اکتوبر 2017 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

قرآن و سنت کی روشنی اور فقہ حنفی سے حلالہ کے بغیر فتوؤں کیلئے رجوع کریں

quran-o-sunnat-ki-roshni-or-fiqah-hanfi-se-halala-ke-bagair-fatwoon-ke-lie-ruju-karen

آپ کے مسائل کا حل’’ قرآن وسنت کی روشنی میں‘‘

قرآن کریم کے سامنے سمندر ہیچ ہے، جو قیامت تک کہکشاؤں کی وسعت کو ایک جملہ میں بیان کرتاہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ’’اَیمانکم‘‘ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد قسم بھی ہے، عہدوپیمان بھی، وہ ایگریمنٹ بھی ہے جو باقاعدہ معاہدے کرنے کے تحت ہو اور وہ بھی ہے جس میں اخلاقی طور سے ذمہ داری پڑتی ہو۔ کسی بھی لفظ کا درست مفہوم سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ’’جملے کو سیاق وسباق کے مطابق دیکھا جائے اور اس پر غور فکر وتدبر کے ذریعے فیصلہ کن نتیجے پر پہنچا جائے‘‘۔
مسائل طلاق سے پہلے اللہ نے فرمایا: ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقواوتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیمO’’ اور نہ بناؤ اللہ کو اپنے قسموں(عہدوپیمان، حرام کہنا، ایلاء کرنا، تین طلاق، ظہاروغیرہ) کیلئے ڈھال کہ تم نیکی نہ کروگے، تقویٰ اختیار نہ کروگے اور لوگوں کے درمیان مصالحت نہ کروگے۔ اللہ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔( البقرہ :آیت 224)۔ افسوس ہے کہ طلاق صریح، کنایہ اور مختلف بدعات کی گمراہی سے قرآن کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔ میاں بیوی ملنا چاہتے ہیں اور مسندوں پر بیٹھ کر فتویٰ دیا جاتا ہے کہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ تم نہیں مل سکتے ہو۔ قومی اسمبلی، سینٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں علماء ومفتیان کو طلب کرکے حقائق کی نشاندہی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کریگا۔ حلالہ کے نام پر گھروں کی تباہی اور عزتوں کا لوٹنا بند کرنا چاہئے۔ سعودی عرب، ایران ، بھارت، افغانستان اور دنیا بھر سے علماء وکرام کا عظیم اجتماع بلاکر مسائل نو حل کئے جائیں۔
ایک بیٹا زبردستی سے باپ کی زندگی میں ایک بار اپنا حصہ لے اور اگر پھر اس کو دوبارہ بدمعاشی کرنے دیجائے تو یہ زمین میں فساد پھیلانا ہوگا۔ پھر ہر بدمعاش بیٹا دو، دو حصے کی میراث لے گا۔ ایک باپ کی زندگی میں اور دوسرا حصہ اسکے فوت ہونے کے بعد۔ معاشرے کو بدمعاشی نہیں شریعت اور وقت کے حکمرانوں کے قوانین کے ذریعے سے ہی کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ نبیﷺ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تو بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی،حضرت ابوجندلؓ کو دوبارہ کفارِ مکہ کے حوالے کیا۔ اللہ نے فرمایا: ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدٰنِ والاقربون والذین عقدت ایمانکم فاٰ تو ھم نصیبھم ’’ اور ہم نے اس مال کے وارث مقرر کئے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر جائیں۔ اور جن لوگوں نے تمہارے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہو تو ان کو انکا حصہ دو‘‘۔(النساء : 33)۔ جس نے زبردستی باپ سے زندگی میں حصہ لیا وہ دوبارہ حصہ نہیں لے سکتا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب میں ایگریمنٹ اور مسیار ایک معروضی حقیقت ہے تو اس کا حل بھی قرآن میں ہے۔ الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم ’’ مگر ان کی اپنی بیگمات اور جو ان کی لونڈیاں ہیں یا جن سے ان کا معاہدہ طے پایا ہو‘‘۔ موجودہ دور میں لونڈیوں کی روایت ختم ہوگئی لیکن قرآن اپنی وسعت کے لحاظ سے قیامت تک روز روز کی بنیاد پر کھڑے ہونیوالے مسائل کو حل کرنے کیلئے دعوے میں سچاہے کہ وانزلنا علیک الکتاب تبیان لکل شئی ’’ اور ہم نے (اے نبیﷺ) تجھ پر کتاب اتاری جو ہر چیز کو واضح کرنے والی ہے‘‘۔ (القرآن)اللہ نے پڑوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی ملکت ایمانہم کا ذکر کیا ہے ۔ خواتین کیلئے بھی پردہ نہ کرنے کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔اگر نکاح و طلاق کے درست مسائل مسلمانوں نے اپنے کرتوت سے ملیامیٹ نہ کئے ہوتے اور اسلام دنیا میں اجنبی نہ بنتا تو قرآن وسنت کے معاشرتی مسائل سے پوری دنیا استفادہ کرتی۔ ایک عورت کسی سے نکاح کرلے تو جو حق مہر مقرر ہوچکا ، اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ حق مہر کا آدھا دینا پڑیگا۔ اگر مغرب کے سامنے اسلامی قوانین قرآن وسنت کی روشنی میں رکھے جائیں تو پھر وہ لوگ بھی قرآن وسنت ہی کو مشعلِ راہ بنالیں۔ باقاعدہ نکاح کرنے کے بغیر یہ رویہ کہ بوائے اور گرل فرینڈز پر گزارہ کرلیں اس کی بنیادی وجہ نکاح کے وہ غیرفطری قوانین ہیں جو وہاں کی حکومتوں نے رائج کئے ہیں۔ شوہر کو طلاق اور عورت کو قرآن میں خلع کی اجازت ہے ۔ آیت 19 النساء میں پہلے خلع پھر آیت20،21 النساء میں طلاق کا ذکر ہے۔ جن میں عورت کے حقوق کو تحفظ دینے کی وضاحت ہے۔ شوہر کویہ حق اسلام نے کہیں نہیں دیا ہے کہ10بچے جنواکر ایسے دور میں بیوی کو طلاق دیکر باپ کے گھر بھیجا جائے جب اس بے چاری کا کوئی میکہ ہی نہ رہا ہو۔ ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے شادی اور طلاق کی صورت میں جو کچھ دیا ہے ، چاہے خزانے کیوں نہ ہوں اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتے۔
وہ خاتون جسکا شوہر فوت ہواور اس کو دنیا میں مراعات ملتی ہیں اور نکاح ثانی سے وہ پہلے کا شرفِ زوجیت کھو دیتی ہے اور مراعات بند ہوتے ہیں تو ایگریمنٹ کرسکتی ہے۔ والمحصنٰت من النساء الاماملکت ایمانکم ’’اور شادی شدہ خواتین بھی حلال نہیں مگر جن سے معاہدہ طے ہوجائے‘‘۔ اس میں ایک طرف پہلے دور کی وہ خواتین تھیں جو شادی شدہ ہوکر بھی لونڈی بن جاتی تھی، آج وہ دور ختم ہے لیکن قرآن کا حکم ہمیشہ کیلئے باقی رہتاہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن بھی ماں،باپ، بچوں اور بہن بھائی کی طرح بیویوں کا تعلق بھی باقی رہے گا۔مفتیانِ اعظم کی بیگمات15سال بعد بھی مر جاتی ہیں تو ان کی قبروں کے تختی پر ’’زوجہ مفتی اعظم ‘‘ لکھا ہوتاہے۔علماء ومفتیان بتائیں کہ ’’ اجنبی شخص کی زوجیت کی نسبت لگائی جاتی ہے؟‘‘۔ ایک جاہل مفتی طارق مسعود جامعۃ الرشید سوشل میڈیاپر کہتا ہے ’’شوہر اپنی بیوی کو قبر میں نہیں اُتار سکتا، البتہ اگر محرم موجود نہ ہوں تو بالکل اجنبی مردکے بجائے یہ تھوڑا بہت اجنبی اُتار سکتاہے‘‘۔ بالفرض مفتی طارق مسعود کی اَماں کو اسکا اَبا قبر میں نہیں اُتارتااور وہ قبر پر بھی باپ کی زوجہ کی تختی نہیں لگواتابلکہ اماں طارق مسعودلکھ دیتاہے تو قیامت کے دن وہ انسان بن کر اٹھے گا یا جانور ؟۔ یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ ’’ اس دن فرار ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے بچوں سے‘‘۔ پھر اس اجنبی خاتون کی نسبت اس اجنبی شخص کی طرف کیوں کی گئی ہے؟۔
رسول اللہﷺ نے چچی حضرت علیؓ کی والدہ کو دستِ مبارک سے قبر میں اتارا، فرمایا کہ ’’یہ میری ماں ہے بیٹا جیسے پالا ہے‘‘۔ نبیﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا ’’ اگر آپ پہلے فوت ہوئی تو ہاتھ سے غسل دوں گا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کی میت کو آپؓ کی زوجہ اُم عمیسؓ نے اور حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی میت کو غسل دیا۔ فتویٰ اور میت کو غسل دینا مولوی نے پیشہ بنالیا تو قرآن وسنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر دور کی گمراہی میں پڑگئے۔ عین الھدایہ میں لکھ دیا کہ ’’ میت کے عضوء تناسل کا حکم لکڑی کی طرح ہے،اگر مرد نے دبر یا عورت نے فرج میں ڈالا، توغسل نہیں‘‘۔شوہر اور بیوی ایکدوسرے کا چہرہ نہ دیکھ سکیں اور عضوء تناسل کا حکم لکڑی کا؟۔تف ہے تم پر۔

سورہ بقرہ میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا مشروط ذکر …..

surah-talaq-me-iddat-k-khatmey-per-2-gawah-or-hamishah-ruju-ki-wazahat

سورۂ بقرہ میں آیت 224سے232تک پورا پورا زور دیا گیاہے کہ طلاق کے بعدباہمی صلح سے رجوع ہے۔

اکٹھی تین طلاق پر دورِ جاہلیت میں حلالہ کا تصور سورۂ بقرہ کی ان آیات سے حرفِ غلط کی طرح بالکل مٹ گیا

