طلاق ثلاثہ پر حلالہ کا فتویٰ قرآن و سنت کیخلاف ہے. فاضل دار العلوم دیوبند مولانا حسین مبارک

485
0

talaq-e-salasa-maulana-husain-mubarak-fazil-darul-uloom-deo-band

کراچی (امیر حسین، قاری سلیم اللہ، طارق مدنی) فاضل دار العلوم دیوبند یوپی بھارت مولانا سید حسین مبارک ( خادم اعلیٰ مدرسہ فاطمۃ الزھرہ جامع مسجد مبارکیہ علی اکبر شاہ گوٹھ کورنگی ) نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں گیلانی صاحب نے جو قدم اٹھایا ہے بہت ہی قابل ستائش اور بہت ہی بہترین کام ہے کیونکہ موجودہ دور میں جن دار الافتاء سے طلاق ثلاثہ کے بارے میں فتویٰ جاری ہوتا ہے یہ قرآن و سنت کے بھی خلاف ہے اور فطرت و غیرت کے بھی خلاف ہے۔ قرآن و سنت میں کہیں بھی حلالے کا تصور اور جواز موجود نہیں حضرت عمرؓ نے جو فیصلہ صادر فرمایا وہ وقت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعزیراً ایک فیصلہ صادر فرمایا وہ بھی لوگ عورتوں کو طلاق دیتے اور پھر ان کو ستانے کی غرض سے اور ان عورتوں کی بغیر رضامندی ان سے رجوع کرلیتے تھے میں آج سے تقریباً تیس سال سے طلاق کا مسئلہ حل کررہا ہوں جو دونوں فریقین کی باتوں کو سن کر فیصلہ یا فتویٰ دیتا ہوں اگر دونوں رجوع کرنے کیلئے رضامندی کا اظہار کرتے ہیں تو رجوع کا فیصلہ سناتا ہوں اور اگر دونوں میں تنازع نظر آتا ہے تو ان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ سناتا ہوں قرآن و سنت کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ اتحاد کے بارے میں انہوں نے کہا اس وقت علماء کرام تمام چھوٹے بڑے دینی مدارس ، یونیورسٹی کے دانشور حضرات کا مل بیٹھ کر گیلانی صاحب کے اس مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا فرض عین سمجھتا ہوں۔صرف کاغذی اتحاد نہیں بلکہ عملی طور سے عوام کو سمجھانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علماء کرام طلاق کے بارے میں اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں گونگا شیطان نہ بنیں اللہ تعالیٰ شاہ صاحب اور تمام ساتھیوں کی حفاظت فرمائے اور تمام اُمت مسلمہ کو قرآن و سنت اوردین کی سمجھ عطا فرمائے۔