اکتوبر 2018 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

امریکہ کی سعودیہ عربیہ کو دھمکی اور پاکستان کی صورتحال

امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلیمان کو ہتک آمیزلہجے میں دھمکی دی ہے کہ ’’ ہمارے بغیر تمہاری حکومت دوہفتے بھی نہیں چل سکتی ہے۔ فوجی اخراجات ہمیں دو، ورنہ ہم تمہاری مدد نہیں کرینگے‘‘۔ یورپی یونین امریکہ کا ساتھ ایران کے معاملے میں نہیں دے رہا ہے۔پہلے جرمنی، ترکی اور جاپان آپس میں متحد تھے۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس نے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرکے تہس نہس کردیا اور برصغیر کی تقسیم میں بھی انگریز کو اسلئے دلچسپی تھی کہ روس، چین، ایران، برصغیر پاک وہند، ترکی ، جرمنی، جاپان وغیرہ ایک پیج پر جمع ہوکر مغرب کی امامت کوکبھی کسی طرح سے چیلنج نہ کرسکیں۔ مشرقی ممالک کے اتحاد میں پاکستان و مسئلہ کشمیر مخل رہے اور عرب ممالک کیخلاف اسرائیل کا خودکاشتہ پودا کام جاری رکھے۔
عراق اور لیبیا کی تباہی کے بعد ترکی ، ایران ، سعودیہ اور پاکستان کو شکنجے کی نذر کرنے میں باری کا انتظار کیا جارہاہے کہ پہلے کس کو نشانہ بنایا جائے۔ بھارت بھی محفوظ نہیں رہے گا اور چین وروس کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ مغل بادشاہ ٹیپو سلطان کی بات ٹھیک ہے کہ ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔ غزوہ بدر و اُحد کے بعد صلح حدیبیہ کرنے میں بھی حرج نہیں ہے مگر ہم اپنی تقدیر بدلنے کی صلاحیت خود رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جھوٹ نہیں بولا ہے کہ ’’ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا ہے جو اپنی حالت خود نہ بدلے‘‘۔
سعودیہ کو امریکی دھمکی سے آزاد کرنے کیلئے پاکستان ایران اور بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ دشمنی نہیں دوستی میں بھی کشمیر ہمیں مل جائیگا۔ جب بھارت اور پاکستان کو بڑے پیمانے پر ایران سے تیل وگیس کی سپلائی شروع ہو تو پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بن جائیگا۔ بیرون ملک قرضوں سے نجات مل جائے گی تو یہ قوم سودی قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھاری بھرکم ٹیکسوں کے نیچے نہیں مرے گی۔ امداد لینے کے بجائے امداد دینے والا ملک ہم بن جائیں گے اور بھارت ہمیں گیس وتیل کی رائلٹی دیگا۔ بھارت سے گائے کا گوشت روس اور نوآزاد مسلم ممالک وافغانستان سپلائی کرینگے تو بھی ہمارا بہت سا قرضہ اُترجائیگا۔ بھارت کو ایران اور افغانستان کی راہداری مل جائے گی تو کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کرنے میں بخل سے کام نہیں لے گا۔ دشمنی کی فضاء نہیں رہے گی تو دفاعی بجٹ دونوں ممالک اپنے غریب باسیوں پر خرچ کرینگے۔ برصغیر پاک وہند کا وسیع تر میدانی اور افغانستان سے روس تک پہاڑی علاقہ ایکدوسرے کی ضروریات پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایران ،ترکی کے راستے یورپ تک تیز رفتار ٹرین کے ذریعے بھارت،بنگلہ دیش اور مشرقی ممالک تک سفر وتجارت کا سلسلہ شروع ہوگا تو دنیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ پاکستان اس کیلئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان خطے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا تو اسرائیل خود مسلم ممالک کو دعوت دیگا کہ قبلہ اول پر تمہارا حق ہے لیکن مسلم فتح کے جھنڈے گاڑھ لینے کے بعد بیت المقدس کو قتل گاہ نہیں بنائیں گے بلکہ یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو پوری آزادی حاصل ہوگی کہ اس میں اپنے اپنے دن مکمل عبادت کریں۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو ایک ہی عبادتگاہ باری باری سب کے حوالے ہوگی تو مذہبی شدت پسندی کا ناسور دنیا سے خود بخود ختم ہوجائیگا جسکے پیچھے اسلحہ بیچنے اور ہیروئن کا کاروبار کرنے والا مافیا ہے۔ پاکستانی قوم کو شعور کون دیتا ؟۔ جبکہ قائداعظم کی زبان اور علامہ سر محمد اقبال کے اشعار ونظریات سمجھنے سے بھی یہ قوم قاصر تھی۔
قرآن وسنت آئین کا حصہ ہے اور اسلام کے نام پر یہ مملکتِ خداد اد وجود میں لائی گئی ہے لیکن اسلام کا نام لینے والے مذہبی طبقات ، مدارس ومساجد نے ہی قرآن وسنت کی تعلیمات کو سب سے زیادہ زیروزبر کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ سودی نظام نے عالم انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر ہمارا شیوخ الاسلام طبقہ سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دینے کی جسارت کررہاہے جسکے نتیجے میں عام بینکوں میں بھی قرآنی آیت احل اللہ البیع وحرّم الربوٰ ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے‘‘ جلی حروف سے لکھنے کی زحمت کی گئی ہے۔ معیشت، سیاست، معاشرت اور ہرچیز میں اسلام کے نام پر دھوکہ کیا جارہاہے۔ بقول اقبال : ؂ تم مسلمان ہو جسے دیکھ کر شرمائے یہود؟۔
ایرانی تیل کی سملنگ میں سیاستدان، سول وملٹری بیوروکریٹ اور سمگلرسب ملوث ہیں۔ اگر اس کی جگہ پر قانونی ٹیکس وصول کرکے حکومت کا بوجھ کم کیا جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی عوام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔ لوگوں کو کم قیمت میں تیل وگیس کی فراہمی اور حکومت کو ضرورت سے زیادہ ٹیکس ملے گا اور پاکستان میں زندگی کی طاقت دوڑ جائے گی۔ پاکستان کے ائرپورٹوں پر سستا تیل بین الاقوامی جہازوں کو فراہم کیا جائیگا تو مسافروں اور سیاحوں کی ریل پیل شروع ہوگی۔ ائرپورٹ دنیا بھر کے جہازوں سے آباد ہوجائیں گے۔ پاکستان کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائیگا۔ پاکستان کی کرنسی ڈالر سے کئی گنا بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں تجارت اور کاروبارِ زندگی سے اعلیٰ اخلاقی معیار اور اقدار دنیا کے سامنے آجائیں گے۔ پھر عرب اور یورپی ممالک کے لوگ روزگار کیلئے پاکستان آئیں گے، پاکستانیوں کو روزگار کیلئے کہیں جانا نہیں پڑے گا۔ جھوٹے و بے بنیاد افواہوں اور پروپیگنڈوں کی ایکدوسرے کیخلاف ضرورت نہ پڑیگی۔
سعودی عرب کو امریکہ دھمکی نہیں دے سکے گا۔ ایران اور سعودیہ شیعہ سنی کی منافرت بھی نہیں رہے گی۔ خانہ کعبہ کو مسلم ممالک جدید سے جدید تر انداز میں وہ مرکز بنائیں گے کہ تیز رفتار روشنی کی مدد سے خانہ کعبہ رات کے وقت آسمان کو چھو رہا ہوگا۔ جدید ترین نظام سے فاصلے پر بھی قریبی مسافت کی طرح طواف کیا جاسکے گا۔ خانہ کعبہ ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس کی عبادتگاہوں میں سہولت اور آسانی سے رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ تمام انسان قرآن کے مخاطب ہیں اور ہر زبان میں قرآن کا سلیس ترجمہ کرکے مذہبی طبقات کی خرافات کو عقلی ونقلی دلائل سے ملیامیٹ کردیا جائیگا تاکہ قیامت کے دن رسولﷺ نے امت کے خلاف جس شکایت کا اظہار کرنا ہے کہ یارب ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجورًا ’’اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے اسکا ازالہ پاکستان سے شروع کردیا جائے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، سود اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے ، سودی نظام سے جتنی رقم دوسروں کے حوالے کردی جاتی ہے اس سے زیادہ کرپشن بھی نہیں ہوتی ہے۔ پہلے ایک احمق نوازشریف نے بے تحاشا قرضے لیکر ملک کو ڈبویا اور اب دوسرے احمق نے مزید بے تحاشا رقم حاصل کرنے کیلئے ٹیکسوں کی بھرمار سے پوری قوم کی غریب وامیر عوام کا جینا دوبھر کرنے کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں۔ پاکستان کو ایٹم نہیں بچاسکتا ہے لیکن غربت اس کو مارے بغیر بھی موت کی نیند سلادے گا۔ دنیا بھر کی سازشیں پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ہمارے اقتدار والا طبقہ جھوٹی تسلیاں دے رہاہے۔ سید عتیق گیلانی

حضرت داؤدؑ کی خلافت اور حضرت سلیمانؑ کی عدالت

حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے زمین میں خلافت کا موقع ، خطابت کا ملکہ اور نبوت ورسالت سے سرفراز فرمایا۔ پاکستان قربانیوں کے بعد نہیں بناتھابلکہ پاکستان بننے کے بعد لوگوں کو تعصب، مفادپرستی اور منافرت کی وجہ سے قربان کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے انگریز ریاست کے خلاف کبھی ایک سکینڈ کی جیل نہیں کاٹی اور نہ ہی انگریز حکمران کے خلاف لڑنے والوں کا کوئی مقدمہ لڑا ، جب انگریز نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا اور ووٹ کی طاقت سے برصغیر پاک وہند میں تقسیم ہونے کا فیصلہ ہوا پھر لوگوں کو قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور آج بدقسمتی سے ملک وقوم کیلئے قربانیاں دینے کی غلط رٹ لگائی جارہی ہے۔
علامہ اقبال نے پنجاب اسمبلی میں کہاتھا کہ ’’ حکومت کا لباس صرف انگریز پر چست آتا ہے، مسلمان اور ہندو دونوں حکمرانی کے قابل نہیں ‘‘۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ للکار للکار کر پکار پکارکر کہتا کہ ’’ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ بنگلہ دیش کو الگ مملکت بننے دو، پورا پنجاب لے لو۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرو، انگریز نے تفریق ڈالو اور حکومت کرو کی جس پالیسی کے تحت یہاں حکومت کی تھی مسئلہ کشمیر پر پھر دونوں ملکوں پاکستان وبھارت میں تفریق ڈال کر دوبارہ حکومت کرنے کیلئے راستہ ہموار کریگا‘‘۔ قلندر ہر چہ گوئید دیدہ گوئید آج وہ نقشہ سامنے آرہا ہے جس کو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کھینچا تھا، جن کی زندگی کا بڑا سفر انگریز کیخلاف جدوجہد میں گزرا۔ آدھی زندگی جیل، آدھی ریل میں گزاری۔ جو بہترین خطیب تھے، قوم انکی بات سمجھ لیتی تھی۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: ’’ ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان سے تاکہ انکے سامنے حقیقت واضح کردے‘‘۔آج بھی قوم کوانگریزی سمجھ نہیں آتی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور انکے ساتھیوں کیساتھ انگریز نے بھی اتنی زیادتی نہیں کی جتنی ہماری ریاست نے کی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے پر پابندی نہیں تھی مگر پاکستان بن گیا تو ختم نبوت کے نعرے پر پابندی لگ گئی۔ ریاستی ٹاؤٹ طبقے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے ،قادیانیوں کی مخالفت پاکستان اور اسلام کی مخالفت سمجھتے تھے۔ عمران خان کے جعلی کزن ڈاکٹر طاہر القادری نہیں حقیقی کزن مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے تحریک ختم نبوت میں شمولیت کی وجہ سے ریاستی مظالم کے خوف سے اپنی داڑھی بھی مونڈ ڈالی تھی۔ آج تک بہت سے لوگ عدل وانصاف، سیاست ،اسلام اور انسانیت کی جنگ لڑرہے ہیں۔
حضرت داؤد علیہ السلام نے دو قوموں کے درمیان فیصلہ کیا۔ ایک قوم کے جانوروں نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔ دونوں کی قیمت برابرہی تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے انصاف کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کو فصل والوں کے حوالہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے، اس طرح ایک قوم بالکل محروم ہوجائے گی۔ پھر یہ اپنا گزر بسر کس طرح کرینگے؟۔ چوریاں، ڈکیتیاں اور بے ایمانیاں کرینگے ، ملک کا امن وامان غارت ہوجائیگا۔ انکے بچے بھوک سے مرینگے تویہ معاشرے سے بھی اسکا انتقام لیں گے!۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی سمجھ میں بات آگئی، یہ نہیں دیکھا کہ مجھ سے چھوٹے ہیں بلکہ بات مان لی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ جب تک فصل اپنی جگہ پر نہیں آتی ہے جانور والے اس کھیت میں محنت مزدوری کریں اور جانور فصل والوں کے حوالے ہونگے، جس کے دودھ، اون اور گوبر کا وہ فائدہ اٹھائیں گے۔ پھر جب فصل اپنی جگہ پر آجائے تو فصل اپنے مالکوں اور جانوروں کو انکے اپنے مالکوں کے حوالے کیا جائیگا۔ اس فیصلے کیوجہ سے قرآن میں اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو زیادہ سمجھدار قرار دیا ہے۔
قوم قائداعظم کی کوئی بات نہ سمجھ سکی سوائے اسکے کہ’’ مصیبت میں ہیں اور مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے‘‘۔ یہ مصیبت بھی تقسیم کی وجہ سے ہی دیکھنے کو ملی تھی۔ جسکے ذمہ دار بھی قائداعظم خود ہی تھے۔ قرآن میں ہی اللہ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف 99بیویاں ہونے کے باوجود ایک مجاہد حضرت اوریا کی بیگم سے شادی کی خواہش رکھنے پر تنبیہ فرمائی تھی۔ لی نعجۃ ولہ تسع وتسعوں نعجۃ ’’ میرے پاس ایک دنبی ہے اور اسکے پاس 99دنبیاں ہیں‘‘۔ جس پر تنبیہ کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو بات سمجھ میں آگئی اور اللہ سے توبہ کی اور اللہ نے معاف کردیا۔ قرآن میں الفاظ ہیں فغفرلہ مولوی حضرات کو حلالہ پر اس وقت اللہ تعالیٰ معاف کریگا جب وہ تنبیہ کے بعد توبہ کرینگے ورنہ تو غفرلہ کا کوئی تک نہیں بنے گا۔ ہمارے حکمران طبقے نے انگریز کی وراثت سے یہ بیماری لی تھی کہ مثبت اور جائز تنقید بھی بغاوت سمجھتے تھے، پھر اصلاح کیسے ہوتی؟۔ بھٹو کی طرف سے سرمایہ داروں کے خلاف راتوں رات کریک ڈاؤن ہوا تھا اور سب کو ملک چھوڑنے اور بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ متبادل روزگار بھی نہیں دیا گیا اور پھر حکمرانوں نے اپنا سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل کرنے میں عافیت محسوس کی۔ کوٹہ سسٹم کیوجہ سے نالائق لوگ نظام کا حصہ بن گئے اور میرٹ والے لوگوں کا روز گار چھن گیا۔ جس سے ملک اور قوم کا بیڑا قائدِ عوام نے غرق کردیا تھا۔
مؤمن ایک سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاسکتا۔ فوج نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو بار بار مواقع دئیے اور اب عمران خان کی شکل میں ڈرامہ جاری ہے۔ عمران خان 1991ء میں کرکٹ کھیل رہا تھا تو مجھے قبائلی FCR کے تحت ایک سال قیدبامشقت کی سزا اسلئے دی گئی تھی کہ نظام بدلنے کی بات کر رہا تھا ۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو خواتین نے ایک بچے پر اپنا مقدمہ پیش کیا، دونوں کی بات سن کر ایک کے حق میں آپؑ نے فیصلہ دیا۔ حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ میں ان کا فیصلہ کروں گا۔ دونوں کی بات سن کر حکم جاری کیا کہ میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا ہوں اسلئے بچے کو دوٹکڑے کرکے آدھا ایک کو اور آدھا دوسری کو دیا جائے۔ جس کو بچہ پہلے مل چکا تھا، وہ کہہ رہی تھی کہ مجھے یہ فیصلہ منظورہے۔ دوسری نے چیخ کرکہا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا۔ میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوں یہ بچہ اسی کا ہے۔ حضرت سلیمانؑ نے پھر بچہ اسی کے حوالے کیا ۔ نوازشریف سے پارلیمنٹ کی تقریر کی وضاحت طلب کی جاتی تو بھڑکیاں مارنے کی صلاحیت بھی نہ رہتی ، عدلیہ کو توہین عدالت کے کیس بھی نہ کرنے پڑتے اور عوام کو حقائق کا بھی پتہ چل جاتا۔ نظام انصاف سے بھی دیر اور بے راہ روی کی شکایت نہ رہتی۔
ایک سکھ کڑک سنگھ نے اپنے سردار سے کہا کہ مجھے جج لگواؤ، سردار نے کہا کہ تمہاری تعلیم نہیں ، اس نے کہا کہ تعلیم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سردار نے اس کو جج لگوادیا۔ قتل کا ایک مقدمہ سامنے آیا، قاتلوں نے کہا کہ چھرے سے مارنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔،کڑک سنگھ نے کہا کہ تم نے کیسے قتل کیا، اس سے بحث نہیں ۔ چاروں کو اسی وقت لٹکانے کا حکم دیا اور پوچھا کہ یہ پانچواں کون ہے تو بتایاگیا کہ یہ ان کا وکیل ہے، کڑک سنگھ نے کہا کہ یہ بھی ان کے ساتھ ہے، اس کو بھی ٹانگو۔
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا لوآج میں بھی صاحب اولاد ہوگیا

3 مہرے ذ والفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان؟

پاکستان بن گیا تو قائداعظم محمد علی جناح، قائدملت لیاقت علی، بیگم راعنا لیاقت علی اور فاطمہ جناح کل مبلغ سیاسی قیادت تھی۔ قائداعظم طبعی موت مرے اور نوابزادہ لیاقت علی خان کو گولی ماردی گئی۔ بیگم راعنا لیاقت علی اور فاطمہ جناح کی آپس میں بھی نہیں بنتی تھی بلکہ شدید اختلافات تھے۔ جب سیاسی قیادت میں گھریلو خواتین کا بھی حصہ بن جائے۔ بیگم نسیم ولی اور بیگم نصرت بھٹو نے بھی اپنے اپنے شوہر کی جگہ سیاست کی۔ قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمیعہ راحیل قاضی اور مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسد محمود بھی سیاسی عمل کا حصہ بنے۔
مادرملت فاطمہ جناح کی شادی نہ تھی اسلئے اولاد کا سوال نہیں، اس کی اکلوتی بھتیجی دینا جناح بھی کسی کیساتھ بھاگ گئی تھی لیکن اسکے باوجود بھی وہ دوبہترین مرسیڈیز کاروں کی مالکن تھیں۔ سیاست میں اچھی بود وباش، شان اور موروثیت کا تصور شروع سے موجود ہو تو بعد کی پیداوار کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ مہاتماگاندھی سفر وحضر ، بود وباش اور سادگی میں معروف تھے تو ہمارے کالم نگار ، صحافی اور دانشور انکے مقابلے میں قائداعظم محمد علی جناح کے لباس واطوار، شان وشوکت اور اعلیٰ معیار کی زندگی کو وجہ ترجیح قرار دیتے تھے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اگر چہ اصلی ، نقلی، عطائی اور کسی قسم کے ڈاکٹر نہیں لیکن نام کیساتھ یہ لاحقہ لگ گیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قائداعظم کے کپڑے استری کیلئے لندن جاتے تھے۔ قیمتی سگریٹ، سفر کیلئے جہاز اورچھٹیوں کیلئے زیارت کی رہائش قومی قیادتوں کیلئے مثالیں تھیں۔ پہلے پاکستان سول بیوروکریسی کے ہاتھوں میں تھا اور پھر جنرل ایوب خان نے قبضہ کرکے فوجی بیوروکریسی کی بادلادستی قائم کردی۔ جنرل ایوب نے عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی قائد بناڈالا تھا۔ جو انتہائی چالاک و عیار شخص تھا۔ اس سے جان چھڑانی مشکل ہوگئی تھی تو اس کو پھانسی پر چڑھایا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف کو میدان میں اتار دیا۔ نواز شریف نے پنجے گاڑھ دئیے تو ایک اور کم عقل اور بیوقوف عمران خان اب میدان میں اتارا گیا ۔ پاکستان کی آخری منزل اچھی ہوگی لیکن عوام کے شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ ہمیں حقائق کی طرف رہنمائی کا حقیقی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔
جنرل ایوب سے فاطمہ جناح کا مقابلہ تھا تو جماعت اسلامی کے امیر و بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کہا کہ ’’ایوب خان میں ایک خوبی ہے کہ وہ مرد ہے باقی سب خامیاں ہیں۔ فاطمہ جناح میں ایک خامی ہے کہ وہ عورت ہے باقی خوبیاں ہیں اسلئے ملک کی صدارت کیلئے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کو ترجیح کا فتویٰ دیاتھا‘‘۔ایوب خان نے کوئی ذاتی کرپشن نہیں کی تھی، ایوب خان موروثی بنیاد پر اپنے مقام تک ٹوچین ہوکر نہ پہنچے تھے، ایوب خان نے ملک میں پہلی مرتبہ بنیادی جمہوریت بحال کی تھی ۔ جنرل ایوب خان نے بنگالیوں سے زیادتی کا تصور ختم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر مغربی پاکستان میں نوکریاں دیں، پہلی مرتبہ سیاستدانوں کو نہ صرف مکمل آزادی دی بلکہ سیاسی شعور بیدار کرنے کے بھرپور مواقع پیدا کردئیے لیکن یہ اقدامات ہی انکے زوال کا سبب بن گئے۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے کوٹہ سسٹم کے ذریعے میرٹ کا خاتمہ کردیا۔ پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو نیشنلائز کرکے ترقی پذیر ملک کو زوال کی طرف دھکیل دیا۔یہ دونوں کام پاکستان کیلئے تباہ کن ثابت ہوئے۔ جماعت اسلامی کے بانی نے جو ایوب کے مقابلے میں فاطمہ جناح کو سپورٹ کیا تو ساری زندگی ڈکٹیر کی حمایت کرتے ہوئے اپنے باقیات کیساتھ سجدہ سہو میں گزاردی۔مفتی محمودؒ شروع سے ہی بین بین تھے۔ یہی خواری انکے جانشین مولانا فضل الرحمن کی قسمت میں آئی۔ بینظیر بھٹو نے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ کے مقابلے میں صدارت کیلئے غلام اسحاق خان کو سپورٹ کرکے نظریہ کی سیاست کو شکست دی تھی۔ پھر جب پرویزمشرف نے پیپلزپارٹی کے دس ارکان توڑ کر پیٹریاٹ بنائی تو بھی بینظیر بھٹو کے پاس یہ طاقت تھی کہ ق لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمن کو جتواتے ، جس کو نوازشریف اور عمران خان نے بھی سپورٹ کیا تھا۔
پیپلزپارٹی کے خمیر میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالف نہیں۔ جس کا مشاہدہ تاریخ کی تلخ ترین حقیقت ہے۔زرداری نہیں بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے اپنے ادوار میں پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا۔ جس فوج کیلئے بلوچستان کی جمہوری حکومت کاتختہ اُلٹ دیا تھا ،اسی فوج نے اس کا تختہ اُلٹ دیا۔ بہت لوگوں کو یتیم و بیوہ اور بے سہارا بنایا اور قدرت نے مکافات عمل کے نتیجے میں اسکے خاندان کو تباہ اور دربدر کردیا ۔ آج مرتضی جونئیر ڈانس کرتا پھر رہا ہے اور بھٹو کے ڈیرے پر بلاول زردای اور فریال تالپور کی بادشاہت چل رہی ہے۔ حاکم علی زرداری کی بھٹو سے مخالفت اور آصف علی زرداری کی یاری جنرل ضیاء الحق سے تھی۔
نوازشریف نے تو قید سے چند ہی دن پہلے کہا کہ ’’ اب محمود اچکزئی کی طرح میں بھی 100% نظریاتی بن گیا ہوں‘‘۔ پہلے نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کہتی تھیں کہ ’’ نوازشریف شیر ہے ، شیر کسی سے نہیں ڈرتا ‘‘۔ مگراب تو شیر نے دُم ایسی گھسیڑی ہوئی ہے کہ صاحبزادی نکالنا چاہے تب بھی نہیں نکال سکتی ہے۔ جب نوازشریف جلاوطنی کے بعد واپس آنے میں کامیاب ہوگئے تو کارکنوں نے نعرے لگائے کہ ’’ نوازشریف زندہ باد‘‘۔ نوازشریف نے غصہ سے کہہ دیا تھاکہ ’’چپ کرو، پہلے کہتے تھے کہ نوازشریف قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن جب مجھے ہتھکڑی پہناکر لے جایا جارہا تھا تو میں نے مڑ کر دیکھا ، کوئی بھی نہ تھا۔ اب یہ نعرے مت لگاؤ‘‘۔ کارکن اس وقت بہت شرمندہ تھے۔ پھر نوازشریف کی طرف سے مہم جوئی شروع ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے پنجابی میں نِکے نِکے ہاتھ ہلاہلا کر تیار ہو ؟ تیار ہو؟ کے نعرے بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں میں لگوائے لیکن جب جیل سے رہائی مل گئی اور کارکن تیار تھے لیکن قائد نوازشریف اور اسکی بیٹی کی ہمت نہ ہوسکی کہ احتجاج کی قیادت کرنے کیلئے کوئی شنوائی کرتے۔
عمران خان نے ریحام سے شادی رچائی ہوئی تھی، کنٹینر میں رنگ رلیوں کا سماں ہوتا تھا اور لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ مغرب میں جانوروں کو جو حقوق ہیں وہ یہاں کے انسانوں کو حاصل نہیں ۔عمران خان اپنے کتے کو جس جرنیٹرکے پاس نہیں سلا سکتا تھا ، اس میں کارکن سلادئیے تھے جو مرتے مرتے رہ گئے تھے۔ عوام نہیں جانتی تھی کہ عمران خان کس قسم کے حقوق کی بات کرتا ہے؟۔ جانوروں کو جنسی بے راہ روی کی آزادی ہوتی ہے اور دھرنے کے شرکاء بھی اسی آزادی ہی کے متمنی نظر آتے تھے۔ خواتین کو بھمبھوڑنے کیلئے متعدد حملے بھی ہوئے تھے۔ اب غربت، مشکلات، مصائب کا جو طوفان آرہاہے ، عمران خان نے اس کی تمام تر ذمہ داری بھی قبول کرنی ہے۔ خاتون اول کی شادی اور عمران خان کے کتے کے آنسو کی کہانیاں ہماری تہذیب وتمدن کو کس طرف لے جائیں گی؟۔ آنیوالا وقت بتائیگا۔خاتون اول چف، عوام تف ، ریاست اُف کریگی۔ لگتاہے کہ قدرت نے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کیلئے مودی، ٹرمپ اور عمران نیازی کا انتخاب کیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی تقریر اور عدالت کی صورتحال

 

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور اسکے ججوں سے جوگلے شکوے کئے ، پاکستان کی آزادی کیلئے قربانیوں اور اسلام کے حوالے دئیے ، جلد انصاف کے تقاضوں پر عمل کیلئے بھارت، چین اور برطانیہ کے اصلاحات کا ذکر کیااور قوم کو اچھے کی اُمید بھی دلادی۔ یہ سب ایک اچھے خطیب کی تقریر تھی جسکے جوہر ماننے کے قابل تھے لیکن اس سے قوم کی تقدیرقطعاً بدلنے والی نہیں ہے ۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر کرکے واضح کیا تھا کہ ’’ 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی کے اثاثے بیچ کر 2006ء میں لندن کے فلیٹ خریدے، جسکے تمام دستاویزی ثبوت اللہ کے فضل سے موجود ہیں اور بلاخوف تردیدعدالت ، میڈیا اور قوم کے سامنے پیش کرسکتا ہوں‘‘۔ عدالت نے ایک بہت بڑا وقت نوازشریف کیخلاف ثبوت مانگتے ہوئے گزار دیا مگر پارلیمنٹ میں تحریری تقریر اور اسکا جواب نوازشریف سے طلب نہ کیا، صادق اور امین نہ ہونے کیلئے بھی اقامہ کا سہارا لیا۔ چیف جسٹس خود نواز شریف کے وکیل رہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ نوازشریف کی یہ تقریرسیاسی تھی‘‘۔ بس نوازشریف کی طرح چیف جسٹس نے ایک سیاسی تقریر کرڈالی۔ ہمنوا خوش ہوگئے اور ناقدین نے کہا ہوگا کہ یہ اصل موضوع سے رُخ موڑنے ایک چال ہے۔

نیب کے قانون اور عدلیہ کے قانون میں بہت بڑا فرق ہے۔ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ ’’ عورت کا شوہر نہ ہو اور اس کو حمل ہوجائے تو وہ عورت زانیہ ہے اور اس پر حد جاری ہوگی‘‘۔ جمہور ائمہؒ کے نزدیک حضرت عمرؓ نے درست قانون بنایا اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ غلط قانون تھا، جب تک گواہی یا اقرار نہ ہو تو اس پر شرعی حد جاری نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں دونوں متضاد قوانین رائج ہیں۔ نیب کی طرف سے نوازشریف کو سزا دی گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا کو معطل کیا۔ شہبازشریف کو نیب نے پکڑلیا اور عدالت ان کو چھوڑ دے گی۔

میاں ثاقب نثار کو شریف برادران کے جلد انصاف کی فراہمی نہ ہونے کا غم کھا رہاہے۔ حمزہ شہباز کا بھی کہا تھا کہ ’’ مجھے حمزہ شہباز کی بے عزتی برداشت نہیں ‘‘اسلئے اپنے چیمبر میں اس کو اور عائشہ احد کو بلاکر نہ صرف صلح کرادی بلکہ میڈیا پر پابندی لگادی کہ اس حوالہ سے کوئی خبر شائع نہ ہو۔ ایسا توفوجی عدالتوں کے حکموں میں بھی نہیں ہوتا۔
قرآن وسنت کے قوانین میں کسی قسم کا تضاد نہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں واضح فرق ہے۔ حضرت عمرؓ اور جمہور ائمہؒ کے مقابلے میں امام ابوحنیفہؒ کے بعض قوانین قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں۔ عورت کو حمل پرسزا ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر حضرت مریم علیہ السلام کو سزا دی جاتی؟۔اللہ تعالیٰ نے حد جاری کرنے کیلئے چارگواہ یا اقرار کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ حد جاری کرنے سے انسان کو اسکا حق نہیں ملتا بلکہ اس سے اللہ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ مثلاً کسی نے زنا کیا یا چوری کی ہے تو اس پر زنا کی حد جاری کرنے سے یا چوری کی حد ہاتھ کاٹنے سے انسانی حق کا کوئی تعلق نہیں۔ ایک آدمی کے مال کو چوری کیا گیا ہے تو اس کا حق اپنامال ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنے سے اسکا تعلق نہیں ۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسے لوگ آتے تھے جنہوں نے زنا کیا ہوتا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی کوشش ہوتی تھی کہ ان پر حد جاری نہ ہو۔ حقوق اللہ کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کے اندر بہت جذبہ ہوتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ دنیا سے پاک صاف ہوکر اٹھیں۔ دہشت گرد صحابہ کرامؓ کے پیروکار نہیں بلکہ دجال کالشکر ہیں۔ جتنے خود کش حملوں کے ذریعے وہ خود پھٹتے اور دوسرے لوگوں کو شہید کرتے تھے ،اگر وہ ایسا ماحول بناتے کہ اپنے آپ کو خود ہی شرعی حد کیلئے پیش کرنے کی جسارت کرتے تو دنیا میں اسلام بدنام نہیں نیک نام ہوتا۔ علماء ومفتیان نے ان کی درست رہنمائی کی ہوتی تو پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں تباہی نہ مچتی اور بہت سے مخلص لوگ بھی دجالی لشکر کا حصہ نہ بنتے۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے اپنے خلاف زنا کی گواہی دی ۔پھر نماز کا وقت ہوا، نبیﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد اس شخص سے کہا کہ نماز کی وجہ سے تمہاراگناہ دھل گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ اس کی گواہی مکمل ہوچکی ہے، نبیﷺ نے فرمایا ’’ عمر جانے دو، اس نے توبہ کی ہے‘‘۔ ایک خاتون نے نبیﷺ سے شکایت کی کہ انکے ساتھ فلاں شخص نے زبردستی زنا کیا ہے۔ نبیﷺ نے حکم جاری فرمایا کہ اس کو پکڑ کر لاؤ۔ وہ لایا گیا تو نبیﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ اس کو پتھر مار مار کر ہی مار دیا گیا۔
زنا پر حد جاری کرنا جب حقوق اللہ کا معاملہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے در گزر فرمایا لیکن جب حقوق العباد کا معاملہ آیا تو اس پر کسی قسم کا کوئی ایک گواہ طلب نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت آپﷺ کا اجتہاد نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا جو اللہ کی کتاب قرآن مجید میں موجود تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زنا کاری پر چار گواہ لانے کا حکم دیا ہے جبکہ زبردستی سے خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والوں کی پہلے سے اللہ کی سنت کی خبردی ہے کہ جہاں پائے گئے ان کو قتل کردیا گیا۔ پاکستان کی عدالت، پولیس اور حکومتوں کو اسلامی تعلیمات قرآن وسنت کا ادراک نہیں تھا تو جو خواتین اپنے خلاف زبردستی کی شکایت کرتی تھیں تو ان سے گواہ کامطالبہ ہوتا تھا اور پھر چار گواہ نہ ہونے پران کو جیل بھیج دیا جاتا اور اس کو اسلام سمجھا جاتا تھا۔
اسلام کے علمبردار طالبان خود حد کیلئے پیش کرنے کے بجائے دوسروں کوہی گناہوں کی سزا دینے کے درپے رہتے تھے۔ علماء ومفتیان ، شیوخ الاسلام اور مذہبی جماعتیں وقائدین مسخ شدہ اسلامی تعلیم کیلئے احتجاج ریکارڈ کراتے تھے اور حکمران طبقے حقائق سے بے خبر اور جاہل تھے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کو تعزیرات میں شامل کرنے اور جماعت اسلامی کی طرف سے اس کے خلاف مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کی اشاعت ایک عجوبہ تھا۔ جس پر ہم نے ایک تحریر لکھ کر شائع کردی اور پھر جب پیپلزپارٹی کے دور میں قانون تبدیل ہوا تو احتجاج کی جرأت نہ ہوسکی۔ جس کی وجہ سے شکایت کنندہ خواتین کو رہائی مل سکی تھی۔لیکن زنا بالجبر کرنے والوں کیلئے آج تک شریعت کے مطابق سزا ممکن نہیں ہوسکی ۔
معصوم بچی زینب شہید اور دیگر معصوم شہداء بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مرتکب مجرم کو سنگسار کیا جاتا اور میڈیا اسے کوریج دیتی تو دنیا کا ہر ملک اس سزا کی بنیاد پر اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنے کی تحریک میں مدد گار ثابت ہوتا۔ سعودیہ اور ایران میں اسلامی سزائیں اتنی مؤثر اسلئے نہیں ہیں کہ وہاں مجرم کے جرائم کو اتنی کوریج نہیں ملتی اور دوسرے معاملات پر بھی قتل کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اوپن ٹرائیل سے حق وناحق تک پہنچنے کیلئے حقائق سامنے نہیں آتے۔
مدینہ کی ریاست کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا کہ جب ایک انتہائی سفاک مجرم کو سنگسار کرکے نشانِ عبرت بنایا جائے۔روز روز اغواء ہونے والی بچیوں بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو سیاستدان، جج اور جرنیل کھا پی کر موجیں اُڑائیں لیکن طوطا مینا کی کہانیاں سنا سنا کر قوم کومزید سن کرنے سے سخت پرہیز کریں۔

دیوبندی مدارس کے علماء و مفتیان کے نام کھلا خط : از سید عتیق الرحمن گیلانی

ولقد اٰتینا موسی الکتٰب فاختلف فیہ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم و انھم لفی شکٍ منہ مریب O و ان کلا لما لیوفینھم ربک اعمالھم انہ بما یعملون خبیر O فاستقم کماامرت ومن تاب معک ولاتطغوا انہ بماتعملون بصیرًاOولاترکنوٓا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ومالکم من دون اللہ اولیاء ثم لاتنصرونO و اقم الصلوٰۃ طرفی النھار و زلفاً من الیل ان الحسنٰت یذھبن السیئات ذٰلک ذکریٰ للذٰکرین O
سورۃ الھود : آیت109سے113تک)

درج بالا قرآنی آیات کا ترجمہ:
’’اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیااور اگر اللہ کی طرف سے پہلے لکھا نہ جاچکا ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور اب تک لوگ اس سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور بے شک ہر ایک کو اسکے عمل کا آپ کا رب پورا بدلہ دیگا۔ وہ جو کرتے تھے وہ اس کی خبر رکھتا ہے۔ لہٰذا (اے پیغمبر!) جس طرح تمہیں حکم دیا گیا اسکے مطابق چلو اور جو لوگ توبہ کرکے تمہارے ساتھ ہیں وہ بھی قائم رہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو ۔ بے شک وہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے اور (اے مسلمانو!)ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی آگ پکڑے گی۔ پھراللہ کے علاوہ تمہارا کوئی ساتھ نہ ہوگا اور تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ اور (اے پیغمبر!) نماز پڑھیں دن کے کناروں پر اور رات کے ٹکڑوں میں ‘‘۔
درج بالا قرآنی آیات کی تشریح:
یہود نے توراۃ میں اختلاف کا کیا، وہ عذاب کے مستحق بن چکے تھے۔اللہ چاہتا تو انکے درمیان فیصلہ کرتا پھر وہ حق وباطل کے شک میں پڑگئے تھے۔ امت مسلمہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل قرآنی آیات میں اختلافات کا شکار ہوسکتی تھی ۔اسلئے نبیﷺ اور آپ کے ساتھیوں توبہ کرنے والوں کو حکم دیا گیا کہ قرآنی احکام میں اپنے حدود سے تجاوز مت کرو، وہ اللہ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اگر مسلمانوں نے ظالموں کی طرف جھکاؤ کر ڈالا، تو ان کو آگ پکڑلے گی۔ پھر اللہ کے علاوہ کوئی مدد کرنیوالا نہ ہوگا۔آج سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مدارس کسی تجارت کے مرکز کا منظر پیش کرتے ہیں۔ قرآنی آیات کی جگہ خیالات اور آراء کی خرافات نے لے لی ہے۔
دن کے اطراف میں نماز کا حکم ہے اور رات کے مختلف ٹکڑوں میں ۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور تہجد کا ذکر نہیں۔ جہاں 6ماہ دن اور 6 ماہ رات ہو۔ وہاں پنج وقتہ نمازاورتہجدہوسکتی ہے۔ یہ قرآن کا بڑا معجزہ ہے کہ نماز کے اوقات کا تعین ان ممالک سے نہ کیا جدھر ایک جیسے دن رات 24گھنٹے ہوتے ہیں بلکہ قرآن نے نماز کے اوقات میں دنیا بھر کی عالمگیر یت کاپتہ بھی بتادیا ہے۔

یوم ندعوا کل اناس بامامھم۔۔۔O ومن کان فی ھذہٖ اعمیٰ فھو۔۔۔O وان کادوا لیفتنوک عن الذی اوحینآ الیک لتفتری علینا غیرہ واذًا لاتخذوک خلیلًاOولو لآ ان ثبتنٰک لقد کدت ترکن الیھم۔۔۔Oاذًا لاذقنٰک ضعف الحےٰوۃ ۔۔۔ Oوان کادوا لیستفزونک من الارض لیخرجونک منھا واذًا۔۔۔O سنۃ من قد ارسلنا قبلک من ۔۔۔ O اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الیٰ غسق الیل و قرآن الفجر۔۔۔O ۔۔۔ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداًO و قل رب ادخلنی مدخل صدقٍ ۔۔۔واجعل لی من لدنک سلطان نصیراًO و قل جاء الحق ۔۔۔O و ننزل من القرآن ماھوا شفاء و رحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خساراًO و اذا انعمنا علی الانسان اعرض۔۔۔O قل کل یعمل علیٰ شاکلتہٖ فربکم اعلم۔۔۔O۔۔۔ قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلاًO ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک۔۔۔O ۔۔۔ان فضلہ کان علیک کبیراًO ۔۔۔اجتمعت الانس و الجن علیٰ ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہٖ ۔۔۔O ۔۔۔ فی ھٰذا القرآن من کل مثل فابیٰ اکثر الناس الا کفوراًO (بنی اسرائیل:آیات71سے88تک)

ان قرآنی آیات کا سلیس ترجمہ
’’ہم اس دن سب کو ان کے اماموں کے ساتھ بلائیں گے ، پھر جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگااور جو شخص دنیا میں اندھا تھا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور راستے سے بھٹکا ہوا ۔ اور (اے پیغمبر!) جو وحی ہم نے تمہارے پاس بھیجی قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کو فتنوں میں ڈالتے تاکہ ہم پر ایسی بات گھڑتے جو ہماری طرف سے نہ ہوتی اور پھر یہ لوگ تمہیں اپنا دوست بھی بنالیتے۔ اور اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ بناتے تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف تھوڑا سا جھکاؤ رکھتے پھر ہم تمہیں زندگی کی کمزوری اور موت کی کمزوری کا ذائقہ چکھاتے۔ پھر تمہیں ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ ملتا۔اور اگر انکا بس چلتا تو زمین میں ٹکنے نہ دیتے اور اس سے نکال باہر کرتے۔ پھر وہ بھی تمہارے بعد نہ رہتے مگر کم عرصہ تک۔یہ وہ طریقہ کار ہے جو آپ سے پہلے جن رسولوں کو ہم نے بھیجا ہے ان کے ساتھ بھی رہا ہے۔ اور ہمارے طریقے میں تبدیلی نہ پاؤ گے۔ (اے پیغمبر!) سورج ڈھلنے کے وقت سے لیکر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو اور فجر کے وقت کا قرآن! بیشک فجر کے وقت کے قرآن میں مشاہدہ ہوتا ہے۔ اور رات کے وقت تیرے لئے تہجد کی نماز نفل ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ تیرا رب تجھ مقام محمود عطا کرے۔ اور کہہ دیجئے کہ اے میرے رب مجھے سچائی کے ساتھ داخل کردے اور سچائی کے ساتھ نکال دے اور میرے لئے اقتدار کو مددگار بنادے۔ اور کہہ دیجئے کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل مٹنے والا ہے۔ اور قرآن میں ہم نے وہ نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفا ہے۔ اور ظالم لوگ اضافہ نہ پائیں گے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم کسی کو نعمت دیتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور پہلو بدلتا ہے اور جب اس کو برائی پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ کہہ دیجئے کہ ہر ایک اپنی خصلت پر عمل کرتا رہے اور تمہارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت پر ہے۔ اور تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ یہ بھی دیگر امور کی طرح ایک امر ربی ہے۔ اور تمہیں علم نہیں دیا گیا مگر تھوڑا سا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ہم اس کو لے جائیں جس کو تیری طرف وحی کیا ہے۔ اور پھر تجھے ہمارے اوپر کوئی مددگار نہ ملے۔ لیکن یہ تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے اور تجھ پر اس کا بڑا فضل ہے۔ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات تمام جمع ہوجائیں تو اس قرآن کی مثال نہیں لاسکتے۔ اور نہ اس جیسا کوئی اور۔ اور اگرچہ بعض بعض کی مدد کرنے پر بھی اتریں۔ اور ہم نے الٹ پھیر کر اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں دی ہیں مگر اکثر لوگ انکار کرتے ہیں مگر یہ کہ ناشکری بھی کرتے ہیں۔ ‘‘

مفتی تقی عثمانی نے زکوٰۃ کے مسئلے پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود ؒ کو شکست دی ، سودی بینکاری پر اپنے استاد مولانا سلیم اللہ خان ؒ اور تمام دیوبندی مدارس کو شکست دی ۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی عبارات کو اپنی کتابوں سے نکال دیا۔ ’’آسان ترجمہ قرآن‘‘ کی تفسیر میں امام سے مراد اعمالنامہ لیا ہے، قرآنی آیت میں مقام محمود کی تفسیر سے امت کی سفارش کا غلط مقام مراد لیا۔ طلاق کے حوالے سے بھی آیات میں لفظی تحریف کا ارتکاب کیا، مفتی تقی عثمانی کے آباء نے مرزائیوں کیلئے نرم گوشہ رکھا اور اپنوں پر کفر کے فتوے لگائے۔

قرآنی آیات اور فتوے کی وضاحت
لوگوں کو انکے اماموں کیساتھ بلانے کی وضاحت ہے۔ قرآن میں ائمۃ الکفر کا ذکر بھی ہے۔ اچھے برے امام یا پیشواء ہوتے ہیں ۔ جب کفر کے اماموں کی بہتات ہو تو حق پر ثابت قدم رہنا بہت مشکل ہے۔ مفتی محمدنعیم کی دعوت پر میں جامعہ بنوریہ عالمیہ گیا اور وہاں کے رئیس دارالافتاء سے ملاقات ہوئی۔ مفتی سید سیف اللہ جمیل بہت اچھے انسان ، عالم اور مفتی ہیں۔ انہوں نے مجھے بہت مخلصانہ مشورہ دیا کہ ’’ اپنی صلاحیتیں ضائع کرنے کے بجائے ایک مختصر ، مدلل اور شائستہ تحریر لکھ دیں جسے مدارس کے علماء ومفتیان پڑھنا گوارا کریں۔ اس میں اپنے دلائل اور اپنی رائے لکھ دیں اور فتویٰ طلب کریں کہ علماء ومفتیان کیا رہنمائی فرماتے ہیں۔ اس سے بڑا اچھا نتیجہ سامنے آجائیگا‘‘۔ مجھے یہ تجویز بہت اچھی لگی۔ پورا ارادہ کیا کہ ’’میں یہ تحریر لکھوں گا‘‘۔ مفتی احمدالرحمنؒ کے داماد شہید صحافی موسیٰ خانیل کے بھائی نے کہا کہ ’’میری بنوری ٹاؤن میں رہائش ہے، وہاں سے فتویٰ کا جواب لینا میری اپنی ذمہ داری ہے‘‘۔ یہ ممکن تھا کہ دارالعلوم کراچی اور دیگر مدارس بھی جواب دیتے مگر مجھے یہ آیات یاد آئیں اور مجھے خوف محسوس ہوا کہ جب نبیﷺ کو اتنی بڑی وعید سنائی گئی ہے تو یہ اہل حق کیلئے بھی بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ پھر یہ بات سمجھ میں آئی کہ مفتی کا کام اپنی رائے پیش کرنا ہوتا ہے۔ میں نے اپنی کتابوں اور اخبار کے مضامین میں قرآنی آیات کو پیش کیا ہے تو یہ میری اپنی رائے تو نہیں ہے اور اگر میں نے ان کو اپنی رائے قرار دیاتو علماء ومفتیان ایسا کرنے پر مجھے دوست بنائیں گے لیکن مجھے ان آیات کے وعیدوں کا سامنا کرناہوگا۔اسلئے میں نے اپنا ارادہ بدلا ۔ قرآن کو مختلف انداز سے دوہرایاگیا ہے۔ طلاق سے رجوع کیلئے بھی آیات کودوہرایا گیا۔ علماء ومفتیان قرآنی آیات پر فتویٰ دیں۔علماء دیوبند خود کو حضرت عمرؓ سے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تک علماء حق کا جانشین کہتے ہیں مگر حضرت عمرؓ سے بخاریؒ تک مونچھوں والے مَردوں کے جانشین یہ ہجڑے اور چٹ کیسے ہوسکتے ہیں جو حق نہ بول سکیں؟۔
مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ نے مفتی تقی عثمانی اور وفاق المدارس کے علماء کو طلاق کے مسئلے پر بات کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی مگروہ کامیاب نہ ہوسکے۔یہ تحریر مدارس کے علماء و مفتیان کیلئے ایک چیلنج ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیوبندی مدارس کے علماء و مفتیان کے نام کھلا خط

مسلک حنفی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو بھی رد کردیا جو صراط مستقیم کیلئے میزان ہے

قرآن میں شجرہ ملعونہ کا ذکر ہے ، علماء و مفتیان نے قرآن و سنت کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے حلالہ کی لعنت اپنائی۔

قرآن میں عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کے بعد بار بار رجوع کی گنجائش کا ذکر ہے لیکن علماء غور نہیں کرتے

تین طلاق پر میاں بیوی کے درمیان تفریق ، صلح کے عدمِ جواز اور حلالہ کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ دیوبندی، بریلوی حنفی ہیں۔ شافعی، مالکی ،حنبلی کے علاوہ اہلحدیث و اہل تشیع کے مسالک بھی قرآن وسنت سے بالکل ہٹ کر ہیں۔نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائیگا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ تین طلاق کے معاملہ پر قرآن وسنت میں بالکل بھی کوئی ابہام نہیں ہے۔ مسلکانہ وکالتوں کی رنجشوں نے تین طلاق کے حوالہ سے مسئلہ خراب کردیا ہے۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس دارالافتاء مفتی سید سیف اللہ جمیل کی نصیحت پر مختصر مدلل اور شائستہ تحریر لکھنے کا ارادہ کیا مگر

وان کادو۔۔۔لاتخذوک خلیلًاOولو لآ۔۔۔ ترکن الیھم شےءًا قلیلًاOاذًا لاذقنٰک ضعف الحےٰوۃ۔۔۔O۔۔۔ من الارض لیخرجونک منھا۔۔۔O (بنی اسرائیل:72تا 74)

کو یاد کیااور ایسی تحریر لکھنے سے اجتناب برت لی کہ محض اپنی رائے کے نام سے قرآن وسنت کے مضبوط مؤقف سے دستبردار ہوجاؤں۔
مفتی صاحب نے بہت خلوص کیساتھ فرمایا کہ ’’ اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے بجائے ایک ایسی مختصرتحریر لکھ دیں کہ قرآن وسنت کی روشنی میں میری اپنی ذاتی رائے ہے، علماء ومفتیان اپنی رائے دیں ‘‘۔ میرا ارادہ تھا کہ میں ایسا کروں تو یہ میرے لئے اچھا ہے اور مدارس کے علماء کرام اور مفتیانِ عظام کیلئے بھی سوال کا جواب دینا مناسب ہوگا۔ اگر میں ایسا کرلیتا تویہ قرآن وسنت کو دوسروں کی رحم وکرم پر چھوڑنے کے مترادف تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اللہ تعالیٰ پر کذب وافتراء میں ملوث ہوجاتا اور جن ظالموں نے اللہ تعالیٰ کے حدود سے تجاوز کرکے میاں بیوی میں جدائی ، تفریق اور حلالہ کی لعنت کا بازار گرم کررکھا ہے ، میں بھی انکی فہرست میں شامل ہوجاتا۔

فاستقم ۔۔۔Oولاترکنوٓا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۔۔۔O

قرآنی آیات کے خوف نے مجھے ایسا کرنے سے روکا۔
فتویٰ میں ایک مفتی صاحب اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے جس کے درست اور غلط ہونے کے امکان پر آخر میں لکھا جاتا ہے کہ واللہ اعلم بالصواب ۔ فتویٰ کسی اجتہادی رائے کے بارے میں ٹھیک اور غلط ہوسکتا ہے لیکن قرآن کی واضح آیات کے بارے میں یہ نہیں لکھا جاسکتا ہے کہ ’’یہ میری ذاتی رائے، سمجھ بوجھ اور اخذکردہ فتویٰ ہے‘‘ کیونکہ ایمان اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔
میں اپنا پسِ منظر ضرور بتا سکتا ہوں کہ میں نے دین کی تعلیم درسِ نظامی سے ہی حاصل کی ہے ۔ حنفی مسلک کا نصابِ تعلیم قرآن وسنت کو اولیت دیتا ہے اور پاکستان کے آئین میں بھی قرآن وسنت کو ترجیح حاصل ہے۔کوئی شک نہیں کہ اُمت کا اختلاف رحمت ہے اور امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی لیکن جس طرح حضرت علیؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا کہ’’ ان کی للہ الامر کی بات سچی ہے مگر اس سے وہ باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔ اسی طرح امت کے اختلاف کو رحمت اور گمراہی پر اجماع نہ ہونے سے باطل مراد لیا جاتاہے۔
تین طلاق سے رجوع کے متعلق مدارس کے علماء اورمفتیان کا فتویٰ
عوام حنفی مسلک کے مدارس علماء و مفتیان دیوبندی بریلوی سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہتے ہیں تو رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ شوہر اور زوجہ کا نام ، مکمل پتہ اور قومی شناختی کارڈ
جواب میں سورۂ بقرہ آیت:229کا ٹکڑا کہ الطلاق مرتٰن ’’طلاق دو مرتبہ ہے‘‘ اور پھر سورۂ بقرہ آیت: 230 کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ وان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ’’پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں، یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ پھر حدیث کا حوالہ دیا جاتاہے کہ ایک خاتون کا طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح ہوا۔ اور شکایت کی کہ دوسرا شوہر نامرد ہے مگر نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تک تو اسکا ذائقہ نہ چکھ لے اور وہ تیرا نہ چکھ لے، پہلے کیلئے حلال نہیں ہوسکتی۔اکھٹی تین طلاق کے بعد صلح کی گنجائش نہیں جب تک حلالہ نہ کروایا جائے۔ مولانا نیاز محمد ناصرناطق بالحق لورا لائی بلوچستان فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن ، سابق صدر کالعدم سپاہ صحابہ بلوچستان نے کہاکہ’’ اہلحدیث اور حنفی دونوں کا فتویٰ غلط ہے ۔ عورت کو سزا نہ دی جائے اسکا قصور نہیں طلاق دینے والا شوہر قصوروار ہے ۔ تین قندھاریوں سے اس شخص کو چدوایا جائے‘‘۔ہر دور میں حلالہ کی مخالفت کرنے والے علماء حق رہے ہیں۔ پہلے افتاء کا کورس نہیں ہوتا تھا ، جو عالم دار الافتاء میں فتویٰ کی خدمت انجام دیتا تھا اسی کو مفتی کہا جاتا تھا۔ پہلے فرضی نام پر فتویٰ دیا جاتا تھا ، اب عورت کو بلا کر اسکا شناختی کارڈ اور ایڈریس بھی لیا جاتا ہے۔
قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کو جس درخت کے قریب جانے سے روکا گیا تھا مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے لکھ دیا تھا کہ وہ ازدواجی تعلق کا درخت تھا ۔ قرآن میں جو شجرہ ملعونہ کا ذکر ہے ، وہ ناجائز جنسی تعلق کا شجرہ ہے، حلالہ کے نام پر قرآنی آیات کو جس طرح سے مسخ کرکے لعنت میں ملوث ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے جس کو بڑے بڑے فقہاء نے لعنت سے کارِ ثواب تک پہنچادیا ہے اس پر غور کرنا ہوگا اور کھلے لفظوں میں عوام کو قرآن کی دعوت دینی ہوگی۔
مدارس کایہ فتویٰ قرآن و سنت کے منافی، سراسر غلط، گمراہ کن ، عقل و فطرت اور مسلک حنفی کیخلاف ہے
قرآنی آیات کی اہم ترین کڑی کو چھوڑ کر سیاق و سباق کے منافی فتویٰ دیا جاتاہے۔ حدیث کا حوالہ بھی غلط اور خلافِ واقع دیا جاتا ہے۔ جس کیلئے بڑی لمبی چوڑی تحریر اور دلائل کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے عرصے سے اُمت مسلمہ قرآن سے دُور اور گمراہی کا شکار رہی ہے؟۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ ، ائمہ مجتہدینؒ اور سلف صالحین ؒ سب کے سب غلط تھے، قرآن و سنت کی موٹی موٹی باتیں سمجھنے سے قاصر تھے، بس اب یہ عتیق گیلانی پیدا ہوا ہے جو قرآن وسنت کو سمجھ سکا ہے؟۔
اس کو خوش قسمتی سے تعبیر کریں یا بدقسمتی سے لیکن واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن اللہ رب العزت سے شکایت فرمائیں گے کہ وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذا القراٰن مھجورًا ’’اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ!بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔( القرآن) اس آیت سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ اُمت مسلمہ کی سفارش نہیں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکایت فرمائیں گے۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں مقام محمود کے حوالے سے لکھا کہ ’’ اسکے معنی تعریف کا مقام ہے اور احادیث سے لگتا ہے کہ نبیﷺ امت کے حق میں سفارش کرینگے ، اس سے مقام محمود بھی مراد ہوسکتا ہے‘‘۔ آج اُمت نے اسلام اور قرآنی احکام کا حلیہ بگاڑ کر سودی نظام کو بھی جواز بخش دیا ۔ دنیا میں کارٹونوں سے نبیﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے جاری ہیں۔ قرآنی احکام پر مسلمان عمل کرنا شروع کردینگے اور دنیا میں طرزِ نبوت کی خلاف قائم ہو گی تو نبیﷺ کیلئے یہی’’ مقام محمود‘‘ ہوگا۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی فوت ہوگئے ، آپ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکزپنجاب، سندھ، بلوچستان، فرنٹئیر، افغانستان اور کشمیر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہاں جتنی قومیں بستی ہیں ،سب امامت کی حقدار ہیں۔ اتفاق سے تفسیر کا نام ’’ المقام المحمود‘‘ ہے اور سورۂ قدر کی تفسیر میں یہ لکھا ۔ پاکستان لیلۃ القدر کو بناتھا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب کو مولانا سندھیؒ کے افکار سے عقیدت بھی ہے جن کا بنیادی مقصد فقہ حنفی کی روشنی میں ’’ امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع تھا‘‘۔ فقہ حنفی کا سب سے بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ اگر حدیث صحیحہ قرآن سے متصادم ہو تو اس کورد کرنے کی تعلیم نصاب میں شامل کی جائے۔ جب صحیح حدیث کو رد کرنے کی تعلیم دی جائے تو پھر کسی فقیہ، امام، محدث اور مفتی کی رائے کی قرآن کے مقابلے میں حیثیت کیا؟۔ درسِ نظامی کا یہ بنیادی جوہر ہی صراطِ مستقیم کیلئے ایک میزان ہے۔
حضرت مولانا بدیع الزمانؒ سے نحومیر، قرآن کا ترجمہ و تفسیر، اصولِ فقہ کی کتابیں اصول الشاشی اور نورالانوار کی تعلیم حاصل کرنے کا شرف ملا۔جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے درودیوار سے مجھے محبت ہے جس کی بنیاد مولانا بنوریؒ نے تقویٰ پر رکھی تھی۔ میرے اساتذہ کرام میں محترم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، قاری مفتاح اللہ ، مفتی عبدالمنان ناصر اور ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہیدؒ وغیرہ شامل تھے۔ اگر میرے مشن کو دنیاوآخرت میں کامیابی ملی تو یہ اساتذہ کرام کیلئے شرف وعزت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی مقبولیت ہے۔
درسِ نظامی کے کھوکھلے نصاب کیخلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ کرام سے ملا۔ پہلے دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا مگر وہاں سے مجھے نکالا گیا، کیونکہ میں نے قریبی ماچس فیکٹری میں کام تلاش کیا اور میں نے مدرسے کی زکوٰۃ کا کھانا منع کیا۔ میری تقدیرکا ستارہ علامہ سیدبنوریؒ کے فیضان سے چمکا۔ قاری شیر افضل نے بتایا کہ ’’ خواب میں نبیﷺ کو قرآن کا درس دیتے دیکھا ،مولانا یوسف بنوریؒ اس میں موجود تھے لیکن مفتی محمود اس میں جانے کی کوشش کے باوجود نہ پہنچ سکے۔ مفتی محمودؒ نے کہا کہ میری مولانا بنوریؒ جیسا مقام نہیں‘‘۔ میرے بھائی پیر نثار احمدنے خواب میں مفتی محمودؒ کو دیکھا اور پوچھا کہ میری لائیبریری میں کونسی کتاب اچھی ہے؟۔ مفتی محمودؒ نے قرآن اٹھایا، کہا کہ یہی کتاب اچھی ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے کئی دہائیوں تک مدرسے میں تدریس کی اور بڑے نامور شاگرد پیدا کئے ۔ مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد مسلم اُمہ کو تفرقہ بازی سے ہٹانے اور قرآن کی طرف رجوع کو اپنامشن قرار دیا۔ مولانا انورشاہ کشمیریؒ نے آخر فرمایا ’’ میں نے اپنی زندگی ضائع کردی، قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی ، فقہ کی وکالت کی ہے‘‘۔ مولانا الیاسؒ نے دعوت وتبلیغ کے ذریعہ اُمت میں مذہب کی طرف رحجان کی روح پھونکی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تصوف کے میدان میں کام کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے قرآن کی طرف رجوع کومشن بنایا۔ دیوبند نے مدرسہ، تبلیغ،سیاست، جہاد کے میدان میں خدمت انجام دی۔ مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہؒ نے ایک ضخیم کتاب لکھی کہ ’’ نماز کی سنتوں کے بعد اجتماعی دعا بدعت ہے‘‘۔ افغانی دیوبندی اس بدعت پر عمل پیراہیں۔ بلوچستان، پختونخواہ کے دیوبندی آپس میں لڑتے رہے ہیں اور اندورن سندھ وکراچی میں اس بدعت پر کھلا تضاد ہے۔
اب تو ؂ زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن
شاہ ولی اللہؒ نے ترجمہ سے امت مسلمہ میں قرآن کی طرف رجوع کی بنیاد رکھی۔ آپکے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنے مرشد سید احمد بریلویؒ کیساتھ تحریکِ خلافت کی بنیاد رکھ دی، تقلید کو بدعت قرار دیاتھا۔ علماء دیوبند نے قرآن وسنت کی احیاء کی تحریک شروع کی تو مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے ’’ حسام الحرمین‘‘ کا فتویٰ شائع کیا، ان کو الٹے پاؤں تقلید کی طرف ہنکانے پر مجبور کردیا۔ جس کیوجہ سے اکابر دیوبند جھکنے پر مجبور ہوئے اور انکا میدان قرآن وسنت کی تحریک کے بجائے رسوم و رواج کے مقابلہ میں فقہی مسائل کی طرف رجوع بن گئی۔علماء دیوبند بھارت میں کانگریس، پاکستان میں مسلم لیگ کے تابع بن گئے۔ پھر مرکزی جمعیت علماء اسلام سے جمعیت علماء اسلام نے بغاوت اختیار کرلی۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے قائداعظم ؒ کا جنازہ پڑھایا۔ مفتی محمد شفیعؒ ، مولانا رشید احمد لدھیانویؒ ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ وغیرہ مرکزی والے تھے۔ مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا لاہوریؒ کے فرزند مولانا عبیداللہ انورؒ ،مولانا درخواستی ؒ بغاوت والے تھے۔
1970ء میں جمعیت علماء اسلام کے اکابر مفتی محمودؒ ، مولانا انورؒ ، مولانا درخواستیؒ ، مولانا ہزارویؒ پر فتویٰ لگایاگیا کہ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اسلئے کہ کمیونسٹ ذوالفقار علی بھٹو کو کافر کیوں نہیں کہتے؟۔ فتویٰ لگانے والے مرکزی جمعیت والے تھے۔ بنگلہ دیش و پاکستان کے بڑے مدارس نے دستخط بھی کردئیے لیکن مولانا یوسف بنوریؒ نے ساتھ نہ دیا۔ ان لوگوں نے قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھا، ختم نبوت والوں نے احتشام الحق تھانویؒ کی جوتوں سے پٹائی بھی کی۔یہ مولانا بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ انکے صاحبزادوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل بدل کر ہر نئی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔
مفتی رشید لدھیانویؒ کے مرید مفتی طارق مسعود نے سوشل میڈیا پر حاجی عثمانؒ اور مفتی رشید لدھیانویؒ کا قصہ بیان کیا لیکن اس کی معلومات بالکل زیرو ہیں۔ مفتی رشید لدھیانویؒ کی حالت اسکے خلفاء چشم دید گواہ مفتی عبدالرحیم و مفتی ممتاز احمد سے پوچھ لیں۔ مفتی رشید لدھیانوی کی حالت ایسی بن گئی کہ اگر پھسکڑیاں مارنے سے سیلنڈر بھرنا کارمد ہوتا تو کسی کمپنی سے معاہدہ کر تے۔ حاجی عثمانؒ سے معافی کیلئے تیار تھے لیکن ہم نے مولانا یوسف بنوریؒ و مفتی محمودؒ کا حساب بھی چکادیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے اس وقت کہا تھا کہ ’’ بکرا آپ نے لٹادیا، چھرا آپکے ہاتھ میں ہے ،اگر پھیرلوگے تو پاؤں ہم پکڑلیں گے‘‘۔
مولانا فضل الرحمن پر فتوے لگے تو دفاع ہم نے کیا۔ ایک طرف دارالعلوم دیوبند میں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کے جھنڈے جلائے گئے اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کی ویڈیو ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے خواب میں فون پر بات ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ امن۔ حضرت آدمؑ اس پر خاموش ہوگئے۔ سوچا کہ فون کٹ نہ جائے۔اور سلام کیا تو حضرت آدم ؑ نے ڈانٹا کے صبر نہیں کرسکتے تھے؟۔
خواب سچا ہے اور تعبیر بھی مشکل نہیں!۔ پرویزمشرف اور ق لیگ کے بعد زرداری، مسلم لیگ اور کس کس گھاٹ کا دفاع کیا؟۔ جعلی مینڈیٹ سے بننے والی پارلیمنٹ کی مخالفت اور برائے نام چند نشستوں کے باوجود صدارت کیلئے بھی کھڑے ہوگئے؟۔حضرت آدم علیہ السلام نے یہ اسلئے نہیں پوچھا کہ تمہاری چاہت پوری کرنا چاہتے تھے۔ چاہتوں کو زندہ قومیں اپنی تقدیر خود نہ بدلیں تو اللہ بھی پورا نہیں کرتا ۔ حضرت آدمؑ نے حرکتوں کو دیکھ کر فرمایا کہ آخر تم چاہتے کیا ہو؟۔ تمہارے امن کے جواب کو ڈھیٹ پن سمجھ کر خاموش ہوگئے کہ یہ کیا بک رہا ہے ۔ اور جب سلام کہا تو اس جہالت پر مزید غصہ آیا ۔اسلئے کہ کلام کے ابتداء میں سلام شروع کرنے کیلئے ہوتا ہے اور آخر میں بات ختم کرنے کیلئے اور درمیان میں جاہلوں سے بات ختم کرنے کیلئے ۔ واذا خاطبھم الجاہلون قالوا سلاما
مولانا الیاسؒ کے بھتیجے مولانا زکریاؒ جن کی کتاب بھی تبلیغی نصاب کا حصہ ہے ، انہوں نے کبھی چلہ تک نہ لگایا۔ مولانا الیاسؒ کے صاحبزادے مولانا یوسفؒ نے بھی پہلے تبلیغ میں وقت نہیں لگایاجبکہ مولانا احتشام الحسنؒ جس کی کتاب ’’موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ تبلیغی نصاب کا حصہ ہے، مولانا الیاسؒ کے خلیفہ تھے، لیکن صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے مولانا یوسفؒ کو امیر بنایا گیا۔ مولانا یوسفؒ وفات پاگئے تو مولانا انعام الحسنؒ امیر بنائے گئے لیکن انکی امیری برائے نام تھی، قاضی جاوید اشرف جو آئی ایس آئی چیف بھی رہے ہیں جو آجکل کرپشن میں گرفتار ہیں، جاوید ناصر اور دوسرے کرتا دھرتا لوگ اندرونِ خانہ اکابرین کو کنٹرول میں رکھتے تھے، جماعت کی اندر ونی فضاء بدل گئی تو مولانا احتشام الحسنؒ نے تبلیغی جماعت کو فتنہ قرار دیا۔ مولانا انعام الحسنؒ کی وفات کے بعد شوریٰ کا غلبہ تھا۔ اب مولانا سعد جو مولانا الیاسؒ کے پوتے اور تبلیغی مرکز بستی نظام میں ہیں، رائیونڈ کے اکابرکو اپنا اور اصل کام کا باغی قرار دیتے ہیں۔ رائیونڈ کے اکابر نے پہلے مولانا طارق جمیل کو نکال باہر کیا تھا مگر اس مشکل صورتحال کو دیکھ کر اپنے ساتھ ملالیاہے۔
حاجی عثمانؒ نے مریدوں کو تبلیغی جماعت سے الگ کرنے کا اعلان کیا تو مفتی تقی عثمانی، مفتی رشیدلدھیانویؒ نے تبلیغی جماعت کے اکابرین پر فتوے لگائے اور حکیم اخترؒ نے تبلیغی جماعت پر علماء کی بے ادبی پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ حالانکہ اسی بیان میں تصوف کی بنیاد پر علماء کے دلوں کو کتے بلی کی پوٹی لگنے کے مترادف کہااور جاہل کا شعر نقل کیا کہ منافق موجود ہو تو نبی کا فیض بھی محفل پر اثر نہیں کرتاہے۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ نے شیخ الہندؒ کا قول نقل کیا کہ ’’اب چھوٹی موٹی روحانیت کام نہیں آئے گی۔ خراسان سے مہدی آئیں گے ، جس میں اتنی روحانیت ہوگی کہ پوری دنیا کو بدل سکیں گے‘‘۔ حالانکہ حضرت آدم ؑ سے لیکر تاجدارِ ختم نبوت ﷺ تک کوئی اس درجہ کی روحانیت لیکر نہیں آئے جو روحانی قوت کے بل بوتے پر دنیا کو بدلتے، یہ عقیدہ تو مرزاقادیانی کوماننے والوں سے زیادہ خطرناک ہے جو امت میں رچ بس گیا۔ ملاعمرؒ کو خراسان کا مہدی بنایاگیا پھر بگڑی شریعت کی وجہ سے طالبان پر مولانا فضل الرحمن نے بھی خراسان کے دجال کے لشکر کا فتویٰ لگایا مگر دوسری طرف متحارب طالبان میں صلح بھی کروادی تھی۔
شیخ الہندؒ نے مالٹا کی قید کے بعد مہدی کے انتظار کے بجائے قرآن کی طرف رجوع اور اتحاد امت کا مسئلہ اٹھایا جسکے بارے میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ نے لکھ دیا کہ ’’دونوں باتیں دراصل ایک ہیں اور وہ قرآن کی طرف رجوع ہے‘‘۔ مفتی طارق مسعود کی یہ بات تودرست تھی کہ مفتی تقی اورمفتی رفیع عثمانی مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے شاگرد تھے مگر بنوری ٹاؤن کے مفتی ولی حسنؒ وغیرہ شاگرد نہ تھے، مولانا یوسف لدھیانویؒ حاجی عثمانؒ کی قبر پر جاتے اور کہتے تھے کہ سازش کی بنیاد مفتی رشید احمد لدھیانوی کی خباثت تھی۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی کی یہ نیکی تھی کہ جب مفتی شفیع ؒ نے مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی کیلئے دارالعلوم میں گھر خریدے تو فتویٰ دیا کہ وقف کی خریدو فروخت جائز اور نہ بائع ومشتری ایک شخص ہوسکتا ہے۔ جس پر تاریخی پٹائی لگائی گئی، مفتی رشیدا حمد لدھیانوی کی دارالعلوم کراچی چھوڑنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ شاگرد تو ضرور تھے لیکن جس طرح پروین شاکر نے اپنے شوہر کے بارے میں کہا کہ
کیسے کہہ دوں کہ اس نے چھوڑ دیا مجھے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، مولانا عبدالکریم بیرشریفؒ ، مولانا خان محمد کندیاںؒ ، ضلع ٹانک کے تمام اکابر علماء کرامؒ کے علاوہ تمام مکاتبِ فکر کے نامور اکابرؒ نے ہماری بڑی حمایت کی تھی۔ جن میں دیوبندی، بریلوی، اہل تشیع اور اہلحدیث کے علاوہ جماعتِ اسلامی والے شامل تھے۔
مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ میرے استاذ ہیں اور ان کی حمایت کا بھروسہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالی پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی میری کتاب پر یہ تجویز شائع ہوئی تھی کہ ’’ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کوشش کرنیوالوں کو امام مالک ؒ کے اس قول کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اُمت کی اصلاح نہیں ہوسکتی ہے مگر جس چیز سے پہلے ہوئی تھی۔ نبیﷺ نے پہلے تعلیم وتربیت دی ، تزکیہ فرمایا اور پھر ایک انقلاب برپا کردیا‘‘۔ قرآن وسنت کی طرف رجوع مسئلہ کا حل ہے اوریہ تمام مکاتبِ فکر کیلئے قابلِ قبول بھی ہے ۔
قرآن وسنت کی ایسی تشریح جس سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا ہو۔ مسلک حنفی اور درسِ نظامی کی بنیادی تعلیم کا ایسا دفاع کہ اہلحدیث اور اہل تشیع بھی مان جائیں۔ پھر کونسی ایسی بات رہتی ہے جوانکار کاباعث بنے؟۔ ہاں اسلام کے روشن چہرے پر کالے بادلوں کے دھبے کی صفائی کچھ اسطرح سے کہ لوگ دنگ رہ جائیں۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ ’’سنتوں کے بعد دعا‘‘نہیں، 3 طلاق پرہی قرآن وسنت کی طرف توجہ کرتے تو یہ مسئلہ حل ہوجاتا۔
اصولِ فقہ کی پہلی کتاب کا پہلا سبق ہے حتی تنکح زوجًا غیرہ آیت230البقرہ میں عورت کو آزاد قرار دیا گیا جبکہ نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تواسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے‘‘۔ قرآن سے تصادم کی بنیاد پر حنفی حدیث کو ردکرتے ہیں جبکہ جمہور مالکی، شافعی، حنبلی اور اہلحدیث کے نزدیک حدیث کی تردیدگمراہانہ حنفی ذہنیت ہے۔
اس اختلاف کا اثر تعلیمی اداروں، معاشرتی اور عدالتی معاملات اور مسلکانہ تعصبات میں بھی پایا جاتا ہے۔کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر آشنا سے مرضی کے مطابق شادی کرلیتی ہے۔مسلک حنفی اور عدالت میں یہ درست قرار دیا جاتاہے۔1991ء میں عبدالقادر روپڑی کی بیٹی کا مشہور کیس ہوا، جس پر مذہبی حلقوں سے تسلی بخش جواب بھی نہ بن سکا تھا۔ آئے روز عدالتوں میں مارکٹائی ، جگ ہنسائی اور تکلیف دہ خبروں کا میڈیا میں تماشہ لگارہتا ہے۔دنیا بھر میں شادی کا تہوار ایسی بدمزگی سے نہیں منایا جاتا ہے جسکا پاکستان میں مظاہرہ ہوتاہے ۔ اسکا ذمہ دار ہمارا تعلیمی نصاب ہے ، جہاں قرآن وحدیث کو متصادم قرار دیا گیا ۔ مدارس کا عوام سے ایک تعلق رہ گیا کہ حلالہ کے فتوے دیکر عقیدت رکھنے والی خواتین کو اپنی ہوس کانشانہ بنائیں۔ لعنت کے رسیا لوگوں کو دلائل نہیں ڈنڈے کے زور سے ہی باز رکھنے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔
قرآن میں طلاق شدہ و بیوہ عورت کی آزادی سے نکاح کا ذکر ہے ۔ حدیث سے مراد کنواری عورت ہے۔
جمہور کا مسلک غلط اور گمراہ کن اسلئے تھا کہ بیوہ کے بارے میں ہے فاذا بلغن اجلھن فلاجناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف ’’ جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ وہ جو بھی اپنی جانوں کے بارے میں معروف طریقے سے فیصلہ کرلیں‘‘ اگر نبیﷺ نے عورت کو اسکے ولی کی اجازت کا پابند بنانا تھا تو بیوہ کیلئے واضح آیت کے بعد یہ پابندی ممکن نہ تھی۔ عرف عام اور شریعت میں کنواری اور بیوہ وطلاق شدہ کے احکام مختلف ہیں۔ جمہور نے حدیث کی وجہ سے آیات کے منافی غلط مسلک بنایا مگرامام ابوحنیفہؒ نے اتفاق میں خلل ڈالااسلئے کہ امت کا گمراہی پر اجماع نہ ہوسکتاتھا ۔ یہ اختلاف اسلئے رحمت کا باعث ہے کہ امت کا اختلاف قرآن وحدیث کے گرد گھوم رہاتھا۔ عورت کی شادی نہ ہو تو اسکا ولی ہوتا ہے اور شادی ہو تو اسکا سرپرست اسکا شوہر بنتا ہے۔شوہر کے مرنے یا طلاق کے بعد عورت خود مختار بنتی ہے۔ قرآنی آیات میں طلاق شدہ اور بیوہ کے خودمختار ہونے کی وضاحت ہے اور حدیث سے کنواری مراد ہے۔
صحابہ کرامؓ کاان معاملات پر اختلاف نہ تھا اور سلف صالحین ؒ نے حق پر ڈٹنے اور امت کو گمراہی پر اکٹھا ہونے سے بچانے میں حتی الوسع بھرپور کردار ادا کیا۔ کس موڑ پر کس نے کیا کردار ادا کیا؟ اور کس کی بات درست اور کس کی بات غلط تھی؟۔لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہ ﷺ شکایت فرمائیں گے کہ :

یاربّ ان قومی اتخذوا ہذاالقراٰن مھجورًا

’’اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ نے زندگی علم کلام کی گمراہی میں گزار دی اور آخرکارتوبہ کرکے اصول فقہ کی بنیاد رکھ دی۔ میری ایک بیگم سندھی اور دوسری تربت کی بلوچ ہے۔ جس کا ایک چچا مجذوب ہے، وہ موبائل پر فون کرکے اتنی بات کہتا کہ کیاحال ہے مگر خیریت کا جواب سننے سے پہلے فون کاٹتا اور یہی صورحال اصولِ فقہ کی کتابوں کا بھی ہے۔ قرآن کا ذکر ہے لیکن اسکے احکام کی کوئی وضاحت نہیں ۔ قرآن کی تعریف میں اس علم کلام کی گمراہی شامل ہے جس سے امام ابوحنیفہؒ نے توبہ کی۔قرآن کی لکھائی اللہ کا کلام نہ ہوتو پھر فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ، علامہ شامی، مفتی تقی عثمانی اورمفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان کا قصور بھی نہیں کہ ’’ سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے بعد تاریخ کے اوراق میں امام غزالیؒ کانام ہے جس نے فقہ و اصولِ فقہ کے اندھیرے میں زندگی گزار دی لیکن آخر کارتصوف کی طرف ہجرت کرکے کتاب لکھ ڈالی ’’ من الظلمات الی النور ‘‘ اندھیروں سے روشی کی طرف کا نام اسلئے دیا کہ فقہ واصول فقہ کی تعلیم میں گمراہی کے سوا کچھ نہ ملا۔ جس طرح احناف نے توبہ کے باوجود علم کلام کی گمراہی کو اصولِ فقہ میں داخل کیا ، اس سے بھی زیادہ امام غزالی ؒ نے فقہ کی جس گمراہی سے توبہ کیا اس سے تصوف کی کتابیں لکھ کر بھرڈالیں۔جب مریدوں نے امام غزالیؒ کو خواب میں دیکھا تو امام غزالیؒ نے کہا مجھے کچھ بھی کام نہیں آیا۔ احیاء العلوم، کیمیاءِ سعادت، اندھیروں سے روشنی کی طرف ساری کتابیں کھوٹے سکّے نکلے۔ ایک مکھی کو سیاہی پینے دی تھی ، اس سے میری بخشش ہوگئی۔
مریدوں اور عقیدتمند وں نے اس خواب سے عبرت حاصل کرکے ان تعلیمات کو دریابرد کرنے یا اس پر نظرثانی کرنے کے بجائے مزید گمراہی کا ٹھیکہ اٹھالیا کہ امام غزالیؒ نے تصوف سے جس خلوص کی تعلیم دی ہے، مکھی کو سیاہی کی بوند پلانے کے علاوہ کسی عمل میں خلوص نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنابت سے غسل اور وضو کا حکم قرآن میں نماز کیلئے ہے۔ نبیﷺ جنابت کی حالت میں غسل کئے بغیر صرف وضو کرکے بھی رات کوسوجایا کرتے تھے۔ تصوف کا کارنامہ یہ تھا کہ امام غزالیؒ نے لکھ دیا کہ ’’ اگر نفس سردی کی راتوں میں نہانے سے سستی کی طرف مائل ہو تو ٹھنڈے پانی میں کپڑے سے نہاکر رات بھر اسی میں سوجاؤ، یہ نفس کو سرکشی کی سزا ہے‘‘۔ الیاس قادری بانی دعوت اسلامی نے اپنی کتاب ’’ غسل کاشرعی حنفی طریقہ‘‘ کے ابتداء میں یہ درج کیا ہے، حالانکہ امام غزالی ؒ حنفی نہیں شافعی تھے۔
یہ بڑا المیہ ہے کہ درسِ نظامی کے نصاب ’’اصول فقہ‘‘ میں یہ تعلیم دینے کے باوجود کہ مسائل کے حل کیلئے پہلا اصول قرآن، دوسرا سنت ، تیسرا اجماع اور چوتھا قیاس ہے لیکن بنیادی اصول قرآن کی واضح آیات اور احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر قیاس کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں۔ تین طلاق کے حوالے سے جو عمارت کھڑی کی گئی ہے وہ شرمناک بھی ہے اور انسانیت سوزی کے اعتبار سے بہت کربناک بھی۔ میں نے اپنی کتابوں میں حقائق کو کھولا اور اسکے بعد نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کو وبال اور عذاب سے کم نہیں سمجھتا۔ اپنے اساتذۂ کرام سے مجھے توقع ہے کہ حق کی آواز بلند کرنے میں میرا ساتھ دینگے اور طالب علمی کے زمانے سے جاننے والے طلباء عظام سے توقع رکھتا ہوں کہ اب وہ کھل کر حمایت کرینگے۔ انشاء اللہ العزیز

وانزلنا الکتاب تبیانًا لکل شئی

’’اور ہم نے کتاب کو نازل کیاہے ، ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے‘‘۔ تین طلاق اور اس سے رجوع کا مسئلہ بھی قرآن میں ایک بار نہیں بلکہ بار بار واضح کیا گیا۔ ایک بھی ایسی حدیث صحیحہ نہیں جو قرآن کی ان آیات سے متصادم ہو۔
طلاق کے احکام کا مقدمہ یہ ہے کہ ’’اور اللہ کو مت بناؤ اپنے عہدوپیمان کیلئے ڈھال کہ نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیاں صلح کراؤ‘‘(البقرہ: 224 )
اس آیت کا تقاضہ ہے کہ قرآن میں ایسی صورت نہ ہو کہ لوگ بالعموم اور میاں بیوی بالخصوص صلح چاہتے ہوں اور کوئی لفظ، عہد وپیمان اور فتویٰ میاں بیوی کے درمیاں صلح کیلئے اللہ کے نام پر رکاوٹ بن جائے۔بالفرض محال ایسی کوئی صورت نکل آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیاں صلح پر پابندی لگائی ہو تو یہ قرآن کے احکام میں بہت بڑا تضاد ہوگا۔ علماء ومفتیان کے ذہنوں میں قرآن کریم تضادات سے بھرا ہواہے لیکن وہ اس گمراہانہ سوچ کو سمجھنے سے بالکل قاصر نظر آتے ہیں۔ ایک بڑے علامہ کی طرف سے سوال کیا گیا کہ ’’ جب انبیاء کرام معصوم ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام اس شجرہ ممنوعہ کے پاس کیسے گئے؟ ابلیس نے کیسے پھسلایا اور جنت سے نکلوایا؟‘‘، حالانکہ کسی نبی کی عصمت کا درست مفہوم یہ ہے کہ وحی کے ذریعے ان کی رہنمائی کا سلسلہ رہتا ہے، کوئی ایسی شخصیت نہیں کہ اس کی وحی سے رہنمائی ہو۔ خلفاء راشدینؓ کی بھی رہنمائی نہ تھی۔ گناہوں سے پاک معصوم تو بچے، فرشتے اور ہجڑے بھی ہوتے ہیں اور یہ کوئی کمال کی بات بھی نہیں کیونکہ جن مخلوقات میں نافرمانی یا شہوت کی صلاحیت نہ ہو تو ان کے معصوم ہونے کا فائدہ یا کمال بھی کوئی نہیں ہے۔
قرآن نے یہ بتایا کہ اللہ کو صلح میں کسی طور پر رکاوٹ قرار دینا قرآن کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہے۔یہ بھی بتایا کہ طلاق کے بعد انتظار کی عدت ہے اور اس دوران اصلاح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ اگر باہوش و حواس میاں بیوی نہ صرف جدا ہونا چاہتے ہوں بلکہ آئندہ کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے پر متفق ہوں اور فیصلہ کرنیوالے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو ایسی صورت میں طلاق کے بعد شوہر کیلئے وہ عورت حلال نہیں یہانتک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ قرآن کو سمجھنے کیلئے عام ان پڑھ اور کمزور درجے کی عقل رکھنے والا انسان بھی کافی ہے۔ اندھوں میں کانا راجہ ہوتا ہے ،دعوت اسلامی کے کارکنوں کا امام علامہ الیاس قادری میمن مسجد کراچی کے پاس جھاڑو بیچتاتھااور اب ایک خلقِ خدا اس کی پوچا کررہی ہے۔ اگر شریعت کی حقیقت کو عوام پر نہیں کھولا گیا تو آنیوالے وقت میں علامہ الیاس قادری بھی تاریخ کے اوراق میں ایک بڑی چیز ہوگی۔
میاں بیوی باہوش وحواس جدائی پر متفق ہوں، فیصلہ کرنیوالے بھی رابطہ کی صورت باقی نہ چاہتے ہوں تو پھر آیت کا مطلب واضح ہے کہ شوہر کی غیرت اسوقت جاگ اٹھتی ہے جب عورت طلاق کے بعد کسی اور شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہو۔پھر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ صلح یا رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ بلکہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پہلا شوہر اس طلاق کے بعد بھی اپنی مرضی سے اس کو دوسرے شوہر سے نکاح کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟۔ عورت کی آزادانہ نکاح میں طلاق کے بعد ولی نہیں بلکہ سابق شوہر کی طرف سے رکاوٹ ہوتی ہے۔ لیڈی ڈیانا کے حادثاتی قتل میں برطانوی شاہی خاندان کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ریحام کو طلاق دی تھی تو پاکستان واپس آنے پر ریحام خان کو قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہوا۔
اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیت230سے پہلے عدت میں رجوع کو واضح کیا اور اسکے بعد بھی عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کے جواز کی واضح الفاظ میں وضاحت کردی۔ سورۂ طلاق میں بھی اس مؤقف کی جامع وضاحت کردی لیکن علماء ومفتیان کا کمال ہے کہ قرآن کی طرف دیکھے بغیر صلح نہ کرنے، گھروں اور عزتوں کی تباہی کے فتوے ڈھٹائی سے ڈھیٹ بن کر دئیے جارہے ہیں۔
یہ تحریر اہلحدیث ،پرویزی اورشیعہ سے زیادہ اہلیت والے دیوبندی بریلوی علماء و مفتیان سمجھ سکتے ہیں۔ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل کرنے والی حدیث صحیحہ کو رد کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے مگر رجوع کے حوالے سے بہت سی آیات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کے مطابق کوئی فتویٰ نہیں دیا جاتا حالانکہ کوئی ایک حدیث صحیحہ بھی ان آیات سے متصادم نہیں۔ میرا لہجہ تحکمانہ لگتا ہے لیکن میں رائے نہیں بلکہ آیات اور احادیث پیش کررہا ہوں، اگر میں اپنی رائے پیش کررہا ہوتا تو اتنے بڑے اکابر علماء ومفتیان کے مقابلے میں اپنی عاجزانہ رائے پیش کرنے کی جسارت بھی بڑی گستاخی سمجھتا۔ اگراکابر خالص قرآنی آیات، احادیث صحیحہ ، اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ کے علاوہ تمام عقلی ونقلی دلائل سے صرف اسلئے انکار کریں کہ وہ اکابر ہیں اور میری کوئی حیثیت نہیں تو ایسا اکابر ہونا انہیں مبارک ہو اور مجھے اللہ پناہ دے۔

و کذالک جعلنا فی کل قریۃ اکابر مجرمیھالیمکروا فیھا واللہ خیر ماکرین O

’’ اور اسی طرح ہم نے تمام شہروں میں انکے مجرم اکابربنائے ہیں ، تاکہ اس میں اپنے داؤو پیج کھیلیں اور اللہ بہتر تدبیر کرنیوالا ہے‘‘۔
علامہ ابن ہمامؒ اور علامہ بدرالدین عینی ؒ کی وفات 950ھ اور 980ھ کو ہوئی تھی۔ انہوں نے لکھ دیا ہے کہ ’’حلالہ کی نیت دل میں ہو لیکن زبان سے الفاظ ادا نہ کئے جائیں تونیت کا اعتبار نہیں اور حلالہ لعنت نہیں، بعض مشائخ نے کہا ہے کہ اگر خاندان کوجوڑنے کی نیت ہو توحلالہ کارِ ثواب بھی ہے‘‘۔ یہ شیوخ ،اکابر حضرات جس طرح کی حیلہ سازی سے مجرمانہ مکر کرتے رہے ہیں ،اسکے نتیجے میں آج اسلامی اور عام بینکوں میں جلی حروف کیساتھ دیواروں پر بہت خوبصورت خطاطی کیساتھ انتہائی بے شرمی کیساتھ یہ قرآنی آیت لکھی ہوتی ہے :

واحل اللہ البیع وحرّم الربوٰ

اللہ تعالیٰ نے طلاق کے مسئلے کو زبردست طریقے سے پیش کیااور فقہاء نے اس کی شکل مسخ کرکے رکھ دی ہے ، دونوں میں موازنہ کرنے کے بعد تھوڑاعلم اور سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان اندھیرے اور روشنی کو برابر نہیں کہہ سکتاہے۔دنیا کے اندھے آخرت میں بھی اندھے اُٹھیں گے۔
اگر میں قرآن وسنت کو غلط پیش کررہا ہوں تو علماء ومفتیان میں میرے اساتذہ کرام بھی ہیں ۔ مجھے کان سے پکڑ کر سیدھا کریں۔ مجھے میڈیا کے سامنے مرغا بنائیں۔ مجھے اپنے استاذوں کو نہ صرف مان دینی ہے بلکہ یہ ان کا دینی فریضہ بھی ہے جو مجھے بالکل قبول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لاتجعل اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس

’’ اپنے عہد و پیمان کیلئے اللہ کو ڈھال مت بناؤ، کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘‘ یمین کا لفظ عام ہے۔ حلف، عہد ، وعدہ اور طلاق وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ اصول فقہ کی کتابوں میں یمین پر بحث اور اختلاف انتہائی لغو اور جہالت پر مبنی ہے۔ یمین لغو، یمین غموس اور یمین منعقدہ کی تقسیم اور اس پر اختلاف کی گنجائش نہیں۔ ہروہ قسم ، عہدوپیمان، وعدہ جو بلاسوچے سمجھے زبان سے ادا ہوتو وہ یمین لغو ہے۔

لاےؤاخذکم بالغو فی ایمانکم کا ذکر سورہ بقرہ آیت225اور سورہ مائدہ دونوں میں ہے۔

اس کی تشریح ہی غلط کی گئی ہے۔ تفسیر کی کتابوں میں فقہ کی تشریح سے اختلاف بھی موجود ہے۔یمین وعدہ اور عہدوپیمان بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی کہ یمین سے مراد حلف لیا جائے۔ احناف کے نزدیک یمینِ منعقدہ میں ہی کفارہ ہے یمین غموس میں نہیں اسلئے کہ سورہ مائدہ میں لفظ اذا عقدتم الایمان ہے تو کفارہ کا بھی حکم ہے جبکہ سورہ بقرہ میں بماکسبتم قلوبکم ہے لیکن اس میں کفارہ کا حکم نہیں حالانکہ یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ سورۂ مائدہ میں واضح فرمایا :

ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم

’’ یہ تمہارے یمینوں کا کفارہ ہے اس وقت جب تم نے حلف اٹھایا ہو‘‘۔ یمین سے مراد حلف نہیں وعدہ ہو تو کفارہ نہیں ۔ نکاح سے بڑا پکا وعدہ کیاہے؟۔ میثاق غلیظ اورعقدۃ النکاح کے توڑنے پر کفارے کا حکم نہیں۔ یمین سے مراد حلف ہو تو کفارہ ہے اور وعدہ ہو توپھر کفارہ نہیں ۔
یہ نئی بات لگی ہوگی کہ یمین سے مراد قسم کے علاوہ وعدہ، نکاح، طلاق اور عہد وپیمان کیسے ہیں؟۔ آئیے! جہالت در جہالت ظلمات بعضھا فوق بعض کے قلعوں (مدارس)کے مکینو!تمہارے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ میں اس متفق علیہ حدیث کو تقلید کی فرضیت میں لکھا کہ جس میں نبیﷺ نے فرمایا کہ علم کو اللہ تعالیٰ اس طرح سے نہیں اٹھائے گا کہ قرآن کو آسمان پر اٹھالے بلکہ علماء کو ایک ایک کرکے اٹھاتا رہے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہیگا تو لوگ جہلاء کو اپنا پیشواء بنالیں گے، ان سے فتویٰ پوچھیں گے اور وہ جانے بوجھے بغیر فتویٰ دینگے، تو خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرینگے۔(بخاری ومسلم)

مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ ائمہ اربعہؒ کے بعد علماء اٹھ چکے، علماء نہیں رہے تھے اسلئے تقلید ضروری ہے۔

جبکہ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے اس کو اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ کے اندر لکھ دیا۔ ہمارے وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ’’ مورپلور میں مڑہ کے مووترانجے تہ لایکہ : میرے ماں باپ مریں اور مجھے اُچھلنے کودنے کیلئے فارغ کردے تاکہ لوفری کرتا پھروں‘‘ اجتہاد کو ناجائز قرار دینے والا سود کو جواز بخش رہا ہے۔ پہلے والے بھی کوئی قابل رشک نہیں تھے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ تو اللہ والے موجود رہتے تھے لیکن حاجی عثمانؒ کیساتھ جو کچھ ہوا ، وہ بھی میرے بالکل سامنے کا معاملہ ہے۔
یہاں یہ سمجھانا مقصد ہے کہ یمین سے مراد طلاق اور دوسرے ایسے الفاظ ہیں جس میں حلف و دیگر معاملات شامل ہیں۔ فتاویٰ قاضی خان بہت معتبر کتاب ہے ۔ فتاوی تاتارخانیہ میں قاضی خان کے حوالے لکھا ہے کہ ۷۹۱۲:

وفی الخانےۃ: رجل قال لامرأتہٖ : ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق، وقالت المرأۃ: ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فجاریتی حرۃ ، قال الشیخ الامام ابوبکر بن الفضل : ان کان قائمین عندالمقالۃ برت المرأۃ و حنث الزوج ، لو کان قاعدین برالزوج و حنث المرأۃ ،لان فرجھا فی حالۃ القیام احسن من فرج الزوج، ولامر علی العکس فی حالۃ القعود ، وان کان الرجل قائماً و المرأۃ قاعدۃ قال الفقیہ ابوجعفر : لا اعلم ھذا، وقال : وینبغی ان یحنث کل واحدٍ منھما لان شرط البر فی کل یمین ان یکون فرج احدھما احسن من فرج لاٰخر وعند التعارض لایکون احدھما احسن من الاٰخر ، فیحنث کل واحد منھما ۔ الفتاوی التاتارخنیۃ، التالیف للشیخ الامام فرید الدین عالم بن العلاء الاندربی الدھلوی الھندی المتوفی ۷۸۶ ھ ، قام بترتیبہٖ وجمعہٖ و ترقیمہٖ و تعلیقہٖ بنحو عشرۃ الٰاف من الاحادیث و الاٰثار شبیر احمد قاسمی المفتی المحدث بالجامعۃ القاسمیۃ الشھیرۃ بمدرسۃ شاہی مراد آباد الھند ، المجلد الخامس بقےۃ من الطلاق ، لنفقات العتقاق، ص ۲۹۴،مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ فون: 2662263

ترجمہ:’’ فتاویٰ خانیہ میں ہے کہ آدمی نے اپنی عورت سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ۔ اورعورت نے کہا کہ اگرمیری شرمگاہ سے تیری شرمگاہ سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تومیری لونڈی آزاد۔ الشیخ امام ابوبکر بن الفضل نے کہا کہ ’’ اگر مکالمے کے دوران دونوں کھڑے تھے تو عورت بری ہے ( لونڈی آزاد نہ ہوئی)۔اور مرد حانث ہوا( طلاق ہوگئی) اور مکالمے کے وقت دونوں بیٹھے تھے تو مرد بری ہوا(طلاق واقع نہ ہوئی) اور عورت حانث ہوئی ( لونڈی آزاد ہوگئی) اسلئے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں عورت کی شرمگاہ مرد کی شرمگاہ سے خوبصورت ہے اور معاملہ برعکس ہے بیٹھنے کی حالت میں۔اور اگر مرد کھڑا تھا اور عورت بیٹھی ہوئی تھی تو فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ اس صورتحال کو میں نہیں جانتا کہ کیا ہوگا؟۔ اور کہا کہ چاہیے کہ ہرایک دونوں میں حانث ہو، اسلئے کہ برأت کی شرط ہر یمین میں یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ان کی شرمگاہ خوبصورت ہو اور اسکے برعکس معاملے میں دونوں میں سے ہر ایک حانث ہو۔تو دونوں کو حانث ہونا چاہیے‘‘۔ فتاویٰ تاتارخانیہ ۔ تالیف الامام فرید الدین عالم بن العلاء الاندرپی الدہلوی الہندی متوفی 786ھ۔ اس کی ترتیب وجمع اور ترقیم وتعلیق کیلئے کھڑا ہوا۔تقریباً دس ہزار احادیث اور آثار کیساتھ شبیر احمد قاسمی مفتی و شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ، ہندوستان ۔ جلد نمبر 5، بقےۃ من الطلاق، لنفقات العتاق ، صفحہ294۔مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ۔
فتاویٰ قاضی خان کو باقی فتوؤں کی کتابوں کیلئے ماں کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا۔ لونڈی آزاد کرنے اور طلاق کوبھی یمین سے تعبیر کیا گیا۔ حالانکہ یہ حلف نہیں ہے۔ جب مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں ’’فقہی مقالات اور تکملہ فتح الملہم‘‘سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کی بات کو نکالنے کا اعلان کیا تو وزیراعظم عمران خان کے روحانی پیشوا اور نکاح خواں مفتی محمدسعید خان نے اسکے تین چار سال بعد اپنی کتاب ’’ریزہ الماس‘‘ شائع کی اور اس میں فتاویٰ قاضی خان کی اس عبارت کو ٹھیک قرار دیا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ اصولِ فقہ میں یہ پڑھایا جائے کہ ’’ قرآن کے لکھے ہوئے الفاظ محض نقوش ہیں جو نہ لفظ ہیں اور نہ معنیٰ اور یہ اللہ کا کلام نہیں، جس پر حلف اٹھایا جائے تو حلف نہیں ہوتا۔ پھر پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہوگا؟۔فقہ پر نظر ثانی کی جائے!۔
شوہربیوی شرمگاہ کی خوبصورتی کا فتویٰ علماء و مفتیان سے طلب کریں۔ ہیت بدلنے سے جلوؤں میں فرق آتا ہو اور یہ فیصلہ مفتی صاحب نے کرنا ہو۔ دوصورتوں میں معاملہ واضح ہو، ایک ہیت میں مرد کی شرمگاہ زیادہ حسین ہو اور دوسری ہیت میں عورت کی شرمگاہ کو چار چاند لگیں۔ حبشی شوہر اورگوری خاتون یا گورا شوہر اور حبشی خاتون کا حسن ہیت بدلنے سے بدلے تو حسنِ یوسف علیہ السلام کودیکھ کر قطعن ایدیھن کے علاوہ ہابیل وقابیل کے قصے سے لیکر دنیا کے بہت سے حقائق سے انحراف ہے اور تیسری صورت میں مفتی صاحب کو بھی پتہ نہ ہو کہ بیوی طلاق ہوگی یا لونڈی آزاد ہوگی؟۔ مگر وہ اپنا خیال ظاہر کرے کہ دونوں کو حانث ہونا چاہیے اسلئے کہ دونوں اپنی اپنی یمین میں بریت چاہتے ہیں، دونوں بری نہیں ہیں، خاص پوزیشن میں بیٹھنے کی وجہ سے۔ ذرا سوچئے توسہی! اور قرآن کے مقابلے میں بحرمردار میں غرق ہوجائیے۔ کس ادب ، کس نرمی، کس شائستگی سے رائے کے نام پر اپنی گردن تمہارے آگے جھکاؤں اور خود کو تباہ کردوں؟۔ یہی مذہبی طبقہ ہے جس نے پہلے ادیان کو اپنی خواہشات کیلئے تباہ کیا اور آج بھی قرآن کے پرخچے اُڑارہے ہیں۔
علامہ ابن رشد کی کتاب ’’ بدایۃ المجہد نہاےۃ المقتصد‘‘میں طلاق کے حوالے مختلف مکاتبِ فکر کے حوالے سے زبردست بحث مباحثہ کا خلاصہ دیا گیا ہے۔
اہلحدیث کے پاس کوئی فتویٰ لیکر جائے کہ ایک دن کی تین مجالس یاتین دن یا تین طہروحیض میں تین مرتبہ کی طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہے تو انکا فتویٰ ہے کہ اس صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ غلام احمد پرویز کے پیروکار کہتے ہیں کہ فقہ حنفی میں طلاقِ احسن کا جو تصور ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک طلاق دیدی، عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کرلیا، پھر دوسری مرتبہ طلاق دی اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کرلیا تو پھر تیسری مرتبہ طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ پرویز فقہ حنفی سے چوری شدہ فکر کو قرآن کی طرف رجوع کا نام دیتا ہے۔ جبکہ علامہ عمادی نے اپنی کتاب ’’ الطلاق مرتان ‘‘ میں قرار دیا تھا کہ احادیث تو عجم کی سازش ہیں، قرآن نے تین طلاق کا تصور ختم کردیا، البتہ عورت خلع لے تو حلالہ کی سزا پھر اس کو ملے گی۔ اہل تشیع کے ہاں طلاق کیلئے تینوں مراحل میں دو دو عادل گواہ شرط ہیں اور پھر طلاق دی جائے تو قرآن کی رو سے حلالہ کا تصور قائم ہوگا۔ غرض سب نے اپنی اپنی بات کی ہے۔
قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ کا آپس میں تصادم نہیں ،طلاق کے حوالے سے جتنی آیات اور احادیث ہیں ان کی تفصیل دیکھ لی جائے توپھر راہِ ہدایت مل سکتی ہے۔
مسلک حنفی نے قرآن کے مقابلے میں احادیث کے انکار سے صراط مستقیم کا توازن قائم کردیاہے۔

ابن ماجہؒ کی حدیث ہے کہ ’’ رضاعت کبیر یعنی بڑا آدمی نا محرم عورت کا دودھ پی سکتا ہے اور اسکے بارے میں 10قرآنی آیات تھیں، رسول ﷺ کے وصال فرمانے کے بعدآپؐ کی میت جس چارپائی پر موجود تھی اسکے نیچے یہ آیات پڑی تھیں اور بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں‘‘۔

اگر مسلک حنفی میں قرآن سے متصادم احادیث کو رد نہ کیا جاتا تواُمت بدترین گمراہی کا شکار بن جاتی۔اہلبیت کی احادیث سے اہل تشیع کی طرح سب کے سب مہدئ غائب کے انتظار میں بیٹھ جاتے۔ اہل تشیع نے بھی آخر کار خمینی کی قیادت میں نظرئیے سے بغاوت کی۔ اجتہاد اور شیخ الاسلام کی جگہ ولایت فقیہ اور حجۃ الاسلام نے لے لی ہے اور اہلحدیث بھی اپنے مسلک کی یہ بکواس سرِ عام نہ کرسکے کہ ’’ بڑا آدمی عورت کا دودھ پی کر پردہ ختم کرسکتا ہے لیکن پھر اس عورت اور مرد کی آپس میں شادی بھی ہوسکتی ہے‘‘۔
حنفی مسلک کا کمال تھا کہ احادیث صحیحہ اور خلفاء کرام حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓکے اقوال سے نصاب ہی میں اپنا واضح اختلاف اسلئے نقل کیا کہ اپنے زعم کے مطابق احناف کو وہ سب کچھ قرآن کی آیات سے متصادم لگتا تھا۔ یہی اختلاف رحمت اور وحی کا نعم البدل گردانا جاسکتاہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ اہل تشیع، اہلحدیث اور پرویزیوں سے نہیں بلکہ مدارس عربیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ میری تعلیم حنفی مدارس اور تربیت خانقاہی ماحول میں ہوئی ہے۔ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت حاجی محمد عثمانؒ کے تقویٰ وپرہیزگاری اور عنداللہ مقبولیت کیلئے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ میری تعلیم وتربیت کا اعزاز بھی ان کے کھاتے میں جاتا ہے۔ اختلافِ رائے سے عقیدت کی بنیاد ختم ہوسکتی تھی تو نبی کریم ﷺ سے حضرت عمرؓ کی طرف سے حدیث قرطاس کے معاملے پر ہمیں شیعہ بننا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخصیت نہیں ، قرآن سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں سب سے سخت ترین طلاق یہ تھی کہ کوئی اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیتا۔ ایک خاتون حضرت خولہؓ نے جب نبیﷺ سے فتویٰ طلب کیا تو نبیﷺ نے اس وقت کے رسم ورواج اوررائج الوقت شرعی قول کے مطابق یہ بتایا تھا کہ ’’ آپ اپنے شوہر کیلئے حرام ہوچکی ہو ‘‘۔ کیونکہ اس میں حلالہ کا بھی تصور نہیں تھا۔ اس خاتون نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں جھگڑا شروع کردیا کہ حرام نہ ہوناچاہیے، یہ اسلام کا مسئلہ نہ ہونا چاہیے، میری جوانی اور میرا مال سارا ختم ہوگیا ہے، اب مجھ سے کون شادی کریگا، میرے بچے رُل جائیں گے۔ اپنے پاس رکھوں تو بھوک سے مرینگے ، شوہر کے پاس رکھوں تو ماں کے بغیر کیسے گزارہ کرینگے؟۔
اللہ نے سورۂ مجادلہ کی وحی نازل فرمائی کہ’’ بیشک اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو آپ(ﷺ) سے جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کررہی تھی، اللہ دونوں کا مکالمہ سن رہا تھا۔ مائیں وہ ہیں جنہوں نے جنا ، منہ کے کہنے سے وہ بیویاں مائیں نہیں بن جاتیں، یہ جھوٹ و منکر قول ہے‘‘۔
سورۂ احزاب بھی مدارس کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

’’ یاایھا النبی اتق اللہ ولاتطع الکٰفرین و المنافقین ،ان اللہ کان علیما حکمیاOاتبع مایوحیٰ الیک من ربک ان اللہ کان بماتعملون خبیرا O و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلاO … . .. و اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک زوجک علیک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ ۔۔۔آیت:37) ۔

اے نبی(ﷺ) کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کرو، بیشک اللہ علیم حکیم ہے ۔ جو وحی تیرے رب نے تیری طرف نازل کی اس کا اتباع کریں۔اور اللہ جانتا ہے جو تم لوگ عمل کرتے ہو، اور اللہ پر توکل کرو، اس کی وکالت کافی ہے۔ ( پھر منہ سے بیوی کو ماں قرار دینے اور منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیویوں کا ذکرکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حقیقی ماں وحقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح وہ نہیں ہوسکتی ہیں۔ دلیل یہ دی ہے کہ ایک شخص کے سینے میں دو دل نہیں ہوسکتے کہ ایک دل سے اس عورت کو اپنے بچوں کی ماں اور دوسرے سے اپنی حقیقی ماں سمجھے ، اس طرح لے پالک کی طلاق شدہ بیوی کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ اللہ نے فطری دلائل دئیے ہیں)…. پھر اللہ نے فرمایا’’ جس شخص کو آپ نے نعمت(بیوی ) سے نوازا تھا اور اللہ نے نوازا تھا، اس (حضرت زیدؓ ) کو بار بار آپ کہہ رہے تھے کہ بیوی کو طلاق نہ دے اور اللہ کا خوف کھا۔ جس چیز کو اپنے اندر چھپارہے تھے ، اللہ نے یہ ظاہر کرنا تھا۔ آپ لوگوں سے ڈرتے ہو، جبکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرو‘‘۔ ان آیات کی غلط تشریح کی وجہ سے مرزا غلام قادیانی جیسے ملعون نبوت کے دعویدار پیدا ہوئے اور ہمارے اکابر اور عجیب وغریب روایات گھڑنے والوں نے اس کو بہت غلط رنگ میں پیش کیا۔ امریکہ سے ایک کتاب ’’ اسلام کے مجرم ‘‘ شائع ہوئی ہے جس پر کراچی ہی کے پوسٹ بکس کا ایڈریس لکھا ہے۔ اس میں بکواسات کی بھرمار ہے اور فقہ وتصوف کی گمراہی نے عجیب رنگ دیا۔
علماء ومفتیان کی بات مان کر اگر میں نے ہتھیار ڈال دئیے تو مذہب کے نام پر یہ عوام کے سامنے زیادہ عرصہ رہ نہیں سکیں گے ،اسلئے کہ کھوکھلے نظام کی دھجیاں بکھیرنے میں بہت لوگوں نے بہت کچھ کیا ہے اور میری طرف سے احیاءِ دین کی کوشش میں مذہبی طبقات کی بھی بقاء ہے۔
طلاق پرفقہی مسائل میں بیہودہ ، غلط اور کم عقلی کی بنیاد پرجو عمارت کھڑی کی گئی ہے اس کو سہارا دیا جاسکتا تھا تو بڑے مدارس سے میری کوئی کتاب رد کی جاتی مگر بڑے بڑوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ چند بنیادی باتوں کی طرف علماء ومفتیان کی توجہ ہوجائے تو قرآن ان کیلئے شفاء اور آنکھیں لوٹانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
1: قرآن میں خلع اور طلاق کا تصور ہے۔ خلع کو سورۂ النساء میں اولیت ہے ۔ آیت 19میں خلع، آیت 20 اور21میں طلاق کی وضاحت ہے۔ ہاتھ لگائے بغیر جدائی کا فیصلہ ہوجائے تو عدت نہیں، لیکن ہاتھ لگانے کے بعد یعنی ازدواجی تعلق کے بعد عدت ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں آدھا حق مہربھی ہے۔جب عورت اور اسکے شوہر میں جدائی ہو تو اصل معاملہ حقوق کا ہے۔
2: عورت دعویٰ کرے کہ اس کو شوہر نے طلاق دی تو مرد کا اقرار یا عورت کی طرف سے گواہ پیش کرنا ہوگا۔ورنہ تومرد کو حلف اٹھانا پڑیگا۔ اسلئے نہیں کہ جدائی کا معاملہ اس سے رُک جائیگا بلکہ اگر عورت معتبر گواہ پیش کرے تو حقوق کے حوالے سے اس پر طلاق کا اطلاق ہوگا اور اگر عورت اپنے دعوے میں ناکام ہو اور شوہر حلف اٹھائے تو پھر اس جدائی پر خلع کا اطلاق ہوگا۔ فقہ کی کتابوں میں بہت زیادہ غلط بیانی کی گئی ہے جس کی اسلام اور فطرت میں گنجائش نہ تھی۔ مثلاً عورت نے دعویٰ کیا کہ اسکے شوہر نے تین مرتبہ طلاق دی مگر گواہ نہ لاسکی اور شوہر نے حلف اٹھالیا ، اگرچہ غلط حلف بھی اٹھایا ہے تو بھی عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی اور خلع لینے کی کوشش فرض ہوگی لیکن شوہر خلع نہ دے تو پھر عورت کوشش کرے کہ اسکے ساتھ جماع نہ ہو لیکن مجبوری میں اگر وہ خوش نہ ہوگی تو اس بدکاری پر گناہگار نہ ہوگی۔
3: طلاق کے بعد عورت کیلئے عدت گزارنا لازم ہے جس کی میعاد حیض آنے کی صورت میں تین طہروحیض ہیں اور حیض نہ آتا ہویا اس میں ارتیاب ہو توتین ماہ عدت ہے اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش ہے۔ طلاق کے اظہار کی صورت میں عدت3مراحل ہیں جو3ماہ کے برابر طہروحیض ہیں اور طلاق کا اظہار نہ ہو اور طلاق کا عزم بھی ہو تو شوہر گناہگار ہوگا ، یہی دل کا گناہ ہے جس پر اللہ نے پکڑ کا ذکر کیا ہے لیکن اس میں انتظار کی عدت 4ماہ ہے۔ انتظار کی عدت اسلئے بیان کی گئی ہے کہ عورت کو انتظار کرنے کی زیادہ اذیت نہ ہو۔سورۂ بقرہ کی آیات 225،226 اور227میں یہ بالکل واضح ہے۔
4: سب بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ طلاق کے بعد شوہر کو یک طرفہ رجوع کا حق حاصل نہیں۔ عدت میں شوہر اصلاح کی شرط پر زیادہ حقدار اسلئے ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے کھلا چھوڑ دیا ہے۔ تاکہ حلالہ کی خواہش رکھنے والے درمیان میں کسی طرح بھی ٹپک نہ سکیں۔ میاں بیوی کو دنیا کی کوئی طاقت ان کی مرضی کے بغیر جدا نہ کرسکے۔مگرافسوس کہ قرآن پر عمل کے بجائے ہم نے گردنیں مذہبی طبقات کے حوالے کردیں۔
5: یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک ہی عدت گزارنے کا حکم دیا ہو اور مولوی مرد کو تین عدتوں کے حق سے نواز دے، طلاق رجعی کا یہ تصور انتہائی غلط ہے کہ شوہر کو دومرتبہ عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کا حق حاصل ہو۔ اسلئے کہ وہ ایک مرتبہ طلاق دیگا، عدت کے ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے رجوع کرلے گا، پھر طلاق دیگا اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلے گا، پھر طلاق دیگا تو اس کی یہ پہلی دوسری نہیں بلکہ تیسری عدت ہوگی۔ جس کا اللہ اور رسول ﷺنے کوئی حق نہیں دیا ہے۔
6: اللہ تعالیٰ کسی چوہے کی طرح کمزور حافظے والا بھی نہیں ہے کہ آیت228البقرہ میں عدت کے اندر باہمی صلح کیساتھ رجوع کا حق دے اور229میں بھول جائے اور کہہ دے کہ نہیں دوبار طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا اور اگر ایک ساتھ تین طلاق دیدئیے تو حلالہ کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ جو بات 228میں بتائی تھی کہ عدت کے تین مراحل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مزید وضاحت کردی ۔ پہلے دومراحل میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ طلاق یا رجوع کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ ایک عورت ایک طہرو حیض میں انتظار کرے، پھر دوسرے طہرو حیض میں انتظار کرے اور پھر تیسرے طہروحیض تک بھی انتظار کرے تو اس سے بڑا شوہر کا کیا درجہ ہوسکتاہے؟۔
7: ایک طرف یہ واضح ہے کہ باہمی اصلاح کے بغیر شوہر عدت میں بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے تو دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ باہمی اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے۔ باہمی اصلاح سے رجوع کیلئے بار بار معروف طریقے سے رجوع کا تصور دیا ہے ۔ احناف کے نزدیک شہوت کی نظر پڑنے اور نیند میں ہاتھ لگنے سے بھی رجوع ہوگا اور شوافع کے نزدیک نیت نہ ہو تو جماع کرنے سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ ایک دوسرا اہم ترین معاشرتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب میاں بیوی باہمی مشاورت سے ایکدوسرے سے باہوش وحواس جدا ہوں ، تب بھی عدت وطلاق کے بعد یہ مسئلہ آتا ہے کہ پہلا شوہر اس عورت کو دوسری جگہ اس کی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ اس اہم معاشرتی مسئلہ کے حل کیلئے اللہ تعالیٰ نے جن الفاظ میں سابقہ شوہر کی حوصلہ شکنی کی ہے ،اس کو سیاق وسباق کے مطابق دیکھ لیاجائے تو پوری دنیا کی ہدایت کیلئے یہ آیت ذریعہ بنے۔
8: اگر سیاق سباق کے مطابق دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں ایک طرف معروف رجوع کو واضح کیا اور دوسری طرف رخصتی کا فیصلہ کرنے کو واضح کیا۔ اگر معروف رجوع کرلیا تو پھر رات گئی بات گئی لیکن چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پھر جو کچھ بھی عورت کو دیا ہے ، اس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں الا یہ کہ دونوں متفق ہوں کہ اس چیز کو واپس کئے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور فیصلہ کرنے والے بھی یہی سمجھتے ہوں تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ اس کو واپس کیا جائے۔ اللہ نے باہمی اصلاح کے حوالے سے تمام حدود کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے تجاوزمت کرو اور جو ان سے تجاوزکرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ ایسی صورت میں اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘۔ پھر اگلی آیات231اور232میں اللہ تعالیٰ نے عدت کی تکمیل پر معروف رجوع کو واضح اور دوٹوک انداز میں بیان کیا ہے ، سورۂ بقرہ کی ان آیات اور سورۂ طلاق کی آیات کے بعد ابہام نہیں رہتا ہے اور کوئی ایسی حدیث نہیں جو صلح کی راہ میں رکاوٹ ہو۔
مولانا سلیم اللہ خانؒ نے لکھ دیا کہ ’’ ذائقہ چکھ لینے کی حدیث خبرواحد ہے۔ جس سے قرآن میں موجود نکاح پر جماع کا اضافہ ہم احناف نہیں کرسکتے ہیں مگراحناف نکاح کا معنی جماع کے لیتے ہیں ، اس حدیث کی وجہ سے اضافہ نہیں کرتے‘‘۔( کشف الباری : مولانا سلیم اللہ خانؒ )
اصل بات یہ ہے کہ رفاعۃ القرظیؓ نے جب طلاق دی اور اس عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تو پھر رجوع و حلالہ کا مسئلہ نہیں رہتا ہے بلکہ وہ خاتون کسی اور شخص سے ازدواجی تعلق قائم کرچکی تھی۔ وہ اسی کی بیوی تھی ، صلح کیلئے تو اس وقت بات ہوسکتی تھی جب اس نے دوسری شادی نہ کی ہوتی۔ اسلئے حدیث قرآن کے منافی نہیں ہے کہ کوئی صلح پر پابندی لگائی گئی ہو۔ وہ تو بیوی ہی کسی اور کی تھی۔
بے شرمی، بے غیرتی، بے حیائی ، کمینہ پن ، ذلالت، گمراہی اور اندھے پن کی بات یہ ہے کہ جب عدت میں رسول اللہ ﷺ نے کسی میاں بیوی کو کبھی یہ فتویٰ نہیں دیا تھا کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا‘‘ تو ایسی حدیث سے حلالہ کا فتویٰ کیوں دیا جارہاہے جس کے بارے میں کوئی اختلافِ رائے نہیں کہ وہ عورت دوسرے سے شادی کرچکی تھی؟۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدت کی تکمیل تک بار بار واضح الفاظ میں صلح ورجوع کی گنجائش رکھی ہے تو نبیﷺ کیوں اس کا دروازہ بند کرتے؟۔ یہ تو حلالہ کی حرص وہوس نے فقہاء کو غلط راستے پر ڈال دیا تھا۔
حضرت عمرؓ کے پاس تنازعہ نہ آتا تو اکٹھی تین طلاق واقع ہونے کا فیصلہ کبھی نہ دیتے، تنازعہ کی صورت ہو تو پھر ایک طلاق کے بعد بھی شوہر عورت کو رجوع پر مجبور نہ کرسکتا تھا۔ طلاقِ رجعی کے غلط تصور نے جگہ پکڑلی تو تنازعات کا تقاضہ تھا کہ بات بات پر تین طلاق کو ناقابلِ رجوع قرار دیا جاتا۔ بالفرض ایک ساتھ تین طلاق واقع نہ ہونے کے فتوے دئیے جائیں اور شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق حاصل ہو تو خواتین بہت خسارے میں رہتیں۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ نہ صرف ائمہ اربعہ ؒ بلکہ دنیا کی ہر عدالت کیلئے قابلِ قبول ہے۔البتہ تنازع کی صورت نہ ہو تو رجوع کی اجازت نہ دینا قرآن وسنت ، عقل وفطرت اور شریعت وطریقت کے خلاف ہے۔ لچک کے بغیر اچھے کی امیدہے۔ عتیق گیلانی

کے الیکٹرک پرعوام کی اشیاء کوکم یا زیادہ وولٹیج کی وجہ سے نقصان پہنچنے پر جرمانہ ہونا چاہیے تھا۔

shaheen-air-k-electric-meter-complaint-low-and-high-voltage-steel-mill-pakistan-army-chief-qamar-javed-bajwa-civil-aviation-authority-fbr-khalid-sehbai-air-force-pakistan-captain

کراچی (نمائندہ خصوصی)پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن سابق سینئر نائب صدر سندھ پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینگے لیکن شاہین ایئر لائن کا حکومت کے ہاتھوں دیوالیہ ہوجانا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کو عرصہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ باقی پرائیویٹ اداروں کے الیکٹرک وغیرہ کو اربوں روپے کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ حالانکہ تیز ترین میٹرز ، حد سے زیادہ بل اور درست فریضہ انجام نہ دینے کے باوجود حکومت کافرض تھا کہ لوڈ شیڈنگ ، غلط ریڈنگ اور عوام کی اشیاء کو کم وولٹیج یا زیادہ وولٹیج کی وجہ سے نقصان پہنچنے سے ان پر خاطر خواہ جرمانہ ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کا کام تھا کہ ان اداروں سے غریب عوام کو تحفظ دیتے، میٹر چیک کئے جاتے ، غلط بلنگ پر کے الیکٹرک کو جرمانہ کیا جاتا اور لوڈ شیڈنگ وغیرہ پر کے الیکٹرک کو سزا بھگتنی پڑتی اور عوام کو ریلیف دینے پر مجبور کیا جاتا۔
شاہین ایئر لائن کے ہزاروں ملازمین اور متعلقہ افراد کی بیروزگاری کا کریڈٹ بھی موجودہ حکومت کو جائیگا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کسی ایک کو ملازمت دیدی تو بڑی پذیرائی ملی لیکن یہاں کافی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوجائیں گے تو ریاست کو اسکا احساس ہونا چاہیے ۔ سول ایوی ایشن ، کسٹم اور ایف بی آر کے اپنے فائدے میں بھی یہی ہے کہ وہ اتنی بڑی آرگنائزیشن کو چلنے دیں۔ جرمنی وغیرہ میں جب کوئی ادارہ اس طرح ناکام ہوتا ہے تو حکومت اس کو سہارا دیتی ہے۔ اپنا نمائندہ مقرر کرکے اس کو چلنے دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ حکومت کے بقایا جات بھی وصول کئے جاتے ہیں۔
شاہین ایئر لائن کے خالد صہبائی ایئر فورس کے کیپٹن تھے ، جب شاہین دیوالیہ ہونے لگی تو انہوں نے کینیڈا سے آکر اس میں اپنا سرمایہ لگایا۔ وہ صرف ملازمین کو بیروزگار دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جب یہ ادارہ دن دوگنی اور رات چگنی ترقی کرنے لگا تو ان کا اچانک انتقال ہوگیا۔ انکے دونوں بیٹے یہاں کے ماحول سے واقف نہیں تھے اور رفتہ رفتہ ادارے نے بحران کی شکل اختیار کرلی۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ ادارہ کسی اہل انتظامیہ کے سپرد کرکے اس کو بحران سے نکالنے میں مدد دی جائے۔ اسکے اندر صلاحیت ہے کہ چند مہینوں میں نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہو بلکہ ایک بہت منافع بخش ادارے کی حیثیت سے یہ اپنی ساکھ منوالے گا، ارباب اختیار اس پر رحم کھائیں

قرآن میں‌قدرتی اور پاکستان میں مصنوعی پانی کے ذخائر کا بہترین طریقہ کار موجود ہے.

bore-well-recharge-under-water-recharge-dam-alternatives-underground-water-leve-recharge-flood-water-storage-supreme-court-dam-fund-malik-riaz-bahria-town-pakistan-and-quran-rain-water-storage

بھارت، آسٹریلیا و دیگر ممالک میں جدید طریقے سے بارش کے پانی کو کنویں کے ذریعے زیر زمین ذخائر 1980ء سے بنائے جارہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر سرچ کرکے معلومات بھی دستیاب ہیں۔ وسعت اللہ خان نے اپنے کالم میں بھی دنیا میں اس جدید طریقے کو سب زیادہ اہم ، سستا اور بہترین قرار دیا ہے۔ کراچی میں ملیر ندی سے ملحق اور گڈاپ میں برساتی نالوں کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر کچھ محدود طریقے سے عمل بھی ہورہاہے۔ خشک سالی میں سندھ کے پانی کو پنجاب چوری کرتاہے ، سیلاب کے وقت سندھ ڈوب رہا ہوتاہے، یہ مخاصمت کا ماحول بہت آسانی سے ختم ہوسکتا ہے۔ جدید کنوؤں کے ذریعے پاکستان نے زیرِ زمین پانی کوذخیرہ کرنا شروع کیا تو بھارت کی طرف سے سیلابی پانی چھوڑنے پر تباہی اور بربادی پھیلانے کا خطرہ نہیں رہے گا اور طوفانی بارشوں سے بڑے بڑے شہر اور کھیت وباغات متاثر نہ ہونگے، کراچی کے چھتوں پر برسنے والاپانی قریبی کنوؤں میں ڈالاگیا توکھارا پانی میٹھا ہونے کیساتھ شہر بھی تباہ نہ ہوگا۔ ڈیفنس کراچی میں پانی نہیں ہے لیکن ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن چوری کے پانی سے مالامال ہے، اگر ملک ریاض بااثر اور ذمہ دار افرادکی مٹھی گرم کرتا تو نمونہ کے طور پر بارش کے پانی کیلئے کنویں بھی کھودیتا۔
ملک ریاض کی طرف سے بارش کے پانی کو مصنوعی کنوؤں کے ذریعے زمین کے اندر پانی کے طریقۂ کار سے ہمارے ارباب اقتدار کی آنکھیں بھی کھل جاتیں اور ملک بھر میں سیلابی ریلوں کے پانی کو زیرِ زمین ذخائر تک پہنچادیا جاتا ۔ جسکے بعد شمسی توانائی کے ذریعے پورے ملک میں پانی کی بہتات ہوجاتی۔ اللہ بار بار قرآن میں پانی کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جس طرح آسمانی بجلی سے آئیڈیا لیکر ساری زمین مصنوعی بجلی سے آباد کی گئی اورعروج کی طرف عالمِ انسانیت نے زبردست پیشقدمی کی ہے۔اسی طرح پاکستان میں زیرِ زمین پانی کے محفوظ ذخائز اور نہری نظام کے ذریعے پاکستان کے مُردہ بدن میں زندگی کی روح پھونکی جاسکتی ہے۔ کشمیر، سوات،خیبر،کرم ،وزیرستان اور بلوچستان کے پہاڑوں سے پنجاب وسندھ کے میدانوں اور صحراؤں تک قدرتی اور مصنوعی طریقے سے پانی کے وسیع ذخائز کے مواقع مملکتِ خداداد پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں۔ قرآن نے عبرت کیلئے بتایا کہ قابیل نے ہابیل کو شہید کیا اور پھر کوا دیکھ کر دفن کا طریقہ سیکھا۔ ہم بچوں کو اپنے اردو اور انگریزی کے نصاب میں ’’پیاسا کوا‘‘ کی کہانی پڑھاتے ہیں،جس کا منہ پانی تک نہیں پہنچ رہا تھا تو اس نے کنکریاں پھینک پھینک کر پانی کی سطح کو بلند کردیا مگر خود اپنی عقل سے کام لیکر سیلابی پانی کے ذریعے زیرِ زمین ذخائر کو میٹھا اور اس کی سطح بلند کرنے کا کوئی کام نہیں انجام دیتے ہیں، تمام ٹی وی چینل اور اخبارات انٹر نیٹ سے پانی کے جدید طریقوں پر پروگرام کریں تو گوادر سے تھرپارکر تک پانی کی محرومیاں ختم کرنے کا حکمران اہتمام کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے اور اپنی مدد آپ کے تحت بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ جس سے ’’پاک سرزمین شاد باد ہوگی اور کشورِ حسین شاد باد‘‘ کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان کے وسیع علاقے میں صحراؤں کے ذریعے پانی کو فلٹرکرکے صاف کرنے کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے ، جس سے ریت میں مٹی مکس ہوگی تو صحرائیں بھی سرسبز وشاداب ہوجائیں گی۔ قدرت نے جن نعمتوں سے پاکستان کو نواز دیا ہے ، اگر ہم اپنی مرضی سے اپنے لئے اپنے ملک کو ڈیزائن کرنا چاہتے تب بھی ہم ایسا ملک نہیں بناسکتے تھے۔ پانی کا بہاؤ، ہوا، سورج اور سارے موسموں کے ذریعے لطف اندوز ہونے کے علاوہ ہر طرح کے کھیت، پھل اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ہرطرح کے جانور پالے جاسکتے ہیں۔

منظور پشتین کیخلاف مقدمہ اور پشتو اشعار کی وضاحت

manzoor-pashteen-mohsin-dawar-ali-wazir-ptm-muhammad-khan-sheerani-dr-tahir-ul-qadri-taliban-terrorist-waziristan-wana-bazar-ghq-isi-sawabi-kpk-governor-ali-jan-aurakzai

پشتون تحفظ موومنٹ کے قائدین منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ پر صوابی جلسے پر مقدمہ قائم کیاگیااورہوسکتا ہے کہ اشتہاری بھی قرار دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے دھرنوں کے دوران نہ صرف ممنوعہ علاقہ میں تسلسل کیساتھ اجازت کے بغیر جلسے کئے بلکہ پی ٹی وی پر قبضہ ، پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے، پولیس افسر پر تشدد، ساتھیوں کو تھانہ سے زبردستی سے چھڑانے اور پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیوں تک کیانہ کیا؟ جو میڈیا نے بھی سرِعام دکھایا تو اشتہاری بننے کے باوجود وزیراعظم بننے تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی اور اس سے بڑے جرائم تو صوابی جلسے میں PTM کے قائدین نے بھی نہ کئے ۔ منظور پشتین ، علی وزیر اور محسن داوڑ نوجوان ہیں، جذباتی ہیں، گھر بار اور علاقہ وقوم کی تباہی کی مظلومیت دیکھ لی۔ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری اور فسٹ کزن وزیراعظم عمران خان بڈھے بڈھے ہوکر بھی زیادہ جذباتی ہونے کا مظاہرہ کررہے تھے۔ ریاست و حکومت کو ان میں برہمن و شودر کی تفریق نہ کرنا چاہیے۔ عدل وانصاف اور مساوات کے بغیر کوئی قوم ایک قوم نہیں بن سکتی۔ سوشل میڈیا پر ’’ڈیوا‘‘ ریڈیو کو منظورپشتین کا دیا ہوا انٹرویو ہے ،کہا: ’’ میں خود گرفتاری نہیں دوں گا لیکن اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو پہلے ہمارے ساتھ بہت کچھ ہوچکا، وہ طاقتور ہیں ، کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنی تحریک جہاں تک بھی جاری رکھ سکتے ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ آخر میں منظور پشتین سے سوال کیا گیا کہ طالبان مظالم کررہے تھے اس وقت تم کہاں تھے، مختلف حلقوں سے یہ سوال اٹھایا جاتاہے لیکن منظور پشتین کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ میڈیا میں بھی بارہا یہ سوال اٹھایا جاچکا کہ منظور پشتین اس وقت کہاں تھا؟۔
منظور پشتین اس وقت ایک چھوٹا سا بچہ تھا، اسی طرح علی وزیر اور محسن داوڑ کی بھی زیادہ عمر نہیں تھی،البتہ علی وزیر کے بڑے بھائی کو گڈ طالبان نے شہید کیا تھا، پھر انکے والد ، بھائی اور بھتیجوں سمیت ایک ساتھ 7 جنازے اٹھائے اورانکے گھر کے 17افراد کو نشانہ بناکر شہید کیا گیا، علی وزیر کو کونسے اعزاز سے نوازا گیا؟ بلکہ اسکی مارکیٹ کو بھی وانا میں مسمار کیا گیا، انکا جینا تنگ کیا گیا، مولانا شیرانی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے قاتلانہ حملے کے سوال پر یہ کہا کہ ’’ایک خفیہ ادارے کے بلوچستان کے سربراہ نے مجھے کہا کہ تمہارے لئے خطرہ ہے،مجھے اوپر سے حکم ہے کہ ان ان جگہوں میں نہ جاؤ، جب اس نے اپنی تقریر ختم کردی تو میں نے کہا کہ ایک بات کہوں تو مان لوگے، اس نے کہا کہ بالکل جی تو میں نے کہا بس آپ مجھے مت مارو، باقی میری فکر نہ کرو‘‘۔مولانا شیرانی نے یہ بھی کہا کہ’’ انتخابات پر حکومت کے 22ارب خرچ ہوئے، انفرادی طور پر جن لوگوں نے بڑے پیسے لگائے وہ الگ ہیں،اس سے اچھا ہے کہ جی ایچ کیو میں ایک سیل قائم کیا جائے ، لوگ اقتدار میں آنے کیلئے اپنی اپنی درخواستیں دیں۔ ماضی میں ہم بلوچستان کی حکومت کا حصہ بنتے تھے تو ISIکے افسران سے ہماری میٹنگ ہوتی تھی۔ اقتدار وہی دیتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی چوک ہے، یہاں کرایہ پر فتویٰ ملتا ہے، جہادی کرایہ پر ملتے ہیں، کرایہ پر فوجی افسر ملتے ہیں اور سیاستدان اورمیڈیا کرایہ پر مل جاتا ہے‘‘۔ مولانا شیرانی نے ایک تقریر میں کہا کہ ’’ خدا کو حاضر ناظر جان کر ادارے ہمیں بتائیں کہ ہماری حفاظت کرتے ہیں یا مارتے ہیں؟۔ دو بڑے بالوں والے دہشتگردوں کو سول اداروں نے بارود سمیت پکڑلیا کہ یہ دھماکے کرتے ہیں لیکن سیکیورٹی والے ان کو چھڑاکر لے گئے کہ یہ ہمارے آدمی ہیں‘‘۔
ریاست اور حکومت کو عوام کی طاقت سے ہی قائم رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کے اعتماد کو کٹھ پتلی قیادتوں کے ذریعے کب تک دھوکے میں رکھا جائیگا؟۔ ہماری تمنا ہے کہ پاکستان تمام لسانی، مذہبی اور علاقائی فتنوں سے محفوظ رہے اور حکومت اس میں اپنا بہترین کردار ادا کرے۔ اسلام کے نام پر یہ ملک بن گیا مگر قائدین اور مذہبی رہنما خود بھی اسلام سے آشنائی نہیں رکھتے ہیں۔قرآن کی طرف رجوع کیا گیا تو بہت سے معاشرتی، فرقہ وارانہ اور متصبانہ مسائل حل ہونے میں دیر نہ لگے گی ،ہماری تحریک فرقہ واریت اور لسانیت کے برخلاف قومی و مذہبی یکجہتی کی تحریک ہے۔ لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات پر ہم یقین نہیں رکھتے ہیں۔
منظور پشتین پہلے بچہ تھا، علی وزیر کے خاندان کی قربانیاں تھیں اور محسن داوڑ کے تضادات پر پچھلے اداریے میں گرفت کی تھی۔قبائل کی تاریخ دہراتے ہوئے کہیں بک نہ جائیں۔ پہلی مرتبہ علی وزیر اور محسن داوڑنے تاریخ بدلی کہ قبائلیوں کے ووٹ برائے فروخت کی منڈی نہیں لگی۔ مولانا شیرانی کا بلوچستان حکومتوں میں شامل ہونا ، اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بننا بھی قومی اور اسلامی خدمات کیلئے نہیں بلکہ سرکاری نوکری کیلئے ہی بکنے کے مترادف تھا۔ اسوقت قوم کو صاف صاف بتادیتا کہ میرا مقصد اپنا حصہ مراعات ہیں باقی کچھ نہیں۔ منظور پشتین پہلے کم عمر تھا لیکن پشتون قوم پہلے اُٹھ جاتی تو اتنی قتل وغارتگری ، بے عزتی اور تباہی کا سامنا نہ ہوتا۔ بینظیر بھٹو اور کلثوم نواز نے عورت ہوکر طالبان کیخلاف منہ کھولا۔ بے غیرت سیاستدان اور بے غیرت فوجی افسران کی طرح پشتون قوم نے بھی بہت بے غیرتی کا مظاہرہ کیا لیکن جذباتی کیفیت میں یہ سب کی مجبوری بھی تھی۔
طالبان ، محسود قوم اور پاک فوج کی دوغلہ پالیسی کی اصل وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے بھی دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی تھی۔ جب امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کیخلاف سنجیدہ بات کی تو پاک فوج کے کور کمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ اکیلا ہمارا کردار نہ تھا ، دوسرے بھی اس میں شریک تھے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اب یہ کہا ہے کہ ’’ اس کو نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان بنائے کس نے تھے؟‘‘۔ جب فوج نے وزیرستان میں ازبک کیمپ کو چھوڑ کر قریبی مقامی طالبان پر بمباری کی توہمارا گورنر اورکزئی تفصیل بتارہا تھا کہ ازبک کہاں سے کس طرح محسود علاقے میں پہنچے۔ مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ ’’ صاحب ! میں معافی چاہتاہوں، اتنی معلومات ہمارے پاس بھی نہیں ، پھر تم نے ازبک کو کیوں نشانہ نہ بنایا‘‘۔ یہ سن کر گورنر اورکزئی بوکھلا گیا اور کہا کہ ’’ اگر ہم تمہیں نہ مارتے تو امریکہ ماردیتا‘‘۔
نصرت مرزا نے سچ لکھاکہ ’’ انگریز مسلمان کا مخالف تھامگر پاکستان کو اسلئے بنانا چاہا کہ روس، چین، برصغیر، ایران،عرب ممالک اور ترکی اکٹھے نہ ہوں‘‘۔ منافقانہ کھیل کیوجہ سے یہ خطہ پھر انگریز کی غلامی میں دھکیلا جاسکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے باشعور طبقے کو جگانے کی ضرورت ہے۔اگر ایران کا سستا گیس و تیل پاکستان اور بھارت کو سپلائی کیا گیا تو پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا۔ پھر سعودیہ وایران کی دوستی میں بھی دیر نہیں لگے گی۔افغانستان سے نیٹو اور اسکا کھیل بالکل ناکام اور نامراد ہوگا۔PTMکے جوان مظلوم تحفظ موومنٹ کے نام سے متحرک ہوں تو پختون کے علاوہ پنجابی، بلوچ، سندھی،مہاجر سب ساتھ دینگے۔
پشتو کے یہ اشعاربہت پہلے لکھے لیکن کسی شاعر سے اصلاح کی ضرورت تھی ۔ اب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض اشعار نکالے ۔ PTMکا سوشل میڈیا سے صفایا ہوچکااور چاہت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی منفی نہیں مثبت سرگرمیاں جاری رکھیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل طلاق کے حوالے سے علم اور عقل سے عاری ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

sheerani-islami-nazaryati-council-teen-talaq-doctor-amir-taseen-maulana-yousuf-ludhianvi- qibla-maqamat-al-hariri-atiq-gilani-mufti-naeem-anp-shia- lady-diana-prince-charles- human-rights- binori-town-fatwa

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق پر سزا کی تجویز کم علمی کے علاوہ کم عقلی کی بھی ہے۔اگر سزا سے ایک ساتھ تین طلاق کا مسئلہ رکنے والا ہوتا تو حلالہ سے بڑھ کر اور کیا سزا ہوسکتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان نے جب مسیج بھیج دیا کہ طلاق طلاق طلاق تو اس پر عمران خان کو کیا سزا دی جائے گی؟۔ ریحام خان مسلمان تھی اسلئے طلاق طلاق طلاق کا مسیج بھیج دیا اور جمائمایہودن تھی اسلئے طلاق کے الفاظ نہیں بلکہ طلاق کو معاملے کی طرح باقاعدہ ڈھیل اور افہام وتفہیم سے اپنے منطقی انجام تک پہنچایا۔دنیا میں طلاق کا یہ طریقۂ کار اسلام نے ہی متعارف کرایاتھا۔ اسلام اسی لئے دنیا میں بہت تیز رفتاری کیساتھ پھیل گیامگر بعد میں رفتہ رفتہ مذہبی طبقے نے فرقے، مسلکی وکالت، کاروباری اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کاذریعہ اسلام کو بنالیا، جس کی جھلکیاں درسِ نظامی کی ’’ مقامات الحریری‘‘میں ابوزید سروجی کے تخیل سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ تفسیر کے امام صاحبِ کشاف علامہ جاراللہ زمحشریؒ نے لکھا : اقسم باللہ وآیاتہ ومشعر الحج ومیقاتہ بان الحریری حری ان یکتب بالتبر مقاماتہ ’’میں اللہ اور اسکی آیات کی قسم کھاتا ہوں،اور شعارحج اور اسکے مقات کی کہ حریری کی مقامات سونے کے ٹکڑوں سے لکھنے کے قابل ہے‘‘
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی نے ہی عربی ادب کی کتاب ’’مقامات الحریری‘‘ پڑھائی تھی۔ مفتی محمدنعیم صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ ’’ بعض شرمناک مقامات پر میری آنکھیں بھی جھکی ہونگی اور آپ لوگ بھی شرم کے مارے آنکھ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ ہماری مجبوری ہے کہ نصاب کی اس کتاب کو پڑھنا اور پڑھانا پڑتا ہے‘‘۔ اس کتاب میں سب سے زیادہ شرمناک مقالہ جوزر علیہ شوزر ’’لڑکا تھا جس پر رومال تھا‘‘والا ہے۔ابوزید سروجی کی طرف سے اس پر دعویٰ ہوتا ہے کہ اس نے اسکے بیٹے کو قتل کیا۔ قاضی کی عدالت میں پیشی ہوتی ہے تو ابوزید کے پاس گواہ نہیں ہوتا۔ قاضی لڑکے سے قسم کھانے کا کہتا ہے توابوزید کہتا ہے کہ میری مرضی سے میرے الفاظ کے مطابق قسم کھائے گا اور قسم کے شرمناک الفاظ میں خوبصورت آنکھوں، پھڑکنے والے گالوں سے لیکر دواتی بالاقلام میری دوات(پشت کی شرمگاہ) اقلام ( اعضائے تناسل )سے یہ ہوجائے تک بات پہنچ جاتی ہے تو لڑکا شرماتا ہے اور قسم کھانے سے انکار کرتاہے جبکہ قاضی کے جذبات بھی برانگیختہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ ابوزید قاضی کو مشرکہ طور پر اس لڑکے کو بدفعلی کیلئے شکار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور قاضی سے رقم بھی ہتھیا لیتا ہے۔ پھر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابوزید سروجی کا اپنا بیٹا تھا اور اس طرح وہ اسکے ذریعے لوگوں کو شکار کرنے کیلئے استعمال کرتا رہتا ہے‘‘۔مقامات الحریری
میرے بھائی پیر نثار احمد شاہ پہلے اے این پی کے دلدادہ تھے،جب اس نے ایک عالم دین کے بارے میں کہا کہ ’’ وہ اپنے بیٹے کو اس طرح استعمال کررہاہے تو اپنے دل میں پروگرام بنایا کہ رات کو اپنے بھائی کو بندوق سے قتل کرودں گا مگر شاید اسے میری دل آزاری کا احساس ہوا، رات کو مجھ سے معافی مانگ لی ورنہ میں نے طے کرلیا تھا کہ سوتے میں اسکا کام تمام کردوں گا‘‘۔ شدت پسندی کے ناسور کا جذبہ میں نے ہی اس خطے میں پھونکا تھا۔ منکرات کیخلاف آواز اُٹھانے سے لیکر ہاتھ سے روکنے تک کا کردار ہم نے ادا کیا۔ پھر شعور وآگہی کے بعد کچھ سیکھنے کو ملاہے۔ ملاعمر رحمۃ اللہ علیہ ایک مخلص انسان تھا لیکن شعور وآگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس نے خراسان کے دجال کا کردار غیرشعوری طور پر ادا کیا۔ اگر ان سے پہلے مَیں پاکستان کا امیرالمؤمنین بن جاتا تو ان سے بھی بڑے دجال کا کردار میرا ہوتا۔ ٹی وی ، تصویر، داڑھی، پردے اور فرائض وسنت پر عمل کرنے کی کوشش میں شاید ہی میرا کوئی ثانی ہوتا ۔ میری زندگی کے ابواب ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں۔اگر ضرورت پڑی تو ایک ایک بات کو اجاگر کردوں گا۔ انشاء اللہ
پچھلے شمارے میں اجتہاد پر تھوڑی بہت روشنی ڈالی تھی جس کو اہل علم ودانش کی طرف سے بہت پذیرائی مل گئی ہے۔ اجتہاد کے حوالے سے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس سے شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے اختلافات بالکل ختم ہوجائیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک ساتھ تین طلاق پر سزاکی تجویزکا مسئلہ اٹھایا ہے اور اجتہادی مسائل پر اختلافات کی بنیاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ایک ساتھ حج و عمرہ کے احرام کو روکنے کا اعلان فرمایا تو حضرت علیؓ نے مزاحمت کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھ رہا ہوں ،تم روکنے والے کون ہو؟ نبی کریمﷺ نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھا تھا۔(صحیح بخاری)صحیح مسلم کی کئی احادیث ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنی رائے سے حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے سے روکا تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حج وعمرے کی ایک ساتھ اجازت دی اور نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ایک حج کیا اور حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا۔ پہلے اس حکم پر عمل ہوتا تھا تو فرشتے ہم سے گلی کوچوں میں مصافحے کرتے تھے اور اب یہ سنت ترک کردی گئی تو ہمارے ایمان کی حالت وہ نہ رہی جو پہلے تھی۔( مسلم)
اس اختلاف کا پسِ منظر یہ تھا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ عمرہ کرتے تھے جو بھی عمرے کی منت مان لیتا تھا ، اس کو پورا کرتا تھا، اہل مکہ کا مفاد اسی میں تھا کہ لوگ حج کیساتھ عمرہ نہ کریں، رفتہ رفتہ یہ مذہبی شعار کی صورت اختیار کرگیا کہ زمانہ حج میں عمرہ کرنا جائز نہیں ہے۔ قریشِ مکہ کی تجارت میں حج و عمرے کا مذہبی تہوار بڑا منافع بخش کاروبار بھی تھا۔ سیروسیاحت کی طرح اس سفر میں آنے جانے والوں سے کاروباری فائدے بھی اُٹھائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حج و عمرے کو ایک ساتھ کرنے کا جواز بتایا۔ نبیﷺ نے ایک احرام باندھ کر اس پر عمل کیا، ایک ہی موقع ملاتھا ،اسلئے الگ الگ احرام باندھنے کی نوبت نہیں آئی۔ مذہبی ذہنیت بڑا حساس معاملہ تھا، لوگوں نے سمجھا کہ یہی نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ حضرت عمرؓ کو واقعی فاروق اعظم کا خطاب بجا ملا تھا،آپؓ نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے پر سخت پابندی لگادی۔ اس میں بہت بڑی اور واضح حکمت یہ تھی کہ جب ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھا جاتا تھا تو حج سے چند دن پہلے پہنچنے والوں کا جمع غفیر پسینوں سے شرابور ہوکر فضاء کو متعفن کردیتا تھا۔ رسول اللہﷺ کا پسینہ تو خوشبودار تھا۔ عام لوگوں کا پسینہ اتنے بڑے پیمانے پر مشکل پیدا کررہا تھا۔
جب حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح خلافت کے معاملات چلائیں گے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے اقدامات کو برقرار رکھوں گا۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ میں سارے معاملات کو نبیﷺ کے وقت کی طرف لوٹاؤں گا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا : ’’ نبیﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے بھی معاملات کو جوں کے توں رکھا حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں فرقِ مراتب کے لحاظ سے وظائف مقرر کردئیے مگر پوری طرح سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں نہیں پکڑیں تھیں۔حضرت عثمانؓ کے دور میں خاندانی قرابت اور سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں پکڑ لیں جسکو حضرت امیر معاویہؓ نے پوری طرح عملی جامہ پہنایا‘‘۔ حج و عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے پر حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جھڑپ بھی اندرونی رنجش کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا اور مذہبی طبقات نے اسکو احادیث وفقہ کی کتابوں میں بھرپور طور پر باقی رکھا۔
کچھ رافضی اس اختلاف کو وہ رنگ دے رہے تھے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے قرآن وسنت سے ہٹ کر مشرکینِ مکہ کا مذہب مسلط کرنا چاہا جو حضرت عمرؓ کا بھی مشن تھا۔ کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کی مخالفت میں تیزوتند جملے استعمال کئے، ایک محدث ضحاکؒ تھے جو بڑے پرہیزگار تھے ، دوسرے حکمرانوں کے ٹولے سے تعلق رکھنے والا ضحاک تھا جس نے کہا کہ ’’ حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنا بہت بڑی جہالت ہے‘‘۔ جس پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کہا کہ ’’ ایسی بات نہ کرو، میں نے خود نبیﷺ کو حج وعمرے کا احرام ساتھ باندھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کسی نے کہا کہ ’’تمہارا باپ تو ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے کی مخالفت کرتا تھا‘‘ تو آپؓ نے فرمایا کہ ’’ میں اپنے باپ کو نہیں رسول اللہ ﷺ کو رسول مانتا ہوں اسلئے آپﷺ کی بات ہی کو درست سمجھتا ہوں‘‘۔ حضرت عثمانؓ کے دورمیں خوارج کا جو ٹولہ پیدا ہوا جس نے آپؓ کو شہید کردیا، اس میں ان مذہبی اختلافات کا بھی بڑا عمل دخل تھا پھر یہ لوگ حضرت علیؓ اور امیرمعاویہؓ کے بھی دشمن بن گئے تھے۔
قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے اختلاف کا بھی ذکر ہے جو تفریق کا بھی باعث بن گیا، پھر حضرت خضرؑ نے اس اختلاف کی حقیقت بتائی ،یہ اختلاف پھر بھی برقرار رہا تھا اسلئے کہ بچے کا قتل انسانی حقوق کا مسئلہ تھا، جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی باکمال شخصیت ہونے اور ایک بڑے اللہ والے ہونے کی بھی نشاندہی کردی اور وعدہ بھی کیا تھا کہ میں کوئی سوال بھی نہیں پوچھوں گا مگر انسانی حقوق کے مسئلے پر پھر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اُمت مسلمہ کا اختلاف باعث رحمت اور وحی کا نعم البدل ہے۔حضرت عمرؓ کا کردار نبیﷺ کے دربار میں بھی حزبِ اختلاف کے قائد کا رہا تھا۔ مشکوٰۃ میں یہ حدیث ہے کہ ایک خاتون دونوں ہاتھوں اور پیروں سے ناچ رہی تھی ۔ صحابہؓ اس کا تماشہ دیکھ رہے تھے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی نظارہ دیکھ رہے تھے، نبیﷺ بھی دیکھنے کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت عمرؓ کو آتے دیکھ لیا تو وہ عورت بھاگ کھڑی ہوئی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ عمر سے شیطان بھی بھاگتا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ لہوولعب کا یہ ماحول ایک طرف نبیﷺ کی وجہ سے قابلِ برداشت بن گیا اور دوسری طرف حضرت عمرؓ کی وجہ سے سنت بننے سے بچ گیا، ورنہ تو راگ وسرود کی محفلوں اور دنیا کی رنگ رنگینیوں کے مزے اڑانے کو بھی سنت کا نام دیا جاتا اور بہت سے لوگ نماز کا اہتمام کرنے کے بجائے اسی کو سنت قرار دیکر عمل کرتے۔ افراط وتفریط اور غلو سے بچنے کا نام سنت وصراط مستقیم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگنے کے باوجود ہم غور نہیں کرتے۔
عورت کا ناچ گانا قابلِ برداشت تھا مگر سنت نہیں تھا۔ اسکے خلاف ڈنڈے اٹھانا بھی سنت نہیں مگر میں نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نیو کراچی میں ایک طرف مشکوٰۃ شریف کی تعلیم حاصل کی تو دوسری طرف وہاں جمعرات کو کرایہ پر مدرسہ کے ارباب اہتمام ’’ وی سی آر‘‘ لاکر فحش فلمیں دیکھتے تھے۔ مجھے پتہ چلا تو ان کو ڈنڈے کے زور سے روک دیا۔ چاہت یہ تھی کہ ڈنڈے سے ان کی پٹائی بھی کردوں مگر اچانک کچھ شریف چہرے سامنے آئے تو ڈنڈا چلانے کا میراجذبہ ماند پڑگیا۔نبیﷺ نے سچ فرمایا کہ ’’میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ اجتہادی مسائل میں کوئی ایسی گمراہی کی چیز نہیں، جس پر امت کا اجماع ہوا ہو۔ نورانوار اور اصولِ فقہ میں ’’اجماع‘‘ کی تعریف تبدیل کی گئی ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ’’ اجماع سے مراد اہل مدینہ کا اجماع ہے، اہل سنت کا اجماع بھی ہے اور اہل بیت کا اجماع بھی ہے۔ یہ سب اجماع معتبر ہیں‘‘۔ (نورالانوار)
اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان شامل ہیں، اب یہ متفقہ تجویز سامنے آئی ہے کہ’’ ایک ساتھ تین طلاق دینے پرایک سال قید کی سزا دی جائے گی‘‘۔ قومی اسمبلی اور سینٹ نے اس تجویز کو قانون بنالیا تو پاکستان کی سرزمین پر یہ ایک نیا اجتہادی مسئلہ ہوگا۔ بھارت میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ یہ قرآن کی روح ہے کہ انسانی حقوق کا بھرپور خیال رکھا جائے۔ حضرت موسیؑ نے حضرت خضرؑ کے اقدامات کی توثیق نہیں فرمائی۔ حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کے تخت کو اس شخص کے ذریعے حاضر کیا تھا جس کو قانون فطرت کی کتاب کا علم تھامگر اس کے ذریعے ملکہ سبا بلقیس کو نہیں لایا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا نالائق بیٹا بھی اسلئے طوفان کا شکار ہوا کہ اس نے کہا کہ پہاڑ پر چڑھ کر بچ جاؤں گا ۔ اگر وہ کشتی میں سوار ہوجاتا تو بچ سکتا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ میری امت پر اجتماعی عذاب نہیں آئیگا اور اپنے اہلبیت کو آپﷺ نے کشتی نوح ؑ قرار دیا ہے۔
نبیﷺ نے قرآن کو مضبوط تھامنے کی بڑی تلقین فرمائی تھی۔ اہل تشیع سے اہلبیت کا سلسلہ حالت غیبت میں ہے اور اہلسنت سے سنت غائب ہے مگر قرآن کی حفاطت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ نبیﷺ کو قیامت کے دن اُمت سے یہی شکایت ہوگی کہ ’’ اے میرے ربّ! میری قوم نے بیشک اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ (القرآن)۔عوام وخواص سب کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔
طلاق کے مسئلہ پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چےئرمین اور ارکان قرآن سے رجوع کرتے تو سزاکی تجویز یہ ہوتی کہ جو مفتی وعالم حلالے کا فتویٰ دیگا، اس کو یہ سزا دی جائے گی اسلئے کہ باہمی اصلاح و رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔

تین طلاق پر اسلامی نظریاتی کونسل کو صائب مشورہ ہے

پاکستان، اسلام اورعلماء پہلے سے عالمی قوتوں کے نشانے پر ہیں۔ جب تین طلاق پر ایک سال قید کی سزا سامنے آئیگی تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوجائے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کو بھرپور طریقے سے دلائل سے آگاہ کیا تھا لیکن ان کا مقصد اسلام ، انسانیت اور پاکستان کی کوئی خدمت نہیں تھی بلکہ اپنی نوکری ، مفادات اور مراعات تھے ،اسلئے اس سعادت کی توفیق اسے نہیں مل سکی تھی، ورنہ ایک بڑے انقلاب کا موقع اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔
اسلام کا بنیادی مقصد انسانیت کی فطری رہنمائی ہے۔ طلاق سے متعلق جن احکام کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی ہے، اس میں مقدمہ کے طورپر یہ وضاحت کی: ولاتجعل اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس ’’اور اللہ کو مت بناؤ، ڈھال کہ نیکی، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کیلئے کردار ادا نہ کرسکو‘‘۔ (البقرہ آیت:224)اس آیت کے بعد کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی ہے کہ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ کی لعنت پر مجبور نہ ہوں ،انکے درمیان اللہ تعالیٰ صلح میں رکاوٹ ہے اور اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں بڑا تضادہے۔ علامہ اقبال کے اشعار ،مسلکوں کی وکالت اوردیگر انسانوں کے خیالات میں تضادات ہوسکتے ہیں مگر اللہ کا کلام تضادات سے پاک ہے۔ و لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا’’اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف (تضادات) پاتے‘‘
میاں بیوی کے درمیان طلاق کا معاملہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے عدت رکھی اور اس میں باہمی رضامندی اور اصلاح کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔ شوہر کو حکم ہے کہ عدت میں عورت کو گھر سے نہ نکالے اور بیوی کو حکم ہے کہ وہ گھر سے نہ نکلے۔ سورہ البقرہ آیت:228 اور سورۂ طلاق آیت:1میں عدت کے دوران صلح کی بھرپور وضاحت ہے۔سورۂ طلاق آیت :2سورۂ البقرہ آیت 229، 231 اور 232 میں بھی عدت میں اور عدت کی تکمیل پر اور عدت کے بعدصلح کی بھرپور وضاحت ہے البتہ جس طرح البقرہ آیت:228اور229 میں اصلاح کی شرط اور معروف طریقے سے عدت میں رجوع کی گنجائش ہے اور صلح کے بغیر منکر طریقے سے کوئی رجوع نہیں ہوسکتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جب ان دونوں کا پروگرام ایکدوسرے سے جدائی کا ہو اور معاشرہ بھی انکے درمیان کسی قسم کا رابطہ نہ رکھنے پر متفق ہو تو پھر اس شوہر کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ (البقرہ آیت:229،230)۔
چونکہ دنیا میں انسان کے اندربھی یہ حیوانیت بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ماحول موجود ہے کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد بھی اس کی مرضی سے کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہیں کرنے دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین تھے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی ازاوج مطہراتؓ کو مومنین کی مائیں قرار دیا ہے اور یہ وضاحت کردی ہے کہ آپﷺ کی ازواجؓ سے کبھی نکاح نہ کریں اسلئے کہ آپؐ کو اس سے اذیت ہوتی ہے۔ تاکہ کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ غیرتمند ہوکر بھی اسے اذیت نہیں ہوتی ہے۔لیڈی ڈیانا کو شہزادہ چارلس نے طلاق دی اور برطانیہ نہیں فرانس کے شہر پیرس میں ایکسیڈنٹ سے مر گئی یا ماری گئی مگر اس پر مقدمہ دائر کیا گیا کہ ’’ شاہی خاندان اس قتل کے پیچھے ہے‘‘۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی یہ غیرت ہوتی ہے کہ اس کی جوڑی دار کیساتھ کوئی اور جوڑی دار نہ بنے لیکن اسلام نے محض انسانی حقوق کی خاطر یہ قانون رائج کردیا کہ ’’ ایسی صورت میں جب میاں بیوی عدت کے تین ادوار میں دو مرتبہ طلاق اور پھر تیسرے مرحلہ میں بھی جدائی کے فیصلے پر نہ صرف قائم ہوں بلکہ ایکدوسرے سے کوئی رابطہ رکھنے کا ذریعہ بھی نہ چھوڑتے ہوں تو اس صورت میں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر اس عورت کو دوسرے سے عورت کی مرضی کیمطابق نکاح کرنے دیتا ہے یا نہیں؟۔ اس مسئلے کے حوالے سے اصول فقہ کی کتاب ’’ نورالانوار‘‘ میں حنفی مسلک بھی واضح ہے اور علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب ’’ زاد المعاد‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ کا بھی یہی مؤقف نقل کیا ہے۔ میں نے اپنی کتابوں ’’ ابر رحمت، تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل ‘‘ کے علاوہ اپنے اس اخبار کے مضامین اور ادارئیے میں بھی اور اس سے پہلے ماہنامہ ضرب حق کراچی میں بھی تفصیل سے لکھ دیا تھا۔
تمام مکاتبِ کے علماء ومفتیان کھل کر اور چھپ کر ہمارے مؤقف کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔ عوام الناس اور دانشوروں تک حقیقت کسی حد تک پہنچ چکی ہے۔مولانا سیدمحمدیوسف بنوریؒ کے نواسے ڈاکٹر عامر طاسین سابق چیئرمین مدرسہ بورڈسے قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی بہت تعریف سنی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کا مسئلہ سزا دینے سے حل ہونیوالا ہرگز نہیں ہے۔ حلالہ سے بڑھ کر کسی کو کیا سزا دی جاسکتی ہے؟۔ اس مسئلہ میں کسی اجتہاد کی ضرورت پہلے بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ باہمی اصلاح کے بغیر رجوع نہیں اور معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش واضح ہے۔حضرت فاروق اعظمؓ نے قرآن کی روح کے مطابق تنازعہ کی صورت میں ٹھیک فیصلہ دیا کہ ایک ساتھ تین طلاق پر رجوع کی گنجائش نہیں ہے، اگر تنازعہ کی صورت نہ ہوتی تو معاملہ حضرت عمرفاروق اعظمؓ کے دربار تک بھی نہ پہنچ سکتا تھا۔
اگر ایک طلاق کے بعد بھی تنازعہ حضرت عمرؓ کے دربار میں پہنچتا تو یہ فیصلہ ہوتا کہ ’’ باہمی اصلاح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں‘‘۔کیونکہ قرآن میں بالکل واضح ہے، دنیا کی کوئی عدالت بھی تنازعہ کی صورت میں یہی فیصلہ دیتی ہے۔ اگر میاں بیوی راضی ہوں تو قاضی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ اسلام رفتہ رفتہ ہی اجنبیت کا ایسا شکار ہوگیا کہ میاں بیوی عدت میں بھی باہمی اصلاح کی شرط کے باوجود رجوع سے محروم کئے گئے اور حلالے والوں نے لعنتوں سے دنیاوی مفاد اٹھایا۔
علماء ومفتیان کے مدارس حدیث صحیحہ کے مطابق گمراہی کے قلعے بنے ہیں۔ مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ نے اپنی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ مساجد کے ائمہ، نمازیوں اور مدارس کے مفتیوں کے بارے میں بہت کچھ متفق علیہ اور احادیث صحیحہ سے واضح کیا ہے۔ پہلے نام کے بغیر فتویٰ دیا جاتا تھا، پھر شناختی کارڈ اور میاں بیوی کو حاضر کرکے فتویٰ دیا جاتا ہے تاکہ خاتون کے خدوخال اور شوہر کی مالداری کودیکھ کر اس کو شکارکرنے والے ابوزید سروجی اپنے داؤ وپیج کے گھوڑے دوڑائیں۔ افسوس کیساتھ کہہ رہا ہوں کہ میری تائید کرنیوالا ایک مفتی و مولانا بھی طلاق کے مسئلے پر فتویٰ کیلئے متاثرہ شخص کی مالی کیفیت پوچھ رہا تھا اور خوش آئند بات یہ ہے کہ بڑے مدارس سے اہلحدیث کے ہاں فتوؤں کیلئے لوگوں کو بھیجا جارہا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اگر جرأت سے کام لیا تو سرکاری خزانے کا کما حقہ فرض ادا ہوگا ، قبلہ ایاز سے اُمید ہے۔ سید عتیق گیلانی۔

خراسان کے دجال سے متعلق احادیث نبوی کی پیشگوئیاں اور ترجمہ پشتو اشعار وضاحت اور تشریح کے ساتھ

manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-dajjal-maulana-fateh-khan-of-tank-shaheed-pervez-musharraf
بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علیٰ خاتم النبیین
بخاری شریف میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں حمد وثنا کے بعددجال کے تذکرے سے پرجوش ہوگئے
فرمایا:اللہ نے کوئی ایسانبی ؑ نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو، یہاں تک کہ حضرت نوح ؑ اوران کے بعد والے پیغمبروں نے بھی ڈرایا۔
وضاحت:آخری خطبے کی اس حدیث شریف کوامام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیاہے جس میں رسول اللہ ﷺ ایک ایک بات کوتاکید کے لئے تین تین مرتبہ دہرایاہے، کاش امت مسلمہ اس حدیث کے ایک ایک لفظ پر غور کرکے اس کوسمجھنے کی کوشش کرے اور موجودہ حالات میں ملاعمراور طالبان کے کردارکواس کے تناظر میں دیکھے۔جس دن اس حدیث کی سمجھ آگئی امت مسلمہ کوبحران سے نکلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
فرمایا ﷺ انہ یخرج فیکم فما خفی علیکم من شانہ فلیس یخفی علیکم ان ربکم لیس علی مایخفی علیکم ثلاثاََ
ترجمہ: ببشک دجال تم ہی میں سے نکلے گا اورجوتمہارے اوپراس کاحال پوشیدہ ہے تو یہ بات تم سے مخفی نہیں ہے کہ تمہارے رب سے وہ بات پوشیدہ نہیں جو تم سے پوشیدہ ہے۔تین بار یہ فرمان عالی شان دہرایا۔
تشریح:اس حدیث شریف کے ا س جملے میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اس دجال کو امت مسلمہ میں سے ہی قرار دیاگیاہے ۔کیا امت مسلمہ یہ ماننے کے لئے آمادہ ہے کہ دجال ہم میں سے بھی ہوسکتاہے؟اگرنہیں توامت مسلمہ کواس حدیث پر غور کرکے آمادہ ہوناچاہیے۔ اس روایت کی صحت پر کوئی کلام نہیں، اس روایت میں وہ دجال مراد نہیں جس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوا ہوگا ، یہ دجال بھی اپنی حیثیت میں بہت بڑا درجہ رکھتا ہے جس کو اُمت مسلمہ شاید اپنا امیر المؤمنین یا بہت بڑا مجاہد تصور کرے۔
اس دجال کا احوال امت کے افرادسے مخفی رہے گا۔ کیا ہمارے حکمران، علماء کرام،دانشوران عظام اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دجال اپنی دجالیت کا بھرپور کردار ادا کر رہاہو اور ہم پھر بھی اس کوپہچاننے سے بے خبر رہیں؟اس حدیث کاتقاضا یہ ہے کہ سب کو بالکل کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرلیناچاہیے۔اس حدیث میں ایک اور اہم بات یہ ہے جس کا اعتراف سب مسلمانوں کوہے کہ امت مسلمہ پر یہ بات مخفی نہیں کہ ہمارے رب سے وہ بات پوشیدہ نہیں جوہم سے مخفی ہے۔تین بار تاکیدکے ساتھ یہ فرمانے کے بعددجال کی دجالیت کا پردہ کس واشگاف انداز میں کھولتے ہیں،سنئے، دیکھئے ، غورکیجیے اور سمجھئے۔
فرمایا ﷺ :ان ربکم لیس باعور وانہ اعور عین الیمنیٰ کان عینہ عنبۃطافیۃ الا ان اللہ حرم علیکم دمآء کم واموالکم کحرمۃ یومکم ھٰذا فی بلدکم ھٰذا فی شھرکم ھٰذا الا ھل بلغت قالوا نعم قال اللھم اشھد ثلاثاََ ویلکم او ویحکم انظروا لاترجعوا بعدی کفاراََ یضرب بعضکم رکاب بعض۔
ترجمہ :(بیشک تمہارا رب کانا نہیں ہے اور وہ (دجال) دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس کی آنکھ ایسی گویا پھولاانگور۔ خبردار!بیشک اللہ نے تمہارے خون اور تمہارے مال کوتمہارے لئے ایساحرمت والا قرار دیاہے جیسے تمھارے لئے اس دن کی حرمت، تمہارے اس شہر میں اور اس مہینے میں ہے ۔ خبردار! کیا میں نے اس پیغام کو پہنچادیا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔فرمایا ﷺ اے اللہ! تو گواہ رہیو۔تین بار یہ جملے دھرائے۔ پھر فرمایا:تمہارے لئے خرابی ہو یا یہ کہ تم پر افسوس دیکھو ! میرے بعد واپس لوٹ کر کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔)
تشریح :بخاری کی اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ دجال خدائی کا دعویٰ کرے گابلکہ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ کانا نہیں اور یہ دجال دائیں سے کانا ہوگا۔
یہ بات بالکل لغو ہے جو کسی نے کہی ہے کہ دائنی آنکھ سے مراد خیرکی جانب سے اندھا ہوگا کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ دجال با ہنی سے کانا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال بہت ہیں کوئی داہنی آنکھ سے کانا ہوگا اور کوئی باہنی آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس لئے یہ دجال تاویلات سے نہیں حقیقی کانا ہوگا۔ البتہ اس میں یہ رمزنمایاں ہوسکتاہے کہ جیسے افغانستان جس کو خراسان کہا جاتا تھا اس میں ایک کانے امیرالمومنین ملاعمر کا یہ کردار رہاہے کہ ایک طرف میڈیسن( ادویات) کے ڈبوں پر تصاویر کے خاکوں کواسلام اور شریعت کے نام پر منع کرتا تھا اور دوسری طرف کابل میں یہودیوں کی الجزیرہ ٹی وی کو کھلم کھلا تصاویری سرگرمیوں کی اجازت دی تھی۔ہمارے حکمران،سیاستدان،صحافی اورعلماء کرام کے نزدیک وہ مجاہد،اللہ والا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نقیب ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے دہرے کردارسے واقف ہے،اللہ کانا نہیں ہے اور نہ اس کی شریعت کانی ہے البتہ یہ کانے دجال کی کانی شریعت ہوسکتی ہے۔اس حدیث میں دجال کی ایک آنکھ کو پھولے انگور کی مانند قرار دیا گیا ہے تو یہ اس کی سلامت آنکھ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتاہے ، اس لئے کہ بعض روایات میں دجال کی آنکھ کے کھڈے کا ذکر بھی ہے۔ جس طرح خراسان سے نکلنے والے ایک دجال کے ساتھیوں کے چہروں کو ڈھالوں اور ہتھوڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے،ایسا ہی سلامت آنکھ سے برائے نفرت یہ تشبیہ قراردی جاسکتی ہے۔اس حدیث میں اس دجال کے بارے میں جس کا حال سب پر مخفی رہے گا سب سے آخری اور فیصلہ کن بات یہ فرمائی گئی ہے کہ مسلمانوں کے جان ومال کو یوم عرفہ کی طرح مکہ شہرمیں ،ذوالحج کے مہینے میں حرمت والا قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمادیا ہے کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔مگر یہ دجال کی سب سے بڑی علامت اور نشانی ہوگی کہ وہ مسلمانوں کی جان و مال کی حرمت کو ختم کردے گا۔ ملا عمر کے لشکرطالبان نے مسلمانوں کے جان ومال کی حرمت کے خاتمے کا عملی اعلان کردیا ہے اور دجال کی اس روایت میں سب سے بڑی اور واضح علامت یہی ہے۔ جیو ٹی وی چینل میں جرگہ پروگرام،، کے میزبان سلیم صافی نے ایک پکڑے گئے خود کش حملہ آور کا انٹر یو عوام کو سنایا تھا، جس نے طالبان کے علاوہ سب مسلمانوں کے خون اور مال کی حرمت کے خاتمے کا عرب علماء کے فتووءں کے حوالہ سے اعلان کیا ہے،یہ سراسر دجل اس دجالی تحریک کاوطیرہ ہے کہ سب کچھ کرکے بھی مکرجاتے ہیں ۔یہ دھشت گرد امریکی سی آئی اے کے پیداوار ہوں یاانڈیا اور اسرائیل کے ایجنٹ بہرحال یہ ملاعمر کانے دجال کے پیروکار بھی ہیں۔مسلم اس کو اپنوں میں سے سمجھیں، اس کی دجالیت کا ادراک نہ رکھیں لیکن بیشمار مسلمانوں کا قاتل اور قتل کرنے کے درپے اس دجالی لشکر کاخاتمہ کرنا ہوگا۔ بعض روایات میں تیس دجالوں کا ذکر ہے اور ایک روایت میں یہ ہے
قال رسول اللہ ﷺ :یکون قبل خروج الدجال نیف علی سبعین دجالاََ۔7 دجال سے پہلے ستر سے زیادہ دجال ہوں گے۔(الفتن، نعیم بن حماد ،روایت۱۴۴۹)
جب دجال کومسلمان نہیں پہچانیں گے اور وہ مسلمانوں میں شمارہوگاتواس کے پیروکارکیا امت میں سے ہوسکتے ہیں؟بالکل کیوں نہیں خوارج بھی ان کے پیروکارہوں گے اوروہ خود بھی خوارج کے باقیات میں سے ہوگا،جس کی تفصیلات روایات میں موجودہیں۔
النبی ﷺقال: یتبع الدجال من امتی سبعون الفاََ علیھم السیجان۔ نبی ﷺ نے فرمایا:میری امت میں سے سترہزار لوگ دجال کی پیروی کریں گے، جن پرسیجان ہوں گے۔ (الفتن، نعیم بن حماد، روایت ۱۵۴۲)
عن عبیدبن عمیرقال: قال رسول اللہ ﷺ: لیصحبن الدجال اقوام یقولون : انا لنصحبہ وانا لنعلم انہ کافرولکنا نصحبہ ناکل من الطعام ونرعی الشجرفاذانزل غضب اللہ تعالیٰ نزل علیھم کلھم (الفتن، نعیم بن حماد،۱۵۲۸) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دجال کا ضرورساتھ دینے والے ایسے لوگ بھی ہوں گے جوکہیں گے کہ ہم اس کاساتھ دے رہے ہیں ،ہم جانتے ہیں کہ وہ(دجال)کافر ہے لیکن ہم اسلئے ساتھ دیتے ہیں کہ ہم کچھ کھاناکھائیں اور درخت کی دیکھ بال کریں، جب اللہ تعالیٰ کاغضب نازل ہوگاتوان سب پر ہوگا۔
ا بن صائد یا ابن صیادنے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں آپ بھی گواہی دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں،،حضرت عمرؓ نے عرض کیاکہ اجازت دیں تاکہ اس کوقتل کردوں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگریہ وہی دجال ہے تواس کاقتل کرناتیرے بس میں نہیں اوراگروہ نہیں ہے تواس میں تیرے لیے کوئی خیرنہیں۔ابن صیاد نے نبوت کا دعویٰ کیالیکن اسلام نے اس کوبھی قتل کرنے کی اجازت نہیں دی البتہ طالبان نے عامۃالمسلمین کوقتل کرنے کے جس فتنے کا آغاز کردیا تھا، یہ دجالیت کسی طرح بھی برداشت کے قابل نہیں ہے، اس کی پشت پناہی اہل مشرق کی جانب سے بھی ہورہی ہے اور اہل مغرب بھی اس کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجال اعورعین الیسری۔ جفال الشعر۔ معہ جنۃ و نار۔ فنارہ جنۃ و جنتہ نار
حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا۔ بکھرے بال ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی۔ اس کی جہنم جنت ہوگی اور اس کی جنت جہنم ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ۔ حدیث 4071 )
عن ابی بکر صدیق قال حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الدجال یخرج من ارض بالمشرق یقال لھا خراسان۔ یتبعہ اقوام، کان وجوھہم المجان المطرقۃ
حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا کہ دجال مشرق میں کسی جگہ سے نکلے گا جس کو خراسان کہا جاتا ہے۔ ایسی قومیں اس کی پیروی کریں گی گویا ان کے چہرے ڈھال (جیسے گول) ہتھوڑے(لمبوترے) ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 4072) مجان ڈھال کو اور مطرقہ ہتھوڑے کو کہتے ہیں(دیکھئے المنجد)۔ طالبان کے لشکر میں گول چہرے والے اُزبک اور لمبوترے چہرے والے پٹھانوں کی اکثریت ہے۔ باقی کوئی بھی چہرہ یا تو گول ہوگا یا لمبوترا ہوگا۔ حدیث میں بطور مذمت یہ تشبیہ دی گئی ہے جس قوم سے بھی دجالی لشکر کا تعلق ہو ان کے چہرے ڈھال جیسے گول یا ہتھوڑے جیسے لمبوترے ہوں تو قابل مذمت ہی ہیں۔
عن المغیرۃ ابن شعبۃ قال ما سال احد النبی ﷺ عن الدجال اکثر مما سالتہ (وقال ابن نمیر: اشد سوالا منی) فقال لی مانسال عنہ؟ قلت: انھم یقولون: ان معہ الطعامہ و الشراب۔ قال ھوا اھون علی اللہ من ذالک
مغیرۃ ابن شعبہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے دجال کا حال اتنا نہیں پوچھا جتنا میں نے پوچھا۔ آخر آپ ﷺ نے فرمایا اس کا حال کیا پوچھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے ذلیل ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 4073 )
طالبان کے لشکر میں شامل لوگوں کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے ان دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔بھوکے پیاسے لوگ ان کی وجہ سے مراعات یافتہ بن گئے،جوصبح شام کے کھانے کے لئے فکر منداوردوسروں کے دست نگر رہتے تھے، مال واسباب کی وجہ سے ان کے حالات بدل گئے،ان لوگوں نے مقامی لوگوں، حکومتی اہلکاروں سے چندے ، بھتے،ڈاکے، اغوابرائے تاوان سے لیکربین الاقوامی فنڈز تک خوب مال واسباب کے مزے لئے۔ان کے جہادکانظریہ اور دین کی دعوت خیرکی بات ہے لیکن ان کے اعمال اس کے بالکل برعکس ہیں اورقرآنی آیات جوپڑھتے ہیں وہ ان کی حلق سے نہیں اترتے۔ ان احادیث میں دجالی لشکر کے حالات اور طالبان میں کتنی مماثلت ہے؟ میرا کبھی دجال کی تحقیق کی طرف زیادہ دھیان نہیں گیا تھا۔ لیکن جب مولانا فضل الرحمن نے ان احادیث کو طالبان پر فٹ کردیا تو روایات کو تفصیل سے دیکھا۔ جس میں بہت کچھ اس کی تصدیق کے لئے مل گیا۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان کے وجودسے کچھ پہلے کراچی کے ماہنامہ یا ہفت روزہ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ آ ئندہ سال افغانستان سے دجال نکلے گا،،پھرجب طالبان کی تحریک شروع ہوئی توآئی ایس آئی کے ایک آن ڈیوٹی اہلکارنے مجھ سے کہاکہ جوتم چاہ رہے تھے وہ خلافت کانظام افغانستان میں قائم ہونے جارہا ہے لہٰذا آپ اپنے ساتھیوں سمیت اس میں حصہ لیں،،میں نے بے ساختہ کہا کہ یہ کہیں امریکہ کی سازش تونہیں؟( ہمارے ہاں سازش کاتصوربہت عام ہے)اوریہ کیابات ہے کہ تم پاکستان میں خلافت قائم کرنانہیں چاہتے توافغانستان میں کیوں چاہتے ہو؟(مجھے دال میں کچھ کالاکالا لگ رہاتھا جس کامیں اظہاربھی کرتارہا)۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی میں ایک مضمون شائع ہواجس میں مولانافضل الرحمان پرالزام لگایاگیاکہ طالبان کی تشکیل کے وقت بیرون ملک چلے گئے تھے تاکہ ان کواس میں کوئی کردارادانہ کرناپڑے،، کالم نگار کا تجزیہ اس پہلو سے تھاکہ مولانا فضل الرحمان نے ایک قومی خدمت سے پہلو تہی برتی لیکن میرے نزدیک مولانا فضل الرحمان اس سازش کے گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔البتہ ایک تشکیل شدہ کھیل یا نازل ہونے والی بلا میں مولانا اپنی ترجیحات قائم کرکے حصہ بقدر جثہ اپنا کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں اتر گئے۔ افغانستان کے سابق سربراہ نجیب اللہ کو جب طالبان نے اپنے محاصرے میں لیا تو مولانا فضل الرحمن نے ملا عمر سے اس کی زندگی بچانے کی درخواست کی۔ مگر ملا عمر نے اپنی بے بسی ظاہر کرکے مولانا کو بہت مایوس اور شرمندہ کردیا۔ مولانا سمیع الحق نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو سپورٹ کرنے میں پہل اس نے کی اور جب طالبان کو مقبولیت حاصل ہوئی تو مولانا فضل الرحمن نے بعد میں ان کی سپورٹ کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں کیش کرایا۔
تبلیغی جماعت کی تشکیل کردہ ایک جماعت میں ایک بڑے بالوں والے (جس کی عورتوں کی طرح چوٹیاں تھیں) نے مسلسل مجھ سے ملنے پر اصرار کیا حالانکہ میرے پاس اخبار کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے ہاں سے وہ جماعت کسی اور گاؤں میں چلی گئی پھر بھی وہ شخص میرے پیچھے آیا۔ خیر میں نے اس کی دعوت بھی کی اور دوسرے گاؤں تک اس کو پہنچایا بھی۔ دوسرے دن میرے پیچھے کسی کو معلومات کے لئے بھیجا تو اس کو بتایا گیا کہ میں ٹانک گیا ہوں۔ ٹانک سے واپسی پر جب رات کا اندھیرا چھا رہا تھا مجھ پر شدید فائرنگ ہوئی۔ جنوبی وزیرستان کے ایم این اے مولانا معراج الدین قریشی وہاں کے رسم و رواج کے مطابق دوسرے لوگوں کی طرح اس سلسلے میں میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا محمد خان شیرانی نے مولانا فضل الرحمن سے طالبان اور دہشت گردوں کی تشکیل اورمنصوبہ بندی کے حوالے سے پوچھا کہ’’ امریکہ کے عزائم کیا ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اس سے قبل بھی مولانا معراج الدین قریشی اور سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے دعوت افطار پر تفصیل سے ذکر کیا تھا کہ طالبان اور ازبک ہمارے ایریا میں کسی بیرونی کھیل کا حصہ ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ سازش کیا ہورہی ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ جنوبی وزیرستان میں جب مقامی طالبان کے کیمپ پر بمباری کی گئی جن میں کوئی لیڈر یا رہنما سطح کا طالب ہلاک نہیں ہوا بلکہ سارے نئے لوگ، تماشبین اور وہ مقامی افراد جو بعد میں زخمیوں کو اٹھانے آئے تھے ان کو نشانہ بنایا گیا۔ جب قبائلی عمائدین کا جرگہ اس وقت کے گورنر افتخار حسین گیلانی نے طلب کیا تو اس نے تفصیل سے بتایا کہ اُزبک جنوبی وزیرستان میں کس طرح داخل ہوئے، کس کس کے پاس قیام کیااور اسی مقامی کیمپ کے قریب ان کا بھی ایک بڑا کیمپ موجود ہے۔ مولانا عصام الدین محسود ضلعی جنرل سیکریٹری ٹانک جے یو آئی (ف) نے گورنر کے سامنے اُٹھ کر سوال پوچھا کہ صاحب! ہم معافی چاہتے ہیں جو معلومات آپ کے پاس ہیں وہ ہمارے پاس بھی نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اُزبکوں کا کیمپ قریب میں موجود تھا تو مقامی لوگوں کو نشانہ بنانے کے بجائے اُزبکوں کو کیوں نشانہ نہیں بنایا گیا؟ جبکہ آپ کا مدعا بھی یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے بجائے غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جس پر گورنر افتخار حسین گیلانی نے کوئی معقول جواب دینے کے بجائے طیش میں آکر کہا کہ اگر ہم نشانہ نہ بناتے تو امریکہ آپ کو نشانہ بناتا۔ مولانا صالح شاہ سے کسی نے کہا کہ آپ کو طالبان نے خوفزدہ کردیا ہے تو اس نے کہا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا، جب بمباری ہورہی تھی تو یہ لوگ اس کی ویڈیو بنارہے تھے اور ہمارے پہنچنے سے پہلے گورنر کے پاس یہ ویڈیوز پہنچادی گئی تھیں۔ یہ معاملات کی ایک جھلک ہے۔ ورنہ ان کی تفصیلات سے کچھ احمق لوگوں کے سوا بہت سے عقل مندلوگ بخوبی آگاہ ہیں۔ بعض لوگ امریکہ کے خلاف جہاد کے نام پر ان سارے معاملات کو جانتے بوجھتے بھی جواز فراہم کررہے تھے اور بعض لوگ ان واقعات کو امریکہ کے خلاف جہاد کے بجائے امریکہ کے دباؤ کے نتیجے میں اپنے بے گناہ لوگوں کو مروانے کی بات کررہے تھے۔ لیکن فوج اور طالبان کے ڈر کی وجہ سے کھلم کھلا ان سازشوں کا اظہار نہیں کرسکتے تھے۔
ٹانک میں جب طالبان نے لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کے لئے شہر میں دھماکے کئے ، راکٹ فائر کئے اور راکٹ لانچروں سے خوف و ہراس پیدا کیا ، لوگوں نے خواتین اور بچوں سمیت مسجدوں میں پناہ لی۔ یہ کاروائی بینکوں کو لوٹنے کے لئے کی گئی تھی۔ لوگوں میں طالبان کے خلاف نفرت پیدا ہوئی تو بیت اللہ برکی جو طالبان کا سرگرم کارکن ہے نے ہمارے گاؤں جٹہ قلعہ آکر میرے ماموں زاد بھائی منہاج الدین سے کہا کہ طالبان کے امیر بیت اللہ محسود سے کہلوائیں کہ اس کاروائی میں طالبان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ منہاج نے کہا کہ میرے تو ان سے کوئی روابط نہیں ہیں، پھر بیت اللہ محسود کی طرف سے اعلان بھی کیا گیا کہ ہمارا اس کاروائی میں ہاتھ نہیں، لیکن انہی دنوں میں بیت اللہ برکی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ ٹانک کے خوف و ہراس میں وہ شریک کار تھا کہیں کھڑے کھڑے اپنا راکٹ لانچر غلطی سے فائر ہوگیا جس کی وجہ سے اس کا ایک بازو الگ ہوگیا۔ جب بیت اللہ محسود اعلان کررہا تھا کہ ٹانک کی کاروائی میں اس کا ہاتھ نہیں اور بیت اللہ برکی کا ہاتھ کٹ گیا تو ہمارے ایک رشتے دار کوڑ برف خانے کے مالک زمان نے کہا کہ ’’ان کا ہاتھ تو تھا۔‘‘
عبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ہے جس کے ہاتھ میں نقصان ہے اور اگر تم بہت پھول نہ جاؤ اس ثواب کو سن کر جو ان کے قاتلین کو ملنے والا ہے تو میں تم سے بیان کروں جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان کو قتل کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی زبان سے۔ عبیدہ نے کہا میں نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ نے خود سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں قسم ہے رب کعبہ کی ، تین بار قسم کھائی۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 167)
عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ نکلیں گے آخری زمانہ میں جو کم عمر ہوں گے، کم عقل ہوں گے، لوگوں میں کچھ خیر کی بات کریں گے، قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جو ان سے ملے تو ان کو قتل کرے۔ اللہ کے نزدیک ان کے قتل میں اجر ہے جو اُن کو قتل کرے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 168)
خوارج کے بارے میں یہ روایات میں نے اپنی کتاب ’’ضرب حق‘‘ میں تبلیغی جماعت کے خلاف لکھی تھیں۔ لیکن اس وقت مجھے یہ شرح صدر نہیں تھا کہ تبلیغی جماعت کے افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا قتل سے مراد ان کے ساتھ ایک نظریاتی لڑائی ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد اللہ ناصح علوانؒ نے اپنی کتاب ’’شباب المسلم‘‘ جس کا ترجمہ مولانا حبیب اللہ مختار ؒ جامعہ بنوری ٹاؤن کے سابقہ مہتمم نے ’’مسلمان نوجوان‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اس میں تبلیغی جماعت کے بارے میں یہ وضاحت ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ابھی مکی دور میں ہیں، اُن کا یہ دعویٰ دو وجہ سے باطل ہے ایک یہ کہ مکی دور کو وہ نہیں سمجھتے اور دوسرا یہ کہ اسلام کو نہیں سمجھتے۔ ان پر مکی دور کے بجائے مرتد ہونے کے مرحلے کا اطلاق ہوتا ہے اور ایک اور اہم بات یہ لکھی ہے کہ جو لوگ اسلام کو نظام حکومت سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ تبلیغی جماعت نظریاتی بنیاد پر نظام خلافت کے سیاسی ڈھانچے کی بھرپور مخالفت کرتی رہی ہے۔ جس حدیث میں اسلام اور حکومت کو دو جڑواں بھائی قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتے اسلام بنیاد ہے اور حکومت اس کی نگہبان ہے۔ جب یہ حدیث تبلیغی جماعت کے معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کے سامنے ہمارے ساتھیوں نے پیش کی تو اس نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ کس قسم کی حدیث ہے۔ تبلیغی جماعت نے اللہ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی تشریح کا جو معیار لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا ہے اس میں خلافت اوراسلامی حکومت کا کوئی تصور نہ تھا۔ میرے ذہن میں اس بنیاد پر ان کے ساتھ نظریاتی جنگ کی ضرورت تھی۔ لیکن قتل کرنے والی بات کا تعلق میرے نزدیک یہ تھا کہ شاید کسی خاص موقع پر ان کا رویہ ایسا ہوجائے جس کی وجہ سے ان سے قتال کا جواز پیدا ہو۔ لیکن نظریاتی بنیاد پر ان کو قتل کرنا میرے نزدیک شرعاً جائز نہ تھا۔ لیکن اب جب طالبان کے ساتھ ان کے گہرے روابط ہوگئے ہیں تو احادیث اور حالات کا نئے سرے سے جائزہ لینا پڑے گا۔
ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آزادی کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ میں نے سنا ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے جو خوب عبادت کرتے ہوں گے تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے سامنے حقیر جانے گا اور روزے کو ان کے روزے کے سامنے۔ یہ لوگ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔۔۔۔ (ابن ماجہ، حدیث 169)
اس روایت میں آزادی کا ذکر ہے، دہشت گردوں کی موجودہ جنگ بھی آزادی کے نام پر ہے۔ ان لوگوں کو اُمت مسلمہ کا بہت بڑا ہیرو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بد قسمتی سے اُمت مسلمہ کو جو نقصان ان لوگوں نے پہنچایا ہے اس پر مسلمانوں کا ہر طبقہ پریشان ہے۔ ابن ماجہ میں خوارج کے باب میں مسلسل روایات ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ان میں بہت مفید معلومات ہیں یہ اب ان خوارج پر ہے کہ احادیث رسول کو قبول کرکے اپنے رویے کو درست کرتے ہیں یا ان احادیث کے خلاف احتجاج بلند کرتے ہیں کہ ہماری عبادت اور آزادی کی جنگ کے ساتھ احادیث میں انصاف نہیں۔
جابر بن عبداللہؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جعرانہ میں سونا اور غنیمت کا مال بانٹ رہے تھے وہ بلال کی گود میں تھا کہ ایک شخص نے کہا عدل کرو اے محمد! کہ تم نے عدل نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خرابی ہو تیری پھر کون عدل کرے گا میرے بعد اگر میں نے عدل نہیں کیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اجازت دیجئے مجھے اے اللہ کے رسول کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اور بھی ساتھی ہیں۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے سینے میں نہیں اُترے گا۔ وہ نکل جائیں گے دین سے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 172)
اس روایت میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ خالی باتوں سے ان کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ جب وہ دہشت گرد کاروائی کریں یا ان کی پشت پناہی کریں تو قتل کرنے والی احادیث ان پر فٹ ہوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوارج کتے ہیں جہنم کے۔ (ابن ماجہ ، حدیث 173 )
ابن عمرؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک نئی جماعت پیدا ہوگی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ جب بھی ان کا کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا تو وہ منقطع کردیا جائے گا، بیس مرتبہ سے زیادہ یہ نکلیں گے یہاں تک کہ دجال ان کے سامنے نکلے گا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 174)
اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ بیس سے زیادہ مرتبہ خوارج ابھی نکلے نہیں ہیں اور نہ بیس صدیاں گزری ہیں تو اس میں دجال سے مراد آخری دجال ہوسکتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے خوارج گروہ در گروہ نکلتے رہتے ہیں اور نکلتے رہیں گے اس طرح دجالوں کا سلسلہ بھی مختلف زمانوں میں مختلف دجالوں کے ذریعے ہوسکتا ہے۔
عبد اللہ بن عمروؓ ، سمع النبی ﷺ یقول: سیخرج الناس من قبل المشرق یقرأون القرآن لا یجاوز تراقیھم، کلما خرج منھم قرن قطع حتی عدھا النبی ﷺ زیادۃ علی عشر مرات۔ کلما خرج منھم قرن قطع حتی یخرج الدجال فی بقیتھم
عبد اللہ ابن عمروؓ نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا : عنقریب مشرق سے کچھ لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ جب بھی ان کا کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا تو منقطع کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے دس مرتبہ سے زیادہ گنوایا، جب بھی کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا منقطع کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کے باقیات میں سے دجال نکلے گا۔ (الفتن، نعیم بن حماد، روایت 1498)اس روایت میں مشرق سے خوارج اور ان کے باقیات میں سے دجال کے نکلنے کا ذکر ہے ۔ ایران، افغانستان، پاک بھارت اور ایشیاء کی نو آزاد مسلم ممالک وغیرہ پر عرب کی جانب سے مشرق کا اطلاق ہوتا ہے۔ صحیح بخاری کے مصنف امام اسماعیل بخاریؒ سولہ سال کی عمر میں حج کے لئے تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے۔ آخری عمر میں اپنے شہر بخارا تشریف لے گئے تو ان کو اس وقت کے خوارج نے شہر سے نکال دیا۔ سمر قند والوں نے اپنے ہاں آنے کی پیشکش کی جب وہاں تشریف لے جانے لگے تو سمرقند کے خوارج نے بھی ان کے خلاف احتجاج کیا۔ چنانچہ ان کا سمرقند جانا بھی ممکن نہ ہوسکا اور کسمپرسی کی حالت میں بخارا اور سمرقند کے بیچ میں انتقال فرماگئے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کے معروف عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب ’’حضرت شاہ ولی اللہؒ کی سیرت ‘‘ میں علامہ رشید رضا مصری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ افغانستان میں ایک شخص نے نماز میں مسنون سمجھ کر تشہد کے لئے انگلی اٹھائی تو ان کی کاٹ دی گئی کہ یہ حنفی مسلک کی خلاف ورزی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان کو خوارج کے ہاتھوں قتل سے بچنے کے لئے دو سال روپوشی کی زندگی گزارنی پڑی۔ حالانکہ درس نظامی میں یہ بھی پڑھایا جارہا تھا کہ فارسی میں نماز پڑھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ عربی سے بہتر بھی ہے (دیکھئے نور الانوار، ملا جیون)۔ ملا عمر، طالبان اور تبلیغی جماعت روشن خیال حضرت شاہ ولی اللہؒ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ ، امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ ، مولانا محمد الیاس دہلویؒ بانی تبلیغی جماعت، مولانا محمد میاںؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر ہم خیال اکابرین کے پیروکار ہیں یا جمود کا شکار ہونے والے مخالفین کے۔ اس کا اندازہ لگانے کے لئے مولانا محمد میاںؒ کی کتاب ’’اسلام کیا ہے‘‘ کو دیکھنا مناسب ہوگا۔ دجال کے بارے میں جہاں مشرق اور خراسان کی تصریح ہے وہاں بیس میں سے دس مرتبہ کا عدد اشارہ کرتا ہے کہ یہ درمیانہ زمانے میں ہوگا۔ درمیانے زمانے میں ایک مہدی کی خوشخبری بھی ہے جس کے مقابلے میں کجرو جماعت ہوگی۔ اور اس کجرو جماعت کے ساتھ ساتھ خراسانی دجال بھی میدان میں ہوگا۔
انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم آخری زمانہ میں نکلے گی یا اس اُمت میں نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اُترے گا۔ ان کی خاص نشانی سر منڈانا ہوگی۔ جب تم ان کو دیکھو یا ان سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کرو۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 175) تبلیغی جماعت اوردیوبندی مکتبہ فکر کے بعض لوگ سر منڈانے کو افضل سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ ان کی خاص پہچان بن گئی ہے۔ آج دہشت گرد طالبان کے ساتھ جو ملا عمر کی سربراہی میں عوام کا قتل عام کررہے ہیں جو نام نہاد آزادی کی تحریک چل رہی ہے ان کی حمایت تبلیغی جماعت اور دیوبندی مکتبہ فکر کے بعض لوگ کرتے ہیں سب کو علی الاعلان مسلکی تعصب سے بالا تر ہوکر اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ورنہ عوام کے غیض و غضب سے ان کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یہ احادیث تنبیہ کے لئے کافی ہیں۔
ابی امامہؓ کہتے تھے بدترین مقتول آسمان کے چمڑے کے نیچے یہ لوگ ہیں (یعنی خوارج) اور بہتر ین مقتول وہ ہیں جن کو دوزخیوں کے کتوں نے قتل کیا (یعنی خوارج نے) ۔ یہ لوگ مسلمان تھے پھر کافر ہوگئے سو پوچھا میں نے ان سے کہ اے ابو امامہ یہ بات تم از خود کہتے ہو انہوں نے کہا نہیں میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 176)

  جس وقت پشتو کے یہ اشعار لکھے گئے تھے اگر اس وقت پشتون قوم اٹھتی اور طالبان کے مظالم کا راستہ روکتی تو آج PTMکے لوگ نہ روتے جو اس وقت چھوٹے تھے۔

پشتو اشعار اس وقت لکھے گئے جب پرویز مشرف کے دور میں معراج محمد خان مرحوم جیسے لوگ بھی طالبان کو خراج عقیدت  پیش کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عتیق الرحمن گیلانی 

01-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-dajjal-maulana-fateh-khan-of-tank-shaheed-pervez-musharraf

یہ امریکی کب تک کہیں گے کہ Do more مزید(قتل )کرواورمیرے حکمران کب تک کہیں گے کہ Give more مزید(ڈالر)دو۔

امریکہ ہمارے حکمرانوں پرمسلسل دباؤ ڈال رہاہے کہ کچھ مزیدکرولیکن مزیدکرنے کی کوئی وضاحت نہیں ہے کیونکہ مرض بڑھتاہی گیاجوں جوں دوا کی۔لگتاہے امریکہ کے ڈومورکامطلب یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پرپاکستان میں قتل وغارتگری کابازارگرم رکھنے کا مطالبہ ہورہاہے ۔ ایک طرف سی آئی اے دہشتگردوں کوبھرپورمددفراہم کررہی ہے اوردوسری طرف امریکی حکومت پاکستان کودہشتگردی کیخلاف مددفراہم کرنے کے نام پرپیسہ دے رہاہے لیکن یہ افسوسناک کھیل کب تک جاری رہیگا۔

02-ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristanایک (امریکہ) مفادات کی تجارت کررہاہے اوردوسرا (ہمارا حکمران) ڈالروں کی مددکی خاطریہ لعنت کررہاہےمیں پختون گھرگھرغم سے لتھڑاہواہوں ۔

امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے پہلے بھی مجاہدین کو تیارکیا،طالبان کی حکومت قائم کی اوراب بھی وہ کسی ایسی حکومت کے قیام کا خواہاں ہے جوعوامی حمایت بھی رکھتی ہواوراس کے مفادات کابھی تحفظ کرتی ہو، نوآزاد مسلم ریاستوں سے تیل ، اس خطے کی معدنیات اوردوسرے وسائل پرقبضہ کرنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اوراس کے اتحادی اپنے مفادات کی تجارت کی جنگ لڑ رہے ہیں اورپاکستان وافغانستان کی حکومتیں اورلوکل تنظیمیں امریکہ حامی اورامریکہ مخالف قوتوں سے ڈالر لیکریہ لعنت کررہے ہیں ۔ اوراس میں افغانستان ، بلوچستان اورسرحدکے پختونوں کو ہی گھرگھرمصیبت میں مبتلاکردیاگیاہے۔بین الاقوامی مفادات کی جنگوں کی آماجگاہ پٹھانوں کے علاقے ہیں جس کی وجہ سے گھرگھرصف ماتم بچھی ہوئی ہے۔پختون قومی قیادت باربارکہہ رہی ہے کہ یہ آگ سرحدتک محدودنہیں رہے گی لیکن سول و آرمی اسٹیبلیشمنٹ کے مخصوص لوگ ملکی سیاسی ومذہبی بعض قیادت اور میڈیاکے بعض چینلز اور اینکرز مسلسل اس عالمی اورمقامی سازش کونہ صرف نظراندازکرتے رہے ہیں بلکہ اس کو تقویت بحی پہنچاتے رہے ہیں

03-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameelوزیرستان سے سوات تک ایک ننگاڈرامہ ہے شلوار ہم سے اترچکی ہے ہم طعنوں سے بچ نہیں سکیں گے۔

وزیرستان سے سوات تک سارے علاقے میں ایک ننگا ڈرامہ ہورہاہے ، ڈرون حملے ، فوجی کاروائیاں اوردہشتگردوں کی قتل وغارت صرف اورصرف عوام کو ڈسٹرب ، قتل اوربے عزت کرنے کیلئے ہے۔ کبھی امریکہ بیت اللہ محسودپرپچاس ہزارڈالرکاانعام رکھتاہے اورکبھی پاکستان کہتاہے کہ ہم نے امریکہ کودودفعہ بیت اللہ محسود کی مخبری کی لیکن امریکہ نے اس کو نہیں مارا۔ صحافی زیدحامد کہتاہے کہ بیت اللہ محسودامریکہ کا آدمی ہے ،لیکن جاویدچودھری جیساآنکھیں اپنی حدودسے نکال کرسوال کرنے والاصحافی زیدحامدسے یہ نہیں پوچھتاکہ پھربیت اللہ محسودکوہماری فورسز کیوں نہیں مارتیں ؟ صحافی ہارون رشیدکہتاہے کہ بیت اللہ محسود انڈیا کا آدمی ہے۔ صحافی حامدمیرکا کہناہے کہ طالبان میں اسرائیل کی موسادکے تربیت یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ جوکچھ بھی ہورہاہے ان علاقوں کے رہائشیوں پریہ سب کچھ مسلط کیاگیاہے جس کی وجہ سے ان کی آزادی ختم ہوگئی ہے ، ان کی غیرت کا جنازہ نکل چکاہے اوران کی پردہ دارخواتین ، بچے، بوڑھے اورجوان کیمروں کی آنکھ کے سامنے بھکاریوں کا منظرپیش کررہے ہیں، ان کو خودساختہ ہجرتوں پرمجبورکردیاگیاہے، ان کومن حیث القوم دہشتگردسمجھاجارہاہے، لوگ ان کے کلچر، ان کے اسلام اوران کی انتقامی کاروائیوں سے خوفزدہ ہیں اوریہ سب کچھ ان علاقوں کی بھاری اکثریت نہیں بلکہ چندبکے ہوئے بے غیرت اوربے ضمیردہشتگردوں کی وجہ سے ہورہاہے اورایک وقت آئے گاکہ اگریہاں کے لوگوں نے ان دہشتگردوں کواپنے ہاں سے مارنہیں بھگایاتویہ دنیابھرکی طعنہ زنیوں سے نہیں بچ سکیں گے۔

04-ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristanمشرف نے میرے خون پرکراچی کی تعمیرکرلی ہے اس وقت اگرطالبانائیزیشن پر غور کیا جاتا۔

وزیرستان میں طالبان نے ابھی جڑنہیں پکڑی تھی کہ ان کے جلسوں کوکامیاب بنانے کیلئے کراچی سے بسیں بھربھرکے جاتی تھیں ،گویاطالبان مشرف کے دورمیں ہی بڑی تعدادمیں کراچی میں موجودتھے۔ اس دوران کراچی کوجوترقیاتی فنڈزملے ہیں کراچی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اگراس وقت پرویزمشرف وزیرستان میں طالبان کیخلاف نام نہادکاروائی کرسکتاتھاتوکراچی میں طالبان کیخلاف حقیقی کاروائی بھی ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہوئی ، کاش اس وقت ہی سندھ کی قوم پرست جماعتیں اورخصوصاً پرویزمشرف کے اتحادی ایم کیوایم والے کراچی میں طالبانائیزیشن کیخلاف کھڑے ہوتے، نشترپارک کاخودکش دھماکہ ، علامہ حسن ترابی کاقتل اوربے نظیربھٹوکے جلوس پرحملہ بھی اسی دورمیں ہوا، اس دھماکے سے قبل بعض ٹی وی چینلوں پریہ خبرنشرکی گئی کہ جلوس کے راستوں کی لائٹیں بندکردی گئی ہیں اورمیں خودلائیو دیکھ رہاتھا۔ آج بھی پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم مل کراس سازش سے پردہ اٹھاسکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے ایک لیڈرنے بڑے فخرسے کہاکہ ہمیں طالبان سے لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم اس سازش میں نہیں آئے۔ بینظیر بھٹوکی شہادت کے بعداملاک کوکتنانقصان پہنچایاگیایہاں تک کہ بعض غریب مزدورفیکٹریوں اورملوں میں زندہ جلادیئے گئے۔ امام حسینؓ کی شہادت کے بعد ان کے سرمبارک کوایک شہرسے دوسرے شہرتک لے جایاگیالیکن کسی نے احتجاج تک ریکارڈنہیں کروایا۔ ایم کیوایم اورسندھ کی قوم پرست جماعتیں طالبان کے خلاف کھل کرمیدان میں آئی ہیں اورکسی کوبھی طالبان کی ان دھشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ہمدردی نہیں ۔ لیکن خوف اوردہشت کیوجہ سے کوئی میدان میں نہیں آتا۔ اگرسندھی قوم پرست اورایم کیو ایم ملکراپنانیٹ ورک بنالیں تویہ سندھ میں لسانیت کے بجائے پاکستان کے قومی اتحاد کیطرف ایک اچھابیس بن سکتاہے۔ فرقہ واریت سب سے بڑاناسورہے اگراس کی آگ بھڑک اٹھی توا س کو بجھاناممکن نہیں رہیگا۔ دہشتگردی کی لپیٹ میں بھی پوراملک آسکتاہے اورجہاں کہیں کوئی وبا لگے وہاں سے بڑی تعدادمیں لوگوں کے منتقل ہونے سے یہ وبادوسری جگہوں پربھی پھیل سکتی ہے۔اس لئے پختونوں کو برامنانے کے بجائے اپنے حدودمیں دہشتگردی کیخلاف اٹھ کھڑاہوناہوگا۔ اگرچندہزاردہشتگردوں کولاکھوں لوگ نہیں مارسکتے توپھرافواج پاکستان سے گلہ کرنابھی درست نہیں، وہ کیاجانتے ہیں کہ کس گھرمیں کون دہشتگردبیٹھاہے یہ ہم نے خودکرناہوگا۔

05-halala-teen-talaq-fatawa-mujaddidiyah-naeemia-talaq-e-salasa-jamia-binori-town-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-allama-tamanna-imadi-khula-reham-khan-imran-khan-usool-us-shashi-saleem-ullah-khaاگرظالموں کا سامناہماری فوج نہیں کرسکتی تواے خدا!پھران خاکی کتوں کازورتوڑ دے۔ (اس میں اس تاثر کی ترجمانی ہے کہ ہماری فوج طالبان اور امریکہ کے ساتھ مل کر عوام کو تباہ کررہی ہے۔ خدا کرے کہ فوج اس تاثر کو ختم کرے۔ )

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سیکیورٹی فورسزکی ہمدردیاں پہلے طالبان کیساتھ تھیں ، پرویزمشرف بھی برملاکہاکرتے تھے کہ ایک باہرکے دہشتگردہیں اوردوسرے ہمارے مقامی لوگ ہیں۔ باہروالوں کوہمارے ہاں سے کسی دوسرے کیخلاف کاروائی کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی رجسٹریشن کرالیں اورپھر رہیں اورمقامی طالبان وہ ہیں جوگمراہ کیے گئے ہیں ان کی ہم نے ذہن سازی کرنی ہوگی۔ طالبان کیخلاف کاروائیوں کے دوران کھلے عام محسودایریامیں مقامی طالبان کے کیمپ کوجلسہ کے دوران نشانہ بنایاگیاجس میں طالبان کا کوئی قابل ذکرکمانڈریاکارکن نہیں مرا۔ پھر جب عام لوگ اس کیمپ کیطرف دوڑتے ہوئے آئے توان کوخصوصی طورپرٹارگیٹ کیاگیا۔ سرحدکے سابقہ گورنرافتخارحسین گیلانی نے جب قبائلی عمائدین کواسی دن بلایاتوتفصیلات پیش کیں کہ ازبک وانہ سے اس طرح سے محسودایریامیں داخل ہوئے فلاں فلاں کے پاس اتنے اتنے دن رکے اوربتایاکہ اسی کیمپ کے نزدیک ازبکوں کابھی کیمپ تھا۔ جس پر جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولٰناعصام الدین محسودنے گورنرصاحب سے معذرت کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایاکہ جب آپ کو معلوم تھاکہ قریب میں ازبکوں کاکیمپ بھی تھاتومقامی طالبان کے کیمپ کونشانہ بنانے کے بجائے غیرملکیوں کے کیمپ کوکیوں نشانہ نہیں بنایاگیا ؟ جس پرافتخارحسین گیلانی نے غصہ سے یہ جواب دیاکہ ’’اگرہم آپ کو نشانہ نہ بناتے توپھرامریکہ نے خودنشانہ بناناتھا‘‘۔ یہ بات پورے وزیرستان میں پھیل چکی تھی اورہمارے اخبار’’ماہنامہ ضرب حق کراچی‘‘ کی زینت بھی بنی تھی۔ گورنرگیلانی کے اس جواب سے دوباتیں واضح طورپراخذہوتی ہیں ایک یہ کہ ازبکوں کونشانہ بنانے کے بجائے مقامی لوگوں کوجان بوجھ کرنشانہ بنایاگیااوردوسرایہ کہ ایساامریکہ کے ایما پرکیاگیا۔اس کے بعدطالبان تحریک نے مولاناعصام الدین کے نام کوٹارگٹ کلنگ کیلئے سرفہرست قراردیا اورنادان لوگ خوشیاں منارہے تھے کہ اب مولاناعصام الدین مزہ چکھ لیں گے۔ خیرمولاناعصام الدین نے طالبان سے معافی تلافی کرلی ہوگی۔ بعدمیں ایجنسیوں کیطرف سے طالبان کے حمایتوں میں مولاناعصام الدین کانام بھی شامل تھا۔ موجودہ سینیٹرمولاناصالح شاہ سے کسی نے کہاکہ طالبان نے آپ کو ڈرادیاہے تواس نے جواب دیاکہ میں ان للوپنجوؤں کوخوب جانتاہوں ابھی ہم گورنرہاؤس نہیں پہنچے تھے کہ اس حملے کی وڈیو ریکارڈنگ گورنرکے پاس پہنچ چکی تھی۔ واضح رہے کہ موقع پرہی غیرملکی ازبک وغیرہ اس واقعہ کی ویڈیو بنارہے تھے ۔ اس کے بعدطالبان کے پاس جب محسودعمائدین کاجرگہ روانہ کیاگیاتوان کو بھی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایاجس میں تیرہ افرادقتل ہوئے ۔ اس پر انہوں نے احتجاج بھی کیاکہ ہمیں جان بوجھ کرٹارگٹ کیاگیالیکن بعدمیں رقم لیکروہ خاموش ہوگئے اورسمجھ گئے کہ حکومت طالبان کوختم کرنانہیں پروان چڑھاناچاہتی ہے۔ سینیٹرصالح شاہ نے ایک مرتبہ سابقہ ایم این اے مولانامعراج الدین قریشی کی موجودگی میں بتایاکہ مولانادین سلام وزیرکوسیکیورٹی فورسز والے اٹھاکرلے گئے تھے جب اس کی رہائی ہوئی تومیں اس کے پاس گیا۔ مولانادین سلام مسجدمیں بیٹھ کرازبکوں کوواہیات گالیاں بک رہے تھے میں نے کہاکہ خیال رکھومسجدہے۔ مولانا دین سلام نے تفصیل سے بتایاکہ پہلے ازبک میرے پاس آئے کہ ہمیں رہنے کیلئے جگہ چاہیے میں نے انکارکیاکہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے توانہوں نے مجھے پیسے دیے جس پر میں نے بیٹھک بنالی اوروہ یہاں رہنے لگے ۔ کچھ عرصہ بعدکچھ فوجی آئے اورمجھے اٹھاکرلے گئے میں نے بہت انکارکیاکہ میں نے ازبکوں کو کوئی جگہ نہیں دی تھی لیکن ازبکوں نے میری ساری باتوں کوریکارڈکرلیاتھااگرمیں نے ان کے ساتھ چائے پی تھی تواس کی ویڈیوبھی انہوں نے فوجیوں کو دی تھی ۔ پھر میں نے غورسے ایک شخص کو دیکھاجوڈاڑھی مونڈھاتھااوراس کو پہچان لیاکہ یہ تووہی شخص ہے جوپہلے میرے پاس ازبکوں کو لیکر آیاتھا۔ جس کی وجہ سے مجھے بڑی تکلیف پہنچی۔ فوجیوں کے طالبان کیساتھ تعلقات کے بہت حوالے عام لوگوں میں مشہورہیں ، اے این پی کی حکومت کے بعض قائدین بھی پہلے مسلسل یہ الزام لگاتے رہے اوروہ اس وقت ٹارگٹ بھی ہوتے رہے۔ اب صورتحال کیاہے وہ اللہ کو معلوم ہے لیکن طالبان کے حوالہ سے میڈیامیں جوکچھ اب آرہاہے طالبان شروع سے ذبح کرنے اوردوسرے دہشتناک انسانیت سوزمعاملات میں نہ صرف ملوث رہے ہیں بلکہ دنیابھرمیں وہ اپنی ویڈیوزبھی پہنچاتے رہے ہیں ۔ اگرپہلے افواجِ پاکستان کے بعض افرادکی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں توانسان ہونے کے ناطے ان کی نیک نیتی پرشک نہیں کیاجاسکتالیکن اگریہ ہمدردیاں امریکہ کے کہنے کیوجہ سے تھیں اورامریکہ کے کہنے پرہی یہ ڈبل گیم میں ملوث تھے توان کوکٹہرے میں لاکرسزادینی چاہیے۔ اسطرح اے این پی کے رہنماسینیٹرزاہدخان نے الزام لگایاکہ بنیرمیں سیدمحمد جاویدسابقہ کمشنرمالاکنڈ ڈویژن نے طالبان کیساتھ سازبازکرکے مقامی لشکر کو مروایاہے تواس کی تحقیقات منظرعام پرلانی چاہیے اوراس کوکڑی سے کڑی سزادیے بغیرشکوک وشبہات کودورنہیں کیاجاسکتا۔ ایک موقع پرفوج کے ترجمان آئی ایس پی آر یاکسی اورذمہ دارفوجی افسرنے میڈیاکے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ طالبان کی قیادت کوٹارگٹ نہ بنانے کافیصلہ سیاسی قیادت کا ہے ‘‘ ۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ بیت اللہ محسود،فقیرمحمداورفضل اللہ ودیگرطالبان قیادت کوکس سیاسی قیادت کے فیصلے کی وجہ سے ٹارگٹ نہیں کیاجارہاہے ۔ امریکہ نے بھی سوات میں طالبان قیادت کی زندہ سلامت رہ جانے کے باوجودصورتحال کواطمینان بخش قراردیاہے اورکہاہے کہ بیت اللہ محسودکیخلاف کاروائی کرنایاناکرناپاکستان کی اپنی صوابدیدپرہے۔ ڈرون حملے پربھی امریکہ کا کہناہے کہ پاکستان نے کوئی بات نہیں کی جبکہ وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے وضاحت میں کہاکہ ہم نے ڈرون پربات کی تھی۔ اگرامریکہ کی طرف سے دہشتگردی کی مددپرمجبورکیاجارہاہے توکھلے عام لوگوں کو بتایاجائے تاکہ عوامی طاقت سے اسکا مقابلہ کیاجاسکے۔ عام لوگوں کے اندرعجیب وغریب قسم کے تأثرات پائے جاتے ہیں۔ ایک تھانے کا ایس ایچ او اسی پولیس اسٹیشن میں جاناپسندکرتاہے جہاں کرائم ہوتے ہیں اوران ہی کرائم سے پولیس والوں کی روزی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ کراچی میں لیاری گینگ وارمثال کیلئے کافی ہے۔ کہیں طالبان کوبھی انہیں مقاصدکیلئے تومعاشرے میں زندہ نہیں رکھاجارہاہے۔ جمہوری قوتوں کوبلیک میل کرنے کیلئے بھی طالبان کاحربہ سمجھ سے بالاترنہیں اوربین الاقوامی قوتیں اگرطالبان کوزندہ رکھنے میں مدددے سکتی ہیں توہماری فورسزمیں بھی ایسے لوگوں کورکھاجاسکتاہے۔ ایکطرف امریکہ آئی ایس آئی پر الزام لگاتارہا اوردوسری طرف جنرل اشفاق پرویزکیانی کے دورمیں جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ 2005 سے 2007 تک پاکستان میں طالبان کی گروتھ بہت بڑھ گئی ہے اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی امریکہ اوربرطانیہ وغیرہ کے نزدیک شفاف کردارکے مالک بھی قراردیے جاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ماجرا کیاہے ؟ جب بے نظیربھٹوکاقتل ہواتھاتوبھی میڈیامیں اس سے پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کوڈالردیتے ہوئے دھرلیے گئے ہیں جس پر وہ پریشان ہونے کی بجائے مسکرارہے تھے ۔ ہفت روزہ اخبارجہاں کراچی کے اس شمارے میں بھی اس کی تفصیل ہے جوبے نظیربھٹوکی شہادت کے بعداس کی تصویرکیساتھ شائع ہواتھا۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی وغیرہ نے اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں لیااورنہ ہی میڈیامیں اس کو اس طرح سے اچھالاگیاجس طرح دوسرے معاملات کو اچھالاجاتاہے۔جنرل حمیدگل نے سوات سے لیکروزیرستان تک طالبان کی طرف سے ذبح کیے جانے ، لوگوں کولٹکائے جانے اورلاشوں کی بے حرمتی کرنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ یہاں یہ سب کچھ اسلام کو بدنام کرنے کیلئے کروارہاہے وہ یہاں بنٹے کھیلنے تونہیں آیاہے۔اگرجنرل(ر)حمیدگل کے مطابق طالبان کے مراکز میں امریکی گیم کھیلاجارہاہے تومحب وطن طالبان ان کیخلاف کیا کررہے ہیں اور انکی سرپرستی کرنے والے حاضرسروس اور ریٹائرفوجی افسر کیونکرامریکہ کہ پٹھوں نہیں ہیں؟
جیوکے پروگرام 50 منٹ میں عبدالرؤف نے ایک اچھاپروگرام پیش کیاجس میں عوام کیطرف سے الزام لگایاگیاکہ فوج طالبان کیساتھ ملی ہوئی ہے ۔ اورپھراسفندیارولی ، وزیراعظم ، صدراورفوج سمیت تمام سیاسی اور مقتدرافرادکامتفقہ فیصلہ میڈیاپرسنایاگیاکہ اب طالبان کے ساتھ سوات میں کوئی فائربندی نہیں ہوگی لیکن اس کے بعد طالبان نے فائربندی کا اعلان کیااورصوفی محمد کو سامنے لایاگیا۔ یہ سب کچھ سیاسی جماعتوں کی تائیدسے ہوتارہااورجب طالبان سوات سے ایک طویل سفرطے کرکے بنیرآرہے تھے توانکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے بجائے الٹاطالبان کی حکومتی مددکی گئی اورپھر اچانک برداشت کادامن ہاتھ سے چھوٹ گیالاکھوں لوگوں کوٹرانسپورٹ کی سہولت کے بغیربچے، خواتین اوربوڑھوں سمیت کیمپوں میں لایاگیا اورمیاں افتخارحسین ترجمان سرحدحکومت نے میڈیاسے کہاکہ ’’روپوں سے کام نہیں بنتاڈالروں میں کرنسی چاہیے‘‘۔ ہمیں کسی کے خلوص پرشک نہیں اوران کی مجبوریوں کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتالیکن ہرچیزکی ایک حد ہوتی ہے اوراگرمعاملہ حدودسے بڑھ جائے توفوج سے نفرت ، جمہوریت سے اعتمادکا اٹھ جانااور مذہبی قیادت کومستردکیے جاناایک فطری بات ہوتی ہے۔ ان اشعارمیں عوام کی سوچ کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

06-yahoodi-muhammad-hindu-hindu-network-hindu-girl-mudi-sarkar-quran-us-aid-cybersipahi-orgسیاسی اورمذہبی قیادت پربھی اعتمادنہیں رہاہے میرے رب !انقلاب کیلئے کسی اورکو لے آ۔

 مذہبی اورسیاسی قیادتوں پربھی عوام کو اعتمادنہیں رہاہے ، یہ لوگ خوف، طبقاتی کشمکش اوراپنے مفادات کیلئے گرگٹ کیطرح رنگ بدلتے رہتے ہیں، اندرون خانہ کچھ کہتے ہیں اورمیڈیاسے کچھ کہتے ہیں ، آئے روزان کا مؤقف بدلتارہتاہے۔ مولانافضل الرحمن کبھی کہتے ہیں کہ طالبان کوہمیں خراب کرنے کیلئے وجودمیں لایاگیا۔ بارہااس قسم کے بیانات دینے کے باوجودموقع پراپنے اس مؤقف کا اظہارکرنے سے گریزکرجاتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق اوردوسرے رہنماطالبان کی حمایت کرتے رہے لیکن کبھی کباریہ اظہاربھی کیاکہ فوج طالبان کیساتھ ڈرامہ کرکے عوام کو تنگ کررہی ہے۔ اگریہ مؤقف جمعیت علماء اسلام اورجماعت اسلامی کے رہنمااس وقت اپناتے جب اے این پی میدان میں آئی تھی توعوام کے شعورمیں خاطرخواہ بیداری آتی اوریکجہتی کی ایک فضاء قائم ہوتی ۔ قاضی حسین احمد نے بھی ایک موقع پر کہاتھا کہ کراچی میں طالبانائیزیشن اس وقت ہوگی جب حکومت چاہے گی اورجب وزیرستان میں دومعروف قبائلی عمائدین ملک خاندان محسوداورملک میرزاعالم وزیر کوقتل کیاگیاتھاتوقاضی حسین احمد نے کہاتھاکہ یہ امریکہ نے کروایاہے حالانکہ یہ ڈرون حملوں کی کاروائی نہیں تھی بلکہ مقامی طالبان نے یہ کاروائی کی تھی۔ لیکن پھر گاہے بگاہے جب عوام کوطالبان نے ماراتوقاضی حسین احمداس کوعمل کا ردِعمل قراردیتے رہے ۔ باجوڑ پرامریکی حملے میں تیرہ افرادمارے گئے توجماعت اسلامی کے ہارون رشیدنے ایم این اے کی سیٹ سے استعفیٰ بھی دیامگرساتھ ہی اول آخریہ بھی بکتارہاکہ اٹھارہ افرادمارے گئے ہیں۔ حالانکہ تیرہ کی قبریں ہیں اورباقی پانچ کی لاشوں کاجاسوس طیاروں کی موجودگی میں غائب کیاجاناممکن نہ تھا۔ مولانافضل الرحمن نے بھی میڈیاکے سامنے تیرہ افراد ہی کا ذکرکیاتھا۔ متحدہ قومی مومنٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست پربیرونی حملے کیخلاف کراچی میں بھرپوراحتجاج کیاتھالیکن مذہبی اورسیاسی جماعتوں نے کبھی اندرونی اوربیرونی سازشوں کیخلاف متحدہونے کی کوشش نہیں کی ۔ جب طالبان تربیلا ڈیم کے دہانے پرپہنچ گئے تومولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں آواز بلندکی جس کومسلم لیگ (ن) کے سیدظفرعلی شاہ نے منفی رنگ دیتے ہوئے کہاکہ فضل الرحمن بھی وہی بات کررہے ہیں جوامریکہ کی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کررہی ہے۔ حالانکہ ہیلری کلنٹن سے نوازشریف کی دوستی ہے مولانافضل الرحمن کی نہیں۔ نوازشریف کے پاس امریکیوں کاتانتا بندھارہتاہے لیکن مناواں پولیس اسٹیشن اورلبرٹی چوک میں مہمان کرکٹ ٹیم پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں نے کبھی امریکیوں پر حملہ نہیں کیا ۔ ہمارے سیاسی رہنمامالاکنڈکے کیمپوں میں نہیں جاسکتے لیکن یہودی امریکی رہنمابرائے پاکستان وافغانستان ہولڈ بروک آسانی سے اعتماد کیساتھ چلے جاتے ہیں۔ تربیلاڈیم کواڑانے کامنصوبہ بھی بعیدازقیاس نہ تھا۔ بھارت کا ایک ناول ’’تربیلااڑاؤ پاکستان جھکاؤ‘‘بھی شائع ہواہے اورجب طالبان میں کھلم کھلاانڈیا، اسرائیل اورامریکہ کے ایجنٹ موجودہیں تووہ پاکستان کواندھیرے میں دھکیل سکتے تھے۔ کراچی میں فرانسیسی انجینیئروں کوبھی دہشتگردوں نے امریکی سی آئی اے کے کہنے پرقتل کیاہوگا۔ فرانس سے ایٹمی ٹینکالوجی میں مددلیکرپاکستان میں بجلی کے بحران کوختم کرناچاہیے اورکالاباغ ڈیم کے پانی کا ذخیرہ اوربجلی کاوسیلہ بھی بہت ضروری ہے۔ جس میں سندھ کومطمئن کرکے قدم اٹھاناچاہیے۔ اگراسلامی تعلیمات کیمطابق زرعی زمینوں کوکاشت کرنے کیلئے کرایہ، بٹائی اورمزدوری کاسلسلہ ختم کیاجائے توغلامی جیسی زندگی گزارنے والے مزارعوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بجلی دستیاب اورسستی ہوگی تواس نعمت سے بہت زبردست خوشحالی کے نتائج برآمد ہونگے۔
سیاسی جماعتوں کی ناعاقبت اندیشی کیوجہ سے عوام میں مایوسی کا پھیل جانافطری بات ہے۔ وکیل رہنمااوربے داغ سیاسی کردار کے مالک اعتزاز احسن کیساتھ نوازشریف نے وعدہ کیاکہ وہ ان کے مقابلے میں کسی کوکھڑانہیں کریں گے اوراعتزاز احسن اس امیدکا اظہارکرتے رہے کہ پیپلزپارٹی ان کو ٹکٹ دے گی لیکن نوازشریف صاحب نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اعتزاز احسن کے بجائے صدرآصف زرداری کووہ سیٹ دے دی۔ کھاؤپیواورعیش اڑاؤ میڈیاکے ا ینکروں نے کبھی نوازشریف کی اس وعدہ خلافی کاسوال بھول بھی نہیں اٹھایا۔ آئی ایس آئی کے سابقہ آفیسرخالد خواجہ نے ڈاکٹرشاہدمسعودکے حوالہ سے بتایاکہ جب امریکہ این آر اوپرپیپلزپارٹی سے ڈیل کررہی تھی توامریکہ کے اندرکے معاملات سے پتہ چلاہے کہ امریکہ کا اصل گھوڑانوازشریف ہے ۔ ہمارے ہاں ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح ایم این اے اورایم پی اے کیلئے استعمال ہوتی ہے جیسے بے نظیربھٹوکی قیادت میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کیخلاف جب تحریک عدم اعتمادکی تحریک چلائی گئی توپیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد مانیکاوغیرہ گھوڑوں کو خریدلیااوراب شریف برادران نے صحیح وقت پرمسلم لیگ (ق) کے عطاء محمد مانیکاکوہاتھ میں لے لیاتھا۔ موجودہ الیکشن کے دوران چودھری پرویزالٰہی مسلسل الزام لگارہے تھے کہ نوازشریف پیپلزپارٹی کی بی ٹیم ہے اورشریف برادران نے مجاہدین سے غداری کی ہے لیکن جوں ہی الیکشن کے نتائج سامنے آئے توپرویزالٰہی نے یہ راگ الاپناشروع کیاکہ پیپلزپارٹی کوپنجاب میں اپنی حکومت بنانے کاموقع ضائع نہیں کرناچاہیے اوراگر اسوقت پیپلزپارٹی چاہتی تومسلم لیگ (ن) کوپنجاب میں بھی حکومت سے محروم کرسکتی تھی لیکن قاتل لیگ کیساتھ سیاسی ساکھ کامسئلہ تھا۔ اورپھرجب پنجاب حکومت ختم کی گئی توشریف برادران نے پارلیمنٹ کوجعلی اورموجودہ سسٹم سے بغاوت کااعلان کیا لیکن اس سے قبل 1973 ؁ء کے آئین کوسب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹونے معطل کردیااورعطاء اللہ مینگل کی جمہوری حکومت کوختم کرکے سرداراکبربکٹی کوگورنربنایاگیا۔ بلوچستان کی حکومت کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پنجاب کے سیاسی کارکنوں نے دی تھی اورآج بلوچستان میں غریب پنجابیوں کوماراجارہاہے۔ جب وانہ میں مقامی لوگوں اورازبکوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی توازبکوں سے مقامی لوگوں کی جان نکلتی تھی پھروہاں پنجابی طالبان کولایاگیاجسکی وجہ سے ازبکوں کومحسودایریاکیطرف بھاگناپڑا۔ ایک اہم ازبک رہنماافغانستان فرارہوتے ہوئے امریکیوں کے ہاتھ آگیاجوغالباً قاری طاہریلدوشوف تھااوربعدازاں اسکوپھر چھوڑدیاگیا۔ سیاسی اورمذہبی رہنماؤں کواپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے درست سمت قدم بڑھانے ہوں گے ورنہ مفادات کے اسیرکارکن اورعوام کسی اورجانب سوچنے پرمجبورہوں گے۔جمہوری حکومتیں سیاسی قائدین کی مقبولیت کیوجہ سے معرض وجودمیں نہیں آتیں بلکہ ایک سیاسی جماعت حکومت کرتی ہے تواس سے نفرت کے نتیجے میں دوسروں کو لایاجاتاہے جب۱۹۸۵میں غیرجماعتی الیکشن ہوئے تومعروف سیاسی جماعتوں کے بائی کاٹ کے باوجودملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ ریکارد ووٹ کاسٹ ہوئے گویا یہ سیاسی عمل سیاستدانوں کے دور ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول بن گیا۔جس کااعتراف محترمہ بے نظیر بٹھونے اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے کیا ۔اورمولانافضل الرحمان نے اے پی ڈی ایم کی طرف سے بائیکاٹ کے وقت اپنے خلفشارکااظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ قوم بائیکاٹ کرنے والوں کومسترد کردے گی۔بے خبرعوام جمہوری عمل کے بدترین دھوکہ اور روزبروزبڑھتی مایوسی کاشکار ہیں ۔مشاورت میں عوام کوشریک کرنے کاعمل بہت ضروری ہے لیکن صوفی محمدکی اکیلی ذات کومعاملات سپردکیے جاسکتے ہیں تومحمودخان اچکزئی، مولانافضل الرحمن، اسفندیارولی ، قاضی حسین احمد اوردوسرے مقامی رہنماؤں کی مشاورت کے ذریعے سے معاملات کو کیوں حل نہیں کیاجاتا ؟ اے پی ڈی ایم کے سیاسی اتحادمیں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ محب وطن پاکستانی مسلم لیگ (ن)،جماعت اسلامی اورتحریک انصاف کووطن دشمن قوم پرست جماعتوں کے قائدین کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملااورایک دوسرے کیخلاف جوغلط فہمیاں تھیں وہ دورہوگئیں کیونکہ قوم پرستوں کے نزدیک یہ وفاق پرست محب وطن نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کے الہ کارتھے ۔ تحریک انصاف کے جیسی یکفردی سیاسی جماعت کے سربراہ نے پہلے الیکشن میں دعویٰ کیاکہ وہ سب کوکلین بولڈکردے گالیکن خودہی ہوا، ظالمو قاضی آرہاہے کی اسلامک فرنٹ کے بہت اشتہارات کے باوجودبھی ظالم قاضی نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے ایک انتہائی مخلص کارکن اوررہنماگل شاہ عالم برکی کوطالبان نے زندہ غائب کردیالیکن عمران خان کوکبھی اپنے کارکن پرغیرت نہیں آئی ۔ پرویزمشرف ریفرنڈم میں تحریک انصاف کا قائدعمران خان حمایت کررہاتھااورتحریک انصاف کاغیرفطری جنرل سیکریٹری معراج محمد خان ریفرنڈم کی مخالفت کررہے تھے۔ یہ واقعی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی کہلائی جاسکتی ہے لیکن اصولوں کی خاطر جینے والامعراج محمد خان اپنے عہدے سے ہاتھ دھوبیٹھااورعمران خان کوشرم نہیں آئی کہ وہ مستعفی ہوجاتا۔ جب معراج محمد خان شروع میں تحریک انصاف سے جت گئے تھے تومیں نے معراج محمد خان سے عرض کیاتھاکہ آپ کا اس پارٹی میں جانابالکل غیرفطری ہے اورعمران خان اورآپ کے مزاج میں مطابقت کاکوئی امکان ہی نہیں ہے۔
کابل میں کوئی نامعلوم فردکے عیسائی ہوجانے کی خبرجنگل کی آگ کیطرح میڈیاپرپھیلائی جاتی ہے اورمذہبی رہنماسراپااحتجاج بن جاتے ہیں لیکن عمران خان کی بیوی مرتدبن جاتی ہے یامسلمان ہوکرعیسائی اوریہودی سے رشتہ جوڑتی ہے توکوئی مذہبی رہنمااورمیڈیاکاکارندہ اس کی مخالفت نہیں کرتا۔صحافی ہارون رشیدتویہ بھی کہہ سکتاہے کہ ایک صوفی نے مراقبے سے سراٹھایااورفرمایاکہ حضوروالاعمران خان کی سابقہ زوجہ محترمہ ایک بہت بڑی صوفیاہیں لیکن یہ رازکی باتیں ہیں سیاسی رہنمااورمذہبی لوگ ان رازکی باتوں کوکیاجانیں ؟ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ جب نوازشریف پرمشکل وقت تھاتوعمران خان نے سب سے زیادہ گالیاں دیں۔ ہم نے اپنے اخبارکے پہلے اداریے میں فوجی حکومت کی مخالفت کی تھی۔ جب پورے ملک میں خوشیاں منائی جارہی تھیں، ہمارے ہاں یہ ٹرینڈ بن گیاہے کہ دوسروں کوتکلیف پہنچنے پرغم کے بجائے خوشی منائی جاتی ہے۔ اس دوران جب ٹانک میں فوجی گاڑیوں کوجمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولٰناعصام الدین نے دیکھاتوپاک فوج زندہ بادکے نعرے لگائے۔ میں نے ان سے عرض کیاکہ فوج کاکام عوام پرحکومت کرنانہیں اوران کی تربیت بھی دشمنوں کیلئے ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ بعدآپ کو پتہ چل جائے گاکہ نوازشریف کی جمہوری حکومت اس سے بدرجہابہترتھی پھر جب نائن الیون کے بعدپرویزمشرف کیخلاف مظاہرے ہوئے تومیں نے مولٰناعصام الدین سے پوچھاکہ اب بتاؤ۔ انہوں نے کہاکہ ہم گدھے ہیں سیاست کیاسمجھتے ہیں۔ مولانا عصام الدین نے مجھ سے پہلے کہاتھاکہ سارے مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اورتنظیموں کے سربراہوں کووزیرستان بلوالیتے ہیں اوران کوکسی ایک قیادت پرمتفق کرنے کیلئے بندوق کازوراستعمال کرلیتے ہیں یاان کو قیدکرلیتے ہیں۔ یہ تأثرات پتانہیں کتنے لوگوں کے ہوں گے۔

07-maulana-yousuf-ludhianvi-mufti-naeem-talaq-halala-haji-usman-pakistan-flag-k-electric-islamic-revolution-islam-ajnabi-tha-khatoon-ki-faryad-fatwaقوموں کے درمیان کوئی نفرت نہیں ہے کردارکیساتھ سب کی محبت ہے پاکستان پاک ملک ہے ،امامت کے حقدار یہاں جمع ہیں۔ (مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اپنی تفسیر مقام محمود میں لکھا ہے کہ سندھ، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر(خیبر پختونخواہ)، افغانستان اور بلوچستان میں جس قدر قومیںآباد ہیں یہ سب کے سب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے امامت کی حقدار ہیں۔ اگر پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلے میں لایا جائے تو ہم یہ علاقے ان کے سپرد نہیں کرسکتے ہیں۔)

08-maulana-ilyas-qadri-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafi-tablighi-jamaat-dawateislami-gusul-ka-tarika-haji-imdadullah-muhajir-makkiیہ مت کروکہ میٹھامیٹھاھپ کڑواکڑواتھو، کافی سازشیں ہیں (بہت سی طاقتوں کی) کہ یہ ملک گرجائے ۔ (یہ عام تاثر ہے کہ عالمی اور علاقائی طاقتیں دہشت گردوں کو سپورٹ کرکے پاکستان تو تہس نہس کرنا چاہتی ہیں۔)

09-shah-waliullah-bahar-e-shariat-ahmed-raza-khan-barelvi-hussam-ul-haramain-al-muhannad-alal-mafannad-shah-waliullah-ahraf-ali-thanwi-prophet-noor-or-bashar-tablighi-jamaat-dawateislami-ghusاغیارکی سازشیں تواپنی جگہ ہم نے اپنے خلاف سازشوں کادائرہ اپنی پرکارسے کھینچ لیاہے۔ہمارے آ گے گہراسمندرہے اورپیچھے سرخ آگ ہے ۔ (جب تک مقامی لوگ سازش میں ملوث نہ ہوں اغیار کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔ )

10-tehreek-e-insaf-hamid-mir-mma-mullah-military-alliance-imran-khan-maulana-fazal-ur-rehman-election-1985-boycott-taliban-nawaz-sharif-zardari-bailout-عوام کو معلوم تھااورنہ رہبروں کویہ خبرتھی ، حدیث میں موجودہے ظلم وجورکی داستان ۔

11-islam-allama-abbas-kumaili-syed-atiq-ur-rehman-gilani-tableegh-shia-sunni-ittehad-bain-ul-muslimeenمہدی تمام فرقوں کیلئے وحدت کا نشان ہے اورکانادجال فتنوں کی لعنت ہے ،دجال (اسباب سے) مالامال ہے اورمہدی اسباب کی بنیاد پر کمزورہے ۔

12-general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment-ptmہراپنے وقت کاموسیٰ کامیاب اور اپنے وقت کافرغون ناکام ہوگیا، حق ایٹم بم ہے اگرچہ وہ ریحان (پھول) کی پتی کیوں نہ بن جائے۔

13-such-tv-tehreek-e-khilafat-maulana-abul-kalam-azad-liaquat-ali-khan-shaykh-ul-islam-ptm-ahle-bait-fatawa-alamgiri-khilafat-e-usmania-ameer-muawiya-maulana-fazal-ur-rehman-fatawa-alamgiriنبی کریم ﷺ فرماتے ہیں دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا اوراس کے بال پراگندہ ، اس کے ساتھ جہنم ہے جوحقیقت میں جنت ہے اوراس کے ساتھ جنت ہے جوحقیقت میں جہنم ہے۔

14-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameelاس کے ساتھ خوارج مل جائیں گے جیسے تبلیغی جماعت اوردیوبندی (کے افراد)ہیں ، ان کی خاص نشانی سرمنڈاناہے ،گوادرسے لاہورتک۔ (یہ دیکھے جاسکتے ہیں )

15-irshad-naqvi-irshad-bhatti-hassan-nisar-beghairat-imran-khan-mufti-saeed-khan-bushra-pinkiامام ابوحنیفہؒ سے علماء دیوبندتک اہل حق کا ایک سلسلہ ہے میں خوداسی سے وابستہ ہوں لیکن تعصب اب حدسے زیادہ بڑھ گیاہے ۔

16-establishment-of-pakistan-asghar-khan-case-smile-of-maryam-nawaz-tv-channels-saudi-arabia-humayun-akhtar-jihad-war-tarbooz-bair-ka-treeدیوبندی مکتبہ فکرکے معروف عالم دین خطیب العصرعلامہ سیدعبدالمجیدشاہ ندیم نے مجھ سے کہاکہ پہلے دوسرے فرقوں والے خفیہ ہاتھوں میں استعمال ہواکرتے تھے اوراب دیوبندی علماء اسی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔

17-bilour-family-terrorism-in-balochistan-khalai-makhlooq-zaid-hamid-manzoor-pashtoon-asif-ghafoor-imran-khan-falls-off-stageاے اللہ !توہماری حفاظت فرما، شراپنے سائے سے واضح ہے ، فائیو اسٹارہوٹل پرشہزورگاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیاجاتاہے۔

18-noon-league-and-pti-action-plan-imran-khan-nawaz-shareef-siraj-raesani-zainab-ptm-aman-foundation-mastung-incidentبہت خون بہہ چکااب لوگ محبت کا انقلاب چاہتے ہیں ، اہل حق کو کبھی شکست اورکبھی فتح نصیب ہوتی ہے اگلی صبح کوفتح کی خوشخبری ہے۔ (پہلے پشتو کا ایک گانا تھا کہ یہ مٹی خون کا انقلاب چاہتی ہے، سو لوگوں نے دیکھ لیا)

19-hazrat-khola-ghadir-khumm-ali-mola-ghazwa-e-badar-hadith-e-qirtas-haji-usman-alliance-motorsپختونوں کی زمین پرالقاعدہ اورطالبان شطرنج کے( مہرے )دنبے ہیں ، یہ مکارمیڈیابھی ابھی ان کی حمایت سے اکتاچکاہے۔ (دہشت گردوں کے کرتوت پر ایک طویل عرصے تک میڈیا نے نہ صرف پردہ ڈالا بلکہ ان کی کمزوریوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔)

20-mirza-ghulam-ahmad-qadiani-allama-iqbal-imam-mehdi-tablighi-jamaat-isi-cia-afghan-jihad-gulbadin-hikmatyar-shakil-afridi-molana-masood-azhar-manzoor-pashtoon-molana-tariq-jameel-jannat-ki-تصویر پرپابندی تھی اوریہودیوں کے الجزیرہ (ٹی وی چینل)کوآزادی تھی ، افغانستان میں دجل ہورہاتھایاطالب چوپائے کی طرح بے سمجھ تھا۔

21-democracy-and-western-countries-hadees-atomic-power-of-pakistan-hind-sindh-khorasan-fars-quota-system-and-meritاس کو نظرنہیں آتاتوکیادیکھے گا، اگرنظرآئے بھی تواپنے آپ کواندھے کے حوالے کردیتا7 ہے، یہ جہالت سے ایساکرتاہے یا پیسوں کی وجہ سے کرتاہے یازبردستی سے اس کو مجبورکیاجاتاہے یہ غلطی پربھی ہے اوربینائی کا بیمارشب کور بھی ہے۔

22-dars-e-nizami-mufti-hussam-ullah-sharifi-chairman-senate-core-commander-conference-pakistan-pak-fauj-pak-fc-pak-levies-tablighi-jamaat-dawat-e-islamiویڈیوکی دکانوں سے تمہاری سخت دشمنی تھی لیکن یہ ٹی وی چینل (الجزیرہ)۔ تمھاری دلہن نانی تھی یابڈھی بہو۔

23-kitab-o-sunnat-ijma-qiyas-dars-e-nizami-talaq-halala-maslak-e-hanafi-khula-nikah-iddat-ka-tareeqaاسامہ کا بیٹاعمربن لادن آزادگھوم رہاہے اپنی انگریزمیم کیساتھ کیوں میرے بچوں پریہ دورتنگ کیاگیاہے۔

24-quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandiراکٹوں سے تم نے سوئے ہوؤں پرحملہ کردیا، میں خالی ہاتھ تھا،ایک درانتی بھی نہیں مل رہی تھی۔ (طالبان نے اچانک رات کی تاریکی میں سوئے ہوؤں پر راکٹوں، بموں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھاجس کے بارے میں خود طالبان کے ترجمان نے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل بھی ایسے مظالم نہیں کرتا، ہم ہر صورت میں قصاص لیں گے چاہے بیت اللہ محسود بھی اس میں ملوث ہو تو اس کو بھی سزا دیں گے)

25-quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandiمشرکین مکہ نے بھی شب ہجرت یہ کمینہ پن نہیں کیا، اسلام کو تم نے دنیاکے طول وعرض میں بدنام کردیاہے۔

26-maulana-maududi-communism-akbar-badshah-sajda-e-tazeemi-mufti-taqi-article-62-and-63-garib-kisan-zina-haiz-and-iddatمیں فخرکرتاہوں شہیدبھائی کے جوتے کے وارپر، اے شرم رسیدہ !تو نے اپنے مردوں کوچھپا کردفنایا۔ (بہادری اس کو کہتے ہیں کہ ایک طرف بھاری ہتھیاروں سے مسلح دہشت گرد تھے اور دوسری طرف میرے بھائی نے ان کے سامنے منت سماجت کے بجائے جوتے کے وار سے ایک طالب کا منہ سجادیا)

27-justice-saqib-nisar-halwa-khana-teen-talaq-kya-hai-halala-kya-haitalaq-se-bachne-ka-tarikaیہ میرے آباؤاجداد اورآنے والی نسلوں کیلئے کارنامہ ہے ، اورتم نعرۂ تکبیر کے ساتھ آئے اورپھرگو کھانے والے بن گئے ۔ (پوٹی کھانے سے تشبیہ دینا پشتو کے محاورے میں بہت ذلیل ہونے کو کہتے ہیں)

28-maulana-yousuf-ludhyanvi-amir-liaquat-fake-phd-certificate-gadha-imran-khan-shaukat-khanum-hospitalآدھابرسٹ تمھارے اوپرچلاتوچلانا شروع کردیاکہ ہم مرگئے قوم کے سامنے تم اپنے اس غل غپاڑے کیوجہ سے شرمسارہو۔ (حملہ آور طالبان پر جب کلاشنکوف کا آدھا برسٹ چلا تو اتنے چلائے کہ پورا علاقہ ان کے شور سے گونج اُٹھا، بے غیرتی کا یہ داغ کبھی نہیں دھو سکیں گے کہ ایک طرف نعرۂ تکبیر لگاتے ہوئے حملہ آور ہوئے تو دوسری طرف اپنے مردار مردوں کو خلاف معمول اعزاز و اکرام کے ساتھ دفنانے کے بجائے رات کی تاریکی میں چوروں اور ڈکیتوں کی طرح دفنادیا)

29-district-tank-jui-mufti-gul-haleem-shah-makkah-madina-akora-khattak-nowshera-allama-iqbal-mashriqانہوں نے ثابت کردیااپنے آپ پرکہ وہ لشکرہے دجال خان کا۔ مولانافضل الرحمن نے تمھارے اوپریہ فردِجرم عائدکیاہے ۔ (اس واقعہ کے بعد عوام میں طالبان کو لوگ بالکل کافر سمجھنے لگے، مولانا فضل الرحمن نے ٹانک کی سب سے بڑی جامع مسجد اسپین جماعت (سفید مسجد) میں جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے وہ احادیث عربی میں پڑھ کر سنائیں اور ان کا ترجمہ بتایا جن میں خراسان سے دجال نکلنے کا ذکر ہے اور اس دجال اور اس کا ساتھ دینے والوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے، اور پھر ان احادیث سے استدلال فرمایا کہ دجال کا یہ لشکر یہی طالبان ہیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ یہ لوگ تجھے مار دیں گے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں)

30-brigadier-qayyum-sher-mehsud-ali-wazir-ptm-imran-khan-pti-charsi-fort-bala-hisar-manzoor-pashtoonطالبان کی طرف سے مقررکردہ (ٹانک کے) قاضی مولاناگل نوازمحسودکہاکرتے تھے کہ لال کیے ہوئے ہاتھ اورہونٹ والے طالبان ملوّثی بدکارہیں ۔ (ان سے پوچھا گیا کہ آئی ایس آئی سے طالبان کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی والے تو بہت اچھے لوگ ہوسکتے ہیں یہ لوگ تو وہ ہیں جو ہم جنسوں کے لئے پیچھے کے راستے سے بدکاری میں ملوث رہتے ہیں۔ ان کے بہت سے گروہ ہیں اور جو دو مشہور گروہ ہیں ایک ہاتھوں کو مہندی لگاتا ہے اور دوسرا لبوں کو لال کرتا ہے، یہ بیماری مجاہدین میں پہلے بھی عام تھی اور مدارس میں بھی یہ موجود ہے اس علاقہ میں بھی اس قسم کے لوگ بہت پائے جاتے ہیں)

31-khalai-makhlooq-bait-ul-khala-lota-tarian-imran-khan-daughter-bagal-baccha-nawaz-sharif-iqama-issueکوٹکئی کے ایک قاری کامیڈیکل ٹیسٹ ضروری ہے اگر بیمار ہو تویہ اپنے گرے سوراخ کا علاج کرالے ۔ ( یہ الفاظ مناسب نہیں لیکن وزیرستان میں یہ گالی ایک شعر کی صورت میں موجود ہے جو بہت مشہور ہے)

32-imran-khan-general-kayani-justice-iftikhar-chaudhry-nawaz-sharif-nazaryati-hijraپیچھے کیطرف سے کام کے عادی طالبان کو میں اچھی طرح سے جانتاہوں مشرق اخبارمیں یہ بیان کورکمانڈرنے دیاتھا۔

33-manzoor-pashtoon-zaid-hamid-lal-topi-wala-dumkata-ayub-masood-halala-maulana-noor-muhammad-shaheedکہتے ہیں کہ ڈرپوک ملوّثی سے واقعی ڈرناچاہیے اس لئے کہ اگراس کو موقع ملتاہے تویہ بھڑوابڑاخون خواربن جاتاہے ۔ (یہ پشتو کا عام محاورہ ہے)

34-ispr-major-general-asif-ghafoor-good-taliban-ptm-manzoor-pashtoon-adiala-jail-baba-farid-imran-khan-murghaاتنا وقت گزرگیامیرے سامنے کیوں نہیں آئے ، ضرورکہیں تم اوندھے منہ پڑے ہوئے اپنامنہ کالاکررہے تھے ۔ (دلیری کا تقاضہ یہ تھا کہ اگر مجھ سے کوئی اختلاف تھا تو معروف قاری حسین جس کا غالباً نام کوئی دوسرا ہے میرے سامنے آجاتا لیکن اتنے عرصے میں نہ جانے وہ کس شغل میں اپنا منہ کالا کررہا تھا)

35-kalabagh-dam-tharparkar-karachi-rivers-of-pakistan-bhains-colony-karachi-jam-kando-karachiآگ سے کسی کوجلانے کی سزاممنوع تھی لیکن صحابہؓ نے ایک آدمی کواسطرح مارنے کاحکم جاری کیاتھا۔علتی بدبخت ٹھنڈانہیں ہوسکتالیکن معاشرے میں اِگنور ہے۔ (صحابہؓ نے ایک ایسے شخص کو جو مرد ہوکر مفعولیت کا کام کررہا تھا کو آگ سے جلانے کی سزا دی تھی حالانکہ آگ سے جلانے کی سزا کو حدیث میں منع کیا گیا ہے ،ا گر کوئی مرد اس قسم کے غیر فطری فعل کا عادی بن جائے تو اس کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ اس بد فعل کو معاشرے میں برائی سمجھنے کے بجائے نظر انداز کردیا گیا ہے)

36-mufti-hussam-ullah-sharifi-daily-jang-news-paper-federal-shariat-court-shariat-appellate-bench-supreme-court-shajar-e-mamnooa-qissa-adam-o-ibleesمیں گمراہ نہ تھایاتم بے غیرت تھے ؟مجھے مارسکتے تھے بارہ بورکے ایک فائرسے ۔ (مجھے مارنے کے لئے لاو لشکر اور بھاری اسلحہ کی کیا ضرورت تھی بارہ بور کے ایک فائر سے بھی مجھے مارا جاسکتا تھا، لیکن حملہ آوروں سے میں پوچھتا ہوں کہ میں گمراہ نہ تھا یا تم بے غیر ت تھے؟)

37-quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz-nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatihaگائیں کی طرح جب بیٹیاں اوربہنیں بیچی جائیں توڈالروں کی بھرمار سے حرام پناکیسے نہیں پھیلے گا۔ (جو قوم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیسہ لے کر بیچنے میں مبتلا ہو ، ڈالروں کے ذریعے سے وہ کیا کچھ حرام پنا نہیں کرتے ہوں گے؟)

38-quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz-nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatihaدوستوں سے آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔ کزن طالب اپنی بہن پربلیک میلنگ کررہاتھا۔ (پشتو میں کہا جاتا ہے کہ ایک علاقے والے دوسرے علاقے کے دلوں اور بے غیرتوں کو اس طرح سے پہچان سکتے ہیں کہ ان کی آپس میں دوستی ہوتی ہے۔ جب ہمارا اپنا عزیز ایسا ہے کہ اپنی بہن کی منگنی کرانے کے بعد اس بے غیر ت نے اس پر بلیک میلنگ شروع کردی تو یہ جن کے دوست ہیں ان کے بارے میں بھی ہم وہی گمان رکھ سکتے ہیں)

39-islamic-revolution-islam-ki-nishat-e-sania-quran-o-sunnat-khatm-e-nabuwat-khadim-hussain-galian-baba-nikah-and-agreement-triple-talaq-fatwa-ittehad-e-ummat-dars-e-nizamiاس کے خالہ زادیہ باتیں کر رہے تھے کہ پیسے وصول کرنے کیلئے دی ہوئی عورت کورخصتی سے پہلے چھین لینے پراسرارکررہے تھے۔ (یہ بہت عار کی بات سمجھی جاتی ہے کہ منگیتر کو منگنی کے بعد لڑکی نہ دی جائے ، ہمارے عزیز کے اپنے خالہ زاد بھائی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہمیں پیسوں کے لئے بلیک میل کیا جارہا تھا)

40-rajam-sangsar-karna-women-harassment-zina-bil-jabr-minimize-jahangir-kot-lakhpat-jail-habil-qabil-shah-turab-ul-haq-qadri-phool-bari-aant-dawat-e-islami-pichkariرات کوکھمبے چوری کرتاہے اوردن کوتوبہ کرتاہے ، پاگل بھی ان کو کہتے ہیں کہ علی بابااوربیٹے چالیس چورہیں ۔ (ہمارے ان عزیز طالبوں کے بارے میں اڑوس پڑوس میں یہ مشہور تھا کہ یہ رات کو ٹیلی فون وغیرہ کے پول (کھنبے) چوری کرتے ہیں اور دن کو توبہ کرتے ہیں۔ ایک مجذوب نے ان کے باپ کی عیادت کی تو اس کو کہا کہ تم علی بابا اور تمہارے بیٹے چالیس چور ہیں)

41-pervez-musharraf-kala-bagh-dam-pakistan-kishanganga-dam-inauguration-by-india-violation-jam-kando-bhains-colony-karachi-establishment-of-pakistanسچ مچ آج یہ بڑی سزاہے کہ دل سے نہ چاہتے ہوئے بھی دل پرجبرکرکے دوستی نبھائی جارہی ہے اورکل پھر اس کوکہہ دوکہ طالب اس سائیڈپربھی تمھاراآنامیرے لئے گوارہ نہیں ہے۔ (ان لوگوں کے لئے یہ بہت بڑی سزا ہے جو طالبوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی ڈر کے مارے اب دوستی نبھارہے ہیں، کل یہ اپنا رویہ بالکل ہی بدل ڈالیں گے جس میں ان کے ضمیر کا قیمتی سرمایہ اگر ہو تو ضائع ہوتا دکھائی دے گا)

42-mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azharبڑے عالم کاکہناتھاکہ یہ اس بلندمقام کے شہیدہیں ، ان کے چہروں پرگردوغباربھی اسی طرح پڑارہنے دو۔ (اُستاذ العلماء ڈسٹرکٹ خطیب مولانا فتح خان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ ان شہیدوں کو نہلانا کیسا ہے؟ مولانا پہلے یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اگر نہلا دو تو بھی شہادت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور احتیاط نہلانے میں ہے۔ لیکن مولانا فتح خان نے ہمارے شہیدوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہت اونچے مقام کے شہداء ہیں نہلانا تو دور کی بات ہے ان کے چہروں پر پڑا گرد و غبار بھی نہ ہٹایا جائے۔ جنگ اُحد کے شہداء کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان کو اسی حالت میں بغیر نہلائے دفن کیا جائے اور اس موقع پر پوری دنیا میں اسلام کی حکومت کے قیام کی پیش گوئی بھی فرمائی ۔)

43-mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azharشہیدوں (کی فہرست) میں شامل ہوناقسمت کی با ت تھی میرے بھتیجے ارشدشہیدہوئے اور میرے بھائی حاجی اورنگزیب شہیدہوئے۔

44-nawaz-sharif-corruption-accountability-army-journal-isi-akhrar-abd-ur-rehman-khwaja-asifمیرے رشتہ داروں میں بھی افرادشہیدہیں ماموں کے بیٹے حسام اور خالہ زادبھائی حاجی رفیق شہیدہوئے۔

45-imran-khan-lotaism-pak-fouj-pervez-musharraf-referendum-imran-molvi-nawaz-shareef-molvi-shahbaz-shareef-molvi-talban-mma-ptm-namaz-e-janazaمیرے گھراورباہرکی خواتین بھی شہیدہوئیں ایک میری بھانجی تھی اوردوسری بہن ۔

46-ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daishمیری بہن کی گھرمیں شہادت کی بڑی تمناتھی اوربھانجی چھوٹے بچوں کی ماں تھی وضوکررہی تھی کہ ان کو شہیدکیاگیا۔

47-adam-and-hawwa-habeel-and-qabeel-shajra-nasab-mubashrat-molana-ubaidullah-sindhi-gomal-university-kushti-college-studentsاللہ کی شان سے شہیدوں کی فہرست میں بہت عجیب توازن ہے ایک مسجدکے امام حافظ عبدالقادراوردوسرے گھرکے خادم قاسم شہیدہوئے ۔

48-barack-hussein-obama-chief-justice-saqib-nisar-chief-justice-rana-bhagwan-das-scheme-33-karachi-dg-rangers-karachi-reham-khan-divorceتین آفریدی ،دوجٹ، ایک مروت اورایک محسوداس فہرست میں شامل تھے ،مہمانوں کی شہادت پر تمھاری تذلیل کرنامیرے اوپرقرضہ ہے۔

49-molana-fazal-ur-rehman-dera-ismail-khan-tank-waziristan-zina-in-islam-pti-mujra-mma-hurmat-e-musahirat-shaukat-aziz-siddiquiصدرحمتیں ہوں شہداء کے ناموں پر،دو جٹوں میں ایک حافظ ،دوسراعالم تھا ،دوآفریدی باپ بیٹے تھے(حافظ عبد القادر کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھااور وہ مسجد کے امام بھی تھے اور عالم کا تعلق ٹانک سے تھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، آفریدی باپ بیٹے کے نام بھی مجھے پتہ نہیں، ان سب کو اللہ جوار رحمت میں جگہ دے)

50-manzoor-pashteen-establishment-ansar-sahaba-muhajir-sahaba-zainab-case-check-post-in-tribal-areas-naseem-suicide-attackerایک محسود مجذوب تھا ،کچھ جوان اورکچھ بڑے شہداء میں شامل تھے اورخالدآفریدی بیٹاتھاغیرتمندبیوہ ماں کا۔ (مجذوب نے بہت اللہ اور قرآن کے واسطے دے کر دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو خود اس مجذوب پر بھی رحم نہیں آیا اور ان کو شہید کرکے ان کو مجذوبوں کی نمائندگی کا اعزاز بخشا۔ خالد آفریدی کی بیوہ ماں نے یہ تجویز بھیجی تھی کہ جس طرح بھی معاملہ کیا جائے لیکن ان دہشت گردوں کی دنیا اور آخرت دونوں خراب ہوں اگر معاوضہ اور قصاص سے ان کی دنیا یا آخرت سنور سکتی ہو تو اس سے گریز کیا جائے)

51-ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daishشہیدوں کے ساتھ میٹھے قرآن کوبھی شہیدکیاگیا،ان کتوں کا گلا کس کی رسی سے بندھا ہوا تھا۔ ( جب وزیرستان میں ایک مرتبہ تحصیلدار مطیع اللہ اور عزیز اللہ کو شہید کیا گیا تو کئی دنوں تک ان کی لاشوں کو کنوئیں میں ڈال کر مسخ کیا گیا، مطیع اللہ شہید کے چچا ڈاکٹر عبد الوہاب برکی نے تعزیت کے موقع پر مجھے بتایا کہ جیو ٹی وی والے مجھ سے انٹرویو لینے کے لئے آئے کہ آپ کے خیال میں یہ کس نے کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ انڈیا نے نہیں کیا ہے اسلئے کہ پاکستان کے پچانوے ہزار فوجی اس نے قید کرلئے تھے کسی کے ساتھ اس نے یہ سلوک نہیں کیا۔ امریکہ نے بھی نہیں کیا ہے اسلئے کہ گوانتا نامو بے کی جیل میں بہت لوگوں کو رکھا گیا مگر کسی کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا، مسلمان تو ایسا کر نہیں سکتے پھر میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ یہ کون لوگ ہوسکتے ہیں؟ ڈاکٹر عبد الوہاب برکی کے اس بیان کو بہت کوریج دینے کی ضرورت تھی لیکن یہودی میڈیا کے کارندوں نے طالبان کے کرتوت کو چھپانے کے لئے اس وقت کوئی کوریج نہیں دی بلکہ الٹا طالبان کے بجائے دوسرے لوگوں پر الزام تھوپنے کے لئے فضاء ہموار کی جاتی تھی اور آج بھی بعض اوقات بعض لوگ اسی رویہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ملک میں یہ سب کچھ بلیک واٹر کررہی ہے تو طالبان ہی بلیک واٹر ہیں)

52-nikah-and-agreement-ghulam-and-londi-mma-zina-bil-jabr-pak-daman-aurat-par-tohmat-lagane-ki-saza-80-kore-ptm-manzoor-pashtoon-isprجب گردوغبارہٹ جائے گاپھرتمھاری سمجھ میں آجائے گاکہ ٹانگوں کے نیچے گھوڑا یا تم گدھے پرسوارتھے

53-halala-issue-clear-no-ambiguity-different-support-honourary-work-success-arts-council-of-pakistan-talaqببرشیرکیاکرسکتاہے لگڑبھگڑکابڑالشکرہے ،اے قوم !اگرتم بھلائی چاہتے ہوتواپنے آپ کوفوری طورپربدلو۔

54-javed-chaudhry-columns-taliban-cia-biryani-ki-rehri-islamabad-nawaz-sharifمیں انتقام سے زیادہ معافی پرخوش ہوتاہوں ،حق کی ضرب مجرب نسخہ ہے زخمی دلوں کوسینکنے کاکام کرتاہے۔

55-shah-waliullah-shah-ismael-shaheed-maulana-ubaid-ullah-sindhi-maulana-yousuf-binuri-mansab-e-imamat-bidat-ki-haqiqat-ahmad-raza-khan-barelvi-syed-abdul-qadir-jilani-albayyinat-haroon-rasheمحمودخان اچکزئی شروع سے طالبان کامخالف رہاہے اورمولانافضل الرحمن نے بین بین آدمی ہے۔طالبان کامقابلہ کرنا الطاف حسین ، شہباز شریف اوربلورکے بس کی بات نہیں ۔

56-islam-and-strangeness-unfamiliarity-right-way-to-be-out-reform-yousuf-ludhyanvi-asar-e-hazir-bookکراچی کے اکابرہوں یا سپاہ صحابہ کے دہشت گرد ، ڈیرہ اسمٰعیل خان کے مولویوں کے ساتھ بھی میں لڑا ہوں ہر طرف سے ۔

57-mental-slavery-freedom-saudi-ulma-scholars-tripple-talaq-taqi-usmani-aasan-tarjuma-e-quran-taqleed-ki-shari-haisiyat-mna-qazi-fazl-ullah-londi-nikah-mutahنیل (کامعرکہ ) ہویاکربلاکا، نمرود ( سے لڑنے کیلئے) میں نے کمرکس لی ہے ، جیتنے کے لئے پہلی شرط حق اوردوسری دلیل ہے ، فتح نہ بادشاہی سے حاصل ہوتی ہے نہ جوانوں سے ۔

58-imam-abu-hanifa-ghazali-mufti-abdul-rauf-sakharvi-sir-agha-khan-sood-interest-mark-up-intercourse-fatawa-e-aalamgiriyaخونِ دل پینے کا عادی نہیں ہو اے طالب !تیری دہشت کی مثال اسپین کے میلے کے بیل کی طرح ہے۔

59-manzoor-pashteen-ghq-shahid-khakan-black-water-shahid-masood-ratan-bai-ptm-shabbir-ahmed-usmaniمیں شاعرہوں، عالم، صوفی اورنہ صحافی ایک عام بندہ ہوں لیکن اللہ کے فضل سے اسکورپراسکوربنا رہا ہوں ۔

60-nabi-ki-azwaj-waives-nikah-mutaa-allama-ghulam-rasool-saeedi-ulma-muftyan-madrasa-jamia-naeemia-karachi-mufti-muneeb-ur-rehmanمارنے پرمیں کبھی تمھیں ہرادوں اتنے آدمی ماردوں گا،عقاب کیلئے (شکارکرناکیامشکل ) کیا ہے کوئی مینا،کوئی کبوتراورکوئی چکورکا۔ (جس طرح نہتے لوگوں خواتین ، مہمانوں اور عام لوگوں کو طالبان نے قتل کیا ہے اگر ہم چاہیں تو ان سے کئی گنا زیادہ اس طرح سے بدلہ لے سکتے ہیں، میرے لئے ان کو ٹارگٹ کرنا بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہے)

61-malala-yousuf-manzoor-pashteen-asma-jahangir-imran-khan-taliban-armyکالی اندھیری (بہت زیادہ اندھیرے) میں مجھے روشنی نظر آتی ہے میں غار حرا کو دیکھتا ہوں اور میں نے غار ثور کو دیکھا ہے۔

62-wifaq-ul-madaris-teen-talaq-rujoo-allama-ali-sher-rahmani-khairpur-mirsظالموں کی درست مددظلم کیلئے رکاوٹ پیداکرناہے ، دین خیرخواہی کا نام ہے عتیق ہرآدمی کیساتھ اس کے غم میں شریک ہے۔

63-ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbalوحشی اور ہند جیسے ظالم لوگ بھی دنیا میں چھوڑ دیے گئے ،حضرت موسیؑ ٰ سے قتل سرزد ہوگیا تھا تو وہ کوہِ طورپربھی ڈررہے تھے ۔ (وحشی اور ہند نے بڑے وحشیانہ طریقے سے سید الشہداء امیر حمزہؓ کو شہید کیا تھا لیکن ان کو بھی معاف کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا تھا تو کوہ طور پر جلوہ دیکھنے کے باوجود ان کے دل سے خوف نہیں گیا۔ ایسے میں کوئی مجرم بھی معاف کیا جاسکتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اور بے خوف زندگی اس کو نصیب ہو)

64-mehrab-gul-afghan-allama-iqbal-waziristan-ptm-pashtun-tahafuz-movement-tarana-ptm-pashteenجب ایک معصوم بچے نے زمین پرپڑا ہواقرآن کا نسخہ اٹھالیاتو(گھرکاسامان چوری کرنے میں مصروف) طالب نے لات مارکرکہاکہ( ٹائم نہیں ہے) قرآن کوچھوڑ دو۔ (طالبان نے گھر میں استعمال شدہ برتن، کپڑے اور جو سامان لے جانے کے قابل تھا وہ بھی لے کر گئے۔طالبان کی تعریف کرنے والے ان کی کرتوت سے واقف ہوتے تو کوئی دوسرا تعریف کرتا تو بھی اگر اس میں ضمیر اور غیرت کی رمق ہوتی تو خون کھولنے لگتا۔ جو قرآن کے شہید نسخے کو زمین سے اُٹھانے پر بھی بچے کو لات مارتے ہوں اور ہنسی سے اس کا مذاق اُڑاتے ہوں پتہ نہیں ان کو مسلمان کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے۔)

65-ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal-nato-mujahideen-iblees-russiaقرآن کی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے یہ فتوی عام ہوگیا کہ مسلمان نہیں ہیں یہ کافر۔ (جب عوام میں قرآن کے نسخے کی بے حرمتی کا پتہ چلا تو عام لوگوں میں یہ تاثر پھیل گیا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں۔ لیکن میڈیا نے ان کے اس کردار کو پیش کرنے کے بجائے مسلسل ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی)

66-asma-jahangir-shah-sahib-doubt-tashweesh-arif-khan-arif-jup-mufti-naeem-quranic-ayat-atiq-gilani-human-rights-farzana-bari-talk-shows-halala-hazrat-saad-bin-ubada-talaq-ulma-bismillah-muftجنازوں کے ہمراہ چلے گئے ڈیرہ ،لکی،کوہاٹ، خیبر، ٹانک، ملازئی اور وزیرستان کو ، ھم اپنے پڑوسیوں کے بہت شکرگزار ہیں۔ (پڑوسیوں نے بہت ہمدردی کے ساتھ مہمانوں کے جنازوں کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کوہاٹ، خیبر، ٹانک، ملا زئی اور وزیرستان تک اپنے بڑوں کی تشکیل کرکے رخصت کیا جس پر ہم ان کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے غم میں ان کے احسان کو فراموش نہیں کیا ہے)

67-maqbuza-jamuh-wa-kashmir-8-years-child-girl-asfa-chicha-watni-noor-fatima-sexual-assault-murdar-killing-hindu-shaheedاے مخاطب :شخصیت شناس، فرض آشنا اورعلم دوست بن، آپ سپاہی ہیں یاکہ آفسر، سیاستدان یاکہ مزدور۔

68-jamia-binoori-town-karachi-girl-child-blame-criminal-syed-irshad-ali-naqvi-mudeer-social-media-dawn-news-video-clip-sale-10-thousand-rupees-kab-tak-noorani-basti-korangiیہ دہشت گردی نوراکشتی ہے، نام جہاد کا ہے اوراصل میں مسلم کشی ہے، یہ استعمارکی چال ہے اور خواہ مخواہ جھوٹ کا جمہوری سسٹم ہے۔

69-americi-atashi-atiq-gilani-punishment-mehmood-khan-achakzai-na-ahl-nawaz-sharif-majeed-achakzai-murder-bewa-widow-son-nadir-shah-karnal-josef-colonal-shah-rukh-jatoeبیوقوف بے خبرہیں اورہوشیار خاموش ہیں، ڈرتے ہیں، اسی بے پروائی اور بازپرس نہ کرنے کی حالت میں قوم کی موت کا راز پوشیدہ ہے۔

70-woman-rights-khawateen-huqooq-quranic-verse-aayat-khula-talaq-khan-nawab-king-badshah-imam-abu-hanifa-jail-ummhat-ul-mumineen-hazrat-muhammad-abu-jehal-ali-jamhoor-iddat-ela-umer-nikah-mutآنکھیں دن کوستارے نہیں دیکھ سکتیں لیکن عقل سے ان کودیکھتی ہیں، ایک وقت تھا کہ حدیث کو سمجھنے سے فہم معذورتھا اورآج آنکھوں سے اس کو سمجھا جاسکتاہے۔

71-shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-talaq-londi-jibri-zina-muttahida-majlis-e-amal-mufti-taqi-usmani-saudi-arab-cenima-halala-mutaابن صائدپرشک تھا دجال عقل سے گم تھا،دجال ایک نہیں بہت ہیں شخصیت، کردار اور ظہور کے اعتبار سے۔ (ابن صائد یا ابن صیاد کے بارے میں صحابہؓ کا اختلاف تھا۔ جب دجالوں کا کردار سامنے آئے گا تو مختلف شخصیات کو اپنے اپنے دور میں پہچانا جائے گا)

72-justice-aijaz-ul-hassan-hanif-abbasi-dgispr-dr-tahir-ul-qadri-dhool-dawn-news-wusat-ullah-khan-hussain-nawazکانا دجال خراسان سے آئے گا، اس کے بال پراگندہ ہوں گے،اس کا لشکرطالبان ہیں، ان کے چہرے کمان کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہوں گے جیسے ازبک اور پٹھان ہیں،یہ مشہور حدیث ہے۔

73-ghq-islamabad-pindi-lahore-queta-jnral-hamid-gul-khalid-bin-waleed-gulbadeen-hikmat-yar-masood-azhar-hafiz-saeed-maleer-kund-keti-bandar-bait-ul-muqaddas-hazrat-ibrahimرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا ایک دوسری روایت میں ہے کہ دائیں آنکھ کا کانا ہوگا، (یہ مختلف دجال کانے ہوں گےکسی کی دائیں آنکھ اور کسی کی بائیں آنکھ)۔

74-army-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi(فرمایا ﷺ)اس دجال کے پاس جنت بھی ہوگی اور جہنم بھی، اس کی جہنم جنت ہوگی اور جنت جہنم ہوگی،ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں دجال کے فتنے سے اورکاٹنے والے کتے سے۔(رسول اللہ ﷺ نے خوارج کو جہنم کے کتے کہا تھااوران کے بارے میں دجال کے ساتھ خروج کرنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ ان کوآسمان کے نیچے بدترین مقتول اور ان دوزخیوں کے کتوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے کو بہترین شہیدقراردیاہے ۔)

75-8th-april-jalsa-in-peshawar-pukhtoon-tahafuz-movement-ali-wazir-meet-with-peshawar-ulma-ptmرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری امت میں سے سترہزار(70000) لوگ دجال کی پیروی کریں گے، جن پرالسیجان ہوں گے،،السیجان جمع ہے الساج کی، الازھری نے کہاہے کہ وہ المطلیل المقور ہے۔(تذکرۃ ،الامام القرطبی) جس کاترجمہ’’خون کاقصاص نہ کرنے والے ‘‘ ’’بیخبری میں حملہ کرنے والے ‘‘ کابنتا ہے۔ساج یسوج آہستہ چلنا،الساج ساکھو کادرخت جمع ’’السیجان‘‘واحد ’’الساجۃ‘‘کشادہ اور گول چادر کوکہتے ہیں۔

76-rapists-murderers-of-faisalabad-university-student-still-at-large-justice-for-abida-ptm-manzoor-pashteen-ispr-general-asif-ghafoorرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دجال کے نکلنے سے پہلے ستر(70)سے زیادہ دجال نکلیں گے (الفتن ، نعیم بن حماد) ہرایک دجال کی مثال گدھے کی طرح ہے اور ان کی سواریاں گدھے ہیں۔

77-supreme-court-nawaz-sharif-panama-leaks-imran-khan-dawn-leaks-saqib-nisar-memo-gate-hussain-haqqani-khalwat-e-sahiha-haq-mehrفرمایا ﷺ نے: دجال مشرق سے نکلے گا، جس کو خراسان کہا جاتا ہے،،دجال نکلیں گے مختلف جگہوں سے مختلف زمانوں میں۔دجالوں کے بارے میں متعدد روایات سے وضاحت ہوتی ہے،خراسان سے،ایران کے اصفہان سے،شام وعراق کے درمیان سے، عراق سے،یہودیوں کے مروسے،مصرکے شہربصرہ سے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ ایسی جگہ جس کو کوثی السباخ کہاجاتا ہے اور یہ بھی روایات ہیں کہ دجال ابن صائدہے جس کی پیدائش مدینہ میں ہوئی تھی،یہ بھی روایت ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ شیطان ہے، یہ بھی روایات ہیں کہ اس کا ٹھکانا سمندر میں ہے اور یہ بھی کہ سمندر میں ایک جزیرہ اصفہان سے وہ نکلے گا۔مختلف دجالوں کے الگ الگ احوال ذکرکیے گئے ہیں۔(دیکھیے:الفتن اورصحاح

78-hazrat-umar-and-hadith-qirtas-panjtan-pak-tabbar-nawaz-sharif-maryam-nawaz-kulsoom-nawaz-shahbaz-sharif-hamza-shahbazابن صائد اپنی ذات کی حد تک دجال تھا، ملاعمرنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ کردار لائیو ادا کیا ہے۔وہ حق کوباطل کے ذریعے چھپاتا ہے،دیکھو میں نے یہ صور پھونکاہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے تجزئیے میں ’’اُزبک تحریک اور القاعدہ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ اُزبک تحریک کے قائدین نے کابل میں ازبکستان کے صدر کے خلاف جہاد کا اعلان کیا، ازبک حکومت افغانستان میں شمالی اتحاد کو سپورٹ کررہی تھی۔ القاعدہ اور طالبان نے ان کے مقابلے میں ازبک تحریک کے قائدین کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ لیکن ساتھ ہی نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا۔ جس کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ ازبک تحریک نے امریکہ کے خلاف طالبان کی حمایت کا اعلان کیا اور امریکہ کو ازبکستان نے اسی وقت زمینی راستہ اور فضائی اڈے دئیے۔ (ڈاکٹر شاہد مسعود کا تجزیہ اور اس پر تبصرہ اشعار کے بعد ملاحظہ فرمائیں)
ایک روایت میں ہے : اذا خرج الترک علی اصحاب الرایات السود فقاتلوھم، لم تجف برادغ دوابھم حتی یخرج اہل المغرب :جب ترک (اُزبکوں پر اس کا اطلاق ہوا ہے) سیاہ جھنڈے والوں کے ساتھ نکلیں تو ان کے ساتھ لڑو (القاعدہ نے سیاہ جھنڈے کو اپنا نشان بنایا تھا) ابھی ان کی سواریوں پر پڑے گدیلے بھی خشک نہ ہونے پائیں گے کہ اہل مغرب پہنچ جائیں گے۔ (الفتن، روایت 751)اس روایت میں جہاں مغرب کے فتنے کا ذکر ہے وہاں یہودی سازش کے تحت اس علاقہ میں داخل ہونے والے القاعدہ اور اُزبکوں کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر اس روایت کے مطابق ان لوگوں کو یہاں سے مار بھگادیا جاتا تو امریکہ کو اقوام متحدہ کی حمایت کے ساتھ اس علاقے میں آنے کی جرأت نہ ہوتی۔ جہاں امریکہ ذمہ دار ہے وہاں اُزبک اور القاعدہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اس روایت میں حقائق کی بھرپور نشاندہی کی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺمشرق کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے توکہاگیاکہ اہل مغرب؟ فرمایا: یہ اس سے بھی بڑا اورمخدوش ہے۔(الفتن، روایت 752)

79-8th-april-jalsa-in-peshawar-pukhtoon-tahafuz-movement-ali-wazir-meet-with-peshawar-ulma-ptmرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دجال کی پیروی ایسی اقوام کریں گی جن کے چہرے گویا ڈھال (گول) اور ہتھوڑے (لمبوترے) ہیں،، مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دجال کا لشکر یہ طالبان ہیں۔حدیث میں بیان کردہ صفات کے مصداق یہ شکل وصورت سے بھی خراسانی دجال کا لشکر ہیں اور ان کے فاسد اقدامات سے بھی یہ دجالی لشکر ثابت ہوتے ہیں۔

80-triple-talaq-in-islam-halalah-maulana-muhammad-khan-sherani-molana-yusuf-binori-agreement-marriage-nikah-mutah-mufti-mehmood-kathputliرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اہل مغرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے،،(صحیح مسلم) اس حدیث رسول ﷺ کو کسی کمی وبیشی کے بغیربیان کرو۔
اگر اسلام کے عادلانہ نظام کواجنبیت کے گھمبیرپردوں سے نکال کراس کے حقیقی روح کے ساتھ بلاکم وکاست پیش کیا جائے تومشرق کے مسلم ممالک کے حکمرانوں سے قبل اس کومغرب کی عوام کی طرف سے پذیرائی ملے گی۔علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ مجھے مغرب میں مسلماں نظر نہیں آیا لیکن اسلام نظر آیا اورمشرق میں مسلماں دیکھنے کوملتے ہیں لیکن اسلام نظر نہیں آتاہے۔،،

81-halala-ki-lanat-khawateen-ki-behurmati-fatwa-agreement-marriage-tehreef-e-quran-maulana-anwar-shah-kashmiriاللہ فرماتاہے :اور وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اورجب کوئی لغو بات دیکھتے ہیں تو عزت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔پس بتوں کی گندسے اجتناب کرواورجھوٹ بات سے اجتناب کرو۔
آج مسلمان اگرقرآن کے بیان کردہ عظیم شعارسے متصف ہوں اورعظیم احکامات پرعمل پیرا ہوں تودنیا کی عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ جھوٹی گواہی اورلغویات میں مبتلانہ ہونا تو دور کی بات ہے شاید ہم ان صفات میں اپنا کوئی ثانی بھی نہیں رکھتے۔ ہماری میڈیا کی خبریں اوراینکرز کے ٹاک شوز اس کی ادنیٰ مثالیں ہیں۔حکمرانوں، سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں سے لیکرعوام،سیاسی ورکرزاورتبلیغی جماعتوں،جہادی تنظیموں کی کارگزاریوں،اللہ والوں اور تاریخ دانوں کے قصے کہانیوں تک میں جھوٹ کا وہ لامتناہی سلسلہ ہے کہ زمین وآسمان کے فرشتے بھی الحفیظ الامان،، کی صدائے احتجاج بلندکرتے کرتے بیزار ہوگئے ہوں گے۔ ہماری توہم پرستی اور مغرب کی مادہ پرستی کاموازنہ کیاجائے تواسلامی توحیدسے ہم دور اورمغرب قریب تر نظرآتا ہے۔اسلام نے بتوں کی نجاست کے محورتوہم پرستی،، سے ہی نجات دلائی تھی ورنہ بتوں کاظاہری نجاست سے کیا تعلق ہے؟حدیث نبوی ﷺ میں قبر ، بت اور تصویرکا ایک ہی حکم دیا گیاتھا۔ ہم نے بت اور تصویر کی ظاہری شکل کو تو غیرشرعی سمجھ لیا لیکن قبر پرستی اور توہم پرستی سے ہم اپنا دامن نہ چھڑاسکے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایاتھا لاتقوم الساعۃ حتیٰ یلحق من امتی بالمشرکین ۔( قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ میری امت کے بعض افرادمشرکوں سے مل جائیں گے) اوراسلام کہتاہے کہ انسان اشرف المخلوقات کے لئے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو مسخرکردیا ہے، جس پر مغرب عمل پیرا ہوکر ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ چکاہے اور ہم تنزلی کے شکار ہوکرجھوٹی طفل تسلیوں میں دمادمست قلندر کی صدائیں بلندکررہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس قرآن کے ذریعے بہت سی قومیں بلندہوں گی اور دوسری پست ہوں گی۔‘‘ مغرب کی ترقی اورہماری پستی کا اصل رازیہ ہے کہ ہم توحید کے منافی توہم پرستی کا شکار ہیں اوروہ توحیدکے تقاضوں کے عین مطابق انسان کے لئے تسخیر کائنات کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ ہم توحیدکے منافی اپنے شرکیہ اوہام کواسلام کانام دیتے ہیں اور ان کے اسلام کے مطابق تسخیری صلاحیتوں کوہم مادہ پرستی کا نام دے کراسلام کے منافی سمجھتے ہیں۔
(باقی تفصیلات اشعار کے بعد ’’مغرب کی ترقی اور ہماری تنزلی‘‘ کے عنوان سے ملاحظہ فرمائیں۔ )

82-larki-ki-shadi-uski-marzi-k-bina-karna-saudi-arabia-londi-nikah-court-marriage-daf-bajana-binori-town-madrassa-fatwaدجال کے ساتھ ستر ہزار امتی ہوں گے جن کے سرپرسیجان ہوں گے (حدیث)۔
امام القرطبی کی التذکرۃ : قصاص کوختم کردینگے یہ طلیل اورچھپ کرحملہ کریں گے یہ یقور۔

83-hazrat-umer-hazrat-ali-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halalah-teen-talaq-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani-ibn-e-majah-haiz-allama-ibn-e-qayyim-bakri-doodhابن صائدخود دجال تھااورملاعمرنے یہ دجالیت کاٹھیکہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے اٹھایاہوا ہے حق کوباطل کے ساتھ ملاتاہے، میں نے یہ صورپھونکاہے۔

84-ptm-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-imran-khan-pervaiz-bushra-manika-iddat-period-shah-naimatullah-waliمولانافضل الرحمان جسارت کرنے والانہیں ہے لیکن طالبان پراس کے باوجوداس حدیث کوفٹ کردیا ہے اس کے لشکر کے منہ ڈھال اور ہتھوڑوں کی طرح ہیں یہ علاقہ ان سے بھرا ہواہے۔

85-shaheen-air-international-wins-lion-city-ice-hockey-tournament-singapore-bowling-batting-investment-in-pakistanمغرب کے بارے میں حدیث کو کمی وبیشی کے بغیربیان کرو، دوغلہ پن تباہی ہے، دجالیت پر کسی کواجروثواب نہیں مل سکتا ہے۔

86-justice-faiz-essa-allama-khadim-hussain-rizvi-shaftaloolyari-gang-war-lashkar-e-jhangvi-imamia-asghar-khan-case-muh-kala-karnaدین میں زبردستی نہیں ہے ،ہمارا اسلام انصاف چاہتاہے۔عدل کاجھنڈا دنیا میں بلندہے اگرتوایک بھی جسارت کرنے والا پیدا ہوگیا۔

87-stephen-hawking-jinnat-and-quran-sir-syed-ahmad-khan-ghulam-ahmad-pervez-science-roohaniyat-black-hole(رسول اللہ ﷺ سے عرض کیاگیاکہ؛کیا)اس(دجال) کے پاس کھانا پینا ہوگا؟ (فرمایا ﷺنے:) وہ اللہ کے نزدیک اس (مال ومتاع)کے باوجود سب سے زیادہ ذلیل ہے۔ اللہ نے فرمایاہے۔(بھلاکون ہے جوتمھیں رزق دے) اگر وہ (اللہ) رزق روک لے؟ بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور (حق) گریز پر۔

88-dawn-leaks-supreme-court-ispr-ghq-pml-panama-leaks-raheel-sharif-maloon-nawaz-sharifقصہ ڈالرو کا ہے،تائیدلشکروسے ہورہی ہے،(لین دین کے معاملے پر) دوستوں سے سرکشی ہورہی ہے۔کھانا پینا رکھنے کے باوجود اللہ کے نزدیک اس ذلیل پر (اللہ کا) قہرہے۔

89-mufti-taqi-molana-fazal-ur-rehman-establishment-islam-zindabad-conference-hyderabad-lahoo-lahaan(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) یہ (خوارج) لوگ عمرکے لحاظ چھوٹے ہوں گے، بیوقی کے خوابوں میں رہتے ہوں گے اور اسلام سے خارج ہوجائیں گے۔ان کی خاص نشانی سر منڈانا ہوگا۔ (جنگِ )آزادی میں کسی چیزکے ذکررسول اللہ ﷺ نے خوارج کی نشاندہی فرمائی۔(خوارج کے بارے میں احادیث نبوی ﷺ سنن ابن ماجہ شریف)

90-tablighi-jamaat-haji-muhammad-usman-molana-tariq-jameel-hajre-aswad-muslim-khwateen-ragra-jannat-ki-hoorنوجوان بیوقوف لوگ ہیں، نکل گئے ہیں اسلام سے، ان کاسر منڈانا نشانی ہے،اس کوجان سے مار دو،ان کی (جنگِ) آزادی کاذکر ہوچکاہے۔
تبلیغی جماعت کے بارے میں پہلے یہ روایات میں اپنی کتاب ضرب حق،، میں علامہ ارشدالقادری کی کتاب کے حوالہ سے بھی نقل کرچکاہوں لیکن ان کے ساتھ جنگ کرنے کے حوالہ سے اتنی سختی سمجھ میں نہیںآرہی تھی، آج طالبان اوردہشت گردی کی جولہر اٹھی ہوئی ہے اس میں سب سے اہم رول تبلیغی جماعت کانظرآتاہے۔جب تک ان کے خلاف جہادکااعلان کرکے راہ راست پر نہ لایاجائے اس وقت تک دہشت گردوں کوتبلیغی جماعت کے افرادنہ صرف اپنے آغوش میں پناہ دیں گے بلکہ دوسروں کو مارنا محض ایک عذاب تصورکریں گے، جب تک ان کونشانہ نہ بنایاجائے دوسروں کے دردکااحساس ان کوکبھی بھی نہیں ہوسکتاہے۔عوام دہشت گردوں کونہیں پکڑسکتے ہیں لیکن ان کوسپورٹ کرنے والوں سے بدلہ لیں گے تودہشت گردی رک جائے گی۔ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعہ سے پہلے کوڑ کے پاس ایک دہشت گرد کو پولیس والوں نے اشارہ کیا کہ رک جاؤ لیکن وہ اپنے ہاتھ میں بم لے کر بھاگا جس کی وجہ سے پولیس والوں نے اس کو مار دیا۔ یہ رائے ونڈ سے وقت لگاکر آیا تھا اور میرے خلاف اس کو استعمال کیا جانا تھا۔ ہمارے واقعہ کے بعد طالبان خود معذرت کررہے تھے اور تبلیغی جماعت والے یہ پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے ساتھ جو سلوک طالبان نے کیا ہے اس میں طالبان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جس سے ان کے خبث باطن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تبلیغی جماعت میں کی طرح طالبان میں بھی مخلص لوگوں کی کمی نہیں ہے اور ان کی دینداری بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے لیکن کیاقرون اولیٰ کے خوارج میں مخلص لوگوں کی کمی تھی؟میرے نزدیک علماء دیوبندکے اکابرین اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اصل وارث تھے اورتجدیدی کارنامے میں تبلیغی جماعت کے بانی مولانامحمدالیاسؒ کابنیادی کردار ہے۔یہ ان کے کردارکی برکات ہیں کہ ہم آباواجداد،تصوف وفقہ اورفرقہ واریت کی بنیادوں پراپنی ناکوں میں نکیل ڈال کرچلنے اوردوسروں کے پیچھے لٹ اُٹھانے کے بجائے اللہ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کوزندہ کرنے کاعلم اُٹھائے ہوئے ہیں،یہ دوسری بات ہے کہ آج ان میں سے غالب اکثریت اور اجارہ دارطبقہ خوداکابرپرستی اور بدترین فرقہ واریت کا شکارنظرآتاہے۔تاہم بلاشبہ آج بھی اعتدال کادامن تھامنے والوں کی فہرست مرتب کی جائے توان میں غالب اکثریت علماء دیوبندکے پیروکاروں کی نظر آئے گی ۔کاش احادیث کے خاکے کوخلوص دل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے اوراسلام کے بارے میں فرقہ وارانہ تعصبات کی بجائے حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے انقلابی اقدامات اُٹھائے جائیں۔

91-talibanization-asma-jahangir-jmaat-e-islami-abdul-sattar-khan-niazi-mulla-fazal-ullah-malala-yousafzai(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے صحابہ!) تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے ساتھ حقیرسمجھے گا،یہ لوگ آسمان کے نیچے مارے جانیوالوں میں سب سے بدترین مقتول ہوں گے،اور بہترین شہید ان جہنمیوں کے کتوں کے ساتھ لڑنے والامقتول ہوگا۔ یہ ہے منشور۔
احادیث نبوی ﷺ کے مطابق مسلمان حکمران، افوج، سیاستدان، عوام،علماء سب کے سب اس منشور کواپنالیں تواغیارکی سرپرستی میں قائم ہونے والی دھشت گردی سے نہ صرف نجات پاسکتے ہیں بلکہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا بھی ازالہ کرسکتے ہیں۔

92-talibanization-jmaat-e-islami-moscow-washington-tehran-mujahid-ramen-davis-dehshat-gardiنماز کی ادائیگی میں یہ صحابہؓ سے بڑھ کر ہیں،بدترین مقتول ہیں روئے زمین پر، بہترین شہیدوہ ہے جوجہنم کے کتوں سے لڑتاہواماراجائے۔ یہی ہے منشور۔

93-maryam-nawaz-tweet-abdul-quddos-buloch-property-establishment-army-seventy-year-hasan-nawaz-geo-tv-media-isi-supreme-court-talk-show-quran-revolution(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:)جب بھی کسی صدی میں یہ نکلیں گے، یہ منقطع ہوجائیں گے۔ بیس مرتبہ سے زیادہ یہاں تک کہ دجال ان کے ساتھ نکلے گا۔(ذکرالخوارج ،ابن ماجہ) اس دفعہ ان کا نکلنابرا ہے مختلف مرتبہ نکلنے کے حوالہ سے۔
یزید بن ھارون عن المبارک عن الحسن قال:یخرج جیش من خراسان یعقبھم الدجال۔اسنادہ صحیح( الفتن نعیم ابن حماد) خراسان سے ایک لشکر نکلے گا جس کی پشت پناہی دجال کرے گا۔ جومذہبی جماعتیں، سیاستدان، فوجی اور سرکاری آفسران اس خوش فہمی میں مبتلاہیں کہ دہشت گرد معصوم عوام، مساجد،مدارس،جی ایچ کیو،پولیس وفوجی آفران وسپاہی کوتو نہیں بخش رہے ہیں لیکن ہمیں بخش دیں گے تویہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے ان دہشت گردوں نے کسی کو بھی چھوڑنا نہیں،خالدخواجہ سے بڑھ کران کاحامی کون ہوسکتاہے؟لیکن خالدخواجہ کو لال مسجداور سی آئی اے کے ایجنٹ کے نام پر قتل کردیاگیا، لال مسجد والوں نے توتردیدکردی اوراگروہ سی آئی اے کاایجنٹ تھاتوطالبان کی کازکے علمبرداروں اور حامیوں کے بارے میں وسیع پیمانے پریہ سوچ موجودہے کہ ساراکھیل ہی امریکی سی آئی اے کاہے، کوہاٹ سے جاویدابراہیم پراچہ نے خالدخواجہ کورخصت کیاتھا اور پھراس نے نمازجنازہ بھی پڑھائی ، اسی پرسازش کرنے کاشک بھی موجود ہے۔یہ ماجراکسی کی سمجھ میں نہیں آرہاہے ،حالانکہ جاویدابراہیم پراچہ کے چوتڑوں سے اکثروبیشتر اس مالیش کا تیل ٹپک رہاہوتاہے جواس نے کرایہ کے طالبان سے کروائی ہوتی ہے، سیدھے سادے لوگون کوالقاعدہ اورطالبان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیاجاتا ہے،لیکن نامی گرامی لوگوں کوکچھ نہیں کہاجاتاہے، جب راہ نجات آپریشن میں پاک فوج کے اہلکاروں نے عوام سے طالبان کے بارے میں رائے طلب کی تولوگوں نے کہاکہ فوجی انبیائے کرام ہیں اورطالبان صحابہ کرام ہیں باقی ہم عوام کفارہیں دونوں مل کرہمیں مارتے ہیں،، اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ عوام فوج اورطالبان دونوں کوامریکی خداکے انبیاء اور صحابہ سمجھ کرکیاسوچ اورسمجھ رہے ہیں، سب اچھاکی رپورٹ سے حقائق نہیں بدل سکتے ہیں، عوام اپنے ساتھ ہونے والے مظالم میں فوج اور طالبان کوبرابر کاشریک اور دونوں کوامریکی آقاکے کھلم کھلاغلام سمجھتے ہیں۔پرویزمشرف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسامہ بن لادن کے خاص الخاص ساتھی ، جہادی کاز اورطالبان تحریک کی بھرپورحمایت کرنے والے صحافی روزنامہ اوصاف کے سابقہ ایڈیٹراورجیونیوزکیپٹل ٹاک کے میزبان حامدمیرنے انکشاف کیا کہطالبان پرویزمشرف نے بھی بنائے تھے،، کیااس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کوبائی پاس کرکے ایساممکن تھا؟ہرگزنہیں!البتہ یہ ممکن تھاکہ پرویز مشرف کوبائی پاس کرکے اشفاق کیانی نے طالبان بنائے ہوں،لیکن اشفاق کیانی شروع دن سے اہل مغرب کے لئے قابل اعتماداور پروفیشنل شخصیت قرار پائے تھے، حالانکہ آئی ایس آئی پران کی طرف سے شکوک وشبہات کااظہاربھی ہوتارہاہے، جس کاسیدھا سادہ مطلب یہی بنتاہے کہ یاتوامریکہ ،پاک فوج اور طالبان انتہائی رازداری کے ساتھ اس خطے میں ایک مربوط کردار اداکرتے ہیں اورلوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایک منصوبے کے تحت کام کرتے ہیںیاپھر یہ سب ایک دوسرے کودھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان دونوں صورتوں میں عوام کابیڑہ غرق ہورہا ہے جوکسی کے مفاد میں بھی نہیں ہے، جس دن یہ تاثرختم ہوگیاکہ عالمی اورمقامی طاقتوں نے اس کھیل کی پشت پناہی چھوڑدی ہے، اسی دن سے دہشت گردوں کاخاتمہ عوام خودہی کردیں گے، امریکہ نے خطے میں آکر دھشت گردوں کے وجودکواخلاقی جوازفراہم کردیا، بش اور اسامہ دو کاروباری پاٹنروں نے اس خطے میں چوہے بلی(ٹامن جیری)کاکھیل کھیلناشروع کردیا ، سعودی عرب اپنے قدرتی ذخائرمعدنیات سونے اورتیل کامالک ہوتے ہوئے بھی مالک نہیں،عراق کے تیل پربھی بہانہ بناکرقبضہ کرلیاگیااورافغانستان اوروزیرستان سے بھی کافی مقدارمیں یورنیم اورقیمتی معدنیات کے منتقل کرنے کی خبریں عوام گردش کرتی رہی ہیں، پاکستان ، ایران اور روس کی چنگل سے نوآزاد مسلم ایشیائی ریاستوں میں موجود معدنیات کے وسیع ذخائرپر بھی مغربی ممالک اپنااپناقبضہ جمانے کے لئے اپنااپنا کھیل کھیل رہے ہیں ۔اس وقت دونعرے مقبول اوروقت کی ضرورت ہیں ایک خطے سے قابض افواج کاانخلاء اور دوسرانظام کی تبدیلی ،اور یہ دونوں نعرے بدقسمتی سے القاعدہ،طالبان اورخوارج نے بلندکررکھے ہیں جس کاکوئی مثبت نتیجہ نہیں بلکہ الٹامنفی نتیجہ نکل رہاہے، ان دھشت گردوں کی وجہ سے لوگ نئے انقلابی اسلامی نظام کے نفاذسے بدظنی کاشکار ہوچکے ہیں اورغیرملکی افواج کونکالنے کے بجائے اپنی جان، مال اور عزتوں کے تحفظ کے لئے ضروری خیال کرنے لگے ہیں، آج اہل مغرب کااسلام پراعتمادکیسے ہوسکتاہے جبکہ مسلمان بھی شدت پسندوں کے اسلام کوقبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں، امریکہ کچھ عرصہ قبل سیاہ فام لوگوں کوووٹ دینے کاحقداربھی نہیں سمجھتے تھے، اوبامہ نے جس وقت ماں کی کوکھ سے جنم لیاتھااس وقت امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کو ووٹ ڈالنے کاحق بھی نہ تھا،پرامن جدجہدکے ذریعے دنیاکی مظلوم انسانیت کوظلم وجبرسے نجات دلانااسلام اورمسلمانوں کی تقدیرمیں بفضل تعالیٰ لکھاجاچکاہے۔دجالیت اورفریب کے ہتھکنڈے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف سازش ہیں،اس لئے ان کے خلاف ہمت سے کام لینے کاوقت آگیا ہے۔

94-pashtun-tahaffuz-movement-ptm-prime-minister-of-pakistan-manzoor-pashtoon-gullu-batt-sadiq-sanjrani-tablighi-jamaat-taliban-hindu-che-kalme-mehsoodجب بھی یہ نکلیں گے ختم ہوجائیں گے بیس مرتبہ سے زیادہ یہاں تک کہ دجال ان کے ساتھ نکلے گا اس بار ان کانکلنا برا ہے مختلف مرتبہ میں۔

95-pakhtoon-history-constitution-pakistan-insaf-demand-manzoor-pashtoon-fc-police-army-court-quatta-media-balochistan-cultureقرون اولیٰ سے ملت اسلامیہ کاعروج زوال پذیرہوتا رہاہےخارجیوں کے خروج سے۔ حضرت عثمانؓ سے لیکرخلافت عثمانیہ تک قتل وغارت گری لکھی گئی ہے تاریخ کی سطور میں۔

96-senate-elections-2018-molana-fazal-ur-rehman-azam-swati-mandi-jui-blackmailing-changa-manga-ghulam-ishaq-khan-nawabzada-nasrullah-baghal-geer-shirin-rehmanمدارس کے طلبہ کی بے وقت مرغے کی بانگ سے بے زکام ہیں امریکہ اور روس۔ ننگِ اسلام اسامہ اور ننگِ امت ملاعمر( معروف بہادرحکمران) تیمور لنگ نہیں ہیں۔

97-ppp-pti-fitri-ittehad-mian-ateeq-raza-rabbani-social-media-jaali-jihad-zia-ul-haq-geo-tv-londi-saleem-mandi-walaاسلام کااصول صرف اطاعتِ رسول ﷺہے اور اولی الامر(حکمران) کاحکم ماننا مشروط ہے(کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی اطاعت اور اس کے رسوج کی اطاعت کاحکم دیا ہے اور اولی الامرکی اطاعت کاحکم بھی دیا ہے لیکن اگرکسی بات میں ان کے ساتھ تنازع ہوجائے تواللہ اور اس کے رسول کی طرف بات لوٹانے کا حکم ہے اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی) اسلام میں نہیں ہے کوئی تیمور، سعود اور فغفور۔(تیمور سے مراد معروف مسلم حکمران تیمور لنگ اور فغفور چین کے بادشاہ کا لقب ہے) یعنی ہم قرآن وسنت کے پابندہیں ہماراکوئی دوسرا ائیڈیل نہیں ہے۔

98-horse-trading-raza-rabbani-jamiat-ulama-islam-establishment-balochistan-assembly-mehmood-khan-achakzai-saleem-bukhari-javed-hashmi-baghiاسامہ بن لادن اور ملاعمرخان کوسر کی آمان ملی ہوئی ہے اور ان کے دوستوں پرڈالروں کی بارش ہورہی ہے۔اگرکوئی ان کامقابلہ نہیں کرسکتاتووہ معذورہے۔

99-sadiq-sanjrani-election-house-hasil-bizenjo-raza-rabbani-politician-mujahideen-democracy-in-india-blackmailing-people-of-afganistan-juiخودکش کے مرکز بہت سے گھر،مدارس،مساجداور تبلیغی لوگ۔ان کی تشخیص جارحانہ کرو، ہر ایک آدمی شرور سے پریشان ہے۔

100-mjamaat-e-islami-pakistan-establishment-muttahida-majlis-e-amal-sirajul-haq-labbaik-ya-rasool-allah-mumtaz-qadri-sheikh-rasheed-raja-zafar-ul-haq-article-62-and-63حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں سچائی معلوم ہوتی ہے،آخرکارفساد ختم ہوجائے گا اور خوش ہوجائے گا ناخوش انقلاب کی خوشی کی وجہ سے ۔

101-haroon-ur-rasheed-mamu-najumee-pakistan-cricket-match-final-tigni-ka-naach-establishment-chori-or-seena-zori-chashm-e-baddoor-firdous-ashiq-awan-ptiہمارے پیارے وزیرستان کے لوگ انسانی اقدار کے اعلیٰ معیار سے واقف ہیں اوردل کے بہت دلداراورمظلوم کے ساتھ تعاون کرنے والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ پیلا کیاہے اورسرخ کیاہے۔یہ علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کی طرف اشارہ جن میں محراب گل افغان کے فرضی نام سے پٹھانوں کاخصوصاََشیرشاہ سوری اور وزیر محسود قبائل کاذکر کرتے ہوئے ان قبائل کو خلعت افغانیت سے عاری قرار دیاہے۔ان اشعارمیں کسی ایک کاری ضرب لگانے والی شخصیت پیداہونے کاذکر ہے۔
نگاہ وہ نہیں جوسرخ وزرد پہچانے نگاہ وہ ہے جو محتاج مہر وماہ نہیں

102-manzoor-pashtoon-pashtun-dharna-islamabad-sham-e-ghariban-trailer-truck-shahid-khaqan-abbasi-baloch-sindhi-muhajir-panjabi-nawaz-sharif-jootaبہت بڑے قدرتی تحفے کے ساتھ ایک گھنگرو بھی مالک(اللہ تعالیٰ)نے ان کوایک بہت بڑاعیب دیا ہے۔وہ یہ کہ مردانگی کیاہے اور بے غیرتی کیا ہے اس سے یہ لوگ بیگانہ اور نشہ میں ہیں۔

103-amir-muqam-fawad-chaudhry-sheikh-rasheed-democracy-lanat-shame-on-democrats-zhob-balochistan-internet-social-media-haq-nawaz-jhangvi-shia-kafir-qazi-abdul-kareem-fatwaقیادت کاایک بحران پیداہوا ہے اور وزیرستان سب سے بہادر گردانہ جاتاہے۔کمائی یا بے عزتی ، بے غیرتی یا بہادری آج لوگوں کاشعور بیدار ہوگیاہے۔
جب میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیر تعلیم تھا تو مردان سے تعلق رکھنے والے کچھ طالب علموں نے ظلم و جبر کا راج قائم کیا تھا جس کو میں نے چیلنج کرکے توڑ دیا تھا۔ اس دوران عربی کے کچھ اشعار بے ساختہ لکھے تھے جن میں سے ایک دو یہ ہیں۔

یا ایھا الجیش من نساء اہل المردان
ان کنتم رجالاً فتعالوا الی المیدان
قد ما التقیتم قط باہل وزیرستان
کفا لکم و احد منھم موجود عتیق الرحمن

اے مردان کی عورتوں میں سے کا ایک لشکر، اگر تم مرد ہو تو میدان کی طرف آؤ، بے شک تم میں کبھی لڑائی کیلئے وزیرستان والوں کا سامنا نہیں کیا ہے، ان میں سے ایک عتیق الرحمن تمہارے لئے کافی ہے۔
یہ اشعار ان مردانی لڑکوں نے بنوری ٹاؤن کے موجودہ اُستاد مولانا عطاء الرحمن اور مولانا امداد اللہ کو دئیے۔ مولانا عطاء الرحمن نے یہ اشعار شکایتاً مفتی محمد ولی مرحوم کے حوالے کئے۔ جب درس گاہ میں مفتی ولی نے کاغذ پر لکھے ہوئے یہ اشعار میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ پڑھ کر سناؤ تو میں اشعار کو پھاڑنے لگا۔ جس پر مفتی محمد ولی نے اس شرط پر وعدہ کیا کہ اشعار پھاڑے بغیر واپس کریں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ چنانچہ میں نے وہ اشعار واپس کئے تو انہوں نے حیرت کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ ثالثہ (تیسرے درجے) میں پڑھ رہا ہے اورایسے اشعار لکھے ہیں کہ امرا القیس کو بھی شرما کر رکھ دیا۔ واضح رہے کہ امرا القیس عربی کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ یہاں پر اس تذکرے کا مقصد یہ ہے کہ وزیرستان والوں پر مجھے ناز تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان میں خامیاں بھی ہیں جو دور کرنا ہوں گے۔ میرا بچپن پختونخواہ، میرا لڑکپن پنجاب اورجوانی کراچی میں گزری ہے۔ مہم جوئیوں نے ادیب کے بجائے ایک انقلابی بنادیا ہے۔ میری تربیت میں بچپن کے بعد لڑکپن میں پنجاب کا نظریاتی شعور اور کچھ کرنے کا جذبہ شامل ہے۔ کراچی میں پختون، پنجابی، مہاجر، سندھی اور بلوچ سب کے ساتھ دیرینہ تعلقات رہے ہیں ، سب میرے انقلابی دوست ہیں اور سب ہماری تحریک کا حصہ ہیں۔ علاقائی اور نسلی تعصبات سے ہم کوسوں دور ہیں۔ ہر قوم اور ہر برادری میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ جب کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کی خوبیاں سامنے آتی ہیں اور جب برا کرتا ہے تو اس کی برائیاں بیان کی جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں عرب، یورپ اور چین کو دیکھنے کا موقع ملا ہے میری نظر میں پاکستانیوں کی کچھ خامیوں کو دور کیا جائے تو ان جیسی خوبیوں کی مالک موجودہ دور میں کوئی نہیں ہے۔ انشاء للہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز پاکستان ہی سے ہوگا۔

104-allama-iqbal-budh-mat-waziristan-communist-arif-khan-mehsud-tank-di-khan-kidnapping-gulsha-alam-barki-in-waziristan-pti-chaudhry-afzal-haq-book-husn-e-lazawalایک قاری (معروف حسین اصل نام نا معلوم) کی بدعملی کی وجہ سے پوری قوم ، ملک اور اسلام کی بدنامی ؟ ان کے امراء اور ایجنٹ سب کے سب قصوروار ہیں۔

105-manzai-behlol-zai-mehsud-shaman-khail-neuton-einstein-stephen-hawking-shakir-shuja-abadi-president-of-pakistanکھلم کھلا دھشت گردی تسلسل کے ساتھ دجالیت ہورہی ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی غلطی پر اور کوئی درست ہے بلکہ یہ پوری چین دشمنوں کی مددسے بنی ہے۔

106-krishna-kumari-kolhi-moinuddin-qureshi-prime-minister-tribal-voting-rights-dictator-pervez-musharrafاے مسلماں!تعمیر نو کے لئے پرانے انہدام پر رونا نہیں۔صبح صادق سے پہلے صبح کاذب کاہونا معمول کی بات ہے۔

107-rubina-qaimkhani-accident-women-of-pakistan-shahbaz-sharif-psl3-salman-taseer-murder-mumtaz-qadri-pakistani-politicianکہاوت ہے کہ پہلے مجھے دلائل سے ہرادینا پھر مجھے جان سے ماردینا، آدم کی اولاد انکساری کی بنیاد پر خلافت کی مستحق ہے۔ تکبر کرناکمینے کاکام ہے۔

108-chief-justice-qayyum-maryam-nawaz-tarazu-nawaz-sharif-call-to-chief-justice-establishmentوزیرستان سے خلافت کی آواز کس نے آسمان سے اوپر اٹھادی۔ میری گردان آگے کی طرف جاری ہے لیکن میں اس پر غرور نہیں کرتاہوں۔
میں نے اپنی کتاب میں وزیرستان کی مرکزیت اور پاکستان، افغانستان اور ایران کی مشترکہ پہل اور پھر عربستان وغیرہ کو ساتھ ملا کر ایک انقلابی خلافت کی آواز اُٹھائی تھی جس کے بارے میں مولوی کہہ رہے تھے کہ یہ میں نے گردان بنائی ہے۔ آج دنیا میں جو آواز میں نے اُٹھائی تھی اس کی گونج ہے لیکن سازشوں کا بھی بہت بڑا جال بچھایا گیا ہے جو انشاء اللہ حق کے سامنے مکڑی کا جالا ثابت ہوگا۔

109-naeema-kishwar-jui-pakistani-senator-parliament-house-100attendance-political-parties-women-role-in-politics-teen-talaq-suspensionشریعت اگرنافذکردی گئی تواسلام خودبخود عالمی نظام بن جائے گا، ملا کامنہ ٹیڑھا ہے اور شریعت پرقبروں کی مٹی پڑی ہوئی ہے۔

110-dawat-e-islami-chicken-chick-colorful-green-and-colorful-parrot-molana-ilyas-asri-ahle-hadees-gujranwala-farmi-choozee-zarbehaqtvسیدھی اورکھلی بات کہ دجال کے اس لشکر کو کس نے قتل وغارت کے بیگارپربھیجاہے۔فتنہ اور فسادکی وجہ سے اس ٹھنڈے علاقہ سے تنوربن گیاہے۔

111-manzai-behlol-zai-mehsud-shaman-khail-neuton-einstein-stephen-hawking-shakir-shuja-abadi-president-of-pakistan-scientistان نقاب پوش مجرموں کوبے نقاب کرنا میں مانتاہوں ،میں مانتاہوں کہ نری گالی ہے۔ لیکن میں معذرت چاہتاہوں،درست بات کوچھپانے کے ہاتھوںیہ خرابی باقی رہ گئی ہے۔

112-mere-baad-khulfa-honge-phir-un-ke-baad-ameer-honge-phir-badshah-honge-phir-jabir-badshah-honge-phir-mere-ehl-e-bait-me-se-aik-shaksh-nikle-ga-al-hadeesخود کش کے لئے بہت کم سن اور غریب لوگوں کوتیار کیاجاتاہے۔ ان لیڈر کے جان اور ان کے خاندان ڈالروں کی بدولت جنتی ہیں چشم بد دور۔

113-mehssod-tahaffuz-movement-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-malik-ajmal-jambhooriat-imran-khan-pervaiz(خودکش حمہ آوروں کے )ڈے این اے کے ٹیسٹ ٹائم پاس کے لئے بیسٹ (بہترین) ہیں۔ اے عالمی سازش! بولو بولو کہ یہ (دھشت گرد) اچھاہے اور یہ بیمار(برا)ہے۔(یہ عالمی قوتوں کی متعارف کردہ سازشیں ہیں جودھشت گردوں میں سے بعض کواچھااور بعض کو براقرار دے کراس خطے میں دھشت گردی کودوام دے کر عدم استحکام کاشکار کرنا چاہتی ہیں)

114-talibanization-bushraization-insaf-justice-zulfiqar-ali-bhutto-nawaz-sharif-imran-khan-bacha-jamura-ashraf-memon-khatm-e-nabuwat-sheikh-rasheed-blame-jali-peer-ticket-hand-cuff-jmaat-e-isکتنے بے گناہ لوگ (ان دھشت گرد) کتوں کے ہاتھوں سے شہید ہورہے ہیں،توپھرآپ ہی جنت کے اس طالب کو(قتل کرکے) شراب طہورپیلادو۔

115-parliment-all-parties-amendment-section-62-63-waive-juditiary-media-channels-justice-saqib-nisarنقاب پوشوں کے پیچھے گھومنابے غیرتی اور ویسے بہودگی ہے، دہشت گردجس کے پیٹھ پر سوارہو ،وہی تیرا مجرم ضرور ہے۔

116-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-4فرسودہ نظام پر کیاکلام ہے؟لیکن دہشت سے اسلام بدنام ہوا۔فسادی کوجان سے ماردو ، اور اس کا ساتھی بھی اسی کی طرح ہے۔یہ فتویٰ ہے جس میں صبر نہیں ۔
ایک طرف دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں اورلوگوں کو بے دریغ قتل کررہے ہیں۔ دوسری طرف ملا اس بحث میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کے لئے یہ جائز ہے یا نہیں۔ حالانکہ یہ جاہل اور بکے ہوئے لوگ فتوؤں کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ مہدی کا نعرہ ’’امت امت‘‘ ہوگا۔ جس کا مطلب جان سے مار دو جان سے ماردو ہے۔ ان خوارج کے خلاف جو اس ایکشن میں آگئے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی انسان کا قتل کرنا جائز بنتا ہے اگر اب بھی ان کے قتل کا فتویٰ جاری نہیں کیا گیا تو یہ فتنہ ختم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ یہ ایک غیر فطری بات ہے کہ ایک طرف کوئی کاروائی کررہا ہو اور دوسرا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اپنے بچاؤ کے انتظامات سوچ رہا ہو۔ مغرب کے دانشوروں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فلسفہ غیر فطری اور ناقابل عمل تھا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مار دے تو دوسرا بھی پیش کردو۔ جبکہ اسلام نے اس کے بر خلاف یہ تعلیم دی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکو، قاتل کو قتل کرسکتے ہو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔

117-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-3جب فضا بدل جائے تو (طالبان) کے ساتھ دوستی بھی گالی بن جائے گی۔ اور بے ضمیر لوگ پھر کہیں گے کہ ہم ان کی مدد پر تو مامور (مقرر) نہیں تھے۔

118-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-2اصلی بات اللہ کا فضل ہے جو پیشانی پر ہوتا ہے(ذالک فضل اللہ یوئتیہ من یشاء) بندے کو چاہیے کہ وہ بہت ہی شکر گزار بندہ بنے۔

119-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadriمیرے رب کی قسم کہ انقلاب (کی امید )پرمیرے دل کوتسلی ہے، ورنہ بہت سو سے کڑاکا نکال چکاہوتا، مقدور بھر کوشش کررہاہوں۔

120-mulazmeen-ki-bad-hali-seema-kamil-ubl-president-yousuf-masti-khan-wahab-baloch-najam-ul-hassan-attaموالی (غلام خاندان کے افراد)جمع ہے مولا کی ۔( اہل علم کومولانا کہتے ہیں جس کے معنی ہمارے آقا کے بھی بنتے ہیں اور ہمارے غلام کے بھی ۔) غلام خاندان پرانے دور سے اہل علم رہے ہیں۔مفتی میرعالم جان سے میں نے کہاکہ مجھے چچازاد مت کہو۔
وزیرستان میں میرے ایک ساتھی مولوی زین العابدین تھے۔ کراچی میں طالب علمی کے دور میں کسی سے ان کا تعارف کرایا کہ ان کا تعلق کوٹ کئی کے معروف علمی خاندان سے ہے ان کے دادا، والد، چچا وغیرہ سب علماء ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ ’’مرئی‘‘ ہے۔ ہمارے ہاں مرئی غلام خاندان کو کہتے ہیں۔ مفتی میر عالم جان بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں زیادہ تر اہل علم وہ افراد رہے ہیں جوآزاد کردہ غلام تھے جن کو موالی کہا جاتا ہے۔ علم کی وجہ سے نسل پرست عربوں میں بھی خاندان کے پس منظر کی کمزوری ختم ہوجاتی تھی۔ ایک موقع پر گومل کریانہ اسٹور میں میری مفتی میر عالم جان سے گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی کی کتاب میں سورہ فاتحہ کے بارے میں پیشاب والی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں جب تک آپ انتظار کریں گے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے جب میں گھر سے واپس کتاب لے کر آیا تو مفتی صاحب غائب تھے۔ پھر جمعیت کے رہنما ڈاکٹر مجید کی دوکان پر سامنا ہوا تو وہ کہہ رہا تھا کہ تم میرے کزن ہو لیکن مذہب کے معاملے میں تمہاری کوئی بات میرے لئے قابل قبول نہیں۔ جس پر میں نے کہا کہ تم مرئی ہو اور میں پیر۔ اسلئے تمہارا کزن نہیں ہوں۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھا شخص شاید اس کا کوئی انکل تھا اس کو غصہ آیا اور گالی بھی دینے لگا جس پر میرے ایک ساتھی کو بھی طیش آنے لگا لیکن میں نے اس کے جواب میں تحمل سے کام لیا۔ یہ کوئی معیوب بات نہیں لیکن ایک حقیقت ہے کہ مولوی حضرات کی اکثریت خاندانی پس منظر کے لحاظ سے قابل فخر نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک ساتھی شاہ وزیر نے مولانا غلام اللہ حقانی کے بارے میں کہا کہ وہ ملا نہیں پختون ہے۔ میں نے کہا کہ کیا ملا پختون نہیں ہوتے؟ تو اس نے کہا کہ نہیں جیسے میراثی اور دیگر پیشہ ور کاریگر وغیرہ پختون نہیں ہوتے اس طرح ملا بھی نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں لوگ کاریگروں کو فصل کے موقع پر ایک خاص حصہ اور معاوضہ دیتے تھے لوہار، بڑھئی، نائی، میراثی اور ملا کی تنخواہ نہیں ہوا کرتی تھی۔ جیسے دوسروں کے اپنے اپنے فرائض منصبی تھے اسی طرح ملا کا کام مردے نہلانا وغیرہ ہوتا تھا۔ یہ لوگ عموماً نسل در نسل اپنے اپنے پیشے کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ پاک بھارت کے مشترکہ اقدار میں نسلی کم تری اور برتری کی بات بھی شامل ہے۔ قصائیوں نے میٹنگ کرکے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ ہم قصائی کے بجائے قریشی کہلائیں گے۔ اور تیلی نے اپنا ٹائٹل بدلنے کے لئے عثمانی نام رکھ لیا۔ ٹانک میں ایک انصاری نے اپنے نام کے ساتھ گیلانی لکھنا شروع کیا تو میں نے پوچھا کہ باپ انصاری اور بیٹا گیلانی یہ درست نہیں ہے۔

121-khatam-e-nabuwat-justice-shaukat-siddiqui-raja-zafar-ul-haq-ghqقبیلہ صرف تعارف (شناخت)کے لئے ہوتاہے اورشرافت عمل سے ثابت ہوتی ہے، دیکھو قرآن ہویاانجیل ہو،توراۃ ہو یازبور۔

122-moulana-fazl-ur-rehman-feroz-chhipa-ptcl-dmg-commissioner-sargodha-corruptionغیرت مند پختون ! تم اٹھو بے غیرتی کی جڑیں نکال دو۔پشتو،دین اور انسانیت (تینوں) سے میں سارا ناسور ختم کررہاہوں۔

123-parliament-lodges-islamabad-barhana-larki-jamshed-dasti-deara-ismail-khan-jail-bhook-hartal-senators-of-pakistan-corruption-muhammad-bin-qasimفتویٰ دیاتھا مولاناعطاء الرحمان نے کہ مسلمان نہیں ہیں یہ حیوان، ذمہ دار(سیکیورٹی ایجنسیوں وغیرہ ) لوگوں پر ان کا جان سے مارنا شریعت اورقانون کے مطابق فرض ہے۔

124-naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khan-2مولاناصالح شاہ قریشی سینٹرنے بڑی معنی خیزبات کی وائس آف امریکہ سے کہ پیسوں کے لئے میں لوڑے کی بیوی ہوں، میرادین اور اقدارمٹ چکے ہیں۔
وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’’آشنا ریڈیو‘‘ میں جنوبی وزیرستان کے سینیٹر مولانا صالح شاہ نے اس سوال کہ افغانستان کی ڈیورنڈ لائن اگر ختم ہوجائے تو پھر وزیرستان اور سرحد (پختونخواہ) بھی افغانستان کا حصہ بن جائے گا؟ کے جواب میں کہا کہ ’’عورت اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی کہ کپڑے میرے لئے خرید نہیں سکتے اور میری چیز کے لئے گھٹنوں کے بل آتے ہو‘‘۔ یہ پشتو کا مشہور محاورہ ہے لیکن ایک اور محاورہ بھی ہے کہ جب سسر اپنی بہو کو ڈائریکٹ کچھ بول نہیں سکتا تو وہ اپنی بیٹی کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ میں کہتا تجھ سے ہوں لیکن بہو سنو تم بھی۔ یعنی اصل مقصد بہو کو سنانا ہوتا ہے۔ مولانا صالح شاہ بھی امریکی ریڈیو میں ایک افغانی سے یہ کہہ رہے تھے لیکن اصل میں وہ امریکہ کو سنا رہے تھے اور مطلب یہ تھا کہ اگر کچھ دینے کے لئے ہو تو پھر میں اس کیلئے بیوی کی حد تک جانے کے لئے بھی تیار ہوں۔

125-naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khanبیوی نے (شوہرسے) کہاکہ کپڑے میرے لیے لانہیں سکتے اور دوسری چیزکے لئے گھٹنے کے بل آتے ہو،،پچھلی دونوں ٹانگوں سے بندی ہوئی (گائے)صالحشے زن بور ہے یعنی عورت بھی ہے اوراس کابیٹا بھی مرچکا ہے۔
پشتو کے محاورے میں جو شخص اس قسم کی حرکت کرتا ہے اس کے بارے میں یہ گالی ’’لوڑے کی بیوی‘‘ اور ’’عورت‘‘ بن جانے کی بات بالکل عام ہے۔ مولوی صالح شاہ کے بیٹے نے خودکشی کرلی تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ امریکہ کے خلاف جہاد کے خود کتنے بڑے حامی ہیں۔ مولوی کا اپنا بیٹا خود کشی کرسکتا ہے لیکن خود کش نہیں ہوسکتا۔ مولوی صالح شاہ کے پڑوس میں ایک پاگل لڑکی نے خود کشی کرلی تو مولوی صالح شاہ نے ان کے وارثوں سے کہا کہ اس کا جنازہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پاگل تھی لیکن مولوی صالح شاہ پھر بھی نہیں مانا، اس کے چند دن بعد اس کے بیٹے نے خودکشی کرلی تو مولوی عین اللہ سے جنازہ میں اعلان کروایا کہ شریعت کے عین مطابق جنازہ ہورہا ہے۔ مولوی عین اللہ نے ایک مرتبہ دو فریقوں کے درمیان ایک فیصلہ دیا کہ راستہ کشادہ کرنے کے لئے مسجد بھی گرائی جاسکتی ہے۔ جب ایک فریق نے کسی اور مولوی کو بلواکر نظر ثانی کا فیصلہ کیا تو مولوی عین اللہ اپنی کتابیں لے کر آیا کہ میرا فیصلہ درست تھا دوسرے مولوی غلام محمد رغزی وال نے اس سے کہا کہ میں مناظرہ نہیں کرتا آپ خود ہی دوبارہ فیصلہ کرلو۔ مولوی عین اللہ نے کہا کہ پھر فیصلے کی فیس دوبارہ وصول کروں گا۔ مولوی غلام محمد نے کہا کہ فیس ڈبل لے لو۔ چنانچہ پہلے فیصلے میں ٹرک اور گاڑی وغیرہ گزرنے کے لئے جو فیصلہ دیا تھا کہ راستے کے لئے مسجد بھی گرائی جاسکتی ہے ڈبل فیس کا سن کر مولوی عین اللہ نے اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے لکھا کہ شریعت جب وجود میں آئی تھی اس وقت گھوڑا، گدھا اور اونٹ وغیرہ جانور تھے، جبکہ گاڑیوں کا کوئی تصور نہیں تھا لہٰذا گاڑیوں کے لئے راستہ بند ہے جانور کا راستہ ہی کافی ہے۔ یہ اپنا چشم دید واقعہ اور پورا کانیگرم شہر اس پر گواہ ہے۔ آج کل وزیرستان کے سینکڑوں علماء کا سرپرست اعلیٰ یہی مولوی عین اللہ ہے۔

126-zainab-murderer-imran-ali-ulama-islam-dna-punjab-police-supreme-court-of-pakistanبیٹے کی خود کشی سے وہ بور بن گیا (جیسے اُردو میں جس کا شوہر مرتا ہے اس کو بیوہ اور جس کی بیوی مرتی ہے اس کو رنڈوہ کہتے ہیں پشتو میں جس کا بیٹا مرتا ہے اس کو بور کہتے ہیں ) اور ریڈیو کے اس بیان سے وہ زن (عورت) بن گیا۔ سینیٹر کی زندگی ایک گند کی طرح ہے جس کی وضاحت پرمیں مجبور ہوں۔
مولوی صالح شاہ کو علاقہ کے لوگ بہت خوب جانتے ہیں، ایک پڑوسی نے بتایا کہ مولوی صالح شاہ نے اعلان کیا کہ عام لوگوں کو زکوٰۃ اور مردوں کے پیچھے صدقات اور خیرات کے پیسے بانٹنا اور کھانے تقسیم کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ خالی مدارس کے طلباء کو دینا ضروری ہے۔ جب لوگ ان کے پاس زکوٰۃ خیرات کے پیسے لے گئے تو وہ ان سے کہتا کہ یہ مدرسے کے لئے ہیں یا میرے لئے ہیں۔ جس کی وجہ سے شرم کے مارے اس کو ہی دینے پڑتے۔ بہر حال آج اس قسم کے لوگ ہمارے معاملات چلارہے ہیں جن کے بارے میں احادیث میں آتا ہے کہ ایسا وقت آئے گا کہ روبیضہ (گرے پڑے لوگوں) کے ہاتھ میں معاملات آجائیں گے۔

127-baloch-tahira-syed-madam-tahira-maulana-sami-ul-haq-nawaz-sharif-quddus-bizenjo-asma-jahangir-ptv-maryam-nawaz-jpgقسم قسم کے علماء ہیں اور قسم قسم کے انسان ہیں، کچھ چیتے، کچھ بھیڑیے ہیں اور کچھ شیر ہیں۔ کچھ لگڑبگڑہیں اور کچھ لنگور ہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو جانوروں سے تشبیہ دی ہے کسی کو کتے سے، کسی کو گدھے سے اور کسی کو بندر بنایا ، اس طرح حدیث میں تعریف کے طور پر بعض لوگوں کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ انگریز نے وزیروں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ چیتوں کی طرح ہیں اور محسودوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بھیڑئیے کی طرح ہیں۔ انسانوں میں کچھ لوگ شیروں کی طرح بھی ہوسکتے ہیں اور کچھ لگڑ بگڑ اور لنگوروں کی طرح بھی ہوسکتے ہیں۔

128-dehshat-gardi-misaq-e-madina-mufti-rafi-usmani-zina-bil-jabr-daish-khilafat-daily-jang-newspaperپاک بات پھلداردرخت کی طرح ہے ، خبیث درخت بے جڑ اورناپائیدارہوتاہے (یہ قرآن کی آیت سے ماخوذ ہے) ۔کچھ لوگ جیسے کھجورکے درخت ہوں ، کچھ زقوم اور کچھ انگور کی طرح ہیں۔
حدیث میں مؤمن اور قریش کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے، کھجور کا درخت پھل بھی دیتا ہے، اپنے تنے پر بھی کھڑا رہتا ہے اور اس کے پتوں سے کسی کے خلاف انتقامی کاروائی بھی ہوسکتی ہے۔ غفاری و قہاری ، قدوسی و جبروت ، یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان۔ بعض لوگ زقوم کی طرح خالی زہر ہی ہوتے ہیں اور بعض انگور کی طرح میٹھے اور پھل دار لیکن اپنے سہارے خود کھڑے نہیں ہوسکتے۔

129-ashraf-ghani-tota-mashal-khan-mansoora-lahore-jamiat-ulama-islam-bacha-khan-university-molana-sirajuddin-azan-e-inqalabکچھ بیٹے ہیں بش کے،پوتے پڑپوتے فرعون اور نمرود کے ہیں۔حضرت ابراھیم ؑ سے حضرت حسنؓ وحسینؓ تک میں(میری تاریخ)مظلوم اورصابر ہوں۔

130-german-journalist-reveled-real-facts-behind-mumbai-attack-qamar-javed-bajwa-delivers-a-speech-at-the-2018-munichبے غیرت، بے ضمیر،بے ایمان بھی، بے حیا،بے پختوسارے طالبان ہیں۔لیڈی ڈاکٹرکوتاوان کے حصول کے لئے اغوا کیا، دجال تصورمیں بھی گنداہے۔
آئی ایس آئی کے سابقہ آفیسر خالد خواجہ نے ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے اغوا کیا ہے اور یہ اتنی بڑی بات ہے کہ اگر خانہ کعبہ کو گرایا جائے تو وہ بھی اتنی بڑی بات اس کے سامنے نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں میڈیا کے علاوہ حقائق کے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک عورت کی عزت کسی بھی بڑے واقعہ سے بڑی ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آیا لیکن اپنی خواتین کی عزتوں کے تحفظ پر ہم اتنے خوش ہیں کہ سارا حادثہ اس کے مقابلے میں بالکل ہیچ نظر آتا ہے۔ البتہ ٹانک سے ایک ڈاکٹر صاحبہ کو طالبان اغوا کرکے وزیرستان لے گئے اور پھر بھاری تاوان لے کر اس کو چھوڑ دیا۔ ان کے شوہر، خاندان والوں اور خود اس ڈاکٹر خاتون پر کیا گزری ہوگی اور طالبان نے پیسوں کی خاطر اتنا بڑا اقدام کیسے اُٹھایا؟ طالبان کے حامیوں نے کبھی اس کو نہیں اُٹھایا۔ کوئی بھی غیرتمند مسلمان، کوئی بھی غیرتمند انسان اور کوئی بھی غیرتمند پٹھان ایسا کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لوگوں کا بس نہیں چلتا ورنہ ان طالبان کے ساتھ پختونوں کے ایریا میں، وزیرستان میں اور خصوصاً محسودوں کے ایریا میں اجتماعی طور پر وہ سلوک کیا جاتا جو قیامت تک نشان عبرت ہوتا۔ لوگ بے بس ہیں بے غیرت نہیں ، ان پر یہ حالات زبردستی ٹھونسے گئے ہیں۔

131-tablighi-jamaat-dawat-e-islami-sabz-gumbad-molana-ubaidullah-sindhi-muttahida-majlis-e-amal-haji-muhammad-usman-talaq-in-quranنام یہ( محمد)بن قاسم، صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد کا لیتے ہیں۔اسرائیل کے ساتھ (ان کے)تعلقات پر تبصرہ ہوگاقیامت کے دن۔(جیوٹی وی چینل میں کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میرنے سوات کے حوالہ سے اپنے پروگرام میں کہاتھاکہ بعض طالبان کی پشت پناہی اسرائیل کررہاہے اور یہ بات میڈیا میں مختلف ذرائع سے آتی رہی ہے لیکن آج تک ہماری میڈیاکوعموماََ اورٹی وی اینکروں کوخصوصاََیہ توفیق نہیں ملی کہ اس پرایکسپرٹ لوگوں کے توسط سے کوئی پروگرام کرتے اور عوام کاشعوربیدارکرنے میں اپناکردار ادا کرتے حالانکہ ڈاکٹرشاہدمسعوداورحامدمیردونوں مل کراپنی معلومات سے عوام کوآگاہ کرسکتے

ہیں)

132-chief-justice-saqib-nisar-iftekhar-ahmed-chowdhury-islamic-international-university-islamabad-justice-khosa-hudaibiya-paper-mills-siddique-kanju-mustafa-kanjuاگرچار(4)سے زیادہ شادیاں شریعت میں نہ ہوں توپھر بائیس(22)ماؤں کے بیٹے اسامہ کی ماں کونسی حور تھی؟۔

133-sami-ibrahim-on-bol-tv-asma-jahangir-ka-janaza-mufti-naeem-jamia-binoria-karachi-khawateen-hijr-e-aswadاگر سنت کے مطابق تیراعمل ہوجائے اورپھراللہ بھی تیرامددگاربن جائے تو(مادے کی تینوں حالتوں کی سازشیں) گیس اور مائع سازشیں کافور(نیست ونابود)ہوجائیں گی اور اگر (سازش) ٹھوس ہوگی توچورہ ہوجائے گی۔

134-halala-ki-lanat-khawateen-ki-behurmati-dehshat-gardi-pakistan-ulma-ka-fatwa-asma-jahangir-hijr-e-aswad-na-mehram-molana-syed-suleman-nadvi-mufti-shafi-usmaniبے غیرتوں کے ساتھ دوستی (ایک )ضمیرپر بوجھ اور(دوسرا) زندگی کامصیبت میں ہونا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کلیم اللہ کی ضرب، حضرت عیسی ؑ ٰمسیح اللہ کی صلیب اور حضرت محمد ﷺ کی صلح حدیبیہ یہ سب کے سب نورہیں۔

135-daish-made-by-america-former-afghanistan-president-hamid-karzai-hamid-mir-capital-talkپہلے اپنی جان کولگام دینا، پھراپنے گھر اور پھرمعاشرے کے عوام کی اصلاح کے لئے کوشش کرنی ہوتی ہے۔ عبادت کسی (ریاستی یادیگر) جبری نظام کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی، اس بارے میں کوئی ایک حدیث بھی نقل نہیں کی گئی ہے۔(نماز جیسی اہم عبادت کوئی بھی نہیں ہے لیکن بے نمازی کے لئے قرآن وحدیث میں کسی حد(سزا) کاذکر نہیں ہے، اور اگر کوئی زبردستی سے کسی کو نماز پڑھنے پر مجبور کرے گا تو وہ نماز میں بھی گالی گلوچ ہی بکتا رہے گا۔

136-allama-shah-feroz-uddin-rehmani-muhajir-ittehad-tehreek-dr-saleem-haider-lieutenant-commander-imran-awan-rahila-tiwanaایک چھوٹے سے گاؤں یثرب(مدینہ منورہ) کی آدھی آبادی پرریاست قائم ہوگئی۔(اس کی) مثال چاہیے کابل ہوکہ رائیونڈ ہویاکہ رامپور۔
مدینے کی آدھی آبادی مسلمانوں کی تھی اورآدھی آبادی یہودیوں کی۔ مسلمانوں نے اس آدھی آبادی کی بنیاد پر یہودیوں کے ساتھ مل کر ایک ریاست تشکیل دی۔ ریاست کا تعلق انصاف کے ساتھ ہوتا ہے اور انصاف کی بنیاد پر ہی مسلمانوں کی ریاست نے اس وقت کی سپر طاقتوں کو شکست دی۔ کفر کی حکومت انصاف کے ساتھ چل سکتی ہے اور ظلم کی حکومت اسلام کے ساتھ بھی نہیں چل سکتی یہ حضرت علیؓ کا مشہور مقولہ ہے۔

137-barma-muslim-zulam-lieutenant-commander-imran-awan-steel-town-karachi-gulshan-e-hadeedانسان اشرف (المخلوقات) شرافت سے ہے اورعدل وانصاف خلافت (حکومت)کی برکت سے ہے۔ شیوہ پیغمبری نہ بازکے ذریعے سے ہوتی ہے ، نہ کوے، گدھ اورچڑیاکے ذریعے سے ہوسکتی ہے ۔

138-qurbani-frontline-kutya-nato-dog-k-electric-hakeem-ullah-mehsood-bait-ullah-mehsud-black-water-haqqani-networkانسان انسانیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، مسلمان اسلام کی بنیاد پر ہوتا ہے اور موء من ایمان کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ (اے دہشت گرد!) تم جانوروں سے بدتر بن گئے ،خر دجال نے تجھ سے بھڑ بنالیاہے۔

139-rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheedجھاد فتوے سے ختم نہیں ہوتا، مفتی کبھی دباؤ کاشکار بنتا ہے اور کبھی بک جاتاہے۔کربلا کی مٹی یزید کے خلاف ابل رہی ہے اور حضرت حسینؓ محاصرے میں ہیں۔

140-major-amir-junejo-prime-minister-iji-isi-mujibur-rahman-shami-dunya-newsتیرے جہاد کا معاملہ جوبھی ہے لیکن اس کے لئے اب اپنی پشت مضبوط پکڑو۔ کوئی گرفتاری دیتاہے،چھوٹے کا منہ پھٹے کا پھٹا رہ جاتا ہے اوریہ بڑادلا ہر دفعہ مفرور ہوتاہے۔

141-matka-sirajul-haq-jamaat-islami-zibah-hekmatyar-syed-munawar-hassan-sheikh-rasheed(یوں تو)ہرگمراہ اپنے دلدادہ (لیڈر)کواچھاسمجھتاہے لیکن فتنہ گر سمندر اورخشکی کافسادہوتا ہے۔ اس کاساتھی سب سے بدترہے اس کی مزاحمت کرو بھرپورطریقے سے۔

142-umme-hani-qisas-and-diyat-naak-katna-jail-dant-tootna-molana-tariq-jameel-ringtoneہم جنتی باوا آدم ؑ کی اولادہیں، بھگائے گئے ہیں زمین پربغیرکسی آفرین کے۔ختم نبوت کی حقیقت کے باعث گناہوں کے صادرنہ ہونے کاکوئی بندھن نہیں رہاہے۔
(ختم نبوت کے عقیدے کے باعث اب کوئی وحی نہیںآئے گی اورنہ کسی کومعصوم قرار دیکرکسی قسم کی رعایت برتی جاسکتی ہے جوعملاََدرست ہے وہ درست اورجوغلط ہے وہ غلط۔اسلام میں جب انبیاء ؑ پرستی کی گنجائش نہیں توختم نبوت کاعقیدہ رکھنے کے بعدشخصیت پرستی کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے؟لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں عملاََ یہی کچھ ہورہاہے اتخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباََمن دون اللہ(انھوں نے اپنے علماء اورمشائخ کواللہ کے سوا اپنارب بنالیاہے)اہل کتاب سے مسلمان بننے والے ایک صحابیؓ نے عرض کیا ، یارسول اللہ !(ﷺ) ہم اپنے علماء و مشائخ کی پوجاتونہیں کرتے تھے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کیاان کے حلال کردہ چیزوں کوحلال اورحرام کردہ چیزوں کوحرام نہیں سمجھتے تھے؟ صحابیؓ نے عرض کیا:یہ توکرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تو ان کی عبادت کرناہے۔قرآن وحدیث کے ذریعے سے ہمارے ذہنوں کے بنددریچے کھل سکتے ہیں۔مندرجہ بالاحدیث سے کتنابڑاسبق ملتاہے کہ ایک صحابیؓ کوقرآن کی نازل شدہ وحی خلاف واقع نظرآئی توسوال کرنے سے نہ گھبرائے نہ شرمائے سیدھاسیدھا بول اُٹھے۔سرکاردوعالم ﷺ نے کتنی حسین پیرائے میں اس کی وضاحت فرمائی۔مسئلہ وحی کاتھا، سوال اس کے خلاف حقیقت ہونے کاتھااور گواہی ایک اولی العزم رسول ﷺ کے سامنے دی جارہی تھی،وحی کے خلاف ہونے کی شہادت کا فریضہ ایک جلیل القدرصحابیؓ انجام دے رہے تھے۔ لیکن کوئی تلخی سامنے آئی نہ ہی کسی درشت لہجے کاسوال پیدا ہوا۔بلکہ خوش اسلوبی سے قرآنی آیت کی ایسی وضاحت سامنے آئی جو آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی کااہم ذریعہ ہے۔اگروہ صحابیؓ اپنے اعتراض کودل میں رکھتاتوبے ایمان بن جاتااوراگرمخصوص ماحول میں اس اعتراض کوگردش میں رکھتاتو اس سے منافقت وجودمیں آتی۔آج اہل مدارس اپنے مخصوص سکولزآف تھاٹ میں اعتراضات وجوابات کے سلسلے کوایک دائرہ کارمیں رکھ کرنہ صرف عوام کواسلام کی حقیقی روح سے محروم کر رہے ہیں بلکہ منافقت کی ایک مخصوص فضا بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔جس کی وجہ سے بے ایمانی، منافقت اورشخصیت پرستی کادور دورہ ہے۔ علماء ومشائخ،سیاسی لیڈرشپ اورحکمران تواپنی جگہ کھلاڑی ،اداکاروں بلکہ طوائف تک کے عوام میں پرستاری کی فضاموجودہے۔ ہماری قوم اصلاح کے قابل ضرور ہے لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ علماء ومفتیان کے فتووءں سے مسلمانوں کے جان ومال کی حرمت ختم ہوسکتی ہے۔جس گروہ نے اسلام اورخلیفۃاللہ کی بنیاد پر قرآن پاک اوررسول اکرم ﷺ کی طرف سے قائم کردہ حرمتوں کوپائمال کردیاوہ اللہ کاخلیفہ نہیں دجال ہے، چاہے کتنے تہہ درتہہ سازشوں کے گھمبیرپردوں اورنقابوں میں چھپ کر آئے۔یہی اس کورب بنانا ہے۔دجالیت کے پردوں میں کسی کوبے گناہ قرار دینے کی سازش ختم نبوت کے عقیدے کے ہوتے ہوئے کامیاب نہیں ہوسکتی۔

143-londi-toheen-adalat-hazrat-maria-qibtia-maulana-ubaidullah-sindhi-status-co-hazrat-hassan
اے طالب! اپنے لئے اس بات پر غور کرلو، دوسروں کوگناہوں کی سزادے دو، اگرشریعت میں تم اس کے مجازہواور خودچاہے گناہوں میں ڈوبے ہوئے غرق ہو۔(یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تمھاری اپنی پچھاڑی گناہوں سے لدھی ہوئی ہواوراپنے جرائم کے ہوتے ہوئے دوسروں کی اگاڑی کے گناہوں پرسزا دو۔ شریعت ، قانون اور اخلاقیات میں گناہگار طالبوں کوکیسی اجازت ہوسکتی ہے کہ دوسروں کوبموں سے اڑاتے پھریں)
144-habeel-and-qabeel-londi-anjuman-muzareen-punjab-salwar-ghulami-abdul-kaba(ضروریات زندگی کا)گزارہ مدرسے پرہورہاہے، جہادپیسوں کے لئے ہورہاہے، (ایک تیرکے دوشکار ہیں) ثواب بھی مل رہاہے اور کھجور بھی۔میں نے حق کی آوازاُٹھائی ہے لیکن بات طاقت کی آئی ہے۔ میں نے (کربلاکے میدان میں محرم کادسواں دن)عاشورگزار لیا ہے۔(ایک بڑے امتحان کاحق کی آواز بلندکرنے کی وجہ سے سامناکرچکاہوں)

145-khwaten-k-huqooq-zina-bil-jabr-khula-talaq-law-kunwari-chairman-nab-pakistanمیں سب سے اس بات کاجواب طلب کرتاہوں کہ علم (پھیلانے )کی روشنی پر تم کیوں بے چین ہو،دنیاکے لئے مذہب کوتم نے تجارت لن تبور(کبھی نہ ختم ہونے والی تجارت)بنارکھا ہے۔(حالانکہ قرآن اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پرایمان لانے کوتجارت لن تبوربتاتا ہے جودردناک عذاب سے نجاء ت کاذریعہ ہے۔

146-zina-bil-jabr-sangsar-rajam-tobah-rajeem-doodh-ibne-majah-quran-bakri-kha-gai-matami-jaloosدین اورعلم اجنبیت کی منازل پر (اٹھ گئے ) ایمان ثریاکے ساحل پرپہنچ گیا۔خلائی شٹل جیسامیزائل ہو، کشتی نوح ؑ کودلائل پرعبورحاصل ہے ۔
احادیث میں علم،دین اورایمان ہرایک کے بارے میں آتاہے کہ ثریاتک پہنچ جائے گا،جس تک فارس کے ایک فردیاچندافرادکی رسائی ہوگی، اوریہ بھی کہ اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی اوریہ پھراجنبی بن جائے گاخوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ۔خلائی شٹل دیکھنے سے میزائل لگتاہے حالانکہ وہ خطرناک نہیں بلکہ عروج پرجانے کاواحدذریعہ ہے، میرے یہ اشعار بھی دیکھنے میں بہت خطرناک میزائل ہیں لیکن حقیقت میں اس زوال پذیرحالت سے نکلنے میں عروج حاصل کرنے کے لئے خلائی شٹل کاکام دیں گی۔احادیث میںآیاہے کہ میرے اھلبیت کشتی نوحؑ کے مانند ہیں جواس میں سوار ہوابچ گیا،جورہ گیاہلاک ہوا،،تبلیغی جماعت کے اکابرین نے اپنی جماعت کوکشتی نوحؑ کہناشروع کیاتھا، جس کے خلاف شیخ الحدیث مولانامحمدذکریاؒ کے خلیفہ اورتبلیغی جماعت کراچی کے امیربھائی یامین مرحوم کے بھائی مولانامفتی زبیرنے دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی اورمفتی رشیداحمدلدھیانوی سے فتویٰ لیاتھا، فتوے میں تبلیغی جماعت کے اکابرین کی طرف سے اس قسم کی باتیں کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے گمراہ کن قرار دیاگیاتھا۔علامہ سیدسیلمان ندویؒ اورشیخ الحدیث مولانا ذکریاؒ کے خلیفہ پشاوریونیورسٹی کی معروف شخصیت مولانااشرفؒ فرماتے تھے کہ ایک تبلیغی نے اپنی کارگذاری میں کہاکہمیں نے چار ماہ میں جماعت میں وہ پایاجوشیخ عبدالقادرجیلانی نے نہیں پایا، جوبایزیدبسطامی اور معین الدین چشتی نے نہ پایا……….،،میں نے اپنے دل میں کہاکہ ان میں سے کسی نے وہ تکبر نہ پایاجو تم نے پایا۔مولانااشرف صاحبؒ بہت پرانے تبلیغی تھے، فرماتے تھے کہ اس وقت رائیونڈمیں ایک من پانی میں ایک کلو دال ڈالی جاتی تھی، لوگ روٹی کے ٹکڑوں کی کشتیاں بناکر دال کے دانوں کاشکار کرتے تھے،،مولانااشرف صاحبؒ نے یہ بھی فرمایاتھاکہ ہم جماعت میں گئے تھے، بریلوی مکتبہ فکرکی مسجد میں تشکیل ہوئی تھی،تو وہاں میں نے بیان کرنے سے وہ روک رہے تھے ، جب مشکل سے اجازت ملی تواس مسجدکے مولوی صاحب نے وہاں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ بیٹھ کربیان سنناشروع کیا ، میں نے اپنے بیان میں نبی اکرم ﷺ کی خوب تعریف کی، جس پرمولوی صاحب برابر کہتے رہے کہ بندہ ٹھیک جارہاہے، جب میں نے کہاکہ اللہ کواپنادین اتنامحبوب ہے کہ اس نے اپنے دین کی خاطر اپنے محبوب نبی ﷺ کاخون بھی بہادیا، تومولوی صاحب نے فوراََ کہاکہ اب یہ پٹھڑی سے اتر گیااورمقتدیوں کے ذریعے ہمارے بستر پھینکواکر ہمیں باہر نکال دیا،،مولانااشرفؒ کے خلوص میں شک نہ تھا اور یہ بات بھی درست ہے کہ بریلوی مکتبہ فکرکے لوگ دین سے بے خبراورشخصیت پرستی میں مبتلاتھے، جن کواعتدال پرلانے کی ضرورت تھی، جب صحابہؓ کے پیرمیدان جہاد میں ڈگمگائے تواللہ نے فرمایاکہ ومامحمدالا رسول قدخلت من قبلہ رسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم(اورحضرت محمد ﷺ کیاہیں لیکن ایک رسول اگرآپ فوت ہوجائیںیاقتل کردئیے جائیں توتم الٹے پاؤں پھرجاؤگے)لیکن دیوبندی مکتبہ فکرکوبھی خوارج کے ڈگر پرچلنے کی بجائے اعتدال پرلاناپڑے گا،دین اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان موازنہ اورتفریق بے اعتدالی کاذریعہ اور گمراہی کاراستہ ہے، کہاجاسکتاہے کہا اللہ تعالیٰ کواپنے دین سے رسول اللہ ﷺکاخون زیادہ محبوب تھا، اس لئے کہ طائف میں لوگ اللہ کے دین کے منکر تھے، شرک وکفرمیں مبتلاتھے لیکن ان پردنیامیں عذاب کافیصلہ اس وقت کیاگیاجب انہوں نے نبی ﷺ کاخون بہایا۔میرے مرشدحاجی عثمانؒ فرمایاکرتے تھے کہ دین میں شخصیت سازی ہے نہ شخصیت سوزی، دین اعتدال کانام ہے، بعض بریلوی اور دیوبندی توحیداور شان رسالت ﷺ کوبیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ میں کوئی جھگڑاہے، لانفرق بین احدمن رسل(ہم رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے)کایہی معنی ہے کہ گروہ بندی کامظاہرہ کیاجائے،توحیداور رسالت دونوں دین کی بنیادیں ہیں،توحیدکوایسابیان کرناجس میں رسول کی توہیں کی جائے یارسالت ﷺ کی شان کواس طرح بیان کرناکہ جس میں توحیدمتاثراورشرک کاپہلو نمایاں ہو دونوں غلط ہیں،، میرے استاذقاری ابراہیم صاحب جامع مسجدقباء سہراب گوٹھ کے امام نے جب ایک بیان میں یہ جملے سنے توحاجی صاحبؒ کواکابرین کی اصل راہ پرقرار دیا،ایک آدمی نے اپناتصوف والامشاہدہ بھری محفل میں بیان کیاکہ شیخ الہندمولانامحمودالحسنؒ نے ایک تاج مولانامحمدالیاسؒ کودیاجوانہوں نے حاجی عثمان صاحبؒ کوپہنایا۔
مولاناالیاس دہلویؒ فرمایاکرتے تھے کہ اس جماعت کے دوپر ہیں علم اور ذکر،جس کی وجہ سے یہ جماعت پروازکرسکتی ہے اور اس کوعروج ملے گا، لیکن اگریہ جماعت ان دوباتوں سے ہٹ جائے توپھر اس جماعت کی مخالفت کرنے والامیرانمائندہ ہوگا۔ علم رہنمائی کاذریعہ اور ذکر سے قبول حق کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ مولاناالیاسؒ کے خلیفہ مولانااحتشام الحسن کاندہلویؒ (جس نے موجودہ پستی کاواحدعلاج کتاب لکھی ہے جو تبلیغی نصاب میں شامل ہے)آخرکارتبلیغی جماعت کوبہت بڑا فتنہ قرار دے کر اس کے سخت مخالف بن چکے تھے، اسی طرح شیخ الحدیث مولاناذکریاؒ اور ان کے خلفاء بھی تبلیغی جماعت کی مخالفت ہوگئے۔دیوبندی مکتبہ فکرکے لئے امام کی حیثیت رکھنے والے مولاناسرفرازخان صفدرؒ کے بھائی صوفی عبدالحمیدسواتی ؒ نے بھی لکھاہے کہ بانیان جماعت مولانا الیاسؒ ، مولانایوسفؒ اور مولاناذکریاؒ کے خلوص اور للہیت میں کوئی شک نہ تھالیکن اب جماعت کی عمومی فضابدل چکی ہے، جن لوگوں کااس پر قبضہ ہے وہ انقلابی نہیں بلکہ بدترین قسم کے سود خوراور سمگلرذہنیت کے مالک ہیں اگر رائیونڈایک اسٹیٹ قائم کرلیتے تونمونے کاکام دیتی،، (مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم وافکار، صفحہ نمبر…..تصنیف مولاناواتی گوجرانوالہ) یہ لوگ طالبان کی پشت پناہی بھی سرمایہ داری ، مسلکی تعصب اور دوسروں کے خلاف انتقامی کاروائی کے لئے کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ: اذا حضرالغریب فالتفت عن یمینہ وعن شمالہ فلم یرالا غریباً فتنفس کتٰب اللہ لہ سیءۃ فاذامات مات شہیدا

147-hadith-ehl-e-gharb-bhutto-fatawa-e-alamgiri-khilafat-e-usmania-lashkar-e-taiba-nasir-ullah-babarپشتو،ایمان، ضمیر،حیا، غیرت کوئی بات توتمہارے اندر ہوگی؟ عتیق کی ضربیں ٹوٹل سرمایہ ہیں، ضمیر بیدار ہے غیور۔
ہم بھی تبلیغی جماعت اور طالبان کی تعریف کرکے ایک پرتعیش زندگی گذار سکتے تھے لیکن جو بات حق نظر آتی ہے اس کے لئے اپنے قریبی رشتہ داروں، جائے رہائش اورتجارت کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا، اللہ کی راہ میں یہ آزمائش صدق دل سے قبول ہے، اپنی کمزوری اور نالائقی کااعتراف ہے لیکن انشاء اللہ بہتر نتائج بر آمد ہوں گے۔

(سید عتیق الرحمن گیلانی )

khursan. al masih ad dajjal, mahdi, dajjal