ستمبر 2021 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

افغان طالبان کے لیے اسلامی آئین میں خواتین کے حقوق کے لیے چند بنیادی نکات

افغان طالبان کیلئے اسلامی آئین میں حقوق خواتین کے چند بنیادی نکات

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

1:خواتین کا درست شرعی پردہ
ےٰا ایھا النبی قل لازواجک وبنٰتک و نسآء المؤمنین… O
ترجمہ” اے نبی! اپنی بیبیوں،اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکایا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں تکلیف نہ دی جائے۔بیشک اللہ بخشنے والا رحم والا ہے۔(الاحزاب:58، 59)
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمَْ …(سورہ نور:30، 31)
ترجمہ: ”مومنوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں نیچی رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے جو وہ اپنی طرف سے گھڑتے ہیں اور مومنات سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں ۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کسی کے سامنے نہ دکھائیں مگر جو ان میں سے ظاہر ہوجائے۔ اور اپنی چادروں کو اپنے سینوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کو نہیں دکھائیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ کے سامنے یا شوہروں کے باپ کے سامنے یا بیٹوں کے سامنے یا شوہروں کے بیٹوں کے سامنے یا بھائیوں کے سامنے یا بھتیجوں کے سامنے یا بھانجوں کے سامنے یا اپنی عورتوں کے سامنے یا جن کے مالک ان کے معاہدے ہوں یا ان تابع مردوں کے سامنے جن میںرغبت نہ ہو یا ان بچوں کے سامنے جو عورتوں کے پوشیدہ رازوں سے واقف نہیں اور اپنے پیر نہ پٹخیں تاکہ چھپی ہوئی زینت کا پتہ چلے اور اللہ کی طرف سب توبہ کرو اے مومنو! ہوسکتا ہے کامیاب ہوجاؤ”۔
جب طالبان کے روایتی پردے کا تصور اجاگر ہوتا ہے تو ان آیات پر عمل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ اسلئے کہ نظروں کی حفاظت کا ماحول نہیں ہوتا۔
اللہ نے مسلمان عورتوں کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا ہے لیکن کافروں پر زبردستی پردہ کرانے کی بات تو بہت دور کی ہے مسلمانوں پر بھی زبردستی نہیں تھوپی ہے۔ سعودی عرب اور ایران نے جس بات کواسلامی حکم سمجھ کر عمل کرانا شروع کیا تھا تو اس کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ طالبان ان کی تقلید نہیں کریں اور عورتوں کو آزادی اور تحفظ دیں تو ان کی ساری مشکلات ختم ہوجائیں گی۔
عورت کی زینت کو اردو میں ” حسن النسائ” کہتے ہیں۔ عورتوں کی اضافی چیز حسن النساء ہے۔ یہی ان کی زینت ہے۔ عورت اپنے شوہر اور اپنے محرموں کے سامنے دوپٹہ نہ لیں تو قرآن نے اجازت دی ہے۔ مسلمان عورتوں کی اکثریت اسلام کے فطری حکم پر عمل کرتی ہے۔ دوپٹہ لینا بھی خواتین کیلئے مشکل ہے۔ مخلوط معاشرے میں خواتین اہتمام کرتی ہیں۔ خاتون صحابیہ جب وہ گھر سے باہر نکلنے لگیں تو دوپٹہ لے لیا”۔ (بخاری)یعنی اپنے گھر میں دوپٹہ نہ تھا۔
دورنبویۖ میں عورتیںرفع حاجت، لکڑیاں لینے، پانی بھرنے، پنج وقتہ نماز، اقرباء کے ہاں جاتیں۔طواف، حج وعمرہ، مجاہدین کی خدمت کرتی تھیں۔ مدارس ،،دفاتر، کالج ویونیورسٹیوں کا وجود نہ تھا لیکن جس معاشرے کا زمانہ تھا تو مرد کے شانہ بشانہ عورت کی سرگرمیاں تھیں۔ غلام اور لونڈی کا وجود تھا۔ لونڈیوں کا لباس بہت مختصر ہوتا تھا۔ فقہ کی کتابوں میں ان کا فرض ستر بہت کم ہے۔ جب طالبان قرآن وسنت کی طرف دیکھ لیں تو کامیاب نظام بنانے میں دیر نہ لگے۔

2:خواتین کو تحفظ فراہم کرنا
لَّئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھم……
اگر باز نہیں آتے منافقین اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے اور افواہیں اُڑانے والے شہر میں تو ہم تجھے ان پر مسلط کردیں گے، پھر یہ آپ کے پڑوسی نہیں رہیں گے مگر تھوڑی مدت۔ملعون ہیں ،جہاں پائے گئے پکڑے جائیں قتل کئے جائیں بے دریغ قتل ۔یہ اللہ کی سنت رہی ہے پہلے لوگوں میں بھی اور آپ اللہ کی سنت کو بدلا ہوا نہیں پاؤ گے” (سورۂ احزاب ،آیات:61، 62)
اگر طالبان نے یہ تأثر قائم کردیا کہ انکے اقتدار میں جبر کا ماحول نہیں تو دنیا سے سارے افغانی واپس آجائیں گے۔ سورۂ احزاب کی آیات کے مطابق اگر کفار کی خواتین اپنے سینوں پر دوپٹے نہ بھی لیں تو یہ ان کی مرضی ہے اور اگر مسلمان خواتین اس حکم پر عمل نہ کریں تو بھی ان کو مجبور کرنے کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اگر طالبان نے اس آیت کے حکم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کیا تو افغانستان گھٹن کے ماحول سے نکلے گا۔ طالبان کو مشورہ ہے کہ قرآنی آیات کو سمجھ کر اس کو فوراً عملی جامہ پہنائیں۔ خواتین کو لباس کی آزادی ہو تو پھر یہ مرحلہ آئیگا کہ عورت شکایت کرے گی کہ اس کو ستایا گیا تو عورت کو تحفظ دیا جائیگا۔ اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا ہے کہ اگر منافقین عورتوں کے ستانے سے نہیں رُکے اور جن کے دلوں میں مرض ہے وہ نہیں رُکے عورتوں کو ستانے سے اور شہرمیں افواہیں پھیلانے والے باز نہیں آئے تو یہ بہت کم مدت تک آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ یہ ملعون ہیں جہاں بھی پائے جائیں پکڑے جائیں اور ان کو بے دریغ قتل کیا جائے۔ یہ پہلے لوگوں میں بھی اللہ کی سنت رہی ہے اور اللہ کی سنت بدلتی نہیں ہے۔
جب خواتین کو ستانے والوں کو ملعون قرار دیکر قتل کا حکم تھا اور اس پر طالبان افغانستان میں عمل کرکے دکھائیں تو دنیا بھر میں عورت مارچ کرنے والی خواتین طالبان کے نظام کا مطالبہ کریںگی۔ امیر المؤمنین ہیبت اللہ اخونزادہ اعلان کردیں کہ اسلام آباد ، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں 8عورت مارچ منانے والے افغانستان کے کابل، قندھار، جلال آباد اور دوسرے شہروں میں اس دن کے منانے کا اہتمام کریں۔جس طرح شیعہ کے جلوسوں کو ہم نے تحفظ دیا تھا اسی طرح سے عورت مارچ والوں کو بھی تحفظ دیں گے۔
امریکہ و نیٹو کے جانے کے بعد افغانستان کو فتح کرنے کیلئے اپنے بھائیوں کو نیچا دکھانے سے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ البتہ پنجشیر سمیت پورے افغانستان کی تمام لسانی اور مذہبی اکائیوں کو متحد ومتفق ہوکر ایک نظام اور ایک پرچم تلے اکٹھا ہونے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ رسول اللہۖ نے مکہ کو فتح کیا تو جنہوں نے صحابہ کرام کے گھروں پر قبضہ کررکھا تھا ان سے گھر واپس نہیںلئے۔ 3 دن سے زیادہ صحابہ کے مکہ میں رہنے پر پابندی لگائی۔ خانہ کعبہ کی چابیاں اسی کے پاس رہنے دیں جسکے پاس تھیں۔مکے کا ہی ایک مخالف شخص گورنر بنادیا گیا۔ زبردستی سے کسی کیساتھ زیادتی کا تصور ختم کردیا۔ ( ایک عالم ہے ثناء خوان آپ ۖکا)باہمی رضا سے تین دن تک متعہ کی اجازت دی ( صحیح مسلم) ،جس کا تصور بھی مغرب کی افواج نہیں کرسکتی ہیں جنگ کی حالت میں وہ انسانی حقوق اپنے سب سے بدترین اور جاہل دشمنوں کو دیدئیے گئے۔ طالبان قرآن اور نبیۖ کی سیرت پر چلنے کا اعلان کریں تو کامیابی قدم چومے گی۔
جب ایک عورت صبح کی نماز کیلئے نکلی اور اس کے ساتھ کسی نے جبری جنسی تشدد کیا تو نبیۖ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ اس کیلئے گواہ طلب نہ کئے بلکہ عورت کی شکایت پر اس کی داد رسی کرکے نشانِ عبرت بنادیا گیا۔

3:شرعی پردے کا مروجہ غلط تصور
لَّیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَج وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَج وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَج وَّلَا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّہَاتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ…. (سورہ النور61)
ترجمہ: ”کسی نابینا پر حرج نہیں اور نہ دونوں پیر کے لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ہے اور نہ تمہاری اپنی جانوں پر کوئی حرج ہے کہ کھاؤ اپنے گھروں میں یا اپنے باپوں کے گھروں میں یا اپنی ماؤں کے گھروں میںیا اپنے بھائیوں کے گھروں میں یا اپنی بہنوں کے گھروں میں یا اپنے چچوں کے گھروں میں یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں میںیا ماموں کے گھروں میں یا خالاؤں کے گھروں میں یا جن کی چابیوں کے تم مالک ہو۔ یا اپنے دوستوں کے ہاں ، کوئی گناہ نہیں کہ تم اکھٹے کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ پس جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے نفسوں پر سلام کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک پاک استقبالیہ ہے اس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو”۔
ان آیات میں اجنبی افراد میں سے نابینا ، دونوں پاؤں سے لنگڑا اور مریض سے معاملہ شروع کیا گیا ہے اور پھر اپنے گھروں سے لیکر اپنے متعلقین کے تمام رشتوں اقارب اور احباب کے ساتھ کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ دنیا کی ہر قوم کی طرح مسلمانوں کو بھی عزیز و اقارب کے فطری رشتے سے بھرپور طریقے سے تعلقات نبھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ چچا ، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے گھروں میں مشترکہ کھانے کی اجازت سے غلط شرعی پردے کا بھانڈہ پھوٹتا ہے اور جن لوگوں نے تصنع کرکے من گھڑت مسائل بنائے ہیں ان کے غلط تصورات سے مسلمانوں کو کھلے الفاظ میں نجات دلائی گئی ہے۔
طالبان کے علماء ومفتیان کے نزدیک شرعی پردے کاتصور یہ ہے کہ بھائی ، چچا، ماموں اور قریبی اقارب نامحرموں سے اپنی بیگمات کا پردہ کروایا جائے لیکن علماء ومفتیان جانتے ہیں کہ ایک گھر میں کئی کئی بھائی رہتے ہیں۔ ماموں، چچا، ماموں زاد اور چچازاد سے شرعی پردے کا تصور نہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” ہمارے ہاں مروجہ پردہ اشرافیہ کا پردہ ہے، شریعت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ غریب پردہ کرنے کی اور اپنی خواتین کو پردہ کرانے کی اوقات نہیں رکھتا ہے”۔ قرآن میں تابع افراد سے سید مودودی نے مراد نوکر چاکر لئے ہیں۔ بخاری میں ہے کہ دلہن اور دلہا دونوں صحابہ کرام اور نبیۖ کی دعوت میں خدمت کررہے تھے۔ رسول اللہۖ نے چچی فاطمہ بن اسد والدہ محترمہ حضرت علی کی میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا اور فرمایا کہ ” یہ میری ماں ہے”۔ مفتی طارق مسعود کی ویڈیوز میں جہالتوں کو سن کر حیرانگی ہوگی۔
حدیث میں دیور کو موت کہا گیا تو مقصد یہ ہے کہ بھائی ایک گھر میں رہتے ہیں ،اختلاط رہتا ہے اور ان کو احتیاط برتنے کی اسی بنیاد پر تلقین کی گئی لیکن جب بھائی کیا چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے گھر میں مشترکہ کھانے کی اجازت ہے تو پھر پردے کا وہ تصور باقی نہیں رہتا جو مولوی نے سمجھا ہے اور جس پر مولوی عمل نہیں کرتا مگر جب موقع ملتا ہے تو دوسروں پر بھی زبردستی اپنا حکم مسلط کرتا ہے۔

4:نکاح وایگریمنٹ کا تصور
سعودیہ، مصر میں مسیار اور ایران میں متعہ ہے ، قرآن میں اوماملکت ایمانکم (جنکے مالک تمہارے معاہدے ہوں) ۔ مغرب میں یہ فرینڈشپ ہے اور قرآن وسنت میں نکاح و ایگریمنٹ کا الگ الگ تصورہے۔ حنفی مسلک میں قرآن کی خبر واحد آیت کے حکم میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم کتب اللہ علیکم واُحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغواباموالکم محصنین غیرمسٰفحین فمااستمتعتم بہ منھن (الی اجل مسمٰی) ……O
ترجمہ ”اوربیگمات عورتوں میں سے مگر جنکے مالک تمہارے معاہدہ ہوں، اللہ کا لکھاہے تمہارے اُوپر اور انکے علاوہ تمہارے لئے سب حلال ہیں تلاش کرواپنے اموال کے ذریعے نکاح کی قید میں لاکر نہ کہ خرمستیاں کرتے ہوئے۔ پس ان میں سے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ( مقررہ مدت تک) تو ان کو ان کامعاوضہ دو ایک مقررہ۔اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ مقرر کردہ میں باہمی رضا سے کچھ کمی بیشی کرلو اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو تم میں سے (بیوہ وطلاق شدہ) بیگمات سے بھی نکاح کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو پھر تمہاری وہ لڑکیاں جو تمہارے معاہدے والی ہوں( لونڈیاں یا متعہ ومسیار والیاں) ۔اللہ تمہارے اِیمان کو جانتا ہے ، تم میںبعض بعض سے ہیں۔( آدم وحواء اور ابراہیم وحاجرہ کی اولاد ہو)اور ان سے نکاح کرو،انکے اہلخانہ کی اجازت سے اور ان کا معروف اجر دیدو، ان کو نکاح کی قید میں لاکر نہ کہ خرمستیاں نکالنے کیلئے اور نہ چھپی یاری کیلئے اور جب تم انہیں نکاح کی قید میں لاچکے اور پھر وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں توان پر آدھی سزا ہے ،عام شریف عورتوں کی نسبت اور یہ ان کیلئے ہے جو تم میں مشکل میں پڑ نے سے ڈرتے ہوں اور اگر تم صبر کرلو( سزا نہ دو) تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے لئے واضح کرے طریقے ان لوگوں کے جو آپ سے پہلے تھے اوراللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ دے اور جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ دے اور جولوگ اپنی خواہشات کے تابع بنے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بڑے میلان کا شکار ہوجاؤ۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ کم کردے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ”۔ النساء آیات
چوتھے پارہ کے آخر میںمحرمات کی فہرست اور پانچویں پارہ کے شروع میں بیگمات کا ذکر ہے مگر جن سے ایگریمنٹ ہوجائے۔ بیگمات سے کیا مراد ہے؟۔ اس پر صحابہ کے دور سے جمہور اور شخصیات میں اختلاف ہے۔ انگریزی اور اردو میں شادی شدہ پر بیگم کا اطلاق ہوتا ہے اور شوہر کیساتھ تعلق ہو یا بیوہ اور طلاق شدہ بن جائے تو وہ بیگم کہلاتی ہے۔ بیوہ یا طلاق شدہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو اسی شوہر سے منسوب ہوتی ہے۔ قیامت کے دن بھی بیوہ اپنے اسی شوہر کی بیوی ہوگی جس کی وفات کے بعد اس نے کسی اور سے شادی نہ کی ہو۔ یہ قرآن وسنت اور معروف مروجہ قوانین میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ قرآن کا حکم ہے کہ بیوہ کا نکاح کراؤ اور نشان حیدر والے کی بیوہ کے مراعات کا مسئلہ ہوگا تو ترجیح کا اختیار بیوہ کو ہوگا۔ اور ایگریمنٹ اس کیلئے زیادہ مفید ہوگا۔قرآن کی اس رہنمائی سے پاک فوج ، بیروکریٹ اور دنیا بھر کے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
جب نبیۖ کو کسی اور عورت سے قرآن میں نکاح سے منع کیا گیا تو پھر بھی ایگریمنٹ کی اجازت دی گئی۔ حضرت ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی اسلئے اللہ نے فرمایا کہ وہ چچازاد بیٹیاں آپ کیلئے حلال ہیں جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی۔ ام ہانی کیساتھ ایگریمنٹ کی اجازت تھی لیکن ازواج میں غلط شمار کیا گیا۔