سورۂ بقرہ کی آیات 224سے 232تک جس مقصد کیلئے اللہ نے نازل کیں تھیں وہ مقصد ہی فقہ وتفسیراور احادیث کی کتابوں کے اندر بالکل فوت نظر آتاہے۔ بخاری کی ایک روایت کا عنوان ’’ برتنوں کا استعمال‘‘ ہے۔ جس میں دولہا دلہن نے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کی دعوت ولیمہ میں خدمت کی تھی۔ حقیقت کی مناسبت سے عنوان’’ دولہا اور دلہن کی خدمت‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ آج کہیں اس حدیث پر عمل ہوتو مذہبی لوگ حیرت سے نڈھال ہوجائیں کہ یہ بھی اسلام ہے؟۔ جس طرح حدیث کا عنوان بالکل غلط اور لایعنی درج کیا گیاہے اسی طرح قرآنی آیات کے مفہوم کو بھی عوام سے بالکل دور کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مفہوم: ’’اندھے پر حرج نہیں ، اور نہ لنگڑے اور مریض پر اور نہ تم پر کہ کھانا کھاؤ اپنے گھر میں …باپ ، بھائی، بہن، ماموں، خالہ،چاچا وغیرہ اور جن کی چابیاں تمہارے لئے کھلی ہیں اور جو تمہارے دوست ہیں کہ اکھٹے کھانا کھاؤ یا الگ الگ…سورہ نور: آیت61‘‘۔ لیکن تفسیرعثمانی جس کو علامہ یوسف بنوریؒ نے بھی بہترین قرار دیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ ’’معذوروں اور مریضوں کو جہاد کرنے سے استثناء دیا گیاہے‘‘۔ بات کیاہے اور تفسیر کیا لکھ دی گئی ہے؟۔ دوسرے معاملات میں بھی ایساہی ہے۔ قرآن کا متن چھوڑ کرکیا تفسیر ہوسکتی ہے؟ ۔ البتہ جہاں تفسیر کی ضرورت ہو تو وہاں کرنی چاہئے۔
سورۂ جمعہ کی آیات میں نبیﷺ کی بعثت سے صحابہؓ کے سامنے تلاوت آیات، ان کا تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم کے بعد وآخرین منہم لمایلحقوابہم ’’اور ان میں سے آخرین جو پہلوں سے ابھی نہیں ملے ہیں‘‘ کے بارے صحابہؓ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟۔ نبیﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر اپنادست مبارک رکھ کر فرمایا کہ’’ اس کی قوم کا ایک شخص یا افراد ہیں اگر علم(دین، ایمان) ثریا پر پہنچ جائے تب بھی وہاں سے یہ لوگ واپس لائیں گے‘‘۔ (بخاری ومسلم وغیرہ)
نبیﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا: ایمان کے اعتبار سے زیادہ عجیب قوم کون ہے؟ توصحابہؓ نے عرض کیا کہ فرشتے۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ کیوں عجیب ہیں جبکہ سب کچھ وہ دیکھتے ہیں، عرض کیا گیا: پھر انبیاء ہیں۔ فرمایا: ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔ عرض کیا گیا: پھر ہم ہیں یارسول اللہ!۔ فرمایا: تم کیسے ہوجبکہ میں تمہارے درمیان میں موجود ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو علم ہے۔ فرمایا: ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ عجیب وہ ہیں ، جن کے پاس قرآن کی آیات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا مگر ان کا قرآن پر ایسا ہی ایمان ہوگا جیسا تمہاراہے۔ان میں سے ایک کو 50افرد کے برابر اجر ملے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ان میں سے 50 افراد کے برابریا ہم میں سے؟، نبی ﷺ نے فرمایا کہ انمیں سے نہیں بلکہ تم میں سے 50افراد کے برابر ایک کو ثواب ملے گا۔
کعبہ کی المسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب 50 ہزار کے برابر ہے۔ تبلیغی جماعت و دعوت اسلامی کے مراکز اور ذیلی شاخوں49اور79کروڑ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کو صلح کے درمیان رکاوٹ کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال مت کرو۔ منع کرنے کیلئے اَیمانکم کے تمام اقسام میں لغو الفاظ پر کوئی پکڑنہیں، دلوں کے گناہ پر اللہ پکرتاہے۔ طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت پر عورت کی عدت 4ماہ ہے اور اظہار کی صورت میں 3ادوار یا 3ماہ ہے۔ عدت کے دوران اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا رکھ دیا ہے اور عدت کے دوران صلح واصلاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ طلاق کا تعلق بھی عدت کے ادوار سے ہے۔ پہلی اور دوسری مرتبہ کی طلاق کے بعد تیسرے فیصلہ کن مرحلے کا ذکر صرف اسلئے ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے اور اس میں بھی معروف رجوع کا مطلب باہمی رضامندی سے رجوع ہے۔ علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا تو شوہر کیلئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی اس کو دیا ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لے۔ البتہ دونوں اور معاشرہ میں فیصلہ کرنے والوں کویہ خوف ہو کہ اس کے بغیر دونوں اللہ کے حدود کو پامال کردینگے تو پھر وہ چیز فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ یہ معاشرے کی روایت تھی اور آج بھی ہے کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور سے شادی کی اجازت نہیں دیتے ۔ اسلئے اللہ نے یہ وضاحت بھی کردی کہ ’’اگر پھر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔ آیت230سے پہلے 229میں دی گئی صورتحال کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور خطرہ تھا کہ علماء وفقہاء کہیں گے کہ 228اور229کے احکام منسوخ ہوگئے، اسلئے اللہ نے 231اور232آیات میں پھر وضاحت کردی کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی اللہ نے معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے صلح کا راستہ نہیں روکا اور کسی کو بھی ان کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔
رسول اللہﷺ کے وصال فرمانے کے بعد ازواج مطہراتؓ سے نکاح کرنے کو اسلئے روکا گیا تھا کہ اس سے نبیﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔ چرند، پرند اور انسانوں کے درمیان یہ قدرِ مشترک ہے کہ جوڑی بن جانے کے بعد نر نہیں چاہتا کہ اسکی مادہ کسی اور سے جفت ہو۔ حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کو فتح مکہ کے بعد اس کا شوہر چھوڑ کر چلا گیا تو نبیﷺ نے شرف زوجیت بخشنے کی پیشکش کردی۔ حضرت ام ہانیؓ نے اپنی نسوانی غیرت کی وجہ سے اس شرف کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے زیادہ انسانی فطرت کی مثال کیا ہوسکتی ہے؟۔ نبیﷺ سے پھر اللہ نے فرمایا: اگر اسکے بعد کوئی خاتون پسند آئے تب بھی اس سے نکاح نہ کریں۔ (القرآن)
مروجہ حلالہ کی لعنت کا قرآن وحدیث ، صحابہ کرامؓ اور ائمہ اربعہ کے ادوار میں کوئی وجود نہیں تھا۔ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دے تو رجوع کا حق نہیں ہے بلکہ اگر ایک طلاق بھی دو تو رجوع کا حق نہیں ہے ورنہ حدیث بیکار ہے کہ طلاق سنجیدگی اور مذاق میں ہوجاتی ہے۔ اسلئے تین طلاق کے بعد شوہر کیلئے طلاق کا حق بالکل غلط تھا اور آج بھی ہے لیکن باہمی صلح سے رجوع کی گنجائش اور شوہر کے یکطرفہ حق میں بڑا فرق ہے اوریہ حقیقت نظر انداز ہوئی اسلئے قرآن پر ایمان واقعی بڑا عجیب ہے۔

سورۂ طلاق میں عدت کے خاتمے پر رجوع یاتفریق اور اس پر دو عادل گواہ اور ہمیشہ کیلئے رجوع کو واضح کیا گیا
قرآن کی آیات سے حلالہ کا بالکل غلط تصور پیش کیا جاتاہے تو احادیث صحیحہ سے بھی غلط ثبوت پیش کیا جاتاہے

جب اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا کہ امت مسلمہ کیلئے ایک طرف یہ ضروری ہے کہ جو خواتین کو طلاق دینے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کی اجازت نہیں دی جاتی اور خواتین خود بھی طلاق کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے کو اپنی غیرت کیخلاف سمجھ لیتی ہیں اور اس غلط رسم وروایت اور انسانی فطرت کو معقول طریقے سے دھکیل دیا اور حلالہ کی رسم جاہلیت کو حرفِ غلط کی طرح مٹادیا۔ تو پھر سورۂ طلاق میں واضح طور سے سمجھایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو۔ عربی میں علیحدگی کیلئے طلاق کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر عورت کو چھوڑنا ہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو۔ مذہبی دنیا میں طلاق کا تصور اس قدر بگاڑ دیا گیا ہے کہ قرآن کی کسی آیت کا درست ترجمہ بھی مسلکی زبان میں نہیں ہوسکتا ہے۔
ایک طلاق دیدی تو یہ کسی وقت کیلئے نہیں ہوسکتی بلکہ ہمیشہ کیلئے ہوگی، پھر زندگی میں دو طلاق باقی رہیں گے۔ اگر رجوع نہیں کیا تو عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی باقی رہیں گے۔ پھر عورت نے دوسرے سے طلاق لے کر پہلے والے سے دوبارہ شادی کرلی تو مذہبی دنیا میں بڑے بڑوں کی طرف یہ اختلاف منسوب ہے کہ پہلا شوہر نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا یا پہلے سے موجود 2 طلاق کا۔ جمہور کے نزدیک نئے سرے سے 3طلاق کا مالک نہیں ہوگا۔ امام ابو حنیفہؒ اور انکے شاگردوں کا بھی آپس میں اس بات پر اختلاف نقل کیا جاتا ہے کہ پہلے سے موجود طلاقوں کا مالک ہوگا یا نئے سرے سے 3طلاق کا؟۔ عورت دس آدمیوں سے شادی کرکے ایک ایک طلاق لے تو اس پر سب کے 2، 2طلاق کی ملکیت کا حق باقی ہوگا اور عورت پر مجموعی طور سے 20طلاقوں کی بلڈنگ بنی ہوئی ہوگی۔
شوہر نے کہہ دیا کہ 3طلاق اور عورت نے سن لیا تو شرعاً اس پر 3طلاق واقع ہوں گی لیکن اگر شوہر انکار کرے اور عورت کے پاس گواہ نہ ہو تو عورت خلع بھی لینا چاہے اور شوہر خلع نہ دے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ طلاق کے حوالے سے جو عجیب و غریب مسائل اسلام کے نام پر گھڑے گئے ہیں انکے ہوتے ہوئے کوئی بھی معقول قوم ، معقول ملک اور معقول افراد اسلام کو قبول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو مسلمان پیدائشی طور پر مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اسلام کو وہ شعوری طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ جس طرح ہندوؤں کے گھر میں پیدا ہونے والے افراد گاؤ ماتا کے پجاری اور گائے کے پیشاب پینے تک کو برا نہیں سمجھتے ، اسی طرح مسلمان بھی دیکھا دیکھی اندھی تقلید ، اندھی عقیدت اور اندھا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسلام دین فطرت ہے اور قرآن و سنت کے درست تصورات عالم انسانیت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے زبردست ہیں ، یہی وجہ تھی کہ بہت کم وقت میں اس دور میں سپر طاقتیں روم اور ایران کو مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ حالانکہ حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ کی شہادتوں کے بعد مسلمانوں کو بڑی مشکل سے حضرت امام حسنؓ نے اکھٹا کیا تھا۔ احادیث صحیحہ میں 3طلاق کے حوالے سے صحابہؓ کے جتنے واقعات ہیں ان کی تفصیلات دیکھی جائیں تو ان میں الگ الگ 3طلاق دینا طہر و حیض کے حوالہ سے ہی مراد ہیں۔ حضرت رفاعہ القرظیؓ ، حضرت فاطمہ بنت قیسؓ وغیرہ کے حوالے سے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عدت میں قرآن و سنت کے لحاظ سے الگ الگ 3 طلاقیں دی گئیں مگر پھر بھی بعض لوگوں نے من گھڑت روایات بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ لفظ واحد سے حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو ایک ساتھ 3طلاقیں دی گئیں۔ احادیث کے پورے ذخیرے اور ائمہ اربعہؒ کے ہاں صرف 2 واقعات ہیں جن میں ایک ساتھ 3طلاق کا ذکر ہے۔ ایک حضرت عویمر عجلانیؓ جس نے لعان کرنے کے بعد ایک ساتھ3طلاق کا اظہار کیا۔ دوسری روایت حضرت محمود بن لبیدؓ کی ہے جس میں ایک ساتھ 3طلاق پر نبی ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔
امام شافعیؒ عویمر عجلانیؓ کے واقعہ سے استدلال پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا اسلئے ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک محمود بن لبیدؓ کی روایت سے ایک ساتھ 3طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ ہے۔ قرآن میں فحاشی کی صورت پر عدت کے دوران بھی عورت کا نکالنا اور اس کا خود سے نکلنا جائز قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عویمر عجلانیؓ کی روایت کا تعلق بھی لعان سے تھا۔ حضرت محمود بن لبیدؓ کی روایت میں نبی ﷺ کی ناراضگی کا اظہار اس بات کیلئے کافی نہیں کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ اسلئے کہ اسی طرح سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عمرؓ پر بھی حالت حیض میں طلاق دینے پر غضب کا اظہار فرمایا تھا۔ جس کا ذکر کتاب التفسیر سورۂ طلاق صحیح بخاری میں ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے رسم جاہلیت کی وجہ سے اللہ کی کتاب کو نہ سمجھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔ جہاں تک رجوع کی گنجائش کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار فرمایا ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر باہمی رضامندی سے معروف طریقے پر رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے کھلا رکھا ہے۔ اسلئے نبی ﷺ کوباقاعدہ طور پر یہ وضاحت پیش کرنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
سورہ طلاق میں عدت کی تکمیل پر معروف طریقے پررجوع یا معروف طریقے پر الگ کرنے کی وضاحت اور دو عادل گواہوں کا تقررانتہائی جاہل سے جاہل اور کم عقل سے کم عقل انسان کیلئے بھی کافی ہے کہ ایک ساتھ 3طلاق پر اللہ تعالیٰ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ پھر سورۂ طلاق میں مزید یہانتک گنجائش کا ذکر ہے کہ جو اللہ سے ڈرا ، اس کیلئے اللہ تعالیٰ راستہ کھول دیگا۔ کاش علماء و مفتیان اپنے ذاتی خیالات کو چھوڑ کر قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوجائیں اور مساجد میں عوام کو یہ آیات اور مسائل سمجھانا بھی شروع کردیں۔ اصل معاملہ قرآن و سنت میں حقوق کا ہے۔ شوہر طلاق دیتا ہے تو حقوق کا معاملہ کچھ بنتا ہے اور عورت خلع لے تو حقوق کا معاملہ کچھ اور بنتا ہے۔ جب دونوں آپس میں رہنے پر راضی ہوں تو حلالہ کی رسم کو زندہ رکھنے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہے جنہوں نے اس لعنت کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ جب تک حکومت کو ان کو ڈنڈا نہ کرے اس وقت تک یہ جاہل عوام کی عزتوں سے کھیلنا بند نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی و سینٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

دنیا بھر کی جاہلانہ رسوم قوانین اور اسلامی حقوق کامسئلہ

سعودی عرب، ایران، پاکستان ،افغانستان، ترکی، مصر، عرب امارات، قطر ، عمان،شام،عراق، امریکہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، روس، آسٹریلیا،فلسطین،سوڈان، بنگلہ دیش،برما، ملیشیا، جاپان، لبنان ،چین،کوریا کے علاوہ دنیا بھرکے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان بہت سے فرقہ وارانہ، مسلکانہ حقیقی رنجشوں کے علاوہ تہذیب وتمدن اور حالات کے تناظر میں بھی کچھ اختلافات ہیں۔
قرآن وسنت کی عظیم روشنی سے آفتاب کی ضیاء اورمہتاب کے نور کی طرح ہمارا ہر مسئلہ حل ہوسکتاہے۔ اللہ کی کتاب قرآن اور آخری نبی حضرت محمدﷺ کی سنت پر کسی مسلمان کا اختلاف تو دور کی بات ہے وہ شخص مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔ ہمارا اتنا بڑا عظیم الشان اثاثہ ہونے کے باوجود مسلمان اپنے اپنے مفادات اور تعصبات سے کھیل رہے ہیں۔ زوال وپستی کی انتہاء اور بلندی وعروج کے درمیان فاصلے کی کمی نہیں لیکن کسی بیمار ذہن کو بات الٹی لگتی ہو تو اسکے علاج کی ضرورت ہے۔ قرآن شفاء للناس ’’عوام کیلئے شفاء‘‘ ہے۔ دورِ جاہلیت میں باپ کی منکوحہ سے بیٹے شادی رچانے کا حق رکھتے تھے اور منہ بولے بیٹے کی منکوحہ کو حقیقی بہوسمجھ لیا جاتاتھا ۔ اس بدترین بے غیرتی کا اللہ تعالیٰ نے زبردست طریقے سے علاج کردیا ۔
اصلاحات کے نام پر فسادکی بھی بنیاد پڑتی ہے۔ عرب میں لاتعداد عورتوں سے نکاح کا رواج تھا۔بادشاہوں کے حرم سراؤں میں سینکڑوں لڑکیوں کو پابندِ سلاسل رکھا جاتا تھا۔ لڑکے کو باپ کی منکوحہ ، لونڈی یا داشتہ سے نکاح کی اجازت اصلاح کی خاطر بھی دی جاسکتی ہے اور ہوائے نفسانی میں خواہشات کی تکمیل کیلئے بھی۔ معاشرہ اصلاحات بھی لاتا ہے اور فسادات بھی۔ کسی معاشرے میں افراد اپنی بیشمار بیگمات کو طلاق دیتا ہو یا بیوہ بناکر چھوڑتا ہو تو اسکا حل کیاہے؟۔ طلاق شدہ اور بیوہ سے نکاح پر کوئی مشکل سے راضی ہوتاہے۔ اسامہ بن لادن کے باپ نے 22عورتوں سے نکاح کیا تھا۔ جب سعودی عرب نے دیکھاکہ خواتین پر سخت پابندیوں کے باوجود بھی خاطر خواہ اثر نہیں تو مسیار کے نام پر وقتی نکاح یا متعہ کی اجازت دیدی۔ وہاں کے علماء ومفتیان اور مذہبی شدت پسندوں کا حکومت میں کردار ہے۔ بڑے لوگوں پر تو ان کا بس نہیں چلتا مگر غریب غرباء پر ٹھیکہ داری کو جماتے ہیں۔ سختی کے انداز میں وہاں پر کام کرنے والے پسماندہ ملکوں کی عوام سے پوچھتے ہیں کہ ’’آپ نے مسیار تو نہیں کیا ‘‘۔ اگر مذہبی طبقے کے ذہن میں یہ بات ہو کہ’’ حکمرانوں نے قرآن وسنت کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسیار کی اجازت دی ہے‘‘ تو یہ زبردست تصادم ، نفرت اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اور جب مذہبی طبقے بڑوں سے نہیں نمٹ سکتے اور غریب غرباء پر اپنی ٹھیکہ داری جمانا اپنا حق سمجھتے ہیں تو ملاء اعلیٰ سے ان کا رشتہ ٹوٹ کر احسن تقویم نہیں رہتا بلکہ سافلین میں نچلے ترین درجے پر پہنچ جاتاہے۔ مذہب، سیاست ، صحافت میں کچھ لوگ آلۂ کار کا کردار ادا کرتے ہیں تو معاشرہ کبھی بھی اخلاقی قدروں پر کھڑا نہیں رہ سکتاہے۔
جب امام ابوحنیفہؒ پر وقت کا بادشاہ ، امیرالمؤمنین یا خلیفہ اپنے مقاصد کیلئے قابو نہ پاسکا تو آپ کو جیل میں بند کرکے تشدد کیا اور زندگی سے محروم کردیا۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کو بھی سرِ عام منہ کالا کرکے گدھے پر گھمانے اور سخت ترین کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔ قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)شیخ الاسلام کا لقب پانیوالے امام ابویوسف کو حکومت کی تمام مراعات حاصل تھیں، ممکن ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار عہدے پر ہوں اور نوازشریف سے مکمل ہمدردی رکھنے کے باجود دوسرے ججوں کے ذریعے نوازشریف کو سزا ہوجائے تو اسی طرح امام ابویوسف کی ہمدردی امام ابوحنیفہؒ کیساتھ ہوں مگر عملی طور سے کچھ نہیں کرسکتے ہوں۔چیف جسٹس و عام ججوں کے جذبے میں فرق ہوسکتاہے، آرمی چیف اور کورکمانڈروں کے جذبے مختلف ہوسکتے ہیں جس طرح نوازشریف اور مریم نوازکی خواہش اسٹیبلشمنٹ سے طبلہ جنگ بجانے میں تھی اور واحد شخص چوہدری نثار تھے جو کھل کر نوازشریف کی خواہش کے خلاف چلے اور آج ان کی فکرسب پر غالب بھی آگئی۔یہاں تک جیو اور جنگ نے بھی نوازشریف کی خواہشات کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرنے کے بعد اپنی توپوں کا رُخ بدل کر چوہدری نثار کے مشن کو پذیرائی دینا شروع کی۔
خواہشات ، خواب اور خمار کی آنکھوں سے دیکھنے والی دنیا اور معروضی حقائق کی دنیا میں فرق ہوتا ہے لیکن کبھی معروضی حقائق میں بھی خوابوں کی طرح تبدیلی کا عمل اتنا تیزی سے مکمل ہوتا ہے کہ آنکھوں کو یقین نہیں ہوتا۔ سائنس کی دنیا نے ایک ایسا انقلاب برپا کردیاہے کہ مُردے جی اٹھیں تو دنیا پر قیامت کا یقین کرنے لگیں۔اس سے بڑا انقلاب دورِ جاہلیت کو اسلام نے اعلیٰ اخلاقی اقدار سے بدل ڈالا۔ دنیا آج تک اس کی نظیر لانے سے بالکل قاصر ہے۔ حضرت بلال حبشیؓ کو سیدنا کا لقب مل گیا اور ابوجہل وابولہب اور ابن اُبی کی سرداری غارت ہوگئی۔ حضرت علیؓ کے بھائی شہید ہوگئے تو بھابی حضرت ام عمیسؓسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے شادی کرلی اور حضرت ابوبکرؓ کا وصال ہوا تو اسی سے حضرت علیؓ نے شادی کرلی۔ جس سے محمد بن ابوبکرؓ تھا جس سے پوتاقاسم بن محمد بن ابوبکرؓ تھے جو مدینہ کے 7فقہاء میں بھی تھے۔ عروہ بن زبیرؓ حضرت ابوبکرؓ کے نواسے بھی 7 فقہاء میں تھے اورمکہ پر قابض عبداللہ بن زبیرؓ بھی حضرت ابوبکرؓ کے نواسے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ ’’متعہ زنا ہے تو حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ تم بھی اسی کی پیداوار ہو‘‘۔ (زادالمعاد: علامہ ابن قیم‘‘۔
حضرت امام حسینؓ کی کربلا میں شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓنے مکہ کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یزید کی موت واقعی ہوگئی لیکن اپنی زندگی میں مکہ پر قبضہ نہیں کرسکا۔ یزید کی طرف سے لڑنیوالے نے یزید کی موت کے بعد عبداللہ بن زبیرؓ کو صلح کی پیشکش کی مگر آپؓ نے پیشکش کو دھوکہ سمجھ لیا اور مصالحت سے انکار کردیا۔ یزید کی حکومت عدمِ استحکام کا اسقدر شکار تھی کہ چالیس دن میں اسکا بیٹا معاویہؒ اقتدار چھوڑ گیا۔ عبداللہ بن زبیرؓ سے ایک بیٹے کے سوا سب بدست بردار ہوگئے تواپنی 100 سالہ اماں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ’’ چاہتا ہوں کہ ہتھیار ڈال دوں اسلئے کہ میری لاش کیساتھ بہت برا سلوک کیا جائیگا تو آپ اس ضعیف العمری میں یہ دُکھ برداشت نہ کرسکوگی۔ حضرت اسماءؓ( نبیﷺ نے ذات النطاقین کا خطاب دیا) نے فرمایا کہ ’’ بیٹا جب تم مرجاؤ تو لاش کو کیا تکلیف ہوگی؟۔ اگر تم ہتھیار ڈال دو تو مجھے اس سے زیادہ تکلیف ہوگی جب تمہاری لاش کیساتھ بہت برا سلوک ہو‘‘۔ عبداللہ بن زبیرؓ نے گود میں سر دیکر دعا کی درخواست کردی کہ آخری اور فیصلہ کن مرحلہ میں جان کی بازی لگانے کا وقت آگیاہے ، استقامت مل جائے، اور ماں نے پیٹھ پر تھپکی دینے کیلئے ہاتھ لگایا تو پوچھا کہ یہ سخت کیا چیز ہے؟۔ بعض اوقات چوٹ کھانے سے بھی جسم سخت ہوجاتا ہے۔ بیٹے نے عرض کیا کہ زرہ ہے تو ماں نے کہا کہ بیٹا اس کو اُتاردو۔ چونکہ ماں نابینا ہوچکی تھیں اور اپنے بیٹے کو بہادری کا سبق سکھارہی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے تاریخ کے اوراق میں اس کو محفوظ بھی کرنا تھا۔
عبداللہ بن زبیرؓ کی لاش کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا گیا۔ اماں حضرت اسماء بنت ابی ابکرؓ لاش کے پاس پہنچ گئی تو حجاج نے کہہ دیا کہ ’’دیکھ لیا ، اپنے بیٹے کا انجام !‘‘۔ حضرت اسماءؓ نے فرمایا کہ ’’ بالکل دیکھ لیا اور اللہ کا شکر کہ سودا گھاٹے کا نہیں ۔ تم نے میرے بیٹے کی دنیا تباہ کی ۔ اس نے تمہاری آخرت کو بگاڑ دیا ‘‘۔ تاریخ کے اوراق میں محفوظ یہ واقعات دنیا کے سامنے اسلئے نہیں آتے کہ حکمرانوں کیخلاف بغاوتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔ عربی میں یہ واقعہ فتنہ ابن زبیرؓہے۔ شیعہ اسلئے وقت کے حکمرانوں کی نظر سے گرے ہوئے ہیں کہ واقعہ کربلا کی یاد مناتے ہیں۔ حقائق کا معیارتہذیب وتمدن سے اکثر وبیشتر مختلف رہتاہے۔ امریکہ اور اس کی باقیات سے توقع نہیں کہ افغانستان کے ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش سے ہونے والے سلوک پر دنیا سے معافی مانگ لیں اوراپنے ا قدار کے پیمانوں کو درست کرنا شروع کردیں۔
سندھ کی بیٹی، اسلام کی صاحبزادی ، اقدار کی شہزادی اور دختر انسانیت محترمہ ثانیہ خاصخیلی کی عظیم شہادت کا سانحہ ہماری تہذیب وتمدن ، معاشرہ ، حکومت اور ریاست کے منہ پر کربلا سے بڑی کالک ہے۔ یزید کے دبار میں پہنچتے ہی اہلبیت کے گھرانے کو تحفظ مل گیا۔ زین العابدین نے شہر کی جامع مسجد میں جمعہ کی تقریر کی۔ ثانیہ شہید کے گھر والے تحفظ کی بھیک مانگتے ہیں۔ ہماری عدالتیں قابلِ احترام ہیں لیکن جب مجرم انجام کو پہنچیں گے تو اس میں اتنا وقت لگے گا کہ اس کی معصوم بچی بہن اپنی عمر کی کئی بہاریں کھودے گی۔ خاندان عرصہ تک اس طرح ہراساں رہے گا۔ وڈیرے قاتلوں اور انکے سہولت کاروں کی مونچیں تاؤ کھاتی رہیں گی۔ سیاسی کھوتے ، مذہبی گدھے اور حکومتی وریاستی خر مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے بلکہ کمزور کے مقابلہ میں ظالم طاقتورسے ہمدردیاں جتارہے ہونگے کیونکہ ازل سے تہذیب وتمدن اور معاشرے کی یہی رسم وروایت چلی ہے۔
ثانیہ شہید کی خبر چار دن بعد سوشل میڈیا سے نہ پہنچتی تو حکمرانوں نے کوئی خبر نہیں لینی تھی۔ ثانیہ ایک غریب تھی جس نے اپنی اور خاندان کی عزت کیلئے جان کی قربانی دیدی مگر اسلامی، انسانی اقدار کو تحفظ دے گئی۔ سندھ، پاکستان، اسلام اور انسانیت کو اپنی اس عظیم سپوت پر فخر کرنا چاہیے ،جس نے بڑی بہادری سے جامِ شہادت قبول کرلی۔ ثانیہ سندھ ، انسانیت اور اسلامی اقدار کی محسن ہیں۔ سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں، عدالتی بار کونسلوں، پریس کلبوں اور مدارس میں سیمینار، جلسے اور جلوسوں کے ذریعے سے ان کی غیرت کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے ۔ اس کی یومِ شہادت کو عالمی طور پر ’’ انسانی غیرت ‘‘ کو اُجاگر کرنے نام پر منانا چاہیے اور یہی اسلام کے احکام اور انسانی اقدار کا بڑا سرمایہ ہے۔ انسان کو یہی غیرت جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور حکومت وریاست کی اہم شخصیات کو ملکر ثانیہ شہید کے قبر پر سلامی پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ظالموں کا قلع قمع اور غریبوں، مظلوموں اور بے کسوں کیلئے پاکستان سے دنیا کے سامنے ایک مثبت پیغام جائے۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمین گاہ دارالخلافہ اسلام آباد سے زنجیرمیں جکڑی ہوئی لڑکیاں پکڑی گئیں ہیں جو فروخت کی جارہی تھیں۔ ثانیہ شہید کا جذبہ اور ثانیہ شہید کی قربانی کو اُجاگر کرنے سے ہمارا معاشرہ اس گندے نظام سے نکل آئیگا جس کے خمیر سے بڑے بھیانک انداز میں دنیابری طرح لتھڑ چکی ہے۔
سندھ کی پارلیمنٹ سے شادی کیلئے لڑکیوں کی عمرکم ازکم 16کی جگہ 18سال کا قانون پاس کیا گیا جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے برعکس تھا اور سینٹ میں پیپلز پارٹی کے اپنے لوگوں میں سے بھی رحمن ملک وغیرہ نے حمایت نہیں کی۔ امریکہ میں ایک طرف آزاد جنسی معاشرہ ہے تو دوسری طرف شادی کیلئے بلوغت ہی نہیں اچھی خاصی عمر بھی شرط ہے۔ کچھ معاملات وہ ہوتے ہیں جن کا تعلق حکومت سے ہوتاہے اور کچھ معاملات میں حکومت بے بس دکھائی دینے پر مجبورہوتی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں جنسی بے راہ روی کو روکنا ممکن نہیں تو شادی پر پابندی لگانے سے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟۔ امریکہ میں نکاح کیلئے بڑے سخت قوانین ہیں ، نکاح کے بعد عورت جدائی اختیار کرنا چاہے یا شوہر، دونوں صورتوں میں جائیدادبالکل آدھی آدھی تقسیم ہوتی ہے۔ اگر حکومت بچپن کی شادی پرپابندی نہ بھی لگائے تو لوگ خود بھی شادی کے بجائے اس خوف سے بوائے اور گرل فرینڈز بننا پسند کرتے ہیں کہ جائیداد تقسیم ہوگی۔ نکاح کی خاص پختہ عمر تک پہنچنے کیلئے جسمانی اور جنسی طورسے بالغ ہونے کے بجائے ذمہ داری، عقل اور شعور کی عمر تک پہنچنا بھی ضروری ہوتاہے اور قرآن میں بھی اتفاق سے اسی ہی کا ذکرہے۔ چنانچہ یتیم بچوں کیلئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’جب وہ نکاح تک پہنچ جائیں ‘‘۔ اس میں جنسی بلوغت مراد نہیں بلکہ اس کی وہ صلاحیت مراد ہے جس میں مالی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بن جائے۔
غلام احمد پرویز نے حتی اذا بلغوا نکاحاسے عورت کی جنسی بلوغت مراد لی ہے۔حالانکہ یہاں سرے سے عورت کا ذکر نہیں اور بلوغت کے معنیٰ بھی بلوغت نہیں بلکہ پہنچنے کے ہیں اور وہ بھی جنسی بنیاد پر نہیں بلکہ مالی ذمہ داری اٹھانے کیلئے۔ چونکہ اسلام نکاح کا حق مہر، شادی کے اخراجات، بیوی بچوں کا نان نقفہ سب ہی مرد کے ذمہ ڈالتاہے اسلئے پاکستان میں لڑکی کیلئے شادی کی عمر16اور لڑکے کی عمر18 سال رکھنے میں خواتین کی حق تلفی نہیں ۔ اگر دنیا کو پتہ چل گیا کہ اسلام میں غیرشادی شدہ کیلئے بدکاری کی سزا 100کوڑے ہیں لیکن لڑکیوں کو جان سے ماردیا جاتاہے تو اقوام متحدہ مطالبہ کریگی کہ لڑکیوں پر شادی کی خاص عمرکی پابندی ختم کردی جائے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چند ٹکوں کو کھرے کرنے کیلئے کام کرنے کے بجائے واقعی میں انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے کام کریں گی۔ اگر چہ امریکہ کی ریاستوں میں شادی کیلئے لڑکیوں کی کم ازکم عمر الگ الگ ہے لیکن وہاں پولیس کے ذریعے چھاپہ مار کاروائی کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اسلئے کہ علیحدگی کی صورت میں عدالت کی طرف سے پھر کوئی ریلیف نہیں مل سکتا ہے اور جنسی میلاپ اور نکاح کے بغیر بچوں کی پیدائش پر ویسے بھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے۔ بچوں کو جائیداد کی تقسیم کا سامنا کرنا پڑے تو معاشرے کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے امریکہ اور مغرب میں اپنے مخصوص حالات اور تہذیب وتمدن میں قوانین بھی ہم سے بالکل مختلف ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں مولانا فضل الرحمن MRDکی تحریک میں تھے اور مولانا نورانی ؒ کے بیان اخبار میں شائع ہوتے تھے کہ ’’ کراچی کو فری سیکس زون میں تبدیل کرنے کی سازش ہورہی ہے‘‘۔ آج حالات بدل گئے، بینظیر بھٹو کیخلاف بڑا شرمناک پروپیگنڈہ ہوتا تھا ، تومریم نوازشریف خود کو بینظیر بھٹو بناکر پیش کرتی ہے۔ احتساب عدالت کا یہ فائدہ ضرور ہواہے کہ مریم و صفدر کی جوڑی قریب قریب ایک جگہ دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان نے عائشہ گلالئی کیخلاف الیکشن کمیشن میں اس بنیاد پر کیس دائر کیا کہ اس نے شیخ رشید کواپنا ووٹ نہیں دیا ، حالانکہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے بھی اپنے نامزد وزیراعظم شیخ رشید کو ووٹ دینے کی زحمت نہیں کی۔اب سیاست سیاست نہیں رہی بلکہ بے شرمی، بے غیرتی، بے حیائی، بے ایمانی اور بے وقوفی کی لیاقت رہی ہے۔ میرے لئے اور پورے معاشرے کیلئے سب سے عزتمند طبقہ وہ مخلص سیاسی رہنما اور کارکن ہیں جو اصولوں کیلئے اپنے ٹھیٹ کردار اور گفتار کی ضمانت ہوتے ہیں لیکن بیکارسیاسی قیادت اور پارٹیوں نے ان کو بھی بے وقعت بنایا ہے۔ بلاول بھٹو، مریم نواز، نوازشریف، آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق، مولانا فضل الرحمن،محمود خان اچکزئی، چودھری شجاعت، شیخ رشید ، الطاف حسین اور سب ہی سیاسی لیڈروں نے اصول، اخلاقیات اور کردار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کرنیوالاسیاست کے نام پر قیادت کے چھولے پُلاؤ بیچنے کے لائق بالکل بھی نہیں رہاہے۔ فوج کا کام سیاست نہیں اور ان کی نرسرسیوں و گملوں میں پھلنے والی قیادت کیا قیادت ہوگی؟۔ موروثی قیادت اور نااہل قیادت کی گود میں پرورش پانے والی قیادت کے اندر کیا صلاحیت ہوگئی اور اسکے کیا اوقات اور اخلاق وکردار ہوں گے؟۔ اچھے لوگوں کو سیاست کیلئے لنگوٹ کس کر نکلنا ہوگا۔
محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نوازشریف کیلئے بیربل و ملادوپیازہ نہ بنیں جو پیرروشان کے مقابلہ میں مارے گئے، قبائل کے 40FCR کی زد میں خود آئیں تو قبائل کے درد کا پتہ چلے ،کالے قانون کا سامنا قبائل کو ہی کرنا پڑتاہے۔ختم نبوت کی ترمیم کیلئے میڈیا نے خوب آواز بلند کردی، پھر سینٹ میں بل کی منظوری ہوئی، جس پر مزید شور گونج اٹھا۔ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے سے پہلے شیخ رشید نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود کا نام لیکر مولانا فضل الرحمن کو پکارا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی ختم نبوت کی ترمیم کیخلاف بولا مگر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نے مہنگائی پر بات کی، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کی نااہلی کو موضوعِ بحث بنایا۔ مسلم لیگ ن کے بیرسٹر ظفراللہ کی وضاحت اعترافِ جرم بھی ہے اور اس میں وزن بھی ہے کہ ’’ سب جماعتیں ختم نبوت کی ترمیم میں آن بورڈ تھیں‘‘۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی وڈیو بھی آچکی ہے کہ وہ قادیانی جماعت کے سربراہ سے ملاقات کرکے ووٹ میں تعاون مانگ رہاہے۔
تحریک انصاف، پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے اس سلسلے میں غفلت نہیں بدترین منافقت کا رول ادا کیاہے۔ اگر فوج کے ترجمان آصف غفور کی طرف سے وضاحت نہ آتی کہ ’’پاک فوج ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی‘‘ تو آئین میں ختم نبوت کی اس ترمیم کا یہ لوگ کریدٹ لیتے لیکن جب فوج کی طرف سے وضاحت آئی تو یہ خوف پیدا ہوا کہ جو حشر جیو ٹی وی چینل کا توہین اہل بیت کے مسئلہ پر کیا گیا تھا ، اس سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ہوسکتاہے تو ترمیم واپس لی گئی۔ جسکے بعد مولانا فضل الرحمن کا بیان جدہ سے آگیا کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ ختم نبوت کی ترمیم کا مسئلہ کیا ہے؟‘‘۔ اہم مواقع پر مولانا نے ہمیشہ کی طرح رفوچکر ہونے کی چلن سیکھنے کا فائدہ اٹھایا تھا۔ پھر سوات کے جلسہ میں مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ’’ ہم نے ختم نبوت کی ترمیم کی سازش ناکام بنادی‘‘۔ منافقت میں گراوٹ کے حدود اور قیود نہیں ہوتے۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ’’ منافق جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں ہونگے‘‘۔پھر مولانا فضل الرحمن نے یہ بیان دیا کہ ’’امریکہ کو پیغام دیا گیا کہ ہم نے ختم نبوت کا مسئلہ آئین سے نکال دیا‘‘۔
اب کوئی مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لے کہ یہ پیغام کس نے دیا ؟۔ توکہے گا کہ یہ حالات پر منحصر ہے، اگر نواشریف کی کشتی ڈوب گئی تو نوازشریف کا نام لوں گا اور عمران خان نے مات کھائی تو اسکا نام لوں گا، جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام آیا تو اسکا نام لوں گا۔ اور کبھی خدانخواستہ حالات ایسے بن گئے کہ ختم نبوت کی ترمیم واپس لینے کے دینے پڑگئے تو مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ ’’ امریکہ کو میں نے پیغام دیدیا تھا کہ یہ کام ہم نے کیا تھا لیکن سازش کے تحت اس کو ناکام بنادیا گیا‘‘۔ ہماری سیاست اور مذہب کا یہ معیار ہے کہ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے کہا کہ ’’ شہباز شریف تم کب رانا ثناء اللہ کو نکالوگے؟‘‘۔ در پردہ سراج الحق کہے گا کہ میں نے رانا ثناء اللہ کیخلاف مرغی بن کر آذان دی ، جے یوآئی والے رانا ثناء اللہ سے بڑے مجرم ہیں۔ آج مولانا فضل الرحمن مرغا بن کر کُڑ کُڑ کرے تو سراج الحق مرغی بن کر بغل میں کھڑا ہوگا۔ سخت زباں کا استعمال اتنا خطرناک نہیں جتنا منافقانہ کردار خطرناک ہوتاہے۔ پاک فوج کے پہلے دو آرمی چیف آزادی کے بعد بھی انگریز تھے، قادیانی آرمی چیف منافقت کی بنیاد پر بنتاہے تو یہ غلط ہے، پاک فوج کیلئے بھی اور قادیانیوں کیلئے بھی۔
نوازشریف نے جنرل باجوہ پر الزام کی گنجائش دیکھ کر آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا اسلئے کہ اس کو جنرل راحیل شریف کے بعد بہت کمزور آدمی کی ضرورت تھی ، جب مسلم ن نے دیکھا کہ ختم نبوت کا مسئلہ کریڈٹ بننے کے بجائے گلے کا طوق بن رہاہے تو کیپٹن صفدر سے قومی اسمبلی میں فوج میں عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹانے پر زور دیا ، کچھ ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے ہیں کہ الطاف حسین کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں، جیو کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں، پاکستان اور اسلام کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور جب وہی بات ڈی رینجرز کرتاہے کہ فرقوں کی بجائے اسلام اور لسانی وصوبائی اکائی کی بجائے اپنی شناخت میں پاکستانیت کو اولین ترجیح دو، بول سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت کی طرف سے کلپ جوڑ کر بلیک میلنگ کی گئی جس پر دوبارہ بول میں رکھوا دیا گیاہے۔ اب اگر جنرل باجوہ نے جھوٹ سے بھی کہہ دیا کہ ’’ میں کٹر قادیانی ہوں اور ڈاکٹر عامر لیاقت مجھ پر تبصرہ کرو ‘‘ تو ڈاکٹر عامر لیاقت کہے گا کہ’’ تحریک انصاف اسلئے میں جوائن کی ہے کہ عمران خان قائداعظم کا نام لیتاہے، قائداعظم کے قادیانی پر کفر کا فتوے نہیں لگاتے تھے، یہ تو پاکستان مخالف ہندؤں کے ایجنٹ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا ایجنڈہ تھا جس کو ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو کمزور بنانے کیلئے استعمال کیا تھا۔ قادیانی ہم سے زیادہ پکے مسلمان ہیں‘‘ ۔
جب صحافت اور سیاست کا معیار گر جائے۔ کوئی میڈیا چینل اور صحافی سیاست نہیں کرسکتااورنہ ہی کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرسکتاہے، یہ قانوناً جرم ہے لیکن سیاستدان صحافت اور صحافی سیاست کررہے ہیں۔ یہی منافقت کی بنیادیں ہیں اور اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ صحافت کا کام کارگردگی کی بنیاد پر بلاتفریق سب ہی کی حمایت اور سب ہی کی مخالفت ہے تاکہ قوم ، ملک اور سلطنت میں سیاست اور سب اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے اور غلطیوں کی اصلاح ہوسکے ۔ سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کا یہ معیار ہے کہ میڈیا، پارلیمنٹ اور دنیا بھر میں متضاد اور مختلف بیانات کے ذریعے قابلِ وکیلوں کو استعمال کرکے عدالتوں میں صفائی پیش نہ کرسکے اور الزام سازش کا لگارہے ہیں۔ کوئی فوجی عدالتوں کے ذریعے ٹرائیل ہوتا تو سازش کہہ سکتے تھے اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں ایک ترمیم ہوگئی جسے نادانستہ غلطی قرار دیا جارہاہے۔ کلمہ کی بات ہے تو فوج اور پارلیمنٹ کیلئے مذہبی معیار کے پیمانے کو بھی بدل دیا جاتاہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے جہاد کو منسوخ قرار دیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج کا راستہ جہاد کا ہے۔ قادیانیوں کو مذہبی طور پر فوج میں خود بھی شمولیت سے اسلئے گریز کرنا چاہیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اسکے سوا کوئی دوسرا کارنامہ بھی نہیں اور جب اس کارنامے پر زد پڑے تو ایسی نوکری کرنا انکے مذہب، ضمیر اور مشن کے خلاف ہے اور فوج پر بھی برا اثرمرتب ہوتاہے۔
جاویداحمد غامدی ایک قابل آدمی ہیں وہ کہتاہے کہ ’’ تمام انسانیت کی طرح میں قادیانیوں کیلئے بھی نرم گوشہ رکھتا ہوں ، پارلیمنٹ نے ان کو کافر قرار دیا ہے تو میرے نزدیک بھی وہ کافر ہیں لیکن پارلیمنٹ نے یہ غلط کیا ہے اسلئے کہ آغا خانی ، بوہری اور دیگر فرقوں کیلئے پہلے کبھی یہ طرزِ عمل نہیں اپنایا گیا۔ پارلیمنٹ کا یہ کام نہیں کہ آپ کسی کو اسلام سے نکالنے یا داخل کرنے کا کام کرو۔ قادیانی تو صرف ایک نبی کا اضافہ مانتے ہیں اور جولوگ الہام کے قائل ہیں وہ تو نبوت کا بڑا سلسلہ مانتے ہیں، میرے نزدیک وہ بھی ختم نبوت کا انکار ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا مگر مبشرات، عرض کیا گیا کہ مبشرات کیا ہیں تو نبیﷺ نے فرمایا کہ نیک آدمی کا خواب۔ حدیث سے ختم نبوت ثابت ہوتی ہے اور کچھ بھی باقی نہ رہاہے‘‘۔
جاوید غامدی کا یہ وڈیو تضادات کا مجموعہ ہے، مان لیا کہ پارلیمنٹ کا کام یہ نہیں تو پھر قادیانیوں کے معاملہ میں کیوں مان لیا؟۔ قادیانیوں سے بدترکافر علماء و صوفیاء کے وہ سلسلے ہیں جن کی کتابوں میں الہامات درج ہیں تو پارلیمنٹ کی وجہ سے ایک طبقہ کو کافر کہنا اور دوسرے کو نہیں کہنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ جبکہ بقول تمہارے اس میں پارلیمنٹ کا کردار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کونسی منطق ہے کہ پارلیمنٹ کی ایسی بات جس کا اس کو اختیار ہی نہیں اس پر کیسے کلمہ کا انحصار کیا جائے۔
جاوید احمد غامدی نے حدیث کو بھی ختم نبوت کے حق میں بیان کیاہے یا اس کے خلاف؟۔ اس کی متضاد منطق کے باعث یہ بھی غلط فہمی کا باعث ہے۔ جب نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا تو کیا نیک آدمی کے خواب کو نبوت میں سے باقی حصہ قرار دیا گیا ہے؟۔ نبوت سے مراد حدیث میں کیاہے؟۔ اور مبشرات کیاہے؟۔ نبوت سے مراد غیب کی خبریں ہیں اور غیب کی خبروں کا واحد ذریعہ وحی ہے۔ وحی کا سلسلہ بالکل ختم ہوچکاہے اور اس کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ عربی میں استثناء کی دوقسم ہیں ایک کی مثال یہ کہ’’ قوم آئی مگر زید‘‘۔ زید کا تعلق قوم کے افراد سے ہے ، اس کو متصل کہتے ہیں ، دوسری قسم کی مثال یہ ہے کہ ’’ قوم آئی مگر گدھا‘‘ ، گدھے کا تعلق قوم کے افراد سے نہیں ، اس کو استثناء منفصل کہتے ہیں۔ حدیث میں مبشرات کا تعلق استثناء منفصل سے ہے۔ جاوید غامدی نے جس نصاب میں مہارت حاصل کی ہے ، اس میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھاکر قوم کی خدمت کریں، اسلام کی تبلیغ پر پابندی نہ تھی اور نہ ہونی چاہیے لیکن گمراہ کن خیالات کو الٹی سیدھی منطق سے بغیر کسی درست دلیل کے پیش کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے، جس کی سخت مذمت بھی مناسب ہے۔
نیک آدمی کے خواب کا حدیث میں نبوت کے حوالہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کو محض خواب کی بنیاد پر بشارت قرار دیا گیاہے۔ الہام اچھے اور برے ہوسکتے ہیں اور قرآن میں اس کا ذکر ہے، نیک آدمی کا خواب یا الہام نبوت کے باقیات نہیں اور اس بنیاد پر نبوت کا دعویٰ بھی غلط ہے اور اس کو نبوت قرار دینا بھی بالکل غلط ہے۔ جاویداحمد غامدی نے مرزاغلام احمد قادیانی کی صف میں امت کے تمام طبقوں کوبھی شامل کرکے بدترین جہالت کا ثبوت دیاہے۔ غلط الہامات کو درست سمجھ کر لوگ غلط راہ پر لگ سکتے ہیں لیکن جب تک اس کو وحی کا درجہ نہ دیں تو کافر نہیں۔مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں نے شیطانی الہامات کو وحی سمجھ کر عام مسلمانوں کواس بنیاد پر کافر قرار دیا کہ ’’ اس مسیح موعود کو تم کیوں نہیں مانتے، جس نے محمدی بیگم کی محبت میں غلط سلط عربی جملوں کو جوڑ کر‘‘ اسے الہامات اور وحی کا نام دے رکھا تھا۔
سعودی عرب کے ولی عہد نے بھی نئے اعلانات کردئیے ہیں، اسلامی شدت پسندوں اور مسلمان اعتدال پسندوں کے درمیان معرکہ آرائی ختم کرنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ قرآن واحادیث کے واضح احکام کا خاکہ سامنے لایا جائے۔ اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دین میں زبردستی کا تصور قرآن وسنت نے ختم کردیا۔ لاکراہ فی الدین کوئی مصنوعی جملہ نہیں، مدینہ کی ریاست نے صلح حدیبیہ میں بھی اس پر عمل کیا۔ نبیﷺ نے ابن صائد سے کہا کہ میں کون ہوں، ابن صائد نے کہا: آپ اُمیوں کے نبی ہیں اور میں سارے عالمین کا نبی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ جو اللہ کے نبی ہیں وہی اللہ کے نبی ہیں‘‘۔ صحابیؓ نے قتل کی اجازت مانگی تو نبیﷺ نے منع فرمادیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ کے دور میں ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کرکے مدینہ پر فوج کشی سے حملہ کردیا تو وہ گرفتار کرلی گئی اور وعدہ لیکر چھوڑ دی گئی کہ پھر وہ مدینے کا رخ نہیں کریگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت مستحکم کرنے کیلئے نبوت کے جس دعویدار مسلیمہ کذاب کا خاتمہ کیا تھا ، نبوت کی دعویدار عورت نے اسی سے شادی رچائی تھی۔ ریاست مانعین زکوٰۃ سے جنگ کا فیصلہ اور حج وعمرے پر ایک ساتھ پابندی لگائے تو اس کی محرکات کو دیکھ کر اتفاق یا اختلاف کا اظہار کرنا چاہیے۔ تاکہ مطلق لعنان حکومتوں کا قیام بھی عمل نہ آئے اور فتنوں کی بھی اچھی طرح سے سرکوبی ہو۔ ایک دور وہ تھا کہ حکومت پاکستان نے ہی ’’ ختم نبوت‘‘ پر پابندی لگائی تھی جس میں مولانا عبدالستار خان نیازی کو داڑھی منڈھانا پڑگئی تھی۔
ایک آدمی مغربی کلچر میں اپنا ایمان محفوظ نہیں سمجھتا اورمسلم حکومتیں رقص وسرود کی محافل سجاتے ہیں تو شدت پسندوں کیلئے خود کش حملہ کرنا ایمان کا تقاضہ بن جاتاہے اور اسٹیج پر موجود اداکارہ ہاتھ نہیں آتی تو لمحہ بھر میں حوروں کے مزے اڑانے کا شوق پورا کردیتاہے جس کی تربیتی کیمپوں میں اس کو ترغیب ملی ہوتی ہے۔ میڈیا چینلوں پر مفتی عبدالقوی کے قندیل بلوچ کیساتھ ویڈیو کلپ دکھائے جائیں مگر ان احادیث کو بھی سامنے لایا جائے جس میں مدینہ کی ریاست میں رقص وسرود اور شراب کباب کی محل سجائی گئی تھی۔ سید الشہداء امیر حمزہؓ نے خاتون رقاصہ کے اشعار پر حضرت علیؓ کی اونٹنی کے نشہ میں مست ہوکر ٹکڑے کردئیے۔ بنیﷺ نے فرمایا کہ یہ تم نے کیا ؟ جس پر امیر حمزہؓ نے نشے کی حالت میں کہا کہ ’’ جاؤ، تیرا باپ میرے باپ کا نوکر تھا‘‘ اس حدیث میں ہے کہ نبیﷺ سمجھ گئے کہ نشہ میں ہے اور واپس تشریف لے گئے۔
خاتون دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں سے رقص کررہی تھیں،صحابہؓ دیکھ رہے تھے اور نبیﷺ بھی دیکھنے کھڑے ہوگئے، اکابر صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی اور دیگر بھی اس محفل کو دیکھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کو آتے دیکھا تو رقاصہ پھر بھاگ کھڑی ہوگئی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ عمر سے شیطان بھی بھاگتاہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نبیﷺ سے حضرت عمرؓ کے اندر زیادہ روحانی طاقت تھی بلکہ عوام کو ایک طرف اس روایت میں ریلف ہے تو دوسری طرف علماء وصوفیاء کیلئے اعتدال کی راہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ رقص وسرود کی محفل کو سنت اور صحابہؓ کا اجماع قرار دیکر اپنی ان ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں جو نبوت کے کام کے حوالہ سے ان پر عائدہوتی ہیں۔ ان روایات سے امت مسلمہ اعتدال کی راہ پر چل سکتی ہے۔ علماء کرام کیلئے یہ ضروری ہے کہ قرآن وسنت کے ذریعے سے ایک فعال کردار ادا کریں۔ مولانا فضل الرحمن کا سارا ٹبر حکومتوں سے ملنے والی مراعات پر چلتاہے اور کوئٹہ کے جلسے میں کہتا ہے کہ علماء اور مدارس کیلئے حکومتی امداد زہر قاتل ہے۔ تحریک انصاف نے مولانا سمیع الحق کو فنڈز دئیے تو مولانا فضل الرحمن کے بھائی اپنا حصہ نہ ملنے کا کیوں شکوہ کیا؟۔ مولانا کی تقریر نہیں سنی لیکن جمعیت کے ایک پرانے رہنما نے بتادیا کہ کوئٹہ میں علماء نے محسوس کیا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن کو فنڈز ملتے ہیں اور ان کو اس توقع سے باز رکھنے کیلئے یہ بیان داغا ہوگا۔ جس سے بیچارے غریب علماء کرام محروم ہیں اور انہی کے بل بوتے پر مولانا کی سیاست چلتی ہے۔
حکومت کا بڑا مسئلہ مالی بحران ہے، ہمارے پاس اشرف میمن اور شاہد علی جیسے ماہرین اور فیروز چھیپا جیسے امین موجود ہیں جو ملک کی خدمت کرکے بحرانوں کی زد سے نکالنے کی بفضل تعالیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کا بنجر علاقہ سیاحت کیلئے ترکی کے طرز پر بناؤ سنگھار کرکے بہت پیسہ کمایا جاسکتاہے۔ قوم و ملک کی سمت اچھی ہو تو عبدالقدوس بلوچ، انکے بھائی وہاب بلوچ اور دیگر بلوچوں کو میدان میں اتار کر بلوچستان کو پاکستان کا پرامن علاقہ بنانے کی بھی بفضل تعالیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے مشکل کام انسانیت اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان حقیقی اعتدال کی راہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کا خاتمہ ہے اس کی بھی قرآن وسنت کی عظیم لشان روشنی کی بدولت ہمارے اندر صلاحیت ہے ۔: فاما بنعمت ربک فحدث ’’پس جو اپنے رب کی نعمت ہے اس کا اظہار کرو‘‘۔ خادم علماء وصلحاء سید عتیق الرحمن گیلانی

اتنے نکاح کئے کہ اپنے سالوں کا پتہ نہیں. مولانا طارق مسعود

itne-nikah-kie-keh-apne-saloon-ka-pata-nahi-mufti-tariq-masood

جامعۃ الرشید کے مفتی طارق مسعود سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گیاہے اور بہت ساری ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں۔ ایک وڈیو میں زیادہ سے زیادہ شادیوں کی ترغیب دیکر کہاہے کہ آج کل سالے بھی جہیز میں مل جاتے ہیں۔مجھ سے کسی نے کہا کہ تمہارے کتنے سالے ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ اتنے سارے ہیں کہ انکا شمار نہیں کرسکتا، پتہ نہیں کون کون ہیں؟۔
نوشتۂ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے اس پرتبصرہ کیا ہے کہ مفتی صاحب نے حلالہ کو جب کارِ ثواب قرار دیا ہے تو اس لعنت سے مشکل سے محروم ہونگے۔ حلالہ میں سالے، سالیوں کی بات تو دور کی ہے، ساس سسر کو بھی کوئی نہیں پہچانتاہے مگر یہ بہت خطرناک بات ہے اسلئے کہ حلالی والی پھر تمہاری بیگم بنتی ہے ، اسکے بچے تمہارے بچے بنتے ہیں اور وہ تمہارے بچوں کی سوتیلی ماں بنتی ہے۔ یہ کہاں سے معلوم ہوگا کہ حلالہ کروانے والی کی بچی سے کل تمہاری شادی نہ ہو؟۔ اس کی ماں سے بھی شادی جائز نہیں لیکن جب ساس کا پتہ ہی نہ ہو تویہ کہاں سے پتہ چلے گا کہ کون کس سے شادی کررہا ہے۔ مفتی طارق مسعود حلالہ کے حوالے سے اپنے بیان پر نظر ثانی کریں، اسطرح دیگر معاملات پر غور کریں، ضروری نہیں کہ فقہ کا ہرمعاملہ درست ہو ورنہ سوشل میڈیا بھی غلط ہے

عدت کی تکمیل تک صلح کی شرط پر رجوع کی گنجائش کو قرآن نے برقرار رکھا

teen-talaq-kay-baad-sulah-ki-shart-per-ruju-ho-sakta-hai-surah-baqarah-228

’’ طلاق والی اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں تین مراحل تک۔ ۔۔۔ اور انکے شوہر ان کو اس مدت میں لوٹانے کے زیادہ حق دار ہیں بشرط یہ کہ ان کا پروگرام اصلاح کا ہو‘‘۔ ( البقرہ: آیت 228)رجوع کے حق اور گنجائش میں فرق ہے۔ کسی کیلئے یہ آیت طلاق رجعی کی دلیل تو کسی اور مسلک کیلئے لعل یحدث بعد ذٰلکاور کسی کیلئے اذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن طلاق رجعی کی دلیل ہے۔
اگر مسلمان کو اختیار دیا جائے کہ قرآن کی آیات میں اللہ کو چوہا جیسا حافظہ رکھنے والا قرار دو، یا نام نہاد شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو، تو دارلعلوم کراچی کا مفتی کہے گا کہ میرا پالنے والا مفتی تقی عثمانی ہے اسلئے اس کو چوہا قرار دینا روزی پر لات مارناہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ’’قرآن کا آسان ترجمہ‘‘ میں قرآنی الفاظ کو واضح رونڈ ڈالاہے ۔
جب اللہ تعالیٰ نے واضح طور سے کہہ دیا کہ ’’ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ‘‘ تو اسکے بعد یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنی بات کی خلاف ورزی کرتا کہ ’’عدت میں غیرمشروط رجوع کا حق بھی حاصل ہے‘‘ اور یہ بھی بہت بڑا تضاد ہوتا کہ اللہ اپنی آیت کا مذاق اُڑاتا کہ ’’عدت کے اندر جو رجوع کاصلح سے مشروط حق دیاتھا وہ بھی واپس لے لیاہے‘‘۔ یہ توپھرنعوذ باللہ قرآن میں تضاد ہوتا۔
بس اتنی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیت228میں حکم واضح کیا تھاکہ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کرسکتاہے۔ اسی حکم کوآیت 229میں بھی بعینہ باقی رکھاہے۔ الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ’’ طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقہ سے رجوع یااحسان کیساتھ رخصتی ہے‘‘۔ یہ عدت کے مراحل کی تفصیل ہے جو نبیﷺ نے بھی حضرت ابن عمرؓ کو پاکی کے دنوں اور حیض کے مرحلوں سے سمجھائی ہے۔ جس کا ذکر کتاب التفسیرسورۂ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب العدت صحیح بخاری میں بھی مختلف الفاظ کیساتھ موجود ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کا پہلا حکم باطل یا منسوخ ہوا،اور عدت کے پہلے دو مراحل اور تیسرے مرحلے میں شوہر کو اللہ نے غیر مشروط رجوع کا حق دیدیا بلکہ پہلے دو مراحل میں الگ الگ طلاق کی تفصیل اور پھر تیسرے مرحلے میں معروف رجوع یا رخصتی کا مطلب یہ ہے کہ آخری مرحلہ فیصلہ کن ہے۔ اسکے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔ پہلے دو مرحلہ کی دومرتبہ طلاق کے بعد آخری مرحلے میں معروف رجوع یہ نہیں کہ شوہر کو دومرتبہ طلاق کے بعد غیرمشروط رجوع کا حق حاصل ہے بلکہ اصلاح کی شرط ہی معروف رجوع ہے۔ چنانچہ 228اور 229کے احکام میں کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ ایکدوسرے کی تفسیر اور وضاحت ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ نے عدت میں رجوع کا مشروط کا حق دیا، پھر دومرتبہ غیرمشروط رجوع کا حق دیا اور عدت میں ہی صلح کی شرط پر رجوع کے حق کو منسوخ اور باطل کردیا۔ ایسی صورت میں آیات کو ایکدوسرے کیلئے ناسخ ومنسوخ قرار دینے کا تصور ایجاد کرنا ہوگا۔ پہلے مراحل میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ میں رجوع کرلیا تو فبہا ورنہ طلاق کی صورت میں شوہر کیلئے کچھ لیناحلال نہیں جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ………… پھر 230میں اس صورت کا ذکرہے کہ باہمی طور پر باہوش وحواس فیصلہ کرنے کے نتیجہ میں بات فدیہ تک پہنچی تو چونکہ پھر بھی شوہراپنا حق سمجھتاہے کہ دوسری جگہ شادی کرنے میں طلاق کے بعد بھی شوہر کی مرضی چلے تو شوہر کی مرضی چلانے پر اللہ نے پابندی لگادی یہاں تک کہ عورت مرضی سے کسی اور سے نکاح کرلے، پھر132اور 232آیات میں عدت کی تکمیل کے باوجود صلح سے معروف رجوع کی بغیر حلالہ کی لعنت کے اجازت دی۔کچھ تفصیلات صفحہ3پر

حلال نہ ہونے سے مراد ہے کہ طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح کیلئے رکاوٹ نہ ڈالے

phir-agr-is-ne-talaq-di-to-us-ke-liye-halal-nahi-teen-talaq-se-ruju-ka-kushgawar-hal

ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جواللہ نے انکے رحموں میں پیدا کیا آیت228البقرہ ’’ تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو تم نے انکو دیا، اس میں کچھ لے لو‘‘۔ آیت229البقرہ اللہ نے اسی تسلسل سے فرمایاکہ باہوش وحواس فیصلہ کے بعد’’ پھرطلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔ یعنی شوہر دوسری جگہ نکاح میں رکاوٹ کا حق نہیں رکھتا۔ جو معاشرے میں آج بھی رائج ہے۔ مغربی تہذیب وتمدن کے پروردہ عمران خان و ریحام خان بھی اس کی ایک مثال ہیں۔ ریحام خان کا طلاق کے بعد لندن سے جان پرکھیل کر آنابڑی بات تھی۔ ریحام خان پہلے سے طلاق یافتہ بھی تھی۔
تہذیب وتمدن میں جب رسم وروایت ٹھوس قدروں کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے تو اس کو توڑنے کیلئے شدت کے الفاظ کا استعمال ناگزیر ہوتاہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ علیحدگی کا فیصلہ اکثر وبیشترشوہر کی طرف سے ہوتاہے جس کو عربی میں طلاق کہتے ہیں۔ کبھی بیوی کی طرف سے ہوتا ہے جس کو خلع کہتے ہیں۔ سورۂ النساء آیت :19میں خلع کی صورت اور آیت :20 اور21میں طلاق کی صریح وضاحت کا ذکر ہے اور اس میں مختصر الفاظ میں پورا معمہ حل کردیا گیاہے۔ سورۂ البقرہ میں 228اور229میں طلاق اور اسکے تین مراحل کی تفصیل واضح ہے اور ساتھ ہی 229آیت کے آخری حصے میں بہت وضاحت کیساتھ بتایا گیاہے کہ میاں بیوی کی باہوش وحواس علیحدگی اور معاشرے کی طرف سے فیصلہ کن کردار بھی ادا کیا گیا ہو۔ یہ تو بہت ہی بیوقوفی اور کم عقلی کی بات ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد کسی خلع کو تیسری طلاق کیلئے بیچ میں لایا جائے، البتہ قرآن میں جو صورت فدیہ دینے کی بیان ہوئی ہے اس پر فقہ حنفی اور علامہ ابن قیم کی طرف سے حضرت ابن عباسؓ کے درمیان بالکل اتفاق ہے کہ قرآن کی اس طلاق آیت:230کا تعلق اسی صورت سے ہے جس میں اللہ کا حکم ہے کہ اللہ کی حدود سے تجاوز مت کرو۔ چونکہ شوہر رکاوٹ بنتاتھا اور بنتاہے اسلئے بیوی کو اس طلاق کے بعد مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، اگر ولی کی طرف سے رکاوٹ کو جائز قرار دیا گیاہے تو بھی حنفی اس رکاوٹ کو نہیں مانتے۔ جب اسکے بعد پھر آیت231 اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کیلئے اجازت دیدی تو پھر حلالہ کی لعنت کا کیا جواز بنتاہے؟۔ رسولﷺکی شکایت کا کیا جواب ہوگا؟۔ وقال الرسول رب ان قومی اتخذوا ہٰذا القرآن مھجوراالقرآن)

قرآن و سنت کے مطابق طلاق کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ طلاق ایک اہم ترین معاشرتی معاملہ ہے

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ طلاق والی خواتین عدت کے تین مراحل تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں، اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے انکے رحموں میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔اور انکے شوہر اس مدت میں اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں‘‘۔(سورۂ بقرہ آیت: 228)۔ ایک بہت بڑا مغالطہ یہ ہے کہ شوہر کو آیت میں غیرمشروط رجوع کا حق دیا گیاہے ، حالانکہ ایسا نہیں ۔ شوہر کیلئے طلاق کا حق اور شوہر کیلئے رجوع کی گنجائش میں بہت نمایاں فرق ہے۔ عورت کا حق سلب کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔اگر شوہر کو رجوع کی گنجائش دینے کے بجائے غیرمشروط رجوع کا حق دیا جائے تو یہ عورتوں کا حق سلب کرناہے۔ میاں بیوی دونوں طلاق کے بعد آپس میں صلح و اصلاح پر رضامند ہوں تو یہ رجوع کی گنجائش ہے ، یکطرفہ ہو تو پھر شوہر کاحق ہے۔ وان خفتم شقاق بیھما فابعثوا حکمامن اہلہ وحکما من اہلہاوان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بیھما ’’ اگر تمہیں انکے درمیاں جدائی کا خوف ہو تو ایک حکم شوہر کے خاندان سے اورایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر وہ دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ دونوں کی چاہت نہ ہو توساتھ رہنے پر دنیا کی کوئی طاقت مجبور نہیں کرسکتی اور دونوں کی چاہت ہو تو انکے درمیان میں کوئی طاقت رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔ یہ معاشرتی مسئلہ ہے اور قرآن نے اس کو معاشرتی بنیادوں پر حل کرنے کا پورا نصاب بتایاہے اور احادیث صحیحہ مزید وضاحتوں سے بھرپور ہیں۔ سورہ بقرۂ آیت: 224 سے 232تک اور سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں مسئلہ طلاق کے تمام معاشرتی پہلوؤں کی بھر پور نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ فقہاء نے اپنی منطقوں میں الجھ کر ہزاروں مسائل اور اختلافات گھڑنے کی عجیب وغریب صورتیں ایجاد کرلی ہیں۔ ہم نے بہت ہلکے پھلکے انداز میں ان حضرات کومسائل کے دلدل سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور جب تک حلالہ کی لعنت کے نام اپنی مذموم حرکتوں سے یہ باز نہیں آئیں گے اور ہم زندہ رہیں تو سخت لہجے میں بھی حقائق کھول کر ضربِ حق لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم المٰلک القدوس السلام الجبارالمتکبر الخاق الوہاب الرزاق الفتاح الودود
رجعت بالفعل کی جو صورتیں لکھ دی ہیں اگر ہم بتاتے تو شکایت ہوتی اسلئے کتاب سے ’’ فوٹو اسٹیٹ ‘‘ کرکے علماء ومفتیان اور عوام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔جن خواتین کی عزتیں حلالہ کے نام پر برباد کردی جاتی ہیں ، ان لوگوں کا دکھ، درد ، تکلیف اور بے عزتی کے احساس نے ہمیں مجبور کردیاہے کہ کھل کر اور بہت ہی کھول کرمعاشرے سے اس برائی کو ختم کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

اگر کسی مفتی کی صاحبزادی اور داماد کو ڈرامہ میں پیش کرکے رجعت بالفعل کی صورتیں ٹی وی پر سمجھانا شروع کی جائیں تو مفتی صاحبان مجبور ہوکر عوام کی جان حلالہ سے چھڑانے پر راضی ہونگے۔ شہوت کی شرط پر مباشرت،دخول بالدبر، فرج کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھ لینا جب وہ تکیہ لگاکر بیٹھی ہو۔اور نیند میں بھی رجوع معتبر ہے۔ عورت بھی شہوت سے ہاتھ لگاکر رجوع کا حربہ استعمال کرسکتی ہے مگر اس کیلئے شرط یہ ہے کہ مرد یہ اقرار کرے کہ عورت میں شہوت تھی۔ عجب حماقت ہے کہ عورت کی شہوت ہوتو اسکا اقرار مرد کرے۔ جب ڈرامہ میں رجعت بالفعل کے انواع واقسام کی صورتیں سامنے آئیں گی تو علماء خود چیخ اٹھیں گے کہ ’’ قرآن کا معروف رجوع ٹھیک ہے۔ یہ بکواس کوئی دین و فقہ نہیں ہے، ہم کبھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہیں دینگے مگر ہمیں شرمندہ کرکے ہماری پولیں نہ کھولیں! ‘‘۔

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-1

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-2

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-3

ثانیہ خاصخیلی شہید کو خراج عقیدت پیش کیا جائے. اجمل ملک

sania-khaskheli-shaheed-ko-khiraj-e-aqeedat-pesh-kiya-jaye

ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا کہ ثانیہ خاصخیلی شہید نے عزت کیلئے جو عظیم الشان قربانی دی ، اسکاخاندان دربدر ہے ۔ اور المیہ ہے کہ دخترسندھ، بنت اسلام، شہزادئ پاکستان اور صاحبزادئ انسانیت نے اتنی بڑی قربانی دی لیکن ہمارے معاشرے کی سیاست، ہمارے مذہبی لوگ، ہماری حکومت اور ہماری تہذیب وتمدن کا خمیر اسقدربے حس ہوچکے ہیں کہ غریب خاندان کی تعزیت کیلئے بھی علاقے لوگ جانے سے ڈرتے تھے۔

sania-khaskheli-shaheed-ko-khiraj-e-aqeedat-pesh-kiya-jaye-nawithta-e-diwar
ریاست و حکومت کچھ معاشرتی اور مذہبی برائیوں سے نہیں نمٹ سکتی ہے۔ ایک مفتی کی طرف سے جب ناجائز حلالہ کا فتویٰ دیا جاتا ہے تو خاتون ، اسکے شوہر اور دونوں خاندان کی عزتیں ملیامیٹ ہوجاتی ہیں۔ زمین بھی لرزتی ہے اور آسمان بھی عرش تک لرز جاتا ہے۔ دنیا دیکھتی ہے کہ مسلمان بے غیرتی کے اس فعل کو اپنی مرضی سے قرآن و سنت کی تعلیمات سمجھ کر عمل کررہے ہیں تو لوگ اسلام کی طرف نہیں آتے۔ دوسری طرف لڑکی پسند ہو اور وہ شادی نہ کرنا چاہے ، یا منگیتر مکر جائے تو اس پر تیزاب پھینکنے اور قتل کرنے کی حد تک گزر جاتے ہیں، اللہ نے طلاق کا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے یہ وضاحت کی کہ اللہ کو مصالحت نہ کرنے کیلئے تم ڈھال کے طور پر استعمال مت کرو۔ پھر عدت میں رجوع اور عدت کی تکمیل پر معروف رجوع کی اجازت بھی واضح کردی۔ اور ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا کہ اگر عدت میں تیسری مرتبہ بھی علیحدگی کا فیصلہ برقرار رہا تو بیوی سے کوئی چیز واپس لینا جائز نہیں مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو اور فیصلہ کرنیوالے بھی یہی سمجھیں تو پھر کوئی حرج نہیں اور اس صورت کے بعد طلاق دی تو شوہر کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرلے۔ قرآن نے جس معاشرتی برائی کو ختم کرنے کا قدم اٹھایا تھا وہ تو ہم سے نہیں ہوسکا الٹا یہ بھی ہورہا ہے کہ جبری زیادتیاں اور جبری شادیاں ماحول کا حصہ ہیں اور مزاحمت کرنیوالی کا یہ حشر ہوتا ہے جو ثانیہ شہید کا ہوا اور بینش شریف پر جو تیزاب پھینکا گیا۔ علماء کو کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ بڑا عذاب آسکتا ہے۔

دار العلوم مذکر اور جامعہ مؤنث ہے، بڑی جہالت ہے کہ ایک ہی مدرسہ کو دار العلوم اور جامعہ دونوں کہا جائے

darul-uloom-karachi-korangi-hamla-aurat-ko-talaq-per-halala-ka-fatwaأ2

دارالعلوم کراچی کا نام دارالعلوم دیوبند کی طرح رکھا گیا۔ جامعہ اور دارالعلوم ایک چیزجیسے مسجد اورمسیت، البتہ دارلعلوم مذکر اور جامعہ مؤنث ہے۔ یہ بڑی جہالت ہے کہ ایک ہی مدرسہ کو دارلعلوم اور جامعہ دونوں کہا جائے ۔ یہ مشکل خنثیٰ یعنی کھدڑے کا تصور ہے۔ جیسے کسی فرد کو صاحب صاحبہ لکھ دیا جائے۔ اردو، عربی دونوں لغات جاننے والوں کیلئے یہ جہالت اور کم عقلی عبرتناک ہے۔ اردو میں مسجد مؤنث اور عربی میں مذکر ہے۔ اللہ والی مسجد،مسجد عثمانیہ وغیرہ اردو کے اعتبار سے درست ہیں مگرعربی میں مسجد مذکر ہے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ کوئی عالم نہ تھے۔ اردو کے روایتی معاملے کو لیکر مسجد الٰہیہ نام رکھ دیا۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے استاذ اور عربی کے ماہر دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا عبدالحق استاذ دارالعلوم کراچی سمیت بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان بیعت بھی تھے اور آتے جاتے بھی رہے ،کبھی کسی نے مسجد کے نام پر اعتراض نہ کیا لیکن جب الائنس موٹرز کے ایجنٹوں نے فتویٰ لگایا تو مسجد کے نام میں جہالت دکھائی دینی لگی۔ میں نے اسی وقت بتادیا کہ اردو کے لحاظ سے یہ نام روایتی معاملے کے مطابق ہے اور اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
اصول فقہ کی کتاب ’’نوالانوار‘‘ میں ہے کہ’’ ثلاثۃ قروء کا لفظ 3عدد کیلئے خاص ہے جو کم اور زیادہ نہیں ہوسکتاہے۔ اورشرع میں طلاق کا حکم عورت کو پاکی کی حالت میں طلاق دینے کا ہے۔ پاکی کے دنوں میں طلاق دی جائے تو عدت کی مدت میں اس وقت کمی واقع ہوگی کہ اگر 3عدتوں میں اس طہر کو بھی شمار کیا جائے جس میں طلاق دی جائے۔ لہٰذا لازم ہوا کہ عدت سے مراد 3حیض لئے جائیں ۔ اگر وہ طہر مراد لیا جائے تو عدت کی مدتیں 3نہیں ڈھائی بن جائیں گی‘‘۔
حالانکہ یہ ریاضی کا مسئلہ ہے اور مولوی سے ایک ریاضی دان اس حساب کو بہتر سمجھتا ہے۔ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے اگر اس کے علاوہ کئی دنوں بعد 3حیض کو شمار کیا جائے تو قیاسی نہیں بلکہ عملی طور سے 3کے عدد پراچھا خاصہ اضافہ ہوگا۔ یہ بہت بڑی بیوقوفی ہوگی کہ عورت کو عملی طور سے عدت پر مجبور کیا جائے مگر کہا جائے کہ یہ مدت شمار نہ ہوگی۔ جیسے کسی کو تھپڑ مارا جائے اور پھر کہا جائے کہ اس کو شمار نہ کرو۔ علماء و مفسرین اور فقہاء ومحدثین نے اس مخمصہ سے نکلنے کیلئے بہت ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن ناکام رہے ہیں۔ چنانچہ لکھ دیا گیا ہے کہ ’’ ایک عدت رجال ہے، جو عورت کی پاکی کے دن ہیں جس میں شوہر کو طلاق دینے کا حکم ہے اور دوسری عدت النساء ہے، جو حیض ہے، جس میں عورت کو انتظار کا حکم دیا گیاہے ‘‘۔ حالانکہ قرآن میں فطلقوھن لعدتھن ’’ عورتوں کی عدت میں طلاق کا حکم ہے‘‘۔ پھر تویہ ہونا چاہیے کہ تم اپنی عدت میں طلاق دو مگرعلماء سے سورۂ طلاق کا درست ترجمہ اور تفسیر بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ نبیﷺ کے نواسہ شہید کربلا کا رونا روتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ مفتی محمد شفیع ؒ کا نالائق نواسہ حسان سکھروی قرآن وسنت اور خواتین کی عزت کا ستیاناس کررہاہے اور پھر یہ کربلا والا حق کی آواز اپنی ذات نہیں حق کیلئے بلند کررہاہے۔ اللہ نے فرمایا : انہم یکیدون کیدا واکید کیدا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ طلاق شدہ خواتین انتظار کریں 3مراحل تک‘‘۔ طہرو حیض ایک مرحلہ ہے۔ حیض میں قربت سے روک دیا گیا ہے تو مباشرت کا دور پاکی کا مرحلہ ہے۔ جب عورت کو حیض نہ آتا ہو یا اس میں بیماری کی وجہ سے کمی بیشی ہو تو 3مراحل کی جگہ 3ماہ کی وضاحت ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قروء سے تین طہر مراد ہیں یا تین حیض؟ کیونکہ اسکی حقیقت قرآن میں بھی واضح اور عقل وفطرت میں بھی کہ مہینہ طہرو حیض دونوں کا قائم مقام ہوتاہے۔ جب حضرت ابن عمرؓ نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو نبیﷺ غضبناک ہوئے اور پھر سمجھایا کہ پاکی کے دنوں میں رکھ لو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں رکھ لو یہاں تک کہ حیض آجائے اور پھر پاکی کے دنوں میں چاہو تو معروف طریقے سے رجوع کرلو اور چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو، یہ وہ عدت وطلاق ہے جس کا اس طرح اللہ نے حکم دیا ہے‘‘۔ بخاری کتاب التتفسیر، سورۂ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق، کتاب العدت۔ متواتر حدیث کو چھوڑ کر غلط قیاس کا سہارا لیا گیا اور نام اسے قرآن کے خاص کادیا۔جامعہ بنوری والے گھبرائے اور دارالعلوم کراچی والے شرمائے نہیں۔ اللہ نے بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر باہمی صلح سے رجوع کی اجازت دی ۔ تین مرتبہ طلاق کا تعلق حیض سے ہی خاص ہے، حمل میں عدت بچے کی پیدائش ہے۔ معروف رجوع باہمی صلح ہے۔ اگر عورت طلاق کے بعد صلح پر آمادہ نہ ہو تو ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کا مطلب شوہر کیلئے رجوع کی اجازت نہیں تاکہ عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے اور صلح پر آمادہ ہوتو متعددقرآنی آیات سے رجوع کی اجازت ہے۔ حاملہ کو حلالہ کا فتویٰ اللہ کی حدودسے تجاوز اور بڑا ظلم ہے۔
سُود کو جواز فراہم کرنیوالے دنیا میں مخبوط الحواس نہ ہوگئے ہوں تو اپنے فتوؤں کو قرآن و سنت کے ترازو میں تولیں۔

دار العلوم کراچی کورنگی کا جہالت پر مبنی فتوے کا عکس

darul-uloom-karachi-korangi-hamla-aurat-ko-talaq-per-halala-ka-fatwa-3

جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی

jamia-tul-uloom-islamia-binori-town-karachi-ki-bunyad-taqwa-per-rakhi-gai

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا نام مدرسہ عربیہ اسلامیہ تھا۔ دنیا کی مقبول ترین جامعہ کا حق تھا کہ اسکا نام بدل دیا جائے۔ مدرسہ عربیہ کی حیثیت پرائمری سکول کی ہوتی ہے۔ پہلے ابتدائی اعدایہ کے بعددو سرا درجہ مساوی میڑک ہے۔ جہاں کم از کم مشکل سے میٹرک کو داخلہ ملتاہے،FA،BA اورMAبھی ہوتے ہیں۔ 8سال میںMA پھر قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ اور تفسیر ودیگر علوم میں تخصص( اسپیشل آئیز یشن) کی تعلیم یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے، جس کو جامعہ کہتے ہیں۔
مولانا انور بدخشانی جامعہ کے ایک قدیم استاذ ہیں۔ وہ فرماتے کہ ’’ہدایہ‘‘ فقہ کی کتاب نہیں بلکہ فقہ کی تاریخ ہے۔ انکے نزدیک فقہ قرآن وسنت کی تعلیمات میں عبور حاصل کرنے کا نام ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا کہ ’’ اصول فقہ ‘‘ کی تعلیم پر کسی عقلمند کی نگاہیں پڑگئیں تو نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابیں ملیامیٹ ہوجائیں گی اور باقی نصاب بھی ساتویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتابیں ہیں جو اسلامی علوم کے بدترین زوال کا دور تھا۔ علماء کی شکایت ہے کہ ان میں استعداد نہیں لیکن یہ نصاب ہی ان کو کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے۔ امام الہند مولانا آزاد کی مادری زباں عربی تھی ، عرب میں ابتدائی تعلیم کے بعداردو ہندوستان میں سیکھ لی تھی۔ مولانا انوربدخشانی حیات ہیں اور جامعہ بنوری ٹاؤن میں انکا وجود بھی ایک برکت ہے۔ زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن!۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فرزند شہید ہوئے۔ اس اُجڑے گلستاں کی حدود میں میرے ترنم سے کبوتروں کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا ہوگا ، اسلئے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۔ یہاں 24گھنٹے عبادت اور پچھلے پہر تک آہ وبکا کی صدائیں بلند ہوتی اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔
اصول فقہ کی کتابیں ’’اصول الشاشی‘‘ اور ’’ نورالانوار‘‘ ہم نے مولانا بدیع الزمانؒ سے پڑھی تھیں۔ اصول فقہ کا قاعدہ یہ ہے کہ قرآن ، حدیث، اجماع اور قیاس کے دلائل بتدریج ہیں۔ اگر خبر واحد کی حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو تو تطبیق دینے کی کوشش کی جائے گی ، تطبیق ممکن نہ ہو تو قرآن پر عمل ہوگا اور حدیث کو چھوڑ دیا جائیگا۔ آیت حتی تنکح زوجا غیرہ ’’یہاں تک کہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔اور حدیث ہے کہ’’ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے‘‘۔ آیت میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف ہے تو وہ خود مختار ہے۔ جبکہ حدیث میں ولی کی اجازت کا پابند بنایا گیا۔ لہٰذا حدیث کو چھوڑ دیا جائیگا۔ یہ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک ہے۔ جمہور امام مالکؒ ، شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس پر متفق تھے کہ حدیث کی پابندی درست ہے ۔ عورت نے بھاگ کر شادی کرلی اور ولی کی اجازت نہیں لی تو کورٹ میرج وغیرہ کا نکاح باطل ہے۔ جمہور کنواری، طلاق یافتہ اور بیوہ سب کو شامل کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن و حدیث میں تطبیق کی راہ موجود ہے۔ فطرت، عقل اور شریعت مسلک اعتدال مسئلے کا حل ہے۔ عورت کنواری ہو تو اس کا نگران و محافظ ولی اس کا باپ اور خاندان ہے اور شادی کے بعد اس کا ولی اس کا شوہر بن جاتا ہے اور طلاق یا بیوہ بن جانے کے بعد وہ آزاد اور خود مختار ہوتی ہے۔ کنواری اور ایم کے احکام بھی مختلف ہیں۔ قرآن میں طلاق شدہ اور بیوہ کیلئے خود مختار ہونے کی وضاحت ہے اور کنواری کیلئے جہاں ولی سے اجازت کی پابندی ضروری ہے وہاں والد کیلئے بھی ضروری ہے کہ اس کی اجازت سے نکاح کروائے، ورنہ تو اس کا نکاح نہیں ہوگا۔ معاشرے میں قرآن وسنت اور مسلکوں کی تطبیق سے کام لیا جائے تو اختلاف زحمت نہیں رحمت بن جائے اوراسے ایک اہم معاشرتی اور خوشگوار انقلاب برپا ہوجائے ۔
یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جہاں حدیث کا قرآن سے ٹکراؤ نہیں، تب بھی مصنوعی ٹکراؤ پیداکیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار یہ وضاحت فرمائی ہے کہ عدت کی تکمیل سے پہلے، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی اور صلح سے رجوع کیا جاسکتاہے۔ کوئی ایک بھی ایسی آیت اور صحیح حدیث نہیں کہ عدت میں قرآنی آیات کے برعکس رجوع کی ممانعت ہو۔ رفاعۃ القرظیؓ کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی، عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کی تو اس کو نامرد قرار دیا۔ یہ خبر واحد درست ہو توبھی نامرد میں حلالہ کی صلاحیت نہیں ہوتی اور واقعہ کا ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ پر مجبور کرنے کیلئے حوالہ دینا بھی بڑی خیانت ہے ۔قرآن میں صلح و رجوع کی کافی وضاحتیں ہیں۔