پوسٹ تلاش کریں

ایک اجنبی کے بارے میں‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اجنبی کو میرے پاس حاضر کیا گیا تو میں نے اس کی طرف دائیں جانب سے التفات کیا اور بائیں جانب سے التفات کیا، وہ نظر نہیں آتا تھا مگر اجنبی، پس اللہ کی کتاب پوری عظمت کے ساتھ اس کے سامنے روشن ہوگئی، اس کو ہزار ہا ہزار نیکیاں ملیں اور ہزار ہا ہزار گناہیں اس کی معاف کی گئیں، پس جب وہ فوت ہوا تو شہید (گواہی) کی منزل پاکر فوت ہوا۔ (کتاب الفتن، حدیث نمبر 2002، نعیم بن حماد اُستاذ بخری)

نقش انقلاب کو بڑا کرنے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

mere-baad-khulfa-honge-phir-un-ke-baad-ameer-honge-phir-badshah-honge-phir-jabir-badshah-honge-phir-mere-ehl-e-bait-me-se-aik-shaksh-nikle-ga-al-hadees(M)

 

 

شامی عورتوں کے آج ترکی میں اڈے چل رہے ہیں. اللہ اپنے پاکستان کی حفاظت کرے. عبد القدوس بلوچ

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبد القدوس بلوچ نے کہا: صحافی حقائق بتانے کے بجائے فٹبال کے پلیئر کی طرح مخالف سائڈ پر گول کے چکر میں ہیں۔ رونالڈو ہے تو کوئی میسی۔ جیو کے طلعت حسین و شاہ زیب خانزادہ بھی کھلاڑی ہیں۔ طلعت کو جھوٹ سے بھی شرم نہیں آئی کہ بھٹو نے کہا: ختم نبوت نہیں ختم حکومت کا مسئلہ ہے۔جبکہ قومی اتحاد یا نظام مصطفی کی قیادت کا بھٹو سے ختم نبوت پر اختلاف نہ تھا۔ اصغر خان قادیانی اور نوازشریف اسکی جماعت میں تھے اور ضیاء الحق کے بیٹے انوار الحق کا سسر جنرل رحیم بھی قادیانی تھا۔ جنرل ضیاء کا حکومت پر قبضہ ہوا تو دھرنوں کے بغیر بھی ختم نبوت کے مسئلے پر گھٹنے ٹیکے اور سخت آرڈیننس نافذ کردیا جب قادیانی مشکلات کا شکار ہوئے ، تویورپ میں پناہ لی، امریکہ و یورپ کویہی تکلیف ہے جو قادیانی سے آئینی دفعہ ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ن لیگی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے اعلان کیا: ’’بڑی ہوشیاری سے سازش کی گئی تھی‘‘۔ جن کو سازش کا ذمہ دار قرار دیا ان کو سیاہی سے مٹادیا تھا جو میڈیا پر دکھایا گیا۔جسٹس صدیقی نے کہاکہ اصل مجرم انوشے رحمان کو بچاکرزید حامد کو قربانی کا بکرا بنایا۔ بیرسٹر ظفر اللہ میں سازش چھپانے کی صلاحیت ہے۔ اگر راجہ ظفر الحق کو ہی عدالت بلالے تو سازش کی تہہ تک پہنچنے میں وقت نہ لگے ۔ جسٹس صدیقی نے حکومت کو دھرنا ہٹانے کا حکم دیکر اچھا کیا، ورنہ مہینوں اور سالوں عوام اذیت کا شکار رہتے۔ غیر مسلح پولیس و ایف سی کے اندر یہ صلاحت نہیں کہ دھرنے والوں کو ہٹاسکے ۔ جسٹس صدیقی جوان ہیں ، اگر ڈنڈا بردار ہوکر کسی ڈنڈا بردار سے مقابلہ ہو تو پتہ چلے کہ حکومت کی رٹ طاقت سے ممکن ہے۔ طاہر القادری و عمران خان کے دھرنے میں پی ٹی وی پر قبضہ میں رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کربلوائی ہٹے۔
شورہوا کہ عدالت کے پیچھے فوج ہے اور کھلاڑی صحافیوں نے نوازشریف کے دماغ میں ہوا بھری جس سے حکومت ساکھ کیساتھ اپنا دبدبہ بھی کھو بیٹھی۔جسٹس صدیقی کا یہ ذہن بن گیا کہ دھرنوں کے پیچھے فوج ہے، اسلئے ریمارکس دئیے کہGHQ کے سامنے کوئی دھرناکرے تو فوج کیا کریگی؟ تحقیق کی جائے کہ دھرنے والوں کو آنسو گیس کی گنیں کس نے دیں؟آرمی چیف و رینجرز کو ثالث نہیں کورٹ مارشل ہونا چا ہیے۔ہوسکتا ہے کہ میں قتل یا غائب کردیا جاؤں۔ جسٹس صدیقی کو چاہیے تھا کہ پیسے بانٹنے پر وضاحت طلب کرتے۔یہ انکا بڑا خلوص ہے کہ خود کو آزمائش میں ڈال کریہ ریمارکس دیئے ۔ ظالم و مظلوم کی آنکھ مچولی کا کھیل عدالت میں صدابہار ہے، جس قوم کے ججوں کا ضمیر جاگ جائے تو جبر و ظلم کا خاتمہ ہوکر رہتا ہے۔جج کی بیگم کو غریب بچی پر ظلم کرتے پکڑا گیا مگر وہ کیس دب گیا۔ جنرل راحیل نے فوج میں کرپشن ختم کرنے کی کوشش کی تو فوج پر اسکا اچھا اثر مرتب ہوا۔ نواز شریف نے جنرل راحیل سے دھرنوں کیلئے مدد مانگی تو خورشید شاہ پارلیمنٹ میں گرجے کہ یہ کیا کیا؟۔ اب خورشید شاہ نے خود ہی حکومت کو مشورہ دیا کہ فوج سے مدد لو۔ اس سیاست سے کیا مسائل حل ہونگے؟۔ افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنانے کیلئے پیپلز پارٹی نے آرمی چیف جنرل کیانی کا کردار مان لیا، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کی سیاست ہے۔ جلاؤ گھیراؤ ہوا تو سب پکے مسلمان بن گئے۔ حافظ حمد اللہ نے آواز اٹھائی تھی تو کسی کے کان پر جوں نہ رینگی، اگر اسوقت چیئر مین سینٹ ، عمران خان اور پیپلز پارٹی و ن لیگ ہوش کے ناخن لیتے تو جمہوریت کی زلفیں موالیوں کی طرح پریشان نہ رہتیں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ تھا کہ مشاروت کرکے قوم کو اعتماد میں لیا جاتامگر پارلیمنٹ سازش کی معترف ہو تو اس سے بڑا فراڈ سیاست کے نام پر کیا ہے؟ اور جمہوری قائدین نااہلی کے مسئلہ پر الجھ گئے اور ختم نبوت کا مسئلہ دھرنے کے ذریعے بحران کی صورت اختیار کرگیا۔
صحافیوں کا کام قوم اور اداروں کی درست رہنمائی ہے۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا ، جمہوریت کی بڑی خوبی ہے کہ اس میں لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ جنرل ضیاء نے جب حکومت اور اپوزیشن کو دھوکہ دیکر اقتدار پر قبضہ کیا تو جب تک خدائی موت نہ مرا ، اس وقت تک عوام اس سے اقتدار واگزار کرنے میں ناکام رہی۔ فوج حکومت کے کہنے پر گولیاں بھی مارتی تو یہی مدح سرائی ہونی تھی کہ فوج پہلے سے اس سازش کیلئے کھڑی تھی۔
ن لیگی حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ شہباز شریف اور نواز شریف پہلے سے ذمہ دار عناصر کو برطرف کرنے کا اعلان کرچکے مگر دو ہزار کے دھرنے پر کوئی وزیر مستعفی ہوتا تو یہ تماشہ روز روز دیکھنے کو ملتا۔ معاملہ بگڑ ا تو جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ ملک و قوم کے عظیم مفاد میں دھرنے والوں کا مطالبہ مانا جاتا۔ اپوزیشن نے 2013ء کے الیکشن کو سازش قرار دیا مگر وہ نہ سمجھتے تھے کہ اداروں پر تنقید کرنا کوئی بری بات ہے ۔ عمران خان نے تو افتخار محمد چوہدری سے معافی بھی مانگ لی تھی جسکے بعد مکرنے پر حامد خان بھی ناراض ہوگئے تھے۔ ضمیر ، شرم ، غیرت اور حیاء کی ساری حس تباہ و برباد ہوگئی ہے۔
نواز شریف کوئٹہ کے جلسے میں محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کا حساب چکادے۔ محمود اچکزئی نے وفاداری مشکل وقت میں وقف کر رکھی تھی ،مولانا فضل الرحمن ڈولفن کی طرح بڑی مہارت سے دونوں طرف ناچ رہے تھے۔ اگر زرداری سے کہا تھا کہ نواز شریف کو دھوکہ دیا ہے تو مولانا فضل الرحمن سے بھی کہنا چاہیے کہ زرداری کے دوست نے نواز شریف کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ میری بات کا بہت مذاق اڑایا گیا کہ کیوں نکالا ؟ ۔ مولانا فضل الرحمن سے پوچھتا ہوں کہ کس نے امریکہ کو ختم نبوت کی ترمیم کے بارے میں خبر دی کہ ہم نے کارنامہ کرکے دکھایا۔مولانا! تمہیں بتانا پڑیگا۔ ابھی تو ہماری حکومت ختم نہیں ہوئی کہ تم نے جنازہ پڑھانا شروع کیا۔ جسٹس شوکت صدیقی بھی مولانا فضل الرحمن کو طلب کرکے پوچھ لے کہ کس نے امریکہ کو سازش کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی ، تمہاری جان کو خطرہ نہیں لیکن تم نے بہت ساری جانوں کو خطرات میں ڈالا اور کئی لوگ اسی وجہ سے موت کے شکار ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن ایک زبان میں ایک طرف کہتے کہ ختم نبوت کے قلعے پر حملہ ہوا اور دوسری طرف پانامہ کو سازش قرار دیتے۔ نواز شریف کیخلاف یہ کیس تو عدالتوں و نیب میں پہلے سے موجود تھے جس پر سیاست اور طاقت کی گرد تھی جس کو سازش قرار دیا جارہا تھا مگر پارلیمنٹ میں کیسے سازش ہوگئی؟۔ اس کا جواب چاہیے۔
بعض صحافیوں کیلئے گدھے سے جھوٹ کا دودھ نچوڑنا بھی مشکل نہ ہوگا مگر اچھے صحافیوں کی بھی کمی نہیں ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں ،اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے ہیں مگر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’آئی ایس آئی کو رپورٹ دینی چاہیے تھی کہ حساس معاملہ ہے اور اس مہینے میں اسکے مضمرات کچھ بھی نکل سکتے ہیں‘‘ اسلئے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال بار بار کورٹ کے سامنے اور میڈیا پر یہ بات دہراتے رہے تھے۔ ایجنسی کا کام خفیہ رپورٹوں کا ہوتا ہے۔ رد الفساد ملٹری کا کام ہے۔ دھرنے حکومت کے دائرہ کار میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مرکز اورسراج الحق صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے دھرنا نہ کر سکے۔ جمہوری نظام کی دُم پکڑ کر چلنے والی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام نے خود سمیت تمام جماعتوں کے منہ پر بھی اسلئے کالک مل دی ہے کہ سازش کی نشاندہی کے باوجود اس کفر کو ووٹ بھی دیا۔
میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی؟ ، جب حکومت اور دھرنا والوں نے فوج کو ثالث بناکر فیصلہ کرلیا تو ؟۔ دھرنے والے پنجابی بدمعاش سیاسی رہنماؤں اور گلو بٹوں سے لڑ سکتے ہیں تو لیگی کارکن عدالتوں پر بھی چڑھ دوڑنے کی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کا تو سارا گلہ شکوہ یہی تھا کہ فوج ہمیں ضمانت دے کہ اگر اپنے آپے سے باہر آنیوالے ججوں کی مرمت کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ عدالت کو کٹھ پتلی قرار دینے والے ن لیگی رہنماؤں کی یہی آرزو ہے کہ فوج عدلیہ کو تحفظ نہ دے تو ہم ماڈل ٹاؤن کی طرح انکی اینٹ سے اینٹ بجادیں۔ دھرنے والے ن لیگ کی اپنی پالیسی کے نتیجے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جیو کی صحافی رابعہ انعم نے اپنے پروگرام ’’لیکن‘‘ میں یہ بات بہت اچھے انداز میں اٹھائی کہ شہباز شریف خود ہی سازش کرنیوالے وزیر کو نکالنے کا مطالبہ کررہے تھے تو دھرنے والوں کا کیا قصورہوسکتاہے؟۔
دھرنے والوں کا ن لیگ نے کھلم کھلا فوج پر الزام نہیں لگایا مگر عدلیہ پر الزام لگائے، کیا کوئی مدعی سست گواہ چست کا کردار تو ادا نہیں کررہا ؟ عدلیہ ، فوج ، سیاستدان، مذہبی طبقے اور علماء بڑے پکے مسلمان ہیں تو مدارس کے نصاب کا بھی نوٹس لیں جس میں قرآن کیخلاف کفریہ تعلیم ہے۔ طلاق کے مسئلے پر بڑا انحراف کرکے خواتین کی عصمت دری اور لوگوں کے گھر تباہ کئے جاتے ہیں۔حکومت ، عدلیہ اور فوج دھرنے والے سمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں ، تنظیموں اور مدارس سے پوچھیں کہ کیا اس طرح کا نصاب پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟۔

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi-2

شیریں مزاری کی بیٹی نے جسطرح پاک فوج پر لعنت کی ہے تو یقیناًقادیانیوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے ۔ اس لعنت کو سوشل میڈیا نے خوب پھیلادیا ،اور جس طرح کے ماحول میں جس کی برینواشنگ ہوتی ہے وہی اسکی زباں سے نکلتاہے۔مرزائی سربراہ کی ویڈیو آئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ تحریک انصاف قائم ہوئی تو عمران خان نے ووٹ کیلئے نمائندہ بھیجا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اگر تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں کو پتہ چلتا تو ن لیگی رہنماؤں کی طرح عمران خان کے گھر پر بھی ہلا بول دیا جاتا۔ عمران خان نے اس خوف سے نکلنے پر صبح دو رکعت شکرانہ ادا کیا۔ شیرین مزاری کی بیٹی کے بیان سے جان چھڑانے کے جتن میں وقت گزارنے کے بعد فوج کے اقدام کی خوب مدح ا سرائی کی۔ اگر ختم نبوت کا مسئلہ عالمی سازش ہو تو تحریک انصاف اس کا حصہ تھی اور مذہبی مسئلہ تھا تو جمعیت علماء اسلام ذمہ داری سے بچ سکتی ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی۔
اگر یہ کوئی سازش نہیں تھی اور غفلت سے یہ سب کچھ ہوا ہے تو اسلام کے ٹھیکہ داروں نے بھی غفلت میں درسِ نظامی کے نصاب پر ابتک کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ پارلیمنٹ میں دونوں مسئلوں کا موازنہ کیا جائے کہ کس کی زیادہ اور کس کی کم غفلت ہے تو یقیناًعلماء و اولیاء کی غلطی بھی معلوم ہوجائے گی۔انبیاء کرامؑ معصوم ہیں ، ان کی وحی سے رہنمائی ہوتی ہے۔کئی معاملا ت میں قرآن نے رسول ﷺ کی رہنمائی فرمائی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا طرزِ عمل اور شیطانی وحی محمدی بیگم کے حوالے سے بھی انتہائی شرمناک تھی۔ نبی ومھدی تو دور کی بات ہے کوئی اچھے انسان بھی ہوتے تو کسی خاتون پر اسطرح سے زبردستی زور نہ ڈالتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نبیﷺ نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے آپؐ سے شادی کرائی تو فرمایا کہ میں نے سوچا کہ اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہوگا تو پورا نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری)
فرقہ واریت میں مبتلاء عناصرکوجو نفرت ایکدوسرے سے ہے، وہ مرزائیوں سے نہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ قرآن وسنت پر ہمارا ایمان ہے۔ختم نبوت کے منکر ہم نہیں بلکہ دیگر مسلمان ہیں اسلئے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئیں گے۔ یہی ختم نبوت سے انکار ہے۔ قرآن میں اللہ نے جس طرح شہداء کیلئے فرمایا کہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیاجاتا ہے۔اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کیلئے فرمایاکہ ان کو اللہ نے اٹھالیااور وہ یقیناًقتل نہیں ہوئے، لیکن قرآن میں یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ پوچھا جائیگا کہ آپ ؐنے یہ تعلیم دی تھی کہ تجھے اورتیری ماں کو دوالہ بنایا جائے تو وہ کہے گا کہ جب تک میں ان میں موجود رہا تو اے اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ میں نے یہ تعلیم نہیں دی اور جب تو نے مجھے وفات دیدی تو مجھے کوئی پتہ نہیں‘‘۔ قرآن جبکہ ان بڑے بڑے لوگوں کا بھی یہ نظریہ ہے جنکا مرزائیوں سے دور کا واسطہ نہ تھا کہ قرآن کا تقاضہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو فوت سمجھا جائے۔ علامہ اقبال نے غلام قادیانی کو مجذوبِ فرنگی کہا لیکن اس بحث کو شیطانی چال کہاکہ ابن مریم مر گیا یا زندہ جاویدہے، امت کی کس عقیدے میں نجات ہے۔ پھر علامہ اقبال کا ایک بیٹا بھی قادیانی بن گیا۔ جب قادیانیوں پر پابندی نہیں تھی تو بہت کم لوگ قادیانی بنتے تھے اور پابندی لگی تو بڑے پیمانے پر قادیانی بن رہے ہیں۔ علماء اور فوجی افسران ہمارے پیر بھائی تھے اور ان سب کے ایمان کا ہم نے تماشہ دیکھاہے۔

جب قرآن کو قرآن نہ مانا جائے تو اسلام کے خلاف اس سے بڑی سازش کیا ہوسکتی ہے؟

dars-e-nizami-me-hei-keh-quran-se-murad-quran-ke-nuskhe-nahi-yeh-nuqoosh-hein-jo-na-lafz-hein-na-maani-hukumat-or-riasat-notice-le

جمہوری نظام کا تعلق اقتدار سے ہے، آئین میں طے تھا کہ 15سال تک انگریزی چھوڑ کراردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائیگا اور تمام قوانین اسلام کے مطابق ہونگے۔ پارلیمنٹ کی اکثریت کو آج بھی انگریزی نہیں آتی مگر پھر بھی 44سال سے تمام سرکاری دستاویزات کو اردو میں نہ بدلا گیا اور نہ بدلنے کا کوئی پروگرام ہے۔ حافظ حمداللہ نے بتایا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی ساز ش ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت کوئی دوسری جماعت اس کیلئے کھڑی نہ تھی۔ جمعیت علماء اسلام نے خود بھی اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ عمران خان نے اقتدار کیلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین سے بھی ملاقات کی تھی اور پارلیمنٹ میں ان کیلئے وعدہ بھی کیا تھا۔ اس وعدے کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پارلیمنت میں اس ترمیم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی، شیرین مزاری و عمران خان نے بھی اس ترمیم کے علاوہ دوسری چیزوں پر اعتراضات اٹھائے۔ ان سب کے خیال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قادیانی تھے اور ان کی ناراضگی مول نہ لے سکتے تھے۔ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کے خلاف آواز اٹھ گئی مگر کسی کی کان پر جوں نہ رینگی، جب پاک فوج کے ترجمان نے یہ وضاحت کردی کہ ’’آرمی ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریگی‘‘ توحکومت نے یوٹرن لیامگر بات دھرنے تک جاپہنچی۔
میڈیا ،پاک فوج، سیاستدانوں اور علماء ومفتیان کی توجہ ہم اپنے اخبار اور کتابوں کے ذریعے سے مسلسل اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرتے رہے ہیں کہ اسلامی مدارس میں قرآن کی تعریف میں تحریف کا ارتکاب کیا گیاہے لیکن جس طرح ختم نبوت کی ترمیم کے مسئلہ پر جلاؤ گھیراؤ ہوا، اس طرح جلاؤ گھیراؤ سے پہلے مخلص شخصیات اور اداروں کواپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔ سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، تحریک طالبان اور مختلف دھڑوں کی افزائش کے بعداب تحریک لبیک یارسول اللہ نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ طالبان بریلوی مکتبۂ فکر والوں کو مشرک قرار دیکر قرآن کا حکم سمجھ کر قتل کرتے تھے، بریلوی دیوبندیوں کو گستاخ قرار دیکر ان کو قتل کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ کے قتل پر بریلوی مکتبۂ فکر نے خوشی میں میٹھائیاں بانٹیں تھیں۔
بریلوی دیوبندی کے علاوہ حنفی اہلحدیث کے نام پر بھی فرقہ وارانہ شدت موجود ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا عسکری ونگوں سے بھی گٹھ جوڑ ہے۔ تحریک طالبان مجھ پر بریلوی کا ٹائٹل لگارہی تھی اسلئے میرا گھر تباہ کیا گیا، اگرچہ جمعیت علماء اسلام ف و س اور ختم نبوت کی ضلعی قیادت اور ٹانک کے تمام دیوبندی علماء تحریری اور تقریری حمایت بھی کرتے تھے۔ مذہبی جنونیت علم نہیں جہالت کی وجہ سے ہی پروان چڑھتی ہے، علم کو عام کرنے کیلئے نصاب کو درست کرنا ضروری ہے۔ مدارس کی مقبولیت بھی اسی میں ہے۔
جب مدارس میں قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ کتاب وہ قرآن ہے جو مصاحف میں لکھاگیاہے مگر اس سے مراد کتابت کی شکل میں موجود قرآن نہیں ، یہ نقش ہے جو نہ الفاظ ہے اور نہ معنیٰ ہے۔ تو سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ انوکھی تعریف کہاں سے لائی گئی ہے۔ کتاب تو وہی ہوتی ہے جو کتابت کی صورت میں موجود ہو۔ کوئی ان پڑھ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے؟، بچہ اور بچی بھی سمجھ رکھتے ہیں کہ کتاب کیا ہے؟ اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔
کتاب کی یہ تعریف قرآن مجید سے نہیں بلکہ علم الکلام سے لی گئی ہے۔ علم الکلام وہ علم ہے جس کو گمراہی قرار دیکر امام ابوحنیفہ ؒ نے تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ فرمائی تھی۔ یہ کس قدر ڈھیٹ پن ہے جس میں آنکھ بینائی، کان سننے ، دماغ سوچنے اور دل سمجھنے سے محروم ہیں کہ یہی کہاجاہے کہ کتاب سے مراد قرآن المکتوب فی المصاحف ’’ جومصاحف میں لکھا گیاہے‘‘ ہے مگر قرآنی نسخوں میں لکھاگیا مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو محض نقوش ہیں۔ چناچہ فقہ کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف کا کفارہ دینا پڑیگا مگر قرآن کے مصحف پرہاتھ رکھنے سے حلف منعقدنہیں ہوتا کیونکہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ بات بھی ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتب میں لکھا گیاہے کہ سورۂ فاتحہ یا دیگر آیات کو علاج کیلئے بول یعنی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کتابوں ’’ تکملہ فتح الملہم ‘‘ اور ’’ فقہی مقالات‘‘ میں لکھ دیا تھا کہ’’ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں لکھاہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا تو سورۂ فاتحہ کو بھی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ میں نے کوشش کے باجود امام ابویوسفؒ کی کتابوں میں یقین کی شرط نہیں پائی‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے دعوتِ اسلامی کی مہم جوئی سے گھبرا کر روزنامہ اسلام اخبار میں مضمون لکھ کر اپنی کتابوں سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ مگرفتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان میں تاحال یہ عبارات موجود ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی شرح صحیح مسلم میں اتنا لکھاکہ ’’علامہ شامیؒ سے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ ان کے دل میں قرآن کا بڑا تقدس تھا‘‘۔ تو بریلوی مکتب کے علماء نے ہی علامہ سعیدیؒ کا گریبان پکڑا تھاکہ تم نے علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کیسے کردی۔
تحریک انصاف کے ایک مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کیس میں ریمانڈ پر ہیں تو دوسرے مفتی سعید خان نے بھی اپنی کتاب’’ ریزہ الماس‘‘ میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب لکھنا نہ صرف جائز قرار دینے کا دفاع کیا ہے بلکہ یہانتک لکھ دیا ہے کہ قرآن میں خنزیر کا گوشت بوقت ضرورت جائز ہے تو وہ جسم کا حصہ بھی بنتاہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ نہیں بنتاہے۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی ۔ مفتی سعید خان سے بالمشافہ علماء کی مخالفت بھی کی۔
قرآن میں ہے :الذین یکتبون الکتاب بایدیہم ’’جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب وہ ہے جو ہاتھ سے لکھی جاتی ہے۔ وقلم ومایسطرون ’’قسم قلم کی اور جو کچھ سطروں میں لکھاہے اس کی قسم ‘‘۔ اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں قرآن وسنت کیخلاف واضح مواد نے علماء ومفتیان کو گمراہی میں ڈال دیاہے۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے موجودہ دور میں مساجد کے علماء کو احادیث کی بنیاد پر بدترین مخلوق اور مدارس کے مفتیوں کو جاہل قرار دیاہے جبکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں علماء کے اٹھ جانے سے علم کے اٹھنے و جاہلوں کا رئیس بننے کی اس حدیث کو چار امام کے بعدہی تمام آنیوالے علماء پر فٹ کیاہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ٹھیک بات کہی ہے گو اسکا ارادہ باطل ہے۔ جیسے حضرت علیؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’ ان کی بات درست ہے مگر وہ اس ٹھیک بات سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔
اپنی کتابوں’’ ابررحمت ،تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوارحل‘‘ میں پیچیدہ مسائل کے آسان حل کی کوشش کی ہے جسکی تمام مکاتبِ فکر نے تائید بھی کردی ہے۔ بڑے بڑوں نے گدھوں کی طرح آنکھ بند کرکے سمجھ رکھاہے کہ مذہب کی تجارت چل رہی ہے مگر ڈریں اسوقت سے جب مکافات عمل شروع ہوگا اور پھر ہمارے بچانے سے بھی یہ سب بچ نہ پائیں گے۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جس علم الکلام کو گمراہی قرار دیا تھا وہ اصول فقہ میں قرآن کے خلاف سازش یا غلطی سے شامل ہواہے تو اس کو نصاب سے خارج کردینا چاہیے تھا، جس کی ہم نے بار بار زبردست طریقے سے نشاندہی کی۔ جب قرآن میں بسم اللہ کے وجود کو صحیح قرار دینے کے باوجود مشکوک کہا جائے تو قرآن پر ایمان باقی نہیں رہتا، جہری نمازوں میں جہر سے بسم اللہ پڑھنے پر امام شافعیؒ کو رافضی قرار دیاگیا اور منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا تو آج خطرہ ہے کہ جہری بسم اللہ پر خود کش نہ ہوجائے۔ افراتفری کی فضاء سے علماء اور حکمرانوں کو سخت نقصان پہنچے گا جو آرام سے کھا پی رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی اتنی مہربانی کریں کہ اپنی اپنی کتابوں میں حدیث کے ادھورے حوالہ کی عوام کے سامنے صرف وضاحت کردیں تاکہ گونگا شیطان یا علم چھپانے کی وعید سے بچ جائیں اور 12امام کادرست نقشہ بھی سب کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی اپنی کتاب ’’تصفیہ مابین شیعہ و سنی‘‘ میں لکھا کہ’’ بارہ امام آئندہ آئینگے‘‘۔ جس حدیث میں آخری امیر کو واضح کیا گیا ہے اسی میں قحطانی امیر سے قبل والے مہدی کی بھی وضاحت ہے۔ اجنبی کیلئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اس پر قرآن اپنی عظمت کے ساتھ روشن ہوگا‘‘۔ آج ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔

تین طلاق اور حلالہ کے مسئلے پر فیصلہ کن و زبردست تحریر

rasul-allah-ne-fatah-makka-ke-moqe-per-farmaya-tum-per-aaj-koi-malamat-nahi-tum-azad-ho-lafz-talaq-me-koi-burai-nahi

دیوبندی بریلوی حنفی ہیں ۔ عرصہ سے تین طلاق اور مروجہ حلالہ کا مسئلہ چلا آرہا ہے۔ ہندوؤں نے مذہبی کتابوں کی طرف رجوع شروع کردیا ہے۔ اگر ان کی کسی مذہبی کتاب کی سے ثابت ہو کہ ’’گائے کا پیشاب پینا جائز نہیں‘‘ تو ہندو اکثریت سوال اٹھائے کہ ہمارے آبا و اجداد کے آباو اجداد کے آبا و اجداد کے آبا و اجداد ۔۔۔ نے تسلسل سے مقدس مشروب نوش کرنا مذہبی فریضہ سمجھا او ہم کیسے مانیں کہ گائے کا پیشاب جائز نہیں۔ علامہ اقبال نے کہا کہ اصل میری سومناتی ہے ۔ پاکستان میں دیوبندی بریلوی اکثریت سومناتی ہے۔ لاتی و مناتی مشرکین مکہ اور جاہلیت عرب کے شرک و جہالت کا خاتمہ اسلام کی نشاۃ اول سے ہوا۔ اور اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ذریعے انشاء اللہ نہ صرف پاکستان ، ہندوستان ، ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں اسلامی انقلاب آئیگا اور دنیا کی تمام جہالتوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گا۔
8سو سال برصغیر پاک و ہند پر مسلمانوں کا اقتدار رہا لیکن ہندوؤں نے تین طلاق اور حلالہ کی بے غیرتی کو قبول نہ کیا۔ حلالہ کی بے غیرتی اور گائے کے پیشاب کے درمیان ایک نیا مذہب گرونانک نے ایجاد کیا جسکے پیروکاروں کا نام سکھ ہے، راجا رنجیت سنگھ نے پنجاب میں اقتدار پر قبضہ کیا تو انگریز کیلئے یہ مشکل محاذ تھا۔ راجا رنجیت سنگھ سے اقتدار چھیننے کیلئے حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سید احمد بریلویؒ کو انگریز نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی اُمید پر خلافت کے قیام کیلئے چھوڑ ا۔ مگر ان کو بالاکوٹ کے مقام پر ساتھیوں سمیت شہید کردیاگیا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں خلافت کی کوشش ناکام ہوئی۔ فیصلہ ہفت مسئلہ میں حاجی مہاجر مکیؒ نے مریدوں اور خلفاء کے درمیان فروعی اختلافات کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مالٹا سے رہائی کے بعد تحریک ریشمی رومال کے شیخ الہند ؒ نے اپنے شاگردوں کو فرقہ واریت کے خلاف اور قرآن کی طرف اُمت کو متوجہ کرنے کی کوشش کا آغاز کیا مگر اسی سال 1920ء میں رہائی کے چند ماہ بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ایک طرف تقلید کی باگیں ڈھیلی کردیں تو دوسری طرف قرآن کا ترجمہ کردیا۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کو بدعت قرار دیا اور دیوبندی اکابرؒ نے قرآن و سنت کی طرف توجہ کی۔ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے ’’حسام الحرمین‘‘ کا فتویٰ لگایا جس میں حرمین شریفین کے علماء کے دستخط بھی تھے۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے ’’المہند علی المفند‘‘ کے نام سے دیوبندی اکابر کا دفاع کیا کہ ہم چاروں ائمہ کی تقلید کو برحق مانتے ہیں اور فقہ حنفی سے ہمارا تعلق ہے۔ اور چاروں سلاسل نقشبندی، قادری، سہروردی اور چشتی کو برحق سمجھتے ہیں اور ہمارا تعلق چشتیہ سلسلہ سے ہے۔ اگر مسلکی بنیادوں پر فروعی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قرآن و سنت کی طرف توجہ کی جاتی تو حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دونوں ایکدوسرے کیساتھ شانہ بشانہ کام کرتے۔ مزارات پر غیر شرعی رسومات کیخلاف مولانا احمد رضا خان بریلویؒ دیوبندی اکابر سے کم نہیں تھے لیکن جس جرأتمندی کا مظاہرہ دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء نے کیا وہ بریلوی مکتبہ فکر کے علماء نہیں کرسکے۔
قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ کے اندر طلاق و رجوع کے حوالے سے کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں۔ فقہ حنفی کے اصول کا منبع قرآنی آیات کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کا تضاد ہے۔ اصول فقہ کی پہلی کتاب ’’اصول الشاشی ‘‘ کا پہلا سبق ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت: 230 حتی تنکح زوجاً غیرہ ’’یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘ میں عورت کو نکاح کی آزادی دی گئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ’’ عورت اگر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اسکا نکاح باطل ہے ، باطل ہے، باطل ہے‘‘۔ قرآن میں آزادی ہے اورحدیث میں عورت پر نکاح کیلئے ولی کی اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا قرآن پر فیصلہ کیا جائیگا اور حدیث کو ترک کردیا جائیگا۔ یہ حنفی مسلک جمہور مسلکوں کیخلاف ہے، انکے نزدیک حدیث صحیحہ کے مطابق عورت ولی کی اجازت کی پابند ہے۔ اسی طرح اللہ نے فرمایا کہ فلیطوفوا باالبیت العتیق ’’اور کعبہ کا طواف کرو‘‘ جس میں بظاہر وضو کا حکم بھی نہیں ہے جبکہ نماز کیلئے اللہ تعالیٰ نے وضو کا حکم دیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ طواف پاکی کی حالت میں اور باوضو کرو۔ حنفی مسلک کے نزدیک اگر حدیث کے مطابق وضو کو طواف کیلئے بھی ضروری قرار دیا جائے تو یہ قرآن پر اضافہ ہوگا اسلئے طواف کیلئے وضو فرض نہیں۔
طلاق سے رجوع کیلئے قرآن میں وضاحت ہے : المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء … و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ’’طلاق والی عورتیں 3مراحل تک خود کو انتظار میں رکھیں ۔۔۔ اور انکے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا اصلاح کی شرط پر حق رکھتے ہیں‘‘(البقرہ: 228)۔ آیت میں رجوع کو صلح کی شرط پر عدت کے آخر تک جائز قرار دیا گیا ۔ اگر حدیث میں واضح طور سے ہوتا کہ عدت کے دوران صلح کی شرط پر رجوع نہیں ہوسکتا تو مسلک حنفی کا تقاضہ تھا کہ اس صحیح حدیث کو بھی نہ مانتے۔
لوہے کولوہا کاٹتا ہے۔ قرآن کی آیت کو قرآن کی آیت ہی سے کاٹا جاسکتا ہے ۔ مولوی کہتا ہے کہ اللہ اگلی آیت میں نعوذ باللہ خود پھنس گیا۔ فرمایا: الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ’’طلاق دو مرتبہ ہے اور پھر معروف طریقے سے رکھنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا‘‘(البقرہ: 229)۔ اللہ نے اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ،تو دوسری آیت میں دو مرتبہ طلاق پر غیر مشروط رجوع کی اجازت دی اور پہلی آیت کا حکم ختم کردیا اور پھر 2 مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق پر مدت کے اندر بھی رجوع کا خاتمہ کردیا۔ اہلحدیث کے نزدیک بھی 3 مجالس میں 3 مرتبہ طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ یہ بات درست تسلیم کی جائے تو قرآن میں تضاد و اختلاف ثابت ہوگا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ نے آیت 228 البقرہ میں عدت کے دوران صلح کی شرط پر اجازت دی اور 229 میں 2مرتبہ غیر مشروط رجوع کی اجازت دی اور تیسری مرتبہ پر عدت میں رجوع کا دروازہ بند کردیا۔ جبکہ قرآن نے چیلنج کیا ہے کہ افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً ’’یہ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارا اختلاف (تضاد) پایا جاتا‘‘۔
قرآن میں تضاد نہیں۔ آیت : 228میں جن 3 ادوار کا ذکر کیا تھا ، آیت: 229میں بھی انہی 3 ادوار کا ذکر ہے۔ معروف رجوع اور صلح کی شرط پر رجوع میں کوئی فرق نہیں ۔ حنفی اور شافعی مسلکوں کے تضاد کو رجوع کے حوالے سے سامنے لایا گیا تو منکرات بھی شرما کر رہ جائیں۔ شافعی مسلک میں نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہ ہوگا اور حنفی مسلک میں شہوت کی نظر غلطی سے پڑنے پر بھی رجوع ہوگا۔ جن 3ادوار میں اللہ نے صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت آیت 228میں دی تھی ، اسی کو آیت 229میں بھی اسی طرح وضاحت کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے۔ سورہ طلاق اور بخاری کی احادیث میں بھی وضاحت ہے۔
اللہ نے واضح کردیا کہ رجوع کا تعلق عدت سے ہے۔ یہ بھی واضح کیا کہ حیض میں 3 مرتبہ طلاق کا تعلق حیض کے 3ادوار سے ہے۔ اصلاح کی شرط و معروف رجوع کی اجازت عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر ہے۔ سورہ بقرہ آیت 228، 229، 231، 232۔ اسی طرح سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی یہ وضاحت بھرپور طریقے سے موجود ہے۔ علماء کرام و مفتیان عظام اور عوام کو سب سے بڑا مغالطہ سورہ بقرہ آیت 230سے ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’پھر اگر اس کو طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے شادی کرلے‘‘ ۔ کسی بھی آیت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے کی آیات اور بعد کی آیات سے اس کا ربط بھی دیکھ لیا جائے۔
علماء کرام جانتے ہیں کہ فقہ و اصول فقہ کی کتابوں میں حنفی اور جمہور علماء کے اختلافات موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟ ، تو فرمایا کہ الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔ مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں اس کو نقل کیا ۔ یہ حدیث سے واضح ہے کہ اصول فقہ اور تفسیر کی کتابوں میں یہ بحث فضول ہے کہ آیت 229 میں عورت کی طرف سے فدیہ دینے کا ذکر جملہ معترضہ ہے یا متصل ہے؟۔ اور یہ بات بھی سراسر حماقت ہے کہ اس سے مراد خلع ہے کیونکہ 2مرتبہ طلاق کے بعد خلع کی ضرورت کیا ہے؟۔ سورہ نساء آیت 19میں خلع کا ذکر ہے اور خلع کی احادیث کو اسکے ضمن میں لکھنے کی ضرورت تھی۔ آیت 229کے آخر میں اس بات کا ذکر ہے کہ ’’تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ، اس میں سے کچھ بھی واپس لو، مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ، یہ اللہ کے حدود ہیں اور جو ان سے تجاوز کرے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔ حنفی مسلک کی کتاب ’’نور الانوار‘‘ میں یہ وضاحت ہے کہ’’ آیت 230کا تعلق اس متصل فدیہ کی صورت سے ہے‘‘۔ علامہ ابن قیمؒ نے ابن عباسؓ کا بھی یہ قول نقل کیا ہے کہ قرآن کو اسکے سیاق و سباق سے نہیں ہٹایا جاسکتا ہے اور اس آیت 230 کا تعلق فدیہ کی متصل صورت سے ہے۔ (زاد المعاد: ابن قیمؒ )۔
عوام الناس کو سمجھانے کیلئے یہ بات بھی کافی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق کی 3 شکلیں ہیں ۔ 1:میاں بیوی دونوں جدا ہونا چاہتے ہوں ۔ 2: شوہر نے طلاق دی ہو ، بیوی جدائی نہ چاہتی ہو۔ 3: شوہر جدائی نہ چاہتا ہو مگر عورت نے خلع لیا ہو۔ آیت 230البقرہ میں وہ صورت ہے جب میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے باہوش وحواس دونوں میں جدائی کا فیصلہ کریں۔ یہاں تک کہ عورت کو شوہر کے دئیے ہوئے مال میں سے کچھ دینا حلال نہ ہونے کے باوجود فدیہ کی صورت اس صورت میں جائز ہو کہ جب وہ چیز رابطے کا ذریعہ اور اللہ کے حدود توڑنے کیلئے خدشہ بنے۔ ایسی صورت میں بھی شوہر کی فطری مجبوری ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی ماں کیلئے کسی اور سے اس کی مرضی کے مطابق شادی میں رکاوٹ کھڑی کرے۔ عمران خان نے کچھ عرصہ قبل ریحام خان کو طلاق دیدی تو وہ پاکستان اپنی جان پر کھیل کر آئی۔ لیڈی ڈیانا کو اس جرم پر ما ر دیا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ کیلئے اللہ نے فرمایا : آپ کی ازواج سے کبھی بھی نکاح نہ کرے ، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے۔ کوئی انسان بھی اس فطری خصلت سے انحراف نہیں کرسکتا کہ بیوی کو طلاق کے بعد کسی اور سے نکاح کرنے میں برداشت کرسکے۔ اسی طرح عورت کی بھی یہ فطری خصلت ہوتی ہے کہ طلاق کے بعد کسی اور سے شادی کرنے میں عار محسوس کرتی ہے اور اپنی غیرت کیخلاف سمجھتی ہے۔ رسول ﷺ کی چچا زاد حضرت اُم ہانیؓ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں مگر مشرک شوہر کی وجہ سے ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد شوہر چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے نکاح کی پیشکش کی لیکن آپؓ نے اُم المؤمنین بننے کے شرف کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اُردو کی مشہور شاعرہ پروین شاکرؒ کو شوہر نے طلاق دی، کسی اور سے نکاح کرلیا مگر پروین شاکرؒ فطرت پر ڈٹ گئی اور زندگی اپنے بے وفا شوہرکی نذر کردی۔ وہ ان ہزاروں لاکھوں خواتین کی حقیقی ترجمان تھیں جن میں حلالہ کی وجہ سے نہیں فطری غیرت کی وجہ سے سابقہ شوہر کی وفا ہوتی ہے۔
جب لڑکی کنواری ہوتی ہے تو باپ اور ولی اس کو اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا ۔ کورٹ میرج اور قتل کے واقعات میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔ حدیث میں ایک طرف باپ کو پابند کیا گیا ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا کسی سے نکاح کرانا جائز نہیں ، اور دوسری طرف ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح باطل قرار دیا گیا ۔ معاشرے میں احادیث کی بنیاد پر توازن اور اعتدال کی راہ ہموار ہوسکتی تھی لیکن اس کیلئے کوئی سنجیدہ قسم کی علمی اور معاشرتی کوشش نہیں کی گئی۔ جس طرح باپ لڑکی کی مرضی سے نکاح میں رکاوٹ بنتا ہے ، اس طرح باہوش و حواس طلاق کے بعد بھی سابقہ شوہر عورت کے نکاح میں رکاوٹ بنتا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ نے بھرپور طریقے سے وضاحت فرمائی ہے کہ جب وہ باہوش و حواس طلاق دیتا ہے تو کسی اور سے نکاح کرنے میں رکاوٹ کھڑی کرنا اس کیلئے جائز نہیں ہے۔
حلالہ کی لعنت کے رسیاکو زنا کاری کا حدجاری کرنے سے ہی روکا جاسکتاہے لیکن اس بات کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے کہ جس طلاق سے پہلے نہ صرف میاں بیوی جدا ہونے پر باہوش وحواس بضد ہوں بلکہ وہ خود بھی اور فیصلہ کرنے والے بھی آئندہ رابطے کا بھی کوئی ذریعہ چھوڑنے کیلئے تیار نہ ہوں۔ ایسی صورت میں سوال یہ پیدا نہیں ہوتاہے کہ رجوع جائز ہے یا نہیں بلکہ مسئلہ یہ آتاہے کہ اگر عورت طلاق کے بعد شوہر کے گھر میں بیٹھ جائے یا اپنے یا باپ کے گھر میں بیٹھ جائے تو شوہر کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ہے۔ لیکن جب وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہو تو پہلا شوہر اسکے رکاوٹ بنتاہے اور یہ فطری بات ہے انسانوں اور جانوروں کے علاوہ پرندوں میں بھی یہ خصلت ہوتی ہے، اسلئے اس موقع پر اللہ نے واضح کر دیا کہ اس طلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیں کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ پیدا کرلے۔ یہ وہ صورت ہے جس کا ذکر آیت 230البقرہ میں کیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوہی نہیں سکتا ہے کہ مرغی پر چھرا پھیرنے کی طرح رجوع کیلئے حلالہ کی مروجہ لعنت مراد ہے اور سورۂ بقرہ کی آیات224سے232تک دیکھی جائیں تو حلالہ کی جہالت کا بہر صورت ان میں خاتمہ نظر آتاہے۔بخاری و ابوداؤد کی حدیت اور سورۂ طلاق کی وضاحت بھی ہے۔
2: دوسری صورت یہ ہے کہ شوہر نے طلاق دی اور بیوی جدائی نہیں چاہتی ہے تو شوہر کو عدت کی تکمیل پر بھی معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ جسکا ذکر آیت 231 البقرہ میں ہے۔ 3: تیسری صورت یہ ہے کہ عورت جدائی چاہتی ہو اور مرد نے طلاق دی ہو تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی جب دونوں آپس میں راضی ہوں تو معروف طریقے سے رجوع میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر آیت 232البقرہ میں ہے۔ علاوہ ازیں سورہ طلاق میں بھی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر نہ صرف معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش کا ذکر ہے بلکہ طلاق کی صورت میں دو عادل گواہ مقرر کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ عدت کی تکمیل پر گواہوں کا تقرر تمام مسائل کے حل کا مجموعہ ہے۔
لفظ طلاق میں کوئی کراہت اور برائی نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا :لا تثریب علیکم الیوم انتم طلقاء ’’تم پر آج کوئی ملامت نہیں تم آزاد ہو‘‘۔ طلاق کے لفظ میں برائی ہوتی تو نبی کریم ﷺ ملامت نہ کرنے والوں کو طلقاء کیوں بولتے؟ مگر اس میں برائی نہیں۔ میاں بیوی کی جدائی کو نبی ﷺ نے ابغض الحلال الطلاق قرار دیا ہے جس کا مطلب ’’سب سے ناراضگی والی صورت حلال کی طلاق ہے‘‘ ۔ عربی کی الف ب سے ناواقف اور نا اہل علماء و مفتیان نے عجیب و غریب قسم کے فقہی مسائل گھڑ رکھے ہیں۔ عربی کہے کہ بشرت زوجتی فطلق وجہہ ’’میں نے اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی تو اسکا چہرہ کھل گیا‘‘۔ بعض مفتیان سے اس جملہ پر فتویٰ لیا جائے تووہ کہیں گے بیوی طلاق ہوگئی۔ حدیث میں نامرد کے ذریعے حلالہ کا ذکر ہے تو اس واقعہ میں الگ الگ مرتبہ تین طلاق کی بھی وضاحت ہے اور وہ حدیث بھی خبر واحد ہے جس میں حنفی مسلک کیمطابق یہ صلاحیت نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں قابلِ عمل ہو۔ نامرد ویسے بھی مطلوبہ و ملعونہ حلالے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ صحیح احادیث کے مقابلے میں روایات گھڑی گئی ہیں۔ کوئی من گھڑت حدیث بھی نہیں، جس میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالے کا حکم دیا گیا ہو۔ صحابہؓ اور چارا ماموں کا مسلک درست تھا کہ3 طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہیں لیکن حق اور گنجائش میں بڑا فرق ہے۔ قرآن میں طلاق کے بعد بھی شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا، رفاعۃ القرظیؓ کی بیگم نے دوسرے سے شادی کرلی ۔ حق مہر کے بعد شوہر کا حق بنتاہے کہ بیوی سے مباشرت کرے۔ یہ تو کہیں بھی ثابت نہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد عدت میں کسی کو رجوع کیلئے حلالہ کا فتویٰ دیا گیا ہو۔ صحابہ کرامؓ اور ائمہ مجتہدینؒ نے یہ غلط کام نہیں کیا۔ عتیق

