شیعہ سنی فرقہ واریت کی بڑی بنیاد اور اسکا حل

569
0

جب انصار و مہاجرین اور قریش و اہلبیت کے درمیان شروع سے خلافت و امامت کے مسئلے پر اختلافات موجود تھے تو آج کے دور میں اس کا حل نکلے بھی تو کوئی خاص فائدہ نہیں۔ البتہ اختلاف کو تفریق و انتشار کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا ، یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے۔ رسول اللہ ﷺ کی چاہت یہ تھی کہ لوگ اپنے ہاتھ سے خود زکوٰۃ تقسیم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے عوام کی خواہش پر حکم دیا کہ ان سے زکوٰۃ لو ، یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے۔ نبی ﷺ نے اللہ کا حکم مانا مگر اپنے اہل بیت کیلئے اس کو حرام قرار دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے سمجھا کہ خلیفہ کی حیثیت سے مجھے بھی زکوٰۃ لینے کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد بھی کیا جس سے اہل سنت کے چاروں ائمہ مجتہدین نے اختلاف کیا۔ حضرت عمرؓ کی طرف منسوب کیا گیا کہ مؤلفۃ القلوب کی زکوٰۃ کو انہوں نے منسوخ کیا تو اس کو اکثریت نے قبول کیا جس میں ان کا اپنا مفاد تھا۔ حضرت عثمانؓ نے سمجھا کہ عزیز و اقارب کیساتھ احسان کرنا اللہ کا حکم ہے اسلئے انکے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھرا اور ان کو مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔ اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر رہنمائی کیلئے وحی نازل ہوتی تھی جس کا سلسلہ بند ہوا تھا۔
شیعہ سنی اختلاف میں ایک بنیادی مسئلہ حدیث قرطاس کا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے قلم اور کاغذ منگوا کر وصیت لکھوانے کا فرمایا، حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ بہت سی وہ آیات جن میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہے ، اہل تشیع اس کو آیات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، حضرت عمرؓ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ سے اختلاف کا جواز ہو تو یہ بالکل بھی کوئی غیر معقول بات نہیں کہ اہل تشیع حضرت عمرؓ سے قیامت تک اپنا اختلاف برقرار رکھیں اور اسی پر دنیا میں گامزن رہیں۔ میں صرف اس انتشار کو ختم کرنے کیلئے کچھ دلائل دیتا ہوں تاکہ یہ فرقہ واریت کے زہر کیلئے تریاق کا کام کرے۔ قرابتداری کی محبت فطری بات ہے ، حضرت نوح ؑ نے اپنے کافر بیٹے سے بھی محبت کی۔ حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت اُم ہانیؓ شیعہ سنی دونوں کی نظر میں احترام کے لائق ہیں۔ وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت نہ کرسکیں ، اپنے مشرک شوہر کیساتھ فتح مکہ تک رہیں، قرآنی آیات میں مشرکوں سے نکاح منع ہونے کی بھرپور وضاحت ہے اور الزانی لا ینکح اور الطیبون للطیبات اور لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن وغیرہ۔ ان تمام آیات کے باوجود جب اُم ہانیؓ کو اس کا شوہر چھوڑ کر گیا تو رسول ﷺنے نکاح کا پیغام دیا اور انہوں نے منع کردیا۔ ان سب چیزوں کے منفی منطقی نتائج نکالیں گے تو بدمزگی پھیلے گی۔ نبی ﷺ کو اللہ نے خود منع فرمایا کہ جن رشتہ داروں نے ہجرت نہیں کی ان سے نکاح نہ کرو (القرآن)۔ اسکے علاوہ نبی ﷺ نے مشاورت کرکے بدر کے قیدیوں سے فدیہ کا فیصلہ فرمایا تو اللہ نے اس کو مناسب قرار نہیں دیا۔ جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کی تربیت اللہ کی طرف سے قرآن کی بھی اندھی تقلید کی نہیں ہوئی تھی۔ الذین اذا ذکروا باٰیت اللہ لم یخروا علیھا صما و عمیاناً (یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات کے ذکر پر بھی اندھے اور بہرے ہوکر گر نہیں پڑتے)۔ مجھے خود بھی اس خاندان سے تعلق کا شرف حاصل ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ حضرت اُم ہانیؓ نے اول سے آخر تک جو کردار ادا کیا اس میں ایک سلیم الفطرت خاتون کا ثبوت دیا۔ صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے کردار کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے نمونہ بنایا ہے۔ حضرت اُم ہانیؓ کے اس کردار کی وجہ سے کوئی بھی دنیا کے کسی قانونی نکاح کو زنا نہیں قرار دے سکتا۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن التقویم ثم رددناہ اسفل السافلین ہم گراوٹ کے آخری درجہ پر پہنچے ہیں جس کا قرآن میں ذکر ہے ، صحابہؓ واہلبیتؓ حضرت اُم ہانیؓ کا تعلق احسن التقویم سے تھا ۔
ہم نے یہ تماشہ بھی دیکھا ہے کہ علماء و مفتیان ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہہ رہے تھے کہ خداکیلئے ہم حاجی عثمان ؒ کو بہت بڑا ولی اور مسلمان قرار دینگے لیکن ہماری طرف سے لگنے والے اکابرین پر فتویٰ کی تشہیر نہ کی جائے۔ جب ہم نے معاف کردیا تو پھر متفرق جائز و ناجائز اور نکاح منعقد ہوجائے گا وغیرہ کے فتوے کے بعد حاجی عثمان صاحبؒ کے اپنے ارادتمندوں اور عقیدتمندوں کے آپس کے نکاح کو بھی ناجائز اور اس کے انجام کو عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا قرار دیا گیا حالانکہ اسلام دنیا بھر کے مذاہب و انسانوں کے قانونی نکاح و طلاق کو اسی طرح سے تسلیم کرتا ہے جیسے مسلمانوں کا۔ جن مفتیوں کے آباو اجداد ہندو تھے اور وہ مسلمان ہوئے تو وہ بھی حلال کی اولاد ہیں۔ شیعہ سنی تفرقے بہت سی غلط فہمیوں کا نتیجہ ہیں عشرۂ مبشرہ کے صحابہ کرامؓ نے بھی غلط فہمی کی بنیاد پر جنگیں کی تھیں۔ ائمہ اہلبیت کا توحید پر عقیدہ مثالی تھا مگر شیعہ حضرت علیؓ کو مولا سمجھ کر شریک ٹھہراتے ہیں یہ عقیدے کی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ حضرت علیؓ کو وہ مظلوم سمجھیں تاکہ مولا میں تفریق رہے۔