کوئی مسلمان ملک مسلمانوں کیلئے اتنی بڑی عظیم نعمت نہیں جتنا پاکستان ہے. مفتی تقی عثمانی

356
0

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کا اہم خطاب: 69سال پہلے اللہ نے بظاہر انتہائی نا مساعد حالات میں برصغیر کے مسلمانوں کو ہمالیہ کے دامن میں پھیلا وسیع و عریض سرسبز و شاداب ملک محض اپنے فضل و کرم سے ایسے موقع پر عطا فرمایا جب غیر اسلامی طاقتیں پورا زور خرچ کر رہی تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے اللہ نے غیب سے مسلمانان بر صغیر کی مدد فرمائی اور دنیا کے نقشے پر پہلی بار ایسی ریاست قائم ہوئی جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ ابھی آپ نے دل آویز ترانہ سنا جو 1944میں یعنی پاکستان بننے سے تین سال قبل مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرکے شاعر نے کہا تھا۔ اسکا ہر بند اس جملے پر ختم ہورہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔بچپن کی وہ فضا یاد ہے جب ہندوستان کی فضاؤں میں نعرے گونجا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ نعرے کہ لے کے رہیں گے پاکستان، بنکے رہے گا پاکستان۔اللہ نے پھر اپنے فضل سے یہ ملک عطا فرمایا۔یوں تو انسان کے فرائض میں ہے کہ اللہ و رسول کے بعد وطن سے وفادار ہو لیکن جوملک اسلام کے نام پر بنا اس کی وفاداری، محبت اور تعمیر و ترقی کی کوشش اسلام اور دین کا فریضہ بھی ہے ۔
پاکستان وجود میں آیا بلکہ وجود سے پہلے کفر کی طاقتوں نے پروپیگنڈہ مہم شروع کی۔ نعرہ لگا کہ پاکستان اگر بن جائیگا تو یہ ناکام ملک اور ناکام ریاست ہوگی ۔ بھوکا پاکستان اور ننگا پاکستان ۔ آنکھوں سے دیکھا کہ والد ماجد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ کیساتھ ہجرت میں آرہے تھے ، سرحد پرکسٹم چوکی آنے والوں کے سامان میں جو بے سلا کپڑا دیکھتی تو اس کو ضبط کرلیتی تا کہ کپڑا پاکستان نہ جاسکے۔ بھوکا ، ننگا پاکستان کو عملی جامہ پہنایا جارہا تھامگر اللہ کے فضل سے پاکستان بنا، بے وسیلہ ملک تھا ، اسکے پاس پیسے نہ تھے ، اسکے پاس دفتروں میں بیٹھ کر کام کے آلات نہ تھے ، ببول کے کانٹوں سے بال پن کا کام لیا جاتا، کھلی بیرکوں میں دفاتر قائم کئے۔ اللہ نے انعامات سے نوازا، وہ نعرہ کہ ’’بھوکا پاکستان ننگا پاکستان‘‘ دفن ہوگیا،پاکستان بننے کے بعد مستقل پروپیگنڈہ ہے، برائیوں پر مشتمل جملے عوام کی نوک زباں پررہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ ہوگیا ، پاکستان میں فلاں معاملہ ہے، عجیب ہے کہ پاکستان میں رہنے والے اور جو باہر دور ملک میں مقیم ہیں پاکستان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے کہ گرانی ہے ، بد امنی ہے ، اسلامی نظام نافذ نہ ہوا، لوگوں کی جان مال اور آبرو محفوظ نہیں۔ یہ جملے زبانوں پر رہتے ہیں اور مجلسیں اس سے گرم کی جاتی ہیں لیکن یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ باوجود ان تمام بد عنوانیوں کے جو ہم آج ملک میں دیکھ رہے ہیں ، جو نقصانات ہم نے اٹھائیں، اسکے باجود آج اعتماد سے کہتا ہوں کہ پوری دنیا کے نقشے میں اتنازیادہ مستحکم اور اتنا زیادہ مفید ملک مسلمانوں کیلئے کوئی اور نہیں جتنا پاکستان ہے۔ میں نے دنیا کے بڑے بڑے تمام ممالک کا سفر کیا اور اسلامی ممالک میں کوئی ملک نہیں جہاں جانے کا اتفاق نہ ہو،قریب سے نہ دیکھا ہو، حالات کا جائزہ نہ لیا ہو، سب حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں الحمد للہ پورے اعتماد کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان ملک مسلمانوں کیلئے اتنی بڑی عظیم نعمت اور فائدے والا نہیں جتنا پاکستان ہے۔
