دسمبر 2016 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

ملیر اور لیاری ندی شفاف پانی سے بہہ سکتے ہیں. ابرار صدیقی

K4منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے حیدر آباد کے پاس ڈیم بنا کر سندھ کے دار الخلافہ کراچی کو نہری سسٹم سے آباد کیا جائے

سیلابوں، طوفانوں، بارشوں اور دریائے سندھ پر ڈیموں کے ذریعے اتنا پانی جمع ہوسکتاہے کہ کراچی میٹھے پانی سے بہت مالا مال ہوگا پاکستان میں اللہ کی بہت بڑی نعمت پانی کا بہاؤ ہے لیکن حکمرانوں کی نااہلی کے سبب عوام کبھی طوفانِ نوح میں غرق اور کبھی کربلا کی پیاس مرتے ہیں

کراچی (پ ر) نوشتۂ دیوار لانڈھی کراچی کے نمائندے ابرار صدیقی نے کہاہے کہ ہمارا ملک وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود مسائل کا شکار اسلئے ہے کہ حکمران جھوٹے، مفاد پرست اور بہت نااہل ہیں۔سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلابوں سے بچنے کیلئے بھی ڈیموں کا سلسلہ شروع کیا جاتا تو آج ہمارے ملک کا نقشہ ہی مختلف ہوتا۔K4 پر اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں اور بجلی کے ذریعے سے کراچی کو پانی کی سپلائی ہوگی۔ اگر سمجھدار دیہاتی ملک کے حکمران ہوتے تو حیدر آباد سے مغرب کی طرف قدرتی ڈیم کو دریائے سندھ سے مصنوعی کنکشن دیدیتے اور کراچی کو پانی کے قدرتی بہاؤ سے مالامال کردیتے۔ حکمرانوں کی ہر منصوبے میں زیادہ سے زیادہ کرپشن پر نظر ہوتی ہے۔ کالاباغ ڈیم کے علاوہ ہمارے ملک میں بہت سارے ڈیموں کا سلسلہ ہونا چاہیے تھا،پہاڑی علاقوں سے سستی بجلی پیدا کرتے تو دنیا بھر کے مارکیٹوں پر ہماری اندسٹریوں کا قبضہ ہوتا۔پانی کے ذخائر سے انواع و اقسام کے باغ سبزیاں اور اناج اگاسکتے تھے، افغانستان اور نوآزاد مسلم ممالک کی مارکیٹ بھی ہمارے پاس تھی۔
سندھ کے تھرپارکر میں انسان اور پرندوں کے بادشاہ جنگلی مور پانی نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہورہے ہیں۔ پنجاب وسندھ اور بلوچستان میں پانی کی قلت سے زمینیں بنجر ہیں اور حکمرانوں کے بچے پاکستان کو لوٹ کر اپنے بچوں کو بیرون ملک آباد کررہے ہیں۔علاج و تعلیم ، رہائش وآسائش اور بال بچے باہر ہوں تو ان کو اس ملک کے باسیوں کی کیا فکر ہوگی؟۔
ملک ریاض ایک شخص ہے اور کراچی سے دبئی بنانے میں پیسہ بھی کمارہا ہے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر بھی ڈال رہاہے۔ ہمارا حکمران طبقہ کام کا ہوتا تو کراچی سے حیدر آباد تک پورا علاقہ بحریہ ٹاؤن سے زیادہ ترقی یافتہ بن جاتا۔ کراچی کی آبادی خستہ حالی کا شکار ہے ، پانی کی قلت سے بے حال کراچی کے مکین میٹھے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ حیدرآباد سے جو نوری آباد کے مغربی جانب بارش کیلئے ڈیم بنایا گیاہے ، یہ بھی بڑا کارنامہ ہے لیکن اس کو دریا کے پانی سے کنکشن دیا جاتا اور سیلاب کے پانی سے بھر دیا جاتا تو پائپ لائن اور بجلی کے ذریعہ نہیں بلکہ نہروں کے ذریعہ سے کراچی میں پانی داخل ہوتا۔ جب بہترین منصوبہ بندی سے نہر کے ذریعے پانی آتا تو لیاری اور ملیر ندی صاف اور شفاف پانی سے بھرے رہتے۔ پنجاب کے اندر زمینوں کیلئے دور دراز علاقوں میں نہروں کا سلسلہ موجود ہے تو ملک کے پرانے دارالخلافہ اور سندھ کے صدرمقام کراچی کیلئے بھی ایک نہر بنادی جاتی۔ اب بھی یہ سب کچھ ہوسکتاہے لیکن نیت اور ہمت کی ضرورت ہے۔

بلوچستان ایران سے گیس خرید کر باقی صوبوں کو سپلائی شروع کردے، اجمل ملک

وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کے مفاد میں ایران سے گیس لینے کے بجائے قطر سے اپنے ذاتی مفاد کیلئے معاہدہ کیا جس سے ملک پھر گیس کے بحران کا شکارہوگا

ن لیگ کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری اور محمود اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان اپنے صوبے کی پسماندگی دور کرنے کیلئے ایران کی گیس سے پاکستان کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں

پنجاب چین،ترکی اور دیگر ممالک سے صوبائی مفاد میں معاہدے کرسکتاہے تو بلوچستان اپنے صوبے اور قومی مفاد کی خاطر فیصلے کرنے میں کسی دوسرے کا غلام کیوں؟۔