آرمی چیف باجوہ نے امریکی دھمکی کے باوجود ایران کا دورہ کرکے اچھا اقدام اٹھایا. فیروز چھیپا

harmain-ki-hifazat-ke-lie-saudi-arab-ko-bohran-se-bachana-zaruri-hei-feroz-chhipa

نوشتۂ دیوار کے منتظم فیروز چھیپا نے کہا: کہ سعودی اندورنی انتشار حرمین کیلئے خطرہ ہے، سعودیہ و ایران تصفیہ ضروری جبکہ امریکہ سے امن کو خطرہ ہے۔ ایران اور بھارت کے درمیان گیس پائپ لائن بچھادی، پاکستان کا مسئلہ ایرانی تیل و گیس سے حل کیا تو بھارت و امریکہ گٹھ جوڑ ختم ہوگا، ایران سے اعتماد بحال ہو تو سعودیہ ایران فساد کا راستہ روکنا آسان ہوگا۔ پاکستان قائدانہ صلاحیت کو بروئے کار لائے ۔ گیس پائپ لائن سے کشمیر آزاد ہوگا۔ برصغیر کو گیس مل جائیگی تو درختوں کی کٹائی کا مسئلہ بھی لکڑی جلانے کیلئے نہ رہیگااورآلودگی کا خاتمہ ہوگا۔پُر امن ماحول میں دفاعی بجٹ شہید وں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے کام آئیگا تو باصلاحیت قیادت ملک وقوم کیلئے غریبوں کا مقدر بنے گی۔ فوجی وسول افسر اور سیاستدان کا نسل در نسل اقتدار پر قبضہ بڑا مسئلہ ہے۔ اگروہ صلاحیت رکھتے تو پاکستان بد سے بدتر حالت پرنہ پہنچتا،کیا سول وملٹری بیوروکریسی اور موروثی سیاستدان قوم کو انگریز نے حق مہر یا جہیز میں دئیے؟ عوام پر یہ بوجھ ہے! ۔ ٹیکس پر ٹیکس، قرضہ پر قرضہ لیکر بیرون ملک سرمایہ منتقل اور قوم کا سبھی نے بیڑہ غرق کیا۔ جاہل بھوکی عوام کھڑی ہوئی تویہ چھوٹا طبقہ قلعوں اور محلات میں سخت انتقام کا نشانہ بن جائیگا۔ 70سال سے کشمیر آزاد نہ ہوابلکہ ملک دولخت ہوگیا، قرض کی سودی ادائیگی نے دیوالیہ بنادیا مگر حکمران ٹیٹیں مار ے کہ ہم نہ ہوتے تو عوام کی زندگی اجیرن بنتی، سعودیہ میں جاہل مذہبی طبقہ نے معاشرتی خرابیاں جنم دیں۔ مسیار سے علاج نہ ہوا، تو مغرب کی آزادی سے معاشرتی برائیاں ختم کرنیکا فیصلہ ہوا۔ ہمارا یہ اخبار امن کی وہ چڑیا ہے جو نمرود کی آگ میں چونچ سے پانی ڈال رہا تھا اور پھونک مار کر آگ کے الاؤ کو تیز کرنے کی خواہش رکھنے والی چپکلی سے ہماراجذبہ یکسر مختلف ہے ۔

الطاف حسین نے مشکل میں ایم کیو ایم کو چھوڑا جبکہ فاروق ستار نے ہر دور میں‌مقابلہ کیا. ارشاد نقوی

dr-farooq-sattar-or-mqm-ne-surah-fatiha-ko-peshab-se-likhne-ke-khilaf-awaz-uthai-aaj-halala-ke-masle-per-bhi-hum-awaz-hun

نوشتہ دایوار کے خصوصی ایڈیٹر ارشاد نقوی نے مشترکہ پریس کانفرنس کو اہل کراچی کیلئے خوش آئند قرار دیکر کہا کہ نکاح ابھی ٹوٹا نہیں ۔ اس میں تضاد نہ تھا کہ اتحاد کا نام ایم کیو ایم نہ ہوگا اور ایم کیوایم کی شناخت قائم رہے گی۔ قائدین چہرے بدلیں تو شناخت چھوٹے گی، ایم کیوایم کی مصنوعات قائدین کے چہرے بدلنے کے بغیر ممکن نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی ایم کیوایم میں بھی ہمیشہ اپنی شناخت رہی ہے اور ایم کیوایم پاکستان اب سیاسی پارٹی بن گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سایہ میں ہی کوئی مافیا بن سکتاہے۔ جماعتِ اسلامی پر سایہ رہا تو کالج و یونیورسٹی میں جمعیت ایک مافیا تھی۔ طالبان یا جہادی و فرقہ وارانہ قائدین اسٹیبلشمنٹ کے بغیر مافیا نہیں بن سکتے تھے۔ ذوالفقارمرزا کی قیادت میں عذیربلوچ اور امن کمیٹی مافیا بن گئی لیکن عمران خان اسکے خلاف منہ نہیں کھول سکتا البتہ بندر کی طرح دم اٹھاسکتاہے۔ الطاف کی تعریف اسلئے نہیں کی جاسکتی کہ اسٹیبلشمنٹ کی چاکری کی لیکن مصطفی کمال جب تک پٹا نہ تھا الطاف بھائی پر جان نچھاور کرتاتھا، یہ بھی اسکا احسان ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کو پٹوادیا تھا تو یہ نیک بن گئے، اب ایک بننے میں بھی دیر نہ لگائیں اور کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں۔

بھٹو، مفتی محمود، مودودی، نورانی، ولی خان، غوث بزنجو اگر مزارعین کو مفت زمین دیتے تو انقلاب آچکا ہوتا

zulfiqar-bhuto-mufti-mehmood-moulana-moudodi-molana-noorani-wali-khan-ghous-baksh-baznjo-muzaareen-ko-muft-zameen-dete-to-inqalab-aa-chuka-hota

سیاسی قائدین اور رہنما بکتے نہیں تھکتے مگر ان کو پتہ نہیں کہ نظریہ کیا ہے؟۔ کارل مارکس کی کتاب ’’کیپٹل داس‘‘ نے بڑا انقلاب برپا کردیا ۔ اس میں ’’قدر زاید‘‘ کی بات ہے۔ ایک مزدور جتنی محنت کرے اور کسی باصلاحیت ڈاکٹر، کمپیوٹر اسپشلسٹ اورکاریگر وغیرہ میں صلاحیت ہوتی ہے ، ان میں یہ شعور اجاگر کرنا کہ تمہاری محنت و صلاحیت کا فائدہ سرمایہ دار اٹھالیتاہے اور تمہارے ساتھ یہ بڑا ظلم ہے۔ مثلاًٹھیکدار بلڈنگ ٹھیکہ پر لیکر 10کروڑ لگا کر ایک کروڑ کمائے ۔ مزدور اور کاریگروں کو سمجھایا جائے کہ اس نے پیسوں سے تمہاراحق چھین لیاتو اس سے بچنے کا علاج مُلا نہیں بتاتا ہے۔وہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کی بات کرے لیکن سرمایہ دار نے جو رقم وصول کرلی، اس کو جائز کہتا ہے۔ سود صرف قرض میں نہیں بلکہ نقد میں بھی ہے۔ محنت کش و باصلاحیت عوام کو دنیا میں سرمایہ داروں نے غلام بنایا۔ آزادی کیلئے کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظام کو سمجھنا پڑیگا۔ جب سب کچھ سرکاری ہوگا تو محنت کش کو درست صلہ ملے گا، دنیا میں امن وسکون قائم ہوگا اور انسانیت کی بھلائی کے سب کام ہونگے۔ بڑے مخلص لوگ اس نظریہ کیلئے خود کو وقف کردیتے تھے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اور ملک کی سیاست کا بڑا اثاثہ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ’’ ہمارے ہاں جب تک بڑی بڑی گاڑیوں میں نہیں جاؤگے تو سائیکل ، موٹر سائیکل اور بیل پر سوار ہوکر جاؤگے توپھر کوئی بھی ووٹ نہ دیگا‘‘۔پہلی مرتبہ بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد آئی تھی تو لینڈ کروزر متعارف کرایا تھا، اسلئے عوام نے 1988ء کے الیکشن میں جتوا دیا تھا۔ حبیب جالب نے بھی گایا : ’’ ڈرتے ہیں بندوق والے اِک نہتی لڑکی سے ‘‘۔ پھر ISIنے نوازشریف و دیگر میں رقوم بانٹ کر1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت قائم کی۔ نوازشریف اور شہبازشریف نے ڈٹ کر پیسہ کمایا۔ کرپشن پر برطرفی ہوئی۔1993ء میں پھر پیپلزپارٹی آئی۔ لندن فلیٹ و منی لاندرنگ کی کہانی اسوقت سے چل رہی ہے۔ رحمن ملک فرشتہ کو پتہ تھا کہ مریم نواز کے نام پر سعودیہ اور دوبئی کی پراپرٹی بھیج کر فلیٹ خرید لیں گے۔ نوازشریف پارلیمنٹ کی تقریر میں کہے گا کہ 2006ءکو فلیٹ خریدے گئے اور 2011ءمیں مریم نواز جیو نیوز ثناء بچہ کے پروگرام میں کہے گی کہ’’ میری کوئی جائیداد نہیں ، اپنے والد کے پاس رہتی ہوں ، پتہ نہیں میری اور میرے بھائیوں کی کہاں سے یہ لوگ جائیداد نکال کر لائے ‘‘۔ جبکہ حسین نواز کہے گا کہ الحمدللہ لندن کے فلیٹ میرے ہیں ، اپنا کاروبار کرتاہوں، میری والدہ کے نام پر بھی بیرون ملک جائیداد ہے اور اس کا حساب میں میڈیا پر نہیں عدالت کو جاکر بتادوں گا۔ (میڈیا ریکارڈ)
لاہور میں 10لاکھ کی جگہ پر تحریک انصاف کے علیم خان اور سپیکر ایاز صادق کے درمیان الیکشن ہوا تو 50،50کروڑکی رقم لگائی گئی اور جہانگیر ترین نے ایک ارب روپیہ لگادیا۔ اب یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ تحریکِ انصاف کے عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسوں میں جائیگا اسلئے الیکشن میں اسی کو مزہ آئیگا۔اس کو جلدی بھی اسی لئے ہے۔ جسکے پاس پیسہ خرچ کرنے والوں کی اکثریت ہوتی ہے وہی الیکشن جیت جاتی ہے۔ پیسہ خرچ کرنے والا غریب اور نظریاتی نہیں بلکہ استحصالی طبقہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سیاست کو تجارت بنالیاگیا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی پیسوں کیلئے چھوٹے بڑے پیمانے پر بک جاتی ہے۔ جہاں سے پیسہ ملتاہے انہی کو سپورٹ کیا جاتاہے۔ کاروبارِ مملکت کے بڑے حصے کو سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی کھاتی ہے اسلئے مہروں کی تلاش جاری رہتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر جس طرح طالبان کے نام سے عالمی قوتوں نے حکومت کا لالی پاپ دیکر علماء کرام کو ورغلایا تھا ،اسی طرح پاکستان کو بھی صرف استعمال کیا گیا مگر حقیقی نظرئیے کا یہاں کوئی نام ونشان نہیں تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح بھی پہلے کانگریس میں تھے مگر ہندو تعصب نے مسلم لیگ کی طرف دھکیل دیا۔ کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ انگریزوں کی دی ہوئی جاگیروں کو ضبط کرلیا جائیگا۔ نوابوں، خانوں اور سول بیروکریسی نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا تو فوج نے اس پر قبضہ کرلیا۔ بھٹو کی عوامی قیادت بھی اسکے ڈیڈی ایوب خان کی مرہون منت تھی اور نوازشریف بھی جنرل ضیاء کی پیداوار ہیں۔ تحریک انصاف کا ناطہ بھی امپائر کی انگلی سے گھومتا ہے۔ اگر منظرنامہ بدل جائے تو شیخ رشید کہے گا کہ ’’عمران خان جیسا بیکار انسان میں نے نہیں دیکھا، خیبر پختونخواہ کی عوام کو پنجاب میں داخلے پر خوب پٹھوادیا مگر بڑی دہائیاں دینے کے بعد بھی عمران خان خود بنی گالہ کے پہاڑی سے نیچے نہیں اُترا۔ پاک فوج ضرب عضب کے سب سے مشکل آپریشن میں مشغول تھی اور عمران خان بے شرم ، بے غیرت اور ذلیل آدمی ایک طرف امپائر کی انگلی اٹھنی کی بات کر رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی بات سے بھی نہیں شرماتا تھا۔ عائشہ گلالئی ایک عورت ذات ہے اور اس نے عمران خان پر سنگین الزامات لگادئیے لیکن پھر بھی اسکے خلاف الیکشن کمیشن میں جارہاہے کہ اس نے شیخ رشید کو وزیراعظم کے الیکشن میں ووٹ نہیں دیا مگر خود نامزد کردیا اور پھر بھی عمران خان اور جہانگیرترین نے ووٹ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ عمران خان کا لیڈر بننا قیامت کی نشانی ہے‘‘۔
پاکستان کو اسلامی نظریہ دینے کی ضرورت ہے۔ زمین کی جائز ملکیت سے کمیونسٹ منع کرتے ہیں مگر اسلام منع نہیں کرتا۔ البتہ اسلام زمین کو مزارعت، بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر دینے کو منع کرتاہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ زمین کو خود کاشت کرو، یا جس کو کاشت کیلئے دو ، پوری محنت کاصلہ بھی اسی کا ہے‘‘۔ ابوحنیفہؒ ، مالکؒ اورشافعیؒ سب متفق تھے کہ نبیﷺ نے اس کو سود قرار دیا ہے اسلئے مزارعت جائز نہیں ۔ آج نوازشریف، شہبازشریف، آصف علی زرداری، شاہ محمود قرشی، مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید، پرویزمشرف، جنرل اشفاق کیانی، افتخارمحمد چوہدری، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن ، عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر تمام مذہبی وسیاسی رہنماؤں کو اپنے بال بچوں سمیت مفت میں زمین دی جائے کہ خود ہی کاشت کرو، سب محنت تمہاری ہے، پھر بھی وہ اپنے لئے جیل جانا پسند کرینگے مگر کاشتکاری کی محنت نہ کرینگے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ہوگا ۔ انشاء اللہ
اگر مزارعین کو کاشت کیلئے مفت میں زمینیں دی جائیں تو وہ اس سے زیادہ اور بڑی بادشاہی نہیں مانگیں گے۔ غلامی سے ان کو نجات مل جائے گی۔ اپنی محنت سے آزاد زندگی گزارینگے تو اپنی روٹی، کپڑا اور مکان کا بھی خود بندوبست کرلیں گے۔ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے قابل بن جائیں گے تو وہاں سے بہت صلاحیت والی قیادت بھی ہر میدان میں قوم کے پاس آئے گی۔ قابل ڈاکٹر، قابل عالمِ دین، قابل سیاسی قائدین اپنے ملک کا نام روشن کرسکیں گے۔ بلاول بھٹوزرداری ، حسین وحسن نواز اور بڑے لوگوں کی نالائق اولاد اپنے قوم کے سر نہیں لگے گی۔ جنکے اندر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے باوجود کوئی صلاحیت آئی ہے اور نہ آسکتی ہے۔ ان موٹے تازے لوگوں سے زمینوں کی کاشت کاری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت بھی بنے گی اور کچھ نہ کچھ دماغ بھی کام کرنے کے قابل بنے گا۔
جب زمین کاشت کرنے کا اچھا معاوضہ ملے گا تو مزدور کی دھاڑی بھی مارکیٹ میں خود بخود بڑھ جائے گی۔ شہروں کا باصلاحیت طبقہ بیروزگاری کے سبب لوٹ ماراور ورادتوں میں ملوث ہونے کے بجائے دیہاتی بچوں کو پڑھانے جائیگا۔ جاہل طبقہ زمین کاشت کرنے کا رخ کریگا۔ تعلیمی اداروں کا خواب پورا کرنے کیلئے چندوں کی ضرورت نہ پڑیگی۔ لوگ خود تعلیم پر خرچہ کرینگے۔ تعلیم سب سے زیادہ باعزت اور باوقار پیشہ بن جائیگا تو ایک بہترین نصاب تعلیم اور اچھے تعلیمی اداروں کا قیام بھی عمل میں آئیگا۔ دنیا روزگار کی تلاش میں یہاں آئیگی تو امن وامان کے گہوارے پاکستان میں دنیا بھر سے لوگ یہاں سرمایہ کاری بھی کرینگے۔ پاکستان انقلاب کا تقاضہ کررہاہے۔
اتنی موٹی سی بات سمجھنے میں دشواری نہیں کہ جوجاگیردار و سرمایہ دار ، سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کے افسران اور سیاستدان یہ نہیں چاہتے کہ وہ مفت میں زمین لیکر خود اور اپنے بچوں کو اس کام پر لگادیں۔ خدارا، دوسرے لوگوں کیلئے اتنا ضرور کریں کہ وہ اپنے بچوں سمیت اس کو بادشاہی پرسمجھ کر خوش ہوجائیں۔ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ جو کمائی اپنے لئے سخت سزا لگتی ہو اور یہ سزا دوسرے کیلئے نعمت ہو،تب بھی اسکا رائج کرنا منظور نہ ہو؟۔ 2018ء کے انتخابات کیلئے حدیث اور ائمہ کے متفقہ مسلک کو بنیاد پر مزارعت کا نظام ختم کیا جائے توبڑا انقلاب آجائیگا۔ نظریاتی سیاست کی بڑی بنیاد یہی ہوسکتی ہے۔
جب پاکستان کی فضاؤں سے غلامانہ غیر اسلامی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی تو غیرمسلم بھی پکار اُٹھیں گے کہ دنیا بھر کی زمین میں تمام انسانیت کو ایسا نظامِ حکومت چاہیے۔ اسلام نے مسلمانوں پر زکوٰۃ اور غیرمسلموں پر ٹیکس کا نظام رائج کردیا تھا۔ نفع ونقصان کی بنیاد پر سود کے بغیر زبردست تجارت ہوسکتی ہے اور اب دنیا اسکی طرف آرہی ہے تو ہم نے زیادہ سے زیادہ سود کو اسلامی بینکاری کا نام دیدیا ہے۔ اگر ائمہ اجل کے مؤقف سے انحراف نہ کیا جاتا تو روس اور امریکہ دونوں اسلامی حکومت کے دروازے پر ڈھیر رہتے۔ اسلامی نظام میں تحریف کے سبب ایک طرف روس نے کمیونزم اور دوسری طرف امریکہ نے کیپٹل ازم کے اندر دنیا کو جکڑ لیا اور ہم دوسروں کے ہاتھوں میں بری طرح استعمال ہوگئے ۔ ہم نے لیفٹ رائٹ کے چکر سے نکل کر عدل واعتدال کی راہ صراط مستقیم پر چلنے کی قسم کھانی ہے۔
سیاسی نظریہ دینا فوج کا کام نہیں، اس نے اپنی ڈیوٹی کے وقت اپنی نوکری کرنی ہے۔ نظریاتی آدمی پہلے فوج میں جانہیں سکتا اور اگر جائے بھی تو فوج کیلئے شرمندگی کا باعث بنتاہے۔ البتہ قحط الرجال میں جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور پرویز مشرف بھی نظریاتی گئے۔ اگر فوج کسی جماعت، تنظیم ، پارٹی اورتحریک کی ماسٹر مائنڈ ہو تو پھر بہتر ہے کہ وہ کسی کٹھ پتلی اور جعلی قیادت کے بجائے خود ہی اقتدار پر قبضہ کرکے بیٹھ جائے۔ المیہ یہ ہے کہ کوئی نظریاتی انسان پیدا نہیں ہوا، ورنہ وہ کسی کیلئے کام کرنے کے بجائے سب کو اپنے نظریہ پر لگانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ ہماری عوام کو یہ پتہ بھی نہیں کہ قائداعظم نے کوئی بھی نظریہ ایجاد نہیں کیا تھا بلکہ جب انگریز یہاں سے جارہاتھا تو اس سوچ کی مخلصانہ قیادت کی تھی کہ دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہیے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی ہم سے زیادہ تھی اور اردو زبان ہندوستان سے آنیوالے مسلمانوں کی زبان تھی جس کو آج الیکٹرانک میڈیا کی بدولت پاکستان کی اکثریت سمجھ رہی ہے۔ قائداعظم کو خود بھی اردو نہیں آتی تھی۔ بنگلہ دیش نے ہم سے آزادی حاصل کرلی اور اپنے پڑوسی ممالک ایران و افغانستان سے ہمارے تعلقات کبھی شاندار نہیں رہے تو دوقومی نظریہ بھی عملی طور سے دفن ہوگیاہے۔ اسلام قوم نہیں بلکہ نظریہ ہے اور نظریہ بھی ایسا ہے جو انسانیت کیلئے بھی قبول ہوسکتاہے۔
ایک ہوں مسلم ہوں حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
اسلام پاکستانی قومیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے کی لعنت کا نام نہیں اور نہ دوسروں کیلئے آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونے کا نام اسلام ہے۔ ہاں ہم مختصر اسٹیبلشمنٹ سے آزاد نہ ہوسکے تو متحدہ ہندوستان میں رہ کر کونسا تیر مارتے؟۔
پاکستان کی سرزمین، پاکستان کی عوام، پاکستان کی فوج، پاکستان کی سول بیوروکریسی، پاکستان کے علماء ومفتیان بہت اچھے اور شاندار لوگ ہیں۔ یہ ان کی اچھائی کی مضبوط دلیل ہے کہ یہاں نظریات اور عقائد پر کوئی پابندی نہیں۔ جب کسی نے اچھا نظریہ پیش نہیں کیا۔ اسلام کو طلاق اور حلالہ کا پیش خیمہ بنادیا تو کون پاگل مزید اس کی تلاش اور تگ ودو میں اپنا وقت ضائع کرتا؟۔ ایوب خان نے عائلی قوانین بنائے تھے تو اس کو اسلام کے خلاف سازش کانام دیا گیا تھا۔قرآن وسنت پر کسی فرقے ، مسلک اور جماعت کا اتحاد ہی نہیں ، بس پیٹ کے جہنم کو بھرتے بھرتے مذہبی طبقے کی زندگی ایکدوسرے کی دشمنی میں گزر جاتی ہے اور عوام کہتے ہیں کہ یہ دینداری، یہ تعصب اور یہ جاہلانہ طرزِ عمل تمہی کو مبارک ہو۔ مولوی خود بھی زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ہاں چندوں کے وصول کیلئے کمیوں کی طرح رہتے ہیں۔ مجلس عمل کی حکومت آئی تھی اور علماء سے اسمبلی بھری ہوئی تھی مگرمذہبی جماعتوں نے وزیراعلیٰ اکرم درانی بنادیا تھا۔
اسلام کا ہتھیار کے طور پرذاتی مقاصد کیلئے استعمال بہت بُرا ہے۔ مولوی نے سمجھ رکھاہے کہ دنیا میں ویسے بھی اسلام نہیں آسکتا تو مسلکی تعصب کے نام پر اپنی قسمت بنالو۔ جس طرح پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر اسلام نہ آیا۔ طالبان کی حکومت نے اسلام کیا انسانیت کا بھی بیڑہ غرق کیا اور ایران کے اسلامی انقلاب نے کوئی تاثیر نہیں دکھائی ،دوسرے ممالک میں زیادہ پیسہ خرچ کرکے دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی اور سعودیہ نے دوسروں کو اپنے حق حلال کمائی سے بھی جب چاہا، محروم کردیا اور کوئی بھی ایسا اسلامی ملک نہیں جہاں اسلامی نظام قائم ہو۔
اسلام کے نام پر اسلام آباد اور اقتدار چاہیے تو اسلام کے نام کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ اقتدار یزید کے پاس ہو لیکن اسلام کے مضبوط اقتصادی اور معاشرتی نظام سے دنیا بھر میں زبردست پذیرائی مل سکتی ہے۔ وقت کی سپر طاقتوں روم وفارس کو اسلامی افواج نے شکست اسلئے نہیں دی تھی کہ عرب اور مسلمان بڑے بہادر تھے بلکہ اسلامی نظام کی حیثیت ایسی تھی جس کو دنیا کی عوام میں پذیرائی مل رہی تھی۔
آج دنیا سے مزارعت اور سودی نظام کا خاتمہ کرنے کیلئے پاکستان سے ابتداء ہوجاتی ہے تو روس، چین ، یورپ، امریکہ، چاپان، آسٹریلیا اور دنیا بھر کے مسلم وغیرمسلم ممالک ہمارا نظام اپنے ہاں بھی رائج کردینگے۔ کارل مارکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ’’ قومی حکومت ہو اور محنت و صلاحیت کی بنیاد پر سب اپنا اپنا کمائیں اور کھائیں۔ دوسرا یہ کہ لوگ کمائیں اپنی محنت اور صلاحیت کے مطابق لیکن پیسے اپنی ضرورت کے مطابق لیں‘‘۔ اسلام نے مذہبی روح کے مطابق ایمان، انسانیت اور آخرت کا جذبہ اجاگر کرکے اعلیٰ ترین حکومت کی مثال قائم کردی۔ ابوبکرؓ نے خلافت کا منصب سنبھالا تو تجارت کیلئے نکلے، ساتھیوں نے کہا کہ معقول معاوضہ مقرر کردیتے ہیں اسلئے کہ حکومت پر مکمل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب کافی عرصہ ہوا، اور گزارے کے قابل وظیفہ پر عمل ہورہاتھا تو بیگم صاحبہؓ نے ایک دن کچھ میٹھا سامنے رکھ دیا اور کہا کہ روزانہ تھوڑی تھوڑی بچت سے اس کی گنجائش نکلی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ وہ مٹھائی لیکر گئے اور اتنا وظیفہ بھی کم کیا جتنی بچت کرکے میٹھا بنایا تھا۔ عمرؓکا دور آیا تو حضرت عمرؓ نے اپنے لئے درمیانہ درجے کا وظیفہ مقرر فرمایا۔
جدید ریاستی نظام اور اقوام متحدہ کی سربراہی نے اقوام عالم اور انسانیت کے مسائل کا کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکالا ہے۔ قرآن نے ایک قائدہ بتایا ہے کہ ’’ جوچیزانسانیت کیلئے نفع بخش ہوتو وہ زمین میں ٹھکانہ بنالیتی ہے اور باقی جھاگ کی طرح خشک ہوجاتی ہے‘‘۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو نفع پہنچائیں‘‘۔ جدید علوم قرآن وسنت ہی کا تقاضہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں پر انسان کو علم کی وجہ سے بلند درجہ دیا اور اس کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ اللہ نے فرمایا:’’ اللہ کے پاس ساعۃ کا علم ہے، وہ بارش برساتاہے، اور جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا حاصل کریگا اور کس زمین پر وہ مریگا‘‘۔ حدیث میں ہے کہ ’’یہ پانچ غیب کی چابیاں ہیں‘‘۔
ان پانچ چیزوں میں پہلی 3چیزوں کی اللہ نے دوسروں کی نفی نہیں کی ۔ پہلی چیز ساعۃ کا علم ہے۔ عربی میں وقت اور اس کی اکائی کو بھی ساعۃ کہتے ہیں اور قیامت کے دن کو بھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس سے قیامت مراد لی جائے تو پھر اس کا تعلق قرآن میں بیان کردہ چوتھی چیز سے ہوگا۔ کل کے علم کی اللہ نے نفی کردی ۔ عربی میں گھنٹہ،لمحہ کو بھی ساعۃ کہتے ہیں مگراس کا اطلاق کل پر نہیں ہوتا ۔ گویا دونوں باتیں بھی الگ الگ ہیں اور نبیﷺ نے ساعہ کو غیب کی چابی کیوں قرار دیا؟۔معراج کا سفر جس ساعہ(لمحہ) میں طے ہوا، اور اللہ نے سورۂ معارج میں فرشتوں اور جبریل کے چڑھنے کے سفر کی مقدارایک دن کے مقابلے میں 50ہزار سال قرار دی ہے تو غیب کی چابی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ ایک عرصہ تک علماء کے اندر بھی اختلاف رہا کہ سفر روحانی تھا یا جسمانی؟۔ اب بھی پڑھے لکھے جاہل سفر معراج کو خواب قرار دیتے ہیں۔
سرسید احمد خان، غلام پرویز اور جاوید غامدی جیسے لوگوں کو چاہیے تھا کہ معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا دریافت کردہ نظریۂ اضافیت ہی دیکھ لیتے، جس میں تیزرفتاری کے بعد وقت کی پیمائش کا پیمانہ ریاضی کے طے شدہ اصول کے تحت بدل جاتاہے۔ قرآن وسنت کی تفسیر زمانہ نے بقول ابن عباسؓ کردی ہے۔ نظریۂ اضافیت کی سمجھ تک رسائی مشکل ہے تو دن رات کی مثال دیکھ لو جس سے زمین کا محور کے گرد گھومنے کا علم حاصل ہوا اور ماہ وسال کی مثال سمجھ لو، جس سے موسموں، سردی گرمی اور زمین کا سورج کے گرد گھومنے کا علم حاصل ہوا۔ ساعہ کا علم غیب کی چابی وقت نے ثابت کردی ۔ قرآن وسنت واضح تھے۔
قرآن میں دوسری چیز بارش کا برسنا ہے۔ اللہ نے بادلوں کو بھی مسخرات کہا ۔ کائنات کی ہر چیز سورج اور چاند انسان کیلئے مسخر ہیں۔ بارش سے آسمانی بجلی اور برفانی اولے کا تصور تھا تو انسان نے بجلی کو مسخر کرکے اس غیب کی چابی سے نئی دنیا آباد کرلی۔ قرآن میں تیسری چیز ارحام کا علم غیب کی تیسری چابی ہے، اسکی بھی قرآن میں نفی نہیں۔ ارحام کاتصور صرف انسان ، حیوان اور نباتات تک محدود نہیں بلکہ جمادات کے ایٹم بھی اس میں داخل ہیں۔ غیب کی اس چابی نے فارمی حیوان اور نباتات میں بڑا کمال کے علاوہ ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیاکو بھی آباد کردیاہے۔ اسلام دیگر مذاہب کی طرح سائنسدانوں کیلئے رکاوٹ پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کابہترین معاون ہے۔
آنیوالاکل ترقی وعروج کی نئی خبرلیکر آئے تویہ حقیقت ہے کہ علم وتبدیلی کے کمالات کی کوئی انتہاء نہیں اور آدمی فانی ہے۔
زمین پر محنت کرنیوالے کاشتکار کو محنت کا پورا پورا صلہ ملے تومزدور کی کم زکم دھاڑی بھی دگنی ہوجائیگی۔ پانی کی موٹر کے بارے میں ہارس پاور کا جوتصور ہوتا ہے اگر مزدوری کی ایک ویلو بنائی جائے۔ ترقیاتی دور میں حکومت مزدور کی بنیادی ویلو زیادہ سے زیادہ بڑھاسکتی ہے۔پھر محنت، تجربے و صلاحیت سے کئی گنا زیادہ دھاڑی حاصل کرنے کی مسابقت ہوتی ،جس کی بنیاد پر محنت و صلاحیت میں نکھار پیدا ہوتااور دنیا میں ایکدوسرے سے آگے بڑھنے، انسانیت کی خدمت اور نفع بخش چیزیں بنانے میں ایک مثبت کرداربھی ہوتا ۔ دنیا کی ترقی کیساتھ ساتھ انسانیت بھی ترقی کرتی۔ ایک طرف اشتراکیت کا غیرفطر ی نظام چاروں شانوں چت ہواتو دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہاہے،اللہ کا نور اسلام فطری ہے۔
اسلام کو اشتراکیت کے خلاف دنیا نے ہتھیار کے طور پر استعمال کرلیا اور اب جب سرمایہ دارانہ نظام کو شدید خطرات کا سامنا ہے تو سودی نظام کو مشرف بہ اسلام کردیا ہے۔ کچھ لوگ نظریاتی بنیاد اور کچھ اپنا ذریعہ معاش سمجھ کر کسی نہ کسی کی پراکسی لڑ رہے ہیں۔جس طرح پاکستان بنانے میں اسلام کا جذبہ کارفرما تھا اور طالبان اسلامی جذبے سے بنے اور ایرانی انقلاب بھی اسلامی جذبے سے بن گیا مگر خود اسلام اجنبیت کا شکار تھا توان لوگوں کے جذبوں کا قصور نہیں تھا بلکہ مولوی، مذہبی طبقے اور عوام کا قصور تھا کہ قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اسلامی معاشرت قائم نہ کی۔
پاکستان میں پانی کے بہاؤ سے فائدہ اٹھایا جاتا تو پینے اور زرعی مقاصد کے علاوہ سستی بجلی اور صحت کی حالت بہتر ہوتی ۔ اسٹیبلشمنٹ نے لوہے کے بٹے سے شریف فیملی کو اٹھاکر اقتدار سپرد کردیا جو ساہیوال جیسی زرخیز زمین میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگارہے ہیں ۔محمود خان اچکزئی ایک الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔وہ بتاتے کہ آلودگی کے بغیر سستی بجلی پیدا کرنے کا طریقہ کیاہے۔ وزیرصنعت و پیداوار، وزیر پانی وبجلی اور وزیرماحولیات خود اپنے شعبے میں ماہر ہوتے، ایکدوسرے سے ان کا کنکشن ہوتا اور ایک چھوٹی سی سرزمین پاکستان کو ایک گھر کی طرح سمجھا جاتا تو پاکستان اور قوم کی حالت بہتر ہوتی۔
صنعتوں کیلئے کراچی سے گوادر اور بلوچستان کے غیر آباد بنجر علاقوں کو آباد کرنے کی ضرورت تھی اور تیز رفتار ٹرینوں سے آبادیوں کو صنعتی علاقوں سے ملانے میں دشواری نہ تھی۔ پنجاب وسندھ اور پختونخواہ و بلوچستان کے زرخیز علاقوں کو وسیع ڈیموں اور نہری نظام سے آباد کیا جاسکتاہے۔ علماء ومفتیان نے اسلام اور مسلمان کیساتھ بہت برا سلوک روا رکھا اور حکمرانوں اور سیاستدانوں نے نظام اور پاکستان کا برا حال کردیا۔دونوں کو درست راستے پر لایا جائے تو بات بنے گی۔ نام نہاد شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری و نام نہاد مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اپنی اپنی کتابوں میں رسول ﷺ کی احادیث اور آنیوالے بارہ اماموں کے بارے موجود وضاحتوں میں بدترین خیانت کا ارتکاب کیا۔ حالانکہ اس نقشہ کی وجہ سے اُمت کاعظیم اتحاد عمل میں آسکتاہے۔ جس سے شیعہ گزشتہ لوگوں پر طعن تشنیع بالکل بند کردینگے۔ جب بارہ امام کی احادیث کا کوئی درست جواب نہیں ملتا تو انکے لہجے کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ یہ نقشہ ، قرآن وسنت کے احکام اور مدارس کے نصاب کی درستگی کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک زبردست اسلامی انقلاب برپا ہوگا۔ مزارعت کے جوازاور سود ی نظام کا فتویٰ ہی واپس لینا ہوگا۔علماء ومفتیان کی طرف سے قرآنی و سنت کے مطابق رہنمائی سے مدارس اور مساجد کی قدرومنزلت بڑھ جائے گی اور معاشرے میں اسلامی انقلاب سے پوری دنیا بھی خلافت کا نظام قبول کریگی۔ گیلانی

حاجی عثمان مجدد تھے اور ہم نے تجدیدی کارنامہ کردکھایا. عتیق گیلانی

haji-usman-tabligi-jamat-ke-akabir-or-tariqat-k-khalifa-thhe-mujjadid-thhe-hum-ne-tajdidi-karnam-kr-dikhaya

حاجی محمد عثمانؒ پر فتویٰ لگنے سے پہلے دیوبندی،اہلحدیث اور خاص طور پر تبلیغی بڑی تعداد میں بیعت تھے۔ حاجی عثمانؒ تصوف کو ولایت صغریٰ اور شریعت و تبلیغ علماء ونظام خلافت کو خلافت کبریٰ سے تعبیر کرتے۔ مسجدنور جوبلی کراچی میں بریلوی مکتب فکر کے مولانا شفیع اوکاڑی امام وخطیب تھے۔ ایک مرتبہ متولی نے ان کو منبر سے اُتارا، حاجی عثمانؒ کو منبر پر بٹھادیا اور مولانا اوکاڑی سے کہا کہ سنو، تقریر ایسی ہوتی ہے۔ حاجی عثمانؒ نے دین کو زندہ کرنیکا احساس جگایا۔ تصوف کے شہسوارکی زباں میں ایمان کی روشنی، یقین کا کمال، تقویٰ پرہیزگاری کا چراغ اور اللہ سے تعلق کی مضبوط رسی، دنیا سے بے نیازی اور بہت کچھ ہوتا ہے جو حال سے محسوس کیا جاسکتا مگر الفاظ میں اسے بیان کرنا ممکن نہیں ۔ہر صدی پر مجددآئیگا تو حاجی امداد اللہ ؒ نے تجدیدی کارنامہ انجام دیا ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے مرید مولانا الیاسؒ نے تبلیغ کا کام شروع کیا۔ مولانا احتشام الحسنؒ انکے ساتھی اور خلیفہ تھے۔اگر ان کو امیر بنایا جاتا تو آج حاجی عبد الوہاب اور مولانا الیاسؒ کے پڑ پوتے میں اختلاف نہ ہوتا۔ حاجی عثمانؒ حاجی عبد الوہاب سے بھی پہلے کے اکابرین میں شمار ہوتے تھے۔
تبلیغی جماعت کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اسٹیٹس کو اس میں ٹوٹتی ہے۔ بڑے افسر، تاجر، حکمران، مولانا اور پیرطریقت کو اپنا بستر پیٹھ پر لاد کر گلی، کوچے، محلے، شہر، بستی، ملک و بیرون ملک سردی وگرمی میں گھومنا پڑتاہے۔ اصلاح کیلئے سہ روزہ، عشرہ ، چلہ اور چارماہ لگانے کی مشق کارگر ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اس غیرمتنازعہ تبلیغی کام سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ حضرت جی مولانا یوسفؒ کی یادگار تقریروں میں وفات سے 3 دن پہلے کی آخری تقریر’’ اُمت کے جوڑ‘‘پرکہاکہ’’ حضرت سعد بن عبادہؓ جو ایک جلیل القدر صحابی اور انصار کے سردار تھے مگرخلافت کے مسئلہ پر ناراض تھے اور امت کیلئے توڑ کا باعث بنے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نہیں بخشا اور جنات نے ان کو قتل کردیا تھا‘‘۔
مولانا سید سلیمان ندویؒ کے خلیفہ مولانا اشرفؒ اسلامک ڈیپارٹمٹ پشاور یونیورسٹی کے چیئرمین تبلیغی جماعت کی سر گرمی میں حصہ لیتے تھے۔ ان کی3 باتوں سے حقائق کھلیں گے 1: کہا ’’ اب تو تبلیغی جماعت کے لنگر کی دال اچھی ہے۔ پہلے ایک من پانی میں ایک کلو دال ڈالتے تھے اور لوگ روٹیوں کے ٹکڑوں سے کشتیاں بناکر دانوں کا شکار کرتے تھے‘‘۔عوام وخواص کی اصلاح کیلئے اس لنگرکا کھانا بھی کافی تھا ،پھر خواص کیلئے الگ کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ 2: مولانا اشرفؒ نے کہاکہ’’ ایک مرتبہ ہماری جماعت پنجاب میں بریلوی کی مسجد میں گئی۔ وہاں کے امام نے کچھ لوگ بٹھا دئیے اور جب میں رسول اللہﷺ کی شان بیان کررہاتھا تو امام صاحب کہہ رہے تھے کہ بندہ ٹھیک جارہا ہے۔طائف کے واقعہ کو بیان کیا اور جب یہ کہا کہ اللہ کو اپنا دین اتناپسند ہے کہ طائف میں نبیؐ کے خون کو بھی بہادیا۔ تو امام صاحب نے کہا کہ اب یہ پٹری سے اترگیااور انکو مسجد سے باہر پھینک دو، تو ہمیں بستروں سمیت مسجد سے باہر پھینکا گیا‘‘ یہ واقعہ دیوبندی بریلوی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔ یہ نکتہ بھی بیان ہوسکتا تھا کہ کعبہ بتوں سے بھرا تھا، طائف کے لوگ شرک میں عرصہ سے ملوث تھے لیکن اللہ نے عذاب کا فیصلہ نہیں کیا مگر جب طائف والوں نے نبیﷺکا خون بہادیا تو اللہ نے طرح طرح کے عذاب نازل کرنے کیلئے فرشتے بھیج دئیے۔ شرک کی بات پر اللہ نے نہیں پکڑا مگر نبیﷺ کا خون بہانازیادہ برا لگا۔ حضرت حاجی محمد عثمانؒ فرقہ واریت کا ناسور زبردست اندازمیں ختم کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ دیوبندی بریلوی توحیدو رسالت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں جیسے اللہ و رسولﷺ میں جھگڑا ہو رہاہے اور یہ وکالت کررہے ہوں۔ توحید کو اسطرح بیان کرنا کہ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی ہو ، غلط ہے۔ بے ادبی توحید نہیں اور شانِ رسالت ﷺ کو ایسا بیان کرنا غلط ہے کہ توحید میں شرک کی آمیزش ہوجائے،شرک کوئی ادب نہیں ہے۔ 3:مولانا اشرفؒ نے کہا ’’ تبلیغی جماعت میں وقت لگانے والا کہہ رہاتھا کہ میں نے چار ماہ میں وہ کمایا جوسید عبدالقادر جیلانی نے زندگی بھر میں نہیں کمایا، جو خواجہ معین الدین چشتی نے نہیں کمایا۔۔۔ ۔۔۔بڑے بڑے اولیاء اور علماء نے نہیں کمایا۔جب وہ یہ کہہ رہاتھا تو میں نے اس کو زبان سے کچھ نہیں کہا مگر دل میں سوچا کہ ان میں کسی نے اتنا تکبر نہیں کمایا جتنا تم نے کمایا‘‘۔ بس تبلیغی جماعت کو اس رویہ سے حاجی عثمانؒ روکتے رہے ہیں۔
ایک طرف انسان اپنی تدبیر کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ بھی اپنی تدبیر کرتاہے۔ جمعہ کے دن چھٹی تھی ، جمعرات کے دن تبلیغی جماعت کا شب جمعہ ہوتاتھا۔ حاجی عثمانؒ نے مریدوں کے اجتماع کیلئے اتوار کا دن رکھا، تاکہ مقابلہ کی بات نہ ہو۔ جمعہ کے دن مسجدنور جوبلی میں عوام سے وعظ ہوتا تھا جس میں لوگوں کو تبلیغی جماعت کی باقاعدہ دعوت دیتے تھے۔ پھر تبلیغی جماعت کے بعض افراد کی طرف سے غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ تصادم کی صورت اختیار کرنے لگا تو حاجی عثمانؒ نے اعلان کردیا کہ اس کشمش سے بچنا ضروری ہے۔ جو تبلیغی جماعت ہی میں کام کرنا چاہے ، میری طرف سے مریدی کی بیعت توڑنے کی اجازت ہے اور میں ناراض نہ ہونگا تاکہ یکسوئی کیساتھ وہ وہاں اصلاح کا کام کرسکے۔ جو مرید بن کے رہے گا تو وہ وہاں نہیں جائیگا۔ میں کچھ لوگوں کو تیار کرکے رائیونڈ بھیج دوں گا تاکہ ان کو پتہ چلے کہ اصلاح کیسی ہوتی ہے۔ اس اعلان کے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو حاجی عثمانؒ کے بہت عقیدتمند مریدتھے مگر سخت مخالفت پر اُتر آئے۔ تبلیغی جماعت میں مخالف عناصر کو بڑا موقع ہاتھ آیا کہ حاجی عثمانؒ کے خلاف خوب کھل کرکھیل کھیلیں۔
اس سے پہلے حاجی عثمانؒ کے مریدوں طیب، جاوید اور ابراہیم نے 1500روپے سے مشترکہ چائے کا کیبن شروع کیا توحاجی عثمانؒ کی دعا سے کاروبار خوب چمک گیا،کچھ بیواؤں اور یتیموں کو بھی شریک کیا گیا توکاروبار میں مزید برکت ہوئی۔یہ دیکھ کر علماء ومفتیان نے بھی شرکت کی تمنا کردی۔ حاجی عثمانؒ نے کہا کہ علماء ومفتیان کی رہنمائی پر شرعی کاروبار کیا جائے اور کاروبار سے ملنے والے منافع کودین کیلئے وقف کرنے کی نیت کی جائے۔ ٹی، جے ، ابراہیم کے نام سے یہ مضاربہ کمپنی عوام وخواص میں بہت مقبول ہوئی۔ یہانتک کہ اس کاسودی نظام کے متبادل کے طور پر خواب دیکھا جانے لگا۔ تبلیغی جماعت نے اخبار میں اشتہار دیدیا کہ ’’ ہمارا اس کاروبار سے تعلق نہیں ‘‘۔ لیکن کراچی کے بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان بڑے پیمانے پر اس کیلئے کام کررہے تھے۔ جنکے نام پر کمپنی تھی ان کا بھی تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق بھی نہ تھا۔
حاجی عثمانؒ نے اشتہار دیکھ کر حکم دیا کہ یہ کاروبار بند کردیا جائے، اسلئے کہ تبلیغی جماعت کی ناراضگی قبول نہ تھی اور کاروبار کیلئے سب اپنا اپنا راستہ ناپ سکتے تھے۔ یتیموں و بیواؤں کا اللہ رازق ہے ۔ علماء ومفتیان نے مشورہ دیا کہ تمہارا مرشد اللہ والا آدمی ہے، تبلیغی جماعت والے کون ہیں؟۔ نام کو بدل کر یہ کاروبار جاری رکھیں۔ چنانچہ کاروبار کا نام ’’الائنس موٹرز‘‘ رکھ دیا گیا۔ اللہ کا کرنا تھا کہ جب تبلیغی جماعت سے روکنے پر بعض تبلیغی عناصر نے زبردست پروپیگنڈہ شروع کیا تو علماء ومفتیان نے کھل کر حاجی عثمانؒ ہی کا ساتھ دیا۔ دارالعلوم کراچی اور مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نے تبلیغی اکابر کی طرف سے کشتئ نوح قرار دینے وغیرہ پر بھی فتوے لگائے۔ مولانا حکیم اخترؒ نے 1986 ؁ء میں تبلیغی جماعت کے خلاف بنگلہ دیش میں تقریر کی تھی جو کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔جس میں تحریر ہے کہ علماء کرام حفظ کیساتھ تعلیم مکمل کرکے 13سال کا چلہ لگاتے ہیں، اگر تبلیغی یہ کہتے ہیں کہ اب اللہ کی راہ میں عملی طور سے نکلنا چاہیے تو یہ علماء کی توہین ہے اور اس پر کفر کا فتویٰ ہے۔ پھر اسی کتاب میں حکیم اختر ؒ نے خودبھی علماء کی توہین کی ہے۔ کہا کہ’’علماء بیعت ہوں میں شرماؤں گا بھی نہیں اور گھبراؤں گا بھی نہیں۔ قیمتی عطر کیلئے وہ بوتل نہیں لیا جاتا ، جس پر کتے بلی کی پوٹی لگی ہو‘‘۔حاجی عثمانؒ کی وجہ سے حکیم اخترؒ میں جرأت پیدا ہوئی تو علماء کی بجانے لگے۔
حکیم اختر ؒ باقاعدہ عالمِ دین نہ تھے اور حاجی عثمانؒ بھی عالم نہیں تھے۔ یہ فرق تھا کہ حاجی عثمانؒ ہر بات میں علماء کی رہنمائی ضروری سمجھتے تھے اور حکیم اختر خود ہی مولانا بن گئے تھے اور اس بنیادی وجہ سے حاجی عثمانؒ کے اندر کوئی ایسی بات نہ تھی جس کی وجہ سے ان پر گمراہی کا فتویٰ لگایا جاتا۔ حکیم اخترؒ کی اس کتاب میں ایک انتہائی گھناونی بات ہے، کسی جاہل کا شعر نقل کیاہے کہ ’’ اگر مجلس میں ایک بھی منافق ہو تو نبی کا فیض بھی نہیں پہنچتا ہے‘‘۔ حالانکہ نبیﷺ کے دور میں رئیس المنافقین اور منافقوں کی ایک فہرست موجود تھی۔ پشتو کے معروف عالم شاعر رحمان باباؒ نے پشتو میں ایک شعر کہاہے کہ’’ اگر علم کے بغیر فقیری (پیری مریدی) کروگے تواپنی کھوپڑی کو ہی آگ لگادوگے‘‘۔
اگرحضرت حاجی محمد عثمانؒ پر فتوؤں کی داستان سامنے لائی جائے تو علامہ اقبالؒ کے مشہور اشعار اس پر صادق آتے ہیں۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار سے ہوتی ہے سحر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی ایک کتاب ’’عصر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ عرصہ سے مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اگر ناشر نے شائع نہ کی تو ہم اس کو بھی احادیث کے درست ترجمہ و مفہوم کیساتھ انشاء اللہ شائع کردینگے۔ کتاب کی حدیث نمبر4کا عنوان یہ ہے ’’ بدکاری عقلمندی کا نشان‘‘۔ عن ابی ھریرہؓ قال: قال رسول ﷺ یاتی علی الناس زمان یخیّر الرجل بین العجزوالفجور فمن ادرک ذٰلک الزمان فلیخیر العجز علی الفجور (مستدرک حاکم، کنزالعمال ج۱۴، ص۲۱۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جس میں آدمی کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ احمق (ملا) کہلائے یا بدکاری کو اختیار کرے پس جو شخص یہ زمانہ پائے اُسے چاہیے کہ بدکاری اختیار کرنے کے بجائے ’’نکو‘‘ کہلانے کو پسند کرے‘‘۔
حدیث میں ایک طرف عجز اور دوسری طرف فجور کی بات ہے۔مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے کتاب پہلے لکھ دی تھی اور پھر جب علماء ومفتیان کی طرف سے بڑے دلیرانہ انداز طریقے سے الحاد، گمراہی ، زندقہ کے فتوے لگادئیے۔ پھر عقیدتمندوں کا آپس میں نکاح کرنے کو بھی ناجائز قرار دیا گیا اور لکھ دیاکہ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھرکی حرامکاری اور اولادالزنا‘‘۔مگر مولانا یوسف لدھیانویؒ کو ان فتوؤں سے سخت اختلاف تھا۔ پھر بھی ان کی جانب بھی فتویٰ منسوب کیا گیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’ یہ سب مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی خباثت تھی ، میں نے کوئی فتویٰ نہیں لکھا تھا، مفتی جمیل خان نے لکھ کر میری طرف منسوب کیا تھا‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ ’’ آپ اپنی طرف منسوب فتوے سے برأت کا اعلان کریں‘‘ تومولانا یوسف لدھیانوی کا کہنا تھا کہ ’’وہ مجبور اور معذور ہیں اسلئے یہ نہیں کرسکتے‘‘۔
حدیث کے الفاظ میں ایک طرف ان علماء ومفتیان کا چہرہ ہے جو طاقت اور پیسے کے نشے میں ایک مؤمن پر کفر گمراہی اور نکاح کی حرامکاری کے فتوے لگاکر فجور کے مرتکب تھے ، دوسری طرف مولانا یوسف لدھیانویؒ کے عاجز ہونے کی تصویرہے۔ حاجی عثمانؒ کی قبر پر بھی مولانا یوسف لدھیانویؒ جاتے رہے اور یہ بھی فرمایا تھا کہ امام مالکؒ کے خلاف فتوی دینے والوں کو جس طرح آج کوئی نہیں جانتا اور امام مالکؒ کو سب جانتے ہیں،اس طرح وقت آئیگا کہ حاجی عثمانؒ کا نام زندہ ہوگا اور مخالفت کرنے والے علماء ومفتیان کا تاریخ میں کوئی نام اور نشان نہ رہے گا۔
مجدد کا کام ہوتاہے کہ لوگوں میں دین کی تجدید کرے اور دین کی تجدید سے مراد ایمان کی تجدید ہے۔ کیفیت کے اعتبار سے ایمان میں اضافے کو تجدید کہہ سکتے ہیں۔ وقت کے مجدد تو ہمیشہ اہل اللہ رہے ہیں۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ وقت کے مجدد تھے اور اکابر دیوبند آپؒ کے مرید۔ سید احمدبریلوی ہی مجدد تھے اور شاہ اسماعیل شہید انکے مرید، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد شاہ عبدالرحیم مجدد تھے ۔شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ کے پیر حضرت خواجہ باقی باللہؒ ہی دراصل مجدد تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے تقلید کی باگیں ڈھیلی کردیں ۔ شاہ اسماعیل شہید نے تقلید پر وار کردیا، پہلے علماء دیوبند حامی تھے، پھر مولانا احمدرضا خان بریلویؒ نے ان پر ’’حسام الحرمین‘‘ سے وار کردیا اور پیچھے دھکیل دیا۔ وضاحت کیلئے المہند علی المفند (عقائد علماء دیوبند) کتاب لکھ دی۔قرآن وسنت کا احیاء نہیں ہوسکا تھا۔
آج دیوبندی بریلوی اتحاد،اتفاق اور وحدت کی فکر پیدا ہوگئی ہے۔مجدد اولیاء عظام کے مریدعلماء کرام کی تاریخ موجود ہے جنہوں نے حدیث کے مطابق ہمیشہ دین میں غلو کرنیوالوں اور دین کو باطل قرار دینے کا اپنے اپنے وقت میں بڑازبردست مقابلہ کیا۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ سے سید عبدالقادر جیلانیؒ ،عبدالحق محدث دہلویؒ ، مجدد الف ثانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حاجی محمد عثمانؒ تک اہل حق کا ایک سلسلہ موجود ہے ۔شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو واجب القتل کے فتوؤں سے2 سال تک روپوش رہنا پڑا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے مالٹاکی قید سے رہائی کے بعد اُمہ کے زوال کے 2اسباب قرار دئیے۔ ایک قرآن سے دوری ، دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ نے لکھ دیا کہ قرآن سے دوری ہی فرقہ واریت کی بنیاد ہے، لہٰذا دراصل اُمہ کے زوال کاایک ہی سبب ہے۔اللہ نے قرآن میں بھی قیامت کے حوالہ سے نبیﷺ کی یہ شکایت بتادی ہے وقال الرسول رب ان قومی اتخذوا ہذالقرآن مھجورا ’’رسول کہے گا کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ (القرآن)۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ نے مولانا انورشاہ کشمیریؒ کا لکھا کہ فرمایا:’’ میں نے ساری زندگی ضائع کردی‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’ حضرت آپ نے ساری زندگی قرآن وحدیث کی خدمت کی، ضائع نہیں کی ‘‘۔ مولانا کشمیریؒ نے فرمایا:’’ میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہی مسلک کی وکالت کی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ‘‘۔ شیخ الہندؒ کے اکثر شاگرد بہت ممتاز تھے، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا الیاس ؒ ، مولاناحفظ الرحمن سیوہاویؒ ، مولانا پیرمبارک شاہ گیلانیؒ ، مولانا خیل احمد انبیٹویؒ وغیرہ وغیرہ۔
جب میں ساتویں جماعت میں تھا تو پیرمبارک شاہ گیلانیؒ سے کانیگرم میں ملاقات ہوئی، معلوم تھا کہ دارالعلوم دیوبندکے فاضل ہیں، مجھ سے پوچھا کہ کیا بننے کا ارادہ ہے۔میں نے کہا کہ دارلعلوم دیوبند کا فاضل بننا چاہتا ہوں۔ مجھے آپکے چہرے پر توقع کے خلاف خوشی کے آثار نظر نہیں آئے۔ مجھے ہر نمازکے بعد 10مرتبہ درود شریف پڑھنے کے وظیفے کی تلقین بھی کردی۔
پیرمبارک شاہؒ نے 1923 ؁ء میں نوراسلام پبلک سکول کھولا تھا جو کانیگرم جنوبی وزیرستان میں پاکستان بننے کے بعد حکومت کو حوالہ کیا گیا تھا۔ جس میں رہنے کیلئے ہاسٹل بھی تھا اور گومل یونیورسٹی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں جدید تعلیم کے حوالہ سے پیرمبارک شاہ گیلانیؒ کا دن منایا جاتاہے۔مولانا سندھیؒ زندگی بھر مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مفتی کفایت اللہ ؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ سے لڑتے رہے کہ درسِ نظامی اور فقہی مسلکوں کو چھوڑ کر قرآن کی طرف دعوت دی جائے مگروہ لوگ کہتے رہے کہ امام مہدی جب آئیگا تو اصلاح کا کام کرلے گا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھ دیا کہ’’ آپ استاذ کی بات نہیں مان رہے ہو تو امام مہدی آئیں گے تو بھی مخالفین کی صفوں میں تم لوگ کھڑے ہوگئے‘‘۔
حضرت حاجی محمد عثمانؒ کے حلقہ ارادت میں بڑے علماء و مفتیان، فوجی افسران، پولیس افسر، سعودی عرب مدینہ اور شام وغیرہ سے تعلق رکھنے والے عرب بھی شامل تھے۔ آپ نے کہا تھا کہ ’’میرے کالے بال والے مرید امام مہدی کو دیکھ لیں گے اور میرے حلقے والے اس میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ خانقاہ بھی امام مہدی کے حوالے ہوگی‘‘۔ جن لوگوں نے مشاہدات دیکھے تھے ان کو مشاہدات کھلے عام بیان کرنے کی اجازت دی گئی۔ ایک مرید نے بتایا کہ’’ شیخ الہندؒ نے مولانا الیاسؒ کو تاج دیا جو حاجی عثمانؒ کے سر پر رکھ دیا‘‘۔ تبلیغی جماعت کی وجہ سے مدارس آباد ہوگئے ہیں لیکن مدارس میں قرآن وسنت کے بجائے ایسی تعلیم دی جارہی ہے جس کو زندگی ضائع کرنے کے برابرہی کہا جاسکتاہے۔ حضرت حاجی محمد عثمانؒ کا پروگرام تھا کہ مدرسہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائیگا۔ فٹ بال وغیرہ کا کھیل بھی رکھا جائیگا۔ مدرسہ، مسجد، خانقاہ، خدمت گاہ اور یتیم خانہ کے نام ہی مسلم اُمہ کے جوڑ کیلئے رکھے گئے تھے۔
حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے مریدوں میں اختلا فات تھے اور آپ نے فیصلہ ہفت مسئلہ لکھ کرامت مسلمہ کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش فرمائی۔مگر وہ پھر بھی اس قدر زوال کا دور نہیں تھا۔ حاجی عثمانؒ کے دوست علماء ومفتیان، مرید خلفاء و عوام اور ہمدردوں کی ہمدردیاں بھی عجیب تھیں۔ ڈاکٹر شکیل اوج شہیدؒ نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ حاجی عثمانؒ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا اور مصافحہ کرنے کی سعادت مل گئی۔ میرے مشکوٰۃ کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہیدؒ علماء ومفتیان کا فتویٰ لگنے کے بعد بیعت ہوگئے تھے۔ یہ داستان بھی لکھنے کے قابل ہے۔
مجدد ایمان کی تجدید کیسے کرتاہے۔ بس انسان کا حدیث کے مطابق وہ حال ہوجاتا ہے کہ گویا اللہ کو وہ دیکھ رہاہے اور یہ نہیں تو کیفیت یہ بن جاتی ہے کہ اللہ اس کو دیکھ رہاہے۔ احسان کا یہ درجہ مجدد کی صحبت سے بہت جلد مل جاتاہے۔جب حضرت حاجی محمد عثمانؒ کی مقبولیت ، عظمت اور توقیر کو لوگوں نے دیکھ لیا تو جو علماء ومفتیان پیر نہ بھی تھے مگرپیری کا لبادہ اُوڑھ بیٹھے ۔ جب میں نے بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا تو پیری مریدی کو توجہ دلانے کا باعث بن گیا۔ جب گھر میں بھابھی، مامی اور ماموں زاد اور خالہ زاد سے شرعی پردہ شروع کیا تو بھائی حیران تھے کہ کسی سے یہ پردہ نہیں سنا ہے مگر علماء نے تصدیق کردی کہ شریعت یہی ہے اور پھر ہمارے بڑوں کو میرے آگے بے بس ہونا پڑا تھا۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھاہے کہ معاشرے میں صرف نمائشی پردہ ہے جس سے قوم لوطؑ کے عمل میں لوگ مبتلا ہیں، اگر شریعت کی بات ہو تو شرفاء کے خاندانوں میں بھی شرعی پردے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آپؒ رسمی پردہ بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔
ہم نے دین اس کو سمجھا جو علماء کی کتابوں میں تھا اور سب کا یہ حال عرصہ سے تھا۔ دین پر عمل کرنا اسلئے ہاتھ میں انگارے پکڑنے کی طرح سخت لگتاتھامگر حقائق بہت مسخ کئے گئے تھے ۔ اللہ نے قرآن میں پردے کے احکام کی سورۂ نور میں بہت واضح تفصیل سے بتادی ۔ پھر بتایا کہ ’’ اندھے پر حرج نہیں، نہ پاؤں سے معذورپر حرج اور نہ مریض پر حرج اور نہ خود تم پر حرج کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر وں سے،یااپنی ماؤں کے گھروں سے یااپنے بھائیوں کے گھروں،یا اپنی بہنوں کے گھر وں سے،یااپنے چاچوں کے گھروں سے یااپنے پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یااپنے دوستوں کے گھروں سے اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ اور جب تم گھروں داخل ہو جایا کرو،تو خود سے سلام کیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے آداب بجالانے کا مبارک اور پاکیزہ طریقہ ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتاہے‘‘۔
ان آیات میں شرعی پردے کا جو تصور بیان کیا گیاہے وہ مذہبی شدت اور فقہی جنون کا علاج کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔ سارے رشتہ داروں کے علاوہ اندھے، لنگڑے اور مریض کیلئے بھی گھروں میں کھانے کے حوالے سے خصوصی گنجائش رکھ دی گئی ہے کیونکہ اجنبی افراد کسی کوگھر میں کھانا کھاتے نظر آئیں تو شکوک وشبہات جنم لے سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ پردے کے حوالے سے روشن تصور دنیا کے کسی خطے اور قوم میں ممکن بھی نہیں ہے۔ عام طور سے لوگ یہی کرتے ہیں جو قرآن میں لکھ دیا گیا مگر وہ دین فطرت کی تعلیم سے واقف بھی نہیں ہوتے۔ مذہبی طبقے کی جہالت کو داد اسلئے دینی چاہیے کہ ان کا جذبہ درست تھا اور ہم خود بھی نیک نیتی سے اسکے شکار بن گئے تھے۔
مجدد وقت حضرت حاجی محمد عثمانؒ نے ایمان کی تجدید نہیں کی ہوتی تو ہم شرعی پردے کی جھنجٹ میں بھی نہ پڑتے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ درست راستہ مل جائے توخود کو غلط پگڈنڈیوں پر لگائے رکھنے کے بجائے اسی کو اپنالیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے صراط مستقیم کی دعا مانگتے ہیں اور جب سیدھی راہ مل جائے تو اس پر عمل کرنا بھی شروع کردیں۔ تصویر، طلاق اور شرعی پردے کے علاوہ بہت سارے معاملات میں جو ہم نے حل کردئیے ہیں مگر اس میں ہمارا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا کمال ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ جو میرے احکام میں جدوجہد کرتے ہیں ان کیلئے ضرور بضرور راستے کھول دینگے‘‘۔ حاجی محمد عثمانؒ کی ایک تقریر کا آغاز اسی آیت سے تھا۔ ہمیں موقع ملا توانشاء اللہ اپنے مرکز سے قرآن وسنت، دین ودنیا کے حسین امتزاج کا وہ تعلیمی نصاب متعارف کرائیں گے جس سے ایک بڑا انقلاب برپا ہوگا۔ مدارس کے طلبہ واساتذہ میں صلاحیت کی خوشبو آئے گی۔ مولانا آزادؒ وزیرتعلیم تھے تو علماء سے فرمایا کہ ’’ شکایت ہے کہ علماء میں استعداد نہیں، حالانکہ نصاب تعلیم ہی کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے، جو ان کتابوں پر مشتمل ہے جو زوال کے دور ساتویں صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں‘‘۔ مفتی شفیعؒ نے کہاتھا کہ ’’ عرصہ سے مدارس بانجھ ہیں جو مولوی پیدا نہیں کررہے‘‘۔ نصاب ٹھیک ہوگا تو مدارس بانجھ نہیں رہیں گے ۔سید عتیق گیلانی

عمران خان ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا گھمانے پر کہتا ہوگا کہ جمائما بھی ننگی گھومتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے

imran-khan-ne-larki-ko-nanga-ghumane-per-muzzamat-is-lie-nahi-ki-keh-wo-kehta-hoga-keh-jemima-bhi-nangi-ghoomti-hei-is-me-haraj-kia-hei-ashraf-memon

پبلشرماہنامہ نوشتۂ دیوارمحمد اشرف میمن سابق سینئر نائب صدر تحریک انصاف سندھ نے کہا کہ مغربی کلچر کے انسانی حقوق و اسلام سے عوام کو مغالطہ دیا جا تا ہے، عمران کے بچوں کی ماں پرجو گزرتی ہے، جسکی سزا اسکے بچے بھگت رہے ہیں۔ ہمیں نسلی کتیا کیلئے بھی یہ حقوق و آزادی نہیں چاہیے۔ مغرب میں زنا کی آزادی ہے، جمائما سے نکاح کے بچے نیازی مسلمان مشرقی باپ و گولڈ سمتھ یہودن مغربی ماں کے بچے عظیم رشتہ میں جڑگئے۔ نانا ،نانی ،ماموں، خالہ اور دادا، دادی، پھوپھی چچااور کزنوں کا رشتہ ختم نہیں ہوسکتا۔ سیتا وائٹ کی بچی زنا کی وجہ سے باپ کی شفقت، نان نفقہ، تعلیم وتربیت، موروثی جائیداد اور شناخت تک سے بھی محروم ہے ،دونوں کا فرق واضح ہے۔اگر جمائما کے بیٹے نے سیتاوائٹ کی بچی سے رشتہ یا جنسی تعلق رکھا تو مغرب میں پابندی نہیں مگراسلام ایک مضبوط، بااعتماد اور قابل فخر رشتہ سے اصلاح اور پائیدار امن کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ المیہ ہے کہ پختونخواہ میں پہلی مرتبہ کسی لڑکی کو ننگا گھمایا گیامگر سوشل میڈیا نے معاملہ اٹھایا۔ عمران خان تو کہتاہوگا کہ عورت کو ننگا گھمانے میں حرج کیا ہے؟ بچوں کی ماں جمائما بھی تو ننگی گھومتی ہے ۔

نواز شریف خود کو کھیرا سمجھ کر ڈھینچو ڈھینچو کررہا ہے. اجمل ملک

nawaz-sharif-khud-ko-kheera-samjh-kr-dhanchoon-dhanchoon-kr-raha-he-ajmal-malik

ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا: نوازشریف جنرل جیلانی وجنرل ضیاء کی پیداوار تھا جسٹس نسیم ، قیوم ،افتخار چوہدری کی عدالتوں کا دودھ پیا۔ مگر اب یہ گلہ ہے کہ عدلیہ فوج کے حکم سے دودھ نہیں پینے دیتی۔
ٰٓایک شخص بچہ تھا تو اغوا ہوا ، پھر 10سال کی عمر میں خرکار کے کیمپ میں پہنچا ، 40سال بعد خرکار کی قید سے آزاد ہوا، جب کافی عرصہ بعد اسکے دانت بڑھاپے سے گرگئے تو مذاق میں کسی نے کہا تو دانتوں کیلئے گرائپ واٹر اور نونہال خرید کر پی لینا، اس نے کئی بوتل خرید کر پی لئے اور پھر پتہ چلا کہ اسکے ساتھ ہاتھ ہوا ۔ جانور کا دودھ پیتابچہ کھیرا ہوتا ہے، پھر 2، 4، 6دانت اور بوڑھا ہوجاتاہے۔ نوازشریف کو کوئی سمجھادے کہ زرداری6 دانت کا ہوگا مگر تم بھی کھیرے نہیں ہو۔ تم پرانی یادیں تازہ کرکے سمجھتے ہو کہ عدلیہ گدھی ہے اور دودھ نہیں دیتی اور جنرل گدھا ہے اور دولتی مارتا ہے تو لگتا ہے کہ بڈھا ڈھینچو ڈھینچو کر رہاہے۔ فوج اور عدلیہ کا کوئی قصور ہے نہ ملی بھگت ، اگر پیار سے پکاروگے تب بھی یہی جواب ملے گا، بھٹو نے جنرل ایوب خان کو اس وقت ڈیڈی بنایا جب 2دانت کا تھا مگر4دانت کا ہوا توعوام کو قیادت فراہم کی۔محمد خان جونیجو کے وقت نواز شریف 2دانت کا تھا، ISIسے پیسہ لیکر IJI کی حکومت کی تو4دانت کا تھا، زرداری نے حکومت بنائی تو 6دانت کا تھا، اب صحافی نواز شریف کو نونہال و گرائپ واٹر پلاکر بتاتے ہیں کہ کھیرے ہو۔ وسعت اللہ خان اپنے ’’بات سے بات ‘‘ میں اس کو اپنے الفاظ میں بیان کردینگے تو خوب لگے گا۔ باقی اسٹبلیشمنٹ کی پیداوار جمہوری نہیں ہوسکتی۔