ستمبر 2017 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

حور وں کا مذہبی جنون اور خواتین کا احساس کمتری

angels-heaven-women-hoor-molana-masood-azhar-javed-ahmed-ghamdi-molana-khalid-mehmood
دنیا میں خواتین کی اکثریت شوہرکی محبت میں بے حال رہتی ہے مگر سوکن کاخوف رہتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ سے نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات امہات المؤمنینؓ تک سوکن سے خواتین متأثر رہی ہیں۔
یہ دنیا دارالامتحان اور آخرت کی کھیتی ہے۔ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے، مرکے بھی چھین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟۔ حوروں سے خواتین کو کتنی تکلیف ہے؟ یہ تو وہ جانیں اور انکا کام جانے۔ کتنے صوفی حوروں کی تمنا میں راہب بن گئے، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی اور مذہبی لوگ قربانی پر قربانی دے رہے ہیں،جنت کی دیگر ساری نعمتیں بھی شاندار ہیں لیکن موٹی آنکھوں والی حوروں نے انہیں جنون کی حد تک پہنچادیا۔ نوجوان خوبرو جوان بیگمات کو پیشاب کی تھیلیاں قرار دیتے دیتے سال سال، ڈیڑھ ڈیڑھ سال کیلئے جماعتوں میں حوروں کی ادا پانے کی قیمت پر نکل جاتے ہیں۔ کوئی ذوق میں جسم پر بارود باندھ کر سمجھ رہاہے کہ نمرود کی آگ عبور کرکے جب دوسری پار پہنچیں گے تو حوروں کا بے تاب جھرمٹ استقبال کررہا ہوگا۔
اللہ نے فرمایاکہ ’’جو اس دنیامیں اندھا تھا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہوگا‘‘۔ حوروں کی اندھی محبت میں حقوق العباد کی دھجیاں اُڑانے والے نہیں سوچتے کہ دنیا میں اپنی بیگمات کے حق کا خیال نہیں رکھا تو ایسا نہ ہو کہ آخرت کی فضاء میں بھاگ رہے ہوں تونامراد مردوں کو اپنی بیگمات بھی چھوڑ دیں ۔ فرعون کی دنیاوی بیگم کا نکاح آخرت میں رسول اللہﷺ سے ہوگا۔ یہ نہ ہوکہ جو حوروں کے متلاشی ہوں ان کو حوروں کا ملنا تو کجا اپنی بیگمات سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جائیں۔ جن خواتین میں فطری غیرت ہو اور نیک وبد کی درمیانی زندگی گزاری ہوں تو ان کا مقام بھی وہاں پر اعراف ہوسکتاہے۔
حضرت آدم علیہ السلام جنت میں اپنی ہم جنس حضرت حواء کے بغیر حوروں کی جھرمٹ میں بھی پریشان تھے۔ جنس کے معانی ہم نسل کے بھی ہیں، منطق میں انسان بھی حیوان کی جنس ہے، اردو زباں میں خواتین ومرد کیلئے الگ الگ جنس کا تصورہے مگر حقیقت کی زباں میں انسان ایک جنس ہے جس میں مردو خاتون شامل ہیں۔ جاوید غامدی نے اپنی صلاحیت کو استعمال کرکے قرار دیا کہ حور کا الگ سے وجود نہیں بلکہ دنیا میں موجود خواتین کو قرآن میں حور کہا گیا۔ حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ حوروں کی صفات بیان کی گئیں ، یہ بھی ہے کہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا تک نہیں ہوگا تو جاوید غامدی کی مجلس میں ٹی وی اسکرین پر نمودار ہونے والی خواتین کیسے وہ حوریں ہوسکتی ہیں؟۔بڑی آنکھوں والی خیموں کی زینت ہوں گی۔
اسلام دین فطرت ہے، اگر خواتین کو یقین ہوجائے تو زنجیروں سے باندھ کر کرینوں کی مدد سے بھی ان کو جنت میں ڈالنا مشکل ہوگا۔ وہ سب کچھ برداشت کرسکتی ہیں مگر اپنی ایسی سوکنیں برداشت کرنا انکے بس کا کام نہیں ۔ مفتی نظام الدین شامزئی کے مرید مولانا خالد محمود مجلس علمی لائبریری جمشید روڈ کے منتظم تھے۔ نماز کی امامت کیلئے کوشش کے باوجود آگے نہیں ہوتے تھے۔ ایک دن مجھے کہا کہ میں اللہ کی ذات اور اسلام کا منکر بنا ہوں، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ ایک سائنس کی کتاب پڑھی ہے جس میں جہاد کی جگہ اب روبوٹ نے لی اور قرآن میں ہے کہ سورج کا سفر جاری ہے جبکہ سائنس نے ثابت کیا کہ زمین ہی اپنے گرد اور سورج کے گرد گھومتی ہے اور معاملات سارے الٹے ہوگئے۔ جس نے سائنس اور اسلام کے حوالہ سے’’ پاکستان اور جدید دور کے تقاضے ‘‘ لکھے ، وہ ایم اے تھا جو سائنس اور اسلام دونوں سے بالکل جاہل تھا۔
بہرحال میں نے مولانا خالد محمود سے کہہ دیا کہ اگر آخرت نہیں، آپ محض ایک مادہ ہو پھر آپکے قتل سے بھی کوئی فرق نہ پڑیگا؟، اس نے کہا کہ میری تو یہی دنیا ہے، اگر یہ بھی خراب ہوگئی تو میرے ساتھ ظلم ہوگا۔خواتین حوروں کی باتیں سنتی ہیں تو اکثریت سمجھ رہی ہے کہ ان کی یہی دنیا ہے، جنت میں کیا بنے گا؟۔ مولانا خالد محمود کو میں نے فوری طور سے بتادیا کہ آپ نے جس کتاب کا مطالعہ کیا اس کا علم سے تعلق نہیں ۔ قرآن میں سورج کے جس سفر کا ذکر ہے ، سائنس اس کی قائل ہے،اسلئے کہ کائنات تسلسل کیساتھ سفر میں ہے تو سورج بھی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ پھروہ مطمئن ہوگئے اور کہا کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں اور آپ قیامت میں گواہی دینا کہ میں اسلام پر ایمان رکھتا تھا۔ میں نے کہا: آپ نماز نہ بھی پڑھیں تو بھی آپکے اسلام کی گواہی دوں گا۔ نبیﷺ نے اس کا جنازہ پڑھانے سے انکار فرمایا جسکے ذمہ قرضہ تھا۔ اور جس پر حقوق العباد کا معاملہ نہ تھا لیکن نماز، روزہ، حج اور دیگر احکام کا کوئی عمل کسی نے نہ دیکھا تھا اور ایک آدمی نے گواہی دی کہ وہ مسلمان تھا اور ایک رات اس نے جہاد کے دوران بھی چوکیداری کی ہے تو نبیﷺ نے نہ صرف اسکا جنازہ پڑھایا بلکہ جنت کی خوشخبری بھی سنادی کیونکہ حقوق العباد کی شکایت نہ تھی ۔
میری بات سن کر مولانا خالد محمود زار وقطار رونے لگے اور کہا کہ رسول اللہﷺ کتنی عظیم شخصیت کے مالک تھے، ایک موقع پر اونٹ کی رسی اٹک گئی اور اونٹ مشکل سے نظر آیا تو کچھ نے مذاق اڑایا کہ ’’ نبیﷺ کوکس طرح سات آسمانوں سے عرش کی خبر ملتی ہے اور یہاں قریب میں اونٹ کا پتہ نہیں چلتا‘‘۔ اس وقت آپﷺ چاہتے تو ان لوگوں سے سخت انتقام لیتے کیونکہ آپ ﷺ کے صحابہؓ ہر بات مان لیتے تھے مگر نبیﷺ نے درگزر سے کام لیا۔ کہاں نبیﷺ کی عظیم شخصیت ،کہاں انبیاء کے وارث کہلانے والوں کا اخلاق اور بدترین رویہ؟۔ یہ علماء ومفتیان آخرت کا یقین نہیں رکھتے، بس اپنی دنیا بنانے کیلئے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھاہے، کہیں اور مفاد مل جائے تو اسکے پیچھے جائیں گے۔ مولانا خالد محمود نے جن اشکبار آنکھوں سے رسول اللہﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ، اس نے علماء حق کے ارواح کو بے چین کردیا اور ان کا بلاوا آگیاتھا اور شہادت حق کی منزل پر فائز ہوگئے تھے۔
مسلمان خواتین مطمئن رہیں کہ حوروں سے ان کو قطعی طور سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ کیونکہ جنسی تعلق آدم زاد کا صرف آدم زاد سے قائم ہوسکتاہے۔ فقہ حنفی کے اصول کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں لکھاہے کہ انسان کا ہم جنس کے علاوہ کسی سے نکاح جائز نہیں ۔ جنات اور سمندری انسانوں سے نکاح کرنا شریعت میں جائز نہیں۔ جنات سمندری مخلوق کے مقابلہ میں الگ ہیں، اصول فقہ میں سمندری انسان بحری مخلوق ہے لیکن عام انسان کی طرح ہے ۔
جب ہمیں مولانا بدیع الزمانؒ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اصول فقہ پڑھارہے تھے تو بتایا کہ ایک شخص سمندر کے کنارے کھڑا دیکھ رہا تھا کہ اچانک سمندری آدمی نمودار ہوا، جس کو اس نے پکڑلیا۔ ابھی پکڑ رکھا تھا کہ سمندر سے ایک عورت بھی باہر نمودار ہوگئی۔ اس کو بھی پکڑ نا چاہا کہ مرد بھی ہاتھ سے چھوٹ گیا ، اور وہ عورت بھی پکڑنے سے پہلے سمندر میں کود گئی اور غائب ہوگئی۔ اس وقت ہمیں یقین آیا اور تمنا بھی پیدا ہوئی کہ یہ منظر نظر آجائے۔
تحقیقاتی اداروں نے سمندر کی کھوج لگائی مگر سمندری انسان کا وجود نہیں جو فقہاء کی خواہشات نے تراش رکھاتھا آج مدارس میں پڑھایا جاتاہے کہ سمندری انسان سے شادی جائز نہیں اسلئے اس کی جنس دوسری ہے۔
جانور، پرندے اور درخت کی فیملی اور جنس میں قدر مشترک ہو تو تعلق قائم ہوسکتا۔حوروں کا کام رونق ، جلوہ ،انسیت اور کھیل تماشہ ہے حوریں آدم زاد نہیں،ان سے جنسی تعلق قائم کرنا شریعت کیخلاف نہ ہو تو انسانی فطرت کیخلاف ضرور ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ مرد جب حوروں سے جنسی تسکین حاصل کرینگے تو کیا خواتین غلمان سے چشم پوشی کرسکیں گی؟۔ اسلئے غیرت کا تقاضہ ہے جو اللہ نے خواتین کی فطرت میں بھی ڈالا ہے کہ حوروں اور غلمان سے جنسی تسکین کا گمان نہ رکھاجائے بعض بے غیرت و بدفطرت قسم کے ملاؤں کو غلمان سے غیرفطری حرکتوں کی خواہش بھی رہتی ہے۔ جسکاپشتو کے نامور شاعر غنی خان نے ذکر کیا۔ جب جنت کے درست تصورات کا علم ہوجائیگا تو بعید نہیں کہ دنیا میں حالات سدھارنے کیلئے مذہبی طبقات ٹھیک سمت سفر کرنا شروع کریں اور بہت بڑا اسلامی انقلاب برپا ہوجائے۔
مولانا امیر بجلی گھر جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر تھے مگر مایوس ہوگئے تھے۔ مجھ سے کہاکہ ’’ آپ جوان ہیں ، جوانی میں خون کا جوش کام کرنے کا ہوتاہے، آپ اچھی سمت محنت کرتے ہیں مگر دوسروں کا اتحاد تو بہت دور کی بات ہے، مولانا سمیع الحق و مولانا فضل الرحمن کو بھی اکٹھا نہ کرسکوگے‘‘۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ ’’ افغانستان میں صحابہؓ کے مزاروں کو روس نے تباہ کیا تواللہ نے روس کو تباہ کردیا، عراق میں اہلبیت کے مزارات امریکہ تباہ کررہاہے، اللہ امریکہ کو تباہ کریگا، عراق کی پیٹھ پرعبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ لڑ رہے ہیں، امریکہ نہیں جیت سکتا‘‘۔ میں نے لکھ دیا کہ بجلی گھر مولانا دیوبندی ہیں مگر عقیدہ بریلویوں کاہے۔ بریلویوں کا عقیدہ درست ہورہاہے اور بڑے مولانا کا عقیدہ خراب ہے اور جہاد کا حکم اللہ نے زندوں کو دیا ہے ، مولانا اس کو مردوں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، جب تک ہم درست اسلام کی طرف نہ آئیں ہمارے ملکوں کو غیروں کی دسترس سے بچا نہیں سکیں گے۔درسِ نظامی میں فقہ حنفی والوں کے اصول اچھے ہیں مگر کم عقلوں کا قبضہ ہے۔ کعبہ میں 360بتوں کے مجسمے رکھ دئیے ہیں۔ جس دن اصول فقہ کے اصولوں اور قرآن وسنت کے مطابق ایک فضا قائم کی گئی تو مدارس کے علماء ومفتیان ملت کی سیاسی باگ ڈور بھی سنبھالیں گے مگر ضروری ہے کہ نصاب سے اقسام و انواع کی غلطیاں نکال لیں۔ علماء کے بدلنے کی دیر ہے ، پھر انقلاب کا ترانہ گایا جائیگا۔ اگر میں شیعہ، بریلوی ، اہلحدیث ہوتا تو پذیرائی ملتی مگر علماء دیوبند کا میرے ساتھ سلوک وہ رہاجو یزید کاحضرت حسینؓ کیساتھ تھا۔ ہندو شاعرہ دیوی روپ کمار نے کہا کہ
بے دین ہوں ، بے پیر ہوں
ہندو ہوں ، قاتلِ شبیرؑ نہیں
حسینؑ اگر بھارت میں اُتارا جاتا
یوں چاند محمدؐ کا ، نہ دھوکے میں مارا جاتا
نہ بازو قلم ہوتے ، نہ پانی بند ہوتا
گنگا کے کنارے غازیؑ کا علم ہوتا
ہم پوچا کرتے اُس کی صبح و شام
ہندو بھاشا میں وہ بھگوان پکارا جاتا

ریپ کیس میں ملوث مذہبی رہنما کے حق میں پرتشدد مظاہرے اور انسانی ہلاکتیں بے غیرتی کی انتہا ہے،فیروز چھیپا

halalah-maulana-ubaidullah-sindhi-darya-e-sindh-hijaz-harmain-sharifain-gru-meet-raam-rahim-rape-in-india

نوشتۂ دیوار کے منتظم اعلیٰ فیروز چھیپا نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں ریپ کیس میں ملوث مذہبی رہنما کے حق میں پرتشدد مظاہرے اور انسانی ہلاکتیں بے غیرتی کی انتہا ہے۔ شکر ہے ہمارے آباء اجداد نے بھارت سے ہجرت کی ۔ بدقسمتی سے جس حلالہ کو نبی کریم ﷺ نے لعنت قرار دیا،اس کو کارثواب قرار دیا گیا لیکن اسکے باجود کسی مفتی و مولانا کو اگر حلالہ کرنے پر سزا ہو تو لوگ احتجاج کیا خوشیوں کے شادیانے بجائیں گے۔ کراچی سے کشمیر اور کابل سے لاہور تک کا علاقہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آیا توبھی ہم یہاں دستبردار نہ ہونگے۔ مشرقی پاکستان کا سندھیؒ نے ذکر نہ کیا بلکہ موجودہ پاکستان کا ذکر حدیث کی بنیاد پر کیا ہے۔ لکھا ہے کہ دریائے سندھ جس کی شاخیں راوی، ستلج، جہلم ، چناب اور دریائے کابل ہیں۔اس کو حدیث سیحون کہا گیاہے، زبانوں میں کچھ لفظی اختلاف ہوتاہے۔اسلام کی نشاۃ اول حجاز مقدس سے ہوئی اور نشاۃ ثانیہ ارض مقدس پاکستان سے ہوگی۔ ابوجہل وابولہب اور مشرکین مکہ کے سرداروں اور مدینہ کے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی وغیرہ کی وجہ سے مکہ ومدینہ کے حرمین شریفین پر کوئی اثر نہ پڑا ۔ مشرکین اور منافقین کے مقابلہ میں اللہ نے کم تعداد کے کمزور مؤمن لوگوں کو جیت عطا فرمائی۔ آج بھی اللہ نہیں بدلا ہے مگر ہمیں سچا مؤمن ، درست مسلمان اور سچا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے۔
ایک طرف موجودہ صورتحال میں کراچی سے کشمیر تک اور گوادر سے لاہور تک پاکستان سے یکجہتی ضروری ہے۔ مریم نواز، بلاول بھٹو ، مولانافضل الرحمن، سراج الحق ، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال،ایاز پلیجو، ڈاکٹر مگسی، حاصل بزنجو،جمال دینی، محمود خان اچکزئی،ا سفندر یار خان،جاید ہاشمی،قبائلی رہنما،چوہدری شجاعت اور عمران خان سیاسی پلیٹ فارم سے قیادت کریں تو دوسری طرف پاکستان کا ریاستی ، عدالتی، مذہبی ، معاشرتی ، تعلیمی اور اخلاقی نظام درست کرنے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔ آزمائش میں قوم کو مرنے سے پہلے زندگی کا ثبوت دینے کی بہت ضرورت ہے ۔اُٹھو ایک ہوجاؤ!

موٹر وے کو ڈاکٹر ادیب رضوی کے نام پر انکی زندگی میں منسوب کیا جائے، عتیق گیلانی

dr-adeeb-ul-hassan-rizvi-dr-ruth-fao-motorway-pakistan-gorkan-namaz-e-janaza-sahafat-najashi

جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر رُوتھ فاؤ حقیقی خالق سے جاملیں، آنجہانی کو قومی قیادت آرمی اورسول نے قومی اعزاز کیساتھ دفن کیا،21 توپوں کی سلامی سے قومی قیادت نے پوری قوم اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا کہ کس طرح انسانیت کی قدردان ایک غیر ملکی نژاد پاکستانی کو قومی اعزاز سے نوازاگیا۔ جب اکثریت کو انا للہ وانا الیہ راجعون کا معنی معلوم نہ ہو ’’بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔جہالت سے تعصب کی فضاء بنتی ہے۔ نبیﷺ نے مسلمانوں کے محسن حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اللہ نے قرآن میں تمام مذہبی عباتگاہوں کے تحفظ کی بات فرمائی ہے بلکہ پہلے یہودو نصاری اور مجوسیوں کی عبادتگاہوں کی فہرست پھر آخر میں مساجد کا ذکر کیا۔ سب کیلئے اس اعزاز کا بھی ذکر کیا کہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتاہے۔ دنیا میں کرکٹ، فٹ بال اوردوسری ٹیمیں رہیں گی تو مقابلہ اور مسابقت ہوسکے گا ، مذاہب باقی ہونگے تو اللہ کی اطاعت کا حق ادا کرنے اور انسانیت کیلئے مسابقت ہوسکے گی۔
نبیﷺ کی سنت پر عمل ہوتا توڈاکٹر روتھ کا پاکستان اور دنیا بھرمیں مسلمان غائبانہ جنازہ پڑھتے۔ قرآن و سنت میں مذہبی تعصب یہود ونصاریٰ شدت پسند مذہبی گروہوں کا شیوہ تھا۔ جنکے نقشِ قدم پر اب مسلمان چل پڑے ہیں۔
ان الذین امنوا والذین ہادوا والنصریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الآخرۃ و عمل صالحا فلہم اجرھم عند ربھم ولاخوف علیہم ولاہم یحزنونO (البقرہ:62)بیشک جو مسلمان ہیں، یہودی، نصاریٰ اور صابی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو انکا اجر ملے گا ،ان پر خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔اللہ نے کہا ہے کہ ’’جس نے ذرہ برابر خیر کیا تو وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر شر کیا تو اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ہم اپنی شناخت مسلمان اور پاکستانی رکھیں تو بدامنی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس بیان کو انہوں نے غلط رنگ دیاجو اسی لئے پاکستان ہجرت کرکے آئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مسلمان فرقوں اور مذاہب سے نفرت نہیں کرتا۔ الدین النصیحۃ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ پاکستانی شناخت مذہبی ولسانی منافرت کو بالکل ختم کردیتا ہے۔

dr-adeeb-ul-hassan-rizvi-dr-ruth-fao-motorway-pakistan-gorkan-namaz-e-janaza-sahafat-najashi-2

ڈان نیوز کے پروگرام ’’ ذرا… ہٹ کے‘‘ میں صحافت کا حق ادا ہوتاہے۔ ڈی جی رینجرز لیفٹنٹ جنرل محمد سعید کے بیان پر تنقید اور ایک متوازن تبصرہ کیا گیا۔ وسعت اللہ خان بڑے سیکولر صحافی ہیں مگر عقیدت کے لائق لگتے ہیں، اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جو بھی مخلص لگتا ہواس کی قدر ومنزلت ہونی چاہیے۔ صحافت بڑا مقدس پیشہ ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ بار سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ایک وہ طبقہ ہے جو اس قابل بھی نہیں جس کا نام زباں پر لاؤں‘‘۔ جس پر ’’ذرا…ہٹ کے‘‘ میں جاندار طریقہ پر تنقید ہوئی۔کافی سارے ہندؤں کے نام لئے جنہوں نے مختلف شعبوں میں عظیم خدمات دی تھیں۔ خاص طورپر رانا بھگوان داس کی عدلیہ کیلئے بڑی خدمات تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ رانا بھگوان داس جیسا چیف جسٹس ثاقب نثار بھی نہیں۔ نوازشریف کیخلاف بینچ میں بیٹھناچیف جسٹس نے مناسب نہ سمجھا۔ رانا بھگوان داس ہوتے تو عمران خان کے خلاف بھی نہ بیٹھتے۔
صحافت کی آزادی ضروری ہے لیکن باطل افواہوں کا تعاقب بھی لازم ہے۔ ایک طرف بینظیر بھٹو کو شہید کرنے میں زرداری رحمن ملک اور ناہیدصفدر عباسی کو ملوث کیا جاتاہے دوسری طرف فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتاہے۔ بہت غلط طرزِ عمل ہے، ڈاکٹر شاہد مسعودکہے کہ عذیر بلوچ کو کسی نے پوچھاہے؟۔ اگر وہ پی ٹی وی کا چیئرمین نہ بنتا تو زرداری کو بینظیر کا قاتل ثابت کرتا۔ صحافیوں کا یہ گندہ ٹولہ ٹھیک بات بھی کہے تو غلط لگتی ہے، چاپلوسی سے یہ خود کو بدنام کرچکے ہیں۔ جن صحافیوں کو قابلِ اعتبار سمجھا جاتاہے ان کو حقائق بیان کرنا ہونگے۔
برما میں طویل عرصہ فوجی حکومت رہی اور اگر مجاہدین کاروائی نہ کرتے تو بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ، جبری جنسی زیادتی اور ملک بدری کا اس طرح سے سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بلوچ پختون اور مہاجر نے بھی اپنے پیاروں کا صلہ اپنے اپنے حساب سے پایا ہے۔ عالمی قوتوں نے پاکستان میں اپنے پیاروں کا صلہ دینا ہے ، زرداری مجرم سہی مگر الزام کی مد میں 11سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔ نواز شریف اقرار جرم ، آزادانہ ٹرائل اور سب ثابت ہونے کے بعد بھی سپریم کورٹ کے ججوں کوہی نا اہل قرار دیتا ہے۔ سازش یہ نہیں جو نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ پنجابی مافیا اپنے اثاثوں کے چکر میں پاکستان کی اقلیتی صوبوں کو سازش کے نتیجے میں باغیانہ اور احساس کمتری کی سوچ تک لے گئی ۔ بینظیر بھٹو کا باپ پھانسی پر چڑھا اور اس کا بھائی قتل ہوا ، اسکی حکومت ختم کی گئی پھر بھی جیل اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگل کا قانون شیر کو اس وقت یاد آیا جب نا اہلی کے علاوہ سپریم کورٹ کے پاس چارہ نہ تھا۔ وہ اپنا منہ کالا کرتا یا ن لیگ کو نا اہل لیگ قرار دیتا مگر نواز شریف کو پھر 70سال بعد نئے جنم سے جو انسانیت کی عدالت یاد آگئی اس میں بھی عوام کو دہائی دی گئی کہ میں نے فیصلہ مانا تم نہ مانو۔
ڈاکٹر ادیب رضوی ایک قومی ہیرو ہیں ان کی زندگی میں پاکستان کی موٹروے کو انکے نام سے منسوب کیا جائے،قومی قیادت انکی لاش پر گورکن کی طرح نہ آئے۔ زندہ قومیں زندوں کی قدر کرتی ہیں، مُردوں کی پوچا نہیں۔ عتیق

14 اگست کو گلشن حدید سے بچہ اغوا کیا گیا ……..

Sexually-assaulted-childs-body-dumped-outside-his-house-hafizabad-kasoor-punjab-ARY-channal

لوگوں نے سمجھا کہ دہشت گردوں نے یہ پیغام دیا ہے ، معاشرے کی موجود ہ برائی جس نے قصور پنجاب میں پہلے 100بچوں کے زیادتی کی تصویر دکھائی مگراپنی آنکھیں نہ کھلیں اور اب سوشل میڈیا کا دور ہے اس پروگرام کو زیادہ سے زیادہ پھیلا کر معاشرے میں شعور بیدار کیا جاسکتا ہے۔ 24اگست ARYنیوز
پھر قصور میں 10سالہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ، حافظ آباد پنجاب میں باپ نے دو بیٹیوں کیساتھ زیادتی کی جسکا مقدمہ اس کی بیوی نے درج کیا۔ معاشرے کو ان برائیوں سے بچانے کیلئے بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہینگے حتیٰ کہ قیامت آجائے، صحیح مسلم

hadith-ehl-e-gharb-bhutto-fatawa-e-alamgiri-khilafat-e-usmania-lashkar-e-taiba-nasir-ullah-babar

نوشتہ دیوار کے مدیر خصوصی ارشاد نقوی نے کہا: جمہور یت و اسٹبلیشمنٹ کی لڑائی چھوڑ کر حقائق کی طرف آناہوگا۔ ذو الفقار علی بھٹو و میاں نواز شریف کی رگوں کا خون اور ہڈیوں کاگودا اسٹبلیشمنٹ کی عطاء ہے۔ جو رعونت و تکبر اور خود پرستی میاں نواز شریف میں نظر آتی ہے بھٹو کے دور میں یہی چیز ذو الفقار علی بھٹو میں تھی۔ لاڑکانے سے اسکا منتخب ہونا یقینی تھا مگر اپنے مد مقابل کو اسسٹنٹ کمشنر سے اغواء کرالیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے پہلے ماڈل ٹاؤن کا جو واقعہ کرایا گیا وہی اپوزیشن کی مخالفت میں غنڈوں سے پٹھانوں کو قتل کرواکر راولپنڈی میں بھٹو نے بھی کروایا تھا۔
جتنی غلطیاں اسٹبلیشمنٹ سے ہوئی ہیں ان سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ کی آلہ کار جمہوری جماعتوں سے ہوئیں، ایوب خان ،یحییٰ خان، ضیاء الحق ، مشرف، کیانی اور جنرل راحیل کو ایک دوسرے سے ملانا غلط ہے لیکن جمہوریت کے علمبرداروں کی اولاد اپنا سلسلۂ نسب اپنے قائدین سے ملاتے ہیں۔ کسی عمارت کی بنیاد اور پہلی اینٹ غلط لگ جائے تو اس پر سیدھی اور درست عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ خود کو اسٹبلیشمنٹ مخالف ظاہر کرکے عوام پر احسان جتاتے ہیں حالانکہ دونوں کے قائدین پر اسٹبلیشمنٹ ہی کا احسان ہے۔ کوئی اپنی بنیاد سے الگ ہوکر کیسے استحکام حاصل کرسکتا ہے؟ جب یہ لوگ اسٹبلیشمنٹ کے سہارے کھڑے ہوکر عوام کو جوتے مارتے ہیں تو سب کچھ صحیح نظر آتا ہے۔ حالانکہ اسٹبلیشمنٹ نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ وہ کرپشن کریں یا عوام کو جوتے ماریں۔ جب انکے نیچے سے اپنی بد اعمالی کے سبب اقتدار کی کرسی چھنتی ہے تو پھر یہ اسٹبلیشمنٹ کو گالی دینا شروع کرتے ہیں،یہ بڑی نمک حرامی ہے۔ جنرل ایوب اورجنرل ضیاء کرپٹ نہ تھے۔
رسول ﷺ اور خلافت راشدہ میں ابوبکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ اور حسنؓ نے جمہوری کلچر کی جو بنیاد رکھ دی اگر مسلم امہ بنو اُمیہ بنو عباس اور عثمانیہ کی خاندانی امارت و بادشاہت کا شکار نہ ہوتی تو مغرب ہم سے پیچھے ہی ہوتا۔ موروثی نظام نے جمہوریت کوپنپنے نہ دیا۔ مغلیہ اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ مغرب کا کارنامہ تھا۔ مغل کے نیک بادشاہ اورنگزیب عالمگیرؒ نے 500علماء کے تعاون سے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کروایا جو آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔ اس میں یہ شرعی احکام بھی درج ہیں کہ ’’بادشاہ چوری ، زنا اور قتل کرے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی اسلئے کہ بادشاہ خود حد جاری کرتا ہے اس پر حد کوئی جاری کر نہیں سکتا ‘‘۔ نواز شریف اپنا مقدمہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے سے اگر شریعت کورٹ میں لے جائے تو جیت جائیگا۔
اسلامی ممالک میں پاکستان جیسا جمہوری ملک کوئی نہیں۔ اسٹبلیشمنٹ نے جن جمہوری شخصیتوں کو اپنے گملوں میں پالا پوسا، انہوں نے عوام کو بیوقوف بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا، جس کی سز اہم بھگت رہے ہیں۔ حبیب جالب نے عوامی شعور اجاگر کیا، جمہوری نظام کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی مگر کسی جمہوری قائد نے ان کی خدمات کا اچھا صلہ نہیں دیا۔
جمہوری جماعتوں نے وقت سے کچھ سیکھا ہے تو اس سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ نے بھی سیکھا ہے۔ 9/11 کے بعد پاکستان نے مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا تو معراج محمد خان جیسا جمہوری لیڈر امریکہ کی مزاحمت میں طالبان کی ہمت کو داد دے رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے امین فہیم اور باقی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور عوام کی طرف سے نیٹوکی مخالفت، طالبان کی حمایت کا برملا اظہار تھا۔ کراچی سے پنڈی اور لاہور سے کوئٹہ تک آزمائش کا سامنا پاک فوج نے کیا تھا۔ امریکہ کی بغل میں رہتے ہوئے اسکے چنگل سے بچ نکلنا اللہ کے فضل کے علاوہ ممکن نہ تھا۔ امریکی حکم پر طالبان پیپلز پارٹی کے نصیر اللہ بابر نے بنائے اور بینظیر بھٹو اس کا شکار ہوئی۔ نواز شریف کو گلہ ہے کہ فوج سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑنے سے کیوں روک رہی ہے؟۔ پاک فوج الزامات کا دفاع کیسے کرتی، حکومت وزیر دفاع کا قلمدان بھی بغض سے سونپے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جیو میں جوشاہ زیب خانزادہ کو انٹرویو دیا ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ خواجہ آصف نے سچ کہا کہ فوج نے اپنا کام کیا لیکن قومی ایکشن پلان پر عمل نہ ہوسکا۔ جنرل راحیل کے بیان پر پہلے حکومت برا نہ مناتی تو اچھا ہوتا۔ ڈان لیکس کی اصل کہانی یہ تھی کہ فوج اور حکومت جہادی تنظیم پر ایکدوسرے کو کاروائی کا کہہ رہے تھے مگر غلط رنگ میں کہانی شائع کی گئی۔ وزیر خارجہ کہہ رہا ہے کہ ’’امریکہ کے کہنے سے ہم کالعدم جیش و لشکر طیبہ کیخلاف کاروائی سے دلدل میں پھنس جائیں گے‘‘۔ لشکر طیبہ ملت مسلم لیگ بناچکی تو مولانا مسعود اظہر کو عتیق گیلانی کیساتھ مل کر وہ کام کرنا چاہیے، جس سے مدارس کے نصاب میں انقلاب آئے اور امریکی سازش ناکام ہو اور یہ کام ریاست کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے۔

فوج نے مٹکا توڑا اور بکرا بچایا مگر سراج الحق کہہ رہا ہے کہ بکرے کو بھی ذبح ہونے دو. اشرف میمن

matka-sirajul-haq-jamaat-islami-zibah-hekmatyar-syed-munawar-hassan-sheikh-rasheed
پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے سراج الحق کے بیان پر تبصرہ کیا کہ ملک کی حفاظت صرف فوج نہیں بلکہ سیاسی ومذہبی جماعتوں ، عوام اور تما م سرکاری اداروں کا فرض ہے۔ یہ فوج پر احسان اور نہ اس وجہ سے دُم ہلانے کی ضرورت۔ جماعت اسلامی کب فوج کیساتھ نہ تھی؟،سید منورحسن کو ایک بیان پر ہٹادیا گیا، امریکہ نے پاکستان کو مجبور کیا کہ افغانستان میں اسکا ساتھ دے تو پوری قوم امریکہ مخالف تھی اور لوگ فوج پربرس رہے تھے۔ماہنامہ ضربِ حق اس وقت فوج کی مجبوری سے عوام کو آگاہ کرتاتھا اور آپس کی لڑائی سے منع کر رہا تھا۔ کم عقلوں کے ہاں بکرے کا سر مٹکے میں پھنسا تو پہلے بکرا ذبح کردیا ، جب سر نہ نکلا تو مٹکا بھی توڑا، پھر خوشی منائی کہ ہم کامیاب ہوگئے۔ فوج نے عقل کا مظاہرہ کیا مٹکا توڑا، بکرا بچالیا۔ اب سراج الحق کہتاہے کہ بکرا بھی ذبح کردو، جماعت فوج کیساتھ ہے۔ عراق و لیبیااور افغانستان کیساتھ جماعت تھی مگر اس کا یار گلبدین حکمتیار نیٹو کیساتھ ہے۔ شیخ رشید نے ٹھیک کہا کہ معاملہ گھمبیر ہے ،امریکہ کے ساتھ 40اتحادی ہیں، بھارتی سازش نا کام بنانا ضروری ہے، بھڑکیاں مارنا رہنماؤں کے کام ہیں سینے پر گولی کھانا کسی اور کا کام ہے۔ جماعت اسلامی قرآن وسنت کے معاشرتی ، قانونی اورشرعی مسائل کواجاگر کریگی تو لوگ اسلامی اقتدار کی طرف توجہ دیں گے۔صرف سیاست کرنی ہو توپھراسلامی نام کو ہٹادیں۔

میں نے مارچ 1988 میں رپورٹ دی تھی کہ جونیجو فارغ، جنرل ضیاء قتل…. میجر عامر

major-amir-junejo-prime-minister-iji-isi-mujibur-rahman-shami-dunya-news

نمائندہ نوشتۂ دیوار کوئٹہ امین اللہ نے کہا: میجر عامر نے سلیم صحافی سے کہا کہ IJIبنانے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔ میں نے سول اور ملٹری تعلقات کیلئے قربانی دی مگر مجھے پھر بھی سزا ملی۔ اجمل جامی ومجیب شامی کے پروگرام میں کہا کہ میں نے مارچ1988میں رپوٹ دی کہ جونیجو حکومت ختم کی جائے گی اورضیاء الحق کو حادثے کا شکار کرکے پیپلزپارٹی کو لایا جائیگا ، یہ معلومات مجھے امریکیوں کیساتھ اٹھتے بیٹھتے باتوں کے دوران معلوم ہوئیں۔ جونیجو کو ایران کیخلاف استعمال کیا جانا تھا مگر نہیں ہورہا تھا ،اسلئے ہٹایا جانا تھا، جنرل ضیاء نے ایٹم بم کو مکمل کیا اور وہ بھی ایران کے خلاف کام نہیں آسکتاتھا(فوج میں شیعہ بہت ہیں) اسلئے ہٹایا جانا تھا اور بینظیر بھٹو کو حکومت میں لاکر ہی استعمال کرنا تھا۔ میجر عامر نے کہا کہ میں فوج سے ہٹادیا گیا تو اسکے بعد مجھے میڈیا سے پتہ چلتاہے اور بس۔ بینظیر بھٹوقتل کے بعد میڈیا پر پہلی بار یہ بات آئی کہ میزائل کی ٹیکنالوجی ان کا کارنامہ تھا جسکے بغیرایٹم بم بیکار تھا۔ اسکا مطلب یہی ہوا کہ IJIبنانے والے استعمال ہوگئے۔ جس کی زبردست تحقیق ہونی چاہیے، نوازشریف پر کرپشن کا الزام لگا تھاجوپانامہ سے ثابت ہوا۔ بینظیر بھٹو نے طالبان بنائے دل سے راضی نہ تھی کہ کابل پر قابض ہوں اور پھر نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کئے۔ بیرونی ہاتھ کیساتھ اپنے کرتوت کا بھی جائزہ لینا ہوگا ہم اچھے ہوں تو ہمارے حق میں سب اچھا ہوگا

ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ نے مانگا مگر مولانا مسعود اظہر کو نہیں کیوں؟ حقائق کیا ہیں؟

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed-mulla-mansoor

مولانا مسعود اظہر کوجامعہ بنوری ٹاؤن کی طالب علمی سے جانتا ہوں، مخلص ،باصلاحیت و فاشعاراورتابعدارمگران میں بغاوت ایڈونچر رسک لینے کا شائبہ تک نہ تھا۔وکیل کیس لڑتا ہے اورخطیب فن کا جادو جگاتاہے،مقابلے کی تقریر وں میں مسعوداظہر اوّل انعام جیتا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے پاکستان سے لیجاکر 80سال قید کیا۔ ڈاکٹر عافیہ نے رسک لیا ہوگا، تب ہی امریکہ نے سزا دیدی ۔ جبکہ مولانا مسعود اظہر رسک لینے والے نہ تھے اسلئے امریکہ نے طلب کیا نہ کوئی سزا دی، یہ حقائق ہیں جو عوام وخواص نہیں سمجھتے ہونگے۔ مولانا بھاری جسامت، نرم ونازک شخصیت کا مالک ہے ، اچھے خطیب مگر مردِ میدان نہیں۔
مدرسہ میں پڑھتا تھا تو ان کی وفاداری اور تابعداری پر حاسدین کو چمچہ گیری کاگمان تھا ۔ میں اسے اور وہ مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھتا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ میں اس کے راستے پر ایک مجاہد اور وہی میری جگہ ایک محقق ہوتا۔ اتفاق سے دونوں نے بالکل رانگ روٹ اختیار کیا۔ مجھے منزل ملی اور نہ اسے۔ میری تحقیق اگر وہ حسنِ تکلم سے پیش کرتا تو مدارس میں انقلاب آجاتا اور میں جہاد کی راہ پر چلتا تو دنیا کو فتح نہ بھی کرتا مگرجان لڑا دیتا، مدارس میں انقلاب نہ جہاد میں سرخروئی، البتہ تحقیق بغاوت ، ایڈونچر اوررسک بھی ہے، مجاہد کیلئے اطاعت شعاری لازمی ہے۔ سکھ فوجی نے افسر کو رائے دی کہ تہبند اور کرتہ فوجی وردی ہونی چاہیے، سب نے قہقہ لگایا۔ پوچھا سردار جی کیوں؟، پنجابی میں کہا:’’جس نے نوکری کرنی ہو تو پیچھے سے اٹھائے گرنہیں کرنی تو آگے سے اٹھائے‘‘۔ مجاہد کیلئے رعایت اور ڈسپلن کا پابندی ضروری ہے، صلح حدیبیہ اور پرویز مشرف کا امریکہ سے معاہدہ فوجی ڈسپلن کی مثالیں ہیں، حضرت خالد بن ولیدؓ سے نبیﷺ نے برأت ،حضرت ابوبکرؓ نے درگزر کی اورحضرت عمرؓ نے برطرف کیاتھا۔ سیاسی اختلاف کیلئے بدری قیدی پر فدیہ وحدیثِ قرطاس ، مذہبی فتویٰ میں تحقیق اور ایڈونچر کیلئے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کھلے ثبوت ہیں۔
مسعود اظہر کو مکہ میں بزرگ نے حکم دیا کہ بھارت کا دورہ کرلو۔ نامور مجاہد صحافی جس کا جہادی رسالہ میں نام چھپ رہا تھا ، کیسے وہاں رسک لیتا ؟۔ یہ اطاعت شعاری کا قرینہ تھا۔ بڑوں کا ماننا ایڈونچر نہیں تعمیل حکم ہے۔ خانقاہ کے امیر شفیع بلوچؒ نے ادریس بھائی سے کہا: شاہ صاحب کو یثرب پلازہ پہنچادو۔ بائیک پر بیٹھا ،بڑامعجزہ لگاکہ ہانپتے کانپتے مجھے مطلوبہ مقام تک پہنچادیا۔ میں نے پوچھ لیاکہ موٹر سائیکل اچھی چلانی نہیں آتی؟۔اس نے کہا کہ آتی ہی نہیں، پہلی مرتبہ چلائی ۔ میں نے کہا کہ پھر خدا کے بندے! خود بھی مرنا تھا اور مجھے بھی مارنا تھا؟۔ کہنے لگا کہ امیر کا حکم تھا۔ یہ ایڈونچر نہیں کمالِ اطاعت ہے، مولانا مسعود اظہر بھارت حکم سمجھ کر گئے، پھر پکڑے گئے۔ تہاڑ جیل سے تازہ حالات پر ضرب مؤمن میں ہر ہفتہ سوگ بھری تحریر نشر ہوتی تو عجیب لگتا کہ بھارت میں اتنی آزادی کس طرح ہے؟۔
رہا ئی کے بعد اخبار میں بیان آیا کہ ’’انڈیا جیل میں 12سرنگیں کھود یں، میری سائز کی بھی ایک تھی‘‘۔ میں نے لکھا کہ کیا ایک سرنگ تیرے سائز کی کافی نہ تھی؟اور شبہ ظاہر کیا کہ مولانا بے خبری میں امریکہ و بھارت کیلئے استعمال نہ ہو۔ کوئٹہ میں قاضی حسینؒ سے ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ا مین اللہ کا کہا کہ یہ اس اخبار کا نمائندہ ہے جس میں وہ آرٹیکل چھپا ۔ قاضی صاحبؒ بڑی گرم جوشی ملے مگرملی یکجہتی کونسل کا امیر شیعہ کا فر یا مسلمان پر سوال برامان گئے۔
مولانامسعود اظہر نے کہا کہ 40رضاکار بن لادن نے ذاتی بادی گارڈ قبول کرلئے۔ جنگ گروپ کا مفتی جمیل خان سرپرست تھا اورمفتی نظام الدین شامزئی نے حامد میرسے کہا کہ ایک جہادی تنظیم واشنگٹن سے براستہ رابطہ عالم اسلامی مکہ سے پیسے لیکر علماء کو خرید تی ہے باز نہ آئی تو اسکا بھانڈہ پھوڑدونگا۔ حامد میر نے لکھا: اگر باز نہ آئی تو بھانڈہ پھوڑ دینا۔
مشرف پر حملہ میں فوجی و جیش والے سزا یافتہ ہیں۔ مشرف مولانا مسعود اظہر کو پاکستان دشمن کہتاہے۔ ملاضعیف سے لیکر ڈاکٹر عافیہ تک لاتعداد کو امریکہ کے حوالہ کیا۔9/11 میں مفتی جمیل کوبرطانیہ نے پکڑ کر امریکہ کو حوالہ کیا مگر امریکہ نے چھوڑدیا ۔ افغانستان پر حملہ ہوا تو پاکستان استعمال ہوگیااور پاکستان پر حملہ ہوا تو بھارت آگے آئیگا۔مولانایوسف لد ھیانویؒ کے نام پر روزنامہ جنگ نے لکھا کہ’’ حضرت عیسیٰ ؑ کے چاچے نہیں تھے مگر پھوپھیاں تھیں‘‘ شور اٹھا تو مولانا لدھیانویؒ نے لکھا کہ’’ میری تحریر نہیں‘‘۔ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی علماء نے مفتی اعظم مفتی ولی حسنؒ کے نام ’’شیعہ کافر‘‘ کے فتوے پر دستخط کئے۔حالانکہ جامعہ کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندراس حق میں نہ تھے ، مولانا محمد بنوری شہیدکیا گیا۔ امریکیCIAمنصوبہ براستہ سعودیہ و بھارت پاکستان آیا ۔ حاجی عثمانؒ پر فتویٰ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بتایا کہ مفتی رشید و مفتی جمیل کی سازش تھی مگر حق بولنے کی جرأت نہیں۔ سب راز ٹی وی پر فاش کریں توCIAکا پتہ چلے۔

کیا واقعی افغانستان بہانہ اور پاکستان نشانہ تھا؟ عتیق گیلانی

qurbani-frontline-kutya-nato-dog-k-electric-hakeem-ullah-mehsood-bait-ullah-mehsud-black-water-haqqani-network

امریکہ نے القاعدہ نمبر1،نمبر2، اچھے طالبان، برے طالبان ، اچھی جہادی تنظیمیں، بری جہادی تنظیمیں ، آزاد ی کیساتھ گھومنے اور پابندی لگنے کے شکار گروپوں اور بلیک واٹر کی بھرمار سے خطے کا بیڑہ غرق کردیا ۔ بینظیر بھٹو ، شوکت عزیز، پرویزمشرف ، GHQ، مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید اور قاضی حسین وغیرہ کی حفاظت مسئلہ تھا۔بیشک پاکستانی ریاست نے ضمیرکی قربانی اور عوام کالانعام کی قربانی دی۔ عید قربان پر بھیڑ بکری ، دنبے بکرے بیل اور اونٹ قربانیاں دیتے ہیں ان کا گوشت کھالیا ، آلائشوں کو دفن کردیا، حلال کی اس قربانی کے بعد قصائی و بیوپاری اگلے موسم کا انتظار کرتے ہیں۔ بکرے ، گائے اور اونٹ بلند آواز سے چیختے ہیں کہ ہم تیار ہیں مگر حقائق سے وہ لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری حرام کی قربانی ہے جو کتیا ضرورت اور مجبوری سے کتوں کے ریلے کیلئے دیتی ہے ۔بدمست کتیااس کیفیت میں اپنے پرائیوں کو کاٹتی ہے پھر رنگ برنگے بچوں کی حفاظت اور پرورش کا بوجھ اٹھاتی ہے، آوارہ کتوں کی بہتات ہو تو مارنے کی مہم شروع ہوجاتی ہے ۔ کتیا مارے تو ماں کو تکلیف پہنچتے گی، بچے حرامی ہوں تو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنا قبول کرے مگرماں مارنے کا دل گردہ نہیں رکھتی ۔پولیس ، عدالتوں ، حکومت کے اداروں بلکہ پرائیویٹ kالیکٹرک کی ستائی ہوئی عوام کی حالت جانوروں سے بدتر ہے۔ ریاست کا سلوک عوام سے کتیا ماں جیسا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ حضرت حسن بصریؒ نے 10صفات کا ذکر کیا ہے جو مؤمن میں کتوں جیسی ہوں۔
ابوالعلاء معریٰ کو تیتر شکار کرکے دیالیکن اس نے کہا کہ توتیتر نہیں باز ہوتا تو شکار کرتا۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
امریکہ نے افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر مہربانی کا فیصلہ کیا۔ جنرل راحیل و جنرل باجوہ نے پاکستان سے کھیل ختم کیا تو امریکی پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ افغانستان کی طرح پاکستان میں نیٹو، داعش ، طالبان اور اقسام و انوع کے لشکر ہوں کیونکہ پروگرام خطے میں تادیر رہنا ہے۔ چوہدری نثار نے اسلام آباد 400 مکان میں رہائش پذیر افراد کو رجسٹریشن کا پابند کیا تو فخریہ انداز میں بیان کیا۔ حکومت اور پاک فوج کا دہشتگردی کے خاتمہ پر اختلاف نہیں۔ پہلے امریکہ کی جنگ سمجھا لیکن بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تو سب نے کہا: یہ ہماری جنگ بن چکی۔ بلیک واٹر اور حقانی نیٹ ورک کی بھرمار پربہت خوشی تھی مگر پاکستان سے دہشت گرد اور دہشتگردی کا خاتمہ ہونے لگا تو امریکہ کے تیور بدلے۔
قبائل پہلے انگریز سے لڑے ،اگر نیٹو نے حملہ کیا تو عوام زمین کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ رینجرز کو قبائل بھیجا جائے جو پولیس کی طرح ہے۔ فوج دشمن سے نمٹنا جانتی ہے۔ طالبان نے قبائلی عوام کا دل بٹھادیا۔ فوج کو بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ توقبائل نیٹو سے لڑنے کے قابل بھی نہ ہونگے۔ پاکستان نے اپنی حفاظت کیلئے کالعدم لشکریں پال رکھی ہیں، سرکاری ملازم کیلئے ممکن نہیں کہ خطے میں دھشتگردی پر انکے بغیر قابو پاسکے۔ اپنے ہمدرد سے لڑنا شروع کیا تو نئے محاذسے نئی جنگ چھڑ جائے گی۔ یہ بدمعاشی اپنی مجبوری ہے۔
BBC.COMپر یہ خبر نشرہوئی تھی کہ بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کو افغانستان میں نیٹو نے گرفتار کیا۔حکیم اللہ محسود مقامی لوگوں اور بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث پایاگیا تو دوسری طرف امریکہ کو بھی مطلوب تھا اسکا کزن نیٹو نے پکڑکر پاکستان کو حوالے کیا۔ پاکستان امریکہ سے پوچھتا کہ حکیم اللہ کو گرفتار کرنے کے بعدکیوں چھوڑا ؟ ۔اخبار جہاں کے شمارہ میں بینظیر کے قتل کے بعد طالبان کو پیسے دیتے ہوئے برطانوی فوج کو رنگے ہاتھ پکڑنے کا ذکر بھی تھا۔ پاکستان امریکی امداد لیتا تھااسلئے امریکی مرضی پر دہشتگردوں کو پال رہا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا پیسہ خرچ کر رہا ہے اسلئے امریکہ کی طرح دہشت گرد پال سکتا ہے۔بینظیر بھٹو کارکنوں کی خوشی کیلئے بلڈ پروف سے باہرنہ لہراتی تو دہشتگرد کامیاب نہ ہوتے۔ جن لوگوں کو جرم کے الزام گرفتار کیا تھا، ضروری نہیں کہ وہ مجرم ہوں۔حنیف پاڑہ چنار وغیرہ کو 135سال قید کی سزا الذوالفقار تنظیم کے الزام میں دی گئی ، حالانکہ بیگناہ تھے جبکہ زرداری کو کرپشن میں12سال گرفتاری کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ عدالت کا نظام درست نہ ہوا تو انصاف کیلئے سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہوگا۔
دفاعی تجزیہ نگارجنرل ر امجد شعیب نے حامد میر کے پروگرام میں بتایاکہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد مولانا مسعود اظہر پر الزام لگاجب پاکستان کی ایجنسیوں نے تحقیق کی تو بھارت کو 10میں6دہشتگردکے نام معلوم ہوسکے جو گجرات میں حملہ کرنیوالے تھے۔ مغربی ملک کی ایجنسی اسکے پیچھے تھی، انڈیا نے ہمارا شکریہ بھی اداکیا۔ پاکستان و بھارت امریکی CIA کا نام کیوں نہیں لیتے؟،جہادی امریکی ایجنڈا پورا کررہے ہیں یا یہ اسلام کی خدمت ہے؟۔
مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو سامنے آنکھوں کے آتا ہے

امریکہ اور نیٹو کو موقع دینے کے بجائے جنرل باجوہ کردار ادا کرے، اجمل ملک

barma-muslim-zulam-lieutenant-commander-imran-awan-steel-town-karachi-gulshan-e-hadeed

ایڈیٹرنوشتہ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ: 14اگست پر آرمی چیف جنرل باجوہ کا اعلانیہ سرحد پر جھنڈا لہرانا بڑی جرأت ہے جسکا اظہار لیفٹیننٹ رکمانڈر عمران اعوان نے بھی اسٹیل ٹاؤن گلشن حدیدکی تقریب میں کردیا۔ امریکہ نے کہا کہ’’ پاکستانی ماں کو بھی بیچتے ہیں‘‘۔ جنرل باجوہ نے امریکی سفیر سے کہا : امداد نہیں احترام چاہیے ۔تو 70سالہ تاریخ کوبدلا، گالی کا جواب تک نہ دیا گیا۔یہودیوں پر برما میں یہ انسانیت سوزظلم ہوتا توبھی عالم اسلام اقدام اٹھاتا ۔ جنرل باجوہ محمد بن قاسم بن کر برماکے غریب، بے بس اور بے توقیر مسلمانوں کے تحفظ کیلئے اقدام اٹھائیں، عالم اسلام اور دنیا بھر کے اچھے انسانوں کی بھی ہمدردیاں ساتھ ہونگی،کربھلا ہو بھلا۔ سعودیہ، امارات، ایران قطر افغانستان تمام اسلامی دنیا اور چین وروس کو متحرک کریں، بنگلہ دیشی کیمپ میں ایدھی، چھیپا، سیلانی، عالمگیر وغیرہ مدد فراہم کریں ۔ پاکستان میں مقیم برمیوں کو شہریت دیں، غرباء سے شناختی کارڈ اورپاسپورٹ کی رقم بٹورنے والوں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دیں۔ نوازشریف کی اولاد ودیگر افراد غیرملکی شہری بنے تو عرصہ سے برمیوں کو شہریت نہ دینا نظریۂ پاکستان ہے؟، برما میں قیامِ امن کا آغاز منافقانہ کھیل اور بدامنی کے خاتمے کا ذریعہ ہوگا۔ انشاء اللہ
وزیرخارجہ سمجھتاہے کہ نوازشریف کو لینے طیارہ پاکستان کی اجازت سے آیا تھا، برمیوں کی اجازت ملے تو پاکستان طیارہ بھیجنے کو تیار ہے۔ شاہ زیب کے پروگرام میں وزیر خارجہ کی تضاد بیانی سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہوگا۔