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے پاکستان کی تعمیر وترقی، بلوچستان کومحرومی سے نجات دلانے کیلئے تجویز پیش کی ہے کہ جنرل راحیل شریف کے کردار سے اسلئے ملک و قوم کو فائدہ پہنچاہے کہ اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ بلوچستان حکومت اگر ایران سے گیس خرید کر صوبوں کو فروخت کرے تو پاکستان تیزی کیساتھ ترقی کا سفر طے کریگا،شریفوں کی رشتہ داری پر بھی اثر نہ پڑیگا۔ پاکستان میں مارشل لاؤں کی بہتات سے بڑی گندی ذہنیت کے لوگ کرپشن کے ذریعے سے ملک کے سیاسی نظام پر قابض ہوچکے ہیں۔جنرل راحیل شریف کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ مزید کرپٹ لوگوں کو اپنی پیداوار نہیں بنایا۔ عمران خان اور علامہ طاہرالقادری وغیرہ نے بہت دم ہلائے لیکن جنرل راحیل نے کوئی لفٹ نہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی دھرنوں میں جتے ہوئے فسٹ کزن ایک دوسرے پر بروقت احتجاج نہ کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کتا کچھ تو مالک کیلئے بھونکتاہے اور کچھ اپنے لئے بھی بھونکتاہے۔ سیاستدان ہر اسی ایشو پر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں قوم کیساتھ ساتھ اپنا مفاد بھی ہو۔
قوم گلی محلوں ، شہروں اور دیہاتوں میں کتوں کے بھونکنے کی طرح سیاستدانوں اور صحافیوں کا گلہ پھاڑ پھاڑ کر آواز یں سننے کی عادی بن چکی ہے۔ جنرل ایوب خان کا قوم کیلئے بڑا تحفہ ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق کا نوازشریف، جنرل پرویزمشرف کا ق لیگ کے علاوہ چھوٹی بڑی خوبی و خامی اپنی جگہ پر ہیں،سب ہی میں انسان ہونے کے ناطے اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ اب اس ملک خداداد پاکستان کیلئے بھی کچھ کرنے کا وقت آگیاہے۔ قوم پرستوں کو بلوچستان میں دبایا گیاہے تو یہ مسئلے کا بنیادی حل نہیں ہے۔ مسلمان مکہ سے حبشہ اور مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے لیکن ایک دن ایسا بھی آیا کہ دبے ہوئے مسلمان پھر ابھر کر نہ صرف مکہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ جزیرہ نما عرب کے بعد دنیامیں اپنے دور کی سپر طاقتوں کو بھی شکست سے دوچار کردیا۔
بلوچ اور پٹھان ایک باعزت اور غیرتمند قوم ہے، بلوچستان سے افتخار چوہدری، جاوید اقبال اور دیگر پنجابی بیورکریٹ کو عزت ملنے سے بلوچستان کی پسماندگی کا حل نہیں ہے اور بلوچ رجمنٹ سے آرمی چیف کا انتخاب بھی اطمینان کا باعث نہیں بن سکتاہے۔ کرپٹ بلوچ قیادت کو کرپشن کی آزادی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف ترکی اور چین کیساتھ صوبہ کی سطح پر معاہدے کرسکتا ہے تو ن لیگ کا وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اورمحمود خان اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان کو بھی صوبائی سطح پر بڑے معاہدوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچستان حکومت کی اپوزشن جمعیت علماء اسلام ف بھی اس کارِ خیر میں بھرپور طریقے سے مدد فراہم کرے گی اور بلوچوں کی قوم پرست پارٹیاں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی جس سے اٹھاروین ترمیم پر بھی عمل کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ صوبائی خود مختاری کو قومی یکجہتی اور مرکز کو کمزور کرنے کیلئے سازش کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان سے غداری کے مساوی گردانے جانے میں حرج نہیں ہے۔
پورے پاکستان میں گیس کی شدید قلت ہے، قطر سے گیس لانے میں ملک وقوم دونوں کے مفادات کو بہت نقصان پہنچ رہاہے۔ پنجاب کی سرحد سے ایران ملتا تو پنجاب اپنے اور ملک کیلئے ضرور گیس پائپ لائن کے معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا لیکن بلوچستان کی سرحد پر موجود ایران کی طرف ن لیگ کی سیاسی لیڈر شپ کا دماغ نہیں جاتاہے، پرویزمشرف سے پہلے نوازشریف دومرتبہ وزیراعظم رہ چکے تھے لیکن گوادر اور سی پیک کی طرف اس کا دماغ نہیں گیاتھا، ایران سے گیس لانے کیلئے بھی کیا کسی جرنیل کی ضرورت ہوگی جو وزیراعظم نوازشریف کو جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دے ؟۔بلوچستان ایران سے گیس اپنے لئے بھی خرید لے ، کسی کو ضرورت نہ بھی ہو تو سستے گیس کی وجہ سے پاکستان اور بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کار اپنے مفاد کی خاطر انڈسٹریاں لگانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
بلوچستان کے خزانہ میں گیس کے ذریعہ سے اتنی آمدن آئے گی کہ وہ اپنے سیکیورٹی کیلئے بھی مرکز سے کچھ لینے کے بجائے بہت کچھ دینگے۔ چین کے علاوہ روس سے آزاد ہونیوالی ریاستوں کو بھی اپنی مدد آپ کے تحت گوادر کی بندرگارہ سے ملادینگے۔ جنرل راحیل شریف نے قومی خدمت کی ہے لیکن اختیارات پر قبضہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے قوم مثبت رحجانات کی جانب بڑھی ہے۔ سیاسی قیادت کو بھی ہوش کے ناخن لیکر دوسرے کے اختیارات پر ناجائز قبضے کے خواب ترک کرنا ہونگے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے قومی سیاسی پارٹیوں کا کردار انتہائی قابلِ نفرت رہاہے۔
بلدیات اور صوبوں کو اختیارات دینے سے ہی پاکستان بہت مضبوط ہوگا۔ وزیراعلی پنجاب شہبازشریف اور وزیراعظم نوازشریف کی پوری توجہ لاہور ہی پر مرکوز ہے۔ پورا ملک تو دور کی بات پورے پنجاب کا بھی خیال نہیں ہے۔ یہ شکرہے کہ فوجی قیادت کے چناؤ میں انکے پاس بڑے ہی محدود اختیارات ہیں ورنہ صدرمملکت ممنون حسین، گورنر سندھ سعیدالزمان صدیقی ، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور گورنر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا کی طرح چہرے اور کردارتلاش کئے جاتے۔ صدر کو دوسروں کے چہرے منحوس اور اپنے معصوم لگتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن جمہوری ماحول میں اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ کسی ذوالفقار بھٹو اور کسی کو جنرل ضیاء کا چہرہ اچھالگتا تھا اور اب اللہ کرے کہ جنرل راحیل شریف اور ان کے بعد آنے والے جرنیلوں کے چہرے اچھے ہی لگیں۔ جب پنجاب میں گیس کی قلت کے خلاف احتجاج ہو تو ایران سے گیس لیکر مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اصحابِ اقتدار ملک کو مالامال کرنے میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

فرقہ واریت کا خاتمہ ایک بنیادی ضرورت. عتیق گیلانی

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث مسلکوں اور فرقوں کی اصلاح موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ کلیہ بہت پرانا اور ناکام ہوچکا ہے کہ ’’اپنا مسلک چھوڑونہیں اور دوسروں کا چھیڑو نہیں‘‘۔ شیعہ فرقے کی بنیاد اسلام سے صحابہؓ کی محبت نہیں بغاوت پر ہے تو وہ کیسے اپنے مسلک پر قائم رہ کر اہلسنت کی دل آزاری سے باز آسکتے ہیں؟۔ دیوبندی خودکو توحیدی ،بریلوی کو مشرک سمجھتے ہیں اور بریلوی خود کو محبان رسول اور دیوبندی کو گستاخ سمجھتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان کی نفرت پیار میں بدل جائے۔ اہلحدیث کے نزدیک حنفی مسلک والے احادیث سے منحرف اور حنفیوں کے نزدیک وہ تقلید ہی نہیں قرآن سے بھی منحرف ہیں تو کیسے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونگے؟۔
پاکستان کے بریلوی، دیوبندی ،شیعہ اور اہلحدیث کے جنرل ہیڈ کواٹرز اپنے پڑوسی دشمن ملک بھارت میں ہیں۔جب یہ سب ہندودیش میں ہندؤں کیساتھ گزارہ کرسکتے ہیں تو یہاں ان کی دُموں کو مروڑ کر کون لڑاتاہے؟۔ کیا یہ ہماری ریاست کی بہت بڑی کمزوری نہیں کہ جو لوگ دوسرے ممالک میں تو بہت سکون سے رہتے ہیں مگریہاں ایکدوسرے کیخلاف شر پھیلارہے ہیں؟، یہ سوالات بھی کھڑے کئے گئے مگر ان سوالات سے بھی حل نکلنے والا نہیں ہے۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری پر عوام کا ایک طرح سے اعتماد ہے مگرفرقہ واریت کے خلاف انکے اشعار نے بھی فرقہ بندی سے روکنے میں کردار ادا نہیں کیاہے۔
فرقہ واریت کا اصل مسئلہ حل کرنے میں عقیدے ، نظریے اور مسلک کے اختلافات کو احسن انداز میں پیش کرناہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وجادلہم بالتی ھی احسن ’’اور ان سے لڑو،اس طریقہ سے جو بہترین راستہ ہے‘‘۔ اس انداز تکلم سے فرقہ واریت کا نہ صرف خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ قرآن نے ایک دوسری جگہ یہ نشاندہی بھی کردی ہے کہ ’’ برائی کا بدلہ اچھائی کے انداز میں دو ،تو ہوسکتاہے کہ صورتحال ایسی بدل جائے کہ گویا وہ دشمن تمہارا گرم جوش دوست بن جائے‘‘۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے قائد مولانا اعظم طارق کو شہید کرنے والے محرم علی کی قبر پر جیونیوز کے طلعت حسین نے شیعہ رہنما علامہ امین شہیدی کی عقیدت بھری تصویر دکھائی اور علامہ شہیدی سے سوالات بھی کرلئے مگر مسئلے کا حل نہیں نکلا۔ فرقہ واریت کے حوالہ سے سخت زبان استعمال کرنے والوں پر پابندیاں لگ گئیں، ن لیگ اور سابقہ ق لیگ کے شیخ وقاص کے مقابلہ میں پھر بھی اہلسنت کے حمایت یافتہ مولانا جھنگوی جیت گئے۔ مولانا مسرور جھنگوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ہے جس میں کلمہ کی طرح سپاہ صحابہ میں شامل ہونے کیلئے ’’کافر کافر شیعہ کافر ‘‘ ضروری ہے۔ سعودیہ نے یہ نعرہ قانونی طور پر اپنے ملک میں رائج نہیں کیا ، قادیانیوں کو بھی پہلے کافر نہیں کہا جاتا تھا۔ پارہ چنار کے ایک سنی نے کہا کہ اگر سنی حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے ماننے سے انکار کریں تو شیعہ علیؓ کو بھی کافر کہیں گے، یہ ایرانی مجوسی ہیں۔ہمارا کام اتحاد و اتفاق اور وحدت ہے اور کبھی موقع ملے گا تو کمیونسٹ ذہنیت کے اہل تشیع کی الجھی ہوئی ذہنیت کو ٹھیک کرینگے جو ایران کے بادشاہ مزدک سے نبی علیہ السلام ، اہلبیت اور حضرت ابو ذر غفاریؓ کو جوڑتے ہیں۔ تشدد و پابندی مسئلے کا حل نہیں ، صحابہ کرامؓ کا ذکر قرآن میں ہے اور قرآن سے نا واقفیت ہے۔ سیدعتیق گیلانی

