دسمبر 2020 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

پشتون قیادت کیلئے آگے نہ آیا تو انجام گلستاں کیا ہوگا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سقوطِ ڈھاکہ کا دن سولہ (16)دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 2014ء میں 135بچوں سمیت150افراد کی شہادت بڑا سانحہ تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے 16دسمبر 2006ء میں باجوڑ مدرسہ کے 80شہداء اوراس سے پہلے ڈھیلہ جنوبی وزیرستان میں ازبک کے مرکز کو چھوڑ کر مقامی قبائل کے کیمپ کو نشانہ بناکر کافی افراد کی شہادت کا سانحہ بھی گزر چکا تھا۔ وانا میں دو تحصیلدار وں کی المناک شہادت کا واقعہ بھی بڑا دل خراش تھا۔ کانیگرم کے مطیع اللہ جان شہید اور ملازئی کے ایک تحصیلدار کی شہادت اس طرح سے ہوئی تھی کہ ان کو قتل کرکے لاشیں مسخ کرکے کنویں میں ڈال دی گئیں۔ کئی روز بعد ان شہداء کو انکے گھروں میں جس حال میں پہنچایا گیا تو زمین بھی لرزگئی ہوگی اور عرش بھی لرزگیا ہوگا لیکن سخت جانوں کے دل میں کوئی جنبش نہیں آئی۔ مطیع اللہ جان برکی شہید کے چچا ڈاکٹرعبدالوہاب نے بتایا کہ ” جیو ٹی وی والے نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہوگا؟۔ جس کا یہ جواب دیا کہ امریکہ نے گوانتا ناموبے کے جیل سے قیدی رہا کئے ہیں ان کیساتھ تو یہ سلوک نہیں کیا گیا، ہندوستان نے بنگلہ دیش میں پاکستان کے فوجی قید کرلئے تھے ان کے ساتھ بھی یہ سلوک روا نہیں رکھا گیا اسلئے یہ ہندوستان اور امریکہ والے تو ایسانہیں کرسکتے ہیں، مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتا ہے تو میں کیا کہہ سکتاہوں کہ کس نے یہ کیا ہے؟”۔ اگر اس وقت وزیر قوم ہمت کرکے دہشت گردوں سے انتقام لیتے تو جس طرح کا ظلم طالبان نے وزیر قوم کیساتھ روا رکھا ،اس کی نوبت نہیں آسکتی تھی۔ پھر وانا میں علی وزیر کے بھائی ، والد اور خاندان کے بہت سے افراد کو شہید کیا گیا لیکن وزیرقوم نے اٹھنے کی ہمت نہیں کی۔ کوٹکئی جنوبی وزیرستان میں ملک خاندان کا پورا کنبہ اُڑادیا گیا جس میں ایک حافظہ قرآن بچی بھی شامل تھی لیکن محسود قوم نے ہمت نہیں کی۔ وزیر اور محسود قوم کا ٹریک ریکارڈ یہ تھا کہ کبھی بھی اجتماعی ظلم کو موقع نہیں دیا اور نہ تاریخ میں ان کے ساتھ کبھی ظلم روا رکھا گیا ہے لیکن جب طالبان کے سامنے وہ سرنڈر ہو گئے تو کمزوری ، بزدلی اور بے غیرتی کے ریکارڈ توڑ دئیے۔ لیڈی ڈاکٹر کو ٹانک سے اغواء کرکے وزیرستان میں تاوان وصول کیا گیا۔
جب ہمارے گھر پر حملہ کرکے 13افراد کو شہید کیا گیا تو محسود قوم کے بڑے معافی کیلئے طالبان کیساتھ آگئے لیکن جب کانیگرم میں طالبان نے جرگے کی تاریخ دیدی تو طالبان نے پوری قوم کو یرغمال بناکر آنے سے روک دیا تھا۔ برکی دوست کو محسود دوست نے کہا کہ تم لوگ شیعہ کی طرح قوم پرست ہو، جب سے یہ واقعہ ہوا تو آپ لوگ طالبان سے نفرت کرنے لگے ہو، برکی دوست نے کہا کہ ہم تو ہیں شیعہ۔ جب عمران خان کی پختونخواہ میں حکومت تھی تو پنجاب کی پولیس کو دھمکی دیتا تھا کہ تمہارے گلو بٹو کو طالبان کے حوالے کردیں گے۔ عمران خان نے طالبان کو پشاور میں دفتر دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ طالبان نے جی ایچ کیو (GHQ)پر قبضہ کیا، ملتان آئی ایس آئی (ISI)کے دفتر کو اُڑادیا، کراچی میں ائرپورٹ اور فضائیہ کے جہاز تباہ کردئیے۔ پورے ملک کو تہس نہس کردیا اور ہمارے پشاور کے پختون اپنے بچوں کو آرمی پبلک سکول کی تعلیم دیکر فوج اور طالبان سے اظہار محبت اور اظہارِ یکجہتی کررہے تھے۔ سوات سے قبائل کے آخری سرحد وزیرستان تک سکولوں کے کھنڈرات کا کوئی احساس نہیں تھا۔ گھروں سے ایک ایک دو دو بچے کے جنازے بھی بڑی بات ہے لیکن جن کے خاندان سے کئی کئی بے گناہ افراد کے جنازے اٹھے تھے تو ان پر بھی ضمیر کو بیدار ہونا چاہیے تھا۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی طرح 2014ء سے پہلے کے مظالم پر بھی رونے کی زحمت کریں۔ صفوت غیور جیسے قابل افسر کی شہادت پر ان کیلئے نشانِ حیدر کے اعزاز کا مطالبہ کریں۔ جس بچے اعتزاز حسین نے باہنوں میں دبوچ کرخود کش کو سینے سے لگاتے ہوئے شہادت پائی اس کو شاباش دیں اور جو بشیر بلور اور ہارون بلور پشاوریوں کی جانوں کیلئے شہادت کی منزل پر پہنچیں ان کو بھی خراج تحسین پیش کریں۔ پاڑہ چنار کے اہل تشیع وزیرستان کے حملہ آوروں کو دست بازو سے نہ روکتے تو پارہ چنار بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہوتا۔پی ٹی ایم (PTM)کی لال ٹوپیاں افغانستان کے ہزارہ برادری کی نشانی ہے جن کو طالبان نے بے دریغ قتل کیا تھا۔ جتنی تعداد میں افغانستان کے مہاجر پنجاب اور سندھ میں آباد ہیں انکے بدلے پی ٹی ایم (PTM) کے افراد افغانستان میں آباد ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان و پاکستان میں مہاجرین کا تبادلہ ہوا تھا اسی طرح افغانیوں اور پاکستانیوں کا بھی ہوسکتا ہے۔
پاک فوج نے کٹھ پتلی سیاستدان بنابناکر پاکستان کو تباہ کردیا ہے۔ اپنے کٹھ پتلیوں کا غصہ پی ڈی ایم (PDM)کی بجائے پی ٹی ایم (PTM)پر نکالنے کی غلطی انتہائی درجے کی حماقت ہے۔ جو پشتون پہاڑی علاقوں سے میدانی علاقوں میں آباد ہوئے ہیں ان کیلئے کوئی تعصبات کی فضاء بنائی گئی توپشتون قوم تباہ ہوجائے گی۔ ایک طرف نیٹو کے گماشتے افغانستان میں جنگ کیلئے تیار بیٹھے ہیں تو دوسری طرف تعصبات کی فضاء بناکر ان کو پہاڑوں میں دھکیلا گیا تو بہت برا ہوگا۔ انگریز کا پورا نظام اس خطے میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کی جگہ اس اسلامی نظام کی ضرورت ہے جس میں حکومت کا کام قبضہ مافیا کا کردار ادا کرنا نہیں ہو۔ ادارے اقتدار پر قبضے کی جگہ اپنے اپنے دائرے میں کردار ادا کریں۔ مساجد، سکول ، مدرسہ ،تھانہ ،عدالت ، سول انتظامیہ اور فوج سے خدمت کا کام لیا جائے تاکہ لوگوں میں خوف اور غلامی کا احساس ختم ہوجائے۔
جب پوری قوم دہشت گردی کی پشت پناہی کررہی ہو اور میں کسی اور کی بات نہیں کرتا اپنے گھر کی بات کرتا ہوں تو پھر ریاست بھی اپنے دہشت گرد پالے گی اور ملک گرے لسٹ میں پہنچے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کو دجال کا لشکر تک قرار دیا لیکن دجالی میڈیا نے اس کو ہائی لائٹ نہیں کیا۔ ن لیگ اور عمران خان کو اپنی حکومت اور اپنی عزت بچانے کیلئے آرمی پبلک سکول کے بعد پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کی پشت پناہی دی گئی ۔ نیشنل ایکشن پلان میں فوجی عدالتوں کو سزائیں دینے کی اجازت نہ ہوتی تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ قومی ایکشن پلان پر سیاستدانوں نے ایک اچھی فضاء بنتے ہی عمل کرنا تھا لیکن جب دہشت گردی کی فضاء ختم ہوگئی تو اپنے سارے کرتوت بھول کر پاک فوج ہی کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جب تک اپنی پچھاڑی سے غلاظت صاف کرکے درست استنجاء نہیں کیا جائے تو کوئی قوم دوسروں کی امامت کبھی نہیں کرسکتی ہے۔ پشتونوںنے جب دہشت گردی اختیار کرلی تو سرکاری نمبرپلیٹ والی گاڑیاں اسلام آباد میں بھی پرائیویٹ نمبر لگانے پر مجبور تھیں۔ پھرپی ٹی ایم (PTM)نے جب پاک فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کرنا شروع کیا تو پنجاب کو بدل ڈالا ہے اور اب اگر شرافت ، انسانیت اور امامت کے صفات سے متصف ہوکر میدان میں نکل آئے تو پوری دنیا کو ظلم وجبر سے چھٹکارا دلانے میں زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہماری پشتون قوم سے استدعا ہے کہ پنجاب اور پاک فوج کے خلاف تعصب کا نعرہ چھوڑ کر آگے آئیں اور پاکستان کی حکومت سنبھالیں۔ کشمیر بھی آپ نے فتح کیا تھا اور مینار پاکستان سے نئے انقلاب کی بنیاد بھی آپ رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو بچانے کا وقت آگیا ہے اور پاکستان کو بچانا پشتونوں کے اپنے مفاد میں بھی ہے جتنی بھی کٹھ پتلی قیادتیں تھیں وہ سب کورٹ میرج والی بیٹیاں بن گئی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ(PTM)کو تعصب موومنٹ نہیں بنائیں!!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہمارے ساتھی بلال میمن ایک متحرک کارکن ہیں۔ تحریکوں کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کراچی نے 16دسمبر آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ کے حوالے سے6ویں برسی منانے کا اہتمام کیا تھا۔ بلال میمن ساتھیوں سمیت مدعو تھے تو میں بھی پہنچ گیا۔ تقریب کا وقت3بجے تھا لیکن کافی دیر کردی گئی۔
تقریب کی ابتداء تلاوت قرآن سے ہوئی ، استعینوا بالصبر والصلوٰة … اللہ سے مدد طلب کرو، صبر اور نماز کیساتھ…… کی آیات سے پڑھی گئی۔ پھر سورہ یاسین کا ختم ہوا۔ پھر پہلے مقرر جاوید محسود کو دعوت خطاب دی گئی اور اس نے گلہ کیا کہ مجھے ہی ہر جگہ پہلی تقریر کی دعوت دیکر مشکل میں ڈالا جاتا ہے، سانحہ پشاور کے شہداء کو رسم و روایت کے مطابق یاد کرنے کیساتھ تحریک سے والہانہ وابستگی اور پشتونوں کیساتھ مظالم کی تلافی وغیرہ باتیں کی ہوں گی کوئی قابلِ ذکر بات مجھے یاد نہیں رہی ہے۔
پھر مجھے ایک مہمان کی حیثیت سے دعوت دی گئی ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں سننے کیلئے آیا تھا یہ پتہ نہیں تھا کہ سنانا بھی پڑے گا۔ میرے ذہن میں تھا کہ بہت بڑا پروگرام ہوگا لیکن کم تعداد میں لوگ تھے۔ میں نے پوچھا کہ پشتو میں بات کروں یا اردو میں؟۔ انہوں نے کہا آپ مرضی ہے۔ میں نے کہا کہ اردو آج کل زیادہ لوگ سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا کا دور ہے اچھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک میرا پیغام پہنچے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں سندھی، بلوچ، پنجابی ، سرائیکی اور پشتون ہیں اور میرا تعلق پشتون بیلٹ سے ہے۔ جب اسلام کی نشاة اول ہوئی تو عرب میں آزاد و غلام کا تصور تھا، ایک جاہل قوم تھی لیکن جب اپنے اندر سے جاہلیت کو ختم کردیا تو دنیا کی سپر طاقتوں قیصر وکسریٰ کو شکست دی۔ جب انسان کے پاس اللہ نے کوئی نعمت عطاء کی ہوتی ہے اور وہ اس نعمت کی قدر نہیں کرتا تو وہ چھن جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی برائی آجاتی ہے۔ پشتونوں خاص طور پر قبائل کے پاس آزادی کی نعمت تھی۔ جب دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی میں لوگوں سے کہتا تھا کہ وزیرستان میں جتنی آزادی تھی اس کا تصور یورپ میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے پرنسپل عارف خان محسود ایک دور میں کمیونسٹ بن گئے۔ اس نے وہاں بہت بڑے جلسے عام میں کہا کہ ” جب اللہ کے ہاتھ ، پیر، ناک، کان کچھ بھی نہیں تو وہ ایک بوتل ہے”۔ لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے ہاتھ بھی اسکے گریبان تک نہیں گئے۔ سب اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کررہے تھے۔ پھر وہ بیمار ہوگئے اور توبہ کرلی ، سچے پکے مسلمان بن گئے۔ یہ آزادی بہت بڑی نعمت تھی جو دنیا میں کسی کو بھی میسر نہ تھی۔ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ اس سے ہم نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ مثلاً میرا اور جاوید کا جھگڑا ہوا۔ مجھے اپنے مفاد میں شریعت نظر آتی تو میں شریعت پر فیصلہ کرتا اور جاوید کو پشتوکا قانون مفاد میں لگتا تو وہ اس قانون پر زور دیتے۔ اس طرح لڑائی جھگڑے اور قتل کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں نے ایک تحریک چلائی تھی جس کی داستان لمبی ہے کہ ایک قانون کو ختم کردیا جائے تو فساد ختم ہوجائیگا۔ بہرحال ہم نے اس آزادی کا فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم پر جبر مسلط ہوگیا۔ چند گھنٹے پہلے میری اپنے بچپن کے کلاس فیلو اور دوست سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنا قصہ سنایا تھا؟۔ میں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک مولوی صاحب سے ہمارا جھگڑا ہوا، محلے والوں نے مجھے کہا کہ آپ فیصلہ کرو، میں نے کہا کہ اس مشکل میں مجھے ڈال رہے ہو؟۔ فیصلہ طالبان نے کیا تھا، مولوی نے اپنی منشاء رکھی تھی ، طالبان نے فیصلہ کیا کہ سرکاری پائپ بھی مولوی کو دیدو اور پیسے بھی دو۔ اور پھر پوچھا کہ فیصلہ پسند ہے؟۔ میں نے کہا کہ پسند نہیں لیکن ڈر کی وجہ سے قبول کررہا ہوں۔ دوست نے بتایا تھا کہ یہ کہتے ہوئے میری سانس خشک ہوگئی تھی۔ میں نے واضح کیا کہ پنجابی ،بلوچ ، سندھی سب میرے بھائیوں کی طرح اور بھائیوں سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ پشتون قوم میں سب سے بڑی خوبی ہے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری، اے کشتہ سلطانی و ملائی وپیری۔ سب سے زیادہ آزاد قبائل اور وزیرستان کے لو گ آزاد منش ہیں۔ کتنی مدت سے بلوچوں نے قربانیاں دیں لیکن اتنے عرصہ پٹنے کے باجود وہ کوئی پذیرائی حاصل نہیں کرسکے جبکہ پی ٹی ایم (PTM)نے بہت ہی کم عرصہ میں وہ مقام حاصل ہے کہ آج پی ڈی ایم (PDM)کا بیانیہ پی ٹی ایم (PTM)کا بیانیہ ہے۔ جماعت اسلامی کی فوج سے اشیرباد واضح ہے لیکن آج وہ بھی کہتی ہے کہ فوج کو اپنی بیرکوں میں واپس جا نا چاہیے۔ دیر میں محسن داوڑ کیساتھ جو کچھ ہوا تھا میں نے اداریہ میں جماعت اسلامی کی مذمت کی تھی ۔ایک مہمان کیساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے کسی ایک قوم اور جگہ سے ظلم ختم ہوجائے تو پوری دنیا سے ظلم ختم ہوسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کیلئے اپنی قوم سے محبت کی بنیاد پر تحریک چلانے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسولۖ سے فرمایا کہ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا مودة فی القربیٰ ” ان سے کہہ دو کہ میں آپ سے صرف قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل و ابولہب اور ابوسفیان سے کہا گیا کہ آپ کی زبان، شہر اور قوم قریش میں سب شریک ہیں، مجھے اس قرابت کی محبت اور لحاظ چاہیے۔ پوری دنیا ظلم سے بھر چکی ہے اگر کسی جگہ سے بھی ظلم ختم ہو تویہ پوری دنیا سے ظلم کے خاتمے کیلئے بنیاد بنے گا۔
میرے بعد پی ٹی ایم (PTM)کے نائب محمد شیر اور آرگنائزر نوراللہ ترین کی تقریربھی ہوئیںجن میں ایک طرف مضبوط بیانیہ تھا تو دوسری طرف متعصبانہ روش بھی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ دریا خان اور کوٹ سبزل خیبر پختونخواہ اور سندھ کے سرحد کے پار پنجاب کے علاوہ ہم اسلام نہیں چاہیے ۔یہ بات بھی ہو کہ پنجابیوں کو ہم نے زبردستی سے مسلمان بنایا تھا تو تعصب کے علاوہ کچھ نہیں بنتا ۔ اگر یہ تاریخ ہے اور قابلِ فخر ہے تو پھر ماننا پڑیگا کہ ادلے کا بدلہ ملتا ہے۔ پھر اگر ہمارے اندر طالبان بنائے گئے اور ہمیں اپنے علاقوں سے ہنکایا گیا۔ تعصبات کا چولہا جلے تو پنجاب ، سندھ اور بلوچ علاقوں سے پختونوں کو بے دخل کیا جائے تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM) کے متعصبانہ بیانیہ سے پشتون تحفظ نہیں تعصب موومنٹ کا تصور اُبھرے گا۔ چند افراد کو پشتونوں کی نمائندگی کا حق نہیں۔نوراللہ ترین کا اظہار کہ ”میں موت کی قیمت پر بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ لکھ کردوںگاکہ پی ٹی ایم (PTM)سے میرا کوئی تعلق نہیں ”۔اس بات کو عیاں کررہا تھا کہ بہت لوگ پی ٹی ایم (PTM)کو چھوڑ کر لکھ کر دے چکے ہیں۔ اگر متعصبانہ رویہ برقرار رہا تو بہت سی تحریکوں کی طرح پی ٹی ایم (PTM)بھی صرف چندے اکٹھا کرنے کیلئے رہ جائے گی اور یہ انسانوں کا محبوب مشغلہ ہے جو جاری رہتا ہے۔
اگر ریاست نے پشتونوں کو تعصبات کی طرف جان بوجھ کر دھکیلا ہے تو پھر یہ پی ٹی ایم (PTM)بھی اسی کی بنائی ہوئی ہے جس کو ریاست نے نہیں پشتونوں نے خود مسترد کیا ہے۔پی ٹی ایم (PTM)کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ ایسی جذباتی تقریریں کرنے کا فائدہ دشمنوں کو ہی پہنچ سکتا ہے جس کی وجہ سے تھانوں میں ایف آئی آر کٹے اور تھانہ ایکشن لینے پر مجبور ہو ۔ وانا جنوبی وزیرستان میں امن وامان کی فضاء ہے۔ میرانشاہ شمالی وزیرستان کے جلسے میں بھی وہ لہجہ نہیں تھا جو کراچی اور سندھ پولیس کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ ہم نے خصوصی شمارے میں ریاست سے اپیل کی تھی کہ پی ٹی ایم (PTM)سے نرم رویہ اپنایا جائے لیکن علی وزیر کی گرفتاری نے ایک بھونچال پیدا کردیا ہے۔ جن پر گوجرانوالہ میں بغاوت کے مقدمات ہیں وہ بھی آزاد ہیں۔

آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ کچھ حقائق کے تناظر میں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

جب عمران خان نے اسلام آباد میں امپائر کی انگلی پر دھرنا دیا تھا تو اس وقت خیبرپختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ عمران خان واضح طور پر کہتا تھا کہ ”پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کروں گا”۔طالبان، عمران خان اور امپائر کی انگلی کا ٹرائیکا ایک ہاتھ کی تین انگلیاں تھیں، نوازشریف اسی ہاتھ کی چوتھی انگلی تھی اور عدالت پانچویں انگلی تھی۔ پنجے سے پنجتن پاک بنتا ہے اور پنجاب بھی۔ پاکستان گرے لسٹ میں اسلئے ہے کہ دہشت گرد ریاست ہے یا یہ پالیسی کا نتیجہ ہے؟۔
جسٹس سیٹھ وقار مرحوم نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشتگردوں کو رہا کردیا تھا۔کوئی بادی النظر میں سوچے کہ طالبان نے عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔ تینوں فوج کے کٹھ پتلی تھے اورعدالت نے طالبان کورہا کردیا تھا تو پنجاب کے خلاف جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں رہتی ہیں یہ کہنا کہ پشتونوں کے خلاف سازش کررہے ہیں تو ان کو بڑی شئے مل جائے گی۔ جسٹس وقار سیٹھ نے ان طالبان کو رہا کیا تھا جن کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوئی تھی اور سیٹھ نے پرویزمشرف کیخلاف بھی تاریخی فیصلہ دیا تھا اسلئے پانچوں کو کالے پانی میں ڈالنا مشکل ہے لیکن پی ٹی ایم (PTM) کے منظور پشتین نے انکشاف کیا تھا کہ ” جس طالب یا بے گناہ فرد کو کئی سال پہلے ہی قید میں رکھا گیا تھا، آرمی پبلک سکول کے واقعہ میں اسی کو فٹ کیا گیا اور احسان اللہ احسان جو اصل دہشت گرد ہے اسے جی ایچ کیو میں رکھاگیااور بعد ازاں چھوڑ دیا گیا”۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارا عدالتی نظام دہشت گردوں کو توبہت دور کی بات دن دیہاڑے قتل کے مجرموں کو بھی سزا دینے میں ناکام ہے اور دوسری طرف پاک فوج بھی نہ صرف دنیا بلکہ سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے بعد اب پنجاب شریف کیلئے بھی قابلِ اعتماد نہیں رہی ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ ، شوکت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ سے لیکر پاکستان وکلاء بار کے صدر لطیف آفریدی اور طلبہ یونین کے پروفیسر یاسر علی جان تک سوالات اٹھارہے ہیں۔ 31جنوری تک عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ ہے۔ فروری میںپی ڈی ایم (PDM)اور طلبہ یونین مارچ کی تحریک شروع ہوگی اور پھر 8عورت آزادی مارچ تک ریاست کی ہر چول ڈھیلی ہوجائے گی۔
افراتفری اور فساد کی فضاء صرف اس کو پسند ہے جو ریاست اور حکومت کے مفادات کا رس چوس رہاہے ۔ عوام کی کوئی تعلیم وتربیت نہیں ہوئی ہے ۔ اخلاقیات کا رونا رونے والے حسن نثار بدبخت سب سے زیادہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور ایک انقلاب آیا چاہتا ہے۔ لوگوں میں تعصبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ لسانیت ، فرقہ واریت اور مفاد پرستی کے سارے تیر انسانیت کو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے والوں کو اپنی شہتیر جیسی ناک نظر نہیں آتی ہے۔ پاکستان میں موج مستیوں کی جگہ طبلِ جنگ بجتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان بننے کیلئے بہت خون خرابہ ہوا تھا ، بہت لوگوں کی جانیں اور عزتیں برباد ہوگئی تھیں، خاندان بچھڑ کر تباہ ہوگئے تھے اور قوم نے سب کچھ نظرانداز کرکے قائداعظم کی انگلش کتوں کیساتھ تصویریں اُٹھائی تھیں کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرا یا نہیں کرتے”۔ آج عمران خان بھی ”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا” کی کہاوت پر گھبرانا نہیں کہتا ہوا اپنے پالتو کتوں کیساتھ کھیل رہاہے لیکن 70سال بعد بھی قائد انقلاب یہ سیاسی مافیا ہے۔
بعض ناعاقبت اندیش لوگ پھر عمران خان کو نجات دہندہ سمجھ کر ساری خرابی کی اصل جڑ اسٹیبلشمنٹ کو ہی سمجھتے ہیں۔ عمران خان میں قیادت کی صلاحیت ہوتی تو سندھ پولیس کے احتجاج پر آرمی چیف کے ایکشن سے پہلے خود ہی نوٹس لیتا کہ آپ کو جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے جب مزار قائد کرایہ پر بدفعلی کیلئے استعمال ہوتا تھا تو اس پر کیوں آپے سے باہر دکھائی نہیں دئیے؟۔ عمران خان سے ایم کیوایم بھی کھسک جاتی تو پیپلزپارٹی جمہوریت کیلئے عمران خان کی حکومت کو سہارادیتی۔لیکن عمران خان خود اتنا نالائق ہے کہ ایک سیٹ کیلئے جی بی (GB)کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو پھر اس اپوزیشن کی طرف دھکیل دیا جس میں بڑی مشکل سے فاصلہ پیدا کیا تھا۔
میرے کپتان کے نام سے منصور علی خان کی صحافت کا عمران خان کیخلاف بڑا نام ہے لیکن مفتی کفایت اللہ نے اس کو بھی کپتان کی طرف دھکیل دیا۔ نہال ہاشمی نے کھینچ تان کر لاہور جلسے کو ہزاروں سے لاکھوں میں بتایا تو 3لاکھ بڑی مشکل سے بولنے کی ہمت کی لیکن مفتی کفایت اللہ نے 10لاکھ سے زیادہ بتانے میں شرم محسوس نہیں کی۔ سیاست جھوٹی، صحافت جھوٹی، سیاستدان جھوٹا، مولوی جھوٹا تو اسٹیبلشمنٹ کیسے سچی ہوسکتی ہے؟۔ پوری قوم کا بیڑہ غرق ہے اور انقلاب اس کا واحدعرق ہے۔
کیا فوج بیرکوں میں چلی جائے تو سیاستدان اور مولوی قوم کا بیڑہ سدھار یں گے؟۔ فوج کو بیرکوں میں ہی جانا چاہیے۔ دہشت گردی، سیاست گردی اور مولوی گردی کی سب سے بڑی ذمہ دار فوج ہی ہے لیکن کیا یہ بگڑے ہوئے لوگ اس قوم کا بیڑہ پار کرسکیںگے؟۔ جن کے ہاتھوں قوم کاسب سے زیادہ بیڑہ غرق ہواہے؟۔
جب تک ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوگا تو یہ قوم اپنی اصلاح کی طرف نہیں جانا چاہے گی۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر راشد مراد ٹی وی (RM.tv)کھریاں کھریاں والے نے اپنی پوری طاقت پاک فوج کو خراب کرنے پر لگارکھی ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کو گوجرانوالہ کے جلسے میں نہیں بلایا گیا تو منحوس نے اس کو آرمی میڈیا کی سازش قرار دیدیا تھا اور اب اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا۔ راشد مراد نے اپنی چرب زبانی سے آرمی پبلک سکول کے واقعہ کو آرمی کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا تھا لیکن کیا نوازشریف نے اس واقعہ کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا؟۔ عمران خان نے دھرنا اسلئے تو ختم کیا تھا۔ جب نوازشریف اتنا نااہل اور نامراد تھا کہ اسکے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی یہ واقعہ ہوگیا اور پھر اس کا فائدہ بھی اُٹھالیا تو کیا پھر بھی اسی نوازشریف کو اقتدار میں لانے کی تگ ودو کرنے کی غلطی کی جائے؟۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان آر ایم ٹی وی (RM.tv)کے راشد مرادکے پروپیگنڈے سے ہرگز متأثر نہ ہوں۔ یہ مریم نواز، شہباز اور نوازشریف کیلئے پشتون کو استعمال کرنے کا گُر جانتا ہے۔ آرمی پبلک سکول کا واقعہ2014ء میں ہوا تھا؟۔ اس وقت عمران خان اور نوازشریف دونوں طالبان اورپشتون اکثریت بھی طالبان اور انصاف کی حامی تھی۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان بھی ن لیگی اور تحریک انصافی تھے۔
جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا، بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے تک اسی کے سائے میں پلا، بڑھا اور اس حد تک پہنچا وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہزار دفعہ کھڑا ہوجائے لیکن اس پر اعتبار نہیں ہوسکتا ہے۔ گھر کے بھیدی لنکا ڈھائے کی بات درست ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)نے سوچ سمجھ کر مریم نوازشریف ، شہباز اور نوازشریف کو اپنے ساتھ رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ پنجاب ہی کو ساتھ ملاکر کیا جاسکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے پنجابی قوم سے نہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنجاب کے کٹھ پتلی سیاستدانوں اور صحافیوں سے گلہ کرنا تھا لیکن اس جنگ کی بنیاد ظالم ومظلوم ، مراعات یافتہ ومحروم اور حق و ناحق کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھی۔ محمود اچکزئی جاہل نہیں لکھا پڑھا انسان ہے۔ اخترجان مینگل کی تقریر میں بھی لاؤڈ اسپیکر بند کردیا گیا تھا۔ لیکن اب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے نہیں کھل کر حقائق کی وضاحت کرنے سے معاملہ حل ہوگا۔ حکومت نے سینٹ کے قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ کرکے انقلاب کی پیدائش سے پہلے حمل گرانے کی مذموم و ناکام کوشش کی ہے۔

اچکزئی پر صحافیوں کی بھرمار یا نیازی نے ڈالاہتھیار؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

ایک پر تکلف دعوت میں ساری چیزیں چھوڑ کر صرف ”مرچ” کے پیچھے کوئی بھی ہاتھ دھو کے پڑجائے تو یہ طوطا جانی صحافی کا حق ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے اور محمود خان اچکزئی کی تقریر میں صرف اس بات کے پیچھے پڑجانا کہ ”لاہوریوں کی توہین کی گئی ہے۔” باقی ساری باتیں چھوڑ دینا انصاف کا تقاضہ نہیں مگرتحریک انصاف کی ضرور ت ہوسکتی ہے۔ جس نیازی پر نازاں تھی اپنی ریاست اس نیازی نے وقت سے پہلے ہتھیار ڈال دئیے۔ میانوالی کے لڑاکو اصیل مرغے اور دلیر انسان بہت مشہور ہیںلڑائی اور بہادری میں۔ لگتا یہ ہے کہ جس عمران خان نیازی کو اپوزیشن سے لڑانے کیلئے میدان میں اتارا گیا تھا آج وہ فارمی برائیلر مرغا ثابت ہوتا ہے ،یہ مرغے نسل کیلئے ہوتے ہیں اور نہ لڑانے کیلئے بلکہ صرف ذبح کرنے اورکاٹنے کیلئے قصائی کی دکانوں پر ملتے ہیں۔ بعض لوگ شوق سے ان کو پال لیتے ہیں، یہ ریسلینگ کیلئے بلکہ تھوڑی ریس مارنے پر بیہوش ہوجاتے ہیں۔
عمران خان نے جب ڈی جے (Dj)بٹ اور بٹ کڑاہی والے کو گرفتار کیا تو قوم کو لگا کہ یہ مرغا تو لڑنے کے بجائے اپنی ایک ٹانگ پڑ کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے پی ڈی ایم (PDM)کے جلسہ کے موقع پر اپنی کابینہ میں تبدیلی کرلی تو عوام کو لگا کہ مرغے نے اپنا سر ٹانگوں کے نیچے دیدیا ہے۔ پھر جب اپنے پالتو کتوں کیساتھ تصاویر میڈیا پر شیئر کردیں تو پتہ چلا کہ مرغا آرام سے سو بھی رہاہے۔ جس کا نتیجہ یہی نکلتاہے کہ عمران خان نیازی نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ لائی ہے وہ خود ہی اپوزیشن سے نمٹے گی ، کراچی میں بھی کام دکھا چکے ہیں۔ وہ جو کہتا تھا کہ چھوڑوں گا نہیں، اب سب کچھ ان کے ذمہ چھوڑ کر بیٹھا۔
عمران خان طالبان زدہ لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کہتا تھا کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں”۔ لیکن پھر اپنی بیگم بشریٰ بی بی کے کہنے پر جس طرح مزار کے آگے ہاتھوں کے پاؤں بناکرخود کو ایک جانور کی شکل میں پیش کیا تو بس اس کی ایک دُم نہیں تھی جس کو ہلا کر دکھاتا، باقی اس نے پورا سین کرلیا تھا۔ پاک فوج تو عقل سے بالکل پیدل ہے لیکن اچھے اچھے بھی عمران خان کی باتوں کے شکار ہوگئے تھے۔ پنجاب کا تو مزاج یہ ہے جو اقبال نے بتایا:
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتاہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
لاہوریوں کو اسٹیبلیشمنٹ کے گماشتوں ذوالفقاربھٹو کے پنڈی میں پٹھانوں کی موت تو چھوڑیں شریفوں کی طرف سے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی کھلی فائرنگ سے بھی 14قتل یاد نہیں ہیں لیکن اچکزئی کمال کرتے ہیں بابڑہ کے شہداء کی یاد کرانے میں؟۔ بابا یہ پنجاب کے لوگ ہیں زیادہ تحقیق میں نہیں پڑتے، موٹی موٹی تازہ تازہ باتیں سمجھ لیں تو بھی غنیمت ہے۔ مینار پاکستان میں جمعیت علماء اسلام نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کرنا تھا۔ مرکزی شوریٰ نے مولانا محمدمراد سکھرکی رائے چھوڑ کر مولانا محمد خان شیرانی کے مشورے پر فیصلہ دیا تھا کہ انقلابی سیاست کا آغاز کرنا ہے لیکن پھر فوج نے راتوں رات مولانا فضل الرحمن کو تنہائیوں میں لے جاکر سمجھا دیا تھا اور جمعیت نے وہ اعلان نہیں کیا جس کیلئے وہ آئے تھے۔ میں نے دن رات ایک کرکے یہ فیصلہ کیا کہ ماہنامہ ضربِ حق کراچی کا نیا ایڈیشن چھاپ کر لاہور پہنچ جاؤں، رات کو جہاز کی ٹکٹ بھی سستی ہوا کرتی تھی، فلائیٹ کے ذریعے ہم رات گئے فجر سے پہلے پہنچ گئے اور پھر نماز فجر کے بعد ناشتے پر رؤف کلاسرا کے شہر لیہ کے فیض محمد شاہین سے ملاقات ہوئی۔ گپ شپ میں جلسے کا انتظار کرتے کرتے دن گزرتا گیا، دوپہر سے جلسہ شروع ہوا، خطیبوں نے لمبے لمبے خطابات کئے لیکن شام کو اعلانِ انقلاب ٹال دیا گیا۔ جمعیت کے انقلابی لوگوں نے سمجھ لیا کہ عوام کیساتھ مولانا فضل الرحمن نے ہاتھ کرلیا ہے مگر اس کی وجہ نہیں سمجھ سکے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ مولانا سے وجہ پوچھ لی جاتی ،جو ہوا ہوگیا۔
میں صبح صبح پہلے دوست کے پاس پہنچ گیا جو ملتان کے رہنے والے تھے اور پھر یہ پتہ چلا کہ ان کی مسجد ہیرہ منڈی میں ہے۔ شام کو بہت تھکا ہوا تھا مگر وہاں واپس نہیں گیا،پہلے پتہ ہوتا تو بھی نہ جاتا۔ مغرب کی نماز سے پہلے ہم داتا دربار کی مسجد میں گئے۔ بہت سخت تھکان تھی، نہیں معلوم تھا کہ مینار پاکستان کے پارک کا نام منٹو پارک ہے۔ مسجد میں سر قبلہ کی طرف کرکے لیٹ گیا تو ایک لاہوری نے آکر مجھ سے پوچھا کہ منٹو پارک میں آئے تھے؟۔ میں نے کہا کہ نہیںاورکیوں؟۔ اس نے کہا کہ مزار شریف کی طرف پیر ہیں ،ان کارُخ دوسری طرف کردو۔ میں نے بلا تأمل حکم مان کر پیروں کا رخ دوسری طرف کیا اور پھر اس کو پوچھا کہ ” جب نمازی سجدے میں جاتے ہیں تو پھر اپنے پیروں اور توپوں کا رُخ مزار شریف کی طرف نہیں کرتے؟۔ اسکے پاس جواب نہ تھا۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر کا خلاصہ یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی تاریخ انگریزسے لیکر پاکستان بننے کے بعد اور آج تک جس طرح سے رہی ہے لاہوریوں کا اپنا کردار بدلنا ہوگا لیکن گلی کوچوں میں بھونکنے والے صحافیوں ہی نے نہیں اچھے بھلے صحافیوں نے بھی محمود خان اچکزئی کی زبردست کلاس لے لی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ایوب ہزارے کا تھا، یحییٰ خان پشاور کا قزلباش تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کا مرکز پنجاب تھا۔ بنگلہ دیش ٹوٹا تو اس کی وجہ احساسِ محرومی تھی۔ محمود اچکزئی اگر اپنے بچپن کی یتیمی اور ریاستی مظالم کا ذکر کرتا اور مریم نواز عمران خان کو طعنہ دیتی کہ ”تم نے کہا تھا کہ نہیں چھوڑوں گا” ۔ اب تم بتاؤ کہ ہم باپ بیٹی تمہارے اقتدار میں آنے سے پہلے گرفتار تھے۔ میرا باپ تو بیماری کا بہانہ کرکے چلا گیا اور میں باپ کی بیماری میں تیمار داری کیلئے رہا کی گئی تھی اور آزاد ہوں تو تمہارا یہ کہنا کہ نہیں چھوڑوں گا ، کہاں گیا؟۔ تو لوگوں کو جلسے میں بڑا مزہ آجاتا اور بک بک کرنے والوں کو بھی اپنی نوکری دونوں طرف سے پکی کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔
اللہ نے قرآن میں غزوہ بدر کیلئے فرمایا کہ ” میں نے تمہاری نظروں میں کافروں کو کم کرکے دکھایا اور کافروں کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھایا، اگر ایسا نہ کرتا تو پھر تم پھسل جاتے اور لڑ نہ پاتے”۔ پی ڈی ایم (PDM)کا جلسہ مخالفین کی نظروں میں ایک دوسرے کیلئے جیسا بھی تھا لیکن لگ رہاہے کہ آنے والے وقت میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ریاست کیساتھ ایک بڑا تصادم ہوگا۔ یہ ریاست اور سیاست کا وہ کھیل ہے جو اپنے منطقی انجام کی طرف جارہاہے۔ جو جیت گیا عوام اسکے ساتھ ہوگی۔ چڑھتے سورج کے پچاری بھی اسی کو سلام کریںگے۔ نیازی کی تقریریں اس وقت دھرنے میں زیادہ پسماندہ تھیں جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ میڈیا روز چینلوں پر تماشا لگاتا تھا لیکن کچھ بنتا نہیں تھا، جبکہ اکیلے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا عمران خان کو ہلانے کیلئے کافی تھا، اس وقت اچکزئی کی بات مانتے اور فیصل مسجد تک بھی جلوس لے جاتے تو نیازی نے ہتھیار ڈالنے تھے۔ مولانا بہت بڑا سیاسی کھلاڑی ہے، اس کی چاہت تھی کہ نوازشریف کے شیر اور شیرنیاں بھی نکل آئیں لیکن جب شیر پنجرے میں ہوتا ہے تو ڈھیر ہوتا ہے۔ اب نوازشریف باہر بیٹھ گیاہے ۔ مولانا فضل الرحمن خالی دھمکی دیتا تھا کہ اگر فوج نے مداخلت کی تو پھر وہ بھی نشانہ ہوگی۔ آئی ایس پی آر (ISPR)آصف غفور نے تو اس وقت کہا کہ ”ہم آئندہ انتخابات میں نہیں آئیں گے”۔ ایک طرف نئے فوجی افسروں کی ترقی تو دوسری طرف پنجاب سمیت اپوزیشن کی ساری جماعتیںہیں۔ دمادم مست قلندر ہوگا۔عوام تنگ آمد بہ جنگ آمد اور عمران خان نے اپنی خواہش پوری کرلی ،وزیراعظم بن گئے۔ہنوز دلی دور است والوں کو آئندہ پتہ چلے گا۔

پاکستان اور افغانستان سے اسلامی نظام کی ابتداء ہوگی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

افغانستان اور پاکستان کی حکومت ملاؤں کے سامنے اسلام کی درست تعبیر سامنے رکھ دیں تو شریعت کے نفاذ میں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ نے قرآن میں شراب ومیسر کو حرام قرار دیا ہے۔ شراب کی حرمت سمجھنا مشکل نہیں لیکن میسر کو جوا کہا گیا ہے اور جوئے کو میسر اسلئے قرار دیا ہے کہ اس میں آسانی ہے ، مشکل سے مال نہیں کماتے ہیں۔ ایک ہندوستانی سکالر نے عورتوں کے جہیز کو بھی شوہروں کیلئے میسر قرار دیاہے اور اس میں شک نہیں کہ جوئے سے جہیز کی برائیاں کم نہیں زیادہ ہیں۔ مجاہدین نے بھی مشکل طریقے سے محنت مزدوری چھوڑ کر میسر کے ذریعے مال کمانا شروع کیا تھا جس کے نتائج آج بھی مجاہدین اور عوام بھگت رہے ہیں۔ علماء ومشائخ نے بھی میسر کے ذریعے سے مال کمانے کے راستے نکالے ہیں۔ ایک عالم دین، مدرسے کے مہتمم کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ایک بڑے افسر کے برابر ہوسکتی ہے لیکن چندوں کے ذریعے سے بڑے درجے کاسرمایہ داربننے کا مال میسر کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے کہ مجاہدین محنت مزدوری کریں، کھیتی باڑی کریں، نوکری کریں، دکانداری اور تجارت وغیرہ کے واضح ایڈرس رکھیں۔ پھر کوئی بھی اپنی پشت میں بارود چھپانے اور دھماکے کرنے کیلئے فارغ نہیں ہوگا۔ بہادری یہ نہیں کہ کسی کے چندوں اور امداد پر ایسی جگہ پالتو بن جاؤ، جہاں کسی کی دسترس بھی نہ ہو۔بہادر وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھر بار، کاروبار اور ٹھکانوں کی شناخت ظاہر کرکے اپنی بہادری کا مظاہر کرنے کی جرأت کریں۔ بغیر ماں باپ کی فوج ظفر موج چھپ کر حملہ کریں تو وہ حرام کی اولاد ہوسکتے ہیں حلال زادے یہ کام کبھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے نام بچے کھو دئیے ہیں ان کی شناخت دنیا کے سامنے ظاہر کریں اور ایک فئیر عدالتی نظام کی بنیاد پر انصاف کے کٹہرے قائم کئے جائیں تو سب بے چینی ختم ہوجائے گی۔
سب سے زیادہ وزیرستان میں محسود قوم مشکلات کا شکار ہوئی ہے اسلئے کہ بار بار فوجی آپریشن کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا۔ راہ راست، راہ نجات، ضرب عضب، ردالفساد لیکن دہشت گردی کا خاتمہ اسلئے ممکن نہیں ہوسکا کہ ساتھ میں وزیر علاقے میں آپریشن نہیں ہوا ہے۔ طالبان بھاگ کر قریبی علاقے میں جاتے جہاں آپریشن نہیں ہوتا تھا۔ فوج عوام کو تنگ کرتی لیکن دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام رہتی۔ منظور پشتین کا تعلق اسی علاقہ اور قوم سے ہے لیکن شاید منظور پشتین نے وہ وقت بھی نہیں دیکھا تھا جب پوری قوم طالبان کیساتھ بالکل ناجائز کھڑی تھی۔ قوم اتنی ہمت کرسکتی تھی کہ طالبان کا اجتماعی خاتمہ کردیتی لیکن یہ کام نہیں کیا اور اسی کا بدلہ مل گیا۔
قوم جان ومال کے نقصان سے نہیں بگڑتی ہے بلکہ عیاشیوں سے بگڑ تی ہے اور اس عیاشی سے اللہ نے وزیرستان کے لوگوں کو دور رکھا ہے ، مصیبت اور آزمائش کا شکار ہونا کم بختی نہیں خوش بختی کی علامت ہے۔ مسلمان قریشِ مکہ کے ہاتھوں کبھی مشکلات اور ہجرت کا شکار ہوئے لیکن ان سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لیا تھا۔ مکہ کے جاہلوں میں جہاں بہت خوبیاں تھیں وہاں بہت خامیاں بھی تھیں۔ مشکلات کی چکی میں ریزہ ریزہ ہوکر نابود نہیں ہوئے بلکہ شاندار بن گئے۔ خامیاں بھی دُور ہوگئیں۔ رونے دھونے میں وقت گزارنے سے کچھ نہیں ملتا ہے اور یہ بہت اچھا کیا کہ دھرنے کے ابتدائی دنوں کا گانا بدل دیا گیا ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جذباتی ماحول سے قوم کے نوجوان طبقے کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں کیا جائے۔ فوج کے افسر اور سپاہی بدلتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی مجبوری نہ ہو تو گڈوبیڈ طالبان کا قصہ بھی ختم کردیںگے۔ اسلام خیر خواہی کا دین ہے۔ بدلہ لینے کی پوزیشن مل جائے تو بھی معاف کرنے پر زور دیتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کے پاس تعلیم یافتہ جوانوں کی زبردست ٹیم ہے۔ اسلام کے فطری احکام سے اپنی قوم اور دنیا کو آگاہ کریں گے تو امامت کے قابل بن جائیںگے۔ پختون قوم نے ہمیشہ ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ اب اپنی مشکلات دیکھ کر سبق حاصل کریں کہ دوسروں پر حملے اور لوٹ مار سے انسانیت کتنی تباہ ہوتی ہے؟۔
فتح مکہ کے وقت پٹھان قوم نے خالد بن ولید کی ہدایت پر بڑا کارنامہ انجام دیا لیکن ظلم کی داستان بھی رقم کردی۔ نبیۖ نے خالدبن ولید سے اسی لئے 3بار اپنی برا ء ت ظاہر کردی۔ نبیۖ سے عورت بھی اختلاف کرسکتی تھی اور حضرت عمر نے بھی حدیث قرطاس میں کہا تھا کہ ہمارے لئے آپۖ کی تحریر کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ کا قرآن کافی ہے۔ نبیۖ نے زبردستی کسی سے زکوٰة نہیں لی تھی۔ پشتون وہ قوم ہے جس میں جبر کا کوئی نظام نہیں ہے۔ صرف اسلام کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔حضرت ابوبکر نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال کیا تھا۔ پھر حضرت عمر کی نامزدگی پر کسی کو اعتراض کا حق بھی حاصل نہیں تھا اور جب حضرت عمر کی مختصر شوریٰ نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا تو آخر کار نتیجہ یہ نکل گیا کہ خلیفۂ وقت کاچالیس دنوں تک محاصرہ کرکے شہید کیا گیا۔ پھر حضرت علی کو مدینہ چھوڑ کر دارالخلافہ کوفہ منتقل کرنا پڑا، وہاں بھی خلیفہ چہارم کو شہید کیا گیا تھا۔
دہشت گردی کے ذریعے سے خلافت راشدہ کے خلفاء سے لیکر موجودہ دور تک اچھے لوگ شہید ہوسکتے ہیں لیکن اسلام نہیں آسکتا ہے۔ رسول اللہۖ صرف آخری پیغمبر نہیں بلکہ رحمة للعالمین بھی ہیں۔ حضرت عائشہ پر بہتانِ عظیم لگایا گیا تھا تو بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی گئی جو عام عورت پر بہتان لگانے کی ہے۔ اس بہتان کیلئے اللہ نے فرمایا کہ اس کو شر مت سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی ان آیات سے ثابت ہے کہ رسولۖ کی حرم پر حملے کو اللہ نے خیر اسلئے قرار دیا تھا کہ آئندہ دنیا کی غریب عورتوں کی بہتان سے اسی طرح حفاظت ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات پر بہتان لگانے کی سزا سے عام خواتین کی عزتوں کو محفوظ بنانے کا ساماں کردیا۔ البتہ آمریت اور بادشاہت کی وجہ سے قرآن وسنت کا قانون دنیا کے سامنے نہیں آسکا ہے جس کے سب سے زیادہ ذمہ دار درباری علماء ہیں جن کو حکومتوں کے بل بوتے پر پذیرائی مل جاتی ہے۔
آزاد قبائل اور عام پشتونوں کے علاوہ بلوچ، پنجابی ، سرائیکی، سندھی اور کسی بھی پاکستانی طبقے کے نزدیک پاکستان کے اشرافیہ کا یہ قانون قابل قبول نہیں ہے کہ امیر کو عدالت میں اربوں اور کھربوں کی ہتک عزت کا دعویٰ پیسوں کی بنیاد مل جائے اور غریب کی عزت ٹکے کی بھی نہیں ہو۔ جو غریب کرایہ پر نکلتے ہیں وہ اپنی دھاڑی وصول کرتے ہیں کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی کارکن نہیں ہوسکتے۔ لیڈروں کے گزر اوقات سیاسی لوٹوں پر ہوتے ہیں اور لیڈروں کو کسی آمروں کی اشیر باد سے ہی لیڈر بنایا جاتا ہے۔ اسلام میں مفاد عامہ کے قوانین اور عوام کو جو حیثیت دی گئی ہے اس کا انقلاب بہت مثبت ہوگا۔ انتقام نہیں اعتدال پر قائم ہوگا۔ ظلم نہیں انصاف پر مبنی ہوگا اور عدمِ استحکام نہیں استحکام کا مظہر ہوگا۔ افراتفری سے غلط قسم کے لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جس میں عجز وانکساری کے مظاہرے ہوں ، دوسروں سے زیادہ اپنی خامیوں پر توجہ دی جائے اور ظلم کا نظام بالکل واشگاف انداز میں بیان کیا جائے۔ روشنی سے اندھیرا اور حق کی آواز سے ظلم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اب اس کی بہت سخت ضرورت ہے۔

پاکستان میں اسلامی نظام کی بات سب کرتے ہیں مگر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کے علمبردار مساجد اور مدارس ہیں۔ جس نصاب کو پڑھ کر طالب علم علماء کرام اور مفتیان عظام بنتے ہیں۔ اس نصاب کی خامیاں دور کرکے فرقہ واریت اور قرآن سے دوری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ آج مساجد میں آذان ہے لیکن روحِ بلالی نہیں۔ علماء ہیں مگر روحِ غزالی نہیں۔ حضرت بلال جیسوں کو ابوجہل جیسے گرم ریت پر لٹاکر وزنی پتھر کے نیچے دبا دیتے تھے۔ درباری علماء امام غزالی کی کتابوں کو مصر کے بازاروں میں جلا ڈالتے تھے لیکن آج کوئی انقلاب رہبر نہیں۔ جس کی وجہ سے بلال جیسے لوگوں کو وقت کے ابوجہل ریت پر لٹا دیں اور غزالی جیسے لوگوں کی کتابوں کو شہروں کے بازاروں میں جلا ڈالیں۔میرے ساتھ کچھ ایسا کرنے میں شاید بخل سے کام نہ لیتے مگر گھر جلا کر دیکھ چکے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ بچ گیا ورنہ منافقین اور مخلصین نے کوئی کمی کوتاہی اور کسر نہیں چھوڑی تھی۔
دنیا میں صراط مستقیم وہ ہے جس کی نشاندہی آخرت میں پلِ صراط سے ہوئی۔ دل ودماغ ذرا بھٹک جائے ،ہاتھ پیر کی لغزش سے انسان کھائی میں گر سکتا ہے۔ ڈگمگانے اورچھلانگ لگانے کی ہمہ وقت گنجائش ہے۔ اللہ کے رسول رحمة للعالمین خاتم النبینۖ سے بڑھ کر ہستی کس کی ذات ہے ؟۔ آپۖ بھی پنج وقتہ نماز کے علاوہ راتوں اور دن کے نوافل میں ہر رکعت کے اندر اھدنا الصراط المستقیم ”ہمیں سیدھی راہ پر چلادے”پڑھتے تھے۔یہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی بارگاہ میں دعا ہوتی تھی جو عبادت کا مغز ہے۔ اس کے باجود کبھی وحی نازل ہوتی تھی کہ جس عورت نے آپ کیساتھ اپنے شوہر کی بابت جو مکالمہ کیا تو اللہ نے بیشک سن لیااور وہ اللہ سے شکایت کررہی تھی ، اس کی بات ہی ٹھیک ہے اور مذہب والوں کا فتویٰ غلط ، فطرت اور عقل کے بالکل منافی ہے۔ کبھی وحی نازل ہوتی کہ نبیۖ کیلئے مناسب نہیں تھا یہاں تک کہ خوب خون بہاتے اور تم لوگ دنیا چاہتے اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ یہ غزوہ بدر کے بعد وحی نازل ہوئی تھی۔ پھرغزوہ احد کے بعد وحی نازل ہوئی کہ ” کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ” اور یہ کہ ”جتنا انہوں نے کیا ہے تم بھی اتنا ہی کرسکتے ہو۔ اگر معاف کردو،تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور معاف ہی کردو، اور معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں”۔
طالبان چوتڑ تک زنانہ بال رکھ کر دوسروں پر خود کش کرتے تھے اور جب ان کو مولانا فضل الرحمن نے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تو میڈیا نے پابندیوں یا خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیا اور آج مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو اور مریم نواز کی موجودگی میں پریس کانفرنس کررہے ہیں لیکن محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل کو وہاں سے شاید چلتا کردیا گیا ہے۔ سیاسی جلسوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے لیکن اس جلسے میں محمود خان اچکزئی اور اختر جان مینگل نے انقلاب اور پاک فوج کے مظالم کی نشاندہی کی تھی اور جلسے کی اہمیت بھی اسلئے تھی۔ اسلامی انقلاب کا نعرہ سب نے لگایاتھا لیکن اسلامی انقلاب کیلئے ایک دونکتے بھی بیان نہیں کئے۔ جس طرح ہمارا ملک پاکستان اسلام اور لاالہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا لیکن بعد میں انگریز کی باقیات پر چلتا رہا ، اسی طرح سے سیاسی جماعتوں کے مفادات کیلئے اسلامی انقلاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے بنیادی نکات کا تعارف ضروری ہے۔
اسلام آزادی کا درس دیتا ہے۔ دین میں بھی زبردستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عبادات میں بھی خوشی اور مرضی کا معاملہ ہے۔ غسل ،وضو اور نماز کے فرائض سے لیکر موجودہ سودی نظام تک کو اسلام کا نام دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب صحابہ نے من گھڑت فرائض اور عبادات پر سزاؤں کا کوئی تصوررکھا تھا تو بعد کے فقہاء کو نئے اسلام بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار مختلف آیات میں طلاق سے رجوع کی بنیاد میاں بیوی میں معروف طریقے سے صلح اور باہمی رضامندی ہی کو قرار دیا ہے لیکن مولوی نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کا بیڑہ غرق کررکھا ہے۔
حضرت آدم و حواء نے جنت میں شجرہ نسب کی ممانعت سے پرہیز نہیں کیا تو جنت سے نکالے گئے۔ جس کی وجہ سے قابیل کا حمل ٹھہر گیا اور قابیل نے خون کیا۔ اسلام نے لونڈی اور غلام سے نکاح کا تصور دیکر جبری نظام کی بنیاد ختم کردی تھی اور نکاح وایگریمنٹ کے ذریعے سے نسلِ انسانی کو تحفظ دیا تھا۔ زنا کے قریب جانے سے روکا ہے اور حضرت علی نے فرمایا کہ ”متعہ حج اور متعہ النساء پر حضرت عمر پابندی نہیں لگاسکتے تھے۔ جب نبیۖ نے ان کو جائز قرار دیا تھا”۔ متعہ حج پرپابندی کی بات اسلئے درست تھی کہ جاہل عوام بدبودار پسینے میں شرابور ہوکر حج کی فضاء کو متعفن بنارہے تھے اور متعہ النساء پر پابندی اسلئے درست تھی کہ کم سن بچیوں کو متعہ النساء کے نام پر شکار کیا جاتا تھا اور اپنی اولاد سے بھی انکار کیا جاتا تھا۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ”اگر حضرت عمر متعہ النساء پر پابندی نہ لگاتے تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بہت بڑا کم بخت”۔ حضرت علی کی بات بالکل درست اسلئے تھی کہ جنت میں بی بی حواء اور حضرت آدم نے بھی اس شجرہ ممنوعہ سے پرہیز نہیں کیا تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ” ہم نے اپنے اختیار سے یہ غلطی نہیں کی ہے”۔ بھوک اور پیاس پر قابو پانا آسان ہے لیکن شہوانی جذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی اور اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔ جدید ترقی سے گوشت کا کولڈ اسٹوریج کی وجہ سے خراب نہ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا بار بار تباہی کا شکار ہورہی تھی ورنہ تو دنیا بہت پہلے ترقی کرچکی ہوتی۔
آج جبری زنا اور غربت کی وجہ سے اسلامی ممالک کاحال بدکاری میں زیادہ برا ہے۔ اسلام کی غلط تعبیرات کی وجہ سے ایران کا متعہ اور سعودی عرب کا مسیار وبالِ جان ہے۔ پاکستان میں ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس بلائی جائے اور اسلام کی تعلیمات اور اسکے نتائج دنیا اور عوام کے سامنے لائے جائیں تو ہم آنے والی مشکل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔پولیس، عدلیہ اور پارلیمنٹ کا موجودہ نظام بدلنے کی بہت ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندوں کی نہیں پیسوں کے نمائندوں کی حکومت ہوتی ہے۔ جس طرح اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کا جواز نہیں اسی طرح جو اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار لیڈر شپ اور حرام کے پیسوں سے جینے والے سیاستدان ہیں ان کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہت اچھا ڈرامہ ہے کہ ملک سے باہر بیوی بچوں کے نام پر رشوت لی جاتی ہے اور ان کا سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جن جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹوں ، سیاستدانوں، تاجروں اور عوام کے کسی بھی طبقے کے بال بچے باہر ہوں ،وہ ملک کی پالیسیوں اور انتظام میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہیں۔ ان کی تمام مراعات بھی واپس لی جائیں۔ اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی ان کیلئے غیر قانونی قرار دی جائے۔ مرتکب لوگوں کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کردی جائے۔ اگر اسلامی مزارعت ہوتی تو جاگیردارانہ نظام اور غلامانہ ذہنیت بالکل ختم ہوجاتی۔ دنیا میں یہود کے سودی نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے سور کا نام دنبہ رکھنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ اسلامی نظام کو اپنی روح کے مطابق لانا ہوگا۔ یورپ ، روس اور ہندوستان سمیت ایک نئے نظام کی تشکیل سے دنیا میں ایک زبردست اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔

نور اللہ ترین جیسے جوان ہی پی ٹی ایم (PTM)کے روحِ رواں ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
خصوصی آرٹیکل

مولانا اجمل خان موسیٰ خیل امیرجے یوآئی شرقی ملتان اور مولانا طیب بلوچ ایرانی خیرالمدارس ملتان کے طالب علم بعد میں دارالعلوم کراچی سے فارغ ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن اور قاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ کا ہمارے ہاں جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی تاریخ میں پہلا سیاسی جلسہ تھا۔ مولانا اجمل اور مولاناطیب بلوچ کو میں مولانا نور محمد وانا جنوبی وزیرستان کے ہاں لے گیا۔ مولانا نور محمد صاحب نے کہا تھا کہ ”آزاد قبائل برائے نام آزاد کہلاتے ہیں ۔ چالیس ایف سی آر (40FCR)جیسے غلامانہ قوانین پورے پاکستان میں موجود نہیں۔ مجھے ذوالفقار علی بھٹو نے قید کیا تھا ، وانا کے شہر کو مسمار کردیا تھا، اگر مفتی محمود نہ ہوتے تو مجھے کسی عدالت سے رہائی نہیں مل سکتی تھی۔ جاہل قبائلی ملکان سے انگوٹھے لگواکر مجھے مجرم بنایا گیا تھا۔ قرآن پاک بھی میں نے جیل میں حفظ کرلیا تھا۔ آپ کی تحریک کیلئے سب سے موضوع علاقہ بلوچستان ہے۔ وہ انقلابی لوگ ہیں”۔
مولانا فضل الرحمن نے جلسہ میں کہا تھاکہ ” ہم آپ کے بھروسہ پرریاست کو بندوق اُٹھانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اگر وقت آئیگا تو بندوق اُٹھالو گے؟”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن نے اندورن خانہ کہا تھا کہ” لوگ ووٹ نہیں دیتے تو بندوق کہا ں سے اٹھائیںگے”۔ جس کو خیر خواہ حکمت اور بدخواہ منافقت سے تعبیر کریںگے ۔ بلاشبہ وزیرستان کے لوگ آزاد منش اور سرکاری ملک نااہل اور بے کارہیں۔ انگریز کے دور میں ان کو جاسوس کہا جاتا تھا۔ مراعات کے بدلے یہ بکے ہوئے تھے۔ پھر موروثی نظام نے زیادہ بیڑہ اسلئے غرق کیا کہ جرگوں میں بھی منافقت ہوتی تھی۔ سرکاری حکم ان کیلئے آسمانی صحیفہ ہوتا تھا۔ جب طالبان کیساتھ جذباتی طبقہ اسلئے کھڑا ہوگیا کہ امریکہ ظالم کے مقابلے میں بھاگے ہوئے مظلوموں کا ساتھ دینا فطرت کا تقاضہ تھا۔ لوگوں کو پرویزمشرف اور پاک فوج سے نفرت اسلئے ہوگئی کہ افغانستان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے تو امریکہ کیساتھ کھڑے ہونا بھی تو غیرت سے عاری پاک فوج کا کام نہ تھا۔ عوام کی طرح فوج کے جذبات بھی طالبان کیساتھ تھے لیکن عمل اس کا بالکل برعکس تھا۔ سفیر ملا ضعیف سے لیکرسائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنا پاک کو ناپاک کرنے کے مترادف تھا۔ اس دوغلی پالیسی میں پشتون قوم کا بیڑہ غرق ہوگیا اور امریکی ڈالروں سے پاک فوج نے اپنی پاکدامنی کو بدترین دھبہ لگادیا۔
اب پی ٹی ایم (PTM)کی نوجوان قیادت سے گزارش ہے کہ ایم کیو ایم (MQM) نے آپریشن کے بعد پولیس اہلکاروں اور افسروں کو سینکڑوں کی تعداد میں مار دیا تو کراچی رینجرز کے حوالے ہوگیا۔ رینجرز نے ایم کیو ایم (MQM)کی بدمعاشی سے کراچی کی فضاء کو پاک کردیا جو روزانہ کی بنیاد پر اچانک پہیہ جام ہڑتال کرکے عوام کے ناک میں دَم کرکے رکھتے تھے۔ بدمعاشوں سے عوام کو چھٹکارا مل گیا لیکن الطاف حسین کی قیادت سے مہاجر عوام کا اعتماد اسلئے نہیں اٹھا سکے کہ مصطفی کمال نے اپنی زندگی کے نشیب وفراز الطاف حسین کی گود میں پل کر گزارے تھے، عوام کیسے اعتماد کرسکتی تھی کہ الطاف حسین مجرم اور بیرونی ایجنٹ ہے اور ایم کیو ایم (MQM)کی قیادت پاک سرزمین پارٹی کی پراپرٹی ہے؟۔ دباؤ ڈالنے سے کبھی لوگوں کے دل ودماغ نہیں بدلتے۔
جب پاک فوج نے دیکھ لیا کہ تمام پابندی اور ٹرکس استعمال کرنے کے بعد بھی ایم کیو ایم (MQM) نے نائن زیرو (90)کے حلقے سے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو بدترین شکست سے دوچار کردیا تو جبر کا استعمال شروع کردیا۔ جب ڈاکٹر فاروق ستار نے دھرنا دے رکھا تھا اور ن لیگ و غیرہ والے ہمدردی کا اظہار کررہے تھے تو اس وقت ہم نے ڈاکٹر فاروق ستار کو آگاہ کیا تھا کہ یہ تمہیں میدان میں چھوڑ جائیں گے۔ اور پھر وہی ہوا تھا جس کا ہم نے اظہار کیا تھا۔ جب پی ٹی ایم (PTM)نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو میں یہ سمجھانے گیا تھا کہ اپنی توپوں کا رخ اس نظام کی طرف کردو، جس میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ ایک راؤ انوار نہیں پولیس کے ہر تھانے میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ لیکن پی ٹی ایم (PTM)نے نظام کی بجائے اپنا ٹارگٹ صرف پاک فوج ہی کو بنالیا۔ آج پی ڈی ایم (PDM)بھی پاک فوج کے خلاف کھڑی ہے اور جماعت اسلامی بھی پاک فوج کے بارے میں وہی مؤقف رکھتی ہے جس کا اظہار پی ٹی ایم (PTM)کرتی ہے۔
پہلے پاک فوج کی ایمانداری پر لوگ قسم کھاتے تھے لیکن کرپٹ نظام نے ان کو بھی کرپٹ بنالیا ہے تو قصور پاک فوج کا نہیں اس کرپٹ نظام کا ہے۔ ہماری اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ جس نظام نے فوج کو کرپٹ بنادیا ہے تو اس نظام کو نہیں بدلتے بلکہ فوج کیساتھ لڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں؟۔امریکہ سے طالبان نے لڑلیا اور اب دنیا نے دیکھ لیا کہ طالبان نے امریکہ سے بھی صلح کرلی۔ایک لطیفہ ہے کہ ایک گاؤں میں بکرے کا سرمٹکے میں پھنس گیا تھا۔ پہلے بکرے کو ذبح کیا گیا اور جب بکرے کا سر پھر بھی نہیں نکلا تو مٹکے کو بھی توڑ دیا اور پھر کم عقلوں نے عقل کے ناخن لینے کے بجائے خوشیوں کے شادیانے بجائے کہ ہم نے کمال کردیا ہے۔ طالبان کااپنا اسلام اور حکومت تھی ، امریکہ نے پہلے ان کی حکومت کو گرا دیا اور پھر انکا اسلام بھی ان سے چھین لیا۔جاندار کی تصاویر اور بے پردہ عورتوں کیساتھ بیٹھ کراپنے اسلام سے بھی ان کوآخر کار دستبردار ہونا پڑا ہے۔اب دلال بنے پھرتے ہیں۔
آج پی ٹی ایم(PTM)کا جوان فوج کو روڈوں پر گھسیٹنے کی بات کرتا ہے ۔ جس طرح طالبان نے مخصوص فضاء سے فائدہ اٹھاکر فوج سے ٹکر لی مگر بعد میں فوج کے دلال بننے پر مجبور ہوگئے، اپنوں کی ہمدردیاں بھی بالکل کھو بیٹھے تھے۔ اسی طرح پی ٹی ایم(PTM)کا حال بھی آنے والے وقت میں ایسا ہوسکتا ہے، جس کا اندازہ پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے سے لگایا جاسکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی کی تقریر کے وقت بجلی اور جنریٹر بند کئے گئے۔ سندھی صحافی نے بہت پہلے انکشاف کیا کہ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اورآئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کا نام نہیں لیناہے۔ جس کی بات بالکل درست ثابت ہوئی ہے ، نواز شریف پوری تقریر میں شف شف کرتا ہے لیکن شفتالو نہیں بول سکا تھا۔ سندھی صحافی نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ نوازشریف نے پہلے بھی پیپلزپارٹی کو دھوکے دئیے ہیں اور اب بھی شہباز شریف کو رکھا ہوا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جب تمام سیاسی جماعتوں کو فوج سے لڑا دے اور پھر شہبازشریف کے ذریعے سے اسٹیبلشمنٹ سے مل جائے۔شہباز شریف کا ورکر لاہور جلسے میں نہیں نکلا تھا۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پی ٹی ایم(PTM) پشتونوں کو بلوچوں کے راستے پر لے گئی تو پشتون فوج کیساتھ لڑنے کے بجائے پی ٹی ایم(PTM)سے لڑنے کو ترجیح دینے لگیں گے۔ بلوچ کاڈی این اے (DNA)بالکل جدا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ریاست کیساتھ لڑتے رہے ہیں لیکن ہمارے پشتونوں نے ہمیشہ ریاست کیلئے وفادار شہریوں کا کردار ادا کیا ہے۔ جب پشتون قوم سمجھ گئی کہ طالبان 3ہیں نہ13، تب بھی ان کے آگے دُم ہلانے سے باز نہیں آتے تھے۔ حالانکہ محسود قوم میں یہ صلاحیت زبردست طریقے سے موجودتھی۔
علی وزیر کے علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوا۔ طالبان اور پاک فوج کی مدد سے انہوں نے ازبک طالبان سے اپنی جان نہیں چھڑائی ہوتی تو وزیر خود کہتے ہیں کہ ہماری خواتین کو بھی ازبک اٹھاکر لے جاتے۔ وزیر اورمحسود اجتماعی حیثیت سے اپنا فرض ادا کریں تو معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں۔پختون پنجاب کی مدد سے اس وقت انقلاب لاسکتے ہیں جب صرف فوج سے چھٹکارے کی بات نہ ہو بلکہ نظام کی تبدیلی کیلئے مینارِ پاکستان میں عظیم الشان جلسے سے عوامی شعور برپا کریں۔

محمود خان اچکزئی پی ڈی ایم (PDM)کے اصل روحِ رواں ہیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
خصوصی آرٹیکل

پی ڈی ایم مینار پاکستان لاہور کے جلسے میں ملی عوامی نیشنل پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی کے اصل روحِ رواں ہیں۔ اچکزئی سے ریاست اور عوام کو ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں ۔زیادہ عرصہ کی بات نہیں ،2008ء میں محمود خان اچکزئی نے نوازشریف ، عمران خان ، جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ کو قائل کرلیا کہ مشرف اپنی فوجی وردی اتار نہیں دیتاتوہم انتخابات میں حصہ نہیں لیںگے۔ چنانچہ جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور محمود خان اچکزئی کو چھوڑ کر نوازشریف نے باوردی پرویز مشرف کی صدارت میں انتخابات میں حصہ لیا، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی نے مرکز میں اکثریت حاصل کرلی۔ پنجاب میں ق لیگ کیساتھ حکومت بن سکتی تھی لیکن زرداری اور نوازشریف نے پہلے آپ پہلے آپ کی صدا بلند کرتے ہوئے مرکز میں اور پنجاب میں اتحادی حکومتیں بنا ڈالیں۔ ن لیگی وزراء نے پرویزمشرف سے حلف لے لیا لیکن جاوید ہاشمی نے حلف نہیں لیا تو نوازشریف کا غدار ا ور باغی ٹھہرا۔
شہبازشریف اور چوہدری نثار تنہائی میں فوجی قیادت سے ملتے تھے جسکے نتیجے میں سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم سے نااہل کیا گیا اور زرداری کا بیان آتا تھا کہ میری لاش ایمبولینس میں جائے گی لیکن صدارت چھوڑنے والا نہیں۔ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر باوردی کیساتھ کورٹ جاتا تھا تو تختِ لاہور نے ملتان کے باسی یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم کے محل سے نکال باہر کرنا ہی تھا۔ جب نوازشریف اور شہباز شریف نے صدر زرداریوں کی آخری حد پار کردی تو زرداری نے پرویزمشرف کایہ کہا کہ ” بلا دودھ پی جاتاہے”اور دوسری طرف نوازشریف کا کہا کہ ”مولوی نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک لوہار کا دماغ ہے یہ سیاستدان نہیں بن سکتا”۔
روزانہ بریکنگ نیوز سمیت ہر گھنٹے کے ہیڈلائن میں صدر زرداری کو چور، منافق اور ڈکیٹ سے لیکر ایک سے ایک گالی کو سو (100)سنار اور زرداری کی گالی کو ایک لوہار کی قرار دیکر ن لیگ نے کہا کہ اس حد تک ہم نہیں گر سکتے۔ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو طالبان اور زرد صحافت کے علمبردار امریکہ کے ایجنٹ قرار دیکر قتل کرنے کے درپے رہتے تھے جو عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کرتے تھے۔ اسلئے کہ پاک فوج، طالبان، عمران خان اور نوزشریف ایک پیج پر تھے۔ پیپلزپارٹی کو اقتدار اسلئے دیا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سندھیوں نے پاکستان نہ کھپے کا وہ نعرہ لگایا تھا کہ اگر صدر زرداری ”پاکستان کھپے” کا نعرہ نہ لگاتے تو سندھ دوسرا بنگلہ دیش بن جاتا۔ بلوچوں میں پہلے سے آزادی کی تحریک چل رہی تھی، اگر سندھ سے نعرہ اُٹھتا تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی اسلئے کہ ہندوستانی فوج بھی گھس آتی۔ سندھ اور پنجاب کی سرحدیں ہندوستان سے ملی ہوئی ہیں۔ سندھ میں پہلے سے بغاوت کا جذبہ تھا۔ آج پنجاب میں بھی بغاوت ہے۔ ن لیگ کے پاس نظریاتی کارکن نہیں بلکہ کرائے کے غنڈے ہیں۔ سوشل میڈیااور زمانہ کے شعور نے پنجاب میں بیداری پیدا کی ہے۔
محمود خان اچکزئی اگر مینارِ پاکستان کے جلسے میں یہ تقریر کرتا کہ ” پہلے پہلے میں اس عدالتی نظام سے بغاوت کا اعلان ہے۔ مجید اچکزئی نے دن دیہاڑے رمضان کے مہینے میں تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والا غریب ٹریفک سارجنٹ کچل دیا مگر اس غریب کو انصاف نہیں مل سکا اور مجید اچکزئی چھوٹ گیا کہ ججوں کو ثبوت نہیں ملا، حالانکہ موقع پر موجود بھرے بازار اور میڈیا چینلوں پرقتل کی ویڈیو ریکارڈنگ دنیا نے دیکھی”۔
محمود خان اچکزئی کے اس اعلان سے پورا مجمع اور سب لوگ بہت متأثر ہوتے کہ واقعی بندہ ایمان دار ہے۔ پھر اچکزئی کہتا کہ” عدالتی فیصلہ ہے کہ جنرل اسد درانی نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے جھوٹا اسلامی اور جمہوری اتحاد بناکر نوازشریف اور جماعت اسلامی کو اقتدار سپرد کیا اور پیسے بھی دئیے۔ جب اسد درانی اعتراف کرتا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی نے مداخلت کی ہے اور تاحال مداخلت سے باز نہیں آئی ہے تو نوازشریف کو بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ میں نے پیسہ لیا تھا اور کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہوا تھا، اسی اقتدار سے اتنا پیسہ کمالیا کہ لندن میں فلیٹ خرید لئے۔ میں نے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے جھوٹ بولا کہ 2005 ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدے۔قطری خط لکھنے اور پھر اس سے مکر جانے کی کہانیاں گھڑنے پر قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ پلیٹ لیٹس کی بیماری کی جھوٹی کہانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے پر قوم سے معافی طلب کرتا ہوں۔ عدالتوں نے مجھے بہت کم سزا دی ، اقامہ سے بڑھ کر کرپشن کی دستانیں کھوسہ صاحب نے چھپائی ہیں وہ میرا محسن اور قوم کا مجرم ہے اسلئے کہ جس سزا کا میں مستحق تھا وہ مجھے نہیں دی گئی ہے”۔
محمود خان اچکزئی کی اس تقریر سے لوگ انقلابی بن جاتے اور بصورت دیگر کیا حکومت میں کرپشن اور عدالتی نظام سے چھوٹ کے مزے سیاستدان لیں اور بغاوت کیلئے جان ومال اور عزتوں کی قربانی دیں؟۔ جلسہ میں اگر یہ نعرہ لگتا کہ ”غلام ہیں غلام ہیں مریم نواز کے غلام ہیں، غلام ہیں غلام ہیں بلاول بھٹو کے غلام ہیں، غلام ہیں غلام ہیں مولانا فضل الرحمن کے غلام ہیں” تو بہت تگڑے نعروں سے جواب ملتے۔ اسلام کی نظر میں غلامی عبادت ہے اور اللہ کے سوا کسی کی بھی غلامی جائز نہیں ہے۔ ہمارے کلچر نے لوگوں کو اپنے بڑوں کا غلام بنادیا ہے۔ انقلاب کیلئے غلامی کا کلچر ختم کرنا پڑے گا۔
محمود خان اچکزئی نے گوجرانوالہ کے جلسے میں کہاکہ ‘ خدانخواستہ غریب لوگ اُٹھ کر امیروں کے محلات پر حملے کرکے سب کچھ تلپٹ نہ کردیں”۔ انقلاب فرانس میں وہی ہوا تھاکہ فوج امیروں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی تھی لیکن قبائل میں غریب اور پسماندہ لوگوں نے طالبان کی شکل میں امیروں سے انتقام لیااور پاک فوج نے بھی کسی کو بچانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مساجد اور علماء تک کوبھی ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا تھا۔ غریب پھر اٹھیںگے تو پٹھان طالبان کی طرح پاگل نہیں ہونگے کہ اسلحہ بردار فوجی قافلوں ، قلعوں، چھانیوں اور جی ایچ کیو (GHQ) کو بھی نشانہ بنائیں۔ پنجاب اور سندھ کے غریب اُٹھیں گے تو امیر جانیں اور غریب جانیں کی فضاء قائم ہوگی۔
محمود خان اچکزئی قابلِ صد احترام ہیں لیکن اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب عمران خان نے انکے بہکاوے میں آکر فوج کے خلاف ہر قسم کا الٹا سیدھا اول فول بکنا شروع کردیا کہ ” پندرہ ہزار کا مجمع دیکھ کر شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں” تو اس کو پذیرائی نہیں مل سکی ، کیونکہ پاک فوج جنگجوؤں کی فضاؤں میں جان پر کھیلنے کی عادی ہے۔ اقبال کا شاعرانہ کلام ”ممولوں کو شاہیں سے لڑانے ” کی باتیں محض خام خیالی ہیں۔ انگریز اگر ہندوستان چھوڑ کر نہ جاتا توباچا خان کا عدمِ تشدد اور گاندھی کی بھوک ہڑتال اس کو نہیں نکال سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں بھارت کی وجہ سے پاک فوج نے ہتھیار ڈالے تھے۔ پاک عوام کبھی بھی بھارت کی فوج سے مل کر پاک فوج سے جان نہیں چھڑائے گی۔ جب عمران خان نے زرداری اور نوازشریف کو اپنا نشانہ بنانا شروع کیا تو پھر عمران خان کو بہت عوامی پذیرائی مل گئی۔ محمود خان اچکزئی نے مریم بی بی کے سامنے کچھ حقائق بیان کئے ہوتے تو عوام اور قومی لیڈر وںمیں جان پیدا ہوتی۔ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ خدانخواستہ ہم فوج کو شئے دے رہے ہیں کہ ڈٹ جاؤ۔عوام نہیں لڑسکتی ہے۔ عوام کا مقابلہ کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن عوام کو پاک فوج کے ٹاؤٹ اور باغی سیاستدان ورغلانا چھوڑ دیں کیونکہ لوگ اُٹھیں گے تو خیر کسی کی بھی نہیں ہوگی۔ طالبان نے کتنی مشکل پیدا کرلی تھی؟ ۔اگر قبائل اٹھتے تو پھر اقوام متحدہ کی فوج بھی مشکل میں پڑجاتی۔

پاکستان آزاد قبائل اور پوری دنیا کی امامت کابڑا نظام: اداریہ نوشتہ دیوار

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پاکستان میں ہندو، عیسائی، سکھ ، قادیانی ، ذکری، آغا خانی، بوہری ، پرویزی اور انواع واقسام کے مذاہب اور فرقے ہیں لیکن جب تک فرقہ واریت کو ہوا نہ دی جائے عوام میں کسی مذہب والوں کے خلاف بھی نفرت نہیں ہے۔ البتہ مذہبی لبادوں کی اکثریت کا گزر بسر شاید دوسروں کے خلاف ہوا بھرنے پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارننگ ہے کہ” آپس میںنہ لڑو، ورنہ تمہاری ہوا خارج ہوجائے گی”۔
جب نوازشریف اپنی حکومت میں بھاری بھرکم سودی قرضہ لے رہا تھا تو اس وقت ہم نے کئی دفعہ واضح کیا کہ اس کا سارا بوجھ مہنگائی کی صورت میں عوام پر پڑے گا اور آج اگر نوازشریف کی اپنی حکومت ہوتی تو بھی مہنگائی کا گراف زیادہ ہی ہوتا۔ عمران خان پر جن لوگوں نے بھروسہ کیا تھا انہوں نے کم عقلی کا مظاہرہ کیا تھا اسلئے کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکتا ہے۔ پاکستان کا آئین اسلام کے نام پر ہے لیکن علماء نے اسلام کی کوئی وضاحت تک نہیں کی ہے۔ اسلام غریب و امیر کی چوری کیلئے بلیک اوروائٹ کالر کرائم اصطلاح سے پاک ہے۔ امریکہ نے تو زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے کہ کالے اور گورے کے قوانین میں ترمیم کردی ہے اور ہمارا نظام انگریز اور برصغیر پاک وہند کی غلام عوام کیلئے الگ الگ قوانین سے ابھی تک چھٹکارا نہیں پاسکا ہے۔ افسر اور نوکر کی عزت میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر بڑے آدمی کی بے عزتی کردی تو لاکھوں، کروڑوں اور اربوں کا ہرجانہ عدالتوں میں قانونی طور پر لے سکتاہے لیکن اگر غریب کی عزت خراب کردی تو عدالت میں اس کی حیثیت ٹکے کی بھی نہیں ہوتی ہے۔ آقا اور غلام کی اس تفریق کو اسلام نے ختم کیا تھا۔ قبائلی علاقہ جات میں بالعموم اور وزیرستان میں بالخصوص آقا اور غلام کا کوئی بھی نظام نہیں تھا۔ سیٹل ایریا میں نواب، خان ، سردار اور چوہدری وڈیرہ شاہی کی وجہ سے آقا اور غلام کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔ پیروں اور گدی نشینوں کے مرید وں کا حال بھی غلامی سے بدتر ہوتا تھا۔ اسلام نے بندوں کی بندگی ختم کردی تھی اور قبائلی نظام اسلام سے بالکل قریب تر تھا۔ انگریز نے غلامی کا نظام قائم کررکھاتھا۔ قبائل کو اللہ کے فضل سے اس نظام سے بہت دور رکھا گیا تھا۔
جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو اسلام نے وہی سزا دینے کی بات واضح کردی جو عام غریب خاتون پر بہتان لگانے کی سزا ہوتی۔ غلام احمد پرویز انگریزی نظام کا پروردہ تھا اسلئے صحیح احادیث کا انکار کردیا کہ اُم المؤمنین اور کسی عام عورت پر بہتان کی سزا ایک نہیں ہوسکتی ہے۔ بخاری کی صحیح احادیث کا انکار فقہ حنفی والے بھی کرتے تھے لیکن غلام احمد پرویز کی ذہنیت بالکل غلامانہ تھی۔ عربی میں غلام کو عبد کہتے ہیں اور لڑکے یا جوان کو غلام کہتے ہیں۔ شیخ المشائخ سید عبدالقادر گیلانی نے عربی خطبات میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یا غلام! اے لڑکے۔ جس سے جاہل علماء ومشائخ نے اردو کا غلام مراد لیا۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کا رویہ بھی اپنے کارکنوں کیساتھ وہی ہوتا ہے جو آقاؤں کا غلاموں کیساتھ ہوتا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے انسانوں کی بندگی کو حرام قرار دیا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بھی عوام کیساتھ اس مزاج کے مطابق بالکل ویسا ہے جیسا آقاؤں کا غلاموں سے ہوتا ہے۔
جن لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ نے بنایا ہے یا استعمال کر کر کے کرکرکے کرکر کے بالکل ناکارہ بنادیا ہے وہ امامت کے قابل بالکل بھی نہیں ہیں۔ وہ لوٹ کھسوٹ اور جھوٹ موٹ جانتے ہیں ان کو امامت کرنے کی ہوا بھی نہیں لگی ہے۔ کل تک پاک فوج نوازشریف بچہ جمورا کو پوٹی کرانے بٹھاتا تھا اور آج اس بغل بچے کو اسلئے باغی مان لیا جائے کہ پارلیمنٹ کی لکھی ہوئی تحریر سے عدالت میں قطری خط تک اپنے ہی جال میں پھنس چکا ہے؟۔ یہ ہمارے اداروں کی نالائقی ہے کہ جسٹس قیوم سے زیادہ اس نے ارشد ملک مرحوم کو رائیونڈ محل میں بلاکر استعمال کیا اور عمرے کروائے۔

جسٹس سجاد علی شاہ کو نوازشریف نے بلوچستان ہائیکورٹ سے اسلئے نااہل کروایا تھا کہ اس سے سینئر جج کو چیف جسٹس نہیں بنایا گیا تھا حالانکہ یہ اس وقت کے قانون کے مطابق درست تھا، پھر تو آرمی چیف پر بھی اس کا اطلاق ہوتا تھا۔ اب تو جسٹس فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائیکورٹ کا براہِ راست چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ کیا علی احمد کرد کو چیف جسٹس نہیں بنایا جاسکتا تھا؟۔ فائز عیسیٰ کے علاوہ بھی پتہ نہیں کس کس کو بیرون ملک نوازشریف نے جائیداد کا مالک بنایا ہوگا لیکن انقلاب کیلئے خرید وفروخت کرنے والے تاجروں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم(PDM)کے پلیٹ فارم سے چوروں کے ہاتھ کاٹنے والی سزا کا اعلان کریں۔ نوازشریف سے پارلیمنٹ کے تحریری بیان اور قطری خط کی بھی وضاحت مانگ لیں اور ہتک عزت کی یکساں سزا کی تبلیغ شروع کردیں تو کامیاب سیاستدان بن سکتے ہیں لیکن بکاؤ مال اپنے اندر غیرت کا مادہ بالکل نہیں رکھتے ہیں۔ مروت قوم سب سے شریف ہے اور وہاں مولانا نے تقریر کی تھی اسلئے خٹک ، بنوچی اوربیٹنی سے معافی نہیں مانگتے تو کم ازکم مروت سے ضرور مانگ لیں۔ آزاد قبائل تو ویسے بھی کسی کے غلام تھے، ہیں اور نہ ہونگے۔ ہمارے آباء واجداد نے وزیرستان کی عوام کو ملاؤں ، پیروں اور حکمرانوں کی غلامی کا کبھی سبق نہیں دیا ہے۔
آتی ہے دَم صبح صدا عرش بریں سے
کھویا گیا ہے کیونکر تیرا جوہر ادراک؟
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک؟
کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟
باقی نہیں رہی تجھ میں آئینہ ضمیری
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری
علامہ اقبال نے پختونوں کے ضمیر محراب گل افغان کے تخیلاتی نام سے لکھا ہے۔ تحقیق کرنا محقق کا کام ہے لیکن انقلابی تعبیرات یہ ہیں کہ پیشہ ور سے پشاور بن گیا تھا اور پنجابی میں لا ہور سے لاہور بن گیا ہے۔ پیشہ ور نے پشاور سے سیاست کی سمگلنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور تختِ لاہور سے بھی مزید طلب جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان بچے نہیں تجربہ کار لوگ ہیں۔مریم نواز جتنی سپلائی طلب کرے ۔یہ لوگ دے سکتے ہیں۔بلوچ مسنگ پرسن اور ہلاکتوں کے ذمہ دار نوازشریف تھے ۔ مریم نوازشریف نے اسٹیج پر بلوچ بیٹیوں کو لاکر اپنا مطلب پورا کرلیا مگر ماما قدیر کے کیمپ میں وعدے کے باجود نہیں گئی تھی۔ حامد میر ادھورے حقائق بتاکر سچ نہیں جھوٹ کو سہارا دیتے ہیں۔ اپوزیشن کو اقتدار ملنے سے ریاست کے مسائل حل نہیں ہوںگے بلکہ مزید الجھ جائیںگے۔
پی ٹی ایم (PTM)اپنے گانے اور ترانے بدل کر پاکستان کی تمام مظلوم عوام کیساتھ کھڑے ہوجائیں تو نظام کی تبدیلی میں دیر نہیں لگے گی۔ ریاست کو چاہیے کہ ہماری گزارشات پر غور کرے۔ پی ٹی ایم (PTM)پر کوئی سختی نہ کرے۔ عوام میں ہر جگہ حقیقی لیڈر شپ ابھرنے کا موقع فراہم کرے۔ بھٹو ، نوازشریف کے بعد عمران خان کو دیکھ لیا۔ نوجوان طبقہ شعوری طور پر نفرت اور انتقام کے جذبات نہیں مثبت انقلاب کیلئے اپنی کوشش تیز کرلیں۔ آنے والا مستقبل انشاء اللہ انہی کا ہے۔

پی ٹی ایم ( PTM) تعصبات کے برعکس ظلم کیخلاف خوش آئندہے: اداریہ نوشتہ دیوار

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پی ٹی ایم ( PTM) کراچی کے قائدنوراللہ ترین کی تقریر حقائق کے مطابق زبردست ہے۔ اس کا فائدہ پختون قوم، طالبان، ریاست، حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان سب کو یکساں پہنچتا ہے۔ یہ شعور کی بات ہے ،اس میں تعصبات نہیں۔ کراچی سے پختونوں کے بہت جنازے گئے۔ کوئی انکار نہیں ہے۔ بہت ظلم تھا اور اس پر حضرت حاجی محمد عثمان کے علاوہ شاید کسی نے افسوس کا اظہار بھی نہیںکیا تھا ۔ جس پر مولانا شیرمحمد صاحب نے حاجی عثمان سے عقیدت کا اظہار بھی کیا تھا کہ واحد مذہبی شخصیت ہیں جو پٹھانوں کا خون بہانے پر اظہار افسوس کررہے ہیں۔
بس یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جب سواداعظم اہلسنت کی تحریک کو عراق نے پیسہ دیا تو ایک طرف مولانا اسفندیار خان، مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا زکریالنگڑا سوتیلے باپ مولانااعظم طارق جرنیل سپاہِ صحابہ پاکستان کے درمیان مارکٹائی ہوئی اخبارات میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگے۔ دوسری طرف لالو کھیت سمیت مختلف جگہوں پر اہل تشیع کی عبادتگاہوں اور دکانوں کو جلانے والے پٹھان بھائی تھے۔ پھر جب ایم کیوایم بن گئی تو پٹھان اپنے مکافات عمل کا شکار ہوگئے۔
کراچی کے کالجوں میں پختون، پنجابی، سندھی، بلوچ طلبہ تنظیمیں بدمعاشی کا طرز اپناتے تھے، اسلامی جمعیت طلبہ بھی اپنی مثال آپ تھی۔ جس کی وجہ سے مہاجر طلبہ تنظیم کیلئے سازگار ماحول بن گیا۔ چونکہ مہاجر کراچی میں زیادہ تھے اسلئے سیاست میں بھی کامیاب ہوگئے۔ فرقہ واریت کو شکست دی۔ پختونوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اسلئے پختون زیادہ ٹارگٹ بن گئے تھے۔ آج پھر جس طرح کے جذبات کی بات پی ٹی ایم ( PTM) کے جلسے جلوسوں کو گرمانے کیلئے ہوتی ہے تو اس کے نتائج بھی بھگتے گی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ کل پھر پختون گلہ کریں کہ پہلے طالبان کے نام پر ہمیں مارا گیا اور اب پی ٹی ایم ( PTM) کے نام پر۔ طالبان کے کمانڈر بھی محفوظ ہوتے تھے اور خڑ کمر شمالی وزیرستان میں علی وزیر اور محسن داوڑ بھی محفوظ تھے لیکن عام جذباتی جوان مارا گیا جس کو قوم اور مستقبل کا اثاثہ کہا جاتا ہے۔ اگر حکومت علی وزیرکو گرفتار نہ کرتی اور محسن داوڑ رضاکارانہ گرفتاری نہ دیتے تو شہداء کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ تھے۔ بچوں کے والدین کہتے کہ تمہاری لیڈری چمکانے کے عوض ہمارے بچے کیسے گئے اور تم نے خود کوبچایا کیسے؟ ہمارا کام اپنا نام چمکانا نہیں اور نہ جھوٹی تسلی سے کسی کو دلاسہ دینا ہے۔
طالبان کی حمایت کرنے میں پٹھان سب سے زیادہ پیش پیش تھے لیکن اس حمایت کی وجہ سے نہ صرف پختون اس آگ میں جلے بلکہ پورے پاکستان کو بہت آزمائش سے گزرنا پڑا تھا۔ آج جس طرح طالبان کی کھل کر مخالفت ہوتی ہے جب خود کش حملوں کا دور تھا تو کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اس طرح کھل کر اپنے پروگرام کرتا۔ اس میں پختون من حیث القوم مجرم تھے اسلئے اس کی سزا بھی بھگت لی اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں بلکہ بڑی عزت ہے۔
فوج سے تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں حتی کہ جماعت اسلامی بھی تنگ آچکی ہے اسلئے پی ٹی ایم ( PTM) کو زیادہ پھنے خان بننے کی ضرورت نہیں۔ پہلے طالبان سے اپنی قوم کو مروایا گیا اور اب اگر مذہب کا پالان اتار کر لسانی بنیاد پر قوم کو مروایا جائے تو فقیر ایپی مرزا علی خان کے بقول گدھا وہی ہوگا صرف پالان اس کی بدل جائے گی تو کوئی فرق بھی نہیں پڑے گا۔ انگریز کے بعد پاکستان کیلئے اس نے یہ بات کہی تھی۔ قبائل میں فوج، پولیس ، عدلیہ ، سول بیوروکریسی ، پٹوار اور دیگر انگریزی نظام نہ ہونے کی وجہ سے نسبتاً ہمارے ہاں ظلم وزیادتی اور جبر کا نظام بالکل نہ ہونے کے برابر تھا۔تاہم چالیس ایف سی آر (40FCR)کے کالے قوانین بھی انگریز کا تحفہ تھا۔ امریکہ سے نگران وزیراعظم معین قریشی آیا تو اس نے قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا اور گاڑیوں میں وی سی آر لگانے پر اسلئے پابندی لگائی تھی کہ ڈرائیور ایکسیڈنٹ بہت کررہے تھے۔ ہمارے سیاسی اداکاروں نے کبھی کوشش تک بھی نہیں کی۔
اب قبائل کے انضمام کے خلاف اور حق میں آواز اٹھائی جائے تو پختون ایک ایسی قوم ہے جس کے بچے ، جوان اور بوڑھے ہر ڈھول پر ناچتے ہیں۔ قوم کو نچانے اور لڑانے کی نہیں شعور دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے جذبات سے متأثر ہوکر قائدین کو اسٹیج پر بے قابو نہیں ہونا چاہیے۔پی ڈی ایم (PDM)کے پلیٹ فارم سے جب تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکر لے رہے ہیں۔ گجرانوالہ شو میں پی ٹی ایم ( PTM)کو دعوت نہیں دی گئی اور لاہور میں بھی پی ٹی ایم ( PTM)کو نہیں بلانا تھا تو اچھا ہوا کہ پشاور میں گھر سے باعزت حل کا آغاز ہوا۔ پی ٹی ایم ( PTM)نے پنجاب سے نفرت کا اظہار کرکے ن لیگ سے دوری پیدا کرلی اور آئندہ یہ خامی نہیں ہونی چاہیے اسلئے کہ پختونخواہ کے سب سے قریبی پڑوسی پنجابی ہیں۔ سندھی اور بلوچ تو خیبر پختونخواہ کے بہت سے لوگوں نے دیکھے تک بھی نہیں ہیں۔

قیادت کے مسئلے پر مفتی محمود پر بھی قومی اتحاد نے اتفاق رائے کیا تھا ، آج مولانا فضل الرحمن پر اپوزیشن کی تما م سیاسی جماعتیں متفق ہیں تو یہ پی ٹی ایم ( PTM)کیلئے ہی اعزاز کی بات ہے کہ پنجابی، سندھی، بلوچ اور تمام قومی پارٹیاں ایک پختون مولانا کی قیادت میں اکٹھے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں مل کر فوج سے جان چھڑاسکتی ہیں تو بلوچستان ، کراچی ، سندھ اور پختونخواہ کے مسائل بھی حل ہوجائیںگے۔ اگر قبائل میں حکومت کی رٹ ، دہشت گردی کے خاتمے اور مسائل کے حل پر توجہ دی جائے تو عوام سکون کا سانس لیںگے ۔ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ نوازشریف نے بلوچستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر گوادر سے کوئٹہ ، پشاور اور گلگت کا سیدھا راستہ چھوڑ کر اس موٹروے کا راستہ تختِ لاہور کی طرف موڑا۔ جہاں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آواران میں بلوچوں کے گاؤں جلانے پڑے اور اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں تھیںاسلئے کہ سب سے زیادہ مزاحمت کار وہاں موجود تھے۔ جنہوں نے موٹروے بنانے والوں کو پھولوں کے گلدستے پیش نہیں کرنے تھے بلکہ شدید مزاحمت کرنی تھی۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے گاؤں جلانے کی ویڈیو موجود ہے جس کو پٹھان سپاہی کہہ رہاہے کہ اللہ اور دے گا۔ گھر خالی کرواکے جلارہے ہیں۔ ریاست نے یہ سب اس وقت کرنا ہوتا ہے جب انکو مزاحمت کا سامنا ہو۔ اس کا سارا قصور نوازشریف کا مفاد پرستانہ رویہ تھا جس نے مغربی کوریڈور کا سارا پلان تبدیل کرکے موٹروے کو لاہور کی طرف موڑا تھا۔ اس وقت پیپلزپارٹی ، مولانا فضل الرحمن اور دیگر لوگوں نے شروع میں مخالفت بھی کی تھی اور پی ٹی ایم ( PTM)کے ڈاکٹر سید عالم محسود نے اس پر کئی سیمینار بھی کئے ہیں۔
کراچی کے جلسے میں ڈاکٹر سید عالم محسود نے پختونوں کی تین کمزوریوں کا ذکر کیا ہے جن میں ایک یہ بھی ہے کہ پختون مفاد پرست ہے۔ اگر طالبان پر عورت کی طرح چوتڑ تک بال رکھنے کی پابندی لگادی جاتی جو شریعت و سنت تو بہت دورکی بات انتہائی درجے کی بے غیرتی اور غیر شریفانہ حلیہ تھا تو بھی پختون اتنا بدنام نہ ہوتا لیکن جب چوتڑ والے بال رکھنے کی ہم نے اپنوں کو اجازت دیدی تو ہمارا کلچر، مذہب اور انسانیت سب تباہ وبرباد ہوگئے۔ اب پھر پی ٹی ایم ( PTM)کے قائدین کو دوسری قوموں کی نقالی کرکے چرب زبان جذباتی خطیبوں سے زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پہلے اپنا کھویا ہوا وقار واپس لاسکیں اور پھر اپنی خامیاں دور کرکے صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی امامت کرکے پختون دنیا کو انسانیت سمجھا ئیں گے۔