5:مرد اور عورت کایکساں حق
دنیا بھر میں بیوہ کو شوہر کی پینشن ملتی ہے لیکن اگر دوسرا نکاح کرلے تو پینشن کے حق سے محروم ہوگی۔ ایسی بیگمات کو محرمات کی قرآنی فہرست کے آخر میں رکھا ہے لیکن ان سے ایگریمنٹ جائز ہے تاکہ یہ بیگمات پینشن سے محروم نہ ہوں۔ اگر عورت کسی شخص کی نسبت سے محروم ہونے پر راضی نہ ہو تو بھی ایگریمنٹ کی اجازت ہے۔ اگر طلاق شدہ بیگم ہو۔جس طرح وزیراعظم عمران خان کی بیگم جمائما خان ہے اور یا بیوہ ہو جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی شیعہ بیگم نصرت بھٹو تھیں۔
لونڈی و غلام پر ماملکت ایمانکمکا اطلاق ہوتا ہے مگر جیسے فانکحوا ماطاب لکم من النساء …..اوماملکت ایمانکم میں ملکت ایمانکم سے غلام مراد نہیں ہوسکتے ہیں، اسی طرح لونڈیوں سے زیادہ ایگریمنٹ والی عورتیں مراد ہوسکتی ہیں۔ اسلئے کہ لونڈیوں کے نکاح کرنے کا حکم ہے۔
والمحصنٰت من النسا ء الاما ملکت ایمانکم میںبھی لونڈی کی جگہ ایگریمنٹ لینا واضح ہے۔ اگر شادی شدہ لونڈی مراد لی جائے تو اختلاف ہوسکتا ہے اور جہاں جنگ میں کوئی لونڈی بن جائے تو شادی شدہ ہونے کے باوجود تعلق جائز ہو گا؟ یہ بھی محل نظر ہے۔ اللہ نے قیامت تک ہر دورکی بہترین رہنمائی کی ہے ۔
اللہ نے انسان کو ضعیف قرار دیا اور سب سے زیادہ انسان جنسی خواہشات کے حوالے سے کمزور ہے۔ حضرت آدم و حواء کو جنسی خواہش سے منع کیا گیا تو اپنی ضعیف فطرت سے مجبور ہوکر بچ نہیں سکے۔صحابہ کرام نے روزوں کی راتوں میں ناجائز سمجھ کر بھی اپنی بیگمات سے جماع کیا اور دن میں روزہ بھی بیگم سے جماع کی وجہ سے توڑا تھا۔ اللہ نے لونڈی یا متعہ والوں سے بہتر بیوہ یا طلاق شدہ کو قرار دیا۔ لیکن اگر متعہ والی یا لونڈی سے نکاح کیا تو اسکو کمتر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے اسلئے کہ انسان خود بھی نطفۂ امشاج ماں باپ کے رلے ملے نطفے سے پیدا ہوا ہے۔تکبر اور پاک بازی کے دعوے اس کو بالکل بھی زیب نہیں دے سکتے ہیں۔
کچھ عورتیں اپنی صنفی کمزوری اور پرکشش جسم کے سبب ہر دور میںمشکل کا شکار رہی ہیں اور معاشی مجبوری اور معاشرتی رویوں سے اپنی پوزیشن کھو بیٹھی ہیں۔ امریکی ہوٹل میں کام کرنے والی خوبرو امریکی دوشیزہ نے ایک پاکستانی کونکاح کے مطالبے پر جواب دیا کہ ”10 ہزارڈالرمہینے کے عوض شادی کرسکتی ہوں”۔ اگر وہ مستقل شادی کی جگہ ایک مقررہ وقت تک ایگریمنٹ کرتی ہے تو اس کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ قرآن نے دونوں صورت میں عورت کا لحاظ رکھا ہے۔ لڑکی لونڈی ہو، متعہ والی ہو،مسیار والی ہو ، گرل فرینڈ ہو اور داشتہ ہو لیکن ترجیحات میں ان عورتوں کو رکھا ہے جو بیوہ وطلاق شدہ ہونے کے باجود بھی عزت کی حفاظت کرنے والی ہو اور کسی کے پاس اتنی طاقت بھی نہ ہو تو پھر ایگریمنٹ والی سے بھی نہ صرف ان کے اہلخانہ کی اجازت سے نکاح کا حکم ہے بلکہ ان کو کم تر سمجھنے کو بھی روکا گیا اور ان سے یہ رویہ بھی روا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی طرح کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں تو پھر عام شریف عورتوں کی بہ نسبت آدھی سزا ہے اوراس میں بھی ایسی لڑکیوں سے در گزر کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔

6:آدھی اور پوری سزا کاتصور
نکاح کے حق مہر اور ایگریمنٹ کے معاوضے میں بہت بنیادی فرق ہے اور ایک مستقل رشتے اور وقتی پلاؤ میں فرق فطرت کا بھی تقاضہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں استمتاع کیساتھ ”ایک مقررہ وقت” کا اضافہ بھی ہے۔ حنفی مسلک کے نزدیک یہ آیت کے حکم میں ہے ۔ ابن مسعود کا کوئی الگ مصحف نہ تھا۔ متعہ کے مقررہ وقت تک ابن مسعودنے تفسیر لکھی ۔ بخاری و مسلم میں ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے نہ صرف متعہ کی اجازت دی بلکہ اس کی یہ علت بھی واضح فرمادی کہ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت (حرام مت کرو ،جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے طیبات میں سے)۔ جس طرح جلالین کی تفسیر میں قرآنی آیات کیساتھ تفسیری نکات سطور میں لکھی گئی ہیں اسی طرح ابن مسعود نے بھی تفسیر لکھی ہے۔
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ” زاد المعاد” میں لکھا ہے کہ” حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے فرمایا کہ آپ خود بھی اسی متعہ ہی کی پیداوار ہیں”۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیۖ پر دوسری خواتین سے نکاح کی ممانعت کردی لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ حضرت ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی اور اس نے نبیۖ کی طرف سے نکاح کی دعوت کو بھی قبول نہیں کیا تھا، فتح مکہ کے بعد اس کا شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے نکاح کی دعوت دی تھی لیکن آپ نے عرض کیا کہ میرے بچے بڑے ہیں اور ان کی وجہ سے مجھے دوسرا نکاح گوارا نہیں ۔ پھر قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ ” اے نبی! ہم نے تیرے لئے ان چچااور خالہ کی بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی تھی اور جن کو تمہارے لئے غنیمت بنایا ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ تم لوگ بھی کافر عورتوں سے چمٹنے کے بجائے ان کو چھوڑ دو۔ مسلم خواتین ہجرت کرکے شوہروں کو چھوڑ رہی تھیں تو اللہ نے حساب برابر کیا۔ قرآن کا صحیح ترجمہ وتفسیر ہو تو مسلمان نہیں کافر بھی مان جائیں۔ علماء ایک ٹیم تشکیل دیں جس کو حکومت کی سطح پر سرپرستی بھی حاصل ہو۔
علامہ بدرالدین عینی کے حوالے سے علامہ غلام رسول سعیدی نے نبیۖ کی 28ازواج اور 27کا نام نقل کیا ہے اور ان میں ام ہانی اورامیر حمزہ کی بیٹی کا بھی ذکر ہے جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ قرآن میں ہجرت نہ کرنے والیوں کیلئے حلال نہ ہونے کی منطق کے بعد جب نبیۖ نے ام ہانی سے ایگریمنٹ کا تعلق رکھا ہوگا تو پھر حضرت علی نے متعہ کی بنیاد پر اس پیشکش کو جائز سمجھا ہوگا۔ اسی طرح ام المؤمنین ام حبیبہ نے صحیح بخاری کے مطابق اپنی سابقہ بیٹیوں کو پیش کردیا تھا جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ ”ان کو مجھ پر پیش نہ کرو ،یہ میرے لئے حلال نہیں ہیں”۔ مولانا سلیم اللہ خان نے بخاری کی اپنی شرح کشف الباری میں بہت سارے علمی انکشافات کئے ہیں اور ان کا حل کئے بغیر طالب علموں اور علماء ومفتیان کو تشویش میںچھوڑنا بہت خطرناک ہوگا۔
شادی شدہ ایگریمنٹ والی کیلئے آدھی سزا ہے اور سورۂ نور میں زانیہ اور زانی کیلئے 100، 100کوڑوں کی سزا ہے۔ سزائے موت آدھی نہیں ہوسکتی ہے لیکن100کے آدھے 50کوڑے ہیں۔ نبیۖ کی ازواج مطہرات کیلئے قرآن میں دوھری سزا کا ذکر ہے جو ڈبل سنگساری نہیں بلکہ 200 کوڑے ہوسکتے ہیں۔ شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کیلئے بدکاری پر ایک ہی سزا ہے اور وہ 100کوڑے ہیں اور اس پر علامہ مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب ” تدوین القرآن” میں بڑے زبردست دلائل دئیے ہیں جو بنوری ٹاؤن کراچی نے بھی شائع کردی ہے۔

7:مرد اور عورت کی یکساں سزا
سُوْرَة اَنْزَلْنَاہَا وَفَرَضْنَاہَا وَاَنْزَلْنَا…… O(سورہ النور: 1، 2، 3)
ترجمہ: ”یہ سورة ہم نے نازل کی ، فرض کی، اس میں کھلی آیات نازل کیں، شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زانیہ اور زانی میںہر ایک کو سوَ سوَ کوڑے مارو۔ اور تمہیں ان پر اللہ کے دین کی وجہ سے نرمی نہیں برتنی چاہیے اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور ان پر مؤمنوں کا ایک گروہ گواہ بھی بن جائے۔ بدکارمرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت کیساتھ یا مشرکہ کیساتھ اور بدکار عورت کا نکاح نہ کرایا جائے مگر بدکار مرد یا مشرک سے۔ اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے”۔
ان آیات میں بدکاری پر عورت اور مرد کی بالکل یکساں سزا رکھی گئی ہے اور معاشرتی بنیاد پر بھی عورت اور مرد کو یکساں طور پر مسترد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مرد جتنے بھی بدکردار ہوں تو ان کو عورت نیک چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس روئیے کو بالکل مسترد کرکے فرمایا ہے کہ یہ مؤمنوں پر حرام کردیا گیا ہے۔ معاشرے میں اتنا عدم توازن ہے کہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ اس کو بدکاری کے شبے پر بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اور مرد بدکاری میں شادی شدہ ہونے کے باوجود مشہور ہو تو بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑا جاتا ہے۔
ان واضح آیات کے باوجود شادی شدہ مرد و عورت کیلئے سنگساری کی سزا کا تصور غلط ہے۔ جس طرح خانہ کعبہ کی طرف رُخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی اسی طرح سورہ النور کی آیات نازل ہونے سے پہلے اہل کتاب کے مطابق توراة میں شادی شدہ کیلئے سنگسار کرنے پر عمل ہوا۔ ایک صحابی سے پوچھا گیا کہ سورہ نور کی آیات کے بعد بھی سنگساری پر عمل ہوا؟۔ تو انہوں نے جواب دیاکہ میرے علم میں نہیں۔ ( صحیح بخاری)
اگر مان لیا جائے کہ الشیخ و الشیخة اذا زنیا فارجموھما ”جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت بدکاری کریں تو ان کو سنگسار کردو”۔ غیر تحریف شدہ توراة کی آیت ہے تو بوڑھے شادی شدہ اور کنوارے زد میں آئیں گے اور جوان کنوارے یا شادی شدہ زد میں نہیں آئیں گے۔ جب اللہ نے واضح کیا ہے کہ توراة میں تحریف ہوئی ہے اور قرآن محفوظ ہے تو قرآن کے مقابلے میں توراة کو اپنے نصاب میں شامل کرنا کتنی غلط بات ہے؟۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو آپۖ کی چارپائی کے نیچے رجم اور رضاعت کبیر کی دس آیات تھیں جو بکری کے کھاجانے سے ضائع ہوگئیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ کہا جائیگا کہ عمر نے قرآن پر اضافہ کیا ہے تو رجم کی آیات اس میں لکھ دیتا۔ یہ کھلا تضاد ہے۔ اگر آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوتیں تو حضرت عمر نے قرآن میں لکھ دینی تھیں۔
طالبان سب سے پہلے ایک عظیم الشان یونیورسٹی کا اعلان کریں جس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کا بالکل واضح تصور ہو۔تضادات کا معاملہ ختم ہوجائے اور متفقہ اور قابلِ عمل آیات اور احادیث دنیا کے سامنے آجائیں۔ فرقہ واریت اور مسلک پرستی کی جگہ قرآن وسنت کی تعلیمات عام ہوں۔دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے ساری عمر ضائع کردی۔

8:غیرت میں قتل کا ممنوع ہونا
وَالّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُہَدَآئَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَةً وَّّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَةً اَبَدًا وَاُولٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ Oاِلَّا الّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر رَّحِیْم Oوَالّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لّہُمْ شُہَدَآئُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَةُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ Oوَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ Oوَیَدْرَاُ عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ Oوَالْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ O
ترجمہ: ” اور جو لوگ بیگمات پر بہتان باندھتے ہیں اور پھر وہ چار گواہ لیکر نہیں آتے تو ان کو اسّی کوڑے لگائیں۔ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کریں۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں۔ مگر جن لوگوں نے اسکے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جو لوگ اپنی ازواج پر بات مارتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہیں مگر وہ خود تو پھر ان میں کسی ایک کی چار گواہیاں ہوں گی کہ بیشک وہ سچا ہے اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے۔اور اس عورت کو سزا نہ ہوگی اگر وہ چار گواہیاں دے کہ خدا کی قسم وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر وہ سچا ہو۔ (النور: 4تا 9)
اکثر و بیشتر اوقات کسی مرد کی عزت پر حملہ کرنے کیلئے اس کی بیگم پر بہتان لگایا جاتا ہے یا عورت کو اپنے شوہر کے سامنے بے وقعت بنانے کیلئے بہتان لگایا جاتا ہے اسلئے بطور خاص دوسروںکی بیگمات پر بہتان لگانے کی سزا اسّی کوڑے ہے۔ جبکہ اپنی بیگم پر بہتان لگانے کی صورت میں عورت کیساتھ مرد کی عزت بھی ٹھکانے لگتی ہے۔ قرآن میں بہتان پر اسّی اور بدکاری پر سَو کوڑے کی سزا کا حکم ہے۔ اگر عورت اپنے شوہر کو جھٹلاتی ہے تو اس سے سز ا اُٹھادی جائے گی۔ یہاں عورت کی گواہی کو مرد کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز قرار دیا گیا ہے۔ ان آیات میں عورت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس پر بہتان لگانے کی بھی بڑی سزا ہے اور غیرت کے نام پر اس کو قتل بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اگر افغان طالبان نے ان آیات پر عمل کیلئے ساری دنیا کو آگاہ کیا تو دنیا بھر کی خواتین ان کا خیر مقدم کریں گی۔ جب برصغیر پاک و ہند پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو تعزیرات ہند میں غیرت کی بنیاد پر شوہر کیلئے بیوی کو قتل کرنا جائز قرار دیا گیا تھا۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے قرآن نے عورتوں پر جو احسانات کئے ہیں اگر ان کو کھلے الفاظ میں دنیا کے سامنے لایا جائے تو یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے رسم و رواج میں قرآنی آیات کی طرف کبھی توجہ دینے کی زحمت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ قرآن کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے فقہی مسالک میں مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ قرآنی آیات پر سیدھے انداز میں عمل کرنے کے بجائے موشگافیوں میں لگ جاتے ہیں۔ پہلی اُمتیں بھی اس لئے گمراہی کا شکار ہوئی تھیں کہ اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں فرقہ واریت اور مسلکوں کے شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ جھگڑ کر صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔
نبیۖ کی زوجہ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگانے کی سزا بھی اسّی کوڑے دی گئی اور ایک عام شخص کی بیگم پر بہتان کی سزا بھی اسّی کوڑے ہے تو اس سے اسلام میں اعلیٰ ترین مساوات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کوڑوں کی سزا غریب وامیر کیلئے یکساں ہے لیکن ہتک عزت میں پیسوں کا فرق یکساں نہیں اور غریب کیلئے دس لاکھ بھی بڑی سزا اور امیر کیلئے دس کروڑ بھی کچھ نہیں ہے۔ علماء نے کبھی قرآن کے مساوات کا نظام اپنا ووٹ حاصل کرنے کیلئے بھی پیش نہ کیا۔

9:اسلام کی بڑی روشن خیالی
سورۂ نور میں چشم دید گواہ ہونے کے باوجود بھی شوہر کو بیوی کے قتل سے روک کر لعان کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا روشن خیالی ہوسکتی ہے کہ جو قرآن ایک غیرتمند شوہر کو اپنی بیوی کی کھلی فحاشی پر بھی غیرت کے نام پر قتل سے روکتا ہے اور دوسری طرف کسی اجنبی خاتون کو بھی جبری جنسی زیادتی نہیں بلکہ محض تنگ کرنے اور اذیت پر بھی جہاں پایا جائے پکڑ کر قتل کیا جائے کا حکم دیتا ہے؟۔
جب علماء افغانستان میں قرآن کی آیات پڑھیں، کتاب کی تعلیم دیں اور ان کا تزکیہ کریں اور حکمت سکھادیں تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائے گا اور دنیا کیلئے اس مثبت انقلاب کو روکنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہوگا۔ عورت کے حقوق پر ایک مختصر کتابچے میں مدلل بات کی ہے جس کو سمندر کی طرح خاموش پذیرائی بھی ملی ہے۔ ابھی تو عام لوگ اس مختصر علمی مواد کو سمجھنے سے قاصر ہیں ورنہ یہ ایک اپنی جگہ پر بڑا انقلاب ہے۔ تصویر کے جواز پر میری کتاب ”جوہری دھماکہ” نے ایک انقلاب برپا کیا تھا۔پہلے ہم نے جاندار کی تصویر کی سخت مخالفت کرکے ایک لہر پیدا کی تھی جس کو طالبان نے عملی جامہ پہنایا تھا۔ لیکن انہوں نے اسامہ بن لادن کو رعایت دی تھی اور یہی بلا ان کیلئے وبال جان بن گئی۔ طالبان نے بھی ہماری طرح جاندار کی تصویر کی مخالفت اور داڑھی منڈانے کے خلاف تشدد کا معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ نماز کیلئے بھی زبردستی کے معاملات بالکل بھی نہیں ہیں۔
افغانستان کا اسلامی آئین بنانے میں قتل کے بدلے قتل، دانت کے بدلے دانت، کان کے بدلے کان، ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور زخموںکا قصاص (بدلہ) بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح ڈکیتوں کو عبرتناک سزائیں دینے سے معاشرے میں سکون قائم ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ” جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ، تو انصاف سے فیصلہ کرو”۔ریاستوں کا بھاری بھرکم بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ طالبان ایسا نظام تشکیل دیں جس میں حکمران آقا اور رعایاعوام غلام نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورتوں اور مردوں کو ناحق ستانے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن عورتوں پر بہتان لگانے کی سزا کا حکم 80 کوڑے بیان کیا ہے۔ جس سے عورت کی عزت کا اسلام میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر بدکاری پر قرآن کے مطابق 100کوڑے اور بہتان پر 80 کوڑے کا حکم معاشرے میں سرِ عام زندہ ہوجائے تو بڑا انقلاب آئے گا۔
قرآن میں لونڈی اور غلام کیلئے بھی ماملکت ایمانکم کے الفاظ استعمال ہوئے اور کاروباری شراکت داروں کیلئے بھی۔ قرآن میں غلام کیلئے عبد اور لونڈی کے امة کا لفظ استعمال ہواہے۔ اللہ نے بیوہ وطلاق شدہ، عبد اور امة کا نکاح کرانے کا حکم دیا ۔ مشرکوں کے مقابلے میں مسلمان لونڈی اور غلام کو ترجیح دینے کا حکم بھی ہے۔ لاتعداد لونڈیوں کے رکھنے کا تصوربھی بالکل غلط تھا۔البتہ جس طرح لونڈیوں سے ایگریمنٹ اور نکاح کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورتوں سے بھی ایگریمنٹ اور نکاح کا تصور تھا اور آزاد عورتوں کا بھی غلاموں سے نکاح اور ایگریمنٹ کا تصور ہوسکتاتھا۔ قرآن کی تفسیر کو غلط مفہوم نہ پہنایا جاتا تو پھر لونڈی کو جبری حرام کاری پر مجبور نہ کرنے کے غلط ترجمے بھی نہ کئے جاتے۔
صدروفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان نے ”کشف الباری”میں جو فقہی مذاہب سے عورت کی بے حرمتی کا بھانڈہ پھوڑا ہے وہ بھی قابل دیدہے۔
لکھا ہے کہ عورت کا نکاح سے پہلے کتنا حصہ دیکھنا چاہیے؟جمہور کے نزدیک صرف ہتھیلی اور چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی کے ہاں شرمگاہ کے سوا پورے جسم کو دیکھنا جائز ہے اور ابن حزم کے نزدیک پورے جسم کو دیکھنا جائز ہے۔ دیکھنے کیلئے عورت سے اجازت کی بھی ضرورت نہیں ۔ (کشف الباری)

10:عورت کے حقوق کا جنازہ
مولانا سلیم اللہ خان نے طالبان پر احسان کرکے لکھ دیا ہے کہ ”کسی امام کے نزدیک بچی، عورت، کنواری، طلاق شدہ اور بیوہ سب پر اپنی مرضی مسلط کرکے ولی اسکا جبری نکاح کراسکتا ہے اور کسی کے نزدیک بچی اور کنواری پر زبردستی مسلط کرنا جائز ہے اور کسی کے نزدیک بالغہ کنواری اور بیوہ وطلاق شدہ پر زبردستی کرنا جائز نہیں، بچی پر زبردستی جائز ہے” (کشف الباری شرح بخاری)
مسلکی کاروبارکی یہ مارکیٹنگ قرآن واحادیث سے متصادم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” کنواری سے پوچھ کر اس کی رضامندی سے اسکا نکاح کیا جائے لیکن زبان سے اس کااقرار خاموشی اور ہنسنا بھی ہے اور بیوہ وطلاق شدہ کا زبان سے اقرار اور اعتراف کے بعد اس کا نکاح کروایا جاسکتا ہے”۔( صحیح بخاری)
نکاح کیلئے قرآن میں نان نفقہ اور عدل وانصاف دینا شوہر کی ذمہ داری ہے اور ایسی صورت میں دودو،تین تین، چار چار عورتوں سے بھی نکاح کرسکتے ہیں مگر جب انصاف فراہم نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک سے نکاح کیا جائے یا پھر جن سے ایگریمنٹ ہو۔ ایگریمنٹ سے مراد لونڈی نہیں اسلئے کہ لونڈی سے نکاح کا حکم ہے اور اسکے بھی نان نفقہ اور انسانی حقوق اسلام نے محفوظ رکھے تھے اور اگرلونڈی یا آزاد عورت سے ایگریمنٹ کیا جائے تو ہی انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوگی بلکہ ایگریمنٹ ہی کے مطابق ایکدوسرے کیساتھ معاملات طے ہوسکتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے طور پر مکمل آزاد اور خود مختار ہوںگے ،البتہ طے شدہ ایگریمنٹ کے پابند ہونگے۔
عثمانی خلیفہ عبدالحمید کی حرم سرا میںساڑھے چار ہزار لونڈیوں کا جواز قرآن وسنت اور اسلام نہیں بلکہ یہ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے کے کرتوت تھے۔محمد شاہ رنگیلا کا ننگی لڑکیوں کی چھاتیاں پکڑ پکڑکر بالاخانے کی سیڑھیاں چڑھنا بھی بہت برا تھا مگر سودی نظام کو جواز بخشنے اور اس پر چپ رہنے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ ایسٹ انڈین کمپنی نے تجارت کے بہانے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا اور اسلامی بینکاری نے ہمارے موٹر وے اور ائیر پورٹوں کو بھاری بھرکم سودی نظام کے تحت قبضہ کرنے کی بنیادیں فراہم کی ہیں۔آج ہماری فوج، پولیس، عدلیہ اور سول بیوروکریسی اپنے ملک وقوم کے ملازم اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں لیکن آنے والے کل کوIMF اور دیگر سودی مالیاتی اداروں کو یہی ملازم بھرپور تحفظ دینے پر مجبور ہوںگے۔ پہلے ہم نے غلامی کا نام آزادی رکھاتھااب پھر آزادی سے غلامی کے نرغے میں چلے جائیںگے۔ اسلئے ہوش کے ناخن لیں۔
طالبان جامعة الرشید کے نالائق مفتی عبدالرحیم اور نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے نرغے کا شکار نہیں بنیں۔ رسول اللہۖ نے سود کو جواز نہیں بخشا بلکہ جب تک مکہ فتح اور آخری خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تو سودی نظام کو برداشت کیا لیکن جونہی معاملات پر دسترس حاصل ہوئی تو سب سے پہلے چچا عباس کے سود کو معاف کرنے کا اعلان فرمادیا۔ دارالعلوم کراچی نے اپنی کتابوں میں شادی بیاہ کے اندر لفافے کے لین دین کو سود قرار دیا اور ساتھ میں حدیث کا بھی حوالہ دیا کہ سود کے ستر سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پھرمعاوضہ لیکر بینکنگ کے سودی نظام کو جواز بخش دیاہے۔ وزیراعظم عمران خان نوجوانوں کو بلاسود قرضہ دینے کی بات کرتا ہے یا پھراسلامی سود کا؟۔مفتی محمد تقی عثمانی کی طرف سے ایک شخص کو جواب دیا گیا کہ ”ہم نے ہندوؤں کے رسم کی مخالفت کی تھی اور لفافے کے لین دین کا معاملہ ہم خود بھی کرتے ہیںلیکن عتیق گیلانی کو یہ نہیں بتایا جائے اسلئے کہ وہ بات کو دوسری طرف لے جائے گا”۔جبکہ ہم طالبان کی عدالت میں بھی ان کیساتھ پیش ہوںگے۔

11:عورت کوخلع اور مالی تحفظ
یا ایھا الذین اٰمنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء ..(النسائ:19)
”اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو اور ان کو اسلئے مت روکو کہ ان سے بعض واپس لو جو تم نے ان کو دیا ہے مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور انکے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو توشایدکسی چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سارا خیر رکھ دے”۔
اس آیت سے ثابت ہے کہ عورت شوہر کو چھوڑ کر جاسکتی ہے اور شوہر کیلئے یہ جائز نہیں کہ اپنا دیا ہوا مال اس کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ دے۔ مگر فحاشی کی صورت میں بعض دی ہوئی چیزوں سے اس کو محروم کیا جاسکتا ہے۔ خلع میں عورت کو غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ جو حدیث سے ثابت ہے۔ اور خلع میں عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ جبکہ طلاق کے بعد عورت دی ہوئی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی مالک ہے۔ چاہے اس کو کافی سارا مال دیا ہو۔ جو آیت 21، 22 النساء میں واضح ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں مقرر کردہ نصف حق مہر اور اپنی وسعت کے مطابق مال فرض ہے۔
عورت کو اپنے بچوں ،حق مہر، جہیز ،مالی حقوق اور خرچے سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو معاشرتی انصاف دیا تھا اسکے مسلم معاشرے میں آثار بھی دوردور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ماں باپ اور شوہر کی جائیداد میں عورت کا جو حصہ ہوتا ہے عورت اس میں بھی محروم کردی جاتی ہے۔
تجارت، تعلیم، روزگار اور معاشرے ہر معاملے میںعورت کو اس کا جائز حق دینا اسلام کا تقاضہ ہے۔کراچی بھر میں برتن دھونے کی مزدوری عورتیں کرتی ہیں مگر جہاں ائیرلائنوں میں برتن دھونے کا زیادہ معاوضہ ملتا ہے تو وہاں مردوں کو لگا دیا جاتا ہے۔ بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ عورتوں کے دھندوں کی بھڑواگیری بھی مرد ہی کرتے ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر نے دوبئی کے ائیرپورٹ کا یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ” لاہور کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے نے سرائیکی لڑکیوں کو دھندے کیلئے لائن میں کھڑا کیا تھا۔ مجھ سے ائیرپورٹ پر پوچھا کہ تم کیا کرنے جارہے ہو؟۔ تو میں نے کہا کہ ان سے کیوں نہیں پوچھتے ہو کہ تمہارا کیا دھندہ ہے”۔
طارق اسماعیل ساگرنے بڑائی کے انداز میں اپنے اس ویلاگ کو سوشل میڈیا میں ڈالا ہے ۔ یہ نہیں سوچا کہ قومی غیرت اس سے اتنی چھلنی نہیں ہوتی ہے کہ مرد سے پوچھ لے کہ کیا کرنے جارہے ہو؟۔ بلکہ لڑکیوں کو دھندے کیلئے لے جانے سے قومی غیرت کا جنازہ نکلتا ہے۔ طارق اسماعیل ساگر میں غیرت ہوتی تو اس بات پر ناراض ہونے کے بجائے کہ کیا کرنے جارہے ہو؟۔ اس بات پر ڈوب مرنے کی بات کرتا کہ میری تو خیر ہے لیکن سامنے جو لڑکیوں کو سپلائی کرنے جارہا ہے اس پر مجھے ایک پاکستانی کی حیثیت سے بہت زیادہ شرمندہ ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے ہاں جمہوریت اور شریعت نام کی ہے۔
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے چہروں سے نقاب اُٹھا دیا ۔امریکیوں کو کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹل حوالہ کرنے کی کہانی چھپے گی تو پردہ نشینوں کے چہروں سے نقاب اُٹھے گا لیکن ہمیں سرِ دست اپنے ملک میں افراتفری کی فضائیں پھیلانے کی جگہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی بات سے اتفاق نہ ہو تو جہاں تک ممکن ہو ، حکمرانوں کیخلاف فضا کو گرمانے کی سیاست سے باز آنا چاہیے۔ جب عورت کو قرآن کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ خلع و طلاق کے بعد کے اسکے مالی حقوق اور بچوں کا تحفظ معاشرے سے نہیں بن پڑتا ہے تو اغیار کی چوہدراہٹ اور اپنے نااہلوں کی مفادپرستی سے ہماری جان اللہ تعالیٰ کیوں چھڑائے گا۔ اپنے نامہ ٔ اعمال کو درست کرنا پڑے گا۔

12:مغرب اور جمہوریت
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ۖ لا یزال اہل الغرب ظاھرین علی الحق حتی تقوم الساعة (صحیح مسلم : 4958)
سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ (کتاب الامارة)
جب معاذبن جبل کو نبیۖ نے یمن کا حاکم بناکر بھیجا تو پوچھا کہ فیصلہ کیسے کروگے؟۔ معاذ نے عرض کیا کہ قرآن سے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ آپ کی سنت سے۔نبیۖ نے فرمایا کہ اگر سنت میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ خود قیاس کروں گا۔ نبیۖ نے فرمایا : شکر ہے کہ اللہ نے رسول کے رسول کو توفیق بخش دی جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔
جب ایک جج کسی کا فیصلہ کرتا ہے اور وہ بات قرآن و حدیث میں نہ ہو تو پھر اپنے قیاس سے اجتہاد کرتا ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا اجتہادقرآن و سنت میں موجود ہے۔ جب کسی قوم ، ملک اور بین الاقوامی قوانین کیلئے قانون سازی کرنی ہو تو جس طرح میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ مدینہ کے یہود اور مشرکین مکہ کے ساتھ مل جل کر ہوا ، اسی طرح کوئی ملک اپنے لئے اندرونی اور بیرونی قانون سازی کرسکتا ہے۔ موجودہ دور میں ویزا ، روڈ کے ٹول ٹیکس، گاڑی کے ٹیکس اور جہازوں کی لینڈنگ کے ٹیکس وغیرہ کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ ہی کے ذریعے سے ہوسکتی ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے شامل ہوں۔
نبی ۖ کو حکم تھا کہ و شاورھم فی الامر ”اور ان سے خاص بات میں مشورہ کیا کریں”۔ صحابہ کی یہ صفت قرآن میں ہے وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان کی خاص بات آپس کے مشورے سے طے ہوتی ہے”۔ اولی الامر سے قرآن میں عوام کیلئے اختلاف کی گنجائش بھی ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا اتبعوا السواد الاعظم ”عظمت والے گروہ کی اتباع کرو”۔ جس سے کئی جماعتوں کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ انصار و قریش اور اہل بیت کے گروہوں کی حیثیت مختلف جماعتوں کی تھی۔ نبی ۖ نے فرمایا ”میری اُمت گمراہی پر کبھی اکھٹی نہ ہوگی”۔ اس حدیث میں اکثریت اور اقلیت دونوں کیلئے اہل حق ہونے کی گنجائش ہے۔ البتہ اگر قوم کیلئے قانون سازی کی بات ہو تو اقلیت کے مقابلے میں اکثریت ہی کا فیصلہ معتبر ہوگا۔ جسطرح حضرت علی کے مقابلے میں حضرت عثمان کے ووٹ زیادہ تھے اور انصاری سردار حضرت سعد بن عبادہ کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کو جمہور اُمت کی تائید حاصل تھی۔ نبی ۖ نے اہل غرب کو اہل حق قرار دیا ہے تو مغرب نے بادشاہوں کے مقابلے میں جمہور عوام کی رائے کو اسلام کی وجہ سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ فقہ کی قانون سازی کیلئے جمہور کا نام مسلمانوں نے دنیا کو متعارف کرایا ہے۔ البتہ قیاس سے مراد استنجے ، غسل، وضو، نکاح و طلاق اور دیگر معاملات کے شرعی احکام گھڑنا نہیں ہے بلکہ حکومتی سطح پر قانون سازی مراد ہے۔
بخاری و مسلم کی روایت میں نبی ۖ نے قریش کی عورتوں کو دنیا کی عورتوں پر اسلئے فضیلت دی ہے کہ وہ اونٹ پر سواریاں کرسکتی ہیں۔ اگر سعودیہ میں عوامی پارلیمنٹ ہوتی تو اس حدیث کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی کہ موجودہ دور میں گاڑیوں کی ڈرائیونگ اونٹوں کے مقابلے میں زیادہ حیاء اور تحفظ کے قابل ہے اسلئے خواتین کو پورے ملک اور دنیا میں ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی جاتی۔ سعودیہ میں اجنبی ڈرائیوروں کے ہاتھوں خواتین کے ماحول کا اتنا ستیاناس ہوا کہ آخر کار مسیار کے نام پر وقتی شادی کی اجازت دینی پڑی۔ اگر اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی صحیح تصویر پیش کی جائے تو پاکستان اور افغانستان میں کیا مغرب میں بھی اسلام کی علمبردار جماعت حیثیت نہ رکھنے کے باوجود اکثریت سے جیتے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حلالہ کی لعنت کے تحت صحافی محمد مالک کا پروگرام "ہم نیوز” پر خوش آئند ہے۔ علامہ طاہر اشرفی، قبلہ ایاز اور ڈاکٹر راغب نعیمی نے صوفیانہ جاہلیت سے کام لیا