اسلامی دنیا کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرنا ہوگی. عتیق گیلانی

عالم اسلام میں بادشاہت، جمہوریت، ڈکٹیٹر شپ اور فرقہ واریت کا دور دورہ ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اور فرقہ واریت کے علاوہ ہمارے ریاستی نظام بھی عوام کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ افغانستان،عراق، لیبیا، شام کے بعد ایران، سعودیہ اور پاکستان کی باریاں بھی آسکتی ہیں، ہم سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تباہ ہونے والے وہی ممالک تھے۔ ہم پرچاروں طرف سے دشمن کا گھیراؤ ہے۔ ایران، افغانستان اور عرب ممالک کی پاکستان سے زیادہ بھارت سے دوستی ہے۔ چین کے ترقی یافتہ علاقے سمندرکے ذریعہ سے دنیا میں ملے تھے تو دنیا میں کونسی تبدیلی آئی ہے؟۔ گوادر سی پیک کے ذریعہ چین کاپسماندہ ایریا دنیا سے مل جائیگا تب بھی دنیا میں کونسا بڑا انقلاب آئے گا؟۔ روس کے خلاف جب دنیا افغانستان میں جنگ لڑرہی تھی تو بھی راہداری پاکستان کے ذریعہ تھی اور جب نیٹو نے طالبان کیخلاف جنگ لڑی تب بھی راہداری کی یہی راہ تھی۔ البتہ پاکستان نے اب راہداری کے ذریعہ دوسروں کی جنگ لڑنے کے بجائے مثبت راستے کا سفر شروع کیا ہے اور اللہ کرے کہ خیر سے تبدیلی آئے۔
بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ چکا ہے، اسلئے تسلسل کیساتھ بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں ملک کی داخلی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔ طالبان، بلوچستان اور کراچی کے حوالہ سے جو کامیابی ریاست کی رٹ بحال کرنے میں ملی اس کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان بدریج بد سے بد حال تک جیسے پہنچ چکا تھا، اس میں قوم کے کسی ایک فرد یا ادارے کا کردارنہ تھا بلکہ پوری قوم زوال کی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے جمہوری جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگی قیادتوں کو جبری جلاوطن کر دیاتھا، عدالتوں کو پرغمالی بنالیالیکن فوجی قیادت عوام کی اصلاح نہ کرسکی تھی۔
جمہوریت اور عدالتیں بحال ہوئیں تو عدالت نے سیاست شروع کردی اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا، اگر اصغر کیس کے ذریعہ انصاف کے تقاضے پر عمل پیرا ہوکر یوسف رضا گیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہل قرار دیا جاتا تو قوم کا عدلیہ پر بے انتہااعتماد بڑھ جاتا۔ ریاست کی رٹ صرف فوجی طاقت سے ہمیشہ کیلئے بحال نہیں رہ سکتی ہے۔ عوام کے اعتماد کیلئے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کے نظام کی ہوتی ہے۔پختونخواہ کے طالبان، بلوچستان کے قوم پرست اور کراچی کی ایم کیوایم سے زیادہ معاشرتی ظالمانہ نظام کا پنجاب میں راج ہے۔وزیردفاع وپانی وبجلی خواجہ آصف اور اقبال کے شہرسیالکوٹ کا تازہ واقعہ ہے کہ’’ دلہن کو اجتماعی زیادتی کا شکار بنایاگیا، شور مچانے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے‘‘۔ شور مچانے اور تشدد کا نشانہ بننے سے ڈر کر چپ کی سادھ لینے والوں کی کتنی ان گنت کہانیاں ہوں گی؟۔ یہ اس وقت پتہ چلے گا جب مظلوموں کا ظالموں کیخلاف انقلاب آئیگا۔ سیاسی جماعتیں عوامی نہیں بلکہ آشیرباد رکھنے والوں کی داشتائیں ہیں۔
القاعدہ، طالبان داعش کے علاوہ کراچی کی ایم کیوایم، بلوچی قوم پرست اور اندرون سندھ کی پارٹیاں زمانے کے جبر سے وجود میں آئی ہیں۔ امریکہ کا مجاہدین کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دینے سے القاعدہ بن گئی، افغانستان میں مجاہدین تنظیموں کی بدمعاشی سے مجبوری میں طالبان آگئے، امریکی حملے کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آگئے، عراق پر حملے بعد شام میں کاروائی کی وجہ سے سنی مکتبۂ فکر کو ریلف مل گئی تو دولت اسلامیہ عراق وشام تشکیل پائی ،جو داعش کے نام سے دنیا میں پھیل گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بقول امتیاز عالم کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے اردو اسپکینگ مہاجروں کو کاٹ کر سند ھیوں سے ملا دیا تو ایم کیوایم کیلئے بنیاد بن گئی۔نجم سیٹھی نے پنجاب کے ظلم کی داستان نہری نظام کی شکل میں بیان کی ہے جس سے سندھ بنجر بن گیا اور احساسِ محرومی کالا باغ ڈیم میں رکاوٹ کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسائل کے باوجود عوام کی غربت کا مسئلہ بغاوت تک لے گیا۔ پاکستان سے عالمی اسلامی خلافت علی منہاج النبوۃ کا آغاز ہوجائے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مدارس کے نصاب کی اصلاح سے کم عقل لوگوں کے چنگل سے اسلام کی تعبیرو تشریح پر اجنبیت کے پردے ہٹ جائیں گے۔ لونڈی بنانے کے نظام کو قرآن نے آلِ فرعون کا اختراع قرار دیاہے، امریکہ نے عافیہ صدیقی کو قید کرکے لونڈی بنانے سے بھی بڑی سزا دی ہے۔ طویل المدت قید انسانیت کی بہت بڑی تذلیل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرافت پر بڑا دھبہ ہے۔

