جون 2018 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

مغرب کیلئے قابلِ قبول اسلام کا درست معاشرتی تصور

rajam-sangsar-karna-women-harassment-zina-bil-jabr-minimize-jahangir-kot-lakhpat-jail-habil-qabil-shah-turab-ul-haq-qadri-phool-bari-aant-dawat-e-islami-pichkari

اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ لن ترضیٰ عنک الیہود و لا النصاریٰ حتی تتبع ملتھم’’یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی بھی راضی نہ ہونگے یہاں تک کہ آپ ان کے دین کے تابع بن جائیں‘‘۔ قرآن رسول اللہﷺ کے دور میں نازل ہورہا تھا تو ایک ایک کرکے مسخ شدہ حکم کو اللہ تعالیٰ اپنی اصلی حالت میں زندہ کررہاتھا۔ مثلاً توراۃ میں بوڑھے اور بوڑھی کیلئے زنا پر رجم کرنے کا ذکر تھا اور یہودو نصاریٰ کی شریعت میں شادی شدہ کیلئے سنگساری اور غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انجیل میں کسی شرعی حد کا ذکر نہ تھا۔ سنگساری کے غیر فطری حکم سے بچنے کیلئے حضرت عیسیٰ نے یہ تجویز ی حکم دیا کہ ’’ جس نے خود زنانہ کیا ہو ، وہ پتھرماریگا‘‘۔ رسول ﷺ پر جب تک حکم نازل نہ ہوتا تھا تو اہل کتاب کے احکام پر عمل کرتے۔ جیسے بیت المقدس قبلہ اوّل تھا۔ یہود اپنے شرعی حدود پر عمل درآمد نہ کرتے تھے مگر اس خود ساختہ شریعت پر بضد بھی تھے۔ ایک آدمی کے بیٹے نے دوسرے کی بیوی سے زنا کیا اور بھیڑ بکریاں دینے پر فیصلہ کیا۔ پھر علماء نے اس کو بتایا کہ کنوارے بیٹے کی سزا 100کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے جبکہ اسکی بیوی کی سنگسار ہوگی۔ اسلئے رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلے کیلئے آگیا۔ نبیﷺ سے یہود ی عالم نے توراۃ میں رجم کا حکم چھپایا لیکن اسکی نشاندہی ہوئی تو اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ جب مسلمان مرد اور عورت نے اپنے خلاف زنا کی گواہی دی تو آپﷺ ان کو پہلے ٹالتے رہے اور پھر سنگسار کرنے کا حکم دیدیا۔ احادیث کے واقعات یہی ہیں جبکہ مختلف روایات میں انکا مختلف انداز میں تذکرے کی وجہ سے زیادہ لگتے ہیں، ان سے ایک اہم سبق یہ ملتاہے کہ نبیﷺ نے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا تھا اور مرد و عورت کے اوپر بھی یکساں طور پر حد نافذکی تھی۔
قرآن میں سورۂ النساء کے اندر خواتین کیساتھ نکاح کا بھی ذکر ہے اور متعہ و ایگریمنٹ کا بھی ذکر ہے۔ آیت:15 النساء میں بدکاری میں مبتلا عورت کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم ہے یہاں تک کہ موت سے مرجائیں یا اللہ ان کیلئے کوئی سبیل نکال دے۔ بدکار عورت پر گواہی کیلئے چار افراد کی گواہی بھی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ حکم ایسا ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ بھی اسکی افادیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ ایک عورت خراب ہوجائے تو دنیا بھر کا گند وہاں جمع ہوجاتا ہے۔ مسلمان غیر مسلم اور مردو خواتین سب ہی اس برائی کو روکنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مرد اور عورت میں درجہ بندی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا تو وہی لوگ یہ تحریک بھی چلاتے ہیں کہ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف سخت قوانین بنائیں اور اس پرعمل بھی کرائیں۔ دونوں کا درجہ ایک ہے تو ہراسمنٹ کی چیخ وپکار کیوں؟۔
قرآن میں خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم ہے اور حدیث میں گواہی کے بغیر جب خاتون کیساتھ جبری زیادتی کرنے کا نبیﷺ کو یقین ہوا تو زنا بالجر والے کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا۔ ابوداؤد شریف میں اسکا ذکر ہے لیکن بعض علماء ومفتیان نے اس میں بھی ڈنڈی ماری ۔ کتاب ’’موت کا منظر ‘‘ میں بھی زنا بالجبر کیلئے سنگساری کے حکم کا ذکر ہے۔ پرویزمشرف نے زنا بالجبر کو تعزیزات میں اسلئے شامل کرنے کی کوشش کی تھی کہ جو عورت شکایت لیکر تھانہ میں جاتی ،اسی کو چار گواہ نہ ہونے کی صورت میں قید کرلیا جاتا تھا۔ منیزے جہانگیر نے کوٹ لکھپت جیل میں ایسی خواتین سے ملاقات کی تھی جن کو شکایت کرنے پر قید کیا گیا تھا۔
زرداری کے دور میں یہ قانون بدل دیا گیا۔ سورہ النساء کی آیت16میں دو مردوں کو بدکاری پر اذیت دینے کی سزا کا حکم ہے، پھر جب وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو معاملہ رفع دفع کرنے کا ذکرہے۔ قرآن کے اس واضح حکم پر بھی فقہ کی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ لواطت کا حکم واضح نہیں ، کسی نے آگ سے جلانا اور کسی نے پہاڑ سے گرانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ مدارس اور معاشرے کا ہرطبقہ اس آسان حکم پر عمل کرسکتا ہے۔ قرآن کی طرف توجہ دینے کے بجائے ہمارا سارا زور فقہ اور علماء کے خرافات کی طرف ہوتا ہے۔ تفسیر عثمانی وغیرہ میں لکھاہے کہ ’’سورۂ بقرہ آیت:15میں بدکاری پر چار گواہ مقرر کرنے کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم اسوقت تھا جب قرآن کی سورۂ نور میں زنا کا حکم نازل نہ ہواتھا اور غیرشادی کیلئے 100کوڑے اور سال بھر جلاوطنی اور شادی شدہ کیلئے سنگساری کا حکم نازل ہونے کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا‘‘۔ حالانکہ اس تفسیر کی کوئی گنجائش نہیں ۔1: قرآن میں سنگساری کا کوئی حکم نہیں ۔ 2: بخاری میں ہے کہ سورۂ نور کے بعد سنگساری پر عمل کرنے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیاتھا۔ 3:سورۂ النساء میں متعہ والی یا لونڈی سے شادی کے بعد کھلی فحاشی پر عام عورت کی بہ نسبت آدھی سزا کاحکم ہے جس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہے کہ پہلے لوگوں کیلئے بھی یہی سنت رائج رہی ہے اور یہ بھی کہ اللہ چاہتاہے کہ تم پر تخفیف کرے اسلئے کہ انسان کمزور ہے۔4:سورۂ النساء میں یہ وضاحت بھی ہے کہ اگر پہلوں کیلئے قتل انفس(سنگساری) یا جلاوطنی کی سزا کا حکم ہوتا تو اس پر عمل نہ کرتے لیکن بہت کم لوگ۔ جسکا مطلب سنگساری اور جلاوطنی کا حکم پہلے بھی اللہ نے نہیں دیا۔
سورۂ النساء کے بعد سورۂ المائدہ میں بڑی تفصیل ہے۔ 1: علماء و مشائخ کی طرف کتاب اللہ کی حفاظت کی نسبت ہے، پھر تھوڑے مول کے بدلے آیات کو بیچنے کی بات ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو کافرقرار دیا گیا ہے۔ پھرجان کے بدلے جان ، آنکھ، ناک، دانت کے بدلے آنکھ، ناک، دانت اور زخموں کے بدلے کا ذکر ہے جو حکمرانوں سے متعلق ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے۔ پھر اہل انجیل یعنی عوام کا ذکر ہے جن کو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر فاسق قرار دیا گیا ہے۔ علماء کے فیصلے سے شریعت بدل جاتی ہے اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے، حکمرانوں کے غلط فیصلے سے انصاف کا قتل ہوتا ہے اسلئے ان کو ظالم قرار دیا گیاہے اور عوام کوفاسق قرار دیا گیا ہے۔
2: سورۂ مائدہ میں یہ وضاحت ہے کہ یہود نے توراۃ میں تحریف کی ہے، ان کے پاس جو احکام محفوظ ہیں ان پر بھی عمل نہیں کرتے۔ محفوظ وہی احکام ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ توراۃ کے حوالے سے ہی حکمرانوں سے متعلق احکام کا ذکر قرآن میں کیا گیا۔ یہود نے بعض احکام میں ردوبدل سے تحریف کی ہے اور نبیﷺ سے کہاگیاہے کہ اگر آپ انکے درمیان فیصلہ نہ کریں تو یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ جو قرآن میں ہے وہی محفوظ ہے اور اگر وہ فیصلہ کرانا چاہتے ہیں تو اپنی کتاب سے ہی کردیں۔ اگر وہ اپنی کتاب سے فیصلہ کرانا چاہیں تو آپ ان کی کتاب سے فیصلہ نہ کریں کیونکہ اس طرح یہ آپ کو بعض ان احکام سے فتنہ میں ڈال دینگے جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا سرپرست نہ بناؤ(فیصلے کااختیار مت دو)۔ جو ان کو (اپنے فیصلے کا اختیار دیکر) سرپرست بناتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ المائدہ میں مکمل تفصیل ہے، جو بہت سے حقائق سے پردہ اٹھانے کیلئے وانزلناالکتاب تبیاناً لکل شئی ہے۔
سورۂ النساء میں تفصیلی مضامین کا یہاں موقع نہیں ہے لیکن اس بات کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرہر آیت کا اپنی جگہ فصلت آیاتہ کہا ہے۔جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اپنی جگہ پر کوئی نقص نہیں رہ گیا ہے۔ اب آئیے ، اس بات کا ثبوت قرآن کریم کی ایک ایک آیت نے خود بھی دیا ہے۔البتہ قرآن کی بعض آیات بعض کیلئے تفسیر کی حیثیت بھی رکھتی ہیں اسلئے کہ ان میں تضاد نہیں۔
سورۂ النساء کی آیت 15 میں بدکارعورت پر چار گواہوں کی شہادت کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اللہ اسکے لئے کوئی سبیل پیدا کردے۔ اس حکم میں مارنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ خود مرجائے یا کوئی سبیل نکل آئے اللہ کی طرف سے۔ سبیل نکلنے کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ شادی ہوجائے اور دوسرا یہ کہ شادی کیلئے کوئی میسر نہ ہو تو متعہ یا ایگریمنٹ کی راہ نکل آئے۔ عورت کی نسوانی خواہش کا جائز راستہ فطری طور پر بند نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی بدکار عورت سے مستقل نکاح کیلئے کوئی تیار نہ ہو تو قرآن وسنت میں متعہ کی راہ کا بھی ذکر ہے۔ اگلے رکوع میں محرمات کے بعد پانچویں پارہ کی ابتداء میں ہی اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے فماستمتعتم کیساتھ الی اجل مسمیٰ کا بھی اپنی تفسیر میں واضح کیا تھا۔یعنی جس نے متعہ کیا ایک مقررہ مدت تک۔ اہلسنت کی تفاسیر میں اس کو غلط طور سے قرأت کا نام دیا گیا۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کوئی خبر واحد حدیث تو معتبر ہوسکتی ہے لیکن کسی شاذ قرأت کو ماننا قرآن میں تحریف ہے۔ احناف اس کو الگ آیت کے حکم میں لیتے ہیں جو غلط ہے۔ جسطرح جلالین وغیرہ کی تفاسیر میں اضافوں کو قرآن نہیں قرار دیاجاتا ہے ،اسی طرح سے صحابہ کرامؓ کی تفسیری اضافوں کو بھی اسی حد تک رہنا چاہیے۔
قرآن اور اسلام کا سب سے بڑا کمال یہ بھی ہے کہ غلام اور لونڈی کیلئے ایک تو مستقل نکاح کی وضاحت بھی کردی ہے اور دوسرے اس تعلق کو مالک ومملوک سے بدل کر ایگریمنٹ میں تبدیل کردیا تھا۔ ایک شخص نے ایک لاکھ روپے میں لونڈی خرید لی اور دوسرے نے کفارہ کے طور پر یا زکوٰۃ کی مد میں غلام آزاد کرنا ہو تو اس رقم میں وہ غلام یا لونڈی آزاد کرسکتا ہے۔ غلام اور لونڈی کی حیثیت معاہدہ کی رہ گئی تھی۔ غلام کا آزاد عورت اور لونڈی کا آزاد مرد سے نکاح بھی ہوسکتا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ نے ابوسفیانؓ وغیرہ کی بیگمات ، بیٹیوں اور بہنوں میں سے کسی کو بھی لونڈی نہیں بنایا البتہ متعہ کی اجازت دی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ یزید کے لشکر نے حضرت حسینؓ کے خانوادے کو کربلا میں شہید کیا مگر کسی کو لونڈی نہیں بنایا گیا۔ جزاء الاحسان الا الاحسان ’’ نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے‘‘۔
اللہ نے فرمایا’’ مشرکوں سے نکاح نہ کرو، مؤمن غلام مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے، اور مؤمن لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہتر لگے‘‘۔ البتہ اگر مشرک سے بھی نکاح کرلیا تو یہ حرامکاری نہیں ہوگی۔ فتح مکہ تک حضرت علیؓ کی ہمشیرہ ام ہانیؓ اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہیں۔ اللہ و رسولﷺ نے آپؓ پر حرامکاری کا اطلاق نہیں کیا۔ کوئی بدکار عورت ہو تو اللہ نے یہ وضاحت کی کہ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا ہے مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے‘‘۔ (سورۂ النور) جب کوئی عورت معاشرے میں بگاڑ کا ذریعہ بن رہی ہو تو اس کیلئے زانی جوڑی دار ہو یا مشرک بہرحال اسکے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی بھی ترغیب ہے۔ یہ حکم بالکل عام طور سے فطری بھی ہے۔ معاشرے میں ایسے افراد کو ایک طرف کیا جانا چاہیے۔
اگر قرآنی احکام پر غور کیا جائے تو کوئی حکم ایسا نہیں، جس کو ناقابل عمل کہہ دیا جائے یا معاشرے میں معطل کرکے رکھا جائے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس پر کبھی غور کیا نہیں ہے۔ اگر زنا کار مرد اور عورت کیلئے یکساں طور پر 100،100 کوڑے کی سزا مقرر ہوتی تو بدفعلی بھی رُک جاتی اور سزاؤں پر عمل بھی آسان ہوتا لیکن افسوس کہ مسلمان بھی پہلے امتوں کے نقشِ قدم پر ہوبہو چل کر بے عمل بنے ہیں۔ یہود ونصاریٰ ہمارے رسول اللہﷺ سے اسلئے راضی نہ ہوسکتے تھے کہ ان کے دین میں قرآن کے برعکس سنگساری کی سزا تھی اور ایک سال جلاوطنی کی بھی۔ قرآن نے ان کو مسترد کردیا تھا۔ آج حالات بالکل بدل گئے ہیں، اگر آج ہمارا نظام قرآن وسنت کے مطابق غیرفطری سزاؤں سے ہٹ کر بن جائے تو یہود اور نصاریٰ کیلئے قابلِ قبول ہوں گی لیکن ہم وہاں پر کھڑے ہوگئے ہیں جہاں کل وہ کھڑے تھے۔ عملی طور پر تو کچھ کرنا کرانا ہے نہیں بس کتابوں قرآن کے خلاف غیرفطری سزاؤں پر ایک غلط رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ جاہل علماء ومشائخ ہیں۔
قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا: عسیٰ ان یبعثک مقامًا محمودًا’’ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی بعثت مقام محمود کردے‘‘۔ یہ دعا آذان کے بعد بھی پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبیﷺ کو مقام محمودعطاء کرے۔ حامد کا معنی ہے تعریف کرنے والا۔ محمود کا معنی ہے جس کی تعریف کی جائے۔ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ معراج میں بھی نبیﷺ نے تمام انبیاء کرام کو نماز کی امامت کرائی تھی اور قیامت میں بھی آپﷺ کے ہی چرچے ہونگے تو اس دعا کا مقصد کیا ہے اور آیت میں کس بات کی نشاندہی ہے؟۔ جب دنیا میں وہ خلافت قائم ہوگی جس سے آسمان وزمین والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ یہ اسی دورمیں ہوگا کہ اپنے تو اپنے بلکہ دشمن اور نہ ماننے والے بھی آپﷺ کی تعریف کرینگے۔ دنیا میںیہی مقام محمود لگتا ہے اور اس کیلئے عملی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ جب اللہ نے روئے زمین پر اس خلافت کا وعدہ کیا تھا تو یہ بھی مقام محمود ہی ہے۔
ہر گلی کوچے کا ہر شخص آذان نہیں دے سکتا ہے، ایک مسجد میں ایک شخص نے ہی آذان دینی ہوتی ہے ،جس طرح حضرت سیدنا بلالؓ نے اپنے دور میں آذان دی البتہ اس آذان کیساتھ اس دعا اور تگ ودو میں ہر شخص خودکو شامل کرسکتاہے۔ قرآن میں بار بار بے حیائی، چھپی یاری اور فحاشی کی ممانعت ہے اور اس کی بہت زیادہ آبیاری بھی معاشرے میں ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں نکاح اور کھلے عام جس ایگریمنٹ کا تصور موجود ہے اگر ایران کے متعہ اور سعودی عرب کے مسیار سے ہٹ کر ہم قرآن وسنت کی روشنی میں عالم اسلام اور عالم انسانیت کے مسائل حل کرنا شروع کریں تو دنیا اسلام کی طرف چل کر نہیں، دوڑ کر بھی نہیں اُڑ کر بھی نہیں بلکہ آن ایئر لائیو نشریات کی طرح آئے گی۔ راتوں رات ایک ایسا انقلاب برپا ہوگا جس کو دنیا کی کوئی طاقت روکنے کا سوچے گی بھی نہیں۔یہ خوشخبری بھی ہے۔
جنت بھی حضرت آدم علیہ السلام کیلئے بغیر حضرت حواء علیہا السلام کے سکون کا ذریعہ نہیں تھا۔ قابیل نے حضرت ہابیل کو قتل کرکے انسانیت میں ہوس اور قتل کا بیچ بودیا تھا۔ ایک نبی کے بیٹے سے بڑھ کر ولی اور عالم کے بیٹے بھی نہیں ہیں۔ صاحبزادگی اس وقت ٹھیک ہے جب وہ صلاحیت، کردار اور صفات کا مالک ہو۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ نے خاندانی بنیادوں پر اقتدار پر قبضہ کئے رکھا۔ بادشاہوں کے علاوہ علماء اور صوفیاء کے خانوادوں نے بھی بے تاج بادشاہی کی ہے۔ قرآن اور عترت کی تلقین نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں کی تھی۔امت مسلمہ کا صرف یہ مسئلہ نہیں رہاہے کہ عترت رسول کو چھوڑ رکھا تھا بلکہ قرآن سے بھی تمسک نہیں رہاہے۔ قرآن میں حدث اکبر کیلئے نہانے اور حدث اصغر کیلئے وضو کا ذکر ہے۔ انواع واقسام کے عجیب وغریب فرائض گھڑے گئے۔ جنکا نہ سر ہے نہ پیر۔ کراچی کے مشہور عالم دین علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ نے روزے کیلئے مسئلہ بیان کیا تھا کہ’’ لیٹرین کرتے وقت آنت نکلتی ہے ۔ جس کو پھول کہتے ہیں۔ اس پھول کو دھویا جائے اور اندر جانے سے پہلے اس کو کپڑے سے سکھادیا جائے۔ اگر کپڑے سے سکھائے بغیر وہ پھول واپس اندر گیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا۔ تکلف کرکے اس پھول کو باہر رکھنا ہے جب تک سکھایا نہ جائے‘‘۔ حالانکہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے اور قرآن وسنت میں روزہ ٹوٹنے کی ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ اب دعوتِ اسلامی کے مفتیان نے اس سے بھی بڑھ کر کہا ہے’’ کہ استنجے کیلئے کھل کر نہ بیٹھیں ورنہ مقعد کے ذریعے معدہ تک پانی پہنچ سکتا ہے اور روزہ ٹوٹ جائیگا، اسی طرح سانس لینے میں بھی احتیاط کی جائے۔ ورنہ اس سے بھی پانی معدہ میں مقعد کے راستے پہنچ کر روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔
فقہ کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر پچکاری کے پریشر سے پانی مقعد کے راستے پانی پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟۔ اگرچہ اب یہ ممکن ہوا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے اس بات کو ثابت کرکے دکھایا جائے کہ پچکاری کے ذریعے بھی معدہ تک پانی پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب کسی بیمار کو یہ نوبت پہنچے تو پچکاری کے ذریعے سترکھلنا بھی نہیں چاہیے، اللہ تعالیٰ نے مریض کیلئے روزہ معاف کرکے کہا ہے کہ کسی اور دنوں میں رکھا جائے ، اللہ تعالیٰ تمہارے آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتاہے جو اللہ کی بات کو نہ سمجھے اور خود کو گولی کھانے کے بجائے پچکاری کیلئے مجبور کرے تو اس گدھے کو حقائق سے آگاہ کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
فقہ کی کتابوں میں کتاب الطہارت سے لیکر کتاب الصلوٰۃ، کتاب النکاح، کتاب الطلاق ، کتاب البیوع اور کتاب الحدود تک ایک ایک چیز میں اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا گیا ۔ جہری نمازوں میں سورتوں سے پہلے بسم اللہ تک نہیں پڑھی جاتی ہے۔ احادیث کی کتابوں میں رفع الیدین کی بہت کثرت کے باوجود اس پر عمل کرنے کو گمراہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن ، احادیث اور فقہ کسی چیز کی بھی درحقیقت کوئی سمجھ نہیں رکھتے ہیں۔ بس اندھوں کی بھیڑ چال چل رہی ہے۔
دنیا میں نکاح کا قانون موجود ہے لیکن اس میں اتنی سختی ہے کہ مغرب والے نکاح سے زیادہ گرل وبوائے فرینڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کے برعکس نکاح و طلاق کا تصور اتنا بھیانک بنادیا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک، مذہب اور معاشرہ اس گھناونے تصورات کو قبول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ جس دن قرآن وسنت میں واضح کردہ نکاح و طلاق کے قوانین سامنے آگئے تو مسلمان ہی نہیں دنیا کا ہر مذہب اور ملک اسی کو اپنے ہاں رائج کردیگا۔
نکاح کیلئے حق مہر کا تصور ہے۔ غریب وامیر اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہی اس کو عملی جامہ پہناسکتے ہیں۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف دینا ہوگا۔ اور اگر حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو غریب اپنی وسعت کے مطابق اور امیر اپنی وسعت کے مطابق دیگا اور باہمی رضامندی سے ایکدوسرے سے بھلائی بھی کی جاسکتی ہے بلکہ اللہ نے فرمایا کہ آپس میں بھلائی کو مت بھولو۔اس سے یہ واضح ہے کہ ہاتھ لگانے کے بعد پورے کا پورا حق مہر فرض بن جاتا ہے۔ کوئی بہت ہی کم عقل یا ڈھیٹ قسم کا مولوی اس بات کا انکار کرسکتا ہے۔ اگر اتنی سی بات کو دنیا پر واضح کردیں اور مسلمان اس پر عمل پیرا ہوجائیں تو خواتین کے حقوق کو بہت بڑی بنیاد مل جائے گی جو قرآن نے بہر صورت واضح بھی کی ہے۔
حق مہر کی مقرر کردہ مقدار کا قانون متعارف ہوجائے تو دنیا میں گرل فرینڈ رکھنے کا تصور کافی حد تک ختم ہوجائیگا۔ امریکہ وغیرہ میں طلاق مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے آدھی جائیداد سے محروم ہونا پڑتا ہے اسلئے لوگ نکاح کو ترجیحات میں نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ایک انتہاء یہ ہوتی ہے کہ نکاح کی صورت میں آدھی جائیداد جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسری انتہاء یہ ہوتی ہے کہ لڑکی سے ہر قسم کے مراسم اور فائدے اُٹھانے کے باوجودکوئی چیز بھی نہ دی جائے تو اسکا حق نہیں سمجھا جاتا ہے۔ پھر نکاح کی دلدل میں کون خود کو پھنسائے گا؟۔ جبکہ اسلام نے نکاح کے علاوہ استمتاع کی صورت میں بھی معاوضہ دینے کا پابند بنایاہے۔
نکاح کی صورت میں عورت خلع لے یا مرد طلاق دے، دونوں صورتوں میں ذمہ داری مرد پر پڑتی ہے۔ حق مہر تو عورت ہی کا حق بہر صورت ہوتا ہے لیکن خلع کی صورت میں گھر بار اور جائیداد چھوڑ کر عورت کو نکلنا پڑتا ہے۔ طلاق کی صورت میں عورت کو مکان ، جائیداد اور کسی بھی چیز سے بے دخل نہیں کرسکتے ہیں چاہے اس کو حق مہر کے بہت سے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ سورہ النساء آیت :19 میں خلع کی وضاحت ہے اور آیت:20،21میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع میں بھی دی ہوئی چیزوں میں سے بعض چیزوں کو بھی ساتھ لیجانے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب پائی جائے۔ الزام تراشی سے منع کیا گیا ہے اور لُعان کے بغیر اس کو حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
الزام کی بنیاد پر بیوی کے قتل کا معاملہ پہلے بھی عام تھا۔اسلام نے توچشم دید گواہی پر بھی قتل کی اجازت روا نہیں رکھی۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ میں لعان نہیں کروں گا بلکہ قتل کروں گا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے کہاکہ یہ تمہارا صاحب کیا کہتاہے؟۔ انصارؓ نے عرض کیا کہ اس سے در گزر کیجئے،یہ بڑی غیرت والا ہے، اس نے طلاق شدہ و بیوہ سے کبھی شادی نہیں کی، جسے طلاق دی اس کو کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں، اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ (بخاری) نبیﷺ نے سچ فرمایا تھا اسلئے کہ بیوی تو دور کی بات ہے ،اپنی لونڈی ماریہ قبطیہؓ کیساتھ اسکے ایک ہم زباں پر شک گزرا تھا تو حضرت علیؓ سے کہا کہ اسے قتل کردو۔حضرت علیؓؓ حکم کی تعمیل کیلئے گئے اور اس کو ایک کنویں میں نہاتا ہوا پایا، جب اس کو باہر نکالا تو وہ مقطوع الذکر تھا جس پر اس کو چھوڑ بھی دیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا کہ آپ ﷺ کی ازواج سے کبھی نکاح نہ کریں اس سے آپ کو اذیت ہوتی ہے۔
لے پالک کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کو معاشرے میں حرام سمجھا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا نکاح کرادیا تاکہ آئندہ مؤمنوں کو اس میں مشکل نہ ہو کسی رسم ورایت کو توڑنا بہت بڑی قربانی ہے۔ رسول اللہﷺ کا درجہ بہت بلند ان روحانی آزمائشوں کی وجہ سے تھا۔ یو ٹیوب کی جس گستاخانہ فلم کی وجہ سے شور مچا تھا، اس میں سورۂ تحریم کے قصے کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ آج بھی انواع واقسام کی اذیتناک باتیں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ یہ سلسلہ حمد وتعریف میں اس وقت ہی بدل سکتا ہے جب اسلام کا درست چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے۔ دین ابراہیم ؑ سب کے نزدیک محترم ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت سارا ؑ کی وجہ سے لونڈی حضرت حاجرہ ؑ کو مکہ کے وادی غیر ذی زرع میں اللہ کے حکم سے چھوڑ دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کے حجرے میں حضرت ماریہ قبطیہؓ کیساتھ مباشرت کی تو حضرت حفصہؓ نے شدید شورواحتجاج کیا کہ مجھے کمتر سمجھا گیا۔ جس پر نبیﷺ نے فرمایا کہ چپ کرو، بس حضرت عائشہؓ سے بات چھپاؤ، میں نے اسے اپنے اوپر حرام کردیا ۔ حضرت حفصہؓ نے اس کو خوشخبری اور اپنی جیت سمجھ کر حضرت عائشہؓ کو بتادیا۔ انہوں نے مل کر ایک چال چلی اور دیگر ازواجؓ سے کہا کہ جسکے پاس نبیﷺ تشریف لائیں تو کہنا کہ منہ سے برگد کی بوآرہی ہے۔اس بات کو متعدد مرتبہ دوسری ازواجؓ نے دھرایا جسکے جواب میں نبیﷺ کہتے رہے کہ میں نے شہید کھایا ہے تو پھر وہ کہتیں کہ مکھیوں نے برگد گھایا ہوگا۔ بالآخر اس مآجرے کے نتیجے میں نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر شہد حرام ہے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے سمجھا کہ ہم نے اس لڑائی میں نبیﷺ کو شکست سے دوچار کردیا ہے۔ اس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی ۔ نبیﷺ سے فرمایا گیاکہ اپنی بیگمات کی رضا کیلئے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو اسے جسے اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے۔ یہ دونوں خواتین نبیﷺ پر غالب نہیں آسکتیں۔ اگر یہ توبہ نہ کرلیں تو اللہ ان سے بہتر ازواج بھی نبیﷺ کو دے سکتاہے جن میں کنواری و غیرکنواری کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت لوط ؑ اورحضرت نوحؑ کی بیگمات کافر تھیں اور حضرت مریمؑ و فرعون کی بیگم مؤمنہ تھیں۔ سورۂ تحریم میں حکم ہے جاہدالکفار و المنافقین واغلظ علیھم ’’ کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کرو اور ان پر سختی کرو‘‘ ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ انبیاء ؑ حضرت نوح ؑ ولوطؑ نے اپنی کافر ومنافق بیگمات پر کس قسم کی سختی کی اور فرعون کی بیگمؓ و حضرت مریمؓ نے کس قسم کا جہاد کیا تھا۔ بارود سے اڑا دیا ، گلہ گھونٹ دیا ، زہر دیا ؟۔ یہ صرف مسلمانوں کو اعتدال کی راہ دکھانی تھی۔
حضرت نوح ؑ کوساڑھے نوسوسال تک کافروں کے پتھر کھانے پڑے۔جبکہ طائف میں نبیﷺ کو بھی پتھر مارے گئے۔ طائف کے میدان سے زیادہ سخت آزمائش نبیﷺ پر حضرت عائشہؓ کے بہتان کے حوالے سے تھی۔ ایک غیرتمند انسان کو ایسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے بڑا امتحان نہیں ہوسکتاہے۔ اس اذیت کی وجہ سے نبیﷺ کی شان کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، عالم انسانیت کو قرآن وسنت کا درست ادراک ہوجائے تو خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام سے سب اتفاق کرینگے۔ حضرت ابراہیمؑ کے دور میں ممکن نہیں تھا کہ بیوی کسی لونڈی کو برابر سمجھے۔ نبیﷺ کی وجہ سے دنیا کو اللہ نے لونڈی وغلامی کے نظام سے ہی نجات دلانی تھی ،اسلئے قرآن میں وضاحت ہے کہ یہ اہل فرعون کا وظیفہ تھا جوبنی اسرائیل کو سخت آزمائش میں مبتلا کرتے تھے۔اللہ نے انسانیت کو عروج وکمال کا آخری درجہ عطاء کرنا تھا۔ معراج اس کا مشاہدہ تھا۔ عالمی خلافت اسکامنبع تھا۔
رسول اللہﷺ کو حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں نے کس قدر اذیت دی تھی؟۔اس کی سزا کیا تھی؟، ایک عام غریب و بے بس خاتون پر بہتان لگانے کی سزا بھی وہی 80کوڑے ہے۔ یہ مساوات انسانی کا کمال ہے۔ اسلام کے نظام انصاف ومساوات اور شریعت کو ایسا شخص لیڈ نہیں کرسکتا ہے جسکا اپنا خمیرہی اسٹیٹس کو سے ملوث ہو۔ سیاستدانو! کروڑوں اربوں میں ہتک عزت کا دعویٰ کرو لیکن انسان کی عزت برائے فروخت ہے اور نہ اسکا کوئی مول ہوتاہے۔ سورہ نور میں چار گواہ کا ذکر فحاشی کے ثبوت کیلئے نہیں بلکہ پاکدامن خواتین پر بہتان سے روکنے اور سزا دینے کیلئے ہیں۔ کسی معاشرے میں بہتان لگانے والے کیلئے یہ ممکن نہیں کہ کسی شریف خاتون پر چار گواہ لاسکے۔علماء اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی مت ماری گئی ہے۔ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے والا فقہ بیان کیا جاتاہے لیکن نظام کے حوالے سے حقائق سامنے نہیں لائے جاتے ہیں۔ سورۂ نور میں اللہ نے افواہ پھیلانے والے گروہ کو بہت اچھے انداز میں تنبیہ فرمائی اور یہاں تک کہا کہ ’’اس بہتان عظیم کو اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے خیر ہے‘‘۔ ان قرآنی آیات پر قربان ہوجائیے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے بہتان میں شریک مسطحؓ پر احسان نہ کرنے کی قسم کھائی تواللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں جب وہ مالدار ہوں کہ کسی پر احسان نہ کرنے کی قسم کھائیں‘‘۔ اسلام جس سپرٹ سے دنیا میں نازل ہوا تھا ،قرآن نبی ﷺ کااسوۂ حسنہ ہے۔
دنیا کو پتہ چلے کہ اسلام کا نظام معاشرت، نظام معیشت اورنظام حکومت ہی سب سے بہترین ہے تو قابل ترین لوگ قرآن وسنت کی طرف توجہ کرینگے۔ جس مذہبی طبقہ نے اسلام کو صرف اپنے کاروبار اور پیشے تک اسلام کو محدود کرکے رکھا ہے اس کی بھی آنکھیں کھل جائیں گی۔جن علماء ومشائخ میں خلوص ہے مگر سمجھ کی نعمت سے محروم ہیں جب ان کو نظر آئیگاکہ سورۂ جمعہ کی پیش گوئی کے مطابق آخر ی جماعت اہل فارس کی امامت میں حقائق سے پردہ اٹھارہی ہے۔ علم،ایمان اور دین کو ثریا سے واپس لایا جارہاہے تو وہ بلاامتیاز مسلک وفرقہ حق کی حمایت کریں گے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کے علماء اور دانشور عرصہ سے اس جماعت کی حمایت کررہے ہیں۔ ٹانک کے تمام معروف دیوبندی علماء کرام نے تحریری اور تقریری حمایت سے نوازا تھا جن میں مولانا فتح خانؒ نائب صوبائی امیر وضلعی سرپرست جمعیت علماء اسلام (ف) ، مولانا عبدالرؤفؒ گل امام ضلعی امیر جے یو آئی (ف) مولانا عصام الدین محسودؒ ضلعی جنرل سیکرٹری جے یوآئی (ف) مولانا غلام محمدؒ ضلعی امیر ختم نبوت،مولانا قاری محمد حسن شکوی شہیدؒ خطیب گودام مسجد، مولانا شیخ محمد شفیع ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام (س) وغیرہ شامل تھے۔
اسکے باوجود طالبان دہشت گردوں نے علماء کرام کی حمایت کا خیال بھی نہیں رکھا تھا۔ پروفیسرغفور، ڈاکٹر اسرار ، مولانا نورانی ،علامہ طالب جوہری، مولاناشاہ فریدالحق،مولانا عبدالرحمن سلفی کے علاوہ ملک بھر سے تمام مذہبی فرقوں ومسالک اور شخصیات کی طرف سے تائیدات کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔ اتحادالعلماء کراچی کے صدر مولانا عبدالرؤف،جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا عبد الکریم بیرشریف، تربت کے مولانا عبدالحق بلوچ امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور کشمیر سے کوئٹہ اور پشاور سے کراچی تک ہرمکتبۂ فکر کے افراد اس میں شامل تھے لیکن اسکے باوجود مسلکوں اور فرقوں کے خوگروں نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا، ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ فرقہ واریت کو ختم کرنے میں بنیادی کردار اسی جماعت کا ہے اور اب بھی امید کی یہ ایک ایسی کرن ہے جس سے جاہلیت کے تمام اندھیروں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ مساجد ومدارس کے ارباب اہتمام ومساجد کو توجہ دینی ہوگی۔
حضرت مولانا حسام اللہ شریفی مدظلہ دارلعلوم دیوبند کے مولانا رسول خانؒ و علامہ سید سلیمان ندویؒ کے بھی شاگرد رہے ہیں۔ مولانا رسول خان کا تعلق ہزارہ سے تھا اور وہ مولانا قاری طیب ؒ دارلعلوم دیوبند کے مہتمم کے بھی استاذ رہے ہیں ، مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مولانا حسام اللہ شریفی کو سوالات کے جواب دینے کی اجازت دی تھی۔برصغیر میں دار العلوم دیوبند کے سب سے بڑے اور مستند عالم دین کا اعزاز اس دور میں حضرت شریفی صاحب مدظلہ العالی کو حاصل ہے۔ آپ شریعت کورٹ و سپریم کورٹ کے مشیراور رابطہ عالم اسلامی کے رکن ہیں۔ عتیق

کوئی ان پڑھ، بیوقوف اور بچہ بھی ایسی حرکت کرنے کی حماقت نہیں کرسکتا ہے.

quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz -nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatiha

سید ارشاد نقوی مدیر خصوصی نوشتۂ دیوار نے کہا کہ علماء ومفتیان بار بار متنبہ ہونے کے باوجود ڈھیٹ ہوگئے ہیں۔ اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار: ملاجیونؒ ‘‘ نصاب کا حصہ ہے اور معمولی معمولی باتوں پر طوفان کھڑے کرنے والوں کو اتنی موٹی بات بھی کیوں سمجھ میں نہیں آرہی کہ کتاب اللہ سے متعلق بالکل لغو تعلیم دی جاتی ہے کہ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواتر بلاشہ ’’ کتاب اللہ سے مراد مصاحف میں لکھاہوا قرآن ہے جونبیﷺ سے متواتر بلاشبہ نقل ہواہے‘‘۔ اس کی تشریح میں ہے کہ’’لکھاہوا سے مراد لکھا ہوانہیں ، کیونکہ یہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ۔ بلکہ لکھائی محض نقوش ہیں‘‘۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ لکھا ہوا سے مراد لکھائی نہیں ہے؟۔ کوئی ان پڑھ جاہل ،کم عقل ، بچہ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتاب اللہ مصاحف میں لکھا ہوا قرآن ہے مگر لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں ۔ یہ علم الکلام کی گمراہی ہے جس سے امام ابوحنیفہؒ نے توبہ کی تھی۔ آیات کا حوالہ ذیل میں دیا گیا، تاکہ علماء ومفتیا ن کیلئے یہ نصاب بدلنے میں آسانی ہو ۔ جس طرح تعلیم یافتہ ہندو بت کی کیمسٹری سمجھنے کے باوجوداسکو پوجتا ہے، اسی طرح اندھی تقلیدسے عقیدت میں علماء ومفتیان اپنے نصاب کے حوالہ سمجھنے پر غور نہیں کرتے ۔ نورالانوار ملا جیونؒ نے لکھی۔ جو شہرت یافتہ سادہ تھے اورانکے انواع واقسام کے لطیفے ہیں۔ یہ بڑی حماقت ہے کہ کتاب سے مراد مصاحف میں لکھا ہواقرآن ہو مگر لکھاہوا کے کلام اللہ ہونے سے انکار ہو۔ اسکے بھیانک نتائج یہ نکلے کہ فتاویٰ شامیہ، قاضی خان اور صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ پراپنی کتابوں تکملہ فتح الملہم و فقہی مقالات سے نکالا مگرتحریک انصاف کے رہنما مفتی محمدسعید خان نے پھر بھی اپنی کتاب ’’ ریزہ الماس‘‘ میں پیشاب سے سورۂفاتحہ کو لکھنے کے جواز کا دفاع کیا لیکن جب درسِ نظامی کے بنیادی نصاب میں یہ شامل ہو کہ لکھائی کی شکل محض نقوش ہیں جو الفاظ ومعانی نہیں اور نہ اللہ کا کلام ہے تو پھر پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہے؟۔ اور اصولِ فقہ کی بنیادی غلطی کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں قرآن کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔
علماء پڑھتے پڑھاتے ہیں کہ نقل متواتر کی قید سے غیرمتواتر آیات نکل گئیں۔ اگر یہ تعلیم ہو تو پھر قرآن کی حفاظت کا عقیدہ نہیں رہتا۔ یہ بھی پڑھا یا جاتا ہے کہ بلاشہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی ، کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شبہ ہے اور شبہ کے قوی ہونے کی وجہ سے اسکا منکر کافر نہیں۔ علاوہ ازیں یہ تعلیم ہے کہ آخری 2سورتوں کو عبداللہ ابن مسعودؓ قرآن نہیں مانتے تھے۔ حالانکہ اللہ نے یہ واضح کردیا کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا، شیطان اسکے آگے پیچھے حملہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کسی نے کئی سوسال بعد عبداللہ ابن مسعودؓکے مصحف کو دیکھاجسکی آخری دو سورتیں اور فاتحہ پھٹ کر ضائع تھے تویہ افسانۂ کفر گھڑ دیا زیبِ داستاں کیلئے۔
تفسیر عثمانی میں علامہ شبیر احمد عثمانی نے لکھا ہے کہ ابن مسعودؓ ان آخری دوسورتوں کے نزول کے منکر نہ تھے مگر قرآن کا حصہ نہ سمجھتے تھے اسلئے قرآن میں درج نہ کیا۔ کسی نے یہ بھی لکھ دیا کہ نماز میں بھی پڑھنے کو جائز نہ سمجھتے تھے، یہ محض دم تعویذ کیلئے اتری تھیں۔ بریلوی مکتبہ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر’’ تبیان القرآن‘‘ میں طویل بحث میں لکھا کہ ’’ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں آخری دو سورتوں کو نہیں لکھااور اسکا انکار ممکن نہیں۔ اسکا حل یہ ہے کہ صحابہؓ کے دور میں قرآن پر اجماع نہیں ہوا تھا، اس وقت قرآن کی ان دو سورتوں کا منکر کافر نہیں تھا جبکہ اب اجماع ہوچکا ہے اور اب اس اجماع سے انکار پر وہ شخص کافر ہوگا جو ان دو سورتوں کو نہ مانے گا‘‘۔یہ عقل دیکھ لو کہ قرآن کا منکر کافر نہیں مگر اجماع کا منکر کافر بن جائیگا؟۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ’’ شیخ انور شاہ کشمیری نے فیض الباری میں لکھاہے کہ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی لیکن لفظی تحریف بھی ہوئی ہے، انہوں نے جان بوجھ کی ہے یا مغالطہ سے ایسا ہواہے۔ اس عبارت کا حوالہ دئیے بغیر ہم نے دارالعلوم کراچی کورنگی سے فتویٰ لیا تو وہاں سے اس پر کافر کا فتویٰ لگایا گیا‘‘۔ جبکہ قاضی عبدالکریم کلاچی نے یہ عبارت لکھ کر اکوڑہ خٹک کے مفتی اعظم مفتی فرید صاحب کو لکھ دیا کہ عبارت پڑھ کر پاؤں سے زمین نکل گئی ۔ مفتی فرید صاحبؒ نے اسکا غیر تسلی بخش جواب دیا جو انکے ’’فتاویٰ دیوبند پاکستان ‘‘ میں شائع ہوچکا ہے۔
ایک وقت تھا برطانیہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کے بغیربھی کسی پیغام کو عام کرنے کا مسئلہ نہیں رہاہے۔ علماء ومفتیان تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ نوجون اور پڑھا لکھا طبقہ بے دینی کی طرف جارہا ہے ۔ ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ روڈ پر کھڑے ہوکر گدھے کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کوئی کمزور گدھا لاری کی ٹکر سے بچ سکے گا یا ٹکر سے ملیا میٹ ہوجائیگا؟۔ درسِ نظامی کی کتابوں میں قرآن کے متعلق اصولِ فقہ کی بنیادی تعلیم میں اس طرح کا کفر کب تک عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاسکے گا؟۔ ایک دن کسی بڑے انقلاب کی شکل میں کوئی طاقت ان کو دبوچ لے گی تو دفاع کا موقع بھی نہیں مل سکے گا۔ لوگ بہت بے حس ہیں مگر جب کوئی احساس دلانے والا احساس دلائے گا تو مدارس کو صرف ذریعہ معاش سمجھنے والے سنبھل بھی نہیں سکیں گے۔ اسلئے اللہ کا خوف کا کھانے کیساتھ اپنا بھی خیال رکھیں۔ سورۂ اعراف کی متعلقہ آیات کوغور سے تلاوت کریں اور سمجھیں جن میں آگے یہ بھی ہے کہ درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ ان کو وہاں تک لے جاتا ہے کہ وہ سمجھ نہیں سکتے ہیں اور پھر اللہ اچانک دبوچ لیتا ہے۔ قرآن کی سمجھ اور اس کو دستور العمل بنانے سے ہی ہمارا بیڑہ پار ہوگا۔
فویل اللذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہٖ ثمنا قلیلا فویل اللھم مما کتبت ایدیھم وویل اللھم مما یکسبونO تباہی ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے تھوڑا سا کما لیں۔ پس تباہی ہے ان لوگوں کیلئے اس تحریر کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور اس وجہ سے جو انہوں نے کمایا(البقرہ: آیت:79)
ولو نزلنا علیک کتاباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین Oاگر ہم آپ پر کوئی ایسی کتاب نازل کردیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی پھر یہ اسے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔ (الانعام: آیت:7)
قرآن سے واضح ہے کہ کتاب کاغذپر لکھی چیز ہے، بچہ بھی جانتاہے ،اصول فقہ کی کتابوں سے گمراہانہ تعلیم کو نہ نکالا گیا تو علماء ومفتیان پرشدید عذاب آسکتاہے۔
و الذین اٰتینٰھم الکتاب یعلمون انہ منزل من ربک بالحق اور جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے حق کیساتھ نازل ہوئی ہے ۔ (الانعام: آیت: 114)
الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورٰۃ و الانجیلOجس کو وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس تورات اور انجیل میں ۔ (الاعراف: آیت:157)
الرOکتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الی النور کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالیں ۔ (ابراہیم: آیت: 1)
والذین یمسکون بالکتاب و اقاموا الصلوٰۃ انا لا نضیع اجر االصٰلحینO اور جو کتاب سے تمسک کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ان کا اجر ضائع نہیں کرتے ہیں۔( الاعراف: 170)
قرآنی آیات میں بار ہا مکتوب (لکھت : لکھائی )کواللہ کا کلام قرار دیاگیاہے۔
فسئل الذین یقرؤن الکتاب من قبلکOاور پوچھ لیں ان لوگوں سے جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ( یونس:آیت:94)
ن و القلم وما یسطرون ما انت بنعمۃ ربک بمجنون Oن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ سطروں میں ہے اس کی ، کہ آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں ہیں۔ (القلم: آیت:1)
اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم پڑھ اور تیرے عزت والے رب کی قسم جس نے قلم کے ذریعے سے سکھایا ۔ (العلق: آیت:4)
وقطعنٰھم فی الارض اُمما، منھم الصالحون منھم دون ذٰلک… فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتٰب ےأخذون عرض ہٰذہ الادنیٰ و یقولون سیغفرلناوان ےأتھم عرض مثلہ ےأخذوہ، الم ےؤخذ علیھم میثاق الکتٰب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق و درسوا مافیہ(اعراف کی ان آیات سے علماء ومفتیان کو پورا پورا سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے)
واتل علیھم نبأ الذی اٰتینٰہ آیٰتنا ۔۔۔ من لغٰوینOولو شئنالرفعنٰہ ۔۔۔ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث۔۔۔ لعلھم یتفکرونOولقد ذرأنا لجنھم کثیر من الجن والانس لھم قلوب لایفقھون بھا ولھم اعین لا پبصرون بھاولھم اٰذان لا یسمعون بھا ،اولٰئک کالانعام بل ھم اضل ،اولٰئک ھم الغٰفلونOاور ان کو اس کی خبر بتاؤ،جس کو ہم نے اپنی آیات دیں پھر وہ انسے نیچے اترا،پھر شیطان نے اس کو دھر لیا اور وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوا،اور اگر ہم چاہتے تو اسے بلندی پر انکے ذریعے پہنچاتے مگر اس نے زمین میں ہمیشہ رہنے کو ترجیح دی اور نفسانی خواہش کا تابع بنا، اس کی مثال کتے کی سی ہے، اگر اس پر بوجھ لادو تب بھی ہانپے اور چھوڑ دے تب بھی ہانپے، ۔۔۔ جہنم کیلئے بہت جن وانس میں سے تیار کررکھے ہیں،انکے دل ہیں مگر انسے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر انسے دیکھتے نہیں، انکے کان ہیں مگرانسے سنتے نہیںیہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ بدتر(اعراف)

مولاناعتیق گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں. مفتی محمد حسام اللہ شریفی

mufti-hussam-ullah-sharifi-daily-jang-news-paper-Federal-Shariat-Court-shariat-appellate-bench-supreme-court-Shajar-e-Mamnooa-qissa-adam-o-iblees

روزنامہ جنگ کراچی حضرت مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی و دامت برکاتہم العالیہ
*رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ * ایڈیٹر ماہنامہ قرآن الہدیٰ کراچی اُردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ *مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان *مشیر شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ پاکستان * رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم مقرر کردہ وزارت امور مذہبی پاکستان * خطیب جامع مسجد قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس *کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی جنگ گروپ
نے تحریر فرمایاکہ( ۱۳ رمضان المبارک ۱۴۳۹، 29-5-18) اللہ رب العزت نے اس دنیا میں مختلف انسان پیدا کرکے ان میں مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں۔ یہ انسان کسی کارخانے اور فیکٹری میں نہیں ڈھلے اور تیار نہیں ہوئے کہ ایک ہی مشین میں ڈھلے ڈھلائے برآمد ہوئے ہوں اور ہر انسان تمام معاملات میں بالکل یکساں ہو۔ یہ انسان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور ان میں مختلف استعداد اور صلاحیتیں رکھی ہیں تاکہ دنیا کا کاروبار چل سکے۔ کوئی شخص تحقیق اور ریسرچ کے کام میں مہارت رکھتا ہے، کوئی تصنیف و تالیف میں دلچسپی رکھتا ہے، کسی کو درس و تدریس سے شغف ہوتا ہے، کسی کو شعر و شاعری سے لگاؤ ہوتا ہے۔ غرض مختلف لوگ مختلف کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ مولانا عتیق الرحمن گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں اور کتاب و سنت کے معارف میں تحقیق اور ریسرچ کے کام میں اپنے شب و روز بسر کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے انتہائی قیمتی اور گراں قدر معارف تلاش کرکے عامۃ المسلمین کے استفادے کے لئے پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی بہت سی ایسی تحقیقات عام لوگوں کے سامنے لائے ہیں جن پر کسی بھی عالم کی پہلے نظر نہیں پڑی تھی اور جسے عام علماء نظر انداز کردیتے تھے۔ اب پھر انہوں نے نہایت قیمتی اور گراں قدر گوہر قرآن و سنت پر تدبر و تفکر کرکے برآمد کیا ہے۔ قصہ آدم و ابلیس قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے اور تفصیل کے ساتھ ابلیس لعین کے سازشی ذہن کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کے جد امجد حضرت آدم اور اماں حوا کو کس طرح ایک شجر کے پھل سے لذت آشنا کیا۔ یہ’’شجر‘‘ کون سا تھا اس ’’شجر‘‘ کی حقیقت سے مولانا عتیق الرحمن گیلانی نے پردہ اٹھایا ہے۔ اور اپنی تحقیق سے اہل علم و دانش کو چونکا دیا ہے۔
یہ سعادت اللہ رب العزت نے مولانا عتیق الرحمن گیلانی کیلئے مقدر کی تھی کہ وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں اور عامۃ المسلمین کے غور و خوض کیلئے ایک اہم پیش رفت کریں کہ وہ ’’شجر‘‘ جس کا ذکر خالق کائنات نے اس دنیا کی پیدائش کے سلسلے میں کیا ہے وہ کون سا ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔
مولانا عتیق الرحمن گیلانی کے ذہن رسا نے وہ کام کیا ہے جس پر دوسروں کے ذہن کی رسائی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانا گیلانی کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے اور ہم عام لوگوں کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اسلام کا معاشرتی نظام بہت بڑا اثاثہ ہے لیکن مدارس کے مفتی، ائمہ مساجد اور مذہبی جماعتیں وفرقے اپنے کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں

islamic-revolution-islam-ki-nishat-e-sania-quran-o-sunnat-khatm-e-nabuwat-khadim-hussain-galian-baba-nikah-and-agreement-triple-talaq-fatwa-ittehad-e-ummat-dars-e-nizami

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا ہے کہ اسلام کا معاشرتی نظام بہت بڑا اثاثہ ہے لیکن مدارس کے مفتی، ائمہ مساجد اور مذہبی جماعتیں وفرقے اپنے کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں ،قرآن وسنت سے وہ رجوع کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ امریکہ ،کینیڈا اور یورپ ومغرب کے علاوہ دنیا بھر کے تمام جدید ممالک صرف اسلام کے قانونِ نکاح وطلاق اور خواتین کے حقوق معلوم ہوئے تو قرآن کی طرف پوری انسانیت کا رجوع ہوگا۔ عبادات کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اسلام کا معاشرتی نظام دنیا کے سامنے پیش نہ ہوسکا اسلئے دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک کے علاوہ مسلم ممالک بھی اسلام کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ سعودیہ نے جدت اختیار کرنے کو ترجیح دی اور ہم بھی حدود اور قیود کو پھلانگ رہے ہیں۔
دعلماء کرام اور مفتیانِ عظام اس بات پر وایلا مچارہے ہیں کہ مسلمان عوام ، حکومتیں ، دنیااورعالم انسانیت اسلام سے فاصلہ بڑھارہے ہیں لیکن وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہم نے نکاح وطلاق کے احکام قرآن وسنت سے واضح کئے مگر علماء کو فرصت نہیں کہ تھوڑی سی توجہ دیدیں۔ رسول ﷺ جو شکایت قیامت کے دن اللہ سے کرینگے کہ ’’میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘ تو کیا علماء و مفتیان خود کو اس شکایت میں بے گناہ ثابت کرسکیں گے؟۔ یہ تو کہا جاتا ہے کہ علماء اپنا وقت قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ میں لگاتے ہیں لیکن کیا اللہ کے قرآن اور نبیﷺ کی سنت کی طرف بھی کوئی توجہ دیتے ہیں؟۔
حضرت حاجی محمد عثمانؒ سے کراچی کے بڑے علماء کرام بیعت تھے، حضرت عثمان ؒ سے بعض کی دوستی تھی، مدارس کا اساتذہ طبقہ بھی بیعت اور حلقہ ارادت میں شامل تھا۔ اس خانقاہ سے اتحادِ امت کی آواز ابھر رہی تھی۔ نیکی اورتقویٰ کا اعلیٰ معیار قائم ہورہاتھا۔ پھر علماء ومفتیان نے چندافراد کے کہنے پر فتوے لگادئیے۔ حالانکہ جو الزامات لگائے وہ کیا وجہ تھی کہ چند سرمایہ دار مریدوں کو خلافِ شریعت کا تو پتہ چل گیا مگر علماء ومفتیان بالکل بے خبرہی رہے تھے؟۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ جس شریعت اور تقویٰ پر عمل کررہے تھے۔ چند فتوؤں سے ایسی بھگڈر مچ گئی کہ ایک دنیا بدل گئی۔ داڑھیاں صاف ہوگئیں، ذکرو اذکار بند ہوا اور شریعت پر عمل موقوف ہوگیا۔ دینداری دنیا داری میں تبدیل ہوگئی اور آباد خانقاہ ویران ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں جو ختم نبوت کے مسئلہ پر فارم سے حلف نامہ اسلئے ہٹادیا گیا کہ باقی سب معاملات میں بھی حلف نامے کو ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ایمان مجمل و ایمان مفصل میں بھی حلف نہیں ۔ اصل معاملہ حلف نامہ سے قرضہ، جائیدادوغیرہ کی تفصیل ہٹانا تھا جس سے درست معلومات کا ہر امیدوار پابند ہوتا۔ لیکن اس میں سیاستدان کامیاب ہوگئے ہیں۔
مذہبی جذبات کو ختم نبوت کے نام سے بھڑکایا گیا تو اس کے نتیجے میں علامہ خادم حسین رضوی نے سرِ عام مغلظات بکیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء ومفتیان اپنا نصاب بھی درست کرینگے اور اس میں بھی ایمان کیخلاف بڑی سازش کو نکالنے کیلئے اسی طرح جذبہ کا مظاہرہ کرینگے؟۔
ہم فرقہ واریت کے بالکل خلاف ہیں اور درسِ نظامی کو غلطیوں سے پاک کرنا صرف ہماری نہیں بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہمارا مقصد کسی کی تحقیر وتذلیل نہیں۔ ہم صرف رسول اللہ ﷺ کی قرآنی شکایت پر اُمت مسلمہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور اسکے سب سے بڑے ذمہ دار علماء ومفتیان ہیں۔ باقی لوگ بھی اپنا دامن نہیں بچاسکیں گے اور اگر مسلمان قرآن کی طرف متوجہ ہوگئے تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہماری ریاست بھی حقائق کی طرف رجوع کرے تاکہ پاکستان کا مقصد حاصل ہو۔

یہ کیسی آزادی ہے ہماری بیٹیاں بہنیں بک رہی ہیں ہماری ماؤں سے لونڈی بن رہی ہیں

ptm-tarana-song-stop-using-taliban-against-ptm-40-fcr-manzoor-pashten-bacha-khan-nikah-agreement-londi-in-islam-mufti-abdul-samad (1)

اسلام نے بڑاکارنامہ انجام دیا کہ خواتین کو انکے حقوق کا تحفظ دیا۔عرب قبائل تھے جبکہ پاکستان میں بھی قبائلی معاشرہ ہے۔ 40ایف سی آر کا خاتمہ کردیا گیا۔ یہ قوانین بنیادی طور پر قبائلی رسم ورواج کے ہی مطابق تھے۔ آزاد قبائل اس آزادی پر فخر کرتے تھے۔ انگریزدور میں پورے ہندوستان پر غلامانہ قوانین مسلط تھے۔ انگریز کے جانے کے بعد جب پاکستان بن گیا تو آزاد ریاست کو آزادقبائل نے دل وجان سے قبول کیاتھا اور یہ احساس اُبھرا تھاکہ پاکستان میں اسلامی قوانین کے مطابق آئین سازی ہوگی اور غلامانہ دور کے قوانین بالکل ختم ہوجائیں گے لیکن آزادی کے ہیرو مرزاعلی خان نے کہا تھا کہ ’’ گدھا وہی ہے صرف اسکی پالان بدل گئی‘‘ یعنی پاکستان بننے کے بعد بھی کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں ہے بس نام بدل گیا۔
منظور پاشتین نے محسود تحفظ موومنٹ کو پھر پشتون تحفظ موومنٹ میں بدل دیا ۔جس کا ایک ہی پیغام تھا کہ ریاستی عناصر کی طرف سے ہونیوالے مظالم کا راستہ رک جائے۔ مظلوموں کی آواز سے ریاست میں ایک خوف پیدا ہوا اور اس خوف کے بعد 40ایف سی آر کا بھی خاتمہ کردیا گیا۔ پاک فوج چاہتی تو اپنے مختلف ادوار میں یا اپنے کٹھ پتلیوں کے ادوار میں اس قانون کا خاتمہ کرسکتی تھی۔ قبائل کو اپنے رسم ورواج کے قوانین سے کوئی تکلیف نہیں تھی اور نہ ہی وہ پاکستان کے سست و بدترین عدالتی نظام کے تحت انصاف کو قابلِ رشک سمجھتے تھے جو بدترین غلامی کی یاد گار ہے۔ البتہ امریکہ سے درآمد عبوری وزیراعظم معین قریشی نے یہ فیصلہ کیا کہ قبائل سے پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ ورنہ پہلے مخصوص قبائلی ملکان کی رائے سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔قریشی کے فیصلے نے پاکستان کے کرتے دھرتوں کا منہ کالا کیا۔آج عبوری حکومت بھی بہت کچھ کرسکتی ہے۔
قرآن میں ملاء القوم کا ذکر ہے جو انقلابی ابنیاء کرام ؑ کا راستہ روکتے تھے۔ یہ مذہبی پیشواء اور قبائلی ملکان انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے شاہی دربار والی خدمت کر تے تھے۔ اسلام کی نشاۃ اول میں سردارانِ قریش اور بتوں کی مذہبی عبادت کے خوگروں نے انقلاب کا راستہ اسلئے روکا تھا کہ وہ غلامی کا نظام ختم کرنے اور انسانیت کو برابری کا درجہ دینا نہیں چاہتے تھے۔ مشرکینِ مکہ کا کوئی فرد یا چند افراد اپنے مذہب کو تبدیل کرکے عیسائی وغیرہ بننا چاہتے تو ان پر کوئی پابندی نہیں تھی، اسلام سے نہ صرف ان کی سرداری کو خطرہ تھا بلکہ یہودونصاریٰ کے مذہبی پیشواء بھی اپنی بے تاج اور لامتناہی اختیارات کی بادشاہی کو خطرات لاحق سمجھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے آخری خطبۂ حجۃالوداع میں اعلان فرمایا کہ’’ کالے گورے، عرب عجم اور کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، فضلیت کا معیارصرف تقویٰ ( کردار) ہے‘‘۔ یہ خطبہ نسلی اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر باطل زعم رکھنے والوں کے افکارپر کاری ضرب تھا۔ خلفاء راشدینؓ کے دور میں اسلام کا دنیا میں چرچا ہوا۔ اس وقت کی سپر طاقتیں قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اس کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رسول اللہﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ’’ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائیگا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ‘‘۔ پھربنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کی خاندانی بادشاہتوں کے ادوار میں اسلام بتدریج اجنبیت کی منزلیں طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے کہ مذہب کے نام پر جاہلوں کا چوپٹ راج ہے۔قبائل کا پڑھا لکھانوجوان طبقہ صرف ریاست سے نہیں بلکہ اسلام سے بھی بدظن ہوچکا ہے۔ریاست اور طالبان نے قبائل کا کلچر تباہ کیا اور اسکے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی کے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ قبائلی نوجوان کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں ہمارا قبائلی کلچر اعلیٰ و ارفع ہے۔ جنوبی وزیرستان وزیر علاقے کا ایک ہجڑہ عام انسانوں کی طرح عزتدار ہے، تجارت کرتا ہے، دیگرقبائلی عمائدین کی طرح جرگوں میں شریک ہوکر فیصلے کرتا ہے، کوئی اس کو نیچ نگاہ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا ۔ آج ہجڑوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ مغرب میں بھی گراؤٹ کی نظرسے دیکھا جاتا ہے۔ انگریز کی ریاست نے یہاں قابض ہوکر ہمارا کلچر ایک سازش سے متأثر کیا ہے۔ اسلام اور ملاؤں نے بھی قبائل پر اثر انداز ہوکر اچھا نہیں کیا ہے۔ پختونوں کو اپنے حقوق، کلچر، تہذیب وتمدن اور قبائلی معاشرے کی آبیاری کیلئے اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ باچا خان کے بعدپشتون تحفظ موومنٹ پہلی شعوری کوشش ہے اور اس کیلئے ہمیں ہر قسم کی قربانی دینی ہوگی۔ ریاست کے زور پر ملائیت نے قبائلی نظام کو خراب کرنے پرنقب ڈالا، پھر فرنگیوں اور اب پنجابیوں نے ریاست کے ذریعے ہمارا نظام تباہ کردیا ۔
قبائلی جوانوں کا مدعا یہ تھا کہ حلالہ جیسی لعنت کو بھی اسلئے قبول کیا گیا کہ ملائیت کے پیچھے ریاست کی طاقت تھی اور ان تمام بکھیڑوں سے ہم نے اپنی جان چھڑانی ہوگی۔ کسی عالم کو خوب کھلانے پلانے کے بعد جس قسم کی حدودوقیود سے ماوراء گالیاں دو تو وہ ہنسی خوشی برداشت کرلیتا ہے۔
قرآن وسنت میں نکاح اور ایگریمنٹ کا ذکر ہے۔مجھ سے فون پرمولانا مفتی عبدالصمد اور مولانا ذی الشان نے بات کی تو وہ کہہ رہے تھے کہ ملکت ایمانکم کا مطلب لونڈی ہے اور لونڈی کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مترجمیں اور مفسرین نے لونڈی مراد لیا ہے لیکن الف سے ی تک اسلام کے واضح احکام کو اجنبی بنادیا گیا ہے، اسی طرح ملکت ایمانکم کے جملے کا بھی قرآن میں مختلف پیرائے میں ذکر ہے اور اس کا مفہوم بھی ایگریمنٹ بنتا ہے۔ غلام اور لونڈی کیلئے قرآن میں عبد و اَمۃ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن نے جاہلیت کی غلامی کا خاتمہ کرنے میں بتدریج اور زبردست کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب میں مسیار اور ایران میں جس متعہ کے نام سے ایگریمنٹ کیا جاتا ہے وہ دراصل قرآن وحدیث ہی کا تصور ہے۔ محسود مفتی عبدالصمد اور اسکے بھائی ذیشان کا اصرار تھا کہ آپ واضح اور مختصر الفاظ میں بتادیں کہ چکلے میں چلنی عورتوں پر ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتاہے یا نہیں؟، اور اسلام میں اسکا جواز ہے یا نہیں؟۔ میں نے بتایا کہ کھلم کھلا اس بدکاری پرزنا کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ اگریمنٹ نہیں ہے۔ کورٹ میرج کے نکاح کی بھی ملاؤں نے غلط اجازت دیدی ہے اور بخاری کی حدیث میں یہ واضح ہے کہ باپ بیٹی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو نکاح نہیں ہوتا ہے ۔ جس پر محسودمفتی صاحب نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ پھر تو مجھ سمیت ہم سب حرامی ہیں،اسلئے کہ ہمارا یہی کلچر ہے کہ بہن بیٹی پر پیسہ لیکراس کی مرضی کے بغیر اسکا نکاح کردیتے ہیں، میری ماں کا بھی یہی نکاح ہوا تھا‘‘۔
میں نے کہا کہ ’’ میں اس پر حرامی کا فتویٰ نہیں لگاتا ہوں البتہ جن خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر پیسہ لیکر بیچا جائے تو ان پر لونڈی کا اطلاق ہوتا ہے۔ میرے دوست مفتی زین العابدین محسود کوٹکئی جنوبی وزیر ستان کے مشہور علماء گھرانہ سے تعلق رکھنے والے نے بتایا کہ ایک محسود لڑکی لاہور ہیرہ منڈی سے میرے کزن نے چھڑائی جس کو اسکے والد نے نکاح کے نام پرکسی کو بیچ دیا تھا اور اس نے پھر چکلے کو بیچا تھا۔ خواتین کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہے کہ والد اور بھائیوں اسکا حق مہر بھی کھا جائیں۔ ایگریمنٹ سے پہلے نکاح کا تصور بھی درست کرنا ہوگا۔ ورنہ کوئی اصلاح نہ ہوگی‘‘۔
محسود ، وزیراور پختون قوم میں ہزاروں خوبیاں ہیں جو کسی اور قوم میں نہیں لیکن جس طرح مشرکینِ مکہ جاہلیت میں بھی بہت سی خوبیوں سے مالامال ہونے کیساتھ ساتھ بہت سی خامیوں اور بے غیرتی والی صفات سے بھی آلودہ تھے ، اسی طرح وزیر ، محسود اور پختونوں میں بہت خامیاں ہیں۔ کسی قوم میں انقلاب برپا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی خامیوں کو دور کرنے اور اچھی صفات کو اجاگر اور مستحکم کرنے کی تحریک چلائی جائے۔ رسول اللہﷺ کی طرف سے قریشِ مکہ اور عرب کی جہالت کو ختم کرنے کی کوشش شروع ہوئی تو وہ لوگ دنیا بھر میں واحد سپر طاقت بن گئے۔ رسول اللہﷺ نے آخری خطبے میں دورِ جاہلیت کے حلف الفضول میں شمولیت کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا ۔ حلف الفضول کیطرح قبائل معاشرتی اقدار قابلِ فخر قرار دیں تو یہ سنت رسول ﷺ کا فطری تقاضہ ہے۔ لیکن اپنی قوم سے ان خامیوں کو دور کرنے کی پُر زور تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے بیٹیاں اور بہنیں بک رہی ہیں اور مائیں لونڈیاں بن رہی ہیں۔ جس دن قبائل نے رسمِ بد کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے تو خواتین کی دعاؤں سے قبائل نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیائے انسانیت پر امامت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونگے۔ بصورت دیگر امریکہ و طالبان داعش یا پاکستانی ریاست کا نیا دور بہت کچھ نیا لیکر آئیگا۔ قبائل خواتین کو حق مہر سے بھی محروم کرنے کی کوشش کرینگے اور اپنی مرضی سے نکاح میں رکاوٹ بنیں گے اور ریاست ان کو تحفظ دیگی جس سے وہ اپنے معاشرتی اقداراور مذہب سمیت سب چیزیں بھول جائیں گے۔ اب تو وردی پر دہشتگردی کا الزام لگانے میں کامیاب ہوگئے ، پھر ملاگردی کا نعرہ بھی لگے گامگر کامیابی پھر بھی نہ ملے گی اورمزید بھی ذلت سے دوچار ہونگے۔
اب تو پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوان گانے گاتے ہیں کہ یہ کسی آزادی ہے۔ ہمارے گھر ویران ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوان قتل ہورہے ہیں ۔گھروں کی تباہی جوانوں کے قتل کے بعد آخری چیز رہ گئی ہے،وہ عزت کی تباہی ہے اور اسکا سامنا بھی کرنا پڑیگا۔ بہن بیٹی کورٹ میرج کرے گی اور بیوی عدالت سے خلع لے گی۔ داعش، امریکہ اور طالبان نے قابو پالیا تو بھی عزتوں کی آزمائش کا سامنا ہی کرنا پڑیگا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے محسود اسٹوڈنٹ نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ہمارے ہاں بہن بیٹیوں کو اسکا حق مہر نہیں دیا جاتا ہے بلکہ بھائی اور باپ اس سے اپنے لئے چیزیں خرید لیتے ہیں‘‘ ۔ ایک مہمند نے بتایا کہ ہمارے ہاں بالکل رضامندی سے رشتہ ناطہ ہوتا ہے، حق مہر کے پیسے کھانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہ مہمند اپنے گاؤں میں ہماری کچھ کتابیں لیکر گیا جن میں حلالہ کے بغیر رجوع کا حکم واضح تھا اور وہاں کے کچھ علماء نے اس کی تائید کی اور کچھ مخالفت پر آمادہ ہوگئے، یہاں تک کہ مارکٹائی بھی آپس میں ہوئی۔ اس کتاب پر وہاں پابندی لگادی گئی۔ ایک شخص نے بیوی کا حلالہ اپنے بھائی سے وہاں کروایا تھا، اس نے کتاب کو پڑھ کر سمجھ لیا تو وہ کہہ رہا تھا کہ میں بھائی، بھابی اور بیوی سے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں رہا ہوں۔ گھر سے مجھے جانا ہوگا یا بھائی کو گھر چھوڑنا ہوگا۔ جو مہمند قبیلہ کتا ب سے اتفاق رکھنے کے باوجود حلالہ کی لعنت کو روکنے پر اتفاق نہ کرسکتا ہو، وہ تو حق مہر کھانے والوں سے بھی زیادہ غیرت سے عاری ہے۔ محسودقوم کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے بغیر بھی رجوع ہوسکتا ہے تو وہ اس پر عمل درآمد روک دینگے۔
پاکستان اسلام کے نام پربنا مگرملاکو اسلام کا پتہ نہ تھا اسلئے انگریز کے قوانین اورقبائلی رسم و رواج سے ہمیں خاص طور پر خواتین کو آج بھی چھٹکارا نہیں مل سکا۔
ملاؤں کی قدامت پسندی اب مستقل مزاجی نہیں بلکہ ڈھیٹ پن میں بدل چکی ۔ مولانا فضل الرحمن جشنِ دیوبند کے نام پر بہت بڑے اجتماع کے پروگرام میں سلیم صافی کے سوال کا جواب دے کہ ’’ تصویر حرام اور قطعی حرام ہے مگر کیمرے کی تصویر کے بارے میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے اور ہم یہ موبائل پر ویڈیو بنانے والے اسی کا فائدہ اٹھارہے ہیں‘‘۔ مولانا اپنی اس حاضر جوابی پر وہ خود بھی دم بخود قہقہ لگاتا ہے اور دوسرے حاضرین بھی داد دیتے ہیں۔ عوام اس ڈھیٹ پن کے ویڈیو کلپ کو شغل کے طور پرایکدوسرے کوبھیجتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء ومفتیان کا تو آوے کا آوا ہی بگڑ چکاہے۔
اتمامِ حجت کے بغیر کسی پر ڈھیٹ پن کا اطلاق نہیں ہوتا اور بفضل تعالیٰ قرآن وسنت کی روشنی سے دینِ فطرت کی فضا عام ہورہی ہے۔ بہت سے علماء ومفتیان کھل کر حمایت کررہے ہیں اور بہت سوں میں ہمت نہیں مگر چھپ کر تائید کررہے ہیں اوروہ دن دور نہیں کہ مدارس ومساجد سے دینِ فطرت کی صدا بلند ہوگی اور پاکستان میں ایک خوشگوار تأثر ابھرے گا۔ فرقہ واریت کا بھوت دفن ہوگا، علماء حق کا بول بالا ہوگا۔ تمام لسانی و مذہبی، سیاسی و عسکری قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر حقائق کی طرف رجوع کریں گی۔ پاکستان سے ابھرنے والا انقلاب اسرائیل وامریکہ اور بھارت سمیت پوری دنیا عرب وعجم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پختون قوم کا اس انقلاب میں بہت ہی بنیادی کردار ہوگا۔ بلوچ، سندھی، مہاجر اور پنجابی سب ہمارے شانہ بشانہ ہونگے۔ جب تک حق اور قانون کا پتہ نہ ہو اسوقت تک فضاؤں میں اندھوں کی طرح لاٹھی گھمانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ علماء نے پاکستان بنانے سے پہلے پاکستان بنانے کے بعد شریعت اور آزادی کی رٹ لگائی مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ بلوچوں نے قوم پرستی کیلئے قربانیاں دیں مگر نتیجہ کچھ برا نکلا۔ مہاجروں نے اقتدار کی سیڑھی تک رسائی بھی حاصل کرلی لیکن ’’بہت تلخ ہیں بندہ مزدور کے اوقات ‘‘ کو نہیں بدل سکے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اسلام سب کیلئے قابل قبول ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ سے ٹیلی پیتھی نہیں مل رہی تھی مگر اسلام کا فطری پیغام ایک حد تک ان کی سمجھ میں آگیا جس کو وہ سمجھنا بھی نہیں چاہ رہے تھے اسلئے کہ قبائلی اقدار پر ان کو فخر تھا اور اسلام انسانی فطرت کی اچھائی کو جگہ دیتا ہے اور برائی کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، اسلام جبر کا دین نہیں بلکہ واضح ہے کہ من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر (جو چاہے مؤمن بنے اور جوچاہے کفر اختیار کرلے)۔اچھا لگے تو یہ عقیدہ اپنالو۔
وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اسلام کا معاشرتی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی ، علاقائی اور بین الاقوامی نظام کو ہمیں بھرپور سمجھنا ہوگا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سب سے اہم مسئلہ پانی کا ہے مگر ارباب اختیار کی توجہ نہیں۔ پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن

pervez-musharraf-kala-bagh-dam-pakistan-kishanganga-dam-inauguration-by-India-violation-jam-kando-bhains-colony-karachi-establishment-of-pakistan
پنجاب میں فیکٹریوں کی آلودہ پانی سے موذی امراض پھیل رہے ہیں۔ پشاور میں کارخانو مارکیٹ کا متعفن پانی حیات آباد جیسے علاقے میں بدترین آلودگی پھیلارہا ہے۔ بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں پانی کا بحران ہے ۔ جنوبی افریقہ کے ترقی یافتہ علاقہ کیپ ٹاؤن میں پانی کی قلت سے ایک بڑا بحران پیدا ہوا۔ پاکستان کے پاس ایک ماہ کا ذخیرہ کرنے سے زیادہ پانی نہیں ۔ سیاست اور حکومت پر قبضہ کرنے کے خواہشمند تاجر اور کھلاڑی قیادت کو احساس نہیں ہے کہ آنیوالے وقت میں پاکستان کھنڈر بن جائیگا۔
عبوری حکومت اپنی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ شامل کرکے پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ نے خواتین کی اضافی نشستیں رکھی ہیں تو آج مذہبی اور سیاسی جماعتیں خواتین کو ٹکٹیں دینے کی بات کر رہی ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں کالا باغ ڈیم بن جاتا تو آج پانی کا مسئلہ پیش نہ ہوتا۔ بھارت بار بار شرارت کی داستان رقم کررہا ہے مگر ہم اتنی ہمت نہیں کرسکتے کہ اسکے پانی کے ڈیم کو ایک میزائل ماردیں۔ پورا پنجاب بھارت نے بنجر کردیا ہے اور کشمیر پر مظالم و غاصبانہ قبضے کے باوجود امریکہ کے ساتھ ملکر پاکستان کیخلاف سازش کررہا ہے۔
ہماری ریاست اتنی کمزور ہے کہ اپنے ہاں بھی ہم ڈیم نہیں بناسکتے۔ کالاباغ ڈیم تمام چھوٹے بڑے ڈیموں کی ماں ہے۔ کالاباغ ڈیم کے بغیر سندھ کو آباد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر اصحاب اقتدار کے پاس دل و دماغ ہوتا اور اس میں قوم و ملک کیلئے مثبت سوچ کی گنجائش ہوتی تو نہ صرف کالاباغ ڈیم بنتا بلکہ اٹک سے ٹھٹھہ تک پورے دریائے سندھ میں ڈیم کی شکل میں پانی جمع کیا جاسکتا تھا۔ سازشی عناصر بلیک میلنگ اور قومی خزانہ لوٹنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ ملک و قوم اور عوام کیلئے کوئی کام نہیں کرتے۔
گاؤں دیہاتوں میں جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی عوام کو ضرورت ہوتی ہے تو چھوٹے چھوٹے نالوں میں بھی پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ تحصیل ، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر بھی دریائے سندھ کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام ہوتا تو طوفانوں کا پانی ضائع ہونے کے بجائے غریب عوام کو کام آتا۔ بڑی حقیقت کو ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بھی ایک لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا ہے۔
کراچی بھینس کالونی موڑ سے آگے نیشنل ہائی وے پر رینجرز کی چوکی سے جام کنڈو کی طرف ایک روڈ جاتا ہے ، جس پر صورتی کمپنی کے قریب ایک پل بنا ہوا ہے ، جسکے نیچے پانی کے بہاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس پل کا مقصد بارش کے پانی کو روکنا تھا۔ اس ذخیرے سے آس پاس کے کنوؤں میں پانی بھر جاتا تھا۔ اب تو سندھ سرکار نے پتہ نہیں کس سے کیا کھایا اور کیا پیا کہ بارش کا پانی بند ہوا ۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے دریا خان تک میلوں کچا علاقہ ہے جس میں خشکی کے دور میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب اور سندھ کے تمام اضلاع میں پانی کے ذخائر بنائے جائیں تو بھی فی الفور اور بڑے پیمانے پرپانی کے بحران سے پاکستان کی بچت ہوسکتی ہے لیکن سیاستدان غل غپاڑے والے کام کرتے ہیں ۔ خود تو منرل واٹر پر گزارہ کرتے ہیں اور غریبوں کی کوئی فکر نہیں رکھتے۔ بال بچے ، گھر بار ، جائیداد اور بینک بیلنس سب ہی دیارِ غیر میں رکھے ہیں یہاں صرف لیڈری چمکانے ہی کی خواہش ہے۔ دھڑلے سے جھوٹ بول کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ آئین کے دفعہ 62، 63میں صادق و امین اوراچھے کردار کی شرط ہے۔ مریم نواز کو اپنے باپ نواز شریف کے سر کی قسم ہو کہ وہ عوام سے مخاطب ہو اور کہے کہ ’’پارلیمنٹ میں نواز شریف سے جھوٹ فرشتوں نے اگلوایا تھا ، نواز شریف کی روح پر خلائی مخلوق کا قبضہ تھا ورنہ اتنی بیوقوف اور پاگل تو میں بھی نہیں تھی کہ سرِ عام اس طرح اپنی جائیدادوں کا اعترافِ جرم کرتی‘‘ ۔
عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ عدالتوں سے اس نے نواز شریف کو نا اہل کروادیا۔ ساتھ ساتھ جہانگیر ترین بھی نا اہل ہوا ہے اور اگر کسی نے سیتا وائٹ کا کیس لاکر عمران خان کو چیلنج کردیا تو عمران خان بھی نا اہل ہوگا۔ یہ نا اہلی کی تلوار نواز شریف ، جہانگیر ترین کے بعد عمران خان اور پتہ نہیں کس کس کے اوپر چل سکتی ہے اور چلنی چاہیے۔ آنیوالے وقت میں عدلیہ نے سب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر یکساں سلوک کرنا ہے۔ عمران خان نے پختونخواہ میں چیف منسٹر کیلئے منظور آفریدی کی منظوری اسلئے دی تھی کہ وہ ایوب آفریدی کے بھائی ہیں جس نے حال ہی میں سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف کو خرید لیا تھا۔ جب عمران خان کو پتہ چلا کہ منظور آفریدی کی تصویر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بھی ہے تو اسکو مسترد کردیا۔ یہ کونسا اخلاقی پیمانہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے عمران خان سے منظور آفریدی کی ملاقات کرانے میں شرم محسوس نہیں کی گئی؟۔
غیر جانبدار الیکشن کیلئے ایسے افراد کا انتخاب ضروری ہوتا ہے کہ ان کو پتہ بھی نہ ہو اور فریقین اس پر اعتماد کرلیں لیکن پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ جب آئین میں یہ لکھا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ دونوں کا اتفاق ضروری ہے تو پھر پارٹی قیادت کا اس میں کردار بالکل آئین کے منافی ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ جس طرح الطاف حسین کی قیادت کو متحدہ قومی موومنٹ سے الگ کردیا گیا اسی طرح دیگر قیادتیں بھی پارٹیوں پر اختیار کھودیتیں ۔ جمہوریت کا بنیادی تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ قائد کوئی ڈکٹیٹر نہ ہو ، جبکہ یہاں قیادتوں کی ڈکٹیٹر شپ ہی کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی مذمت اسلئے کی کہ جس طرح شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے حکم کا ایک ادنیٰ غلام ہے اسی طرح صادق سنجرانی کو بھی ہونا چاہیے۔
جمہوریت کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ پارٹی پر قیادت کا راج نہ ہو بلکہ کارکنوں اور رہنماؤں کا راج چلے۔ مغرب کی جمہوریت میں عوام اور پارٹی کے کارکنوں و رہنماؤں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہاں ذو الفقار علی بھٹو کے لے پالک، جنرل ضیاء الحق کے گودی بچے اور ایمپائر کی تلاش میں اپنی دُم سر پر باندھ کر یہ دکھانے والے کہ خفیہ ہاتھ ہمارے ساتھ ہے اپنی کٹھ پتلی قیادت کا ایک تماشہ ہیں۔
پاکستان کی ریاست سول و ملٹری بیوروکریسی کا فرض بنتا ہے کہ پانی کے معاملے کو سنجیدہ لیں ۔ کشمیر کی آزادی کا تمغہ سیاسی بیانات سے حاصل نہ ہوگا۔ جب مذہبی بنیاد پر ہم اپنے ہاں ایک معاشرتی تبدیلی لائیں گے تو بھارت کو نہ صرف کشمیر سے دستبردار ہونا ہوگا بلکہ بھارت کے تمام مسلمانوں میں بھی بیداری کی لہر دوڑے گی اور ہندو اپنے مذہب کی صداقت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگا۔
اسلام جبر و اکراہ کا مذہب نہیں بلکہ ایک فطری دین ہے۔ ذات پات ، قوم و نسل ، رنگ زبان اور ہرطرح کے تعصبات سے ماورا ہے۔ پاکستان کی بقاء اسلام میں ہے اور بھارت کی بقاء سیکولر ازم میں ہے ۔ ہمارا مثبت رویہ ہی ہماری بقاء کی ضمانت ہے۔ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے تباہی کا منصوبہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا فضل فرمائیگا۔ اسلام کے خدو خال خاندانی وموروثی سیاسی و مذہبی قیادتوں نے تباہ کئے ہیں۔ جہاں کہیں سے بھی روشنی کی کرنیں میسر ہوں ان کو جلد سے جلد عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب، بلوچستان پختونخواہ، سندھ ، کراچی ، کشمیر ، گلگت و بلتستان اور افغانستان کے عوام میں ایمان کی شمع روشن کرنے کی دیر ہے اور اس کیلئے سب سے بڑا ذریعہ قرآن و سنت ہے۔ علم کے ذریعے سے اپنا دین زندہ ہوگا اور دین زندہ ہونے سے ہمارے ایمان کی بھی آبیاری ہوگی۔ جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے ذریعے ملک میں امن قائم کیا اور فوج نے پہلے سب سے بڑی غلطی یہ کی تھی کہ نواز شریف کو جنم دیا تھا۔ اب اس کا ازالہ بھی فوج کا کام ہے۔