پوسٹ تلاش کریں

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر شیعہ اعتراضات اور باغ فدک کا مسئلہ اور عتیق گیلانی کے تسلی بخش جوابات

Shia object to Hazrat Abu Bakar and Hazrat Umar and the issue of Bagh-e-Fadik and satisfactory answers from Atiq Gilani

منگوپیر ہسپتال کراچی کے شیعہ سٹاف نرس جنس مرد فرمان علی کے سوالات کے تسلی بخش جوابات کی ایک ادنیٰ کوشش۔

قرآنی آیات کے درست ترجمے اور
تفسیر اُمت مسلمہ کے سامنے لائی جائے تو سارے مسلمان مخمصے سے نکل کر دنیا میں ترقی وعروج کی سب سے بڑی منزل پاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اتنا بھی
کمزور نہیں کہ امریکہ ونیٹو افواج کے ہوتے ہوئے طالبان سے قندھار ، کابل اور مزار شریف فتح نہیں کراسکتا تھا جونہی امریکہ گیا تو اللہ میدان میں کود گیا

محترم جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب! السلام علیکم
میرے مندرجہ ذیل سوالات کے تسلی بخش جوابات عنایت فرمادیجئے۔ جزاک اللہ خیر۔ از طرف ایک شیعہ فرمان علی
سوال نمبر1:_ ر سول اللہ ۖ کی تدفین میں حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان شامل نہیں تھے ان لوگوں کو حکومت پر قبضہ کی فکر تھی۔ جواب
وعلیکم السلام ۔میرا پروگرام تھا کہ سنی بھائیوں کو یہ سمجھادوں گا کہ اہل تشیع کو کافر، مشرک ، گمراہ اور غلط کہنے کے بجائے ان کو ان کے عقائد اور نظرئیے سمیت اپنے سے زیادہ اچھا مسلمان سمجھنے کی کوشش کرو اور ہیں لیکن ان سوالات نے مجبور کردیا کہ پہلے اہل تشیع کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش بڑی ضروری ہے۔ افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد شیعہ کی آذان کو گستاخی قرار دیا گیا ہے اور کالعدم سپاہ صحابہ کے علامة الجہل اورنگ زیب فاروقی نے شیعوں سے کہا کہ تمہارے شناختی کارڈ پر بھی عمر لکھا ہوتا ہے، تمہارے باپ ، تمہاری ماں اور تمہاری بہن کے نام پر جب تک عمر نہ لکھا جائے تو شناختی کارڈ نہیں بن سکتا ہے۔
حضرت عمرفاروق اعظم سے مجھے محبت ہے ۔ میرے پہلے اور دوسرے بیٹے کا نام ابوبکر اور عمر ہیں۔ ہمارے قبرستان میں ہمارے بڑے شاہ محمد کبیر الاولیاء کے بیٹے کا نام بھی محمد ابوبکر ذاکرتھا۔ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمرفاروق اعظم نبی کریم ۖ کے دنیا ، قبر اور آخرت کے رفقاء اور صحابہ ہیں۔عراق اور سعودی عرب سے بھاڑہ لیکر ان کا دفاع کرنے والوں نے جس طرح صحابہ کے نام پر اپنا کاروبار شروع کردیا ہے ، اسی طرح سے شیعان علی نے حضرت علی اور اہل بیت کے ائمہ کو اپنے کاروبارکی وجہ سے بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔
حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے کم محبت حضرت علی سے اسلئے نہیں کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی کے علاوہ میرے جدامجد بھی ہیں اور ماحول سے متأثر ہونے کی ضرورت مجھے اسلئے نہیں کہ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے باپ کو قید اور بھائیوں کو قتل کردیا اور تخت پر قبضہ کرلیا۔ 500علماء نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کرکے یہ آئین لکھ دیا کہ ”بادشاہ قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور کوئی بھی مجرمانہ کردار ادا کرے تو اس پر کوئی حد اور سزا جاری نہیں ہوسکتی ہے”۔
فتاویٰ عالمگیریہ پر حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے بھی دستخط ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے اور اپنے والد صاحب کے بارے میں جو مبشرات لکھی ہیں اور اسی طرح مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے مشاہدات ملاحظہ کئے جائیں تو لوگ شیعہ ذاکروں کے ائمہ اہل بیت کے حوالے سے سارے ہی مبالغوں کو بھول جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں اور ان کے صاحبزادوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا ہوتا تو ہم بھی قرآن کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے اسلام کو عاشورہ محرم کے جلوس اور علامتی ماتم تک ہی محدود رکھتے۔ کیونکہ زنجیر زنی کا ماتم اہل تشیع کے اشرافیہ اور علامہ صاحبان نے بھی جاہل اور جٹوں تک ہی محدود رکھا ہے۔ جبکہ ہم جاہل اور گنوار نہیں ہیں۔ جس طرح اہل تشیع کے جٹ اور گنوار جذبات میں ماتم کرکے اپنا جسم چھلنی کردیتے ہیں لیکن اشرافیہ ذاکرین کو اپنے ساتھ ماتم اورخون بہاتے ہوئے نہیں دیکھتے بلکہ صرف ذاکرین پر پیسہ لٹانے اور معاوضہ دینے کی طرف توجہ دیتے ہوئے داد دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ اسی طرح کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن یہ نہیں دیکھتے کہ علامہ اورنگزیب فاروقی جو بات کرتا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟۔ بس داد ہی دئیے چلے جاتے ہیں۔ شناختی کارڈ میں عمر لکھا نہیں ہوتا بلکہ عمر لکھی ہوتی ہے۔ جب کراچی میں اردو والے اس کو نہیں ٹوکتے کہ الو کے پٹھے تم نے حضرت عمر مذکر بھی عمر مؤنث میں بدل دیا۔ اگر یہ بات شیعہ کرتا کہ عمر ہوتی ہے تو تم لوگ اس پر حضرت عمر کی توہین کا الزام لگادیتے۔ مفتی ڈاکٹر شیخ التفسیر، شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل نے اورنگزیب فاروقی کی کتاب پر تقریظ لکھی جو مجھے کالعدم سپاہ صحابہ کے علامہ رب نواز حنفی کی طرف سے بطورِ تحفہ بھیجی گئی ہے۔ اس میں مولانا منظور مینگل نے لکھا ہے کہ اورنگزیب فاروقی کا نام تین لفظوں سے مل کر بناہے۔ اور، رنگ، زیب۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زیب کا تو رنگ ہی اور ہے ۔ حالانکہ یہ جہالت کی انتہاء ہے۔ پھر تو ” اور، نگ ، زیب بنتا ہے”۔ یہ وہ گدھے ہیں جنہوں نے کتابیں لاد رکھی ہیں ۔ اُلٹی سیدھی حرکتوں سے علم کو بدنام کردیا۔
اگر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے نبیۖ کی وفات کے بعد انصار سے خلافت کے مسئلے پر سیر حاصل بحث نہ کی ہوتی تو انصار ومہاجرین الجھ جاتے۔ قرآن وسنت نے صحابہ کرام کی ایسی تربیت نہیں کی تھی کہ مسلمانوں پر جو فرض کفایہ تھا کہ چند افراد بھی غسل اور تدفین کا فرض ادا کرسکیں لیکن پوری کی پوری امت اسی کام پر لگ جاتی۔ حضرت علی کی قبر کا بھی آج تک اسی لئے کوئی پتہ نہیں ہے کہ اس وقت قبروں کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی جتنی آج بنائی گئی ہے۔ اہل تشیع یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہۖ کے جن صحابہ کرام سے وہ اسلئے بہت زیادہ بغض رکھتے ہیں کہ نبیۖ کے غسل کو چھوڑ کر خلافت کے مسئلے میں لگ گئے تو شیعان علی نے تو حضرت علی کی قبر کا بھی خیال نہیں رکھا تھا؟۔ جنازے پر توخبریں مختلف ہوسکتی ہیں۔ شیعہ سنی کا نبیۖ کی وفات کے مہینے پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ سنیوں کے نزدیک بارہ ربیع الاول ہے اورشیعوں کے نزدیک صفر ہے۔ اسی طرح نبی ۖ کی ولادت کے مہینے پر بھی دونوں کا اتفاق نہیں ہے۔
اگر قرآن وسنت میں قبروں اور ایام کی اتنی اہمیت ہوتی تو سب سے پہلے تو لاکھ سے زیادہ انبیاء کرام کی قبروں اور پیدائش ویوم وفات کو دریافت کیا جاتا ۔ پھر آج سب کی قبروں کی زیارات اور دن منانے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہ ہوتا۔ جس طرح ایک ہندو کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اللہ نے قرآن میں گائے کو ذبح کرنے پر اصرار کیوں فرمایا؟۔ اور گائے ذبح کرنے میں حیل و حجت سے بنی اسرائیل نے اپنی مشکلات میں اضافہ کیوںکیا تھا؟۔ اسی طرح بہت معاملے اہل تشیع کو اپنے ماحول کے حساب سے سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔
سوال نمبر2:__

حضرت علی علیہ السلام کو مقرر کردیا گیا تھا پھر حدیث قرطاس کی کوئی ضرورت نہ تھی اور حضرت عمر کی آواز ہمارے نبی ۖ سے بلند ہوگئی تھی۔

جواب_
اگر حضرت علی نامزد ہوچکے تھے تو پھر حدیث قرطاس کی ضرورت نہیں تھی؟۔ یہ تو اہل تشیع کے ہی خلاف بات جاتی ہے اسلئے کہ اگر حضرت علی کو نامزد کردیا ہوتا تو پھر حدیث قرطاس کی کیا ضرورت ہوتی؟۔ قرآن کے سورۂ حجرات میں جاہل لوگوں سے کہا گیا ہے کہ نبیۖ کوحجرات سے دور مت پکارو لیکن اس کا مطلب مطلق آواز بلند کرنا نہیں ورنہ تو پھر لاؤڈاسپیکر کے ذریعے تقریر اور آذان کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ سورۂ مجادلہ میں ایک شرعی مسئلے پر نبیۖ سے ایک خاتون نے جھگڑا کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی ۔ اس سے اہل تشیع کا یہ عقیدہ باطل ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ سے کسی بات پر صحابہ نے اختلاف کیا تو وہ ناجائز تھا۔ قرآن میں متعدد امور کا ذکر ہے جن میں غزوۂ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے کا بھی ذکر ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی و دیگر صحابہ کرام نے دنیا کو ترجیح دیدی اور اللہ نے فرمایا کہ” تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔ بس بنیۖ اور صحابہ کرام نے دنیا کو طلب کیا اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ؟۔ شیعہ جس منطق سے صحابہ کے خلاف نتائج نکالتے ہیں اگر وہی منطق استعمال کی جائے تو پھر سارا دین تباہ ہوگا۔ قرآن میں حضرت آدم ، حضرت یونس اور حضرت موسیٰ کی طرف ظلم کی نسبت ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ شکر ہے کہ اہل تشیع انبیاء کے پیچھے نہیں پڑے ہیں ورنہ انبیاء کو بھی قرآنی آیات اور اپنی منطق سے ہدایت کے قابل نہ سمجھتے ۔
اہل سنت نے ایمان مجمل اور ایمان مفصل میں انبیاء کو شامل کیا مگر صحابہ کو شامل نہیں کیا ۔ جب وحی کا سلسلہ جاری تھا تب بھی انبیاء کرام کی رہنمائی کا سلسلہ اللہ نے جاری رکھا لیکن اہل تشیع کے نزدیک وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد بھی ائمہ اہلبیت سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اگر اللہ ان کو اقتدار کے منصب پر فائز کردیتا تو مسلمان دنیا میں جمہوری روایات کی جگہ عجیب وغریب قسم کے نظام کا سامنا کرتے۔ جب نبیۖ نے امیر حمزہ کی شہادت کے بعد زیادہ انتقام کی بات فرمائی تو اللہ نے منع فرمایا۔ شیعہ کے ہاں خود ساختہ اقتدار کی صورت میں بدترین طرح کے انتقام لینے کی خواہش اسی لئے پائی جاتی ہے کہ وہ وحی پر زیادہ یقین کرنے کو بھی تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ ایسے گنجوں کو کبھی اقتدار ملنا بھی نہیں۔ اولی الامر ایسا ہی ہونا چاہیے کہ جس پر تنقید کی گنجائش ہو اور اس سے اختلاف بھی کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو اور یہی قرآن وسنت کا خلاصہ ہے اور آج ایران میں بھی اس پر عمل ہورہاہے۔ نبیۖ کے ذریعے اللہ نے قیامت تک یہی رہنمائی بھی کردی ہے۔ اب مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں۔

سوال نمبر3:_
جب ہمارے نبی ۖ علی کو جانشین بنائیں اور وہ قابل قبول نہ ہو تو ابوبکر نے عمر کو نامزد کردیا وہ کس طرح صحیح ہے؟

جواب_
یہ عوام کا کام ہے۔ عوام نے حضرت امام حسن ہی کو خلیفہ بنایا تھا لیکن جب امام حسن نے معاہدے کے تحت امیر معاویہ سے صلح کرلی اور یہ کہہ کر صلح کرلی تھی کہ میرے دشمن سے میرے شیعہ بدتر ہیں تو پھر عوام نے امیر معاویہ کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اگر حضرت علی چاہتے تو ابوسفیان کی بات مان لیتے اور حضرت ابوبکر سے خلافت چھین لیتے۔ حضرت علی ، حسن اور اہلبیت سے زیادہ شیعہ ذاکرین اور علماء کو اپنی تقریروں کی فیسوں کی لت لگی ہو تو اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟۔ مدعی سست گواہ چست اسی کو تو کہتے ہیں؟۔ حضرت علی نے ابوسفیان کی پیشکش کو نہ ٹھکرایا ہوتا تو حضرت ابوبکر سے خلافت حضرت علی کو منتقل ہوسکتی تھی اور امام حسن نے امیر معاویہ سے صلح نہ کی ہوتی تو بنوامیہ کا مسند پر قبضہ ناکام ہوسکتا تھا لیکن جب امام حسن اور آپ کے شیعہ بروقت کسی دوسرے فیصلے پر مجبور ہوں اور پھر چودہ سو سال بعد آپ پٹ کر کوئی اور بات کریں تو اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟۔ اگر ائمہ اہلبیت اپنا بڑا بیٹا اپنا جانشین بنادے اور پھر وہ امام کی وفات سے پہلے فوت ہوجائے اور پھر امام اپنا دوسرا بیٹا امام مقرر کردے اور پہلے بیٹے کی اولاد اپنے حق کو برقرار ٍرکھ کر اپنا فرقہ بناسکتے تھے تو اقتدار ہاتھ میں ہوتا تو تلواریں بھی نکل سکتی تھیں اور مار کٹائی کا بازار بھی گرم ہوسکتا تھا۔ اللہ نے اہل بیت کوآزمائش میں ڈال کر اس گند سے محفوظ کردیا اور شیعہ غم کھاتے ہیں کہ اقتدار کی خاطر اورنگزیب کی طرح بھائیوں کو قتل کرنے والے ان میں پیدا کیوں نہیں ہوئے؟۔

سوال نمبر4:_
باغ فدک کیلئے حضرت فاطمہ علیہا السلام حضرت ابوبکر کے دربار میں جاتی ہیں تو ان سے گواہ مانگے گئے اور گواہوں کے طور پر اپنے شوہر حضرت علی اور حسنین کریمین کو پیش کیا مگر ابوبکر نے کہا کہ شوہر اور بیٹوں کی گواہیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

جواب_
باغ فدک مال فئی تھا اور اس کے مصارف قرآن میں ہیں۔ زیب ِ داستان کیلئے بڑی کہانیاں بنائی گئی ہیں۔ کیا رسول اللہ ۖ قرآن کے منافی مال فئی اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے؟۔ میں نے پہلی مرتبہ پڑھا کہ حضرت فاطمہ نے حضرت علی اور اپنے صاحبزادوں کو گواہی کیلئے پیش کیا تھا۔ ملکوک اور انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنے بیٹے ، بٹیوں اور دامادوں کو نوازتے ہیں جبکہ رسول ۖ نے اپنی بیٹی کو تسبیح فاطمہ عطاء کرکے امت مسلمہ کو قیامت تک اذکار سے نوازا تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ باغِ فدک کوئی موروثی جائیداد نہیں تھی ، اس مالِ فئی میں فقراء ومساکین ، عامة المسلمین مہاجرین وانصار کا بھی حصہ تھا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی ۖ نے اتنی بڑی جائیداد اپنی بیٹی کو تحفے میں عطاء کی ہو اور وہ بھی غریب اور مساکین کا مال؟۔ اگر بالفرض ایسا ہوجاتا تو کیا دنیا میں اس کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جاتا؟ نبی ۖ نے صدقات کو بھی اپنے اقرباء پر حرام کردیا تھا۔ شیعہ حضرات صرف اور صرف اس بات کا بتنگڑ بنانے پر تل جاتے ہیں جس میں صحابہ کی طرف سے اہل بیت کی حق تلفی کا پہلو نظر آتا ہو اور اس میں تمام حقائق کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں۔ اہل بیت کو اللہ نے دنیا نہیں آخرت کیلئے چن لیا تھا۔

سوال نمبر5:_
سورہ تحریم میں آیت نمبر 5میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ۖ سے فرمایا کہ ازواج مطہرات سے بہتر زوجہ دے سکتا ہوں اور سورہ تحریم آیت نمبر 10میں حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کی مثال بھی دی ہے۔ آیت نمبر10اور 11حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے لئے آئی ہیں۔

جواب_
بطور تنبیہ بہت معاملات انبیاء اور نبیۖ کیلئے آئے ہیں۔سورہ ٔ عبس میں کیانبیۖ کیلئے تنبیہ کے منطقی نتائج یہ نکالے جائیں کہ نعوذ باللہ آپ ۖ نے یہ معمول بنایا تھا کہ سرداروں کی بے رغبتی کے باوجود انکی طرف توجہ فرماتے تھے اور غریب غرباء اور نابینا کی طرف سے دلچسپی رکھنے کے باوجود انکی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے؟۔ کسی واقعہ سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنے من چاہے مقاصد حاصل کرنا کوئی اخلاقی اور شرعی تقاضہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کرتے ہوئے توبہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ اگربدر کے قیدیوں پر میدان جہاد سے فدیہ لینے تک کا سارا معاملہ واضح ہو اور اس پر گرفت نہ کی جائے تو سورۂ تحریم کے واقعہ پر کیوں کر گرفت کی جاسکتی ہے؟۔ بدر کے میدان میں مسلمان اسلئے نہیں اترے تھے کہ جہاد کریں بلکہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش کا مال بردار قافلہ مقصد تھا۔ پھر اس قافلے کے تحفظ کیلئے آنے والوں سے اللہ نے سابقہ ڈال دیا۔ اللہ نے پورا پسِ منظر بیان کیا کہ کیسے اللہ نے دونوں لشکروں کو لڑادیا۔ پہلے دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کو کم کرکے دکھایا ۔ اگر اللہ ایسا نہ کرتا توبقیہ صفحہ نمبر3نمبر1پر

بقیہ شیعہ فرمان علی کے سوالات اور جواب
دونوں لڑنے سے گریز کرتے۔ پھر جب اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کو جیت عطاء کردی تو فدیہ لیکر اپنے اقارب کو چھوڑنے کا فیصلہ کیاگیا۔ جن کا مشورہ نبیۖ نے مان لیا۔ اسی پر وحی نازل ہوئی کہ ماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدین عرض الدنیا واللہ یریدالاٰخرة ” نبی کیلئے مناسب نہیں تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرة چاہتا ہے”۔ اگر یہ آیات نہ اترتیں تو مسلمان لوٹ مار اوراغواء برائے تاوان کو اسلامی احکام کا تقاضہ سمجھتے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ الزام لگادیا جائے کہ ان کا کام لوٹ مار اور اغواء برائے تاوان تھا۔ اسلام دشمن عناصرکے الزامات کا جواب ہم پرلازم ہے۔
جب مشرکینِ مکہ دشنمانِ اسلام نے مسلمانوںکے اموال اور جائیدادوں پر قبضہ کیاتھا ، خا نہ کعبہ کی زیارت حج وعمرے سے روکا تھا تو مسلمانوں کا یہ اقدام بھی معمول کے مطابق درست تھا۔ کئی گنا بڑے لشکر سے جنگ کے مقابلے میں مالدار قافلے کو لوٹنا یقینا زیادہ آسان ہدف اور ترجیح تھا۔اللہ تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ قافلہ لوٹا جائے،ان کا سامنادشمن کے بڑے لشکر سے کرادیا۔ پھر جب فتح دیدی اورمسلمانوں نے مشاورت سے فدیہ لیکرچھوڑنے کا فیصلہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ کے فیصلے کونامناسب اورمسلمانوں کے مشورے کو دنیا چاہنے سے تعبیر کرکے واضح کردیاکہ اللہ تم سے آخرت چاہتاہے۔ اگراللہ پہلے سے لکھ نہیںچکا ہوتا توتمہیںدردناک عذاب کامزہ چکھا دیتا۔
نبی ۖ نے فرمایاکہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھایا اور اگر یہ نازل ہوجاتا تو عمر اور سعد کے سواء سب کو لپیٹ میں لے لیتا۔حضرت عمرنے مشورہ دیا تھا کہ جوجس کا قریبی رشتہ دارہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کو قتل کردے۔حضرت سعد نے ان کی تائید کی تھی ۔ حضرت علیاپنے چچا عباس کو گرفتارکرنے کے بجائے قتل بھی کرسکتے تھے۔ اسی طرح دیگر صحابہ کے بھی اپنے قریبی رشتہ داران دشمنوں میں موجود تھے۔ اور یہ فطری بات ہے کہ قریبی رشتہ داروںکو قتل کردیناآسان کام نہیںہوسکتاہے۔مہاجرین نے اپنے وطن اور عزیز واقارب کوچھوڑ دیا تھا۔
حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی اولین مسلمانوںمیںسے تھیں ۔ نبوت سے قبل نبیۖ نے آپکا رشتہ بھی حضرت ابوطالب سے مانگا تھا۔لیکن ان کا رشتہ ایک مشرک سے حضرت ابوطالب نے طے کیا تھا۔معراج کا واقعہ ام ہانی کے گھرمیں پیش آیا تھا۔حضرت ام ہانی نے مشورہ دیا تھا کہ اس کو لوگوں میں عام کرنے سے گریزکریں ورنہ ساتھیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔حضرت ابوبکر نے زبردست انداز میںنہ صرف واقعہ معراج کی تصدیق کی تھی بلکہ تمام معاملات میںآگے آگے تھے۔ ابوطالب کواندیشہ تھا کہ نبیۖ کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں اسلئے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ نہیںدیا لیکن مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوگئے تو ابوبکرصدیق نے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ دے دیا تھا۔ام ہانی نے اپنے شوہر اور بچوں کی خاطرہجرت کرنے کے حکم پربھی عمل نہیں کیااور ابوبکرنے اپنی بیوی بچوںکو چھوڑکر نبیۖ کیساتھ ہجرت کی تھی۔
دنیا کی چاہت صرف مال وولت نہیں ہے۔عزیز واقارب اور اپنے وطن کی بھی قربانی دینا بڑی بات ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کے ان نفوس قدسیہ کا تزکیہ جس طرح کیا گیا تھاہم اپنے ماحول میں یہ سوچ صرف اس وقت رکھ سکتے ہیں جب فرقہ واریت کے ماحول سے دور ہم پرکچھ اس طرح کے مراحل سے گزریں۔اللہ نے وحی کے ذریعے انکا جس ماحول میںجس طرح کا تزکیہ فرمایا تھا وہ کمال کی بات تھی اور ہم اسکے غلط منطقی نتائج نکال کراپنی تباہی کے علاوہ کچھ اورنہیں کرسکتے ہیں اور ان سے حسن ظن رکھنا ہی ہمارے ایمان کی سلامتی کیلئے ضروری ہے۔
ہمارا گمان یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ نبیۖ کے اقارب کاخیال رکھ کر معاف کرنے کا مشورہ دیا اور اللہ نے اسی کو دنیا کی طلب قرار دیا ۔ اگر اس وقت حضرت عباسقتل کردیے جاتے تو بنی امیہ کے بعد ان کی اولادکواسلئے اقتدار سپرد نہیں کیا جاتا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیںکیا تھا اور عباسنے اسلام قبول کیا تھااسلئے علی کی اولاداہل بیت سادات سے زیادہ عباس کی اولاداقتدارکی مستحق ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن نبیۖ نے روک دیا۔ حالانکہ اس میں بہنوئی کا کوئی بھی قصورنہیں تھا۔کیا اس واقعہ کی بنیاد پرحضرت علی کے خلاف مہم جوئی کیجائے؟۔
حضرت ابوبکر نے اپنے لئے کتنا وظیفہ مقرر کیا پھر اس میںبھی کٹوتی کی؟۔ حضرت عمرنے اپنے بیٹے کوزناکی حد میںکوڑوں سے مروادیااور مرنے کے بعد بھی کوڑے پورے کروادئیے۔اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے کوخلافت کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔ حضرت عثمان نے ہمیشہ اپنا مال اسلام اورمسلمانوں پر قربان کیا اسلئے بھونڈے الزامات اور بدظنی کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے۔ آیت میں حضرت عمر اورحضرت سعد کے علاوہ تمام صحابہشامل تھے اور نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا گیا ہے۔جس کی درست تفسیر کی ضرورت ہے۔
قرآن نے ایک طرف صحابہ کرام کا تزکیہ کرنا تھا، دوسری طرف جمہور کے فیصلے کی توثیق کرکے یہ واضح کرنا تھاکہ اقلیت کی رائے کی بھی تحقیر نہیں تعظیم ہونی چاہیے اور تیسری طرف یہ رہنمائی مقصودتھی کہ اولی الامر کی حیثیت سے نبیۖ باہمی مشاورت اور اکثریت سے فیصلہ کریں تو بھی اس پر مثبت تنقید کرنے کی بھی گنجائش ہے اور قیامت تک جب وحی کا سلسلہ بند رہے گا توکسی کو مطلق العنان ڈکٹیٹر اورمعصوم عن الخطا ء والاصلاح امام بنانے کی گنجائش ہر گز نہیں ہے۔
بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کامعاملہ برقرار کھا گیا، تاکہ اولی الامرکے کسی بھی فیصلے کونامناسب سجھنے کے باوجوداس میں خلل ڈالنے کا راستہ بھی قطعی طور پر رُک جائے،ورنہ نظام مملکت نہیںچل سکے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میںجہاں تزکیہ کے راستے کھولے، وہاں حکمت ودانائی کاسبق بھی سکھادیا۔ مشرکینِ مکہ نبیۖ کی رحمت للعالمین ذات کو سمجھتے تھے اور اللہ نے ان کو یہ بتانا تھاکہ فدیہ سے حوصلہ پانے کا معاملہ غلط ہے۔ ان آیات کے بعد دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کی اس اُمید کیساتھ ہمت نہ کرناکہ پھر فدیہ سے جان چھوٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کومخاطب کرکے جاہل دشمن کے دماغ کوٹھیک کرناچاہتاتھا۔قرآن کی بہت ساری آیات اس پر واضح دلیل ہیں۔
اگر ان آیات سے نبیۖ اور اکابرصحابہ کرامکی تنقیص شروع کی جائے تو اس کے نتائج ناانصافی اورگمراہی کے سواء اورکیانکلیں گے؟۔جب اہل تشیع تھوڑا مثبت سوچنا شروع کریں گے تودنیا اور آخرت میں بہت اچھے نتائج پائیںگے۔ حضرت علیکی حیثیت کسی سے کم نہ تھی۔قرآن وسنت کے مطابق بہت سے معالات پر آپ کے درست تحفظات تھے لیکن آپ نے اہل اقتدارکا ساتھ دیا۔ منافقت اورمجبوری نہیںبلکہ دل وجان سے خلافت کا ساتھ دیا تھا لیکن کچھ یارلوگوں نے ایسی داستانیں گھڑ دیں کہ ائمہ اہلبیت کی شخصیتوں کو بھی مسخ کرکے رکھ دیا گیا ۔ حضرت علی کی سیرت مشعل راہ ہے جس نے اپنی جگہ بڑا اہم کردار اداکیا۔ کیاکوئی کہہ سکتا ہے کہ مغل دورمیںاونگزیب عالمگیر سے کوئی اچھا آدمی نہ تھا؟۔ ایران، پاکستان، افغانستان،سعودی عرب اوردنیا بھرکے ممالک میںکوئی حکمران اپنے تمام رعایاسے اچھا ہے؟۔حضرت یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے بادشاہ سے افضل ، زیادہ باصلاحیت اور ہر اعتبار سے اچھے تھے لیکن خزانے کی وزارت سے اس ملک اور قوم کی تقدیر بدل دی۔ علامہ سید جواد نقوی ایک کٹر شیعہ عالمِ دین ہیں اور ان کی بہت زبردست مثبت سوچ سے انقلاب آسکتا ہے۔

سوال نمبر6:_
حضرت محمد ۖ کی ایک ہی بیٹی تھی حضرت فاطمہ علیہ السلام ورنہ مباہلہ میں باقی 3بیٹیوں کو بھی لاتے۔

جواب_
کیا حضرت علی اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے؟۔ عقیل اورجعفر پھرعلی کے بھائی نہیںتھے؟اسلئے کہ مباہلے میںان کو شامل نہیںکیا گیا۔ قرآن میں واضح ہے کہ قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین لیکن آیت مباہلہ میں ابنائنا ونسائنا وانفسنا کا ذکر ہے ، بنتک ایک بیٹی کا ذکر نہیں۔ مباہلے میں قربانی کا چیلنج ہے اور ابراہیم کی اسماعیل کے علاوہ بھی اولاد تھی ۔بنواسرائیل کے مقابلے میں بنو اسماعیل کوآزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ان کے علاوہ بھی کسی کو پیش کیا جاتا تو عیسائیوں ہی کی ہار ہوتی اور مسلمان بہر صورت جیت جاتے۔

سوال نمبر7:_
حضرت عثمان نے مروان کو چیف ایڈوائزر بنادیا تھا اور اس کو باغ فدک بھی دے دیا تھا۔ اور جتنی زکوٰة اور خمس جمع ہوتا تھا وہ بھی وہ لے جاتا تھا اور نبی ۖ نے اس کو اس کے باپ کو مکہ اور مدینہ سے باہر نکال دیا تھا۔

جواب_
ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ایک سچا پکا صحابی بن گیاتھا تواس کا راستہ نبیۖ نے روکاتھا؟ ۔ وحشی نے امیرحمزہ کو شہید اورہندنے ان کاکلیجہ چباڈالاتھاتوان پر کوئی پابندی لگادی گئی تھی کہ اسلام قبول نہیں کرنا ؟۔اپنی سوچ ٹھیک کرلیتے۔ حضرت عمربن عبدالعزیزاسی مروان کے پوتے تھے جن کی اہل تشیع اوراہل سنت تعریف کرتے ہیں۔اگرموجودہ دورکے شیعہ ماتمی جلوس سے دست بردارنہیںہوسکتے ہیں جن میںعوام کیلئے زنجیر زنی اور ذاکرین کیلئے کمائی کے علاوہ کچھ نہیںہے تو وہ حضرت علی،حضرت حسن اور حضرت حسین کی موجودگی میں دین کی پامالی پرکیسے یقین کرلیتے ہیں؟۔حالانکہ حضرت عثمان نامعلوم افرادکے ہاتھوں یرغمال بناکر شہیدبھی کئے گئے؟۔کیا نعوذ باللہ اہل بیت صرف فتوحات کی مراعات کھانے کیلئے بیٹھے تھے؟۔ دشمنوں کے کھلے حملوں سے زیادہ دوستوں کے رقیق حملے خطرناک ہوتے ہیں۔اہل تشیع مسخ شدہ تاریخی روایات کا یقین کرکے اہل بیت کی کردار کشی کرنے والوں کو انکے دشمنوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

سوال نمبر8:_
قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ آپ ۖ اپنے کام مشورہ سے کیا کریں تو کیا نبی ۖ کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحابہ کے مشورہ پر عمل بھی کریں۔

جواب_
نہیں بالکل بھی نہیں۔ صلح حدیبیہ میں صحابہ کے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا اور اس میں حضرت علی کی طرف سے رسول اللہ کے لفظ کو کاٹنے کاانکار بھی شامل تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قراردے دیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو حضرت علی نے طلاق دینے کا مشورہ دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی اس کے برعکس نازل ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ ”اگر تم اچھا گمان رکھتے اور کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے”۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضرت علی پر العیاذ باللہ بہتان لگانا شروع کردیں کہ اس مشکل وقت میں منشاء الٰہی کے خلاف مشورہ دیکر صحابیت سے خارج ہوگئے۔غلطیوں کی اصلاح بنی آدم کی کمزوری نہیں ان کی طاقت ہے۔ جس بات سے اللہ نے جنت میں منع کیا تھا تو اس کی خلاف ورزی ہوئی لیکن حضرت آدم کی عزت وشرف میں اضافہ ہوگیا۔ جب نبی کریمۖ نے صحابہ کی مشاورت پر بدری قیدیوں سے فدیہ لینے پر فیصلہ فرمایا تو اس کو نامناسب قرار دیکر اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو تقلیدکے دنگل سے نکالا تھا۔البتہ اس کا منطقی نتیجہ نکال کر رسولۖپرالزام تراشی بھی جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر9:_
صحابہ جنگ اُحد میں نبی ۖ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور جگہ بھی چھوڑ دی اور اپنے سر منڈوانے سے بھی انکار کیا یہ کیسے صحابہ تھے۔

جواب_
اگر جنت سے نکالے جانے سے لیکر ہجرت کرنے تک ایک ایک چیز کو منفی انداز میں دیکھیں اور یہ کہنا شروع کریں کہ رسول اللہ ۖ اپنے نام سے رسول اللہ کے لفظ کوکاٹنے کا حکم دے رہے تھے اورعلی نے انکار پر اصرار کیا اور اس تضاد سے اسلام کو باطل کہنا شروع کریں تو کیا نتائج نکلیں گے؟۔ مثبت سوچیں۔

سوال نمبر10:_
حضرت عائشہ حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے پر آگئیں۔

جواب_
حضرت عثمان کی شہادت پر قرآن میں بیعت رضوان بہت پہلے سے لی گئی تھی اور اس کی پاسداری کا حکم بھی دیا گیا تھا۔جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تھا تو اس میں بھی قرآن نے حضرت عائشہ کی برأت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی پر بہتان طرازی کی جائے۔ جس طرح حالات کے گھمبیر ہونے کی وجہ سے حضرت عائشہ کے خلاف محاذ کھڑا کرنے پر منافقین اور مخلصین کے درمیان فرق وامتیاز ضروری ہے ، حالانکہ مخلص لوگ بھی بہت غلط استعمال ہوگئے تھے تو بعد کے ادوار کی لڑائی پر بھی اپنی حدود سے نکل کر سوچنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام ، قرآن وسنت کے مزاج کوسمجھنا چاہیے۔جبکہ قرآن نے آپس میں لڑائی پر صلح کاحکم فرمایا اور واقعہ افک کی مذمت کی۔

سوال نمبر11:_
حضرت حسین علیہ السلام کا ساتھ کسی صحابی نے کیوں نہیں دیا؟۔

جواب_
لڑائی کا میدان اس معیار کانہیں تھا۔اکابر صحابہ جانتے تھے کہ جن لوگوں نے کوفہ میں حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ شیعان علی خوارج بن گئے۔ جوصرف اور صرف اسلئے بگڑ گئے کہ حضرت علی نے ایک شخص کو اختیار کیوں دیا۔ حضرت حسن نے اختیار سے بڑھ کر اپنے شیعوں سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے حکومت بھی سپرد کردی تھی۔ پھرشیعان حسین پرکوفہ میں کیسے اعتماد کیا جاسکتا تھا؟۔ اکابر صحابہ نے حضرت حسین کو ٹھیک مشورہ دیا تھا اورجب حضرت حسین گھیرے میں آگئے تو پھر کوفہ کی طرف جانے کا خیال بھی دل سے نکال دیا تھا۔ یزید نے خوف سے مکہ اور مدینہ کے اندر صحابہ کیساتھ بھی کوئی رعایت نہیں رکھی تھی۔ اہل تشیع کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جب حضرت علی، حسن اور حضرت حسین کیساتھ کوفی شیعوں کا برتاؤ درست نہیں تھا تو نبیۖ کے صحابہ پر بھی بدگمانی کرنے لگے۔ آدمی جیسے خود ہوتا ہے وہ دوسروں پروہی گمان رکھتا ہے۔

سوال نمبر12:_
معاویہ کو آپ رضی اللہ کہتے ہیں اس نے مولا علی سے جنگ کی اور یزید کو مسلط کیا اور اہل بیت کو گالیاں دلوائیں۔

جواب_
ہم تو حضرت سعد بن عبادہ کو بھی ایک جلیل القدر صحابی مانتے ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور مہاجرین کے خلاف مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور وہ ان کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت معاویہ کو حضرت حسن نے مسلط کیا تھا اور نبیۖ نے صلح حدیبیہ کیا تھا تو کہاں کہاں تک بات پہنچے گی؟۔

سوال نمبر13:_
حدیث میں آتا ہے کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت۔ اب ہم 11اماموں سے ہدایت نہیں لیتے ان کے بغیر قرآن سمجھ نہیں آسکتا۔ ان کی تعلیمات ہی ہم کو قرآن سمجھا سکتی ہیں مگر اس پر بالکل عمل نہیں ہورہا۔

جواب_
بارہویں امام ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ غائب ہیں؟ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںپھر قرآن پر عمل نہ کرنیکی ذمہ داری کس کے سر ہے؟

سوال نمبر14:_
حضرت عمر نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کے گھر کو آگ لگادی تھی حدیث میں ہے یہ حکم حضرت ابوبکر نے دیا تھا وہ کہتے ہیں کاش میں یہ کام نہ کرتا یہ سنی کتابوں میں موجود ہے۔

جواب_
کیا حضرت علی نے نبیۖ کی ایک بیٹی کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا تھا؟۔ میں ایسی بزدلی پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ اگر ابوسفیان جیسے لوگ حضرت ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے کیلئے وہاں آتے جاتے ہوں اور حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی ہو تو یہ الگ بات ہے۔آج کے دور میں ویڈیو کے بھی ہوتے ہوئے کتنے غلط پروپیگنڈے چلتے رہتے ہیں۔ شیعہ کے خلاف کیا نہیں ہے؟۔

سوال نمبر15:_
حضرت حسن علیہ السلام کو معاویہ نے زہر دے کر شہید کروادیا اور حضرت عائشہ نے حضرت حسن علیہ السلام کو نبی ۖ کے پہلو میں دفن ہونے نہ دیا اور حضرت عائشہ کے حکم سے مروان ابن حکم نے جنازے پر تیروں کی بارش کروادی۔ جس کی وجہ سے وہ وہاں دفن نہیں ہوسکے۔

جواب_
کہانیاں چھوڑدیں،آئیں انقلاب لائیںاورپھر مجھے وہاں دفن کردیں۔ یہ منفی سوچ ائمہ اہلبیت کے شیعوں نے رکھی تو آخری امام کو حضرت خضر کی طرح منظر عام سے غائب ہونا پڑا اور ایرانی انقلاب کے بعد بھی منظرِ عام پر نہ آئے۔ آنے والے بارہ اماموں کا تصور شیعہ سنی دونوں کی روایات میں موجود ہے جن کو اقتدار بھی ملے گا۔ یہ سلسلہ درمیانہ زمانے کے مہدی سے شروع ہونا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

بولTvپر ڈاکٹر فضانے حلالہ و متعہ کے موضوع پرشیعہ سنی علماء کا پروگرام کیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی دیوبندی بریلوی علماء کے نزدیک حلالہ کا تصور ہے اور متعہ حرام ہے۔ شیعہ کے نزدیک متعہ کا تصور ہے اور حلالہ کامروجہ تصور نہیں ہے۔شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی نے کہا کہ حلالہ اور متعہ کو مکس نہیں کریں،یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ متعہ ایک وقتی نکاح ہے جس میں نکاح کے تمام شرائط ہیں ، بس یہ فرق ہے کہ مستقل نکاح عمر بھر کیلئے ہوتا ہے اور متعہ ایک مخصوص وقت کیلئے ہوتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں مسیار کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔
مفتی ولی مظفر نے کہا کہ سعودی عرب میں مسیار اس نکاح کو کہتے ہیں جس میں عورت کو شوہر کے گھر میں جانا نہیں پڑتا ہے ، بعض عورتیں خود کفیل رہنا چاہتی ہیں اور وہ شوہر سے اپنے گھر میں تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں، شوہر کے گھر نہیں جانا چاہتی ہیں،باقی وہ عام نکاح سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ متعہ ایک الگ چیز ہے۔
ایک دوسرے عالمِ دین نے کہا کہ ” اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس ہمارے نزدیک متعہ پہلے جائز تھا، پھر فتح خیبر کے موقع پر اس کو حرام کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں یہ روایت ہے ۔یہ ہماری دلیل ہے۔
حلالہ متعہ نہیں بلکہ مستقل نکاح ہے ، جب تک شوہر اپنی مرضی سے بیوی کو چھوڑ نہیں دیتا ہے یا وہ فوت نہیں ہوجاتا ہے تو یہ اس کی بیوی رہتی ہے۔
حلالہ اور متعہ دونوں ایسے موضوع ہیں جن پر اینکر پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ نکاح، خلع،طلاق، رجوع، حلالہ اور متعہ کے الگ الگ تصورات کو پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ان موضوعات پرٹی وی اینکر پرسن کو پروگرام کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام سے پہلے علماء کرام کو بھی مکمل تیاری کیساتھ آنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اگر تیاری نہ ہو تو پھر جھوٹ اور حقائق کے منافی بات کرنے پر مجبور ہونگے اور تیاری کرنے کے بعد شاید وہ اپنا مؤقف بھی بدل ڈالیں اسلئے کہ جن گھمبیر مسائل کا ذکر کتابوں میں رائج ہے،اگر اسکے بھیانک نتائج سے آگاہ ہونگے تو کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرنے پر مجبور ہونگے۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط موجود ہے لیکن بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام بھی اس کے بھیانک نتائج سے قطعی طورپر آگاہ نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ سے پہلے مجھے اتفاق سے دارالعلوم کراچی میں داخلہ ملا تھا۔میں نے اسٹیل مل کراچی ایشین کمپنی میں ایک ویلڈر مستقیم کیساتھ ہیلپری کا کام کیا۔ مستقیم نے مجھے دارالعلوم کراچی میں پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جہاں نوکری اور دینی تعلیم دونوں ساتھ ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے دارالعلوم کراچی حفظِ قرآن کی کلاس میں داخلہ مل گیااور چار گھنٹے کی آدھی دیہاڑی پر ماچس فیکٹری میں کام بھی مل گیا۔ اسٹیل مل میں19روپے دیہاڑی تھی اور ماچس فیکٹری میں26روپے دیہاڑی تھی۔ چار گھنٹے میں13روپے پر مجھے بہت آسانی اور خوشی تھی۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ نے کہا کہ جب سب کچھ قیام وطعام مدرسے کی طرف سے ملتا ہے تو مشقت اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میںنے عرض کیا کہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اپنی کمائی کرکے اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو میرا اپنا خرچہ اٹھانے میں کیا حرج ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہاںمفت میں سب کچھ ملتا ہے اور وہاں نہیں ملتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں سید ہوں ، میرے لئے زکوٰة جائز نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس میں اتنے سارے سادات گزرے ہیں انہوں نے تو کبھی زکوٰة کی وجہ سے مدرسے کا کھانا نہیں چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا ان کی وجہ سے میرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ،زکوٰة تو آپ کیلئے جائز نہیں۔ پھران کے تعجب کومزید بڑھانے کیلئے میں نے حدیث دکھائی کہ نبیۖ نے ایک صحابی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ قرآن سکھانے کے بعد اس کی طرف سے ڈھال کو کیوں قبول کیا ہے، یہ جہنم کی آگ کا طوق بنے گا۔ انبیاء کرام میں کسی نے بھی تبلیغ پر اجرت نہیں لی اور نہ یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں قرآن اور نمازپڑھاؤں گا لیکن اس پر اجرت نہیں لوں گا۔ میری رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو پہنچادی گئی تومجھے بلاکر مدرسہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا کہ آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے۔
پھر جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی گیا لیکن وہاں معلوم ہوا کہ داخلے بندہیں۔ وہاں سے واٹرپمپ دارالعلوم الاسلامیہ فیڈرل بی ایریا بھیج دیا گیا۔ جہاں میں نے عبوری دور میں کچھ حفظ وناظرہ اور قرأت وتجوید کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے رمضان میںدرسِ قرآن کے دوران یہ سنا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ” قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا ہے کیونکہ قرآن تحریری شکل میں اللہ کا کلام نہیں ہے، البتہ اگر زبان سے یہ کہہ دیا کہ قرآن یا اللہ کی کتاب کی قسم تو پھر اس حلف کا کفارہ دینا پڑے گا”۔ پھر شوال میں جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ مل گیا تو سرِ راہ ہمارے استاذ جو اس وقت میرے استاذ نہ تھے مفتی عبدالسمیع نے ایک صیغہ پوچھا، پہلا سال تھا، ہم علم الصرف پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ماضی کا ایک صیغہ ہے ضربتما،اس کو دومرتبہ کیوں لکھا گیا ہے؟۔ وہ جواب دیتا تھا اور میں اس کوغلط قرار دیتا۔ آخر کار اس نے قرآن کا مصحف منگواکر پوچھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یہ نقشِ کلام ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے،اسلئے کہ قرآن کی قرآنیت کا انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ پھر تو مولانا یوسف لدھیانوی بھی کافر ہوگئے اسلئے کہ ان سے میں نے سنا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں نقش کلام ہے اور اس پر حلف بھی نہیں ہوتا۔ پھر مفتی عبدالسمیع نے مجھے خوب برا بھلا بول دیا کہ تم افغانی سب کچھ پڑھ کرآتے ہو اور تمہارا مقصد ہی ہمیں ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب دادو کے سندھی تھے۔ پھر جب میں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب میں یہ دیکھا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے توجامعہ بنوری نیوٹاؤن سے اسکے خلاف فتویٰ لیکردونوں کو شائع کردیا تھا۔
اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے دباؤ میں آکر وضاحت کرلی کہ میں نے اپنی کتابوں ”فقہی مقالات جلد چہارم اور تکملہ فتح الملہم” سے اس مسئلے کو نکال دیا ہے۔ روزنامہ اسلام میں پہلے پورا مضمون شائع کیا اور پھر اشتہار دیا کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔ پھر ضرب مؤمن کے ایک ہی شمارے میں دونوں باتیں وضاحتی بیان جس میں شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا کہ مجھے اس طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے صرف نقل کیا ہے مگرمیرایہ مسلک و عقیدہ نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔
ان دنوں میں مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآن وسنت کی تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ کی رکنیت سے بھی اس خوف کے مارے استعفیٰ دیدیا تھا کہ کہیں عرب علماء پوچھ گچھ نہ کرلیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر والے ان کے پیچھے پڑگئے تھے لیکن پھر ہم نے بریلوی علماء کے فتوے بھی شائع کردئیے جس سے مفتی محمد تقی عثمانی نے اس عذاب سے چھٹکارا پالیا تھا۔ ضرب حق کے پبلشر اجمل ملک نے مفتی محمدتقی عثمانی کو اخبار کیلئے انٹرویو کا کہا تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ” مجھے کم گالیاں کھلائی ہیں، جس پر تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک صاحب نے کہا کہ ہم نے تو تمہاری جان بریلوی مکتب سے چھڑائی ہے، جس پر اس نے سکوت اختیار کیا۔
فتاویٰ شامیہ، فتاویٰ قاضی خان اوروزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس ” میں سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کے مسئلے کو ٹھیک قرار دیا ہے اور مولانا الیاس گھمن کا ایک کلپ بھی موجود ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ علماء ومفتیان اپنی جہالت کو سمجھ بھی نہیں رہے ہیں کہ وہ کونسی جہالت ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے فقہاء نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا۔ جب اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے کہ” المکتوب فی المصاحف (جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے) لیکن لکھے ہوئے سے لکھا ہوا مراد نہیں ہے کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو اللہ کا کلام نہیں ہے”۔ تو پھر جب لکھائی کی شکل میں قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانا جاتا ہے تو اس پر حلف بھی نہیں ہوگا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو پھر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
علماء ومفتیان کو اصول فقہ اور فقہ کے مسائل میں باہمی ربط کا بھی پتہ نہیں تھا اسلئے مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا اور پھر اپنی کتابوں سے اس کو نکال دیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا پہلا اختلاف مفتی رشید احمد لدھیانوی سے وقف شدہ مدرسہ میں ذاتی مکان خریدنے پر ہوا۔ پھر اس کا دوسرا اختلاف مفتی محمود سے جنرل ضیاء الحق کے دورمیں زکوٰة کی کٹوتی پر ہوا۔ پھر تیسرا اختلاف سود ی نظام کو اسلامی بینکاری قرار دینے پر مدارس بشمول مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے ہوا۔یہ بڑے زمینی حقائق ہیں۔
ڈاکٹر فضا نے بول ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام ” ایسا نہیں چلے گا” میں جن علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو دعوت دی تھی تو انہوں نے صفائی کیساتھ حقائق عوام کے سامنے لانے میں بڑے بخل سے کام لیا ۔جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا اصل مسئلہ بڑے علماء ومفتیان کو اصولِ فقہ اور فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط کیساتھ معلوم نہیں ہے اور نہ اس کے بھیانک نتائج سے آگاہ ہیں ،اسی طرح وہ نکاح، طلاق، خلع،رجوع، حلالہ اور متعہ کے موضوعات اور ان کے بھیانک نتائج سے بالکل آگاہ نہیں ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے کہا تھا کہ ” آپ مدارس کیلئے ایک نصابِ تعلیم تشکیل دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہی نصاب ہم مدارس میں پڑھائیںگے ”۔ لیکن جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق سے رجوع اور حلالہ کے خاتمے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کی طرف سے تحریری خط کے باوجود بھی آخر کار معذرت خواہی کا نتیجہ نکل آیا اور چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ” آپ علمی صلاحیت رکھتے ہیں اور علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں یہ مجھے مشکل سے اس منصب پر برداشت کررہے ہیں”۔
حلالہ اور متعہ کے موضوع پر ڈاکٹر فضا کے پروگرام میں علمی حقائق کا حق ادا نہیں ہوا ہے۔ محمد مالک نے ہم نیوز میں حلالہ کے موضوع پر قبلہ ایاز، علامہ طاہر اشرفی ، علامہ راغب نعیمی ، علامہ امین شہیدی اور ڈاکٹر ظہیر کو بات کرنے کا موقع دیا تھا لیکن جب تک فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود فقہی مواد اور مسائل کے بھیانک نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے جائیں گے اس وقت تک حقائق سے پردہ نہیں اُٹھ سکے گا۔ اس شمارے میں نکاح، طلاق، خلع، رجوع ، حلالہ اور متعہ کے حوالے سے بنیادی علمی حقائق اور اسکے نتائج ہمارے مدارس کے علماء اور طلباء کے سامنے بھی پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور ٹی وی چینل کے اینکر پرسنوں کو بھی یہ مواد پہنچاتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے رہنماؤں کو ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اسلام پر چلنے میں اور اپنا نظام تشکیل دینے میں بہت آسانی ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلام کا حال مسالک اور فرقہ واریت کے نام پر علماء ومفتیان اور علامہ صاحبان نے اس سے بھی بدتر بنایا ہے کہ جو مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنے بیانیہ کیلئے وکیلوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے ذریعے سے پوری ریاست، حکومت، عدالت، سیاست اور قوم کا بنار کھا ہے۔جب مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں اپنا حال سدھار لیںگی تو الیکشن میں ان کو ووٹ بھی ملیںگے اور نوٹ بھی۔اسلام اور مسلمان جیتے گا۔ امریکہ کوان کے چھوڑے ہوئے خراب جہازوں سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔

نکاح پر علماء کے عجب مسائل_
عقدِ نکاح کے بارے میں سادہ لوح عوام ، نام نہاددانشوراور علماء و مفتیان بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں جانتے ہیں اور اس میںمدارس کے علماء سے لیکر جماعت اسلامی کے مولانا سید مودودی اور ان کی باقیات تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار اور جاوید احمد غامدی سب شامل ہیں۔
جن علماء کا تعلق دارالافتاء سے فتوے دینے کا ہوتا ہے وہ فقہی کتب کی تفصیل پر نظر رکھتے ہیں مگر جن کا تعلق قرآن یا احادیث یا عربی ادب، یا صرف ونحو سے ہوتا ہے وہ فقہی مسائل کی تفصیلات کو نہیں جانتے اور نہ ان سے کام رکھتے ہیں۔
قائدجمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے ایک بار میری دعوت پر علماء کے اجلاس میں آنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ” مجلس فقہی کے مولانا انور شاہ صاحب کے ذمے اس مسئلے کو رکھیںگے اور اگرانہوں نے ٹھیک قرار دیا تو پھر ہم سیاسی اعتبار سے اس پر غور کریںگے کہ مصلحت کس میں ہے؟”۔ پھر مولانافضل الرحمن نے میرے اصرار پر مولانا عطاء شاہ صاحب کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علماء کو بھی ٹانک سفید مسجد میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سرپرست اعلیٰ مولانا فتح خان کے ہاں آنے سے روک دیا تھا۔ اگر اس وقت عالمی اسلامی خلافت کے مسئلے پر علماء کرام کے درمیان بحث ہوتی تو آج برصغیر پاک وہند ، عراق وشام اور افغانستان کو داعش کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور جذباتی نوجوان اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دینے اور اپنی ریاستوں کو مشکلات میں ڈالنے کے مراحل میں نہ ہوتے۔ داعش اور خلافت کیلئے کام کرنیوالے طبقات پہلے اسلام کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دیں تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن۔
جب عورت کا اپنے شوہر سے نکاح ہوجاتا ہے تو اپنے اپنے رسم ورواج اور مسالک کے مطابق حقوق، معاملات اور مسائل چلتے رہتے ہیں لیکن جب کچھ معاملات پیش آتے ہیں اور میاں بیوی مدارس کے فتوؤں کا رخ کرتے ہیں تو یہ مسئلہ بڑا گھمبیر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک عورت کو اس کے شوہر نے کہا کہ3طلاق، اور پھر مکر گیا تو عورت اس پر حرام ہوگی اور حلالہ کے بغیر ان کا دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا ۔ اگر شوہر نے انکار کیا تب بھی شرعی اعتبار سے عورت اس پر حرام ہوگی لیکن شوہر سے عورت کو اپنی جان چھڑانے کیلئے دو گواہ لانے پڑیںگے۔ اگر اس کے پاس دو مردگواہ نہیں ہوئے اور نہ ایک مرد اور دو خواتین گواہ ہوئے تو شوہر کو عدالت میں قسم اٹھانی پڑے گی۔ اگر اس نے جھوٹی قسم کھالی تو عورت بدستوراس کے نکاح میں رہے گی۔ عورت کو اس حرامکاری سے بچنے کیلئے ہرقیمت پر خلع لینا ہوگا اور اگر شوہر کسی صورت بھی خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو وہ عورت شوہر کے نکاح میں رہے گی اور عورت کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ س اسے حرامکاری نہ ہو لیکن اگر شوہر اس کے ساتھ حرامکاری کرے تو عورت اس سے لذت نہ اٹھائے ورنہ پھر گناہگار ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ مسئلہ اپنی کتاب ” حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے اور دارالعلوم کراچی نے مزید حواشی وتزئین کیساتھ اس کو شائع کیا۔
اب بھی بریلوی دیوبندی مدارس میں اسی فقہی مسئلے پر میاں بیوی میں جھگڑا ہونے کی صورت میں یہی فتویٰ دیا جارہاہے۔ نکاح میں دوسرا گھمبیر مسئلہ حرمتِ مصاہرت کا ہے ، جس کی تفصیلات سے ہوش اُڑ جائیںگے، اصولِ فقہ کی کتب میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر شہوت کی نگاہ میں عذر ہے لیکن اگراندرونی حصے پر نظر پڑگئی اور اس میں شہوت آگئی تو شوہرپر بیوی حرام ہوجائے گی۔ درسِ نظامی کے نصاب میں پڑھائے جانیوالے ان مسائل کا اسلام سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ فقہاء کی اپنی ذاتی اختراعات ہیں۔

خلع پرعلماء کے عجیب مسائل_
ٹی وی کی اسکرینوں پر علماء و مفتیان اور نام نہاد جاہل دانشور جھوٹ بولتے ہیں کہ عورت کو اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک مرتبہ عدالتوں کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جہاں عورتوں کو خلع ملتا ہے اور کہا تھا کہ ”عورت اور عدالت کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے کہ عورت کو خلع دیا جائے۔ جب تک شوہر اپنی طرف سے راضی نہیں ہوتا ہے ،عورت کو اسلام میں خلع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب میں حد درجہ حماقت کی گئی ہے کہ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا ذکر جملہ معترضہ ہے یا پھر تیسری طلاق سے متصل ہے؟۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ جملہ معترضہ ہے اسلئے کہ خلع بھی ایک مستقل طلاق ہے اور پھر تیسری طلاق کی گنجائش نہیں رہے گی ۔اور دوسرا مؤقف یہ ہے کہ عربی قواعد کے لحاظ سے فدیہ کی صورت سے تیسری طلاق کو متصل ماننا ضروری ہے اسلئے خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ حنفی مؤقف کی وجہ سے علامہ تمنا عمادی نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھ دی تھی ، جس میں حنفی مسلک ، قرآن اور عربی قواعد سے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ طلاق صرف دو مرتبہ ہے اور حلالہ کا تعلق صرف خلع کیساتھ ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے احادیث کا انکار بھی کردیا تھا۔ لیکن یہ بنیاد ان کو حنفی مؤقف کے اصولِ فقہ اور درسِ نظامی سے ہی فراہم ہوئی تھی۔
علماء و مفتیان کے نصابِ تعلیم میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت229کا خلع سے کوئی تعلق نہیں بن سکتا ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق کے بعد اگر عدت میں رجوع کا فیصلہ باہمی رضامندی، اصلاح و معروف طریقے سے کرنے کے بجائے عورت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کو قرآن نے او تسریح باحسان اور حدیث نے تیسری طلاق قرار دیا ہے تو پھر مسئلہ طلاق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” پھر تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے”۔ قرآن میں طلاق سے پہلے وضاحت ہے کہ دئیے ہوئے میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں اور پھر حدود پر قائم نہیں رہ سکنے کے خوف پر اس چیز کو واپس فدیہ کرنے کی بات ہے۔
خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت19میں ہے۔ جس کے ناجائز ٹکڑے بناکر علماء ومفتیان نے قرآن کی اس خبرکو سچ ثابت کیا ہے کہ ”ان سے پوچھا جائے گا کہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیوں کیا تھا؟”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے جانے سے روکو، کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے،اس میں بعض واپس لے لو مگر یہ جب کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور ان سے اچھا سلوک کرو اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں بری لگتی ہوں اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے”۔ (سورہ النساء آیت19)
علماء ترجمے میں تحریف نہیں کرسکے لیکن تفاسیر میں لکھ ڈالا کہ پہلے جملے میں عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھنے کے حکم سے مراد فوت شدگان کی وراثت سے ملنے والی خواتین ہیں اور دوسرے جملے میں اپنی بیگمات مراد ہیں۔ حالانکہ یہ ترجمہ وتفسیر کسی صورت میں ممکن بھی نہیں ہے۔ اللہ نے اس میں خلع کا حکم بیان کیا ہے اور پھر اگلی آیات20،21النساء میں طلاق کے احکام واضح کئے ہیں۔

خلع وطلاق پر علماء چت ہیں _
قرآن وسنت میں خلع وطلاق کا بالکل الگ الگ تصور ہے لیکن علماء نے اس کو بالکل مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ قرآن وسنت میں سورۂ بقرہ آیت229کا تعلق صرف طلاق ہی کیساتھ ہے۔ رسول اللہ ۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ آپۖ نے فرمایا کہ آیت229میں الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان (تیسری بار احسان کیساتھ چھوڑنا)تیسری طلاق ہے۔
مولانا سیدمودودی نے تفہیم القرآن میں آیت229کے ترجمے میں انتہائی غلطی کرکے عورت کی طرف سے فدیہ کو خلع میں معاوضہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنے بانی کی غلطی کا کھل کر اعتراف کرکے خلوص کا ثبوت دیدے۔
علماء ومفتیان اپنے نصابِ تعلیم میںغلطی کا کھلے عام اعتراف کرکے قرآن کو ترجیح دیں اور امت مسلمہ کیلئے گمراہی کی جگہ ہدایت کا راستہ ہموار کریں۔ ناسمجھی اور جہالت کی وجہ سے اللہ نے غلطیوں کو معاف قرار دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب مسئلہ یہاں تک پہنچے کہ عورت شوہر کیلئے حرام ہو لیکن شوہر خلع دینے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر بھی عورت حرامکاری پر مجبور ہو۔ کیا یہ بے حیائی اور بے غیرتی اسلام کا حکم ہوسکتاہے ؟ اور دنیا اس کو کس نظر سے دیکھے گی؟۔ عورت کی اس میں کس قدر حق تلفی ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیںتو کہتے ہیںکہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اس کو کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کے کام کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔بھلا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو، جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ (سورة الاعراف آیت:28)
اللہ تعالیٰ نے طلاق کے احکام یہ بیان کئے ہیں کہ عدت میں بھی باہمی رضا مندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور باہمی رضامندی کیساتھ عدت کی تکمیل پر بھی رجوع ہوسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان نے سارا معاملہ تلچھٹ کردیا ہے۔ اور حلالہ کی لعنت کیلئے قرآنی آیات اور احکام سے کھلم کھلا انحراف کا راستہ اپنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہ صرف خلع کا حق دیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے تمام منقولہ دی ہوئی چیزیں ساتھ لے جانے کی اجازت بھی دیدی ہے۔ البتہ عورت کو دی ہوئی غیر منقولہ اشیاء گھر، پلاٹ اورباغ وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ کپڑے،زیورات، نقدی، گاڑی اور تمام دی ہوئی منقولہ اشیاء میں سے بعض کو خلع کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا ہے لیکن اگر عورت کھلی فحاشی کی مرتکب ہو جائے تو پھر سب نہیں لیکن بعض چیزیں واپس لی جاسکتی ہیں۔ایک صحابیہ نے اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ” اسکادیاباغ واپس کرسکتی ہو؟”۔ اس نے عرض کیا کہ ” اور بھی بہت کچھ واپس کرسکتی ہوں”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اور کچھ نہیں”۔ وہ باغ واپس کیا گیا اور صحابی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔
قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ ” خلع کی صورت میں زبردستی سے مالک بن بیٹھنا غلط ہے اور اس کو جانے سے اسلئے مت روکو کہ اپنی طرف سے دی ہوئی بعض چیزیں ان سے واپس لے لو مگر یہ کہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوجائیں”۔ قرآن کے قانون میں زبردست توازن ہے ۔ صحیح حدیث ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ سعودی عرب میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت کے مطابق بنانے پر اتفاق ہے لیکن مدارس کے علماء کا قرآن وسنت پر اتفاق نہیں ہے۔ جاہل دانشور اسلام کے نام پر عوام کو مزید گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جب چھوڑرہی ہو تو پھر بھی اللہ نے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ بری لگتی ہوں تو بھی اس میں خیرکثیر کی نوید سنادی ہے۔ عورت واپس بھی آسکتی ہے لیکن زبردستی سے ساتھ رکھنے کے نقصانات سے بچت میں بھی خیر کثیر ہی ہے۔

میڈیا کوخلع کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھا! _ ایک ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ” اسلام میں عورت کے حقوق پر” ایک بڑی کتاب لکھی ہے۔ جس میں زمینی حقائق اور کتابی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ایک شخص نے40ہزار میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ اس شخص کو لواطت کی علت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ اس نے خلع دینے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے50ہزار میں خلع لینے کی بات رکھی تو اس شخص نے طلاق دیدی تھی”۔ اگر خلع کے اسلامی تصور کو ملیامیٹ کرکے علماء کے تصور کو اسلام قرار دیدیا جائے تو اس کو مرد حضرات اپنا کاروبار بھی بناسکتے ہیں اسلئے کہ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور وہ حق مہر سے زیادہ رقم وصول کرنے کا مطالبہ کریںگے جس میں عورتیں مجبور ہوکر ان کے مطالبات خلع میں بھی پوری کریں گی۔ عورت مارچ والوں نے اگر اسلام کی درست تعلیمات کو سمجھ لیا تو پوری دنیا کی خواتین ہمارے دین کو اپنے لئے سب سے بڑا ہتھیار قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گی۔ این جی اوز کیلئے کام کرکے پیسے بٹورنے والی خواتین نہیں چاہتی ہیں کہ یہ استحصالی نظام ختم ہو اسلئے کہ ان کا دانہ پانی بھی پھر بالکل ختم ہوجائیگا۔ مخلص علماء کرام اور مفتیان عظام اپنے مدارس اور مساجد سے اسلام کی درست تبلیغ شروع کریں تو تمام مذہبی، ریاستی، سیاسی ، قومی، علاقی، لسانی اور عالمی استحصالی طبقات سے چھٹکارا ملنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ یہ کوئی جیت نہیں ہے کہ نیٹو اور امریکہ مل کر افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کو ملیامیٹ کرکے چلے جائیں اور پھر کہیں کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے لیکن افغانیوں کو افغانیوں سے ہی لڑانے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس میں ہم ناکام ہوگئے ہیں اور افغانستان کے بہت سارے مالی اثاثے بھی منجمد کردیں کہ ہمارا حق ہے اور تم نااہل ہوگئے ہو۔ پاکستان کے مخلص علماء کرام ومفتیان عظام کو سب سے پہلے علمی بنیادوں پر ایک عالمگیر انقلاب کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور پھر افغانستان میں اس کو عملی جامہ بھی پہنانا ہوگا۔ طالبان زبردستی سے دین کے نفاذ کی جگہ ان مسائل کو اجاگر کرنا شروع کردیں جن سے خواتین کو ان کے حقوق مل جائیں تو مغرب میں بھی آواز اٹھے گی کہ خواتین کو افغانستان کی طرح حقوق دینے ہوں گے۔ جب میاں بیوی اکٹھے رہتے ہیں تو ایک قالب دو جان ہوتے ہیں مگر جب جدائی کا مسئلہ آتا ہے تو بیشمار طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر عورت کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کا حق مل جائے تو پھر شوہر بیگم پر مظالم کا تصور بھی چھوڑ دے گا۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شوہرو بیوی دونوں کو طلاق کا حق ہوتا ہے اور دونوں کی جائیداد بھی جدائی کے بعد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے لیکن اسلام نے حق مہر صرف مرد پر فرض کیا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو پھر آدھا حق مہر دینا فرض ہے۔ اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر فرض ہے اور جو کچھ بھی دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حرام ہے، چاہے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی اشیاء عورت سے واپس لینا حرام ہیں۔ رہائشی گھر بھی عورت ہی کا حق ہے لیکن خلع کی صورت میں عورت کو گھر اور غیرمنقولہ جائیداد سے دستبردار ہونے کی قرآن وسنت میں وضاحت ہے۔ اگر مغرب کو پتہ چل گیا کہ علماء ومفتیان ہی نے اسلام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اصل اسلام اس کے سامنے آجائے تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی نظام کی مخالفت کریں بلکہ مغرب بھی اسلام کے اصلی معاشرتی نظام اور خواتین کے حقوق پر افغانستان وپاکستان سے نہ صرف اتفاق کریگا بلکہ اس کو اپنائے گا بھی ۔ انشاء اللہ العزیز۔دیکھئے… بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سندھی، مہاجر، پختون، بلوچ، پنجابی، شیعہ سنی، متعہ، حلالہ، طلاق اور خلع کے اختلافات پر دلائل سے بھرپور سید عتیق گیلانی کی تحریر۔

Written by Syed Atiq Gilani, full of arguments on the differences between Sindhi, Muhajir, Pakhtun, Baloch, Panjabi, Shia Sunni, Muta, Halala, divorce and khula.

سندھی، مہاجر، پختون، بلوچ، پنجابی ، شیعہ سنی، متعہ، حلالہ، طلاق اور خلع کے اختلافات پر دلائل سے بھرپورسید عتیق گیلانی کی تحریر

بقیہ صفحہ 2 اور ___3

صفحہ نمبر1اور صفحہ نمبر4کے بہت سارے مسائل کا مختصر تشفی بخش جواب دینے کی کوشش صفحہ نمبر2 ،3پر کروں گا۔ ”جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی” علامہ اقبال نے سچ فرمایا تھا۔ پاکستان بننے کے73سال بعد بھی ہماری سیاست اور دین کے شعبے جدا جدا ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی نے ہندوازم کی بنیاد پر مسلمانوں اور اقلیت کا بیڑہ غرق کرکے چنگیزیت کا آغاز کردیا ہے۔ افغانستان میں طالبان ایک ایسے سنگم پر کھڑے ہیں کہ ان کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ دنیا کیساتھ چلیں یا دین پر چلیں؟۔پاکستان میں مذہبی اور سیاسی طبقات بھی اپنا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔عوام کو مایوسی سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی روح ہے اور اسلام کے جسم میں روح بیدار ہوسکتی ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خلع واقتدارمیںبہت بڑا اشتراک_
حضرت آدم و حواء سے لیکر قیامت تک آنے والے ہرانسانی جوڑے میں مرد عورت کا نگہبان اور محافظ ہے۔ جب کوئی مرد کسی عورت سے نکاح کرلیتا ہے تو پھر شوہر اپنی بیگم کو اپنے نکاح سے نکلنے کو اپنی بہت بڑی توہین سمجھتا ہے۔ جب مرد اپنی مرضی سے طلاق دیتا ہے تو عورت کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے اس کے بھائی، بھتیجے،رشتہ دار، دوست، پڑوسی اور دشمن سے نکاح کا ناطہ جوڑنے پر بہت سیخ پا ہوتا ہے اور غیرت کھاتا ہے۔ ایسے میں قرآن کا یہ حکم اس کو کہاں ہضم ہوگا کہ عورت اپنی مرضی سے اپنے شوہر سے بخیر وعافیت خلع لیکر کسی اور سے نکاح کی جرأت کرسکتی ہو؟۔ پاکستان کی خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر خاور مانیکا سے خلع لیکر وزیراعظم عمران خان سے نکاح کیا تو بشریٰ بی بی کی اولاد سے میڈیا کے اینکر پرسن تک پورا پاکستان ہل کر رہ گیا تھا۔ جیو نیوزکے تحقیقاتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ”یہ شادی عدت کے اندر ہوئی ہے”۔ حالانکہ طلاق اور خلع کی عدت میں بہت فرق ہے اور یہ فرق کیوں ہے؟۔ اس کا بھی موقع مل جائے توتفصیل سے بتادیتا ہوں۔ عمران خان نے اور کچھ کیا یا نہیں کیا لیکن بشریٰ مانیکا سے خلع کی بنیاد پر شادی کرکے مدینہ کی ریاست کا ایک حکم زندہ ضرور کردیا ہے۔
جس طرح کوئی ریاست اپنی کسی زمین کے ٹکڑے سے دستبردار نہیں ہوسکتی ہے اور کوئی حکمران اپنا اقتدار نہیں چھوڑ سکتا ہے، اسی طرح کسی شوہر کیلئے عورت کو خلع دینا بہت مشکل کام ہے۔ ریاست پاکستان نے بنگلہ دیش سے اس وقت ہی دستبرداری اختیار کی جب اس کے دشمن بھارت کے سامنے93ہزار پاک فوج نے جنرل نیازی کے کہنے پر ہتھیار ڈال دئیے۔ نیازی ایک غیرتمند قوم ہے مگر جنرل نیازی کی وجہ سے اتنی بدنام ہوگئی کہ عمران خان جیسا انسان بھی نیازی لکھ کرشرم محسوس کرتا ہے۔ بشریٰ مانیکا کی خلع کے بعد شاید مانیکا لکھنے پریہ خاندان شرم محسوس کرے۔ اگر بنگلہ دیش نے بشری مانیکا کی طرح آسانی کیساتھ آزادی حاصل کی ہوتی تو پاکستان اور بنگلہ دیش دوجڑواں بھائیوں کی طرح ہوتے۔
ہندوستان و پاکستان انگریز سے جمہوری انداز میں ایک ساتھ آزاد ہوئے، ان دونوں ریاستوں کو دوجڑواں بہنوں کی طرح محبت سے رہنا چاہیے تھامگر برطانیہ نے مسئلہ کشمیر سے دونوں میں سوکناہٹ پیدا کی۔ ”لڑاؤاور حکومت کرو” کی پالیسی آخری دَم تک انگریز نے نہیں چھوڑی۔ آج بھی امریکہ اور یورپ نے یہ پالیسی اختیار کرنی ہے کہ برصغیر پاک وہند میں جنگ وجدل کا ماحول پیدا کرکے ہماری سستی اناج اور دیگر وسائل پر قبضہ کرلے اور اپنے اسلحہ کے ذخائر ہم لوگوں کو فروخت کرکے اپنے منافع بخش کاروبار کو زیادہ سے زیادہ ترقی پر پہنچائے۔
اگر گھر میں بیوی خوش نہ ہو تو بھاگ کر جانے اور روکنے سے یہ اچھاہے کہ اس کو خوش اسلوبی کیساتھ ہی رخصت کردیا جائے۔ اگر وہ بری لگتی ہے تو ہنگامے مچانے اور دشمنی کی راہ اپنانے کے بجائے رخصتی میں ڈھیر سارے خیر ہیں۔

بانیانِ پاکستان کی اولاد سے عرضی!_
کراچی و حیدر آباد میں بانیانِ پاکستان کی اولادیں رہتی ہیں۔ انیس قائم خانی اور عامر خان کی ایکدوسرے کیخلاف سوشل میڈیا پرویڈیوز تشویشناک ہیں، پہلے بھی متحدہ اور حقیقی کے نام پر لڑائیاں ہوئی ہیں میں وزیرستان کا باشندہ ہوںلیکن اپنے گھر میں اپنے بچوں کیساتھ اپنے علاقے میں بھی اسلئے اردو بولتا تھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اگرچہ آج تک بدقسمتی سے اس کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں مل سکا ہے، جب متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی تو پختونخواہ حکومت نے اردو کو سرکاری زبان دینے کا درجہ دیا تھالیکن اردو اسپیکنگ مہاجر پرویزمشرف نے اپنے نالائق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اردو کو پختونخواہ کی سرکاری زبان نہیں بننے دیا۔ حالانکہ افتخار چوہدری خود بھی انگریزی نہیں بول سکتا تھا۔
قوم کی امامت کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پہلے اپنے جسم سے نکلنے والے گند کی جگہ استنجاء کرکے صاف کرلیں۔ قائداعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان نے پاکستان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن اگر وہ پاکستان ہجرت کرکے آنے کی بجائے بھارت میں رہتے تو اصولی طور پر زیادہ اچھا ہوتا۔ ہجرت کے دوران جتنے لوگ اپنے علاقے، وطن، گھروں، خاندانوں ، جانوں، مالوں اور عزتوں سے محروم ہوئے ہیں ، ان سب کی ذمہ داری ان کے سر ہے۔ قائداعظم کی ایک بیٹی دینا جناح تھی جس نے اپنے کزن کیساتھ ہندوستان میں بھاگ کر شادی کی۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم راعنا لیاقت علی خان ہماری فوج میں اعزازی جنرل بن گئی تھی۔ لیاقت علی خان اور محمد علی جناح کے بعد بیگم راعنا لیاقت اور فاطمہ جناح ان کا کل اثاثہ اور باقیات تھیں۔ جنرل ایوب خان کے قبضے سے پہلے ہی پاکستان پر جن لوگوں کا قبضہ تھا وہ کونسے جمہوری تھے؟لاہور کی عدالت میں جج لاہور کے ڈپٹی کمشنر سے کہتا ہے کہ” عدالت میں شلوار قمیض پہن کر مت آیا کرو یہ عدالت کی بے حرمتی ہے”۔ ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، نواز شریف اور عمران خان تک مقتدر طبقات نے شلوار قمیض کو رائج کردیا ہے لیکن ہماری عدالت کے جج کو اب بھی شلوار قمیص محکوم اور جاہل قوم کی نشانی لگتی ہے۔
پختون، پنجابی، بلوچ ، سندھی اور سرائیکی اپنا اپنا کلچرل لباس رکھتے ہیں مگر ہمارے مہاجر بھائیوں کا مشترکہ کلچر پینٹ شرٹ تھا اور یہ ان کا اپنا کوئی دیسی کلچر نہیں تھا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد جس طرح انہوں نے اپنے وطن کی قربانی دی ،اسی طرح سے اپنے کلچر کی بھی قربانی دی۔ البتہ انگریز کے بعد اقتدار انکے ہاتھ میں آیا تھا اور اپنے ساتھ ساتھ پوری قوم کے کلچر کو بھی اپنے ساتھ ڈبو دیا۔ ان کی اکثریت آج بھی اپنے گھروں اور خاندانوں میں مارواڑی، گجراتی، میمنی، بہاری، بندھانی،کچھی اور دیگر چھوٹی چھوٹی زبانیں بولتی ہیں اور اکثریت کواردو بھی ڈھنگ کی نہیں آتی ہے۔ اردو کو واحدقومی زبان کادرجہ دینے کے بعد بنگلہ دیش مشرقی پاکستان کی دراڑ وسیع ہوگئی۔ حالانکہ ہندوستان میں22زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل تھااور مزے کی بات یہ ہے کہ قائداعظم کو بھی اردو نہیں آتی تھی۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، قادیانی ، جماعت اسلامی ، شدت پسند شیعہ اور ہندو مسلم تعصبات سب مذہبی ہندوستان سے پاکستان میں منتقل ہوئے ہیں۔ پہلے سندھ کے وڈیروں، بلوچستان کے نوابوں، پنجاب کے چوہدریوں اور سرحد کے خانوں کے مظالم کی بات ہوتی تھی لیکن متحدہ قومی موومنٹ کے کان کٹوں نے تشدد وانتہاء پسندی میں نام پیدا کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کراچی پاکستان اور حیدر آباد سندھ کا دارالخلافہ تھا اور ہندوستانی مہاجر کی طرح دوسرے پاکستانی پختون، پنجابی، بلوچ اور سندھی کا بھی اس پر پورا حق تھا لیکن مہاجر نے سمجھ لیا کہ کراچی وحیدر آباد کو کاندھے پر لاد کر ہندوستان سے لایاہے۔ جب اپنے وطن کی قربانی دیدی تو حب الوطنی کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟۔ ذرا سوچئے!

سندھی مانڑوں سے کچھ گزارشات!_
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سے آج تک لاڑکانہ مختلف ادوار میں اہل اقتدار کا شہر ہے لیکن اس کا حلیہ اتنا ہی بگڑا ہوا ہے جتنا سندھی وڈیروں نے غریب سندھی کا بگاڑ رکھاہے۔ ہندوستان کی مشہور ، ہردلعزیز، فطرت کی ترجمان شاعرہ لتا حیاء متعصب ہندوؤں سے کہتی ہے کہ مسلمان صبح اُٹھ کر وضو سے اللہ کی بارگاہ میں عبادت کرتا ہے ، تم بھی ذرا اپنا منہ دھو لو۔ حروں کے پیشواء سندھ میں تھے تو مجلس احرار کے قائدین پنجاب میں ۔ مولانا ظفر علی خان احرارکو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوا۔ پھر زمینداراخبار میں10ہزار روپے کے انعام کیساتھ لکھ دیا کہ ”زمانہ اپنی ہر کروٹ پہ ہزاروں رنگ بدلتا ہے” کہ اگر کسی نے اس شعر کا دوسرا موزوں مصرعہ لکھ دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بات پہنچی تو برجستہ کہہ دیا کہ ”مگر اس کو بھی حسرت ہے کہ گرگٹ ہو نہیں سکتا”۔
اگر ہندوستانی مہاجراور دیگر صوبوں سے بلوچ، پختون اور پنجابی نہ آتے تو سندھ کے دوسرے شہروں کی طرح کراچی وحیدر آباد میں بھی مچھروں اور مچھیروں کے ڈیرے لگتے۔ ترقی وعروج آنے والوں کا مرہون منت ہے۔ جب سندھی مہاجر فسادات ہوئے تھے تو ممتاز بھٹو نے انتہائی غلیظ گالی مہاجروں کو دی، جس کو اس وقت کے اخبار نے لسانی فسادات کی پرواہ کئے بغیر اپنی دکان چمکانے کیلئے شائع کیا تھا۔ بھوک سے زمانہ اپنے اقدار کے آداب بھلادیتا ہے لیکن جب ترقی ہوتی ہے تو اس سے زیادہ آداب کا پاس نہیں ہوتا۔ حلیم عادل شیخ نے کسی کو کانوں کان خبر نہ دی لیکن جب دعا بھٹو نے اپنے نومولود کو اس کی طرف منسوب کردیا تو سندھ کا کلچر بھی بدل گیا۔ چھپ کے شادی کرنے اور دوسروں پر تنقید کے نشتر برسانے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا جارہاہے کہ بہن بھائی میں شادی ہوگئی۔ جب شہباز شریف نے تہمینہ درانی سے شادی رچائی تھی تو پنجاب کے صحافی اطہر عباس نے پرویزمشرف کے دور میں ایک ساتھ جہاز میں آنے پر غلام مصطفی کھر اور شہباز شریف کے باہمی رشتے کابڑا مذاق اُڑایا تھا۔ پھر وہ دن بھی پنجاب نے دیکھ لیا کہ خاور مانیکا اور عمران خان میں خوشگوار طریقے سے اس سے زیادہ بڑی خبر سامنے آگئی۔ زمانے کی کروٹ کیساتھ لوگوں میں بھی تبدیلوں کا آنا بہت ناگزیر ہے۔ یہ شکر ہے کہ ہندوستانی مہاجروں کی وجہ سے بہت تیزی کیساتھ پاکستان کے مقامی لوگوں نے تبدیلی دیکھ لی ،ورنہ تو دنیا کے اثرات ہم نے پھر بھی قبول کرنے تھے۔ لاؤڈ اسپیکر پر آذان اور نماز کو حرام قرار دینے والے مولانا اشرف علی تھانوی کے پیروکار دارالعلوم کراچی میں مریدوں کو کہتاتھا کہ ”شادی بیاہ میں لفافے کے لین دین سود ہے جسکا کم ازکم گناہ سگی ماں سے زنا کے برابرہے”۔ اس پر مفتی شفیع کے داماد اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے بہنوئی مولانا عبدالرؤف سکھروی کی کتابیں ہیں۔ آج سالے ایسے بدل گئے کہ سندھی داماد تصویر تک نہیں کھینچواتا مگر سالوں نے عالمی سود کو جائز قرار دیا۔

پختون بھائی خوگر حمد سے گلہ سن لیں _
ہم نے مان لیا کہ پاکستان میں خرابی کی اصل جڑ راجہ رنجیت سنگھ سے پنجابی انگریزی فوج تک پنجاب کی قوم ہے۔ پختون، بلوچ، سندھی، مہاجر، سرائیکی، گلگت وبلتستانی اور کشمیری سب کے سب مظلوم ہیں۔ پنجابیوں نے پاکستان کے تمام صوبوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔ انگریز سے آزادی کے بعد پوری قوم پنجاب کی غلامی میں آگئی ہے۔ سرائیکیوں کو وعدوں کے باجود اپنا صوبہ نہیں دیتے ہیں، مہاجروں کو پیپلزپارٹی کے خلاف اٹھاکر بدمعاشوں کو ان پر مسلط کردیا اور پھر ان کا بیڑہ بھی منتشر کرکے غرق کردیا۔ سندھ کو پانی سے محروم کرکے بنجر بنادیااور کوئی نہ کوئی کتا ان کے اقتدار کے پیچھے ہمیشہ لگائے رکھا۔ کراچی میں رینجرزکو مسلط کیا اور اپنے مفادات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سندھ پولیس کو اپنی مہمان مریم نواز کا دروازہ توڑنے پر احتجاجاً ڈیوٹی چھوڑ ہڑتال تک پہنچنا پڑگیا۔ بلوچوں کے وسائل پر قبضہ کرکے ان کی نسلوں کو تباہ کردیا۔ افغان جنگ اور امریکی جہاد سے پختونوں کا لر اور بر میں بیڑہ غرق کردیا۔ پنجاب اور فوج پر جتنی بھی لعنتیں بھیجنا چاہتے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں۔ اب تو اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار مسلم لیگ ن بھی حبیب جالب کی زبان میں پنجاب کو جگانے اور فوج کے خلاف بہت تندوتیزی کیساتھ اپنے پتے کھیل رہی ہے۔ صحافیوں کو بھی مواقع مل گئے ہیں کہ اپنے ان جذبات کا کھل کر اظہار کریں جن کو اپنے سینوں میں پالتے تھے۔ حبیب جالب کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات کی اللہ نے سزا دی ہے کہ اس نے شراب پر پابندی لگادی جو واحد وسیلہ تھا کہ جیل کی قیدوبند اور کوڑوں کی سزاسے بے نیاز ہوکر انسان جابر حکمرانوں کے سامنے حق کہہ سکتا تھا۔ حبیب جالب کو نبیۖ کی طرف سے مولانا عبدالستار خان نیازی نے سلام بھی پہنچایا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ حبیب جالب بھی میانی پٹھان تھا جسکا باپ فٹ پاتھ پر جوتے گانٹھتا تھا اور اس کا تعلق غفار خان اورولی خان کی پارٹی سے تھا جو حق کی آواز اٹھاتے تھے۔
لر اور بر کے پختون بھائیوں سے صرف اتنا عرض ہے کہ جس طرح پنجاب کی پاکستان میں حیثیت ہے وہی حیثیت افغانستان میں ازبک، تاجک، ہزارہ اور دیگر چھوٹی قومیتوں کے مقابلے میں پختونوں کو حاصل ہے۔ افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کیساتھ بچہ سقہ اور اپنے کزن نادر خان نے جو سلوک کیا تھا جو ظاہر شاہ کا باپ تھا۔نادر شاہ، ملاشور بازاراور شیر آغا سے پختونوں کی تاریخ شروع کریں، نجیب اللہ و ملاعمر سے ہوتے ہوئے اشرف غنی و ملا ہیبت اللہ تک یہ سب پختون ہیں۔ پنجابیوں نے پاکستان سے وہ سلوک کیا جو پختون وہاں پر دوسری قوموں کیساتھ کررہے ہیں۔ کبھی شیعہ ہزارہ قتل وغارت سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ کبھی اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ کبھی بیرونی قوتوں کی مداخلت کے حق اور مخالفت میں افغانستان کا کباڑہ کردیا اور کبھی اسلام اور سوشلزم و کمیونزم کے جھنڈوں پر ایکدوسرے کیخلاف لڑے۔ بلوچ اگر اپنے وسائل کا رونا روتا ہے تو وہ کسی دوسرے کے علاقے میں بھی نہیں جاتا ہے ، سندھی بھی اپنے علاقے سے نہیں نکلتا ہے۔ پختونوں کے پاس اپنے وسائل ہوتے تو پاکستان کے کونے کونے میں ہر نکڑ پر پختون اپنا روزگار کرتے ہوئے کیوں دکھائی دیتے؟۔ پاکستان قرضے لے لے کر مرگیا لیکن پختون قوم کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز جاری ہوتے ہیں۔ ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی سرائیکیوں کے شہر تھے لیکن پختونوں نے اس پر اپنا قبضہ جمالیا ہے۔ مضافات کی غریب سرائیکی بولنے والی آبادی اب بھی زندگی کی تمام سہولیات سے محروم ہے اور اگر قوم پرستی کے جذبات کو ابھارا جائے تو پورے پاکستان سے پختونوں کے دھکیلنے اور اپنے علاقوں تک سمیٹنے کے ذمہ دار یہی قوم پرست ہونگے۔ امریکہ کی چاہت ہے کہ اس خطے میں قوم پرستی کی بنیاد پر اسلحے کی خریداری کو فروغ ملے۔

بلوچستان کے بلوچوں سے گزارش!_
بلوچ ایک عزتدار، اپنے اقدار اور اپنی روایات میں منفرد قوم ہے۔ جب پاکستان کی دوسری قوموں میں ڈرامے، فلمیں اور اسٹیج ڈانس کی بہتات تھی توپھر واحد بلوچ قوم نے بلوچی فلم کی وجہ سے کراچی میں سینما کو آگ لگادی تھی حالانکہ اس میں سارے کردار دوسری قوم کے ایکٹروں نے ادا کئے تھے۔بلوچ قوم نے اپنی آزادی کیلئے جو تاریخ رقم کی ہے اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچ قوم کی اکثریت پارلیمنٹ، سرکار ی ملازمین اور حکومت سے لڑنے کا موڈ نہیں رکھتی ہے۔ ایسے میں جب قوم دو حصوں میں تقسیم ہو تو اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔جب سکول ٹیچرز،مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کو نشانہ بنایا جائے تو ہمدردی رکھنے والوں کی ہمدردیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ قوم کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں لیکن ان کی اُلٹی سیدھی حرکتوں کی وجہ سے عوام میں ان سے بہت نفرت کی فضاء بن گئی۔ بلوچ سرماچاروں سے بھی بلوچ عوام کو بڑی ہمدردیاں تھیں لیکن ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے وہ اپنا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔
کسی ملک کی فوج اور عوام کے سامنے جب کسی کو دشمن نامزد کیا جائے تو پھر معاملہ بالکل مختلف بن جاتا ہے۔ بلوچ قوم پرست اورTTPنے جب پاک فوج کو اپنا دشمن قرار دے دیا تو پھر فوج نے بھی ان کے ساتھ دشمنوں والا سلوک روا رکھا اور جب دو دشمنوں میں لڑائی ہوتی ہے تو اکثر وبیشتر کمزور کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کوئی درست سیاسی قیادت نہیں ورنہ فوج کیساتھ کسی کی دشمنی تک بات پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آسکتی تھی۔ کراچی پورٹ سے لاہور اور پورے پنجاب تک ریلوے لائن اور قومی شاہراہ موجود تھی۔چین سے بھی لاہور اور پنجاب موٹروے کے ذریعے جڑا ہوا تھا۔ گودار کوئٹہ اور پشاور کے ذریعے بھی لاہور اور پنجاب سے جڑا ہوا تھا۔ آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر کوئٹہ اورپشاور کے راستے گلگت سے گوادر تک موٹر وے افتتاح کیا، جو چین کیلئے بھی سب سے مختصر راستہ اور صراط مستقیم کی مانند سیدھا تھا۔ لاہور کیلئے بھی بھول بھلیوں کے مقابلہ میں یہی راستہ ہر لحاظ سے مختصر اور اچھا تھا لیکن نواز شریف نے گوادر سے آواران اور سکھر ، ملتان اور لاہور کی طرف موڑ دیا جو بالکل بھول بھلیاں ہیں۔ آواران میں ڈاکٹر اللہ نذر کی وجہ سے بلوچوں کے گاؤں بھی ایف سی والے پختونوں سے گرادئیے گئے۔ یہ وہ نوازشریف تھا جس نے لاہور کو نوازنے کیلئے گوادر سے کوئٹہ اور پشاور کو محروم کردیا اور چین کے سی پیک کو بھی نقصان پہنچایا۔ مغربی روٹ کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ راستہ بہت مختصر تھا ، پیٹرول کی بچت، وقت، ماحولیاتی آلودگی اور دھند سے بچت تھی ۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ کوئٹہ کو محروم کرکے لاہور کو نوازنے کی بات نہ آتی کیونکہ نوازشریف بلوچستان کی سوئی گیس سے پنجاب کو نوازنے کی بات کرکے بلوچوں کی ہمدردیاں لیتا تھا۔ تیسرا فائدہ یہ تھا کہ ایف سی اہلکاروں کو خونخوار بناکر بلوچوں کو مزید ناراض نہ کیا جاتا۔

پنجابی بھائیوں سے کچھ گزارشات! _
جب کراچی میں ایم کیوایم اور پختونوں کے جھگڑے چل رہے تھے تو علماء نے دونوں طرف کے نمائندوں کو بلایا تھا۔ پختون رہنماؤں نے علماء سے کہا تھا کہ جب ہمیں مارا جارہا تھا تو تم خاموش تھے اور اب جب ہم نے مارنا شروع کیا ہے تو تمہیں اسلامی بھائی چارہ یاد آگیا۔ ان دنوں لسانیت کی ہوائیں چل رہی تھیں۔ مفتی منیر احمد اخون(سوشل میڈیا پرمفتی اعظم امریکہ) مولانا محمد یوسف رحیم یار خان اور مولانا عبدالرؤف کشمیری ہماری جماعت میں پڑھتے تھے۔ طلبہ جمعرات کو اپنی کلاس کی انجمن بناکر تقاریر سیکھنے کی مشق کرتے تھے۔ عبدالرؤف کشمیری نے انجمن کا نام مولانا انورشاہ کشمیری کے نام پر رکھوایا۔ میں نے اس کی مخالفت کی اسلئے کہ لسانیت کی فضا میں ایک کشمیری کا دوسرے کشمیری سے رشتہ تو صرف لسانیت کو ہوا دینے والی بات تھی، میں نے مولانا اشرف علی تھانوی کے نام کی مہم چلائی۔ اساتذہ نے بزم قاسم نانوتوی رکھ دیا جو دونوں کے استاذ تھے۔ منیر احمد اخون کو جنرل سیکرٹری اور عبدالرؤف کشمیری کو بزم کا صدر بنادیا۔ میں نے بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی اور ان کو سرکاری مسلم لیگ قرار دیکر مسترد کیا اور ہر کچھ عرصہ کے بعد کنوینر بدلتا رہا۔آخری وقت تک سرکاری مسلم لیگ درسگاہ میں نہ آسکی۔ جب کتابیں ختم ہونا شروع ہوئیں تو مفتی منیراحمد اخون وغیرہ نے طلبہ سے دس دس روپے لیکر مٹھایاں بانٹنا شروع کردیں۔ جس پر پختون طلبہ نے مولانا عبدالسلام ہزاروی وغیرہ کی سرکردگی میں اپنی ایکشن کمیٹی بنائی اور میرے علم میں لائے بغیر مجھے اس کا سربراہ بھی بنادیا۔ جب انجمن میں میرا نام پکارا گیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کیونکہ اس سلسلے میں کچھ معلومات بھی نہیں تھی لیکن لسانی فضا سے متأثر ہونے پر بڑا دکھ ہوا۔ میں نے تقریر میں کہا کہ پاکستان میں صوبہ سرحد سے ہمارا تعلق ہے لیکن سرحد غیرملک اور اپنے ملک کی اس لکیرکو کہتے ہیں جو اپنی نہیں ہوتی ۔ صوبہ سرحد میں قبائلی پٹی کو علاقہ غیر کہتے ہیں۔ اس میں بھی اپنائیت نہیں ہے۔ قبائلی علاقہ میں وزیرستان سے ہمارا تعلق ہے اور وزیرستان میں وزیر اور محسود ہیں۔ وزیر ہمیں محسود سمجھتے ہیں۔ محسود ہمیں محسود نہیں برکی سمجھتے ہیں اور برکی ہمیں غیر برکی پیراور سید سمجھتے ہیں۔ میں تو اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر سب کیلئے غیر ہی غیر ہوں۔ پھر لسانی بنیاد پر اشتعال کو ختم کردیا اور منیر احمد اخون وغیرہ سے بھی کہہ دیا کہ ان کے جذبات کی ترجمانی کیلئے کسی کو ساتھ رکھتے۔اس نے کہا کہ مجھے بالکل یہ احساس بھی نہیں تھا کہ ان کے جذبات مجروح ہونگے اور آئندہ خیال رکھوں گا۔ پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور اب عمران خان کو مسلط کیا ہے لیکن ملک کی دیگر قومیتوں کے علاوہ پنجابیوں کی جان، مال اور عزت کو بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ بدمعاش طبقہ کوٹ کچہری کے مسائل کیلئے سیاسی جماعتوں کی پناہ لیتے ہیں اور قبائلی علاقہ جات سے سیٹل ایریا کا حال ہرلحاظ سے بہت بدتر ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جس طرح کوئی سیاسی پارٹی اپنے بدمعاش مافیا کے بغیر نہیں چل سکتی ہے ،اسی طرح اسٹیبلشمنٹ نے بھی مذہبی تنظیموں اور دہشتگردوں کو حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے مجبوری میں پال رکھا تھا۔PTMکو جب اپنی قوم اور اس کے بڑے چھوڑ کر گئے تھے اور وہ حوصلہ ہار چکے تھے تو میں نے اسٹیج سے ”یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” کے خوب نعرے لگوائے تھے۔اسلئے پھر منظور پشتین اور دیگر رہنماؤں نےGHQکی کال پر وہاں حاضری دی تھی۔ میں نے کہاتھا کہ ریاست نے بھٹو، نوازشریف اور عمران خان جن لاڈلوں کو پالا ، یہ کورٹ میرج والی بیٹیاں ہیں جو اپنے والدین کی تذلیل کرتی ہیں۔ قبائل پر اتنی مشکلات گزری ہیں ، انہوں نے آج تک اُف بھی نہیں کی۔ قائداعظم ،لیاقت علی خان، محمد علی بوگرہ جو بھی حکمران تھے، قبائل نے پاکستان کو قبول کیا جو مغل اور انگریز کے سخت مخالف رہے ہیں۔

رعایا اور عورتوں کے اسلامی حقوق_
اسلام نے دنیا میں فتوحات اسلئے حاصل نہیں کی تھیں کہ مسلمان حکمرانوں نے دوسری دنیا کے مقابلے میں کوئی جدید سے جدید ٹیکنالوجی میں کمال پیدا کیا تھا بلکہ رعایا اور عورتوں کے مثالی حقوق نے دنیا میں اسلام کو پھیلنے کا موقع دیا تھا لیکن افسوس کہ طلاق اور خلع میں جس طرح عورت کا گلہ گھونٹ دیاگیا، اس کے مقابلے میں مغرب اور دیگر دنیا مسلمانوں سے بہت بہتر ہے۔ اسی طرح رعایا کو اسلام نے جو حقوق دئیے تھے تو اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی تھی ۔ قرآن کا کمال یہ تھا کہ مذہبی معاملے میں ایک خاتون نے نبیۖ سے مجادلہ کیا جس کا ترجمہ قائداعظم کا نمازِ جنازہ پڑھانے والے شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی اور ان کے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن اور شاہ ولی اللہ اور انکے صاحبزادوں نے ”جھگڑا کرنے ” سے کیا ہے۔ جس میں رسول اللہ ۖ کی رائے کے برعکس وحی اس عورت کے حق میں اللہ نے نازل فرمائی تھی۔ نبیۖ مذہب اور اقتدار میں مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ قابلِ قبول حیثیت رکھتے تھے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ النبی اَولیٰ بالمؤمنین من انفسھم ”نبی مؤمنوں کیلئے اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیت رکھتے ہیں”۔ اسلامی احکام میں فرض، واجب اور سنت کے علاوہ اَ ولی اور غیر اَولی بھی ہوتے ہیں جس کا مطلب مقدم اور غیرمقدم ہے۔ تقدیم کی حیثیت اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کی اسلئے مؤمنوں سے منوائی تھی کہ جب ایک عورت نبیۖ سے مجادلہ کرتی ہے تو اگر وہ مناسب اور غلط ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور قرآن کے ذریعے سے قیامت تک کے انسانوں کیلئے نمونہ کے طور پر انسانوں کی رہنمائی کیلئے بہترین مثال بناکر رکھ دیتے ہیں کیا کسی ملک اور قوم میں ایک عورت اور حکمران کے مقابلے میں اپنی رعایا کو یہ حق حاصل ہے کہ اس طرح ایک ادنیٰ درجے کی نامعلوم عورت کے حق میں اس طرح سے کوئی فیصلہ ہوجائے؟۔ اسلام کی یہ روح مردوں اور حکمرانوں میں ناپید ہوچکی ہے۔
غدیر خم کے موقع پر نبیۖ نے درجہ بالا آیت پڑھ کرعلی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں رکھ کر اعلان فرمایا کہ من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ ”جس کا میں مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنے باپ مفتی محمد شفیع کا بتایا تھا کہ ہمارے اساتذہ کے استاذ شیخ الہند کو مولوی کہا جاتا تھا لیکن جب مولانا اور بڑے بڑے القاب رکھنے والے میں علم نہیں ہے اور ان میں علم تھا۔ عربی میں ”نا ” جمع مذکر کی ضمیر ہے جس کا مطلب ”ہمارا” ہے۔ مولا کو مولانا کہنے کا مطلب ہمارا مولا ہے۔ حضرت علی وہ شخصیت تھے کہ جن کونبیۖ نے خود صحابہ کرام کیلئے اپنے دور میں ”مولا” کا خطاب ہی نہیں دیا بلکہ سب سے مقدم ہونے کی تلقین ہونے کی آیت کے حوالے سے اس کی تفسیر بھی بنادیا تھا۔
نبیۖ نے حدیث قرطاس میں چاہا کہ امت آپۖ کے بعد گمراہ نہ ہو جائے لیکن حضرت عمر نے کہہ دیا تھاکہ ”ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔

شیعہ سنی اختلاف اور اس کابڑا حل_
شیعہ اپنے وجود کو سنیوں کی احادیث کی کتب، قرآن کی تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں کے حوالے سے نہ صرف زندہ رکھ سکتے ہیں بلکہ بہت سارے سنیوں کو بھی اپنے دل وجان اور عقل ودماغ سے اپنا ہمنوا بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شیعہ ماحول کو دیکھ کر نرم یا گرم رویہ اختیار کریں لیکن ان کو پورا پورا اعتماد ہے کہ حق پر وہی ہیں۔ سنی اگر مقابلے میں یزید سے لیکر مغل بادشاہ اورنگزیب تک بادشاہی نظام کی حمایت کریںگے تو ہار جائیںگے۔ احادیث، تفسیر اور تاریخ کی بات کا بھی سنیوں کو اُلٹا نقصان ہی ہوگا۔ سوشل میڈیا کو ڈنڈے کے زور پر روکنا ناممکن ہے اور اب یہ معرکہ زور وزبردستی نہیں بلکہ علم وفہم اور اچھی خصلت سے حل ہوگا۔
جب بریلوی دیوبندی اکابر کے مطابق حضرت عمر نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو ” مولا” قرار دئیے جانے پر آپ کو مبارکباد بھی دی تو شیعہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ حدیثِ قرطاس کی بنیاد پر حضرت عمر کی بھرپور مخالفت بھی کریں۔ پروفیسر حمیداللہ سنی اسلامی دنیا کے بہت بڑے اسکالر تھے جس نے ایک پوری کتاب لکھ کر ” حدیث قرطاس” کی صحت پر مقدور بھر جان چھڑانے کیلئے بہت سے سوالات بھی اٹھائے لیکن وہ اس میں بالکل ہی ناکام ہوگئے۔ جھوٹ اور وکالت کا غلط طریقہ اہل سنت کو مزید مشکلات میں پھنسادیتا ہے۔
بہت سارے معاملات میں حنفی مسلک کے اصولِ فقہ میں احادیث صحیحہ کی بھی مخالفت ہے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے اقدامات کی بھی مخالفت ہے۔ اے کہ نشناسی خفی را،از جلی ہشیار باش ، اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش۔اقبالکی شاعری بھی امت کے کام اسلئے نہیں آئی کہ شیعان علی اور شیعانِ عمرنے اپنا اپنا گروہ بنالیا۔ سپاہ صحابہ سے پہلے مولانا سید عبدالمجید ندیم نے سپاہ فاروق اعظم کی تشکیل کی تھی۔ شاہ بلیغ الدین اور ناصبی علماء شیعہ کے مقابلے میں سپورٹ کیا جانے لگا تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی انجمن سپاہ صحابہ کا تعلق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن سے تھا لیکن ان کی شہادت کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے آئی ایس آئی نے مولانا ایثارالحق قاسمی کو نوازشریف اور جھنگ سے بیگم عابدہ حسین شیعہ رہنما کے اتحاد سے جھنگ کی سیٹ سے جتوایا۔ وزیراعظم عمران خان کی ایک کلپ سوشل میڈیا پر ہے جس میں وہARYکے کاشف عباسی سے کہتا ہے کہ ”سپاہ صحابہ کے لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہماری شیعہ سے صلح کروادو۔ آئی ایس آئی نے ہمیں ان سے لڑواکر دشمنی کروائی ہے”۔
جب اسلامی جمہوری اتحاد آئی ایس آئی نے بنائی تھی تو جھنگ سے شیعہ اور سپاہ صحابہ اتحاد کے بانی کون ہوئے؟۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام مولانا سمیع الحق گروپ پیش پیش تھے جس نے اہل تشیع اور سپاہ صحابہ کے درمیان ایک دوسرے کی تکفیر نہ کرنے کا معاہدہ کروایا تھا۔ معروضی حالات اس قدر گھمبیر تھے کہ جب ضربِ حق کے نمائندے امین اللہ کو قاضی حسین احمد سے کوئٹہ میں ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ملایا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے اپنے مضمون میں بہت تفصیل کیساتھ اپنا تجزیہ لکھاتھا کہ مولانا مسعو د اظہر کوا نڈیا کے تہاڑ جیل میں جو آزادی تھی تو وہ مجھے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں بھی حاصل نہیں تھی۔ ہر ہفتہ ضرب مؤمن میں پاکستان کے حالات حاضرہ پر بڑا مضمون چھپتا تھا ۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ بھارتی ایجنسی را اورISIکا کھیل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ یہ امریکیCIAکا گیم ہے ۔مگر جب قاضی حسین احمد سے نمائندۂ ضرب حق نے سوال پوچھا کہ شیعہ کافر ہیں یا مسلمان ؟ ، تو وہ ناراض ہوگئے کہ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھا۔ یہ اسلامی نظریاتی کونسل کے صدر کا حال تھا۔ شدت پسند شیعہ اور سنی طبقے کو سنبھالنا بہت مشکل کام ہے لیکن خلوص ، ایمان اور اللہ کی مدد سے یہ بہت آسان بھی ہے۔ اس کا علاج بندوق نہیں دلیل ہے۔

شیعہ سنی اتحاد کیلئے لاجواب دلائل؟ _
اگر یہ ثابت ہوجائے اور اس پر اتفاق ہوجائے کہ حضرت علی کو اپنے بعد نبی ۖنے اپنا ولی بنالیاتھا اورحدیث قرطاس میں حضرت علی ہی کو نامزد کیا جانا تھا تو اگر حدیث قرطاس لکھ دی جاتی اور انصار ومہاجرین نبی ۖ کے وصال فرمانے کے بعد خلافت کے جھگڑے سے بچ جاتے۔ حضرت علی ایک متفقہ مولانا بن کر مسندِ خلافت پر بیٹھ جاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ نبیۖ علم کے شہر اور حضرت علی اس کا دروازہ ہونے کیساتھ ساتھ اقتدار بھی حاصل کرتے۔ حضرت ابوبکرو عمرو عثمان سے انتظام حکومت بھی بہتر چلاتے۔ نبیۖ کو ایک شخص نے زکوٰة دینے سے انکار کیا تو نبیۖ نے اس کے خلاف قتال نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر نے قتال کیا تو حضرت عمر کو شروع میں بھی اس پرتحفظات اور وفات ہونے سے پہلے بھی فرمایا کہ کاش ہم نبیۖ سے اس مسئلے میں رہنمائی حاصل کرتے۔ اہلسنت کے چاروں اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ زکوٰة نہ دینے پر حکمران کا رعایا کے خلاف قتال کرنا جائز نہیں لیکن نماز کیلئے بعض ائمہ نے قتل کا حکم نکال کر حضرت ابوبکر ہی کا حوالہ دیا ہے جس کا احناف نے یہ جواب دیا کہ اس سے تو آپ کو بھی اتفاق نہیں ہے تو پھر اس کی بنیاد پر بے نمازیوں کو قتل کرنے کا قیاس بھی غلط ہے۔
ا س بحث کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جب نبیۖ سے ایک عورت نے مذہبی مسئلے پر اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے عورت کی بات ہی کو اسلام کا حکم قرار دیا تھا۔ اگر بالفرض حضرت علی اور باقی گیارہ ائمہ اہلبیت نے کوئی حکم جاری کیا ہوتا اور وحی کا سلسلہ بھی بند تھا تو کسی امام سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہ ہوتی تو اس کا درجہ کیا نبی ۖسے بھی بڑا تھا؟۔ اور اگر اختلاف کرنا جائز ہوتا تو پھر وحی کے ذریعے رہنمائی بھی نہیں تھی۔ پھر ایک ایسی مذہبی ڈکٹیٹر شپ کا خطرہ ہوتا جس کے ہاتھ میں اقتدار بھی ہوتا۔ پھر مجھے لگتا ہے کہ اہل تشیع کا بارہواں امام غائب اپنے مخالفین سے نہیں حامیوں سے غائب ہوجاتا۔ آج بھی اہل تشیع کا عقیدہ اور مذہبی رویہ اسلام کے مطابق درست ہوجائے تو مہدی غائب ایران میں منظر عام پر آسکتے ہیں۔ اگر حضرت خضر حضرت موسیٰ کے دور سے زندہ ہیں اور حضرت عیسیٰ بھی اپنے وقت سے زندہ ہیں تو امت محمدیہ میں یہ شخصیت بھی زندہ ہو تو اس میں عقیدے پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے تھا۔
اگر مذہبی اور سیاسی کرسی الگ الگ نہ ہوتی تو عباسی دور میں امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور امام جعفر صادق بھی اپنے مسلکوں کے امام کیسے بن سکتے تھے؟۔ شیعہ مسلک بھی اپنے آگے پیچھے کے اماموں کو چھوڑ کر فقہ جعفریہ اسی لئے کہلاتا ہے۔ اہل سنت اورشیعہ کے امام حسن نے قربانی دیکر اپنے اقتدار کو امیرمعاویہ کے حوالے کردیا تو شیعہ کلمہ و آذان بھی انکے پہلے امام علی کی ولایت تک محدود ہوگئی ۔ حضرت حسین کی شہادت کے بعد باقی ائمہ اہل بیت نے کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا کہ اپنے آپکو یا اپنے شیعوں کو لوگوں کے جذبہ اشتعال سے مروادیا ہو تو آج کے شیعہ کیلئے بھی ایسا ماحول پیدا کرنا جائز نہیں کہ اپنے لوگوں کو مروانے کیلئے دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کریں۔ جب وہ اپنے اماموں کے خلاف ذرا سی بے توقیری اور توہین آمیزی کو برداشت کرنا گوارا نہیں کرسکتے ہیں تو دوسروں سے بھی یہ توقع رکھنا چھوڑ دیں کہ وہ کسی صحابی کی توہین کو برداشت کرلیںگے۔ جب شیعہ یزید سے حضرت ابوبکر وعمر تک بھی پہنچ جاتے ہیں اور ام المؤمنین حضرت عائشہ کی شان میں بھی گستاخی کرنا ٹھیک سمجھنے لگتے ہیں تو اس کے مقابلے میں سنیوں کا شدت پسند طبقہ بھی ان کو ٹھکانے لگانا اپنا فرض اور دینی غیرت سمجھتے ہیں۔ سعودیہ ، ایران اور افغانستان میں مذہبی جذبہ اور اقتدار اکٹھے ہوگئے تو اسلام نے نہیں فرقہ واریت نے زور پکڑ لیاہے۔

شیعہ کو برداشت کرنے کا منطقی نتیجہ_
جب اہل تشیع حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے اختلاف کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں توانصار کے سردار حضرات سعد بن عبادہنے حضرت خلفائ کے پیچھے کبھی نماز بھی نہیں پڑھی۔ جس طرح انصار ومہاجرین ، حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت ابوبکر وعمر نے خلافت کو اپنا حق سمجھ لیا اور یہ کوئی کفر واسلام کا مسئلہ نہیں تھا تو حضرت علی اور اہل بیت کا اپنے آپ کو خلفاء راشدین، بنوامیہ اور بنوعباس سے خود کو خلافت کا زیادہ حقدار سمجھنے کا بھی بدرجہ اَولی جواز تھا۔ عربی میں اُولیٰ اور اَولیٰ میں فرق ہے۔ اول کی مؤنث اُولی ہے جبکہ اَولی اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اس کا مطلب مقدم اور غیرمقدم کے معنیٰ میں نکلتا ہے۔ اگر کوئی اسکے معنی سے یہ منطقی نتیجہ نکالتا ہے کہ سورۂ مجادلہ میں عورت کا مجادلہ غلط تھا تو وہ اسلام کی روح کو نہیں سمجھ سکا ہے۔ حضرت علی اور اہل بیت نے خلافت کے مسئلے میں مقدم اور غیرمقدم ہونے کے اعتبار سے ضرور اختلاف کیا تھا لیکن اس کو کفر ونفاق کا مسئلہ نہیں بنایا تھا۔ ورنہ حضرت عمر سے حضرت علی یہ نہیں کہتے کہ آپ جنگ میں خود تشریف نہ لے جائیں اسلئے کہ اگر اس جماعت کو شکست ہوگئی تو آپ مزید کمک بھیج سکیں گے اور اگر آپ خود شریک ہوئے اور شکست ہوگئی تو مشکل پڑے گی۔
اگر شیعہ نہ ہوتے تو اہل سنت کے ائمہ بھی حکمران کیلئے زکوٰة کیلئے قتال کو جائز سمجھتے اور آج سنیوں کا بھی مدرسہ زکوٰة پر نہ چلتا اسلئے کہ اہل اقتدار اس پر اپنا قبضہ کرکے ہڑپ کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ حضرت عمر کے کئی معاملات سے حنفی مسلک والے اختلاف کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ ایک آغا خانی شیعہ کو سنی اور شیعہ نے مل کر پاکستان کا بانی بنایا ہے۔ اگر کوئی شیعہ یا سنی مذہب پرست پاکستان کا بانی ہوتا تو آج ہمارے حالات اس سے بھی بدتر ہوتے۔
رسول اللہۖ نے حدیث قرطاس سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ہمارے لئے مسئلہ آسان بنادیا۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ حضرت ابوبکر کی خلافت پر بھی کوئی زیادہ مسئلے مسائل کھڑے نہیں ہوئے اور حضرت عمر کی نامزدگی بھی قبول کی گئی اور حضرت عثمان کی نامزدگی بھی قبول کی گئی لیکن ان سے اختلاف رکھنا کوئی خلافِ شرع بات نہیں تھی۔ یہی وہ رویہ تھا کہ قرآنی آیت کے مطابق اولی الامر سے اختلاف کرنے کی زبردست گنجائش کی امت میں صلاحیت پیدا ہوگئی تھی اور اس اختلاف کو اللہ تعالیٰ نے حضرت حسین کے ذریعے نمایاں کرکے قیامت تک یزیدیت اور حسینیت کے درمیان ایک بہت واضح فصیل کھڑی کردی ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” میں قرآنی آیت اور احادیث صحیحہ کے ایسے بخئے ادھیڑ دئیے ہیں کہ فرشتے بھی الحفیظ والامان کی صدا آسمانوں سے بلند کرتے ہونگے۔ جب پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے اکثر علماء ومفتیان اور مدارس نے شیعہ کو متفقہ طور پر کافر قرار دیا تو مفتی تقی عثمانی نے سرکاری مرغے کی حیثیت سے اس پر دستخط نہیں کئے۔ جب اس نے اپنے اور اپنے بھائی کیلئے دارالعلوم کراچی میں ذاتی مکانات خریدے تو مفتی رشید احمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ” وقف مال خریدنے اور فروخت کرنے کی شرع میں اجازت نہیں ہے اور یہ بھی شریعت میں جائز نہیں کہ ایک ہی آدمی بیچنے وخریدنے والا ہو”۔ اس پر اپنے استاذ کی تاریخی پٹائی لگائی تھی۔ یہ شکرہے کہ خلافت پر کسی سید کا قبضہ نہیں تھا ورنہ وقف مال کی طرح بہت سارے معاملات پر پتہ نہیں ہے کہ سادات بھی کہاں سے کہاں تک پہنچتے، جیسے آغا خانی سادات پہنچے ہیں۔
اگر سنی اپنے خلفاء اور ائمہ سے اختلاف کرسکتے ہیں تو اس میں شیعہ لوگوں کو برداشت کرنے کا بڑا عمل دخل ہے۔ اب اگر فقہی مسائل میں سنیوں کی غلطی بھی ثابت ہوجائے تو مسئلہ نہیں لیکن شیعہ کی غلطی ثابت ہوگئی تو وہ مٹ جائیں گے۔

داعش اور کالعدم سپاہ صحابہ کیلئے راہ!_
داعش دنیا میں خلافت کا نفاذ اور لشکر جھنگوی والے اہل تشیع کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے مقاصد میں تشدد کے ذریعے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خلافت کا نفاذ اور اہل تشیع کو راہِ راست پر لانا تشدد نہیں دلائل کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ طالبان، ایران اور پاکستان داعش اور لشکر جھنگوی کو ختم کرنے پر متفق نظر آتے ہیں۔ شدت پسندانہ نظریات کسی کے پیدا کرنے سے نہیں بلکہ یہ فرقہ وارانہ مزاج کے لوگوں میں اس کی آبیاری کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔
امریکیCIAنے9/11کا واقعہ اسلئے ہونے دیا کہ جس عراق کو1990ء میں بمباری سے مسخر نہیں کیا جاسکا تھا وہ افغانستان میں طالبان کے بعد یہاں تک پہنچادیا گیا کہ عراق کے سنی کردجج نے صدام حسین کو پھانسی پر چڑھانے کا حکم دیا تھا۔ پھر لیبیا میں قذافی کو بھی اپنوں کے ہاتھ شکست دیکر انجام تک پہنچایا امریکہ نے تیل کے ذخائز پر قبضہ کرکے پاکستان کے حکمرانوں کا ضمیر بھی ختم کیا تھا۔ پرویزمشرف کے ریفرنڈم کیلئے عمران خان بندر کی طرح اپنی دُم اٹھاکر جس امپائر کے ڈنڈے پر ناچتاتھا ،اس وقت تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان ریفرینڈم کی مخالفت کررہاتھا۔ ایسا لیڈر خاک کوئی جماعت یا ادارے بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ہماری عوام اور ادارے بھی بہت سیدھے ہیں۔
داعش اور لشکر جھنگوی کے کارکن اور رہنما اپنی جانیں ضائع کرنے اور ملک و قوم کی تباہی کا ذریعہ بننے کے بجائے تشدد کے روئیے سے کھل کر دستبرداری ہی کا اعلان کریں۔ اہل تشیع کے شدت پسند طبقات بھی اپنے دلائل شائستہ طریقے سے پیش کریں تاکہ اس خطے میں ہماری ریاست اور حکومت کو اپنی طرف سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔ طالبان کو اقتدار مل گیا ہے لیکن وہ اپنی اس فتح پر بھی پریشان ہیں۔ ملک وقوم کو چلانے کیلئے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔
ہمارے پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدر طبقے نے ابھی تک دنیا اور اپنی عوام کے سامنے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے امریکہ اور نیٹو کا ساتھ دیکر قربانیاں دی ہیں یا پھر امریکہ کوبڑی شکست دلوائی ہے؟۔ یہ کنفیوژن طالبان رہنماؤں سے لیکر ہمارے مولانا فضل الرحمن تک سب میں پائی جاتی ہے ۔ امریکی فوج کا بہت کم نقصان ہوا اور مسلمانوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑاہے۔کابل کی فتح پر ایگریمنٹ کے مطابق امریکہ اور طالبان نے عمل کیا تھا لیکن پنجشیر کو بہانہ بنایا جارہاہے۔ سارے افغانستان میں نیٹو کے ہوتے ہوئے طالبان کو فتح مل گئی تو پنجشیر کا فتح کرنا بھی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
عمران خان نے فوج کی مخالفت کرنے کے بعد امپائر کی انگلی اٹھنے کا ذکر کیا اور پھر اس پر چڑھ گیا۔ نوازشریف اور پیپلزپارٹی بھی اسی امپائر کی انگلی ہی کے خمیر سے وجود میں آئے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے میثاق مدینہ کا معاہدہ یہود اور نصاریٰ سے کیا تھا اور مشرکینِ مکہ سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا لیکن جس لشکر کی طرف سے قریشِ مکہ کے مشرکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ بھی تعریف کے قابل تھا۔ پھر جب مشرکینِ مکہ نے ان کے شر سے بچنے کیلئے نبیۖ سے گزارش کی کہ اپنے ان مسلمانوں کو اپنے پاس بلوائیں تو نبیۖ نے ان کو بلالیا تھا۔ میثاق مدینہ داخلی اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ امورخارجہ کے حوالے سے تھا۔
داعش اور لشکر جھنگوی سمیت تمام شدت پسند طبقات کو چاہیے کہ قرآن اور سنت کے مطابق عالمی اسلامی خلافت کیلئے امور کی نشاندہی کریں کہ جن سے حکمرانوں کی طرف سے اپنی رعایا عوام اور خواتین کو بھرپور انصاف اور حقوق مل جائیں۔ پھر دنیا کی تمام اسلام اور مسلمان دشمن قوتیں گرم جوش دوست کی طرح حمایتی بن جائیں گی۔ اسلام نے بہت کم جانی نقصان پر انقلاب برپا کیا تھا۔

