نومبر 2016 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

فرقہ واریت کو بنیاد سے ختم کرنے کی ضرورت ہے

حضرت امام حسنؓ نے کم سنی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا کہ ’’آپ میرے باپ کے منبر پر بیٹھے ہیں‘‘ ۔ حضرت ابوبکرؓ بہت روئے، گود میں اٹھایا ، فرمایا کہ ’’ خدا کی قسم یہ تیرے باپ کا منبر ہے، یہ میرے باپ کا منبر نہیں ‘‘۔ حضرت حسینؓ نے کم سنی میں یہی بات حضرت عمرؓ سے کی ، فاروق اعظمؓ نے پیار کیا اور پوچھا کہ ’’ کس نے یہ بات سمجھائی ہے‘‘۔ حضرت حسینؓ نے کہا کہ ’’کسی نے نہیں خود سے یہ سمجھ رہا ہوں‘‘۔ خلافت پر شروع سے اختلاف تھا کہ انصار ومہاجرین، قریش و اہلبیت میں سے کون حقدار تھا، انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے کبھی حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز نہ پڑھی، تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒ کے بیٹے مولانا یوسف حضرت جیؒ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی آخری تقریر امت کے اتحاد پر کی تھی، جس میں سعد بن عبادہؓ کو جنات کی طرف سے بطورِ سزاقتل کی بات ہے۔ تبلیغی نصاب یا فضائل اعمال میں موجود کتابچہ’’موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ کے مصنف مولانا احتشام الحسن کاندھلویؒ کی ایک کتاب میں حضرت حسنؓ وحسینؓ کی طرف سے بچپن میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے سامنے منبر کی حقداری کا ذکرہے۔
کربلا میں حضرت حسینؓ کیساتھ جو سلوک ہوا، اگر یزید اور اسکے لشکر کی حمایت کو ترجیح دینے کیلئے یہ سبق دیا جائے کہ حضرت حسنؓ و حسینؓ نے بچپن سے جو رویہ اختیار کیا تھا، کربلا میں بھی ان کی اپنی غلطی تھی، یزید برحق تھا اور مسندِ خلافت کیخلاف سازش کرنیوالا غلط تھاتو اہل تشیع کے تعصب میں یہ ممکن ہے مگر افراط و تفریط سے امت کو منزل پر نہیں پہنچایا جاسکتا۔ میں اہل تشیع کے مؤقف سے ایک فیصد بھی اتفاق نہیں کرتا اور خلافت کیلئے حضرت علیؓ اور آل علیؓ سے زیادہ کسی اکابر صحابیؓ اور انکی اولاد کو مستحق اور اہل نہ سمجھنے کے باوجود سو فیصد خلافت راشدہؓ کے ڈھانچے کو قرآن و سنت اور منشائے الٰہی کے عین مطابق سمجھتاہوں۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعدصدیق اکبرؓ کے صاحبزے کا کوئی سوال بھی پیدا نہ ہوا۔ حضرت عمرؓ کے بعد عبداللہ بن عمرؓ کو خلافت کی مسند پر بٹھانے کی تجویز آئی تو فاروق اعظمؓ نے یکسر مسترد کردی اور فرمایا کہ ’’ جو بیوی کو طلاق دینے کا طریقہ نہیں سمجھتا، وہ خلافت کے امور کو کیسے چلائے گا؟ اسلئے خلافت کی مسند پر بیٹھنے والوں کی فہرست سے یہ باہر ہے‘‘۔ حضرت عثمانؓ پر تو اقرباپروری کے الزامات لگے مگرخلافت کو موروثی بنانے کا کوئی الزام نہ لگا،ورنہ مورثی خلافت عثمانیہ بنی امیہ کی امارت سے پہلے شروع ہوجاتی،البتہ حضرت علیؓ نبی ﷺ کے چچازاد اور داماد تھے، ان کو خلیفہ اول نامزد کردیا جاتا توخلافتِ راشدہ عوام کی رائے سے نہیں شروع سے موروثیت میں بدل جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ میں جو صلاحیت رکھی تھی وہ کسی اورصحابیؓ میں ہرگز نہ تھی، حضرت ابوبکرؓ سے تو حضرت عمرؓ میں زیادہ صلاحیت تھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: لولا علی لھک عمر ’’اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہوجاتا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کے مقام کو حضرت عمرؓ سے اونچا اسلئے سمجھتا ہوں کہ اللہ نے اہلیت اور صلاحیت حضرت عمرؓ میں زیادہ رکھی تھی لیکن حضرت ابوبکرؓ اپنے خلوص کی وجہ سے آگے بڑھ گئے، اللہ نے دکھادیا کہ فضیلت کی بنیاد صلاحیت کی محتاج نہیں، ورنہ کم صلاحیت والے اللہ کی بارگاہ میں اپنا عذر پیش کردیتے۔صلاحیت توابوجہل میں بھی ابوسفیان سے زیادہ تھی۔
بلاشبہ حضرت علیؓ میں وہ صلاحیت نہ تھی جو حضرت ابوطالب میں تھی۔صلح حدیبیہ کے موقع پر سارے صحابہؓ جذبات میں تھے، حضرت علیؓ نے رسول اللہ کا لفظ کاٹنے پر نبی ﷺ کے حکم کے باوجود انکار کیا۔حضرت ابوطالب ہوتے تو اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کے لفظ کو کاٹ کر کہتے کہ اگر لفظ کاٹنے سے نبوت ختم ہوتی ہے تو بھتیجے کی نبوت بالکل ختم ہوجائے، یہ منصب مصلحتوں کا تقاضہ کرتاہے، لڑائی کا ماحول پیدا کرنے کا نہیں۔ اور یہ کریڈٹ لیتے کہ اپنے بھتیجے کی ایسی تربیت کی ہے جس میں مصالحت کو آخری حد تک لیجانے کی اہمیت شامل ہے۔ انسان پر ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے، بیت اللہ میں حجرِ اسود کا معاملہ آیا تو نبیﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی تھی، یہ گھریلوماحول کا نتیجہ تھا کہ اتحادو اتفاق اور قبائل میں قومی وحدت قائم فرمائی۔ نبیﷺ نے حضرت ابوطالب سے صاحبزادی ام ہانیؓ کا رشتہ مانگا مگر ابوطالبؓ نے غربت کا لحاظ رکھا، نبوت کا لحاظ نہ کیا، دو غریب میاں ﷺبیوی رضی اللہ عنہاایک گھرمیں اکٹھے ہوجاتے تو نبوت کی تحریک چلانے میں مشکل پیش آتی۔ اسلئے نبیﷺ کیلئے ایک مالدار خاتون حضرت خدیجہؓ کارشتہ لیا۔حضرت عمرؓ نے نسبت کیلئے حضرت علیؓ سے بیٹی کا رشتہ مانگا، حضرت علیؓ نے انکار نہیں کیا۔ ابوطالب کا رسول اللہﷺ کیلئے انکار اور حضرت علیؓ کا حضرت عمرؓ کو رشتہ دینے سے انکار نہ کرنے میں کم ازکم اہل تشیع کو حضرت ابوطالب کی صلاحیت کا اعتراف کرنا پڑیگا۔حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہﷺ کو اپنی صاحبزادی کا رشتہ دیا۔ ام ہانیؓ نے فتح مکہ کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کے رشتے کی پیشکش قبول نہ کی اور اللہ نے نبیﷺ کو پھر ان سے رشتہ منع کردیا تھا۔
مولانا طارق جمیل کا ٹی پر بیان تھا جو نبیﷺ کا نیک نیتی سے دفاع کر رہا تھا کہ پچیس سال کے جوان نے چالیس سال کی خاتون سے شادی کرکے یہ ثابت کردیا کہ ’’آپﷺ نے نفسانی خواہشات کیلئے شادیاں نہیں کیں‘‘۔ حالانکہ یہ غلط بات ہے، پھر نبیﷺ پر غیرمسلموں کے اس اعتراض کا کوئی دفاع نہیں ہوسکتا کہ عمر کا لحاظ کئے بغیر ایک بڑی عمر کے شخص نے ایک چھوٹی بچی حضرت عائشہؓ سے شادی کیوں کی؟۔ سوال 9سال کے بجائے 18سال کی عمر پر بھی ختم نہیں ہوتا، اسلئے معتقدین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مخالفین کو مخالفت کا موقع فراہم کیا جائے تو بڑی حماقت ہے؟۔ جنید جمشید کے طرزِ تکلم اور مولانا طارق جمیل کے طرزِ استدال میں کوئی فرق نہیں ۔ 25سالہ جوان 40سال کی عمر والی سے شادی کرے یا 53سال کی عمر میں چھوٹی عمر والی لڑکی سے شادی کی جائے تو یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے۔ مسئلہ عمر میں فرق کا نہیں بلکہ بات اتنی ہے کہ جبری شادی نہ ہو۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ اذیت اٹھائی تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام سے حضرت زلیخا کو جتنی محبت تھی اس سے زیادہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے نبیﷺ سے محبت کی تھی۔ طعن و تشنیع کا محل دونوں طرف سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حضرت عائشہؓ کی اولاد ہوتی تو حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے زیادہ معزز ان کو سمجھا جاناتھا۔ مغرب کوزلیخا کی اولاد پر فخرہے تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی اولاد پر مسلمان کیوں فخر نہ کرتے؟۔ لونڈی ماریہ قبطیہؓ سے اولاد زندہ رہتی توبھی انصارومہاجر، قریش واہلبیت،عباسی واہلبیت کا جھگڑا چلنے کی نوبت نہ آتی۔
اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ موروثی نظام قائم نہیں کرنا تھا۔ نبیﷺ کی ایک لونڈی حضرت ماریہ قبطیہؓ کے صاحبزادے کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں اٹھالیا۔ ہماری صحاح ستہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے فرزند کے بارے میں فرمایاکہ ’’اگر زندہ رہتے تو نبی اور صدیق ہوتے‘‘۔ جس سے قادیانی ختم نبوت کے انکار کا عقیدہ پیش کرتے ہیں۔ جب غلو کرنے والے حضرت علیؓ کو بھی خدا کے درجہ پر پہچاکر چھوڑتے ہیں تو فرزندِ نبی کو نبوت کے درجہ پر ضرور پہنچاتے ۔ورنہ خلافت کا موروثی نظام تو اسلام کے گلے میں پڑ ہی جاتا۔ احادیث کی کتب میں وہ روایات بھی ہیں جس سے قرآن کی حفاظت کا قرآنی عقیدہ بھی قائم نہیں رہتا۔ رضاعت کبیر کے مسئلہ پر بھی من گھڑت احادیث صحاح ستہ کی زینت ہیں۔ جس میں نبیﷺ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے دس آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہونے کا ذکرہے۔ حضرت ابوبکرؓاور حضرت علیؓ کے حوالہ سے بھی وہ احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے امت مسلمہ کا افتراق وانتشار یقینی ہے۔ اتنی وضاحتوں کا مسئلہ ہوتا تو پھر انصارؓ وقریشؓ اور اہلبیتؓ و خلفاء راشدینؓ میں اختلاف کیوں ہوتا؟۔
ابوطالب نے حضرت ام ہانیؓ کی شادی مشرک سے کرادی جو فتح کے بعدمکہ چھوڑ کر عیسائی بن گیا۔ حضرت علیؓ نے قتل کرنا چاہا، اپنی بہن سے مشرک کا نکاح ناجائز سمجھا تھا، نبیﷺ نے روک دیا، حضرت ام ہانیؓ کے کہنے پرامان دیدی۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا تعلق وحی سے تھا، ایک خاتون کو مروجہ قول کیمطابق ظہار پر فتویٰ دیا تو اللہ نے سورۂ مجادلہ میں اس منکر قول کی اصلاح فرمائی ۔ صحابہؓ نے اکثریت سے غزوہ بدر کے قیدیوں پر فدیہ کا مشورہ دیا اور آپﷺ نے قبول فرمایا تو اللہ نے نامناسب قرار دیا، جب صلح حدیبیہ سے متعلق صحابہؓ نے اختلاف کیا تو اللہ نے نبی ﷺ کے فیصلے کو فتح مبین قرار دیا۔ اگر حضرت علیؓ خلیفہ نامزد ہوجاتے، ان سے اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی اور وحی کا سلسلہ بھی بند ہوتا تواسلام اور امت کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔مولانا الیاسؒ کے خلیفۂ مجاز مولانا احتشام الحسنؒ تھے مگر تبلیغی جماعت نے مولانا الیاسؒ کا بیٹا جانشین بنایا۔مولانا احتشام الحسنؒ امیر بنتے توتبلیغی جماعت اپنی پٹری سے نہ اُترتی۔انہوں نے سب سے پہلے تبلیغی جماعت کو فتنہ قرار دیا تھا۔
نبیﷺ نے غدیر خم کے موقع پر فرمایا: من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جسکا میں مولا ہوں ، یہ علی اسکا مولا ہے‘‘۔ جس سے دوست نہیں ،سرپرست مراد تھا۔ نبیﷺ حضرت علیؓ کوؓ اپنے بعد خلیفہ بنانا چاہتے تھے ، حدیث قرطاس میں بھی اس کی تحریری چاہت تھی، حضرت عمرؓ نے روکا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے‘‘ تو یہ منشائے الٰہی کیمطابق تھا۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ میں خداد صلاحیت اور اہلیت تھی، نبی ﷺ کی طرح ان کی آل پر بھی زکوٰۃ حرام تھی۔ جب انصارؓ وقریشؓجھگڑا کررہے تھے توقریش کی بنیاد سے زیادہ احادیث کی بنیاد پر حضرت علیؓ اور اہلبیت کا حق مقدم تھا۔ نبیﷺ کے جانثارانصارؓ نے خود کواسلئے خلافت کا حق دار سمجھا کہ جس حدیث کو حضرت ابوبکرؓ نے پیش کیا وہ خبرواحد تھی۔ علماء نے لکھا کہ الائمۃ من القریش’’ امام قریش میں سے ہونگے‘‘ حدیث پربعد میں اجماع ہوا، اگر اصولی طور پر نبیﷺ نے لوگوں کو یہی تلقین کرنی ہوتی تو بھی انفرادی مجلس کا اظہار حقائق کے منافی تھا۔ پھر کھل کر اجتماع عام میں کہہ دیا جاتا کہ ’’میرے بعد امام قریش میں سے ہونگے‘‘۔ وضاحت کے بعد انصارؓ خلافت کے حقدارنہ بنتے۔ اسکے مقابلہ میں حضرت علیؓ کی ولایت زیادہ خلافت کے استحقاق کیلئے مناسب دعویٰ تھا۔
شیعہ نے بارہ سے مراد اپنے امام سمجھے ،خلافت وامامت کے حوالہ سے انکا مؤقف کمزور نہیں ، خصوصاً جب بنو امیہ اور بنوعباس نے موروثی بنیادوں پر استحقاق جمانے کی روایت قائم کی اور پھر ترک کی موروثی خلافت عثمانیہ قائم ہوئی۔ مدارس، خانقاہوں سے لیکرمذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی موروثی بنایا گیا تو شیعہ کو کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟۔ حقائق کیلئے مدارس ، خانقاہوں، سیاسی ومذہبی جماعتوں اور بادشاہتوں کا بھی خاتمہ کرنا پڑیگا۔ ایران میں بادشاہت نہیں عرب میں موروثی نظام ہے۔ سعودیہ میں اہلیت کے بجائے وراثت سے اہل تشیع کے عقیدے کو تقویت ملتی ہے اور ایران کی جمہوریت سے اہلسنت کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے، بجائے اہلیت کے جمہوری بنیاد پر حکمرانوں کی تقرری مقبول ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی سے فرقہ واریت کا گھپ اندھیرا اجالے میں بدلے گا، مذہبی طبقے روشنی کا فائدہ اُٹھانے کے بجائے دن دھاڑے ہاتھ میں موم بتیاں لیکر بارود کے ڈھیر سے کھیل رہے ہیں، ملاعمراور ابوبکرالبغدادی پر اختلاف کی طرح شیعہ سنی اختلاف کا حل بھی موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے ورنہ عراق وشام اور افغانستان جیسا حال ہوگا۔
ایران اور سعودیہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے فرقہ وارانہ لٹریچر میں اعتدال ضروری ہے۔ اگر حضرت علیؓ پہلے خلیفہ بنتے تو وراثت کی مہلک ترین بیماری کا سارا الزام اسلام کی گردن میں آتا۔ حضرت عمرؓنے اپنی وفات سے پہلے تین چیزوں پر افسوس کا اظہار کیا کہ کاش رسول اللہﷺ سے پوچھتے کہ’’ 1: آپﷺ کے بعد خلیفہ کون ہو۔ 2: زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف قتال سے متعلق 3: کلالہ کی میراث کے بارے میں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے خلیفہ مقرر کرنے کی فکر کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے بھی اپنا جانشین مقرر کیا۔ نبیﷺ نے بھی حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’’ دوبھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت، دونوں کو مضبوط پکڑوگے تو گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حدیث کی سند پرتسلیم شدہ محقق علامہ البانی نے اس حدیث کو درست قرار دیا اور نبیﷺ نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علیؓ کو اپنے بعد سرپرست بنانے کا حکم دیا۔ حدیث قرطاس میں اہل تشیع کے بارہ اماموں کا شجرہ لکھ دیتے لیکن حضرت عمرؓ نے رکاوٹ ڈال دی۔ کیا یہ مان لینے سے تاریخ بدل جائے گی؟۔
صلح حدیبیہ میں حضرت علیؓ کا رسول اللہ کے لفظ کو کاٹنے سے انکار ایک کنفرم اور بنیادی غلطی اسلئے تھی کہ اللہ نے اسی معاہدے کی قرآن میں تائید کردی۔ حضرت عمرؓ نے بدر کے قیدیوں پر جو مشورہ دیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس رائے کے برعکس ان صحابہؓ کی رائے پر فیصلہ فرمادیا جس میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ اور دوسرے اکابرؓ صحابہؓ شامل تھے۔اللہ نے اکثر کی مشاورت کے باوجود رسول اللہﷺ کا فیصلہ نامناسب قرار دیا۔ جب نبی ﷺ نے مشاورت کے بغیر حضرت علیؓ کو نامزد کیاتھا تو بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے سے زیادہ حضرت عمرؓ کی رائے کو اللہ پسندیدہ قرار دے سکتا تھا۔ نبیﷺ کو قرآن میں اللہ نے مشاورت کا حکم دیااور امیرالمؤمنین کی تقرری اس کا تقاضہ کرتی ہے۔
اہلسنت نے حماقت سے واقعات کی غلط تعبیر وتشریح کی۔ مولا اور ولی دوست کے معنیٰ میں بھی ہے لیکن دوست کیلئے اعلان غیرضروری تھا۔ ایک طرف فرقوں کے مولانا ہیں تو دوسری طرف آیات میں یہودونصاری اور مشرکین کو اپنا سرپرست بنانا منع ہے جس سے دوست مراد لیا گیا، جب یہودونصاریٰ کی خواتین سے شادی جائز ہے تویہ دوستی سے بڑھ کر دوستی ہے۔ آیت میں سرپرست ہی مراد ہے مگر احمق طبقہ سمجھ رہا ہے کہ امریکہ وبرطانیہ کو سرپرست بنانا جائز ہے، دوستی جائز نہیں ۔ موجودہ دور میں دہشت گردوں، فرقہ پرستوں اور شدت پسندوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سمجھانا مشکل نہیں۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث اختلاف کا خاتمہ بہت آسان ہے۔ عوام وخواص، حکمران و علماء ، سیاسی قیادت اور مجاہدین کی ترجیحات اپنے غلط مفادات کی تابع ہیں،ماتمی جلوس اور شاتمی رویہ کو ختم کرنے میں بالکل بھی دیر نہ لگے گی ۔حضرت امام حسنؓ نے حضرت علیؓ سے خلافت کا منصب سنبھالنے پر کھل کر اختلاف کیا،پھرمنصب سے دستبرداری بھی اختیار کرلی ۔ اگر اسکا خلاصہ سمجھ میں آیا تو قرآن وسنت پر اتفاق ہوگا اور صحابہؓ پر اختلاف کی شدت نہ رہے گی۔
اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے اندر حضرت ابوبکرؓ سے زیادہ صلاحیت تھی مگر تقدیرالٰہی نے کمال کرکے دکھایا۔ اگر حضرت عمرؓ پہلے خلیفہ بنتے تو زکوٰۃ کے مسئلہ پر امت مسلمہ کا اختلاف نہ بنتا۔ اختلاف کی سنت قرآن اور نبیﷺ کے دور میں بھی جاری تھی۔ اللہ نے اس کو شدومد سے مسلم امہ میں جاری رکھنا تھا۔ قرآن میں جبری زکوٰۃ لینے کاحکم نہ تھا، نبیﷺ کو لینے کا حکم اسلئے دیاکہ صحابہؓ کی خواہش تھی کہ آپﷺ کو زکوٰۃ دی جائے۔ نبیﷺ نے اللہ کا حکم ماننے کیساتھ اپنے اہل عیال اور اقرباء پر بھی زکوٰۃ حرام کردی تاکہ مستحق لوگوں کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ حضرت ابوبکرؓ سے شروع میں بھی جبری زکوٰۃ لینے کے مسئلہ پر حضرت عمرؓ نے اختلاف کیا اور جب مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے جبری شادی کی تو بھی حضرت عمرؓ نے سنگسارکرنا مناسب قرار دیامگر حضرت ابوبکرؓ نے تحمل سے کام لیکر تنبیہ پر اکتفاء کیا۔ نبی ﷺ نے بھی ایک موقع پر حضرت خالدؓ کی طرف سے بے دریغ قتل وغارت گری سے اپنی برأت کا اعلان فرمانے پر اکتفاء کیا تھا۔اللہ تعالیٰ بھی انسان کو زندگی میں غلطیوں پر توبہ کرنے کا بار بار موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم نے مانا کہ حضرت علیؓ سے غلطیاں نہ ہوتیں اور مہدی غائب بھی کوئی غلطی نہ کرینگے لیکن اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ قبطی کو قتل کرنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ظاہری منصبِ خلافت پر فائز کرتاہے ، جس نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا تھا۔ حضرت خضرؑ جیسے ولایت کے حقداروں کو ظاہری منصب سے اللہ نہیں نوازتا ہے۔ جو بچے کو بھی قتل کرے تو ایک نبی کوبھی اپنے سے اختلاف کی گنجائش رکھنے کا حقدار نہ سمجھے بلکہ راستہ الگ کردے۔
حضرت ابوبکرؓ نے جبری زکوٰۃ وصول کی مگراہلسنت کے چاروں فقہی امام متفق ہوئے کہ زکوٰۃ کیلئے قتال جائز نہیں،اختلاف کی رحمت جاری رکھنے کا یہ وسیلہ بن گیا ،مسلکوں کی مت ماری گئی کہ نماز کیلئے قتل پر اختلاف کیا، حالانکہ جب زکوٰۃ کیلئے قتل جائز نہ ہو تو نمازپرقتل کے حوالہ سے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی۔ امام مالکؒ وامام شافعیؒ نے وقت کی حکومتوں کا تشدد برداشت کیالیکن اگر یہ برسرِ اقتدار آتے اور بے نمازیوں کو قتل کرنا شروع کرتے تو عوام کو اسلام سے نفرت ہوجاتی۔ حکمران ان فرشتہ صفت انسانوں کے مقابلہ فاسق فاجر تھے لیکن منشائے الٰہی میں ان پاکبازائمہ سے وہ حکمران بھی اسلام اور امت مسلمہ کیلئے بہتر تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت بھی مذہبی طبقات اپنے اختلافات میں الجھے تھے اور واجبی مسلمان قائدین نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ سعودیہ میں بھی مذہبی طبقے سے بہتر خادم الحرمین کیلئے شاہی خاندان ہے۔نجدی مذہبی شدت پسندوں کا اقتدار ہوتا توپھر رسول اللہﷺ کے روضہ مبارک کے نشانات مٹادیتے، قبر کو سجدہ گاہ بنانے والوں کو نبیﷺ کی دعا سے وہاں کا اقتدار نہیں مل سکتا ،ورنہ وہ قبرمبارک کو سجدہ گاہ بنالیں۔ علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کے مدرسہ کے مہتمم نے بھی اس کا اظہار کیاتھا۔ مذہبی طبقے کو اقتدار میں آنے سے قبل اجنبیت کے ان غلافوں سے نکلنا پڑے گا جن میں لپٹے ہوئے یہ اسلام سے بہت ہی دور ہیں۔عتیق الرھمٰن گیلانی

