اگست 2016 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

اسلام کا مذہبی طبقہ نے بیڑہ غرق کردیا،ڈاکٹر سید وقار حیدر شاہ سیالکوٹی

فوجی، سیاستدان، عام آدمی، پڑھالکھا،ان پڑھ، ڈاکٹر،انجینئر، سائنسدان، بینکار اور مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے والا بالکل عام وہ شخص جو مولوی نہ ہو یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ اسلام فطری دین ہے جسے ہر فرد بخوبی سمجھ سکتا ہے مگرمولوی کے دل پر اللہ نے تالا لگا دیا ہے ۔غیر مسلم سکھ، ہندو، یہودی، عیسائی، بدھ مت ، مجوسی اور دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے انسانوں کو اسلام پوری آب وتاب کیساتھ سمجھ میں آجائیگا مگرعلماء ومفتیان کی اکثریت زنگ آلودہ دل، ضد، ہٹ دھرمی، کوتاہ ذہنی،قاصر دماغی ، مفادپرستی، فرقہ وارنہ عصبیت ، طبقاتی عناد ، کورنگاہی اور معصومانہ حماقت کے سبب اسلام کو سمجھنے میں دیرلگادیگی، جانور تو سب ہی جانور ہیں لیکن گدھا ضرب المثل ہوتاہے، اللہ نے یہود ی علماء کو گدھے سے تشبیہ دی اور نبیﷺ نے انکے نقش قدم پر چلنے کی پیشگوئی فرمائی تھی جو بالکل درست ثابت ہورہی ہے اور آج تمام طبقے اپنے احوال میں علماء سمیت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔
عورت صنفِ نازک اور مرد طاقتورہے، دونوں میں لڑائی ہوتو عورت زبان کی تیز اور مرد ہاتھ چھوڑہوگا۔ یہ ایک غیرمعمولی کیفیت ہوتی ہے کہ زبان درازی کے مقابلہ میں ہاتھ چلنے اور مارکٹائی تک بات پہنچ جاتی ہے۔اگراللہ شوہر پر پابندی لگادیتا کہ بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے تو باتونی لڑائی کا بازار گرم ہوتا اور زندگی اجیرن بن جاتی،چرب زبانی کا مقابلہ ہاتھ سے ہوتا ہے، اللہ نے شوہر کو اجازت دیدی واضربوھن ’’اور انکو مارو‘‘۔ ایک عام انسان سوچتا ہے کہ نعوذباللہ یہ کتنا ظلم ہے کہ اللہ نے شوہر کو ٹھنڈا کرنے کی تعلیم دینے کی بجائے الٹا بیوی کو مارنے کا حکم دیا ، مذہب سے زیادہ سیکولر و سوشلسٹ نظام میں عافیت ہے لیکن کیا وہاں عورت پر تشدد نہیں کیا جاتا ہے؟۔ اسلئے تویہ قوانین بھی بنائے گئے ہیں کہ ’’عورت مار کھانے کی بجائے فوری طور سے پولیس کو اطلاع کردے‘‘۔
قرآن نے حکمت اور فطری تقاضوں کو پورا کرکے عورت کو شوہر کی مار سے بچانے کا نسخۂ کیمیا بتادیا۔ شوہر کی بیوی سے دشمنی نہیں ہوتی ،مارکٹائی اور تشدد کی عادت فطری تعلیم سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے پہلے مرحلے میں شوہر کو پابند بنایا کہ وہ بیوی کو سمجھائے۔ پھر دوسرے مرحلہ میں بستر الگ کرلے، پھر تیسرے مرحلہ میں مارنے کی بات ہے۔یہ مارنا سزا نہیں بلکہ عورت کی توہین ہے۔کوئی معزز انسان اپنی توہین و اہانت برداشت نہیں کرسکتا۔ہلکی ماربھی رسوائی ہے۔ بدکاری پر100کوڑے کی سزا میں مؤمنوں کے ایک گروہ کوگواہ بنانے کا حکم جسمانی سزا سے زیادہ روحانی اذیت اور شرمندگی کا احساس ہے۔ عورت کی سرکشی کا خطرہ ہو اور مار سے اطاعت کرلے توفرمایا:’’ ان کیلئے (مارکٹائی ، باتیں سنانے کی) راہیں تلاش نہ کرو‘‘۔اللہ نے یہ بھی فرمایاہے کہ ’’اگر ان دونوں میں جدا ہونے کا خوف ہو تو دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار کو فیصلے کیلئے حَکم بنایا جائے۔۔۔‘‘
فوج کی حکمرانی اسلئے غلط ہے کہ انکی تربیت دشمن کیلئے ہوتی ہے ،انکا عوام سے برتاؤ اچھا نہیں ہوسکتا ، البتہ سیاسی قائدین آمریت کی پیداوارہیں۔ ریاست ماں جیسی مگرماں انسان نہیں کتیا جیسی ہے ، ریاست کے اہلکاروں کا اپنی عوام سے سلوک کتوں کے بچوں کا ہوتاہے،اگرہم قرآن کیمطابق مہذب بن کر ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو انکے حقوق دینگے تو ہماری ریاستی اداروں کا رویہ بھی درست ہوگا، کشمیر وفلسطین اور سب ہی آزاد ہونگے۔
بیوی کوشوہر کی شکل ،کرداراور سلوک پسند نہ ہواورچھوڑنے کی اجازت ہوتو شوہر ایسا سلوک روانہ رکھے گا کہ عورت اسکو چھوڑ کر جائے،رویہ کی وجہ سے شکل بھی بری لگتی ہے۔ یہ اسلام نہیں کہ شوہر کے ہرطرح کے ناروا رویے کے باوجود لفظِ طلاق کا پابند بنایا گیا ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح کا عقدہ بہت مضبوط اور شوہر کا اختیار ہے لیکن اس دائرہ اختیار کے بھی حدود ہیں۔ طلاق کی ایک صورت الفاظ کی ہے، دوسری صورت عمل سے طلاق کی ہے ، پہلے اللہ نے طلاق کی عملی صورت کو واضح کیا اور پھر طلاق کے اظہار کو واضح کیا ۔پہلے اللہ نے عورت کی طرف سے شوہر کو چھوڑنے کی وضاحت کی پھر شوہر کی طرف سے بیوی کو چھوڑنے کے اختیار کی وضاحت کی۔ ہاں ہاں! مولوی سمجھے گا نہ مانے گا۔مذہبی طبقہ تو قرآن وسنت کیخلاف ایک طلاق کے بعددوطلاقوں کے باقی رہنے کا تصور دوسری شادی کے بعد بھی رکھتا ہے حالانکہ دو مرتبہ طلاق کاتعلق طہروحیض کے ادوار سے واضح ہے۔
قرآن گنجلک،الجھی ہوئی اور بھول بھلیوں کی کتاب نہیں بلکہ اسکی آیات بینات کی فصاحت و بلاغت اتنی واضح ہے کہ عام انسان بھی بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے فرمایا: عورتوں کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو!،اور اسلئے ان کو نہ روکو، کہ جو تم نے انکو دیااس میں سے بعض واپس لے لو، الایہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ انکے ساتھ اچھا معاملہ کرو، اگر وہ تمہیں بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘(سورۂ النساء آیت19)۔ ہٹ دھرم اورغیرت وحسِ انسانی سے عاری علماء کی اکثریت کے علاوہ اس آیت کے افہام وتفہیم کا ادراک ہر بنی نوع انسان بخوبی کر سکتا ہے۔ پہلے واضح فرمایا: عورت کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو، بیوی کی ملکیت کا تصور باطل قرار دیا، پھر وہ چھوڑ کر جانا چاہیں تو اسلئے نہ روکو ،کہ دی ہوئی چیزمیں سے بعض واپس لے لو مگر فحاشی کی صورت مستثنیٰ ہے۔ عورت کھلی فحاشی کی مرتکب نہ ہو تو شوہر کی طرف سے بعض دی ہوئی چیزوں سے محروم کرنے کے اقدام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔ ایسے موقع پر بیوی پر غصہ و بدسلوکی کا اندیشہ ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ بری بھی لگیں مگر اللہ نے پوری صورتحال کا زبردست طریقے سے احاطہ کرکے تمام پہلوؤں کو واضح کردیاہے کہ ’’پھر بھی انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، وہ تمہیں بری لگ رہی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘۔ بالفرض عورت شوہر سے نباہ نہیں کرنا چاہ رہی ہے، چھوڑ کر جانا چاہ رہی ہے تو اس کو انا کا مسئلہ بناکر بدسلوکی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ٹھنڈا پانی پی کر برداشت کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس طرح چھوڑ کر نہ جائے یا اس کیلئے رکاوٹ پیدا کی جائے اور کل کلاں عزت تارتار ہوجائے، زندگی اجیرن رہے، بدمزگی کی صورتحال دائمی طور سے رہے تو اس کی بجائے ان کو حسنِ سلوک سے چھوڑنے کی بات میں بہت سارا خیرپنہاں اور چھپا ہوا نہیں بلکہ عیاں اور واضح ہے۔
غیرت یہ ہے کہ عورت کی وفاداری مشکوک ہوجائے تو بھی چھوڑنے میں لمحے کی دیر نہ لگائی جائے لیکن جب عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہو اور شوہر اس کو رکنے پر مجبور کرے تویہ شوہر کی غیرت نہیں حد درجہ بے غیرتی بھی ہے، اللہ نے اس آیت میں غیرت ہی کی تعلیم دی ہے مگر بے غیرت قسم کے معاشرے میں بے غیرتی کو ہی بڑی غیرت سمجھ لیا جاتاہے ۔ مذہبی طبقہ کی اکثریت کو چھوڑ دو، یہ قرآن سمجھنے کی صلاحیت سے ہی خود کو عاری کرکے دل اور دماغ پر زنگ چڑھا چکی ہے، کسی حسنی اور حسینی مہدی اور امام برحق کے انتظار میں ان کو بیٹھے رہنے دو،جو گمراہی کے قلعے مدارس اور ان زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا۔
اگلی آیت میں اللہ نے شوہر کو بیوی چھوڑنے کی اجازت دی فرمایا : ’’اگرکوئی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہے تو اگر کسی ایک کو بہت سارا مال دیا ہو تو بھی اس میں سے کچھ لینا جائز نہیں ۔کیا تم بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کے ذریعہ سے بعض مال واپس لوگے؟‘‘۔ (آیت20سورۂ النساء)۔ عورت چھوڑ کر جانا چاہے تو بھی دیے ہوئے مال میں بعض کی واپسی کو صرف فحاشی کی صورت میں مستثنیٰ قرار دیا ، اسی آیت کے ذیل میں خلع کی احادیث کو درج کرنا تھا، عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہوتو اس کو خلع کہتے ہیں۔شوہر چھوڑ نا چاہتا ہوتو بہتان لگاکر عورت کو بعض چیزوں سے محروم کرنے کے کھلے گناہ سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: کیا تم ان پر بہتان لگاؤگے اور وہ تم سے لے چکیں میثاق غلیظ پکا عہدوپیمان۔ آیت21
اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے میثاقِ غلیظ لینے کا ذکر کیا ہے اور بیوی کا شوہر کو امانت سونپ کر رازداری کے مقدس عمل کو بھی میثاقِ غلیظ قرار دیا ہے۔ کم عقل علماء و مفتیان نے نکاح کے اس مقدس عہدوپیمان کی ضد کو طلاق مغلظہ کا نام دیکر اسکے مفہوم کا بھی ستایاناس کردیا ہے۔ یہ بیوقوف ہٹ دھرم اورانتہائی معصوم احمق طبقہ کہتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا عورتوں کو مغلظہ یعنی اپنے اوپر غلیظہ بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق نہیں نکاح میں مباشرت کے مقدس عمل کو ہی میثاقِ غلیظ (پکا عہدوپیمان) قرار دیا تھا۔ جو اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کی مثال دینی بھی مشکل ہے۔ عدت تک قائم رہتا ہے، عدت حمل کی صورت میں ہو وضع حمل تک اور طہرو حیض کی شکل میں ہو تو تینوں مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے باوجود عدت کے خاتمے تک باہمی رضامندی اور صلح سے معروف طریقے پر اللہ نے بار بار روجوع کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ البقرہ،النساء، المائدہ، الاحزاب، المجادلہ اور سورہ طلاق کی آیات کو دیکھا جائے تو عالم انسانیت قرآن کی عظیم انسانی منشور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیگی۔
امام ابوحنیفہؒ کا مسلک اقرب الی الحق اسلئے ہے کہ اللہ نے ایلاء پر چار ماہ کے انتظار کا حکم دیا اور طلاق کے عزم کے باوجود اظہار نہ کرنے پر مواخذے کی وضاحت کی ۔ علامہ ابن قیم اور جمہورائمہ و محدثین کے نزدیک نعوذباللہ چار ماہ کا انتظارمحض ایک شوشہ، فضول اور بکواس ہے، جبتک شوہر طلاق نہ دے عورت چارماہ کیا زندگی بھر انتظار کریگی۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ نے کہا’’ چارماہ تک انتظار عزم کا اظہار ہے اسلئے طلاق ہوجائیگی‘‘۔ قرآن میں اختلاف کی گنجائش نہیں، عورت کے حق کابیان ہے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں تین مراحل یا تین ماہ انتظار کرنے کی پابند ہے اور عزم کا اظہار نہ کرنے پر ایک ماہ کا اضافہ ہے اگر عورت کاحق ملحوظِ خاطر رہتا توآیت میں اختلاف کی گنجائش نہ رہتی۔مرد طلاق دے اور عورت انتظارکی پابندہو تو اس سے بڑھ کر درجہ کیاہوسکتاہے؟۔ حقوق نسواں کی بحالی سے مغرب اسلام کی طرف راغب ہوگا اورہر قسم کا غلام آزادی پر آمادہ ہوگا۔

اسلامی انقلاب یا سوشلزم کی جدوجہد؟ نادر شاہ

سوشلزم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ذاتی ملکیت اور دولت کا خاتمہ کرکے ہر چیز سرکار کی تحویل میں ہو، ایران کے ایک بادشاہ نے ’’زر، زمین اور زن‘‘ کو فتنہ قرار دیکر فیصلہ کیا کہ ہرچیز ریاست کی ہوگی۔ لوگ اپنے اوقات کار میں اپنی استعداد اور صلاحیت کیمطابق جو زندگی گزاریں گے وہ سرکاری ہوگی۔ یہ نظام اس وقت کامیاب ہوسکتا تھاجب انسان کی مرغیوں کی طرح کچھ نسلیں ہی ہوتی ۔ ان میں زیادہ تر برائلر باقی انڈے دینے والی، جنگجو اور فینسی وغیرہ کی انواع واقسام۔ اس طرح سے وہ حدود وقیود میں رہ کر زندگی گزارتے۔
علامہ اقبال نے ’’فرشتوں کا گیت ‘‘ کے عنوان سے اس نظام کی تائید کی،جسکا ایک شعر’ جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘ ہے اور اقبال نے کارل مارکس کا کہا کہ ’’وہ پیغمبر نہیں مگر اسکے ہاتھ میں کتاب ہے‘‘۔ اس نظام کا یہ خلاصہ ہے کہ جس طرح اسلام نے سودی نظام میں مال کے ذریعہ مال کمانے کو بدترین کہا ہے ، صرف قرض رقم نہیں بلکہ نقد سونا چاندی اور خوراک کے مختلف اشیاء کا نام لیکر اسمیں زیادتی کو سود کہا ہے۔ اسی طرح وہ تمام ذرائع اور وسائل جسکے ذریعہ سے مزدور کی محنت کا استحصال ہو، یا کسی بھی مالی ذریعہ سے زائد منافع کمایا جائے وہ سب کا سب سود اور ناجائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی کسی کو دس لاکھ روپیہ دے اور دس ہزار ماہانہ سود لے یا اس دس لاکھ پر مکان خریدے اور اس کا ماہانہ دس ہزار کرایہ لے دونوں ہی سود ہے۔
جس طرح سے موجودہ سودی بینکاری کو اسلام سے بدل دیا گیا ہے، اسی طرح سے مکان کا کرایہ بھی سود کے جواز کیلئے ایک حیلہ ہے۔ اسکا فیصلہ کن حل کارل مارکس نے نکالا ہے کہ مزدور جو محنت کرتا ہے ، سرمایہ دار اس کی محنت کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اسلئے زر کا نظام ہی ختم ہونا چاہیے۔ روس اور چین میں مزدوروں کی فلاح والا نظام تھا اور یورپ اور مغربی ممالک اورآسٹریلیا ، جاپان وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہے لیکن ہمارا مزدور اور وہ محنت کش طبقہ جس کو حکومت چھین لینے کی دعوت دی جاری ہے ،سرمایہ دارانہ نظام والے ممالک کی طرف بھاگتا ہے ، روس و چین کی طرف باندھ کر بھی لے جایا جائے تو نہیں جاتا اور اگر وہاں انکے حالات بدلتے یا عقیدت ومحبت رکھتے تو پھر وہاں جانے میں کیا تھا؟۔
محترم لال خان صاحب اور دیگر محنت کشوں کا علمبردار طبقہ اپنے خلوص سے سوچنے پر مجبور ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب مسائل کا حل ہے،اگر محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر انسان کو معاوضے کی تلاش ہو تو سرمایہ دار اور جاگیردار سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ہی مفاد کیلئے محنت اور صلاحیت کا پورا پورا معاوضہ دے لیکن اگر ریاست ہی مالک بن جائے تو پھر حکومت سے لڑنا معمولی بات نہیں ، ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہے۔ مزدوروں اور محنت کشوں کو قربانی کا بکرا بناکر نظام کی تبدیلی کیلئے استعمال کیا جائے اور پھر بھی اس کی قسمت نہ بدلے تو کون کس کا کیا بگاڑ سکتا ہے، آخرت میں مواخذے کا خوف بھی گارگر ہوتا ہے اور یہ بھی اس نظام میں بالکل مفقود ہوجاتا ہے۔طبقاتی تقسیم میں ایک دوسرے کیخلاف اکسانے کے کام سے اصلاح ہوسکتی ہو تو یہ قوتِ مدافعت کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہے اور مقابلے میں ترقی کا عمل جاری رہتا ہے اور اس قسم کی کاوشیں ہونی چاہئیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے غلام کو عبد قرار دیا، اور یہ بھی بتادیا کہ عبدیت(غلامی) کسی اور کی نہیں صرف اللہ کی ہی ہوسکتی ہے۔ غلامی کی جو جراثیم ہڈیوں اور رگوں میں سرائیت کر چکے تھے ، اللہ تعالیٰ نے نسل در نسل غلام رہنے والی قوموں کوبہت محدود وقت میں بڑی زبردست حکمت سے نکالا۔ مشرک رشتہ داروں کی نسبت سے عبدمؤمن اور مؤمن لونڈی سے شادی کو بہتر قرار دیا۔ فیض احمد فیض بہت بڑے انقلابی تھے لیکن کسی غریب گھرانے کی خاتون سے بھی شادی نہ کی لونڈی سے شادی تو بہت دور کی بات ہے۔ اللہ نے قرآن میں طلاق شدہ، بیواؤں کی شادی کرانے کا حکم دیا،تو صالح غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کرانے کا بھی حکم دیا ۔ اللہ نے قرآن میں لونڈی بنانے کے رسم کو اہل فرعون کا وظیفہ قرار دیا اور اس رسمِ بد کو ختم کرنے میں اسلام نے بہترین کردار ادا کیا ،کسی غلام کو آقا سے نفرت یا مارکھلانے کی بجائے حسنِ سلوک اور سہولت سے آزادی دلائی ۔کالے حبشی غلام حضرت بلالؓ نے وہ عزت پائی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج کو انکے پاؤں کی خاک کے برابرنہیں سمجھا جاتا ۔بڑے بڑے لوگ ان کا نام گرامی رکھنے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
سرمایہ دار ملکوں میں محنت اور صلاحیت کی وہ ناقدری نہیں ہوتی جوسوشلسٹ نظام میں ہوتی ہے۔ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے کچھ نے اپنی صلاحیتوں کا صلہ پایا اور پھر اپنی دولت کو غریبوں کیلئے وقف کردیا۔ ہمارے ایک ساتھی شاہ وزیرخان بنیرسوات کا رہاشی ہے، پہلے داڑھی لمبی تھی اور پھر چھوٹی کرلی۔ لوگوں نے کہا کہ افسوس تم نے داڑھی چھوٹی کرلی ہے؟۔ اس نے کہا :’’ جب میری داڑھی بڑی تھی تو کونسا تم میرے پیچھے بوتل لیکر گھومتے تھے کہ اس کو دم کردو، پہلے بھی یہی شاوزیرتھا اور اب بھی وہی شاہ وزیرہوں‘‘۔
ایک مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے کی حالت اپنی صلاحیت کیوجہ سے بڑی مشکل سے بدل سکتی ہے۔ برائلر مرغے کولڑنے والے اصیل مرغے سے لڑادیا تو اسکا کام کردیا۔ اچھی شکل، اچھی ذہنیت اور اچھی صلاحیت کوئی جرم نہیں اور نہ بدشکل، ذہنی غباوت اور کم صلاحیت کوئی جرم ہے، دوافراد ایک طرح کی صلاحیت رکھتے ہوں ایک کم محنت کرے اور دوسرا زیادہ۔ اگر زیادہ محنت کرنے والے کا فائدہ اسکے بچوں کو پہنچے تو یہ قدر زایدکے فارمولے سے متصادم نہ ہونا چاہیے ورنہ کوئی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معاشرے کی ترقی و عروج میں بھی کوئی کردار ادا کرنے کے کام نہ آئیگا،ترقی وعروج کی فضاء اسوقت ہی قائم ہوسکتی ہے جو افراد کے اجتماع میں انفرادی طور پر ایک دوسرے سے بڑھنے ،آگے نکلنے ،زیادہ سے زیادہ آسانی وسہولت اور فوقیت حاصل کرنے کا ایک ماحول بھی موجود ہو۔ سکول میں پڑھنے والے بچے ہوں یاسڑک پر چلنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کیفیت ایک فطری عمل ہے اور پھر بعض معاملات میں ایک دوسرے کیلئے قربانی دینے کا ماحول اعلیٰ درجے کی اخلاقیات کی وجہ سے پیدا ہوتاہے ،ایک سری گھروں میں گھوم کر واپس آنا اور میدان قتال میں مرنے سے بچنے کیلئے پانی مانگتے ہوئے پھر کسی کو ترجیح دینا وہ روحانی اقدار ہیں جو مذہب پیدا کردیتاہے ےؤثروں علی انفسھم ولوکان بھم الخصاصۃ ’’وہ اپنی جانوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہی کو ضرورت بھی ہو‘‘۔ تعصب بھرنے سے اعلیٰ اخلاقی قدریں پیدا نہیں ہوسکتی ہیں۔
فتح مکہ کے بعد کسی کو غلام بنایا اور نہ لونڈی انتم طلقاء لاتثریب علیکم الیوم ’’تم آزاد ہو، آج تم پر کوئی ملامت نہیں‘‘۔یہود ومنافقین کیساتھ میثاقِ مدینہ اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کی عہدشکنی کے بعد فتح مکہ کے موقع پر بہترین سلوک ریاضی کا کلیہ نہ تھا، تاہم اہل فکر ودانش میں ریاضی کے قانون میں دو اور دوچار کی طرح معاشی اور معاشرتی نظام سمیت سائنسی معاملات میں بھی مکالمے کی ضرورت ہے، اسلام چیلنج میں پورا اترنے میں ناکام نہیں عقلی بنیادوں پر زیادہ قابل ترجیح نہ سمجھا جائے تو پھینک دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونا چاہیے۔ اسلام کو فرقہ وارانہ مسالک نے اجنبی بنا دیا ہے، کمیونسٹ پارٹیاں کس وجہ سے انتشار اور ایک دوسرے سے عناد کا شکار ہیں؟۔اگر مارکسی نظریہ ایک ریاضی ہے تو ریاضی میں اختلاف، تفریق اور انتشار کیساہوسکتاہے؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا : ارض اللہ واسعۃ ’’اللہ کی زمین وسیع ہے‘‘۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ زمین کومزارعت پر دینا سود ہے، زمین کو مفت نہ دے سکو تونہ دو، بٹائی ، کرایہ اور ٹھیکہ پر دینا جائز نہیں ۔ مزارعہ اپنی محنت کامالک بنے تو مزدور کا معاوضہ بڑھ جائیگا بلکہ مارکیٹ میں بھی اپنی مرضی کا معاوضہ حاصل کریگا۔ جاگیردار خود کھیتی باڑی میں لگ جائے تو وہ بھی محنت کش ہوگا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ نے بھی مزارعت کو سود قرار دیامگر علماء سوء کو ہردورکا جاگیر داراور سرمایہ دار خرید لیتا ہے جو شریعت کا خودساختہ فتویٰ اپنے ذاتی مفاد کیلئے کشید کرلیتا ہے، آج بینکاری کے سودی نظام کو بھی معاوضہ لیکر سندِ جواز دیا جارہاہے۔ جن علماء سوء نے احادیث اور اماموں سے انحراف کیا تھا، انہوں نے یہ علت بتائی تھی کہ ’’مزارعت کی وجہ سے لوگ غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے، اسلئے اسکو سود و ناجائز قرار دیا گیا ‘‘۔ چلو ان کی بات مان لی لیکن آج بھی مزارعہ تو غلامی کی زندگی ہی بسر کررہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جس صحابی کو زمین کا مالک بنادیا تھا،جب اس کو آباد نہ کیاتو حضرت عمرؓنے چھین لی۔ آج مزارعین کو اپنی محنت کا مالک بنادیا جائے اور جو لوگ خود زمینوں میں کھیتی باڑی کرکے آباد نہیں کرسکتے اور نہ دوسروں کو دیں ،انکی زمین چھین لی جائے تو پاکستان میں خوشحالی اور اسلام کا انقلاب آجائیگا۔
عوام، غریب، پسماندہ طبقات اور پسے ہوئے انسانوں کے حقوق کیلئے یہ جائز آواز اٹھائی جائے اور حکمران اور بااثر طبقہ یہ دینے کیلئے تیار نہ ہو تو کوئی بھی غریب کے حقوق یا اسلام کے نام پر ڈھونگ رچانے کے قابل نہ رہیگا سیاسی قائدین میں شامل جاگیردار طبقہ مزارعین کو ان کا جائز حق دینگے تو بھی معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہوجائیگااور غریب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر کارل مارکس کے نظریات کو سمجھنے کے قابل بھی بن سکے گا، اب تویہ بدھوطبقہ کامریڈلال خان کی زبان میں بات سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہے اور جب عملی طور سے بدلتی ہوئی قسمت لال خان کو نظر آئیگی تو اسلام کو سلام کرینگے۔
لعل خان جیسے سمجھدار، بہادر اور انسانیت سے محبت رکھنے والے اسلام کی بنیاد پر مخلص عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے جو بیچارے بیوی کو حلالہ کیلئے بھی پیش کردیتے ہیں اور مفاد پرست مذہبی طبقے کی اجارہ داری ختم ہوجاتی تو مؤثر انقلاب میں دیر نہ لگتی۔

پندرہ روزہ ’’طبقاتی جد وجہد‘‘ کی کچھ ’’جھلکیاں.. محنت نے دولت کو للکارا ہے!

مئی1886ء کو امریکی سرمایہ دار ریاست کے ہاتھوں شکاگو میں جب مزدوروں کے پرامن جلسے کو خون میں ڈبو دیا گیا۔ مزدوروں کے ریاستی قتلِ عام کے بعد انکے قتل کا مقدمہ مزدور رہنماؤں پر چلاکر ان کو پھانسی دیدی گئی۔۔۔ ایک مزدور کو زندگی کی سہولیات حاصل کرنے کیلئے ایک دن میں کئی جگہ گھنٹہ دو گھنٹہ کام کرنا پڑتا ہے تب زندگی رواں دواں رہ سکتی ہے… معلوم دنیا کی تاریخ’’ طبقاتی کشمکش ‘‘ کی ہے، غلام کی آقا، مزارعہ کی جاگیردار، مظلوم کی ظالم اور مزدور کی سرمایہ دار کے خلاف… یومِ مئی مزدوروں کا عالمی دن، ناقابلِ مصالحت طبقاتی کشمکش کاعلمبردار
تحریر۔قمرزمان خان:اگرچہ محنت کش طبقہ اپنی جدوجہد سے اپنی منزل تک نہیں پہنچا مگرشکستوں اور فتوحات کی مختلف لہروں سے نظر آتا ہے کہ اس کشمکش نے ظلم سے کافی …
فوجی اداروں میں بدعنوانی: فوج میں تطہیر کی حدود…21اپریل کو فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے حوالے سے منظر عام پر آنیوالی کاروائی میں لیفٹیننٹ جنرل ایک میجر جنرل3بریگڈئیرزایک کرنل اور 12افسران کو برطرف کیا گیاہے لیکن ابھی واضح نہیں ہواہے کہ کیا ان کا کورٹ مارشل بھی ہوگا یاانکو اس کرپشن میں سزائیں بھی ملیں گی کہ نہیں؟
تحریر: لال خان۔ ویسے تو یہاں میڈیا معمولی واقعات ، خصوصاً معمول بن جانیوالی کرپشن کی خبروں اور افواہوں ہی سے چائے کے کپ میں طوفان کھڑا کردیتا ہے لیکن جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں تطہیر کے تأثر سے تو سونامی برپا ہوجائیگا۔۔۔
جنرل راحیل کا یہ بیان تھا کہ ’’ ہرطرف مکمل احتساب کیا جانا لازم ہے….اگر ہم بد عنوانی کی غلاظت کا خاتمہ نہیں کرینگے تو دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی ہے‘‘ عمومی طور پر حزبِ اختلاف نے اس بیان کو نوازشریف اور انکے خاندان کے حالیہ پانامہ لیکس سکینڈل سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔لیکن چونکہ اس پیسے کی سیاست کے تمام دھڑے کسی نظریاتی بنیاد سے عاری ہیں اسلئے انکے تجزئے و بیان بڑے ہی سطحی اور محدود ہوتے ہیںیہی وجہ ہے کہ یہ سیاستدان کسی دوررس تناظر یا پروگرام یا لائحۂ عمل سے بھی عاری ہیں، انکی چونکہ ساری دلچسپی مال بٹورنے میں ہوتی ہے، اسلئے انکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اقتدار کے ذریعہ اس لوٹ میں زیادہ حصہ داری رکھنے والے سیاسی دھڑوں کو کسی طریقے سے پچھاڑا جائے ، چاہے فوجی کاروائی کے ذریعہ ہی سے کیوں نہ ہو۔ جمہوریت کے یہ چمپئن تو بوقتِ ضرورت فوجی حکومتوں میں بھی حصہ داری حاصل کرلیتے ہیں اور اس وقت کوئی بھی حاوی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو کسی نہ کسی فوجی اقتدار میں کسی نہ کسی قسم کی شراکت اور مراعات حاصل نہ کرتی ہو۔
جنرل راحیل شریف کی غیرمعمولی کاروائی کسی اور ہی مسئلے اور تشویش کی غمازی کرتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور اسکی ریاست میں کسی نہ کسی سطح پر کرپشن موجود ہوتی ہے۔ کچھ اداروں میں کرپشن کم اور کچھ میں زیادہ ہوتی ہے لیکن پاکستان کی موجودہ فوج جس کے بنیادی ڈھانچے انگریز سامراج کی برصغیر میں کھڑی کی جانے والی فوج پر مبنی اور انہی کا تسلسل ہیں اس میں کرپشن کی گنجائش کم ازکم انگریز سامراج نے بہت کم چھوڑی تھی، اسلئے نہیں برطانوی سامراج بڑا دیانتدار اور نیک تھا بلکہ اسلئے کہ ریاست کے فوج جیسے کلیدی ادارے میں کرپشن کا بڑے پیمانے پر پھیل جانا پوری حاکمیت کیلئے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ انگریز سامراج نے مارکس کے الفاظ میں’’ ہندوستان پر قبضہ ہندوستان(برصغیر) کی فوجوں کے ذریعہ ہی کیا تھا۔‘‘۔ یہاں تک کہ 1857ء کی جنگِ آزادی میں سکھوں، کشمیر کے مہاراجہ اور دوسرے مقامی قبائلی ، علاقائی اور نسلی لشکروں کی حمایت انگریز کو نہ ملتی تو ان کو یہاں کے مقامی فوجیوں اور عوام نے شکست دے دینا تھی ۔ اور ان کو ہندوستان پر مکمل قبضہ کی بجائے یہاں سے فرار ہونا پڑتا۔انہوں نے بنگال سے آغاز کیا،اور تقسیم اور لالچ کے ذریعے مقامی راجاؤں، مہاراجاؤں کو غداریوں پر راغب کرکے انہیں استعمال بھی کیا اور نوازا بھی۔ پھر یہ پالیسی ہرطرف جاری رکھی۔لیکن پھر انہوں نے یہاں کی برادریوں، نسلوں، ذاتوں کی اقسام اور انکے سماجی کرداروں کی پرکھ بھی حاصل کی اور انہیں استعمال کرنے کی پالیسی بھی اختیار کی۔ اس طرح جغرافیائی لحاظ سے بکھرے ہوئے معاشروں کی معاشی وسماجی خصوصیات اور حتی کہ مختلف خطوں کے افراد کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر برٹش انڈین آرمی تشکیل دی۔ ان میں خصوصاً شمال مغربی پنجاب کے سنگلاخ علاقوں اور وادیوں سے ( سنگ دل افرادکی) زیادہ بھرتیاں کی گئیں۔ یہ کوئی حادثاتی امر نہ تھا کہ برطانوی فوج کے عروج میں بھاری نفری سکھ جاٹوں،راجپوتوں اور دھن، بھون،دنہار، کالا چٹاوغیرہ جیسے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے فوجیوں کو سویلین آبادیوں سے الگ سخت ڈسپلن کے تحت چھاؤنیوں میں ہی محدود رکھا، اگر کسی فوجی کو کنٹومنٹ کی حدود سے شہر میں کسی نہایت ضروری کام سے بھی جانا ہوتاتھا تو اس کیلئے نائٹ پاس حاصل کرنا ضروری ہوتا تھا۔ دوسری جانب فوجی سپاہی اور افسران دہقانوں، چھوٹے کسانوں یا درمیانے درجے کے زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں نسل در نسل مغرب سے برصغیر آنے والے حملہ آوروں کیلئے لڑنے کی روایات بھی موجود تھیں اور پھر انکے خلاف بغاوتوں کی ریت بھی پائی جاتی تھی۔
پاکستان بننے کے بعد یہاں کا حکمران طبقہ اپنی تاریخی نااہلی، مالیاتی کمزوری،تکنیکی پسماندگی کے تحت جدید صنعتی سماج، سرمایہ دارانہ ریاست اور پارلیمانی جمہوریت قائم کرنے سے قاصر تھااور نظام کو برقرار رکھنے اور اسے چلانے کیلئے روزِ اول سے ہی اقتدار میں فوج کا کلیدی کردار رہا۔ اقتدار میں آکر فوج اور بالخصوص فوجی اشرافیہ یا جرنیلوں کی دو لت اور طاقت کے باہمی رشتے میں شمولیت ناگزیر ہوجاتی ہے۔جوں جوں فوجی اقتدار کی شرح بڑھتی گئی، فوج کا سرمایہ اور کاروبار امور میں کردار بھی بڑھتا چلاگیا۔ اسی طرح یہاں کے سرمایہ دار طبقے کا وجود ہی کرپشن اور چوری سے مشروط ہے، چنانچہ وقت کیساتھ بدعنوانی ریاست کے ہر ادارے میں پھیلتی چلی گئی ضیاء الحق کے دور میں یہ عمل تیز تر ہوگیا۔
جنرل راحیل شریف کا یہ اقدام کرپشن اور کالے دھن کے اس پھیلتے ہوئے زہر کے تریاق کی کوشش معلوم ہوتا ہے جس سے ادارے کے ڈھانچوں اوروجود تک کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ایسے میں یہ ادارہ نہ اس ریاست کے کسی کام کا رہیگا اور نہ اسکا وجود اور ساکھ برقرار رہ سکے گی۔ فوج کے کرپشن میں ملوث ہونے کی داستانوں کی کتابیں ڈھیروں ہیں لیکن یہ واقعہ حکمرانوں کی شدید تشویش اور سنگین کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ریاستی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ قدم بہت چھوٹا ہے اور بہت تاخیر سے اٹھایا گیا ہے، تاہم حکمران طبقات کے دانشور ، تجزیہ نگار اور درمیانے طبقے کے کچھ افراد اس سے بھی خوش ہیں کہ چلو کچھ تو ہواہے!۔ راحیل شریف کی اُبھاری گئی ساکھ کا بھی شاید ان کے شعور پر بوجھ ہوگا۔ اس اقدام سے اس ادراک کا یہی کردار ہوسکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن اس بحران کی وجہ نہیں بلکہ اسکی ناگزیر پیداوار ہے۔ریاست ، معیشت اور سیاست کے اس بحران کی دو بنیادی وجوہات ہیں پہلے تو پاکستان کے بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دار طبقے میں اتنی سکت ہی نہیں کہ یہاں کے سرمایہ دار ٹیکس اور بل ادا کریں، محنت کشوں کو انسانی اجرت اور سہولیات بھی دیں، ہر کام جائز طریقے سے کریں اور ساتھ ہی اپنا شرح منافع بھی برقرار رکھ سکیں۔دوسری جانب بدترین استحصال ، نابرابری اور غربت سے ذلت اورمحرومی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس میں ہر سطح اور ہر ادارے میں دو نمبری کے بغیر گزارہ نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اقدام ایک بے قابو ہوتے ہوئے عمل کے خلاف صرف ایک وارننگ ہے لیکن جب بدعنوانی نظام کا ناگزیر جزو بن جائے اور اُوپر سے نیچے تک سماج اور ریاستی مشینری کے رگ وپے میں رچ بس جائے تو جرنیلوں،افسر شاہی اور سیاستدانوں وغیرہ کے خلاف انفرادی کاروائیاں ختم نہیں ہوسکتی۔سوال پھر پورے نظام پر آتا ہے۔ بدعنوانی ختم کرنے کیلئے ذاتی ملکیت اور دولت کا خاتمہ درکار ہے۔ یہ کسی جرنیل کا نہیں سوشلسٹ انقلاب کا فریضہ ہے۔(کامریڈلال خان صاحب)۔
اوکاڑہ میں انجمن مزارعین پر فوجی آپریشن: محافظ یا غاصب؟۔تحریر امان اللہ مستوئی: ایک آپریشن جو پچھلے چندروز میں دوبارہ جاری کیا گیا وہ وسطی پنجاب میں انجمن مزارعین کیخلاف ہے۔ یہ غریب کسان نہ دہشت گرد ہیں نہ بھتہ خوراور سب سے بڑھ کر یہ غیر مسلح ہیں لیکن ان پر بھی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے مقدمے ہی درج ہورہے ہیں اور ریاستی جبر پوری وحشت سے کیا جارہا ہے۔ انجمن کے 13کارکنوں کوکئی دنوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے ۔ ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔(جدوجہد)

پندرہ روزہ جدوجہد اداریہ۔۔۔ کرپشن کے کھلاڑی

’’گلی گلی میں شور ہے سارے لیڈر چور ہیں‘‘ یہ نعرہ برصغیر میں کتنی نسلوں سے یہ خلق سنتی آرہی ہے،لگاتی آرہی لیکن جوں جوں کرپشن کے خلاف شور بڑھتا گیا، کرپشن مزید پھیلتی پھولتی گئی ہے۔عمران خان نے اس معمول کو ایک غیرمعمولی کیفیت دیکر اس پرانے نعرے کونئے سرے سے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو کرپشن کیخلاف مہم بنیادی طور پر اس نظام زر کے تحفظ اور اسکی المناک بربادیوں پر مزید پردہ پوشی کا کام کرتی ہے، درحقیقت یہ کرپشن کے علاج کا ڈھونگ اور عوام میں شعور پیدا کرنے کی جھوٹی کوشش ہے، یہ بیماری کی بجائے اسکے علامات کا نسخہ ہے۔کرپشن کے شور تلے اس حیوانی نظام کی مشقت و استحصال کے مظالم چھپائے جاتے ہیں۔ دولت کو ’’ جائزطریقوں‘‘ سے اکٹھا کرنے اور اسکی ذخیرہ اندوزی کیلئے راہِ عامہ بنائی جاتی ہے۔کرپشن کے واویلے میں بڑے بڑے امراء، مخیر حضرات ، شرفا اور مذہبی پیشوا دولت کے اجتماع اور منافعوں کی ڈاکہ زنی کو جائز قرار دینے کی اصل واردات کررہے ہیں۔ پہلے تو جائزو ناجائز دولت جمع کرنے میں فرق کرنا مشکل نہیں ناممکن ہے،امارت اور غربت میں بڑھتی ہوئی تفریق اور دولت کے انبار لگاکر بھوک اورغربت کو پھیلانے کو اگر اخلاقی یا قانونی طور پر درست قرار دیا جائے تو پھر کرپشن کو گالی دینے کی کوئی تک نہیں بنتی۔کیا محنت کے استحصال سے حاصل کردہ قدرِ زائد یا منافع خوری جائز ہے؟۔ اگر یہ کرپشن نہیں ہے تو پھر اس سے بڑا جھوٹ کوئی ہوہی نہیں سکتا؟۔ غریبوں کو مزید غریب کرکے اور امارت میں بے ہودہ اضافوں کا عمل اگر جائز ہے تو پھر کرپشن کیسے ناجائز ہے؟۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اخلاقیات ہوں یا اقدار، سماجی رجحان ہوںیا مختلف مفروضوں کی تعریف، ایک طبقاتی نظام ان کے بنانے اور بگاڑنے کا حق صرف بالادست طبقات کے نمائندگان اور انکے کاسہ لیس مفکروں اور تجزیہ نگاروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ لیکن ایک محروم معاشرے میں جہاں نظام ترقی کرنے اور دینے سے قاصر ہوجائے وہاں کا سرمایہ دار بجلی اور ٹیکس چوری کیے بغیر سرکاری خزانے کو لوٹے بغیراور محنت کشوں کی روزی روٹی پر لات مارے بغیرتو سرمایہ دار ہو نہیں سکتا۔وہ جیسے جیتے ہیں ویسے ہی مر نہیں سکیں گے۔انکی اوباشی پل نہ سکے گی اور وہ سیاست اور طاقت کو خرید کر حاکمیت نہیں کرسکیں گے۔ لیکن جس معاشرے میں ذلت اور رسوائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہواور زندگی کو اذیت ناک بنارہی ہووہاں کرپشن معاشرے کی رگوں اور ہڈیوں میں سرائیت کرجاتی ہے۔کرپشن کے بغیر شناختی کارڈ تک نہیں بن سکتاتو پھر ایسے معاشرے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا بنیادی طور پر اس کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کی کرپشن ضرورت اور ناگزیر پیداوار ہے۔
فوج میں کرپشن اتنی ہے کہ اس کا وجود اور ڈھانچے بکھر جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ سپریم کورٹ کا ہر نیا چیف جسٹس عدلیہ کی کرپشن کا رونا روتے روتے اپنی مدت پوری کرلیتا ہے اور عدالتی کرپشن کے ذریعہ باقی زندگی عیش وآرام سے گزارتا ہے،صحافت میں کرپشن کیخلاف سب سے زیادہ شور ہے اور جتنی کرپشن اسکے ان داتاؤں نے کی ہے اور کررہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے میں پولیس اشرافیہ بھی پیچھے رہ گئی ہے۔معاشرے کی کوئی پرت کوئی ادارہ ، کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن کے بغیر چل سکتا ہویا قائم بھی رہ سکے۔لیکن پھر بھی کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور ہے۔جہاں ایک کرپٹ عدالتی نظام بدترین کرپشن کے مرتکب حکمرانوں کو بری کردیتا ہووہاں وہی حکمران اور جج پھر کرپشن کیخلاف راگ الاپتے ہیں۔ یہ کیسا کھلواڑ کیسا ناٹک ہے؟۔ نوازشریف خاندان ہو یا باقی حکمران طبقات کے دھڑے ہوں،اگر کرپشن نہیں کرینگے تو اس نظام میں حکمران بنیں گے کیسے؟۔سیاست سے جس جلسے میں کرپشن کے خلاف آگ اگلی جاتی ہے اسی جلسے یا جلوس کو بدترین کرپشن والے ہی فنانس کرتے ہیں، ملک ریاض جیسے نودولیتے اور بلیکیے جرنیلوں سے لیکر عام سیاسی لیڈروں کو کرپشن سے تابع کرلیتے ہیں،ہرادارے کو کنٹرول میں لے لیتے ہیں صحافت انکی داشتہ بن جاتی ہے، ریاست انکی مشکور ہوتی ہے ، سیاست انکے کرموں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے لیکن
پھر بھی کرپشن کا کھلواڑ جاری ہے۔ کرپشن کے کھلاڑی عوام کو اس کرپشن کے ایشو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔لیکن عوام اب اس کرپشن کے ناٹک سے اکتا چکے ہیں۔ انکی سیاسی بیگانگی اس ایشو کے استعمال کی ناکامی کی غمازی کرتی ہے۔ یہ بیگانگی جب پھٹے گی تو پھر جاگے ہوئے محنت کش عوام کی یلغار اس پورے نظامِ زر کو اکھاڑنے اور دولت وطاقت کو نیست ونابود کرنے کا وار بن جائے گی۔پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! (یکم مئی2016 پیپلزپارٹی اور مزدورتحریک میں سوشلزم کی آواز)

جدوجہد یکم مئی تا15مئی 2016کے’’ اداریہ پر تبصرہ‘‘ فاروق شیخ

محترم کامریڈ لال خان سوشلزم کی اس تحریک کے روحِ رواں ہیں ۔ جہاں قیادت محنت و صلاحیت کی بنیاد پر ہو تو وہاں انسانیت کیلئے اچھی توقعات رکھنے کی امید ہوتی ہے، اس پندرہ روزے میں بڑی اہم بات یہ ہے کہ اس میں کارل مارکس کا نظریہ’’قدر زائد‘‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی نظریہ کی وجہ سے لینین نے روس ’سویت یونین‘کا عظیم انقلاب برپا کیا تھا،چین میں بھی اسی نظریے کی بنیاد پر انقلاب برپا ہوا ہے۔ پاکستان یا برصغیر میں اس نعرے میں تھوڑی سی کشش اسلئے باقی ہے کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے حالات میں عوام کیلئے کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے، وہی فوج، وہی عدالتیں اور وہی بیوروکریسی اور وہی استحصالی نظام بلکہ پہلے کی نسبت اب زیادہ ظلم وستم اور جبرو زیادتی کا ماحول ہے۔ پہلے فوج سول آبادی میں قدم رکھنے میں خوف محسوس کرتی اور اب اس جنگلی طبقے کا عوام پر راج ہے، سیاست فوج کی باندی، عدالت لونڈی اور بیوروکریسی نوکر اور صحافت چاکر ہے۔ اگر ترکی میں عوام فوجیوں کو بغاوت سے روک سکتے ہیں تو پاکستان کی عوام کیلئے اس نظام کو تہہ وبالا کرنے میں ایک رات کی مار ہے لیکن نظام کو بدلا جائے تو متبادل کیا نظام ہوگا۔عوام نے جمہوریت اور مارشل لاؤں کا بار بار تجربہ دیکھا ہے جو ایک دوسرے سے بدتر اور بدترین ثابت ہوتے ہیں۔
سوشلزم اور اسلامی انقلاب کے خواہاں تبدیلی کے حوالہ سے جو نظریات رکھتے ہیں ، ان میں مکالمہ کی ضرورت ہے۔ اس پندرہ روزہ رسالے میں پیپلزپارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ وہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی بجائے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی راہ پر چلیں اور پارٹی کا بنیادی نظریہ سوشلزم کا تھا، پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو بھٹو نے سرکاری تحویل میں لیا تھالیکن یوسف رضاگیلانی نے اس اقدام کو سب سے بڑی گالی دی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہماری سوشلزم کی علمبردار تحریکوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ تمہاری حب الوطنی، انسان دوستی، غریب پروری اور جرأت وبہادری پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن قدرِ زائد کا بنیادی نظریہ ہی موروثی نظام کے خلاف ہے۔ بلاول بھٹو،میر حاصل بزنجو، اسفندیار ولی خان اور دیگر سوشلزم اور کمیونزم کے نظریے کو سپورٹ کرنے، سمجھنے اور اس پر ایمان رکھنے والی جتنی جماعتیں ہیں وہاں سب کی سب قیادتیں موروثیت کی وجہ سے ہیں۔ بلاول بھٹو میں کتنی صلاحیت ہے اور اس نے کتنی محنت کی ہے؟۔ کیا پیپلزپارٹی کی قیادت بذاتِ خود یہ اہلیت رکھتی ہے جو قدرِ زائد کے بنیادی نظریہ پر پورا اترتی ہو؟۔ اس کے بنیادی ڈھانچے کی قیادت ہی قدرِ زائد پر استوار ہونے والے نظریے کی بیخ کنی ہے۔اگر ایسے توقعات اور خواہشات کی بنیاد پر چند محنت کشوں کے جیبوں پر اضافی بوجھ رکھ کر تحریک برپا کرنے کا سلسلہ جاری رہے تو دانشوروں کی میٹنگوں سے معاملہ کبھی آگے نہ جائیگا۔ جن منافقتوں کا رونا رویا جارہاہے،اسی کے آنسو پی کر اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کیجائے تو کیا نتائج برپا ہونے کی امید بھر آئیں گے؟۔البتہ اس نظام کی ناکامی کے بعد چند افراد کی تربیت سے بھی اچھے توقعات پوری ہونے کی امید زیادہ بری اور کوئی جرم بھی نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک محنت کش تھے، اماں خدیجہؓ ایک سرمایہ دار تھیں۔ایمانداری نے وہ نتائج برپا کیے کہ سرمایہ دار خاتونؓ ایک محنت کش پیغمبرﷺ کی اس وقت بیوی بن گئیں اور ان کا سارا مال پھر تحریک کیلئے وقف ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ انبیاء درہم ودینار کی نہیں علم کی وراثت چھوڑتے ہیں‘‘۔ درہم ودینار کی وراثت چھوڑنے والے بادشاہ اور علماء دنیا ہوسکتے ہیں لیکن انبیاء کے وارث نہیں ہوسکتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت تھی تو والد کی زندگی میں حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اپنی صلاحیت کو بھی منوایا تھا اور کوئی بھی اہلیت والی شخصیت ہو تو اس کو جانشین بنانے پر اتفاق میں حرج نہیں لیکن
پاکستان میں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عوام کی روحانی اور جسمانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرے۔ جو کرپشن کو ہڈیوں کے گودے اور خون کے جرثوموں سے باہر نکال دے۔ جو عوام کی روحانیت اور اخلاقیات کو بھی بدل دے۔ سوشلزم کے نعرے میں جان ہونی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ نہیں ہے۔ کرپشن کے نعرے کی طرح نظام کی تبدیلی کا نعرہ بھی خوشنما ڈھونگ کے سوا نتیجہ خیز اسلئے نہیں کہ یہ چلے ہوئے کارتوس کا خول ہے،اگر روس سمٹ گیا، چین نے اپنے نظریہ سے انحراف کیا تو پھر پاکستان میں انقلاب چائے کی پیالی میں وہ طوفان ہوگا جو عجیب بھی ہوگا اور غریب بھی۔ سوشلزم کے حامی اگر اسلام کے آفاقی نظام پر اتنی محنت اور صلاحیت لگاتے تو دنیا میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوسکتا تھالیکن اہل فکر ونظر میں مکالمے کی ضرورت ہے، امریکہ نہیں روس سے دوستی ہوجائیگی۔

اسلام اور کمیونزم کے درمیان فاصلہ کیسے کم ہوسکتا ہے؟۔محترم لال خان ایک مؤثراور باکرادار شخصیت لگتے ہیں

معراج محمدخان نے پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے علاوہ اپنی پارٹی بھی بنائی تھی لیکن وہ ایک کامیاب لیڈر اور ناکام سیاستدان تھے۔ محترم لال خان زیادہ بڑے اور قدآور شخصیت لگتے ہیں جو اپنے مضبوط نظریات کا بیباک انداز میں پرچار کرتے ہیں۔ میری بلوچ رہنمایوسف نسکندی مرحوم سے ملاقات ہوئی تھی جو پہلے تبلیغی جماعت سے والہانہ انداز میں وابستہ تھے اور پھر برگشتہ ہوکر کمیونسٹ بن گئے اور ہماری حمایت میں ایک بیان بھی دیا تھا۔ میں نے مذہب کے حوالہ سے اتنی بات سامنے رکھی کہ ایک آدمی پنج وقتہ نماز کسی لالچ کے بغیر پڑھ لے، زکوٰۃ دے اور دیگر عبادات روزے رکھے،حج وعمرہ کرے توکیا کسی جماعت ، کسی نظریے اور کسی تحریک کوایسے کارکن مل سکتے ہیں؟۔ ایک بلوچ یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ تازہ وضو کرکے نماز پڑھارہا ہو، اس کی ریح خارج ہوجائے اور پھر سب کے سامنے وضو ٹوٹ جانے میں انتہائی شرم محسوس کرکے بھی نماز چھوڑ دے؟ ، یہ مذہب کا کمال ہے کہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر نماز چھوڑ کر چلاجاتا ہے۔ میری باتوں سے یوسف نسکندی ؒ نے بھی اتفاق کیا اور پھر مجھے اپنے شاگرد سلیم اختر سے ملنے کا حوالہ دیا۔
سلیم اختر سے ملاقاتیں رہیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سے ملاقات ہوجاتی تو میں اسلام چھوڑ کر کمیونسٹ نہ بنتا۔ ان کے ذریعہ امداد قاضی سے ملاقات کا پروگرام عاصم جمال کے ہاں بنا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹا سا کتابچہ ملا،جو کمیونزم سمجھنے کا ایک بنیادی قاعدہ تھا۔ اس کتابچے کا خلاصہ اور اس کی تردید پر میں نے ماہنامہ ضرب حق میں ایک مضمون لکھا۔ کتاب کا مصنف بیمار ہوگیا،اسلئے جواب نہیں لکھ سکتا تھا۔ سلیم اختر نے کہا کہ تمہاری باتوں کا جواب دینے کی صلاحیت صرف جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء میں ہے، چناچہ نجم الحسن عطاء نے تفصیل سے گھما پھرا کر تحریر لکھ دی، جسکے جواب میں ہم نے بھی کچھ لکھ دیا، آخر کار ان کہنا تھا کہ میرا دماغ بھی گھوم گیا۔ کمیونسٹوں کیساتھ مکالمے کی ضرورت ہے اور علماء ومفتیان کیساتھ بھی مکالمے کی ضرورت ہے، کمیونسٹوں نے معاشی نظام اور علماء ومفتیان نے اسلام کا بیڑا غرق کیا ہے، دونوں میں مخلص افرادکے خلوص پر شک نہیں مگر غلط بات پر اڑنابیکار ہے۔
شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور بڑے القاب والوں نے سودی نظام کو اسلام کا نام دیا ہے تو پھر غیراسلامی آخر کیا ہے؟۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ کو مبعوث فرمایا، قرآن میں ان کی زبانی بار بار یہ کہلوایا : قل الاسئلکم علیہ اجرا ’’کہہ دو، اس پر میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا‘‘۔جب صوفیاء کرام نے اللہ اللہ کے ورد پر کوئی اجر نہیں مانگا تو عوام میں دین کی برکت سے خلوص آگیا۔ متقدمین علماء کی اجماعی رائے تھی کہ قرآن پڑھانے، نماز پڑھانے ، تبلیغِ دین پر معاوضہ جائز نہیں، اسلئے کہ حدیث میں منع کیا گیا تھا۔ پھر متأخرین علماء نے رائے قائم کرلی کہ دین کی تبلیغ، قرآن پڑھانے اور نماز پڑھانے وغیرہ پر معاوضہ جائز ہے۔
بعد ازآں مذہب نے پیشہ کی صورت اختیار کرلی۔اب آج اگر دین کو بطور پیشہ کے استعمال نہ کیا جائے تو دین کے نام پر مدارس اور بہت سی رونقیں ختم ہوجائیں گی اوراس میں شک کی گنجائش نہیں کہ مدارس کو پیشہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت بھی پیشہ بن گئی، سود کامعاوضہ بھی پیشہ ہے، طلاق کا فتویٰ بھی پیشہ ہے،قرآن خوانی بھی پیشہ ہے، طلبہ کی تعداد،مدرسہ کی رونق بھی پیشہ،اہتمام بھی پیشہ، تدریس بھی پیشہ اور چندہ بھی پیشہ۔ کوئی سکول و کالج اشتہار اسلئے شائع کرتاہے کہ وہ تعلیم کوبطورِ پیشہ استعمال کرتا ہے اس کا مالک خوب کماتا ہے مگر مدرسہ کا بھی یہی حال ہوتا ہے، اشتہارات کی ضرورت ہوتی ہے تو لکھا جاتا ہے کہ ’’داخلہ جاری ہے، قیام ، طعام، ماہانہ مفت معقول وظیفہ، مفت علاج معالجہ اور قابل مدرسین کی خدمات فلاں درجہ تعلیم کی سہولت موجود ہے‘‘ ،دوسری طرف طلبہ کی تعداد،مدرسین کی تنخواہیں اور اخراجات پورا کرنے کیلئے چندے کی ضرورت پر ایسازور دیا جاتا ہے،جیسا اللہ کہیں لٹ گیا ہو،طلبہ بھوک سے مرر رہے ہوں،اساتذہ نڈھال اورمہتمم بدحال ہو۔
پہلے سکول کالج میں امیرزادے پڑھتے تھے اور مدارس میں غریب غرباء لیکن اب مدارس کے منافع بخش کاروبارنے غریبوں کو بھی امیر بنانا شروع کردیا اور پیسے والے لوگ بھی بچوں کے اچھے مستقبل کیلئے مدارس کارُخ کررہے ہیں اور مدارس کے مہتمم کے بچے اچھے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاسؒ نے تبلیغ کے کام کی بنیاد اس بات پر رکھی کہ چندہ نہ ہو،لوگ اپنی جان، اپنامال اور وقت اللہ کی راہ میں خرچ کریں لیکن جماعت پر سود خور قسم کے لوگ قابض ہوگئے جو پہلے دیسی طریقے سے حیلے کرکے سودی کاروبار میں ملوث تھے اور اب مفتی محمد تقی عثمانی کے فتوے کے سہارے پر سودی کاروبار کی ترویج کررہے ہیں ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے بھائی مولاناصوفی عبدالحمیدصاحب نے اپنی کتاب ’’مو لانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم وافکار‘‘ میں بہت پہلے ان کا یہ نقشہ کھینچا تھاکہ ’’منافع خور سمگلر قسم کی ذہنیت کے لوگوں کااس جماعت پرقبضہ ہوگیا ہے‘‘۔
جنرل راحیل شریف ضربِ عضب میں دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کی بات کرتے ہیں مگر یہ معلوم ہے کہ تبلیغی جماعت دہشت گردوں کی سب سے بڑی سہولت کار ہے، جب آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ ہوا تھا تب بھی جماعت کے افراد اس ذہن سازی میں مشغول تھے کہ ’’ دہشت گردوں نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے‘‘۔ جماعت کے لوگوں کو باقاعدہ منافقت کی زبردست ٹریننگ دی جاتی ہے کہ کس کس طرح پینترے بدلتے رہنے کا نام حکمت ہے، علماء کے خلاف یہ زہر اگلتے ہیں لیکن علماء کے اکرام کی بھی تعلیم دیتے ہیں، بدترین قسم کی فرقہ وارانہ اور متعصبانہ ذہنیت کی آبیاری کرتے ہیں اور بات اتفاق واتحاد اور عدمِ منافرت اور فرقہ واریت کی مخالفت کی کرتے ہیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ بہت لوگوں میں اچھا جذبہ اور اخلاص بھی ہے لیکن اچھا جذبہ اور خلوص خوارج میں بھی تھا اور موجودہ دور کی خارجیت کی تمام نشانیاں بدرجہ اتم ان میں موجود ہیں۔
بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگ صوفیت کے علمبردار تھے،وہابی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کی تجدیدِ دین کیخلاف ردِ عمل کے طور پر ان میں تعصب اور منافرت کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، تبلیغی جماعت میں لگے ہوئے پنجاب کے 80%سے لوگ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔ وزیرستان کے پہاڑوں میں محسود اوردامان(دامن) میں بیٹنی قوم تبلیغی جماعت کوپہلے نئے دین کے علمبردار سمجھتے اور سخت مخالفت کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ اتنا بڑھ گیا کہ عوام نے سمجھا کہ ہم اور ہمارے آبا واجداد پہلے دین سے عاری تھے اور تبلیغی جماعت نے نماز، وضو، غسل اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا ہے، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مذہبی لبادے، حلیے اور مذہب کی زبان میں گفتگو تبلیغی جماعت ہی کی مرہونِ منت ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ حقیقت میں ہم خلوص سے بھی گئے اور غسل، نماز وغیرہ کے فرائض و مسائل کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
لطیفہ ہے کہ گاؤں والوں کو کچھوا مل گیااور وہ اس کو پہچانتے نہ تھے، اپنے سردار کے پاس لائے کہ یہ کیا ہے؟،سردار جی اسے دیکھ کر پہلے روئے ، پھر ہنسے ،پوچھاگیا کہ روئے اور ہنسے کیوں؟، سردارجی نے کہا کہ ہنسا تو اسلئے کہ تم لوگ کتنے نالائق ہو، اس کا پتہ نہیں، رویا اسلئے کہ مجھے خود بھی پتہ نہیں کہ یہ کیا ہے۔ اب یہ ہے کہ اس کے آگے گندم کے دانے ڈالو، اگر اس نے کھالیا تو یہ کبوتر ہے اور نہیں کھائے تو پھر جو بلا بھی ہے سو ہے۔اللہ کی قسم ! کہ مذہبی طبقات نے دین کا وہ حشر کیا ہے جسکا عکس اس لطیفے میں موجود ہے۔ شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث دوسروں کے حال پر ہنسنا شروع کردیں گے اور اپنے حال پررونا شروع کردیں گے۔انکے ہوشیار اور بڑے علماء کا حال اس لطیفے میں مذکور اس سردار جی سے مختلف نہ پائیں گے جو دین کا تصور شناخت کیلئے اتنا رکھتے ہیں کہ جیسے سردار جی نے کہا کہ کچھوا کے سامنے گندم کا دانہ ڈال دو ، کھالیا تو کبوتر ہے اور نہیں کھایا تو جو بلا بھی ہے سو ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی کے بارے میں مفتی کفایت اللہ نے ایک میڈیاچینل پر کہا کہ’’ اس وقت روئے زمین پر شیرانی صاحب جتنا بڑا عالم کوئی نہیں ہے‘‘۔ ایک مرتبہ مولانا شیرانی صاحب کے پاس پہنچا تو وہاں مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن بھی بیٹھے ہوئے تھے، پاکستان کے بارے میں مولانا صاحبان ایسی گفتگو کررہے تھے جیسے کچھوا سے ناواقف سردارجی کی روح ان میں بول رہی ہو کہ ’’پاکستان ایک عجب الخلقت ریاست ہے‘‘۔نووارد کی طرح مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تمہارا پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔
موقع کو غنیمت سمجھ کر میں نے پہلے قرآن سے کتاب کی تعریف بتائی کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ الذین یکتبون الکتاب بایدیھم ’’وہ لوگ جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘۔ یعنی کتاب ہاتھ سے تحریر کی جانے والی چیز کا نام ہے۔ پھر کتاب کی تقدیس کا ذکر کیا: والقلم ومایسطرون’’ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے‘‘ ۔ ذٰلک الکتاب لاریبہ فیہ ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شائبہ تک نہیں ہے‘‘۔اللہ کی پہلی وحی میں علّم بالقلم’’قلم کے ذریعہ سکھایا‘‘ کا ذکر ہے، مگر علماء درسِ نظامی کی تعلیم میں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ مصحف ( کتابی شکل میں) قرآن اللہ کی کتاب نہیں۔اس پر حلف بھی نہیں ہوتا، اس کی ابتداء بسم اللہ بھی مشکوک ہے، جب تم لوگ اللہ کی کتاب کی تعریف میں اس قدر کھلی بددیانتی اور غلط فہمی میں مبتلا ہو تو پاکستان پر کیا بحث کروگے؟، مولانا عطاء الرحمن نے پشتو کی کہاوت سنائی کہ ’’بھوکا روٹی کیلئے بدحال تھا توکسی نے کہا کہ پھر وہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا‘‘۔ ہم پاکستان کی بات کر رہے تھے اور یہ اپنے مطلب کی بات کرگیا۔
یہ اس جماعت کا حال ہے جو ’’کتاب کے نشان پرالیکشن میں حصہ لیتی ہے اور الیکشن میں آیت کا حوالہ دیتی ہے کہ یایحیےٰ خذ الکتاب بقوۃ ’’اے یحیےٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو‘‘۔جو ریاست میں حصہ دار بننے کیلئے ہمہ وقت بیتاب اور کوشاں رہتی ہے۔ کتاب کو پکڑنے کی بجائے کتاب کے ذریعہ سے ریاست سے قوت حاصل کرتی ہے۔ عمران خان کے رہبر مفتی محمد سعیدخان نے بھی اپنی کتاب ’’ریزہ الماس‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ جس طرح قرآن میں ضرورت کے طور سے خنزیر کا گوشت کھانا جائز ہے، اسطرح کچھ شرائط کیساتھ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ خنزیر کا گوشت جسم کا حصہ بن جاتا ہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھا جائے تو جسم کا حصہ نہیں بنتا‘‘ ( یعنی قرآن کی بات فقہ حنفی سے زیادہ بدتر ہے نعوذ باللہ) جن فقہاء صاحبِ ھدایہ کی کتاب تجنیس، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامیہ میں لکھا ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘۔ تو وہ تحریری شکل میں اس کو اللہ کا کلام بھی نہیں مانتے تھے اور موجودہ دور کے اُلو کے پٹھے تو یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ جو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ ’’ مصحف تحریری شکل میں اللہ کی کتاب نہیں، یہ محض نقوش ہیں جولفظ ہیں اور نہ معنیٰ‘‘۔ (نورالانوار: ملاجیونؒ )۔ اس کا معنیٰ کیا ہے، کچھوے والے لطیفے میں جو معقولیت ہے ان میں اتنی بھی ہوتی تو کسی نتیجے پر پہنچتے۔ یہ تو پڑھتے ، پڑھاتے جارہے ہیں اور اتنی خبر بھی نہیں کہ اس سے وہ بالکل جاہل ہیں مگر انہوں نے توپیٹ پوچا کرنی ہے، بیوی بچے یا اپنی عزت پالنی ہے اور کیا کرنا ہے؟۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ سے قرآن میں فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰباکم من النساء الا ما قد سلف ’’اور تم نکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے ہوچکا‘‘۔ حنفی مکتبۂ فکر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حقیقی معنیٰ موجود ہو تو مجاز پر عمل نہیں ہوسکتا ۔ ابا کے اصل معنی باپ ہیں اور مجازی طور پر اسکا اطلاق دادا پر بھی ہوتاہے۔قرآن کی اس آیت میں دادا کی منکوحہ عورتیں مراد نہیں ہوسکتیں، ان کی حرمت ہم اجماع سے ثابت کرتے ہیں۔ نکاح کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور یہاں شرعی عقد نکاح مراد نہیں بلکہ زنا بھی نکاح ہے۔ اگر غلطی سے نیند میں شہوت کا ہاتھ کسی محرم پر لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے ،اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی شوہر پر حرام ہوجائے گی اور اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی اسلئے کہ وہ معذور ہوگا لیکن اگر ساس کی شرم گاہ کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی کو شوہر پر حرام ہونے کا فتویٰ دیا جائیگا۔(نورالانوار: ملاجیونؒ )۔
اگر کچھواگندم کھائے اور اس کو کبوتر کہا جائے توبات اتنی غلط نہ ہوگی جتنا علماء نے درسِ نظامی کے نصاب میں اسلام کا حال کیاہے ۔اللہ نے باربار قرآن میں طلاق کے بعد معروف طریقہ سے رجوع کی وضاحت کی ہے۔ شافیوں کے نزدیک نیت رجوع کیلئے شرط ہے،نیت کے بغیر مباشرت کرنا بھی رجوع نہیں۔ حنفی مسلک میں نیت شرط نہیں، شہوت سے نظر لگ جائے تو بھی طوعاً وکرھاً رجوع ہے اور نیند میں شہوت سے لگ جائے تو بھی رجوع ہے اور شہوت کا اعتبار شوہر کا بھی ہے اور بیوی کا بھی ہے۔ معروف رجوع کو مذہبی طبقات نے منکر بناکر رکھ دیا ہے۔ غسل اور وضو کے مسائل سے لیکر ایک ایک مسئلہ معروف کی جگہ منکرات کا آئینہ ہے۔
مولانا شیرانی سے میں نے پوچھا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ’’ اور انکے شوہر ہی عدت کے دوران رجوع کاحق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ صلح کرنا چاہیں ‘‘ تو کیا کوئی ایسی حدیث یا آیت ہے جو عدت کے دوران اسکے برعکس رجوع کا حق منسوخ کردے؟، مولانا شیرانی صاحب نے کہا کہ طلاق آپ کا موضوع ہے ہم کسی اور موضوع پر بات کرلیتے ہیں، نماز پر گفتگو کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس سے اور اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ آپ کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، کل آپ کو حکومت مل جائے تو بے نمازی کو کیا سزا دوگے؟۔ دوفقہی اماموں کے نزدیک بے نمازی کو قتل کیا جائیگا، ایک کے نزدیک قیداور زودوکوب کیا جائیگا، تو جب نماز کی سزا کا ذکر قرآن وسنت میں نہیں تو اپنی طرف سے اس کا جواز ہے؟، خوف سے نماز پڑھی جائے تو ایسی نماز کا اعتبار ہوگا؟، کوئی بے وضو اور حالتِ جنابت میں نماز پڑھ لے تو؟، مولانا شیرانی نے کہا کہ نماز کے فضائل پربات کرنا مقصد تھا ،میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت میں کسی کو چلہ یا چارماہ کیلئے بھیجو، میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ اتنا پکا نمازی بن جائیگا کہ نبیﷺ اور صحابہ کرامؓسے غزوۂ خندق میں نمازیں قضاء ہوئیں مگر اس سے اس حال میں بھی نہ ہوگی۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں ۔
مولانا شیرانی نے پھر معیشت کو موضوع بناکر ایک لمبی چوڑی داستان سناڈالی، میں نے کہا کہ اخروٹ یا کوئی چیز گنتی کے حساب سے درجن کے مقابلہ میں دو درجن سود نہ ہو لیکن وزن کے حساب سے کلو کے مقابلہ میں دو کلو سود ہو، تو اس کا دنیا کے سامنے کیا حل پیش کریں گے؟۔ ظاہر تھا کہ جواب نہ دارد۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا یہ حال ہے تو دوسروں کا بھی بہت آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جہاد کرکے مسلم مالک کے ڈھانچے تباہ کئے لیکن انکے مقابلہ میں دہشت گردوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا،تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔علماء کی بجائے بہادرکیمونسٹ رہنما اسلام سمجھ کر اسکی تبلیغ کرتے تو طالبان ایسے ہیرو ہوتے کہ پوری انسانیت ان کی شانہ بشانہ ہوتی لیکن علماء نے اسلام کا بیڑہ غرق کرکے ان بہترین اصل مجاہدین کوحقیقی دہشت گرداور خارجی بنادیا ہے۔ سید عتیق الرحمٰن گیلانی

معراج محمد خانؒ کی شخصیت سے سیاست بے نقاب ہوتی ہے ذوالفقار علی بھٹوؒ ، جنرل ضیاءؒ اور عمران خان کا پتہ چلتا ہے

معراج محمد خان بائیں بازو کے ،جاویدہاشمی دائیں بازوکے اچھے کردار وں کی علامت ہیں، تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دونوں کی فکر ونظر میں اختلاف ہوسکتا تھا لیکن خلوص وکردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ معراج محمد خان خود کو علماء حق کے پاؤں کی خاک کہنے پرفخر محسوس کرتے تھے اور جاوید ہاشمی نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی سے معذرت کرلی تھی کہ میں جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی جماعت نہیں مسلم لیگ جیسی سیکولر جماعت کے ساتھ ہی چل سکتا ہوں۔ معراج محمد خان کمیونسٹ مسلمان تھے اور جاویدہاشمی سیکولر مسلمان ہیں، ایک کادائیں اور دوسرے کا بائیں باز وسے تعلق اس بات کا ثبوت نہیں کہ انہوں نے اسلام سے رو گردانی کا ارتکاب کیا۔
یہ معراج محمد خان کا قصور نہ تھا جو کیمونسٹوں کی صفوں میں کھڑا ہوا، بلکہ یہ علماء سوء کا قصور تھا جنہوں نے مذہب کو پیشہ بنالیا۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور قائم کرلیاگیا اور اس پر عمل کیا گیا تو کمیونسٹ اور سیکولر لوگ اسلام کی آغوش میں ہی پناہ لیں گے۔ اسلام خلوص کا نام ہے، اسلام پیشہ نہیں دین ہے اور اسلام نے ہی دین میں جبر کومنع کیا ہے۔ جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر ختم کردیا کہ اسلام کوئی پیشہ ہے تو دنیا کی ساری کمیونسٹ پارٹیاں اسلام کے دامن میں پناہ لیں گی اور جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر قائم کرلیا کہ دین میں جبر نہیں تو دنیا کی ساری سیکولر قوتیں اسلام کی آغوش میں پناہ لیں گی۔ معراج محمد خان ؒ کے نام پر آرٹ کونسل میں ایک پروگرام رکھا گیاجو تقریروں اور اچھے جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینٹر کامریڈ تاج حیدر نے کہا کہ ’’معراج محمد خان کے حوالہ سے میں نے جومضمون لکھا ، کسی بھی نامور اخبار نے اس کو شائع کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ جب کسی کا نام آجائے تو ادارہ اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتا ہے‘‘۔
سنیٹر تاج حیدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جوگٹھ جوڑ تھا اس کا خاتمہ ہوا ہے ، اس صورتحال سے کمیونسٹ نظریات رکھنے والوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو نے ایک بڑا اچھا شعر بھی سنادیا کہ ’’حسینؓ کی عزاداری کاعشرہ ضرور مناؤ مگر وقت کے یزید کی طرفداری بھی مت کرو‘‘ اور سب مقررین نے اپنے خیالات اور جذبات کا اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ معراج محمد خان ؒ کے نام کیساتھ ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے لفظ کا اشارہ نا مانوس لگتاہے لیکن اللہ کی رحمت کی دعا کی اجاراداری ان لوگوں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے جو صرف مذہبی ماحول سے تعلق رکھتے ہوں۔ مذہبی طبقات صرف اپنے اپنے اکابر کے ساتھ یہ علامت لگاتے ہیں، ان کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مخالفین کیساتھ زحمت اللہ علیہ (زح) نہیں لگاتے۔ عوام کو ان مذہبی جہالتوں سے نکالنا بھی بہت بڑی جدوجہد اور جہاد ہے جن میں نامعقول مذہبی طبقات کی وجہ سے جاہل عوام مبتلا ہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولاناشاہ احمدنورانیؒ بڑے اور اچھے لوگ تھے لیکن معراج محمد خانؒ بھی کسی سے کم تر نہ تھے۔ جنرل ایوب خانؒ کے دور میں ذوالفقار علی بھٹوؒ جب جنرل صاحب کیساتھ تھے تو معراج محمد خانؒ نے ان کا مقابلہ کیا، جب بھٹو نے جنرل ایوب کا ساتھ چھوڑدیا تو اپنے سخت ترین مخالف بھٹو کا استقبال کیا اور اپنے کارکن بھٹو کے حوالہ کردئیے کہ اب ہمارا اختلاف نہ رہا ، راستہ درست چن لیا ہے تو ہم آپکے ساتھی ہیں۔ بھٹو کے دورِ حکومت میں معراج محمد خان کو وزارت ملی لیکن حکومت اور اپنی وزارت کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ جو راہ ورسم بنالی تھی اس کو نباہ رہے تھے مگر معراج محمد خان نے اپنے اصولوں سے وفا کی۔ پھر جب بھٹو نے سیاسی قائدین پر جیلوں میں بغاوت کے مقدمات چلائے تو معراج محمد خان بھی حکومت کی صف میں نہ تھا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کیساتھ جیل میں بندتھے۔
جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو معراج محمد خان نے بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد بھٹو کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا۔ معراج محمد خان کو جعلی سیاستدان بننے کی پیشکش ہوئی مگر معراج محمد خان نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگر معراج جنرل ضیاء کی پیشکش کو قبول کرلیتا تو جنرل ضیاء کو مذہبی طبقے اور اسلام کاسہارہ لینے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ جب ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو معراج محمد خان بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے بلکہ ساری جماعتوں نے معراج محمد خان کا نظریہ قبول کرکے ہی ایک مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھاجس میں جنرل ضیاء اتفاقی حادثے کا شکار نہ ہوتے توزیادہ عرصہ تک صرف تحریک ہی چلانی پڑتی۔ بھٹو نے بھی ایک آمر جنرل ایوب کی صحبت اُٹھائی تھی اسلئے آمرانہ سیاست ان کے دل ودماغ پر چھائی تھی جس کا ساتھ معراج محمد خان نہیں دے سکتے تھے، نوازشریف اصغرخان کی تحریک استقلال کا فائدہ اٹھاکر سیاست میں ڈالے گئے اور امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کے سپاہی بن گئے، جنرل ضیاء کی برسیوں پر بھی جنرل ضیاء کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے حلف اٹھایا کرتے تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعہ سے برسرِ اقتدار آنے والا نوازشریف اصغر خان کیس میں ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے، جس طرح کالا کوٹ پہن کر سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کیخلاف جنرل اشفاق کیانی کے ہمراہ کورٹ میں گئے، اسکے بعد وزیراعظم ایک ناکردہ گناہ کی وجہ سے مجرم بن کر نااہل قرار دئیے گئے یہ ہمارے اصحاب حل وعقد ، ریاستی اداروں، عدالتوں اور جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ ہے کہ نوازشریف کو سزا کیوں نہیں سنائی جارہی ہے۔
معراج محمد خان کو پہلی مرتبہ ایم آر ڈی کے جلسہ میں ’’نشتر پارک کراچی‘‘ میں دیکھا تھا، مدرسہ جامعہ بنوری ٹاؤن کا طالب علم تھا، مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے ہم نے جمعہ کی نماز بھی نشتر پارک میں قبضہ کی نیت سے پڑھی، زیادہ تر مقررین کو بولنے تک نہ دیا، شاید معراج محمد خان کو مولانا فضل الرحمن سے کہنا پڑا، کہ اپنے ورکروں کو خاموش کردو۔ جب کسی کا بولنا گوارہ نہ ہو تو اس کا سننا بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمن پر کفر کے فتوے لگانے والے مخلص نہ تھے اسلئے انکے فتوؤں کو کبھی اہمیت نہ دی، پیپلزپارٹی سے اتحاد پر جو مذہبی طبقات مولانا فضل الرحمن سے ناراض تھے ،انہوں نے پیپلزپارٹی کی طرف سے ایم آر ڈی کی قیادت کرنے والے غلام مصطفی جتوئی کو پھر اسلامی اتحاد کا سربراہ بنایا۔ چونکہ مذہبی طبقے اور موسم لیگیوں کا اتنا بڑا دم نہ تھا کہ وہ جنرل ضیاء کے باقیات کا حق ادا کرلیتے، اسلئے عوام کو دھوکہ دینا ناگزیر سمجھا گیا اور غلام مصطفی جتوئی کو قیادت سونپ دی گئی مگر جتوئی مرحوم پرا عتماد نہ تھا اسلئے اسٹیبلشمنٹ نے ان کو ناکام بناکرہٹایا اور نوازشریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔
نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے خلاف صدر غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھااور پھر اسی صدر کی وجہ سے خود بھی جانا پڑا،محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ نے صدارتی امیدوار کیلئے ایم آر ڈی (تحریک بحالئ جمہوریت) کے دیرینہ ساتھی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خانؒ کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھا۔ فضل الرحمن کو ایک اصولی سیاست کا امین سمجھا جاتا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلئے نوازشریف کی اوٹ میں پناہ لینا شاید ایک مجبوری ہو ، بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں، معراج محمد خان تنہائی کے شکار تھے اور تحریک انصاف کو ایک جماعت بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ میری پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان؟، یہ جوڑ بنتا نہیں ہے۔ معراج محمد خان نے اعتراف کیا کہ واقعی یہ اتفاق وقت کا بہت بڑا جبر ہے۔ عمران خان جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کا ساتھ دے رہا تھا تو معراج محمد خان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہونے کے باوجود مخالفت کررہے تھے۔ عمران خان نے معراج محمد خان کو برطرف کیا اور پھر قوم سے معافی مانگ لی کہ ریفرینڈم کی حمایت میری غلطی ہے۔
جس طرح عمران خان نے کھل کر قوم سے معافی مانگی لیکن معراج محمد خان سے راستہ الگ کرنے پر اپنے کارکنوں کو آگاہ نہ کیا کہ اتنی بڑی غلطی میں نے کی تھی اور سزا شریف انسان کو دی تھی اور یہ بڑی خیانت ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی اگر اپنے غلطیوں کا اعتراف کرکے معراج محمد خان کو منالیتی توپھر پیپلزپارٹی کی قیادت معراج محمد خان کے ہاتھ میں ہوتی اور قائدین کی وفات کے بعد پیپلزپارٹی کے نظریاتی بڑے قدآور رہنماؤں کا اجلاس ہوتا کہ کون سا نیا قائد منتخب کیا جائے؟۔ آج عمران خان کے چاہنے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ بھٹو کے بعد عمران خان عوامی قیادت کا حق اداکررہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ معراج محمد خان بھٹو اور عمران خان سے بذاتِ خود بڑے اور حقیقی قائد تھے، جب اہل قائد کو کارکن اور نااہل کوقائد بنایا جائے تو ایسی پارٹی کبھی اعتماد کے قابل نہیں ہوتی ۔ معراج قائدتھے مگر ان کوقائد کا درجہ نہ دیا گیا۔
معراج محمد خان کی یاد میں ہونیوالے پروگرام میں کامریڈوں کا غلبہ تھا،جناب میرحاصل بزنجو اور دیگر رہنماؤں نے معراج محمد خان کو خراج تحسین پیش کیا مگر اتنی بات وہ بھول گئے کہ روس کے نظام کی تعریف کرنے اور امریکہ کی مزاحمت کرنے والے معراج محمد خان نے طالبان کو سراہا تھا جنہوں نے ایک واحد قوت کے طور پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو چیلنج کیا۔ جماعتِ اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن پہلے کمیونسٹ کی بیج بونے والی تنظیم این ایس ایف میں تھے، جب سلیم صافی کو انٹریو دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی اگر طالبان کے خلاف لڑنے پر شہید نہیں ہوتے تو ان کے اتحادی پاکستانی فوج کو کیسے شہید کہا جاسکتا ہے؟‘‘۔ جس پر انکو جماعتِ اسلامی کی امارت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ اگر معراج محمد خان نے طالبان کی حمایت کی تھی تو جماعتِ اسلامی کے امیر نے ایک ہاتھ بڑھ کر حمایت کی تھی۔
سید منور حسن اور معراج پرانے ساتھی اور پھر حریف رہے لیکن اس بات پر متفق ہوگئے کہ طالبان نے سامراج کو چیلنج کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ۔ جماعتِ اسلامی سے میرحاصل بزنجو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل مکھن کا بناہوا نہیں ہوسکتا، یہ درست ہے لیکن غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے تو حقوقِ انسانی کے حوالہ سے متضاد و متفرق قوتوں کے درمیان مفاہمت کی راہ بنائی جائے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ مولوی اور طالب سرمایہ دار کا مکھن کھاکر کمیونسٹوں پر فتوے لگارہے ہیں ، اب تو پتہ چلا ہے کہ مکھن کھانے کی وجہ سے نمک حلال کرنے کا الزام غلط ہے، سرمایہ دارانہ نظام پر لرزہ طاری ہے، مرنے مارنے سے سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ یورپ و امریکہ اور مغرب ومشرق میں ایک خوف کی فضا ء گنتی کے چند افراد نے طاری کر رکھی ہے۔
روس کے خاتمہ سے کمیونسٹوں میں وہ دم خم نہیں رہا ہے اور یہ بات درست ہے کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان غیرفطری اتحاد ختم ہوگیا ہے، کہاوت ہے پشتو کی کہ ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے میری رات ہوگئی‘‘۔ معراج محمد خان اگر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑنے میں پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے بجائے جماعتِ اسلامی یا جمعیت علماء اسلام میں جاتے تو شاید وہ بھی ان جماعتوں کا قائد بنتے اور خلوص وکردار کے مرقع معراج محمد خان کے جنازے میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی طرح تمام فرقوں اور جماعتوں کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی۔ کمیونسٹوں سے معذرت کیساتھ وہ مذہب کو نشہ قرار دیتے ہیں لیکن چرس کا نشہ کرنے والے پھر بھی کچھ کام کاج کے قابل رہتے ہیں کمیونسٹ تو ہیروئن پینے والوں کی طرح بالکل ہی ناکارہ بن جاتے ہیں اور کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری یورپ و مغربی ممالک کے انصاف کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ لعنت تو مغرب سے ہی آئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ ہونے دی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دی۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، سوڈان اور کتنے سارے مسلم ممالک تباہ کردئیے گئے اور پھر صرف اعتراف جرم کیا حالانکہ سزا بھی ہونی چاہیے۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت پر معذرت کافی نہ تھی، برطانیہ کی طرح عراق کے معاملہ پر اعترافِ جرم کوکافی نہ سمجھنا چاہیے تھا بلکہ معراج محمد خان کو قیادت سونپ دینی چاہیے تھی۔ برطانیہ کو بھی چاہیے کہ اپنے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو باقاعدہ سزا بھی دے، ورنہ عراق میں تباہ ہونیوالے خاندان نسل درنسل اپنا انتقام لینے کیلئے برطانیہ کی عوام کو نہ چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جس طرح اسلام آباد میں ایک پولیس افسرایس ایس پی کو پٹوایا تھا ،اسی طرح دھرنے کے دوران خود کو سزا کیلئے پیش کردیں اور اسلام آبادایئرپورٹ پر جس طرح کارکنوں نے پولیس والوں کی ناک وغیرہ توڑ کر پٹائی لگائی تھی، اسی طرح ان کے رہنماؤں سے بھی ان زخموں کا بدلہ لینے کیلئے پیش کیا جائے تو شاید انکے برگشتہ مرید شریف برادران کا ضمیر بھی جاگ جائے اور وہ خود کو قصاص کیلئے پیش کریں۔
قوم طبقاتی تقسیم کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے، کراچی میں اگر معراج محمد خان کیخلاف مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ مل کر میدان نہ مارتے تو آج قوم پرستی کی بنیاد پر کراچی میں خون خرابے کے بعد شریف لوگوں کی بجائے گھٹیا قسم کا ماحول نہ بنتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن، پنجابی سٹوڈنٹ فیدریشن، سندھی سٹودنٹ فیڈریشن اور بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن ایک تعصب کے ماحول میں نہ پلتے تو مہاجر سٹوڈنٹ فیڈریشن کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔قوم پرستی کی سیاست نے انسانیت اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچایا، آرٹ کونسل میں ایک مقرر نے کہا کہ ’’ معراج محمدخان کی وجہ سے قوم پرستی کی طلبہ تنظیمیں بنی تھیں، وہ ہر قوم سے محبت رکھتے تھے، جئے سندھ، پختون،بلوچ اور پنجابی طلبہ تنظیموں کیلئے NSFبنیاد تھی‘‘۔ ترقی پسند تحریکوں کے رہنما کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ موجودہ نوجوان طبقہ بڑا اچھا ہے لیکن ہمارے اندر ایسی صلاحیت نہیں جو ان کو پیغام پہنچاسکیں۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے روس اور امریکہ سے فنڈز آتے تھے، باصلاحیت لوگ اپنا حصہ وصول کرکے سادہ لوح لوگوں کو قربانیوں کا بکرا بنادیتے تھے، اب وہ فنڈز تو بند ہوگئے ہیں،ایک سوکھا سا نظریہ رہ گیا ہے، وہ سویت یونین جو ان لوگوں کو ترنوالہ دیتا تھا،اب خود اپنا وجود بھی کھو گیا ہے۔ اگر وہ ایندھن ملنا شروع ہوجائے تو پھر سے افراد، قربانی کے بکرے اور بہت کچھ مل جائیگا،خان عبدالغفار خان ؒ اور عبدالصمدخان شہید اچکزئیؒ پاکستان بننے سے پہلے کے قوم پرست تھے، عاصم جمال مرحوم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ،ایک مخلص کمیونسٹ تھے، آخری عمر میں نماز پڑھنے پر بھی آگئے۔ ولی خان ؒ کی پارٹی میں رہ چکے تھے، حبیب جالبؒ کے ساتھی تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ ’’غوث بخش بزنجوؒ کے پاس پیسہ نہیں تھا اسلئے ان کو قیادت نہیں کرنے دی جاتی تھی، جبکہ ولی خانؒ کے پاس پیسہ تھا اگر وہ یہ قربانی دیدیتے کہ مہمانوں پر پیسہ خرچ کرتے اور قیادت غوث بخش بزنجوؒ کو سونپ دیتے، تو مشرقی پاکستان بھی نہ ٹوٹتا‘‘۔
قوم پرستی کا شوشہ تو معراج محمد خان سے پہلے کا تھا، متحدہ ہندوستان کی قومیت کا علمبردار طبقہ قوم پرست تھا۔ مولانا آزادؒ اور مولانا مدنیؒ نے اسلئے گالیوں اور اسلام سے خارج ہونے کا سامنا کیا کہ وہ مسلمان ہندی قوم پرست تھے، علامہ اقبالؒ نے بھی ہندی قومیت پر نظمیں لکھیں، خود کو سومناتی کہاہے۔ صحابہؓ کے انصارؓ و مہاجرینؓ ، قریش وغیرقریش، اہلبیت وقریش،کالا گورا، عرب وعجم، عرب وموالی اور اسرائیلی واسماعیلی کا شوشہ پرانا ہے۔ معراج کمیونسٹ اچھے انسان، پاکستانی اور مسلمان تھے۔ اچھا نظریہ اور حب الوطنی مختلف العقائد مسلمانوں کو آج بھی ایک کرسکتا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

طلاق کے مسئلے کا بہترین حل

سید عتیق گیلانی نے ایک تسلسل کیساتھ طلاق کے مسئلے پر بہترین مضامین لکھے ، عوام و خواص کی سمجھ میں بھی بات آرہی ہے ، اکابرین کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا اور کوئی خاتون اپنی ناکردہ گناہ کی انتہائی بیہودہ سزا بھگتے یہ بھی انتہائی ظلم ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قرآن کی آیات میں اس پر مجبور کیا گیا ہے اور احادیث میں اسکی وضاحت ہے اسلئے اس پر غیب کے ایمان کی طرح سوچے سمجھے بغیر عمل درآمد ہورہا تھا۔ اللہ نے قرآن میں بار بار عقل ، تدبر اور عدل کی بات کی ہے۔ قرآنی آیات پر تدبر کیا جاتا ، عقل سے کام لیا جاتا اور عدل کے تقاضے پورے کئے جاتے تو بہت اچھاتھا ، لیکن اُمت مسلمہ قرآن و سنت کی طرف توجہ کئے بغیر بھول بھلیوں میں پھنستی گئی اور اسلام بھی بہت قریب کے دور سے ہی رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اجنبیت کا شکار ہوتا گیا ہے۔
طلاق یکطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے درمیان ایک باقاعدہ معاملہ ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف حق مہر اور عدت کے ادوار نہیں جن کی گنتی ہو۔ ازدواجی تعلق کے بعد طلاق دی جائے تو عورت باقاعدہ عدت بھی گزاریگی۔حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک عدت ہے، حیض آنے کی صورت میں طہرو حیض کے حوالہ سے عدت کے 3 ادوار ہیں، حیض نہ آتا ہو یا اس میں ارتیاب(کمی وبیشی کا شک )ہو، تو3ماہ کی عدت ہے۔ اللہ نے قرآن میں وضاحت کردی کہ عدت کے دوران شوہر صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور پھر اس حکم کو بار بار دہرایا بھی۔ فقہاء نے لکھا کہ ’’عورت کا بچہ اگر آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم نکلا تھا تو پھر رجوع درست ہوگا لیکن آدھوں آدھ ہوگاتو مولوی کو خود بھی پتہ نہیں۔اگر یہ مسئلہ یکطرفہ ہو تو معاملہ حل نہ ہوگا لیکن اگر بیوی کی رضامندی شرط ہو تو بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ عورت اور مرد کے جنازے کی ایک ہی دعاہے لیکن یہ مشکل خنسیٰ پر لڑتے رہے ہیں۔
نبیﷺ نے وضاحت فرمادی کہ دومرتبہ طلاق کا تعلق دوطہرو حیض کیساتھ ہے، حضرت عمرؓ کا یہ کردار واضح ہے کہ پہلے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو بھی ایک سمجھا جاتا تھا، جب شوہر طلاق دیتا تھا تو مصالحت کیلئے عدت کا وقت ہوتا تھا۔ اسلئے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہ تھی کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ شوہر کی بالادستی مسلمہ تھی اور عورت کی ضرورت تھی کہ شوہر رجوع کرلے اورمسئلہ نہیں بنتا تھا۔ جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ شوہر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتاہے، طلاق دیکر رجوع کرلیتاہے اور عورت بے بس ہوتی ہے تو فیصلہ کردیا کہ آئندہ اس طرح کا معاملہ ہوگا تو ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے بعد ویسے بھی شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہ تھا، حضرت عمرؓ کا فیصلہ قرآن کی روح کے مطابق اس وقت بھی درست تھا جب شوہر ایک طلاق دیتا اور عورت رجوع پر راضی نہ ہوتی، جبکہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگاقاضی وہ آوازِ خلق تھی جس کو واقعی نقارۂ خدا سمجھ لیا گیا تھا۔ معاملہ بعد کے فقہاء اور مفتیوں نے خراب کیا۔
چاروں امام کا فتویٰ درست تھا کہ عدت کے بعد عورت شادی کرسکتی ہے اسلئے کہ تین طلاق یا صرف طلاق کے بعد عدت شروع نہ ہوتو زندگی بھر عورت دوسری جگہ شادی نہ کرسکے گی۔حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے صرف اسلئے اختلاف کیا کہ رجوع کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے لیکن مرد نے طلاق دی ہو اور عورت رجوع نہ کرنا چاہے تو طلاق واقع ہونے کا فتویٰ وہ بھی اسلئے دیتے تھے تاکہ عدت کے بعد عورت کی دوسری جگہ شادی ہوسکے۔ دارالعلوم کراچی نے حضرت عمرؓ کے حوالہ سے تین طلاق کی غلط توجیہ کی ہے کہ پہلے طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا جاتا تھا،پھر لوگ غلط بیانی کرنے لگے،اسلئے حضرت عمرؓ نے تین طلاق کو نافذ کردیا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہشتی زیور، بہارشریعت میں حنفی فقہاء کی یہ توجیہ نہ مانی گئی اور فتویٰ دیا گیا کہ ’’طلاق طلاق طلاق پرشوہراپنی نیت پر رجوع کرسکتاہے اور عورت پھر بھی سمجھے کہ اسکو 3طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ قرآن میں طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے بتایا گیا ہے، حدیث میں دومرتبہ کی طلاق کوطہروحیض سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ مفتیان قرآن کو مانتے ہیں نہ سنت کو اور نہ ہی حضرت عمرؓ کو مانتے ہیں ، یہ حلالہ کی لعنت کیلئے اسکے جواز کا راستہ ڈھونڈنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے مظفر علی شجرہ نے سورۂ طلاق کے حوالہ سے اپنی باتیں ڈالدیں، سیاسی رہنما کو فرصت نہیں، مذہبی لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں، اصحاب حل وعقد کو اپنی پڑی ہے ، امت مسلمہ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، قابل احترام شخصیت شاہد علی نے کہا کہ ’’ جرم تین طلاق ایک ساتھ دینے کا شوہر کرتا ہے تو سزا بیوی کو کیوں ملے؟۔شوہر کو ہی مولوی کے پاس لے جاکر اسکا حلالہ کروایا جائے ‘‘۔ یہ تجویز اسوقت پسند آئیگی جب مسئلہ سمجھ میں آئیگا لیکن مولوی اس پر بھی خوش ہوگا کہ معاشرے کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکے گا۔ جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ ناجائز حلالہ کا ناجائزفتویٰ دینے والے علماء کو پکڑ کر ان کا ناجائز حلالہ کروایا جائے تو مساجد، مدارس، مذہبی جماعتوں اور طبقات کی طرف سے محشر کا شور اُٹھے گا کہ ’’اللہ واسطے ! قرآن کی آیات کو دیکھو، ایک ساتھ نہیں الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، ہم پر خدا رااتنا ظلم نہ کرو ۔ سید ارشادعلی نقوی

پاکستان کے مسائل کا حل اور اہل اقتدار کی ترجیحات وا ہداف

پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اہل اقتدار کی ترجیحات اور اہداف ہی نہیں ہیں۔ ہمارا سب سے بڑامسئلہ پانی کا ہے، قدرتی پانی کا بہاؤ پاکستان کی عوام کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفہ ہے۔ پینے کا صاف اور میٹھا پانی ہمارے لئے نعمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، کھڑی فصل تباہ اور آبادیاں خانہ بدوشی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، سیلاب ہرسال طوفانِ نوح کا منظر پیش کرتا ہے۔ اللہ کی سب سے بڑی دولت پانی کی نعمت جس سے اللہ نے ہر جاندار چیز کو پیدا کیا ہے، جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں وہ ہمیں دستیاب ہونے کے باوجود طوفان کی طرح بہاکر سمندر کی نذر ہوجاتا ہے لیکن ہم بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں،اگر اہل اقتدار کو عوامی مسائل اور پاکستان کو درپیش چیلنج کی کوئی فکر ہوتی تو پانی کے ذخائز بناکر پاکستانیوں کو کربلائے عصر کی تکلیف سے کوئی تو نجات دلاتا؟۔ اے این پی والوں نے پختون پختون کی رٹ لگاگر مہاجروں میں بھی لسانیت کو ہوا دی، کراچی کو پختونوں کا سب سے بڑا شہر کہنے والوں نے کراچی میں ہی پختونوں کو تعصب کی نذر کردیا۔ حب الوطنی اور قربانیوں کا جذبہ ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ نوشہرہ ہم سے زیادہ فوج کی سرزمین ہے جہاں عام لوگوں سے زیادہ فوجی اداروں کی بہتات ہے،اگر کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ ڈوب بھی جائے تو کراچی کے پختونوں کیلئے اتنی چھوٹی سی قربانی ہم دینگے۔
کراچی، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور پختونوں کے مفاد میں دریائے سندھ پر کالاباغ ہی نہیں پورے دریائے سندھ پر ڈیم ہی ڈیم بنائے جاتے تو آج زیرزمین اور سطح زمین پر پانی کے بہت بڑے ذخائر ہوتے، سستی بجلی و انرجی سے پاکستان اور پاکستانی قوم خوشحال ومالامال ہوتی اور صحت وزراعت سمیت ہرشعب ہائے زندگی میں ہم خود کفالت کی زندگی گزارتے۔ ہماری ریاست کا معیار بہت بلند ہوتا، عرب سے تیل خریدنے کی بجائے اپنے تیل وگیس کے قیمتی ذخائرسے فائدہ اٹھاتے۔ آج بھی رونے دھونے کی ضرورت نہیں، ستارایدھی کو فوجی پروٹوکول دینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوجاتے بلکہ شارعِ فیصل پر کارساز سے ڈرگ روڈ تک سروس روڈ پر قبضہ ختم کرکے چوڑے فٹ پاتھ کی جگہ پر سڑک کی توسیع سے عوام کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔پرویز مشرف نے کارساز پر فلائی اُور کیلئے تھوڑی سی فوجی زمین نہ لی ہوتی تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تھا۔ آج ڈکٹیٹر کے دور میں کراچی کے ترقیاتی کام اور جمہوری دور میں کراچی کا بیڑہ غرق کرنے کا تصور کیا جائے تو جیسے ترقی وعروج کے پہاڑسے زوال وانحطاط کی کھائی میں گرگئے ہوں۔
عوام کامزاج حکمرانوں نے اللہ کی غیب میں پرستش کرنے کے بجائے چڑھتے سورج کے پجاریوں والا بنایا ہے۔ کشمیر میں(ن) لیگ کی جیت جمہوریت کے تابناک مستقبل نہیں بلکہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ آج نوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے اور پھر کشمیر میں الیکشن ہوجائیں تو نوازشریف کیخلاف ووٹ دیا جائیگا۔ یہ عوام کا مزاج بن گیا ہے کہ جو ٹیم جیتنے کا چانس رکھتی ہے بچے بھی اسی کے طرفداربن جاتے ہیں۔ سعد رفیق دوسروں کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ ’’جائیں گے تو سب ایک ساتھ جائیں گے‘‘۔ سندھ بلوچستان اور پختون خواہ میں تو پہلے سے مارشل لاء نافذ ہے، اگر پنجاب میں لگ جائے تو دوسروں کو کیا فرق پڑیگا؟۔ چوہدری نثار کو سندھ کی بڑی فکر ہے لیکن پنجاب میں اغواء ہونے بچوں کو انسان نہیں شاید کتے کے بچے سمجھا جاتا ہے،اسلئے وہاں رینجرز کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
جنرل راحیل شریف نے چیف جسٹس سندہ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کوبھلے ٹانک سے بازیاب کرواکر بڑا کارنامہ سرانجام دیا لیکن کیا لاہوراور دیگر شہروں میں اغواء ہونے والے بچوں کا کوئی حق نہیں، گداگری کے پیشہ کیلئے اغواء کئے جانے والے بچے کسی ستارایدھی کا انتظار کریں؟۔ قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کرکے گھناؤنے کردار والوں کو کیا اسلئے کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جاسکا کہ وہ دہشت گردگروپوں کیساتھ مل کر کاروبارِ سرکار کو چلانے میں معاونت کریں؟۔یہ عجیب مخمصہ ہے کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے کے دن گنے چنے لگتے ہیں جہاں حکمرانوں کا کوئی ضمیر ہی نہ ہو۔ پانامہ لیکس پرتین وزیراعظموں کا استعفیٰ اور پاکستان کے وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کوئی معمولی بات نہیں ۔ زرداری ڈھیٹ بن کر رہ جاتا تو اس کی ڈھٹائی سمجھ میں آتی تھی اسلئے کہ دوسروں کے خلاف وہ حبیب جالب کی زبان اور شاعری میں تو بات نہ کرتا تھا۔ ان پارساؤں کا ڈھیٹ بن جانا انتہائی خطرناک ہے،اور اس سے زیادہ خطرناک بات شہبازشریف، چوہدری نثار اور نوازشریف کا جمہوریت کے پردے میں پناہ لینا ہے جن کی ساری زندگی جمہوریت کے خلاف کھلی کتاب کی طرح رہی ہے۔
اصحاب حل وعقد سب سے پہلا کام یہ کریں کہ دریائے سندھ پر خرچہ کرکے جگہ جگہ پانی کو ذخیرہ بنانا شروع کریں،پاکستان،سندھ اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی کی سخت ضرورت ہے،پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے ،سستی بجلی پیداکرنے کی زبردست صلاحیت ہے ۔
نامزد وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ نے اگر لوگوں کو دعوت دی کہ دریائے سندھ پر پانی کے ذخائر کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تو بڑے پیمانے پر لوگ اس نعمت کو عام کرنے کیلئے چندہ دینے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔ تھرکے لوگوں کی مدد کے نام پر جتناسرمایہ خرچ ہوا ہے، اس سے کم سرمایہ پر دریائے سندھ میں پانی کو ذخیرہ بناکر خوشحالی کی لہر لائی جاسکتی ہے بلکہ مسائل کا مستقل حل بھی نکل سکتا ہے۔ جس موسم میں خشک سالی ہوتی ہے اس وقت دریائے سندھ بالکل خالی ڈیم کا منظر پیش کرتا ہے اور اس میں پانی کو ذخیرہ کیاجائے تو زمین کے اندر میٹھے پانی کے ذخائر سے سندھ کی قسمت بدل جائیگی۔ پھر سندھ کی عوام کا سب سے اہم اور بڑا مطالبہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا ہوگا۔
پانی کے ذخائر سے سندھ کی بنجر زمین کو زرخیزبنانے میں دیر نہ لگے گی اور کراچی کو وافر مقدار میں پانی ملے گا تو عوام کا ایک بنیادی اور دیرینہ مسئلہ حل ہوجائیگا۔ ڈیفنس جیسے علاقہ میں بھی پانی نہیں تو غریب آبادی کے مکینوں کا مسئلہ حل کرنے میں کس کودلچسپی ہوسکتی ہے؟۔ دریائے سندھ کے ذخائرسے نہروں کے ذریعہ بھی کراچی کو پانی دینے کا بندوبست ہوسکتا تھا لیکن آمریت اور اس کی پیدوار جمہوریت نے مل کر اور باری باری کبھی بھی عوامی مسائل کے حل کو ترجیح نہ سمجھابلکہ جن جن ذرائع سے سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع کما سکتا تھا وہی حکمرانوں کی بھی ترجیح رہی ہے، حد تو یہ ہے کہ کراچی میں سرکاری زمینوں پربدمعاش لینڈ مافیاز، سرمایہ داروں، حکومتوں، ریاستی اداروں اور غریبوں تک سب نے اپنا ہاتھ صاف کیا ہے، البتہ غریب کو قانون کا سہارا نہ مل سکا،اسلئے وہ کچی آبادی ہے اور طاقت کے بل پربدمعاشوں اور پیسہ پربدقماشوں نے قانون ہاتھ میں لیکر بھی قانون کو ٹشو پیپر کی طرح بڑے احترام کیساتھ اپنا گند صاف کرنے کیلئے استعمال کیا ۔
جب قانون کو طاقت اور پیسوں کی لونڈی بنایا جائے تو اہل اقتدار و حکمران طبقہ کی ترجیحات کو سمجھنا دشوار نہیں ہوتا، ایک طرف چھڑی والوں کااقتدار ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کے گماشتوں اور چہیتوں کو جمہوریت کے نام سے حکمران بنایا جاتا ہے۔ سیاستدان سچ کہتے ہیں کہ وہ حکمران تو ہوتے ہیں لیکن انکے پاس اقتدار اور اختیار نہیں ہوتا ۔ نیوی کا شارع فیصل کے سروس روڈ پر قبضہ ہوجائے اور لوگ رل رل کر روز روزٹریفک میں پھنستے رہنے کو معمول کی مجبوری اور حالات کا جبر سمجھیں اور دوسری طرف صدیوں کی آبادیوں کو لیاری ایکسپریس وے کیلئے چند ہزار کی قیمت دیکر ملیا میٹ کردیں تو پتہ چلتا ہے کہ عوام ترجیح نہیں ۔ ایک دن کارساز سے ڈرگ روڈ تک لوگ خالی گاڑیاں چھوڑ کر ایک آدھ دن کیلئے صرف اپنا احتجاج نوٹ کرادیں کہ وہ فٹ پاتھ جس پر کوئی چلتا بھی نہیں ، سروس روڈ کی جگہ پر پہلے نرسیاں بنائی گئی تھیں اور پھردہشت گردی کے خوف نے قبضہ کرایا ۔ جس کی وجہ سے عوام کو روز روز بہت تکلیف ہوتی ہے اور پھر چند دنوں بعد پروٹوکول کیلئے سڑک ،آفس سے چھٹی اور بہت رش کے وقت بند کردی جاتی ہے۔
جنرل راحیل شریف نے اگر واقعی قوم کی خدمت کرنی ہے تو کارسازاور نیشنل اسٹڈیم سے ائرپورٹ کی طرف جانے والے نیوی کے علاقوں میں عوام کیلئے بڑی بڑی شاہراروں کے ذریعہ سے سہولت فراہم کریں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام میں مسجد اور قبرستان کو کسی بھی صورت میں گرانا جائز نہیں مگر سڑک کی توسیع کیلئے مسجد اور قبرستان کو بھی گرایا جاسکتا ہے۔ یہ پریشر بالکل بھی ختم کردینا ضروری ہے کہ قبرستان سے عوامی ، مسجد سے مذہبی طبقات اور فوجی علاقہ سے اہل اقتدار کے جذبات مجروح ہونگے۔ فوج، مذہبی طبقات اور عوام سب مل کر ایسا کام کریں جس سے ثابت ہو کہ مخلوقِ خدا کیلئے سہولت کے دروازے کھل گئے ہیں ۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ پیسوں کی حکومت اور تاجروں کی تجارت ہے۔جمہوری پارٹیوں میں جمہوریت نہیں بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں میڈیا اور عوام کو رائے کی آزادی ملی، آج ن لیگ کی حکومت نے پی ٹی وی کو(ن: ش: ٹی وی )نواز شریف شہبازشریف ٹی وی بناکر رکھ دیا ہے۔
ہاکس بے غریب عوام کیلئے ایک زبردست تفریح گاہ ہے لیکن جولائی کی آخری اتوار کو مشاہدہ ہوا کہ جگہ جگہ ’’سمندر تمہارا دوست نہیں‘‘ لکھا گیا تھا۔ رینجرز کے سپاہیوں نے دن دھاڑے عوام کو وہاں سے نکالنا شروع کیا، بغیر کسی وجہ کے سڑک پر ٹریفک پولیس اور عام پولیس کے ذریعہ روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کا مقصد صرف اور صرف یہ لگتا تھا کہ آنے جانے والوں کو شدید تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کیا جائے۔ ہاکس بے سے شہر کی طرف جانے والی شاہراہ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی اور آنے والی سڑک کی تھوڑی سی جگہ چھوڑ دی گئی تھی جہاں سے ایک گاڑی بمشکل گزرسکتی تھی، باری باری آنے جانے والی گاڑیوں کو گزار کر خواہ مخواہ بیچاری عوام کو تکلیف دی جارہی تھی۔ عراق اور لیبیا کی فوج اور حکمرانوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت تھی اگر اپنے ہی اہل اقتدار عوام کو محروم کرنے اور کنارہ لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو کل کلاں اللہ نہ کرے اس فوج کی جگہ غیرملکی فوج بھی قبضہ کرسکتی ہے اور پھر رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

کیا کمی ہے انمیں، کیا شکایت ہے ان سے؟ راحیل شریف کے چاہنے والے…. وہ کرپٹ نہیں ہے اور وہ خوشامدی نہیں ہے، نواز شریف کے چاہنے والے

8th_Coloumn_August2016

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف زیادہ حقدار ہیں کہ اشفاق کیانی کیطرح مزید 3سال ایکسٹینشن ملے ۔ اور بعض لوگ نواز شریف کی خواہش کیمطابق نہیں چاہتے کہ انکو مزید وقت ملے۔ دونوں کا مکالمہ دیکھ لیجئے

نواز شریف نے چوہدری سرور کو امپورٹ کیا اور پھر عدالت کے حکم پر مجبور ہوکر رفیق رجوانہ کو گورنر بنایا کیسی جمہوریت ہے پنجاب کے بارہ کروڑ عوام میں ن لیگ کیلئے ایک بے ضرر تابعدار سا گورنر مشکل ؟ پرویز مشرف کو بھی تو تم نے ہی نامزد کیا تھا اور آخر کار جس پر اعتماد کرو گے وہ بھی تو بستر گول کرسکتاہے۔ جیو کے خبرناک میں ترکی کی فوج کو عبرتناک بناکر اپنی فوج کی بڑی توہین کردی ہے میڈیا پر خرچہ کیا ہے

فوج کیلئے باہر سے سربراہ لانے کیلئے قانون سازی ہوسکتی ہے اور رفیق رجوانڑاں جیسا کوئی مل سکتا ہے رفیق تارڑکے ہم نام رفیق رجوانہ پر بہ مشکل اعتماد کیا ، چوہدری سرور کے بعد کس پر کیسے اعتماد کرتے؟ یار تم نے مشکل میں ڈالا ، تمہارے خلاف ہی قانون سازی کرنی پڑ رہی ہے نہیں تو وزیر اعظم لندن جائیگا جنرل راحیل نے بھی تو سعودیہ کی حمایت یافتہ اور مصر کی فاتح فوج سے ملکر دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا

جنرل کیانی کا اپنے بھائی کامران کیانی ، نوازشریف کا اپنے بچوں سے کیاتعلق؟۔ حالانکہ یہ قیامت میں ہوگا: یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبہ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں،اپنے باپ ، اپنی بیوی سے‘‘(القرآن)۔
خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ بذاتِ خود بہت مالدار تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان پر اقرباء پروری کے الزام لگے اور بات مسندِ خلافت پر شہادت تک پہنچی، داڑھی میں پہلا ہاتھ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے ڈالا ۔نبیﷺ زکوٰۃاسلئے قبول نہ کرنا چاہتے تھے کہ انسان انہ لحب الخیر لشدید’’مال کی محبت میں سخت ہے‘‘۔ اللہ نے حکم دیا تونبیﷺ نے اپنے اقارب پر زکوٰ ۃ حرام کردی۔ حضرت عثمانؓ اللہ کا حکم سمجھ کر اقارب پر احسان کرتے ۔ سیاستدان ، جرنیل اور بیوروکریٹ یہ اعتراف کرلیں کہ وہ مال چاہتے ہیں اور اقرباء کے نوازنے کی بات فطری ہے، اللہ نے فرمایا: لاتزکوا انفسکم ’’ اپنی پاکی بیان نہ کرو‘‘۔
چھوڑدیں کہ کس سیاستدان، جرنیل اوربیوروکریٹ نے کیا کیا؟۔ہرن مملکت بچے دیتی ہے۔ شیر، چیتے اوربھیڑئیے اسی پر پل رہے ہیں،قرآن میں سدھائے ہوئے جانور کا شکارحلال ہے مگر افسوس ہے کہ تعلیم وتربیت کا معیار نہیں اسلئے سب ہی بے سدھ ہیں۔ تربیت یافتہ کتے اور باز کا شکارحلال مگر آوارہ کتے اور گدھ کاراج ہوتو پاکستان کا کیا ہوگا؟، بڑے لوگوں کے بچے باہر اور ویزہ لگنے میں دیر بھی نہیں لگتی، عوام کی کمزوری پر حکمرانی ہے۔ قرضہ بے تحاشہ بڑھتا جارہا ہے، غریب کا بچہ باہر سے کماکربھیج رہا ہے، کرپٹ مافیہ دولت منتقل کررہاہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے جو سہارا ملا، اسکا فائدہ نہیں اٹھایا غیرملکی بینک موجودہیں، پیسہ باہر منتقل کرنا مسئلہ نہیں رہا۔سرکاری اثاثے بیچ کر اور اندرونی بے تحاشہ اور بھاری سود پر قرضہ لیکر آئی ائم ایف سے وقتی طور پر جان چھڑانا مسئلہ کا حل نہیں بحران کھڑا ہواتو مشکل پڑیگی بلکہ دیوالیہ ملک کو قرضہ بھی نہ مل سکے گا۔ سید عتیق گیلانی

ایم کیو ایم کی طرح کسی سیاسی جماعت سے رویہ رکھا گیا تو نظر نہیں آئیگی، اجمل ملک

Ajmal_Malik_August2016

مسلم لیگ (ن)سے یہ رویہ رکھا گیا تو اس مرتبہ شہباز شریف کا وہی کردار ہوگا جو سید مصطفی کمال کا ہے، 12مئی کے واقعہ پر پرویز مشرف نے مکا دکھایا اگر ہاتھ مروڑا ..

پاکستان میں ریاستی اداروں کی نظر کرم ہوجائے یا نظر بد لگ جائے تو اس کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے سوات کے طالبان سے لیکر کراچی کے ایم کیو ایم تک …

چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کی بازیابی بہت خوش آئند لیکن گدا گری کے پیشے کیلئے اغواء کئے جانے والے غریب کے بچے اور بچیاں بھی انسان ہیں کتے کے بچے نہیں ہیں

ایم کیو ایم نے اپنے خلاف لوگوں سے بولنے کا حق نہ چھینا ہوتا اور کراچی میں قانون کے ذریعے سے سزا دلانے کی روایت کو فروغ ملتا تو آج یہ دن انکو دیکھنے نہ پڑتے

کراچی (نمائندہ خصوصی) ماہنامہ ضرب حق کراچی ، کتاب جوہری دھماکہ اور ابر رحمت کے پبلشر اجمل ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی پالیسی ، نظرئیے اور رویوں سے سب کو اختلاف ہوسکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آجکل جس عتاب کی ایم کیو ایم شکار ہے اگر کسی اور جماعت سے یہ رویہ رکھا گیا تو اسکے آثار قدیمہ بھی نظر نہیں آئینگے۔ رینجرز کی نگرانی میں میڈیا کی پرزور مخالفت کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا نوزایدہ امیدوار ایم کیو ایم میں شامل ہوگیا، ن لیگ کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو نواز شریف معاہدہ کرکے بھاگا۔ واپسی پر کارکنوں نے استقبال میں نعرے لگائے تو برا مان گئے اور کہا کہ ’’چپ کرو ! جب مجھے ہتھکڑی پہنا کر لیجایا جارہا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی ایک بھی نہیں تھا‘‘۔ چوہدری شجاعت ، شیخ رشید ، دانیال عزیز سے لیکر عطا ء مانیکا تک کتنے بدل گئے؟۔ جبکہ اسحٰق ڈار نے عدالت کے سامنے بیان دیا ’’میں نے نواز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کی ہے‘‘۔
میڈیا میں اس بحث اور بکواس کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کی یا نہیں؟ ، یہ ایسا ہے جیسے کوئی سورج یا چاند تاروں پر بحث کرے کہ ہیں یا نہیں؟۔ کوئی حقیقی انقلاب آئے تو سب سے پہلے بکواس کرنے والوں کو میڈیا کے اوپر ہی عوام کے سامنے مرغا بنایا جائے۔ ایم کیو ایم کی طرح اگر مسلم لیگ (ن) سے برتاؤ کیا گیا تو مصطفی کمال کیطرح شہباز شریف بھی کردار ادا کریگا۔ 12مئی کو پرویز مشرف نے مکا دکھایا تھا اسکا بازو مروڑ دیا جاتا تو بھی انصاف نظر آتا تھا، ایم کیو ایم اپنے اعمال اور روئیے کی خود جوابدہ ہے، اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے انبیاء ؑ کی رہنمائی کرتا ہے تو کسی بھی عام انسان کو جو خود کو مسلمان کہتاہو یہ قطعاً نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ غلطی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ مثلاً کراچی کے سابق ناظم پاکستان سر زمین پارٹی کے قائد سید مصطفی کمال کو ہی لے لیجئے ۔ پہلے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیلئے جن جذبات کا اظہار کرتے تھے اب اس کا بالکل ہی برعکس رویہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سید ضعیم قادری جسکی سرکاری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی بولے تو یہ بھی بکنا شروع کردے تاکہ دوسرے کی بات کوئی سن نہ سکے۔ جب اس نے ایم کیو ایم کے قائد کیخلاف کچھ بولا تو سید مصطفی کمال نے کہا کہ تمہیں لاہور میں بھی گھر سے نہیں نکلنے دینگے۔ سید مصطفی کمال پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے فتویٰ لگایا کہ وہ تجدید ایمان کرلے ، اس لئے کہ مصطفی کمال نے اقرار کیا ہے کہ ہم الطاف حسین کو خدا مانتے تھے۔ حالانکہ فرشتوں نے بھی جنت میں اللہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پر سوال اٹھادیا مگر مصطفی کمال اپنے قائد کیلئے سوال اٹھانے کو بھی برداشت نہ کرتے تھے، اسلئے خدا کا لفظ بھی کم تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار جو بہت معتدل مزاج سمجھے جاتے ہیں جب مولانا فضل الرحمن نے اجمل پہاڑی کا صرف نام لیا تو ڈاکٹر صاحب نے مولانا ڈیزل سے لیکر اسکی ایسی کم تیسی کرکے وہ حال کردیا کہ اللہ کی پناہ۔ یہ تو مولانا کا دل گردہ تھا کہ پھر بھی نائن زیرو گئے ورنہ تو کوئی چھوٹے دل والا کبھی وہاں جانے نہ پاتا۔
کوئی عتاب میں ہو تو مرے پر سو دُرے لگانا انتہائی بے غیرتی اور بے ضمیری ہے۔ تاہم اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کے محرکات کیا ہیں؟۔ بلدیاتی انتخاب میں جمہوریت کی بنیاد کا پتہ چلتا ہے ، پاکستان کی ساری برسر اقتدار سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کی علمبردار نہیں ، اسلئے کہ وزیر اعلیٰ بننے میں بھی قائدین کو دلچسپی نہیں ہوتی، وہ تو صرف وزیر اعظم کا خواب ہی دیکھتے ہیں البتہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اپنا بیس بنانے کیلئے مستقل قبضہ جما رکھا ہے۔ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات کے علاوہ پاکستان میں ساری قومیتوں کو متحد کرکے انقلاب کی صلاحیت رکھتی تھی جو لوگ ایم کیو ایم کے مظالم پر سینہ کوبی کررہے ہیں انکی اکثریت دہشت گردی پھیلانے والے طالبان کی حامی تھی جیسے مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام وغیرہ۔ طالبان ریاستی اداروں کے اہل کاروں کو بھی حصہ دیتے تھے مگر ایم کیو ایم کا بھتے میں کوئی حصہ دار نہیں تھا۔
ریاستی ادارے بیورو کریسی انتظامیہ ، عدلیہ ، پولیس اور فوج کی نظرکرم ہوجائے تو اُلو بھی تیتر اور چکور بن جائے اور کائیں کائیں کرنے والے کوے شاہین بن جائیں اور نظر بد ہوجائے تو ہیرو بھی زیرو بن جائیں۔ سوات کے طالبان سے کراچی کے ایم کیو ایم اور گوادر سے لاہور تک ایک ایک معاملہ دیکھا جائے تو متضاد پالیسیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ایسے میں ریاستی اہلکاروں کا کوئی بھروسہ اور اعتبار نہیں ہوتا کہ کب کیا سے کیا ہوجائے؟۔ وزیر اعظم کبھی لندن سے واپس ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور کبھی لاہور سے اسلام آباد جانے میں خدشات کے انبار لگتے ہیں۔ ایسے ملک کا وزیر اعظم بننا بھی بہت بڑے درجے کی رسوائی سے کم نہیں۔ نواز شریف نے تو انتہائی نااہلی کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کی اوقات بدلے ہیں اسلئے بار بار وزیر اعظم بننے کی قربانی بھی دیتے ہیں۔ اسکے باپ کا نام شریف تھا ورنہ شرافت رکھنے والا کوئی شریف اتنی ذلت کے بعد کاروبار کیلئے یہ قربانی کب دے سکتا تھا؟۔ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جس نے مہاجر قوم اور پاکستان کی تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اسی نعرے کی گونج میں پاک سر زمین پارٹی کے رہنماؤں کی پرورش ہوئی۔ مصطفی کمال یہ کہہ دیتے کہ’’ ایک مرتبہ مجھے سرزنش ہوئی تو آسمان کے تارے نظر آنے لگے۔ سوچا کہ دوسروں پر مظالم، ذلت، رسوائی کے پہاڑتوڑ دیتے تھے، قتل وغارتگری کے مرتکب ہوجاتے تھے، زبردستی کی بنیاد پر جلسوں میں لے جاتے تھے، 12مئی کو ساری پارٹیوں کے برعکس چیف جسٹس کو ائرپورٹ سے نہ نکلنے دیا،معمولی گستاخانہ لہجہ برداشت نہیں کرتے تھے۔ ساری قوموں سے بھڑے ، اپنوں سے لڑے اور مہاجر سے متحدہ تک کا طویل سفر بچپن سے جوانی تک جس طرح سے طے کیا اور پھر ایک محفل میں بپھرے ہوئے کارکنوں کے روئیے سے نالاں ہوکر بھاگے ، یہ ہم پر قرض تھا کہ اپنی قوم سے معافی مانگتے ، ریاستی اداروں سے بھی معافی مانگتے اور دوسروں سے بھی معافی مانگتے تاکہ دنیا تو جو برباد ہونا تھی سو ہوئی مگر آخرت میں مغفرت کی کوئی سبیل نکلے‘‘ ۔اس طرح کے بیانات کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی نکلتے۔ یہ کونسی بات ہے کہ الطاف حسین اور اس کی جماعت را کی ایجنٹ ہے ، کہنے والا سابقہ راکا ایجنٹ۔ اگر ایم کیو ایم اور اسکی متاثرین کی اصلاح کرنی ہو تو اسکا یہ طریقہ نہیں کہ دوسرے ذرائع سے ان پر الزام لگایا جائے اور کل ماحول بدل جائے تو عامر خان کی طرح ایم کیو ایم کے زانوں میں اپنا سر دیدے۔ ایم کیو ایم کی اصل غلطی یہی تھی کہ مخالفین کو بولنے بھی نہ دیتے تھے۔ مخالفین کے بولنے سے کچھ بگڑتا نہیں بلکہ قیادت اور جماعت کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ آج بھی مکا چوک کے قریب لٹنے والوں کو ایم کیو ایم سے ہی گلہ ہے ، کراچی میں ایک کرائم سے پاک معاشرہ وجود میں آتا تو اسکا سارا کریڈٹ ایم کیو ایم کو جاتا۔ زبردستی سے تبدیلی کی ذلت میں کوئی اچھا پہلو ہوتا تو کراچی سے وزیرستان تک لوگ خوشیاں بانٹنے کیلئے جوق درجوق آتے۔