صحافی محمد مالک کا ”ہم نیوز” پر حلالہ کی لعنت میںپروگرام خوش آئند ہے، حلالہ سینٹرز سے زیادہ بڑا کردار دیوبندی بریلوی حنفی معروف مدارس کا ہے۔علامہ طاہر اشرفی ، قبلہ ایاز اور ڈاکٹرراغب نعیمی نے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیکر لعنت کے اصل ذمہ دار کرداروں کے چہرے سے نقاب نہیں اُٹھایا ہے۔ آئیے، دیکھئے، سمجھئے! اسلام کے نام پر خواتین کی عزت کو تار تار کرنے والوںکا محاسبہ کیجئے،ورنہ کل اس کربِ عظیم کے شکار آپ بھی ہوسکتے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حنفی مسلک کے امام ابن ہمام اورعلامہ بدر الدین عینی نے اپنے نامعلوم مشائخ کی طرف یہ منسوب کیا ہے کہ” حلالہ میں نیت دوخاندانوں کے ملانے کی ہو تویہ کارِ ثواب بھی ہے”۔ کیا”حلالہ” سینٹروں کیلئے لعنت اوراپنے حنفی مدارس کیلئے کارِ ثواب ہے؟

_ ذہنی پسماندگی کی انتہاء ا ور پاکستان ؟_
آج سے 70سال پہلے پاکستان اور نیویارک کا کیا حال تھا؟۔ دنیا نے جو ترقی70 سالوں میں کی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ چین، جاپان،فرانس اور پاکستان کہاں سے کہاں پہنچے؟۔ گدھوں پر سفر کرنے والے قیمتی گاڑیوں تک پہنچ گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ قرآن نے تسخیرکائنات کا جو نظریہ دیا تھا اس میں پہلے دور میں مسلم سائنسدانوں کا بہت بڑا حصہ تھا لیکن مسلمان حکمرانوں نے جدید تعلیم کو عام کرنے کی جگہ اپنے محل سراؤں میں لونڈیوں اور تعمیرات میں تاج محل بنانے کو ترجیح دی اور سائنسی ترقی میں اپنا کوئی حصہ نہیں ڈالا۔ پاکستان نے پھر بھی اچھا کیا کہ ایٹم بم ، میزائل اور جدید ہتھیاروں میں اپنے سے کئی گنا بھارت کے مقابلے میں اپنی ایک حیثیت بنالی ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں ترقی و خوشحالی کا راستہ پانی کے بہاؤ سے فائدہ اٹھاکر سستی بجلی اور زراعت کے شعبے میں ترقی تھی لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ صاف پانی کو بھی آلودہ کردیا ہے۔ دریاؤں کے صاف پانی میں گٹر اور کارخانوں کیمیکل چھوڑرہے ہیںاور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی انتہائی آلودہ کرکے اپنے ظاہر اور باطن تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہمارے پاس گرمی وسردی سے تحفظ کیلئے وافر مقدار میں سستی بجلی ہونی چاہیے تھی لیکن ائیرکنڈیشن تو دور کی بات ہے پنکھے اور لائٹ سے بھی پاکستان کے اکثر علاقے محروم ہیں۔اس کا ذمہ دار کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدان سارامقتدرطبقہ ہے۔
صاف پانی سے گٹر لائن کو جدا کرکے پاکستان کے صحراؤں اور بنجر علاقوں میںبڑے پیمانے پر جنگلات اور باغات اُگائے جاسکتے ہیں۔ سستی بجلی سے اپنی تقدیر بدل سکتی ہے لیکن ہمارا اشرافیہ بیرون ملک سے سودی قرضے لیکر اپنااثاثہ باہر ممالک میں منتقل کرکے اپنے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ۔ درخت اُگانا تو بہت دور کی بات ہے ،ہم اپنے جنگلات سے بھی اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

مذہبی پسماندگی کی انتہاء اور علمائ؟
ایک لڑکی کو حال میں طلاق ہوئی۔ علماء نے حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیاتو اس نے حلالہ کے تصور پر خودکشی کرلی۔ محمد مالک نے اہم موضوع ترک کیا اور حلالہ پر پروگرام کیا۔ قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، مولانا طاہر اشرفی اور مفتی راغب نعیمی نے حلالہ سینٹروں کی مخالفت کی۔ علامہ امین شہیدی نے اہلبیت اور صحابہ کے مسلک میں فرق بتایاکہ ہمیں کبھی اس مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ جبکہ اہل حدیث کے نزدیک بھی ایک مجلس کی تین طلاقیں واقع نہیں ہوتی ہیں
قرآن و سنت اور فقہ واصولِ فقہ کی رُو سے مسائل کا حل انتہائی آسان ہے لیکن جب مسائل کے حل کی جگہ پیچیدگی پیدا کرنے کی تقلید کی جائے تو اس مذہبی بیماری کا علاج کیا ہوسکتا ہے؟۔ مسلک حنفی کی فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ” اگر نکسیر پھوٹ جائے (ناک سے خون نکلے) تو اس خون سے پیشانی پر سورۂ فاتحہ لکھنا جائز ہے اور اگر پیشاب سے سورۂ فاتحہ لکھا جائے تو بھی جائز ہے”۔ آج کل مساجد میں بڑے علماء ومفتیان نے روحانی علاج کے نام پر خواتین کا علاج شروع کررکھا ہے۔ کسی خوبصورت دوشیزہ یا خاتون کو اپنے جال میں پھانسنے کیلئے کوئی علامہ صاحب یہ تجویز پیش کرے کہ خون یا پیشاب سے سورۂ فاتحہ کوپیشانی پر لکھا جائے تو اس کا علاج ہوجائے گا ؟۔ تو سیدھا سادا مسلمان اپنی مشکلات کے ہر حل کیلئے علماء کے ایمان واسلام پر اعتماد کرے گا۔
اکبر بادشاہ کی بیٹی کا واقعہ مشہور ہے کہ گال پر بچھو نے ڈنگ مارا تو اسکے ہندو بیربل نے چوسنا شروع کیا کہ میں نے زہر نکالا۔ ملادوپیازہ نے پیشاب پر چیخنا شروع کردیا کہ بچھو نے ڈنک مارا ۔ چنانچہ بیربل کو اس کو بھی چوسنا پڑگیا تھا۔ ادنیٰ ایمان والے کو بھی یہ یقین نہیں ہوسکتا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھ کر علاج ہوگا؟۔ اسی طرح غیرتمند عورت خود کشی تو کرسکتی ہے لیکن حلالہ کی سزا پانے کے بعد اپنے شوہر کیلئے حلال ہونے کا تصور نہیں کرسکتی ہے اور یہی واقعہ ہوگیا۔

قرآن کی بے حرمتی اور مفتی؟
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب تکملہ فتح الملہم شرح مسلم اور فقہی مقالات میں صاحب ہدایہ کی کتاب کا حوالہ دیا کہ ” سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے” لیکن جب ہم نے عوام کو آگاہ کیا اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑاتو روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضربِ مؤمن میں اپنی دونوں کتابوں سے یہ مسائل نکالنے کا اعلان کردیا۔ پھر وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیاہے۔
اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف: المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة”(جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے، آپۖ سے نقل ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ )۔مصاحف میں لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ یہ محض نقوش ہیں۔متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے مشہور اور خبر احاد، بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ بسم اللہ کی قرآنیت میں شک ہے”۔
قرآن کی تعریف میں جو کفریہ عقیدہ ہے یہ جہالت، ہٹ دھرمی اور گمراہی ہے۔اگر قرآن تحریری شکل میں اللہ کا کلام نہیں تو سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کے مصحف پر حلف لیا جائے تو یہ حلف نہیں۔ حالانکہ الکتاب سے مراد لکھی ہوئی کتاب ہے۔والقلم و ما یسطرون قلم کی قسم اور جو سطروں میں لکھا ہوا قرآن ہے اس کی قسم۔ پہلی وحی میں قلم کے ذریعے انسان کو وہ سکھانے کا ذکر ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔
اگر قرآن میں متواتر اور غیرمتواتر ہو تو پھر قرآن کے محفوظ ہونے پر ایمان کیسے باقی رہ سکتا ہے؟۔ اگر بسم اللہ کو مشکوک قرار دیا جائے تو پھر قرآن کو ذٰلک الکتاب لاریب فیہ کیسے کہنا درست ہوگا؟۔ جب مولوی قرآن کی تعریف بھی غلط پڑھتا اور پڑھاتا ہے تو اس کی بنیاد پر مسائل کیسے نکالے گا؟۔عربی میں کتابت کی گردان اورقرآنی آیات میں کتاب کی تعریف بھی نہیں سمجھی ہے۔

طلاق کے بعد صلح اوررجوع!
صحابہ سے زیادہ اسلام کو کس نے سمجھا؟۔ حضرت عمر نے اکٹھی 3 طلاق پر 3 کا فیصلہ جاری کیا اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر3 طلاق کا فتویٰ جاری کیا تو یہ قرآن کے عین مطابق تھا۔ اگر شوہر حرام کا لفظ استعمال کر دے یا 3طلاق کہہ دے اور بیوی صلح کیلئے راضی نہ ہو تو قرآن کے واضح احکام کا یہی تقاضہ ہے کہ وہ عورت اس طلاق کے بعدپہلے شوہر کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے۔ اگر ایک طلاق کے بعد بھی عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو قرآن کا یہی حکم ہے۔ قرآن میں بھرپور وضاحت ہے مگر جب عورت اس طلاق کے بعد صلح کیلئے راضی ہو تو قرآن نے کسی بھی حلالہ کے بغیر ہی رجوع کی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد باربار واضح الفاظ میں اجازت دی ہے۔ قرآن کی وضاحتوں کے باوجود حلالہ کی لعنت کا فتویٰ انتہائی غلط ہے۔
پاکستان کے علماء و مفتیان اور افغانستان کے طالبان اپنے مسلک حنفی کے مطابق سب سے پہلے اپنی خواتین کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں تو اس سے اسلام کی نشاة ثانیہ اور عورت کے حقوق کا وہ آغاز ہوجائیگاکہ ہندوستان کے مسلمان ، ہندو اور سکھ بھی اس کا خیرمقدم کریں گے۔ حلالہ کے نام سے غلط فتوؤں اور حلالہ سینٹروں سے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کا بدترین استحصال ہورہاہے۔ جس میں کسی قسم کا کوئی دنیاوی مفاد یا غیرت کا بھی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مفادات کے خلاف اور انتہائی بے غیرتی کی بات ہے ۔ ہم نے ہر پہلو سے سیر حاصل بحث کرکے مسئلہ انتہائی آسان طریقے سے قابلِ قبول بنادیا جو ہمارا کمال قطعی طور پر نہیں بلکہ قرآن کی وضاحتوں کا کمال ہے۔ صرف توجہ ہو تو پھرشعور وآگہی کی ہوائیں چلیں گی۔ قرآن میں بار بار باہمی رضا سے رجوع کی وضاحت ہے اور باہمی رضا کے بغیر رجوع کی اجازت نہ ہونے کی وضاحت ہے۔رجوع کی علت 3طلاق نہیں ہے بلکہ باہمی رضامندی ہے۔ بقیہ صفحہ 2پر

اگر خواتین کو افغانستان میں اسلام کے مطابق آزادی اور تحفظ دیا گیا تو ان کی ویزوں کی مَد میں اچھی خاصی آمدن ہوسکتی ہے۔ طالبان ایران سے سستا تیل ، بھارت سے سستی دوائیاں اور پاکستان کے مزارعین سے سستی اناج لیں اور ان کے ساتھ تعاون ہو تو پھر اس خطے میں امن کی زنجیر اور خودمختاری کی تصویر بن سکتے ہیں۔ دوبئی ، سعودیہ اور مصر کا مولوی اپنی ریاستی پالیسی کا پابند ہوتا ہے۔ جو عورت سعودی عرب میں برقعہ کے بغیر نہیں گھوم سکتی وہ دبئی میں سمندر کے کنارے ننگی ہوسکتی ہے۔ جنوبی وزیرستان کانیگرم کی ندی اور شمالی وزیرستان درپہ خیل کی مسجد میں جوان بوڑھے ننگے نہاتے تھے۔ لیکن مولوی کو رسم و رواج اور ریاست کے خلاف بولنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی۔

طلاق کے مقدمے میںبھی غلطیاں
سورۂ بقرہ کے دو رکوع میں طلاق اور اس سے رجوع کا تفصیلی ذکرہے۔
ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض ولا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فأتوھن حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرینO البقرہ222
” اور تجھ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ یجئے کہ وہ ایک تکلیف ہے۔ پس عورتوں سے حیض میں علیحدگی اختیار کرو ،حتی ٰکہ وہ پاک ہوجائیں اور جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ، جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے”۔
حیض میں عورت کو تکلیف ہوتی ہے اور ناپاکی بھی۔ آیت کے شروع و آخر میں دونوں باتیں واضح ہیں۔ تکلیف سے توبہ اور گند سے پاکیزگی والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ اللہ نے حیض کو قذر ( گند) نہیں اذًی قراردیا۔ جس سے طلاق و عدت کے مسئلے میں عورت کی تکلیف کو پہلے نمبر پر رکھ دیا ہے۔ آنے والی آیات میں طلاق کے حوالے سے خواتین کو جن اذیتوں کا سامنا ہے ،ان کا حل ہے۔
نسائکم حرث لکم ……….ترجمہ:” تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں ، پس تم اپنے اثاثے کے پاس جیسے چاہو ،آؤ۔اور اپنے لئے آگے بھیجو( دنیا و آخرت کے مستقبل کو سنوارو) اور اللہ سے ڈرو،اور جان لو! بیشک تم نے اس سے ملنا ہے اور ایمان والوں کو بشارت دو”۔ (آیت223، سورةالبقرہ)
عربی میں حرث کھیتی کو بھی کہتے ہیں اور اثاثہ کو بھی۔ عناصر کی جو صفات ہیں وہ بھی اثاثہ کہلاتی ہیں۔ میٹر اور پراپٹیزکا یہ تعلق ایکدوسرے کیساتھ لازم وملزوم ہوتا ہے۔ جب کوئی استاذ اپنے شاگرد یا باپ اپنے بیٹے کو اپنا اثاثہ یا ایسٹ قرار دیتا ہے تو یہ بہت زیادہ اعزاز کی بات ہوتی ہے۔اگر میرے مدارس کے اساتذہ کرام مجھے اپنا اثاثہ یا ایسٹ قرار دیںگے یا میرا ملک پاکستان یا میرا وزیرستان مجھے اپنا اثاثہ قرار دے گا تو یہ میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوگی لیکن اگر مجھے اپنی کھیتی ، گاجر اور مولی قرار دینگے تو میرے لئے اذیت کا باعث ہوگا۔ جب اپنی عورت کوکھیتی کے بجائے اپنا اثاثہ قرار دیا جائیگا تو عزت افزائی ہوگی۔
علماء نے نہ صرف عورت کو کھیتی قرار دیا بلکہ اس مسئلے پر دو متضاد قسم کی بہت ساری احادیث بھی درج کردیں کہ عورت کیساتھ لواطت جائز ہے یا نہیںہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر اور امام مالک کی طرف یہ منسوب ہے کہ اس آیت سے وہ نہ صرف عورت کیساتھ لواطت کو جائز سمجھتے تھے بلکہ آیت کے شان نزول کو یہ سمجھتے تھے کہ عورت کیساتھ لواطت کے جواز کیلئے نازل ہوئی ہے۔جس کا ذکر بہت سی کتابوں میں صراحت کیساتھ ہے اور صحیح بخاری میں بھی اس کا حوالہ موجود ہے۔ دوسری طرف حضرت علی اور امام ابوحنیفہ کی طرف یہ منسوب ہے کہ وہ اس عمل کو حرام اور کفر سمجھتے تھے اور اس کیلئے احادیث کے ذخیرے میں مواد بھی ہے۔

مقدمہ ٔ طلاق کی غلطی اور اسکے نتائج
اگر آیت 222میں اذیت سے گند کے بجائے تکلیف مراد لیتے تو پھر تضادات اور اختلافات کی ضرورت نہ ہوتی۔ ایک ایرانی نژاد امریکن خاتون کی کتاب میں یہ واقعہ موجود ہے کہ ایران میں ایک شخص نے کسی خاتون سے شادی کرلی اور وہ لواطت کرتا تھا جس کی وجہ سے عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی اور پھر عورت نے خلع کا مطالبہ کیالیکن شوہر خلع پر راضی نہیں تھا۔ آخر کار عورت کو حق مہر سے زیادہ رقم دیکر اپنے شوہر سے خلع کے نام پر جان چھڑانی پڑی تھی۔ کیا علماء ومفتیان کے نزدیک قرآن وسنت کے مطابق خلع کا یہ غلط تصور صحیح ہے؟۔
ولاتجعلوااللہ عرضة لایمانکم…….” اور اللہ کو مت بناؤ اپنی ڈھال اپنے عہدوپیمان کیلئے کہ تم نیکی کرو، پرہیزگاری اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ۔اور اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ آیت224: سورةالبقرہ)
ایمان یمین کی جمع ہے۔ یمین دائیں کو کہتے ہیں۔ دائیاں ہاتھ ملاکر عہد کیا جاتا ہے اور اس سے عہدوپیمان، قسم اور بیوی کو طلاق اور لونڈی کو آزاد کرنا وغیرہ سب مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں پر طلاق اور بیوی سے علیحدگی کے الفاظ مراد ہیں اور یہ آیت طلاق کیلئے بہت بڑا بنیادی مقدمہ ہے۔ میاں بیوی میں جدائی کے الفاظ کے بعد ان کو حلالہ کے بغیر ملانانیکی ، تقویٰ اور سب سے بڑھ کرصلح ہے۔ قدیم دور سے یہ روایت رہی ہے کہ محض الفاظ کی بنیاد پر مذہبی طبقات اللہ کو بنیاد بناکر میاں بیوی کے درمیان صلح کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتے رہے ہیں اور اسی رسم ورواج اور مذہبی فتوے کو ختم کرنے کیلئے قرآن کی ان آیات میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ ” مذہبی طبقے اللہ تعالیٰ کو ڈھال بناکر کسی کے عہدوپیمان اور طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ بناکر عوام خاص طور پرمیاں بیوی میں صلح کرانے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کریں”۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی صورت نہیں رکھی ہے کہ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں اور اللہ نے ان میں رکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی لفظ ڈالا ہو۔ اگر یہ ثابت ہوجائے تو پھر قرآن میں یہ بہت بڑا تضاد ہوگا۔ قرآن میں مخالفین کی خبر تھی کہ” اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو پھر اس میں بہت سارا اختلاف (تضاد) وہ پاتے”۔
لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ……….”اور اللہ تمہیں لغو عہدو پیمان سے نہیں پکڑتا ہے مگر تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے”۔ سورۂ بقرہ کی اس آیت 225کو سیاق وسباق کیساتھ دیکھا جائے تو اس سے مراد یہی ہے کہ طلاق کے صریح وکنایہ کے تمام الفاظ میں لغو الفاظ پر اللہ نہیں پکڑتا ہے مگر وہ دلوں کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ اس آیت سے طلاق کا موضوع نکال کر قسم پر بحث کی گئی ہے ۔جس میں فقہی تضادات ہیں۔ حالانکہ سورۂ مائدہ میں ہے کہ ذٰلک کفارة ایمانکم اذاحلفتم ”یہ تمہارے عہدوںکا کفارہ اس وقت ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو”۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یمین عہدوپیمان کو بھی کہتے ہیں اور قسم کو بھی۔ جہاں یمین سے مراد حلف ہوگا تو وہاں پختہ قسم کھانے پر اس کا کفارہ بھی دینا ہوگا۔ سورۂ بقرہ کی ان آیات میں یمین سے مراد حلف نہیں ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ طلاق ، عتاق(لونڈی یا غلام کو آزاد کرنا) ، رجعت (طلاق سے رجوع) سنجیدگی میں بھی معتبر ہے اور مذاق میں بھی معتبر ہے۔ جب شوہر طلاق دے لیکن دل کا ارادہ نہ ہو تو پھر فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا یا حدیث کے مطابق؟۔ قرآنی آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ۔ مذاق یاسنجیدگی سے شوہر نے لغو طلاق دی ،اگر عورت راضی ہے تو اللہ نہیں پکڑتا اور اگر عورت راضی نہیں ہے تو وہ طلاق کے لغو لفظ پر بھی پکڑ سکتی ہے۔ طلاق میں شوہر کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور خلع میں عورت کو طلاق کے مقابلے میں کچھ مالی حقوق سے بھی دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ قرآن کی اس آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

طلاق کا اظہار نہ کیا تو بھی مسئلہ حل!
ایک بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اگر شوہر طلاق نہیں دیتا ہے مگر اس کی بیوی سے ناراضگی رہتی ہے تو بیگم کو کتنی مدت تک اس انتظار کی مدت گزارنی پڑے گی؟۔ کیونکہ طلاق کے عزم کا اظہار شوہر نے نہیں کیا ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مسئلے کو سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر حل کردیا ہے تاکہ عورت کو اذیت سے بچایا جاسکے۔ اگر علماء وفقہاء اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیتے تو سرخروہوجاتے۔
للذین یؤلون من نساء ھم تربص………” جو لوگ اپنی بیگمات سے لا تعلقی اختیار کرلیں تو ان کیلئے انتظار ہے چار مہینے کا۔ پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے” ۔ (سورۂ البقرہ آیت226) یہاں ایک بات یہ اچھی طرح واضح ہے کہ ناراضگی کی صورت میں عورت کی عدت 4ماہ ہے اور دوسرا یہ کہ ناراضگی کے بعد صرف مرد کا راضی ہونا ضروری نہیں بلکہ عورت کا راضی ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر عورت راضی نہیں تو چار ماہ کی عدت کے بعد وہ دوسرے شوہر سے شادی کرسکتی ہے۔ اگر شوہر کو ناراضگی اور پھر یکطرفہ طور سے چار ماہ میں راضی ہونے کا اختیار دیا جائے تو یہ عورت کیساتھ بہت بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ کا ظالمانہ قانون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اذیت دینے کیلئے یہ آیت نازل نہیں کی ہے بلکہ اذیت سے اس کی جان چھڑانے کیلئے یہ حکم نازل کیا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب چار ماہ تک رجوع نہیں ہوا تو پھر وہ عورت طلاق ہوگی لیکن جمہور فقہاء کے نزدیک طلاق کیلئے الفاظ ضروری ہیں، جب تک شوہر طلاق کا لفظ استعمال نہیں کرے گا تو وہ عورت زندگی بھر نکاح میں رہے گی۔ ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آیت ایک ہے مگر اس کا نتیجہ بالکل مختلف اور متضاد نکالا گیا ہے، تو کیوں؟۔اس کاجواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے عورت کا حق اور اس کی عدت کوہی واضح کردیا تھا لیکن فقہاء نے عورت کو نظر انداز کرکے اختلاف وتضاد اسلئے پیدا کیا کہ حنفی کہتے ہیں کہ چار ماہ تک شوہر نہیں گیا تو اس نے اپنا حق استعمال کرلیا اور جمہور ائمہ کہتے ہیں کہ جب تک طلاق کا لفظ نہ کہے تو شوہر نے طلاق کا حق استعمال نہیں کیا۔ اگر عورت کی اذیت کا خیال رکھا جاتا تو پھر یہ تضادات نہ ہوتے۔ جب بیوہ عدت کی تکمیل کے بعدبھی اپنے شوہر سے اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہتی ہے تو موت اور قیامت تک اسکا نکاح برقرار رہتا ہے۔ نشانِ حیدر اورستارہ جرأت پانے والے فوجی شہداء جوانوں کی جوان بیگمات اسوقت تک اپنے شوہروں کے نکاح میں ہوتی ہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرلیں اس طرح جس کا شوہر ناراض ہوجائے تو اگر چار ماہ کی عدت مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اپنے شوہروں سے تعلق قائم کرنے پر راضی ہوں تو رجوع ہوسکتا ہے اور نکاح بھی قائم ہے لیکن اگر عورت اپنا ناطہ توڑ لے تو نکاح باقی نہیں رہتا ہے اور چار ماہ کی عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے اور بہت سارے مسائل کا بہترین حل بھی ہے۔

قرآن سے گھمبیرمسائل کا حل مگر؟
وان عزموا الطلاق ……” اور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو بیشک اللہ سنتا اور جانتا ہے”۔ ( آیت227، سورہ بقرہ)۔
اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے جو اللہ سنتا اور جانتا ہے اور اس پر پکڑبھی ہے لیکن اگر طلاق کا عزم نہیں تھا تو پھر یہ دل کے گناہ کی بات نہیں ،پھر عدت ایک ماہ بڑھنے پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ آیات225،226اور227ایک دوسرے کی زبردست تفسیر ہیں اور ان میں خواتین کے مسائل حل ہوئے ہیں ۔
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ……….” اور طلاق والی اپنے نفسوں کو انتظار میں رکھیں تین ادوار تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیںجو اللہ نے انکے رحموں میں پیدا کیا ،اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور انکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کے حقدار ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کرنا چاہیں اور ان کے حقوق ہیں جیسے ان پر حقوق ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ”۔ ( آیت228سورة البقرہ)
جاہلیت میں ایک یہ برائی تھی کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد شوہر حلالہ کے بغیر رجوع نہیں کرسکتا تھا،دوسری برائی یہ تھی کہ عدت میں شوہر جتنی بار چاہتا تو ایک ایک مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کرسکتا تھا۔ اس آیت کا کمال یہ ہے کہ جتنی بار اور جتنی تعداد میں طلاق دی جائے رجوع کا تعلق صلح اور عدت کیساتھ ہے۔ دس بار طلاق کے بعد بھی عدت میں اس آیت کی وضاحت سے رجوع ہوسکتا ہے ۔
اس آیت میں واضح کیا گیاہے کہ عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح سے یکساں حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ ہے اسلئے کہ مردوں کا طہر وحیض اور عدت کا مسئلہ نہیں۔ اس وجہ سے حق مہر اور دوسرے معاملات میں عورت کو بہت سی رعایتیں حاصل ہیں۔
رسول اللہۖ ، حضرت ابوبکر کے دور میں اور حضرت عمر کے ابتدائی تین سال تک تین طلاق کو ایک سمجھا جاتا تھا، پھر حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کا فیصلہ جاری کردیا اور فرمایا کہ جس چیز کی اللہ نے رعایت دی تھی ۔ تم لوگوں نے اس کا غلط فائدہ اٹھایاہے”۔ (حضرت ابن عباس :صحیح مسلم)
حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ کیا تھا اسلئے کہ اگر عورت راضی ہوتی تو حضرت عمر کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ صحابہ اور تابعین کیلئے قرآن کو سمجھنا مسئلہ نہیں تھا۔ ایک طلاق کے بعد بھی باہمی صلح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں تھی۔ جب شوہر نے تین طلاق کا لفظ کہہ دیا تو عورت ڈٹ گئی۔ جب حضرت عمر کے پاس مسئلہ پہنچا تو قرآن کے مطابق وہی فیصلہ کیا جو آیت میں واضح ہے کہ باہمی صلح واصلاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔
صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ نے حضرت عمر کے فیصلے کی تائید کی۔ یہ تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ جب قرآن کو چھوڑ کر فتویٰ دیا جائیگا کہ باہمی صلح کے باوجودبھی حلالہ کی لعنت کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ حنفی مسلک اور تمام مسالک کے بنیادی اصول کا تقاضہ ہے کہ آیت کے مقابلے میں کوئی ایسی حدیث بھی ہوتی کہ عدت میں تین طلاق کے بعد بھی باہمی اصلاح کے بغیررجوع نہیںہوسکتاہے تو اس حدیث کو یکسر رد کردیا جاتا۔ حلالہ کی لذت نے بڑے بڑوں کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے کی زحمت پر مجبور نہیں کیا ۔
یہ رکوع ختم ہوا۔ اللہ نے عورت کی اذیت کا لحاظ رکھتے ہوئے جاہلیت کی رسوم کو ختم کیا ۔ناراضگی میں طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں چار ماہ کی عدت ہے اور طلاق کااظہار کرنے کے بعد تین ماہ تک انتظار ہے اور تین طلاق کے بعد بھی باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے اور طلاق کے بعد صلح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے مگر علماء نے اس رکوع سے اہم ترین مسائل کااستنباط نہیں کیا۔

قرآن میں تضادات بالکل بھی نہیں
پھر دوسرا رکوع شروع ہوتا ہے۔ قرآن میں تضادات نہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ قرآن عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت بھی دے اور پھر دوسری آیت میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق پر عدت ہی کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کا دروازہ بند کردے۔ اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کہ آیت 228 میں صلح کی شرط کے بغیر رجوع کا حق نہ دے اورآیت229 میں ایک مرتبہ نہیں دومرتبہ طلاق کے بعد بھی اصلاح کی شرط کے بغیر رجوع کا حق دے۔ قرآن میں یہ تضادات دشمن بھی نہیں نکال سکتے تھے لیکن اپنے نالائق مسلمانوں نے قرآن میں تضادات پیدا کرکے اسلام کوبالکل ا جنبی بنادیا ہے۔
الطلاق مرتٰن ………” طلاق دومرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ واپس لو۔ مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر وہ قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پرنہیں رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ عورت کی طرف سے اس کو فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں۔ ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ ( آیت 229سورة البقرة)
اس آیت 229کے پہلے حصے کا آیت228 سے یہ ربط ہے کہ طلاق شدہ عورتوں کی عدت کو واضح کیا گیا تھا کہ تین ادوار ہیں۔ یعنی تین طہرو حیض ۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین ادوار سے ہے۔ رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟، جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ” آیت229میں دومرتبہ طلاق کے بعد تسریح باحسان تیسری مرتبہ احسان کیساتھ رخصت کرنا تیسری مرتبہ کی طلاق ہے”۔
بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب التفسیر، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین ادوار طہرو حیض سے ہے۔ سورة الطلاق کی پہلی آیت میں بھی بہت وضاحت کیساتھ یہ موجود ہے کہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے اور جب عورت کو حمل ہو تو پھر عدت کے تین مراحل ہیں اور نہ ہی تین مرتبہ طلاق بلکہ وضع حمل تک ایک ہی عدت ہے۔ رجوع کا تعلق بھی بچے کے پیدائش سے متعلق ہوجاتا ہے۔ چاہے 8یا9ماہ ہوں یا3یا4ہفتے، دن ،گھنٹے، منٹ یا سکینڈ۔ عورت کی عدت ختم ہونے کے بعد اس کو دوسرے شوہر سے نکاح کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے ۔ البتہ عدت کی تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے بار بار باہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت کی ہے۔
آیت229کے دوسرے حصے کا تعلق تین مرتبہ طلاق کے بعد کے مرحلہ سے ہے لیکن افسوس کہ اس سے بالکل باطل طورپر خلع مراد لیا گیا ہے اور یہ آیت 230 کیلئے مقدمہ ہے جس کو فقہ حنفی کی اصولِ فقہ میں بھی ثابت کیا گیاہے۔

_ معرکة الآراء مسئلے کا قرآن میں حل _
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ……. ”پس اگر پھر اس نے طلاق دی تواس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے۔ پس اگر اس نے پھر طلاق دی تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ آپس میں رجوع کریں۔ اگر ان کو یہ گمان ہو کہ اللہ کی حدودپر وہ دونوں قائم رہ سکیں گے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں جو اس قوم کیلئے بیان کئے جار ہے ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں”۔ (آیت230 سورة البقرہ)
قرآن نے جاہلیت کی ایک ایک باطل رسم کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ شوہروں کی غیرت یہ کبھی گوارا نہیں کرتی ہے کہ اس کی بیگم سے طلاق یا خلع کے بعدکوئی اور شادی کرلے۔ تہمینہ درانی سے مصطفی کھر کی طلاق کے بعد شہباز شریف کی شادی ہوئی تھی تو جنرل مشرف دور میں دونوں کے اس قدیم اورجدید رشتے کو اس وقت پنجاب کے جیالے صحافیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب وہ ایک ساتھ جہاز میں تشریف لائے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے خلع لیکر خاور مانیکا کی بیگم سے شادی کرلی تو بشریٰ بی بی کی اولاد نے بھی اس کا انکار کیا تھا۔ اور کچھ نہیں ہے تو روایتی غیرت کے مقابلے میں عمران خان نے ایک شرعی مسئلے کو معاشرے میں زندہ کرکے مدینے کی ریاست کا آغاز ضرور کردیا۔ عمران خان کا یہ اقدام غیرمعمولی اسلئے نہیں تھاکہ جمائماخان کو بھی آزادی سے جینے کا حق دیا تھا البتہ ریحام خان کیساتھ یہ زیادتی ضرور ہوئی تھی کہ عمران خان سے طلاق کے بعد لندن سے پاکستان آتے وقت قتل کی سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اور اس کی وجہ PTMوالے یہی بتاسکتے ہیں کہ آخر وہ ایک پٹھان تھی۔
آیت229کے پہلے حصے کا تعلق آیت228کی مزید وضاحت ہے اور آیت229کے آخری حصے کا تعلق آیت230سے ہے۔ بدقسمتی سے اس کو خلع قرار دیا گیا۔ حالانکہ دو،تین بار طلاق کے بعد خلع کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے۔ جب حدیث میں بھی واضح ہے کہ تیسری طلاق کا تعلق طلاق مرتان کے بعد او تسریح باحسان کیساتھ ہے اور آیت230میں فان طلقہا کا تعلق آیت 229کیساتھ کے آخری حصہ فدیہ دینے کیساتھ حنفی مسلک ہے اور علامہ ابن قیم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس طلاق کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے تو پھر ان سارے حقائق کو کھاکر کس طرح ہضم کرکے ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کو مسلط کیا جارہاہے ؟۔ حلالہ کی لذت آشناؤں اور اس کو ایک منافع بخش کاروبار بنانے والوں کو سزاؤں کے بغیر روکنا ممکن نہیں لگتا ہے۔
واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف …….. ”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی مدت کو پہنچ گئیں تو ان کومعروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔ اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو، تاکہ تم اپنی حد سے تجاوز کرواور جو ایسا کرے گا تو اس نے بیشک اپنے نفس پر ظلم کیا۔اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔اور ملاحظہ کرو جو اللہ نے تم پر نعمت (بیوی)کی ہے اور جو اللہ نے کتاب میں سے (رجوع کے) احکام نازل کئے ہیں۔ اور (جو اللہ نے تمہیں) حکمت ( عقل وسوچ کی صلاحیت)دی ہے ، جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے۔ اور ڈرو اللہ سے اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (البقرہ: آیت231)
یہ دوسرا رکوع ختم ہوا۔ باہمی اصلاح سے جس طرح عدت کے اندر رجوع کا حق ہے ،اسی طرح عدت کی تکمیل کے بعد باہمی اصلاح سے اللہ نے رجوع کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ نے 230البقرہ میں جس طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کی وضاحت فرمائی ہے تو اس سے پہلے بھی اس صورت کا ذکر ہے کہ جس میں بہرصورت جدائی پر سب تلے ہوں۔

حلال نہ ہونے کا ذکر بار بار ہواہے
جب آیت226البقرہ میں واضح ہے کہ ناراضگی کے بعد جب عورت کی رضامندی نہ ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پھر شوہرکیلئے وہ حلال نہیں ہے۔ اسی طرح آیت228میں واضح ہے کہ ” اس عدت میں شوہروں کو اصلاح کی شرط پر انکے لوٹانے کا حق ہے”۔جس کا مطلب یہی ہے کہ اصلاح کی شرط کے بغیر شوہروں کیلئے ایک طلاق کے بعد بھی لوٹانا حلال نہیں ہے۔ اسی طرح آیت229میں ہے کہ ” طلاق دومرتبہ ہے۔ پھر معروف کے ساتھ روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے”۔ اس آیت میں بھی یہ واضح ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد بھی معروف یعنی اصلاح کی شرط پر روکنا حلال ہے اور صلح و معروف کی شرط کے بغیر دو طلاق کے بعد بھی روکنا حلال نہیں ہے۔ ان آیات میں دماغ کے بند دریچے کھولنے کی ہرسطح پر زبردست وضاحتیں ہیں اور ایک ایک آیت میں ایک ایک طلاق کے بعد یہ واضح ہے کہ باہمی اصلاح کے بغیر شوہر کیلئے رجوع کرنا قطعی طور پر حلال نہیں ہے۔ آیت230سے پہلے اس صورت کی وضاحت ہے کہ تین مرتبہ طلاق کے بعد شوہر کا عورت کو دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی واپس کرنا حلال نہ ہو لیکن جب دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کو یہ خوف ہو کہ اس چیز کی وجہ سے آپس میں رابطہ ہوسکتا ہے اور اللہ کی حدود پامال ہوسکتے ہیں تو پھر اس چیز کا عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی قرآن کے ترجمہ میں اتنی فاش غلطی کردی ہے لکھا ہے کہ ” عورت فدیہ دیکر خلع لے”۔ حالانکہ دو، تین بار طلاق کے فیصلے کے بعد خلع کا کوئی تُک نہیں بنتا ۔ علماء کرام کی یہ صفت بہت اچھی ہے کہ اپنے اکابر کی غلطی پر گرفت کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن جاہل جماعت اسلامی والوں نے مولانا مودودی کو اپنے مال واسباب کمانے کا ذریعہ بنارکھا ہے۔ آیت229کے آخری حصے میں بھرپور طریقے سے یہ وضاحت ہے کہ دونوں میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ نہ صرف یہ تعلق ختم ہو بلکہ آئندہ رابطے کا بھی کوئی ذریعہ باقی نہ رہے۔ اس صورت میں پھر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوجائے گا یا نہیں؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو اس طلاق کے بعد بھی شوہر اپنی مرضی سے دوسرے شوہر کیساتھ نکاح کی اجازت دیتا ہے یانہیں؟۔ اس گھمبیر رسم کا خاتمہ بھی قرآن ہی نے کردیا ہے اور یہ عورت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے زیادہ احسان کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ جہاں تک حلالہ کے بغیر نکاح ناجائز ہونے کا تصور ہے تو آیت231اور پھر آیت232میں اللہ تعالیٰ نے عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی رضامندی کیساتھ حلالہ کئے بغیر رجوع کی زبردست الفاظ میں اجازت کو واضح کیا ہے۔ قرآن میں ایک بھی تضاد نہیں ہے لیکن علماء کے غلط فہم نے قرآن کو بازیچۂ اطفال بنایا ہے۔ دنیا قرآن پر ایمان نہ رکھے لیکن مانے گی ضرور۔

قرآن حدیث میں کوئی تصادم نہیں
صحیح حدیث کو احناف نے رد کیا ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ، باطل ، باطل ہے” ۔ کہ یہ آیت 230 سے متصادم ہے۔ حالانکہ جب شوہر طلاق دیتا ہے تو وہ عورت پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے کہ اس کا یہاں وہاں نکاح نہ ہو۔ لیڈی ڈیانا کو اسی لئے قتل کیا گیا کہ شہزادہ چارلس کیلئے یہ غیرت کا مسئلہ تھا اور نبیۖ کی ازواج سے ہمیشہ کیلئے نکاح کو اسلئے ناجائز قرار دیا گیا کہ اس سے نبیۖ کو اذیت کا سامنا ہوسکتا تھا۔ کنواری لڑکیوں کا بھاگنا حنفی مسلک کا نتیجہ ہے۔ عورت کی شادی کیلئے رضا کو نبیۖ نے ضروری قرار دیا تھا لیکن فقہی مسالک کے ارباب نے ولی کے جبری اختیار کے حوالے سے عجیب وغریب قسم کی متضاد فضولیات بکی ہیں۔
جن احادیث کی بنیاد پر اکٹھی تین طلاق کو جواز بخشا گیا ان میں یہ حقیقت نظر انداز کی گئی کہ ایک شوہر کا فعل ہے کہ اکٹھی تین طلاق دے اور دوسرا باہمی رضامندی سے رجوع کی بات ہے۔ قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کو بنیاد بنایا ہے۔ فحاشی کی صورت میں شوہر ایک ساتھ فارغ کرنے کیلئے تین طلاق دے یا غصہ کی صورت میں تین طلاق کے الفاظ نکل جائیں اور پھر عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو انسانی فطرت اور دنیا کی ہر عدالت کا یہی فیصلہ ہوگا کہ عورت کو شوہر سے خلاصی پانے کا بھی حق ہے اور شوہر کا عورت سے خلاصی پانے کا بھی حق ہے۔ قرآن نے باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دیا ہے تو ٹھیک ہے۔
جس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبیۖ نے رفاعة القرظی کی طلاق کے بعد عورت کا زبیر القرظی سے شادی کے بعد فرمایا کہ ”جب تک اس کا ذائقہ نہ چکھ لو، رفاعہ کے پاس واپس نہیں جاسکتی ہے”۔ پہلی بات یہ ہے کہ حدیث خبر واحد ہے جو قرآن کی وضاحت سے متصادم ہونے کے بعد قابلِ عمل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ دوسرا شوہر نامرد تھا اور حلالہ کی صلاحیت سے محروم تھا تو نبیۖ کس طرح حکم دیتے ؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ رفاعہ نے مرحلہ وار تین طلاقیں دی تھیں اور وہ عورت دوسرے شوہر کی بیگم بن چکی تھی اسلئے محض رجوع کا نہیں بلکہ اس شوہر سے جان چھڑانے کا مسئلہ تھا۔ بخاری میں ہے کہ اس عورت کے جسم پر مار کے نشانات حضرت عائشہ نے بیان کئے اور اسکے شوہر نے اپنے بچوں کو ساتھ لاکر اپنے نامرد ہونے کی تردید کی۔
جہاں تک اکٹھی تین طلاق واقع اور اس پر نبیۖکے غضبناک ہونیکا تعلق تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہونے کے باوجود بھی رجوع کا حکم فرمایاتھا۔ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کا مفاد عورت کے حق میں اس وقت ہے کہ وہ رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور ایک طلاق اور ناراضگی کی صورت میں بھی عورت کے اس حق کی قرآن میں وضاحت ہے۔سورۂ بقرہ آیت232میں اور سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں بھی اسی مؤقف کی بھرپور وضاحت اللہ نے کردی ہے اور کوئی صحیح حدیث قرآن سے متصادم نہیںمگر فقہاء نے آیات کومتصادم بنادیا ہے۔
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ………
” جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچیں تو ان کو اپنے شوہر سے نکاح کرنے سے مت روکو۔ جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ یہ اس کو نصیحت ہے جو اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی اور طہارت ہے ۔ اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے” ۔
یہ آیت232البقرہ اور تیسرا رکوع شروع ہے۔ یہ طلاق سے رجوع کیلئے قول فیصل ہے اور سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی ان آیات کا خلاصہ ہے جس میں عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور طلاق کے فیصلے کے بعد کافی مدت گزرنے کے بعد بھی اللہ نے باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ کالر دہشت گرد سر امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان، عراق، لیبیا، شام، پاکستان میں لاکھوں افراد کو قتل کیا

وائٹ کالر دہشتگرد امریکہ سر نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر لاکھوں کو لقمۂ اجل بنانے کے بعد وزیراعظم نیازی سے نیاز لینا ہے اور آرمی چیف جنرل باجوہ سے باجا بجوانا ہے، علتِ غلامی سے سرشارمیاں مٹھو شاہ محمود قریشی نے بتاناہے کہ ”یہ ہماری خدمات کا اعتراف ہے اسلئے امریکہ سلامی لینے ایک ماہ شرپسندوں کو رکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ انگریزکے ٹرینڈ وفادار غلام کتوں کی دُم ہلتی رہے گی!”

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کی دھمکی اور ہماری زبوں حالی
قل ھو القادر علیٰ ان یبعث علیکم عذابًا من فوقکم او من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعًا و یذیق بعضکم بأس بعض…
ترجمہ: ”کہہ دیجئے کہ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں بھڑادے مختلف گروہ کرکے اور چکھا دے لڑائی ایک دوسرے کی۔ دیکھ لو کہ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے جھٹلایا جس کو ، اور وہ حق ہے ، کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں ۔ ہر ایک غیبی خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے اور جب آپ دیکھیں ان لوگوں کو کہ ہماری آیات میں موشگافیاں کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تویاد آنے پر مت بیٹھو اس ظالم قوم کیساتھ۔ اور ان لوگوں پر ان کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو یاد دہانی کرانی ہے تاکہ وہ پرہیز کریں۔ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے دین کو لہو ولعب بنایا ہوا ہے اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالا ہے اور آپ نصیحت کریں قرآن کے ذریعے کہ کوئی اپنے کئے کی وجہ سے گرفتار نہ ہوجائے۔ نہ ہوگا ان کیلئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا۔ اگر بدلے میں دیں سارا کچھ تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے کے سبب ۔ ان کیلئے گرم پانی ہے اور دردناک عذاب جو وہ کفر کرتے تھے”۔
سورہ انعام :65سے70تک میں اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے لوگوں کیلئے بڑی سخت دھمکی لگائی ہے۔ خاص طور پر پیغمبروں اور نبی کریم ۖ کے دور والوں کیلئے۔ آج ہمیں بھی افغانستان ، عراق، شام، لیبیا اور دیگر ان ممالک کی طرح مشکلات کا سامنا نظر آرہا ہے کہ جب اپنے اندر استحکام سمجھنے والے مختلف طرح کے عذاب کا شکار ہوئے۔ تورا بورا پر خطرناک بم برسائے گئے اور عراق و لیبیا کا برا حال کیا گیا۔ آپس میں بھی گروہ در گروہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔
ان آیات میں قرآن کے مقابلے میں جن موشگافیوں کا ذکر ہے ہمارے علماء و مفتیان ، مدارس و مسالک اور فرقے اسی مرض کے بدترین شکار نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنادیا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں مبتلا کیا ہے۔ اہل کتاب کی طرح اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں بہت ساری فضول کی موشگافیوں میں مبتلا ہیں۔
اس شمارے میں قرآن کی واضح آیات کی زبردست نشاندہی کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ خطرناک حالات پیدا ہونے سے پہلے پہلے ہم قرآنی آیات اور احکام کے بارے میں فضول کی موشگافیاں چھوڑدیں گے اور حقائق کو دیکھ کر صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں گے۔ قرآن و احادیث میں ایک بڑے انقلاب کی زبردست خبر ہے ۔ جب ہم قرآن کی واضح آیات پر عمل پیرا ہوں گے تو نہ صرف ہماری مشکلات حل ہوں گی بلکہ قرآن کے ذریعے ہم مردہ قوم میں زندگی کی نئی روح دوڑجائے گی۔انشاء اللہ العزیز

_ طالبان کی جیت کابہت خیرمقدم_
طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی اور پھر امریکہ نے حملہ کرکے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں بہت بڑا جانی نقصان دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر کیا۔ تیل کے ذخائر قبضہ کئے اور اپنا مشن مکمل کرنے کیلئے افغان حکومت اور طالبان کو لڑنے کیلئے چھوڑ دیا تھامگر بقول امریکہ کے اس کو یہ توقع نہیں تھی کہ افغان حکومت خون خرابہ کئے بغیر اتنی جلدی افغانستان کو طالبان کے حوالے کردے گی۔ اشرف غنی کا لڑائی کے بغیر حکومت چھوڑنا اور طالبان کا افغان حکومت کیلئے معافی عام کا اعلان خوش آئند اور بہت زیادہ مبارک بادی کے لائق ہے۔ افغانوں کا اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنا طالبان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ جو کچھ ہوچکاہے وہ ہوچکا ہے ،اب تعمیر نو کی فکر سب کو مل بیٹھ کر کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
طالبان نے پہلے کہا کہ جہاں حکومت کی فوج خود ہتھیار ڈال رہی ہے اس جگہ کا ہم کنٹرول حاصل کررہے ہیں۔ پھر صوبائی دارالحکومتوں کو چھوڑ کر علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کردیا تھا۔ پھر ایک دم سے صوبائی دارالحکومتوں کے قبضے سے گھبراکر اشرف غنی نے اقتدار چھوڑ دیا۔ قندھار ، مزارشریف پر مزاحمت کا بھی اشرف غنی نے حق ادا کیا تھا لیکن طالبان کے طوفان کے آگے افغانستان کی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پرائی تنخواہ پر پلنے والی فوج اور نظریاتی لشکر میں جو فرق وامتیاز ہونا چاہیے وہی افغان فوج اور طالبان میں تھا۔
قیاس آرائیوں کا سب کو حق ہے لیکن افواہیں اُڑانے سے ملک وقوم کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ امریکہ اپنی سرزمین پر ہمارے آرمی چیف، وزیراعظم ، صدر، وزیرخارجہ اور کسی بھی سیاسی رہنما کو ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور ہم نے مہربانی کرکے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں کو انکے حوالے کیا ہے۔ البتہ اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ بڑی تعداد میں پاکستانی اور مسلمان امریکہ میں سچی اور جھوٹی سیاسی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ایف سولہ طیارے امریکہ سے خریدے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو زور آزمائی کا جواب دیا تھا۔
پہلے امریکہ 9/11کی وجہ سے پاگل ہوگیا تھا لیکن پھر بھی امریکہ میں بش کے بعد مسلمان حسین اوبامہ کا بیٹا بارک دومرتبہ امریکہ کا صدر بنا تھا۔ بڑابننے کیساتھ اللہ تعالیٰ دل بھی بڑا دیتا ہے۔ امریکہ نے انتہائی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بارک حسین اوبامہ کو دومرتبہ صدر بنایا لیکن ہم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ کسی پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے بیٹے کو قبول کرلیں۔ امریکہ نے بڑی بڑی وارداتیں کرکے دنیا میں اپنی امامت کا مقام کھو دیا ہے۔ پاکستان، ایران اور افغانستان کو بڑا مقام پانے کیلئے اپنا دل بھی بہت بڑا کرنا پڑے گا۔ قرآن میں عورتوں کو ستانے والوں اور افواہیں اڑانے والوں کو بہت بڑا مجرم قرار دیکر واضح کیا گیا ہے کہ پہلے بھی لوگوں کی سنت یہ رہی ہے کہ جہاں یہ پائے گئے بے دریغ قتل کئے گئے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر جھوٹ کی مشینوں اور عورتوں کو ستانے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔

طالبان بھی اپنی غلطیاں تسلیم کریں
جب وحی کی رہنمائی کا سلسلہ موجود تھا تو اللہ نے نبیۖ اور صحابہ کرام کی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی فرمائی۔ تائید اور تنبیہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایک نابینا عبداللہ بن مکتوم کی آمد پر نبیۖ چیں بہ جبیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ عبس وتولیٰ نازل فرمائی۔ نبی ۖ فرماتے تھے کہ اس صحابی کی وجہ سے اللہ نے مجھے ڈانٹا ہے ۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے نبیۖ سے ظہار( طلاق )کے مسئلے پر مجادلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذیعے نبیۖ کے فتوے کے خلاف حضرت خولہ کی تائید فرمائی اور سورۂ مجادلہ میں مذہبی ذہنیت کے فتوے کی تردید فرمائی ۔ حضرت عمر حضرت خولہ کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ غزوہ ٔبدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مشورہ حضرت عمر اور حضرت سعد کے علاوہ باقی سب اکابر صحابہ نے دیا تھا لیکن وحی اقلیت والوں کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ پھر غزوۂ بدر میں سب نے انتقام لینے کی بات کی تھی تو اللہ نے معاف کرنے کا حکم دیدیا تھا۔
جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا تو صحابہ کرام اس معاہدے کے خلاف بھی برداشت کی حد سے نکل چکے تھے لیکن نبیۖ کے احترام میں مجبوراً قبول کیاتھا اور پھر اللہ نے اسی کو فتح مبین قرار دیدیا۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کوئی بھی کسی گھمنڈ میں نہ رہے۔ قرآن کی تعلیمات کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے نامۂ اعمال پر غرور وتکبر کی جگہ اپنی غلطیوں اور محاسبے کا خیال رکھیں۔ اللہ سے بہت اچھے کی اُمیدبھی رکھیں اور شامتِ اعمال کا خمیازہ بھگتنے کا خوف بھی رکھیں۔ حالات بہت نزاکت خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بہت زیادہ اچھے دن بھی آسکتے ہیں۔ اُمید و خوف کے بیچ میں مؤمن کا ایمان رہتا ہے۔ طالبان کیلئے مذہبی طبقات اور پوری دنیا کو مطمئن کرنے کا چیلنج جوئے شیر لانے سے بھی بہت زیادہ مشکل کام ہے۔
جب طالبان نے داڑھی، تصویر، پردہ، نماز، موسیقی اور بہت ساری چیزوں پر اپنا انتہائی سخت مؤقف رکھا تھا تو وہ اپنے جذبے میں مخلص تھے لیکن آج جس طرح فکروشعور کی منزل پر پہنچے ہیں تو یہ زیادہ خوش آئند ہے۔ جب مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کی جگہ بیت اللہ حرم کعبہ بن گیا تو بہت لوگوں کو اعتراض تھا مگر اللہ نے واضح کردیا کہ ” نیکی یہ نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے”۔ جب طالبان نے پہلے شریعتِ اسلامی کو اس طرح سے سمجھا تھا تو ویسا عمل کیا اور آج جس طرح سے شریعت سمجھ میں آئی ہے تو اس پر عمل کررہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح سے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مسلمانوں نے بادلِ نخواستہ قبول کیا تھا تو طالبان بھی مجبوری میں ساری دنیا کے طاقتور ممالک کو خوش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
اگر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ طالبان اپنے اندر جو گلٹی محسوس کررہے ہیں وہ بھی در حقیقت کوئی گلٹی نہیں ۔ صحابہ نے پہلے سمجھا تھا کہ روزوں کی رات میں اپنی بیگمات سے جماع کرنا درست نہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ ” اللہ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہو ۔روزوں کی رات کو اپنی عورتوں کیساتھ بے حجاب ہونا تمہارے لئے حلال ہے”۔

اپنا حکمران طبقہ راہِ راست پرآئے!
ہماری سیاست، ہمارا مذہب اور ہمارے کلچر کا معیار نااہلوں کے ہاتھوں میں ذلت ورسوائی کی آخری منزل تک پہنچ گیا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت بھی امریکہ کے سہارے کھڑی تھی لیکن خان عبدالغفار خان کے پڑپوتے ایمل ولی کو لمحہ بھر کیلئے بھی امریکہ کی شرارت اس میں دکھائی نہیں دی لیکن جونہی طالبان کی جیت سامنے آئی اور پاکستان نے ایک ماہ کیلئے امریکہ کو سہولتکاری فراہم کردی تو ایمل ولی کے پیٹ میں درد اُٹھ گیا۔ بیس سال سے امریکہ کو پاکستان نے اڈے فراہم کئے تھے اور افغان حکومتیں امریکہ کے سہارے چل رہی تھیں اور طالبان قطر میں اپنے معاملات امریکیوں سے طے کررہے تھے تو یہ سب یکساں طور پر ایک ہی طرح کی بات تھی اور کسی کو بھی خراج عقیدت پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ ونیٹو نے اسلامی ممالک کا تیل چوری کرنے کیلئے افغانستان ، عراق، لیبیا اور شام کے لاکھوں لوگوں کو لقمۂ اجل بنایا۔ پاکستان نے سہولت کاری فراہم کی اور طالبان نے دہشت گردی، اغواء برائے تاوان اور جو ممکن ہوسکا وہ خراب دھندہ کیا جس کی وجہ سے مسلمان اور اسلام مزید بدنام ہوگئے۔ امریکہ و نیٹو کے اقدامات کو تقویت پہنچی اور مسلمانوں کو خود بھی بہت تکلیف کا سامناکرنا پڑگیا۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو پاکستان میں دہشت گردی کرنے والا طبقہ نظریاتی طور پر روس کا حامی ہوتا تھا۔ جو بھی اپنے استحکام کیلئے جس طرح کی پوزیشن لے سکتا ہے وہ اس سے دریغ نہیں کرتا ہے۔افغان حکومت اور بھارت ایک پیج پر تھے اسلئے پاکستان کا فطری جھکاؤ طالبان کی طرف تھا، پاکستان نے طالبان کیساتھ اپنی مجبوری میں زیادتی کی تھی ،طالبان سے حکومت چھن گئی تھی ، طالبان کی وجہ سے افغانستان میں خانہ جنگی کی فضاء ختم ہوسکتی تھی کیونکہ جب نیٹو کے ہوتے ہوئے طالبان کو ختم نہیں کیا جاسکا توافغان حکومت اکیلے صرف اور صرف بھارت کی مدد سے افغانستان امن کی جگہ بدامنی کی شرارت کرسکتا تھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقے کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ فوج کی مخالفت یا حمایت کی بنیاد پر اپنے پتے کھیلتے ہیں لیکن اپنے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں کسی کی حمایت یا مخالفت کا تعلق محض طبقاتی بنیاد پر ہو تو اس سے افغانستان کے اپنے حالات کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی بھی درگت بنے گی۔ جب ہم اپنے حالات کو درست نہیں کرسکتے تو کسی اور کے بل بوتے پر آپس میں نظریات کی جنگ بھی نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی ننگ وشرم کا مقام ہوناچاہیے لیکن ہم یہ مقام پار کرچکے ہیں۔ PDMنے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ چھیڑ دی مگر ن اورش لیگ نے کھلم کھلا دونوں طرف کھیلا ۔ ن فوج پر دباؤ اور ش مصالحت پر گامزن تھا۔ مرکزی اور پنجاب حکومت کو گرنے کا خطرہ تھا تو یہ ن لیگ نے اپنے مفاد میں پینترا بدل دیا۔ زرداری نے ٹھیک کہا کہ نوازشریف میدان میں آئے مگر ن لیگ نے بہت برا منالیا۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور افغانستان میں امارت اسلامیہ قائم ہوئی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کا اصل نظریہ اور عمل پیش کردیں۔

طالبان پر شک وشبہ کی بڑی گنجائش
” میں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے میں ملا ہوں غازی ”۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی طرح اگر بہت سارے لوگ طالبان کی فتح کو بڑی سازش سمجھتے ہوں تو ان کی اس ذہنیت کا مذہبی طبقے کو بالکل بھی برا نہیں منانا چاہیے۔
ملا اور طالبان نے حقیقی اسلام کی جگہ اپنے روایتی اسلام پر عمل کیا تھا۔ ہیروئن کی کاشت، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان ، غیرملکی ایجنسیوں سے رابطہ،گٹھ جوڑ ، دہشت گردی ، فرقہ واریت ، نسل پرستی اور دنیا کی وہ کونسی برائی ہے جس کا فقدان طالبان میںدکھائی دیتا ہو؟۔ لیکن یہ تمام خرابیاں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہی تھیں۔ اگر ان کو اچھا ماحول میسر آجائے تو پھر نہ صرف حقیقی اسلام کو نافذ کرینگے بلکہ عالمِ انسانیت بھی ان کو تہہ دل سے عقیدت وسلام پیش کرے گی۔
ایک تأثر یہ ہے کہ پہلے جو طالبان زبردستی سے نماز پڑھنے پر مجبور کرتے تھے تو اب اپنے مؤقف سے کیوں ہٹ گئے؟۔ کیا اسکے پیچھے امریکی ایجنڈا ہے؟۔
فقہاء نے لکھا، جس کا بریلوی مکتب کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن نے پچھلے سال کرونا کے مسئلے پر ذکر کیا کہ” عین لڑائی میں بھی نماز باجماعت فرض ہے۔ آدھے لوگ نماز پڑھیں گے اور آدھے لوگ اسلحہ لیکر دفاع کریںگے ”۔ عشرہ فاروق وشہیدحسینمنانے والے تقریر کرتے ہیں کہ حضرت عمر باجماعت نماز کی امامت کرتے وقت شہید کئے گئے اور اپنا دوسرا نائب بناکر نماز مکمل کی گئی اور حضرت عمر بہت زخمی حالت میں تڑپتے رہے۔ شیعہ عالم ایس ایم حیدر نے کہا تھا کہ ” حسین نماز میں نہ ہوتے تو دشمن شہید نہیں کرسکتے تھے”۔ اقبال نے کہا کہ
آیاجب عین لڑائی میں وقت نماز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودو ایاز
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جنگ لڑی تو نماز باجماعت چھوڑ دی اور عین لڑائی میں نماز پڑھنا بھی ممکن نہ تھا ۔مولانا طارق جمیل ، فقہاء اور شعراء کے مطابق نماز کی بہت زیادہ اہمیت کے باجود اس سے طالبان بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کسی نے اقبال کو پڑھا تو سمجھا کہ ٹھیک کہا تھاکہ” نہ تونمازی نہ میں نمازی”۔
طالبان نے جہاد میں نماز اور باجماعت نماز کو چھوڑ دیا تو ان کا دوسروں کے بارے میں رویہ نرم پڑگیا۔ ملاعمر کے نظام سے انحراف کرنے پر طالبان کو اپنوں کی طرف سے خود کش حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ موسیقی کیخلاف ذبیح اللہ مجاہد کا بیان عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کو اپنوںسے مزاحمت کا خطرہ ہے۔ اگر یہ آپس میں الجھ گئے تو اس کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔اگر آنکھیں بند کرکے اسلام کے بعض احکام پر عمل کیا گیا اور بعض کو نظر انداز کیا گیا تو پھر قرآن کی اس آیت کے مصداق ہوںگے أفتکفرون ببعض الکتٰب وتکفرون ببعض الکتٰب ” کیا تم کتاب کے بعض احکام کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟”۔
طالبان شوق سے تصاویر کھینچواتے ہیں اور اس کو اسلام کے خلاف بھی سمجھتے ہیں اور موسیقی نہیں سنتے ہیں اور پھر عوام پر بھی اس کی پابندی لگاتے ہیں؟۔ ان کا یہ رویہ قابلِ تعریف یا قابلِ تردید ہوگا؟۔ طالبان سے اتنی گزارش ہے کہ موسیقی پر صرف مغرب کی طرح پابندی لگائیں ۔ عوام کے گانے ہوں یا طالبان کے لیکن عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے دوسروں کو اذیت پہنچانے کے بجائے اپنے کانوں تک اس کو محدود رکھیں اور اس کو اسلام کا نام نہیں دیں بلکہ انسانیت کا دَم بھرنے کیلئے لوگوں کوایک پرسکون فضاء مہیا کریں۔

بہت بڑی غلط فہمی کا بہترین ازالہ
اللہ نے واضح فرمایا :وان خفتم فررجالًا او رکبانًا ”اور اگر تمہیں خوف ہو تو چلتے چلتے یا سوار ہوکر بھی نماز پڑھو”۔ ظاہر ہے کہ چلتے چلتے اور سوار ہوکر رکوع وسجود اور قیام پر عمل نہیں ہوسکتا۔پھر امن کی حالت آئے تو معمول کی نماز جس طرح سکھائی گئی ہے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نمازِ خوف کی وضاحت کے بعد سفر کی نماز کا حکم یہ ہے کہ” سفر میں نماز کے قصر کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے”۔ یعنی اگر پوری نماز پڑھ لیں تو حرج نہیں۔ مثلاً امام مسافر اور مقتدی مقیم ہیں تو مسافر امام پوری نماز پڑھ لے تو بھی حرج نہیں لیکن جب مقتدی مسافر امام کے پیچھے اپنی آدھی نماز پڑھیں تو فقہی مشکلات کا شکار ہوںگے۔ ایک طبقہ کہے گا کہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور دوسرا طبقہ کہے گا کہ فاتحہ پڑھی جائے گی۔ اللہ کے احکام کو موشگافیوں کا شکار کرنے والے مجرموں کی قطار میں شامل ہونگے۔
سفر میںنمازِ قصر کے بعد فرمایا کہ ” اگر تمہیں خوف ہو کہ دشمن تم پر کسی وقت بھی انجانے میں حملہ کرسکتا ہے اور نبی ۖ تمہارے اندر موجود ہوں اور وہ باجماعت نماز پڑھانا چاہیں تو پھر تمہیں چاہیے کہ ایک گروہ پہرہ دے اور دوسرا گروہ نماز پڑھتے ہوئے اپنے اسلحے کو تھامے رکھے اور اپناہوش ٹھکانے رکھے۔ پھرجب یہ گروہ سجدہ کرلے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا گروہ نماز میں شامل ہوجائے اور اپنا اسلحہ تھامے رکھے ۔ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہیں غفلت میں پاکر ایک دم حملہ کردیں اورکام تمام کردیں۔ جب بارش یا بیماری کی حالت میں تم اپنا اسلحہ رکھ دو تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور ایسی حالت میں کھڑے ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کی صورت میں اللہ کا ذکر کرو اور جب اطمینان کی کیفیت میں آجاؤ تو پھر نماز کومعمول کے مطابق قائم کرو اور بیشک اللہ نے اوقات کے مطابق تم پر نماز فرض کی ہے”۔
اس نماز کا جنگ سے تعلق نہیں بلکہ یہ سفر میں خوف کے وقت رہنمائی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اگر نبیۖ نماز باجماعت چاہیں تو یہ حکم ہے۔ ضروری نہیں کہ سفر میں باجماعت نماز ہو اور بارش و مرض میں بھی اسلحہ رکھنے کی گنجائش واضح ہے۔ اگر قرآن سمجھ لیا جاتا تو طالبان رہنماؤں کو خوف کی حالت میں نماز باجماعت نہ پڑھنے کی گنجائش نظر آتی اور جذبہ جہاد سے سرشار لوگ میدان جنگ میں نماز نہ پڑھتے تو اپنے آپ کو ملامت کے قابل نہ سمجھتے۔ جب ایک طرف وہ مجبوری میں نماز ترک کریں اور دوسری طرف مولانا طارق جمیل جیسے لوگوں کو اپنا پیشواء سمجھیں جنکے نزدیک قتل، زنا بالجبر، ڈکیتی، شرک اور ہرچیز سے نماز چھوڑنابرا ہو تو پھر اسکے مذہبی خمیر کے آٹے سے عجیب لوگوں کی پکی پکائی روٹی تیار ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تک جب وہ سمجھیں جو کہہ رہے ہیں اور حالت جنابت میں بھی مگرکوئی مسافر ہو، یہاں تک کہ تم نہالو۔ آیت میں نماز پڑھنے سے جنابت میں روکا گیا ہے اور مسافر کیلئے غسل کئے بغیر بھی اجازت ہے یعنی تیمم سے۔ حضرت عمر نے سفر میں جنابت کی وجہ سے نماز کو ترک کیا اور حضرت عمار نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نمازیں پڑھ لیں۔ نبیۖ نے قرآن کے مطابق دونوں کی تائید فرمائی اسلئے کہ ایک نے گنجائش کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی۔ دوسرے نے گنجائش کی وجہ سے نماز پڑھ لی۔قرآن وسنت میں دونوں کیلئے گنجائش تھی لیکن بعد میں اس پر مسالک کی بنیاد رکھی گئی کہ کس کا مؤقف درست اور کس کا غلط ہے؟۔

طالبان کامیاب کیسے ہوسکتے ہیں؟
حنفی مسلک کا بالخصوص اور باقی مسالک کا بالعموم پہلا اصل اصول ہے کہ ”قرآن میں مسئلے کا حل موجود ہو تو قرآن سے حل کیا جائے ۔اگر حدیث قرآن سے ٹکرائے تو حدیث کو ترک کرکے قرآن پر عمل کیا جائے ”۔ پھر دوسرے نمبر پر حدیث ہے ، تیسرے نمبر پر اجماع اور چوتھے نمبر پر قیاس ہے۔ قیاس شریعت کی مستقل دلیل نہیں بلکہ کسی معاملے کو قرآن، حدیث یا اجماع پرقیا س کیا جائے تو یہ قابلِ قبول ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” میری اُمت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی”۔
یہ جہالت ہے کہ ”بنیادی دلیل اجماع ہے، قرآن پر حضرت عثمان کے دور میں اجماع ہوا لیکن حضرت ابن مسعود نے اختلاف کیا تھا۔ جب تک قرآن پر اجماع نہ تھا تو کسی آیت یا سورة کا انکار کرنا کفر نہ تھا لیکن جب اُمت کا اجماع ہوگیا تو اب کسی سورة یا آیت کا انکار کفر ہے”۔(علامہ غلام رسول سعیدی)
صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ” رسول اللہۖ نے ہمارے پاس دوگتوں کے درمیان (قرآن) کے علاوہ کچھ نہ چھوڑا تھا”۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ”ابن عباس نے حضرت علی کا یہ قول محض شیعوں کو رد کرنے کیلئے نقل کیا تھا ،ورنہ اصل بات یہ تھی کہ قرآن کے نقل پر صحابہ کا اجماع نہیں تھا”۔(کشف الباری)
مسلک حنفی میں خبر واحد یا مشہور کی آیات قرآن ہیں جو اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے تو پھراحادیث اور اجماع کی اپنی کونسی حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟۔ حنفی خبرواحد کی آیت سے دلیل لیتے ہیں لیکن شافعی اس کو نہیں مانتے اور جمہور حدیث کو دلیل بناتے ہیں مگر حنفی اس کو قرآن سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اجماع کا اصولِ فقہ کی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ” اہل مدینہ، خلفاء راشدین اور ائمہ اہل بیت کا اپنا اپنا اجماع بھی حجت ہے”۔جس سے اجماع کی اپنی حیثیت بھی متنازع بنادی گئی ہے کیونکہ ان اجماعوں کا آپس میں بھی تصادم ہے۔
ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ مسالک کی بنیاد پر پہلے نمبرپر قیاس کو رکھتے ہیں، دوسرے نمبر پر الٹے سیدھے اجماع کا تصور پیش کرتے ہیں ، تیسرے نمبر پر احادیث کو موضوع بحث بناتے ہیں اور قرآن کو آخری چوتھے نمبر پر رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں آیات کا اضافہ نہیں تھا بلکہ جلالین کی طرح تفسیرلکھی۔ جب عرصہ بعد ابن مسعود کے مصحف کو کسی نے دیکھا تو اس کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا اسلئے راوی نے کہا کہ میں نے ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کی لیکن اس میں سورة فاتحہ اور آخری دو سورتیں موجود نہیں تھیں۔ راوی کی بات کا بتنگڑ بنانے والوں نے قیاس آرائیوں سے ملمع سازی کا بازار گرم کردیا اور ابن مسعود کو قرآن کی آخری دوسورتوں کا منکر بنادیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے رحم کردیا اور واضح کیا کہ ابن مسعود کے وقت میں قرآن پر اجماع نہیں تھا اسلئے وہ کافر نہ تھے مگر اب اجماع ہوگیا ہے اسلئے کوئی اس کا انکار کردے تو کافر ہوگا۔مگریہ نہیں سوچا کہ اجماع کو قرآن اور صحابہ پر مقدم کردیا۔
جمہور اور اجماع میں فرق ہے۔ اجماع کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایک فرد یا گروہ بھی اس کا مخالف نہ ہو۔ امت مسلمہ کا کمال یہی ہے کہ اختلافات ہی اختلافات ہیں لیکن گمراہی کی کسی بات پر بھی الحمدللہ آج تک کسی دورمیں اجماع نہیں ہوا۔

جاگیرداری وسودی نظام اصل مسئلہ
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات ہٹ دھرمی اور بے ایمانی کو چھوڑ کر مدارس کا نصاب درست کریں۔ پاکستان ، افغانستان ، سعودیہ، ایران اور دنیا بھر سے علماء و مفتیان کو دعوت دی جائے تاکہ ایک سلیس نصاب کیلئے دین کو اجنبیت سے ہم باہر نکالنے میں اپنا زبردست کردار ادا کریں۔ جب سود کی حرمت کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ کاشتکاروں کو کاشت کیلئے مفت میں زمین دینے کا حکم فرمایا۔ غلام ولونڈی کا نظام جاگیرداری کی وجہ سے ہی دنیا میں آیاتھا۔ جنگوں میں ابوسفیان اور اس کی بیگم ہند سے کلبھوشن یادیواور ابھی نندن تک کسی کو گھر کا غلام اور لونڈی بناکر خدمت لینا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے۔ نبیۖ نے جاگیردارانہ نظام کو سود قرار دیا تو مزارعین کی غلامی کا دروازہ بند ہوگیا۔ فقہ کے چاروں امام نے احادیث کے مطابق مزارعت کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن حیلہ سازوں نے پھر قرآن وسنت اور فقہ کے ائمہ کرام سے انحراف کیا اورجاگیرداری کو جواز بخش دیا۔ پہلے جاگیرداری نظام واحد وجہ تھی جس سے لوگ لونڈی اور غلام بنانے کے دھندے کو تقویت دیتے تھے اور آج بینکنگ کا نظام وہ ناسور ہے جس سے پورے کے پورے ملکوں کو عالمی طاقتیں اپنا غلام بنارہی ہیں اور اس کو بھی آج نہ صرف اسلامی قرار دیا گیا بلکہ پاکستان کے ائیرپورٹ اورموٹر وے کو بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہمارے پاس سودی قرض اتارنے کیلئے کچھ نہیں ہوگا تو عالمی طاقتیں ائیرپورٹ اور موٹر وے پر قابض ہوجائیں گی اور جس طرح صدام حسین کو عراق کے ججوں نے پھانسی کے پھندے پر چڑھایا اور عراق کا ڈھانچہ امریکہ کیلئے استعمال ہوا ، اس سے بڑھ کر عالمی طاقتیں پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کے باجود اونٹ کی طرح ناک میں نکیل ڈال دیں گی۔ اور ہماری عدالتوں ، پولیس اور فوج کی طرف سے غلامی کو بصد خوشی قبول کیا جائیگا۔
طالبان افغانستان کو اپنی حکمت عملی سے امن وامان کا گہوارہ بنائیں اور سود کی لعنت سے حلالہ کی لعنت تک اپنی جان چھڑائیں۔ جب عورتوں کو اسلام کے مطابق آزادی اور تحفظ ملے گا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کی اپنی معیشت بہت مضبوط ہوجائے گی۔ افغانستان اور وزیرستان میں غیرملکی سیاح اسلئے نہیں آتے تھے کہ خواتین اور فیملی والوں کے دلوں میں ایک خوف تھا جس کو اسلامی احکام کے ذریعے تحفظ دیکر دنیا بھر سے نکالا جاسکتا ہے۔
جس دن طالبان نے عورت کے اسلامی حقوق کا نمبر وار اعلان کرکے اپنے آئین کو دنیا کے سامنے پیش کردیا تو پاکستان کی خواتین بھی اپنا ووٹ اسلام کے حق میں استعمال کریں گی۔ بندوق اور بارود کی جگہ گھروں میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ شروع ہوجائے گا۔ اسلامی حدود کے اجراء کو دنیا بھر میں بہترین اور قابلِ عمل قرار دیا جائے گا ۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام ، لیبیا اور دنیا بھر کی عوام جنگ وجدل سے تنگ آچکے ہیں۔ دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنانے کیلئے افغانستان کے طالبان کا کردار سب سے اہم ہوسکتا ہے۔ حلالہ واحد سزا ہے جس کی لعنت کو علماء کرام نے زندہ کر رکھا ہے مگر یہ بھی قطعی طورپراسلام نہیں ہے۔
جب تک لعان کے حکم پر عمل، حلالہ کے بغیر رجوع کی آیات اور عورت کے جملہ حقوق کا معاملہ زندہ نہیں ہوتا تو اسلام کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچانا ممکن نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔خواب میں نبیۖ کے ستر کا کھلا ہونا اور پاکستان کے. علماء کا ستر کو چھپانے کی کوشش اور شہزادہ محمد بن سلمان کا نبیۖ کے پاؤں کی انگلیوں اورعمران خان کا .ہاتھوں کیand انگلیوں کو کاٹنا اور نبیۖ کا رُخ مشرق کی طرف ہونا اور اس کی تعبیر کہ عرب سے حیاء نکل گئی اور پاکستانی علماء نے دین کی مدد کرنی ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امام ابن سیرین نے اپنی کتاب ”تعبیر الرویائ” میںand لکھا ہے کہ خواب میں برے شخص کے ستر کھلنے کی تعبیریہ ہے کہ اس کی برائی ظاہر ہوگی اور نیک شخص. کی تعبیر یہand ہے کہ اس کی اچھائی ظاہر ہوگی۔ یوم تبلیMaulana Fazal Ghafoor السرائر ” اس دن پوشیدہ راز ظاہر ہونگے”۔

_ مولانا فضل غفور پر گستاخی کے فتوے_

ایک دیوبندی عالم دین نے کہا. کہ جمعیت علماءand اسلام بونیر کے مولانا فضل غفور نے نبیۖ کی شان میں جو گستاخی کی ہے اس کا دوہرانا بھی مناسب نہیں ۔ اس کو گولی مار کر اس کی لاش کو چوک پر لٹکایا جائے۔
اگر کوئی جذباتی مسلمان اُٹھ کر. اس کو قتل کردے اور عوام میں ایسی فضاء بن جائے کہ مشعال خان کی طرح اس کی لاش کو بھی دفن کے بعد خطرہ ہو تو اپنے بھی مولانا فضل غفور کے فعل سے برأت کا اعلان کریں گے۔ جب جنید جمشیدپر ایک گستاخی کا الزام لگا تھا تو اس کے دیرینہ دلدادہ مولانا طارق جمیل نے بھی پھر جنید جمشید کی حمایت اور ہمدردی میں نہیں مخالفت میں بیان دیا تھا۔

جنید جمشید کی قسمت اسلئےso اچھی تھی کہ اس نے ” دل دل جان جان پاکستان” پڑھا تھا۔ ورنہ دوبارہ اس کے منظر عام پر آنے کا کوئی چانس نہیں بن سکتا تھا اور وہso کسی. حادثے کا بھی شکار ہوسکتا تھا۔ مذہبی جنونیوں کی طرف سے جو فضاء تیار کی جاتی ہے اس کو خاص سیاسی مقاصد کی خاطر زبردست طریقے سے پذیرائی ملتی ہے۔


مولانا فضل غفور کا تعلق ایک مضبوط سیاسیand جماعت جمعیت علماء اسلام سے ہے لیکن مذہبی جنون کے سامنے طاقتور سے طاقتور انسانوں کو بھی بڑے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جب andذوالفقارMaulana Fazal Ghafoor علی بھٹو نے قادیانیتso کے کفر پر. دستخط کئے تو کہا کہ ” میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کررہا ہوں”۔

پھربھٹو نے .جس andکیس میں پھانسی کی سزا کھائی توso قاتل قادیانی تھا اور وہ وعدہ معاف گواہ بن کر چھوٹ گیا لیکن بھٹو کے خلاف عدالت نے پھانسیand کافیصلہ کیا۔پارلیمنٹ نے قادیانیت کے خلاف فیصلہ کیا۔ پھر قومی اتحاد بھٹو کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگا رہا تھا۔


جنرل ضیاء الحق نے اپنے بیٹے ڈاکٹر انوارالحقand کا نکاح جنرل رحیم الدین کی. بیٹی سے کردیا لیکن جب عوامی جذبات کا خدشہ ہوا تو امتناع قادیانیت آرڈنینس جاری کردیا اور پھرجہاز کے حادثے میں شکار ہونے پر قوم نے مٹھائیاں بانٹیں۔

_ علماء کاایکدوسرے کیخلاف فتویٰ_


مولانا محمد یوسف لدھیانویso شہید کی کتاب ” عصر. حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” اس دور میںایک زبردست رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ عربی کی متعدد غلطیوںso اور کچھ احادیث .کا غلط ترجمہ اور تشریحMaulana Fazal Ghafoor بیان کرنے کے باوجود اس کتابچہ کی بہت زیادہ افادیت ہے۔

ایک حدیث یہ ہے کہ رسولso اللہۖ نے .فرمایاکہ ” گمان ہے. کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیںso گے ، ان. کی مساجد آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی اور ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ فتنہ انہی سے نکلے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا”۔

test


مولانا فضل غفور نے اپنے وضاحتی بیان میں andدو احادیث بیان. کی ہیں ،ایک یہ کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ ” نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بچا مگر مبشرات۔ اور مبشرات سے مراد رویائے andصالحہ ہیں”۔ دوسری حدیث یہso بیان کی. کہ ” نبوت کا 46واں حصہ رہ گیا ہے اور وہ رویائے صالحہ ہیں”۔

test

دونوں احادیث صحیح ہیں لیکنand اس کے ترجمے غلط کئے جاتے ہیں۔ عربی .میں نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔ یہاں نبوت سے مراد غیب کی خبریں ہیں۔ اگرand نبوت کا چھیالیسواں حصہ رہ گیاso تو پھر. ختم نبوت پر ایمان کیسے ہوسکتا ہے؟۔ رویائے صالحہso سے مراد نیک .خواب نہیںso بلکہ وہ خواب ہیں جو شیطان کی دسترس سے محفوظ ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ کوئی نیک آدمی خواب دیکھے تو اس کا خواب شیطان کی دسترس سے محفوظ بھی ہو۔

test

علماء ایک دوسرے کے خلاف عوام کو اشتعالand دلانے میں مصروف. ہیں اورso اسلام کے ظاہری الفاظso .اور تعبیرات کو درست کرنے کیلئے کھلی آنکھوں سے تیار نہیں ہیںso تو خوابوں کی تعبیرso کو اپنے. مقاصد کیلئے استعمال کرنے. کا کیا جواز ہے؟۔ کہیں خواب کی تعبیر یہ تو نہیں ہے کہ حکمرانso اسلام کا بھلا کرنا. چاہتے ہیں مگر علماء اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟۔ خواب کی تعبیر ایک بالکل الگ علم ہے۔

علماء جب حکمرانوں سے مل جائیں


مولانا یوسف لدھیانویso کی کتاب ” عصر حاضر” .میں ایک حدیث یہ ہے کہ ” علماء دین کے محافظ اور نگران ہیں لیکن جب یہ اہل اقتدار سے مل جائیں اور دنیا میں گھس جائیں تو پھر ان سے الگ ہوجاؤ”۔
جمعیت علماء اسلام نے جبso تک اپوزیشن کی سیاست. کی تو وہ دین کی محافظ تھی لیکن جب باری باری اقتدار کے مزے اڑانے لگی تو اس نے دنیا میں گھس. کر دین کی حفاظت اور. نگرانی چھوڑ دی۔

جنرل ضیاء الحق ، بینظیر بھٹو کے پہلے دور اور اسلامی جمہور ی اتحاد کے دور 1981ء سے1992ء تکso مولانا فضل الرحمن .عوامی جلسوں میںMaulana Fazal Ghafoor بینک سے زکوٰة کے نام پر سود کی کٹوتی کو ”شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ”قرارso دیتا تھا۔

پھر. جب. 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری بار اقتدار میں آئی اور مولانا فضل الرحمن کو اقتدار میں شریک کرلیا تو مفادات اٹھانےso کے نتیجے میں. اپنی جماعت کے لوگوں کو زکوٰة کمیٹی کا چیئرمین بنانا شروع کیا۔ پھر شریعت کا حکم سیاست، دنیا اور اپنے مفادات کی نذر کر کے غرقاب کردیا تھا۔

test


حکمران جب علماء کو اقتدار میں شریک کرتے. ہیں تو اپنےand تابع بنانے کیلئے ان کی soعزت افزائی نہیں. کرتے بلکہ تذلیل کرتے ہیں۔ وزیرستان کے MNA مولانا نور محمد نے اسلامی جمہوری اتحاد.. میں شمولیتand اختیار کی تھی تو اس کوso .فلموں کی سنسر شپ کا نوازشریف نے وفاقی وزیر بنایا تھا۔ جس پر روزنامہ اوصاف اخبار میں andزبردست کارٹون سے تصویر soکشی کی گئی تھی۔

بھٹو. کے دور میں ختم نبوت کے حق میں قرار داد پر بقول مفتی .منیب الرandحمن کے مولانا غلام غوث. ہزاروی اور مولانا عبد الحکیم نے جمعیت علماء اسلام کے MNAہونے کے باجوandد بھی اسلئے soدستخط نہیں. کئے کہ وہ پیپلزپارٹی کی Maulana Fazal Ghafoorصف میں شامل ہوگئے تھے۔
علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو چاہیے کہ پاکستانand اور افغانستان میں درست اسلامیso احکام کا نقشہ پیش کرکے. اس کو نافذ کریں تاکہ دنیا میں انقلاب آجائے۔

قادیانی اور نوازشریف دور کا وہ بل


نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ. کو آرمی چیف بنایا تو سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ آرمی چیف قادیانی ہے۔ شاید نوازشریف کی بھی ناک. میں بھنک. تھی تو اسلئے آرمی چیف بنایا تھا۔اوریا مقبول جان نے آکر آرمی چیف کے حق میں ایک خواب بھی بتادیا تھا۔ بہرحال نوازشریف. نے اپنے دور میں قادیانیوں پر ایک احسان کرنا چاہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ بھٹو اور جنرل ضیاء نے بھی اس طاقتور گروپ سے آخر کارمار کھائی. تھی۔ پارلیمنٹ سے بل پاس ہواتھا تو جمعیت علماء اسلام ن لیگ کی اتحادی تھی۔ جب مولانا فضل الرحمن ق لیگ کےso قریب تھے تو چوہدری شجاعت حسین نے قادیانی امریکن ڈاکٹر مبشر سے مولانا کو دل کے وال لگوائے تھے۔

test

مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاق المدارس کے ایک پروگرامand میں اپنی اہمیت جتاتے ہوئے soبتایا تھا کہ ” جب قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تو مجھے دل میں ڈر تھا کہ اگر. سینٹ سے یہ پاس ہوگیاand تو پھر مجھے چیئرمین کیso .غیر موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑیں گے لیکن. شکر ہے کہ بل سینٹ andمیں ناکام. ہوا۔ پھرMaulana Fazal Ghafoor جب بلso کو پاس کرانے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو شیخ رشید. نے جمعیت علماء اسلامand کی بھیگی. بلیوں کوso بھی سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور علماء دیوبند کے اکابرین کی قربانیاں یاد دلائیںتھیں مگرand اقتدار کے نشے میں soدھت علماء ومفتیان ٹس سے. مس نہیں ہورہے تھے۔

test


اگر علماء کرام نے بروقت ہوش کے ناخن. نہیں. لئے اور اقتدار کے چکر میں اسلام کے حق کو ادا کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی تو پھر عوام کا جمِ غفیر اُٹھے گا۔ علامہ خادم. حسین. رضوی نے ختم نبوت کیلئے جو قربانی دی وہ ایک تحریک تھی جس پر اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کا الزام بھی لگا۔ چلو اورand کچھ نہیں. تو جنرل باجوہ سے قادیانی ہونے کا داغ تو دھل. گیا لیکن جب عوام کا شعور اٹھے گا تو علماء ومفتیان کا کیا حال بنے گا؟۔ شریف اور اللہ والے اٹھیں اور اسلام کیلئے کھل کر آواز اٹھائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv