حاجی عبد الوہاب ؒ دو دفعہ مرکرزندہ ہوئے تیسری مرتبہ نہیں بچے گا:ڈاکٹر مفتی مولانا منظور مینگل

680
0

جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کے سابق معروف استاذ ڈاکٹر مولانا مفتی منظور مینگل علماء دیوبند کے مناظر اسلام ہیں۔ تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر حاجی عبدالوہاب ؒ وفات پاگئے تو ان کا درد بھرا تعزیتی خطاب منظر عام پر آیا مگر اسکے ساتھ ایک سابقہ بیان بھی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز ہے۔ مولانا منظور مینگل نے کہا کہ ’’ تبلیغی بھائی کہتے ہیں کہ حاجی عبدالوہاب صاحب دو مرتبہ فوت ہوگئے لیکن اللہ نے واپس اسے دنیا میں بھیجا۔ مولانا منظور مینگل نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب وہ نہیں بچ سکے گا۔ ایک مجلس میں حاجی عبدالوہاب صاحب کی موجودگی میں ایک تبلیغی نے کہااور اس وقت میں خودبھی اس مجلس میں موجود تھا کہ حاجی عبدالوہاب فوت ہوگئے، فرشتوں نے پوچھا کہ من ربک ، ما دینک، من نبیک ( تیرارب کون ہے؟۔تیرا دین کیا ہے؟ ، تیرا نبی کون ہے؟) حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ یہ کونسی جگہ ہے اور مجھے یہ کہاں لیکر آئے ہو؟۔ فرشتوں نے کہا کہ یہ جنت البقیع ہے۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مولاناالیاس کاندہلوی، حضرت جی مولانا یوسف، حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب کہاں ہیں؟۔ فرشتوں نے کہا کہ وہ بستی نظام الدین میں ہیں۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مجھے وہاں لے جاؤ یا ان حضرات کو میرے پاس لاؤ۔ فرشتے لاجواب ہوگئے اور اللہ نے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کو واپس بھیج دو۔اسطرح دو مرتبہ اللہ نے مرنے کے بعد حاجی عبدالوہاب کو واپس دنیا میں بھیجا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ بخاری شریف میں ایک صحابیؓ کے بارے میں بھی ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگیا تھا۔ جب وہ کمرے سے باہر آیا تو میں نے کہاکہ وہ صحابی فوت نہیں ہوا تھا بلکہ بیہوش ہوا تھا۔ جسکا نام جبلؓ تھا اور جب وہ بیہوش ہوا تو اس کی بہنیں اور گھر کے افراد نے رونا مچایا کہ واہ جبلا، واہ جبلا، واہ ملجا، واہ مأویٰ ۔ جب ہوش میں آیا تو کہا کہ فرشتے مجھ پر ہنس رہے تھے کہ چار پانچ فٹ کا بھی کوئی پہاڑ ہوتا ہے میرا نام جبل کیوں رکھا؟، مجھے فرشتوں کے سامنے شرمندگی ہوئی۔ بخاری کا واقعہ موت کے بعد زندہ ہونے کا نہیں ۔ قرآن میں ہے کہ موت کے بعد کوئی زندہ نہیں ہوسکتا ‘‘۔ مولانا منظورمینگل کی پوری ویڈیو ضرور دیکھ لیجئے گا۔
ایک نیندہے جس میں انسان پر ایک چھوٹی سی موت طاری ہوجاتی ہے، سونے سے پہلے اور نیند سے اٹھ جانے کے بعد مسنون دعا میں اس کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس طرح نیند کی حالت میں آدمی خواب دیکھتا ہے تو اسی طرح بیہوشی کی حالت میں مشاہدہ بھی دیکھ لیتا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ صحابیؓ نے مشاہدہ دیکھا ہو، حضرت حاجی عبدالوہاب ؒ نے بھی مشاہدہ دیکھا ہو۔خواب اور مشاہدہ اسلئے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے کہ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ نبیﷺ نے قیس کا نام عبدالرشیدؓ رکھا اور کافی صحابہؓ کے نام بدل دئیے۔ معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوبکرؓ بن ابی قحافہؓ کے والد زیادہ عمر والے تھے اسلئے نام نہ بدلا ہوگا۔ حاجی عبدالوہابؒ کا مشاہدہ بھی درست ہوگا کہ حدیث میں ہے کہ المرء مع من احب (آدمی جس سے محبت کرتاہے، اسی کیساتھ ہوگا) ۔جس دن تبلیغی جماعت کے سابق امیر مولاناانعام الحسنؒ کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا تو مولانا طارق جمیل نے مولانا الیاس ؒ کے پڑپوتے کیلئے دعا کی کہ اب ذمہ داری کا بوجھ اکیلے مولانا سعد کے کاندھے پر پڑگیا، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے۔ مولانا انعام الحسنؒ کو مشورہ دیا گیا کہ حضرت ابوبکرؓ کی طرح اپنے بعد کسی کو امیر بنالیں۔ حاجی عبدالوہاب کی رائے تھی کہ مولانا سعد کو امیر بنایا جائے، مولانا سعید خان کا مشورہ تھا کہ مولانا زبیر کو امیر بناؤ۔ اتفاق نہ ہوا تو ایک فیصل کو اختیار دیا مگر مولانا سعد نے کہا کہ مجھے امیرنہ بناؤ ، مولانا زبیر کے ساتھی کٹ جائیں گے، مولانا زبیر نے کہا کہ مجھے امیر نہ بناؤ، مولانا سعد کے حامی کٹ جائیں گے۔ فیصل نے تین افراد کو ذمہ داری کا بوجھ سونپ دیا۔ ایک پہلے فوت ہوگئے، پھر مولانا زبیرنے وفات پائی تو مولانا سعد پر ذمہ داری کا بوجھ آیا۔
حاجی عبدالوہاب نے پریشر پر شوریٰ کا تقرر کیاجس کو مولانا سعد نے مسترد کیا۔ اب دونوں گروپوں میں بحث ہے کہ اسلامی نظام امارت ہے یا پھر شورائی ہے؟۔ شوریٰ والے کہتے ہیں کہ مولانا سعد پر کسی نے محبت یا بغض میں حملہ کردیا یہ فیصلہ نہیں ہوسکا۔ مارپیٹ کے بعد پولیس کوحوالہ کیا گیا اور مولانا سعد کی سیکورٹی مقرر کی گئی۔ پہلے دعوت چلتی تھی پھر ماحول بدل گیا اسلئے اکابرؒ نے اصلاح کی کوششوں کے بعد بستی نظام الدین کو چھوڑ کر الگ مرکز قائم کیا۔ مولانا سعد والے کہتے ہیں کہ مولانا سعد نے مرکز میں کھانے کے خاص دسترخوان اور جماعت کے پیسوں سے بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی جو کا م کا بنیادی اصول تھا اور یہ برداشت نہ ہوا اسلئے الگ ہوگئے۔ مدرسہ کڑمہ جنوبی وزیرستان سے بھگانے کیلئے رائیونڈ کے فاضل مولانا شاہ حسین پر تبلیغی کارکن نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
پھر مولانا شاہ حسین نے ٹانک کے قریب جنڈولہ روڈ پر مدرسہ بنایا ، جسکا نام مدرسہ حسنین رکھ دیا۔ تبلیغی جماعت نے اسکے خلاف پروپیگنڈہ کرکے نام بدلنے پر مجبور کیا کہ یہ شیعہ نام ہے، حالانکہ مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا نام بھی حسنین ہے۔ مولانا شاہ حسین کی تشکیل فیصل آباد کی ایک مسجد میں ہوئی تھی، پڑوسی رائیونڈ سے پتہ کرکے آیا تھا اور ساتھ میں کلہاڑی کا لوہا واسکٹ کی جیب میں چھپایا تھا، اور اسکا دستہ ہاتھ میں تھا۔ کلہاڑی سے سرپر وارکردیا اور مولانا نور محمد شہید کے بھائی مولانا نیاز محمد نے بچایا ۔اس نے پہلے ہی مینٹل( پاگل) ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی بنایا تھا۔
حاجی عبدالوہاب صاحب کو مشاہدہ میں بتایا گیاہوگا کہ تیرا قبلہ قرآن وسنت اور حرمین شریفین نہیں بستی نظام الدین ہے اور ان اکابرینؒ کو منہ دکھانا ہے جسکے مولاناسعد کیخلاف سازشوں کے بدترین جال بچھائے گئے ہیں۔
بانیانِ تبلیغی جماعت کا مقصد کسی نئے گروہ کا اضافہ نہیں بلکہ قرآن وسنت کا احیاء تھا، تبلیغی حاجی عثمانؒ کی قدر کرتے تو تفریق وانتشار اور اس طرح سازشوں کا شکار نہ ہوتے۔ کراچی کے اکابرعلماء دیوبند عام بسوں میں سفر کرتے تھے اور پھر حاجی عثمانؒ کے مریدوں کی الائنس موٹرز کے ایجنٹ اور گاڑیوں کے مالک بن گئے تو پیری مریدی کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر اختیار کیا۔ طلبہ غریب ہوتے ہیں، مریدوں میں بڑے مرغے ہاتھ لگتے ہیں۔ اُمت کے دیانتدار علماء و مشائخ اور تبلیغی کارکن مل بیٹھ کر قرآن وسنت کے فطری احکام کو پروان چڑھائیں تو سب کا زبردست بھلا ہوگا۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختارنے مسلمان نوجوان کا اردو ترجمہ کیا، تو ان کو درس قرآن اور تبلیغی کارکنوں کے تنازعہ پر کرایہ کے غنڈوں سے شہید کروایا گیا۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے عصر حاضر میں جو عالمگیر فتنے کی حدیث کا ذکر کیا تھا تو وہ بھی شہید کئے گئے۔ دونوں کتابیں مسلمان نوجوان اور عصر حاضر مارکیٹ سے غائب کردی گئیں ۔ ایک اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