نکاح ومتعہ اور اسلام کاروح رواں_
جب ہماری صحیح بخاری میں ایک طرف یہ حدیث ہو کہ ” فتح خیبر کے موقع پر متعہ اور گھریلو گدھے کا گوشت حرام قرار دیا گیا تھا”۔ اور دوسری طرف یہ حدیث ہو کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ”ایک دو چادر یا معمولی چیز کے بدلے بھی متعہ کرسکتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان چیزوں کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو ، جس کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے”۔ تو دونوں روایات میں زیادہ جان کس میں ہے؟۔ جبکہ پہلی روایت حضرت علی کا قول اور دوسری روایت نبیۖ کی طرف منسوب ہے اور اس میں پھر قرآن کی آیت کا بھی نبیۖ نے حوالہ دے دیا ہے۔ پہلی روایت ہے کہ فتح خیبر تک نبیۖ اور صحابہ العیاذ باللہ گدھے کھایا کرتے تھے۔ حالانکہ قرآن میں گدھے، گھوڑے اور خچر کو سواری اور زینت کیلئے بنانے کی وضاحت ہے ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب پہلے بھی ہماری ہی طرح ان کو کھانے کی چیزنہیں سمجھتے تھے بلکہ سواری کے کام میں لاتے تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ صحیح مسلم میں ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبیۖ نے متعہ کو جائز قرار دے دیا۔ تو کیا فتح خیبر کے موقع پر حرام قرار دینے کے بعد اس کی اجازت دی جاسکتی تھی ؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبیۖ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور تک ہم عورتوں سے متعہ کرتے تھے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں قرآنی آیت میں وقتی نکاح یعنی متعہ کی اجازت کا اضافہ بھی تھا جو احناف کے نزدیک قرآنی آیت کے حکم میں ہے۔ شیعہ سنی علماء اگر ڈاکٹر فضا کی موجودگی میں بول نیوز کے پروگرام میں ان باتوں کی وضاحت کردیتے تو عوام میں بہت زیادہ شعور پیدا ہوتا۔ قرآنی آیات میں نکاح کیساتھ ایگریمنٹ کا بھی ذکر ہے اور ان آیات کی درست تشریح سے شیعہ سنی میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔
آدم کے جسم میں روح کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ سورۂ اسراء میں فرمایاکہ ” آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ روح اللہ کے امور میں سے ہے اور اس کا علم تمہیں نہیں دیا گیا مگر بہت کم ”۔ روح اللہ کے عام امور میں سے ایک قدرتی امر ہے، انڈے کو مطلوبہ گرمائش جب فراہم ہو جائے تو چوزہ بننا شروع ہوجاتا ہے، اسی طرح گندم کا بیج جب مٹی میں رکھ کر اس کو پانی دیا جائے تو اس میں روح آجاتی ہے۔ فارمی جانور، پرندے اور پھل پودوں میں جو انقلاب آیا ہے یہ اللہ کی تخلیق کی ادنیٰ جھلک ہے۔ حضرت عیسیٰ و حضرت آدم کی پیدائش میں قدرت کے عام قاعدے سے ہٹ کر اللہ نے روح پھونک دی اسلئے ان کی نسبت اپنی طرف کردی ہے۔ انسان کائنات کا روح رواں ہے اور روز کی نت نئی ترقی سے اس کا مزید ثبوت مل رہاہے۔
اسلامی احکام کی اصل صورتحال سامنے آجائے تو شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اور اہل حدیث اپنے اپنے فرقوں اور مسلکوں کو بھول کر اسلام کی طرف ہی متوجہ ہوںگے۔ اسلام کا اصل روح رواں قرآن ہے اور قرآنی احکام کو مسلمان چھوڑ کر فرقہ واریت کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔
قرآن و سنت میں نکاح و طلاق ، حق مہر ، رجوع، خلع اور ایگریمنٹ کے جن تصورات کا ذکر ہے اگر آیات سے موٹے موٹے احکام نکال کر دنیا کو دکھائے جائیں تو پوری دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کو قبول کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائے گی۔ اہل سنت اپنے ائمہ کی اجتہادی غلطیوں کو درست کردیں گے اور اہل تشیع اپنے ائمہ معصومین کی طرف منسوب قرآن و سنت کے واضح احکام کے خلاف اپنا غلط مسلک دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ مشکل یہ ہے کہ مذہبی طبقات نے اب اسلام کو اپنی تجارت اور تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا فضل غفور، وفاق المدارس اور وزیرستان کے محسود قبائل

مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل غفور، وفاق المدارس اور وزیرستان کے محسود قبائل

ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟۔الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے اسکرینوں پر سیاستدان، صحافی، جرنیل، بیوروکریٹ، قوم پرست،علماء اور مذہبی طبقوں کے علاوہ ملحدین اپنی اپنی طوطی اور مینا کی زبانیں بولنے کی کوشش میں عجیب وغریب انجام کی طرف لے جانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ضرورت نہ ہو توبولنے کی جگہ خاموشی کو ترجیح دیتے لیکن کوئی کسی سے بھاڑہ لیکر بولتا ہے اور کوئی خوامخواہ بکواس کی عادت سے سخت مجبور بھی ہے

جاگ اُٹھے ہیں شعور کے دیوانے دنیا کو جگاکر دَم لیںگے،یزیدیت کیخلاف حسینیت کی کامیابی تک راہِ وفا میں اپنی قسمت کے
ستم لیںگے،ڈرنے والے اپنی دُم دباکے سنبھالیں اورہمیںتکتے رہیں، چاہے ہاتھ ہوں ہمارے قلم ہم اپنے علم لیںگے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وفاق المدارس اور جامعة الرشید بورڈ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کا سرکار سے منظور شدہ بورڈ ہے ۔ جن مدارس کا وفاق المدارس سے الحاق ہے وہ اپنے فضلاء کو اپنے مدارس کی سند بھی دیتے ہیں۔ پختونخواہ کی حکومت بنوں کے مدارس کی سند پر بھی اپنے سرکاری ٹیچر کو بھرتی کرتی ہے۔ اکوڑہ خٹک حقانیہ سے وفاق المدارس کے علاوہ اپنے نالائق فضلاء کو اپنی طرف سے بھی دستارفضلیت کی سندیں دی جاتی ہیں۔
جامعة الرشید کے مولانا مفتی عبدالرحیم ایک انتہائی مکار، چالاک اور بیکار انسان ہے۔ اس کی جعل سازی کے بڑے شواہد ہیں۔ مفتی رشیداحمدلدھیانوی کے دستخط کا بھی مفتی عبدالرحیم مجاز تھا جو استاذ اور شاگرد کی جعل سازی کا بہترین ثبوت ہے اور پھر اپنی اصلی تحریر اور دستخط سے مکر جانے کا بھی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
مولانا سلیم اللہ خان کے علم اور کردار سے اختلاف ہوسکتا تھا لیکن ان میں وفاق المدارس کے صدر بننے کی اہلیت دوسروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو وفاق المدارس کا صدر بنانا زیادہ اہم بات نہیں ہے لیکن اصولی طور پر مفتی تقی عثمانی کو جامعة الرشید کے نئے بورڈ مجمع علوم اسلامی کا چیئرمین ہونا چاہیے تھا۔ معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قراردینا جامعة الرشید اور دارالعلوم کراچی کا مشترکہ وطیرہ تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن نیوٹاؤن کراچی،جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک پاکستان بھر کے تمام بڑے مدارس نے سودی نظام کی سخت مخالفت کی تھی۔ ایک انتہائی نالائق اور متنازع شخصیت کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے وفاق المدارس کا صدر بنانا قاری محمد حنیف جالندھری جیسے مفادپرست اور مولانا فضل الرحمن جیسے سیاستدان کے اپنے کام ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کہا کرتے تھے کہ جو نماز کی امامت کا اہل نہیں ہے وہ اقتدار کا بھی اہل نہیں لیکن جب موقع آیا تو علماء کی کثیر تعداد کے باوجود اکرم خان درانی کو داڑھی رکھواکر دنیا سمیٹنے کیلئے وزیراعلیٰ بنوادیاتھا۔

مولانا فضل غفور کاخواب اور علماء
جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل غفور نے کسی عالم کاایک خواب بیان کیا کہ ” خانہ کعبہ میں رسول اللہۖ کے دائیں جانب پاکستان کے علماء ہیں بائیں جانب عالم اسلام کے حکمران ہیں۔سعودی حکمران شاہ محمدبن سلمان نبیۖ کے بائیں پاؤں کی انگلیاں کاٹ رہاہے اور پاکستان کا وزیراعظم عمران خان بائیں ہاتھ کی انگلیاں کاٹ رہاہے۔ نبیۖ کا ستر کھلا ہوا ہے اور پاکستان کے علماء ستر کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں”۔ اس پر بعض دیوبندی علماء نے مولانا فضل غفور کو گستاخ اور واجب القتل قرار دیا اور بعض نے بھرپور دفاع کیا۔ پشتو زبان میں علماء کے ڈھیر سارے بیانات ہیں اور اردو میں بھی سوشل میڈیا پر ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ دونوں طرف کے علماء کی صف بندی کرکے عوام کو ایک تماشہ دکھا دیں کہ ان میں کتنی غیرتِ ایمانی اور قربانی کا جذبہ ہے اور عوام سمجھ لیں کہ ان کو لڑانے والے خود کتنے لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں؟۔مفتی تقی عثمانی کے ایک شاگرد نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے ایک طرف یہ واضح کیا کہ مولانا فضل غفور کا مقصد گستاخی نہیں تھا لیکن یہ بڑی سنگین گستاخی ہے ، کوئی کسی کی ماں بہن کیساتھ خواب میں جماع دیکھے گا تو اس کو بیان کریگا؟۔ مولانا فضل غفور معافی مانگ لیں اور جس شیخ الحدیث مولانا ادریس نے فضل غفور کا دفاع کرتے ہوئے امام بخاری کے خواب کا حوالہ دیا ہے اس نے مزید سنگین گستاخی کی ہے۔ فوجی کا مجھے فون آیا کہ تین دن سے سو نہیں سکا ہوں کہ میں اور مولانافضل غفور کس طرح زندہ ہیں؟۔ اس گستاخی پر اب تک مجھے اس کو قتل کردینا چاہیے تھا۔مولانا سحبان محمود نے امام بخاری کے الفاظ کا ادب سے ترجمہ کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ سے کسی نے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے نبیۖ کو ننگا دیکھا تو امام صاحب نے کہا تھا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تم خود ننگے ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے اس شاگرد کا بیان جس گستاخی پر شروع ہوتا ہے ،اسی پر ختم بھی ہوجاتا ہے اور یہ جہالت کی انتہاء ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاسی کامیابی
مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اسٹیبلشمنٹ کیخلاف جو بیانات دئیے ہیںوہ ایک طرف ڈھال کے طور پرمفتی تقی عثمانی کو وفاق المدارس کا سربراہ بناکر استعمال کررہے ہیںاور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ن لیگ کو استعمال کررہے ہیں۔ بظاہر جمعیت علماء اسلام کی کشتی کیلئے دونوں چپو بڑے توانا معلوم ہوتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کے پشتون شاگرد عالم دین کو ایک طرف ایک رئٹائرڈ فوجی کا عشق رسول ۖکا جذبہ نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے وہ مولانا فضل غفور کو توبہ کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی حمایت کرنے پر دوسروں پر برستے ہیں لیکن دوسری طرف امام ابوحنیفہ کے اسی طرح کے خواب کی تعبیر کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔ یہ شعور وآگہی کی موت نہیں تو اور کیا ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری سیاستدانوں اور علماء کی مخالفت میں گزاردی ہے لیکن آخری عمر میں جدوجہد نہیں نیت کا شاید ان کو ثمرہ مل رہاہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہوتا ہے۔ نیت دکھانے کیلئے اللہ انسان کو ہمیشہ موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ہمارا خود ساختہ مذہبی اور سیاسی نظام اب ناکامی کے کنارے لگ چکا ہے۔ عوام کے سامنے افغانستان کے طالبان کی بھی تصویر ہے اور پاکستان کی ریاست کی بھی تصویر ہے۔ سزا یافتہ نوازشریف ، مریم نواز بیرون ملک اور اندرونِ ملک آزاد ہیں اور تحریک انصاف کے وہ کارکن بھی زندہ ہیں جو ایک بین الاقوامی بھکاری عمران خان کی بات پر یقین رکھتے تھے کہ ”مرجاؤںگا مگر بھیک نہیں مانگوں گا”۔ تجزیہ نگار جنرل اعوان کہتا ہے کہ مزدورسچا نہیں کہ وہ بیروزگار ہے، بیلچہ بھیک کی علامت ہے اور وزیراعظم سچ کہتا ہے کہ ”ملک میں بیروزگاری نہیں ہے”۔ زرداری کھانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑا تھا، نوازشریف بیٹھا تھا اور عمران خان لیٹ گیا ہے۔ کھاؤ پیواور ملک مکاؤ پروگرام میں سب شریک ہیں۔ بھاری سودی قرضہ اور ٹیکس کا بوجھ لادا جاتا ہے۔

وزیرستان کی بہت بڑی کمزوری کیا ؟
وزیرستان کے محسود قبائل میں سب سے بڑی کمزوری مال کا لالچ تھی۔ اب انتہائی آزمائش سے گزرنے کے بعد یہ کمزوری اپنا دم توڑ رہی ہے۔ حادثہ پیش آتا ہے تو معاملے کا پتہ چلتا ہے۔ کانیگرم کے پیر خاندان کے ایک شخص نے محسود قبیلے کے ایک شخص کو کچل دیا۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعارف اور تعلق نہیں تھا مگر ایک پیسہ لئے بغیر محسود خاندان نے معاف کردیا۔ یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہے اور اس کی توقع صدیوں میں بھی نہیں ہوسکتی تھی لیکن محسود بہت بدل گئے ہیں۔
محسود ایک زبردست صفات رکھنے والی عظیم قوم ہے مگر ان کی تعلیم وتربیت کیلئے کسی استاذ نے کوئی محنت نہیں کی ہے۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی۔ لاکھوں میں ایک بھی پیدا ہو تو قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ایک مشہور بدمعاش خاندان کے فرد نے طالبان کیساتھ مل کر ایک گھر سے بھتہ وصول کرنا چاہا، جس پر دونوجوان اور ناتواں لڑکوں نے کلاشنکوف اٹھاکر اپنا دفاع کیا اور اس ایک فرد کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور باقی سب بھاگ کھڑے ہوگئے۔ پھر اس بدمعاش خاندان نے اپنے غنڈے طالب کی دیت بھی وصول کرلی۔ اگر یہ روایت ہو کہ طالبان جس کو ماردیں تو اس کی پرواہ نہ ہواور طالبان مارا جائے تو اس کی قیمت وصول کی جائے۔ یہ محسود قوم کی تاریخ پر سب سے بڑا بدنما داغ ہے۔ سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ،قبائلی عمائدین اورپی ٹی ایم مل کر اس مصیبت سے اس قوم کی جان چھڑائیں۔ بنوںسے ڈیرہ اسماعیل خان تک بات مشہور ہے کہ ”بوڑھے بوڑھے لوگوں کو موٹر سائیکل خرید کر دئیے گئے ہیں کیونکہ کرونا سے ویسے بھی انہوں نے مرنا ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی گاڑی کے نیچے آکر ورثاء کیلئے سات آٹھ لاکھ کی دیت کا ذریعہ بن جائیں”۔
رونے دھونے سے انقلاب نہیں آتے بلکہ جو استنجاء سے اپنا گند صاف کرتا ہے وہی اپنی اور پوری قوم کی امامت کے قابل ہوسکتا ہے۔دیکھئے…
بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv