پوسٹ تلاش کریں

اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہونے کے زبردست دلائل: اداریہ

maulana-yousuf-ludhianvi-mufti-naeem-talaq-halala-haji-usman-pakistan-flag-k-electric-islamic-revolution-islam-ajnabi-tha-khatoon-ki-faryad-fatwa

استاذ مفتی محمد نعیم مدظلہ العالی جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ ’’ ایک خاتون صحافی اپنے شوہر کیساتھ آئی تھیں، اس نے کہا کہ مجھے شوہر نے ایک ساتھ تین طلاق دئیے۔ پھر ہماری صلح ہوگئی اور دارالعلوم کراچی نے فتویٰ دیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ اب مفتی صاحب آپ بتائیں کہ میں کس طرح ایک غیر آدمی سے ایک رات کیلئے نکاح کرکے اپنی شلوار نکال کر لیٹ سکتی ہوں کہ مجھے اپنے شوہر کیلئے حلال کردو۔ جب اس نے یہ بات کہی تو میں شرم کے مارے پانی پانی ہوگیا کہ یہ کتنی عجیب آزمائش ہے۔ واقعی اگر سوچا جائے کہ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کیساتھ یہ ہو تو کیا حال ہوگا؟‘‘۔
یہ تو محض الفاظ کی مار ہے، حلالے پردنیا میں جو ہورہا ہے۔ دنیا کی اقوام، مذاہب اور ممالک ہمیں حیرت میں دیکھتے ہیں۔کیا قرآنی آیت پردل وجان سے ایمان کی یہ کیفیت بن سکتی ہے؟۔ جس کو صورتحال کا سامنا ہو تو وہ کہے گا کہ ہمارے اجداد مسلمان نہ بنتے تو اچھا ہوتا۔ گائے کا پیشاب پینے سے زیادہ مشکل یہ ہے جسکا روز کسی حواء کی بیٹی کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے ضمیرکو جگانا پڑیگا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ ایمان کے اعتبار سے عجیب مخلوق کون ہیں؟۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ملائکہ!۔ نبیؐ نے فرمایا کہ انکاایمان عجیب کیوں، وہ تو سب کچھ مشاہدہ کرتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر انبیاء کا، نبیﷺ نے فرمایا: انبیاء کا ایمان عجیب کیسے ہوگا، ان پر وحی نازل ہوتی ہے تو صحابہؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا: تمہارا ایمان کیسے عجیب ہوگا ، جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر ہم نہیں جانتے۔ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو علم ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے عجیب لوگ وہ ہونگے کہ جن کے پاس قرآن کے الفاظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر بھی انکا ایمان قرآن کی آیات پر تمہارے جیسا ہی ہوگا۔ ایک کو50 کا اجر ملے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ہم میں 50 یا ان میں سے؟۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بلکہ تم میں سے 50 افراد کے برابر اجر ان کو ملے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ لوگوں پر ایک زمانہ آئیگا، جس میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائیگا، قرآن کے صرف الفاظ باقی رہیں گے، مساجد لوگوں سے بھری لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے، ان سے فتنہ نکلے گا اور ان میں لوٹ جائیگا‘‘۔(عصرحاضر : مولانایوسف لدھیانوی)
اللہ نے فرمایا: ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وبای ارض تموت ’’بیشک اللہ کے پاس وقت کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے، وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نہیں جانتاکہ کل کیا حاصل کریگا اور کونسی زمین پر مرے گا‘‘۔
نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ پانچ چیزیں غیب کی چابیاں ہیں‘‘۔ پڑھالکھا طبقہ سمجھتا ہے کہ آئین سٹائن کے نظریہ اضافیت نے قرآنی عقائد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مصنوعی بارش اور بارش کب برسے گی ؟،کے بارے میں قدامت پسند علماء کا عقیدہ خراب ہوا ۔ الٹراساونڈ نے ماں کے رحم میں بچے کی مکمل معلومات کو عام کردیاہے۔ مذہبی طبقات سمجھتے ہیں کہ عقیدہ خراب نہ ہوجائے اسلئے گدھوں کی طرح وقت کے سائنسی تجربات سے حادثات کی طرح آنکھیں بند کرلو۔
ابن عباسؓ نے کہا: ’’ قرآن کی تفسیرزمانہ کریگا‘‘۔ سورہ معارج میں اللہ نے فرمایا: فرشتوں اور روح کے چڑھنے کے دن کی مقدار 50 ہزار سال ہے۔ رسول اللہﷺ نے معراج میں مشاہدہ کیا۔ آئین سٹائن نے نظریہ اضافیت سے ریاضی کی بنیاد پر اس کی تصدیق کردی ۔ موٹی عقل والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وقت کا علم غیب کی چابی ہے۔ دن رات سے پتہ چلا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے، ماہ وسال سے سورج کے گرد زمین اور سورج چاند گرہن وغیرہ کے علم کا دروازہ کھلا ۔ بارش برسنے میں آسمانی بجلی ، آگ اور اولے برستے ہیں، بجلی کی تسخیر الیکٹرک کی دنیا میں نت نئی ایجادات غیبی چابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رحموں کا علم بھی غیب کی چابی ہے، فارمی حیوانات و فارمی نباتات سے نئی دنیا آباد ہے، جمادات میں ایٹمی ایجاد اورالیکٹرانک کی دنیا اسکامنہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلمانوں کا حال تو ان سست لوگوں کے لطیفے سے بدتر ہوگیا کہ ایک نے گھوڑ سوار سے کہا کہ اللہ واسطے، یہ بیر منہ میں ڈال دو، ساتھ میں پڑا ہوا دوسرا کاہل کہہ رہا تھا کہ نہیں ،اسکے منہ میں بیر بالکل نہ ڈالو، کل کتا میرے منہ پر پیشاب کررہا تھا تو یہ کتے کوزبان سے بھی نہیں روک رہا تھا۔ اس لطیفے سے بدترآج مسلم اُمہ کا حال ہے۔
ہم جان لڑاکر قرآن سمجھاتے ہیں کہ حلالہ نہیں مگر بعض لوگ پھر بھی مولویوں سے فتویٰ لیکر اپنی عزتوں کو لٹواتے ہیں۔مذہب کے نام پر غلط روش نے قرآن کی آیات سے مسلمانوں کا ایمان متزلزل کردیاہے اور الحمدللہ رب العالمین کہ ایک جماعت ایسی وجود میں آگئی ہے جو علم ، ایمان اور دین کو ثریا سے لاکر زمین میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرچکی ہے۔دین، ایمان اور علم سے انقلاب آئیگا۔
آج بھی رسم ہے کہ لڑکی نے شادی سے انکار کیاتو قتل کی گئی، منگیتر نے نکاح سے انکار کیااور قتل کی گئی، شوہر کیساتھ عورت نہیں رہناچاہ رہی تھی اور قتل کی گئی، شوہر نے طلاق دی ، دوسری عورت سے نکاح کیا اور طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اور قتل کی گئی۔ بے غیرتی کو غیرت کا نام دیکر معاشرے سے دین کو نکال دیا گیا ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے۔ سردار سعد بن عبادہؓ نے کہا: میں قرآن کے حکم لعان پر عمل نہ کرونگابلکہ قتل کرونگا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی تو کہنے لگے کہ یارسول اللہ، یہ بڑی غیرت والا ہے، کبھی کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح نہ کیابلکہ کنواری سے کیا اور طلاق دی تو کسی اور سے نکاح نہ کرنے دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرتمند ہے۔ (بخاری) عالم اسلام میں بات پھیل گئی کہ سردار صحابہؓ نے بھی اپنی غیرت کو نہ چھوڑا، نبیﷺ نے بھی تائیدکی۔ غلط تشریح نے غیرت کے نام بیوی کو گھر سے نکلنے یا نکالنے کے بجائے قتل کرنے کی رسم برقرار رکھی۔ جوغیرتمند اللہ کی بات نہیں مان رہا تھا،وہ اتنا بے غیرت بنا کہ نارمل ماحول میں حلالہ کیلئے خود بیگم مولوی کے کہنے پر پیش کی۔ معاشرے سے تضاد ختم ہوگا تو دین کا ڈھانچہ ایمان کی روح سے زندہ ہوگا۔ صحیح علم سے ایمان اور دین کا رشتہ جوڑیں جس سے شدت پسندی، بے راہروی،جہالت، دہشتگردی اور گمراہی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ، شیخ الہند محمود الحسنؒ ، مولانا الیاسؒ اور حاجی عثمانؒ کا مشن فرقہ پرستی، مسلکی تعصب ،گروہ بندی اور جماعت پرستی نہ تھابلکہ حقیقی اسلام اور قرآن کی طرف دنیا کو دعوت دیناتھا۔ دارالعلوم دیوبند انڈیا میں پاکستانی جھنڈا جلاکر شرمناک نعرہ لگایا گیا ، یہ مذہبی طبقہ اچھوت ہندؤں سے بدتر ہے ۔ حدیث کی پیشگوئی دیکھ لیں کہ مساجد کے امام بدترین مخلوق ہونگے۔ سید عتیق گیلانی

حضرت عمرؓ اور عمارؓ کے عمل پر بنیﷺ کی سیرت مبارکہ. اداریہ

maulana-ilyas-qadri-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafi-tablighi-jamaat-dawateislami-gusul-ka-tarika-haji-imdadullah-muhajir-makki

حضرت عمرؓ نے سفر میں جنابت کی وجہ سے نماز چھوڑ ی اور نبیﷺ کو بتادیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’آپ نے ٹھیک کیا ‘‘۔ حضرت عمارؓ نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکرتیمم کیا اور نبیﷺ کو بتادیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلیتے‘‘۔ حضرت عمرؓ کا عمل قرآن کے مطابق تھااسلئے نبیﷺ نے تصدیق کی اور حضرت عمارؓ نے قرآنی حکم سے تجاوز کیا اسلئے آپؓ کی درستگی بھی فرمادی۔ قرآن میں وضو و جنابت کیلئے تیمم کا ایک حکم ہے۔ حضرت عمارؓ نے سمجھا کہ وضو کے مقابلے میں غسل کیلئے مٹی میں لوٹ پوٹ ہونا دین کا تقاضہ یا مبالغہ ہے۔ حالانکہ یہ غلو تھا اور اہل کتاب کو بھی اللہ نے دین میں غلو سے منع کیا تھا لیکن آج مسلم اُمہ ہر معاملے میں گدھے کی طرح لوٹ پوٹ ہوکر مٹی میں رگڑ کھا رہی ہے اور اتنی لت پت ہے کہ اس کی اپنی اصل پہچان بھی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔
قرآن وسنت سے تجاوز کا راستہ روکنا ہوگا۔ ابوموسیٰ اشعریؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کے درمیان بخاری میں حضرت عمرؓ اور عمارؓ کے واقعے پر مناظرہ نقل کیا گیا، قرآن وسنت میں دونوں کی اجازت ہے تو اختلاف کو ہوادینا غلط ہے جبکہ بعض لوگوں کا مزاج ایسا ہوتا ہے جیسے حضرت عمرؓ نے جنابت میں تیمم سے نماز نہ پڑھی، پاک و ستھرے انداز میں اللہ کی عبادت سے کس کو انکار ہوسکتا ہے لیکن بعض کی طبیعت ہوتی ہے کہ ہر حالت میں نماز قضاء کرنے کا تصورنہیں رکھتے اور ان کیلئے جنابت میں قرآن نے سفر میں تیمم سے نماز پڑھنے کی اجازت واضح کردی ۔
نبی کریم ﷺ سے ایک نے عرض کیا کہ رات کو غسل واجب ہوا، پانی ٹھنڈا تھا اور صبح کی نماز تیمم سے پڑھ لی ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اچھا کیا۔ دوسرے نے کہا کہ رات کو غسل واجب ہوا، پانی ٹھنڈا تھا، تیمم سے نماز دل نہیں مان رہا تھا تو نماز قضاء کرلی اور دن چڑھنے کے بعد پانی گرم کیا ،غسل کیا اور پھر نماز پڑھ لی ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اچھا کیا ۔ صحابیؓپر سفر میں غسل واجب ہوا، پانی ٹھنڈا تھا، وہ نہانا نہ چاہتا تھا۔ صحابہؓ نے کہا کہ ’’ اللہ نے فرمایا کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرو‘‘۔ پانی ٹھنڈا ہے تو کیا ہوا،غسل کے بغیر نماز نہ ہوگی۔ اس نے نہایا تو بیمار ہوا اور فوت ہوگیا، نبیﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ اللہ تمہیں ہلاک کردے، تم نے اس کو مار ڈالا ۔ دعوت اسلامی کے مولانا الیاس قادری کا کتابچہ ’’ غسل کا طریقہ‘‘ ہے، اس میں امام غزالی ؒ کے حوالہ سے جاہل کا قصہ ہے کہ ’’ اگر نفس غسل میں سستی کا سوچے تو سزا کے طور پر ٹھنڈی رات میں ٹھنڈے پانی سے کپڑوں سمیت نہالو اور پھرپوری رات اس میں سوجاؤ‘‘۔ دعوت اسلامی کی اس ترغیب نے کتنے جاہلوں کو ٹھنڈا کیا ہوگا؟۔ حالانکہ نبیﷺ بسا اوقات حالتِ جنابت میں صرف وضو کرکے رات کو سوجایا کرتے تھے۔ جاہلوں کی دسترس میں جاہل جہالتوں سے کھیل رہے ہیں۔
وضو میں حکم ہے کہ وامسحوا برؤسکم ’’ اور سروں کا مسح کرو‘‘۔ اس میں ’’ب‘‘ کے حرف سے اختلافات پیدا ہوگئے۔ اسکے کئی معانی ہیں۔ الصاق کے معنی ہاتھ لگانے کے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ب یہاں الصاق کے معنی میں ہے یعنی ہاتھ لگانا۔ ہاتھ سر کے چوتھائی کے برابر ہے اسلئے چوتھائی سر کامسح فرض ہے۔ امام شافعیؒ کے ہاں بعض کے معنی میں ہے اسلئے ایک بال کا مسح بھی کافی ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک ب زائدہ ہے ،پورے سر کا مسح فرض ہے ،اگر ایک بال رہ گیا توفرض پورا نہ ہوگا۔ فرائض اوراس اختلاف کی اہمیت کتنی ہے؟۔
اللہ نے پانی نہ ملنے کی صورت میں چہروں پر مسح کا حکم دیا ہے، وامسحوا بوجوھکم ’’ اور مسح کرو اپنے چہروں کا ‘‘ ۔ ب کا ذکر ہے مگر تیمم میں چہروں پر مسح کے فرائض اور اختلافات کی گنجائش نہیں۔ ایک چوتھائی، بال برابر وغیرہ ۔ ایک عام آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ جب ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا جائے ،چہرے کو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا جائے تو اللہ کا حکم نہ ہوتا توبھی آدمیوں کے گیلے ہاتھ اپنے سروں پرپھیرنے کیلئے خود بخودہی اُٹھ جاتے۔ علماء وطلبہ اور مذہبی طبقات کو ان مشقتوں سے نکالنے کی کوشش کارگر ہوگی تو ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئیگا۔
اجتہادبیوقوفی کا بدترین نمونہ ہے توپھر تقلید کیاہوگی ؟۔ اللہ معاف کرے۔ اچھے اچھے کہتے ہیں کہ تقلیدکا اگر قلادہ گلے سے نکل گیا تو بہت دور کی گمراہی میں پڑینگے۔ ارے، تم نے گمراہی سر مول لینے کی کوئی کسر چھوڑی ؟۔ رسول اللہﷺ آخرت میں اللہ کی بارگاہ میں شکایت فرمائیں گے : وقال الرسول یا ربّ ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مھجورا ’’ اور رسول(ﷺ) کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ دعوتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت کے جاہل روروکر بے حال ہوجاتے ہیں مگرقرآن کے احکام کیلئے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ انہوں نے عیش وعشرت کیلئے نئے طرزِ عمل کی سنت ایجاد کررکھی ہے۔ شیطان ان کو دنیا میں رُلاتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی انسے یہ کہا جائیگا کہ فلیضحکوا قلیلا والیبکوا کثیرا ’’ کم ہنسو اور زیادہ رؤو‘‘۔ کیونکہ یہاں جس طرح کا ناٹک کیا جاتا ہے ، آخرت میں بھی اسکے مستحق ہیں۔
علماء ومفتیان طلاق سے رجوع کا مسئلہ سمجھ چکے ہیں مگرتبلیغی جماعت و دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی عزتوں سے حلالہ کے نام پر کھیلتے ہیں۔ علماء ومفتیان ان سے کہتے ہیں کہ ’’قرآن کی طرف نہ دیکھو۔ اجتہادی فیصلہ ہوچکا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوتی ہیں، رجوع کی گنجائش نہیں، حلالہ کے بغیر چارہ نہیں‘‘ ۔حالانکہ قرآن میں عدت کے اندر اصلاح کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے اور قرآن میں تضاد ممکن نہیں کہ عدت میں صلح کی شرط پر گنجائش بھی دے اور پھر صلح کی شرط کے باوجود عدت میں رجوع پر بھی پابندی لگادے۔ قرآن وسنت اور فطرت وعقل کی دھجیاں بکھیرنے والے غلط فقہی معاشرتی مسائل کا اسلامی دنیا سے جنازہ نہ نکالا جائے تو مسلمان کبھی بھی ترقی ، عروج اور خلافت کی منزل نہیں پاسکتے ہیں۔حلالہ کے خلاف ہم نے کوئی ایسا اجتہاد نہیں کیا جیسے سود کے جواز کیلئے علماء نے کیا ہے۔
حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ ایک ایسی شخصیت تھی جن کو دیوبندی بریلوی اکابر مانتے تھے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے درسِ نظامی سے بڑے شاگرد پیدا کئے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا انورشاہ کشمیریؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا الیاسؒ ، مفتی کفایت اللہؒ ، مولانا شبیراحمد عثمانیؒ ، وغیرہ مگر مالٹا سے رہائی کے بعد قرآن کی طرف رجوع کی فکر دامن گیر ہوئی۔ مولانا سندھیؒ نے مشن پر کام کیا، مولانا کشمیریؒ نے آخر میں کہاکہ زندگی مسلک کی وکالت میں ضائع کی۔ مولانا الیاسؒ نے مدارس سے ہٹ کر جماعت بنائی، مولانا تھانویؒ نے شیخ الہندؒ کے کشف پر اعتماد کرکے کہا خراسان کے مہدی نے معاملہ کرنا ہے۔

جواسلامی اجتہادات پہلے کئے گئے وہ بھی ناگفتہ ہیں! اداریہ

shah-waliullah-bahar-e-shariat-ahmed-raza-khan-barelvi-hussam-ul-haramain-al-muhannad-alal- mafannad-shah-waliullah-ahraf-ali-thanwi-prophet-noor-or-bashar-tablighi-jamaat-dawateislami-ghusal-ka-tariqa

لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں اجتہاد کا دروازہ بند ہے یا نہیں؟۔ شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے لکھا کہ ’’ خیر القرون کا زمانہ تیسری صدی ہجری تک تھا۔ چوتھی صدی ہجری میں تقلید کی عملی بدعت آئی۔ جس کو ختم کرنا ہوگا‘‘۔ اکابرِ دیوبند شاہ اسماعیل شہیدؒ کے حامی تھے مگر مولانا احمد رضا بریلویؒ نے ’’ حسام الحرمین‘‘ فتویٰ شائع کیا تو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ ’’ المہند علی المفند‘‘ کے نام سے خود کو حنفی مقلد اور تمام مسالک کو برحق، اسی طرح تمام سلاسل تصوف کو برحق اور خود کو چشتی مشرب سے تعلق رکھنے والا قرار دیا۔ علامہ یوسف بنوریؒ نے ایک طرف ’’بدعت کی حقیقت: مصنف شاہ اسماعیل شہید‘‘ پر تقریظ لکھ دی اور دوسری طرف مولانا یوسف بنوریؒ کے والد مولانا زکریا بنوریؒ نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کو حنفی مسلک بچانے کا ہندوستان میں سب سے بڑا کریڈٹ دیا۔ یہ تضادات تدریس سے سمجھا ئے جاسکتے ہیں۔ المہند علی المفند عربی کتاب پر اکابر دیوبندؒ کے دستخط تھے۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کو عملی بدعت قرار دیکر واضح کیا کہ عقیدے کی بدعت اور عملی بدعت میں فرق ہے، عقیدے کا منافق کافر اور عمل کا منافق مسلمان ہوتا ہے جس میں تین علامات پائی جاتی ہیں۔ جھوٹ ، وعدہ خلافی اور گالی بکنا۔ حدیث میں اسے منافق قرار دیا گیا، عملی منافق کے ساتھ رشتہ داری، معاشرتی معاملات اور اسکا جنازہ پڑھنا وغیرہ جائز ہے لیکن عقیدے کا منافق کافر ہے اوراسکے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ بالکل جائز نہیں ۔
المہند علی المفند پر علماء دیوبند کے سابقہ اکابرینؒ کے دستخط تھے، انہوں نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب سے مکمل طور پر برأت کا اعلان کیا اور جسے عملی بدعت قرار دیا، اس میں خود کو ملوث قرار دیدیا۔ اس وقت شریفِ مکہ کی حکومت تھی اور حرمین شریفین کے ائمہ مقلد تھے اسلئے مولانا احمد رضا بریلویؒ کے فتویٰ ’’ حسام الحرمین‘‘ نے اپنا کام دکھا دیا ۔ کافی عرصہ بعد دوسرے درجے کے اکابر دیوبند نے المہند علی المفند کا اردو ترجمہ کرکے دستخط کئے اور ’’ عقائد علماء دیوبند‘‘ کا نام دیا۔ گویا جس کو شاہ اسماعیل شہیدؒ نے عملی بدعت قرار دیا تھا تو اس سے ایک طبق مزید بڑھ کراپنا عقیدہ بھی قرار دے دیا تھا۔ گوجرانوالہ کے بریلوی مفتی مجددی نے مجھ سے کہا کہ ’’ بریلوی قبر پرست ہیں اور دیوبندی اکابرپرست ہیں‘‘۔
عام طور پر یہ سمجھا جارہاہے کہ بریلوی نبی کریم ﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں اور دیوبندی نبی کریم ﷺ کے نور ہونے کے منکر ہیں ۔ حالانکہ دونوں الزام غلط اور عبث ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کی سب سے مشہور کتاب ’’ بہار شریعت‘‘ ہے اور اس میں بنیادی عقیدہ لکھا ہے کہ ’’ انبیاء کرامؑ بشر ہوتے ہیں‘‘۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب ’’ نشر طیب فی ذکر حبیبﷺ‘‘ میں پہلا فصل نبیﷺ کے نور کے حوالہ سے لکھا ہے کہ’’ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے نور کو اپنے نور (فیض ) سے پیدا کیا ‘‘۔ (حدیث)بالکل فضول کی فرقہ واریت ہے۔
تقلید اجتہاد کی ہوتی ہے۔ اللہ نے اپنادین رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ میں مکمل فرمایا۔ صحابہ کرامؓ اور مدینہ کے سات فقہاء ؒ میں غسل اور نماز وغیرہ کے فرائض اور ان پر اختلاف کا کوئی تصور نہ تھا۔کیا ائمہ اربعہ کو اجازت تھی کہ غسل ، وضو اور نماز میں فرائض ایجاد کرکے ان پر اختلافات کی ایک عظیم المرتبت بلڈنگ کھڑی کردیں؟۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے بزرگ ، ادھیڑ عمر، جوان اور بچے مرے جارہے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے کو ان فرائض، واجبات، سنن، مستحبات اور آداب سے آگاہ کریں جو اسلام کی اصل ،جڑ اوربہترین بنیاد ہیں۔
علماء کتابیں پڑھ کر بھول جاتے ہیں کہ کس چیز میں کیا فرائض، کیا اختلافات ہیں۔ البتہ تبلیغی جماعت یا دعوتِ اسلامی کے علماء جاہلوں سے تکرار کی وجہ سے ان فرائض، واجبات، سنن، مستحبات اور آداب کو خوب یاد رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ ان جماعتوں میں وقت لگانے کی افادیت کو بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ نماز کے قریب نہ جاؤ، جب تم نشے کی حالت میں ہو، یہانتک کہ تم سمجھو، جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں نماز کے قریب جاؤ مگر یہ کہ کوئی مسافر یہانتک کہ تم نہالو‘‘۔ اس آیت سے حالت جنابت سے نہانا ضروری قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہانے کا کوئی خصوصی طریقہ نہیں بتایا بلکہ جس طرح اسلام سے پہلے لوگ نہاتے تھے ، اسی طرح نہانے کا حکم دیا۔ نہانا مشرک، یہودی، عیسائی اور دنیا کے تمام انسان سمجھتے ہیں بلکہ جانور، پرندے اور جاندار چیزیں بھی نہانا جانتے ہیں۔ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا کہ’’ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہوجاؤ، تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور مسح کرو اپنے سروں کا اور اپنے پاؤں کو (دھولو) اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پھر اچھی طرح سے پاکی حاصل کرلو‘‘۔ اچھی طرح پاکی حاصل کرنا کے معانی صحابہ کرامؓ نے نبیﷺ سے معلوم کرنے کی ضرورت اسلئے محسوس نہیں کی کہ وضو کے مقابلے میں نہانا اچھی طرح پاکی حاصل کرنا تھا، یہ گزشتہ آیت سے معلوم تھا۔
امام ابوحنیفہؒ نے غسل کے تین فرائض دریافت کئے۔1: کلی کرنا۔2: ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا۔3: پورے جسم پر ایک بار پانی بہانا۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو کی طرح غسل میں بھی فرض نہیں ۔ تین فرائض میں سے پہلے دوفرائض پر اتفاق نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وضو کے مقابلے میں غسل میں مبالغہ ہے اسلئے ناک اور منہ پانی ڈالنا غسل میں فرض ہے تاکہ اچھی طہارت کے حکم پر عمل ہوجائے۔ رہ گیا تیسرا فرض کہ پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہایا جائے۔ تو امام مالکؒ کے نزدیک اس سے فرض ادا نہ ہوگا، جب تک کہ مَل مَل کر پورے جسم کو نہ دھویا جائے۔ ایک فرض پر بھی ائمہ کرام کا اتفاق نہ تھا اور خود ساختہ فرائض کی کوئی ضرورت اسلئے نہیں تھی کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں ایسی مغزماری کا وجود نہیں تھا۔لایعنی مسائل کو فرائض کا نام دینا غلط ہے۔
نشہ کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے روکا گیا، نماز میں سورۂ فاتحہ، سورتیں، تسبیحات، التحیات، دورد شریف اور دعا کے معانی سمجھنے ہونگے اسلئے کہ سمجھے بغیر کی نماز پر نشے کی حالت کا اطلاق ہوتا ہے۔ سات سال سے ستر سال کی عمر تک پابندی سے پانچ وقت کی کئی رکعتوں میں بار بار دھرائے جانے والے الفاظ کے معانی نہ آئے تو ویسے بھی قابلِ افسوس ہے۔ ہندو جن بتوں سے مانگتے ہیں ، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ نہیں سنتے لیکن وہ بتوں سے اپنی ضروریات مانگتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کیا مانگ رہے ہیں، ہمارا المیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ ہے کہ وہ سنتا اور سمجھتا ہے، سمیع و علیم ہے مگر ہم خود نہیں سمجھتے ہیں کہ سمیع و علیم سے ہم کیاکیا مانگتے ہیں؟،کیاکیا کہتے ہیں؟۔مسلمان و ہندو کا معاملہ برابرہے۔
آیت میں اللہ نے نشے میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا اور پھر جنابت کی حالت میں بھی منع کیا مگر مسافر کو مستثنیٰ قرار دیا یہاں تک کہ نہالیا جائے۔ اس آیت کا واضح مطلب یہ ہے کہ نماز سمجھ کر پڑھی جائے اور جب جنابت کی حالت ہو تو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں مگر مسافر کو یہانتک کہ نہالیا جائے۔ یعنی مسافر کو نہائے بغیر تیمم کیساتھ بھی نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے۔ کیونکہ جنابت میں نماز پڑھنے سے منع ہے مگر مسافر کو صرف اجازت ہے۔ حکم اور اجازت میں واضح فرق ہے جواس جملے سے سمجھ میں آتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر باغ سے پھل کھانے کو منع کیا جائے اور پھر کسی مخصوص فرد کو اجازت دی جائے تو اس پر پھل کھانے کے حکم کا نہیں بلکہ اجازت کا اطلاق ہوتا ہے۔

تین طلاق کے موضوع پر مفتی ریاض حسین کی جواب الجواب طلب تحریر پر الجواب از عتیق گیلانی

pir-roshan-baba-kaniguram-south-waziristan-talaq-in-quran-nabi-noor-or-bashar-ghulam-ahmad-pervez-fatwa-fiqhi-maqalat-peshab-se-surah-fatiha-likhna-haji-usman-allama-ghulam-rasool-saeedi

مفتی ریاض حسین صاحب
مفتی دارالعلوم قادریہ رضویہ ملیر سعود آباد کراچی
کی طرف سے مزید جواب الجواب طلب تحریر

جناب عتیق الرحمن صاحب ! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیت230البقرہ کی جو وضاحت آپ کی طرف سے شائع کی گئی ہے وہ غلط ہے۔ اس آیت کی درست تشریح وہ ہے جو قرآن پاک کے تراجم کنزالایمان مع نور العرفان میں ہے اور دیوبند کے شیخ الاسلام مولانا شبیر عثمانی کی تفسیر میں ہے اور شاہ فہد اٰل سعود کی طرف سے حاجی صاحبان کو جوقرآن پاک بطورِ ہدیہ حاجی صاحبان کو پیش کیا جاتا ہے، ان سب کے اندر اس آیت230کے متعلق ایک جیسی تفسیر ہے۔ اس مسئلے میں بریلوی،دیوبندی ،اہلحدیث سب متفق ہیں کہ تین طلاق کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے۔ ایک آپ ہیں کہ اس متفق علیہ مسئلہ کو نہیں مانتے۔ آپ نے ایک غلط مسئلہ بیان کیا جو کہ قرآن پاک کی صریح اور واضح آیت کے خلاف ہے اور ابھی تک اس پر اڑے ہوئے ہیں اور غلط تشریح کر رہے ہیں، میں دوبارہ آپ سے کہوں گا کہ آپ کا مؤقف غلط ہے۔آپ اس سے توبہ کریں۔ آیت230کی وہی تشریح شائع کریں جو علماء کرام نے بیان کی ہے۔
پیارے بھائی میرا فرض تھا، میں نے آپ کی غلطی کی نشاندہی کردی۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہے گا،اللہ تعالیٰ ہدایت عطاء فرمائیگا۔ آپ کی خدمت میں ایک حدیث پیش کررہا ہوں۔
عن مجاہد قال کنت عند ابن عباسؓ فجاہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثا ،قال فسکت حتی طننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس وان اللہ قالمن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاعصیت ربک وانت منک امرأتک ،سنن أبی داؤد، کتاب الطلاق باب بقےۃ نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث
مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں،یہ سن کر وہ خاموش رہے، یہانتک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ اس کی بیوی لوٹادیں گے، پھر ابن عباسؓ نے فرمایا: تم میں جو احمق ہوجاتا ہے،پھر چیختا ہے ،اے ابن عباس ! اے ابن عباس(اب ابن عباس کیا کرے؟)بے شک ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے تواللہ اس کیلئے نجات کی راہ نکال دیتا ہے اور تم ڈرے نہیں، تو تمہارے لئے مجھے کوئی راستہ نہیں سوجھتا، تم نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی،(تین طلاق ایک ساتھ دیکر) اور تم سے تمہاری عورت جدا ہوگئی۔(سنن ابی ابوداؤد)
ان رکانۃ ابن عبدیزید طلق امرأتہ سھیمۃ البتہ فأخبرالنبیﷺ بذالک الا واحدۃ فقال رسول اللہ ﷺ: وللہ ما اردت الا واحدۃ فقال رکانۃ : واللہ مارادت الا واحدۃ فردھا الیہ رسول اللہﷺ فطقہا الثانیۃ فی زمان عمروالثالۃ فی زمان عثمان ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتۃ
بیشک رکانہ ابن عبد یزیدنے اپنی بیوی سھیمہ کو طلاق البتہ دی، رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا،اور حضرت رکانہؓ نے کہا کہ ’’ اللہ کی قسم میرا ایک طلاق ہی کا ارادہ تھا، رسول اللہﷺ نے پھر حلفیہ پوچھا، کہ تمہاراایک ہی کا ارادہ تھا،تو حضرت رکانہؓ نے کہا کہ قسم بخدا میں نے نہیں ارادہ مگر ایک کا، پھر رسول اللہﷺ نے ان کی بیوی کو ان کی طرف پھیر دیا۔پھر حضرت رکانہؓ نے حضرت عمرؓ کے دور میں دوسری طلاق دی اور حضرت عثمانؓ کے دور میں تیسری طلاق دی۔ ابوداؤد کتاب طلاق باب البتۃ
تین طلاق کے بعد تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابن عباسؓ نے عورت واپس کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے تو اب یہ سید گیلانی کون ہے؟۔جو اس کی اجازت دے رہا ہے جسے نہ اللہ کا ڈر ہے، نہ رسولﷺ کی شرم ہے اور نہ ہی ابن عباسؓ کے فتوے کی پروا ہ ہے۔
نوٹ: صفحہ نمبر 3پر بھی اسی سے ملتی جلتی تحریر اور اس کا جواب دیکھئے۔

الجواب
ازسید عتیق گیلانی

محترم مفتی ریاض حسین دامت برتکم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جناب نے بہت محنت اور دینی جذبے سے سمجھایا اور ڈانٹا بھی ہے۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔
میں نے درسِ نظامی کی کتابوں’’ اصولِ الشاشی‘‘ اور ’’ نورالانوار‘‘ سے وہ حنفی مؤقف پیش کیا جس سے بریلوی دیوبندی اکابر قابلِ اعتماد علماء بن گئے ۔ اس کی تائید میں حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پیش کی اور قرآن وسنت سے دلائل دئیے تھے۔ مجدد الف ثانیؒ نے اکبر بادشاہ کو سجدہ تعظیمی سے انکار کیا اور کانیگرم وزیرستان کے پیرروشان بایزید انصاریؒ نے اکبر بادشاہ کیخلاف جہاد کیا۔ جنوبی وزیرستان کا شہر کانیگرم علوم کا مرکز تھا۔ سیدشاہ محمد کبیر الاولیاءؒ کے بیٹے سید ابوبکر ذاکرؒ اور پوتے سید شاہ محمود حسن دیداریؒ سے میرے پرداد سید حسن شاہؒ اور دادا سید امیر شاہؒ تک مرکزی علماء ومشائخ تھے، حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ سے نسب ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ہندوستان کے علماء ومفتیان نے ان پر واجب القتل کا فتویٰ لگایا جس کی وجہ سے ان کو دوسال تک روپوش ہونا پڑا تھا۔
شاہ ولی اللہؒ کے فرزندوں شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ نے پہلے اردو کا بامحاورہ اور لفظی ترجمہ کیا۔ ہندوستانی علماء نے ذوق و طبع کیمطابق ان تراجم کی نقل اُتاری ہے۔ مگرعربی سمجھنے والے کیلئے کسی اور ترجمے پر انحصار کی ضرورت نہیں، اردو عربی سے قریب ہے اور ترجمہ کی غلطی پر عام آدمی بھی گرفت کرسکتا ہے۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ لیہ شہر پنجاب میں دیوبندی بریلوی سے بحث رہتی ۔ ہمارے کرایہ کے مالک مکان ایک بریلوی شیخ الحدیث کو لائے کہ یہ مولانا احمد رضاخان بریلویؒ کا ترجمہ وتفسیر پڑھائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں گھر کیلئے سبزی لیکر آتا ہوں، توکہنے لگے کہ پہلے ترجمہ پڑھو۔ میں نے کہا کہ پہلے وضو کرکے آتا ہوں ، کہنے لگے کہ وضو کے بغیر ہاتھ لگائے بغیر پڑھ لو۔ میں نے عرض کیا کہ انما انا بشر مثلکم کا کیا ترجمہ لکھا ؟۔ دکھایا تو یہ تھا کہ ’’ کہہ دیجئے کہ میں بظاہر ایک بشر ہوں‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ مثلکم کا ترجمہ عربی کی کونسی لغت میں بظاہر بنتا ہے؟۔ اسکے پاس جواب نہ تھا۔ میں نے کہا کہ ہل کنت الا بشرا رسولا کا ترجمہ دکھاؤ۔ تو اس میں بشر اور رسول لکھا تھا۔ جسکے بعد صاحب غائب ہوگئے۔ کافی دنوں بعد بازار میں نظر آئے تو وہ شیخ الحدیث جو پہلے سید ہونے کے ناطے قابلِ قدر قرار دے رہے تھے ، پھر ان کا رویہ بہت بدلا۔ میں تو کسی اچھوت ہندو سے بھی اتنی کراہت کیساتھ چہرہ پھیرنے کی جرأت نہ کرتا۔ بجائے سلام کا جواب گالیاں کھائیں اور بات ختم ہوگئی۔
پھر میں نے کراچی کا رُخ کیا، درسِ نظامی کی کتابیں پڑھ لیں۔ ’’ اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم: مولانا یوسف لدھیانویؒ ‘‘ پڑھ چکا تھا۔ مولانا مودودیؒ کے حوالہ سے مولانا یوسف لدھیانویؒ نے لکھا کہ ’’ لوگ ان کی قلم کی تعریف کرتے ہیں، مجھے انکے قلم سے ہی سب سے زیادہ اختلاف ہے، جب وہ الحاد کے خلاف لکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا شیخ الحدیث گفتگو کررہا ہے اور جب وہی قلم اہل حق کیخلاف اٹھاتا ہے تو لگتا ہے کہ مزرا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کا قلم اس نے چھین لیا ہے‘‘۔
تاہم حیرت ہوئی کہ جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور احمدؒ کو منبر پر تقریر کرتے اور مولانا یوسف لدھیانویؒ کو خاموش امام کی جائے نماز پربیٹھے دیکھا۔ مجھے لگا کہ جماعت اسلامی کی مسجدمیں مولانا یوسف لدھیانویؒ امام ہیں۔ پھر مولانا یوسف لدھیانویؒ سے مسئلہ سنا تو دَم بخود ہوکر رہ گیا کہ ’’ تحریر ی شکل میں قرآن اللہ کی کتاب نہیں نقش ہے۔ اگر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا جائے تو یہ حلف نہیں۔ البتہ زباں سے کہا جائے کہ اللہ کی کتاب کی قسم تو یہ حلف ہے اور اسکا کفارہ ہے‘‘۔ میں سوچ رہا تھا کہ جاہل اور علماء میں واقعی بہت بڑا فرق ہے۔ جاہل اللہ کی کتاب پر الفاظ میں بات بات پر قسم اٹھاتے ہیں لیکن قرآن کے مصحف پر حلف اٹھانے سے بہت ڈرتے ہیں ۔یہاں تک کہ سچ پر بھی قسم اٹھانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ فقہ اور علماء کا یہ پہلا سبق مجھے عجیب تو لگا مگر علماء اور علم کی بات سمجھ کر قبول بھی کرلیا،اسلئے کہ ایمان اور عقیدہ تو مستند علماء کا مرہونِ منت تھا۔
اگلے مہینے شوال میں جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ ملا۔ درجہ اولیٰ میں ابتدائی کتب ہیں۔معروف استاذ مولانا عبداسمیع سندھیؒ کیساتھ صیغے پر بحث ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے دو صیغے ضربتماضربتما عرب سے نقل ہیں، میرا سوال تھا کہ صیغہ ایک تھاتودو دفعہ کیوں لکھا۔ آخر پونے تین گھنٹے تک بات یہاں تک پہنچی کہ اس نے قرآن کا مصحف منگوا کر کہا یہ اللہ کی کتاب ہے؟۔ میں نے کہا کہ نہیں، یہ نقش ہے، اس پر حلف نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے، اللہ کی کتاب کو نہیں مانتے؟۔ میں نے کہا کہ فتویٰ مجھ پر لگایا ۔اس کی زد میں مولانا یوسف لدھیانوی آئے ، پوچھتے ہیں۔ مولانا نے خوب سنائی کہ تم افغانی پڑھ کر آتے ہو ، مقصد پڑھنا نہیں ہماری تذلیل ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو آئے تو ایک طالب علم نے مجھے اٹھایا اور مسجد کے کونے میں ذکر کرنے کا مشورہ دیا۔
پہلے مولانا عبدالسمیعؒ ہمارے استاذ نہ تھے، چوتھے سال میں شرح جامی ہمیں پڑھائی اور نورالانوار مولانا بدیع الزمانؒ نے پڑھائی لیکن مجھے اس تعریف پر کوئی تعجب بھی نہ تھا کہ مصاحف میں لکھے سے مراد اللہ کی کتاب نہیں بلکہ نقوش ہیں جو نہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’ فقہی مقالات‘‘ میں دیکھا کہ ’’ سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘۔ تو بڑی بے چینی ہوئی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن سے حوالہ دئیے بغیر اسکے خلاف فتویٰ طلب کرکے شائع کیا۔ بریلوی مکتبۂ فکر نے مفتی تقی عثمانی کیخلاف طوفان کھڑا کیا۔ موجودہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں’’ فقہی مقالات‘‘ اور’’ تکملہ فتح المہلم‘‘ سے صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس کا مذکورہ حوالہ بھی نکالنے کا اعلان کردیا۔
علامہ غلام رسول سعیدیؒ کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ’’ اپنے مکتبۂ فکر والوں نے میرا گریبان اس بات پر پکڑ لیا کہ سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنے سے بہتر آدمی کا مرجانا ہے۔تم نے کیوں لکھ دیا ہے۔یہ علامہ شامی کی توہین کی ہے۔ اب مجھ میں ہمت نہیں ‘‘۔ جب غوروفکر کیا تو نتیجے پر پہنچ گیا کہ اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ’’ لکھائی کی شکل میں یہ اللہ کا کلام نہیں‘‘ ۔اسلئے بڑوں نے پیشاب سے لکھنے میں حرج نہیں سمجھا ۔
پھر قرآن کی ڈھیر ساری آیات مل گئیں کہ ’’ کتاب لکھی جانے والی چیز ہے‘‘۔ قرآن کتاب مسطور ہے۔ قلم اور سطروں میں لکھے ہوئے الفاظ اور معانی کی قسم قرآن میں موجود ہے۔ پھر یہ بھی پتہ چل گیا کہ امام ا بوحنیفہؒ نے زندگی جس ’’ علم الکلام‘‘ میں گزاری تھی اور پھر آخر میں اس سے توبہ کی تھی، یہ اسی گمراہی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے بہت سے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کتابت الفاظ اور معانی ہیں اور قرآن بھی ۔ بچے کو Bسے بک اور ک سے کتاب پڑھایا جائے تو وہ بھی اسکو بخوبی سمجھتا ہے۔علماء اپنا نصاب ٹھیک کریں۔
ذہن میں شرعی پردے کا تصور آیا تو بھابھی،ممانی، چاچی اور دیگر رشتہ داروں سے پردہ شروع کردیا۔ بھائی کہتے تھے کہ یہ پردہ ہم نے کسی سے نہیں سنا لیکن علماء نے تصدیق کردی کہ ہم بے عمل ہیں اور یہی شرعی پردہ ہے۔یہ ہے چلتی کا نام گاڑی۔ پھر ایک دن قرآن کی آیت لیس علی الاعمیٰ حرج ولا علی الاعرج حرج و علی المریض حرج ولاعلی انفسکم ان تأکلوا فی بیوتکم او بیوت اباء کم او بیوت امھاتکم ۔۔۔نابیناپر حرج نہیں، پاؤں سے معذور پر حرج نہیں ، مریض پر حرج نہیں اور نہ تمہارے جانوں پر کوئی حرج ہے کہ کھاؤ اپنے گھروں میں،یا اپنے باپ، ماں،بھائی، بہن، چاچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، اپنے دوست، جن سے تمہارا معاہدہ ہے، جنکے گھروں کی چابیاں تمہارے لئے کھلی ہیں کہ الگ الگ کھاؤ یا اکٹھے کھانا کھاؤ۔ اس آیت کا پس منظر پردے کے احکام ہیں۔ دنیا میں یہ آیت کسی کے سامنے بھی پردے کے حوالے سے رکھی جائے تو وہ آمنا و صدقنا کہیں گے۔ اجنبی مریض ، معذورکے علاوہ جن رشتہ داروں کا ذکر ہے، عام طور پر یہ لوگ ایکدوسرے سے کھانے کے حوالے یہی رسم نبھاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کے فرزند شاہ عبدالقادرؒ نے اپنی تفسیر موضح القرآن میں لکھ دیا ہے کہ ’’ نابینا، پاؤں سے معذور اور مریض پر حرج نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی نماز ، جہاد وغیرہ کیلئے ان کو رخصت ہے‘‘۔ اس تفسیر کو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے بھی نقل کیا ہے۔ حالانکہ آیت سے کیا مناسبت ہے؟۔ پردے کے احکام کی تفصیل اور واضح حکم کے بیچ میں کہاں بات لیکر گئے ہیں؟۔ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کتنی قابلیت ہے؟۔
مفتی صاحب! کتب احادیث میں ضعیف روایات کے ذخائر ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ نے قرآن کے مقابلہ میں احادیث صحیحہ کا انکار کیا۔ اصولِ فقہ پڑھ کربھی تقلید پر لڑنے والے علماء کتنے جاہل تھے؟، امام ابوحنیفہؒ کے نالائق مقلدین نے حنفی مسلک کابیڑہ غرق کردیا۔ جس حدیث میں میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل باطل باطل قرار دیاگیا، اس کی صحت وسند دیکھ لی جائے جو حتی تنکح زوجا غیرہ کے مقابلہ میں پیش کرکے مسترد کی جاتی ہے اور پھر آیت وبعولتھن احق بردھن فی ذالک ان ارادوا اصلاحا کے مقابلہ میں کوئی حدیث پیش کرکے اس کو آیت کے مقابلے میں دیکھا جائے۔ پھر اس کی صحت وسند دیکھ کر موازنہ کیا جائے۔احنافؒ کے نزدیک وضو میں واجب نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں طواف کا حکم ہے فلیطوفوا بالبیت العتیق اس میں وضو کا حکم نہیں۔ حدیث صحیحہ میں طواف کیلئے بھی وضو کا حکم ہے ،اسلئے طواف کیلئے وضو فرض نہیں واجب ہے۔
جن ضعیف روایات کو نقل کیا، یہ روایت بالمعنیٰ ہیں، روایوں نے اپنا خیال بھی ٹھونسا ہے۔ قرآن میں صلح کی شرط پر رجوع ہے توحضرت ابن عباسؓ کے فتویٰ کی یہ تاویل ہے کہ اس کی بیوی صلح پر راضی نہ ہوگی۔ اگر شوہر اللہ کا خوف رکھ کر بیگم سے حسنِ سلوک کرتا ہے تو عدت میں وہ رجوع سے انکار نہ کرتی، سورۂ طلاق کی آیات میں نہ صرف عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر رجوع ہے بلکہ دوعادل گواہ مقرر کرنے کے بعد اللہ سے خوف رکھنے والوں کیلئے رجوع کی گنجائش رکھی ۔ ابن عباسؓ کے قول کی توجیہ سمجھنے میں مشکل نہیں۔اگر دوسری ضعیف بالمعنیٰ روایت درست ہو تو نبیﷺ نے ڈانٹ ڈپٹ کیلئے اور صلح میں کردار ادا کرنے کی غرض سے پوچھا ہوگا۔ جسکے قرائن سے بیشمار دلائل بھی دئیے جاسکتے ہیں ۔
آیات میں اصلاح کی شرط پر عدت اور بار بار معروف طریقے سے عدت کی تکمیل پر رجوع کی وضاحت کے مقابلے میں کوئی ٹھوس اور مستند حدیث نہیں۔ عوام حلالہ کے رسیا فقہاء پر اعتماد کرکے قرآن وسنت سے دورہوگئے جسکا آخرت میں پوچھا جائیگا۔ علامہ بدر الدین عینیؒ اور امام ابن ہمام ؒ کی وفات950ھ اور 980ھ میں ہوئی جو شیخ الاسلام شبیر احمدعثمانیؒ اور امام احمد رضاؒ سے بڑے علماء تھے، انہوں نے لکھاکہ ’’ زبان سے نہ کہا جائے اور دل میں حلالہ ہو تو نیت کا اعتبار نہیں پھر حلالہ لعنت ومکروہ نہیں ۔بعض مشائخ نے کہاکہ خاندان کو ملانے کی نیت ہو تو حلالہ کارِ ثواب ہے‘‘۔ حلالہ لعنت ہوتو نیت کا اعتبار نہیں اور ثواب ہو تو نیت کا اعتبار ہے، یہ انما الاعمال بالنیات ہے؟ ۔تفصیل لکھ دی تو پڑھتا جا شرماتاجا۔مفتی اکمل کہتاہے کہ’’ امام ابوحنیفہؒ نے حلالہ کو کارِ ثواب قرار دیا‘‘ ۔واہ بھئی واہ۔
مفتی عطاء اللہ نعیمی نے لکھ دیا کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ والے پر لعنت بھیجی۔ اس کو کرائے کا بکرا قرار دیا، جس کی وجہ غیرت کی کمی اور ہتک ہے۔ جوحلالہ کو بے غیرتی و بے حیائی کہتا ہے تو اسکے ایمان وایقان کی جگہ بے غیرتی و بے حیائی نے لے لی ہے‘‘۔ اس گستاخانہ الفاظ سے نبیﷺ کی شان میں گستاخی نہیں ہے؟۔ ذرا وضاحت کیجئے گا۔
بریلوی آپس میں اور دیوبندیوں کیساتھ سورۂ فتح کی آیات کے ترجمے پر جھگڑ رہے تھے۔ انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغراللہ لک ماتقدم من ذنبک وماتأخر ’’بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطاء کی، تاکہ تجھ سے تیرا اگلاپچھلا بوجھ اللہ اُتاردے‘‘۔ کوئی کہتا تھا کہ نعوذباللہ نبیﷺ کی لغزش یا گناہ مراد ہیں اور کوئی والدین کے گناہ کی گالی دیتا تھا۔ جبکہ کوئی کم عقل سے کم عقل آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جب ذنب کے معنی گناہ اور بوجھ دونوں ہوں تو سیاق وسباق سے بات سمجھ میں آئے گی۔ اگر پس منظر میں یہ ہوگا کہ ہم نے یہ سزا اسلئے دی ہے تو گناہ معاف ہونا مراد ہوگا۔ لیکن جب پسِ منظر میں فتح مبین عطاء کرنے کا ذکر ہو تو اس سے بوجھ مراد ہوگا۔ نبی ﷺ پر دین کی تبلیغ اور غلبے ہی کا بوجھ تھا۔ ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک ’’ہم نے تجھ سے وہ بوجھ اتارا،جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی‘‘۔ ظاہر کہ فتح مبین سے بوجھ ہی مراد لیں گے۔ مولانا کا لفظ غلام کیلئے بھی آتا ہے اور آقا کیلئے بھی۔ کیا اللہ کیلئے مولانا کہتے ہوئے غلام مراد لینا بدترین کفر نہیں ہوگا؟۔ میرے مرشدحضرت حاجی عثمانؒ پراس وجہ سے فتویٰ لگا کہ ایک مرید سے کہا کہ حدیث میں اگلے پچھلے گناہ معاف ہونے کی نسبت پوچھ لو، نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ حدیث صحیح ہے مگر الفاظ میں ردوبدل ہے‘‘۔ یعنی ذنب کا معنی گناہ نہیں بوجھ ہے۔ جو علماء دیوار پر لکھے گئے مشاہدے پر فتویٰ نہیں لگاتے تھے وہ مفادت پر بک گئے۔

آخری عمر کی آخری خواہش کیلئے آخری کوشش، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ….. پیر نثار

molana-fazal-ur-rehman-ka-khawab-ptcl-phone-line-akhri-khwahish-akhri-umeed-akhri-umer-habeel-and-qabeel-bogus-voting-pir-nisar-shah-tank-dera-ismail-khan

ٹانک (شاہ وزیر ) JUI کے سابق کارکن و ضلعی رہنما اور مرکزی شوریٰ کے رکن پیر نثار شاہ نے کہا :مولانا فضل الرحمن کی آخری عمر میں آخری خواہش کیلئے آخری کوشش ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے بہت ہوئی میری بے عزتی مگر آخری خم نکلے۔ انا کیا چیز ہے سیاست کی دنیا میں ؟ پوری کوشش ہے کہ ہر طرح سے ہم نکلے۔ دنیا بڑی زرخیز ہے یہ ہم جانتے ہیں اور پہنچے ہیں اس حد کو کہ آخرت کا نم نکلے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مولانا صاحب جھوٹ بول رہے ہیں مگر خواب سچا لگتا ہے۔ حضرت آدمؑ نے ناراض ہوکر پوچھا ہوگا کہ کیا چاہتے ہو؟ اور امن کے جواب پر یقین نہ آیا ہوگا، اسلئے سلام پر بھی ڈانٹا ، قابیل حضرت آدم ؑ کا بیٹا تھا۔ اللہ نے فرمایا : اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں مجرم اکابر بنائے ہیں تاکہ وہ ان میں اپنا داؤ پیچ استعمال کریں۔

حضرت مولانامفتی ریاض حسین صاحب کی دوسری تحریرکا جواب: از سید عتیق الرحمن گیلانی

dar-ul-uloom-qadria-rizvia-malir-saudabad- mufti-riaz-hussain- usool-us-shashi- noor-ul-anwaar-meethe-islami-bhaiyon-teen-talaq-kya-hai-dajjal-ka-lashkar-book

حضرت مولانا مفتی ریاض حسین صاحب مدظلہ العالی

کا جواب الجواب دارالعلوم قادریہ رضویہ سعودآباد ملیر

محترم جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے اس ناچیز کے سوالات کا ’’الجواب‘‘ تحریر کیا۔میں نے بغور پڑھا۔میں یہ بات واضح کردوں کہ میری یہ تحریر حلالہ کے متعلق نہیں تھی ۔جیسا کہ آپ نے لکھا بلکہ قرآن مجید کی آیت230کی وضاحت کے متعلق ہے اور آپ جو اس آیت مقدسہ کی غلط تشریح پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں، اس کے رد میں ہے۔ اب آپ غور سے پڑھیں کہ آپ سے بڑے علماء کرام نے اس آیت کی کیا وضاحت کی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے‘‘۔
حضرت آپ نے غور کیا کہ تیسری طلاق کے بعد عورت اپنے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ اگر آپ اس ترجمہ سے مطمئن نہ ہوں تو جناب کی خدمت میں شاہ فہدآل سعودکی طرف سے حاجیوں کو پیش کیا جانے والا بطور ہدیہ قرآن پاک ہی کا ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں!
’’ پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے،تو اب اس کیلئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کے میل جول کرلینے میں کوئی گناہ نہیں بشرط کہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں جنہیں وہ جاننے والوں کیلئے بیان فرمارہا ہے۔ البقرہ آیت230
اب ذرا اس کی تشریح بھی پڑھ لیجئے،جو کہ اسی قرآن میں لکھی گئی اور جس کو آپ کے علاوہ عرب وعجم کا کوئی بھی عالم غلط نہیں کہتاہے: ’’ اس طلاق سے مراد تیسری طلاق مراد ہے۔ یعنی تیسری طلاق کے بعد خاوند اب نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح، البتہ یہ عورت کسی اور جگہ نکاح کرلے اور دوسرا خاوند اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہوجائے تو اس کے بعد زوجِ اوّل سے اس کا نکاح جائز ہوگا‘‘ ۔
دیکھا حضرت ! آل سعود کے ھدیہ کردہ قرآن میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے، پہلے کیلئے حلال نہ ہوگی۔
اس تشریح میں شارح عدت کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں اسلئے آپ کی خدمت میں سید نعیم الدین کی تشریح پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ آپ لکھتے ہیں:
’’ تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے۔ اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو۔ یعنی بعدِ عدت عورت دوسرے سے نکاح کرے اور بعدِ صحبت طلاق دے، پھر عدت گزرے‘‘۔ نورالعرفان تشریح متعلقہ آیت230البقرہ
اب قبلہ سید عتیق الرحمن صاحب ، آپ کی خدمت میں مولانا شیخ الہند محمود الحسن صاحب کا ترجمہ و شیخ الاسلام مولانا شبیر عثمانی کی تشریح پیش کر رہا ہوں۔
’’ پھر اگر اس عورت کو طلاق دی یعنی تیسری بارتو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا، پھر اگر طلاق دے دے دوسرا خاوند توکچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خیال کریں کہ قائم رکھیں گے ،اللہ کا حکم ، یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں، اللہ بیان فرماتا ہے،ان کو واسطے جاننے والوں کے‘‘۔ مولانا شبیر عثمانی صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ’’ یعنی اگر زوج اپنی عورت کو تیسری بار طلاق دے گا تو پھر وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی تاوقت یہ کہ وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کرکے اپنی خوشی سے طلاق دیوے۔ اس کی عدت پوری کرکے پھر زوج اول سے نکاح جدید ہوسکتا ہے۔ اس کو حلالہ کہتے ہیں اور حلالہ کے بعد زوج اول سے نکاح ہونا جب ہی ہے کہ ان کو حکم خداوندی کے قائم رکھنے یعنی کہ ایکدوسرے کے حقوق ادا کرنے کا خیال اور اس پر اعتماد ہو۔ ورنہ ضرور نزاع باہمی اور اتلافِ حقوق کی نوبت آئے گی۔ اور گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر عثمانی تفسیرالبقرہ: آیت230
اب اس آیت کا ترجمہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا بھی دیکھ لیجئے۔ ’’ پھر اگر اس نے ( تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کرلے، پھر وہ دوسرا شوہر بھی اس کو طلاق دیدے تو اب دونوں( یعنی پہلے شوہراور اس عورت پر) کوئی گناہ نہ ہوگا اگر وہ ( دوبارہ رشتۂ زوجیت میں) پلٹ جائیں۔ بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ اب وہ حدود الٰہی قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں جنہیں وہ علم والوں کیلئے بیان فرماتا ہے‘‘۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اہلحدیث،دیوبندی اور بریلوی سب اس نکتے پر یکجا ہیں، بڑے منظم اور متحدہیں کہ آیت230 کا ترجمہ اور تفسیر سب نے ایک جیسی کی ہے۔کیونکہ وہ اہل علم ہیں،قرآن پاک کو سمجھتے ہیں،انہوں نے آیت نمبر230کا ایک ہی مطلب بیان کیا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اور اس قت تک اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ پھر وہ بعد صحبت طلاق دیدے پھر عدت کے بعد پہلے شوہر کیلئے نکاح کرنا جائز ہوگا۔

حضرت مولانامفتی ریاض حسین صاحب کی دوسری تحریرکا جواب: از سید عتیق الرحمن گیلانی

محترم مفتی ریاض حسین دامت برکاتکم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، اللہ حق ہی کا بول بالا کردے۔
آیت230البقرہ کے ترجمہ میں ابہام نہیں، لیکن تیسری بار و تیسری طلاق میں فرق ہے۔امام ابوبکر جصاص حنفی رازیؒ نے لکھا: ’’2درہم اثنتان ہیں مرتان نہیں، 3طلاق اور3مرتبہ طلاق میں فرق ہے‘‘۔ احکام القرآن
اصولِ الشاشی میں ہے’’ حتی تنکح زوجا غیرہ ( حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے)آیۃ میں عورت خود مختار اورحدیث جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے ۔خبرواحد قرآنی آیت سے متصادم ہے ‘‘۔ امام مالکؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ،امام شافعی،ؒ جمہور فقہاء ؒ و محدثین ؒ واہل حدیث کے ہاں عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ نے اس حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیکر ٹھکرادیا اور یہی تعلیم پڑھ کر مولانا احمد رضا خان ؒ ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ علماء بنے ۔ کیا علماء شرمندہ ہیں کہ رسول اللہﷺ کی حدیث اور جمہور فقہاء ومحدثین کو ٹھکرادیا ؟۔ اگریہ تعلیم ہی غلط ہے تو بتادیجئے گا۔
امام ابوحنیفہؒ پر سید عبدالقادر جیلانیؒ نے فتویٰ لگایا۔ آیت230میں طلاق شدہ کا ذکر ہے۔ بیوہ کو بھی قرآن میں اذابلغن اجلھن مافعلن فی انفسھنخودمختار قرار دیا گیا۔ آیت سے حدیث کی ٹکرہو تو غلط ہے ۔ نالائق مقلد مسلک کو صحیح پیش نہ کرسکے۔ کنواری کا ولی ہوتا ہے، شادی کے بعد اسکا سرپرست اسکا شوہر ہے، بیوہ اور طلاق شدہ خود مختار ہیں، آیات واضح ہیں اسلئے امام ابوحنیفہؒ کا مسلک درست ہے ۔حدیث کا تعلق کنواری سے ہے۔ قرآن وحدیث اور جمہور و احناف کے تضادات ختم کئے گئے توکورٹ میرج کی غلط راہ کا دروازہ بھی بند ہوجائیگا۔
آیت230 میں طلاق کے بعدیہ ہے کہ’’اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘۔ آیت سے ولی کی اجازت یا رکاوٹ کا تعلق نہیں بلکہ جس نے طلاق دی ،وہ شوہر رکاوٹ بنتاہے۔ اسلئے واضح الفاظ میں عورت کو پہلے شوہر کی دسترس سے باہر کرنے کی انتہاء کردی۔ یہ آیت پوری دنیا کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو طلاق دی تو فرانس حادثے پر قتل کا مقدمہ عدالت میں چلا ۔ بڑا مشکل ہے کہ کوئی بیوی کو طلاق دے اور پھر گلی محلے اور اقارب میں کسی اورسے اسکا ازدواجی تعلق برداشت کرے۔ غیرت گوارا نہیں کرتی۔ حیوان بھی یہ غیرت رکھتے ہیں۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کو جو تحفظ دیا ،وہ پوری دنیا کیلئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اگر شوہر طلاق دے، عورت رجوع نہ چاہتی ہو اور فتویٰ دیا جائے کہ ’’ طلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘۔ تو بھی درست ہے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ظالم اور طاقتور شوہر اس فتویٰ کے باوجود یہ قدم اٹھالے کہ زبردستی سے حلالہ اور طلاق پر مجبور کرکے عورت دوبارہ اپنے پاس رکھ لے۔ ایساہوا ہے کہ حلالہ کے بعد عورت دوبارہ پہلے شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی مگر پہلے شوہر نے مولوی کی ہڈی پسلیاں توڑ کر زبردستی طلاق لی اور پھر نکاح کیا۔
انکے شوہر عدت میں اصلاح کی شرط پران کولوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ البقرہ:228۔ اوریہ کہ ’’اگر تم کو دونوں کی جدائی کا ڈر ہو تو ایک رشتہ دار شوہر اور ایک بیوی کے خاندان سے فیصل تشکیل دو، اگر دونوں اصلاح چا ہیں تو اللہ ان دونوں میں موافقت پیدا کردیگا‘‘ ۔النساء: 35
صحابہؓ، تابعینؒ ، تبع تابعینؒ اور اسلافؒ نے قرآن کو سمجھا۔ میاں بیوی صلح کرلیتے تھے اور دونوں جانب کے رشتہ دار بھی فیصلہ کن کردار اد کرتے ۔ تنازع کیلئے قاضی، مفتی اور عالم کے پاس نہ جانا پڑتا تھا۔ اور قرآنی آیات پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ یہ بہترین قرآنی تعلیم دنیا تک پہنچی تو ایک اسلامی معاشرتی انقلاب برپا ہوگیا ۔
طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہ ہو تورجوع پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔قرآن، سنت ،حضرت عمرؓ نے بنیاد رکھ دی تھی۔ پھر مولفۃ القلوب کی زکوٰۃ ، زکوٰۃ پر قتال، حجِ قران یاتمتع سے روکنے اور اکٹھی 3طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کی بحث چھڑ گئی تو ائمہ اربعہؒ اور محدثینؒ کا مؤقف تھا کہ اکٹھی 3طلاقیں پڑ تی ہیں۔ اگر تنازع پر یہ فتویٰ نہ دیا جاتا اور شوہر کو رجوع کا حق رہتا تویہ قرآن کیخلاف ہوتا۔ عورت زندگی بھر عذاب کا سامنا کرتی، صلح نہ ہوتی تو شوہر کے نکاح میں رہتی۔ اسلئے یہ فتویٰ دینا حق بجانب تھا کہ اکٹھی تین طلاق بدعی واقع ہوجاتی ہیں ۔ اس فتویٰ کی وجہ سے خواتین کو بہت تحفظ مل گیا جو تاریخ کا حصہ ہے اور یہ عظیم الشان فتاوے اور فیصلے یقینی طورپر قابل فخر ہیں۔
یہ فتویٰ تین مرتبہ یا تین طلاق تک محدود نہیں تھا بلکہ طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ کا ذخیرہ اور گھمبیر صورت میں طلاق کے جملے خواتین کی خلاصی کا ذریعہ تھے۔ مثلاً حرام کا لفظ کہہ دیا تویہ بھی بعض کی رائے میں تیسری طلاق تھی جس کے بعد شوہر پر عورت کے حرام ہونے کا فتوی دیا جاتا ۔
حالانکہ نبیﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہؓ کیلئے حرام کا لفظ استعمال کیا جس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی۔ واضح تھا کہ نہ تیسری طلاق ہے، نہ اس پر 3 بار طلاق کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود بخاری نے بھی بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا کہ یہ تیسری طلاق ہے، حضرت علیؓ کی طرف بھی اس پر 3 طلاق کی نسبت کی گئی۔ پسِ منظر متازع صورتحال تھی اور عورت رجوع پر آمادہ نہ ہوتو سخت سے سخت فتویٰ قرآن کی روح کو زندہ کرنے کے مترادف تھا اسلئے کہ آیت کا یہ تقاضہ ہے کہ عورت کی طلاق سے جان چھڑائی جائے۔
متأخرین نے معاملہ بالکل اُلٹ دیا ۔ سلف صالحینؒ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایسے حالات پیدا ہونگے کہ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہونگے اور گدھے فتوے دینگے کہ صلح کیلئے حلالہ کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے واضح کیا کہ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کا شوہر حقدار ہے اور یہ کہیں گے کہ حلالے کا بکرا یہ حق رکھتا ہے۔ طلاق کے بعد عدت شروع ہوتی ہے طلاق بدعی واقع ہونے کافتویٰ درست ہے مگر جہاں تک معروف رجوع کا تعلق ہے تو اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیات 224 سے232اور سورۂ طلاق کی پہلی 2آیات میں عدت کے اندر اور عدت تکمیل پر معروف رجوع کی وضا حت ہے۔اللہ نے منکر رجوع کا راستہ روکا تھا مگر فقہاء نے منکرات کی بھرمار کرکے رکھی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو نبی ﷺ غضبناک ہوگئے ، رجوع کا حکم فرمایا، پہلے طہروحیض، دوسرے طہروحیض کے بعد تیسرے طہر میں یہ فیصلہ کرنے کا فرمایا کہ معروف طریقے سے روکو یا چھوڑ دو، یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق کا امر کیا‘‘۔
حضرت ابراہیم ؑ ،امام ابوحنیفہؒ ،سید عبدالقادرجیلانی ؒ ، صحابی سلمان فارسیؓکردتھے۔ نبی ﷺ نے جسکے کاندھے پرہاتھ رکھ کر فرمایا کہ واٰخرین منھم لما یلحقوبھم سے اس کی قوم مراد ہے اگر دین، علم اور ایمان ثریا پر جائے توبھی ان میں ایک فرد یا چند افراد اسے لوٹادینگے۔ مولانا احمد رضا بریلویؒ قندھاری کے آباء توسیدشاہ محمد کبیرالاولیاءؒ اور پیرروشان بایزید انصاریؒ کانیگرم وزیرستان کے شاگرد اور مرید ہونگے۔ جس نے شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ کے پیرو کار اکابر دیوبند ؒ کو تقلید پر مجبور کیا ۔ رسولﷺ کو شکایت ہوگی کہ ’’ میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ شکایت اسلاف نہیں ناخلف جانشینوں کیخلاف ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان بھی کردبرکی ننھیال پر فخر کرتا ہے جو کانیگرم سے جالندھرگیا۔
میٹھے اسلامی بھائی مفتی ریاض حسین صاحب!ایک آیت پر سوئی اٹک گئی اور مجھے اس کا انکار کب ہے؟۔ اگر بحث حلالہ نہیں تو آیت کو اس دائرہ تک محدودکرنا ہوگا کہ اللہ کی واضح آیات کا انکار نہ کرنا پڑے۔ اللہ نے طلاق کی ایک عدت رکھی مگر مولوی نے شوہر کو تین عدتوں کا حق دیا۔ اسلئے کہ طلاق کے بعد آخر میں رجوع، پھر طلاق کے بعد آخر میں رجوع پھر طلاق تویہ مکمل تین عدتوں کا حق ہے۔ اللہ نے عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دیا تویہ حق چھین لیا۔ اللہ نے مرحلہ وار طلاقوں اور عدت کی تکمیل پر معروف رجوع کو واضح کیا اور فقہ کی کتابوں کو نالائق گدھوں نے منکررجوع سے بھر دیا۔ جو حلالہ کا سامنا کرتا ہے تو اسکا دین و ایمان ثریا پر پہنچتا ہے مگر اس کو قرآنی آیات میں باہمی صلح کیساتھ عدت میں عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی حقیقت بتائی جائے تو اسکا دین و ایمان ثریا سے زمین پر لوٹ آئیگا۔ اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو ظہار پر عورت نے نبیﷺ سے مجادلہ کیاتھا۔ اللہ نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ ماں وہی ہے جس نے جنا، منہ سے بیوی ماں نہیں بن سکتی، یہ جھوٹ اور منکر قول ہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں اسلام پھر اجنبی ہوچکا ہے، غلط فہمی سے مقام پر اثر نہیں پڑتامگر ہٹ دھرمی غلط ہے۔ اگر قرآن کی واضح آیات میں رجوع کی گنجائش کا پتہ نہیں لگتااور ضعیف احادیث کی مدد سے ڈھانچہ بدلنا ہو توسلام!
نبیﷺ نے نبوت، خلافت، امارت، بادشاہت، پھر طرزنبوت کی خلافت کے ادوار کا ذکر فرمایاہے۔ جب دوبارہ خلافت قائم ہوگی تو اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بالکل بدل جائیگا۔ طلاق کے مسائل پر فقہ کی حقیقت سے آگاہ کیا تو علماء ومفتیان کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ قیامت تک قائم کے واقعات مجھے اللہ نے دکھائے جیسے میں اپنی اس ہتھیلی کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ میرے لئے اس جیلان کو اللہ نے روشن کیا جیسے گزشتہ انبیاء کیلئے روشن کیا تھا‘‘۔ جیل سے دور مراد ہو تو جیلان اس کی جمع ہے اور ادوار مراد ہیں۔ اور اگر جیلان سے گیلان کی بستی مراد ہو تو یہ بھی ممکن ہے۔طالب جوہری نے اپنی کتاب’’ علامات ظہور مہدی‘‘ میں مہدی آخری زماں سے قبل کئی شخصیات کا ذکر کیا۔ خرسان سے دجال کے مقابلے میں حسنی سید کا ذکر کیا ہے ، بڑے دجال اور مہدی آخرزمان سے قبل اس حسنی سید کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ ’’ سید گیلانی ‘‘ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان دہشتگردوں کو خرسان کے اس دجال کا لشکر قرار دیا جسکا حدیث میں ذکرہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ میرے پاس اس اجنبی کو حاضر کیا گیا، میں نے دائیں اور بائیں جانب سے اس کی طرف التفات کیا تو نہیں نظر آرہا تھا مگر اجنبی۔ قرآن اس پر اپنی پوری عظمت کیساتھ روشن ہوا۔ اس کو ہزاروں نیکیاں ملیں اور ہزاروں خطائیں اس کی مٹادی گئیں، اس کی موت شہادت(اتمام حجت) کی موت ہوگی‘‘۔
ہونا یہ چاہیے کہ پاکستان کی حکومت عالم اسلام کے علماء ومفتیان اور تمام ممالک کے اصحاب اقتدار کو دعوت دے اور تبدیلی کا آ غاز اسلامی معاشرے سے شروع کردیا جائے۔ میری زندگی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وقف ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ اگر اپنادین، ایمان اور علم چھوڑ کروہ راستہ اپنالوں جس سے علماء ومفتیان خوش ہوں اور دنیاوی مفادات اٹھاؤں تو میرا شمار بھی بلعم باعوراء کی طرح دنیا کو ترجیح دینے والے علماء میں ہوگا۔ پھر میری مثال بھی کتے کی ہوگی جو ہوشیار جانور ہے، ہیروئن، بارود اور چوری بھی دریافت کرتا ہے مگر کتا تو کتا ہی ہوتا ہے۔ جس کی قرآن نے مثال دی ہے۔ اللہ مجھے اور تمام سمجھدار علماء ومفتیان کو اس وعید سے اپنی امان میں رکھے۔ دین کیلئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے مگر ہمارے ہاں خود قربانی دینے کے بجائے خواتین کی عزتوں کو ناجائز حلالہ کے نام پر قربان کیا جارہا ہے۔ گھر تباہ اور خاندان برباد کئے جارہے ہیں۔
قرآن نے یہود کے علماء کی مثال گدھوں کی بھی دی ہے۔ گدھا کم عقل جانور ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقشِ قدم پر چلے گی‘‘۔ اگر گدھا اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے کسی گدھی کو شکار کرنا چاہتا ہو تو پھر اس کے سامنے دلائل اور براہین کی بات غلط ہے۔ زانی اور زانیہ کوڑے کی زبان سمجھے ہیں، حلالے کے رسیا لوگ بھی کوڑوں کی سزا سے ہی بعض آسکتے ہیں۔میرا منصب بات پہنچانے تک محدود ہے۔ باقی اللہ ہی حافظ۔

مجھے بھیک مانگنے پر شرم آتی ہے، وزیر اعظم عمران خان: واہ بھئی واہ سچ مچ؟ اشرف میمن

imran-khan-amir-liaquat-jemima-bushra-bibi-khawar-manika-shaukat-khanum-bheek-mangna-abdul-sattar-edhi-dr-tahir-ul-qadri-ptv-attack-case

کراچی (نمائندہ خصوصی )نوشتۂ دیوار کے پبلیشرتحریک انصاف سندھ کے سابق سینئر نائب صدر وامیدواربرائے قومی اسمبلی محمداشرف میمن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ کہتے ہوئے غیرت، شرم اور حیاء نہیں آئی کہ ’’ مجھے بھیک مانگتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ واہ بھئی واہ سچ مچ ایسا ہے تواس خوشگوار تبدیلی کو خوش آئند کہا جائے یا نہیں؟ اپنی ماں شوکت خانم کے نام پر بھیک مانگتے ہوئے شرم نہ آئی، تو ریاست بڑی ماں ہوتی ہے ،اس کیلئے بھیک مانگتے ہوئے کیوں شرم آئے گی؟۔ عمران خان نے تو میڈیا پر کہا تھا کہ میں وزیراعظم بنوں گا تو قرضہ اُتارنے کیلئے فنڈز اکٹھے کرکے دکھاؤں گا۔ قوم نے سوچا کہ دوسرے کرپٹ ہیں، ان کو بھیک نہیں قرضہ بھی نہیں ملے گا، عمران خان کنگال ہے، شوکت خانم کے نام پر بھیک مانگ کر دکھائی ، پارٹی کیلئے بھیک مانگ کر دکھائی، دھرنوں کیلئے بھیک مانگ کر دکھائی، الیکشن مہم کیلئے بھیک مانگ کردکھائی تو قرضہ اتارنے کیلئے بھی بھیک مانگ کر دکھائے گا، اپنے بچے بھی اپنے یہودی ننھیال کی بھیک سے پرورش پارہے ہیں۔ اگر عمران خان کو اپنی اماں سے عقیدت تھی تو اس کی نافرمانی کرکے جمائماسے شادی اسلئے کی کہ مالدار تھی، پھر بھیک مانگ کر ہسپتال اسلئے تو نہ بنایا کہ اس کی بھیک سے خود بھی پلتا رہے؟۔ پھر پارٹی میں کرپٹ اور سرمایہ دارکو شامل کیا تاکہ ان کی بھیک سے پلتا رہے، اب اسلئے تو وزیراعظم نہیں بنا کہ کرپٹ ساتھیوں کے ذریعے اس ملک کو لوٹنے کی باری لے؟۔
ہماری قوم بڑی سیدھی سادی ہے۔ عمران خان کی اس بات پر بھی خوش ہوئی کہ بھیک مانگنے پر شرم آنے کی بات کردی، حالانکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کرکٹ سے زیادہ یہ شخص بھیک مانگنے میں عالمی شہرت یافتہ ہے، اگر بھیک پر ایوارڈ ملتا تو ستار ایدھی اسکے مقابلے میں ہار جاتا،اتنی مہارت اس کو بھیک مانگنے میں حاصل ہے۔ یہی ادا تو ریاست اور قوم کو پسند آئی تھی اسلئے کہ قوم کو بھیک مانگنے کی ضرورت پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے پاس اور کیا عقل، دانشمندی، فلسفہ ، نظریہ اور منطق ہے؟۔ اپنے مفاد کی خاطر خاور مانیکا سے بیگم بشریٰ پنکی چھین لی۔ اسکے بچوں کی عزتِ نفس کا بھی خیال نہیں رکھا، وہ چیختے اور چلاتے رہے کہ ہماری ماں نے کوئی شادی نہیں کی ، ہماری بے عزتی نہ کی جائے۔ عامر لیاقت نے کہا کہ قرآن کے خلاف عدت میں شادی کی ہے تو اس کو پارٹی میں شامل کیا اور ٹکٹ بھی دیدیا۔ جو بیویوں کو بھی جوتوں کی طرح بدلے اس پر کارکنوں ، رہنماؤں اور قوم کا کیا اعتماد ہوسکتاہے؟۔ یہ جمہوریت ، قوم اور اس نظام کے خاتمے کی نشانی ہے کہ ایک ایسا شخص وزیراعظم بن گیا جس کو اقدار، روایات اور مذہب کا کوئی خیال نہیں۔ اُمت کا کوئی فرقہ تو بہت دور کی بات ہے،کوئی غیرمسلم بھی ایسا نہیں کہ کسی مزار کی راہداری کو چاٹے۔ دہشتگردی کا عروج تھا تو اس نے دہشتگردوں کی حمایت سے اسلام و مسلمانوں کوبدنام کیا، دہشتگردی کازور ٹوٹا تو مزار کی دہلیز چاٹنے سے اسلام اور مسلمانوں کا مسخ چہرہ دنیا کو دکھایا جا رہاہے۔ دنیا کو دکھایا گیا کہ پاکستانی مسلمانوں کے اقدار ہیں کہ سبھی کوبے غیرتی کا طعنے دینے والے کا اپنا چہرہ کیا۔ بیگمات ہتھیالینے ، دہشتگردوں کی حمایت ، مزار پر سجدے، پردے و بے پردگی، قول وفعل میں بدترین تضادات کے شکار شخص کو حکمران بنایا جائے تو چڑھتے سورج کے پجاری اسکی قیادت کو تسلیم کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے، اگر خدانخواستہ عالمی قوت نے افغانستان میں رہائش پذیر دہشتگردوں یا بھارت کے ہندؤوں کو پاکستان پر مسلط کیا تو قوم قبول کریگی۔ عمران خان اس کی سرپرستی حاصل ہے جو اللہ کے اقتداراعلیٰ کے مقابلے میں مہرہ مسلط کرتی ہے، وہ قوت مخالف ہوئی تو قندیل بلوچ کے قتل پر عمران خان کو پکڑا جائیگا کہ اس نے بشریٰ پنکی سے تعلق کا انکشاف کیا ۔
طاہر القادری جہاز سے نہیں اتر رہاتھا کہ ماراجاؤنگا مگر پھر پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا،PTV پر قبضہ کیا، قبرکھودی اور کفن لہراکرڈرامہ کیا۔ عمران نے یہ کہہ کر ذلت افزائی کی کہ’’ میں نے طاہرالقادری سے رشتہ تو نہیں مانگا تھا‘‘۔ یہ سازشیں ہیں جن سے قرآن کیمطابق پہاڑ ہل جائیں۔

موت اور زندگی اللہ دیتا ہے ریاست نے ہمارا عقیدہ خراب کردیا. منظور پشتین

ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristan

وزیرستان( سوشل میڈیا) PTMکے قائد منظور پاشتین نے وزیرستان، صوابی اور اپنے ویڈیو بیانات میں کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے وانا شہر کا فاصلہ روس ماسکو سے14سوکلومیٹر اور کراچی سے فاصلہ 13سو کلومیٹر ہے۔ پختونخواہ کے پہاڑی اور میدانی علاقے معاشی حب ہیں، ایک طرف گرم علاقوں کے پھل کھجور، آم، مالٹا اور اناج گندم ، چاول وغیرہ ہیں تو دوسری طرف پہاڑی و ٹھنڈے علاقوں کے پھل آخروٹ، آڑو، انگور، چلغوزہ وغیرہ ہیں۔ جبکہ لاہورکے دونوں اطراف ایک ہیں، گرم علاقوں کے پھل پنجاب سندھ اور بھارت تک ایک جیسے ہیں۔تجارت کیلئے منافع بخش مرکز پختونخواہ ہے۔ دنیا میں جنوبی وزیرستان کے چلغوزے کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ وزیرستان میں اس کی قیمت کم ہے لیکن گرم علاقوں میں اس سے بہت کمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس طرح آم ، کھجور، اناج کی قیمت گرم علاقوں میں بہت کم ہے لیکن پہاڑی اور ٹھنڈے علاقے میں انکے ذریعے سے بہت کمائی ہوسکتی ہے۔ ہمارے علاقوں کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کا مرکزبنایا گیاہے۔ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ جن افراد کو اغواء کیا گیا ہے ان کو رہا کرو، بلکہ ہمارامطالبہ یہ ہے کہ عدالتوں کے سامنے پیش کرو، اگر وہ مجرم ہوں تو قرارِ واقعی سزا ملے اور بے گناہ ہوں تو ان کو عدالت چھوڑ دیگی۔ ایک جوان نے ایک کتے کو مارا، اس کو پولیس نے ہتھکڑی پہناکر گرفتار کیا،ہم اس کو سراہتے ہیں۔ کتے کو مارنا بھی غلط ہے لیکن راؤ انوار 450افراد کا قاتل ہے۔اس کو ہتھکڑی بھی نہیں پہنائی گئی، اسکے گھر کو سب جیل قرار دیا گیا۔ اس کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کو بکتربند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے ، راؤ انوار کو عزت دی گئی۔ ہم ریاست کو مانتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اتنے بڑے قاتل کو ریاست سزا دیگی یا نہیں؟۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوتوپھر ہم راؤ انوار کو آسمان میں بھی چھپنے نہ دینگے۔ ہمارامطالبہ آئینی ہے، ہم ریاستی عناصر کو قانون کی خلاف ورزی سے روکتے ہیں اور اگر ریاست کا قانون یہ ہے کہ وردی میں جو جرائم کرلو، سینکڑوں افراد کو قتل کرو، تمہیں تحفظ ملے گا تو ہم پوچھتے ہیں کہ آئین کے کونسے دفعہ میں یہ بات لکھی ہے؟۔
2009ء میں ہمیں گھروں سے بے دخل کیا گیا ، پھر2016ء میں ہم نے اپنے گھروں کو بد حال دیکھا، گھروں سے اشیاء غائب تھیں تو بھی ہم نے سوچا تھا کہ ہماری غلطیاں ہیں، ہمارا قصور ہے، جو ہم نے کیا اس کو ہم نے پایا، جو بویا وہ کاٹا۔ مگر جب پھر بھی امن نصیب نہ ہوا، شریف عوام پر سختی اور گڈ طالبان کو رعایت دی گئی۔ ہماری تلاشی لی جاتی ہے،ان کو گزرنے دیا جاتا، پھر بھی ہم نے سمجھا کہ جس کا کام ہے اس کو ساجے، مگر جب کوئی دھماکہ ہوتاتو ساری مصیبت کا سامنا عوام کوہی کرنا پڑتا۔ عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے۔آخر یہ کب تک ہمارے ساتھ ہوتا رہے گا؟۔ اب ہم سمجھ گئے کہ دہشت گردی محض بہانہ ہے،اصل بات وسائل پرقبضہ کرنا ہے ، یہاں کی قیمتی معدنیات دنیا میں فروخت کرنے کا منصوبہ ہے۔ دہشت گرد احسان اللہ احسان اور مسلم خان وغیرہ کو اپنے پاس محفو ظ رکھاہے۔ یہ ایک کھیل ہماری جان، مال اور عزتوں کی قیمت پر کھیلا جارہاہے۔ یہ کاروبار ہے، یہ علاقہ پر قبضے کا منصوبہ ہے اور پشتون عوام، مٹی اور وطن پر ایک ڈرامہ ہے۔ ہماری دنیا تباہ ، عزت برباد ، وطن ملیامیٹ اور مٹی پلید کی گئی، حتی کہ ہمارا عقیدہ بھی خراب کیا گیا، ہمارا ایمان واعتقاد تھا کہ زندگی موت کا مالک اللہ ہے۔ ہمیں اتنا ڈرایا گیا کہ زندگی موت کا یقین خدا سے اُٹھا۔ ریاستی اداروں اور انکے اہلکاروں کو زندگی موت کا مالک سمجھنے لگے۔ یقین ہوا کہ وہ چاہیں تو ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور وہ چاہیں تو ہمیں کبھی ،کسی وقت مار ڈال سکتے ہیں۔ ظلم وجبر نے ہمارا خدا سے یقین اٹھادیامگر ہم خاموش نہ رہیں گے، قوم کو اگاہی دینگے اور پہلے بھی جنہوںں نے قربانیاں دیں تو ایک فضاء ایسی بنائی گئی کہ لوگ قربان ہوں۔ اسکا صلہ یہ ملا کہ ہماری تذلیل کی گئی اور ہمارا جینا دوبھر کردیا، پاکستان کے چپے چپے پر ہمیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ چند دن چیک پوسٹوں پر رویہ بدلا گیا تو وہ فوٹو سیشن تھا، پھر وہی سلوک ہورہاہے مگر اب ہم متحد اور بیدار ہیں۔ ایکدوسرے سے رابطہ ہے، کسی کیساتھ زیادتی ہو توسب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم نے خود کومنظم کرنا اوران کو ظلم سے روکناہے۔
تبصرہ : تیز وتند : عبدالقدوس بلوچ
ٹانک سے بیٹنی لیڈی ڈاکٹررضیہ کو طالبان نے اغواء کیا، وزیرستان لے گئے،پشاور شوروم میں اسکی کارفروخت کیلئے کھڑی کی،اگرریاست بے غیرت تھی تو پختون قوم کو غیرت آتی، اسوقت غیرت کرلیتے تو تمہاری عزتیں بھی خراب نہ ہوتیں۔ طالبان نے غلط عقیدہ خراب کیا اور فوج کیوجہ سے بولنے کی ہمت ہے، عوام کوبیوقوف بنانے سے بہتر ہے کہ شعور واآگہی پھیلاؤ، قوم کوانقلاب کیلئے جگاؤ۔

منظور پشتین شدت پسندی کے تدارک کیلئے کام کریں

manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameel

طالبان تبلیغی جماعت میں ایمان ویقین کی باتیں اور حوروں کے احوال سن کر خود کُش کیلئے تیار ہوتے تھے۔دہشتگردی کے عروج کے دور میں تبلیغی جماعت اور دہشتگردوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ اب شاید تعلقات وہ نہیں رہے ہیں۔ منظور پشین بھی تبلیغی جماعت کا کارکن اور شاگرد معلوم ہوتا ہے، پشتو کی ایک تقریر میں کہتا ہے کہ ’’ آرمی اور اسکے اداروں نے ہماری دنیا تباہ کی اور عقیدہ بھی خراب کرکے آخرت برباد کی ہے۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے مگر اب ہمارے لوگوں کا عقیدہ خراب ہوگیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ آرمی اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں میں ہماری زندگی اور موت ہے‘‘۔
منظور پشتین جاہل دیندار ہے، یہ سبق تبلیغی اساتذہ سے سیکھا ۔ قرآن وسنت میںیہ عقیدہ و ایمان نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا کہ ’’میرا اللہ زندگی اور موت دیتا ہے‘‘ تو نمرود نے ایک بے گناہ کوقتل کیا اور گناہگار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ پھر ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا ربّ سورج کو مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب کرتا ہے تو کفر والا مبہوت ہوگیا۔ جادو گر موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر ایمان لائے تو فرعون نے دھمکی دی کہ میں تمہیں سولی پر چڑھاؤں گا، ہاتھ پیر کاٹوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ تم ہماری اس زندگی کا فیصلہ کرسکتے ہو، آخرت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم نے آخرت خراب نہیں کرنی ہے‘‘۔ تبلیغی اکابر دہشتگردوں کے سامنے بھی حق بات نہ کرسکے تھے ۔
موسیٰ علیہ السلام کا ایمان نبوت و معجزات سے وہ نہ بن سکا جو تبلیغی جماعت کے پنجابی حاجی عبدالوہاب عوام کا بنانا چاہتا ہے جسے قابلِ اعتماد محسود دوست نے دھوکہ دیا۔ نبیﷺ نے چھپ کر ہجرت فرمائی،قرآن وسنت کا ایمان وعقیدہ یہ نہیں۔ منظور پشتین میری بات نہ مانیں لیکن مکین وزیرستان کے مولانا حفیظ اللہ صاحب مرحوم پہلے پکے تبلیغی تھے اور پھر ایک پختون پیر کے مرید بن گئے اور غلط عقیدہ وایمان پر تبلیغی جماعت کو کافرکہا۔ مسلمان کا عقیدہ وایمان قرآن وسنت کی تعلیمات میں موجود ہے۔اللہ کے احکام قرآن میں ہیں کسی کے فرمودات نہیں۔
منظور پشتین کو غلط عقیدے وایمان سے اعلانیہ توبہ کرنے کیساتھ اپنی خواتین کی عزتیں بچانے کیلئے حلالہ کے مسئلہ پر بھی قرآن وسنت کے مطابق باہمی صلح پر رجوع کیلئے اپنی پشتون قوم کو آگاہ کرنا چاہیے۔ مولانا گل نصیب خان سینیٹرJUI نے کہا کہ ’’ فوجی ہماری خواتین کی عزتوں کو لوٹنے کیلئے اغواء کرتے ہیں‘‘۔ اگر یہ سچ ہے تو اس میں ملوث لوگوں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے لیکن جب تم نے لوگوں کو حلالہ کا عادی بناکر بے غیرت اور لعنتی بنادیا ہے تو اپنے قصور پر بھی ضرور غور کرو۔ خان عبدالغار خان عرف باچا خان کے دور میں پختون خواتین کی منڈی لگتی تھی ۔ گائے بھینس کی طرح خریدی گئی خواتین وزیرستان کے شہر کانیگرم میں بھی تھیں۔ باچا خان نے اسکے خلاف کبھی آواز اٹھائی ہو، مہم چلائی ہو، تحریک اُٹھائی تو لا الہ الا اللہ کے بعد تم محمد رسول اللہ کے بجائے باچا خان رسول اللہ کہتے، اسلامستان کے بجائے پختونستان بناتے اسلئے کہ کلمہ گو ایکدوسرے کو کافر، مشرک اور گستاخان کہتے ہیں اور پشتوفلسفہ میں حلالہ کی بے غیرتی بھی ختم ہوتی مگر باچا خان نے تو یہ معمولی کام بھی نہ کیا، جرمنی کے فنڈز سے کانگریس کی تحریک میں مالی مفادات تھے اور اس کی وجہ سے عبدالصمد اچکزئی اور غفار خان کے خاندان عروج پر تھے۔ عوام پیٹ بھرنے کی فکر سے آزاد نہ تھی اور یہ لوگ لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عوام کے سامنے سارے حقائق کھول کر لائے بغیر کام نہیں چلے گا۔
اجتہادات کا تعلق شرعی مسائل سے نہیں بلکہ عدالتی احکام سے ہے۔ قاضی یا جج دو فریق کے درمیان فیصلہ کرنے میں قرآن وسنت کی رہنمائی نہیں پاتا اور اپنی ذہنی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے انصاف فراہم کرے تو یہ اجتہاد ہے۔ 14 اگست کو ایک غیرملکی خاتون سیاح نے اپنے انداز میں پاکستان کی یومِ آزادی کی مناسبت سے ہری قمیص اور سفید شلوار پہن کر جھنڈے کے ساتھ رقص کیا تونیب کے چےئرمین جسٹس ریٹائرڈ نے توہین جھنڈے کی کرپشن کا نوٹس لے لیا۔ لوگ حیران تھے کہ نیب کے چےئرمین کو ہوا کیا ہے؟۔ جس بات پر پاکستانیوں کو خوشی ہو اس پر ناراضگی کا کیاتُک بنتا ہے۔سابق چیف جسٹس کی ذہنی کیفیت اتنی گھٹیا ہوتو تھانے کی پولیس اور فوجی سپاہیوں کی ذہنی حالت کیا ہوگی جو اس قوم کو روزانہ کی بنیاد پر ڈیل کرتے ہیں؟ الیکشن کمشنر سردار رضا اور چےئرمین ہلال مفتی منیب کا کردار سوالیہ نشان ہیں۔ الیکشن کی وجہ سے پوری قوم ڈسٹرب رہی لیکن دوسرے اور تیسرے دن بھی نتائج کا نہیں گنتی کا عمل بھی جاری رہا ۔ ایسے میں سردار رضا کو اپنا استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ پوری دنیا میں حج ایک ہی ہوتا ہے لیکن ہماری قربانی کی عید بھی دنیا سے الگ ہوتی ہے۔ عالمِ اسلام کی امامت کرنے کے قابل پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں نے طوفانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔
منظور پشتین نے بی بی سی پشتو سروس کو انٹرویو سے اپنا گراف گرایا، نہ یہ کہہ سکا کہ میری اجازت سے الیکشن میں حصہ لیا، نہ یہ کہہ سکا کہ میری نافرمانی کرکے الیکشن میں شرکت کی۔ گومگوں سے بہتر تھا کہ کھلے الفاظ میں کہتا کہ ’’ علی وزیرنے پہلے بھی الیکشن لڑا، PTMکو یہ حق نہ تھا کہ اس کو منع کرتی۔ محسن داوڑ کی پوزیشن ایسی تھی کہ جیت سکتے تھے اسلئے انکا فیصلہ درست تھا، الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ اسلئے نہ کیا تھا کہ دوسری پارٹیوں کے ووٹ تقسیم کرکے مخالفت کی فضاء اپنے لئے نہیں بنانا چاہتے تھے، میں ذاتی طور پر الیکشن میں حصہ لیتا تو کامیاب نہ ہوتا‘‘ ۔ منظور پشتین ساتھیوں کی عزت بڑھاتا، اب سینیٹر بن کر غلطی کا ازالہ کرنا چاہیے۔ انسان غلطی کا پتلا اور غلطی سے سیکھتاہے۔ہم معلوم و نامعلوم، مذہبی وسیاسی، تمام پرانی اور نومولودتحریکوں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
محسن داوڑ نے میرانشاہ کے بڑے اجتماع میں احتجاج کی پاداشت میں شہید ہونے والے کانام لیکر کہا کہ ’’ اس نے اپنی قوم ، اپنی مٹی اور اپنے وطن کیلئے قربانی دی اور اس کی قربانی کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آج ہمارے دھرنے کو اتنا وقت ہوا ہے لیکن اس پُر امن احتجاج میں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا ‘‘ ۔ محسن داوڑ کی تقریر میں کھلا تضاد تھا۔ احتجاج کے دوران یہ سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین توڑ پھوڑ کررہے تھے اور پھر فوجی سپاہیوں کی چوکی پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کی۔ اگر وہ گولی نہ مارتے تو مظاہرین کے ہاتھوں مارے جاتے۔ محسن داوڑ اپنے لئے پُرامن احتجاج اور عوام کیلئے چوکی پر چڑھنے کو سراہتے ہیں تو یہ کھلا تضاد ہے۔ یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ تم لوگوں نے مجھے منتخب کیا، جب میں اپنے لئے چوکیوں پر چڑھ دوڑنا پسند نہیں کرتا توتمہاری حوصلہ افزائی نہیں کرسکتا۔ یہ کونسی شہادت ہے کہ چوکیوں پر چڑ ھ دوڑو اور گولیاں لگ جائیں تو واپس لوٹ کر سمجھو کہ ہم کامیاب ہیں، فوجیوں کو اشتعال دلایا ،وہ بدنام اور تم نیک نام ہو۔یہ گھٹیا حرکت ہے، ایسی مزاحمت کرتے کہ خاتون پر ہاتھ ڈالاگیا یا ناحق کسی پر ظلم کیا تو جر أتمندی کا مظاہرہ کرکے شہید ہوگئے!کیا قوم خلعت افغانیت سے عاری ؟