سیاسی بے چینی کا حل سیاستدان خود کیوں نہیں نکالتے؟

آصف علی زرداری نے 11سال جیل میں گزارے مگر عدالت سے سزا نہ ہوئی ۔ نواز شریف نے سعودیہ جلاوطنی کے دوران جیو ٹی وی اور جنگ کے مشہورصحافی سہیل وڑائچ سے انٹریو میں کہا کہ ’’ زرداری کیخلاف کیس آئی ایس آئی کے کہنے میں آکر بنائے تھے‘‘ ۔ جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری کو حکومت ملی تو پھر نوازشریف اور شہباز شریف نے زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا مرتکب قرار دیا اور پیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریر شروع کردیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ میں جھوٹ بولا ؟۔ زرداری کی قیدکا ذمہ دار کون تھا؟، دوبارہ بھی فوج کے کہنے پر شور برپا کیا تھا یا یہ سب بکواس اور غلط بیانی ہے؟۔ اگر زرداری جرم ثابت ہونے سے پہلے جیل میں سزا کاٹے، دنیا بھر کی گالیاں، مغلظات اور دھمکیاں کھائے تو وہی سلوک پانامہ لیکس کے بعد اپنے لئے بھی برداشت کرلو۔ جب سوئس اکانٹ پر زرداری کو گالیاں دی جارہی تھیں تو لندن جائیداد اور پانامہ لیکس کی دولت سے نوازشریف اور شہباز شریف بے خبر تھے یا یہ ضمیر کی آواز تھی؟۔ اگر زرداری کی ہتک نہیں تو تمہاری عزت کیا بہت انوکھی ہے؟۔ یہ طے کرنا بھی عزت کے خلاف لگتا ہے کہ مریم نواز صفدر کی بیگم ہے یا نہیں رہی ؟،غریب کی عزت لٹ رہی ہے۔علماء گونگے ہیں ،فتویٰ دیا جاتاکہ قرآن میں طلاق شدہ کی شادی کرانے کا حکم ہے اور شادی شدہ کا تعلق چھپانا جائز نہیں۔
پاکستان کی تعمیر نو کیلئے بچوں کو مال ودولت سمیت بلالو، تاکہ ان کی خداداد صلاحیتوں سے قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ مجرم سے حقائق اگلوانے کیلئے تفتیشی حکام الگ الگ بیان لیتے ہیں مگر تمہارے بچے وکیلوں سے مشاورت کیساتھ میڈیا پر بھی بات کیلئے تیار نہیں۔ متضاد بیانات سے سچ یا جھوٹ کا پتہ چل چکاتھا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ خاتون نے اسحاق ڈار کیساتھ پریس کانفرنس میں کہہ دیاکہ ’’جدید دور میں احتساب کرنا مشکل کام نہیں رہا‘‘۔ وزیراعظم اخلاقی ، قانونی ، شرعی ، سیاسی ہر قسم کی ساکھ کھوچکے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ تمام تضادات کے باوجود عدلیہ کو غلاظت کا ایسا ڈھیر سمجھ رکھا ہے جہاں غلیظ سے غلیظ تر انسان کو بھی چھپنے کا مواقع مل سکے، عدلیہ کو کسی کا داغ دھونے کی بجائے ڈٹ کر ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ عدالت کو مجرم اپنی پناہ گاہ سمجھنے کی بجائے رعب ودبدبہ اور گرفت کا ذریعہ سمجھیں، چیخ کر مجرم پکاریں کہ’’ عدالت میں معاملہ لیجانے کی بجائے ہم پر رحم کیا جائے‘‘۔
شہبازشریف اتناکہہ دیتا کہ ’’میں نے ہمیشہ جنرل کیانی کی ٹانگوں میں سر دیا، پرویز مشرف سے مخاصمت کا بھی حامی نہ تھا، نواز شریف کی طرح میں نمک حرام نہیں کہ جس نے گود میں پالا ، اسکے منہ پر پاؤں رکھوں‘‘۔ تو بات بالکل ختم ہوجاتی۔ فوج کیخلاف صاف مؤقف تھا کہ ’’ہم تیرآزمائیں اور تم جگر آزماؤ‘‘ ،جب ہوا کا رخ بدل گیا تو پھر ’’تم تیر آزماؤ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔بھائیوں کا مسئلہ نہ ہوتا تو ن لیگ کئی گلوبٹ قربان کرچکی ہوتی، عاصمہ جہانگیر اور مولانا فضل الرحمن بتائیں کہ گلوبٹ اور پرویز رشید سے زیادہ شہبازشریف اور نوازشریف استعفیٰ کے مستحق نہ تھے؟۔

مذہبی تعلیمات کیلئے بہت بگاڑ کے اسباب کیا تھے؟

پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلام سے بڑھ کر انسانیت کیلئے کوئی قانون اور مذہب نہیں، البتہ مذہبی طبقے نے اسلام کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے کہ اگرافہام وتفہیم کا ماحول پیدا کیا جائے تو تمام مذہبی طبقات اپنی خود ساختہ منطقوں سے نکل کر اسلام کا فطری دین قبول کرسکتے ہیں۔ مغل اعظم اکبر بادشاہ نے وقت کے شیخ الاسلام اور درباری علماء کی مددسے اسلام کا حلیہ یوں بگاڑ اکہ ’’علماء نے فتویٰ دیاکہ اولی الامر کی حیثیت سے دین کے احکام کی تعبیر وتشریح آپ کا حق ہے، جو نظام دینِ اکبری میں آپ کی مرضی ہو، آپ کااختیارہے، مسلم امہ، ہندو، بدھ مت اور سارے مذاہب کیلئے قابلِ قبول اسلامی احکام کی تعبیر کااختیار آپکے پاس ہے، یہ ظل الٰہی کا اختیار ہے جو اللہ نے خود آپکو دیا ہے‘‘۔ آج مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن سودی نظام کو جواز کی سند دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں فتویٰ پیش ہو تو سودی نظام کو اسلام قرار دینے کی جرأت خود کو گنہگار کہنے والے ارکان بھی نہ کریں۔
اکبر کے دین الٰہی کیخلاف ہمارے شہر کانیگرم جنوبی وزیرستان کے پیر روشان نے پختون قبائل کو متحد کرنے کی تحریک چلائی اور اسکے اقتدار کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی۔ مغل بادشاہوں کی سفاکی مثالی تھی،شیخ احمدسرہندی المعروف مجدد الف ثانیؒ نے اکبر کے سامنے جھکنے اور سجدۂ تعظیمی سے انکار کیامگر مغلیہ دورِ اقتدار ابوالفضل فیضی اور ملادوپیازہ جیسے درباری علماء کی بدولت اسلام کے نام پر چلتا رہا۔ مغلیہ کے بہترین بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے جو فتاویٰ عالمگیریہ پانچ سو علماء کرام کی مدد سے مرتب کیا، جن میں شاہ ولی اللہؒ کے والد شاہ عبدالرحیمؒ بھی شامل تھے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ ’’ بادشاہ پر کوئی حد نافذ نہیں ہوسکتی ۔ قتل، چوری، زنا، ڈکیتی وغیرہ کے جرائم کرے تو بادشاہ سلامت ہے، اسلئے کہ بادشاہ خود حد کو نافذ کرتا ہے تو اس پر کوئی کیا حد نافذ کرسکتا ہے؟۔ بادشاہ سزا سے بالاتر ہے‘‘۔ اس سے بڑھ کر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب ’’تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ میں علماء کو مقام دیا ہے۔جس میں یہ تک لکھا کہ ’’ عوام علماء کی تقلیدکے پابند ہیں، عوام براہِ راست اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت نہیں کرسکتے ، آیت میں علماء کے آپس کا اختلاف مراد ہے۔ اگر علماء گمراہ کریں، تب بھی عوام پر اطاعت ضروری ہے، عوام پر ذمہ داری عائد نہیں ‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے کھلے عام قرآن کی آیت میں معنوی تحریف کا ارتکاب کیا اور جن احادیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے تووہ اپنے دلائل کا بھی کھلے عام مذاق ہیں۔ شیعہ عقیدۂ امامت کی وجہ سے اسلئے گمراہ ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امام سے اختلاف جائز نہیں تو حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث قرطاس میں اختلاف کی جرأت کیسے کی؟۔ مفتی تقی عثمانی نے شیعوں کے عقیدۂ امامت سے بڑھ کر علماء کرام کی اندھی تقلید کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی یہ تعریف کی ہے کہ ’’ اللہ کی آیات پر بھی اندھے اور بہرے ہوکر گر نہیں پڑتے‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی ایسی تقلید نہیں کی تھی جس کی تعلیم مفتی تقی عثمانی نے علماء ومفتیان کے حوالہ سے دی ہے، بنیادی معاملات قابلِ غور ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا ترجمہ کیا، علماء کو احادیث کی طرف متوجہ کیا اور انگریز کے مقابلہ میں مقامی حکمرانوں کو متوجہ کیا ۔انگریز نے قبضہ کیا ، 1857ء کی جنگِ آزادی ناکام ہوئی، سرسید احمد خان نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھ دی، انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کی کوشش کی، دارالعلوم دیوبند نے اسلامی تعلیمات کو تحفظ دینے کی مہم شروع کی۔ ہند میں بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مکاتب بن گئے۔ مولانا عبداللہ غزنوی کا تعلق افغانستان سے تھا، شیخ نذیر حسین دہلوی اہلحدیث کے شاگرد ،افغانستان سے بار بار جلاوطن ہوئے جواحراری رہنما مولانا داؤد غزنویؒ کے دادا تھے، میرے اجداد سیدامیرشاہؒ بن سید حسن ؒ سید اسماعیل ؒ بن سید ابراہیمؒ بن سید یوسف ؒ مذہبی گھرانہ تھا۔ سید یوسف ؒ کے دو فرزند سیدعبداللہؒ اور سید عبدالوہاب ؒ تھے، پیر روشان کے بعد کچھ برکی قبائل نے کانیگرم سے جالندھر سکونت اختیار کی، عبدالوہابؒ شاہ پور ہوشیار پور جالندھر میں مدفون ہیں ، انکی اولاد نے انکو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا فرزند لکھا ہے مگر سولویں عیسوی صدی میں فرزند کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ سید یوسف ؒ بن سید رضاشاہ ؒ بن سید محمد جمال شاہؒ ولد سیدنظام الدین شاہؒ ولد سیدمحمود حسن دیداری ؒ ولدسید محمد ابوبکر ذاکرؒ ولد سید شاہ محمد کبیرالاولیاءؒ (مدفن کانیگرم) بن سیدمحمد ہاشم ؒ بن عبداللہ.؛.؛.؛.؛.؛.؛.؛.؛.عبدالرزاق بن سید عبدالقادر جیلانیؒ بہت بڑاشجرہ ہے۔
پیرروشان کی اولاد سے ہمارے اجداد کی رشتہ داری رہی۔ بایزید انصاری پیر روشان سید نہ تھے ،انکی اولاد بھٹوزداری کی طرح سیدانصاری بن گئے۔ میری دادی بھی انکے خاندان سے تھیں، جب حضرت علیؓ کی باقی اولاد علوی ہیں اور ہم حضرت فاطمہؓ کی وجہ سے سید ہیں تو دوسروں کو بھی ماں کی وجہ سے سید بننے کا حق ہونا چاہیے۔ نبیﷺ کیلئے تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبین’’محمد(ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کے چچازاد علیؓ اور چچا عباسؓ کی اولاد خلافت کے منصب کی حقداری پر نہ لڑتے تو بہت اچھا ہوتا۔پیرورشان ایک انقلابی تھے اور ایک انقلابی کا خون رگوں میں گردش کرتا ہو توقابلِ فخر ہے۔ عمران کی والدہ جالندھر کی برکی قبیلے سے تھی جو پیرروشان کے بعد کانیگرم سے ہجرت کرکے آباد ہوئے۔ عمران خان اسلئے نیازی سے زیادہ ماں کو ترجیح دیتا ہے ، شہبازشریف اور آصف زرداری طعنہ کے طور پر نیازی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، حالانکہ لوہار اور زردار کی بھی نیازی سے زیادہ اہمیت نہیں ۔میرے دادا کے بھائی سیداحمد شاہ اور پرناناسیدسبحان شاہ کا قبائلی عمائدین میں افغان حکومت کیساتھ مذاکرات کا ذکر ہے،میرے ماموں سید محمودشاہ اور والدکے چچازاد سیدایوب 1914ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں زیرتعلیم تھے اور پیرسیدایوب شاہ عرف آغا جان افغانستان میں پہلے اخبار کے ایڈیٹر تھے۔
مدارس کا نصاب بہتوں نے بدلنے کی کوشش کی، مولانا ابوالکلام آزادؒ بھارت کے وزیرتعلیم تھے ، تب بھی انہوں نے علماء سے اس کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، مولانا انورشاہ کشمیری،ؒ مولانا سندھیؒ ، مولاناسید یوسف بنوریؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور بہت اکابر نصاب کی تبدیلی کے خواہاں رہے۔ وفاق المدارس نے سال بڑھادئیے۔ مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ ’’ امام مہدی کا ظہور ہونیوالا ہے، وہ حق وباطل کا امتیاز ہوگا ، ہم ترجیح کی اہلیت نہیں رکھتے‘‘۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے لکھا ’’شاہ اسماعیل شہیدؒ کے مرشد سیداحمد بریلوی ؒ اسلئے مدارس میں پڑھ نہ سکے کہ کتابوں کے حروف نظروں سے غائب ہوجاتے تھے‘‘۔ مولانا سید محمد میاںؒ نے بڑی خوبی ان کی یہ لکھ دی کہ ’’سیداحمد بریلویؒ کا تعلق تصوف سے تھا‘‘ اور جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا سید مودودیؒ نے ’’ تصوف سے تعلق کو اصل خرابی کی بنیاد قرار دیا تھا‘‘۔ مولانا سیداحمد بریلوی شہیدؒ پر بھی امام مہدی کا گمان کیا گیا، شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب منصب امامت کی اصل بنیاد یہی تھی۔
سنی اور شیعہ میں عقیدۂ امامت کے حوالہ سے بنیادی اختلاف یہ ہے کہ شیعہ امام کے تقرری کو من جانب اللہ سمجھتے ہیں اور سنی کے نزدیک امام کا مقرر کرنا مخلوق کا فرض ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے لکھا کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے مشاہدہ میں فرمایاکہ’’ شیعہ عقیدۂ امامت کی وجہ سے گمراہ ہیں‘‘۔ جس پر شاہ ولی اللہؒ نے غور کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ ’’ اس کی وجہ سے ختم نبوت کا انکار لازم آتاہے‘‘۔ مولانا حق نواز جھنگویؒ نے بھی اصل اختلاف عقیدۂ امامت قرار دیاتھا اورشاہ ولی اللہؒ کے فرزند شاہ عبدالعزیزؒ نے تحفہ اثنا عشریہ کتاب لکھی اور شاگردوں نے اہل تشیع کو کافر قرار دیا۔ مگرشاہ اسماعیل شہیدؒ نے بھی منصب امامت میں ’’اہل تشیع کے بنیادی عقیدۂ امامت کی اپنے رنگ میں شدومد سے وکالت کی ‘‘۔ مولانا یوسف بنوریؒ نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی ایک کتاب ’’بدعت کی حقیقت‘‘ کا مقدمہ لکھا ، جس میں تقلید کو بدعت قرار دیا گیا ہے اور اس میں منصب امامت کی بھی بڑی تائید کردی۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے والد مولانا سیدزکریا بنوریؒ نے مولانااحمدرضاخانؒ کو ہندوستان میں حنفی مذہب اور تقلید کو بچانے کیلئے خراج تحسین پیش کیا ۔ بنوری ٹاؤن کے مفتی ولی حسن ٹونکیؒ مفتی اعظم پاکستان کی طرف منسوب کرکے فتویٰ لکھاگیا جس میں شیعہ کو صحابہؓ سے انکار، قرآن کی تحریف اور عقیدۂ امامت کی وجہ سے ختم بنوت کا منکر قرار دیکر قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا گیا۔ مہدی کے بارے میں عوام ہی نہیں علماء دیوبند کے اکابر کا عقیدہ بذاتِ خود قادیانیت سے بدتر تھا اسلئے کہ ایسی شخصیت کا اعتقاد جو اپنی روحانی قوت سے پوری دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نبوت کے دعوے سے بھی بڑھ کر گمراہی ہے، انبیاء کرامؑ کیلئے بھی ایسا اعتقاد جائز نہیں ۔مولانا سندھیؒ ، سید مودودیؒ اورعلامہ اقبالؒ نے اس غلط اعتقاد کی زبردست الفاظ میں اصلاح کی کوشش کی تھی۔
شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سیداحمد بریلویؒ کی خراسان سے مہدی کی پیش گوئی میں ناکامی کے کافی عرصہ بعد بعض نے امیرالمؤمنین ملا عمرؒ کو بھی مہدی قراردیا۔ داعش کہتی ہے کہ ملاعمر اعضاء کی سلامتی اور قریشی نہ ہونے کیوجہ سے خلیفہ نہیں بن سکتے تھے،اسلئے امیرالمؤمنین ابوبکر بغدادی کو بنادیا۔ ہم نے بھی پاکستان سے اسلام کی نشاۃثانیہ اور خلافت کے قیام کا آغاز کرنے کی بنیاد رکھ دی، تمام مکاتبِ فکر کے سینکڑوں علماء ومشائخ نے تائید بھی کی، میرے استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے ہماری رہنمائی کے تأثرات میں امام مالکؒ کا قول لکھا کہ ’’ اس امت کی اصلاح نہ ہوگی مگرجس نہج پر اس امت کی اصلاح پہلے کی گئی ‘‘۔ یہ بات بہت بڑے گر کی ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کوراجہ داہر اور ن لیگ کی حکومت کو راجہ رنجیت سنگھ سے بہت بدتر سمجھنے والے القاعدہ خود کو محمد بن قاسمؒ اور طالبان و داعش خود کو سیداحمد بریلویؒ کی تحریک سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا تو پاکستان میں فوج کیخلاف نفرت کا طوفان اٹھاتھا۔ دہشت گردی مضبوط ہوئی تو فوج سے مزید نفرت بڑھ گئی۔ جنرل راحیل کے جانے کا وقت قریب آیا تو حبیب جالب کی طرح اقبال کا شاہین نہیں بلکہ لال کرتی کا کوّا صحافی ہارون الرشید کہہ رہاہے کہ جنرل راحیل کے بارے میں فوج کے اندر کسی کا وہم وگمان بھی نہ تھا کہ یہ آرمی چیف بنے گا، جس کا مطلب چن چن کر اشفاق کیانی کی طرح ہی بنائے جاتے ہیں جو قوم کو کرپشن، دہشت گردی اور منافقت میں ڈبوکر ماردیں۔فوج کا ماضی تو ن لیگ کو بھی اچھا نہیں لگتا جس کی پیداوار ہیں ۔ حقائق کی تہہ تک اسوقت تک پہنچنے میں کامیابی نہیں مل سکتی جب تک ساری قوم اپنی غلطیوں کا ادراک نہ کرلے۔ فوج کا کام عوام کی اصلاح نہیں ہوتی، عوام کی اصلاح کیلئے سیاسی رہنمااور علماء ومشائخ کا کردار اہم ہوتا ہے۔ سیاسی رہنما ٹاؤٹ اور کچھ ٹاؤٹ بننے کیلئے اپنی دم سر پر دستار سجائے رکھتے ہیں۔ مذہبی نصاب درست ہوجائیگا تو فرقہ بندی سے ہوا نکل جائیگی۔ نیک لوگوں کا کردار ضائع ہونے کے بجائے معاشرے میں اپنا رنگ لائیگا۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔ آپس میں لڑنے بھڑنے کا ماحول نہ رہے گا، دنیا میں ہمارے پاکستان کی فضاء اپنے ہمسایہ اور دنیا بھر کیلئے مثالی ہوگی، کشمیر کی آزادی یقینی بن جائے گی اور ہندوستان کے مسلمان عزت اور وقار کی زندگی گزاریں گے ۔ شر کی تمام قوتیں سر نگوں اور حق کے غلبے سے اسلامی خلافت کی راہ ہموارہوگی۔
حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر جیسے لوگ پاکستان کا اثاثہ ہیں، کرایہ کے سپاہی اگر ملک بچاسکتے تو بنگلہ دیش میں ہماری فوج ہتھیار کیوں پھینک دیتی؟۔یہ لوگ ریاست کے جتنے وفادار ہیں اتنے اسلام کے بھی نہیں۔ اگر ہمارے فرقوں اور ہماری ریاست کا قبلہ ٹھیک ہوجائے تو کمیونزم کا نظریہ رکھنے والے اسلام کیساتھ کھڑے ہونگے۔ مزارعین سے جاگیردار احادیث اور فقہی اماموں کے مسلک کے مطابق اپنا حصہ وصول کرنا سود سمجھیں تو بندہ مزدور کے اوقات بدل سکتے ہیں، لال خان واحد کمیونسٹ رہنما ہیں جو عملی کوشش کررہے ہیں مگر انکے منشور میں بھی تضاد ہے، ایک طرف مزارع کو مالک بنانے کی بات ہے تو دوسری طرف زمین کی اجتماعی ملکیت کی شق ہے۔ جب اپنے ملک کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان اور عزیز ہم وطنو والے فوجی جرنیل شہروں کے گلی نالیاں صاف کرینگے تو پھر قوم مان جائے گی کہ انکا کوئی ذاتی ایجنڈہ نہیں بلکہ قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ بڑے بڑوں کے پاس پیسہ نہ ہو توکونسلر کا انتخاب جیتنا بھی ان کیلئے مشکل ہے۔

اداریہ نوشتہ دیوار

دہشتگردی، ڈان کی خبر اور سیاسی واقعات و حالات
اوبامہ نے 10سال تک دہشت گردی جاری رہنے کا بیان اسوقت دیا، جب جنرل راحیل نے 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا معاملہ اور ڈان کی خبر پر حکومت اور کورکمانڈرز کانفرنس کے درمیان تنازع ہے ۔ کرپشن کے الزام پر شہباز شریف نے عمران خان کیخلاف تقریراور 26ارب ہرجانہ کاعلان کردیا۔ میڈیااور لواحقین نے پولیس سینٹر میں دہشت گردی کانشانہ بننے والوں پر سوال اٹھایا تھا۔ محمود اچکزئی خاموش ہیں، مولانا فضل الرحمن کو انڈیا کی بارڈر پر خلاف ورزی نظر آئی۔ واقعہ دنیا میں کہیں بھی ہوسکتا ہے مگر سازش کا سوال پولیس وحکومت پر اُٹھ رہا ہے جسمیں ن لیگ اور اچکزئی شامل ہیں تو پھر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی؟۔گرتی ہوئی لاشوں کا بھی کوئی ہوش ہے یا نہیں؟، اگر شہبازشریف اپنے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ڈان نیوز کی خبر پریہ سنجیدگی اورکھل کروضاحت کرنے میں کیارکاوٹ تھی؟۔عدلیہ کے ذریعے الزامات ثابت کرنے ہیں توصد رزرداری کو 11سال جیل میں رکھنے کے باوجود کیوں گالیاں دیں؟۔ سویئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس دونوں قومی دولت ہیں۔ شرافت اور عدالت کا تقاضہ ہے کہ قومی قیادت کو قومی دولت لانے کا پابند بنایاجائے۔مریم نواز نے ایک کھرب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا کہ ڈان کی خبر میں ملوث ہونے کا الزام لگایا مگر جب پوری فوج کی مٹی پلید کرنے کی خبر بناکر شائع کی گئی تو حکومت اپنی فوج کیلئے ازخود کھڑی نہ ہوئی، کیوں؟۔
اگر جھوٹی خبر بدنیتی سے فیڈ کی گئی توپاک فوج کی عزت برائے فروخت نہ ہوگی جس کی قیمت عدالتوں کے ذریعہ شہباز شریف سے وصول کی جائے بلکہ اس پر قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہیے۔ اے آر وای پر عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ ’’یہ حکومت نوازشریف کو جنرل کیانی کے وقت میں فوج نے عطاء کی ‘‘۔ دھاندلی کا الزام سب جماعتوں نے لگایا۔جیوپر حامد میر نے ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ پشاور کے حلقہ سے عمران خان کیلئے بھی دھاندلی کے کھلے ثبوت پیش کئے تھے۔ موسمی پرندے پی ٹی آئی کے ایاز صادق وغیرہ اور ق لیگ والے ن لیگ کی طرف پرواز کررہے تھے تو سمجھدار لوگ تبصرہ کررہے تھے کہ ن لیگ کو حکومت دینے کا فیصلہ ہواہے، ہارون الرشید نے کہا کہ ’’عمران خان بروقت امریکہ اور برطانیہ کو اعتماد میں لیتا۔۔۔ ‘‘۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایماء پر اسٹیبلشمنٹ سلیکشن کرتی ہے، جمہوریت کاخوامخواہ میں ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
ہمارے حکمران جمہوری ہوں یا فوجی امریکی اور برطانوی ایجنڈے کو لیکر چلتے رہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ جنرل کیانی کے دور میں پاکستان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سب سے زیادہ دہشت گردوں کے حامی رہے ، الیکشن میں انکے علاوہ سب کیلئے مشکلات تھیں۔ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں اور پھر پیپلزپارٹی کے پیچھے نوازشریف اور عمران خان ہاتھ دھوکر پڑگئے۔جنرل راحیل نے پچھلی باریوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں چےئرمین سینٹ رضاربانی اور امسال اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ساتھ بٹھالیا۔جس سے حکومت کے وزراء کے چہرے اترے تھے ۔ ہارون الرشید کوکہنا پڑا کہ راحیل آرمی چیف کیلئے بالکل نااہل تھے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو شیخ رشید، عمران خان اور پارٹی کے کارکن اور رہنماؤں سے کھلے عام معافی مانگنی چاہیے کہ ایک یو ٹرن مشرق و مغرب یا شمال اور جنوب کا ہوتا ہے، یہ تو بلندی سے پرواز کا رخ موڑ کر اپنی شخصیت ، جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پاتال میں گھسیڑ دینا تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ ’’جہاں علامہ طاہرالقادری جائے،میں بھی وہاں جاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری نے عوام سے رائے مانگی ،عوام اسلام آباد کادھرنا دیکھ چکے تھے، اسلئے شریف برادران پر زیادہ دباؤ ڈالنا مناسب سمجھا، رائے آئی کہ اسلام آباد نہیں رائیونڈ جانا ہے۔ شیخ الاسلام نے رائیونڈ کا اعلان دبنگ انداز میں کیا۔یعنی اب علامہ طاہرالقادری کیلئے واپسی کی گنجائش نہ رہی۔ شیخ رشید، جمعیت علماء پاکستان کے ڈاکٹر زبیر الخیری و دیگر بھی تھے۔اتنی قلابازی کھانے پر رقم لینے تک کے الزام لگ گئے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذوقِ تقریر مثالی ہے، کوئی اہم اعلان کرنے سے پہلے اپنی لاش پر مرثیہ پڑھنے کی حد تک جاتے ہیں،جلسۂ گاہ میں سامعین اور ٹی وی پر دیکھنے والوں کا علان کرتے کرتے خون خشک کردیتے ہیں، دماغ کی دہی بنادیتے ہیں، عمران خان نے کوفت اٹھاکر اپنے فسٹ کزن کے اعلان کا انتظار کیا جب اس نے اعلان کیا تو عمران خان نے بھی رائیونڈ کا اعلان کردیا۔ پھر علامہ طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کرکے اپنے بیٹوں کو ساتھ میں بٹھاکرقائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ ’’ رائیونڈ جانا تو دور کی بات ہے اس راستہ پر جانا بھی شریعت میں جائز نہیں اور میں اس کو شریعت اور جمہوریت کیخلاف سمجھتا ہوں‘‘۔ اتنا بڑا یوٹرن لینے سے علامہ کی شخصیت کے سارے بھیدکھل گئے۔ علامہ نے بڑی متضاد قسم کی قلابازی کھائی۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’مشاورت کرلو، جب عزم کرلو تو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘۔ علامہ نے مشاورت اور اللہ پر توکل کا اعلان کیا مگر پھر جانے کو ناجائز قرار دیا، جیسے شیخ الاسلام نہ ہوں بلکہ نئے نئے مسلمان بن گئے ہوں۔ پھر پینترے بدلتا رہا کہ نیاماڈل ٹاؤں کا واقعہ کروایا جارہا تھا، اپنے بندوں کو خود مار کر ہم پر مقدمات بنانے تھے؟۔
جب اس طرف کا رخ کرنے کو بھی اسلام اور جمہوریت کے منافی قرار دیاتو یہ اپنے کارکنوں کو ہی نہیں ، عوام اور شیخ رشید و دیگر کو بھی روکنے کے مترادف تھا، پیپلز پارٹی والے تو اخلاقیات کے منافی قرار دیتے تھے ، اس نے تو عمران خان اور شیخ رشید کے عزائم پر بھی سوالیہ نشان بنادیا،عوام کو جمہوریت اور اسلام کا فتویٰ بتادیا۔ عمران خان نے اسلئے سوچا ہوگا کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ شیخ رشید تو ایک بار نہیں بار بار منجھا ہوا ہے۔ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، پرویز مشرف اور ہرقسم کے لوگوں کا دفاع کرنے میں حالات کے مطابق مگن رہتاہے، دھلے دھلائے ہانڈی کی طرح وسیع ظرف اور بڑا تجربہ ہے۔ اس کی کوشش پہلے عمران خان کو نرمی دکھانے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے خود یہ بھی کہا تھا کہ میں تو شیخ رشید جیسے گندے آدمی کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ پھر طاہرالقادری نے یورپی یونین سے مدد لینے کا بہانہ بنایا اور شاہ دولہ کے چوہے کے دماغ میں یہ بات نہ رہی کہ میں نے راحیل شریف سے بھیک نہ مانگنے کا فیصلہ کیا تھا ، یورپ کوئی خدا تو نہیں ۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے سعید غنی کو کہنے کاموقع دیا :’’ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے‘‘۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جنرل راحیل جارہا تھا مگر کمال کمینگی سے شریف برادران نے داؤ پیچ کھیل کر اپنے دامِ فریب کا خود ہی شکار ہوگئے۔ اگر فوج کا ارادہ خراب ہوتا تو طاہرالقادری یورپی یونین کیلئے فرار ہونے کے بجائے راحیل شریف پر اعتماد کا اظہار کرتا۔ اسکا اتنا بڑا یوٹرن لیناکہ اگر جہاز ہوتا تو پرخچے اڑ جاتے مگر علامہ بڑے مستقل مزاج یا ڈھیٹ ہیں کہ پرواہی نہیں کرتے۔ عمران خان نے ٹالنے کی بڑی کوشش کی مگر بالاخر30اگست کو جلسہ کیا۔نوازشریف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے ذریعہ کھلے عام دھمکیاں دیکر واپس لیں۔ علامہ طاہر القادری کو ڈرانے کیلئے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کرایاتھا، 14شہداء کی لاشوں کے باوجود طاہرالقادری کو خطرہ تھایا فوج کو ملوث کرنا چاہتے تھے کہ امارات ائرلائن یرغمال بن گئی؟۔ عمران خان کا دل اور دماغ ایک ہے، جیسے پچھلے دھرنے میں شادی کا اعلان کیا، اس طرح 30اگست کے جلسے میں پھر تاریخ دیدی۔ یہ تو نوازشریف اور شہباشریف کی غلطی سے 6اکتوبرمیں ڈان کی خبر سے ماحول بدل گیا۔ورنہ اسلام آباد کا اعلان دوسری جماعتوں سے شرکت کی توقع پر کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کیلئے یہ نوازشریف کے گھر پر مظاہرہ نہ تھا۔ بلاول بھٹو نے 27دسمبر کا اعلان کیا لیکن جب ماحول کی تبدیلی دیکھ لی تو کہا کہ ’’7نومبر کو احتجاج کرنے کیلئے اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں‘‘۔ سب سیاسی جماعتوں میں قلابازی کھانے میں عمران خان اور طاہرالقادری کو کوئی دیر نہیں لگتی ہے۔

مفتی تقی عثمانی کے نام خط

الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین الصطفیٰ و بعد
احقر کو علم و فضل کے اعتبار سے جناب سے کوئی نسبت نہیں ہے، علم و فضل سے ہے ہی نہیں تو نسبت کیا ہوگی؟ البتہ اللہ نے ایمان نصیب کیا ہے، دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ یہ زندگی ایمان والی زندگی اور کلمہ والی موت پر ختم فرمائے۔
۱۔ اسلامی بینکاری کے حوالے سے تشویش و اضطراب عام ہے، علماء ، عوام، بینکنگ سے متعلق افراد، تاجر و غیرہ سب موجودہ اسلامی بینکاری کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
۲۔ جتنے معتبر اور معروف دار الافتاء ہیں سب میں اس سلسلے کے استفتاء ہوتے ہیں اور جواز و عدم جواز سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں۔
۳۔ پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی یہ اضطراب موجود ہے، وہ بھی سوالات کرتے ہیں۔
۴۔ اس صورت حال سے دوسروں کی نسبت جناب کو زیادہ سابقہ رہتا ہوگا، کیونکہ آپ ہی پاکستان میں اس کے موجد ہیں۔
۵۔ علم و ضل کے اعتبار سے جو آپ کا مقام ہے وہ محتاج بیان نہیں، لیکن عصمت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے، دوسرا کوئی معصوم نہیں، اس کا امکان بہر حال موجود ہے اسلامی بینک کا نظام جاری کرنے میں آپ سے غلطی ہوئی ہے۔
نمبر۱، نمبر۲، نمبر۳ پر جو باتیں کہی گئی ہیں، اس غلطی کے ارتکاب کیلئے واضح دلیل ہیں، اضطراب غلطی پر ہی ہوتا ہے اور وہ بھی ایسا اضطراب جس نے تمام طبقات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، صحیح بات پر اضطراب نہیں ہوتا اور کوئی معاند مضطرب ہوتا ہے تو اس کی وجہ عناد ہوتی ہے، جبکہ موجودہ صورت میں امت کے تمام طبقات اس اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب میں مبتلاء ہیں، یہاں عناد کا سرے سے کوئی احتمال موجود نہیں ہے، ان کا اضطراب اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
۶۔ ’’ربا‘‘ کا معاملہ انتہائی نازک و سنگین معاملہ ہے، اس سلسلے کی وعیدوں سے آپ ہرگز بے خبر نہیں ہیں، چنانچہ احتیاط واجب و لازم ہے۔
۷۔ ’’ربا‘‘ میں ’’شبھۃ الرباا‘‘ بھی حرام ہے، اگر حقیقت ’’ربا‘‘ کو قبول نہیں کیا جاسکتا تو ’’شبھۃ الربا‘‘سے تو انکار ممکن نہیں۔
۸۔ ارباب فتویٰ کے بیانات اور دوسرے طبقات جو بینکنگ کے امور سے باخبر ہیں، ان کے بیانات مسلسل اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جس میں وہ اسلامی بینکاری کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں، اپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں، یقیناًیہ تمام بیانات آپ حضرات کے علم میں بھی آتے ہوں گے، ضروری تھا کہ آپ ان حضرات کو مطمئن کرتے اور ان کی طرح اپنے جوابات شائع کرتے اور نہیں تو ارباب فتویٰ جو آپ ہی کے حلقے کے حضرات ہیں ان سے رابطہ کرکے ان کی تسلی کا انتظام کیا جاتا جو نہیں کیا گیا، اگر کبھی کوئی مشاورت ہوئی ہے تو اس کے نتیجے میں اختلاف ختم نہیں ہوا، اعتراضات بدستور موجود ہیں اور تشویش و اضطراب برقرار ہے۔
۹۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بینکاری کے حوالے سے آپ اپنے آپ کو ’’اعلم الناس‘‘ سمجھتے ہیں، اور دوسروں کے معلومات کو ناقص فرماتے ہیں، مجھے تو آپ کی طرف سے اس قول کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی، اگر آپ کا یہ دعویٰ نہیں تو پھر وہی سوال ہوگا کہ آپ نے اشکال کرنے والوں کو مطمئن کیوں نہیں کیا؟ تاکہ اضطراب رفع ہوتا اور اگر آپ واقعی اپنے آپ کو عالم اور دوسروں کو ’’ناقص العلم‘‘ سمجھتے ہیں ’’فھو کما تراہ‘‘ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہوگی، سورۂ جاثیہ میں: افرایت من اتخذ الٰھہ ھواہ و اضلہ اللہ علیٰ علم و ختم علیٰ سمعہٖ و قلبہٖ و جعل علیٰ بصرہٖ غشٰوہ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرونO ’’کیا تو نے دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اس کو اللہ نے گمراہ کردیا علم کے باوجود۔ اور اسکے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو کون ہے اللہ کے بعد اس کو ہدایت دینے والا، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اضطراب و تشویش کو دور کرنے کیلئے علماء اور اہل فتویٰ سے وسیع مشاورت کے بعد ایک فتویٰ اسلامی بینکاری کے ’’عدم جواز‘‘ پر جاری کیا جائے اور اس کا پورے ملک میں تشہیر کا اہتمام کیا جائے، ہم ہرگز تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، ہم تو دل و جان سے آپ کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں، امت کو ’’ربا‘‘ کی لعنت سے بچانے کیلئے اپنا شرعی فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، اس میں ذرا بھی تردد نہیں کہ فرض کی ذمہ داری ہم پر لازم اور ضروری ہے اور اب تک جو کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اس پر ہم استغفار کرتے ہیں، آپ کیلئے بھی دنیا و آخرت کی فلاح کا واضح تقاضہ ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں اور غلط مفادات کیلئے اس پر مشورہ دینے والوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ’’ان فی ذٰلک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القیٰ السمع و ھو شھید‘‘۔

تبصرہ

حضرت مولانا سلیم اللہ خان وفاق المدارس کے صدر اور مولانا مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے اُستاذ ہیں۔ مفتی زر ولی خان نے کوشش کرکے ان کو مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سُود کے جواز کیلئے فتوؤں کیخلاف پاکستان بھر کے علماء کو منظم کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان بھر سے بڑا اجلاس بلایا گیا جس میں بڑے بڑے علماء نے شرکت کی اور پھر مولانا سلیم اللہ خان نے مفتی تقی عثمانی کو خط لکھ کر سُود کے جواز کے اقدام سے روکنے کی کوشش کی۔ مفتی تقی عثمانی اور ان کے خاندان کے حوالے سے اس معاملے میں ناجائز ملوث ہونے کے خلاف مفتی زر ولی خان نے اچھے انداز میں لکھا۔ اس سے قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی عبد السلام چاڈگامی ، مولانا حبیب اللہ شیخ وغیرہ نے بھی بڑی کاوشیں کیں۔ ایک مرتبہ حاجی عثمان کے ہاں مولانا عبد اللہ ؒ لال مسجد اسلام آباد ، علامہ خالد محمود پی ایچ ڈی لندن اور دیگر علماء تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ اکابر علماء مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ ، مفتی احمد الرحمنؒ اور دیگر حضرات حاجی عثمان صاحب کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر مولانا زر ولی خان کہتے ہیں کہ حاجی عثمان اپنے مجالس میں مولانا فقیر محمد صاحب کو بد دعائیں دیتے ہیں۔ مجھے لگا کہ مولانا زر ولی نے بہتان لگایا ہے اور اس جوش و جذبے سے ان کی شان میں کچھ گستاخی بھی کر ڈالی۔ پھر مولانا مسعود اظہر نے بتایا کہ مولانا زر ولی خان نے مولانا یوسف لدھیانوی کے ساتھ بھی برا سلوک کیا ہے یہ آپ نے اچھا کارنامہ انجام دیا۔ جب حاجی عثمان صاحب پر دوست علماء نے الائنس موٹرز کی خاطر فتوے لگائے تو مفتی زر ولی خان کا پتہ چلا کہ وہ علماء کی مخالفت کررہے ہیں جس پر میں نے وہاں حاضری دی اور انہوں نے پہچان کر واپس جانے کا حکم فرمایا۔ میں نے سوچا اچھا ہوا حساب برابر ہوگیا۔ حاجی عثمان ؒ نے فرمایا تھا کہ میرے مریدوں میں سے دنیا دار کھدڑے عنقریب خانقاہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ مفتی زرولی خان مرید ہوتے تو ایسے مشکل وقت میں مردوں کا کردار ادا کرتے ۔کھدڑا صفت قسم کے علماء مفتیان نے بالکل بے ضمیری کا ثبوت دیتے ہوئے امتحان کے وقت میں حاجی عثمانؒ کو چھوڑا تھا۔ عتیق الرحمن گیلانی

علماء کا کردار: ایک جائزہ

مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی ایک کتاب’’ اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم‘‘ ،دوسری ’’عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ ہے۔ اختلافِ امت میں جماعتِ اسلامی کے بانی سید مودویؒ کا لکھا ہے کہ ’’ ان کی تحریر کو سب سے بڑی خوبی سمجھا جاتا ہے، میرے نزدیک انکی سب سے بڑی خامی ان کی قلم کی کاٹ ہے، جب کفروالحاد کیخلاف لکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا شیخ الحدیث گفتگو کررہاہے مگر جب وہی قلم اہل حق کیخلاف اٹھتا ہے تو لگتاہے کہ غلام احمد پرویز اور غلام احمد قادیانی کا قلم اس نے چھین لیا ہے‘‘ مولانا لدھیانویؒ نے بڑی شائستگی سے مولانامودودیؒ کو انبیاء کرامؑ اور امہات المؤمنینؓ کا گستاخ قرار دیا۔جماعتِ اسلامی نے بڑی شائستگی سے یہ کیا کہ ’’اپنی مسجد الفلاح نصیر آباد کا امام وخطیب مولانا لدھیانویؒ کو بنادیاتھا‘‘۔ رمضان میں مولانالدھیانویؒ نمازِ فجر کے بعد درس دیتے، محراب میں مولانا لدھیانویؒ خاموش تشریف فرماتھے ،پروفیسر غفور احمد ؒ وہاں کھڑے ہوکر بیان کررہے تھے۔ تو سوچا کہ بڑے بڑوں کی بات سمجھتے ہیں، ہم چھوٹوں کی عقیدت میں نجات ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ سے پہلے دار العلوم اسلامیہ واٹر پمپ میں عارضی طور سے رہاتھا، مولانا یوسف لدھیانویؒ نے تقریر کے دوران یہ فقہی مسئلہ بتادیا کہ ’’ قرآن کے نسخے پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے سے کفارہ واجب نہیں ،اسلئے کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں بلکہ اس کا نقش ہے، زبانی اللہ کی کتاب کی قسم کھانے پرکفارہ اد ا کرنا ضروری ہوجاتاہے‘‘۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ علماء اور جاہلوں میں یہ فرق ہے کہ جاہل زبانی قرآن کی قسم کھالیتے ہیں مگر کتاب پر ہاتھ رکھ قسم کھانے سے بہت ڈرتے ہیں، حالانکہ علم کی دنیا میں معاملہ بالکل برعکس ہے‘‘۔ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ ملا اور مولانا بدیع الزمانؒ نے علم النحو کی کتاب میں پڑھایا کہ ’’ لفظ وہ ہے جو زباں سے نکلے، عربی میں کھجور کھانے کے بعد گٹھلی پھینکنے کیلئے لفظت (میں نے پھینکا) استعمال ہوتاہے۔ جو مولانا لدھیانویؒ سے سنا ، یہ گویا تصدیق تھی۔ پھر علم الصرف کے صیغوں میں مولانا عبدالسمیع ؒ سے سرِ راہ بحث کا سلسلہ لمبا ہوا، تو انہوں نے قرآن منگوایااور پوچھا کہ ’’ یہ اللہ کی کتاب ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ نہیں تو مجھ پر کفر کا فتویٰ تھوپ دیا، میں عرض کیا کہ یہ فتویٰ تو مولانا یوسف لدھیانویؒ پر بھی لگتاہے، ان کا حوالہ دیا تو مجھ پر بہت زیادہ ناراضگی کا اظہار کیا کہ ’’ تم لوگ کتابیں پڑھ کر آتے ہو، مقصد پڑھنا نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہوتاہے‘‘۔ ایک طالب علم نے مجھے بازوسے پکڑا ،اور مسجد کے کونے میں لیجاکر کہا کہ ’’صوفی صاحب اپنا ذکر کرو‘‘۔
چوتھے سال میں ’’نورالانوار‘‘ میں قرآن کی تعریف پڑھ لی کہ ’’ کتاب میں موجود لکھائی الفاظ ہوتے ہیں اور نہ معنیٰ بلکہ یہ محض نقوش ہوتے ہیں‘‘ تو کوئی تعجب نہ ہوا،اسلئے کہ پہلے سے یہی معلوم تھا۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’فقہی مقالات‘‘ میں دیکھا کہ ’’ علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘ تو پاؤں سے زمین نکل گئی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن نے فتویٰ میں بالکل ناجائز اور ایمان کے منافی قرار دیا۔ دونوں فتوے ہمارے اخبار کی زینت بن گئے تو بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگوں نے طوفان کھڑا کردیا، جب ہم نے بتایا کہ فتاویٰ شامیہ میں صاحبِ ھدایہ کی کتاب تجنیس کا حوالہ دیکر لکھا گیا ہے ۔ مولانا احمد رضابریلویؒ نے بھی اپنے فتاویٰ میں دفاع کیا ہے تو بولتی بند ہوگی، مفتی تقی عثمانی نے روزنامہ اسلام میں مضمون لکھ کر اعلان کیا کہ ’’میں یہ تصور کرسکتا، اپنی کتابوں فقہی مقالات اور تکملۃ فتح الملہم سے یہ عبارات خارج کرتا ہوں‘‘۔مفتی تقی عثمانی نے تو صاحبِ ہدایہ کے مؤقف کاجانے بوجھے بغیر حوالہ دیا اور ان کو دباؤ کی وجہ سے نکالا بھی مگر سوال پیدا ہوتا کہ ’’صاحبِ ہدایہ نے کیوں لکھا اور فتایٰ شامیہ نے کیوں نقل کیا، وہاں سے کون نکالے گا؟۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ عوام کے پریشر سے جس میں ایم کیوایم کے ڈاکٹر فاروق ستار اور کارکنوں کے بیانات بھی شامل تھے، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنے ہتھیار ڈال دئیے، اگر مفتی تقی عثمانی میڈیا پر صرف کہہ دے کہ مجھ پر ناجائز دباؤ ڈالا گیا تو بھی ہم معافی مانگ لیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’’جب اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کی کتابت اللہ کا کلام نہیں بلکہ نقش ہے تو سورۂ فاتحہ بھی کتابت کی صورت میں اللہ کا کلام ہے ہی نہیں پھر صاحبِ ہدایہ اور فتاویٰ شامیہ میں پیشاب سے لکھنے پر حرج کیوں ہوگا؟‘‘۔ جب مفتی تقی عثمانی نے اس حقیقت کو سمجھے بغیر آگے بڑھنے اور ریورس گھیر لگانے میں کردار ادا کیا تو دیگرعلماء کاپھر کیا حال ہے؟۔
مولانا یوسف لدھیانوی ؒ کی کتاب عصر حاضر میں اسلام کے حوالہ سے بتدریج مختلف پیرائے میں تنزلی کا زبردست عکس اوراس دور کی تمام صورتحال کا ذکرہے۔ علماء، مفتیان، مساجد کے ائمہ، مقتدیوں اور مذہبی طبقات کی بدترین حالت کے علاوہ سیاسی جماعتوں، برسراقتدار ٹولوں اور عام لوگوں کی زبردست عکاسی کی گئی ہے، ظلم وجور سے بھری دنیا میں ان لوگوں کی فضیلت کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے دین کو سمجھ لیا، پھر اسکی خاطر ہاتھ، زبان اور دل سے جہاد کیا، دوسرا طبقہ وہ ہے جہنوں نے دین کو سمجھ لیا اور پھر زبان سے اس کی تصدیق بھی کرلی، تیسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے دین کو سمجھ لیا ، اچھوں سے دل میں محبت رکھی اور بروں سے نفرت رکھی مگر ان میں اظہار کی جرأت نہ تھی۔اسکے باوجود یہ طبقہ بھی نجات پاگیا۔ یہ حدیث موجودہ دور پر بالکل صادق آتی ہے۔ جب حاجی عثمانؒ سے اپنے خلفاء نے بغاوت کی، اپنے دوست علماء نے فتوے لگائے تو مولانایوسف لدھیانویؒ ان ہی لوگوں میں تھے جو دل میں ہم سے محبت اور مخالفین سے نفرت رکھتے تھے مگر اظہار کی جرأت نہ کرسکتے تھے، حاجی عثمانؒ کی قبر پر اپنے دامادوں کو لیکر بھی جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ روزنامہ جنگ میں بھی ان کی طرف منسوب کرکے لکھا گیا کہ ’’ حضرت عیسیٰؑ کے چاچے نہیں تھے البتہ ان کی پھوپھیاں تھیں‘‘ جس پر عوام کی طرف سے شور مچ گیا، مولانا لدھیانویؒ نے صرف یہ وضاحت کردی کہ ’’یہ جواب میں نے نہیں لکھا تھا‘‘۔
ایک دن روزنامہ جنگ کی شہہ سرخی تھی کہ وزیرمذہبی امور مولاناحامد سعیدکاظمی نے کرپشن کا اعتراف کرلیا، اسی دن شام کو مولانا سعید کاظمی نے کہا کہ ’’میں حلف اٹھاکر کہتا ہوں کہ میں نے کرپشن نہیں کی‘‘۔ اگر میڈیا جھوٹ بولے اور ن لیگ کے متضاد بیانات کو بھی اعتراف نہ قرار دے تو عام لوگ اندھیر نگری سے کیسے نکل سکیں گے؟۔ مدارس کے علماء ومفتیان وقت ضائع کئے بغیر نصاب کو درست کرلیں ورنہ وہ طوفان کھڑا ہوگا جو پھر ریاست سے بھی سنبھل نہ سکے گا۔ بڑی بڑی ریاستوں کا تیا پانچہ ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی حفاظت ایک عظیم مقصد کی خاطر کی ہے۔

JUI-BanoriTown-MolanaZarwali-MolanaFazlurRehman
مفتی محمودؒ نے بینک کی زکوٰۃ کو سود قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن میں دین کی حفاظت تھی، مولانایوسف لدھیانویؒ نے عصر حاضر میں حدیث نقل کی ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علماء دین کے محافظ اور ذمہ دار ہیں جبتک یہ اہل اقتدار سے مل نہ جائیں اور جبتک دنیا میں گھس نہ پڑیں۔جب اہل اقتدار سے مل گئے اور دنیا میں خلط ملط ہوگئے تو انہوں نے دین سے خیانت کی‘‘۔ مولانافضل الرحمن نے دین کے بجائے اب وزیراعظم نوازشریف کی وکالت شروع کردی ، جبکہ مفتی تقی عثمانی وغیرہ شروع سے سرکاری ٹانگے رہے ، اب تو اتنی ترقی کرلی ہے کہ عالمی سطح پر سودی نظام کو اسلامی قرار دینے کا بڑا معاوضہ لے کر ٹھیکہ اٹھار کھا ہے۔ ان سے مذہب کے حوالہ سے دلچسپی لینے کی کوئی توقع کیا ہوسکتی ہے؟۔ مفتی زرولی خان نے مفتی تقی عثمانی کے استاذاوروفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ کو سود کے خلاف فتویٰ دینے پر آمادہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے لیکر عالمی سطح تک بینکوں اور حکومتوں کی حمایت حاصل ہو تومفتی تقی عثمانی کے مقابلہ میں مفتی زرولی، جامعہ بنوری ٹاؤن اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے سارے مدارس کی کیا چلے گی؟۔ مدارس کے نصاب سے اتنی استعداد پیدا نہیں ہوتی ہے جس سے موٹی موٹی باتوں کا بھی علماء ومفتیان کو پتہ چل سکے۔ مدارس کا نصابِ تعلیم صوفیاء کا کوئی وظیفہ نہیں بلکہ سیدھے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ اس میں غلطیوں کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی آسمانی وحی تو نہیں ہے حق بات سمجھنے کیساتھ ماحول میں ا سکی جرأت بھی ہونی چاہیے۔

Molana-MasoodAzhar-SarwatQadri-HasanZafarNaqvi
جامعہ بنوری ٹاؤن سے پاکستان بھر، بھارت اور بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں علماء ومفتیان نے اہل تشیع پر کفر کا فتویٰ لگایا تو دارالعلوم کراچی نے انکار کیا کہ ’’ہم سرکاری ٹانگے ہیں ہم یہ نہیں کرسکتے‘‘۔ حاجی عثمانؒ سے انکے اپنے استاذ مولانا عبدالحق بیعت تھے، دارالعلوم کراچی کے ملازم مولانااشفاق احمد قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبندفتوے کے بعد بھی حاجی صاحبؒ سے منسلک رہے۔ مولانا عبداللہ درخواستی ؒ کے نواسے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کے مولانا انیس الرحمن درخواستی شہیدؒ فتوؤں کے بعد بیعت ہوگئے، جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑے حامی تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’’ یہ سن70کا فتویٰ لگتاہے۔علماء نے پیسہ کھاکر فتویٰ دیا ہوگا‘‘۔ میں نے علماء کو پھانسا تو مولانا فضل الرحمن نے بھری محفل میں کہا کہ ’’ دنبہ لٹادیا ہے، چھرا ہاتھ میں ہے، ذبح کرو، ٹانگیں ہم پکڑ لیں گے‘‘۔ علماء معافی کیلئے تیار تھے۔ فتویٰ میں شیخ جیلانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ؒ مولانا بنوریؒ اور شیخ مولانا زکریاؒ پر کفر والحاد، گمراہی و زندقہ اور قادیانیت کے فتوے لگائے ، ہفت روزہ تکبیر میں پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ’’یہ فتویٰ حاجی عثمان کے خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے لیاہے‘‘ ۔ عدالتی نوٹس پر مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ’’ ہم نے نام سے فتویٰ نہیں دیا‘‘، ہم نے درگزر سے کام لیا۔پھر کچھ عرصے بعد فتویٰ دیا کہ ’’حاجی عثمان ؒ کے معتقد سے نکاح کا انجام کیا ہوگا؟، عمر بھر کی حرام کاری اور اولادالزنا‘‘۔ جب میں نے ان کو انکے مدارس میں چیلنج کیا تو بھاگ گئے۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ہمارے ساتھیوں کو پٹوایا، جب ہم نے کیس کیا تو تھانہ میں دونوں طرف کے افراد لاکپ میں بند ہوئے۔ ہماری طرف سے عبدالقدوس بلوچ وغیرہ تھے اور ان کی طرف سے لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق وغیرہ تھے۔آج ہم نے مشکلات کے پہاڑ وں کو جس طرح سے سر کرلیا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد ؒ ہمارے اخبار کے ایک مضمون سے بہت متأثر ہوئے جو مولانا مسعود اظہر کی بھارت سے رہائی کے بعد لکھا ۔ قاضی حسین احمد سے ہمارے نمائندہ کی ملاقات ہوئی اور پوچھا کہ شیعہ مسلمان ہے یا کافر؟۔ تو ملی یکجہتی کونسل کے صدرسوال کرنے پر بھی ناراض ہوئے۔ تجزیہ تھا کہ تہاڑ جیل سے یہ ممکن نہیں کہ دشمن بھارت مولانا مسعوداظہر کو ہفت روزۂ ضرب مؤمن میں مضامین لکھنے کی اجازت دے۔ سعودیہ، بھارت، افغانستان اور پاکستان میں امریکی سی آئی اے ایک ایسی طاقت ہے جو اپنے پسِ پردہ معاملات کو ڈیل کرسکتاہے۔ مولانا مسعود اظہر نے تنظیم کا علان کرتے ہوئے کہا کہ ’’الحمدللہ چالیس مجاہدین کو اسامہ بن لادن نے ذاتی بارڈی گارڈ کیلئے قبول کرلئے‘‘۔ 9\11کے وقت مسعوداظہر کی جماعت کے سرپرست مفتی جمیل خان (جنگ گروپ) کو امریکہ سے لندن آتے ہوئے واپس امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ بہت بے گناہ گوانتاناموبے کی جیل میں تشدد کی نذر ہوئے۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی آج بھی جیل کے سلاخوں کے پیچھے ہے، مولانا مسعود اظہر کا اللہ بال بھی بیکا نہ کرے لیکن امریکہ نے نہیں مانگا، امریکہ نے چاہا تو اسامہ کا خاتمہ کردیا، یا اٹھاکر لے گئے، وہ جو بولیں لوگ یقین کریں گے اور آئی ایس آئی کے جنرل پاشا کو ملازم رکھ لیا۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ’’نوازشریف کو روتا دیکھ کر جنرل ضیاء الحق یاد آیا‘‘ حالانکہ جنرل ضیاء حادثاتی موت کا شکار ہوئے۔ نوازشریف کیساتھ قاضی حسین احمد بھی اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام تک برسی مناتا رہاہے۔مولانامسعوداظہر، حافظ سعید ، مفتی زرولی خان ، مولانا سیدحسن ظفر نقوی ، ثروت اعجاز قادری اور دیگر مذہبی لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر مدارس کے نصاب ، مسالک کی چپقلش اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر ایک جامع اور واضح لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایران اور سعودیہ کے علاوہ شیعہ سنی فسادات کرانے کے چکر میں لگ رہا ہے۔مفتی تقی عثمانی نے اہل تشیع سے خود کو بچانے کیلئے ملاقاتیں کی ہیں اور سوشل میڈیا پر جو لوگ مفتی تقی عثمانی تیرے جانثار بے شمار کے نعرے لکھ رہے ہیں وہی اہل تشیع کو کافر قرار دینے کے فتوے بھی جاری کررہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کو ان افراد پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے جو انکے لبادہ میں فرقہ واریت پھیلانے کی مذموم کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسروں کیلئے خیر نہ مانگنے والے اپنی خیر بھی نہیں مانگ سکتے ہیں۔

یہ کراچی ہے، مہاجر کیا سوچتے ہیں، کیا سوچنا چاہئے؟

نوشتۂ دیوار کے سینئر کالم نویس عبدالقدوس بلوچ نے کراچی کی صورتحال کو موضوع سخن بناکر کہاہے کہ: ان کارٹونوں سے ایک عام مہاجر کے ذہن کی درست عکاسی ہورہی ہے، ایک طرف وہ یہ سوچتاہے کہ بہ تکلف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جارہاہے حالانکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر غدار صرف کسی ایک کو قرار دیا جارہاہے۔دوسری طرف الطاف حسین اور ڈاکٹر فاروق ستار ڈگڈگی بجاکر مہاجروں کو نچارہے ہیں اور سب ہی اپنے احکام صادر کر رہے ہیں۔کل تک ایکدوسرے پر جان نچھاور کرنیوالوں کو ہوا کیا ؟۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین، کچھ رہنما اور کچھ کارکن رہتے ہیں ،باقی عام عوام الناس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، بس ان کو اتنا پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری قیادت ہے اور اس کی جماعت کو ہم اپنی نمائندگی کیلئے ووٹ دیتے ہیں، ہردکھ سکھ میں ہمارے رہنماکام آتے ہیں اور وہ ہماری شناخت ہیں۔ ایم کیوایم کا دعویٰ درست تھا کہ پڑھی لکھی عوام میں پارٹی اور قائدِ تحریک الطاف حسین کی پذیرائی دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے، ایم کیوایم کی اس صلاحیت نے کراچی پر بہت برے اور اچھے دنوں میں اپنی حکمرانی برقرار رکھی ۔ مصطفی کمال کی پی ایس کو گورنر سندھ نے بے سروپاکہا۔ ایم کیوایم کی ساری قیادت نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، جس کی لندن سے بھی تائید ہوئی اور پھر سندھ اسمبلی سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کی بھی ایم کیوایم سے تائید کروائی گئی۔ جسکے بعد ایم کیوایم لندن نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا۔ گورنر سندھ کو مصطفی کمال بے غیرت اور رشوت العباد اور عشرت العباد نے مصطفی کمال کو گٹھیا اور مفادپرست کہا۔ ایک عام مہاجر کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون بھلاہے اور کون بُرا ہے؟۔
ایک زمانہ تھا کہ بلوچوں میں سب سے زیادہ مہمان نواز، ملنسار، وفادار اور اچھے لوگ لیاری کے بلوچ ہوا کرتے تھے، پھر سیاسی لوگوں نے اپنا مفاد اٹھاکربدمعاشوں کو لوگوں پر مسلط کردیا، پھر لیاری کی شناخت بھی شناسا ؤں کیلئے مسخ ہو گئی۔ یہی صورتحال کراچی کیساتھ پیش آئی۔ پاکستان بھر میں جہاں کراچی کا باشندہ جاتا تو اس کو بہت عزت ملتی تھی۔ پھر اس قوم پر وہ طبقہ مسلط ہوا، جس نے شناخت بدل ڈالی۔ پہلے پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا اور جب نہ رہا تب بھی کراچی سے حکومت کی تقدیر کے فیصلے ہوتے تھے۔ لالو کھیت کے باشندے کہتے تھے کہ ’’ہم بادشاہ گر ہیں، جسے چاہیں اقتدار کی کرسی سے اتار لیں‘‘۔ پھر معاملہ بدل گیا تو لالوکھیت کے باشندے لیاقت آباد کے نام سے بھی اپنی عزت بحال نہ کرسکے۔ ایک معزز گھرانے سے نبیل گبول کا تعلق تھا اور جب پہلی مرتبہ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی بن گئے تو ہمارے شاہ صاحب کی ایک کتاب پر ان کا تائیدی بیان شائع ہوا۔ پھر ذوالفقار مرزا نے ماحول خراب کیا تو لیاری میں ان کیلئے جانا مشکل ہوگیاتھا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی چھوڑی، ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کرلی، پھر وہاں سے بھی نکل گئے۔
کراچی کی سیاست میں نبیل گبول کے خاندان کا1930ء سے ممتاز مقام تھا لیکن اب وہ موجودہ دور میں بے عزت سیاستدانوں سے عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ بلاول ، عمران، نواز شریف ، الطاف اور دیگر لیڈروں کی عزت ان جیسوں نے بنائی جن کا اپنا قدبہت اونچاتھا اور یہ لوگ درست قیادت کا انتخاب کریں گے تو قوم، ملک اور مسلمانوں کی تقدیر بھی بدل جائیگی۔ الطاف حسین نے سوبار کہا کہ ’’میں قیادت چھوڑتا ہوں‘‘ پھرکارکن منالیتے۔ اب پوری پارٹی نے کہا کہ ’’ قیادت ڈاکٹر فاروق ستارکرینگے ‘‘ تو الطاف بھائی کو چاہیے تھا کہ کہتے’’ میرا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیاہے‘‘، شروع میں درست کہا ،توقائم رہتے۔ لندن کے چند رہنما بیان بازی کا سلسلہ جاری نہ رکھتے تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں مہاجر متحداور خوشحال رہتے۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور بدزبانوں سے نجات مل جاتی اور وقت آتا تو غلط فہمیاں بھی دور ہوجاتیں۔ بانی بڑی عمر میں پہنچ کربھائی سے حاجی الطاف حسین بن جاتے۔ دل گرفتہ بددعاؤں کے بجائے پاکستان، قوم و ملت اور عالم انسانیت کو دعائیں دیتے۔ اگر عمران خان عظیم طارق کی شخصیت سے بہت متأثر تھے تو الطاف حسین سے بھی متأثر ہوتے۔قائد تحریک نے اس کی کونسی بلی ماری تھی۔پھرزہرہ شاہدہ ماری گئی تب بھی عمران خان نے کافی عرصہ بعد ہیلی کاپٹر پر کراچی آنے کے باوجود تعزیت تک نہیں کی۔ عمران خان نیازی سے زیادہ والدہ کی وجہ سے برکی قبیلے کی نسبت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جس طرح بلاول اپنے آپ کو زرداری سے زیادہ بھٹو سمجھتا ہے۔ کانیگرم سے برکی قبیلے کے گلشاہ عالم برکی نے عمران خان کیلئے بڑی قربانی دی تھی جو طالبان کے ہاتھوں زندہ غائب ہوا، لیکن عمران خان نے اس پر بھی طالبان کی کوئی مذمت نہیں کی، اگر عمران خان اور نوازشریف کے بچوں کو طالبان ذبح کردیتے یا زندہ غائب کردیتے یا دھماکوں میں ماردیتے توان کو دہشت گردی کی حمایت پر عوام کے دکھ کا پتہ چلتا۔ ضرب عضب کے بعد بھی نوازشریف کی طرح عمران خان نے بھی قومی ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں کیاجس کی وجہ سے پختونخواہ میں طالبان دہشت گردوں نے بھتے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور پولیس بالکل لاتعلق رہی۔ الطاف حسین واحد قائد تھے جس نے اپنے کارکنوں سے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو چائینہ کٹننگ پر پٹوایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کارکنوں نے قائد سے نہیں پوچھا کہ ’’منی لانڈرنگ کی رقم تم سے برآمد ہوئی ہے‘‘۔ عمران خان اپنے سسر گولڈ سمتھ سے بہت متأثر ہیں اسلئے برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ برطانیہ نے امریکہ کا نوکر بن کر عراق تباہ کیا اور چوری پکڑی گئی تو ٹونی بلیئر کو کیا سزا دی؟۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس غلط چلایا تھا یا سزا میں 400بیسی سے کام لیا؟۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کو رقم دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
لندن میں بیٹھنے والے جی حضوری کے عادی بن چکے ہیں، ان کوکیا معلوم کہ کراچی کی عوام روز روز ہڑتال سے تنگ تھی، لندن کی کھلی فضاؤں میں الطاف حسین اور دوسرے رہنما اندازہ نہیں لگاسکتے، ڈاکٹر عمران فاروق کی موت تو اپنی جگہ لیکن جس کسمپرسی میں کنونیئر رہے وہ بھی کوئی کم معمہ نہیں ،اب الطاف کوبھی یہی دن نہ دیکھنے پڑجائیں!۔ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی موت سے زیادہ تلخ تھی ۔کراچی کی بہادر عوام کو اگر بڑی بڑی قربانیاں دینے پر مجبور کرنے کے بجائے مہذب طریقے سے آگے بڑھایا جاتا تو آج کراچی کا مہذب طبقہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا۔ مصطفی کمال الطاف کے حصار سے نہ نکل سکا، تقریرہی کرنی ہے تو عوام کو تبلیغ میں بھیج دیا جائے،گھڑی گھڑی بداخلاقی کامظاہر ہ کس اخلاق کی تعلیم ہے ؟۔ کراچی کااصل مسئلہ پسماندگی ہے۔ سندھ کے دارالاخلافہ کراچی کی حالت بہتر ہوتی اور دیگر علاقے پسماندہ ہوتے تو دیہات کا مطالبہ نیا صوبہ ہوتا، الٹی گنگا اسلئے بہہ رہی ہے کہ دارالخلافہ کی حالت خراب ہے، سندھ کی رقم سے دبئی آبادہے، کراچی اور شہری آبادی پر پیسہ نہیں لگ رہا تو دیہاتوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ سلجھے مہاجر بے وفا نہیں، الطاف بھائی کے پٹوانے کے باوجود رہنما ڈٹے رہے ۔ عوام علماء کے واعظ سن کر الطاف سے مانوس تھی مگر قائد کی غلطی اور معافی کا نہ رُکنے والا سلسلہ رہنماؤں اور پارٹی کیلئے بڑاتضحیک آمیز تھا، کامران خان نے ٹی وی پر الطاف کا کلپ دکھایا تو رضاہارون کی حالت قابلِ رحم تھی،روٹی حلال کریں مگر لندن میں الطاف کو غلط مشورے دیکر مہاجروں کا بیڑہ غرق نہ کریں،الطاف حسین اسی کی سزا بھگتے ہیں۔ عبد القدوس بلوچ (تیز و تند)

فیروز چھیپا مہتتم ماہنامہ نوشتہ دیوار کا تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے عدالتی نظام پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے کہ: وقت آگیا ہے کہ گھسے پٹے قوانین کااز سرِ نو جائزہ لیا جائے اعلیٰ عدلیہ نے کچھ دن پہلے جب مظہرحسین کو 19سال بعدبری کردیا تو وہ دوسال پہلے انتقال کرچکا تھا۔ دوسری خبریہ بھی سامنے آئی کہ سپریم کورٹ نے دو بھائیوں کو بری کردیامگر ان کو سزائے موت بھی دی جاچکی ۔یہ قوانین کے شاخسانے ہیں یا غفلت کے مے خانے ہیں ؟۔ نہیں کچھ نہیں،نقاب اٹھ چکاہے، یہ طاقت کے بہانے ہیں، کمزوری کے افسانے ہیں انگریزنے اپنی حکومت چلانے کیلئے جو عدالتی نظام بنایا ہے، اسکے ترازو میں کمزور اور طاقتور کا توازن برابر نہیں ۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کئی صفحات پر تحریری اقرارِجرم کرلیاپھرچھوٹ بھی گیا۔ غلام اسحاق خان اور اسحاق ڈار میں کتنا فرق ہے؟۔ کیاکوئی غریب بھی اقرارِ جرم کے بعد باعزت بری ہوجاتا؟ آصف زرداری نے اپوزیشن میں 11سال جیل میں بسر کئے، طاقت کا توازن بگڑنے کی دیر ہے پھر نوازشریف پر پانامہ لیکس کے علاوہ بہت سے دوسرے لیکس کے مقدمات بھی چلنے کے فیصلے ہونگے۔ ڈاکٹر عاصم ، میئر کراچی وسیم اختر و دیگر باعزت بری ہوکر سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستان کی بھارت میں نمائندگی کریں گے اور بھارت کے ’’را‘‘ ایجنٹ کے مقدمات نواز شریف اور اسکے شریک اقتدار بھگت رہے ہونگے۔کمزور اور طاقتور میں بڑا فرق ہے۔ ادنیٰ سے لیکر وزیراعظم و صدرمملکت کے منصب تک عدلیہ عوام کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے بے نیاز ہوکر اپنے نظام عدل کے ترازو میں جھول کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے اور جب آنکھ کھل جاتی ہے تو بے انصافی ، ظلم اور جبر کے خون میں ڈبکیاں لے لے کر کمزور اپنی جان سے گزر چکا ہوتا ہے اور محب وطنوں کی قبروں سے ہمارے عدالتی نظام پر آوازکسی جاتی ہے کہ
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا
دہشت گردوں سے متعلق خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام پر چیئرمین سینٹ نے اپنا ووٹ پارٹی کی امانت قرار دیکر روتے ہوئے دیا تھا۔ دہشت گردوں سے بڑی طاقت وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ سے غریب دہشتگردوں کیخلاف فیصلے کی توقع رکھی جاسکتی تھی مگر ن لیگ سمیت تمام جمہوری قوتوں کیخلاف عدلیہ سے انصاف کی توقع نہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہورمیں چودہ افرادکے قتل کا کیس رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہشت گرد پہاڑوں سے چھپ کر حملہ کرتا تھا۔ پنجاب کا وزیر قانون رانا ثناء اللہ کھل کر مونچھ کوگلہری کی دُم بناکر ہلاتا ہے۔ کراچی میں ایم کیوایم کی جمہوریت پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے کم تر نہ تھی لیکن کراچی میں قتل و غارت پر کبھی عدلیہ کی طرف سے اس وقت سزاؤں کا امکان نہ تھا، جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے خلاف کھل کر میدان میں نہ آئے۔
ن لیگ کیخلاف پرویزمشرف برسرِ پیکار تھے تو دنیال عزیزنے نوازشریف پرمحلات میں رہنے کے باوجود 400اور600روپے ٹیکس دینے کی بات حامد میرکے پروگرام میں اسحاق ڈار کے سامنے کی تھی جسکے کلپ دوسرے ٹی وی چینل پر دکھائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ طاقت کامرکز ہے تو دانیال عزیز سے سب کے سامنے بیان جاری کروایا جائے کہ ’’پہلے اس نے کس مجبوری کے تحت یہ بیانات دئیے تھے؟‘‘۔ اسطرح سے چوہدری نثار، حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، کلثوم نواز اورنوازشریف کے درمیان جو متضاد بیانات میڈیا پر چل رہے ہیں ، ان کا پارلیمنٹ میں صاف ستھرا جواب دیا جائے۔ نہیں تو عدالت اپنے چہرے پر کالک ملنے کیلئے تو نہیں بلکہ کالک صاف کرنے کیلئے وزیراعظم سے کہہ دے کہ ’’پہلے ایک وزیراعظم خط نہ بھیجنے کے مسئلہ پر نااہل قرار دیا جاچکاہے، جو اس کا ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ صدر مملکت کو آئینی تحفظ دینے کا معاملہ تھا۔ یہ تمہارا نہیں تو تمہارے بچوں کا معاملہ ضرور ہے، پانامہ کو اپنے بچوں کے خلاف خط لکھنے کے مسئلہ پر تم سے کوئی توقع نہیں، اسلئے خط لکھنے کیلئے اپنے منصب کو چھوڑ دو،جان کی امان ہو تو نیب والے جائیداد میں نام کا لحاظ نہیں کرتے۔ تم خود کو اپنے بچوں سے جدا نہیں کرسکتے، یہ کوئی نوکری ، چوری، دہشت گردی یا دوسرا معاملہ نہیں بلکہ کاروبار کا معاملہ ہے اور خاندانی کاروبار میں کسی کی خود مختاری کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔ جدی پشتی کاروبار میں بچے باپ سے الگ کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ ارشد شریف نے اے آر وائی نیوز پر نیب کے آفسر کے سامنے پورا ریکارڈ پیش کیا ہے جو نیب میں بھی موجود ہے جس میں جاوید کیانی کا بھی اہم کردار ہے‘‘۔
ہمارے عدالتی نظام میں دوسرے ریاستی اداروں کی طرح بہت سی خامیاں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی افادیت سب سے زیادہ ہے، دوسرے تمام ریاستی اداروں سے زیادہ عدالتوں سے انصاف کی توقع ہوتی ہے، جج کے ہاتھ قانون کیساتھ بندھے ہوتے ہیں، بعض اوقات وہ انصاف دے سکنے کے باوجود انصاف نہیں دے پاتا، پانامہ لیکس پر عدلیہ نے وزیراعظم کے خط کایہ جواب دیاتھا کہ ’’ اختیارات کے بغیر اس کو عدلیہ میں لانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ تحریک انصاف کے کیس پر رجسٹرار نے جواب دیا کہ ’’یہ مضحکہ خیزہے‘‘۔ پھر اس کو سماعت کیلئے منظور بھی کیا، نوازشریف کا خیر مقدم کرنے باوجودیہ کہنا کہ ’’ عدالت نے نوٹس بھیجا ہے طلب نہیں کیا ہے‘‘۔ اس بات کی غمازی ہے کہ کن حالات میں وزیراعظم کا رویہ عدلیہ سے کچھ بھی ہوسکتاہے؟۔بسا اوقات عدلیہ ایک کمزورو غریب انسان کے سامنے بھی قانون کی وجہ سے بے بس ہوتی ہے اور کسی طاقتور کو بھی چاہت کے باوجود انصاف فراہم نہیں کرسکتی جو قابلِ غور ہے۔یہ بات قابلِ تعریف ہونے کے باوجود انتہائی قابل مذمت بھی ہے کہ ’’طاقتور کی طرح کمزور بھی قانون کا فائدہ اٹھاکر اپنے جرائم کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے‘‘۔ دہشت گردوں کیخلاف اسی لئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آیا، سیاستدان اپنے خلاف کبھی بھی متفق نہ ہونگے البتہ عدلیہ نے نظریۂ ضرورت کے تحت جو فوجی مارشل لاؤں کو جواز بخشا تھا، اب نظریۂ ضرورت کے تحت سیاستدانوں کیخلاف انصاف کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کرنے ہونگے۔ شہباشریف نے علیم خان اور جہانگیر ترین کیخلاف الزام نہیں ثبوت فراہم کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ عدالت کو عوام کے سامنے ان سارے مسخروں کو سدھارنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ پھر وہ غریب جن کی عزتیں تک پنجاب و سندھ میں محفوظ نہیں، خود کش حملہ آورں کی صفوں میں شامل ہوکر سب کوختم کردینگے۔
عدالتوں پر پہلے بھی ن لیگ والے حملہ آور ہوچکے ہیں۔ فوج کے ساتھ متنازع خبر کی بنیاد پر حکومت کا کمزور ہونا عدالت کیلئے انصاف فراہم کرنے کا سنہری موقع ہے جسکا عدالت کو بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انصاف کرنا چاہیے۔ نوازشریف نے کھل گلہ کیا تھا کہ پانامہ لیکس پر فوج کرپشن کے خلاف بات کرنے کے بجائے مجھے تحفظ کیوں نہیں دے رہی ہے۔ اگر عدالت نے انصاف نہیں کیا تو پھر فوج اپنی خبر کا بدلہ لینے میں مارشل لاء بھی لگاسکتی ہے۔ پھر جمہوریت کے علمبرداروں نے بھی مٹھائیاں ہی بانٹنی ہیں۔ فیروز چھیپا

اشرف میمن پبلشر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

حکومت نے پہلے فوج کوناجائز دبایا کہ ’’ہم تیر آزمائیں تم جگر آزماؤ‘‘ مگر جب فوج کا دباؤ بڑھا تو پسپائی اختیار کی کہ ’’تم تیر آزماؤ ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔فرقہ واریت کا حل دیکھئے (اداریہ)
قوم حقائق کو دیکھ لے، اگر منتخب حکومت مظلوم ہو تو اس کا بھرپور ساتھ دیا جائے لیکن اگر حکومت نے واقعی کوئی انتہائی غلط حرکت، کمینگی، منافقت، بے غیرتی اوربد دیانیتی کابھرپور مظاہرہ کیا ہوتوعبرت آموزسبق ہی سکھایاجائے

potitcs-in-pakistan
جب ڈی جی آئی ایس آئی نے پنجاب میں شہبازشریف کی شکایت کا مثبت جواب دیا اورنوازشریف رکاوٹ بنے تو حقیقت کے برعکس خبر کے تین انتہائی مضرو خطرناک مقاصد ہوسکتے ہیں
1:بین الاقوامی، علاقائی، مقامی سطح پر فوج کو حقائق کے برعکس رگڑنا،2:حکومت کیلئے فوج کو ذاتی نوکر بنانے کی بدترین سازش،3: دہشت گردوں کوتحفظ فراہم کرنے کی بہت ہی غلیظ، ناپاک اور بدترین کوشش کاایک خفیہ راستہ

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہا: ڈان نیوز کی خبر کو وزیرداخلہ نے دشمن کا وار قرار دیا اور حکومت نے آدھا سچ کہا، وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فارغ کیا ۔ صحافی نسیم زہرا مصدقہ خبردی کہ’’ شہباز شریف نے ڈی جی آئی ائس آئی سے کہاکہ حافظ سعید اور مولانا اظہر کے بندوں کو پولیس پکڑتی ہے، تمہارے لوگ رکاوٹ بنتے ہیں۔رضوان اختر نے کہا کہ میں ساتھ جاتاہوں، کوئی بھی رکاوٹ نہ ڈالے گا۔ نواز شریف نے کہا :پہلے دیگر تین صوبے میں جاؤ،پنجاب میں اب نہیں پہلے یہ شکایت تھی ۔ خوشگوار موڈ میں ہی بات ہوئی۔ جھوٹ لکھا گیا کہ رضوان اخترو شہباز شریف کی تلخی ہوئی‘‘۔ جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جب تردید ہوئی تو بات ختم ، فوج کی کیا تذلیل ہوگئی؟۔ نسیم زہرا نے کہا کہ حکومت خود کہہ رہی ہے، وزیرداخلہ کا بیان آیا، پرویزرشید کو ہٹا دیا اور حکومت بچہ ہے کہ رات کو بھآؤ کرکے فوج ڈرائے۔ عاصمہ نے کہا: بالکل یہی بات ہے، میں وزیراعظم ہوتی تو استفعا دیتی کہ خود ہی سنبھالو۔ محترمہ عاصمہ جمہوریت کی حامی اور مارشل لاء کی مخالف ہیں مگر رضوان اختر پنجاب میں دہشت گرووں کیخلاف تعاون کیلئے تیار تھے تو کہانی شائع کرانے کا مقصد کیا تھا؟آدھا سچ کہنے کے اثرات کیا تھے؟۔ 1:پہلے عالمی قوتین دہشت گردوں کو پال رہی تھیں اور اب دنیا اس سے تنگ آچکی ہے، جنرل راحیل کی قیادت میں فوج نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اپنی عوام، پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی سطح پر حقیقی نیک نامی حاصل کی مگر کہانی نے قربانیوں کا بیڑہ غرق کرکے صرف فوج کے امیج کونہیں پاکستان کو بھی بڑا نقصان پہنچایا، اسلئے کہ کٹھ پتلی سیاستدان اور فوج نے مل کر امریکہ کی ایماء پر شدت پسندوں اور دہشتگردوں کو فروغ دیاتھا، راحیل شریف نہ ہوتے تو یہ کھیل جاری رہتا اور غلط فہمی کی فضاء باقی رہتی، مشرف کشمیری مجاہدین کو بار بار ضرورت کہہ چکے تھے، سب کو آدھے سچ کے نام پر جھوٹی کہانی کا یقین ہوچکا تھا۔ حکومت کے حلیف مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی، محمود اچکزئی نے پہلے ہی کھل کر دہشت گردوں کو پالنے کا الزام فوج پر ہی لگایاتھا، پولیس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا تو بلوچستان میں پولیس سینٹر پر حملہ کی سازش پر خاموشی کیوں ہے؟۔ جبکہ صوبائی حکومت ن لیگ اور محمود خان اچکزئی کی ہے۔ میڈیا پر بڑے زور وشور سے لواحقین نے یہ مسئلہ اٹھایا کہ چند دن پہلے ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد پھر خوامخواہ بلوایا گیا؟۔ وکیلوں کو فوج کے کھاتے میں ڈالنے والے قوم کے سامنے اپنا احتساب کیوں نہیں دکھاتے؟۔ دوسری مرتبہ واقعہ سے تو مزید لوگوں کا غصہ بڑھنا چاہیے تھا۔ جب رضوان اختر نے پنجاب میں دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے پورا تعاون دینے کی بات کردی تو شریف برادران پیچھے کیوں ہٹے؟۔ حلیف جماعتوں کو چاہیے کہ پوری قوم کے سامنے ان کو کھڑا کردیں ، اگر فوج کی طرف سے جھوٹ بناکر ان کو دیوار سے لگانے اور جمہوریت کیخلاف سازش ہورہی ہے تو پوری قوم کو کھڑا کردیں اور حلیفوں سے کہہ دیں کہ پسپاہی پر پسپاہی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر معاملہ اسکے بالکل برعکس ہو تو پھر فوج کیساتھ اس طرح سے کھڑے ہوجائیں کہ ڈکٹیٹر کی اولادوں کو بھی یاد رہے۔ حکومت نے اگر غلط کہانی گھڑکر کمینگی، بے غیرتی اور ذلالت کا بھرپور مظاہرہ کیاہے تو ان کو معاف کرنا قوم، ملک اور ملت کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ دہشتگردوں کے یارو ں کو ایک دھکااور دو۔
2: شریف برادران کی طرف سے اس کہانی کا دوسرا خطرناک مقصد یہ ہوسکتاہے کہ مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر اچھی شہرت یافتہ فوجی قیادت کو جھوٹی کہانی سے بھیگی بلی بناکر خود کو حقیقی شیر ثابت کیا جائے ، انسانی روپ میں جنگلی بادشاہ بن کر پاکستان میں جنگلی شہنائیت کا خواب پورا کیا جائے۔ پہلے بہادری سے حکومتیں قائم ہورہی تھی، اب پیسوں کا کھیل بن گیاہے۔ جب جنرل راحیل جیسے بے لالچ، دبنگ اور نڈر کے سامنے آئی ایس آئی کے ڈی جی کی ایسی تیسی کی جاسکے تو آنیوالی فوجی قیادت بالکل ذاتی غلام بن کر رہے۔ جب فوج کا ڈر بھی نہ رہے گا تو لوگوں کو ڈرانے کیلئے ذاتی بیئریر ہٹانے کے بہانے ماڈل ٹاؤن کی طرح قتل و غارت کا بازار گرم کرنے اور گلوبٹوں کو استعمال کرنے سے بھی شرم نہ آئے گی اور کورٹ کے آرڈر پر بھی ایف آئی آر کو درج نہیں کیا جائیگا، جبتک دھرنے کے ذریعہ ہوا نہ نکالی جائے آرمی چیف مداخلت نہ کرے۔ دوسری طرف اتنے بزدل کہ ایس ایس پی اسلام آباد کو سرِ عام پیٹنے پر بھی کوئی غیرت نہ کھائیں۔حکومت کے حلیف اُٹھ کھڑے ہوں اور موجودہ فوجی قیادت کو نہ صرف سپورٹ کریں بلکہ جنرل راحیل کو 7فیڈ مارشل کی حیثیت سے 3سال کی توسیع کا اہتمام کریں، تاکہ پاکستان کو دنیائے اسلام اور انسانیت کا بہترین ملک بنایا جاسکے۔ وزیراعظم کا دومرتبہ منتخب ہونے پر دس سال کا عرصہ پورا ہوتا ہے مگر اس پر بھی ان بادشاہوں کا جی نہیں بھرتا۔ پھر موروثی سلسلے بھی چلتے ہیں۔ حقیقی جمہوریت کی طلب ہوتوقانون کی حکمرانی ضروری ہے۔عدالت گیلانی کی طرح نواز وشہباز کو ناہل قرار دے تو لیگی خود ہی راہ ہموار کردینگے۔
3: من گھڑت کہانی کا آخری اور تیر بہدف مقصد یہ تھا کہ آدھا سچ سے کالعدم تنظیموں اوردہشت گردوں کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ جنرل راحیل شریف اور میجر جنرل رضوان اختر پنجاب میں تمہارا خاتمہ چاہتے تھے، ہم نے تمہارے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کام کیا اور ان کو تمہارے خلاف اقدام کرنے سے روک دیا۔ جس طرح لیاری گینگ وارکے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران عذیر بلوچ کی وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے، پنجاب میں مقامی سطح پر مسلم لیگ ن کے رویہ کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کیلئے اسکی نوبت بھی آسکتی تھی۔ یوسف رضاگیلانی پر بھی اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں الیکشن کے دوران دہشت گرد ساتھ گمانے کا میڈیا پر ن لیگ والوں نے درست الزام لگایا ہوگا۔ جس طرح ایم کیوایم کے رہنماؤں کی الطاف حسین کا پٹائی لگوانے کے بعد یہ طرزِ عمل بناکہ بعض پارٹی چھوڑ کر چلے گئے اور بعض نے تہیہ کرلیا کہ کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ گورنر سندھ کو اسلئے پارٹی سے نکال دیا گیا۔ مصطفی کمال کی پارٹی بنی اور ڈاکٹر فاورق ستار کی قیادت میں ایم کیوایم نے بالآخر اپنے قائد سے ناطہ توڑ ا، اسی طرح پنجاب کی کالعدم تنظیمیں بھی اپنے شدت پسند وں سے جان چھڑانے کے چکر میں ہونگی مگر مسلم لیگ ن میں اتنی ہمت نہیں ۔ جیسے ضرب عضب سے پہلے فوج سے موقع مانگا تھا جسکے بعد دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اس سے زیادہ ن لیگ کو پنجاب کاشدت پسند طبقہ پیارا نہیں لیکن ڈر ضرور لگتاہے۔ اگر فوج کو دبانے میں یہ کامیاب ہوگئے تو پھر یہ دہشت گردوں کا فرار طبقہ بھی واپس آئیگا اور جمہوریت ، سیکولرازم ، فوج مخالف ، انسانیت کا علبردار طبقہ ہی نتائج بھگتے گا۔پھر مصلحت پسند مجاہدقیادت اور فرقہ پرستوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔دہشت گردوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے پالتو سیاستدانوں کا محاسبہ بھی پاک فوج ہی کو کرنے دو، ورنہ افتخار چوہدری کی حمایت پر جیسے پچھتاوا کام نہ آیا، پھروہی حشر ہوگا۔عاصمہ جہانگیر، مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی، محمود اچکزئی وغیرہ اب تو بالکل ریٹائرڈ ہونے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ فوج اور عدلیہ کو درست سمت اپنے قبلہ کا تعین کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ ایم کیوایم، دہشت گردوں اور بلوچ شدت پسندوں کے یاروں اور سہولت کاروں کو بھی جانے دیں۔ پھر عمران خان سے علیم خان اور جہانگیر ترین کی دولت ہٹ جائے اور ن لیگ سے کرپشن کا پیسہ واپس لیا جائے تو قوم خود ہی درست قیادت کا انتخاب کرلے گی، کھلے دشمنوں سے منافقت کرنے والے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ نوازشریف خفیہ طور سے 22اگست سے پہلے ایم کیوایم کے ساتھ تھے، ضربِ عضب سے پہلے طالبان کو بھی سپورٹ کیااور بلوچ شدت پسندوں کے بھی ساتھ تھے۔
نواز شریف اور عمران خان کو ذبح کیا جاتا یا بچوں کو اڑادیا جاتا تو یہ کیا پھرحمایت کرتے؟ ، جان کی امان کیلئے ہی انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔دہشت گردوں کے اصل سہولت کاروں کو پکڑا جائے تو عمران خان اور نوازشریف سے بڑے سہولت کار کون تھے؟۔ ایم کیوایم سے زیادہ تحریک انصاف کے دور میں بھتہ وصول کیا گیا، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑے گئے۔جمہوری حکومتوں کے پاس اختیار نہ تھا تو اقتدار کو لات کیوں نہ ماری؟۔ پہلے سارے پٹھان طالبان یا طالبان کے حامی تھے، فوج سب کو تو نہ مارسکتی تھی؟، پھرضرب عضب سے پہلے پٹھان بھی طالبان سے تنگ آچکے تھے مگرعمران خان گلوبٹوں کو طالبان کے حوالہ کرنے کی دھائی دیتا تھا، سی پیک پر عمران خان اور خٹک نے کیا پاؤڈر اور افیون کا نشہ کیاتھا۔اشرف میمن