جنوری 2019 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

اسلام دنیا کو انسانیت کے حقوق سکھانے نازل ہواتھا! اداریہ شمارہ جنوری 2019

ایرانی نژاد امریکی شیعہ خاتون نے عورت کے حقوق پر اسلام کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں مسلمانوں کے موجودہ حالات کے پیش نظر اس کا نکتہ نظر سو فیصد درست ہے لیکن چونکہ اسلام اجنبی بن چکا ہے اسلئے اسلام کے بارے میں مغالطہ کھایا ہے۔ اس خاتون نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’اسلام میں عورت کی حیثیت ایک مملوکہ اور لونڈی کی ہے ۔ عورت شوہر سے نکاح کرلیتی ہے تو عورت کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ ایران میں ایک عورت نے 40 ہزار تمن حق مہرکے عوض نکاح کیا تو اس کے شوہر کو لواطت کی لت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا ۔ شوہر نے خلع سے انکار کیا تو اس نے 50ہزار تمن کی پیشکش کی جس پر شوہر طلاق دینے کیلئے راضی ہوا۔ لونڈی کی حیثیت مملوکہ کی ہوتی ہے اسلئے اس سے نکاح کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ازدواجی تعلق ویسے ہی جائز ہوتا ہے۔ متعہ کے نام پر عورت سے لوگ خواہشات پوری کرتے ہیں مگر اس سے نکاح نہیں کرتے اور بہت گرا ہوا سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہیں ہے‘‘۔ ایرانی نژاد امریکی خاتون نے جو لکھا وہ معلومات کے مطابق تھا۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ البتہ اسلام ایسا نہیں ہے۔
جب عورت لونڈی ہوا کرتی تھی تو اسلام نے اس کی ملکیت کا خاتمہ کرکے وہ حیثیت دی جو ایک گروی فرد کی ہوتی ہے۔ جس طرح جانور اور مال و اشیاء کسی کی ملکیت ہوسکتے تھے اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں کو بھی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے ملکت ایمانکم ’’جسکے مالک تمہارے معاہدے ہیں‘‘ میں بدل دیا تھا۔ اس لفظ کا اطلاق حلیف قبیلہ اور کاروباری شراکت دار پر بھی ہوتا ہے۔ جس کیساتھ باقاعدہ نکاح کے بجائے ایرانی متعہ یا سعودی مسیار کی طرح ایگریمنٹ ہو تو اس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسلام نے حق مہر کو نکاح کی سیکورٹی کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔ اگر مغرب میں آدھی جائیداد کے بجائے باہمی رضامندی سے حق مہر کا تعین کیا جائے تو بہت سے رشتے نکاح کرتے نظر آئیں گے۔
امریکہ و یورپ اور برطانیہ و آسٹریلیا سمیت تمام نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں ایک لڑکی کے ساتھ بیک وقت کئی افراد کی دوستی قانونی طور پر درست ہے۔ جسکے نتیجے میں مرد اپنی اولاد کے یقینی ہونے پر شک کرتا ہے۔ عمران خان نے جس کی وجہ سے امریکی عدالتوں کا سامنا کیا تھا۔ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے کہ باپ اپنے بچے کا منکر ہو اور عدالت کے ذریعے وہ بچے کو اپنا بچہ کہنے پر مجبور ہو۔ اسلام عورتوں کو کسی ایک سے رشتے کا پابند بنا کر بے راہروی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر خواتین کو لونڈی بنانے کے بجائے یہ اجازت دی کہ جو ایگریمنٹ کرنا چاہے وہ ایگریمنٹ کرسکتا ہے۔ جبری طور پر لونڈی بنانے کے مقابلے میں باہمی رضامندی سے ایگریمنٹ کا طریقہ اسلام کا دنیا پر احسان عظیم ہے۔ اگر اسلامی قوانین کی حقیقت دنیا کے سامنے آگئی تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں ایک اسلامی معاشرتی انقلاب آئے گا۔
اسلام نے عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی آدھا حق مہر فرض کردیا ہے۔ ہاتھ لگانے کے بعد پورے حق مہر کے تعین میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔ قرآن نے بار بار یہ بھی واضح کردیاہے کہ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتے ، چاہے خزانے ہی کیوں نہ دئیے ہوں۔ یہ مسلمانوں کیلئے افسوس اور بے غیرتی کا مقام ہے کہ عورتوں سے بچے جنوانے کے باوجود جب ان کو طلاق دیتے ہیں تو جو حق مہر مقرر ہوتا ہے وہ دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خلع کی صورت میں بھی واضح کردیا ہے کہ عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو۔ اور نہ ان کو جانے سے اسلئے روکو کہ بعض دی ہوئی چیزوں کو واپس لے لو۔ جب خلع کی صورت میں حق مہر اور دی ہوئی چیزیں واپس لینا جائز نہیں تو طلاق میں یہ گنجائش کیسے نکل سکتی ہے کہ اس کے حق مہر پر بھی قبضہ جمالیا جائے؟ ۔
مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون ہے کہ طلاق مرد دے یا عورت مگر دونوں کے درمیان آدھی آدھی جائیداد تقسیم کی جائیگی۔ یہ غیر فطری اورنا انصافی کا معاملہ ہے۔ جرم ایک کرے اور سزا دونوں کو ملے۔ اسلام میں معاملہ انصاف کے عین مطابق ہے۔ اگر شوہر طلاق کا فیصلہ کرتا ہے تو عورت کو حق مہر اور تمام دی ہوئی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے علاوہ ہر دی ہوئی چیز دے دی جائے گی لیکن اگر عورت نے خلع کا فیصلہ کیا ہو تو حق مہر اورمنقولہ مال و اشیاء وہ لے جاسکتی ہے لیکن گھر ، زمین اور دکانیں وغیرہ وہ اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتی ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ عورت خلع کا فیصلہ بھی خود کرے اور شوہر کو مکان و جائیداد سے بھی بے دخل کردے۔ البتہ اگر شوہر طلاق دیتا ہے تو پھر وہ اپنے لئے الگ راستہ ناپے گا۔
مسلمان خواتین کی حق تلفی کا رونا آسمان کے فرشتے بھی روتے ہونگے اور نبی ﷺ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد فرمائیں گے و قال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القرآن مہجوراً ’’اوررسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قو انفسکم و اھلیکم ناراً ’’اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ‘‘۔ بیوی اور بچے رعایا کی طرح ہی ہوتے ہیں اور ان کی حق تلفی کی گئی تو قیامت کے دن اللہ پوچھے گا۔ مسلمانوں کے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دوسری قوموں کی طرف سے مظالم کا رونا رو رو کر بد حال ہوچکے ہیں مگر خود جو مظالم کرتے ہیں اسکا ذرا بھی احساس نہیں رکھتے ہیں۔ اسلام دنیا میں انسانیت کے حقوق بحال کرنے کیلئے نازل ہوا ہے۔
مسلمانوں نے اپنے گھر سے ابتداء کرنی ہے اور پھر پوری دنیا کو مظالم سے بچانا ہے۔ عالمی اسلامی خلافت کا قیام اس وقت ممکن ہے کہ جب پوری دنیا کو یہ یقین آجائے کہ مسلمان دنیا کے مسیحا بن کر آرہے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ چین کو اپنے لئے روس سے زیادہ خطرہ قرار دے اور ہمارے ہاں کے بہروپیا امریکہ کی خواہشات پر چلنے کا نام لینے کے بجائے یہ کہنا شروع کریں کہ چین ظالم ہے اور اس سے بدلہ لینا ہے تو اس سے بدرجہا ہماری ریاست کے کرتے دھرتے بہتر ہوں گے جو برملا کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مفاد میں اپنے فیصلے کرنے ہیں۔
اگر دنیا کو یقین ہو کہ مسلمانوں نے سب کی ماؤں بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈیاں بنانا ہے تو وہ مسلمانوں کی تذلیل کیلئے طرح طرح کے اقدامات ہی کریں گے۔ اگر مسلمانوں نے اسلام کی درست تصویر پیش کی اور اپنے عمل سے اس آئینے کا عکس دکھایا تو نہ صرف مسلمان معاشرہ خوشیوں کی برسات دیکھے گا بلکہ دنیا بھی ہمارے معاشرتی نظام کیلئے دل و جان سے ترسے گی۔ کوئی خوشامد کام آئیگی اور نہ کوئی آپس کی دشمنی بلکہ حق کی بالادستی واحد نسخہ ہے۔ عتیق گیلانی

سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کیلئے طلاق کے مسئلے کا حل! اداریہ شمارہ جنوری 2019

پاکستان کے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ سے اگر اسلام ، حقوق نسواں اور کسی طور پر انسانیت کیلئے کچھ نہیں ہوتا تو وہ ہندوستان دشمنی میں ہی سہی لیکن مسلمانوں پر رحم کرے۔ طلا ق کا مسئلہ ہم اپنی کتابوں ’’ابر رحمت ‘‘ ، ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ اور ’’ تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل‘‘ میں پیش کرچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 228میں طلاق شدہ خواتین کیلئے عدت کے تین مراحل تک انتظار کا حکم فرمایا اور عدت کے دوران باہمی صلح سے رجوع کی بھی وضاحت کردی۔ قرآن میں ایسا تضاد ممکن نہیں کہ اگلی آیت میں ہی دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ کی طلاق سے رجوع کا دروازہ بند کیا جائے۔ یہ حافظہ تو چوہے کا بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت 229البقرہ میں مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع یااحسان کے ساتھ رخصت کرنے کی وضاحت فرمائی ہے۔ اگر تیسرے مرحلے میں معروف رجوع کرلیا تو رات گئی بات گئی لیکن اگر تیسرے مرحلے میں احسان کیساتھ چھوڑنا ہوا تو پھر اللہ نے مزید وضاحت کردی ہے کہ اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو ، مگر یہ کہ دونوں کا اس بات پر اتفاق ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ اوراگر( اے فیصلہ کرنے والو ! ) تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (البقرہ: آیت 229)
اس آیت میں خلع کا کوئی تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن نصاب اور تفسیر کی کتابوں میں بدقسمتی سے اس سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ طلاق کی وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنے والے اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان دونوں میں نہ صرف جدائی ناگزیر ہے بلکہ آئندہ رابطے کا بھی کوئی راستہ نہ چھوڑا جائے۔ اس طلاق کے بعد سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ مردانہ مزاج کا یہ فطری تقاضہ ہوتا ہے کہ کسی صورت میں بھی طلاق کے بعد وہ اپنی سابقہ بیگم کو کسی دوسرے کیساتھ ازدواجی تعلق میں برداشت نہیں کرسکتا۔ اس معاشرتی برائی کے خاتمے کیلئے اللہ تعالیٰ نے متصل آیت 230البقرہ میں یہ واضح کردیا کہ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ’’پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ اس کا معنیٰ مروجہ حلالہ اور دورِ جاہلیت کی لعنت نہیں بلکہ یہ اس رسم بد کا خاتمہ ہے کہ شوہر خود بسانا بھی نہ چاہے اور دوسرے سے بھی نکاح نہ کرنے دے۔ دوسری صورت اس کی یہ ہے کہ عورت پہلے شوہر سے ازدواجی تعلق پر راضی نہ ہو تو اس کیلئے یہ حکم زبردست نسخہ کیمیا ہے۔ یہ بہت بڑی عجیب سی بات ہے کہ حلالہ کی لعنت کے رسیہ علماء و فقہا نے تمام حدود و قیود کو توڑ کر حلالہ کی رسم بد کو رائج کرنے کیلئے قرآنی آیات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ نہ تو عدت میں آیت کو دیکھا کہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ مرحلہ وار طلاقوں کی آیت کو دیکھا اور نہ ہی یہ دیکھا کہ باہوش و حواس جدائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
قرآن میں بنیادی بات باہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت ہے لیکن بدقسمت اُمت مسلمہ نے باہمی رضامندی کی آیت کو ایک گالی بنادیا ہے۔ جسے معاشرے میں ’’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘‘کی پھبتی سے متعارف کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایک ساتھ تین طلاق کو اپنی تہذیب و تمدن کا ایسا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ اس سے رجوع کا کوئی دور دور تک بھی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اُمت قرآن سے دور ہوگئی ہے اور ہندوستان میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے علاوہ ٹی وی کے ہر چینل اور پبلک مقامات پر گالیاں ہی گالیاں کھارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کوانسانیت سربلند کرنے کیلئے نازل فرمایا تھا مگر مسلمانوں نے اسلام کی حقیقت کو چھوڑ کر خود کو دنیا میں ذلت سے دوچار کیا۔
شوہر و بیوی میں جدائی کے تین طریقے ہوسکتے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ دونوں کو جدائی مقصود ہو۔ اس کی وضاحت سورہ بقرہ کی آیت 230میں موجود ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیوی جدائی نہ چاہتی ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عدت کی تکمیل پر بھی اللہ نے سورہ بقرہ آیت 231میں شوہر کو معروف طریقے سے جدا یا معروف طریقے سے چھوڑنے کی وضاحت کردی ہے۔ اگر بیوی صلح نہ کرنا چاہتی ہو تو شوہر عدت میں بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بیوی نے ناراض ہوکر طلاق لی ہو لیکن عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد پھر اپنے شوہر سے رجوع کرنا چاہتی ہو تو اللہ نے سورہ بقرہ آیت 232میں رجوع کی وضاحت کی ہے ۔ جب دونوں باہمی رضامندی سے رجوع کرنا چاہتے ہوں ۔
سورہ بقرہ کی اس تفصیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق کی دو آیات میں بھی یہی وضاحت فرمائی ہے۔ مسلمانوں نے قرآن کی قدر نہیں کی اور اس کی وجہ سے آج بھارت میں مودی سرکار اور ہندوؤں کے ہاتھوں بھی ذلت سے دوچار ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اس اہم ترین مسئلے پر خود نوٹس لیکر پاکستانیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔ اسلام میں حلالے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے ، مولوی نے دجال سے بدتر ہوکر دونوں آنکھیں بند کرلیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے نبی ﷺ کی حدیث اپنی کتاب ’’علامات قیامت اور نزول مسیح‘‘ میں نقل کی جس میں حکمرانوں اور رہنماؤں کو دجال سے زیادہ بدتر اور خطرناک قرار دیا ہے۔دجال کی جو خاصیات بیان کی گئی ہیں ان میں گھروں کو اس طرح تباہ اور عزتوں کو اس طرح پامال کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں‘‘ جو تفصیلات مساجد کے ائمہ اور مدارس کے مفتیان کے حوالے سے موجود ہیں وہ بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔ اگر پاکستان کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے گھر اور عزتوں کو نہیں بچایا تو ان کی کسی شرافت ، دیانت ، امانت اور صداقت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کام نہیں آئیگا۔ یہ اپنی ساکھ کھوچکے ہیں اور لوگوں نے ان کی کسی خوشی پر خوش نہیں ہونا ہے اور نہ ان کے کسی غم کا کوئی غم کھانا ہے۔ بدلے ہوئے پاکستان میں آرمی کا کردار اس وقت نمایاں حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کہ جب اس اہم مسئلے پر پاکستان کی عوام کو اس مشکل سے نکالیں گے جس مشکل میں مذہبی طبقے نے ڈالا ہے۔ اگر یہ کٹھ پتلی علماء و مفتیان سے بھی خوف کھائیں گے تو ان کی بہادری ملک کو کسی بھی آزمائش میں کام نہیں آئے گی۔ سپریم کورٹ مسلمانوں اور انسانوں کے حقوق کا پاس رکھتی ہے تو قرآن کے واضح احکام کی روشنی میں از خود نوٹس کے ذریعے ایک لارجر بنچ تشکیل دے۔ چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز صاحب بھی اپنے ایمان کو بچانے کیلئے کردار ادا کریں ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی….

حقیقی اسلام کے بغیر مسلمان کبھی ہدایت نہیں پاسکتے! اداریہ شمارہ جنوری 2019

سعودی عرب ، ایران اور افغانستان میں اسلامی قوانین کے نام پر حکومتوں کا سلسلہ رہا ہے۔ مسلمان یورپ و امریکہ اور برطانیہ و آسٹریلیا میں جس قدر انسانی حقوق رکھتا ہے اس کاتصور بھی سعودیہ و ایران اور طالبان کی اسلامی حکومتوں میں نہیں کرسکتا تھا۔ اسلام کے نام پر بننے والی ریاستوں اور حکومتوں میں اسلام کا جو خول نظر آتا ہے وہ اسلام کی حقیقی تصویر کو پیش کرتا ہے یا نہیں ؟ یہ قابل غور ہے۔
دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے پہلا اور آخری علمبردار صرف اور صرف اپنا اسلام ہی تو ہے۔ وہ اسلام جس نے حجاز کے خطے سے نمودار ہوکر دنیا کی دو بڑی سپر طاقتوں قیصرروم اور کسریٰ ایران کی حکومتوں کو شکست فاش دی۔ یہ کارنامہ تو انسانی حقوق کی بحالی کی وجہ سے ہی انجام پایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کا خاتمہ ہوا تو روئے زمین پر کسی نے ان سپر طاقتوں کی احیاء کیلئے ذرا نام تک نہیں لیا لیکن جب سقوط بغداد سے بنو عباس کی خلافت کا دھڑن تختہ ہوا تو فاتح ترک قوم نے اسلام قبول کرکے دوبارہ خلافت عثمانیہ قائم کردی۔
آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی خلافت سمٹتے سمٹتے دنیا سے ملیا میٹ ہوگئی اور تاج برطانیہ کے اقتدار نے دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر خطہ زمین پر روس و امریکہ دو سپر طاقت بن کر ابھرے اور مسلم ریاستیں اور حکومتیں آج سرنگوں ہیں ؟، کیا سعودی اور عرب بادشاہتوں میں محنت مزدوری کرنیوالے لوگ اپنے حقوق کو محفوظ سمجھتے ہیں؟۔ کیا مسلمان گھروں کی زینت ، شوہروں کا سکون ، مائیں جن کے قدموں کے نیچے جنت ہے ان کمزور خواتین اور بے بس رعایا کو ہم نے حقوق دے رکھے ہیں؟۔ اللہ کی ذلت اور پھٹکار اسلئے مسلمانوں پر برس رہی ہے کہ وہ خواتین کو انکے حقوق سے محروم کرنے میں دنیا کی سب سے بڑی لعنتی قوم ہے۔ پہلے مشرکین مکہ تھے جن کا قصہ تاریخ کے اوراق تک رہ گیا ہے۔ پھر ہندوستان کی ہندو برادری تھی جو ہمیشہ فاتحین کے قدموں میں روندے گئے اور اب مسلم اُمہ ہے جو دنیا میں آخری حد تک اپنی ذلت و پھٹکار دیکھنے کے باوجود ہوش کے ناخن نہیں لیتی۔ آخر کب تک مسلمان اپنے عروج کی طرف واپس لوٹیں گے؟۔
مسلم سلاطین نے 8 سو برس تک ہندوستان پر حکومت کی مگریتیم بچوں کی ممتا کو زندہ جلانے سے بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ جس برصغیر پاک و ہند میں یتیم بچوں کی ماں کو ’’ستی‘‘ کی رسم میں زندہ جلادیا جاتا ہو ، اس میں آزادی کی لہر دوڑانے کیلئے کوئی عظیم سپوت کہاں سے پیدا ہوتا؟۔ جہاں حنفی مسلک نے اپنا ڈیرہ ڈال رکھا تھا اور جب کسی خاتون کا شوہر گم ہوجاتا تو اس کیلئے 80سال تک انتظار کی آگ میں جلتے رہنے کا حکم تھا۔ مولوی طاقتور کے سامنے لیٹ کر بھیگی بلی بن جاتا ہے اور کمزور پر اپنی طاقت خوب جماتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی بیگم جمائما خان نے اسلام قبول کرکے پھر یہودی کلچر اپنالیا مگر کسی مولوی میں اس کے خلاف مرتد اور واجب القتل بننے کے فتوے کی جرأت نہیں ہوئی۔ کسی غریب کی عورت اسلام قبول کرکے مرتد بن جاتی تو اس کا جینا دوبھر کردیا جاتا۔ برطانیہ کا اقتدار تھا تو ایک مسلمان عورت کا شوہر گم ہوگیا تھا، علماء و مفتیان کا فتویٰ تھا کہ وہ حنفی مسلک کے مطابق 80سال تک انتظار کرے گی ۔ اس عور ت نے عیسائیت قبول کرکے اسلام کو چھوڑ دیا ۔ مولوی میں فتویٰ لگانے کی جرأت نہیں تھی تو فتوے کو بدل ڈالا ۔ حنفی مسلک کے بجائے مالکی مسلک پر 4سال تک انتظار کا حکم دیا ۔
فقہی مسالک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں اختلافات اور تضادات کی بنیادی وجہ قرآن و سنت کے فطری احکامات سے انحراف ہے۔ اسلام نے شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے تو پہلے عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ فقہاء نے قرآنی آیت سے مغالطہ کھایا اور بیدہ عقدۃ النکاح ’’جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے‘‘سے مراد یہ لے لیا کہ طلاق کا گرہ صرف شوہر کا حق ہے۔ حالانکہ قرآن نے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں نکاح کی نسبت خواتین کی طرف بھی کی ہے و اخذن منکم میثاقاً غلیظاً ’’اور انہوں نے تم سے پکا عہد و پیمان لے لیا ہے‘‘۔ سورہ النساء آیت 19میں پہلے عورت کو شوہر کی جبری ملکیت سے باہر قرار دیکر خلع کا حق دیا گیا ہے اور پھر آیت 20اور 21النساء میں شوہر کو طلاق کا حق دیا گیا ہے۔
شوہر کی گمشدگی کا مسئلہ آیا تو قرآن کی طرف رجوع کرنا تھا۔ عورت کو ایلاء یا ناراضگی پر 4ماہ کا انتظار ہے(سورۂ بقرہ آیت226)اگر پہلے سے طلاق کا عزم تھا تو اللہ کی پکڑبھی ہے جو آیت225 ، 227البقرہ میں واضح ہے، اسلئے کہ عزمِ طلاق کا اظہار کیا تو 4ماہ نہیں3 طہروحیض یا3 ماہ کا انتظار ہے۔جس کی وضاحت آیت 228 البقرہ میں ہے۔ ایک ماہ کا اضافہ اللہ نے جرم قرار دیا تو 80سال اور 4سال کے انتظار کا اجہتاد کونسے باغ کی مولی ہے؟۔جبکہ عدتِ وفات 4ماہ 10دن ہے۔ قرآن نے خاص عمر کے بعد عورت کو کپڑے اتارنے کی اجازت دی کہ جب نکاح کی رغبت نہ ہو۔ پھر زینت کی جگہوں کو چھپانے کا حکم دیا تاکہ کوئی فائدہ اٹھاکر زینت کی نمائش نہ کرتی پھرے۔ ماں کے پیٹ میں نکاح ہو اور شوہر گم ہو تب بھی 80سال بعدعورت نکاح کے قابل نہیں رہتی ہے۔
آج بھارت کی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نے طلاق ثلاثہ اور حلالہ کی بنیاد پر مسلم خواتین کے انسانی حقوق کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ تطلیقات ثلاثہ کے موضوع پر 4،5، 6نومبر 1973کو اسلاملک ریسرچ سینٹر احمد آباد کی طرف سے ایک سیمینار مولانا مفتی عتیق الرحمن صدر آل انڈیا مجلس مشاورت کی صدارت میں ہوا، جس میں مولانا سعید احمد اکبر آبادی ایڈیٹر ماہنامہ برہان دہلی ، مولانا سید احمد عروج قادری ایڈیٹر ماہنامہ زندگی رامپور، مولانا مختار احمد ندوی صدر جمعیت اہل حدیث بمبئی، مولانا سید حامد علی سیکریٹری جماعت اسلامی ہند، مولانا محفوظ الرحمن قاسمی اُستاذ مدرسہ بیت العلوم مالیگاؤں، مولانا عبد الرحمن مبارکپوری ، مولانا شمس پیرزادہ امیر جماعت اسلامی مہاراشٹرنے شرکت کی۔ یہ کتابی شکل میں ’’ایک مجلس کی تین طلاق‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ مولانا سید احمد عروج قادری نے ایک ساتھ تین طلاق منعقد ہونے پر زور دیا اور باقی علماء کرام و مفتیان عظام کی رائے ایک ساتھ تین طلاق منعقد ہونے کے بالکل منافی تھی۔ اس سیمینار کو بہت جرأتمندانہ اقدام قرار دیا گیا۔ اسکے بعد ہندوستان کے معاشرے میں ایک تبدیلی کا آغاز ہوا ، اگر اس وقت دوسرے مدعو علماء و مفتیان بھی شرکت کرنے کی جرأت کرتے اور ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سے اس مشکل کا حل نکالا جاتا تو آج ہندوستان کے مسلمانوں کو اتنی ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ہم نے بار بار بہت واضح انداز میں تین طلاق اور حلالہ کے بغیر رجوع کا یہ بہت بڑا اور بنیادی مسئلہ حل کیا ہے اور بڑی تعداد میں علماء کرام ، مفتیان عظام و دانشور حضرات اور عوام الناس کو اچھی طرح سے سمجھ میں آیا ہے لیکن اسکے باوجود بھی بڑے علماء و مفتیان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور مسلمانوں کیساتھ ساتھ اپنے اوپر رحم کھانا چاہیے۔ ہمارا یہ کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ بہت بڑے رسک پر ہم نے اللہ کے فضل سے مسئلہ اٹھایا۔

خلافت قائم ہو توعریاں لباس لونڈیوں کی بھرمار ہوگی؟ اداریہ شمارہ جنوری2019

یہ تأثر ہے کہ اسلامی خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر کے کفار کو دعوت دی جائے گی کہ اسلام قبول کرو، نہیں توجزیہ دو، ورنہ جہاد کیلئے تیار ہوجاؤ۔ پھر انکے مردوں کو غلام اور خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ لونڈی کا لباس مختصر ہوگا۔ ایک طرف خواتین کیلئے پردے کی پابندی ہوگی۔ سعودیہ وایران اور افغانستان کے طالبان دور میں خواتین کیلئے جو پردہ رائج تھا، یہ اسلامی ماڈل ہے تو دوسری طرف حسین لونڈیوں کی نیم وعریاں لباس میں چہل پہل، ریل پیل اور دھوم دھام نئی دنیا کا منظر پیش کررہاہوگا۔ دنیامیں جنت نظیر حوروں کی بہتات اور واہیات سے کیا نظارے ہوں گے۔ کیا یہی مصور پاکستان شاعرمشرق اقبال کے خواب کی تعبیر ہوگی کہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
جب لونڈی کامختصر لباس ہوگا۔ بسوں، ریل گاڑیوں اور پبلک مقامات کے ہر منظر وگوشے پر مخلوط حضرات ولونڈیوں کا سماں ہوگا، یہ قانون ہوگا کہ شادی شدہ لونڈی کی سزا نصف ، 100 نہیں 50 کوڑے ہونگے اور اگر لونڈی شادی شدہ نہ ہوگی تو اس کی سزا کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ اگر لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہیں تو زناپر مجبورنہ کیا جائیگا۔ ولاتکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا ’’اوراپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں‘‘۔
بڑی تعداد میں حسین وجمیل لونڈیوں کی اسلامی خلافت میں آمد کے بعد آدمی کیلئے تعداد کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ جب سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جواں سال لونڈیوں کی جھرمٹیں سرمایہ دار اور بااثر طبقات کی ملکیت ہونگی تو فیکٹریوں ، ملوں ، مارکیٹوں اور دفاتر میں ان سے کام لیا جائیگا اور سب کی جنسی خواہشات پوری کرنا بھی انکے بس کی بات نہ ہوگی۔ مالکان کی اجازت سے نکاح کیا جاسکے گا لیکن اس نکاح کی ثانوی حیثیت ہوگی ، اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو ہی ان سے نکاح ہوگا۔ جب انکے ساتھ ان کی خواہش پر بدکاری کی جائے تووہ سزا کی مستحق نہ ہونگی اور گواہی کیلئے چار افراد کی ایسی شہادت ممکن نہ ہوگی جس کا اسلامی مروجہ قانون میں تقاضہ ہے۔ یہ تو اس صورت میں ممکن ہوگا کہ جس طرح مولانا طارق جمیل نے حوروں کی تعریف کی ہے کہ ستر لباس میں بھی وہ عریاں نظر آئیں گی اور جنت کی شراب طہور پیتے ہوئے اسکے حلق میں اترتی نظر آئیگی اور اسکے بے قرار دل میں محبت کی تڑپ سے ہلتی جلتی ہوئی شریانیں بھی نظر آئیں گی۔ اس طرح سے اگر دنیا کی زمین میں انسانی جسم شفاف مادے کی طرح ہوجائیں تو سرمہ دانی اورکنویں میں سلائی اور ڈول کی رسی نظرآنی ممکن ہوسکے گی اور کسی ایک نے گواہی کا حق اس طرح سے پورا نہ کیا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والے 3 افراد کی طرح الٹی ماربھی ان گواہوں کو ہی پڑے گی۔
بہت سارے دانشور ،ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مذہبی منطق لڑانے والے اس طرح کے اقدامات اورماحول کو جواز بخشنے کیلئے ایران ،سعودیہ اور افغانستان سے مشابہ قوانین کیلئے زیادہ بہتر عقلی اور نقلی دلائل بھی پیش کرینگے۔ روس و امریکہ اور برطانیہ بھی دوسروں کو کچل کر غلام بنادیتے تھے تو انکے خلاف اپنے کبھی بغاوت نہیں کرتے ۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کردیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یمن اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہے۔ آنے والا وقت بتائیگا کہ ایران ، سعودیہ اور پاکستان کی باری کب لگتی ہے۔ اس جنگی مہم جوئی کے جواز کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ طاقتور ہیں جو چاہیں کرنے کا حق ہے، البتہ یہ مہربانی ہے کہ ہماری خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا گیا۔ ورنہ تو افغانستان وعراق اور لیبیا کی مسلم خواتین اسرائیل وامریکہ، برطانیہ و یورپ میں لونڈیوں کی صورت میں دنیا بھر کی میڈیا پر دکھائی جاتیں اور ہماری کچھ این جی اوز کی خواتین یہ دعوت دیتیں پھرتیں کہ یہاں کی آزادی سے وہاں کی لونڈی بننا بدرجہا بہتر ہے۔
جب طاقت کیساتھ مذہبی جذبہ مل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا توڑ نہیں نکال سکتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی طاقت مذہب کے مقابلے میں اس طرح سے ناکام ہوئی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ افغانیوں کو رام کرنے میں طاقت، پیسہ ، وسائل اور سازشوں کے تانے بانے استعمال کرنے کے بعد بھی اس طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ایک طرف نیٹو نے بے تحاشا ظلم و جبر دکھانے کے باوجود مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کا کام نہ کیااور دوسری طرف سعودیہ نے مغرب کی آزادی خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی جذبوں اور جہادی قوتوں کے پیچھے ہمیشہ سے ریاست کارفرما رہی ہے ۔ ریاست قادیانیوں کیساتھ تھی تو عدالتوں نے قادیانی مخالف علماء کو فسادی اور قادیانیوں کو صحیح مسلمان کہا تھااور ختم نبوت کی تحریک چلانے والوں کو پھانسیوں کی سزا اور معافی مانگنے سے لیکر علماء اور عاشقانِ رسول ﷺ کو داڑھی تک منڈوانا پڑ گئی تھی۔ حکومت اسلامیہ کالج کراچی کی جگہ پر شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی کا یادگار بنانے کیلئے علامہ یوسف بنوری ؒ کو مدرسہ بنانے کیلئے دے رہی تھی مگر قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی اس میں رکاوٹ بن گئے۔ پھر ریاست کا موڈ بدل گیا تو ایک ایسی تحریک ختم نبوت جو مجلس احرار اسلام کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظیم قربانیوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی مگر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی۔ اگر ریاست نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے ذریعے خلافت قائم کردی اور امریکہ وبرطانیہ اور یورپ و اسرائیل کو اپنا حلیف قرار دیا تو روس وچین ،بھارت، جاپان وکوریا اور کئی دیگر ممالک سے خواتین کو لونڈیاں بناکر ایک نئی مہم جوئی کا آغازبھی کرسکتے ہیں۔
ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ کیساتھ میثاق اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ تھا۔ پاکستان کیساتھ اسرائیل میثاق مدینہ کا بڑا فریق ہوگا اور بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگا تو بعض مسلمان مشرک بنیں گے۔پھر جب امریکی CIA مجاہدین کی طرح سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد پھینکے گی بلکہ مخالف کاروائیاں شروع ہونگی تو اقتدار مرزائیوں کو سونپ دیا جائیگا۔ جن کا نظریہ جہاد کی منسوخی ہوگا۔ مسلم اکثریت تھک ہار کر علماء ومفتیان کے اسلام سے بیزار ہوچکی ہوگی۔انگریز کے خود کاشتہ پودے کاتناآور درخت مرزا قادیانی کا پھل مسلم و غیرمسلم کھائیں گے اور اصلی اسلام کی جگہ جعلی اسلام لے گا توسارا قصہ ختم ہوگا ۔جہاد کے خاتمہ میں قادیانی نبوت ناکام ہوگئی مگر تبلیغی جماعت نے جہاد سے عملی طور پر لوگوں کو دور کردیا۔ مولانا مسعود اظہر نے اسلئے انہی سے گلہ کیا تھا،کرایہ کے جہاد نے جہاد کو بدنام کرکے اسکی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔

عورت کی غلامی اور اسلام کا کردار! نادر شاہ۔۔۔ مدیر منتظم ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی

عورت کو اسلام نے عزت دی۔ زن ،زراور زمین کی فتنہ سامانیوں کے نام پر قوانین بنائے گئے مگر اسلام نے دنیاکو جہالت سے نکالنے میں جو کردار ادا کیا، اسلام من وعن نافذ ہوتا تو آج دنیا کی حالت بدلی ہوتی ۔ اسلام نے زمین کی ملکیت کوجائز اور مزارعت کو سود قرار دیا،اگر عمل ہوتا تو غلامی کا نام ونشان نہ ہوتا۔امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں کیونکہ اس پر احادیث صحیحہ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن مسلمان اس سے روگردان ہوگئے، اگر مسلمان اس پر عمل پیرا ہوتے تو کمیونزم اور کیپٹل ازم نہ ہوتا۔ حیلہ ساز فقہاء نے ہردور میں طاقتور طبقے کا ساتھ دیا اور اسلام کا بیڑہ غرق کردیا، شیخ الاسلام نے پھر سودی نظام کو بھی جواز بخش دیا۔ زمین و زر کے مسائل بھی حل کرنے ہونگے لیکن اب زن کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔
زمین کوکرایہ، لیز اور ملکیت پر لیا جاسکتاہے۔اگر متعہ کی حیثیت کرایہ ، نکاح کی لیز ، لونڈی کی ملکیت کا تصور ہوتا تو بھی عوام سمجھ سکتے کہ خواتین کیلئے کیا قوانین ہونگے لیکن عورت کے حوالہ سے بڑی کنفیوژن ہے۔ علماء کا خیال ہے کہ شوہر بیوی کے3 طلاق کا مالک ہے۔ ایک طلاق دی تو2طلاق کی ملکیت باقی ہے ، 3طلاق دی تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا، ایک طلاق کے بعدعورت نے دوسری جگہ شادی کی پھر دوسرے نے طلاق دی اور پہلے شوہر کا دوبارہ نکاح ہوا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر نئی تین طلاق کا یا بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا؟۔ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، محدثینِ عظام ؒ ، بعض اکابرصحابہؓ کے نزدیک بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا۔ ابن مسعودؓ، ابن عباسؓ،ا بن عمرؓ کے نزدیک دوبارہ پھر 3طلاق کا مالک ہوگا۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ سے امام محمدؒ اور امام زفر ؒ کا اختلاف اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ ایک ضعیف حدیث ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت کا کسی اور شوہر سے نکاح ہوتو دوبارہ نکاح سے پہلا شوہر پہلے بقیہ 2طلاق کا مالک ہوگا۔
اگر نبیﷺ پر کوئی جھوٹ گھڑ سکتا ہے تو باقی لوگوں پر زیادہ جھوٹ گھڑنے کا امکان تھا۔ایک طرف کیسے سمجھا جائے کہ اکابر واصاغر صحابہؓ ، ائمہ مجتہدینؒ ، ومحدثینؒ اور معتبر علمی کتب میں یہ اختلاف بے بنیاد کیسے ہوسکتا ہے؟۔ دوسری طرف یہ بڑا عجیب وغریب معمہ ہے کہ پہلا شوہر ایک طلاق دے اور عورت دوسری شادی کرلے تو پھر بھی پہلا شوہر بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوسکتاہے؟ ۔ دنیا میں ایسی ملکیت کا تصور نہیں کہ عورت کو10 شوہر ایک ایک طلاق دیکر فارغ کریں توپھر اس عورت پر دو دوطلاق کی 20 منزلہ عمارت کھڑی ہو؟، یہ عقل ونقل ، فطرت وشریعت اور سائنس وریاضی کے منافی ہے۔ ملاجیونؒ نے نورالانوار میں نقل کیا ۔ ہمارے استاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میںیہ لطیفہ سنایاتھا کہ ملا جیون ؒ بڑے غصے میں اورنگزیب بادشاہ کے پاس لوٹ گئے، کہا: میرا گھر کسی نے گرا دیا۔ اورنگزیب سمجھ گئے کہ بچوں نے مذاق کیا ہے۔ پوچھا کہ کیسے گرا، ملاجیون نے کہا کہ فلاں گاؤں کے نہر کا پل کوئی کاندھے پر اٹھاکر لے جارہا تھا تو اس کا ایک کونہ گھر پر لگا اور گھر مسمار ہوگیا۔ اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی 4 میل دور اتنے بڑے پل کو اٹھاسکے ؟۔ اس نے کہا کہ یہ ممکن نہیں، بادشاہ نے کہا کہ پھر یقین کیوں کرلیا؟، ملاجیون نے کہا مسلمان بچے جھوٹ نہیں بول سکتے، اسلئے یقین کرلیا۔ طلبہ نے بڑا زور دار قہقہہ لگایاکہ ملاجیونؒ کتنے سادہ تھے؟۔ سب لوگ ملا جیونؒ کو بڑا ولی مانتے تھے مگراس کی بیوی مخالف تھی۔ ایک مرتبہ بیگم صاحبہ نے آسمان میں اڑتے ہوئے ایک ولی کو دیکھا تو ملا جیون سے کہا کہ ولی ایسے ہوتے ہیں۔ ملاجیون نے بتایا کہ جس کو اڑتے دیکھا ، وہ میں ہی تو تھا، بیگم نے کہا: اسلئے چوتڑ ٹیڑھا ٹیڑھا کرکے اُڑرہے تھے؟۔
دنیا نے ترقی کرکے سیاروں کو مسخر کیا۔ ہمارے علامہ ’’ بے یدبیضاء ہے پیرانِ حرم کی آستیں‘‘ کا رونا رو ئے۔ کرامات کے نام پر جھوٹے نبی و مہدی کو پڑھا لکھا طبقہ بھی مان گیا۔ نصاب کی اصلاح سے علماء کی فکر درست ہوتی۔ اسلام کا بیڑہ تحریف نے غرق کرکے رکھ دیا۔ اسلام عظیم ، آخری اور انقلابی دین ہے۔ مردہ قوم کو اسلام سے زندہ کرنے میں دیر نہ لگے گی مگر افسوس کہ مذہب و سیاست پر مفاد پرستوں کا قبضہ ہے، عوامی آنکھوں میں جھوٹی شخصیت پرستی کی دھول جھونکی گئی۔ ملا جیونؒ کی اڑن طشتریاں اڑانے کاسلسلہ چل رہاہے، گھر کی تخریب پر یقین سے بڑامعاملہ ملکوں اور قوموں کی تعمیر کا دعویٰ ہے مگرہر لیڈر آتاہے اور اپنی بازیگری دکھاتا ہے اور ہماری قوم بے وقوف بنتی ہے۔
عربی میں مس کے دومعانی ہیں، ایک مباشرت اور دوسرا ہاتھ لگانا۔ قرآن لمس سے مراد مباشرت ہے لیکن فقہ کے بعض ائمہ نے ملاجیونؒ کی طرح ہاتھ لگانا مراد لیا ۔ قرآن میں یہودی علماء کی مثال گدھوں سے دی گئی جنہوں نے کتابیں لادی ہوں۔بخاری میں واضح ہے کہ کتابیں لادنے سے ذمہ داری اٹھانا مراد ہے۔ اسی طرح قرآن میں لایمسہ الا المطھرون ’’ اس کتاب کو نہیں چھوتے مگر پاکیزہ لوگ‘‘سے مراد عمل ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا تھا کہ ’’ دنیا میں موجود قرآن کو ہندو اور ناپاک لوگ چھوسکتے ہیں اسلئے یہ قرآن اصل نہیں بلکہ اس کی فوٹو کاپی ہے، اصل قرآن لوح محفوظ میں ہے‘‘۔
درسِ نظامی میں ہے کہ’’ قرآن تحریری شکل میں نہیں، کیونکہ تحریرنقش ہے جو نہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ‘‘ اسلئے بڑے بڑوں نے سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز کہا ہے۔ جو لوگ ذرا زیادہ سمجھدار تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’’لایمسہ الا مطہرون سے ثابت ہوتاہے کہ ہاتھ سے چھونا ممکن ہے اور یہ تحریری شکل میں ہی ہوسکتاہے‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے دور میں بادشاہ اپنے باپ کی لونڈی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس کی اجازت نہیں دی، فرمایا کہ نکاح سے مراد عورت کیساتھ لمس ہے، یہ لونڈی اسکے بیٹے کیلئے جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ جن نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر جیل میں قتل ہوئے وہ معلوم تھے مگر کوئی زباں نہ کھول سکتا تھا۔ ابویوسف کو قاضی القضاۃ کا عہدہ اسلئے ملا کہ بادشاہ کیلئے ناجائز لونڈی کو جائز قرار دیا اور اس سے بڑی بات موجودہ دور کے شیخ الاسلام نے کی کہ سودی نظام کو معاوضہ لیکرجائز کردیا۔فقہاء نے ایک طرف حنفی فقہ میں حرمت مصاہرت کے عجیب وغریب مسائل گھڑ دئیے اور دوسری طرف ابویوسف کیخلاف لکھنے پر مصر کے بازاروں میں امام غزالی کی کتابیں جلاڈالیں۔ امام غزالیؒ نے فقہ کی گمراہی سے نکل کر تصوف کا رخ کیا اور اسے کتابی شکل میں بھی اسی نام سے شائع کردیا ۔
اگر تاریخ وفقہ کے وسیع تناظر میں کہا جائے کہ عورت لونڈی ہو تو وہ موروثی جائیداد اور بیوی ہوتو لیززمین اور متعہ کی مثال کرایہ کے گھر کی طرح ہے تو بھی عوام کو کچھ نہ کچھ بات سمجھ میں آئیگی۔ موروثی زمین کی خرید وفروخت ہوتی ہے اور اس میں وراثت کا تصور ہوتاہے، لیز زمین کی ملکیت نہیں ہوتی البتہ فائدہ اٹھا یا جاتاہے، کرایہ وقتی بات ہوتی ہے۔ اسلام نے بہت بڑا اور بنیادی کارنامہ یہ انجام دیا تھا کہ لونڈی کی ملکیت کا بھی تصور بالکل ختم کرکے اسے ماملکت ایمانکم میں بدل ڈالا۔عربی میں ملکت فعل ہے اور ایمانکم اسکا فاعل ہے۔ یمین اصل میں دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں، کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس میں دایاں ہاتھ ہی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں ہاتھ بھی مؤنث ہے۔ یمین کی جمع اَیمان ہے۔آیت کے جملے کا لفظی ترجمہ یہ بنتاہے کہ ’’جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں‘‘۔ معاہدہ پر حقیقی ملکیت کا تصور ناممکن ہے۔ غلام اور لونڈی کی حقیقی ملکیت کا تصور اسلام نے ختم کیا۔ جسطرح جانور، مکان ، جائیداد اور سونے چاندی کی ملکیت ہے اسطرح کی ملکیت کا تصور معاہدے کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔ ملکی سطح پر معاہدہ ہو تو اس پر ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے، کاروباری شریک و قومی حلیف پر بھی ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوسکتاہے۔
کوئی غلام یا لونڈی خریدے تو مخصوص رقم کی بنیاد پر معاہدے کا مالک بنتاہے مگر انسان کا جانور کی طرح مالک نہیں بن سکتا ۔ جانور کی ذبح پر پابندی نہیں مگر لونڈی وغلام کو قتل کا حق نہیں۔ غلام یا لونڈی کو دس لاکھ میں گروی رکھا گیا، جب دوسرا شخص اس کو آزادی دلانا چاہے تو معاہدے کا مالک اس کی روک تھام کیلئے کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔
لونڈی کا دوسرے شخص سے نکاح ہو تو مباشرت کا حق صرف شوہرکو ہوگاپھر ملکت ایمانکم کی نسبت شوہر کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ یہ بڑی انقلابی تبدیلی تھی کہ اسلام نے انسانوں کو غلامی کے نظام سے نکال کر گروی حیثیت دی، آج بھٹہ مالکان مزدور کو گروی رکھتے ہیں اور جاگیردار مزارعین کو گروی رکھتا ہے اور یہ بھی گردنوں کی غلامی ہے۔ اسلام نے رقم کے بدلے قرض کی زیادتی کو سود قرار دیا، اس سے بڑھ کر انسانوں کو گروی رکھنے کی اجازت نہ دی۔
ابن حجر مکیؒ نے نبیﷺ کی28ازواجؓ کا ذکر کیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے 27کے نام نقل کرکے لکھا کہ ’’ ایک کا نام لکھنے کا وعدہ علامہ ابن حجرؒ نے پورا نہیں کیا‘‘۔ ان ازواجؓ میں حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کا بھی ذکر ہے۔ فتح مکہ کے بعد علیؓ نے اسکے شوہر کوقتل کرنا چاہاتو رسول اللہﷺ نے ان کی فرمائش پر اسکے مشرک شوہر کو پناہ دی مگر اسکا شوہر اسے چھوڑ کر گیا،پھر نبیﷺ نے ام ہانیؓ کو نکاح کی دعوت دی مگر اس نے معذرت کی۔ پھر اللہ نے آیات اتاریں کہ ’’ہم نے اے نبی تیرے لئے ان چچازاد و خالہ زاد کو حلال کیا، جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی‘‘۔ پھر حکم دیا کہ آج کے بعدآپ کو کسی سے نکاح نہیں کرنا چاہے کسی کا حسن آپ کو بھلا لگے اور نہ ایک کے بدلے دوسری کرنی ہے۔ الاماملکت یمینک ’’مگر جو تیرے لئے معاہدہ والی ہو‘‘۔ اس سے مراد لونڈی اور متعہ ہوسکتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ چاہتے تو مفتوحہ خواتین کو لونڈی بناتے مگر آپﷺ نے سب کو آزاد کہا، البتہ متعہ کی اجازت دی۔ دشمنوں سے یہ حسنِ سلوک بہت بڑے عالمگیر انقلاب کا ذریعہ بن گیا۔ اُم ہانیؓ کو لونڈی بنانا ناپسندیدہ تھا تو دوسری خواتین کو بھی برابری کی عزت ملی۔
یہ مثالی کیس تھا، نبیﷺ کو نکاح سے روکا گیامگر متعہ کی اجازت ملی ،علیؓ نے اسلئے کہا کہ ’’ اگر عمرؓ متعہ پر پابندی نہ لگاتا تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بد بخت‘‘۔ عوام نے متعہ کے نام پر حدود سے تجاوز کیا۔ کبھی اولاد سے انکار، کبھی کم سن بچی سے زیادتی کو متعہ کا نام دیا تو پھر حضرت عمرؓ نے پابندی لگادی۔ روایات میں یہ ہے کہ رسول ﷺ نے دو مرتبہ متعہ کی اجازت اور دومرتبہ پابندی لگادی۔
اگر امریکہ ومغرب میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو جو عمران خان کی طرح اپنی بیٹی ٹیرن سیتاوائٹ سے انکار کردیتے اور عورتوں کو عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا اور پھر اس وقت DNA ٹیسٹ سے تصدیق یا تردید بھی ممکن نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ امریکہ وبرطانیہ اور تمام ترقی یافتہ ممالک بھی یہ پابندی اسلئے لگادیتے کہ انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ کوئی بچی یا بچہ اپنے باپ اور شناخت سے محروم ہو تو انسانی حقوق کی اس سے زیادہ خلاف ورزی کیا ہوگی؟ برطانیہ کو جانوروں کے نسل کا بھی ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے ۔ جمائمانے ہوسکتاہے کہ عمران کو سمجھایا بھی ہو کہ انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزی ٹھیک نہیں کہ لڑکی باپ کی شناخت کا حق بھی کھودے۔ بشریٰ بی بی عمران خان کی روحانی مرشد ہے توگزشتہ کل زن مرید کی بیگم ریحام تھی پہلے جمائما نے عمران خان کو انسانیت سکھائی تھی، ان منازل سے گزر کر عمران خان کا دعویٰ ہے کہ بڑے لیڈر بن گئے۔
سعودیہ نے مسیار کے نام پر متعہ کی اجازت دی لیکن پہلے یہ اجازت نہ تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور سعودیہ کا یہ اقدام درست ہے یا غلط کہ متعہ سے روکا جائے یا اس کی اجازت دی جائے؟۔اسلام کے عظیم دین کو فقہ کے نام پر جس گرداب کا شکار کیا گیا، اس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانا ثریا سے علم ، دین اور ایمان کو واپس لوٹانے کے مترادف ہے۔ شرعی و اجتہادی احکام میں بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔شرعی حکم دائمی ہوتا ہے اور اجتہادی حکم وقتی ہوتا ہے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواء ؑ کو اجتہادی حکم کے تحت جنت میں شجرۂ نسب کے درخت کے قریب جانے سے روکا گیا، کوئی اور ایسا درخت نہیں ہوسکتا کہ جسکے قریب جانے اور ذائقہ چکھنے سے کوئی بھوکا اور ننگا ہوجائے لیکن اپنی جنسی خواہش سے بے بس ہوگئے ، بے قابو ہوکر حکم کی خلاف ورزی کردی ۔ پھر اسکے نتیجے میں قابیل کی پیدائش ہوئی، جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا ۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ سے نکاح کو اجتہادی حکم ہی سے منع کیا تھااسلئے انکے مقابلے میں لونڈی مؤمنہ اور غلام مؤمن سے نکاح کرنے کو زیادہ بہتر قرار دیا تھا۔ مہاجرینؓ کے قریبی رشتہ دار کزن وغیرہ کا تعلق مشرکینِ مکہ سے تھا۔ رشتہ کے معاملہ میں عزیز واقارب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اللہ نے شرعی بنیاد پر یہ حکم نہ دیا تھا۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے، یہودی عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تو اللہ نے فرمایا: والمحصنٰت من اہل الکتٰب حل لکم’’اور اہل کتاب کی پاکدامن خواتین تمہارے لئے حلال ہیں‘‘۔ مشرکوں سے نکاح ناجائز نہیں بلکہ مصلحت سے منع تھا،یہ شرعی نہیں اجتہادی حکم تھا، شرعی حکم ہوتا تو اہل کتاب سے بھی نکاح جائز نہ ہوتا۔وہ بھی تو شرکیہ عقیدہ رکھتے تھے۔
شرک میں اہل کتاب اور مشرکین برابر تھے، اللہ نے اہل کتاب اور مشرکینِ مکہ میں فرق روا رکھا تو کردار کو بھی اہمیت دی، چناچہ واضح فرمایاکہ ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام ہے‘‘۔ شوہر پاک کردار کا مالک ہو تو عورت بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور شوہر داغی ہوتو عورت بھی باغی ہوگی۔ خبیث مردوں کیلئے خبیث عورتیں اور خبیث عورتوں کیلئے خبیث مردوں کا ذکر قرآن میں ہے لیکن اسکا تعلق عقیدے سے نہیں کردار سے ہے۔
جب مسلمان سپر طاقت بن گئے اور یہودونصاریٰ کی خواتین مسلمانوں کو نکاح کیلئے ترجیح دیتی تھیں لیکن حضرت عمرؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ مسلم خواتین بے نکاح رہیں گی تو اہل کتاب سے نکاح پر پابندی لگائی۔ یہ اجتہادی پابندی مصلحت تھی مگرا بن عمرؓنے علت نکالی کہ ’’ یہ شرعاً ممنوع ہے اسلئے کہ تثلیث کے عقیدے سے بڑا شرک کیا ہوسکتا ہے‘‘۔ اجتہاد ی غلطی کو سمجھناباریک تھا مگر ابن عمرؓ سے کسی نے اتفاق نہیں کیا اسلئے کہ قرآن کی نص موجود تھی، حضرت علیؓ نے ہجرت نہ کرنیوالی بہن کے شوہر کو قتل کرنا تھا لیکن نبیﷺ نے بچالیا۔ اللہ نے قرآن میں ہجرت کرنیوالی کیلئے فرمایا جو شوہروں کو چھوڑ چکی تھیں کہ ’’ان کو واپس نہ لوٹاؤ، یہ ان کیلئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں‘‘۔ نبیﷺ نے خولہؓ کو ظہار کا فتویٰ دیا تو اللہ نے سورۂ مجادلہ میں اس کی تصحیح کی تھی۔ اولی الامر سے اختلاف کی اجازت اورمشورہ اللہ نے صحابہؓ اور نبیﷺ کے ذریعے سمجھایا جو رہتی دنیا تک کیلئے بہترین نمونہ ہے۔انفرادی سیرت اہم ہے مگر سیرت طیبہ کا اجتماعی پہلو ہی درحقیقت دنیا کے مردہ لوگوں میں زندگی کی روح پھونکنے کیلئے زیادہ اہم ہے۔ نبیﷺ کو سورج ڈھلنے سے رات کی تاریکی ، نصف ، تہائی اور رات کے کم وبیش حصے میں عبادت کا حکم تھا مگر عوام پنج وقتہ نماز کی پابندی بھی کریں تو بڑی بات ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کے دور میں غلامی کو ختم کرنا ممکن نہ تھا تو اللہ نے حضرت حاجرہؓ کو وادی غیرذی زرعہ مکہ میں چھوڑنے کا حکم دیا، جبکہ نبیﷺ کے ذریعے اللہ نے غلامی کا نظام ختم کرنا تھا اسلئے جب ازواج کی رضا کیلئے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہؓ کو حرام کہا تو اللہ نے سورۂ تحریم نازل کی۔ اللہ نے لونڈی کیلئے فرمایا کہ ’’جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ، اسے کیوں حرام کرتے ہو؟‘‘ ،نبیﷺ نے متعہ کیلئے آیت کا حوالہ دیا : لاتحرموا ما احل لکم من الطیبات ’’جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا، اسے اپنے اوپر حرام مت قرار دو‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم)
لونڈی سے کسی اور کا نکاح کرایا جاسکتا تھا اسلئے کہ حکم تھا کہ’’ نیک لونڈیوں کا نکاح کراؤ‘‘ اور یہ کہ ’’ آزاد میسر نہ ہو تو لونڈی سے اسکے مالک کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ قرآن کو احادیث کی روشنی میں دیکھیں گے تو مسائل کا حل خود بخود نکل آئیگا۔ جن خواتین کے شوہر گم ہوں یا جنکے شوہر فوت ہوں اور ان کو سرکاری مراعات ملتی ہوں تو ان کیلئے والمحصنٰت من النساء الاما ملکت ایمانکم کے تحت ایگریمنٹ کی اجازت ہوگی اور جب انکا شوہر واپس آجائے تو پہلے سے تعلق بحال ہوگا اور ایگریمنٹ کا نکاح متعہ ہو توسرکاری مراعات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ فوجی جوانوں اورسرکاری افسران کی بیگمات کیلئے یہ مسئلہ ہے کہ اپنے شہید شوہر یا گم شدہ شوہروں کے بعدزندگی بھر جنسی تعلق سے محروم ہوں، بے راہروی اختیار کریں ، مراعات کی قربانی دیںیا بے راہ روی کا شکار ہوں؟۔
اسلام عظیم دین ہے اور بلاشبہ اس میں دنیا کے تمام سماجی، اقتصادی، تہذیبی، معاشرتی اور انسانی مسائل کا حل موجود ہے، افسوس کہ قرآن پر تدبر نہیں کیا گیا۔بڑی موٹی بات تھی کہ قرآن نے طلاق کیلئے عدت رکھی اور عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت دی۔ بار بار عدت میں اور عدت کی تکمیل اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی صلح سے رجوع کی اجازت دی مگر صلح کا معاملہ نصاب سے نکال دیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اکٹھی تین طلاق پر فیصلہ دیا کہ قرآن کا تقاضہ تھا۔ ائمہ اربعہ نے اپنے فتوے سے فیصلے کی درست توثیق کی۔ یہ فیصلہ و فتویٰ قرآن کی روح کا تقاضہ تھا مگر بعد والوں نے قرآن کی روح کے بالکل برعکس باہمی رضا سے رجوع پر پابندی لگاکر اسلامی کی فطری تعلیمات کے چہرے پربڑی کالک مل دی۔
ترقی یافتہ ممالک میں لوگ قانونی سختیوں سے بچنے کا راستہ یہ ڈھونڈلیتے ہیں کہ نکاح کے بجائے گرلز وبوائے فرینڈز رکھ لیتے ہیں۔ سیتاوائٹ کی بچی سے انکار کی طرح واقعہ ہوتا ہے تو عدالت کا رخ کیا جاتاہے۔ اسلام کی بات واضح کی جاتی تو نکاح کیلئے مخصوص حق مہر اور وقتی نکاح میں ایگریمنٹ کا قانونی جواز بہت سی برائیوں کا خاتمہ کردیتا، بیک وقت کئی افراد سے لڑکی کاتعلق عمران خان جیسے کو بھی انکار اور عدالت تک بات پہنچانے پر مجبور کردیتا ہے۔

سرکٹی تبلیغی جماعت کی کہانی عبد القدوس بلوچ کی زبانی

پہاڑاپنی جگہ سے ہل سکتاہے، انسان فطرت سے نہیں ہٹ سکتا۔ حدیث ۔فرمایا کہ ’’انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر والدین یہودو عیسائی بنادیتے ہیں‘‘۔اللہ نے فرمایا کہ لن ترضیٰ عنک الیہود ولن النصٰریٰ حتیٰ تتبع ملتھم ’’ یہود ونصاریٰ آپؐ سے کبھی راضی نہ ہونگے یہانتک کہ انکی ملت کا اتباع کرو‘‘۔
یہودونصاریٰ کا مذہبی طبقہ حق کو پہچاننے کے باوجود رسول ہ ﷺ کی مخالفت کرتا۔ عوام نے ان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنالیا ، جس چیز کو حلال و حرام قرار دیتے ، عوام عمل پیرا ہوتے۔ جس طرح فرعون نے زمین پر خدائی قائم کی، دریا میں غرق ہوا مگر حق سے انکار کردیا۔ اہل کتاب کے مذہبی طبقے کا بھی بالکل یہی حال تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ عیسائیوں نے مذہبی خداؤں کو پہچان کر ان کی خدائی کا زمین میں خود ہی خاتمہ کرکے رکھ دیا۔

رسول ﷺ نے طرزِ نبوت کی ایسی خلافت کا ذکر فرمایا جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہونگے۔ یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے مگر اسلام کے دینِ حق ہونے کی وجہ سے مذہبی طبقے کا خاتمہ نہ ہوگا بلکہ دیندار طبقے کو عروج حاصل ہوگا۔حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ خلافت اور اتحاد کے علمبردار تھے، حاجی عثمانؒ ؒ مولانا الیاس ؒ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ اورحاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے جانشین تھے۔ تبلیغی جماعت سے 35سال تک ایسے وابستہ رہے کہ نصاب کی مکمل پابندی کی۔ پھر ہوا یہ کہ وہ جس جماعت میں گئے، عقیدتمند ضابطے کے منافی وہیں پہنچے، تبلیغی جماعت پیری مریدی نہیں۔ اسلئے زبردستی سے ڈسپلن کا پابند بنانا مشکل تھا، آخر جمعہ کے دن اور سہ روزہ جماعت میں بیان تک محدودہو گئے۔ حاجی عبدالوہاب سے بڑے اکابر میں شمار ہونے کے باوجود آپ کی نشست وبرخاست اور کھانے پینے کا طریقۂ کار بالکل عوامی تھا۔ تبلیغی جماعت کے مخصوص طبقے نے آپ کیخلاف پروپیگنڈہ کیا کہ ’’ حاجی عثمان کی وجہ سے تبلیغی جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے‘‘۔ حاجی عثمانؒ نے جواب میں اپنے مریدوں میں بیان کیا کہ جماعتوں کا مقصد شخصیات بنانا ہی ہوتا ہے، شخصیت کے بغیر جماعت بھیڑ ہے ۔ شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے اس بیان کی کیسٹ تبلیغی جماعت کے اکابرکوبٹھا کر سنا دی اور فرمایا کہ انکا مؤقف درست اوریہ تمہارا پروپیگنڈہ غلط ہے کہ جماعت شخصیت پرستی کا شکار بنار ہے ہیں۔ پھرشیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے مجالسِ ذکر پر زور دینا شروع کیا اور انکے اکثروبیشتر خلفاء بھی تبلیغی جماعت کے سخت مخالف ہوگئے لیکن سرد جنگ کی طرح معاملہ چلتا رہا۔ حاجی عثمانؒ نے سرد جنگ نہ کی، مریدوں کو اختیار دیا کہ تبلیغی جماعت اور مریدی میں ایک کو چن لو، تاکہ ذہنی انتشار نہیں یکسو ہوکر اصلاح اور دین کا کام کرسکو۔ تصوف کا کام ولایت صغریٰ اور تبلیغ کا کام ولایت کبریٰ کا ہے۔ کافی سارے مریدوں نے تبلیغی جماعت کو ترجیح دی اور حاجی عثمانؒ کو چھوڑ دیا۔ حاجی صاحب نے پھر بھی جمعہ کے دن مسجد نور کا بیان جاری رکھا ، جہاں سے جماعت کی ترغیب و تشکیل کا کام بھی ہوتا رہا۔ تبلیغی جماعت نے یہ دیکھ کر پرزور پروپیگنڈہ کیا مگر ختم نبوت کے امیر مولانا خان محمد ؒ نے علماء و مفتیان کی نشست رکھی اور تبلیغی اکابر کو سختی کیساتھ تصادم کی فضاء پیدا کرنے سے روک دیا۔ حاجی صاحب کے مریدوں نے ٹی جے ابراہیم کے نام سے جو مضاربت کمپنی کھولی ۔ اکابر علماء ومفتیان اسکا حصہ تھے۔ تبلیغی جماعت نے روزمانہ جنگ میں اشتہارر دیا کہ ٹی جے ابراہیم سے جماعت لا تعلق ہے۔ حاجی عثمانؒ نے دیکھا تو مریدوں کو کمپنی ختم کر نے کا حکم دیا۔ مریدوں نے علماء و مفتیان کے مشورہ سے کمپنی کوختم نہ کیا بلکہ نام بدلا اور حاجی عثمان کو بتایا کہ الائنس موٹرز ہمارا شوروم ہے،مفتی رشیداحمدلدھیانوی الائنس موٹرز میں حاضری دیتا تھا مگر یہ تصور بھی نہ تھا کہ حاجی عثمانؒ وہاں جاتے۔ مفتی رشید لدھیانوی و مفتی تقی عثمانی نے الائنس موٹرز والوں کو خوش کرنے کیلئے تبلیغی جماعت کے اکابرین پر فتویٰ داغا۔ پیرطریقت حکیم اختر نے بھی 1986ء میں تبلیغی جماعت کی سخت مخالفت کی جو کتابی شکل میں نیٹ پر ہے۔ حاجی عثمانؒ نے فرمایا کہ میں محنت کرکے خانقاہ میں لوگوں کو دیندار بناؤنگا اور پھر رائیونڈ بھیج دونگا تاکہ پتہ چلے کہ کس طرح اصلاح ہوتی ہے؟۔ مگرافسوس کہ الائنس موٹرز والوں نے سازش کرکے حاجی صاحب کو کئی ماہ تک گھر میں نظر بند رکھا ، عبدالکریم بھائی کو پتہ چلا تو ملنے پہنچ گئے اور سب مریدوں تک بات پہنچادی۔ الائنس موٹرز والوں نے علماء ومفتیان کی مدد سے حاجی محمد عثمانؒ کے خلاف ایک عجوبہ فتویٰ شائع کرکے پھیلایا۔
الائنس موٹرز سرمایہ کار کو 40%منافع دیتی تھی۔بڑے علماء و مفتیان کمپنی کے ایجنٹ تھے جو سرمایہ کار سے 2%منافع لیتے تھے۔ کمپنی نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ سرمایہ واپس لینے کی صورت میں ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا۔ معروف شیخ الحدیث مولانا مفتی حبیب اللہ شیخ نے اس شق کی بنیاد پر اس کاروبار کو ناجائز قرار دیا تھا، جب بحران آیا تو مفتی رشید سے فتویٰ لیکر پہلے اطلاعی مدت یک طرفہ طور پر 3 ماہ کردی گئی اور پھر 6 ماہ کردی گئی۔
مولانا الیاسؒ کے ساتھی مولانااحتشام الحسن کاندہلویؒ مصنف ’’ موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ جو تبلیغی نصاب کا حصہ ہے، بہت پہلے جماعت کی سخت مخالفت کرچکے تھے۔ مولانا الیاسؒ کے بیٹے مولانا یوسفؒ نے کبھی جماعت میں وقت نہ لگایا تھا مگر صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے امیر بنایا گیا۔ وہ نیک اور اچھے انسان تھے اسلئے جماعت اچھی چل رہی تھی۔ انکے بعد خاندان میں کوئی زیادہ عمر کا ذمہ دار شخص نہیں تھا تو مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا جو ذاتی طور پر اچھے مگر صلاحیت سے محروم تھے۔ان کو مشورہ دیا گیا کہ کسی کو زندگی میں امیر بنالو۔ رائیونڈ ، بنگلہ دیش اور بھارت کے اکابر مرکز بستی نظام الدین میں اکھٹے ہوئے مگر کسی بھی امیرپر اتفاق نہ ہوا۔ انکے بیٹے مولانا زبیر الحسن، مولانا الیاس کے پڑ پوتے مولانا سعد اور ایک تیسرے مولانا کو فیصل مقرر کیا۔ انکی وفات کے بعد تینوں مشاورت سے چلتے رہے۔ تیسرے کا انتقال ہوا تو مولانا سعد اور مولانا زبیر مشاورت سے چلتے رہے جنکے درمیان محبت واعتماد مثالی تھی لیکن دونوں کا خیال تھا کہ اگر ایک کو امیر بنایا گیا تو دوسرا گروپ نہیں مانے گا۔ یہ اس جماعت کی مرکزیت کا حال تھا جسکے ہاں تین آدمی کی تشکیل ہوتی ہے تو ایک امیر دوسرا رہبر، تیسرا متکلم بنتا ہے۔ یہ بھیڑ ہے جسے جماعت نہیں کہہ سکتے، اگر حاجی عثمانؒ کی بات مانی جاتی تو بہت سی شخصیات کا پیدا ہونا ممکن تھا۔ حاجی عبدالوہابؒ کی شخصیت نے ایک حد تک جماعت کو متحد رکھا ہوا تھا۔

حاجی عبدالوہابؒ نے سہاگ رات میں بیوی کو طلاق دیکرکہا کہ’’ مجھے دین کا کام کرنا ہے‘‘۔ اللہ نے فرمایا: الذین یجتنبون الکبائر من الاثم والفواحش الا لمم’’ جو اجتناب کیا کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگر یہ لمم کا کبیرہ گناہ و فحاشی الگ ہے‘‘۔جس طرح کھانا پینا انسانی ضرورت ہے اسی طرح جنسی خواہش کا پورا کرنا بھی انسان کی بے بسی ہے۔ قرآن میں ہر ایک کو اپنے ماحول اورمقام کے اعتبارسے یہ استثنیٰ دیا گیا۔خواہش سے پاک اللہ سبحان ہے۔ حضرت آدمؑ وحواء ؑ کو شجر سے روکا گیا تھاتو وہ نافرمانی میں بے بس ہوگئے اسلئے یہ مؤمنین کی صفات پر اثر انداز نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی نظر اجنبی پر پڑگئی تو اپنی بیوی کے پاس گئے اور امت کو راستہ بتادیا کہ ایسا ہو تو بیگم سے حاجت پوری کرلینا ، جو چیز اسکے پاس ہے وہ بیوی کے پاس بھی ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں لیکن تبلیغی جماعت کے مرکزی شخص عبدالوہابؒ کو راہب کی زندگی گزارنی پڑگئی۔ وہ کتنے کامیاب کتنے ناکام تھے، یہ اللہ اور اسکے بندے کو معلوم ہے مگر قرآن نے فحاشی سے بچت کی ایک استثناء دیدی جس کی وسعتوں کو اللہ خود بہتر جانتا ہے۔ بیوی اور شوہر کی حیثیت پر معاشرے میں ریاست اورامارت کی بنیاد تعمیر ہے۔ بیوی امور خانہ داری کی ماہر ہو تو شوہر کو گھر کے سربراہ وامیر سے ذمہ داری کا تجربہ ہوتا ہے۔ حاجی عبدالوہاب ؒ نے نکاح کی سنت کو چھوڑ کر مستحسن کام کیلئے خود کو وقف کیاتھا ۔ معترض کہہ سکتا ہے کہ طلاق کے ناپسندیدہ عمل سے حاجی عبدالوہاب ؒ نے آغاز کیا تو انجام کیا تھا؟۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق کے بارے میں ہے کہ لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن ’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر ہاتھ لگانے سے پہلے عورتوں کو طلاق دی‘‘۔ مولوی بحث میں پڑیگا کہ خلوت صحیحہ ہاتھ لگانا تھا کہ نہیں تھا؟۔
تبلیغی جماعت میں مستورات کی جماعتوں کا رواج بعدمیں پڑا ۔ سوشل میڈیا پر مولانا سعد کے خلاف خاتون سے زنا کا الزام لگاکر کہا گیا کہ منع کرنے کے بعد مزید دو خواتین سے ملوث ہوا۔ مولانا صاحب شادی شدہ بھی ہونگے اور انسان اپنی فطرت پر مجبور ہوتا ہے۔ قرآن میں 1 نہیں 2،2، 3،3 اور 4، 4 عورتوں سے نکاح کا حکم ہے اور عدل نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ایک سے ۔ جودو خواتین میں عدل سے ڈرے اس کو ریاست یاجماعت کا امیر نہیں بننا چاہیے اور ایک کا بھی تجربہ نہ ہو تو اس کو ہرگز امیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔
شیخ الہندؒ نے مالٹاکی قید کے بعدعوام کو قرآن اور اتحاد کی طرف بلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے کہا کہ خراسان سے مہدی آنے تک بگاڑ بڑھتا جائیگا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے علماء کو قرآن کی دعوت دی ۔مولانا الیاسؒ نے بارش کی طرح برس کر اپنا فیض عام کرنا شروع کیا۔ لوگ نماز، وضو اور غسل کے بنیادی احکام سے واقف نہ تھے۔ تبلیغی جماعت نے ایک چلتی پھرتی خانقاہ اور مدرسے کا کام کرنا شروع کردیا۔ آج مذہب کی طرف اتنا بڑا رحجان اس جماعت کے کام کی برکت سے ہی ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے حاجی عثمانؒ کی قبر پر حاضری دی تو یہ علماء حق کیلئے بڑی بات ہے مگر اب تو معاملہ عیاں ہونے کی انتہاء ہوگئی۔
موبائل فون کی ایک مقبول رنگ ٹون میں مولانا طارق جمیل کی تقریر کا ایک حصہ ہے کہ :
’’جس زمین پر سجدہ نہ ہو اس سے بھی بڑا کوئی جرم ہے، زنا کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا زناسے بڑا جرم ہے، رشوت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا رشوت کھانے سے بڑا جرم ہے، قتل کرنا بڑا گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا قتل کرنے سے بڑا جرم ہے، سجدے ہی کا تو انکار کیا تھا شیطان نے، شیطان نے کوئی زنا کیا تھا کوئی قتل کیا تھا کوئی شراب پی تھی کوئی جوا کھیلا تھا، کیا کیا تھا؟ کوئی شرک کیا تھا؟ شیطان ایک سجدے کا انکار کرکے وہ ہمیشہ کیلئے مردود ہوگیا۔‘‘
ان تقریروں سے دہشت گرد حوصلہ پاتے تھے۔ زنا ، رشوت ، قتل وغیرہ کیلئے ایسی تقریریں کرنے والوں کے پس پردہ کہانیوں سے نقاب اٹھتا ہے۔ بنگال میں تبلیغی جماعت کی لڑائی اس وقت بھی ہوسکتی تھی جب مستورات کی جماعتیں اس مرکز میں موجود ہوتیں۔ حاجی عبد الوہاب نکاح کی سنت پر عمل کرتے تو نبوت والے کام کیلئے مستورات کی جماعتیں نکالنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔ بھوک پیاس کی طرح جنسی خواہش بھی انسان کی فطری کمزوری ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت آدمؑ و حواؑ سے جنت میں اس کی غیر اختیاری خلاف ورزی ہوئی۔ شیطان نے اپنی بڑائی کیلئے تکبر کیا تھا ورنہ تو غزوہ خندق میں نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ سے بھی نماز قضا ہوئی۔
ایک صحابیؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے روزے کی حالت میں بیگم سے مباشرت کی تو میرے لئے کیا حکم ہے؟۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ 60 روزے رکھو۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ یہ تو بہت مشکل ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ میں خود مسکین ہوں تو نبی ﷺ نے کہیں سے آیا ہوا ہدیہ کا مال دیدیا کہ یہ صدقہ کردو۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کوئی مستحق نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھر لے جاؤ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جنسی خواہش اس وقت بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی جب وہ شادی شدہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے عرض کیا تھا کہ ہم خود کو خصی نہ بنالیں ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک چادر کے بدلے سہی، کسی عورت سے متعہ کرلو۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے تمہارے اوپر حلال کیا ہے ان کو اپنے لئے حرام نہ بناؤ۔(آیت: بخاری )
تبلیغی جماعت اللہ کے احکام اور نبی ﷺ کی سنت کی طرف زبانی جمع خرچ سے دعوت دیتی ہے لیکن عملی طور پر اپنے طریقہ کار کے علاوہ کسی کو درست نہیں سمجھ رہی ہے۔ مولانا الیاسؒ عظیم تھے اور حاجی محمد عثمانؒ انکے مشن کے اصل علمبردار تھے لیکن جماعت والوں نے انکی کوئی قدر نہیں کی۔ امارت کے مسئلے پر خلفاء راشدینؓ کا بھی اختلاف تھامگر اُمت عرصہ تک کسی امیر پر متفق رہی ہے۔
بشریٰ بی بی کو آئیڈیل کہنے والے اپنی بیگم کو ایسا دیکھنا پسند کرینگے؟میرا ور میرے ساتھیوں کا کردار ہرگز آئیڈیل نہیں مگر اسلامی تعلیم کی ترویج سے ہی چند لمحوں میں یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اعلیٰ اخلاقی معیار اوراقدارکے قیام کی راہ میں سب بڑی رکاوٹ ہماراہی اجنبی اسلام ہے۔اسلام کو اجنبیت سے نکالا جائے تو اسلام کے نام پر ڈرامہ نہ ہوگا۔رات کی تاریکیوں میں رونے سے دل کی اندھیرنگری میں اسوقت تک ہر گز روشنی پیدا نہ ہوگی جبتک کھلے دلوں سے دن کے وقت اسلامی احکامات کو قبول نہیں کیا جائے، مولانا سعد نے کہا کہ الیاسؒ نے دین کی دعوت مسجد میں دی تو مولانا طارق جمیل نے جواب دیا کہ آذان مسجد میں جائز نہیں تو دعوت کا کام مسجد سے باہر کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ایکدوسرے کیخلاف حیران کن طریقے سے گھٹیا الزامات خبث باطن کا اظہار ہے۔یہ ہماری کتاب جاندار کی تصویرکے جواز پر ’’جوہری دھماکہ‘‘کا کمال ہے کہ لاؤڈاسپیکر پرباجماعت نماز وآذان سے گریز اں طبقہ کھلم کھلا ویڈیو سے تبلیغی سرگرمیاں سامنے لانے کی جرأت کررہاہے۔مغرب نے حقوقِ نسواں کے تحفظ کیلئے اسلامی احکام کی طرف رجوع کرناہے مگر اسلام کو واضح کرنا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کہہ سکتاہے ’’ وزیر اعظم عمران خان کی ہمت کو سلام ، پاک پتن کے مزار پر سجدہ کی شکل بنا کر راہداری کو چوما ، ہم امیر پر اتفاق نہیں کرسکتے ۔ ٹیرن نے لونڈی لباس کی سنت زندہ کی، مجھ میں جرأت نہیں ورنہ اسکی ٹانگوں کو ملکہ سبا کی ٹانگیں سمجھ کر بوسہ دیتا‘‘۔ مفتی قوی کہتا کہ تبارک اللہ احسن الخالقین اور اللہ جمیل یحب الجمال کا منظرعمران کی بیٹی ہے تو تبلیغی اور pti کے کارکن سر دھنتے رہتے کہ واہ کیا بات ہے۔

حقوقِ نسواں اور مسائل کامذاق…محمد فیروز چھیپا : ڈائریکٹر فائنانس نوشتہ دیوار

حقوق نسواں کاکام ادھورا رہا۔ کال گرل کے نام پر عزت فروخت ہوتی ہے، گرل فرینڈ سے کھلواڑ ہوتا ہے۔ جسم فروشی قدیم دور سے بدتر حالت میں پہنچ گئی ۔ بچیاں اغواء ہوتی ہیں۔جبری جنسی بے راہ روی کے شکار قصور شہر پنجاب کی کہانی منظرِ عام پر آگئی تو انسانیت پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میڈیا کی دُم پر مخصوص عزائم کیلئے ہاتھ رکھاجاتا ہے تو طوفان اٹھتا ہے پھر وہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔
جرائم کے پیچھے دراصل ظاہرکی کارکردگی کار فرما ہوتی ہے، جرم کا تعین اور سزا نہ ہوتو معاشرہ بے راہروی و قانون شکنی کا شکار رہتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بڑی آزمائش اور اذیتناک حضرت عائشہؓ پر بہتان تھا۔ ابن ابی رئیس المنافقین نے اس کی خوب تشہیر کردی۔ چند صحابہؓ نے بنیادی کردار ادا کیاتھا۔ اللہ تعالیٰ نے پرزور الفاظ میں اس کی مذمت کردی اور یہ بھی فرمایا کہ’’ اس میں اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔(سورۂ نور)
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا دل چھلنی ہوا ، صحابہؓ کے جذبات مجروح ، ابوبکر صدیقؓ بے قابو ہوگئے، نبیﷺ کو بڑے امتحان کا سامنا کرناپڑامگر اللہ نے فرمایا کہ ’’ اس میں تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔ یہ فلسفہ کیاہے؟۔ مسلمانوں نے غور کیا؟۔ اس بہت بڑی آزمائش سے پاکدامن خواتین کی ایسی حفاظت کا قانون بنا اگر اس پر عمل ہو تاتو قیامت تک کوئی کسی عورت پر بہتان باندھنے کی جرأت نہ کرتا۔
قرآن میں زنا پر 100 بہتان پر80 کوڑے کی سزا ہے۔طاقتور پر بہتان قتل اور کمزور پر حرج نہیں ۔ ن لیگ کے میاں جاوید لطیف نے مراد سعید کی بہنوں پر الزام لگایا تو تحریک انصاف کے قائد وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا کہ ’’ میں اس کو تھپڑ مارنے کے بجائے قتل ہی کردیتا‘‘۔
مراد سعید کی بہنیں پاکدامن ہیں تو مدینہ کی ریاست میں جاوید لطیف پر 80کوڑے کی سزا سے ابتداء کی جائے۔ ’’اسٹیٹس کو‘‘ اسلام نے توڑاتھا، اس قانون سے خواتین کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیااور جو طاقتور طبقہ الزام پر قتل کردیتا تھا انہیں لگام دی، بااثرخواتین کی طرح کمزور کوبھی برابری کی سطح پرتحفظ فراہم کردیا۔ اللہ نے خواتین کی عزت کے تحفظ کیلئے فرمایا کہ ’’اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو کوئی حرج نہیں البتہ آدھا حق مہر دینا پڑیگا اور عورت پر کوئی عدت نہ ہوگی ‘‘۔ یہ قانون معاشرتی برائی کے خاتمہ میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ہاتھ لگانے ، بچے جنوانے کی طلاق کے بعد پورا حق مہر دینے میں شک باقی نہیں رہتا۔ قرآن نے بار بارتلقین کی کہ ’’جو کچھ حق مہر کے علاوہ بھی دیا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے‘‘ پھر کس قدر شرم کی بات ہوگی کہ حق مہر کے علاوہ اپنے بچوں کی ماں، اپنی عزت بیوی سے جہیز بھی چھین لیا جائے ۔ انسان مال کے معاملے میں بڑا حریص ہے کہ اپنی عزت کا خیال بھی نہیں رکھتا اور حق تلفی میں تقویٰ پھر لقویٰ بن جاتا ہے۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ’’ا نصاف کرو اور یہ تقویٰ کے قریب ہے‘‘۔
کیایہ بھی اسلامی انقلاب کی نوید ہے کہ عمران خان کی شخصیت سے یہودن جمائما نے طلاق لی اور بشریٰ بی بی نے خاور مانیکا سے خلع لیکر وزیراعظم سے شادی رچالی؟۔ مولانا طارق جمیل کی عمران خان اور بشریٰ کی تائید ہے!۔ یہ حق قرآن ہرخاتون کو دیتا ہے کہ ناپسندشوہر سے خلع لیکر اپنی پسند سے شادی کر ے اور چاہیں تو مرضی سے کبھی ایک کبھی دوسرے سے ایگریمنٹ یا متعہ کرکے خواہشات کی پیاس جائز طریقے سے بجھائے؟۔ ایک طرف جبری زنا کا راستہ حکومت نہ روک سکے تو دوسری طرف شیخ رشید جیسے ہر حکومت میں نمایاں ہوں،یہ تضادات کسی اسلامی انقلاب نہیں بلکہ افراتفری، فتنہ وفساد اور ہلڑبازی کا ذریعہ ہیں۔
یہ المیہ ہے کہ ایک طرف شرفاء کی طرف سے حق مہر کی سیکورٹی قربانی کے بکرے اور گائے جتنی رکھنے پر اصرار کیا جائے اور دوسری طرف بچے جنوانے کے بعد طلاق پر عورت کو حق مہر سے محروم کیا جائے۔ عورت اپنی کشتی جلاکر شوہر کے گھر میں آتی ہے،شوہر کو دنیا وآخرت کا رفیق بناتی ہے۔ وہ بے دخل ہو تو غم کا مداوا ہو اور اتنا حق مہر اور شوہر کا عطیہ ہو کہ کوئی بیوی کو طلاق دینے سے پہلے سودفعہ سوچے، ورنہ پھر مرد خواتین کو کھلواڑ بناکر مزے لیتے رہیں گے۔
قندیل بلوچ قتل میں نامزدمرکزی ملزم مفتی قوی صدر تحریکِ انصاف علماء ونگ نے میڈیا پر فتویٰ جاری کیا کہ ’’جس عورت کا نکاح نہ ہو تو اس سے جنسی تعلق بغیر قید کے باہمی رضاسے نکاح ہے ، نکاح ہے ، نکاح ہے‘‘۔ اگر یہ ماحول قائم کیا گیا تو جس طرح سودی نظام کے معاملے پر اسلامی اورغیراسلامی نظام کا فرق محض ڈھونگ ہے، اسی طرح کفر کے معاشرتی نظام اور اسلامی معاشرتی نظام میں بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔ فقہ میں حرمت مصاہرت کے مسائل انتہائی شرمناک ہیں اور دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر نے اس نصاب کی اصلا ح کرنی ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا پلیٹ فارم اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ نصاب کی اصلاح میںآپکا تعاون درکار ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ ’’ میں ایک سال تک خدمت کیلئے تیار ہوں‘‘۔ ممکن ہے کہ قبلہ صاحب پر اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام کا کوئی دباؤ ہو۔ مولانا فضل الرحمن پر علمی تحقیقات کے حوالہ سے ایک خوف کی کیفیت طاری ہے۔ وہ غلط مذہبی خول کی بقاء میں سیاسی مفاد چاہتے ہیں۔ دین اور دنیا میں حق کو چھپانے یا ساتھ نہ دینے کا نتیجہ گھمبیر ہوتا ہے۔ مولانا نے اپنے سیاسی قد کاٹھ کا نقصان کیا ہے۔
اگر مولوی نے اپنی وکالت کا رخ متعہ کے جواز کیلئے کردیا تو ثابت کریگا کہ قرآن میں وان استمتعتم منھن فأتوھن اجورھن کیساتھ قرآن میں الی اجل مسمیٰ کا اضافہ تھا۔ یعنی معین مدت کا متعہ کرنا نہ صرف قرآن کا تقاضہ ہے بلکہ قرآن میں کمی کرکے تحریف کی گئی۔ معتبر تفاسیر میں پوری آیت موجود ہے۔ حالانکہ جس طرح تفسیر جلالین میں بھی بین السطور تفاسیر لکھی گئیں تو گزشتہ تفاسیر میں یہی اضافہ ہے۔ نصاب کی کتاب ’’ نورالانوار ‘‘ میں ہے کہ ’’ ساس کی اندورنی شرمگاہ پر شہوت سے نظر پڑنا نکاح ہے‘‘۔نصاب میں موجود غلطیوں کے تدارک سے مدارس کا نظامِ تعلیم درست ہوگا تو اسکے زبردست اور فوری اثرات ہونگے۔ دین کی فقہ کیلئے مذہبی گروہ صحابہ کرامؓ کے دور میں اصحابِ صفہ تھا اور قرآن کی نصوص و احادیث صحیحہ کو سمجھنے کی صلاحیت علماء کرام میں ہے۔انکی فکر سے نچلی سطح سے لیکر عالمی سطح تک واقعی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔


قرآن نے مشرکوں کے مدِ مقابل غلام ولونڈی سے نکاح کو ترجیح و مشرک عیسائیوں سے نکاح کی اجازت دیکر عالمی انقلاب کی بنیادرکھی۔ ہجرت والی کزن اور ہجرت نہ کرنیوالی میں فرق سے حکمتوں کا آغاز کیا۔ نبیﷺ کی اُم ہانیؓ سے نکاح کی چاہت مگر اجازت نہ ملی اورایگریمنٹ کی اجازت تھی۔ ام ہانیؓ نے بچوں کے جذبات کا خیال رکھ کر نبیﷺ سے نکاح نہیں کیا تو نبیﷺ نے انکی اس پر تعریف فرمائی۔جمائما خان بچوں کا خیال رکھ کر نکاحِ ثانی نہیں کرتی ،متعہ کادستور نہ ہونے کیوجہ سے بوائے فرینڈز بدلتی رہتی ہے۔ اگر بشریٰ بی بی خاور مانیکا سے طلاق لیتی پھر عمران خان سے متعہ کرتی تو بہتر تھا۔ عمران خان نے خاور مانیکا کے نکاح میں بشریٰ سے تعلقات استوار کرکے وہ کیا جسکا جواز مفتی عبدالقوی کے بدنام زمانہ فتویٰ میں بھی نہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کا مذاق اسلئے اڑایا جارہاہے کہ جمائما خان کو اپنا کردار عمران اور بشریٰ بی بی سے بہتر لگتا ہے۔ مولانا طارق جمیل مائیکل جیکسن، کترینہ اور مسرت شاہین کی تعریف کا بھی سماں باندھ سکتے ہیں مگر یہ تبلیغی جماعت کا ایک فن اور طریقۂ واردات ہے۔ کروڑوہا لوگ اسلئے دامِ اسیر بنائے گئے کہ ان کو سب کا دل جیتناہی آتاہے۔ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک، اہل تشیع، طالبان اور سب کی تعریف کرکے اتحادِ امت کے بڑے دعویدار ہیں۔
فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں میں حرمت مصاہرت پر جو شرمناک مسائل لکھے گئے ہیں اور نصاب کی کتابوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور فتاویٰ کی کتابوں میں موجود عوام کو فتوے دئیے جاتے ہیں ان کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ ’’جب عمران خان نے فرسٹ کزن ڈاکٹر طاہر القادری کا کہا تھا کہ میں نے اس سے رشتہ تو نہیں مانگا ، جس پر ڈاکٹر طاہر القادری نے بہت برا منایا تھا۔ اگر عمران خان نے یہ کہہ دیاکہ مفتی عبد القوی کو میرا ہاتھ شہوت سے لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے اور انکی اولادیں ایک دوسرے کیلئے حنفی مسلک کے تحت حرام اور شافعی مسلک کیمطابق جائز ہونگی‘‘
امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب بہت سے فقہی مسائل کا حضرت امام ابو حنیفہؒ سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن اپنی طرف سے مسائل گھڑ گھڑ کر امام ابو حنیفہؒ کو بدنام کیا گیا ہے۔ قرآن میں منکوحہ اور ملکت ایمانکم کے اندر تھوڑا فرق ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ لا تنکحوا ما نکح ابائکم من النساء الا ما قد سلف ’’تم اپنے آباء کے منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو مگر یہ کہ جو پہلے گزر چکا ہے‘‘۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے منکوحہ مراد ہیں یا لونڈیاں بھی مراد ہیں؟۔ اس کا جواب ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ دونوں مراد ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے بھی یہی مؤقف رکھا تھا اور امام شافعیؒ نے بھی یہی مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ بعد کے لوگوں نے بڑی فضول قسم کی باتیں اور مسائل ان دونوں ائمہ اجل کیطرف منسوب کردئیے۔ آج جاہلیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں۔ اندرونی صفحہ 3پر مدیر منتظم نادر شاہ کے مضمون میں تھوڑی بہت تفصیل دیکھ لیں۔
ہم علماء کرام اور مفتیان عظام کی قدر کرتے ہیں لیکن ان کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے نصاب ، فتوے اور عمل پر نظر ثانی فرمالیں۔ ان کو خطرات بیرونی دنیا سے نہیں ہیں بلکہ اندرونی معاملات سے ہیں۔ جب دیوبندی بریلوی علماء کرام رسوم و بدعات پر لڑا کرتے تھے تو یہ ان کے اپنے اختلافات تھے۔ آج دونوں کو ان کے نصاب سے بڑے خطرات لاحق ہیں۔ ہم ان کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنی آنکھیں کھولنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی نے مذہب کے نام پر دین کی خدمت سے زیادہ طاقت کے حصول کیلئے ہر دور میں پاپڑ بیلے ہیں۔ علماء کرام سے وہ ہمیشہ عوام کو متنفر کرتے رہے ہیں لیکن وہ خود بھی سلیس انداز میں وہی اسلام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں جو مولویوں کی طرف سے قرآن و سنت کی تفسیر و ترجمہ میں لکھا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کے اکابر جب مولانا الیاس ؒ ، مولانا یوسف ؒ ، شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اور حضرت حاجی محمد عثمانؒ جیسے لوگ ہوا کرتے تھے تو دنیا میں ان کے درد اور خدمت سے مذہبی جذبے اٹھتے تھے ۔ افسوس اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ کبھی مولانا طارق جمیل کلثوم نواز کا جنازہ پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور کبھی بشریٰ بی بی کی تعریف کے گن گاتے ہیں۔ واہ ربا انا للہ و انا الیہ راجعون۔

حج و عمرہ میں مسلمان خواتین و حضرات حجر اسود چومتے وقت ایکدوسرے سے رگڑ کھا تے ہیں۔

حج و عمرہ میں مسلمان خواتین و حضرات حجر اسود چومتے وقت ایکدوسرے سے رگڑ کھا تے ہیں۔ پوری دنیا میں ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے۔ یہ بے شرمی و بے غیرتی کی انتہا ہے۔ فقہ میں پڑھائے جانے والا لونڈیوں کا لباس بھی انتہائی شرمناک ہے۔ قرآن و سنت کیخلاف حلالہ کی لعنت بھی اسلام ہی نہیں انسانیت کی بھی توہین ہے۔ انگریز نے ترقی اسلئے کی کہ برصغیر سے بیوہ کو زندہ جلانے کی رسم ستی اور شوہر کی گمشدگی کے بعد عورت کیلئے 80سال انتظار میں کردار ادا کیا۔ اسلام کی ترقی کا راز انسانی حقوق کی بحالی تھا مگر اسلام اجنبی بن گیا۔دجال بھی لونڈی اور حلالہ کے نام پر لوگوں کی عزتوں سے نہیں کھیلے گا۔

امریکہ و اسرائیل نے پاکستانی خلافت سے چینیوں کو لونڈی بنایا تو یہ مثاق مدینہ کی ریاست ہوگی؟

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا کہ علامہ اقبالؒ ایک جہاندیدہ اور الہامی شاعر تھے، شیطان کی مجلس شوریٰ پر اشعار ہمارے اہل اقتدار پڑھ کر دیکھ لیں اورقبلے کا رخ درست کریں،جہاد کے نام پر سپر طاقت روس کو تباہ کیا، پھر امریکہ نے اپنی سازش اور نااہلی کی سزا مسلم ممالک کو دی۔ جہاد کو دہشتگردی سے بدنام کیا، اب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ، اگرپاکستان و افغانستان نے داعش وطالبان کی خلافت قائم کردی اور پھر چین کوتہس نہس کرکے چینی خواتین کو لونڈی بنادیا اور فقہ کی کتابوں میں مذکور نیم وعریاں لباس کا ماحول دنیا کو دکھادیا ۔ پھر نام نہادمجاہدین کی طرح خلافت کا بھی گلہ گھونٹ دیا اور اصلی اسلام کی جگہ قادیانی اسلام کو رائج کردیا تو اسلام کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔ پیش گوئی پھیلائی گئی ہے کہ 2019ء تک پاکستان دنیا کے نقشے پر نہیں ہوگا لیکن پاکستان انشاء اللہ قیامت تک باقی رہیگا۔ یہاں جعلی نہیں مدینے کی اصلی ریاست قائم ہوگی۔ دنیا کی سازشیں ناکام ہونگی۔ وزیراعظم کو اگر دولت نہیں عزت کی طلب ہو تو حقوقِ نسواں کیلئے اسلام کی صحیح تعبیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بیگم سے کئی بچے جنوادئیے جائیں اور پھر بچوں اور حق مہر سے محروم کیا جائے تو اس سے بڑی زیادتی کا کیاتصور ہوسکتا ہے؟۔ دنیابھی مسلم حکمرانوں کو استعمال کرتی ہے اور پھینک دیتی ہے، جب ہم اپنی خواتین سے زیادتی کرینگے تو عذاب کے بھی مستحق ہونگے۔ حقائق جاننے کیلئے اداریہ پڑھئے

کھرل عباسیاں ضلع باغ کشمیر کی لڑکی کا افسوسناک حال اور حقیقی اسلامی تعلیم

کشمیر (نمائندہ خصوصی)محمد حنیف عباسی کو کشمیر سے خصوصی رپورٹ ملی ہے کہ ایک گھرانہ کھرل عباسیاں میں ہے۔ چچا نے یتیم بھتیجے کو گھر میں پالا ۔اپنی لڑکی سے اسکی شادی کرادی اور تین بچوں ایک 7سالہ بیٹا ، دوسرا 5سالہ بیٹا اور تیسری 2سالہ بچی کی ماں گذشتہ رمضان گھر سے بھاگی اور راولپنڈی کے دار الامان میں پناہ لی۔ باپ پولیس پر ڈیڑھ دو لاکھ کا خرچہ کرکے لڑکی کو گرفتار کرکے گھر واپس لایا۔ لڑکی کا اصرار ہے کہ مجھے شوہر کیساتھ نہیں رہنا۔ اور لڑکا شوہر بھی کہتا ہے کہ مجھے لڑکی نہیں چاہئے مگر طلاق بھی نہیں دیتا۔ لڑکی کا باپ لڑکے کو طلاق کے عوض دو لاکھ دینے کو بھی تیار ہے لیکن لڑکے کا اصرار ہے کہ طلاق کیلئے اسکو 5لاکھ روپیہ دینے ہونگے۔ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے حق مہر بھی نہیں دیا اور مجھ پر کسی طرح خرچہ بھی نہیں کیا، میرے گھر میں رہتا تھا تو طلاق کیلئے کس چیزکی رقم دیں؟۔
یہ ایک اس لڑکی کی کہانی نہیں بلکہ ہزاروں کا معاملہ ہے۔ ایک اور خاتون نے اپنی بہو کو بیٹے سے طلاق دلوادی ، اس کا حق مہر 2لاکھ مقرر کیا تھا لیکن حق مہر کی رقم بھی نہیں دی۔ اس خاتون پر ایک انجانی بلا نازل ہوئی ہے جو کچھ بول اور بتانہیں سکتی، صرف بیٹھ کر رو رو کر اپنا غم کھا سکتی ہے۔ کیا انسانوں نے حقوق نسواں کیلئے عذاب کا انتظار کرنا ہے؟۔ یا وہ اللہ کی طرف سے خلع اور حق مہر کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کمزوروں پر رحم کرینگے؟۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمین والوں پررحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کریگا۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ نوشتہ دیوار کی قارئین خواتین نے مزارعت اور وراثت کے مسئلے پر اپنے مفاد کو قربان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ انکے ایمان کی علامت اور خلوص کی دلیل ہے۔ مذہبی لوگ حقوق العباد اور اسلامی احکامات کی پامالی کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کیلئے دریائے شرم کی گہرائی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اللہ بچائے۔