پاکستان سے باہر الحمد للہ اسلامی ممالک بہت ہیں لیکن یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہے کہ اسکے بنیادی دستور میں اللہ کی حاکمیت کو دستور کا سب سے بنیادی پتھر قرار دیا ہے۔ یہ بات تمام مسلمان ممالک کسی میں نہیں ملے گی یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی کیونکہ کوئی دستور نہیں۔ لہٰذا اسکے اندر اس تصریح کیساتھ یہ نہیں کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ کو حاصل ہے اور یہاں جو حکومت کوئی ہوگی وہ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے ماتحت ہوگی۔ یہ اعزاز اور کسی ملک کو حاصل نہیں جتنا اللہ نے اس ملک کو عطا فرمایا۔ یہ اعزاز بھی کسی اور کو حاصل نہیں کہ جس میں وضاحت کیساتھ یہ بات طے کی گئی ہو کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کیخلاف نہ بنایا جائیگا۔ موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے ڈھانچے میں بدلا جائیگا، صراحت کیساتھ کسی ملک میں یہ دفعہ موجود نہیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دستور میںیہ ہے کہ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کسی قانون کو قرآن و سنت کیخلاف دیکھے تو وہ عدالت میں اسلامی قانون کا دعویٰ کرے اور عدالت قبول کرے تو عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے اس قانون کو فسخ اورمنسوخ کرکے اسکی جگہ اسلامی قانون کو نافذ کرنے کا حکم جاری کرے۔ حکومت ، عوام اور افسوس ہے کہ دینی حلقوں کی بے حسی کی وجہ سے یہ دفعہ معطل ہے، فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔ آج یہ تہیہ کرلیں کہ اس دفعہ کو برسر کار لائیں گے تو الحمد للہ راستہ کھلاہے، لہٰذاجو پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اسلامی نظام کیلئے بغیر ہتھیار چارہ نہیں بالکل غلط جھوٹا ہے، اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کا الحمد للہ راستہ ہے، شرط یہ ہے کہ بے حسی ختم اورشعور پیدا کریں اوراس دفعہ کو بروئے کار لائیں۔ میں 17سال وفاقی شرعی عدالت، سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ میں کام کرتا رہا اور الحمد للہ ہم نے 200 قوانین عدالت کے ذریعے اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا حکم جاری کیا، وہ قوانین بدلے مگر افسوس کہ دینی حلقوں کی طرف سے فائدہ اٹھانے کیلئے درخواست دائر نہ ہوئی۔ ہاتھ جوڑے منتیں کیں کہ آپ خدا کیلئے اس دفعہ سے فائدہ اٹھانے کیلئے درخواستیں دائر کریں مگر افسوس کہ کوئی درخواست ہماری طرف سے دائر نہ ہوئی۔ بے دینوں اور ملحدین کی طرف سے آئیں ۔ اس پر فیصلے دئیے گئے اور 200کے قریب ہم نے بدلے ۔
کہا جاتا ہے کہ گرانی ہے، اگر آپ دوسری دنیا سے مقابلہ کرکے دیکھیں تو پاکستان سستا ترین ملک ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک میں تحریر و تقریر کی وہ آزادی نہیں کہ ضمیر کیمطابق جس طرح چاہے اظہار کر سکے، پابندیاں ہیں اور لوگوں کے گلے گھٹے ہوئے ہیں ۔
بھائیو،بزرگو! غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے اللہ کاشکر ادا کرو۔ اس شکر کا اہم حصہ یہ ہے کہ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو ۔ اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر شخص جس شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنا کردار ادا کرے۔ اور وہ یہ سمجھے کہ ملک کی خدمت درحقیت اسلام کی خدمت ہے اور اسلام کی خدمت عظیم صدقہ جاریہ ہے اور اس کیلئے زندگی بھر ثواب کا ذریعہ بنے گا۔
والدماجد نے ملک کیلئے نہ صرف جدوجہد بلکہ عظیم قربانیاں دیں۔ دار العلوم کراچی قائم کیا یہ محض رسمی کاروائی نہ تھی کہ جس طرح اور مدرسے قائم ہیں بلکہ اسکے پیچھے عظیم مقصد یہ تھا کہ اس میں ایسے افراد تیار کئے جائیں جو ملت کی رہنمائی کرسکیں او راس میں اللہ کے دین کے علوم بھی پڑھائے جائیں اور ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی تیار کئے جائیں کہ جو علوم عصریہ کے اندر مہارت رکھتے ہوں اور ہر شعبہ زندگی میں ملک کی خدمت کرسکیں، کوشش ہے کہ والد کی آرزو اور تمنا کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
تبصرہ : مدیر منتظم نوشتۂ دیوارنادر شاہ
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی تقریر میں جو باتیں کی ہیں،ان کا ترکی بہ ترکی جواب دینا مناسب ہے۔ 1: اگر پاکستان کے مخالف کفر کی طاقتیں تھیں تو مفتی شفیع کے اساتذہ پر کھل کر کفر کا فتویٰ لگائیے۔جو دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے بھارت کی حمایت کررہے تھے۔ 2: پاکستان وجود میں آیا تو ختم نبوت کیلئے نعرہ لگانے پر بھی پابندی لگ گئی تھی جو انگریز دور میں بھی نہیں لگی تھی۔ مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الاسلام کے منصبوں پر جو فائز تھے وہ ختم نبوت اور ملک میں آزادی کیلئے تحریک والوں پر کفر کے فتوے لگارہے تھے۔ پاکستان کا اسلامی آئین انہی شخصیات کی وجہ سے اس وقت وجود میں آیا جب بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا احمد علی لاہوریؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبداللہ درخواستیؒ ، مولانا ہزارویؒ ، مولاناعبیداللہ انورؒ ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ ، شورش کاشمیریؒ ، مولانا ابوالحسنات احمد قادریؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ سب ہی نے قربانیاں دی ہیں مگر آپ کا بزرگ طبقہ اسلام اور آزادی کیلئے قربانی دینے والوں پر فتوے لگارہاتھا۔ علامہ اقبال نے کہا:
ملاکو ہے جو ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
3: کس اسلام کی آپ بات کرتے ہیں؟۔ مفتی محمودؒ اور تمام علماء ومفتیان کا فتویٰ یہ تھاکہ جب بینک میں اصل سرمایہ محفوظ ہے تو زکوٰۃ کی کٹوتی کا تصور سودی رقم سے نہیں ہوسکتا ہے لیکن آپ نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے اپنے باپ کی جگہ مفتی محمودؒ کی بات بھی نہ مانی۔ پھر اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خانؒ سمیت تمام مدارس کو مسترد کرکے معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قرار دینے کی خباثت کی۔ کوئی آپ سے نہیں پوچھ سکتا ہے کہ شادی بیاہ کی رسم میں لفافے پر سود اور اسکے 70گناہوں سے زیادہ کے اندر کم ازکم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کا فتویٰ جاری کرنے والے نے حیلے سے سود کو کیسے اسلامی قرار دیا ؟۔ اسلئے کہ جب تم نے ذاتی مکانات مدرسہ میں لئے تو اسکے خلاف فتویٰ پر اپنے ہی استاذ مفتی رشید احمد لدھیانوی کی زبردست پٹائی لگوائی تھی۔ حالانکہ وقف مال کی خرید اور فروخت نہیں ہوسکتی اور نہ ایک شخص خرید نے اور بیچنے والا ہوسکتا ہے۔ اگر اپنے استاذ کو نہ بھگاتے تو ڈنڈا بازی کے ماہر مفتی رشید کم از کم رمل کا طریقہ تو سکھادیتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو آپ نے رمل کرکے دکھایاہے کہ شاید آپ کو رقص کرنے کا بھوت چڑھ گیاہے۔
4: دارالعلوم کراچی کے اردگرد غریبوں کی بستیوں میں کبھی موٹر سائیکل پر غمی شادیوں میں شرکت کرتے تو تحریک چلانے کے قابل بھی ہوتے اور سنت بھی زندہ ہوجاتی۔ نبیﷺ کی سنت یہ تھی کہ اونٹ، گھوڑے اور گدھے پر بھی سواری فرمالیتے تھے اور غریب صحابہؓ کے ولیمہ اور جنازہ میں شرکت فرماتے۔ جنہوں نے ملک میں آزادی یا اسلام نافذ کرنیکی جدوجہد کی ہے وہ غریب عوام کے غریب خانوں میں دسترخوانوں پر شرکت کرتے تھے اور غرباء کیلئے ان کے دروازے کھلے ہوتے تھے۔
5: شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے اس ملک میں آزادی اور اسلام کو نقصان پہنچایا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے ریفرینڈم میں عوام کو اختیار دیا کہ وہ اعتماد کریں یا نہ کریں لیکن تم نے ووٹ دینے کو زبردستی فرض قرار دیا۔ ملک نے سود کو جائز نہیں قرار دیا اور تم نے قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن اور مولانا درخواستیؒ نے جس زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل کہا تھا تو مدارس اور دینی حلقے تمہارے خلاف ہی تحریک چلارہے تھے۔ وہ کیونکر تیری عدالت میں حاضری دیتے؟۔ آپ کے اپنے بھائی کو چاہیے تھا کہ تیرے دربار میں اسلامی دفعات کیلئے حاضر ہوجاتا۔ کسی اور سے گلہ کیوں؟۔
6: جس قیمت پر مدرسہ میں تم نے گھر لیاتھا اور آج اس کی جواصل قیمت ہے ،اگر نیلام کیا جائے تو دارالعلوم کراچی سے حلالہ کیلئے نکلنے والے فتوؤں کی لعنت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ عیاش لوگ ڈبل قیمت پر لے لیں گے۔یہ آپ کی ہٹ دھرمی ہے کہ طلاق کا مسئلہ واضح ہونے کے بعد بھی آپ لوگوں کی عزتوں سے کھلواڑ کو نہیں روکتے۔ عزتوں کی حفاظت کوئی بڑا مسئلہ آپ کیلئے اسلئے نہیں کہ حلالہ نے ضمیر کو خراب کردیاہے، آپ کے دوست شیخ نذیر احمد نے امدادالعلوم فیصل آباد میں طلبہ سے جبری جنسی تشدد کیا اور اس کیساتھ بیٹے لڑے تو آپ نے تصفیہ کردیا تھا۔