کیا مغربی جمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟ عتیق گیلانی

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو خلافت کا حقدار قرار دیاہے، ابلیس اپنے تکبر کے باعث راندۂ درگاہ ہواتھا، فرشتوں نے اللہ سے اختلاف کرکے اعتراض اٹھایا کہ ’’یہ خلیفہ زمین میں فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا اور قتل و غارتگری کریگا‘‘ لیکن اللہ کے فرمان پر سب نے سجدہ بھی کرلیا مگر ابلیس نے سرتابی کی۔ حضرت آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر ان کو زمین میں اتارا گیا تو بڑے بیٹے قابیل نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں بنی اسرائیل میں نبوت وخلافت کا سلسلہ جاری رہا، پھر اللہ نے آخری نبیﷺ کی بعثت فرمائی۔ انصار ومہاجر اور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف واعتراض بالکل صحیح تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی شخصیت میں بڑے جامع تھے۔ بشریت، رسالت اور اولی الامر کے حوالہ سے آپﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے بہترین نمونہ تھا۔ شادی، طلاق، اولاد، رشتہ داری اور معاشرے میں انسانی ضروریات کے تمام معاملات سے آپﷺ کی بشریت اعلیٰ صفات سے مالامال اور بہترین نمونہ تھی۔ رسالت کا تقاضہ تھا کہ آپﷺ کی وحی کے ذریعے رہنمائی ہو، مذہبی ماحول نے جو گہرے اثرات معاشرے پر ڈالے تھے اس کا نتیجہ تھا کہ جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کی طرف سے شدید ترین طلاق ظہار کے مسئلہ پر مجادلہ کیا تو اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی جس کی تفصیل سورۂ مجادلہ کی آیات اور تفسیرو احادیث کی کتابوں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشاورت کا حکم بھی دیا تھا اور غزوہ بدر میں اکثریت کی مشاورت کے باوجود فدیہ کا فیصلہ ہوا،تو اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ غزوہ احد کا فیصلہ اپنی منشاء کے خلاف شہر سے نکل کر باہر لڑنے کا فیصلہ کیا اور حدیث قرطاس کی وصیت سے مزاحمت پر دستبردار ہوئے۔ اس تعلیم و تربیت کا عملی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہؓ اختلاف کے باوجود بھی نظامِ خلافت پرمتحد ومتفق رہے۔نبیﷺ نے انفرادی طور پر فرمایا: ’’امام قریش میں ہونگے‘‘ اور ’’بارہ خلفاء قریش سے ہونگے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی‘‘۔ یہ احادیث مستقبل کی پیش گوئی اور اخبار تھے۔ خلافت عثمانیہ عرصۂ دراز تک قائم رہی لیکن وہ قریشی نہیں تھے۔ ذیل کے نقشہ میں احادیث کا آرٹ دیا گیاہے۔ اور مغربی جمہوریت پر لوگ متفق ہوں تو یہ کفر نہیں بلکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے‘‘۔ اس حدیث سے مغربی جمہوریت ہی مراد ہوسکتی ہے۔ انتقال اقتدار کا سب سے پرامن اور عوام کے اختیار کا بہترین راستہ جمہوری نظام ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کی روح مفقود ہے، حضرت امام حسنؓ نے اکثریت کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو حدیث میں بھی آپؓ کی تائید ہے کہ ’’میرے اس فرزند کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے اختلاف کیا، خلفاء راشدینؓ نے اپنی رائے سے اختلاف کیلئے روڑے نہیں اٹکائے مگراب جمہوری پارٹیوں کے قائدین و رہنما ڈکٹیٹر شپ اور موروثیت کی پیداوار کی وجہ سے خچروں اور تیسری جنس کی طرح لگتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں یہ شہ سرخی لگی کہ ’’حامد سعید کاظمی نے اقرار جرم کرلیا‘‘ مگر شام کو حلف دیکر حامد کاظمی انکار کررہاتھا۔ حامد میر نے کہاتھا کہ شہباز شریف ڈان کی خبر پر پریشان تھا، پھر راحیل شریف پر توسیع کا الزام لگادیا ، کل یہ نہ کہے کہ راحیل شریف کو شہباز نے جھاڑدیا ، جیسے عرفان صدیقی نے حامد میر کے پروگرام میں صدر تارڑ کی جرنیلوں کے سامنے بہادری کا ذکر کیا ۔ صحافت مقدس پیشہ ہے، فواد چوہدری پرویزمشرف ، پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف میں آیا، کیایہ جائز صحافت ہے؟۔اگر صحافت کا پیشہ ٹھیک ہوجائے تو انقلاب آسکتاہے۔باقی دھرنے کے دوران حامد میر لیگیوں کا مذاق اڑا رہا تھا کہ میرے پاس پناہ لے رہے تھے۔ ڈان کی خبر پر بھی پیروں کو پکڑنے کی باتیں میڈیا پر ہورہی تھیں۔ حکمرانوں کے پاس حکومت کرنیکی اخلاقی قدریں نہیں، اسلئے کہ ڈکٹیٹر ، موروثیت اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔بس چلے تو گردن کو بھی پکڑ لیتے ہیں :بے بسی میں ٹانگیں بھی جکڑ لیتے ہیں۔

Naqsh-e-Inqalab-October-special2016

داعش کے پیچھے مغرب یا نظریہ خلافت؟ عتیق گیلانی

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں الماوردی کی کتاب’’ الاحکام السلطانیہ‘‘ کا تذکرہ ہے، علماء کا طبقہ اس کتاب کے نام اور احکام سے بالکل بے خبر ہے۔ ہزارسال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھی گئی یہ واحد کتاب تھی جو اس موضوع پر معروف و مشہور ہے۔ اس کتاب میں مسلم اُمہ کا اجتماعی فریضہ لکھا گیاہے کہ ’’ ایک خلیفہ مقرر کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ ’’ ایک ، دو یا چند افراد کے پہل کرنے سے خلیفہ مقرر ہوجائیگا اور پھر تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت فرض ہے‘‘۔ کتاب میں خلیفہ کے شرائط و صفات کا بھی ذکرہے۔ جن میں قریشی ہونا اور اعضاء کی سلامتی شامل ہے۔ جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے داعش کے امور پر مہارت رکھنے والے نے بتایا کہ ’’ داعش نے ملاعمر کے امیر المؤمنین بننے کو اسلئے مسترد کیا کہ وہ قریشی نہ تھے اور آنکھ سلامت نہ تھی‘‘۔
جس طرح کسی ملک میں بادشاہ یا وزیراعظم کی تقرری کے بعد عام باشندوں کیلئے رمضان کے روزے رکھنااور بقرہ عید کی قربانی ذبح کرنا بھی حکمران کے مقرر کردہ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے تابع ہوجاتا ہے اور سودی نظام بھی علماء ومفتیان کے فتوے سے حلال ہوتاہے،اسی طرح داعش کے خلیفہ اور انکے علماء ومفتیان جس قسم کے احکام بتاتے ہیں اور جو فتوے دیتے ہیں دنیا بھر میں ابوبکر البغدادی کی تقرری اور مقرر کردہ امیروں کا حکم چلتاہے اور اس کو سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جیسے اسماعیلیہ آغا خانیوں کا اپنا امام ہے، داودی بوہرہ کا اپنا امام ہے، میرا خیال ہے کہ اہل تشیع نے بھی ایرانی انقلاب اور امام خمینی کے بعد ہی پاکستان میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستانی قوم کی طرف سے سپاسنامہ میں خلافت موومنٹ اور کمال اتاترک کا تذکرہ کیا ، علامہ اقبال ، خلافت موومنٹ اور پاکستان کا حوالہ دیا لیکن اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کن متضاد پگڈنڈیوں پر چل کر قدم ڈگمگارہے ہیں اور نہ ہی زبان لڑکڑارہی ہے، جاہل تو ہوتے ہی لٹ مار ہیں، قومی اسمبلی کا سپیکر غیر جانبداری کا حلف اٹھاتاہے مگر ہمارے سپیکر صاحب غیر جانبداری کے فرض سے ناواقف۔
بہرحال طیب اردگان نے مسلم امہ کو قریب کرنے کی بات کرکے داعش کو مغرب کے کھاتہ میں ڈال دیا تو بھی حقائق کا ان کو پتہ ہوگا مگر جس طرح اپنے سیاسی حریفوں کے سکول پاکستان میں بند کرادئیے جن میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی تعلیم نہیں تھی، فوجی بغاوت پر بھی فتح اللہ گولن نے کہا تھا کہ ’’ہم خود ہمیشہ فوجی بغاوت کے خلاف رہے ہیں اور ہم نے ان کے تشدد کا خود بھی سامنا کیاہے تو ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ پاکستان ، ترکی ، امریکہ اور دنیا بھر میں مغربی جمہوریت سے الزام تراشیوں کے سلسلے جاری ہیں۔داعش کے سخت ترین حریفوں کا داعش میں شمولیت کو امریکہ اور مغربی سازش قراردینا نادانی ہے، یہ درست ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں بھی گڈ اور بیڈ کا تصور تھا،ایک نمبر اور دونمبر والوں کی عام شہرت تھی لیکن داعش ایک سازش نہیں بلکہ خلافت کا فلسفہ و نظریہ ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء کے ایک بہت بڑے پروگرام میں خلافت کی احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا اور تسلسل کیساتھ اپنے مشن کی اس طرح سے تشہیر بھی کرتے رہے۔ مولانا نیاز محمد قریشی (جو سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن ) نے یہ تقریر ’’آذانِ انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کی۔ بریلوی مکتبۂ فکر علامہ عطاء محمد بندھیالویؒ نے خلافت کو شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھی قریشی نہیں، مسلمانوں خلیفہ کا تقرر شرعی فریضہ ہے جو قریشی ہو۔ ڈاکٹرا اسرار کے ایک پروگرام میں علامہ طاہرالقادری اور دوسرے میں حزب التحریر اور المہاجرون تنظیم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خلافت کیلئے امام کا تقرر ہے اور امام کاتعلق سرحدوں سے بالاتر زمانہ کیساتھ ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ قادیانی بھی اپنے امیر وامام کی تقرری پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کی ریاست کو خلافت کا اعلان کرنا ہوگا۔ زندگی آساں گر حوصلہ بڑا ہے، منزل بڑی ہے تو امتحان کھڑا ہے ۔ خلافت سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے۔

اسلاف ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیوں؟ عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لااکراہ فی الدین ’’دین میں جبر کا کوئی تصور نہیں ‘‘۔ کسی کوزبردستی سے منافق تو بنایا جاسکتاہے لیکن مؤمن نہیں۔ منافق کادرجہ فی درک الاسفل من النار’’جہنم کا نچلا ترین ہے‘‘۔ایسا کوئی ماحول بنانا جس سے تشدد کے ذریعے منافقت کی راہ ہموار ہو اسلامی تعلیمات، فطرت اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ظلم وجبر، تشدد وزبردستی کا ہر گز نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی فرقہ واریت کا شدید ترین مسئلہ رہاہے لیکن اسلام نے اس کا حل قتل وغارت اور ظلم وتشدد سے پیش نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو قرآن میں تحفظ دینے کی تعلیم دی۔ صوامع، بیع، صلوٰت اور مساجد میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کی سند جاری کرکے مجوس،یہود ونصاری اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیاہے۔ یہ کسی مخصوص وقت کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے آیات ہیں اور جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں تو اس وقت کے یہود ونصاریٰ ، مجوس و صابی موجودہ دور کے مقابلے میں زیادہ گمراہ تھے۔ دنیا میں عذاب کے بھی مستحق اسلئے تھے کہ اس وقت انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، جن سے اتمام حجت بھی ہوجاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ’’ اور ہم عذاب نہیں دیتے ہیں یہاں تک رسول کو مبعوث نہ کردیں‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی، یہود نے بے انتہا مظالم کردیے، گستاخانہ ذہنیت کی انتہا کری مگر جب اسلام نازل ہوا تو عیسائیوں کو مشرکانہ اور یہود کو گستاخانہ ذہنیت کے باوجود برداشت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ نے فرمایا: ان الذین اٰمنوا والذین ہادووالنصٰری والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر لھم اجر فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے، اور جولوگ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لائے تو ان کیلئے اجرہے ، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
جس اسلام نے صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کے دل ودماغ میں بے پناہ وسعتیں پیدا کردیں، اسکے نام سے ہم نے جبروتشدد کی ایسی پگڈنڈی بنائی کہ دنیا کے مختلف ومتضاد مذاہب تو بہت دور کی بات ہے، اگر آیت میں انکی جگہ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کو رکھا جائے تب بھی فرقہ بندی کے خوگر اس ایمانی مٹھاس سے اتنا ہی پرہیز ضروری سمجھتاہے جتنا شوگر کا مریض قدرت کی عظیم نعمت مٹھاس سے۔ یہی حال رہا تو بعیدنہیں کہ جنت میں انواع واقسام کے مٹھاس سے دوسرے تو مانوس ہوکر خوف وغم سے آزاد بھی رہیں، تعصب سے قرآنی آیات کا کھل کر انکار کرنیوالوں کی قسمت میں جہنم کا شجرہ زقوم ہو۔ اللہ و آخرت پر بھی ایمان کے بعد اچھا عمل صدیقین، شہداء اور صالحین کی صف میں شامل کرتا ہے اور اچھے اعمال کے بغیر دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے والے ان لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جو مرد ہوکر بھی ایکدوسرے کیساتھ جنسی عمل کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ ان دونوں( فاعل مفعول) کو اذیت دو، اگر توبہ کریں تواللہ در گزر کرنے والاہے‘‘۔
صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے تشدد اور نفرت کی ایسی آگ نہیں بھڑکائی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسروں کے خلاف قتل وغارتگری اور جنگ وجدل کا بازار گرم ہو۔ اسلام افہام و تفہیم اور اچھے انداز کی تعلیم وتربیت سے جانی دشمن کے سامنے بھی ایسے انداز میں بات کرنے کی تلقین کرتاہے کہ جس سے وہ گرم جوش دوست بن جائے۔ انبیاء کرامؑ ،صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہوں پر چل کر صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے اختلاف کو تشدد میں بدلنے سے بچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ مثالی تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مسند پر شہید ہونا قبول فرمایالیکن فساد نہیں پھیلایا، حضرت علیؓ نے منصب سے دستبردار ہونے کی بات قبول کرلی مگر خوارج نے بغاوت کردی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہﷺ نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی صلح حدیبیہ میں قلم زد کیا‘‘ ۔ مگروہ نہ مانے اور کہا کہ ’’قریش بحث کرنے کے عادی ہیں‘‘۔اللہ نے میاں بیوی کے درمیان ایک ایک حکم دونوں طرف سے مقرر کرنے کاحکم دیالیکن تحکیم کو کفر قرار دیاگیا۔ صلح حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ قائم رہتے تو حضرت عمرؓ کے دور تک مسلمان اسی پر کاربند رہتے۔ دنیا میں عدل کے قیام کیلئے اسلام سے زیادہ پرامن جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ہے۔

داعش کافتنہ صحیح حدیث میں واضح ہے، ڈاکٹرطاہر القادری

امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد کی کتاب’’الفتن‘‘ میں داعش کی نشاندہی موجود ہے

آج تک میرے سیاسی اور مذہبی مؤقف کی کسی نے کبھی تردید نہیں کی ہے البتہ اختلاف کیا ہے

علامہ طاہرالقادری نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں داعش کے حوالہ سے رسول ﷺ کی احادیث کا حوالہ پیش کیا، حدیث کوپورا نقل نہ کیا۔ قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں: عن علی ابن ابی طالبؓ قال: اذا رأتم الرایات السود فالزموا الارض، فلا تحرکوا ایدیکم ولاارجلکم ثم یظھر قوم ضعفاء لایؤبہ لھم،قلوبھم کزبر الحدید، ھم اصحاب الدولۃ، لایفون بعھد و لا میثاق، یدعون الی الحق و لیسوا من اہلہ اسماء ھم الکنیٰ و نسبھم القریٰ وشعرھم مرخاۃ کشعور النساء حتیٰ یختلفوامابینھم ثم یؤتی اللہ حق من یشاء
( حدیث نمبر573، الفتن نعیم بن حماد)
ترجمہ’’ حضرت علیؓ سے روایت ہے فرمایا: جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو، تو زمین کو لازم کرلو، پس اپنی زبانوں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دو، پھر ایک قوم ظاہر ہوگی جو کمزور ہوگی جن کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور انکے دل لوہے کے ٹکڑے کی طرح ہونگے، وہ اقتدار والے ہونگے،جو پورا نہ کرینگے کسی عہد اور معاہدے کو۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہیں ہونگے،انکے نام کنیت والے ہوں گے،انکی نسبت شہروں کی طرف ہوگی،انکے بال عورتوں کی لٹکے ہوئے ہونگے،یہاں تک کہ ان کا آپس میں اختلاف ہوگا ، پھر اللہ جس کو چاہے گا حق دیدے گا‘‘۔
کالے جھنڈے طالبان اور القاعدہ نے اٹھائے، اس دور میں یہ حالت تھی کہ گوشہ نشینی کی زندگی اور زبان اور ٹانگیں نہ ہلانے کا حکم درست لگتا تھا، امریکہ نے حملہ کیا توبہت کمزور تھے،ان کا ٹھکانہ نہ تھا،انکے دل لوہے کی طرح سخت تھے،اصحاب دولہ اسلئے تھے کہ طالبان کی حکومت تھی اور امریکہ، پاکستان، قطر، یورپی یونین اور سب ہی ممالک ان کی پشت پناہی کررہے تھے ،بینظیر بھٹو کو ماراگیا، بینظیر نے انکو ڈالروں کے تنخواہ دار ہونے کا کہاتھا۔ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر شائع ہوئی تو اسکے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ برطانوی فوج کے سپاہیوں کو افغان فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا جو طالبان کو پیسے دے رہے تھے اور ردِ عمل میں شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ میں با عزت بری کردیا گیا۔ اغیار ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران ٹولے کو ایک ہاتھ میں رکھتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں باغیوں کو پالتا ہے۔ یہ الزام نہیں۔
امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تو کورکمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ ’’ ہم اکیلے نہ تھے یعنی تم بھی شریکِ جرم تھے‘‘۔ آج تک سب کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، اگر یہ گروپ آپس میں یہ کھیل ختم کرنے کیلئے نہ لڑتے تو حکومتوں نے ان کو پالنے کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ جنرل راحیل کی قیادت میں اسکا خاتمہ ہواہے لیکن اب بھی یہ کھیل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
حکومت ، اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں اگر خلوص ہو تو نہ صرف بھٹکے ہوئے طبقات کی اصلاح ہوسکتی ہے بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی امامت کی حقدار بن سکتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق جمعیت علماء ہند سے ہی نہ تھا بلکہ وہ کانگریس کے بھی رکن تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قرآن کے نزول کے وقت اس کے مخاطب عرب تھے ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت قرآن کا مخاطب پوری دنیا ہوگی ، جو اچھائیاں عرب میں موجود تھیں ، انکو باقی رکھا گیا اور برائیوں کو ختم کردیا گیا۔ نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آئیگا تو دنیا بھر میں اچھائیوں کو باقی رکھا جائیگا اور برائیوں کو ختم کردیا جائے گا‘‘۔نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، فرنٹیئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں موجود ہیں ، یہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لئے آئے پھر بھی ہم اس مرکزی حصے سے دستبردار نہ ہونگے‘‘۔
غسل کے تین فرائض سے تین طلاق کی تعبیر تک ، قرآن کی تعریف سے لیکر اجماع و قیاس تک نصاب کے نام پر مدارس میں بھی عجیب منطق پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا منیر احمد قادری نے لکھا’’مولانا یوسف لدھیانوی نے توبہ کی ؟ ، آسیہ ملعونہ کی کیا سزا ہے؟ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو منہ پر تھپڑ مارا ‘‘۔ نبی ﷺ نے ابن صائد کو قتل نہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے تھپڑ مارا ، پھر ہم بھی نئے سرے سے سوچیں؟۔ نادر شاہ

بلوچستان و پختونخواہ انڈسٹریل زون بن سکتے ہیں، فاروق شیخ

دنیا بھر میں مستقبل کا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے، پنجاب اور سندھ انسانی ، حیوانی اور نباتاتی حیات کیلئے قدرتی وسائل کے حامل ہیں

پختونخواہ اور خاص طور پر بلوچستان کے سنگلاغ پہاڑ ومیدان، دشت وصحرا انڈسڑیل علاقے کیلئے زبردست ہیں، گھر کے صحن اور بلڈنگ کو سمجھنا ہوگا

کراچی (پ ر) نوشتۂ دیوار نمائندۂ کورنگی فاروق شیخ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ کراچی کورنگی میں رہائشی اور انڈسریل ایریا دونوں کا وجود ہے۔پاکستان کے وسیع نقشہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ چھوٹا صوبہ بلوچستان کا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان کا شمار انشاء اللہ ہونیوالا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینوں میں سہولتوں کی ضرورت ہے، جہاں دنیا بھر سے لوگ اپنے کاروباری مقاصد کیلئے آئیں تو ان کو رہائش کی بہترین سہولتیں میسر ہوں۔ پاکستان ایک گھر کی طرح ہے جس میں بلڈنگ اور صحن ہوتاہے، کوئی صحن کی جگہ پر بلڈنگ اور بلڈنگ کی جگہ صحن والے کام نہیں کرتا۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر کارخانے لگ جائیں تو پنجاب رہائش کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ سابق صدر مملکت آصف زرداری نے کہاتھا کہ شریف برادران کے سر وں میں لوہار کا دماغ ہے جس کا وہ بہت برا مانے لیکن لوہار ایک محنت کش کو کہتے ہیں۔ حق حلال کی کمائی والا لوہار ہو یا کوئی بھی محنت کش ،اسکو خفت محسوس کرنیکی ضرورت نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا الکاسب حبیب اللہ ’’محنت کرکے کمانے ولا اللہ کا دوست ہے‘‘، حضرت داؤد علیہ السلام اور آپکے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام تو انبیاء کرام کیساتھ وقت کے خلفاء اور بادشاہ بھی تھے ، جن کو اللہ نے لوہے کی صنعت ذرے بنانا سکھایا ۔ اگر شریف برادران کو بھٹو کے دور میں اس صنعت سے ہٹنے پر مجبور نہ کیا جاتا اور یہ لوگ جنرل ضیاء الحق کے ہتھے چڑھ کرگندی سیاست کے عادی نہیں بنتے تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ اگر کسی کو وراثت میں قابلیت ملے تب بھی اسمیں کوئی برائی نہیں ہے بلکہ بہت اچھی بات ہے، داؤدؑ سے زیادہ قابلیت حضرت سلیمانؑ میں تھی جس کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے۔ ایسی قابلیت کی بنیاد پر وراثت ملتی ہو تو کون اعتراض کرسکتاہے لیکن بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے بجائے کوئی روبوٹ لایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جنرل ایوب خان ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ نہ بناتے تویہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہم دنیا کے صنعتی ترقی میں عروج پر پہنچے ہوئے ہوتے۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ملک کی قیادت نہیں کی ہے بلکہ اپنی تجوریاں بھری ہیں۔ اگر ان میں خلوص ہوتا تو سی پیک اور ایرانی گیس کا مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا۔ بجلی اور گیس سے محروم عوام کا سیاستدانوں کے پاس احساس بھی نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ دونوں خاندانوں کے احتساب کو یقینی بناکر ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ کرپشن تحریک انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے ۔ دانشوروں کو چاہیے کہ قومی سیاست پر خاندانی تجارت کے راستے کو روکنے میں عوام اور ریاستی اداروں کا شعور بیدار کریں۔ کھلے ڈھلے الفاظ میں ان کو سمجھائیں کہ کیا نوازشریف عمرہ جاتی کے محل پر بلڈنگ میں صحن والے کام انجام دے گا اورصحن میں بیڈروم کے اشیاء ڈالے گا؟۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے پر پنجاب کے دل ساہیوال کا بیڑہ غرق کر رہاہے۔ لاہور کے آس پاس علاقوں میں غریب کے بچے صنعتی زہریلی گیس سے ہی معذور ہورہے ہیں، میڈیا کو اشتہارات دیکر خریدا گیاہے۔ان مہلک امراض سے بچاؤ کی ذمہ داری کس کی ہے؟۔ غریب کے بچے منرل واٹر کیا پینے کے صاف پانی سے پنجاب میں بھی محروم ہیں۔ زہریلے مادوں کے اخراج سے جو نقصان پنجاب کی عوام کو پہنچ سکتاہے ، بھارت کو ہمیں مارنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
کراچی میں زیرزمین سمندر کا پانی ہے لیکن یہاں سے بھی صنعتی علاقوں کو انسانی آبادیوں سے بہت دور لے جانے کی ضرورت ہے، اور پنجاب میں تو زیادہ تر زیرزمین پانی ہی استعمال ہوتاہے ، پاکستان میں صنعتی آلودگی کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے تو دشمن کو مارنے کی بھی ہمیں ضرورت نہیں رہے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن نے بدمعاش کلچر متعارف کروا رکھاہے جس کی ایک جھلک میڈیا پر ڈاکٹر نعیم باجوہ کے حوالہ سے عوام نے دیکھی تھی۔ اس بیچارے کا یہ قصور تھا کہ ن لیگ کے ایم این اے کی جگہ پر اس کا بھتیجا امتحان دیتے ہوئے پکڑا تھا۔ پرویز خان سے استعفیٰ لینے کی بات سے زیادہ اہمیت کا معاملہ یہ تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کو اپنے بدمعاش بھتیجے عابد شیرعلی کو سیاست سے آوٹ کرنا چاہیے تھا، اس سے زیادہ بدمعاشی تو ایم کیوایم اور طالبان نے بھی نہیں کی ہے۔

ناکام عدالتی نظام کی وجہ سے طالبان اور شدت پسند: اشرف میمن

1916ء سے 2016ء تک لاہور ہائیکورٹ میں کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا تو عدلیہ میں جرگہ سسٹم کیوں نہیں رکھا جاتا

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ پانامہ لیکس پر کیمرے کی آنکھ عدالت کے ججوں کو دیکھ رہی ہے۔ماضی بعیداور ماضی قریب میں عدالت عظمیٰ اور اسکے ججوں کا کردار ایک سیاہ باب ہے۔ ججوں نے عدالت کیساتھ اپنا منہ بھی کالا کیا ہے۔جسٹس ڈوگر کیخلاف شہبازشریف کی تقریروں کی گونج اب بھی لوگوں کے کانوں میں موجودہے۔یہ پاکستانی ریاست اسلام کے نام پر بنی ہے اور اس میں جرنیل، جج اور جرنلسٹ کی آزادی اور غیر جانبداری بہت ضروری ہے۔ جانبدارانہ کردار اپنے پیشہ ،ملک وقوم سے غداری ہے۔ اب زمانہ بدلاہے اگر عدالت عظمیٰ نے سوئس اکاونٹ کیخلاف خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کو ناہل قرار دیا اور دوسرے کو بچایاتو ڈوگرکا جو حشر کیا گیا تھا،وہی جسٹس جمالی کا بھی ہوگا، شہباز کی شوبازی سے زیادہ مؤثر انداز میں قوم پرست اور شدت پسند حبیب جالب کی شاعری سے عوام کے دل و دماغ گرمائیں توپھرملکی سلامتی خطرے میں پڑجائیگی، شاکر شجاآبادی کی شاعری کالجوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے، وہ کہتاہے کہ جن مساجدمیں اللہ کی عبادت اورمخلص نمازی ہیں وہ بیت اللہ ہیں اور جو ملاؤں کے کاروبار ہیں ان کو گرادو۔ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے، ایسی عدالتوں کو عملے کیساتھ اُڑادو‘‘۔ اگر عدلیہ بچوں کی طرح چھٹیوں پر نہ جائے تو …
عدالت میں قطری شہری کا جو خط پیش کیا گیا ، عدالت ،وکیل اور جج جانے نہ جانے لیکن دنیا جانتی ہے کہ معاملہ اب سیاہ وسفید کی طرح سامنے آگیاہے۔ عرب حکمران بادشاہ ہوتے ہیں یا شہزادے، ججوں کا نعیم بخاری پر قہقہ لگانا کسی وجہ سے ہوگا ۔ خوبصورت ہونا شہزادے یا شہزادی کی علامت ہواور بادشاہوں کا چوپٹ راج ہو تو بادشاہ عوام کی بیگمات بھی چھین لیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ جلیل القدر نبی نے اپنی بیگم حضرت سارہؑ کو جھوٹ بول کر زوجہ کے بجائے اپنی ہمشیرہ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عزت بچائی اور خدمت کیلئے لونڈی حضرت حاجرہؓ بھی دیدی،جو حقیقت میں ایک شہزادی تھی۔ بادشاہ کے ظالمانہ دور میں یہ تمیز مشکل ہوتی ہے کہ شہزادی اور لونڈی میں فرق کیا ہے؟۔ نعیم بخاری خوبصورتی کو شہزادے کیلئے معیار سمجھتے ہیں تو ان کی سابقہ بیگم طاہرہ سید بڑی شہزادی ہوگی جو شاہِ وقت نوازشریف کے کرتوت سے چھن گئی تھی۔ ججوں نے شاید نعیم بخاری کے معصومانہ جواب پرتاریخی پیرائے میں قہقہ لگایا ہوگا؟۔ مظلوموں کی بے بسی پر توہینِ عدالت سے پیشگی معذرت کیساتھ ہنسنابھی منع نہیں۔ جنتی عیش میں شجرۂ ممنوعہ سے انسان نہیں رُکتا، حضرت داؤدؑ اورسلیمان ؑ انبیاء کو بادشاہت ملی ہے تو مجاہد اوریا کی خوبصورت بیگم کو بھی ہتھیالینے اور ملکہ سبا بلقیس کی ٹانگوں کے قصے بن گئے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’ایک بھائی کے پاس 99دنبیاں ہوں اور دوسرے کے پاس ایک ، اور وہ یہ بھی ہتھیالیناچاہے تو کیساہے؟‘‘ ۔
نوازشریف کی معصومیت حماقت ہے،اللہ کی ذات پاک ہے، معصومیت کی تشریح حقائق کے منافی ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے شادی کی خواہش ظاہر کی اور پھر کہا کہ ’’میرے ازدواجی تعلقات خوشگوار ہیں‘‘۔ یعنی دوسری شادی کا جواز ناخوشگواری کے باعث ہے، حالانکہ انکے والد مفتی محمودؒ نے خوشگوار تعلق میں بھی دوسری شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ سے فرمایا :’’ اب کوئی شادی آپ نہ کریں چاہے کوئی خاتون شادی کیلئے اچھی بھی لگے‘‘۔ شادی کی چاہت ، شادی کا کرنا معصومیت کیخلاف نہیں ۔ نوازشریف کی معصومیت پر وسیم بادامی کے بقول معصومانہ سوال ہے کہ ’’قطری شہری کا خط آپ کا وکیل اکرم شیخ عدالت میں لایا؟، اکرم شیخ کا یہ کہنا درست ہے قومی اسمبلی کی تحریری تقریر میں حوالہ بھول گئے ؟۔تو لیجئے آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ قطری شہری کا خط گرفت کیلئے کافی ہے، سرمایہ کاری پریہ نہیں کہا جاتاکہ ’’مجھے آگاہ کیا گیا‘‘ بلکہ دستاویزی ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ کہنا کہ’’ مجھے آگاہ کیا گیا ‘‘ کھلے الفاظ میں جھوٹ کا بہت بڑا پلندہ ہے ۔قطری خط بذاتِ خود ثبوت نہیں بلکہ تابوت ہے‘‘۔
وکلاء اور ججوں کے پاس تعلیم کی ڈگریاں ہونگی اور تعلیم کی ڈگری سے زیادہ کاروباری معاملہ کا لکھت پڑھت سے تعلق ہوتاہے۔ ایکزٹ کی طرح دنیا بھر میں جعلی اسناد بکتی ہیں بنوں میں علماء کی اسناد بکنے کا مسئلہ مشہورہے۔ قابلیت کا پتہ ڈگری کے بغیر بھی چلتاہے۔ ملک ریاض نے ڈگری کے حامل لوگوں کو ملازم رکھاہے۔ نوازشریف کا سب سے بڑا اعزاز محنت کرکے کمانا تھا۔ جب پکی پکائی تازہ روٹی قطری شہزادہ دیتا تھا تو پھرنوازشریف اور اسکے خاندان کا کیا کمال ہے؟۔ پھر کس بات پر حمزہ شہبازفخر کرتاہے کہ ’’میں ایک مزودر کا بیٹا ہوں‘‘۔ مزدوری سے اونچی اڑان ہوتی تو پاکستان میں بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی۔ بعض لوگوں کی بدلی ہے مگر ا نکے پاس ثبوت بھی ہیں۔ وہ فوجی ڈکٹیٹروں کیساتھ مل کر حکومتوں کے ذریعے کرپشن نہیں کرتے رہے ہیں۔ کاروباری معاملہ ہو تو اللہ نے قرآن میں اس وقت بھی انصاف کی حامل تحریر کا حکم دیا تھا جب کاروباری معاملے میں عام بینکوں وغیرہ کا رواج بھی نہ تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میاں شریف نے کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر ہی اتنی بڑی کاروباری رقم قطری شہری کو دی ہو؟۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ مجھے آگاہ کیا گیا بلکہ دستاویزی معاملہ پیش کیا جاتاہے۔ ججوں نے اگر معاملہ الجھانا ہے تو وکالت کے پیشے کی مہارت کے ثبوت کیلئے ضروری ہے کہ جتنا ممکن ہو معاملہ الجھایا جائے اور کسی جج کی اہلیت کیلئے وکالت کا تجربہ ہی بڑی بنیاد ہوتاہے۔ وزیراعظم کی وکالت کرنی ہو تو حماقت بھرا خط مسترد کیا جائے کہ چور کا اپنے ہاتھوں کو خودہی کاٹنے کے مترداف ہے اور اسے حضرت یوسفؑ کے حسن میں ہاتھ کاٹنے والی خواتین کی معذوری قرار دیاجائے۔ عدالت پہلی فرصت میں خط ہی مسترد کردے اور وکیل دوبارہ اسکی تصدیق کیلئے مہریں ثبت کرکے نہ لائے۔ مخالف وکیل خط کے دلیل کا حوالہ دے تو اکرم شیخ کہہ دے کہ ’’غلطی سے یہ خط لایا گیا، وزیراعظم پارلیمنٹ میں بھولا نہ تھا بلکہ میرے مؤکل نے اس خط کو مسترد کیا ہے‘‘ اور اگر عمران خان کے وکلاء نے معاملہ جیتنا ہے تو خط کا قضیہ فیصلہ کن قرار دیں۔ جج شہزادے کی تشریح پرنہیں وکیل کی نااہلی پر قہقہے لگاتے ہونگے۔ ججوں کی چاہت ہوگی کہ قانون کی اندھیر نگری نے ہاتھ باندھے ہیں، قومی دولت کو مال غنیمت سمجھ کرلوٹنے والا عدالت کی گرفت میں آجائے ۔عدالت کا فیصلہ وزیراعظم کے حق میں یا خلاف ہو، دونوں صورت میں پاکستان شاندار مستقبل کی طرف پرواز کریگا، معصوم کوئی بھی نہیں لیکن وزیراعظم کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہے، بے دریغ قرضوں سے عوام پر ٹیکس بڑھ گیاہے، ایک عام مزدور کی تنخواہ 10سے12ہزار کرنے پر بھی فخر کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے اتنی رقم میں مہینے کے اخراجات پورے کرکے دکھائیں۔ علی احمد کرد کاکہنادرست ہے کہ وزیراعظم غریبوں سے ہی ہونا چاہیے،ملک کا 2فیصدامیر طبقہ 98% غریبوں کامسئلہ سمجھنے سے قاصرہے ۔کرپٹ حکمران کرپشن ہی کرسکتے ہیں
شاہ ولی اللہؒ نے نظام کو پلٹنے کی بات کی تھی، عدالت کے اس فیصلے سے نظام کا کایاہی پلٹ جائیگا۔