرومریدوں کا یہ قافلہ سندھ وپنجاب کو عبور کرکے احیائے خلافت کی غرض ہی سے سرحد پہنچ گیا۔ پشاور سے ہزارہ بالاکوٹ پہنچ کر دفاعی جنگ لڑتے ہوئے سکھ راجہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ سید احمد بریلویؒ زندہ غائب ہیں ،امام مہدی دوبارہ منظر عام پر آکر خلافت قائم کرینگے۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کیخلاف بھی ایک کتاب لکھ دی۔ اکابرِ دیوبندؒ پہلے ان کی حمایت کررہے تھے لیکن جب مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے انکے خلاف ’’ حسام الحرمین‘‘ کا فتویٰ لکھا کہ یہ تقلید کو بدعت کہتے ہیں تواس وقت حرمین پر شریف مکہ کی حکومت تھی، علماء دیوبندؒ نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی فکر سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ وہابیت کے فتوے سے بچنے کیلئے مولانا حسین احمد مدنیؒ نے محمد بن عبدالوہاب کیخلاف بہت کچھ لکھا بھی۔
عرب کے مشہور عالم علامہ ابن تیمہؒ نے لکھا ہے کہ ’’ چاروں فقہی مسالک پر دین کی تفریق کا فتویٰ لگتا ہے۔ یہ فقہی مسالک نہیں مستقل فرقے ہیں‘‘۔ سعودیہ کی موجودہ حکومت علامہ ابن تیمہؒ کے افکار کو مانتی ہے۔ تقلید پر پہلے سعودی عرب کا اہلحدیث سے اتفاق تھا لیکن پھر احادیث صحیحہ کی کتابوں میں اہلبیت کے فضائل اور اہل تشیع کے عقائد کا خوف کھاتے ہوئے علامہ ابن تیمہؒ کے مسلک سے روگردانی اختیار کرلی۔ چاروں امامؒ کی تقلید کے علاوہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع نہ کرنے کا حکومتی سطح پر ازسرِ نو اعلان کردیا اور آج یہ سب دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں۔
مولانا حسین احمد مدنیؒ نے حرمین پروہابیوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں اپنا پرانا مؤقف بدل کر اسکی بڑی تائیدبھی کردی۔’’تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ کتاب میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے قرآنی آیت کی تحریف کرتے ہوئے فان تنازعتم فی شئی فردہ الی اللہ والی الرسول کے معنی ومفہوم بھی بدل ڈالے۔ چڑھتے سورج کاپجاری ایک گالی لگتی ہے مگر سورج مکھی کے پھول جیسے لوگ ابن الوقت ہوتے ہیں۔ ابن الوقتی کے تقاضے نے ہمیں قرآن کو چھوڑنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔
شاہ ولی اللہؒ کو بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث سب مانتے ہیں مگر اگر مدارس کے اس نظام تعلیم سے جان نہیں چھڑاسکتے جوکسی بھی دینی، فطری، مہذب معاشرے کیلئے قابلِ قبول نہیں تو قرآن کی طرف رجوع کا کیا سوال پیدا ہوسکتاہے؟۔ آج اگر میں حکومت وریاست کی صفوں میں کھڑا ہوگیا اور اپنی جان کاتحفظ لیکر ٹی وی ٹاک شوزاور قومی سطح پر علماء ومفتیان کے نظامِ تعلیم کے خلاف عوام میں شعور وآگہی کی تحریک بیدار کردی تو علماء کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ میں یورپ میں پناہ لیکر بھی کام کرسکتا تھا لیکن بے سروسامانی کی حالت میں مدارس ومساجد کو مٹانے کیلئے نہیں ان کے تحفظ کیلئے کام کررہا ہوں۔ جس دن علماء و مفتیان نے مدارس کے نصابِ تعلیم کی گمراہیوں کو دور کرنا شروع کیا تو یہ مرکز رشد وہدایت ہوں گے اور عوام کا سیلاب ان کو آباد کرنے اُٹھے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے علماء ومفتیان سے تعلیم حاصل کی ہوتی تو کلمہ درست پڑھنا آتا، وہ تو آذان والے الفاظ سے کلمہ بھی غلط پڑھتا ہے، کلمہ میں محمدرسول اللہ اور آذان میں محمد رسول اللہ کے الفاظ میں فرق ہے۔ محمدﷺ کے نام کا آخر دال ہے۔ دال پر پیش اور زبر سے معانی بدلتے ہیں۔ عربی میں اعراب کی درستگی بہت ضروری ہوتی ہے اور یہ کام علماء کرام اور مفتیانِ عظام ہی کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران خان بچپن میں نہ تو مسجد ومدرسہ گیا ہے اور نہ کسی مولوی نے گھر پرہی پڑھایا ہے ورنہ کم ازکم مدینہ کی ریاست کا دعویدار کو کلمہ پڑھنا درست آتا۔ مولانا فضل الرحمن نے میری علمی خدمات کو جانتے بوجھتے نظر انداز نہ کیا ہوتا تو آج زرداری، نوازشریف اور عمران خان سے زیادہ متحدہ مجلس عمل مقبول ہوتی مگر بہت اچھا ہوا کہ مذہب دنیاداری کیلئے استعمال نہ ہوا۔
عمران خان نے کسی عالم یا صوفی سے تربیت اور علم حاصل کیا ہوتا تو دہشت گرد طالبان کی اس طرح سے حمایت نہ کرتے جس طرح ماضی میں کی تھی اور پھر پاکپتن کے مزار پر بینڈ ہوکر زمین کا ایسا بوسہ کبھی نہ لیتے۔ پھر بشریٰ بی بی کی ہدایات پر عمل کرکے مزار کے اندر عجیب وغریب کیفیت کا مظاہرہ بھی نہ کرتے۔علماء ومفتیان اور مشائخ کی صحبت وتربیت اور علم وتدریس نہ ہونے کایہ نتیجہ تھا کہ جس خاتون کو کسی کے نکاح میں ہونے کے باجود اس سے شادی کا پروگرام بنایا اور عقیدت کا بھی اسی کو مرکز بنالیا۔ ایسا ناقص کردار رکھنے والا بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا جس نے اپنی ایک ایک بات پر یوٹرن لیکر قوم ہی کی اخلاقیات کا بھی بیڑہ غرق کردیا اور ہمارے کم عقل ریاستی اہلکاروں نے بھی اندھوں میں اسکو راجہ سمجھ لیا ۔یہ تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے۔
امام شاہ ولی اللہؒ سے امام عبیداللہ سندھیؒ تک کی ناکامی کے کچھ بنیادی وجوہات ہیں۔ مدرسہ وفرقہ وارانہ ذہنیت کے علاوہ قرآن کی تعلیمات سے تقلید کے لبادے میں دوری بنیادی عوامل تھے اور ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ بیت اللہ کے مطاف میں خواتین وحضرات شانہ بشانہ طواف کا فرض ادا کرتے ہیں ۔ حجراسود چومنے کامنظر بڑا ہی عجیب ہوتا ہے۔ یورپ وچین کے خواتین وحضرات کی بھری ہوئی مخلوط ٹرینوں اور بسوں میں وہ رگڑے ممکن نہیں جو حجراسود چومتے وقت نامحرم مؤمنین و مؤمنات ایکدوسرے سے کھاتے ہیں۔کہاں شرعی پردے کاتصور ؟ اور کہاں حجراسود چومنے کی رگڑیں؟۔ مخلوط تعلیمی اداروں اور ملازمتوں کے مخالف مذہبی طبقات بیت اللہ کی دیواروں کے سایہ میں مخلوط طواف کو تونظر انداز کرتے ہی ہیں لیکن حجراسود کو چومتے وقت مخلوط رگڑے کھانے پر بھی دانت کھول کر زباں کو جنبش نہیں دیتے ہیں اور اس اندھیر نگری میں اندھوں کے راجے تو کوئی اور ہی بنیں گے، جس پر تعجب کی بات نہیں۔
قرآن میں مسائل کا حل موجود ہے لیکن اس کی طرف بدکردار طبقہ نہیں بلکہ نیک و باکردار علماء وصلحاء بھی توجہ نہیں کرتے ۔ چڑھتے سورج کے پجاریوں اور ابن الوقتوں کی توبات چھوڑدیں۔ قرآن میں پردہ کے احکام ہیں ، بوڑھی خواتین جن میں نکاح کی رغبت نہ ہو۔زینت کے جگہوں کی نمائش کے بغیر وہ کپڑے بھی اُتاریں تو حرج نہیں ۔ پھر اللہ نے اگلی آیت میں فرمایا ’’ اندھے پر حرج نہیں،نہ پاؤں سے معذور پرحرج ہے اور نہ مریض پر حرج اور نہ تمہاری جانوں پر کہ تم کھاؤ اپنے گھروں میں، اپنے باپ کے گھروں میں یا اپنی ماؤں کے گھروں میں یا اپنے بھائیوں کے گھروں میں یا اپنی بہنوں کے گھروں یا اپنے چچا اور ماموں، خالہ ، پھوپھی، دوست ، جنکے گھروں کی چابیاں تمہارے لئے کھلی ہیں۔۔۔ تم سب ہی اکٹھے کھانا کھاؤ یا الگ الگ تمہاری مرضی ہے‘‘۔
اس آیت میں دنیا کی رسم وروایت کے عین مطابق شرعی پردے کا آسان تصور اُجاگر ہوتاہے لیکن مذہبی طبقات کی مت ماری گئی ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہؒ کے فرزند شاہ عبدالقادرؒ نے قرآن کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے آیت قرآنی کا مفہوم ہی مسخ کرڈالا۔ لکھاہے کہ ’’ آیت میں حرج سے یہ مراد ہے کہ نابینا، پاؤں سے معذور و مریض کیلئے جمعہ کی نماز اور جہاد وغیرہ معاف ہیں‘‘۔ ہمارے پہلے شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی نے بھی یہ تفسیر نقل کردی۔ جب قرآن کا مفہوم بدل دیا جائے تولوگ قرآن کی طرف رجوع کیسے کرینگے؟۔یہ آیت شرعی پردے کا وہ تصور ختم کرتی ہے جو لوگ اپنے ذہنوں میں سمجھتے ہیں۔
علماء نے سترعورت اور شرعی پردے کا جو خود ساختہ تصور قائم کیا وہ قرآن کیخلاف ہے اور اس پر علماء ومفتیان خود بھی عمل نہیں کررہے ہیں۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ کے استاذ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھاکہ جو مسجد کا امام شرعی پردہ نہیں کرتا ہے وہ فاسق ہے، اسکے پیچھے نماز پڑھی جائے تو واجب الاعادہ ہے یعنی وہ نماز دوبارہ لوٹائی جائے ،یہ ضروری ہے۔
شرعی پردے کا تصور ہے کہ بھابھی، چاچی، مامی، خالہ زاد، چچازاد، ماموں زاد سب ہی سے پردہ کیا جائے ورنہ تو وہ شخص فاسق ہوگا۔ علماء شرعی پردے کا تصور رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ صوفی ، تبلیغی جماعت و دعوت اسلامی کے عمل و کردار والوں میں بھی شاذ ونادر ہی اس شرعی حکم پر عمل پیرا ہوتے ہیں مگر یہ شریعت کا حکم قطعی طور پرنہیں، قرآنی آیت میں گھروں میں کھانے کی انفردای و اجتماعی طور پر کھل کر اجازت ہے مگر اس مفہوم کو علماء و مفتیان نے مسخ کردیا ہے اسلئے کہ اردو تراجم کی حد تک شاہ ولی اللہؒ کے فرزند شاہ عبدالقادرؒ سب کے امام ہیں۔ اصل ترجمہ وہی ہے باقی سب ہی نے نقل کرکے اسے اپنے لفظوں میں ڈھالا ۔
جن خواتین میں نکاح کی رغبت نہ ہو ، پردے میں زینت کے مقامات کے بغیر ان کیلئے اپنے کپڑے اُتارنے سے واضح ہے کہ ستر عورت کا بھی علماء ومفتیان نے بالکل غلط تصور لیا۔ عورت کے ہاتھ پیر اور چہرے کے علاوہ سب کچھ ستر ہو تو نکاح کی رغبت نہ رکھنے والی خواتین کیلئے خالی زنیت کی جگہیں چھپانے کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ چونکہ ستر عورت فرض اور فرض کو مستثنیٰ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔آیت میں زینت کے علاوہ کپڑے اتارنے سے واضح ہے کہ ستر عورت کا غلط مذہبی تصور مسلط کیا گیاہے۔ مولانا مودودیؒ نے آواز کو بھی ستر میں شامل کیا لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کے طلباء و طالبات ایک صف میں ہوتے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی نظر میں شرعی پردے کا تصور وہ ہو جو علماء ومفتیان کے ہاں فقہی اور جاہل صلحاء کے ہاں عملی زندگی کا حصہ ہے؟۔ توچیئرمین صاحب کا خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر دینے سے علم وعمل کا بڑا تضاد ہوگا اور بے عملی حقائق میں رکاوٹ بنتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی چاچی علیؓ کی والدہ کی میت کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا اور فرمایا تھا کہ ’’یہ میری ماں ہے جس نے میری پرورش کی ہے‘‘۔ مفتی طارق مسعود جیسے جاہلوں نے سوشل میڈیا پر فقہی جہالتوں کا بازار گرم کردیا ہے لیکن وہ قرآن واحادیث اور صحابہ کرامؓ کے واقعات سے نابلد ہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ و صحابہ کرامؓ نے ایک صحابیؓ کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی تو دولہادلہن خود ہی ضیافت کی خدمت انجام دے رہے تھے۔اس سے زیادہ نام نہاد شرعی پردے کا تصور کیا ہوگا؟ کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کے طرز عمل کو بھی ہم نہیں مانتے اور قرآن کو بھی نہیں مانا جاتا ہے۔ قبلہ ایاز سے عرض ہے کہ
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
مولانا عبیداللہ سندھی ؒ نے لکھاکہ ’’ عوام میں شرعی پردے کا کوئی تصور نہیں اور شرفاء میں شرعی نہیں روایتی پردہ ہے۔ شرعی پردہ تو کوئی ویسے بھی نہیں کرتا ہے اور نہ یہ ممکن ہے لیکن جہاں روایتی پردہ ہوتا ہے وہاں پر لوگ قوم لوط ؑ کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں جو بالکل غیرفطری ہے، اگر پردہ ترک کیا جائے تو قوم لوطؑ کے مرض سے بچت ہوگی‘‘۔ مولانا سندھیؒ نے قرآن کی تعلیم کا درس دینے کے بجائے اپنی فکر مسلط کی تھی تو لوگ کیسے قبول کرتے؟۔ دوسروں کے بچوں کو بچانے کیلئے کوئی اپنی بچیاں کیوں پیش کریگا؟۔ یورپ کی آزادی میں بھی ہم جنسی کا مرض برقرار ہے۔ جب قرآن کی تعلیم سے روگردانی کا درس دیکر قرآن ہی کے نام پر انقلاب کا درس دیا جائیگا تو اسے کون قبول کریگا؟۔ ذرا سوچئے تو سہی!۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے شیعہ کی گمراہی کا سبب عقیدۂ امامت کو قرار دیا ، جس سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے، لیکن انکے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے من وعن وہی عقیدہ منصب امامت میں درست قرار دیا تھا۔ وہ خود شہید ہوئے لیکن انکے پیروکار سمجھ رہے تھے کہ سیداحمد بریلویؒ غائب ہیں ، دوبارہ امام مہدی کی حیثیت سے وہ آئیں گے اور خلافت قائم کردیں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کے افکار سے نبوت وامامت کو ایک درجہ دیدیا تھا۔ اہل تشیع کے غالی لوگ بھی گمراہانہ فلسفے میں مبتلا ہیں۔ یہ کتنا بڑا فساد ہے کہ جو کالعدم سپاہ صحابہؓ کے لوگ شیعہ کو عقیدۂ امامت کی وجہ سے کافر کہتے ہیں وہ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب منصب امامت کی تعریف کرنیوالے مولانا یوسف بنوریؒ اور بریلوی مکتبہ فکر کو مانتے ہیں۔ اگر ایک طرف ہم نبیﷺ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرنیوالے عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ سے عقیدت رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی غالی قسم کے لوگوں نے مقدس افراد کو آپس کی لڑائی پر مجبور کیا لیکن بعد میں بھی شیعہ پر کفر کے فتوے لگانے والے اکابرہی پیچھے ہٹ گئے۔ علماء ومفتیان کے جتھے مؤقف کی تبدیلی میں مفادات حاصل کرینگے تویہ اپنے کرتوت کی بدولت مقبول نہ ہونگے۔
عمران خان کو محمد رسول اللہ اور ﷺ بھی درست تلفظ کیساتھ نہیں آتا لیکن لوگ ان فقہاء وعلماء کو علامہ اقبالؒ کی زباں سے بھی مسترد کرکے عمران کی تعریف کرینگے۔
قلندر بجز دو حرف لا الہ کچھ نہیں جانتا
فقیہِ شہر ہے قارون لغت ہائے حجازی کا
اس بات سے ڈرنے کی ضرورت ہے کہ قادیانی علماء کو خراب کرنے کیلئے کل عمران خان کے بچوں سے قرآن کی سورۃ آل عمران ہی مراد لیں۔پھر یہ حدیث بھی پیش کردیں کہ ’’ کسی قوم کا بھانجا اسی قوم کا فرد ہوتا ہے‘‘۔ پھر بتائیں کہ حسنؓ و حسینؓ کی اولاد بھی نانا کی وجہ سے سید اور بلاول زرداری بھی نانا کی وجہ سے بھٹو ہے۔ پھر قرآن میں بنی اسرائیل کی تمام عالمین پر فضیلت کا حوالہ بھی دیں۔ پھر فقہ کی کتب سے حرمتِ مصاہرت کے مسائل اٹھائیں اور میڈیا پر علماء ومفتیان کو شرمندہ کریں۔
شاہ ولی اللہؒ نے علماء کی مدافعت کرتے ہوئے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا مگر ان پر واجب القتل کے فتوے لگے ۔ جبکہ حضرت علیؓ نے اعلیٰ معیار کے تقویٰ، عدل اور توحید کا درس دیکر جن لوگوں کو تعلیم دی تھی وہ خوارج بن کر ایک مصیبت بن گئے تھے۔ حضرت علیؓ کا قول مشہور ہوا کہ’’ جس پر احسان کرو تو اسکے شر سے بھی بچو‘‘۔ آج امریکہ اور افغانیوں کی امداد پاکستان کے گلے میں آئی ہے۔ حضرت عثمانؓ کو خوارج نے ہی شہید کیا اور انہوں نے ہی حضرت علیؓ کو بھی شہید کیا۔ جزاء الاحسان الا حسان ’’ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے‘‘۔ نبی ﷺ سے اللہ نے فرمایا فلا تمنن فتکثر ’’ اسلئے احسان نہ کرو کہ زیادہ بدلہ مل جائیگا‘‘۔ ایک انقلابی اپنی قوم پر اپنے افکار ، تعلیمات، نظریات اور طرزِ عمل اور تربیت کا احسان کرتا ہے تو امید ہوتی ہے کہ بہت اچھا بدلہ ملے گا اور اچھے نتائج نہ نکلیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ قرآن میں ہے کہ حتی اذا استیئس الرسل وقالوا قد کذبوا ’’ اور یہانتک کہ جب رسول مایوس ہوگئے اور پکار اٹھے کہ ہمیں جھٹلادیا گیا ہے‘‘۔ مشن کی کامیابی کا یقین کرنے والے جب ڈھیٹ مخلوق اور زندہ لاشوں کو دیکھتے ہیں تو مایوس ہوجاتے ہیں۔ نبی اور انکے ساتھی چیخ اٹھے کہ متی نصراللہ ’’اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘اس کی وجہ انسان کی تخلیق کی کمزوری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بندے کو اللہ کے سامنے چوتڑ اٹھاکر سجدہ ریز ہونے کے بجائے اپنی پوجا کرنا پڑتی،جو سیاسی ومذہبی لیڈر شپ اپنی بڑائی بیان کرتے ہیں وہ اپنی پونچھ پکڑنے کی دعوت دیتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردہ قوم میں زندگی کی روح پھونکی تو یہ بڑا معجزہ تھا۔ جن کی آنکھیں تھیں مگر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم تھے ان کو بینائی کی دولت دیدی۔ہمارے رسول اللہﷺکی بدولت آنکھوں کے اندھوں، کانوں کے بہروں اور دلوں کے اندھوں کو شفاء مل گئی اور قرآن کا یہ معجزہ آج بھی برقرار ہے لیکن اسکا فائدہ نہیں اٹھایا جارہاہے۔ مولاناعبید اللہ سندھیؒ کی دعوت قبول کرکے قرآن کی طرف رجوع کیا جاتا اور مولوی کی فکر سے قرآن کو آزادی دلائی جاتی تو آج ہماری حالت بہتر ہوتی لیکن مولانا سندھیؒ خود بھی قرآن نہیں تقلید اور اجتہاد میں معلق تھے۔
قرآن میں مسافر کیلئے غسل کے بغیرہی حالت جنابت میں نماز پڑھنے کی اجازت واضح ہے مگراجازت اور حکم میں فرق ہے، نبیﷺ نے یہ فرق سمجھ کر حضرت عمرؓ و عمارؓ دونوں کی سفر کی حالت میں نماز چھوڑنے اور پڑھنے کی تائید کی ۔ حضرت اشعریؓ و حضرت ابن مسعودؓ کے درمیان مناظرہ ہوا جس کو صحیح بخاری میں نقل کیا گیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے لکھا کہ’’ عجیب بات ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عمارؓ کی بات سن کر اپنے مؤقف سے رجوع کیوں نہ کیا؟ اور اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ پھر نبیﷺ نے حضرت عمرؓ سے خود کیوں نہیں کہاکہ تمہارا مؤقف غلط ہے‘‘۔ مشہور عالم مولانا مناظر احسن گیلانی نے اس کو نقل کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نبیﷺ نے تو قرآن کے مطابق دونوں صحابہؓ کی تائید کی تھی البتہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ فقہ وحدیث کی کتابوں میں بھول بھلیوں کا شکار ہوئے اور یہی نہیں بلکہ لکھا ہے کہ قرآن میں وعدہ ہے کہ مؤمنین کو اللہ نے خلافت دینی تھی۔ عربی میں جمع کا اطلاق کم ازکم تین افراد پر ہوتا ہے، قرآن میں جمع کا صیغہ ہے۔ یہ وعدہ تین افراد حضرت ابوبکر، عمرؓ اور عثمانؓ کیساتھ پورا ہوا۔ علیؓ کی خلافت منتظمہ نہیں تھی اسلئے یہ وعدہ انکے ساتھ پورا نہ ہوا۔ یہ تحریر ’’ ازالۃ الخفا عن الخلفاء ‘‘ میں ہے۔ کیا یہ فرقہ وارانہ ذہنیت کیلئے تشفی تھی؟ اور کیا یہ قرآن کی درست تفسیر ہے؟۔
مولانا سندھیؒ نے شاہ ولی اللہؒ کی فکر میں ایک ترمیم کی اور وہ یہ کہ شاہ ولی اللہؒ نے کہا کہ خیرالقرون میں پہلا دور نبی ﷺ کا تھا اور پھر حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ ،پھر حضرت عثمانؓ کا۔ جبکہ مولانا سندھیؒ نے حضرت ابوبکرؓ کے دور کو بھی نبیﷺ کے دور میں شامل کیا جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی پھر عمرؓ اور پھر عثمانؓ کا دور شمار کیا ہے اور لکھاہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں سرمایہ دارانہ نظام نے حفظ مراتب کے وظیفے مقرر کرکے جڑ پکڑ لی تھی لیکن مضبوط نہیں ہوا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں شاہی اور سرمایہ دارانہ نظام مضبوط ہوا ، جس نے امیرمعاویہؓ کے دور میں مضبوط درخت کی صورت اختیار کی تھی۔ شاہ ولی اللہؒ اور مولانا سندھیؒ میں بیچ کا واسطہ حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ تھے جن کی کتاب ’’ بدعت کی حقیقت‘‘ میں صحابہؓ و تابعینؒ و تبع تابعینؒ کے ادوار خیرالقرون تھے ، چوتھی صدی ہجری میں تقلید کی بدعت ایجاد ہوئی اور اس کا شریعت میں جواز نہیں تھا جبکہ مولانا سندھیؒ امام ابوحنیفہؒ کی تقلید کو ہی انقلاب کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔
امامت افراد کو نہیں قوموں کو ملتی ہے۔ مسلمانوں کو امامت مل گئی تو فاتح ترک بھی مسلمان بن گئے۔ آج امریکہ اور مغرب کی امامت ہے اوراُمت سرگردان ہے۔
قرآنی آیت سے نہ صرف شرعی پردے کی حقیقت واضح ہے بلکہ ماں ، باپ اور بھائی ، بہن کے الگ الگ گھروں کا تصور بھی ہے۔ اگر باپ کا الگ گھر ہو اور ماں کا الگ گھر ہو تو جب انکا انتقال ہوجائے پھر حقیقی وراثت کا معاملہ بھی اجاگر ہوگا۔
بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کی پرورش والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے اور والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو بچے انکی دیکھ بھال اور پرورش کا ذمہ لیتے ہیں۔یہ ایک المیہ ہے کہ بیٹا بڑا ہوکر گھر بنائے۔ بوڑھے والدین کی خدمت کرے ، باپ کا انتقال ہوتا ہے تو بہنوئی کھڑا ہوکہ گھر والد کے نام پر ہے، گھر بار بیچ ڈالو! اور وراثت میں حصہ دو، نہیں تو عدالت کا سامنا کرو۔ جس گھر میں والدین نے اپنے بچوں کو زندگی میں رکھا ہو، وہ انہی کا ہوتا ہے۔ جن کارخانوں زمینوں سے بیٹے اور پوتے تک والدین کی زندگی میں پلتے ہوں وہ انہی کا ہے جن کو زندگی میں مالک بنایا گیا ہے ،فوت ہونے کے بعد بھی پوزیشن بدلتی نہیں ۔ ورثاء اس وقت جائیداد اور گھر وں پر لڑسکتے ہیں کہ جب والدین کے اپنے الگ الگ مکانات اور جائیدادیں ہوں۔
باغِ فدک کی وراثت حضرت فاطمہؓہی کو مل جاتی تو رسول اللہ ﷺ کے معمولات کو حضرت ابوبکرؓ برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ جب خلافت کی مسند پر بنوامیہ کا حق تسلیم کیا گیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے وہ باغِ فدک سادات کو دیدیا تھا لیکن اسوقت سادات کی تعداد زیادہ اور باغ فدک سے کمائی ان کی کثرت کے مقابلہ میں کم تھی۔ نبیﷺ نے مزارعت کو ناجائز قرار دیا تو اولاد کو مزارعت کی کمائی کیسے کھلاتے؟۔
بچوں کی پرورش، رہائش، تعلیم کی ذمہ داری والد اور یتیم پوتوں کی ذمہ داری دادا پر ہوتی ہے۔ باپ اور دادا کی فوتگی پر پہلا حق زیر پرورش بچوں کا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے فقہی بھول بھلیوں میں یتیم پوتوں کو بھی دادا کی میراث سے محروم کردیا گیا۔ جبکہ زندگی کی طرح فوت ہونے کے بعد بھی پہلا حق انہی یتیم پوتوں کا تھا۔ شادی شدہ بیٹی کی پرورش کی ذمہ داری اسکے شوہر پر عائد ہوتی ہے ۔ میراث کے حوالے سے جس طرح معاملہ گھمبیر بنادیا گیا یہی حال سُود کے معاملے پر بھی اختیار کیا گیا ہے