پوسٹ تلاش کریں

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر

حسن الہیاری: السلام علیکم سسٹر کیا حال ہے ،ٹھیک ہیں؟
مریم: الحمدللہ سر جو ٹاپک چل رہا ہے اس کے لحاظ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب یہ کیا کہتے ہیں آپ کہ یہ اب ان کا فراڈ سامنے آ جائے گا کہ ان کے بعد کن کی تقلید ہو گی؟۔
الہیاری: وہ یہ تو ان کا رہبر تو ہے ، مجتبی صاحب رہبر ہیں۔
مریم: نہیں تو مجتبی صاحب کیسے رہبر بن سکتے ہیں؟ مطلب یہ کیا اتنے ان کا وہ لیول ہے کہ جس حد تک وہ تھے۔
الہیاری : خامنہ کا بھی کوئی لیول نہیں تھا۔
مریم : فراڈ سامنے آئیگا کون خمس دے گا اور بغیر خمس کے؟۔
الہیاری:فراڈ سامنے تھے ۔ یہ جھوٹ کے ماہر فراڈ سامنے آتا ہے تو کہتے ہیں یہ امریکہ کی سازش ہے پروپیگینڈا ہے ۔
مریم: بس تھوڑا کلیئر کرنا ہے جیسے میرے پیرنٹس اور بہت سے لوگ ہم آپ کو سنتے ہیں نا تو بہت سی چیزیں پتہ چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ٹریک سے اتر گئے ۔ جس طرح خامنہ ای کے بعد اللہ معاف کرے کہ مولا علی علیہ السلام کے جلوس میں انکے شبیہ، تابوت نکالے لوگوں نے اور ان فیکٹ ان کی تصویریں ہیں۔ یہ سب مطلب آگے کتنا زیادہ ہو گا ؟۔
الہیاری:دیکھیں ایرانی حکومت سر وائیو کرتی ہے یا نہیں۔ یہ نظام سروائیو کرنے والا نہیں۔ امریکہ کے پاس سٹریٹیجک پیشنز ہیں۔ یہ اپنے منصوبے طویل عرصے تک فالو کرتے ہیں پھر اس کو اپلائی کرتے ہیں۔ مثلا جیسے شام میں10،15سال جنگ تھی۔ آخر میں بشارالاسد کو نکالا گیا۔ تو ایران شام بننے کی طرف جا رہا ہے۔ اسی راؤنڈ یا نیکسٹ راؤنڈ میں چلا جائے گا لیکن ایک ولایت فقہیہ اور ایک نظام مرجیعت ہے۔ ایرانی حکومت سے نظام ولایت فقیہ بنی ہے۔ حکومت کیساتھ ولایت فقیہ بھی جائے گا ۔مرجیعت تو پہلے تھی جس کوخمینی نے کمزور کیا۔ مراجع کوکتے کی حیثیت سے دیکھتا، بڑا ذلیل کیا ،یہ لمبی داستان ہے کہ خمینی کا مراجع جیسے وحید خراسانی، صادق شیرازی، سید صادق روحانی ، آیت اللہ علی سیستانی سے رویہ کیسا تھا۔ کنٹرول تھا۔ غلام اور نوکر کی حیثیت سے تھی جو وہ کہے یہ وہی فتوی دیں گے۔ اپنا کام نکلواتا تھا اور اب بھی نکلواتا ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایسا نہ تھا۔ مراجع کی بڑی بڑی پاور تھی۔ ایران سقوط کر جاتا ہے تو ایرانی شیعوں کی دین داری کو بڑا نقصان پہنچے گاکیونکہ ایرانی عوام کاعلماء سے بہت کینہ دل میں ہے ۔ وہاں ملحداور دین دشمن افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ خامنائی کی پالیسی ہے۔ بہت سارے لوگ دین سے پھر گئے۔ اگر یہ نظام ٹوٹا تو ان کو کھلی چھٹی ملے گی کہ دین سے دشمنی ظاہر کریں۔ دین داری ایران میں پریکٹیکلی بہت کم ہے پاکستان کے مقابلے میں لیکن لانگ ٹرم میں دین کیلئے بہت بہتر ہے۔ یہ لوگ دین کو بدنام کر رہے تھے ۔اہلبیت علیہ السلام کے نام پر لوگوں پر ظلم، نوجوانوں کو یہ پھانسی دیتے تھے، یہ سلسلہ رکے تو دین کی بدنامی کا ٹرینڈ رکے گا تو لوگ دین کی طرف واپس آئیں گے۔ یہ حکومت گر جائے تو مراجع اور مذہب تشیع مزید کمزور ہو گا۔ لیکن ایران سے باہر پاکستان، ہند،عراق، دیگر ملکوں میں مرجیعت کو تقویت ملے گی۔ کیونکہ فی الحال مرجیعت بالکل ایرانی انٹیلیجنس کے قبضے میں ہے۔ اگر حکومت گر جائے تو مرجیعت کس کا کس سے شادی کر لے گی یعنی کس کی بیوی بنے گی مجھے نہیں معلوم کیونکہ مرجیعت کو ہمیشہ سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب کس کی سرپرستی قبول کریں گے مجھے نہیں معلوم۔ جو علما کہتے ہیں کہ مراجع ہمیشہ انڈیپنڈنٹ رہے ایسا بھی نہیں ۔
مریم: یہ ثواب کی مجالس جگہ جگہ۔ سارا ثواب پہنچتا ہے ؟۔
الہیاری: بدعتی انسان ، چاہے زندہ ہو یامردہ ۔ اس کی تعظیم، تعریف کرنا یہ شدت کیساتھ حرام ہے اور جو بدعتی کیلئے دعا یا تعریف کرتا ہے تووہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑتاہے۔ معاویہ اور یزید کیلئے ایصال ثواب لوگوں نے کیا، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنی بدبختی ہے جو منافق، ظالم اور بدعتیوں کیلئے کرے جنہوں نے دین کے عقائد کو فاسد کر کے اپنے آپ کو امام بنایا۔ ان کیلئے ایصال ثواب پر اللہ تعالی پوچھ گچھ کرے گا۔ فی الحال یہ فری ہیں جو مرضی کریں لیکن قیامت بھی حق ہے مرنا ہے۔
ــــــــــ

اسلام میں عورت کے حقوق پر خامنائی کی تقریر خواتین سے
سب سے اہم حق گھر کی خاتون بیوی کامحبت ہے۔ سب سے اہم ضرورت اور حق ان سے محبت کا ہے ۔ روایت ہے کہ مردوںکو بیویوں سے کہنا چاہئے: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ واضح اظہار کریں ۔وہ جانتی ہے پہلا اور بڑا حق گھر میں خواتین کا عدم تشدد ہے۔ پسماندہ مغربی ثقافت میں مردوں کے ہاتھوں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت ہیں۔ شوہروں کے ہاتھوں خواتین کا قتل ، بیویوں کی پٹائی مغرب میں ہے۔ یہ اہم ترین انحرافات میں سے ہے۔ اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو خوب مارتا ہے۔ یہ ثقافت رائج ہوجائے تو ایسی ہی ہوتی ہے ، وہ ایسے کام کرتی ہے ایسی ضد کرتی ہے، ایسے چڑاتی ہے کہ شاید شوہر کو غصہ آجائے اور وہ مارے، لیکن وہ مارتا نہیں ۔ جب یہ ثقافت رائج ہوجاتی ہے تو یہ اس شکل میں سامنے آتی ہے ۔ گھر کی منیجراور سربراہ خواتین ہیں۔ شوہر کا بچوں کی پیدائش کے اثرات سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں مدد کرنا ، گھر کے کام کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالنا چاہئے، مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ قدر دانی اس بات کی کہ ناکافی آمدنی کے باوجود، خواتین گھر کو چلاتی ہیں۔ اس نکتے پر غور کریں۔ کم لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ مرد کی آمدنی مثال کے طور پرایک مقررہ دفتری آمدنی ہے ۔ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں مگر گھر چلتا رہتا ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار ہوتا ہے ۔ یہ کون کرتا ہے؟ وہ کونسا ہنر ہے جو گھر کو چلاتا ہے؟۔

تبصرۂ نوشتہ دیوار
خامنائی کو حسن الہیاری بدعتی کہتا ہے تو طلاق بدعت وحلالہ پر کیا سمجھتا ہوگا؟۔ ایرانی شیعہ عورت کو سورہ النساء آیت19کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ الجزائری حافظہ فاطمہ کو خلع کا اسلامی حق نہیں ملا تو مجاہدہ بن گئی۔ اخلاق کا مسئلہ الگ ہے حقوق کا الگ۔ شرعی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نے دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلاف

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا پہلا قومی ترانہ اور تصوف کیخلاف امریکہ کی سازش

جگن ناتھ آزاد کی صاحبزادی مکتا لال
ہمارا پہلا قومی ترانہ

اے سرزمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمین پاک!

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سر بلند
پہنچا سکے گا اسکو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا علم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمین پاک!

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمین پاک!

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزا…

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو
آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے
اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے امید باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نہیں دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلافت

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن

اللہ نور السماواتِ والارضِ مثل نورِہ کمِشکاةٍ فِیہا مِصباح المِصباح فیِ زجاجةٍ الزجاجة کانہا کوکب دریِ یوقد مِن شجرةٍ مبارکةٍ زیتونةٍ لا شرقِیةٍ ولا غربِیةٍ یکاد زیتہا یضِیء ولو لم تمسسہ نار نور علی نورٍ یہدِ ی اللہ لِنورِہ من یشآء ویضرِب اللہ الامثال لِلناسِ واللہ بِکلِ شی ئٍ علِیم
(سورة النور آیت:35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، نور پہ نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کیلئے ہدادیت دے دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔

اِنّا عرضنا الامانة علی السموتِ و الارض و الجِبالِ فابین ان یحمِلنہا و اشفقن مِنہا و حملہا الاِنسان-اِنہ کان ظلومًا جہولاً (سور الاحزاب آیت72)

بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پرامانت کوپیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس کو اٹھالیا بیشک بڑا ظالم (اندھیرنگری میں) بڑا جاہل(انتہائی درجے کی جہالت میں) تھا ۔

اس کوہ گرنی کے دامن جٹہ قلعہ علاقہ گومل ٹانک میں میری پیدائش ہوئی
اور پھر قرآن و سنت کی بھی پوری سمجھ بوجھ نہیں تھی
مگر دنیا میں خلافت قائم کرنے کا عزم کیا تو میں بڑا ظالم جاہل تھا۔

سید عتیق الرحمن گیلانی

ــــــــــ
اے سر زمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندی حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
پاکستان کاپہلا قومی ترانہ… جگن ناتھ آزاد… عیسیٰ خیلوی
ــــــــــ

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
واِذ اخذ ربک مِن بنیِ ادم مِن ظہورِہِم ذرِیتہم واشہدہم علی انفسِہِم الست بِربِکم قالوا بلٰی شہِدنا ان تقولوا یوم القِیامةِ اِنا کنا عن ہذا غافِلِینOاو تقولوا اِنمآ اشرک ابآؤنا مِن قبل وکنا ذرِیةً مِن بعدِہِم افتہلِکنا بِما فعل المبطِلون (سورہ اعراف:172،173)

اور جب عہد لیاتیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں ان کی اولادسے اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ ۔ کہا:ہاں، ہم گواہ ہیں، یہ نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی یا کہو کہ ہمارے اجداد نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم انکے بعد انکی اولاد تھے، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا۔
ــــــــــ

یہی تھی زمین یہی تھا گویا آسمان
یہی تھا انسان یہی عتیق الرحمان
عہد الست یہی ملک کبیرپاکستان
لاالہ الا اللہ محمدرسولۖ آخر زمان
جٹہ قلعہ گومل دامن کوہ وزیرستان
احادیث صحیحہ ہیںسبھی تفسیر قرآن
ــــــــــ

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبیۖ یقول:الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف وما تناکرمنھااختلف ( صحیح البخاری حدیث:3336 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی ۖ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روحیں لشکروں کے لشکرکی شکل میں عالم ارواح میں ایک دوسرے سے اپنائیت رکھتی ہیں تو یہاں محبت کرتیں ہیں اور نفرت کرتی ہیں تو یہاں اختلاف کرتی ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کے ذریعے اسلام کی نشاة اول ہوچکی ۔ اب اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہے۔ عبداللہ بن مسعود ایک رات رسول اللہ ۖ کیساتھ گئے اور زمین کی ایک جگہ پر پہنچنے کے بعد زط یعنی جٹ قوم کی ارواح کو کچھ تہنیتی کلمات کہے تو وہ حاضر ہوگئے۔یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے مرکز پاکستان کی ا قوام متحدہ ہے۔ سندھی ، بلوچ ،مہاجر، پنجابی، سرائیکی، پختون اور کشمیری مولانا سندھی کی تفسیر مقام محمود (پارہ عم )میں واضح کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میری چاہت ہے کہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کروں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا نہیں ! آپ میرے بھائی نہیں ہو بلکہ میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ جب وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے تو مجھے ان سے مل کر انتہائی خوشی اور مسرت ہوگی۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
ــــــــــ

مآ اصاب مِن مصِیبةٍ فِی الارضِ ولا فِی انفسِم اِلا فِی کِتاب مِن قبلِ ان نبراہا اِن ذٰ لکِ علی اللہِ یسِیرOلِکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بِمآ اتاکم واللہ لا یحِب کل مختالٍ فخورٍO(الحدید آیت22،23)

نہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے (عالم ارواح میں یہ فلم پہلے چلا دی جسے آجAiکی وجہ سے سمجھنا بہت آسان ہے) دنیا میں معاملات رونما کرنے سے پہلے ۔بیشک یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔ تاکہ تم افسوس نہ کرو جو تم سے فوت ہوجائے اور جو اللہ نے دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔بیشک اللہ شیخی بگھارنے والے بد دماغ فخر کرنے والے کو پسند نہیںکرتا۔
ــــــــــ

ان آیات کی تفسیر و احادیث کی تشریح

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہ کا مطلب سبھی کرشمے اسی سے ہیں ۔ یہ حدیث قدسی زبان زد عام ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اگر آپ نہ ہوتے تو آسمانوں کو بھی میں پیدا نہ کرتا”۔ محدثین کے ہاں الفاظ نہیں ملا علی قاری نے مفہوم کے اعتبار سے درست قرار دیا ۔ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔ابلیس لعین اور حضرت آدم سے نبی رحمت خاتم الانبیاء ۖ تک ایک آئینہ ہے۔
مولانا تھانوی نے ”نشر الطیب فی ذکر حبیب ۖ” میں پہلا باب نبی ۖ کے نورپر لکھا کہ سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیااور حدیث ہے کہ ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم مٹی میں تھے”۔ نبیۖ کو اللہ نے رحمت للعالمین قرار دیا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ کے دونوں صفات میں رحمت ہے اور قرآن میں نبی ۖ کو مؤمنوں پر الرؤف الرحیم بھی قرار دیا ۔ قرآن مشرقی نہ مغربی ہے، لعان کی آیات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ناجائز حلالہ کی لعنت مدارس میں جاری ہو اور لعان کی آیت منبر ومحراب سے عوام کے سامنے نہیں آتی ہے تو یہ زیتون کے تیل سے چراغ جلانا تو دور کی بات ہے مٹی کے تیل سے بھی نہیں بلکہ نور نہیں مذہبی طبقہ ظلمت پھیلا رہاہے اور سود کو اسلام کے نام پر اضافہ کیساتھ جائز قرار دیا تو نور نہیں بڑا اندھیرا پھیل رہاہے۔ معاشی، معاشرتی ، روحانی اور سیاسی نظام سے قرآن کو بے دخل کردیا تو اللہ کا نور دنیا میں کیسے پھیلے گا؟۔

یہ نورتیلی جلائے بغیر بھڑکنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ البتہ سورہ احزاب میں واضح ہے کہ ایک ظالم جاہل انسان پوری دنیا میں یہ نور کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لے گا تو اللہ رحم کرکے دنیا بھر میں عدل کا نظام قائم کرے گا تویہ اس کا ذاتی کمال نہ ہوگا ۔ معصوم انبیاء علیہم السلام کیلئے قرآن یہ سخت گستاخانہ الفاظ کیوں کرتا؟۔ نبیۖ نے محنت و مشقت کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپۖ کی وجہ سے دنیانے نظام عدل ،آزادی اور انسانیت کو سمجھ لیاہے۔

انبیاء کرام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ طرف سے ان کا چناؤ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس قرآن اور اس کو ماننے والوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ہزاروی نے عالم ارواح میں اپنا موجودہ کردار خود چنا ہے ۔ ایک دن میں حلالہ کی لعنت کے خلاف قرآن ، حدیث اور فقہ حنفی کی درست تعلیم پیش کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان دلوں اور دلالوں نے قرآن وحدیث کا نور نہیں سود کو جواز فراہم کرنے کا کردار عالم ارواح میں چن لیا تھا اور اس پر عمل کررہے ہیں۔ میں نے الحمد للہ کہ یہی کردار چن لیا تھا جس پر میں بھی خوش ہوں اور یہ بھی خوش ہیں۔ کل حزب بما لدیھم فرحون ”ہر گروہ اس پر خوش ہے جو عقیدہ ،ماحول اور فرقہ اس نے اپنا رکھا ہے”۔ یہ انتخاب اس کی مرضی کا ہے۔

پہلے رائٹر ایک کہانی لکھتا ہے پھر فلم اور ڈرامہ بنانے والے اداکار اس میں اپنے لئے ایک معاوضہ کے تحت اداکاری کا عہد سائن کرتے ہیں کہ اس نے یہ کردار ادا کرنا ہے۔ عہدالست کی قرآنی آیت کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس شکل، گروہ اور نسل ونسب کے اندر اللہ کی ربوبیت کو ماننے کا اقرار کیا تھا اور اپنی اپنی جانوں کو گواہ بھی بنایا تھا۔ اللہ نے سورہ اعراف میں یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ ”ایسا نہیں ہو کہ قیامت کے دن تم کہو کہ ہمیں عہدالست یاد نہیں۔ یا یہ کہو کہ ہمارے پہلے والے اجداد نے جو ہمارے لئے ماحول بنایا تھا تو کیا ان کی وجہ سے تم ہمیں ہلاک کروگے جو باطل لوگوں نے ہمارے لئے بنایا؟”۔

قرآن میں اہل کتاب کو عہدالست کی دعوت ہے۔

قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا و لایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(ال عمران:64)

” کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس بات کی طرف جو ہم اور تم میں برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کریںگے مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور ہم اپنے میں سے بعض کو بعض اللہ کے علاوہ رب نہیں بنائیںگے۔اگر پھر گئے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔

عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی تو آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بناتے تھے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تمہارے علماء ومشائخ اپنی طرف سے حرام وحلال کے فیصلے کرتے تھے تواس کو آپ نہیں مانتے تھے؟۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ سارے دیوبندی مدارس نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی مخالفت کی لیکن پھر اس کو وفاق المدارس کا صدر بنایا۔ کیا یہ رب بنانا نہیں ہے؟۔ یہ شرک نہیں ہے؟۔

قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السماوات والارض ابصر بہ و اسمع مالھم من دونہ من ولیٍ ولایشرک فی حکمہ احدًا(سورہ کہف:26)
” کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا غیب ہے ۔اسکے ذریعہ دیکھ اور سن اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا”۔

اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ ”یہود پر ہم نے کسی چیز کو بھی حرام نہیں کیامگر خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کیا” مثلا ہفتہ کے دن مچھلیوں کاشکار تھا لیکن پھر نافرمانی کی توعذاب میں پڑگئے اور چھٹی کے دن مچھلی کے شکار کیلئے حیلہ زیادہ برا ہے یا سودی نظام کو اسلامی قرار دینا؟۔ یہود سے بڑھ کر تو مفتی اعظم لوگوں کا کردار ہے لیکن انہوں عالم ارواح میں اپنے لئے یہ کردار خود چنا ہے اور ان کے ماننے والے مذہبی اور دنیاوی طبقہ نے بھی۔

سورہ الحدید کی آیت میں ہے کہ زمین میں کوئی مصیبت آتی ہے یا تمہاری جانوں میں تو یہ پہلے سے لکھی جاچکی ۔تاکہ اس پر افسوس نہیں ہو ۔لیکن دنیا کا ایک دستور ہے۔ واقعہ ہوتا ہے تو اسکے شرعی، قانونی، روایتی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں۔

عبیدہ بن جراح نے پوچھا یا رسول اللہ ۖ ! ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ہم نے اسلام قبول کیا، آپ کیساتھ جہاد کیا؟۔ فرمایا ہاں ۔ ایک قوم ہے جو تمہارے بعد آئے گی وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ شیخ البانی نے کہا کہ دارمی ، احمد، حاکم وغیرہ نے نقل کیا اور صحیح قرار دیا ۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کن لوگوں کا ایمان عجیب ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: انبیاء ،فرمایا: ان کا کیوں؟ ان پر وحی نازل ہوتی ہے،عرض: فرشتوں کا!۔ فرمایا: وہ تو سب کچھ دیکھتے ہیں۔ عرض : پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ فرمایا : میں تمہارے اندر موجود ہوں اور وحی تمہارے سامنے آتی ہے۔ عرض : ہمیں نہیں معلوم۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: عجیب ایمان ان لوگ کا ہے جنکے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں اور تمہاری طرح ایمان ہوگا۔ ایک کو50افراد کی طرح ثواب ملے گا۔ عرض ہوا۔ ہم سے50یا ان میں سے؟۔ فرمایا: تم میں سے50کے برابر۔

من احیاھا فکانما احیا الناس جمیعًا۔

ایک کا بدلہ تمام انسانوں کے برابر تو ایک کی عزت حلالہ سے بچانے پر؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv