اپریل 2023 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

پاکستان کے معاشی بحران کا حل کیا؟

پاکستان کے معاشی بحران کا حل کیا؟

پاکستان کے وسائل کیا ہیں؟ اور اخراجات کیا ہیں؟۔ جب تک وسائل اور اخراجات میں توازن قائم نہیں ہوتاہے تو پاکستان کے معاشی بحران کا حل نکالنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بڑا المیہ یہ ہے کہ مسائل کاسامنا کرنے کے بجائے ہم اس سے فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔پاکستان میں کونسے ایسے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ہیں جن سے وسائل پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے؟۔
پاکستان کو گردشی سودی قرضوں کی مد میں کتنی سالانہ رقم دینی پڑ رہی ہے؟۔35ارب ڈالر!۔ اتنی بڑی رقم ادا کرنے سے بدلے میں ہمیں کیا ملتا ہے؟۔ اس کا جواب کیا ہے؟۔ بالکل زیرو!۔ اس سے بچنے کا راستہ کیا تھا؟۔ اللہ نے سود کی حرمت قرآن میں نازل کی ہے اور اس کو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ اس سے راہِ فرار کیسے اختیار کرتے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ”اس کو اسلامی بینکاری کا نام دیدیں۔ بھلے اسکے بدلے میں ہم35ارب کی جگہ37ارب ڈالر ادا کریں ”اسلئے کہ شیخ الاسلام کی بھی اس میں فیس ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مفتی محمد تقی عثمانی کو شیخ الاسلام اور مفتی قرار دینے کی جگہ اسلامی بینکاری کانفرنس میں کہا کہ ” تقی صاحب سے میں نے کہا تھا کہ آپ اسلامی بینکاری کو کامیاب کرنا چاہتے ہو تو پھر عام بینکوں سے شرح سود2%زیادہ کیوں رکھی ہے؟۔ اس طرح کون اسلامی بینکوں کی طرف آئے گا؟۔ پچھلی حکومت میں انہوں نے مہربانی کی تھی اور پھر شرح سود تھوڑی کم کی تھی”۔ پروگرام میں مولانا فضل الرحمن اور مدارس کے علماء ومفتیان بھی شریک تھے۔
پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ حکومت اسلامی بینکوں سے وعدے وعید کرے کہ زیادہ شرح سود کی بنیاد پرعلماء ومفتیان کے اس کاروبار کو فائدہ پہنچائے لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا کہ زیادہ شرح سود کی بنیاد پر ریاست کو نقصان پہنچانا ہوگا تو ہمیں بھی کچھ نہ کچھ دینا ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سودی نظام کو اسلامی بناکر تم مولوی اپنے فائدے حاصل کرو اور ہمیں کچھ نہیں دو؟۔
ایک اسلام کے نام پر دھوکہ ؟۔ دوسرا شرح سود زیادہ ؟۔ تیسرا مولانا فضل الرحمن اور اسحاق ڈار کی کمیشن ؟۔بدلے میں کیا حکومت کی تائید کیلئے علماء کرام کی حاضری! کیا اس سے ہمارے معاشی نظام میں بہتری آئیگی یا ابتری؟۔ اس طرح حکومت نے سول بیوروکریسی کے مختلف اداروں میں اپنے دلال رکھے ہیں اور ان کا کام ریاست کو نقصان پہنچانے کیلئے سہولت کاری ہوتی ہے۔ اس نظام کی اصلاح کیلئے بہت بڑے پیمانے پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی۔ پاک فوج نے سمجھ لیا کہ ملک کو سول بیوروکریسی نے کھالیا ہے اسلئے اس نے بھی اس گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردئیے ہیں۔کسٹم، اینٹی نارکوٹس اور سمگلنگ کے معاملات میںگنگا کے ساتھ ساتھ جمنا نے بھی ڈیرے لگالئے ہیں۔ افغانستان کے نام پر مال بک ہوتا ہے اور پہلے افغانستان جانے کے بعد واپس آجاتا تھا اور اب اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ جس بوری میں محصولات جمع کئے جارہے ہوں اور وہ ہرطرف سے پھٹا ہوا ہو تو پھر مال جمع کہاں سے ہوسکے گا؟۔ پاکستان میں سول بیوروکریسی گنگا اور ملٹری بیوروکریسی جمنا کا کردار ادا کررہے ہوں تو محصولات قومی خزانے میں جمع ہونے کے بجائے قومی اداروں کے ناک سے نزلے کی طرح بہہ رہے ہوں گے اور کوئی ناک صاف کرنے کیلئے کہے گا تو اس گستاخی پراس کی جان بھی جاسکتی ہے۔ جب معاشی بحران کے حل کی تجاویز پر جان، مال اور عزت جانے کے خطرات ہوں تو کون پاگل یہ رسک لے گا؟۔ جب محافظ رہزن بن جائیں تو پھر دلال قسم کے سیاستدان ہی کام کریں گے۔
کرنل انعام الرحیم کی مانیٹرنگ
پاک آرمی کے کرنل انعام الرحیم میڈیا پر جس طرح کی اصلاحات بتاتے ہیں ، اس سے پاکستان میں آرمی کے اندر بہترین سسٹم کا اجراء ہوسکتا ہے۔ جب پاکستان میں دلال قسم کے سیاستدانوں سے قومی خدمات لی جائیں گی اور پوری قوم ان کو ہیرو کے طور پر دیکھے گی تو پاکستان معاشی بحرانوں سے کبھی نہیں نکل سکے گا۔ ہر نئی حکومت اور نیا سیاسی لیڈر ایک نیا طوفان لے کر آئے گا۔
عمران خان ، نوازشریف، آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، شیخ رشید اور پرویزالٰہی وغیرہ نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا نہیں کیا ہے۔ کرنل انعام الرحیم جیسے لوگوں کی قیادت میں ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جن کا کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو۔ جو سول وملٹری بیوروکریسی کے اندر اچھے لوگوں کی تائید اور برے لوگوں کو برائی سے روک لیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ
” اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ جو خیر کی طرف دعوت دیںاور معروف کا حکم دیں اور برائی سے روکیں”۔ جب ایک مستقل جماعت اس کارِ خیر کیلئے وقف ہوگی تو میڈیا کی بلیک میلنگ ،اشتہارات ، قوم کو تفریق اور انتشار کا شکار بنانے سے ریاست اور حکومت کو چھٹکارا مل جائے گا۔ شفاف کام کے بعد غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر سے کوئی خوف نہیں ہوگا۔ حامد میر کی طرف سے اتنا کہناکافی ہوتا ہے کہ” میڈیا آزاد نہیں ہے۔ جب درست باتیں کریںگے تو پھر چینل بند ہوجائے گا”۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا طوفان برپا کیا ہوا ہے ہماری فوج نے جس میں زبان کھل گئی تو سب زمین بوس ہوگا ؟۔
عدالتی بحران میں جب قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ، جس میں وزیراعظم اور سول وملٹری قومی قیادت نے شرکت کی۔ حامد میر نے خبر دی کہ عمران خان کی مخالفت میں سب کچھ پک کر تیار ہوچکا ہے۔ جس سے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالنا اور عمران خان کے حامیوں کی حوصلہ شکنی مقصود تھی۔ لیکن جب حکومت نے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ” الیکشن کمیشن کو پیسے ریلیز کرنے ہیں یا نہیں؟۔ تو اس سے حامد میر کی خبر بالکل جھوٹی ثابت ہوگئی ، جو گوگلی نیوز نے بہت سجاکر پیش کی ہے”۔ اس سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف منسوب اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ” حامد میر جھوٹ بہت بولتا ہے”۔ صحافت ریاست اور حکومت کیلئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ ہوتا ہے۔ حامد میر کا بھائی عامر پیپلزپارٹی کے رہنما سے ایک صحافی کیسے بن گیا؟۔ جس نے صحافی کی حیثیت سے عبوری حکومت میں وزارت کا حلف اٹھایا ہے؟۔ جب جیو اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر تھے اور پیپلزپارٹی حریف جماعت تھی تو حامد میر جیو سے باہر دوسرے میڈیا چینل پر مسلم لیگ ن کی مخالفت بھی کرتے تھے۔ اب پیپلزپارٹی مسلم لیگ کی حلیف جماعت ہے اور عامر میر کو بھی عہدہ مل گیا ہے تو حامدمیر جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتا ہے۔ حامد میر نے پہلے شہباز گل کے بارے میں جھوٹی خبر دی کہ اس کو ننگا کرکے اس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن جب شہباز گل اور عمران خان کو فوج کیساتھ لڑانے کی دلالی میں کامیابی مل گئی تو حامد میر نے اس پر کبھی لب کشائی تک نہیں کی۔ جیو ٹی چینل کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جگہ مریم نواز اورPDMنے یہ فریضہ سونپ دیا تھا کہ عمران خان اور فوج کو لڑانا ہے۔ حامد میر کی کامیاب وارداتوں کے بعد جیو ٹی وی کے ہیرو اور بہت اہم تجزیہ نگار بن گئے۔تاہم کھلے دلال صحافیوں کے مقابلے میں حامد میرپھربھی بہترین ہیں۔
صحافت پر پابندی ریاست و حکومت اور ملک وقوم کا ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن جب صحافت بلیک میلر بن جائے تو پھر ریاست اور حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اچھے لوگوں کی قیادت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ بنائیں اورقوم کے اعتماد کو برقرار رکھنے کا سامان کریں اور اپنے اندر کی کالی بھیڑوں سے جان چھڑائیں۔معاشی بحران کے حل کیلئے بلیک میلنگ سے نکل کر شفافیت کے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس سے درست اور غلط کی نشاندہی ہوسکے۔
پنجاب کی45ہزار ایکڑ زمین کا مستحق؟
پنجاب کی عبوری حکومت نے پنجاب کی45ہزار ایکڑ زمین کو پاک فوج کے حوالے کردیا ہے۔ کیا قانونی طور پر اس کو یہ مینڈیٹ حاصل ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھائے؟۔ کل جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے اور پاک فوج سے یہ زمین واپس لینے کیلئے کیس دائر کیا جائے گا اور اس سے پاک فوج کو اخلاقی نقصان اور فائز عیسیٰ کو فائدہ پہنچے گا تو لوگ کس کیساتھ کھڑے ہوں گے؟ اور اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟۔ یہ کبھی سوچا ہے؟۔
بلوچستان میں ایران سے پیٹرول سمیت کئی اشیاء کی سمگلنگ ہوتی ہے اور اس سے بلوچ قوم اور سرکاری اداروں کے لوگ مستفید ہوتے ہیں لیکن ریاست کو نقصان پہنچتا ہے۔ افغانستان سے کوئٹہ اور پشاور میں سمگلنگ سے پشتون قوم اورسرکاری اداروں کے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ جس سے سرکار کو نقصان پہنچتا ہے۔ جب باقاعدہ ٹیکس اور کسٹم کا سسٹم قائم کیا جائے تو بلوچ اور پشتون بھی اس سے خوش ہوں گے اور ایک صحت مند تجارتی تحریک سے شریف لوگ زیادہ فائدہ اٹھا سکیںگے۔ پختونخواہ ، بلوچستان کے علاوہ سندھ میں بھی کراچی کا سی پورٹ ہے جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہت مدد مل رہی ہے۔ اندرون سندھ اچھے ہوٹل ہوتے تو سندھیوں کیلئے یہ بھی بہت بڑا روزگار تھا اور وہ اس میں دکانیں اور اچھے کاروباری مراکز بھی کھول سکتے تھے۔ آنے جانے والے سبزیوں اور پھلوں سے لیکر سندھ کے بہترین سوغات اور مصنوعات بھی خریدتے۔
پنجاب کو مطعون کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ محنت کش لوگ پنجابی ہیں۔ غربت کی وجہ سے جنسی بے راہرویوں کے شکار پنجابیوں کو روزگار کے موقع اس وقت بالکل بھی حاصل نہیں ہیں۔ ہندوستان کی سرحد پر سندھ اور بھارت کی فوج میں دوستی کا ماحول ہے لیکن پنجاب میں سخت دشمنی کے مناظر ہیں۔ بھارت کی سرحد کو تجارت کیلئے کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بھارت کا گندم ، تیل، ادویات اور بہت ساری چیزیں دوبئی سے ہوکر آتی ہیں یا افغانستان سے پہنچتی ہیں تو بہت مہنگی پڑجاتی ہیں۔ پنجاب حکومت بھی اس میں اپنا جائز منافع رکھے۔ عوام کو بھی استفادہ اٹھانے کا موقع دے۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال مرحوم کی یادگار باتوں سے پاکستانی قوم کی تقدیر بھارت کیساتھ کوئی اچھے مراسم قائم کرنے سے بدل سکتی ہے تو اس میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
پنجاب کی عبوری حکومت نے جو45ہزارایکڑ زمین فوج کو دی ہے وہ ان مزارعین میں تقسیم کی جائے جو پرائی زمینوں پر غلامی سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ جب سود کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ پاکستان اس حال کو پہنچ گیا ہے کہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں لیکن ہمارے حکمران آپس کے مراعات پر لڑرہے ہیں۔ جب غریب کے منہ سے اس کا ایک نوالہ بھی چھین لیا جائے تو اللہ رحمت کی جگہ لعنت ہی برسائے گا۔ ہماری قوم کی حالت بدسے بدتر اسلئے ہورہی ہے کہ مال پر مراعات یافتہ طبقہ قابض اور غریب لوگوں کی عزتیں لُٹ رہی ہیں۔ جب پنجاب میں مزارعین کو مفت زمین مل جائے گی تو سندھ شاہ عنایت شہید کی دھرتی ہے جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسلئے جام شہادت نوش کیا تھا کہ ”اس نے اسلامی نعرہ لگایا تھا کہ جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا”۔ شاہ عناعت شہید شاہ عبداللطیف بھٹائی کے خلیفہ تھے اور جس وقت یہ نعرہ لگایا تھا تو اس وقت کارل مارکس پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے در ودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہوروزی
اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
غیرسودی بینکاری اور خلافت کا نظام
پاکستان عالم اسلام اور پوری دنیا کی سطح پر خلافت کا آغاز کرنے کیلئے ایک غیرسودی بینکاری نظام متعارف کرائے۔جس میں0%سود ہو۔ پوری دنیا سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک بہت بڑی تعداد عالمی سودی نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے اس میدان کے اندر نکل سکتے ہیں۔ سودی نظام سے صرف ہمارا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا متأثر ہورہی ہے۔ مذاہب کا سود کی حرمت پر اتفاق ہے۔جو سود کی حرمت کو تسلیم کرتا ہے وہ مسلم ہے اور جو سودی معاملات سے اپنے آپ کو بچاتا ہے وہ مؤمن ہے اور جو سود کی حرمت کا منکر ہے وہ کافر ہے اور جو سود کی حرمت کو حلال کرنے میں تبدیل کرتا ہے وہ دجال ہے۔ آج ہمارامذہبی طبقہ ایمان اور اسلام کی سرحدات سے نکل کر کافر نہیں بلکہ دجال کا کردار ادا کررہا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے اسلامی بینکاری کو بالکل سود قرار دے دیا تھا مگر تنظیم اسلامی کا امیر شجاع الدین شیخ اسلامی بینکاری کا دلال بن گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کسی دور میں بینکوں کی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا لیکن اب سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے سے بھی شرم محسوس نہیں کرتا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی وفاق المدارس پاکستان کے بورڈ کے صدر ہیں اور دوسرے بورڈ کی نکیل جامعة الرشید کے ہاتوں میں ہے۔ دونوں اسلامی بینکاری کے نام پر عالمی سودی نظام کے دلال بن گئے ہیں۔ جن علماء ومفتیان نے کراچی اور پاکستان کی سطح پر مزاحمت کی تھی وہ سب اکابر دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ جو باقی رہ گئے ہیں وہ رام کرلئے گئے ہیں۔
مغرب اور دنیا کی سطح پر درست اسلام کی تبلیغ ہو جائے تو نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر نفرتوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کے سیاسی واخلاقی دباؤ پر حکومتوں کی پالیسیاں بھی پاکستان کی ریاست ، اسلام اور مسلمانوں کیلئے بہترین ہوجائیں گی۔ عمران خان اور دوسرے سیاستدان جب اپنی لابنگ کیلئے امریکہ وغیرہ میںفرم ہائیر کرتے ہوں اور معروف یہودی زلمے خلیل زاداس کی وجہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہو تو معاملات میں بہتری نہیں آئے گی۔ بیرون ملک رہنے والوں کی اپنے ملک سے محبت ایک فطری بات ہے لیکن جب بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں کیساتھ ہماری پولیس، کسٹم اہلکار اور دوسرے اداروں کا سلوک بدترین ہوگا تو وہ اس محبت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟۔
حال ہی میں ایک سندھی پروفیسر اجمل نے اپنی سندھ دھرتی کیلئے قربانی دی اور بیرون ملک سے بھاری تنخواہ چھوڑ کر سندھ کی غریب عوام کو پڑھانے آیا اور پھر خاندانی اورقومی اور نسلی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ محسن داوڑ کو حکومت نے فنڈز دے دئیے تو نوازشریف کیلئے قرار داد پیش کردی۔ یہ وہی نوازشریف ہے جس نے طالبان اور فوج کا ساتھ دیکرANPکے رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل کو امریکہ کی حمایت کے کھاتے میں ڈالا تھا؟۔ علی وزیر بھی شاید فنڈز لگانے کی جیل میں کہیں نظر بند ہواہے؟۔ جب نفرت کی سیاست کی جاتی ہے تو اس کے اثرات علاقائی سطح پر خاندانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ محسن داوڑ اور علی وزیر بہت اچھے اسپیکر اور متحرک شخصیات ہیں ،ان کی مثبت سرگرمیوں سے پاکستان ، عالم اسلام اور عالم انسانیت کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ علی وزیر کا خاندان حکومت کی خدمت یا فوج کی حفاظت اور طالبان کاز کی مخالفت سے قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھا تھا بلکہ کالج لائف سے علاقائی سطح تک بدمعاشی اور ذاتی رنجشوں کا نتیجہ تھا اور جو ڈاکٹر گل عالم وزیر بیت اللہ محسود کا سہولت کار تھا وہی ابPTMکیلئے اور علی وزیر کیلئے سہولت کاری کی خدمات انجام دیتا ہے۔
وزیر قوم نے ایک فرد کے تحت اپنی زبردست تنظیم بناکر ترقی وعروج کی راہ ڈھونڈ لی ہے جو دوسروں کیلئے قابلِ تقلید ہے اور عالمی سطح پر پاکستان اس طرز عمل سے فائد ہ اٹھا سکتا ہے۔ خوبی اور خامیاں سب میں ہوتی ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اداروں کا قیام ہر سطح پر قوم کی رہنمائی کیلئے ضروری ہے۔
اوریا مقبول جان نے سچ اُگل دیا؟
سچ بات یہ ہے کہ ”ہم نے نوشتۂ دیوار کے صفحات پر تجویز پیش کی تھی جو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد تحریک طالبان پاکستان کو معافی تلافی کے ساتھ واپس پاکستان لایا جائے۔ بہت سارے وہ لوگ ہیں جن کا جذبہ جہاد تھا اور ایک ماحول کی رو میں بہہ کر پاکستان کی ریاست اور عوام کے دشمن بن گئے۔ اگر کوئی ناقابل اصلاح ہو تو اس کا الگ بندوبست ہوسکتا ہے مگریہ لوگ کب تک افغانستان میں رہیںگے؟۔ افغان طالبان پر بھی بوجھ ہوں گے”۔
ہماری اس تجویز کے بعد فیس بک نے ہمارے پیج کو بھی اڑادیا تھا۔ جس پر ہمارا بہت قیمتی مواد اور سرمایہ تھا اور بہت لوگ اس سے وابستہ تھے۔ اب جب یہ راز اوریا مقبول جان نے کھول دیا ہے کہ ”یہ افغان طالبان کا مطالبہ تھااور وہ اس تحریک طالبان کے پچاس ہزار افراد کیلئے نوکری ، روزگار اور دشمنوں سے بچت کا راستہ بھی چاہتے تھے اور اس مذاکرات میں اوریا مقبول جان خود بھی شریک تھے تو اس کو صرف عمران خان اور سابقہ فوجی قیادت کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے”۔
مذاکرات میں پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان بھی شامل تھے اور ان سے اس وقت صحافی نے انٹرویو بھی لیا تھا ۔ جس میں اس نے اچھی امید ظاہر کی تھی۔ آج طالبان کی وہ مقبولیت اور طاقت نہیں رہی ہے جو کسی دور میں تھی اور قوم کے ہیرو شمار ہوتے تھے اور حضرات ان پر فخر کرتے تھے اور خواتین اتراتی تھیں، اسلئے کہ ملک وقوم کا ماحول ایسا تھا۔ اب ماحول بدل گیا ہے ، لوگ نفرت کرنے لگے ہیں اور پاکستان میں ایک منظم قوت فوج اور اس کے مضبوط ادارے ہیں۔ کشمیریوں نے کشمیر فتح نہیں کیا ہے اور بلوچوں نے بلوچستان کو آزاد نہیں کیا ہے جس میں قومی یکجہتی بھی موجود ہے تو طالبان کس طرح طاقت کے زور پر ریاست سے یہ لڑائی جیت سکتے ہیں ؟۔ جبکہ قوم پرست بھی ان کے سخت خلاف ہیں؟۔
جب ملاعمرامیرالمؤمنین کی موجودگی میں امریکہ اور نیٹو نے حملہ کرکے کئی سالوں تک قبضہ جمائے رکھا۔ افغان دوشیزاؤں کی امریکی اور نیٹو افواج کی گود میں کھیلتے ہوئے ویڈیوز سے خون بھی کھولنے لگتا ہے اور سر بھی شرم سے جھکتا ہے لیکن جب تک اپنی غلطیوں سے قومیں سبق نہیں سیکھ لیتی ہیں تو قدرت کی طرف سے ان کو بار بارعذاب اور مار پڑنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ شکر ہے کہ پھر بھی امریکی اور نیٹو افواج طویل عرصہ کے بعد یہاں سے نکل گئی ہیں۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور میں بھی افغان قوم کے اتحاد سے امریکہ اور نیٹو کی فوج نکلنے میں زیادہ دیر نہ لگاتے۔ امن میں خواتین کی عزتوں اور حضرات کی جانوں کو اس قدر نقصان ہرگز نہیں پہنچتا ہے جتنا بدامنی کی صورت میں پہنچتا ہے۔ ڈھائی ہزار امریکی22سالہ جنگ میں طبعی موت بھی مرسکتے تھے لیکن افغانیوں کیساتھ جتنے مظالم ہوئے ہیں اس بھیانک جنگ میں افغانی افغانی کو ماررہے تھے۔
افغان طالبان تصویر، زبردستی کی داڑھی اورنماز سے دستبردارہوگئے ہیں جو خوش آئند ہے۔ خواتین کے پردے اور تعلیم کے مسئلے پر بھی نرمی کا مظاہرہ کریں اور اپنی قوم کو قوم لوط کے عمل سے بچائیں۔ اللہ قرآن میں نظروں کو نیچے رکھنے کی تلقین کرتا ہے لیکن افغانستان میں قرآن کے حکم پر عمل کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ جس طرح عورت کو حیض کی حالت میں نماز کی تقلین کرنا جہالت ہے اس طرح غیرمسلم اور مسلم عورتوں کو پردے پر مجبور کرنا جہالت ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کو آزادی ملے ۔ طالبان اپنی نظر اور عورت کی عزت کو تحفظ دیں تو پوری دنیا میں اسلام سربلند اور افغان قوم کابھی سر عزت سے بلند ہوگا۔جب مکہ میں اس طرح کا پردہ حج وعمرہ میں ممکن نہیں ہے تو افغانستان میں کیوں؟۔
پیر افضل قادری کا فتویٰ اور انعام؟
پیرافضل قادری کے اپنے بیٹے ، بھانجے ، بھتیجے اور قریبی عزیز واقارب ہیں یا بس ایک فرد واحد ہیں؟۔ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کیا اور اس کے یتیم بچے اور بیوہ کس حالت میں ہوں گے؟۔5لاکھ نہیں5کروڑ کیلئے ممتاز قادری اپنی بیگم کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم بناتا؟۔ پیرافضل قادری نے5لاکھ بہت کم قیمت رکھی اور اس کیلئے کون اپنی جان کی قربانی دے گا؟۔
سلمان تاثیر کے قتل کی جھوٹی خبر اور سازش رؤف کلاسرا نے اپنی کتاب میں شائع کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف اور انصار عباسی کے گرد وہ کہانی گھومتی ہے جس کو ناول کی شکل دی گئی ہے۔ آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر پراس وقت خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس سازش کو پولیس کے ایک غریب سپاہی نے غلط گواہی سے انکار کرتے ہوئے ناکام بنایا تھا۔ اگر اس وقت سازشی کہانی گھڑنے پر انصار عباسی کو شہازشریف کروڑوں روپے کے فنڈز سے ذاتی گھر تک روڈ بناکر نہ دیتے اور اس کو قرار واقعی سزا بھی مل جاتی تو پنجاب میں سازشوں کا ایک حد تک خاتمہ ہوجاتا۔
انجینئر محمد علی مرزا نے چیف جسٹس عمر بندیال اور آرمی چیف کے درمیان سے عمران خان کونکلنے کی تجویز دے کرجتنا نقصان عمران خان کو پہنچایا ہے اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی ہے اسلئے چیف جسٹس نے ہی عمران خان کو حق دلا دیا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پنجاب کے لوگ جذباتی ہیں اور وہ اپنے کان کو نہیں دیکھتے کتے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے کہ پیرافضل قادری کو انصار عباسی ٹائپ کے لوگوں نے شہبازشریف کے ساتھ مل کر ایسا فتویٰ دینے کیلئے تیار نہیں کیا ہو ،جس سے ایک طرف عمران خان کے حامی کو ٹھکانے لگایا جائے اور دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکنوں اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کی جائے۔ ملک وقوم میں افراتفری پھیلانے والوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا اور معاشرے پر ریاست وحکومت کا قابو نہیں ہے ؟۔ یا جان بوجھ کر نااہلی کے ذریعے سے حالات خراب کئے جارہے ہیں؟۔
پیرافضل قادری کو چاہیے کہ پہلے مدارس کے نصاب کا درست جائز ہ لیں اور اس پر اپنے خاندان ، عقیدت مندوں اور احباب کے علاوہ ملک وقوم کیلئے اچھی تجاویز مرتب کریں۔ اپنا فتویٰ بھی واپس لیں۔ ہندوستان میں اسلام تصوف اور اہل اللہ کے ذریعے پھیلا ہے۔ اگر یہاں تشدد کی فضاء قائم کرنے میں پیروں نے اپنا کردار ادا کیا تو پھر خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مولاناالیاس قادری کی تحریک بہت مقبول ہے اور تعصبات سے بھی بھرپور ہے لیکن اپنے کارکنوں کو تشدد پر نہیں اکساتے ہیں۔ اگر تشدد پر اکسایا تو شناخت تبدیل ہوجائے گی۔
رسول اللہ ۖ نے صلح حدیبیہ میں کیسے شرائط پر معاہدہ کیا تھا؟۔ اصل دین کا یہی تقاضا ہے اور اس کو اللہ نے قرآن میں فتح مبین قرار دیا ہے۔ صلح حدیبیہ کی برکت سے ہی حضرت خالد بن ولید نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
انجینئر محمد علی مرزا کی شخصیت بڑی متضاد ہے لیکن وہ علمی محاکمے سے ہی ختم ہوسکتی ہیں۔ حنفیوں کیلئے محمد علی مرزا ایک بڑی غنیمت اسلئے ہیں کہ احادیث میں وہ کمزور ہیں اور مرزا کی وجہ سے ان کو اچھی سپورٹ ملتی ہے۔ مرزا صاحب شیخ زبیر علی زئی اہل حدیث کے مرید ہیں جو ایک ساتھ تین طلاق کے قائل تھے اور اس وجہ سے مرزا صاحب بھی ایک ساتھ تین طلاق کے قائل ہیں۔ شیخ زبیر علی زئی بھی اسلاف کے مشاہدات کو جھوٹ قرار دیتے تھے لیکن ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے تھے اور مرزا صاحب بھی اسی اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں۔ شیخ زبیر علی زئی نے مرزاغلام احمد قادیانی کو اجماع امت کی وجہ سے کافر قرار دیا تھا اور مرزا نے بھی اجماع امت کی وجہ سے مرزاغلام احمد قادیانی کو کافر قرار دے دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر تقلید کیا ہوسکتی ہے؟۔ لیکن قرآن مرزا کے دماغ کو کھول سکتا ہے۔
طلاق اور صلح ورجوع کا درست تصور
اللہ نے طلاق کے مسائل پہلی مرتبہ سورۂ بقرہ میں بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کردی کہ ” اپنے قول وقرار کو اللہ کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی کرواور تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ البقرہ آیت224
جس طرح سے نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی ممانعت بنام خدا نہیں ہوسکتی ہے تو کیا میاں بیوی کے درمیان صلح کرانا کوئی کم تقوی ہے؟ اور کوئی کم نیکی ہے؟۔ کوئی کم صلح ہے؟ ۔قرآن کا کمال یہ ہے کہ نہ صرف برائی کو جڑ سے ختم کردیتا ہے بلکہ اس کے غلط اثرات سے بھی مکمل تحفظ دیتا ہے۔
علماء ومفتیان کو یہ غلط فہمی ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیات224،225،226کا تعلق طلاق سے نہیں بلکہ حلف ویمین سے ہے۔ حالانکہ یمین کا اطلاق جس طرح سے حلف پر ہوتا ہے ،اسی طرح سے اس کااطلاق نکاح و طلاق پر بھی ہوتا ہے۔فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ” ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو توتجھے طلاق ۔بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہوتو میری یہ لونڈی آزاد۔ اگر وہ دونوں کھڑے ہوں تو مرد کی طلاق ہوگی اور عورت کی لونڈی آزاد نہیں ہوگی اور اگر وہ دونوں بیٹھے ہوں تو پھر عورت کی لونڈی آزاد ہوگی اور شوہر کی طلاق نہیں ہوگی ۔ اسلئے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں عورت کی اور بیٹھنے کی حالت میں مرد کی شرمگاہ زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ اگر مرد بیٹھا ہو اور عورت کھڑی تو پتہ نہیں کہ کیا ہوگا؟۔ ابوبکربن فضل نے کہا کہ مناسب کے دونوں کے یمین واقع ہوں”۔
اس عبارت میں طلاق اور لونڈی کی آزادی کو یمین کہا گیا ہے۔ علماء و فقہاء نے خود ہی طلاق کے مسئلے کو مذاق بنارکھا ہے جو حنفی فقہ کیلئے ماں کی حیثیت رکھنے والی فتاویٰ قاضی خان میں لکھا گیا ہے۔ اگر اٹھک بیٹھک سے فتویٰ بدلتا ہو تو کتنی عجیب بات ہوگی؟۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس پر بات کرنا چاہیے۔
اللہ نے ان آیات میں یہ واضح فرمایا کہ ” طلاق کی ایک عدت ہے اور اس عدت میں باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ پھر یہ بھی واضح کیا ہے کہ ”عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت230میں پھر حلال نہ ہونے کا ذکر کیوں ہے جس میں دوسرے شوہر سے نکاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟۔اس کا بالکل واضح جواب یہ ہے کہ آیت229میں اس سے پہلے اس صورت کا ذکر ہے کہ جب شوہر نے الگ الگ مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی ہو اور دونوں کا آئندہ رابطے نہ رکھنے کیلئے کوئی چیز بھی درمیان میں نہ چھوڑیں اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہی خوف ہو کہ رابطے کا کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جائے تو پھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ کیونکہ رجوع نہ کرنے کا انہوں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔البتہ یہ خدشہ ہے کہ عورت پر اس کا شوہر ایسی پابندی نہ لگادے کہ اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔ اسلئے اللہ نے قرآن میں اس کی صراحت کیساتھ زبردست وضاحت فرمادی ہے۔
جہاں تک باہمی صلح اور رضامندی سے رجوع کا تعلق ہے تو آیت230سے پہلے عدت میں باہمی صلح اور معروف طریقے سے رجوع کی وضاحت تھی اور آیت231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بغیر حلالہ کے واضح طور پر صلح ورجوع کی گنجائش بلکہ ترغیب کا ذکر ہے۔ اگر علماء ومفتیان یہ سادہ بات سمجھ لیں تو انجینئر محمد علی مرزا ، شیخ زبیر علی زئی ، مفتی محمود، مفتی محمد شفیع اور بڑے بڑے لوگ بھی ماحول زدگی کا شکار نہ بنتے اور آج بھی قرآن کی طرف رجوع ہوسکتا ہے۔
طلاق کا مسئلہ کیا پہلی مرتبہ تم نے سمجھا؟
بعض لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ طلاق کا مسئلہ پہلی مرتبہ آپ نے سمجھاہے اور اتنے لمبے عرصہ تک کوئی اس کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکا ہے؟۔
نبی ۖ نے افتتاحی خطبہ میں فرمایا کہ ” تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ ہم اس کی تعریف کرتے ہیں،اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیںاور اپنے اعمال کی برائیوں سے۔ وہ جس کو ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے”۔ اگر ایک طویل عرصہ سے قوم نے قرآن کی تعلیمات سے منہ پھیر رکھا ہے اور وہ قرآن کو چھوڑنے کا مصداق بن گئی ہے تو یہ قوم کی اپنی تقدیر ہے۔ میرا اس سے کیا واسطہ ہے؟۔ اگر اللہ نے مجھے ہدایت کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے تو مجھے اللہ سے یہی حسنِ ظن رکھنے کا حق بھی ہے۔
جب قوم اس پر لگ گئی کہ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کی بدعت ایجاد کی ہے یا یہ سنت ہے ؟ ۔اورقرآن کی طرف توجہ نہیں کی تو اس نے گمراہ ہونا ہی تھا۔ امام شافعی نے کہا کہ ایک ساتھ تین سنت ہے اور امام ابوحنیفہ وامام مالک نے کہا کہ بدعت ہے۔ سوال تو ان پر بنتا ہے جو حضرت عمر کے دفاع میں قرآن کو بھول گئے۔ حالانکہ حضرت عمر نے خود بھی قرآن وسنت کے عین مطابق فیصلہ کیا اسلئے کہ جب میاں بیوی میں ایک طلاق ہو یا تین طلاق ؟ یا پھر سرے سے کوئی طلاق نہ ہو بلکہ ناراضگی ہو تو حکمران اور عدالت کے جج کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بیوی صلح کیلئے تیار ہے تو رجوع کی قرآن نے واضح اجازت دی ہے اور عورت صلح نہیں کرنا چاہ رہی ہو تو قرآن رجوع کی گنجائش نہیں دیتا ہے۔ حضرت عمر کے دربار میں معاملہ پہنچ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ عورت صلح کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت علی نے بھی ایک جھگڑے کا یہی فیصلہ کیا کہ جب شوہر نے حرام کہہ دیا تو عورت رجوع پر آمادہ نہیں تھی اور حضرت علی نے فتویٰ دیا کہ عورت رجوع نہیں کرسکتی ہے ۔ جبکہ حضرت عمر کے پاس مسئلہ آیا کہ شوہر نے حرام کہا ہے اور اس کی بیوی رجوع پر آمادہ تھی تو حضرت عمر نے رجوع کا فتویٰ دیا۔صحابہ کے اندر تضادات نہیں تھے لیکن بعد والوں نے بنائے۔ فقہاء نے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں اس پر بحث کی تھی کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوتی ہیں یا نہیں؟۔ لیکن اس کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا ہے کہ قرآن میں رجوع کی گنجائش کن کن آیات میں کس کس طرح وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
احادیث صحیحہ کا بھی قرآن سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ ایک صحیح حدیث عویمر عجلانی اور ان کی بیگم کے درمیان لعان کے بعد ایک ساتھ طلاق کی ہے اور اس میں قرآن کی سورہ طلاق کے مطابق فالفور عورت کو چھوڑنے کی فحاشی کی صورت میں گنجائش ہے۔ ایک اور روایت محمود بن لبید کی ہے جس میں ایک ساتھ تین طلاق پر نبی کریم ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا اور ایک شخص نے کہا تھا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ یہ شخص حضرت عمر تھے اور آپ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کے بارے میں نبی ۖ کو اطلاع دی تھی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں۔ ایک ساتھ تین طلاق کا ذکر اس سے زیادہ مضبوط روایت میں صحیح مسلم کے اندر بھی موجود ہے۔ اور جہاں تک غضبناک ہونے کا تعلق ہے تو نبی ۖ کے بارے میں اس سے زیادہ مضبوط روایت میں صحیح بخاری کی کتاب التفسیر سورہ الطلاق میں بھی موجود ہے۔ نبی علیہ السلام نے عبد اللہ ابن عمر کو عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا معاملہ سمجھایا تھا۔ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں نبی ۖ نے رجوع سے منع کیا ہو۔ رفاعہ القرظی کی بیگم نے جب دوسرے سے شادی کی اور اس پر نامرد کا الزام لگایا تو بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ وہ بری طرح مارتا تھا نامرد نہیں تھا۔ رفاعہ القرظی نے مختلف ادوار میں طلاق دی تھی اور وہ کسی اور کی بیگم بن چکی تھی۔ کوئی ایک بھی ایسی ضعیف روایت بھی نہیں کہ نبی ۖ نے کسی کو عدت گزارکر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیا ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

سیاست میں اعتدال نہیں رہاہے تو مذہبی بے اعتدالی کا راستہ کون روکے گا؟ اللہ نے قرآن میں ہمیں امت وسط معتدل مزاج امت قرار دیا ہے

جس دن صحافیوں نے مذہب کی طرف توجہ کی تو پاکستانی قوم میں بہت بڑا فطری، نظریاتی اور انسانی انقلاب برپاہوجائیگا ذرا توجہ کریں تو سہی!

شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور جماعت اسلامی وتبلیغی مرکز میں اختلافات ہیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی کا تعلق پہلے جماعت اسلامی سے تھا اور پھر مولانا مودودی کے خلاف کتاب لکھ کر تبلیغی جماعت کے اکابر بن گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی ”فتنہ مودودیت” کتاب لکھ ڈالی تھی۔ مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف استفتاء لکھ کر پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علماء ومفتیان سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگوایا تھا، جن کے فرزند مولانا سجاد نعمانی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد کے بہت بڑے داعی اور علمبردار بن گئے ہیں۔
علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی نے جماعت اسلامی انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر عبارات کے حوالہ جات دئیے بغیر دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ انہو ں نے مولانا مودودی وغیرہ کی عبارات سمجھ کر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے تھے۔حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی کتابوں سے عبارات لئے گئے تھے۔جس پر شیخ الحدیث مولانا زکریا نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی کہ ہم اپنے اکابرین اور دوسرے کے درمیان کیوں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں؟۔ جس کا صاف الفاظ میں خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ”اپنے کریں تو چمت کار اور دوسرے کریں تو بلت کار ”۔ دوسروں کو مطمئن کرنے کی جگہ اپنوں کو اطمینان دلاتے ہیںتو ہمارا مذہب صرف کمزور لوگوں میں خوش فہمی کا باعث بنتاہے۔
اللہ نے فرمایا: کل حزب بمالدیھم فرحون ” ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ”۔ دیوبندی بریلوی اپنی کتابوں میں اپنے بزرگوں کے کرامات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا کمالات حاصل کئے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک ماموں کا قصہ بڑا عجیب ہے ۔ ملامتی صوفی اور بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ماموں نے سب کو ماموں بنادیا تھا۔ جب بات غلو تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو بیان کیا جائے تو ناقابل یقین بن جاتا ہے۔
مدارس اور مساجد میں ظلم وتشدد اور جبر واکراہ کا وہ سسٹم نہیں ہوتا ہے جس کو جماعت اسلامی نے کالج اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھایا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ نے جس انداز میں مشعال خان کو شہید کیا تھا تو اس کاسارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے بانی ومہتم مفتی محمد نعیم نے مشعال خان کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پشاور میںطلبہ کو شاباش دینے کیلئے جلسہ رکھا تھا۔ مدارس کی تعلیم میںشافعی حنفی مالکی حنبلی مسالک پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں علم وشعور اور اختلاف برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے مگر جماعتی بہت جاہل اور ظالم ہوتے ہیں۔وہ اس تشدد پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ کسی عالم دین کو اپنا امیر بناکر جاہلوں سے تشدد کا عنصر بالکل نکال دیں۔
مظہر عباس ، وسعت اللہ خان اینڈ کمپنی،محمد مالک، روف کلاسرا ، سلیم صافی اور حامد میر وغیرہ کبھی مدارس ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھاکر کچھ مسائل پر افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ مثلاً دعوت اسلامی کے مفتیوں نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ ” روزے کی حالت میں ٹٹی کرنے کے بعد اپنے پاخانہ کی جگہ دھویں تو اس کو فوراً کپڑے سے سکھالیں، اگر ایسا نہیں کیا تو آنت کا ٹکڑا واپس اندر چلاجائے گااور روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
آنت کا نکلنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن گئے ہوں گے۔ جب یہ مسئلہ الیکٹرانک میڈیا پر اکابر ین کے سامنے زیر بحث لایا جائے گا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اکابر کی بات درست ہوگی تو بہت لوگوں کے روزے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور اگر ان کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اس مسئلے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسلئے کہ آنت بہت لمبی ہوتی ہے اور اس میں مقعد کے راستے سے معدے تک پانی کا اس طرح سے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی دور میں پچکاری کے حوالے سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہوگی کہ پریشر سے پانی معدے تک نہ پہنچ جائے لیکن الٹراساونڈ کی ایجاد سے مسئلہ سمجھنے میں مشکل نہیں اور بہت اکابر بھی اس بے جا مشقت سے بچ جائیں گے۔
مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ ” غسل کے تین فرائض ہیں۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا”۔ یہ حنفی کے نزدیک ہیں اور شافعی کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں وضو کی طرح سنت ہے۔ مالکی کے نزدیک جب تک جسم کو مَل مَل کر نہ دھویا جائے توفرض پورا نہیں ہوگا۔ گویا ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں وضو کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وان کنتم جنبًا فطھّروا ” اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ حنفی کہتا ہے کہ وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں ہے لیکن اس آیت میں پاکی کے اندر مبالغہ ہے اسلئے جنابت سے نکلنے کیلئے یہ فرض ہے۔ مالکی کہتا ہے کہ مَل مَل کر دھونا بھی مبالغہ کی وجہ سے فرض ہے۔ یہ فرائض اور ان پر اختلافات قرآن وحدیث ، خلفاء راشدین ، صحابہ اور تابعین کے 7فقہاء مدینہ کے ہاں بھی نہیں تھے لیکن پھر وجود میں آگئے۔
اس مشکل سے نکلنے کیلئے قرآن میں ہے کہ جنابت سے نکلنے کیلئے غسل یعنی نہانا ہے۔ بس وضو کے مقابلے میں نہانے کے اندر جو مبالغہ ہے وہی کافی ہے۔ نہانا یہود، نصاریٰ ، مشرکین مکہ ، ہندو اور سبھی کو آتا ہے۔ حتی کہ جانور اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاورمیں پوزیشن ہولڈر میرا ایک کزن اس کی وجہ سے کہ غسل ہوا یا نہیں ہوا ؟ اپنی زندگی کی خوشیوں سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ بدلے میں مسکین کو کھانا کھلائیں روزہ نہ رکھیں۔ ہاہاہا

جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ بدلے میں مسکین کو کھانا کھلائیں روزہ نہ رکھیں۔ ہاہاہا

تفسیر عثمانی آیت184البقرہ کے ترجمہ اور تفسیر میں بدترین تحریف۔ اگر مزدور طبقے کو بھی پتہ چل جائے اور عوام کو بھی تو کوئی بھی طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہیں رکھے گااگر فرض نہ ہو تو!

پشاور سے کراچی جانے والی پرواز فلائی جناح کے بہت سارے مسافروں نے کافی دیر تک یکم رمضان کے چاند کا مظاہرہ دیکھا اور اسکی اطلاع بھی دی تھی۔ یہ طریقہ قابل عمل ہوسکتا ہے۔

29شعبان کو مغرب کے وقت پشاور سے فلائی جناح ایئر لائن کراچی کیلئے روانہ ہوئی تو راستے میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد نے کافی دیر تک رمضان کا چاند دیکھ لیا۔ چیئر مین ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد کے بھائی مولانا عبد المعبود آزاد کو اس کی اطلاع بھی دی گئی اور انہوں نے چیئر مین صاحب کو بات پہنچائی بھی۔ پہلے ایک مرتبہ شاہین ایئر لائن کے مسافروں کی گواہی پر چیئر مین ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے عید کا اعلان کیا تھا۔ یہ بھی مولانا صاحب کو بتادیا۔
اگر ہلال کمیٹی کے چیئر مین یا ارکان چاند دیکھنے کیلئے جہاز کے مسافر وں سے رابطے میں رہیں یا پھر مسافروں کو رابطہ کرنے کا پابند بنایا جائے تو چاند کے مسئلے میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام و مفتیان عظام اوراپنا اپنا ذوق رکھنے والے اختلافات کا شکار نہیں ہوں گے۔ ہم نے پہلے بھی اس مسئلے پر مختلف شماروں میں کچھ معلومات قارئین سے برسوں پہلے شیئر کی تھیں۔
دنیا میں چاند کی پیدائش ایک دن میں ہوتی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا بڑا فاصلہ ہے۔10گھنٹے کا فرق ہے۔ پھر بھی ایک ہی دن میںرمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی کے چاند نظر آجاتے ہیں۔ اگر پوری دنیا میں طرز نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو ایک ہی دن میں رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ قمری مہینوں کی تاریخ بھی ایک ہی ہوگی۔ اگرکچھ افراد افغانستان و پاکستان یا ایران و پاکستان کے سرحدی علاقے میں رہتے ہیں ۔ایک طرف والوں کو چاند نظر آجاتا ہے اور دوسری طرف والوں کو نہیں آتا ہے تو کیا شرعی روزہ بدل جائے گا؟۔ نہیں بلکہ رمضان اور عید کا تعلق کسی ملک سے نہیں بلکہ چاند دیکھنے سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ماہ صیام رمضان کے بارے میں دو آیات کے اندر بڑی حکمت عملی کے ساتھ اُمت مسلمہ کو روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پہلے یہ فرمایا کہ یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (183)اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہ فِدْیَة طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْر لَّہ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْر لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (184)
”تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کئے گئے تھے ہوسکتا ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ گنتی کے دن پس تم میں سے اگر کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس کی گنتی ہے دیگر دنوں میں۔ اور جن لوگوں کو اس کی طاقت ہے تو فدیہ دیں کھانا مسکین کا اور جو اس سے زیادہ نیکی (خیرات) کرے تو اس کیلئے بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے”۔
اس آیت میں اس مریض اور مسافر کیلئے حکم ہے ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے کھانا کھلانے کا جس میں کھلانے کی طاقت ہو۔ اگر اس سے زیادہ بھی دے تو اور بہتر ہے۔ کیونکہ سفراور مرض کے بعد ضروری نہیں کہ زندگی ساتھ دے اور مرض و سفر میں روزے کو آئندہ کیلئے ملتوی کرنے کی سہولت کا یہ کفارہ کسی پر بھی مشکل نہیں ہے۔ البتہ اگر اس کے پاس استطاعت نہیں ہے تو وہ فدیہ دینے کے بجائے فدیہ لینے کا مستحق ہوگا۔ اگر زیادہ دے سکتا ہے تو اللہ نے اس کو دینے والے کیلئے بہتر قرار دیا ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مرض یا سفر کا بہانہ کرکے روزہ چھوڑ دیں، اسلئے فرمایا کہ ”اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو”۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ روزہ چھوڑنے کی سہولت کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ۔ اللہ نے کاہلوں کو تنبیہ فرمائی ہے اور روزہ چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسلئے کہ مجبوری میں چھوڑے جائیں تو پھر ان کی قضاء کا بھی اللہ نے بہت واضح الفاظ میں حکم دیا ہے۔
کمال اور عجیب تماشہ ہے کہ تفسیر عثمانی میں اس کا ترجمہ یوں ہے کہ
” اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا”۔
یعنی جو نہ سفر میں ہیں اور نہ مریض اور نہ کمزور بلکہ بالکل صحت مند اور ہٹے کٹے ہیں جو روزے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں وہ روزے کے بدلے میں ایک فقیر کو کھانا کھلائیں! ۔اگر اعلان کیا جائے تو کون روزہ رکھے گا؟
اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی تو طاقت رکھتے ہیں مگر ابتدا ء میں چونکہ روزہ کی بالکل عادت نہ تھی اسلئے ایک ماہ کامل پے در پے روزے رکھنا ان کو نہایت شاق تھا۔ تو اس کیلئے یہ سہولت فرمادی گئی تھی کہ اگر چہ تم کو کوئی عذر مثل مرض یا سفر کے پیش نہ ہو مگر صرف عادت نہ ہونے کے سبب روزہ تم کو دشوار ہو تو اب تم کو اختیار ہے چاہو روزہ رکھو ، چاہو روزے کا بدلہ دو۔ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ۔ کیونکہ جب اس نے ایک دن کا کھانا دوسرے کو دے دیا تو گویا اپنے نفس کو ایک روزہ کے کھانے سے روک لیا۔ اور فی الجملہ روزے کی مشابہت ہوگئی۔ پھر جب وہ لوگ روزے کے عادی ہوگئے تو یہ اجازت باقی نہ رہی۔ جس کا بیان اس سے اگلی آیت میں آتا ہے۔ اور بعض اکابر نے طعام مسکین سے صدقة الفطر بھی مراد لیا ہے۔ معنیٰ یہ ہوں گے کہ جو لوگ فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کے کھانے کی مقدار اس کو دے دیں جس کی مقدار شرع میں گیہوں کا آدھا صاع اور جو کا پورا صاع ہے۔ تو اب یہ آیت منسوخ نہ ہوگی۔ اور جو لوگ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ جس کا جی چاہے روزہ رمضان میں رکھ لے اور جس کا جی چاہے فدئے پر قناعت کرے خاص روزہ ہی ضررو رکھے یہ حکم نہیں وہ جاہل ہیں یا بے دین”۔ (تفسیر عثمانی: البقرہ : آیت184)
حالانکہ یہ سراسر بکواس ہے اس لئے کہ آئندہ کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ” اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر مشکل نہیں چاہتا ہے”۔ دونوں آیات میں قضائی روزے کا حکم ہے اور گنتی کے دنوں کو پورا کرنے کا حکم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔
جب ہندوستان کی اشرافیہ مغل بادشاہ ، راجے اور مہاراجے ، رانیاں اور مہا رانیوں کے ہاں روزے کا تصور نہیں تھا۔ علامہ وحید الدین خان کے بڑے بھائی علامہ وحید الزماں خان نے صحاح ستہ کی احادیث کی کتابوں کا ترجمہ کیا تھا بدأ الاسلام غریباً فسیعود غریبا ًفطوبیٰ للغرباء ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا ، یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹے گا ، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ لکھ دیا تھا کہ اسلام غریبوں سے شروع ہوا تھا اور یہ پھر غریبوں کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس خوشخبری ہے غریبوں کیلئے۔ اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ پہلے زمانے میں بھی غریبوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اب بھی غریبوں میں اسلام باقی رہ گیا ہے۔ امیر روزہ نماز اور پردہ وغیرہ کا کوئی تصور نہیں رکھتے ہیں۔ اسلئے حدیث میں آخری دور کے اندر بھی غریبوں کیلئے خوشخبری ہے۔ (دیکھئے علامہ وحید الزمان کی کتابوں کا ترجمہ اور تشریح)۔
علامہ اقبال نے بھی اسی وجہ سے جواب شکوہ میں اشعار کہے تھے کہ روزہ رکھتا ہے تو غریب، پردہ کرتا ہے تو غریب، نماز پڑھتا ہے تو غریب۔ (جواب شکوہ)
جب قرآن کا ترجمہ و تفسیر کیا گیا تو ہندوستان میں اشرافیہ کے ہاں اسلام پر عمل کا کوئی تصور نہیں تھا اسلئے تفسیر عثمانی میں ان چندہ دینے والے مہربان اشرافیہ کیلئے قرآنی آیات کے ترجمے اور تفسیر میں بہت بڑی تحریف کی گئی۔ علامہ اقبال نے علماء و مفتیان کی ان حرکتوں کو دیکھ کر بہت صحیح کہا تھا کہ
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجے فقیہان حرم بے توفیق
قومی اسمبلی میں پیر پگارا کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون سائرہ بانو کو اگر پتہ چلے تو اسمبلی میں باقاعدہ قرآن کی ان آیات کا یہ ترجمہ اور تفسیر بھی پیش کردے گی۔ جس سے تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ قرآن صرف اشرافیہ کیلئے نہیں ہے بلکہ مزدوروں، نوکر پیشہ، مزارعین، صحافیوں اور تمام طبقات کیلئے یہ سہولت موجود ہے کہ روزہ چھوڑ کر ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ ایک دہاڑی دار مزدور بھی خوشی خوشی سے روزہ چھوڑ کر ایک مولوی مسکین کو کھانا کھلادے گا۔ اور اس کو اوور ٹائم ملے یا نہ ملے لیکن یہ سہولت بھی بہت کافی ہے کہ وہ طاقت رکھنے کے باوجود بھی روزہ چھوڑ دے۔ مولویوں نے یہ مسائل اپنے چندہ دینے والے امیر طبقات کیلئے چھپا کر رکھے ہیں۔ صحابہ کرام کے اندر کوئی ایسا اشرافیہ نہیں تھا جن میں طاقت کے باوجود روزہ نہ رکھنے کا تصور بیٹھا ہو۔ یہ تکلف بھی غلط ہے کہ شروع میں عادت نہیں تھی۔ کیونکہ عادت نہ ہونے سے طاقت نہ رکھنے کا تصور بھی ابھر سکتا ہے۔ جبکہ قرآن میں واضح الفاظ کے اندر طاقت رکھنے والوں کیلئے یہ سہولت دی گئی ہے۔ اگر طاقت رکھنے والوں کو یہ سہولت ہے تو پھر مریضوں اور مسافروں کو قضائی روزے رکھنے کی اذیت کیوں دی گئی ہے۔
یہ تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور علامہ شبیر احمد عثمانی کا حال ہے موجودہ دور کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی تو اس سے بھی بہت گئے گزرے ہیں۔
تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ:5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ”قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ”مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
سورہ بقرہ کی آیت184میں بھی فرض روزوں کا حکم ہے اور اس میں مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑ کر آئندہ دنوں میں رکھنے کی سہولت ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ روزہ رکھنے میں تمہارے لئے زیادہ بہتری ہے۔
اگلی آیت میں ان صوفی مزاج لوگوں کو اعتدال میں لانے کی طرف اشارہ ہے جو یہ سمجھ کر کہ مرض یا سفر کی حالت میں روزہ معاف ہے لیکن بہتر روزہ رکھنا ہے تو ان کو واضح کیا گیا ہے کہ خود کو مشکلات میں مت ڈالو۔
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَوَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (185)
ترجمہ: ” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور دلائل ہیںہدایت کے اور صحیح و غلط میں تفریق کے۔ پس جو تم میں یہ ماہ پالے تو اس میں روزہ رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں اس کی قضاء پوری کرلے ۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر مشکل نہیں چاہتا ہے۔ تاکہ تم گنتی کے دن پورے کرلو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزار بن جاؤ”۔
اللہ کو پتہ تھا کہ گدھوں نے اس کا دین بگاڑنا ہے جس طرح سے یہود اور نصاریٰ نے دین میں تحریف کی تھی اور بہت واضح الفاظ میں اس بات کی تکرار کی ہے کہ مرض اور سفر میں روزہ نہ رکھنے کی سہولت اور آئندہ دنوں میں اس کی قضاء بھی تمہارے لئے آسانی ہے اور مشکل نہیں ہے۔ لیکن طاقت کے باوجود روزہ نہ رکھنے کا کوئی تصور اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا ہے۔ علماء کھل کر وضاحت کریں۔
علماء کرام و مفتیان عظام اور قارئین قرآن کے عربی الفاظ اور ان کے معانی کو غور سے دیکھیں اور اس میں معنوی تحریف کرنے والوں کے خلاف کھل کر بولیں۔ اگر غلطیوں کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو اس سے آئندہ کی نسلیں بگڑیں گی۔
قرآن کریم کا سب سے پہلے ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ نے فارسی میں کیا تھا۔ پھر ان کے صاحبزادگان نے حضرت شاہ عبد القادر نے قرآن کا با محاورہ اور شاہ رفیع الدین نے لفظی ترجمہ کیا۔ تفسیر عثمانی میں شاہ عبد القادر کا ترجمہ ہے۔ اور اردو کے جتنے تراجم ہوئے ہیں وہ سب کے سب اسی سے چوری ہوئے ہیں لیکن الفاظ اور مفہوم میں اور اسلوب میں تھوڑا تھوڑا فرق رکھا گیا ہے۔
عربی اور اردو کے تکلیف میں فرق ہے۔ اردو میں تکلیف کا معنی اذیت ہے۔ جبکہ عربی میں تکلیف کا معنی اختیار کا ہے۔ اگر کسی کے پیٹ میں درد ہو تو وہ اردو میں کہہ سکتا ہے کہ میرے پیٹ میں تکلیف ہے لیکن عربی میں اس کو تکلیف نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اگر چھٹی کا دن ہو اور کوئی نوکر پیشہ اپنی مرضی سے ڈیوٹی کرنا چاہتا ہو یا پھر نہیں کرنا چاہتا ہو تو اس کو عربی میں تکلیف کہتے ہیں۔ یعنی اس کا اختیار ہے کہ ڈیوٹی کرے یا نہ کرے۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مکلف ہے اور یہ مکلف اسی تکلیف سے ہے۔ اگر انسان کو اچھا اور برا کام کرنے کا اختیار حاصل ہو تو اس کو مکلف کہتے ہیں یہ مکلف اسی تکلیف سے ہے۔ غرض عربی کی تکلیف الگ چیز ہے ۔
سورہ بقرہ کی آخری آیت میں اللہ نے فرمایا:
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا ، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (286)
ترجمہ: ” اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں بناتا ہے مگر اس کی وسعت کے مطابق۔ اس کیلئے ہے جو اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا جو اس نے کمایا۔ اے ہمارے رب! ہمارا مواخذہ نہ فرما اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں ۔ اے ہمارے رب! ہم پر نہ لاد بوجھ جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوںپر آپ نے لادا۔ اور ہم پر نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہماری مغفرت فرمااور ہم پر رحم فرما۔ آپ ہمارے مولا ہیں پس ہماری مدد فرما کافر قوم کے خلاف ”۔
جس کی جتنی بڑی ذمہ داری ہوگی اس سے اسی کے مطابق پوچھا جائے گا۔ کوئی چیف جسٹس ہے یا وزیر اعظم ہے یا آرمی چیف ہے یا مفتی اعظم ہے یا پھر ایک چوکیدار اور چپڑاسی ہے۔ ہر ایک جان اپنی اپنی وسعت کے مطابق ذمہ دار ہے۔ جس نے کوئی اچھے کام کئے تو بھی اپنے لئے کئے اور جس نے کوئی برے کام کئے تو ان کی بھی اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔
علماء نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اللہ گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اور کسی نے یہ کیا ہے کہ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ حالانکہ اگلے جملوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اس کی نفی کردی ہے اور فرمایا ہے کہ پہلے لوگوں کو بھی ان کی بد اعمالیوں کے سبب ان کو زیادہ بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ جس سے تم پناہ مانگو۔ اور یہ دعا سکھائی کہ طاقت سے زیادہ بوجھ ہم پر نہ لاد۔
قرآن میں اتنا بڑا تضاد کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف اللہ کہے کہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور دوسری طرف دعا سکھائے کہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ کچھ تو عقل سے بھی کام لینا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے

قرآن کی حفاظت کے مسئلے پر شیعہ سنی دونوں انتہائی منافقت سے کام لیتے ہیں۔ شیعہ کتابوں میں آیات کا حوالہ آتا ہے تو اس میں تحریف کا دعویٰ کربیٹھتے ہیں اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ لگاتھا

اللہ نے فرمایا: اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ (الفرقان:آیت17)شیعہ مہدی غائب اور سنی اپنے علماء کے چکر میں بیٹھے ہوئے ہیں؟

بریلوی دیوبندی دونوں اپنے اصول فقہ کی کتابوں میں یہ حنفی مسلک پڑھاتے ہیں کہ” احناف کے نزدیک قرآنی آیت کے مقابلے میں خبر واحد کی صحیح حدیث معتبر نہیں ہے،البتہ خبر واحد یا مشہور کی آیت معتبر ہے جس کا حکم دو سری آیت کے برابر ہے”۔ جبکہ امام شافعی کے نزدیک ” قرآن کی خبر واحد یا مشہور کی آیت معتبر نہیں ہے ،البتہ خبر واحد کی حدیث معتبر ہے”۔ (نورالانوار : ملاجیون)
اس قاعدہ کلیہ سے حنفی مسلک کے کم عقل وکم علم علماء وفقہاء اس احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے اس قدر عاشق ہیں کہ موجودہ صحیح ومتواتر قرآن کے علاوہ ہم ان آیات کو بھی قرآن مانتے ہیں جن کا خبر احاد یا مشہور میں کہیں ذکر آیا ہے اور وہ اس قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ نرم الفاظ میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش بھی کام نہیں آئی ہے تو اس مرتبہ تھوڑے سخت الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ کچھ غیرت آئے اور ہمت کرکے اپنی غلط تعلیمات کی تردید کردیں۔ اگر کوئی مردکہے کہ میں اپنی بیوی پر اس قدر عاشق ہوں کہ اس کے غیر قانونی یاروں سے بھی مجھے محبت ہے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟۔ ہر کوئی اس پر لعنت ملامت کرے گا۔ اس سے زیادہ بڑا کفر اور بے غیرتی یہ ہے کہ موجودہ قرآن کے مقابلے میں دوسری آیات کو بھی اللہ کی کتاب مان لے ۔ اس بات کو اچھی طرح دل نشین کرکے قرآن کی تحریف کی تردید کردیں۔
امام شافعی نے بالکل ٹھیک کیا ہے کہ ” حدیث میں اخبار احاد کو دلیل مانا ہے اور قرآن میں اخبار احاد کی آیات کو دلیل سمجھنے کی بجائے اس کو کفر قرار دیا ہے”۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ امام شافعی پر رافضی کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔ حالانکہ امام شافعی نے امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد سے درست عقیدہ سیکھ کر قرآن کی حفاظت کے حوالے بالکل صحیح مؤقف اپنایا تھا۔ امام ابوحنیفہ نے قاضی القضاة ( چیف جسٹس ) کا عہدہ ٹھکرادیا اور سقراط کی طرح زہر کھاکر ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے تھے۔ جنہوں نے امام ابوحنیفہ کے نام پر تحریف قرآن کا عقیدہ گھڑ لیا اور بادشاہوں کیلئے دین کو تحریف کا شکار کیا انہوں نے نام ونمود،فائدے اور منصب کیلئے ایمان بیچ ڈالا تھا۔
حدیث لکھنے کیلئے قلم اور قرطاس (کاپی اور کاغذ) تھالیکن قرآن درخت کے پتوں، ہڈیوں ، پتھروں اور چمڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا جاتا تھا؟۔ زبور،توراة، انجیل اور افلاطون کی کتابیں موجود تھیں لیکن قرآن محفوظ نہیں تھا۔ بکری کے کھا جانے کیلئے اس کی آیات کو درخت کے پتوں پر لکھنے کا عقیدہ بھی ضروری تھا؟۔ العیاذ باللہ اسلئے کہ سنگسار کرنے اور بڑے کو دودھ پلانے کی دس آیات نبیۖ کی وفات کے وقت چارپائی کے نیچے موجود تھیں اور بکری نے کھاکر ضائع کردیں۔ ابن ماجہ۔ اور حضرت عمر نے فرمایا کہ ” اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ قرآن میں اضافہ کا الزام لگادیں گے تو سنگسار کرنے والی آیات قرآن میں لکھ دیتا۔ صحیح مسلم۔
ابن عباس نے کہا کہ علی نے فرمایا کہ ” نبی ۖ نے ہمارے پاس قرآن مابین الدفتین کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا تھا”۔ ( صحیح بخاری) ۔ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس پاکستان نے لکھا ہے کہ ” بخاری نے اس روایت کو اسلئے نقل کیا ہے تاکہ شیعہ پر رد ہو کہ تم قرآن کے قائل ہو اور علی نہیں تھے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اسلئے حضرت عثمان سے ناراض تھے کہ مجھے قرآن جمع کرنے میں شریک کیوں نہیں کیا۔ (کشف الباری ۔ شرح صحیح البخاری)۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے بھی یہ لکھا ہے کہ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے”۔ فیض الباری ۔ فتاویٰ دیوبند پاکستان مفتی فرید اکوڑہ خٹک ۔ اصول قفہ کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ ”لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں۔ فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا، حالانکہ قرآن کی کتابت کو اللہ نے اپنا کلام قرار دیا اور فرمایا : ولوانزلنٰہ فی قرطاس لمسوہ ” اگر ہم اس کو کاغذ کی کتابی شکل میں نازل کرتے اور یہ لوگ اس کو ہاتھ لگاکر چھوتے ، تب بھی کہتے کہ یہ کھلا جادو ہے”۔ علماء نے بڑی تعداد میں شیعوں پر تحریف قرآن اور کفر کا فتویٰ لگایا۔ جب اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا تو اُلٹے پاؤں لوٹ گئے۔دونوں فرقوں کا قرآن کی طرف لوٹنے میں نجات ہے ورنہ ضرورمرجائیں گے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز

جمع قرآن میں اختلاف! عرفان رمضان نشریات میں علماء کا علمی مکالمہ!GTVنیوز

دیوبندی بریلوی اور شیعہ مسلک کے علماء و مفتیان کا قرآن کے بارے میں ایک طرف اتفاق رائے اور دوسری طرف بہت کھلے انداز میں اختلافات کی کشمکش کا اظہار قارئین دیکھ لیں۔

مفتی رشید:حضرت عثمان کے بہت سارے فضائل ہیں۔ جامع القرآن ان کو کہا جاتا ہے۔ جو مصحف ہمارے پاس موجود ہے وہ حضرت عثمان کا صدقہ جاریہ ہے۔ یہ انہوں نے اُمت کیلئے قرآن کریم کو جمع کیا۔
مفتی سید شاہ حسین گردیزی:میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی یہاں گفتگو ہورہی تھی کہ حضرت عثمان ابن عفان جامع القرآن ہیں ایسا نہیں ہے۔ حضور اکرم ۖ قرآن کریم خود لکھوا کر گئے تھے اور اس کے جمع کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ہیں بین الدفتین۔ حضرت عثمان ابن عفان نے جو اختلاف قرأت کا مسئلہ تھا اس کو آپ نے دور کیا۔ لیکن بہر کیف اب یہ قرآن کریم جو بین الدفتین ہے اس میں ابوبکر صدیق کے دور میں ان کی سربراہی میں اور پھر حضرت عثمان ابن عفان کی سربراہی میں تکمیل پائی ہے۔ تو یہ اعزاز ان کا ہے لیکن اصل جامع القرآن جو ہیں وہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی:ایک منٹ ہم بھی آپ سے چاہیں گے۔ مفتی صاحب نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ، پھر ماشاء اللہ شاہ صاحب نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ یہ ناچیز بھی ایک منٹ آپ سے چاہے گا۔ دیکھئے وحی کا نزول تو مکہ میں ہوا ہے ناں۔ 13سال تو مکہ کے ہیں۔ کاتبان وحی کے جو نام ہیں وہ مکہ والے کہاں ہیں؟۔ وہاں کوئی تو لکھتا ہوگا ناں؟۔ جو مکی آیات ہیں جو مکی سورتیں ہیں وہ کون لکھتا تھا؟۔ تو جب آپ تلاش کریں گے تو آپ کو ایک ہی نام ملے گا جو لکھنا جانتا تھا اور جو اسلام لاچکا تھا۔ جو حضور ۖ کے ساتھ رہتے تھے جن کی یہ ذمہ داری تھی اس قرآن کو لکھنے کی اور وہ تھے علی ابن ابی طالب ۔ اپنے بیانات اور خطبات میں اشارہ بھی کیا ہے۔ اور آپ تاویل سے بھی واقف تھے اور تنزیل سے بھی واقف تھے۔ ہمارے یہاں یہی نکتہ نظر ہے کہ قرآن جیسے جیسے آتا رہا ویسے ویسے ہی جمع ہوتا رہا۔ ایسا نہیں ہوا کہ قرآن کی آیات نازل ہوگئی ہوں گی پھر کسی نے سمیٹا ۔ اس نظرئے سے پھر یہی ہوتا ہے کہ کہیں نا کہیں ایسی روایات ہمیں اگر مل جاتی ہیں کہ کچھ آیات تھیں مگر ان کے گواہ نہیں ملے تو شامل نہیں کی گئیں۔ تو کیا مطلب ہے کہ یہ ناقص ہے معاذ اللہ؟۔ ناقص نہیں ہے۔ قرآن کامل ہے۔ یہی قرآن مجید ہے تمام فرقوں کے نزدیک یہی معتبر ہے اس میں کوئی اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی روایت رہ گئی۔ یا اس طرح کا کچھ ہوا ہو۔
مفتی رشید:پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا جو نزول ہواہے ایک تو دفعتاً واحدة ایک ساتھ جو نزول ہوا ہے اس کا قرآن میں ذکر ہے انا انزلنٰہ فی لیلة القدر اور پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ موقع بہ موقع قرآن کریم کا نزول ہوتا رہا ہے جس کو ہم کہتے ہیں کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے اس آیت کا شان نزول یہ ہے۔ جب جمع قرآن کی بات کی جاتی ہے تو جمع قرآن کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام نے یا حضرت عثمان یا حضرت ابوبکر صدیق نے سورتوں کو اس ترتیب سے جمع کیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس زمانے میں کتابت کے وہ آلات موجود نہیں تھے جو آج کے زمانے میں کتابت کے آلات موجود ہیں۔ اس زمانے میں کاغذ نہیں تھا اس زمانے میں ہمارے پاس جو اس طرح کے پین ہیں یہ پین موجود نہیں تھے۔ جو کتب میں تاریخ میں ہمیں ملتا ہے وہ یہ کہ جہاں جس کو لکھنے کیلئے کوئی چیز مل گئی پتھر میں لکھنے کیلئے کچھ مل گیا چمڑے پر لکھ لیا کسی پتے پر لکھ لیا جہاں جس کو موقع ملا اس پر لکھ لیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں جیسے گردیزی صاحب نے بتایا بالکل یہی بات ہے حضرت ابوبکر صدیق نے صحابہ کو اس بات پر جمع کیا۔ حضرت زید بن ثابت کی ذمہ داری لگائی کہ اس کو ہم نے جمع کرنا ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ وقت گزر جاتا ہے خلفاء راشدین کا وقت گزر جاتا ہے جو خیر القرون حضور ۖ نے اس کو قرار دیا ہے اگر یہ وقت گزر جاتا ہے تو بعد میں تو اس کی وجہ سے بہت سے اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔ نہ جانے قرآن کریم کے اندر معاذ اللہ کوئی تحریف کردی جائے۔ کوئی تحریف کا دعویٰ کردے۔ کوئی ایسی بات ہوجائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے یہ کوشش کی کہ جس طرح روایات کی بات آئی کہ حضرت عثمان کا جو مصحف عثمانی آج کہلاتا ہے کہ ساری روایات کو اس انداز سے جمع کیا گیا قرآن کریم کے اس مصحف کے اندر کہ اس کا انداز کتابت اس طریقے سے ہو کہ وہ لکھا ہوا اس انداز سے ہو کہ ہر روایت پڑھی جاسکے۔ باقی کتابت وحی کی جہاں تک بات ہے تو کتاب وحی کے اندر ہمیں بہت سارے ایسے صحابہ کرام کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے کتابت وحی کے اندر حصہ لیا ہے وہ کاتبین وحی کہلاتے ہیں اس سے بالکل انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اپنا ایک اعلیٰ مقام اور فضیلت ان کو حاصل ہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل پر جامع، مدلل اور مکمل تبصرہ ”اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا انا علینا جمعہ بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا ہے” کے عنوان کے تحت پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

جیواورحامد میر نے سفید جھوٹ کہا کہ فوج نے عدلیہ کیخلاف فیصلہ دیا ۔ اتوار کا پورا دن گزار دیا اور کوئی فیصلہ اس خوف سے نہیں کیا کہ عدلیہ نا اہل کردے گی۔ یہ ثبوت ہے کہ فوج نے یقین نہیں دلایا

جسٹس اطہر کے اختلافی نوٹ میں سیاست سے دور رہنے کی بات تھی لیکن اس کا ساتھی جسٹس فائز عیسیٰ حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ پہنچ گیا۔ یہ اس نظام کے خاتمے کی نوید لگتی ہے۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ نے آئین کو توڑنے کی گولڈن جوبلی منائی ہے۔ پاک فوج کو سیاست سے دور رہ کر اپنے معاملات درست کرنے چاہئیںتاکہ وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد عوام میں بحال کرسکیں

پاک فوج واحد ادارہ ہے جس سے پاکستانی ریاست کا استحکام وابستہ ہے۔ اس کے جوان بے لوث قربانی دیکر شہادت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسکے قابل ترین افسروں نے ملک کو مذہبی ، لسانی ، سیاسی اور نظریاتی جنگ وجدل سے محفوظ رکھنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافی ، سیاستدان ، حکومت ، اپوزیشن اور سبھی ان کو دعوت دیکر اپنے مخالف کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ آج چیف جسٹس عمرعطابندیال سے پارلیمنٹ ٹکرانے کی ناجائز کوشش کرتی ہے تو قانون کی بالادستی کیلئے طاقت کا استعمال بہت ضروری ہے۔پہلے بھی ایک مرتبہ نوازشریف نے سپریم کورٹ پر اپنے ججوں اور پھر کارکنوں کے ذریعے سے ہلہ بول دیا تھا۔ اگر اس وقت مارشل لاء بھی لگادیا جاتا تو لوگ اس کو احسن قدم کہتے ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ نے جن صحافیوں کو لفافوں کی قیمت پر لگایا ہے ،ان کو کٹہرے میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر نے عدالت کے خلاف گرین سگنل دے دیا ہے ، دوسرا اپنی طرف سے ریڈ سگنل کی بات کرتا ہے۔ان کا مقصد آرمی چیف کی حمایت اور مخالفت سے پاک فوج کی مٹی پلید کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
پہلی فرصت میں پنجاب کی45ہزار ایکڑ اراضی پنجاب کی حکومت کو نہیں غریب مزارعین کسانوں میں بانٹ دیں۔ ایسا نہ ہوکہ مزارعین کے لبادے میں جاگیردار اور سیاستدان بھی اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے پہنچ جائیں۔ جب اکرم خان درانی اور مولانا فضل الرحمنGHQسے زمین لیتے ہیں تو شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور ملک بھر کے دوسرے جاگیردار اور سرمایہ دار بھی ان سے زیادہ بھوکے ہیں۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر قرآن کے حفظ اور سادات کی لاج رکھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ملک میں کمزور طبقے میں عزت بڑھ جائے۔ ان سیاسی جماعتوں کے زر خرید میڈیا ٹولز سے ہرگز نہیں گھبرائیں۔ انہوں نے عزت نہیں دینی ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اللہ نے عزت دینی ہے۔ عمران خانیوں کا جوش جنون واقعی خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن اس کا مقابلہ طاقت نہیں شعور سے کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے لوگوں میں شعور کی بہت کمی ہے اور جن لوگوں میں تھوڑا بہت شعور ہے وہی عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں۔ اس باشعور طبقے کو مزید شعور دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب پاک فوج اعلان کرے گی کہ ملک کی خاطر ہم اپنے پر تعیش علاقوں کو اپنے ہم وطنوں پر بیچ رہے ہیں اور خود جنگل میں منگل بنارہے ہیں تو پاکستانی ہی اپنا پرائیوٹ پیسہ باہر سے لاکر انویسٹ کردیںگے۔ ملک کے قرضے بھی تمہاری اس قربانی کی وجہ سے اتر جائیںگے اور قوم میں ایسی عزت بحال ہوگی کہ اللہ تمہیں امر کردے گا۔ سیاستدانوں ، کرپٹ ججوں ، جرنیلوں اور صحافیوں نے مل بیٹھ کر پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ معاشی استحکام کی جنگ جب تک فوج خود ہمت نہیں کرے گی تو سیاستدانوں نے کچھ بھی نہیں کرنا اور نہ ان کو کچھ کرنا آتا ہے۔ انہوں نے مال کمانے کے طریقے سیکھ لئے ہیں۔ جرنیلوں اور ججوں میں گنتی کے چند افراد کرپٹ ہوں گے ،انہوں نے تو ٹبر کے ٹبر تیار کر رکھے ہیں۔
زرداری جب الطاف حسین سے بات کرتاہے تو اپنی بیٹی آصفہ اور الطاف کی بیٹی فضا اور ان کی نسلوں تک سلسلہ جاری رکھنے کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کو جمہوری ملک بنانے کے بجائے مغل سلطنت کے دور میں راجے مہا راجے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ عوام بیچاروں کو اقتدار اور اس کے فوائد کی معلومات تک نہیں ہوتی ہیں لیکن سیاستدان فوج کیساتھ مال منڈی کے دلالوں کی طرح انگلیوں کے اشاروں سے عوام اور مال بیچنے والوں کے درمیان سودا طے کرکے اپنے مالی فوائد اٹھاتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان حکومت دلالی کرنے کے بجائے اپنے اصل کردار کو ادا کرے گی تو یہاں سیاستدان کے کپڑے اتریں گے اور نہ فوج کے کوئی کپڑے اتار سکے گا۔ پاکستان سب کا مشترکہ گھر ہے اور یہ قیامت تک اس وقت باقی رہ سکتا ہے کہ جب اس کے مکین عوام ہوں اور عوام ہی سے اُٹھ کر لوگ سیاست اور ریاست کی خدمت کررہے ہوں۔ عوام مرگئے ہیں یا مارے گئے ہیں؟۔اسلئے کہ یہاں کوئی اہل قیادت نہیں ہے۔ فوج میں آرمی چیف تو چند افسران میں سے قسمت پر سلیکٹ ہوجاتا ہے اور اس کی ساری زندگی اس ملازمت میں گزری ہوتی ہے جس میں اپنے افسران بالا کے حکم کی بجا آوری میں اس کے دماغ کی رگیں بہت کمزور ہوجاتی ہیں۔ جب اس کو اچانک بہت بڑا اختیار مل جاتا ہے تو رہی سہی عقل بھی کام نہیں کرتی ہے اسلئے کہ ادارے نے اپنا پریشر ڈالنا ہوتا ہے۔ بیرون واندرون ملک کے مسائل اپنی جگہ ہوتے ہیں اور سیاسی ومذہبی دباؤ کا سامنا الگ ہوتا ہے ۔اس عاشقی میں لیلائے سیاست کی کئی دلہنیں سج دھج کر کھڑی ہوتی ہیں اور بندہ ناچیز کو بھگوان سمجھ کر دیوی کا کردار کی پیشکش کرتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ شطرنج کے مہرے کی طرح اس کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور بھگوان سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح ڈائن کے مقام ومرتبہ پر کھڑا کرکے کھایا پیا سب ہضم لیکن بلغم اس کے منہ پر پھینکا جاتا ہے اور ساری برائیوں کی جڑ ریٹائرڈ آرمی افسر بن جاتا ہے اور مغویہ حاملہ اور جبری زیادتی کا شکار نئے الیکشن کی تیاری کرنے والی لیلائے سیاست بن جاتی ہے۔
پاکستانی دو چیزوں کو پسند کرتے ہیں ۔ایک بہادری اور دوسری مظلومیت۔ مولانا عبدالغفور حیدری بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنے کیلئے کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جنرل باجوہ نے گھر پر بلواکر بہت فحش گالیاں بکیں اور آخر کار میرا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو جنرل باجوہ کو شٹ اپ کی کال دی۔ اکرم شیخ ، ابصار عالم اور سارے صحافی اور سیاستدان اپنی کہانیاں بتاتے ہوئے بہادری اور مظلومیت کی داستانیں بتاتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی کہ شہباز گل کو ننگا کرکے مارا گیا لیکن احمد نورانی نے اس خبر کو جھوٹ قرار دے دیا۔ حامد میر نے کپڑے اتارنے کے بعد اپنی چڈی تک بات پہنچادی تھی لیکن یہ ایک واقعہ ہوگا اور اس میدان کا وسیع تجربہ ہوگا یا مظلومیت اور بہادری کے قصوں کا محض شوق؟۔فوجی سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹی بہادری بھی ایک کمال تو ہے؟۔ اگر قرآن وسنت کے ٹھوس احکام کو عوام میں عام نہیں کریںگے تو پاکستان ہاتھ سے ایسا نکل جائیگا جیسا کہ جنگلی درندہ!۔ جو نکلتے وقت زخمی بھی کرسکتا ہے اور جان سے مار بھی سکتا ہے۔
اگر پاکستانی قوم کی حالت دیکھ لی جائے تو ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے ؟، کس کی شامت ہے ؟، کس کی تذلیل ہے؟، کون اچھا ہے؟، کون برا ہے؟، حکومت جائے یا اپوزیشن آئے عوام کی اکثریت اس سے بالکل لا تعلق ہے اور یہ لاتعلقی بہت خطرناک ہے۔ یہ بھی بڑی غنیمت ہے کہ عمران خان کو کچھ چاہنے والے مل گئے ہیں۔ جو میڈیا کو سیاسی سرگرمیاں فراہم کررہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ شہباز شریف نے جتنی نفرت آصف زرداری سے قوم کو دلائی ہے وہ اتنی آسانی سے نکلنے والی نہیں ہے۔ ہر برائی کی جڑ آصف زرداری کو سمجھا جاتا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ کھمبوں سے لٹکانے کی دھمکی دینے والے شہباز شریف کو جاتا ہے۔ اب ان کی دوستی پر دنیا پریشان ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کیس بھی کئے، عدالتوں سے فیصلے بھی لئے اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خود کو معصوم سمجھنے کی اُمید بھی عوام سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو عقل کریں۔ عمران خان بڑا دبنگ انسان ہے لیکن جب وزیر اعظم بن گیا تو اس کی ساری دھمکیاں اس وقت ڈھبر ڈوس ہوئیں جب عبوری حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا نواز شریف اس کی اجازت سے نکل گیا۔ مریم نواز تیمارداری کے غرض سے ضمانت پر رہا ہوئی تھی لیکن بیمار لندن پہنچ گیا اور تیمار دار مریم نواز عمران خان کو ترکی بہ ترکی زبردست جواب دیتی رہتی تھی۔ میلا اب صرف ایک عمران خان نے گرم کرکے رکھا ہے اور دوسری مریم نواز ہے۔ دونوں کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔ لیکن ایک دوسرے پر جملے زبردست کس کر مارسکتے ہیں۔
عوام بھوکی ہے، ننگی ہے ، بیروزگار ہے، جملوں سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے اور مریم نواز اور عمران خان جملے بازیوں سے میاں مٹھو کی طرح بولنے والے غریب عوام کو کچھ نہیں دے سکتے تو اب ان کی آواز بھی نہیں نکل رہی ہے۔ میدان ہے اور اس میں عمران خان اور مریم نواز ایک دوسرے کیخلاف میچ کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی جیتے یا ہارے لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔
عوام کو جگانے کیلئے ایک ہی طریقہ کار باقی رہ گیا ہے کہ قرآن کی طرف ان کو راغب کیا جائے۔ اور علماء و مفتیان نے دین کا جس طرح سے کباڑہ کرکے رکھا ہے اس سے ہٹ کر واقعی پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کیا جائے اور فرقوں ، جماعتوں ، گروہوں، تنظیموں اور پارٹیوں سے ہٹ کر موٹے موٹے احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرکے زندگی کے نئے رخ پر انکو ڈالا جائے۔ پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا اور آئین پاکستان میں بھی قرآن و سنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے ہاں مذہب کا استعمال بھی بلیک میلنگ کیلئے کیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی آج کل اپنے ماضی کے دشمن قوم پرستوں کو خوش کرنے میں لگی ہے۔ جب جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے آرمی کے خلاف کچھ کہا تھا تو جماعت اسلامی نے اسے ہٹا کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔ جو بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار رہی ہو یا اس کی پیداوار ہو جب تک ان پر پابندی نہ لگائی جائے پاکستان کا ماحول درست نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ سینیٹر مشتاق احمد خان کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ اشرافیہ کا تعلق جس جماعت ، جس پارٹی اور جس تنظیم سے ہو اس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بل بھی انگریزی زباں میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب ، قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں اتنی بڑی بڑی غلطیاں ہیں۔ حلالے کے نام پر عزت دار خواتین کی عزتیں لٹ رہی ہیں لیکن نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ جب کل اس پر کوئی بازار گرم ہوگا تو خطابت کے جوش دکھانے والے میدان میں اتریں گے اور لوگوں کو سمجھ میں آئے گا کہ یہ بیچارہ پتہ نہیں کب سے اس ایشو کیلئے مرا جا رہا تھا؟۔ تقریریں ان کے دل کی گہرائیوں سے نہیں نکلتیں بلکہ یہ انہوں نے اس طرح سے مشق کی ہوئی ہوتی ہے جیسے سکول کی بچیاں تقریریں کرتی ہیں اور کسی اُستاد کی لکھی ہوئی تقریر سے آسمان اور زمین کی قلابیں ملائی جاتی ہیں۔
سنجیدہ بات یہ ہے کہ جب ختم نبوت کے خلاف پارلیمنٹ میں بل پاس ہورہا تھا تو ایک ظفر اللہ جمالی تھا جس نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا کہ میں ایسی اسمبلی کا رکن نہیں رہ سکتا جس میں خاتم الانبیاء رحمت للعالمین ۖ کے خلاف یہ سازش ہو۔ اس ظفر اللہ جمالی پر پوری جماعت اسلامی ، پوری جمعیت علماء اسلام اور پوری مسلم لیگ و پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی پارٹیوں کے قائدین ، رہنما اور کارکن قربان ہوں۔ یہ سارے بکواسیہ موقع ملنے پر بک بک کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی ناموس رسالت کیلئے اسمبلی اور اپنی جماعت سے استعفیٰ دینے کی جرأت نہیں کی ہے۔ ظفر اللہ جمالی آزاد حیثیت سے رکن پارلیمنٹ بنے تھے اور پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور جب ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی تو وہ اسمبلی سے مستعفی ہوگئے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے گھرائیں تھے وہ بتائیں گے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر استعفیٰ دیا تھا یا اپنے ضمیر کے مطابق ایمان کا مظاہرہ کیا تھا؟۔ حافظ سعد حسین رضوی بھی اپنے باپ کی عزت و ناموس کیلئے عدالت میں پیش ہوں اور جسٹس فائز عیسیٰ سے معلومات حاصل کریں کہ کس طرح اس کے باپ نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر لوگوں کو قربانی دینے پر اکسایا تھا؟ ۔ اگر وہ ثابت کردیں تو تحریک لبیک کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنے فیصلے کی جوابداری کرنی چاہیے۔ نواز شریف نے بڑے بڑوں کو شیشوں میں اتارا ہے ۔ اللہ خیر کرے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور فوج کی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

اسٹیبلیشمنٹ کے دو چیلوں کی لڑائی کو سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ تک لیجانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ پنجاب کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے اسلئے اپنا دائرہ کارپنجاب تک آپ ضرور بڑھائیں !

عمران خان کے زندہ دلانِ لاہور کی حوصلہ شکنی نہ کریں،صحت مند سیاست میں جان جذبے اور جنون سے آتی ہے مگر لڑائی بھڑائی سے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے!

پہلے مرکز کی سیاست کبھی پنجاب اور کبھی سندھ میں پیپلزپارٹی کی وجہ سے منتقل ہوتی رہتی تھی۔ مسلم لیگ ف، ج، ق ، ن ، ع سبھی اسٹیبلشمنٹ کی سگی ہیں۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کوئی مسلم لیگ پنپ نہیں سکتی ہے ۔ پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے بانی کو قتل کیا گیا تھا اسلئے پیپلزپارٹی کااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کمزور ہوگیا تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے چاہا کہ اپنے گھر کے اندر ہی دو بٹیر پالے جائیں اور باریاں بھی پنجاب میں اپنوں میں رہ جائیں۔ مسلم لیگ ن اور عمران خان دونوں کو پنجاب سے ہمیشہ کیلئے بڑی جماعتوں کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ دونوں نے ان کے کہنے پر اپنی ٹائی ، شرٹ، قمیص، شلوار اور چڈی اتارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔ دوسرے لوگ گناہ بے لذت میں خوامخواہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی اور اس کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو اتنا بھوکا رکھا گیا ہے کہ20کلو زکوٰة کے آٹے کیلئے بھی مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سیلاب سندھ میں آیا تھا اور حامد میر سے پنجاب کے کسان اسلام آباد میں کہہ رہے تھے کہ سندھ کی وجہ سے بحران آیا ہے۔ جس پر حامد میر نے ہنس کر کہہ دیاتھا کہ تمہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔
آخر میں عمران خان اور نوازشریف نے بھائی بھائی بن جاناہے۔ زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے کاندھوں پر گند کی ٹوکری لادی جائے گی۔ پنجاب میں شعور لانے کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کیلئے لاہوریوں کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ماڈل ٹاؤن اور زمان پارک لاہور کی لڑائی لاہور ، جی ٹی روڈ ، گجرانوالہ، گجرات، جہلم ، گوجرہ ، پنڈی اور اسلام آباد تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا مگر کبھی اس نے بارود اپنے جسم کیساتھ باندھ کر دھماکے کی ترغیب نہیں دی۔ پختون اور بلوچ انتہاپسند ہیں۔ اپنی قوموں کو بھی ریاست کیساتھ بارود سے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں تشدد نہیں نظریاتی جذبہ ہوتا ہے۔ نظریاتی جذبہ صحت مند سیاست ہے۔ پنجاب میں بھٹو کے بعد عمران خان نے زندہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری میں صلاحیت تھی ۔ماڈل ٹاؤن میں اس کے کارکن شہیدکئے گئے ۔ قمرزمان کائرہ نے مذاق اور نقل اتارنے سے اس کا جذبہ ختم کیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کے بندے مارکر عمران خان کی سیاست کو زندہ کردیا۔ نوازشریف نے تو کاندھے پر اٹھاکر طاہرالقادری کوغارِ حراء پر چڑھایا تھا، حالانکہ لنگڑے اور اندھے ایسا کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ پنجاب کی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اورنگزیب جیسے قابل لوگ اس میں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے جن کی پرورش بطخوں کے ساتھ ہوئی ہو۔ بطخوں کا کام کویک کویک کرنا ہوتا ہے جبکہ شاہین خاموش رہتا ہے۔ جب شاہین کا بچہ بطخوں کے ساتھ پلا بڑھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی اڑان نہیں بھرسکتا اوران بطخوں کے ساتھ گھومتا رہتا تھا۔ جن کا سارا دن صرف یہی کویک کویک کرنا ہوتا تھا۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے سارے قائدین اور رہنما بطخوں کی طرح سارا دن کویک کویک کرتے رہتے ہیں۔ شاہین صفت بچے ان کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں اور انکے ساتھ گھوم پھر کر خود کو بطخ سمجھتے ہیں۔ جب شاہین نے اپنا بچہ بطخوں کے ساتھ دیکھا تو اس کو اٹھا کر پہاڑ پر لے گیا اور اوپر سے چھوڑ دیا۔ شاہین کے بچے نے پر کھولے اور اڑان بھرنی شروع کی تو اس کو پتہ چلا کہ وہ بطخ کا نہیں شاہین کا بچہ ہے۔ قدرت پاکستانیوں کی دستگیری کررہی ہے اور بطخوں کی کویک کویک سے اس کی جان چھڑا کر اس کو پہاڑ سے گرا نہیں رہا ہے بلکہ اڑان سکھا رہا ہے۔ اب اچھے دن آنے کو ہیں۔
پاکستانیو! غم مت کھاؤ۔ یہ نظام جو ٹوٹ رہا ہے اس میں بھلائی ہے۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا لیکن تمہیں بھی اُڑان بھرنی ہوگی۔ قرآن کی طرف جس دن تم نے توجہ کی تو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کو بھی تم نے سود سے نجات دلانی ہے۔ سُودی بینکاری اسلامی نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام بھی علماء کے ہاتھ تباہ ہے۔
پاکستان ، افغانستان، ایران ، سعودی عرب کیساتھ ہندوستان ، یورپ ، امریکہ ، روس اور چین میں بھی اسلام کا درست پیغام پہنچانا بہت ضروری ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام تمام دنیا کے سارے مسائل کا حل ہے

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے ” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

پاکستان شاہین کی طرح اب اپنے پَر، ناخن اور چونچ توڑ کرایک نئی زندگی کا آغاز کر رہاہے؟

1973کی50سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ کی طرف سے بھی آئین شکنی کی قرارداد منظور ہوئی ہے جو آئین کے مطابق90دن میں الیکشن سے فرارکا راستہ ہے

کبھی جنرل ضیاء الحق نے آئین کو ایک کتاب قرار دیکر جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی عدالت نے3سال تک جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی،اب پارلیمنٹ نے…

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے اسلامی دفعات کے نفاذ کی توقع رکھوں؟۔ یہ تو عوام کا قصور ہے کہ ہمارے چندافراد اسمبلی بھیجتے ہیں”

اب سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے
اہل کشتی ناخداؤں کے طوفانوں سے مر گئے
پاکستان میں عوام الناس اور باشعور طبقات کو یہ شکایت بجا رہتی تھی کہ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے ، پہلے اس کی لگام انگریز کی باقیات سول بیروکریسی اور ان کے نامزد گورنر جنرل اور وزیراعظم کے ہاتھوں میں تھی پھر سول اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کے ہاتھوں یہ ملک دو لخت ہوا۔ معجزے میںچاند دو ٹکڑے ہونے کے بعدجڑ گیا مگر پاکستان پھر نہیں جڑ سکا۔1947کے25سال بعد سرزمین بے آئین کو1973میں متفقہ آئین مل گیا، جو دس سال میں اسلامی سانچے میں ڈھل جانا تھا۔1974میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا،پھر الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیۖ چلی۔ پھر11سال تک مارشل لاء نے ڈیرے ڈال دئیے۔ جس کے خلافMRDتحریک بحالی جمہوریت چلی ۔دوسری طرف جنرل ضیاء کی تخلیق کردہ مسلم لیگ جونیجو سندھی اور نوازشریف پنجابی اور جماعت اسلامی نے غیر جماعتی جمہوریت اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کو فتوؤں سے سپورٹ کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے جونیجو لیگ کی حکومت کو ختم کردیا تو نوازشریف نے پھر جونیجو سے بے وفائی کردی۔MRDکے اتحاد سے پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے۔سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے۔ جتوئی کی ناکامی پر نوازشریف کو سمیع الحق نے سائیکل تھما دی۔ عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اپیل کردی۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل بنادیا۔ نوازشریف کاافیئر طاہرہ سید سے تھا۔ میڈیا نے رنگیلا وزیراعظم کتاب سے کچھ بھی عوام کو نہیں بتایا۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصویریں جہاز سے گرانے والے شریفوں سے قدرت کیا انتقام لیتی ہے؟۔ کیپٹن صفدر نے کہاکہ ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”۔ مشرف کو عدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو آئین کی پاسداری پر سزا دی جارہی ہے؟۔ قدرت نے سب کا چہرہ دکھایا۔ریاست خلافت کا اعلان کردے اسلئے کہ الیکشن سے جمہوریت کے اپنے پاسدار بھاگ رہے ہیں۔اسلام کا چہرہ جس دن میڈیا پر دکھادیا تو پاکستان میں اسلام کو ووٹ ملے گااور ملک سے مشکلات ختم ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے صحافی نے پوچھ لیا کہ ”مسلم لیگ ن نے آپ سے اسلامی دفعات کو نافذ کرنے کا وعدہ پورا کیا؟”۔ جس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ” مجھے آپ نے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے یہ توقع رکھوں کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گی؟۔1973کے آئین میں یہ شامل ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی ہوگی ۔عوام جب تک ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں نہیں بھیجے گی تو اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوسکے گا۔ چندافراد سے اسمبلی میں اسلامی قانون سازی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ جب عوام ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں بھیج دیں گے اور ہمارے اپنے ہاتھ میں اقتدارآجائے گا تو پھر اسلام کا نفاذ ہوسکے گا”۔
ایک طرف تحریک انصاف کے زمان پارک میں کارکنوں پر الزامات لگتے ہیں کہ رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں اور دوسری طرف عمران خان پر بیٹی چھپانے اور عدت میں نکاح کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں۔تیسری طرف سوشل میڈیا پر ننگ دھڑنگ ویڈیوز کی بھرمار چل رہی ہے اور چوتھی طرف مریم نواز کا حمزہ شہباز سے سینہ سے سینہ ملاکر معانقہ کا چرچا ہے۔ پس دیوار کیا کیا چل رہاہے؟۔ لیکن نوشتۂ دیوار علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہے۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہوجائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز وساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہوجائے گی
دیکھ لوگے سطوت رفتار دریا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہوجائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
مولانا فضل الرحمن خود بھی اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔افغانستان میں ملا عمر نے جب امارت اسلامی قائم کردی تو لوگوں کو زبردستی سے داڑھی بھی رکھوانا شروع کردی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کررہے ہیں۔ جب پختونخواہ میں بھاری اکثریت سے علماء کرام و مفتیان عظام، شیخ الحدیث و شیخ القرآن ، مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ اسمبلی میں پہنچے تو اکرم خان درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنادیا اسلئے کہ جماعت اسلامی کو اس وقت داڑھی منڈا قابلِ قبول نہیں تھا۔ حالانکہ مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی بھی پہلے خود ڈاڑھی منڈے تھے، پھر چھوٹی داڑھی رکھ لی اور پھر علماء کے مطالبے اور اصرار پر ریش دراز رکھ لی لیکن جماعت اسلامی نے کبھی عالم دین کو اپنا امیر نہیں بنایا ہے۔
اگر مدارس اور مساجد کے علماء ومفتیان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجائیں تو پاکستان میں اس سے زیادہ مضبوط مذہبی اور سیاسی پارٹی نہیں ہوگی۔ عوام سب سے زیادہ ووٹ بھی اسی پارٹی کو دیںگے۔ پاکستان میں حنفی مسلک کے بریلوی اور دیوبندی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا کمال یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو بھی اپنی تعلیمات کے ذریعے بالکل رد کردیتا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے اللہ نے یہی تربیت صحابہ کرام اور خلفاء راشدینکے دلوں میں بھی اتاری تھی۔ حدیث قرطاس اور فضائل اہل بیت کی احادیث صحیحہ کے مقابلے میںقرآنی آیات وشاورھم فی الامراور وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان سے خاص امر میں مشورہ کریں۔ اور ان کا امر آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے” پر خلفاء راشدین نے عمل کر کے خلافت راشدہ قائم کی تھی۔
رسول اللہ ۖ نے حدیث قرطاس کے ذریعے قرآن کے مقابلے میں کوئی اپنی منشاء مسلط نہیں کی تھی۔ نبی ۖ نے بدری قیدیوں کا فیصلہ صحابہ کے مشورے سے کیا تھا۔ حضرت عمر اور حضرت سعد کی رائے تھی کہ ”جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے ،وہ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے”۔ نبیۖ کے جانثار صحابہ نے مشورہ دیا کہ ” یہ اپنے لوگ ہیں۔ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ کل یہ مسلمان بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر دوبارہ مقابلہ میں آئے تو اُن کو نمٹ سکتے ہیں”۔ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور حضرت علی و دیگر صحابہ کرام کی رائے یہی تھی۔جس کی نمائندگی حضرت ابوبکر نے کی تھی۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” عمر کی رائے کافروں کیلئے حضرت نوح کی دعا ہے کہ کوئی کافر دنیا میں عذاب سے نہ بچے اور ابوبکر کی رائے ابراہیم کی دعا سے ملتی ہے جس میں اللہ سے رحم کی اپیل تھی، مجھے حضرت ابراہیم کی دعا بہتر لگتی ہے اسلئے حضرت ابوبکر کی رائے پر فیصلہ کردیتاہوں۔
اللہ نے فرمایا: وماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الآخرة ….
ترجمہ :” اور نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خون بہادیتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔
اللہ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ” اگر اللہ پہلے سے نہ لکھ چکا ہوتا تو تمہیں بہت سخت عذاب دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا اور اس سے عمر وسعد کے علاوہ آج کوئی نہ بچتا۔ صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے اسلئے کہ عام مؤمنین سے بھی حسنِ ظن رکھنے کا حکم ہے۔ علی، عثماناور ابوبکر پر کیسے یہ بدگمانی کی جاسکتی ہے کہ اکابر صحابہ دنیا کے طلبگارتھے؟ ، لیکن اللہ نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ بھی فرشتوں سے نہیں صحابہ کے بارے میں فرمایا۔ نبی ۖ نے پھر حضرت عمر وسعد کے علاوہ باقی صحابہ کرام کے بارے میں قرآن کی تفسیر بھی کردی۔ اگر یہاں علی وعمار کے بارے میں استثناء ہوتا تو اہل تشیع پھر ان قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کو خوب اُچھالتے مگریہاں سانپ سونگھتا ہے۔
بدری قیدیوں میں نبی ۖ کے چچا عباس اور داماد بھی تھے اسلئے صحابہ نے اپنے رشتہ داروں کا نہیں مگر نبی ۖ کے رشتہ داروں کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا کہ ان سے فدیہ لیکر درگزر کیا جائے، اللہ نے اس کو بھی دنیا کی چاہت قرار دیا اور نبی کے فیصلے کو بھی واضح الفاظ میں نامناسب قرار دیدیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ آیات اور احادیث صحیحہ کا سہارا لیکر گستاخانہ لہجوں سے فرقہ پرستی کا بازار گرم کرکے تعصبات کی ہواؤں سے مخالفین کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
اہل سنت والجماعت قرآن وسنت اور عظمت صحابہ کرام کے قائل ہیںلیکن جس قرآن میں اللہ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کے ذریعے رہنمائی کی ہے اس میں نبی ۖ کی تضحیک وتوہین مقصد نہیں ہے کہ عورت نے جھگڑا کیا تھا اور اسی کے حق میں فیصلہ آیا تھا اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا: وتخشی الناس و اللہ احق ان تخشٰہ ”آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈریں” (سورۂ الاحزاب ) ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اگر اللہ کے نبی ۖ قرآن کی کسی آیت کو چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے” (صحیح بخاری )۔
یہ قرآن امت مسلمہ کیلئے رہنمائی کا سبب ہے کہ اسلام میں ڈکٹیٹر شپ کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اللہ نے قرآن میں سچ فرمایا ہے کہ ” انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے”۔ تکبر وغرور شیطان کا وظیفہ ہے اور جو لوگ اپنی پارسائی بیان کرتے ہیں تو اللہ نے قرآن میں واضح تنبیہ کردی کہ فلا تزکوا انفسکم ” پس اپنی پارسائی بیان مت کرو”۔ جب قرآن وسنت کی سمجھ آجائے گی تو ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے اور اپنی پارسائی بیان کرنے کے بجائے اللہ اور خلق خدا سے اپنے گناہوں اور حق تلفیوں کی معافی تلافی میں لگ جائیں گے۔ اقتدار کی خاطر لڑنے کے بجائے ”پہلے آپ پہلے آپ” کی دل وجان سے پیشکش کریں گے۔
جب آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اقتدار حاصل کیا تو نوازشریف کو پیشکش کردی کہ ” پہلے آپ” ۔ زرداری نے پنجاب کی حکومت ق لیگ اور پرویز الٰہی کی پیشکش کو مسترد کردیا اور شہباز شریف کو پنجاب کا اقتدار سپرد کردیا۔ شہباز شریف اور نوازشریف نے پھر بھی ق لیگ کا فارورڈ بلاک بنایا اور سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے نااہل قرار دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ حالانکہ یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ ” آئین میں صدر کو استثناء حاصل ہے اور میں نے آئین کا حلف اٹھایا ہے تو کس طرح خلاف ورزی کرسکتا ہوں”۔ لیکن عین غین کی طرح عدلیہ کے ترازو میں فرق رکھنے والے چوہدری افتخار نے اس کو نااہل قرار دیدیا اور شریف برادران نے اس بھنگڑے ڈال کر ناچنا شروع کیا۔
شہباز شریف نے زرداری کو چور، ڈاکو اور دنیا بھر کی گالیوں سے نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی حلف برداریاں عوامی جلسوں اور میڈیا میں روز کا معمول تھیں۔ ایک دن زرداری نے کہہ دیا کہ نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک سیاستدان نہیں لوہار کا دماغ ہے تو مسلم لیگیوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ”ہم اس حد تک نہیں گرسکتے جس حد تک زرداری گرگیا”۔
نوازشریف اور شہباز شریف کے دل گوشت نہیں زنگ آلود لوہے سے بنے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور انگریز وںکے کتے نہلانے کے الزامات لگاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف نے اپنے نئے گھر رائیونڈ میں ایک میٹنگ کی ہے کہ ”20سال تک ملک کی سیاسی اور معاشی قوت کوسوہارتو کی طرح اپنے پاس رکھنا ہے”۔ سوہارتو کے خاندان نے اپنے ملک کو کس طرح سے لوٹ کر اپنے خاندان کو نوازاتھا۔ اس نے جنرل ضیاء الحق کی طرح11سال تک قبضہ کرنے کی بات نہیں کی۔ اس نے کہا کہ ہمارے راستے میں پانچ رکاوٹیں آسکتی ہیں ، ان کو پہلے دور کرنا ہے۔
نمبر1:اپوزیشن پیپلزپارٹی کو ختم کرنا ہے جو مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے۔
نمبر2:ہمیں خطرہ صدر سے ہوسکتا ہے اسلئے کہ اس دور میں آٹھویں ترمیم تھی۔
نمبر3:فوج کو راستے سے ہٹانا ہے،اسلئے کہ اس کا مختلف دور میں کرداررہا ہے۔
نمبر4:عدلیہ کو راستے سے ہٹاناہے اسلئے کہ یہ راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نمبر5:پریس ۔انہوں یہ پانچ نکاتی ایجنڈہ بنایا تاکہ قائداعظم کاخواب دفن ہو۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم نوازشریف کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کتنے کیس بنائے۔ الیکشن کمیشن سے کہا کہ صرف وہی کیس قبول کرنا ہے جو سیف الرحمن نے پیش کیا ہو۔ مجھ پر اور میری ماں پر، زارداری صاحب پر، اس کے باپ پر ، اس کی بہن پر ، اس کے برادر ان لاء پر، ہمارے تمام سیکرٹریوں پر، چوکیداروں پر سب پر اس نے کیس بنائے ہیں”۔
پھر جب بینظیر اقتدار میں آئی تو اس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے فاروق خان لغاری کو بھی استعمال کیا۔ اس کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ اس کی حکومت ختم کرکے آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے خاندانی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیا۔ زرداری پر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی لگا ہے۔ مرتضی بھٹو کا بیٹا بھی بلاول بھٹو سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے لیکن زرداریوں نے وراثت پر قبضہ کرلیا ہے اور اصل بھٹو ذوالفقار علی جونیئر کی جگہ بلاول زرداری نے لے لی ہے۔
قرآن نے یہ سبق دیا ہے کہ اقلیت اور اکثریت سے بلاخوف وخطر حق کیلئے آواز اٹھانی ہے۔ اگر صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ کیا تو بھی ان کی سرزنش ہوئی تھی۔ دوسری طرف اللہ نے اپنی حکمت بالغہ سے مشرکین مکہ کے دلوں میں یہ رعب بٹھانا تھا کہ اس دفعہ رحمت للعالمین ۖ نے مشاورت سے چھوڑ دیا ہے لیکن اللہ نے نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا اور اکثریت کے مشورے کو بھی قابل ستائش قرار نہیں دیا بلکہ اس پر گرفت فرمائی ہے۔ قرآن نے ایک طرف دشمن کے دل میں رعب ڈالا کہ آئندہ فدیہ کی توقع پر گرفتاری دینے کی غلطی نہ کرنا ، اگر میدان میں آؤگے تو مارے جاؤگے اور دوسری طرف مسلمانوں کو تنبیہ کردی کہ اکثریت اور نبیۖ کے فیصلے کا بھی اللہ نے لحاظ نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کی اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعدامیرالمؤمنین حضرت علی اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ کے درمیان بھی تلوار اٹھانے تک بات پہنچ گئی تھی جہاںدونوں طرف عشرہ مبشرہ کے صحابہزبیرو طلحہ اور علی برسرپیکار تھے۔ ایک طرف قرآن میں حضرت عثمان کی شہادت کے حوالہ سے بیعت رضوان کا معاملہ تھاتو دوسری طرف نبی ۖ کی احادیث تھیں ۔
حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بدلے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن مجبوری تھی۔ دوسری طرف بہت ساری احادیث حضرت علی کی تائید اور مخالفین کا راستہ روکنے کیلئے موجود تھیں۔ حضرت عمار کی شہادت تو بعد میں ہوئی تھی اور اس سے پہلے نبیۖ نے ازواج مطہرات سے فرمایا تھا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ اور حضرت عائشہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا کہ جب حواہب کے کتے آپ پر بھونکیںگے۔ حضرت عائشہ نے کتوں کی آواز سن کر لوٹنا بھی چاہا مگر مشورہ دینے والوں نے خیر کے کام کیلئے اس کو مفید قرار دیا۔ نبی ۖ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ” وہ لشکر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے جس کی قیادت عورت کررہی ہو”۔صحیح بخاری کی اس روایت میں حضرت عائشہ کے لشکر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت ابوبکرہ نے اس موقع پر اس کو بیان کیا تھا۔
اگر صحابہ کرام اور خاص طور پر عشرہ مبشرہ کے درمیان جنگ وجدل ہوسکتا تھا تو موجودہ دور کے مسلمانوں میں کیوں نہیں؟۔ اکثریت اور اقلیت معیارِ حق نہیں ہے۔ موجودہ دور میں چیف جسٹس اور اس سے اختلاف کرنے والے جج اور سیاستدانوں میں حق پر کون ہے؟۔ ایک طرف آئین کی پاسداری ہے لیکن دوسری طرف ٹیکنیکل بنیادپر آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش محض بہانہ ہے۔جو لوگ چیف جسٹس کا آئینی فیصلہ نہیں مانتے وہ ازخود اختلافی نوٹ کو فیصلہ قرار دینے کی جسارت کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ اکابر صحابہ کرام کی موجودگی میں یزید کی مسند نشینی کا کوئی جواز نہیں تھا اور امام حسین نے حق کا علم بلند کیا تھا مگر حسینیت اور یزیدیت کی تقدیر لکھی جاچکی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی یزید کے طرف دار ہیں اور وہ بھی اپنے حس کی وجہ سے معذور ہیں۔ جب تک باغ کے پھولوں میں خوشبو کی مہک کا پتہ نہ چلے تو گٹر کی بدبو میں عادی لوگوں کو کس طرح خوشبو کا ادراک ہوسکتا ہے؟۔ تاریخ کے ادوار مظالم اور جبر سے بھرے پڑے ہیں۔ جن میں یزید تو بہت آئے ہیں لیکن حسین کی یاد اگرچہ اس کے اپنے پوتے زید بن علی بن حسین نے بھی شہادت کی مہک سے یاد تازہ کردی ۔ البتہ حسین کے ماننے والا طبقہ کوفی جس طرح غدار نکلے، اس طرح ان کے بڑے بھائی امام باقرنے بھی ساتھ دینے کے بجائے معذوری سے کام لیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کی سخت نگرانی نہیں تھی اسلئے امام ابوحنیفہ نے امام زید کی شہادت کو بڑا اُونچا رتبہ دیا تھا۔امام باقر و امام جعفر کی سخت نگرانی جاری تھی اسلئے امام زید کے حق میں وہ آواز نہیں اٹھاسکتے تھے۔ جب تحریک طالبان پاکستان نے جبر وتشدد اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا تو ان کے خلاف نصیحت وخیر خواہی سے آواز اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں تھی ۔ البتہ پارہ چنار کے اہل تشیع نے ان کا ایسا حال کردیا تھا کہ بھنگ کا نشہ پی کر بھی اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ اعتزاز حسین شہید نے خود کش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر بڑی خلق خدا کو بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔
ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے دور میں خبردار کیا تھا کہ طالبا ن مارگلہ کے پہاڑ کے قریب اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ اس دور میں ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں طالبان کی آنکھوں کے تارے تھے۔ کلثوم نواز مرحومہ کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے تھا اس نے پہلی بار طالبان کے خلاف زبان کھولی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا تھا کہ طالبان کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے کہ بعض سیاستدانوں کو قتل کریں اور بعض کو دوست بنائیں۔ عرفان صدیقی کا تعلق لال کرتی سے ہے۔ حافظ سیدعاصم منیرپر اس کا جھوٹ اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان سے زیادہ عرفان صدیقی خود طالبان کا حامی رہاہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل کے بعد ”پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے” عنوان کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv