مارچ 2022 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

Imran Khan and his allies are wives of Nika’s father and we have now got three divorces from Nika’s father, PDM

اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

خانہ بدوش ایک پارٹی چھوڑکر دوسری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں، موسم کی تبدیلی سے سیاستدان اپنے ٹھکانے بدل لیتے ہیں۔ عوام کے اندر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی عزت خاکستر ہوگئی مگر یہ اپنی دنیا میں خوش ہیں کہ عزت، شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے سیاسی منافقت آسان اور بہترین راستہ ہے۔ پارٹیاں جن سیاسی رہنماؤں کی بیساکھیوں پر اقتدار میں آتی ہیں وہ بیساکھیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ حلالہ کے سانڈوں کے اعضاء مخصوصہ ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، جمعیت علماء اسلام اور تمام پارٹیاں اپنے نئے نئے سانڈوں کوبہت بد دلی کیساتھ قبول کرتی ہیں کیونکہ حلالہ والوں کا کرائے کے سانڈوں سے حقیقی رشتہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تین طلاقیں لینے کے بعداپنے اپنے حلقۂ احباب میں حیلے کی سزا کھا تی ہیں۔
نوازشریف، زرداری ،مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، محمود اچکزئی ، اویس نورانی، علامہ ساجد میر اورPDMمیں شامل جماعتوں نے برملا کہاتھا کہ عمران خان اور اسکے اتحادی نکا کے اباکی بیگمات ہیں اور ہم نے اب نکاکے ابا سے تین طلاق لی ہیں لیکن پھر ایسی فضاء کرائے کے بھڑوے صحافی بنارہے ہیں کہ منکوحات کو طلاق دی جارہی ہے اور جنہوں نے تین طلاق کا شور مچایا ہوا تھا وہ پارٹیاں پسِ پردہ حلالے کروانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔لوگ اب ہالی ووڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کے ان اداکاروں کا کردار دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں لیکن نرگسی مزاج کے سیاستدان، جج، جرنیل، صحافی اور علماء اپنی اپنی ذات کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ اسلام میں شخصیت سازی اور شخصیت سوزی نہیںبلکہ انسانوں کو مشکلات سے نکالنے کا فارمولہ ہے۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کابیٹا اور خدا بنادیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہالسلام کو گالیوں اور توہین سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی شخصیت سازی اور شخصیت سوزی کا مرہون منت ہے اور اس کے علاوہ ان کا کوئی اپنا ایجنڈہ نہیں۔
ایک شیعہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جنگ میں شہ سرخی لگی کہ”میں دس ہزار طالبان لیکر اسلام آباد پر چڑھائی کروںگا”۔ میں نے کہا کہ” یہ سراسرجھوٹ ہے ”۔ جھوٹوں پر لعنت ہے، ایسا جھوٹ فساد فی الارض ہے ۔ غیبت ہماری خوراک ہے جس کو قرآن نے اپنے مردے بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا۔ جن شیعہ سنی افراد نے شخصیت سوزی اور شخصیت سازی کو اپناہدف بنایا وہی دہشتگردی کی بنیاد ہیں۔ سنی بھی شیعہ کے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں اور بعض شیعہ بھی لگے رہتے ہیں جس کی پھر بہت بھاری قیمت ہی چکاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مسلمانوں کی مصیبت یہ ہے کہ تیتر بھی ہیں اور بٹیر بھی!

مسلمانوں کی مصیبت یہ ہے کہ تیتر بھی ہیں اور بٹیر بھی!

کالاتیتر بہت خوبصورت ہوتا ہے اور اس کی آواز کو ”سبحان تیری قدرت“ کہا جاتا ہے۔ اردو بہت بعد کی ایجاد ہے۔ عربی، انگریزی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، پنجابی اور سندھی وغیرہ کسی پرندے کی قدرتی آواز کو اللہ کے ذکر سے تعبیر کیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں اسلئے کہ جانوروں اور پرندوں کے علاوہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ درخت، پہاڑ اور پتھر بھی اللہ کا ذکر اور عبادت کرتے ہیں۔ النجم والشجر یسجدان فبای آلاء ربکما تکذبان ”بیل اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں تو تم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے“۔ نجم تارے اور بیل کو کہتے ہیں۔ درخت کا جوڑی دار بیل ہے، اسلام کے درخت کو مولوی کا آکاس بیل کھاگیا۔
آدھے تیتر اور آدھے بٹیر کی کہاوت مشہور ہے۔ مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ تیتروں کی طرح اپنا ذکر کرتے ہیں لیکن دوسروں کے ہاتھ میں بٹیروں کی طرح اپنی قوم سے بھی لڑتے ہیں۔ ایک طرف مساجد و مدارس، خانقاہوں، امام بارگاہوں اور مذہبی طبقات کی وجہ سے اسلام اور اللہ کا نام لیتے ہیں تو دوسری طرف عالمی قوتوں کے اقتصادی غلام بن گئے ہیں اور ان کے اشاروں پر اپنوں سے لڑنے مرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور یمن تباہ ہوگئے اور ہم نیٹو اور ظالموں کے فرنٹ لائن اتحادی تھے اور اب روس نے یوکرین پر حملہ کرنا تھا تو وزیراعظم عمران خان روس پہنچ گئے۔ جب امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے ہڈی پھینکنا چھوڑ دی تو ہماری حالت دھوبی کے کتے کی بن گئی جو گھر کا ہوتا ہے اور نہ گھاٹ کا۔
ہماری سیاست کا محور جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ یہی لوگ اسمبلیوں میں آکر قانون سازی بھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کرتے ہیں۔ عدالت کا نظام انصاف بھی غریب اور کمزور طبقے کے بجائے زیادہ تر امیروں اور طاقتوروں کے تحفظ کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے۔ چھوٹے سے بڑے تک تمام اداروں میں قانون کی حکمرانی کی جگہ طاقتور وں کے دسترس میں سب کچھ ہے۔ جس کی وجہ سے انقلاب انقلاب کی آواز ہر جگہ سے اُٹھ رہی ہے۔ معروف قانون دان اور پیپلزپارٹی کے رہنماچوہدری اعتزاز احسن نے بھی انقلاب ہی تمام مسائل کا نہ صرف حل قرار دیا ہے بلکہ اپنا تجزیہ پیش کردیا ہے کہ انقلاب کے دھانے پر کھڑے ہیں۔
جب عورت کے حقوق کا معاملہ سمجھ میں آئے گا تو پھر گھر گھر، گلی کوچوں، قریہ قریہ، شہر شہر اور ملک ملک صدائے انقلاب کو خوش آئند قرار دیا جائے گا۔ عورت غلام تو سماج غلام اور عورت آزاد تو پھر سماج آزاد ہے۔ مفت کی مزارعت اور سودی نظام سے پاک معیشت سے غریب اور محنت کش طبقات کا استحصال ختم ہوجائیگا۔
آؤمری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امرا کے در ودیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

سود سے ملک غلام بنتے ہیں اورمزارعت سے خاندان

سود سے ملک غلام بنتے ہیں اورمزارعت سے خاندان

آج پاکستان50کھرب کے سودی قرضے میں جکڑا ہوا ہے جس میں 30کھرب تک نوازشریف اور اس سے پہلے پریزومشرف نے پہنچایا تھا۔ پرویزمشرف نے جتنا سودی گردشی قرضہ لیا تھا زرداری نے اس کو ڈبل کردیا تھا۔ یعنیIMFکے آٹھ کھرب کو16کھرب تک پہنچادیا اور نوازشریف نے پرویزمشرف اور زرداری سے دگنا قرضہ لیکر30کھرب تک پہنچادیا تھا۔ عمران خان نے ساڑھے تین سال میں نوازشریف سے بھی ڈبل قرضہ لیکر50کھرب تک پہنچادیا ہے۔ نوازشریف اور زرداری نے1990کی دہائی میں ہی ایکدوسرے کیخلاف سوئس اکاونٹ، سرے محل اور ایون فیلڈ لندن کے فلیٹوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا۔ پانامہ لیکس نے نوازشریف سمیت دوسرے بہت لوگوں کے بھانڈے پھوڑ دئیے اور پھر اس طرح براڈشیٹ نے بہت سے لوگوں کے چہروں سے نقاب اتار دیا تھا اور پھر ایک اور لیک نے بہت ساری حکومتی شخصیات اور دیگر کے بھانڈے پھوڑ دئیے تھے اور اب جنرل اختر عبدالرحمن کے سوئس اکاونٹ اور مفتی محمد نعیم کے پانچ ارب 34 کروڑ اور لاکھوں کے بینک اکاونٹ میڈیا پر زیرگردش ہیں۔ سیاستدان، جج، جرنیل، صحافی، سول بیوروکریسی اور ان کے ساتھی کرپٹ بلڈروں کے مال ومتاع اور ظالمانہ کرپشن کے معاملات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
گورنر پنجاب نے بتادیا ہے کہIMFکے کہنے پرپاکستان کے اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی ریاست کو قرضہ دینا بھی بند کردیا ہے اور اب مالی معاملات پاکستان کی حکومت وریاست کی دسترس سے باہر ہیں اور جس سودی نظام سے2004سے2008تک پرویزمشرف نے ملک کا نظریہ بیچ کر چھٹکارا حاصل کیا تھا لیکن پھر خودہی اس میں کود گئے۔ زرداری، نوازشریف اور عمران خان نے نہلے پر دہلے کردئیے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سودی غلامی کو اسلامی غلامی کا نام دے دیا تو کیا اس کا کوئی فائدہ ہے؟۔
پہلے مزارعت سے افراد اور خاندان غلام بنتے تھے اوراب سودی نظام سے ملک غلام بنتے ہیں۔ ریاستِ مدینہ نے مزارعت کو سود قرار دیکر مزارعین کو مفت زمینیں کاشت کیلئے دی تھیں جسے اگر برقرار رکھا جاتا تو دنیا سے غلامی اور لونڈی کا نظام ختم کرنے کا سہرا امریکہ کے ابراہم لنکن اور اقوام متحدہ کی جگہ اسلام کے سر لگ جاتا۔ نبیﷺ نے آخری خطبے میں کالے گورے، عرب و عجم کے تعصبات کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور اپنے چچا کاخون اور سود معاف کرنے سے قتل وغارت گری اور سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی کردی تھی۔ اگر ہم پاکستان سے عورت کے حقوق اور اسلام کے معاشی نظام کی ابتداء کردیں گے تو پوری دنیا کے نظام کو قتل وغارت گری اور معاشی استحصال سے بچانے میں ایک زبردست کردار ادا ہوسکتا ہے۔ ایک اچھے نظام کا پہلے کہیں نمونہ پیش کرنا ہوتا ہے اور پھر دنیا بدلتی ہے۔ ریاست مدینہ نے قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست اسی لئے دی تھی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

عورت مارچ 2020 پر مولوی طبقے نے ہلا بول دیا

عورت مارچ2020پر مولوی طبقے نے ہلا بول دیا

اسلام آباد میں عورت مارچ والوں اور ان کی مخالفت میں مذہبی جوشیلے طبقے کو جس طرح ایک ٹینٹ کے کپڑے کی آڑ میں قریب قریب رکھا گیا تھا اور جوش وجذبات سے بھرپور مذہبی طبقے کے جلسہئ گاہ کے پاس ہی روڈ کے دوسرے سائیڈسے عورت مارچ والوں نے گزرنا تھا۔ پولیس کو چھوٹی چھوٹی سٹک دی گئی تھیں جو کسی تصادم سے بچانے کیلئے کافی نہیں تھیں۔ عورت مارچ کی خواتین نے بہت بہادری کیساتھ وہاں سے گزرنے کی جرأت کرلی۔ اگر بڑے بڑے پھنے خان جرنیل بھی ہوتے تو کنٹینروں کی آڑ میں بھی اس طرح غیرمسلح ہوکر گزرنے کی جرأت مشکل سے کرتے۔ دہشت گردی کی فضاء کا خوف توڑنے میں عورت مارچ نے اپنے اس اقدام سے بہت بڑا کارنانہ انجام دیا تھا۔ ایک مولوی نے ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ عورت مارچ والوں نے اس کو اینٹ ماری ہے۔ مذہبی طبقے کی پھینکی ہوئی چیزوں کو خواتین مارچ کے جلوس پر مأمور مردوں نے واپس پھینکا تھا اور اس سے زخمی ہونے والے مولوی کو شرم کھاکر ایف آئی آر درج نہیں کروانی چاہیے تھی۔
بلوچ سٹودنٹ کی طرف سے احتجاجی کیمپ لگانے پرسخت لاٹھی چارج کا احوال ایمان مزاری نے حال ہی میں ڈان نیوز کے پروگرام میں سنایا۔ اگر حکومت پابندی لگاتی تو عورت مارچ اور اس کے مخالفین پروگرام نہیں کرسکتے تھے لیکن ایک طرف حکومت نے بین الاقوامی میڈیا کے خوف سے عورت آزادی مارچ والوں کو بددلی سے اجازت دی تھی اور دوسری طرف مذہبی شدت پسند طبقے کو بھی کھڑا کردیا تھا۔ مذہبی امور کے وزیر مولانا نور الحق قادری نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کیخلاف ویلاگ کرنے والی ہدیٰ بھرگڑی اور اس کی ساتھی عورتوں پر پابندی بھی لگ جائے۔ میڈیا پر بھی مراد سعید کی وجہ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اگرعورت کے اسلامی حقوق کا معاملہ اجاگر کیا جائے توپھرتصادم سے نکلا جاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جب مولانا فضل الرحمن، مذہبی طبقات اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے2020میں عورت مارچ کودھمکیاں دی گئی تھیں تو ہم نے طاقتوروں کے مقابلے میں کمزوروں کی مدد کی تھی۔

جب مولانا فضل الرحمن، مذہبی طبقات اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے2020میں عورت مارچ کودھمکیاں دی گئی تھیں تو ہم نے طاقتوروں کے مقابلے میں کمزوروں کی مدد کی تھی۔

جب2020میں 8عورت آزادی مارچ والوں کو مولانا فضل الرحمن، مذہبی طبقات اور سیاستدانوں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا تھا تو ہم نے ماہنامہ نوشتہئ دیوار کراچی میں مظلوم عورتوں کی حمایت میں بہت کچھ لکھا تھا۔ کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد، سکھر، نواب شاہ،میرپور خاص، حیدر آباد اور کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر عورت کے حقوق کے حق میں اپنا اخبار پھیلایا۔ لاہور میں پنجاب اور کراچی کے ساتھیوں نے کام کیا تھا اور7مارچ کی رات ہم لاہور پہنچے تھے۔6مارچ کو اسلام آباد میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کی تھی۔8مارچ کی صبح عورت مارچ لاہور میں شمولیت کیلئے گئے۔TVچینل آپ نیوز کو ایک بھرپور انٹرویو بھی دیا لیکن وہ جرأت کرکے نشر نہ کرسکا۔ اسی طرح ایک معروف سوشل میڈیا کو زبردست انٹرویو دیا مگر اس نے بھی منافقت کرکے نشر نہیں کیا۔ اگر آپ نیوز اور سوشل میڈیا کے وہ انٹرویوز نشرہوجاتے تو مخالفت کا رُخ تبدیل ہوجاتا۔ اسلام نے جو تحفظ عورت کو دیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے لیکن فقہاء نے جس طرح کاا ستحصا ل عورت کا اسلام کے نام پر کیا ہے اس کی مثال پوری دنیا کے کسی بھی مذہب اور قانون میں نہیں۔
ہم عورت مارچ کے شرکاء کو تحفظ دینے کیلئے قائداعظم یونیورسٹی کے طلباء سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کرنے گئے لیکن وہاں معلوم ہوا کہ پہلے سے عورت مارچ کی انتظامیہ نے اپنے کارکنوں کوبھیجا تھا۔ جب اسلام آباد سے اطلاع ملی کہ عورت مارچ کی خواتین بہت دباؤ میں ہیں اور مذہبی طبقے نے بالکل ساتھ ہی اپنا ڈیرہ جما رکھا ہے تو ہم نے لاہور سے بائی روڈ اسلام آباد بروقت پہنچنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب ہم پہنچے تو اس سے قبل ہی عورت مارچ والوں پر ڈنڈوں، جوتوں، پتھروں اور اینٹوں کی برسات کی گئی تھی اور پروگرام ختم ہوچکا تھا لیکن مارچ والوں کوDچوک سے پریس کلب جانا تھاکیونکہ خواتین کی گاڑیاں وہاں پارک تھیں۔ ہم نے پھر اس مرحلے میں ساتھ رہنے کی سعادت حاصل کی۔ ساتھیوں نے پہلے بھی شرکت کی تھی اور مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑا تھا جو تصاویر میں نمایاں ہیں۔ پرویزمشرف کے دور میں ایک بہت ظالم قسم کا فوجی افسر تھا جو سول بیوروکریسی کے افسران کیساتھ بہت ناجائز کررہاتھا لیکن پھر اس نے نیب کی وجہ سے خود کشی کی تھی۔ ظالم طالبان ہوں، سیاستدان ہوں، ریاستدان ہوں یا کوئی بھی ہو جلد یا بدیر اپنے انجام کو ضرور پہنچتا ہے۔ جب افغانستان کے طالبان اہل تشیع کے جلوسوں کو سیکورٹی فراہم کررہے تھے تو جامعہ حفصہ کے مولانا عبدالعزیز کہہ رہاتھا کہ شیعہ جلوسوں کو سکیورٹی فراہم کرنے والی پاکستانی ریاست طاغوت ہے لیکن اس غریب کو یہ پتہ نہ تھا کہ طالبان بھی یہی کام افغانستان میں کررہے ہیں جن کی وہ اسی وقت حمایت بھی کررہاتھا۔ طالبان کو چاہیے کہ کابل میں 8عورت آزادی مارچ کو اپنی خواتین کے ذریعے ایک اعلامیہ پیش کریں جس میں قرآن وسنت کے عین مطابق عورت کو آزادی اور وہ حقوق مل جائیں جس سے دنیا میں ایک اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہوجائے۔ کابل سے عورت کے اسلامی حقوق کا ڈنکا بجے گا تو امریکہ واسرائیل بھی حیران ہونگے کہ یہودونصاریٰ کے مذہبی طبقے کے نقشِ قدم پر چل کر مسلمانوں کے مذہبی طبقے نے بھی مذہب کے نام پر انتہائی غیر اخلاقی اور غیرانسانی قوانین بناکر عورت کو ظلم وجبر اور جانوروں سے بھی بدتر حالت پر پہنچادیا تھا۔ اگر عورت کواسلامی حقوق مل جائیں تو دنیا بھر میں پرامن اسلامی انقلاب کا راستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

امت کے زوال کی دو وجوہات ہیں، ایک قرآن سے دوری اور دوسری امت کا فرقہ واریت میں بٹ جانا۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

پاکستان، بھارت، امریکہ، برطانیہ اور دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں، بادشاہتوں اور فوجی ڈکٹیٹروں نے اپنے اپنے طرز پر حکومت کرکے انسانیت کو تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچادیا۔ روس نے یوکرین پر قبضہ کیا تو اس میں امریکہ ونیٹو کا بھی زبردست کردار ہے۔ انسانی آبادی پر گرائے گئے بموں کے جلتے شعلوں سے آسمان لرز رہاہے۔ زمین دہک رہی ہے اور انسانیت جل رہی ہے۔ اب دنیا کو تباہی وبربادی سے بچانے کی صلاحیت صرف اسلامی نظام میں ہے مگر اسلامی نظام عام مسلمانوں کو تو بہت دور کی بات ہے علماء ومفتیان کے علم وفکر سے بھی بالاتر نظر آتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا رشیداحمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اپنا ایک ہونہار شاگرد شیخ الہند مولانا محمود الحسن پیدا کیا۔ شیخ الہندؒ نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ، مولاناشبیر احمد عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد الیاس، مولانا سیدانورشاہ کشمیری، مولانا عبیداللہ سندھی اورمولانا عزیر گل جیسے نامور شاگرد پیدا کئے تھے۔ پھر جب شیخ الہند مالٹا میں قید ہوئے تو جیل میں قرآن کریم کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل گیا۔ جب1920ء میں آزاد ہوکر ہندوستان آگئے تو شیخ الہند کی رائے بالکل بدل چکی تھی۔ امت کے زوال کے دو اسباب بتائے۔ایک قرآن سے دوری اور دوسری فرقہ واریت میں امت کی تقسیم۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا کہ ”فرقہ واریت کی لعنت بھی قرآن سے دوری کے سبب ہے“۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ الہندکے مشن کیلئے کام کیا مگرشیخ الہند کے دیگر شاگردوں نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔ پھر مولانا انور شاہ کشمیری نے بھی آخر میں کہا کہ ”میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی ہے اسلئے کہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی زندگی ضائع کردی ہے“۔
پاک وہندکے معروف علماء ومفتیان مولانا سیدمحمدیوسف بنوری،مفتی محمد شفیع،مولانا شمس الحق افغانی، مولاناسیدمحمدمیاں، مولاناادریس کاندہلوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک،مولانا قاری محمد طیب، مولانا محمد طاہر پنج پیری،مفتی محمود شیخ الہند ؒ کے شاگردوں کے شاگرد تھے۔ جن میں مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی حیات ہیں۔ شیخ الہند ؒ اور مولانا کشمیری ؒ نے اپنی آخری عمر میں فرمایا کہ ”قرآن وسنت کی خدمت کرنے کے بجائے فقہ کی وکالت میں زندگی ضائع کرد ی۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع نے فرمایا کہ ”مدارس بانجھ ہوگئے ہیں۔ شیخ الہند مولوی کہلاتے تھے لیکن ان کے پاس علم تھا اور آج مولانا، علامہ اور بڑے بڑے القاب والے ہیں لیکن ان کے پاس علم نہیں ہے“۔ آج مفتی محمد شفیع کاایک بیٹا شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور دوسرابیٹا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ہے۔پہلے اندھوں میں کانا راجہ ہوتے تھے اوراب آندھیوں کی طرح ہر چیز جاہل طبقوں کی طرف سے ملیامیٹ ہورہی ہے۔ سودی بینکاری میں اصل رقم سلامت اور اضافی سود ملنے کے بعد بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کا فتویٰ دیدیا گیا۔ مثلاً بینک میں 10لاکھ پرایک لاکھ سالانہ سود بن گیا۔ اس میں 25ہزار روپیہ زکوٰۃ کے نام پر کٹ گئے اور10لاکھ اصل رقم بھی محفوظ رہی اور مزید75ہزار سود بھی مل گیا۔ مفتی محمودؒ نے زندگی کے آخری لمحے مفتی تقی اور مفتی رفیع عثمانی کو جامعہ نیوٹاؤن کراچی میں طلب کیا کہ بینکوں کے سودسے زکوٰۃ کی کٹوتی کا فتویٰ غلط ہے اور اس میں نہ سمجھ میں آنے والی راکٹ سائنس نہیں تھی۔
جب مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمن نے پہلے عمران خان کی حکومت کو گرانے سے انحراف کیا تھا توہم نے نشاندہی کی تھی۔PDMنے23مارچ تک اسلام آباد پہنچنے کیلئے ایک لمبی تاریخ دی تھی،اب جب اس کا وقت قریب آگیا ہے تو عدمِ اعتماد کا شوشہ صرف اسلئے چھوڑ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ڈر سے ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام اصل میں لانگ مارچ سے بھاگ رہی ہیں۔ جن صحافیوں نے جھوٹ بول بول کر فضاء بنانے کی کوشش کی تھی کہ ن لیگ کا حلالہ ہوچکا ہے اور اب وہ خاتون اول بن کر امید سے ہے تو یہ کرائے کے صحافی کا اصل کردار بہت خطرناک ہے۔ میڈیا کو مکمل آزادی ہونی چاہیے لیکن کرائے کے صحافیوں کو آئینہ دکھانے کی بھی بہت سخت ضرورت ہے۔ شاہد خاقان عباسی، مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز متحرک ہوجاتے تو سیاست میں ہلچل مچ سکتی تھی لیکن یہ صرف اور صرف23مارچ کے لانگ مارچ سے جان چھڑانے میں لگے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ اور صابرشاہ مدرسے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہیں اور مسکان بائیک چلاتی ہے؟

ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ اور صابرشاہ مدرسے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہیں اور مسکان بائیک چلاتی ہے؟

پچھلے سال مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، حریم شاہ کی ویڈیوز نے بھی تہلکہ مچایا تھا اور یہ دونوں اسلامی مدارس کی تعلیم وتربیت سے بھی آراستہ ہیں۔ صابر شاہ اورحریم شاہ کی ویڈیوز میں بہت فرق بھی تھا اور ایک باریش لڑکے اور ایک لڑکی میں فرق ویسے بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ مسکان بائیک چلاتی ہے اور ایک کالج کی اسٹوڈنٹ ہے۔ بہت سے لوگوں کو مذہب سے اتنی نفرت ہوگئی ہے کہ صابرشاہ کا کردار بھی تمام مدارس ومساجد سے نفرت کا ذریعہ بنارہے ہیں اور مسکان خان کے کردار کو بھی غلط سمجھ رہے ہیں۔ ان کو مذہب سے چڑ ہوگئی ہے۔ حالانکہ مساجد ومدارس نسل در نسل کردار سازی، شائستگی اور تعلیم وتربیت کے سب سے زیادہ بہترین اور سستے ترین ذرائع ہیں۔ آج افغانستان کے دیہاتی علاقوں میں طالبان کی حکومت کی وجہ سے امن وامان قائم ہوا ہے اور عوام خوشحال ہیں۔ البتہ کابل اور شہری علاقوں میں کئی این جی اوز نے جو نوکریاں دی تھیں اس وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔
طالبان کا پہلے رویہ بہت شدت کا رہاہے لیکن اب ان کے بڑے رہنماؤں نے دنیا دیکھ لی ہے،وہ کافی حد تک بدل گئے لیکن بے شعور اور شدت پسند طبقات کی طرف سے شدید جذباتی مخالفت کے خدشات کا بھی سامنا ہے اسلئے وہ بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف مروجہ اسلامی رسم ورواج اور احکام کا معاملہ ہے اور دوسری طرف امیرالمؤمنین ملا عمرؒ کے اقدامات سے انحراف کی بات ہے اور تیسری طرف شیعہ ایرانی حکومت سے مفادات ومراسم کا معاملہ ہے اور چوتھی طرف افغان قومیت اور پاکستان کے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ چاروں طرف سے اندرونی اور بیرونی مشکلات کے علاوہ عالمی دنیا کی طرف سے انسانی حقوق اور عورت کے حقوق میں بھی بڑے تضادات کا سامنا ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان کے اکاؤنٹ بھی منجمد کررکھے ہیں اور اسلام کے نام پر سودی بینکاری کی منافقت کے بھی طالبان متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی اپنی حالت افغانستان سے زیادہ خراب اسلئے ہے کہ ایک طرف بے تحاشا سودی قرضے لئے ہیں،دوسری طرف جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی سیاست ہے، تیسری طرف ایک طاقتور ادارے نے اپنا مستقل اقتدار جمایا ہوا ہے اور چوتھی طرف سودی بینکاری اور اسلامی بینکاری میں استحصالی نظام کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ حلالہ کی لعنت کا نام کارِ ثواب رکھ دیا ہے۔ فقہ حنفی میں علامہ بدر الدین عینی اور علامہ ابن ہمام کا بہت بڑا مقام ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ”ہمارے بعض مشائخ نے حلالہ کو لعنت نہیں کارِ ثواب قرار دیاہے“۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے علماءِ حق مل بیٹھ کر اسلامی احکام کا درست تجزیہ کریں اور پھر ان کو دنیا کے سامنے پیش کریں تو ان کی تمام مشکلات کا حل نکل سکتا ہے۔ قرآن کریم نے نہ صرف عورت کو اپنے شوہر سے خلع کا حق دیا ہے بلکہ خلع میں بھی مالی تحفظ اس کو فراہم کیا ہے۔ البتہ طلاق میں خلع کے مقابلے میں بہت زیادہ مالی تحفظ فراہم کیا ہے۔ جب عورت کی طرف سے طلاق کا دعویٰ ہو اور دلائل وشواہد سے خلع کا ثبوت مل جائے تو علیحدگی میں مالی حقوق کم ملیں گے مگر پھر بھی ملیں گے ضرور۔ اور اگر طلاق کا ثبوت مل جائے تو عورت کو بہت زیادہ مالی حقوق مل جائیں گے۔ مغرب نے عورت کو علیحدگی کا حق دیا ہے اور مسلمانوں نے عملی طور پر عورت سے خلع کا حق چھین لیا ہے۔ پاکستان کے آئین میں عائلی قوانین کے اندر عورت کو خلع کا حق حاصل ہے۔وفاق المدارس العربیہ کے جنرل سیکرٹری قاری محمد حنیف جالندھری نے جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری کے سامنے اس بات کا اعلان کیا کہ عدالت میں عورت کو خلع کا حق غیر اسلامی ہے اور اس کے خلاف ہم بھرپور تحریک بھی چلائیں گے۔ حالانکہ جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤ ن کراچی کا فتویٰ عدالت کے حق میں ہے۔ آئیے اور دیکھ لیجئے کہ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات کے خلاف عورت سے خلع کا حق کیسے چھین لیا گیا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اکوڑہ خٹک میں پڑھتے تھے تو اپنے والد مفتی محمودؒ سے بھی چھپ جاتے تھے اوریہ بات ہمارے استاذمولانا عبدالمنان ناصرنے ہمارے ساتھیوں کو بتائی ہے اور انکے بھائی مولانا عطاء الرحمن درجہ رابعہ میں بنوری ٹاؤن میں فیل ہوگئے تھے اسلئے مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر سکندر، مفتی تقی عثمانی علیہ ماعلیہ

مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر سکندر، مفتی تقی عثمانی علیہ ماعلیہ

مفتی تقی عثمانی نے شادی بیاہ کی رسم میں لفافوں کی لین دین کو سود قرار دیا۔ اسکے بہنوئی مفتی عبدالروف سکھروی مفتی دارالعلوم کراچی نے اپنے مواعظ میں شادی بیاہ کی اس رسم سے متعلق حدیث بیان کی کہ سود کے73گناہ ہیں اور کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ مفتی سکھروی کا وعظ کتابوں میں شائع ہے۔ پھر مفتی محمد تقی عثمانی نے سودی بینکاری کو جواز بخش دیا۔تو علماء دیوبند وفاق المدارس کے سابقہ صدر مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ،مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مفتی زرولی خان ، مولاناسمیع الحق اور پاکستان بھر کے سب علماء دیوبند نے سخت مخالفت کی تھی۔ مفتی محمدتقی عثمانی کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی اسلئے علماء کی بڑی تعداد کا نعرۂ حق کام نہ آیا ۔ مسکان خان نے بھارت میں غنڈوں کے سامنے نعرۂ تکبیر بلند کیا تو دنیا کے میڈیا نے اٹھایا مگر جب مفتی محمدتقی عثمانی کے سود کیخلاف علماء نے آواز اٹھائی تو میڈیا نے بینڈ کردیا امریکہ کی CIAاور اسرائیل کی موساد کیخلاف فیس بک میںمعمولی بات پرپیج بلاک ہو جاتا ہے لیکن جب ان کے مقاصدکی تکمیل کی طرف کا معاملہ ہو توBBCلندن اوروائس آف امریکہ وغیرہ پر خوب تشہیر ہوتی ہے۔ مسکان خان نے اچھا قدم اٹھایا لیکن عالمی میڈیا اس سے ہندوستان کو مسلمانوں کے خلاف میدانِ جنگ بنانے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جن لوگوں میں اسلام کا اتنا جذبہ ہے کہ مسکان کی تائید کرنے میں انعامات کا اعلان کررہے ہیں تو جب مفتی محمدتقی عثمانی کا دارالعلوم کراچی اور مفتی عبدالرحیم کا جامعة الرشید سودی بینکاری کو جائز قرار دیتا ہے تو ان غنڈوں سے بدتر ان علمائِ سو کا کردار ہے جنہوں نے مسکان خان کے خلاف غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا اور مسکان سے بڑا کارنامہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ،جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی اور احسن المدارس گلشنِ اقبال وغیرہ کا تھا جنہوں نے عالمی سودی نظام کو جائز قرار دینے کے خلاف نعرہ ٔ تکبیر بلند کیا تھا لیکن ان کے کردار کی کوئی اہمیت دنیا کے سامنے میڈیا نے بیان نہیں کی اسلئے کہ عالمی میڈیا کے مفاد میں یہ نہیں تھا اور اب مفتی محمد تقی عثمانی کو وفاق المدارس کا صدر بھی بنایا گیا ہے۔
یہ تمہید اسلئے لکھی تاکہ عورت کے حقوق، طلاق وحلالہ اور خلع وغیرہ سے متعلق قرآن وسنت کے مقابلے میں بنائے گئے من گھڑت اور نام نہاد اسلامی احکام سے متعلق عوام وخواص کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں۔جس طرح سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کا فتنہ علمائِ حق کے مقابلے میں علماء سُو کا کارنامہ ہے ،اس طرح بہت سارے فقہی مسائل قرآن وسنت کے منافی بعد کی پیداوارہیں لیکن ان کو علمائِ حق کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔
الحمدللہ میں نے درس نظامی اور اصولِ فقہ کی روح کو سمجھ لیا ہے اور شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان سے اصولِ فقہ کی کتابیں ”اصول الشاشی” اور ” نورالانوار” جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری نیوٹاؤن کراچی میں نہ صرف پڑھی ہیں بلکہ ان پر لاجوا ب اعتراضات کرکے آپ سے زبردست حوصلہ افزائی بھی پائی ہے۔ اسی طرح فقہ وتفسیر اور درسِ نظامی کی دوسری کتابوں پر اعتراضات اور اساتذہ کرام کی طرف سے زبردست داد بھی ملی ہے۔ جن جن مدارس میں بھی پڑھا ہے،اساتذہ کرام سے بہت حوصلہ افزائی اور عزت بھی پائی ہے۔
غلام احمد پرویز، مولانا سیدابولاعلی مودودی ،جاویداحمد غامدی ، ڈاکٹر اسرار اور دیگر مذہبی اسکالروں کے مقابلے میں میری فکر تمام طبقات دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کے علماء کرام و مفتیانِ عظام کیلئے اسلئے قابلِ قبول ہے کہ میں نے مسالک ومذاہب کی وکالت سے ہٹ کر قرآن وسنت کی ایسی تعبیر کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے جس میں گروہی تعصبات میں مبتلاء ہونے کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں ہے۔ قرآن وسنت کی برکت سے اسلامی جمہوری آئین پاکستان پر بھی تمام فرقے اور مسالک متحد ومتفق ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے نالائق ارکان اور چیئرمین اثر ورسوخ کی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں لیکن ان کا قصور بھی نہیں اسلئے کہ فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی بھول بھلیوں پر اتفاق الرائے قائم کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس شمارے میں عورت کے حقوق سے متعلق کچھ واضح احکام قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات سے افادہ عام کیلئے پیش ہیں ۔ امیدہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل،عورت آزادی مارچ، ریاست وحکومت پاکستان، افغانستان، ایران، سعودی عرب، مصر اور تمام اسلامی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ امریکہ واسرائیل کی پارلیمنٹ کیلئے بھی قرآن میں عورت کے پیش کردہ فطری حقوق قابلِ قبول ہونگے اور علماء ومفتیان اور عوام الناس بھی خوش ہوں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

آج نیوز کی اینکر سدرہ اقبال نے ماہین بلوچ کو مدعوکیا

آج نیوز کی اینکر سدرہ اقبال نے ماہین بلوچ کو مدعوکیا

کراچی کے علاقہ لیاری کی عوام کی تقدیر کو اپنی تعلیم وتربیت سے بدلنے والی ماہین بلوچ نہ صرف ملک و قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے قابلِ فخر ہیں۔ایک دن آئے گا کہ جب ملالہ یوسفزئی نے جس طرح آدھا نوبل انعام حاصل کیا تو ماہین بلوچ کواکیلے نوبل انعام سے نوازا جائے گا۔ مفادپرستی اور مزاحمت پرستی کے داؤ پیچ کھیلنے والے پیچھے رہ جائیں گے اور مثبت انداز سے معاشرے کی تقدیر بدلنے والی ماہین بلوچ سب کوہی پیچھے چھوڑ دے گی۔ پسماندہ طبقات کے بال بچوں پر محنت کرکے عروج تک پہنچانے والی ماہین کوسرخ وسبز سلام!

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مسکان کے چہرے پرنقاب اور اسلام!

مسکان کے چہرے پرنقاب اور اسلام!

اسلام میں حج وعمرے کی ادائیگی کرتے ہوئے عورت خانہ کعبہ کا طواف، صفا ومروہ کامخلوط میرا تھن ریس اور پنج وقتہ نماز ادا کرتے ہوئے چہرے کا پردہ نہیں کرتی ہے۔ اگر اس کے چہرے پر نقاب یا دوپٹے کا کوئی حصہ لگ جائے تو اس پر دَم (جانورذبح کرنے کا جرمانہ) واجب ہوجاتا ہے۔ اگر قرآن میں چہرہ چھپانے کا عورت کو حکم ہے توپھر کیا بنوامیہ وبنوعباس کے دورِ آمریت میں فقہاء نے عورتوں کو حج وعمرے میں چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ باپردہ خواتین کے انتخاب میں آسانی ہو؟۔ لیکن عورت ہمیشہ سے اپنی روایات کی پکی رہی ہے اور یہ قرآن وسنت کا حکم نہ ہوتا تو عورت آمریت کے حکم اور فقہ کوبھی ٹھکرادیتی تھیں۔
سورہئ مجادلہ میں ظہار کی نام نہاد شریعت کے خلاف قرآنی حکم بھی عورت ہی کی مزاحمت اور مکالمے کے نتیجے میں نازل ہوا۔ حجرِاسود پربدتمیزی کے ماحول کی انتہاء دیکھنے کو ملتی تھی۔ اپنی بیگم سے اتنی ہڈی پسلی نہیں مل سکتی تھی جتنی اجنبیوں کے ماحول میں مردوعورت کا اختلاط ہوتا تھا۔ ڈاکٹر وحیدؒ نے بتایاتھا کہ منصوبے کے تحت حجرِ اسود کے پاس بعض لوگ شہوت رانی کیلئے جاتے ہیں۔ قربان اسلام پر جس نے چہرے کے نقاب پر حج و عمرہ میں چودہ سوسال پہلے پابندی لگادی تھی ورنہ نقاب کی آڑ میں پتہ نہیں کیا ہوتا؟۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ کسی مسجد میں تقریر کی تو کہا کہ تالی نہیں بج سکتی اسلئے کوئی بات پسند ہو توہاتھ اٹھالینا۔ طالبات کے چہرے چھپے ہوں تو استاذ کو معلوم نہیں ہوتا کہ سبق سمجھ آیا یا نہیں؟۔ اجتماع میں چہرے چھپانے کی آڑ میں دہشتگردی اور جنسی کرپشن بڑھ سکتی ہے۔


مسکان خان ایک سمجھدار بیٹی ایک معصوم چڑیا۔اجمل ملک ایڈیٹرنوشتہئ دیوار __
اجمل ملک لکھتے ہیں کہ بھارت کے علاقے کرناٹک کے ایک کالج میں مسکان خان کیساتھ پیش آنیوالے واقعہ کی وڈیو کلپ جب میں نے پہلی دفعہ دیکھی تو مجھے بالکل ایسے لگا جیسے میری اپنی بیٹی ہندو بلوائیوں میں گھری ہوئی ہے کیونکہ میری بیٹی بالکل اسی حلئے میں یونیورسٹی جاتی ہے۔ لہٰذا میں نے وہ وڈیو بار بار دیکھی مجھے لگا یہ بیٹی بہت سمجھدارہے،اس نے پہلے غور سے حالات کا جائزہ لیا اس نے دیکھ لیا کہ ان نعرے لگانے والوں میں میرے کلاس فیلو لڑکے بھی ہیں میرا پرنسپل بھی موجود ہے لہٰذا اسکی کچھ ہمت بندھی اور اس نے بھی انکے نعروں کے جواب میں اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے اور پھر انتظامیہ کی سائیڈ پر چلی گئی جہاں اسکے پرنسپل نے سب کو روک کر اس کیلئے راستہ بقیہ صفحہ3پر
بقیہ ………… مسکان خان ایک سمجھداربیٹی ایک معصوم چڑیا: اجمل ملک
بنایا میں اس ذمہ دارہندو پرنسپل کو سلام پیش کرتا ہوں پھر جب کچھ لڑکے مسکان خان کی طرف بڑھے تو انتظامیہ کے ایک دوسرے شخص نے مسکان خان کو تحفظ دیا وہاں اس بچی نے شکوے کے انداز میں کہا کہ آخر حجاب سے کیا مسئلہ ہے؟ پھر کچھ آگے جاکر اس نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا جو بعد میں اس نے اپنے انٹرویو میں بھی کہا کہ میں ڈر گئی تھی اور جب میں ڈرتی ہوں تو اللہ اکبر کہتی ہوں اس معصوم مسلمان بچی نے کالج کے متعصب ماحول میں انتہائی حکمت، بردباری اور وقار سے صورتحال کا سامنا کیا۔ ہمارے برصغیر میں بیٹیاں سب سے کمزور سمجھی جاتی ہیں اور ان کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں ”چڑیوں“ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ہمارے کلچر میں کہا جاتا ہے ”دھیاں نماڑیاں“ دشمن بھی بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے ”دھیاں سانجھیاں ھوندیاں نے“ لیکن لگتا ہے کہ اب پاکستان کے مسلمانوں نے اپنی یہ ساری روایات بھلا دی ہیں اورہم بھارت میں آباد اپنی بیٹیوں کے تحفظ کا کوئی معقول بندوبست کرنے کے بجائے انہیں مشتعل کر رہے ہیں کہ یہ ”چڑیاں“ متعصب ھندوؤں سے ٹکرا جائیں۔ہمیں اتنی بھی بصیرت نہیں ہے کہ عالمی سطح پر مذہبی انتہا پسندی کو ابھارنے کیلئے اور ھندو مسلم کو آپس میں لڑوانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے گئے ہیں۔1979سے امریکیCIAاس ٹارگٹ پر کام کر رہی ہے جسکی پوری تفصیل آ چکی ہے لیکن دکھ کی بات ہے کہ ہم بھی بالواسطہ طور پر اس کیلئے استعمال ہو رہے ہیں،ہمیں بھارت میں بسنے والی اپنی مسلمان بیٹیوں کے تحفظ کیلئے کوئی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ بھارت میں آباد مسلمان کمزورہیں جب ہم نے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ وطن بنایا تو پاکستان کیلئے اصل تحریک انہی علاقوں میں آباد مسلمانوں نے شروع کی تھی حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہونگے لیکن وہ ایک مضبوط اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے لیکن ہم پچھلے،74 سالوں میں قرآن کا ایک بھی قانون اس ملک میں نافذ نہ کر سکے اسی برٹش قانون کے تحت ہم زندگی گذار رہے ہیں جس کے تحت بھارت کا مسلمان زندگی گذار رہاہے بلکہ ایک لحاظ سے وہ ہم سے بہتر ہیں بھارت نے کم از کم ملک سے جاگیرداری نظام کا تو خاتمہ کر دیا لیکن اسلام میں جاگیرداری کے خاتمے کے واضح حکم کے باوجودہم نے اس ذلت کو سینے سے لگا رکھاہے اورہماری پارلیمنٹ پر انہی جاگیرداروں کا قبضہ ہے اگرہم پاکستان میں اسلام کا حقیقی روشن چہرہ دنیا کو دکھاتے تو ذات پات میں تقسیم ھندو سب سے پہلے اس اسلام کی آغوش میں پناہ لیتا ہم نے تو اسلام نافذ نہیں کیا لیکن بھارت کے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی قیمت آج بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان کے مسلمان ہماری مدد کریں لیکن کچھ قومی ذمہ داریاں ”ان کہی“ہوتی ہیں اور زندہ قومیں نہ صرف ان ذمہ داریوں کو یاد رکھتی ہیں بلکہ انہیں نبھاتی بھی ہیں 1924میں جب مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا جا رہا تھا تو مسلمانوں کے نظام خلافت کو بچانے کیلئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے زبردست تحریک چلائی۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ ”بی اماں“ کی قیادت میں ایسی زبردست تحریک اٹھی کہ ھندوؤں نے بھی اس تحریک میں مسلمانوں کا ساتھ دیا اسوقت پورے ہندوستان میں یہ نعرہ مشہور ہو گیا ”اماں بولی محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پر دیجیو“۔ اسوقت متحدہ ہندوستان سے ہزاروں مسلمان عورتوں نے ترکی کی مدد کیلئے اپنے زیورات بھیجے، ترکی کانظام خلافت تو نہ بچ سکا لیکن ترک قوم نے آج تک مشترکہ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ احسان یاد رکھا ہوا ہے اور جب2005میں پاکستان میں شدید زلزلہ آیا تو ترکی کی طرف سے دیگر امداد کیساتھ وہاں کی عورتوں نے اسی جذبے کے تحت اپنے زیور بھی بھیجے لیکن گردش زمانہ نے کیسے دن دکھا دیئے ہیں کہ تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے عظیم لیڈر ذولفقار علی بھٹو کی جماعت کا منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تاریخ سے اتنا ناواقف نکلا کہ اس نے ترک خواتین کی جانب سے بھیجے گئے زیورات میں سے ایک نہایت قیمتی ہار اپنی بیگم کو دیدیا اناللہ واناعلیہ راجعون۔آج بحیثیت قوم ہم اپنی ذمہ داریاں بھول چکے ہیں۔ہمارا زور صرف نعرے لگانے اور تصادم کی فضا پیدا کرنے پرہے،مضبوط پاکستان بھارت میں آباد مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے ہم تو اپنی کشمیر کی بیٹیوں کیلئے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کر سکتے لہٰذا ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ھوگا جس سے بھارت میں آباد مسلمانوں کو تحفظ ملے، حجاب مسلمان بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کیلئے ہے اس نام پر بیٹیوں کا تماشہ لگانے کیلئے نہیں ہے۔ قرآن کھول کر دیکھیں اپنی عورتوں کی عزتوں کے تحفظ کیلئے کیسے کیسے جلیل القدر انبیاء نے کس حکمت سے کام لیا ہے۔ دوسرے یہ کہ بھارت میں حجاب کوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ ھندو کلچر میں اس کا بہت رواج ہے،وہاں بہت بڑی تعداد میں ہندو خواتین و حضرات مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں ہمیں حجاب کو مسلمانوں اور ھندوؤں کے درمیان رسہ کشی کا سبب بنانے کے بجائے اس حوالے سے ساتھ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور دوسری طرف اپنے آپکو مضبوط کرنا چاہیے۔ہم نعرہ تو اللہ اکبر کا لگاتے ہیں اور قرآن کا یہ واضح حکم ہمارے سامنے ہے کہ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقہ فرقہ مت بنو“۔ لیکن ہم میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ ہم اپنے فرقے کی قربانی دیکر ایک اللہ کے دین پر متحد ہو جائیں، لہٰذا آج ہم مسلمان دنیا میں ذلیل و رسواء ہیں اگر ہم جہاد بھی کرتے ہیں تو امریکی مقاصد کی تکمیل کیلئے کرتے ہیں،ہمیں ڈرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہوکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد کہ اللہ ھندوؤں کوہدایت دیکر مسلمان کر دے اور انکے ذریعے اصل اسلام کو زندہ کر دے کیونکہ آج بھارت کی پارلیمنٹ میں تو قرآن کھلتا ہے اورہندو عورت قرآن لہرا کر کہتی ہے کہ تم مسلمان عورتوں کیساتھ حلالے کیوں کرتے ہو؟۔ قرآن پڑھو اس میں اس حوالے سے کتنا واضح حکم ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر228،229اور آیت نمبر231،232اس حوالے سے بالکل واضح ہیں اور مزید اگرہم سورہئ طلاق کے شروع کی صرف دو آیات دیکھ لیں تو بات بالکل واضح ہے لیکن ہمارا مولوی قرآن کھولنے کو تیار نہیں ہے اس نے اپنی سوئی سورہ البقرہ کی آیت نمبر230پر اٹکا دی ہے تاکہ معصوم بچیوں کے حلالے کرتا رہے لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ مسلمان بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلنے والے نام نہاد علماء کو عذاب دینے کیلئے ہندوؤں کو منتخب کر لے اور جس غزوہ ہند کی ہم مسلمان بات کرتے ہیں وہ ہمارے ہی خلاف ہو اورہماری ہی اشرافیہ طوق و سلاسل میں جکڑ لی جائے کیونکہ اس سے پہلے تاریخ یہ نظارہ دیکھ چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے چنگیز خان کی اولاد کو اسلام کی دولت سے نواز دیا اور پھر انہوں نے اسلام کو زندہ کیا جس پر اقبال نے کہا”ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے۔ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے“۔ اجمل ملک

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv