پوسٹ تلاش کریں

پاکستان میں ایک حقیقی انقلاب کی سخت ضرورت ہے!!

اداریہ: چوتھا کالم

تحری: سید عتیق الرحمن گیلانی

مریم نواز اور نوازشریف کا انقلاب یہ ہے کہ فوج عمران خان کی حمایت چھوڑ کر ہمارا ساتھ دے تو سب اچھا ہے۔ کچھ بے شرم ، بے غیرت، بے حیا، بے ضمیر اور بکاؤ مال قسم کے صحافی جن میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے کئی افراد شامل ہیں وہ فوج کی کردار کشی کرکے نوازشریف کو ایسا پیش کرتے ہیں جیسے بھوسہ سے گندم یا چاول کو نکالا جائے۔ شاہ زیب خانزادہ ، سید عمران شفقت اور راشد مراد وغیرہ کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوج میں جرنیل بدلتے ہیں اور ان کی پالیسیاں بھی بدلتی ہیں۔ ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاء الحق،اسلم بیگ،وحیدکاکڑ،شیخ جہانگیر،ضیاء بٹ، پرویز مشرف، اشفاق کیانی، راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ نوازشریف وہی نوازشریف ہے بدلا نہیں ہے۔ عدالت کے سامنے پارلیمنٹ کے بیان پر قائم نہیں تھا اور قطری خط سے بھی مکر گیا۔ پیسے لیکر جتنے مرضی تجزئیے پیش کرو لیکن گدھے کو گھوڑا بنانا ممکن نہیں ۔ میڈیا بکاؤ مال بن گیاہے۔
عمران خان وزیراعظم اسلئے بناتھاکہ وہ اداروں کوسدھارنے کی بات کرتا تھا مگر جو تحریک انصاف کو بگاڑگیا وہ اداروں کو بھی بگاڑ رہاہے۔ سندھ پولیس اہلکار نے کارنامہ انجام دیا ،تو وزیراعظم زبان کی حد تک نہ کہتاکہ چومنے کو جی چاہتا ہے بلکہ جس طرح بی بی بشریٰ کے کہنے پر پاک پتن کے مزار پر عملیات کا مظاہرہ کیا اس سے زیادہ حاضری دیکر عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انٹریو میں کس قدر تضادات ہیں کہ باپ سے پیسہ نہیں مانگا ، ماں زبردستی سے پیسہ دیتی تھی ،خود کمایا، زندگی بھر پہلی مرتبہ ملک کی خاطر بھیک مانگی جس پر شرمندگی ہے۔ شوکت خانم کیلئے غیرملکیوں سے نہیں اپنوں سے بھیک مانگی۔ عوام اتنی بیوقوف نہیں ہے جتنا یہ لیڈر لوگ سمجھتے ہیں۔
عمران خانی دور میں ریاستی اہلکار رشوت کے ریٹ بڑھا کر کام کرتے ہیں۔ گورنر سندھ، وفاقی وزیرعلی زیدی،صوبائی رہنما علیم عادل شیخ اور سبھی لگے تھے کہ صفدر اعوان پر قائداعظم کے مزار کی بے حرمتی کا مقدمہ درج ہو۔ آخر کار رات گئے رینجرز اور آئی ایس آئی کو بھی استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئی جی و پولیس کے اعلیٰ افسران سب چھٹی پر گئے۔ بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے احتجاج کیا اور آرمی چیف نے نوٹس لیا۔ پولیس نے اطمینان کا سانس لیا۔ عمران خان اور اس کی حکومت کا یہ حال تھا کہ مفرور ملزم کے نام جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جو عمران خان خود کو صادق کہتا ہے ،اس کی پوری ٹیم نے جھوٹ بول کر اپنے لئے لعنت کا اہتمام کرلیا۔ پاک فوج کی بھی شلوار اتاردی اسلئے کہ نواز شریف نے کہا کہ” ثابت ہوگیا کہ حکومت کے اوپر کسی اور کی حکومت ہے”۔ پھر شبلی فراز نے کہا کہ پولیس کو اپنی نااہلی پر ایکشن لینا چاہیے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس تحریک انصاف کی جماعت اور حکومت کا کیا کردار ہے جس نے یہ سارا فتنہ برپا کیا تھا؟۔ اس کا بس چلے تو ابھی مزیدپاک فوج کی قمیص بھی اتارکر ننگا کردے کیونکہ یہ اس کا وطیرہ ہے۔ صحافی صابر شاکر نے گجرانوالہ جلسے کے بعد بتایا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ ہوگیا ہے کہ آئندہ ہم نے نمٹناہے اور عمران خان نے منہ پر ہاتھ پھیر کرکہا تھا کہ ایک نیا عمران خان دیکھوگے۔ پھر ایکشن ہوگیا تو عمران خان چھپ کر ایسے بیٹھا جیسے کھڑک مرغی انڈوں پر بیٹھی ہو۔ پھر ایکشن سے لاتعلقی کا اظہار بھی کردیا۔ پشاور ہائیکورٹ میں اس کی بیٹی کو چھپانے کا کیس زیرسماعت تھا، اطلاع کے مطابق اگلی پیشی پر سیٹھ وقار احمد نے فیصلہ کرنا تھا جس کو خاموشی میں کورنا نے نگل لیا۔ علامہ خادم حسین رضوی مولانا سمیع الحق کی طرح مارے نہ گئے ہوں۔ الطاف حسین، نواز شریف کو برطانیہ سے لایا جائے لیکن عمران خان کی بیٹی بھی لائی جائے تاکہ جھوٹے لیڈر عوام کے سامنے ایک دم بے نقاب ہوجائیں۔ صحافیوں کو بھی الٹی سیدھی صحافت کی پرواہ نہیں بلکہ لفافوں سے بھتے وصول کرکے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں لیکن ایک بڑا طبقہ بہت اچھے صحافیوں کا بھی ہے اور وہ بالکل غیرجانبدار صحافت کرتاہے۔
ریاست کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ شروع سے بیکار قیادت سے واسطہ پڑا۔ انگریز کی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے بیجا ترقی پائی تو نابالغ مرغے وقت سے پہلے آذان دینے لگے۔ پہلے بھی جمہوریت نہ تھی۔صدر سکندر مرزا کو ایوب خان نے گرفتار کرکے مارشل لاء لگایا تو استقبال مادر ملت نے کیا جنرل ایوب نے جمہوریت کی بنیاد رکھی تو مادرملت فاطمہ جناح مقابلے میں آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو غیر جمہوری عمل سے اقتدار کی دہلیز پر پہنچے تو اپوزیشن کی قیادت کو پھانسی گھاٹ تک پہنچایا۔ پھر اس ریاست گردی کا شکارہوگئے جس کو آلۂ کار بناکر دوسروں پر راج کیا۔ عدالت نے اپوزیشن قیادت کو چھوڑ کر اسی کو پھانسی دی۔ ریاست نے پھرنوازشریف کو پالا۔ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ نوازشریف اور اس کی انقلابی بیٹی کڑک مرغی بن کر خاموشی سے انڈوں پر بیٹھے تھے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن بھی کردی مگر اچانک کڑک پن ختم ہوگیا اور سیاست کے میدان میں انقلابی بن گئے۔ خدا کا نام مانو،بس کروبس۔
تبلیغی جماعت نے حاجی عثمان کے خلاف شخصیت پرستی کا پروپیگنڈہ کیا لیکن خود صاحبزادگی کا شکار ہوگئی، مولانا انعام الحسن کے بیٹے زبیرالحسن اور مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کے درمیان کسی ایک کو نامزد کرنے پر جماعت دولخت بننے کے خطرے سے نہیں نمٹ سکتی تھی۔ جو جماعت چند منٹ کے گشت کیلئے امیر بنالیتی ہے وہ اپنا امیر بنانے سے بھی قاصر ہے ، یہ کسرِ نفسی نہیں شیطانی غلبے کی نشانی ہے۔ انصار ومہاجرین اور قریش واہلبیت میں خلافت پر اختلافات اور شدید تحفظات تھے مگر امیر پر متفق ہوگئے۔ ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا تھا کہ ابوبکر سے خلافت چھین کر آپ کو حوالہ کرنے کیلئے مسلح جوانوں سے مدد کرسکتا ہوں مگر حضرت علی نے پیشکش حقارت سے ٹھکرادی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے امارت پر قبضہ کرنے کیلئے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے چھلانگ لگائی تو حافظ حسین احمد کے خلاف منصوبہ بندی سے عبدالغفور حیدری کو جتوایا۔ جس کا بروقت ہم نے اظہار کیا تھا۔ اب شیرانی صاحب کو بلوچستان کی امارت سے ہٹادیا گیا تو شیرانی کو سازشیں یاد آنے لگیں۔ مولانا مودودی نے بھی میاں طفیل محمد کو منتخب کرواکر جماعت اسلامی کو طفیلی بنادیا تھا۔ پھر سید منورحسن کو ہٹاکر سراج الحق کو طفیلی بن کر اپنا فریضہ ادا کرنا ہے۔
ریاست نے طفیلی سیاستدان بنائے اور سیاسی جماعتوں نے طفیلیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر چیز دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی خامیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ مولانا الیاس قادری کے فرانس میں مراکز ہونگے جسکا احتجاجی طریقہ یہ ہے کہ مزید مدرسے بناؤ۔ تحریک لبیک کے کارکن ہم مسلکوں کیساتھ فیصلہ کریں کہ تعلقات خراب کرنے یا مزید بڑھانے ہیں؟۔اگر صحافی عمران خان نے فرانس کی امداد کو بچانے کیلئے ویڈیو بنائی تو یہ زیادہ خطرناک کھیل ہے ۔ قادیانیوں کو پنجاب بدرکیا گیا تو اسرائیل ویورپ میں خوش ہونگے۔پختون ہاتھ صاف کردینگے کہ شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی پر عمل ہوگا لیکن اگر مغربی بارڈر افغانستان سے مشرقی بارڈر کشمیر کیلئے بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پنجاب میں فساد کھولا گیا تو بہت خون خرابہ ہوگا۔ یہودی سازشوں سے پہاڑ بھی ہل سکتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو حکمت عملی کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہوگا ۔قادیانی مذہب کم مافیا زیادہ ہے مگر مسلم فرقوں کا بھی یہی حال ہے۔ اسلام سے ہی پاکستان عالمِ انسانیت کا دل جیت سکتاہے ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

www.zarbehaq.com

پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کابڑا بہترین راستہ ہے

اداریہ: تیسر کالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان واضح اعلان کرے کہ اگر اسرائیل نے ایران ، ترکی، سعودی عرب سمیت کسی بھی مسلم وغیرمسلم ملک پر حملہ کیا تو پاکستان اس کو نیست ونابود کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ قرآن نے مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے قوت مدافعت کے فطری قانون کو ایک ایسی بنیاد قرار دیا ہے کہ اگر قوت مدافعت نہ ہوتی تو پھرمجوسی، عیسائی ،یہودی اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ بھی نہ ہوسکتا تھاجن میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی اور مشرکین کو قرار دیا، بھارت اوراسرائیل پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
پاکستان بہت واضح اعلان کرے کہ علامہ اقبال نے فرشتوں کے گیت میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی دعوت دی تھی لیکن آج پاکستان کے سفیدوسیاہ کے مالک جاگیردار اور سرمایہ دار بن گئے ہیں۔
اُٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخ امراء کے درودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
ہمارے مقتدر طبقات سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے رشوت لیکر کھربوں کی سبسڈی غریبوں کے نام پر گندم ، چینی اور بجلی وغیرہ کے حوالے سے دیتے ہیںمگر مہنگائی کا سارا بوجھ غریب طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پہلے ایم کیوایم کے کارکن اور لیاری امن کمیٹی کے بدمعاش بھتہ لیکر بڑوں کو پہنچاتے تھے اور اب پولیس اور رینجرز کے سپاہیوں پر تحفظ کے بدلے بھتوں کے چرچے عام ہیں۔ CPLCایک غیرحکومتی تنظیم اور پرائیویٹ NGOہے لیکن PECHSمیں دفاتر سے بھتہ لے رہی ہے۔ اگر ریاست اور حکومت اسکے پیچھے نہ ہو تو عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے نام باعزت شہریوں سے بھتہ کیسے لے سکتے ہیں؟۔ رہائشی مکانات میں سکول ، دفاتر اور مساج سینٹر بنانے والوں کو پہلے قانونی نوٹس جاری کرتے ہیں اور پھر عدالت کے ذریعے فریق بن کر کام بند کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور متاثرہ فریق بھتہ دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو عدالت میں اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔
قومی ، لسانی،سیاسی ، سماجی، مذہبی اور امن کمیٹیوں کے نام پر بدمعاش طبقے کا راج ہوگا اور عدالت ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شریفوں کی داد رسی کے بجائے بدمعاشوں کی پشت پناہی ہوگی تو اس کا نتیجہ خونی انقلاب اور ملک ٹوٹنے کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر ہر ادارے کے لوگ نچلی سطح سے لیکر اوپر کی سطح تک اپنا احتساب کریں اور کھاؤ پیو ، عیش اُڑاو کا راستہ روکیں تو پاکستان کی ریاست کیلئے عوام جان، مال اور عزت سب کچھ کی قربانی دے سکیںگے۔ ایک طرف بین الاقوامی طور پر ہمیں پراکسی جنگ میں جھونکا جارہاہے، دوسری طرف خطے کے ممالک نے پراکسی جنگ میں ڈالا ہوا ہے اور تیسری طرف ہم آپس میں بھی پراکسی جنگ لڑرہے ہیں۔
وزیرداخلہ بریگڈئیر اعجازشاہ کا بیان آیا کہ ” ANPنے ریاست کے خلاف بیانیہ پیش کیا تو پشاور کے بلور برداری اور میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو مار دیا، اب ن لیگ نے وہی بیانیہ اپنایا ہے تو طالبان ان کو مار ینگے”۔ جس پرANP نے اسلام آبادتک احتجاجی لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ اپوزیشن نے بھرپور طریقے کہا کہ ماراماری کے پیچھے ریاست کے جرم کا اعتراف ہورہاہے۔ منظور پشتین کے نعرے کو تقویت مل گئی کہ ”یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے”۔ اعجازشاہ نے باچا خان مرکز جاکر معذرت کرلی اور ANPنے وزیرداخلہ کو معاف کردیا۔
ANPمیں ہزاروں خوبیاں ہیں مگر پشتو نام کی چیز نہیں۔ ANP کہتی ہے کہ گلبدین حکمت یار کو ویلکم کرنے والے جماعت اسلامی، سراج الحق اور مولانا سمیع الحق کا بیٹا،عثمان کاکڑ پختونوں کی قاتل ریاستی دہشتگردی کو سپورٹ کررہے ہیں۔ پھر تو اعجاز شاہ کے بیان کا خیرمقدم کرنا تھا کہ یہ تو ANPاور بہت سے لوگوں کا بیانہ ہے۔ جنرل راحیل اور جنرل باجوہ سے پہلے یہ بیانیہ زبانِ زد عام تھا۔ الیکشن میں بعض جماعتوں کو کھلی چھوٹ تھی جیسے PTI اور مسلم لیگ اور بعض پر خودکش حملے ہوتے تھے جیسے پیپلزپارٹی اور ANP۔ اگر اسفندیار ولی اور ایمل ولی میں تھوڑی غیرت ہوتی جس کو وہ پشتو کلچر کی بنیاد سمجھتے ہیں تو وزیرداخلہ برگیڈئیر اعجازشاہ کے بیان پر احتجاج کی بجائے خیرمقدم کرتے۔اپوزیشن سمجھ رہی ہے کہ اعجازشاہ کے بیان سے لیکر پشاور بم دھماکے اور آئی ایس پی آر کے بیان تک تسلسل سے اپوزیشن کا راستہ روکنے کا بیانیہ ہے لیکن یہ ریاست وسیاست ملک وقوم کیلئے بہت تباہ کن ہے۔
منظور پشتین ہر تقریر میں قسمیں اٹھاکر کہتا ہے کہ ”میں نہ بکا ہوں اور نہ بکوں گا اور نہ میں ڈرتا ہوں اور نہ ڈروں گا”۔ ہمارا یہ وطیرہ ہے کہ جو بہادری کی داستان سناتا ہے اس کو لیڈر ماننا شروع کردیتے ہیں۔ نبیۖ نے ہجرت کرکے وطن مکہ چھوڑ ا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون سے بھاگ کر چلے گئے۔ پیغمبری اور معجزات ملنے کے باوجود جب دریا نے راستہ دیا تووہ لڑنے کیلئے نہیں رُکے،البتہ فرعون کو لشکر سمیت پیچھا کرنے پر اللہ نے غرق کیا۔ جو بکتے ہیں وہی نہیں ڈرتے۔ خوف انسان کے بس کی بات نہیں ۔تبلیغی جماعت نے شیروںسے ملنے کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔ مستقبل کی خبر کوئی نہیں جانتا ہے۔ اگر کوئی بکنے اور ڈرنے والا نہ ہو تو عوام کو یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ جب نوازشریف اور اپوزیشن سمیت پورا ملک اس بیانیہ کیساتھ کھڑا ہوگیا ، وکیلوں نے بھی وہ نعرے لگانے شروع کردئیے جو منظور پشتین کی شناخت تھے تو پشتین نے مسکین بن کر وہ نعرے لگانے کے بجائے قوم کی اصلاح شروع کردی۔ مانا کہ نہ بکے ہو اور نہ جھکے ہو لیکن قسمیں مت کھاؤ اور بس!۔
باچا خان سے ایمل ولی تک اس پختون قوم کے مایہ ناز خاندان کی ہزاروں خوبیان مسلمہ ہیںمگر جب امیر حیدر خان ہوتی وزیراعلیٰ تھے تو جمعیت علماء اسلام کے مفتی کفایت اللہ نے پانچ اضلاع پشاور ، چارسدہ،مردان، سوات، بنیر کے بارے میں قرار داد پیش کی کہ عورتوں کو نکاح کے نام پر بیچا جارہاہے ، پابندی لگائی جائے۔ جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ کیا خدائی خدمتگاروں سے لیکر موجودہ دور کی ANP تک کسی نے پشتون عورت کے حقوق کیلئے کبھی آواز اٹھائی ؟۔ پشتوغیرت کی تعبیر عورت سے زیادہ کوئی چیز نہیں اور عورت کے معاملے میں بے غیرتی برتی جائے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ منظور پشتین نے بہت اچھا کیا کہ عورت کے حق پر آواز اُٹھائی لیکن جب پیسوں کی بنیاد پر کوئی قوم عورت کے معاملے میں غیرت نہیں کھاتی ہو تو اسکے جوان پیسوں کیلئے نہ بکتے ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے؟۔جب وزیرستان میں PTM کی لال ٹوپیوں کو جلاگیا تو منظور پشتن کو اپنی قوم کی اصلاح یاد آگئی مگر تعصبات ایک ایسا کینسر ہے جس کو سرحدات تک محدود رکھنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
مولانا بجلی گھر بڑے خطیب تھے ،ان کی تقریر مولانا فضل الرحمن کی حمایت اور مخالفت میں مریم نواز کیساتھ ویڈیو میں پیش کی جاتی ہے لیکن تہبند کی مخالفت کی واحد وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ مولانا نے احرام میں تہبند پہنا ہوگا۔ حجراسود کو چومنے کے دوران ہجوم میں ان کی بیگم سے کوئی بدتمیزی ہوئی ہوگئی جس پر صاحبہ نے مولانا کو انگلی چڑھائی ہوگئی کہ بے شرم مجھے کہاں لائے ہو؟۔ اس وجہ سے وہ زوردار انداز میں کہتا ہے کہ ”بے شرم تہبند پہن لو”۔ وزیرستان میں طالبان نے جب بچہ بازی پرباقاعدہ ایک دوسرے کو قتل کیا تو بھی ان کو روکنے اور ٹوکنے والا کوئی غیرتمند نہیں تھا۔

www.zarbehaq.com

اپنی قوم، اپنے ملک، خطے اورعالمِ انسانیت پر رحم کرنا!

اداریہ: دوسر اکالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میرے مرشدحاجی محمد عثمان نے زندگی تبلیغی جماعت میں گزاری۔ بڑی خوبی یہ تھی کہ مریدوں کا دسترخوان لگتا تو اسی دسترخوان پر کھاتے۔ تبلیغی جماعت کے اسٹیج سے وعظ کرتے تو اکابر میں ہوتے مگراجتماع میں عوام کیساتھ بیٹھتے۔رائیونڈ میں کھانا بھی اکابر کیساتھ نہیں عوام کیساتھ بیٹھ کر کھایا کرتے۔ اکابر کی طرح مرکز میں بیٹھ کر چلے سے گریز کرنے کے بجائے بستر اٹھاکر سالانہ چلے بھی لگاتے۔ فرماتے تھے کہ جب تک ہم خود بستر اُٹھاکر عوام کیساتھ گلی کوچوں میں قریہ قریہ نہیں گھومیںگے تو ہماری اصلاح نہیں ہوسکتی۔ ان کی یہ ادا تبلیغی جماعت کے امیر مولانا محمد یوسف نے بڑی پسند کی تھی، ان کی طرف سے خصوصی اجازت تھی کہ حاجی عثمان چھ نمبروں وعظ کے پابند نہیں تھے۔ مولانا یوسف کی وفات کے بعد مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا تو حاجی عثمان سے جان چھڑانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ منظم پروپیگنڈہ کیا گیا کہ حاجی صاحب کی وجہ سے جماعت میں توڑ پیدا ہورہاہے، جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے اور جماعت کے اسٹائل اور ماڈل میں امتیازی صورت پیدا ہورہی ہے۔
حاجی عثمان کے بیان پر اجتماع و مراکز میں پابندی لگی مگر منبر تک حاجی عثمان کی رسائی تھی۔ ایک مرتبہ ایک تبلیغی نے خواب سنایا کہ مفتی محمود نے کہا کہ ”اگر مجھے تبلیغ کی افادیت کا دنیا میں پتہ ہوتا تو سیاست اور دیگر خدمات کی بجائے زندگی تبلیغی جماعت میں گزارتا” ۔ حاجی عثمان نے منبر پر چڑھ کر ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ ” مفتی محمود نے ختم نبوت کیلئے قربانی دیکر جیل میں انگلی سڑائی تھی ۔ سارے تبلیغی جماعت والے مل کر بھی مفتی محمود کی اس خدمت کو نہیں پہنچ سکتے ہیں جو انہوں نے ختم نبوت کیلئے دی ہے۔ مفتی محمود نے رسول اللہۖ کی جوارِ رحمت کے فیضان میں جگہ پائی ہے،ہم تبلیغی جماعت کی یہ اوقات نہیں کہ جھوٹے خواب بیان کرتے پھریں” ۔
حاجی عثمان کی خانقاہ میں بیان صرف مریدوں کیلئے ہوتا تھا، ایک بیان کیلئے اس وقت کے مرکز مکی مسجد کراچی کے اجتماع میں اعلان کروادیا کہ تبلیغی جماعت والے بھی اس بیان میں شرکت کرسکتے ہیں۔ جس میں اس پر زور تھا کہ رسول ۖ نے جماعت میں شخصیات پیدا کئے اور شخصیت کے بغیر جماعت بھیڑ ہے۔ وہ آڈیو کیسٹ شیخ الحدیث مولانا زکریا کوبھیج دی۔ مولانا زکریا نے تبلیغی اکابر کو بٹھاکر کیسٹ سنائی اور ان کو سختی کیساتھ حاجی عثمان کیخلاف سازشوں سے روک دیا۔ مدینہ میںحاجی عثمان کے وعظ میں مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مولانا فقیر محمد رو روکر گھومنا شروع کردیتے۔ مولانا فقیرمحمد نے کہا کہ ”مجھے الہام ہوا کہ حاجی امداداللہ مہاجرمکی کی نسبت سے باطنی خلافت آپ کو پیش کردوں”۔ حاجی عثمان نے فرمایا کہ ”مجھے تو الہام نہیں ہوا ۔ مجھے یہ اجازت مل جائے تو”۔ مولانا فقیر محمد نے مدینہ منورہ مسجد نبویۖ میں 27رمضان لیلة القدر کو اپنے ورود کا بتایا تو حاجی محمد عثمان نے قبول کرلیا ۔ مولانا فقیرمحمد نے جس انداز میں خلافت نامہ لکھ دیا اور قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا تو ایک ایک جملہ حقائق کی وضاحت کرتا ہے۔ عرصہ بعد مولانا فقیرمحمد نے اعلان کیا کہ ”میں نے خلافت واپس لی ہے ” لیکن اسکا حاجی عثمان کی ذات اور مریدوں پر کچھ اثر نہیں پڑا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی احمد الرحمن اور مفتی ولی حسن نے مولانا فقیرمحمد سے کہا کہ یہ خلافت درود سے دی تھی یا کسی کی مشاورت سے؟۔ کہنے لگے کہ خلافت ورود کی وجہ سے دی تھی لیکن سلب مشاورت کی وجہ سے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی اعتبار سے یہ درست نہیں کہ ورود کی خلافت مشاورت سے سلب کی جائے۔ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کے لیٹر پیڈ پر مولانا فقیر محمد نے لکھ دیا کہ ”میں نے حاجی محمد عثمان کو خلافت ورود سے دی جو تا حال قائم او ر دائم ہے”۔ مفتی احمد الرحمن ، مفتی ولی حسناور مفتی جمیل خان کے بطور گواہ دستخط ہیں۔تبلیغی جماعت اور حاجی محمد عثمان کے مریدوں میں جھگڑے ہونے لگے تو حاجی عثمان نے اعلان کیا کہ جو مرید تبلیغی جماعت میں کام کرنا چاہیں تو خوشی سے اجازت ہے مگر جو مرید بن کر رہیں وہ جماعت میں نہ جائیںاسلئے کہ انتشار کی فضاء بن رہی ہے۔
تبلیغی جماعت نے طوفان برپا کرنے کی کوشش کی مگر مولانا خان محمد کندیاں امیر تحفظ ختم نبوت نے تبلیغی اکابر کو سمجھایا کہ قادیانی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔مفتی محمد تقی عثمانی ،مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی رشید احمد لدھیانوی نے تبلیغی جماعت کیخلاف فتویٰ داغ دیا کہ اکابرین اس جماعت کو کشتی ٔ نوح قرار دیکر گمراہی پھیلارہے ہیں۔ فتویٰ لینے والے تبلیغی جماعت کراچی کے امیر بھائی یامین کے صاحبزادے مولانا زبیر تھے، عبداللہ کے نام سے فتویٰ لیا۔ شرپسنداس محاذ پر مکمل ناکام ہوگئے مگر مخصوص افراد سازش کا حصہ ہوتے تھے لیکن مولانا زکریا کے خلفاء اور تبلیغی جماعت کا مخلص طبقہ اس کا شکار نہیں تھا۔ بلکہ وہ اس مہم جوئی کی اندرونِ خانہ مزاحمت بھی کرتا تھا۔ حاجی عثمان کے مرید حاجی شفیع بلوچ نے بتایا کہ” ایک مرتبہ پیپلزپارٹی کے رہنما شفیع جاموٹ نے کہا کہ تمہاری خانقاہ میں قادیانی گھسے ہیںجو اندر بیٹھ کر سازش کررہے ہیں تو میں نے کہا کہ غرق ہوجاؤ ،قادیانی کیا سازش کرینگے مگر جب اندر سے سازش ہوئی اور فتویٰ لگا تو معلوم ہوا کہ وہ درست کہہ رہا تھا”۔ فوج کے اعلیٰ افسران خانقاہ سے نہ صرف بھاگے تھے بلکہ ایک بریگڈئیر نے دھمکی آمیزفون کیا تو حاجی شفیع بلوچ نے جواب دیا کہ ”جو رات قبر میں لکھی ہوئی ہے وہ باہر ویسے بھی نہیں ہوسکتی ہے”۔
حاجی عثمان کیخلاف فتوؤں میں اپنے خلفاء استعمال ہوگئے۔ علماء نے بہت گھٹیا کردار صرف پیسوں کیلئے ادا کیا۔ زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں لیکن چشم فلک نے یہ تماشا دیکھا ہے کہ ایمان والوں کی شمعیں کس طرح بجھ رہی تھیں۔جب موقع تھا کہ فتویٰ لگانے والے اکابر علماء ومفتیان سے بدلہ لے سکتے تھے کیونکہ حاجی عثمان کی حسد میں سیدعبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ،مولانا یوسف بنوری اورشیخ الحدیث مولانا زکریا پر بھی کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگا چکے تھے لیکن حاجی عثمان نے منع کردیا کہ بدلہ نہیں لینا ہے، حالانکہ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے، بکروں کو ذبح کردینا ، ٹانگیں ہلائیںگے تو ہم پکڑ لیںگے۔
حضرت آدم کے بیٹے ہابیل اور قابیل میں مذہبی، لسانی، قومی، ملکی تعصبات کی نہیں شیطانی اور نفسانی جنگ تھی۔ ہابیل کی قربانی اللہ نے قبول کی تو قابیل کو قتل کی پڑی۔ ہابیل نے کہا کہ میرا ہاتھ آپ کو قتل کرنے کی طرف نہیں بڑھے گااسلئے کہ مجھے اپنے اللہ اور اپنی آخرت کا خوف ہے۔ حضرت یوسف نے بھائیوں کو معاف کیا اور نبیۖ نے اپنی دشمن مشرک قوم کو مکہ میں معاف کیا۔میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا مذہبی تعصبات کے خاتمہ میں بنیادی کردار تھا۔ طالبان و ریاستی اہلکاروں نے ہم پر باہمی مشاورت سے حملہ کیا تو مہمان اور خواتین سمیت 13افراد شہید ہوگئے تھے اور فرانس نے اس خبر کوبڑی اہمیت دیکر شائع کیا۔ مجھے پیرس جانے کا موقع ملا، اس وقت چاہت کے باوجود سیاسی پناہ اسلئے نہیں لی کہ امریکہ کیخلاف جنگ میں اپنوں کو نقصان نہیں پہنچے۔ آج ہندوستان اور اسرائیل سمیت ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے کہ شیطان کا تباہ کن منصوبہ ہار جائے اور انسانیت اور اسلام کو فتح ملے۔
قرآن انسانیت کو بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انگریز کی باقیات کا نظام پختون، سندھی، بلوچی، پنجابی اور مہاجر کلچر اور اعلیٰ ترین روایات کو بھی تباہ وبرباد کر رہاہے۔ جب پاکستان کا ریاستی نظام ٹھیک ہوگا تو پوری دنیا پر ہم امامت کرینگے۔

www.zarbehaq.com

بقول اقبال مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

اداریہ، پہلا کالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ اقبال نے طلوع اسلام کی خبر دی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی لعنت اللہ علیہ کو علامہ اقبال نے مجذوب فرنگی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جانِ فرنگ پنجۂ یہود میں ہے اور اس بات کو دنیا اچھی طرح سے سمجھ رہی ہے کہ جس طرح یہود کیساتھ عیسائیوں کی نہیں بنتی ،اسی طرح سے مسلمانوں کی مرزائیوں کیساتھ نہیں بنتی۔ البتہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی جان فوج میں ہے ،عالم اسلام کی جان پاکستان میں ہے ، پاک فوج کی جان پنجاب میں ہے اور پنجاب کی جان مرزائیت میں ہے۔
پرویزمشرف کے دور میں ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی و چوہدری شجاعت سیاست کے محور تھے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر تھے جس کو ن لیگ اور عمران خان نے بھی سپورٹ کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کے وال چوہدری برادران نے امریکن پاکستانی نژاد قادیانی ڈاکٹر مبشر سے تبدیل کروائے۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ کر اپنی غیرت ایمانی پر مٹی ڈال کر قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرنے میں عافیت سمجھی ہو کیونکہ مولوی سمجھتاہے کہ ”جان ہے تو ایمان ہے” اور اس کی ساری زندگی ایمان بنانے پر نہیں جان بنانے پر ہی لگتی ہے۔ ہر ملک ، ہر فرقے ، ہر مسلک اور ہر ماحول میں مولوی زندگی کی معمولی آسائش کے بدلے ایمان کی قربانی دیتا رہتا ہے۔ جس سود کو قرآن نے اللہ و رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا ہے ، علماء کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان اس پر معاوضہ لیکر اسلام بیچ رہے ہیں۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبر بادشاہ کے سامنے تعظیمی سجدہ سے انکار کرکے خود کو تاریخ میں امر کردیا تھا۔ دوسرے مولوی اس بحث میں پڑگئے تھے کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے یا حرام ہے۔جو کفر قرار دے رہے تھے تو ان پر حرام والوں کا علمی وزن بھاری تھا اسلئے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں اور حضرت یوسف علیہ السلام ، بھائیوں اور والدین کے سجدوں کا ذکرہے۔
مشکل یہ ہے کہ بریلوی دیوبندی مکاتبِ فکر کے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن وشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی سود کو جواز فراہم کررہے ہیں جن کو منصب سے علماء اتارتے بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے باپ مفتی محمود کہتے تھے کہ امریکی کیپٹل ازم کے مقابلے میں کمیونزم اسلام کے زیادہ قریب ہے اور مولانا مودودی کہتے تھے کہ کمیونزم کے مقابلے میں کیپٹل ازم اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ مفتی محمود اور اس کی جماعت پر اسی وجہ سے علماء دیوبند نے کفر وگمراہی کے فتوے لگائے تھے۔ اس فتوے کا سرغنہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی و شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع تھا جس کی روحِ رواں جماعت اسلامی تھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے سودی زکوٰة پر ہاتھ مارالیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود اور اسکے بیٹے مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی۔ اب تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی وشیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام کو جواز عطاء کرکے جب عالمی کفر کے نظام میں چاروں شانے چت ہوگئے تو مولانا فضل الرحمن نے اس کو اپنا براق سمجھ کر سوار ہوگئے اورترقی وعروج کے اس سفر میں معراج پرپہنچ گئے ہیں۔
علماء ومفتیان کا کام دینِ حق کی پاسداری تھی لیکن کبھی پاسبان ملتے تھے بت خانے سے اور اب عالمی سودی اور یہودی نظام کو پاکستان سے سواری اورشہسوار مل گئے ہیں۔ جب اسلام نازل ہوا تھا تو کافر سے نفرت نہیں تھی بلکہ کفر سے نفرت تھی۔ یہود سے نفرت نہیں تھی بلکہ یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت تھی۔ آج ہمیں یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت نہیں بلکہ یہودیوں سے نفرت ہے، مرزائیوں کے نظام سے نہیں بلکہ مرزائیوں کی ذات سے نفرت ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور PDMکے چیئرمین مولانا فضل الرحمن دونوں مفتی محمد تقی عثمانی کے آستانے سے عقیدت ومحبت رکھتے ہیں جو زیب وزینت کیلئے خواتین کیلئے تھوڑے سے بال کاٹنے کو بھی جائز نہیں سمجھتا لیکن اپنے بدنمادانت نمائش کیلئے نکال باہر کئے ہیں۔ حالانکہ حج وعمرے میں خواتین تھوڑے سے بال کاٹتی ہیں، حضرت عائشہ نے نبیۖ کے وصال کے بعد اپنے بال اسلئے کاٹ دئیے تھے کہ نبیۖ کے بعد زینت کی ضرورت نہیں ۔ قرآن میں نابینا ،لنگڑے اور مریض کیلئے حرج نہیں کہ اس کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں کھانا کھلایا جائے، اسی طرح ماں، باپ، بھائی اور بہن کے علاوہ چاچا، ماما، پھوپھی، خالہ اور دوست کے گھر میں بھی کھانا کھانے کی اللہ نے اجازت دی ہے، چاہے الگ الگ کھائیں یا اکٹھے کھانا کھائیں۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ نبیۖ اور صحابہ کرام کی دعوت ولیمہ میں دلہے اور دلہن نے خدمت کی تھی۔ قرآن وحدیث میں شرعی پردے کا وہی تصور ہے جو پختون، پنجابی، سندھی اور بلوچ کلچر کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں میں پہلے سے موجود تھا۔
نالائق علماء طبقے نے پہلے شاہ ولی اللہ پر کفر کے فتوے لگائے کہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیوں کیا ہے؟۔ واجب القتل کے فتوؤں نے دو سال تک روپوش ہونے پر مجبور کیا۔ حالانکہ سندھی زبان میں اس سے بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ سندھی علماء مساجد میں جمعہ کے خطبات بھی عربی کے بجائے سندھی میں پڑھتے تھے اور یہ روایت سندھ میں اب بھی موجود ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو فقہی مسالک میں الجھاؤ کی وجہ سے قرآن کی تفسیر بھی بالکل غلط لکھ ڈالی اسلئے کہ قرآن میں اجنبی اور نامحرم نابینا، لنگڑے اور مریض کو گھروں میں کھلانے کی اجازت کی وضاحت تھی مگراس کی تفسیر یہ لکھ دی کہ ” جمعہ کی نماز اور جہاد میں رخصت مراد ہے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تُک نہیں بنتا ہے۔ اسلام کا بالکل حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اقدام نہیں کیا تو مغرب سے نکلنے والا طوفان ہمیں مسلمان ہونے پر مجبور کردے گا۔ اسٹیج پر مسلم لیگ کی عابدہ اور تہمینہ کی مخالفت کرنے والی جمعیت علماء اسلام مریم نواز کی حمزہ شہباز سے جھپی اور پپی کو درست قرار دے دیگی اسلئے کہ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں۔
جب مسلم لیگ کی حکومت کیساتھ مولانا فضل الرحمن شریک اقتدار تھے تو پھر مذہب کے خانے میں حکومتی سطح پر سازش کرنے والوں کے خلاف شیخ رشید نے آواز اٹھائی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرف سے ختم نبوت کیلئے قربانی کی یاد دلاکر اس سازش کے خلاف جمعیت علماء اسلام کو اٹھنے کی دعوت دی گئی۔ شیخ رشید کہتا ہے کہ ”علماء نے دو دفعہ مجھے مارنے کی کوشش کی ”۔ جب فیض آباد دھرنے کی وجہ سے کسی وزیر کو سازش کا مرتکب قرار دیکر فارغ کیا گیا تھا تو یہ پرانی بات نہیں ہے۔ حکومت ہی نے پاک فوج سے کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی سے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کیا جائے۔ جب مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم ہوگیا تو پاک فوج کے اہلکار نے ایک ایک ہزار کے لفافے کارکنوں میں واپسی کے کرایہ کیلئے دئیے۔ اب عدالتی سطح پر یہ تأثر دیا جارہاہے کہ یہ فوج کی سازش تھی ، دھرنے والوں کو پیسہ دیا گیا لیکن دوسری طرف حامدمیر کہتا ہے کہ موجودہ حکومت میں قادیانیوں کو بہت سپورٹ مل رہی ہے۔ ترکی اور ایران کے خلاف عرب ممالک اسرائیل کی سپورٹ لینے پر مجبور ہیں اور اسرائیل کی فوج میں پاک فوج کے لوگ بھرتی ہیں۔ اسرائیل کی پشت پر امریکہ ہے اور امریکہ کی گود میں ہماری فوج اور سیاستدان کھل کر کھیلتے ہیں۔ اب اس طوفان مغرب سے کیا ہم مسلمان بننے کیلئے تیار ہیں یا نہیں ہیں؟۔

www.zarbehaq.com

بہنوں کی شادی پر ایک روپیہ نہ لوں گا۔ منظور پشتین کا اعلان

دنیا کی کوئی قوم نہیں جو کسی گناہ پر متفق ہو لیکن پشتون قوم نے عورتوں کو حق نہ دینے پر متفق ہے سب سے پہلے میں گھر سے ابتداء کر کے بہنوں کی شادی پر ایک روپیہ نہ لوں گا۔ منظور پشتین کا اعلان

دوستو! ہمارا یہ مسئلہ ہے کہ خیلوں کے درمیان لڑائی ہے، خاندانوں کے درمیان لڑ ائی ہے ۔ خدا قرآن کا واسطہ کہ سو سال سے ہزاروں لاکھوں افراد ایک دوسرے کے قتل کئے تمہیں اس کا کیا صلہ ملا ؟ کیا خیر پہنچاہے؟۔ کوئی خیر نہیں پہنچا ۔ پنجابیوں نے کلومیٹروں کی زمین لے لی لیکن تم نے کچھ نہیں کہا اور اپنے عزیزوں کو اپنی زمین پر نہیں چھوڑتے ۔ یہ غیرت نہیں اپنے عزیز کو اپنی زمین پر قتل مت کرو ، اپنے بھائی کو قتل مت کرو۔ وہ معاشرہ اور وہ سوسائٹی جو عزیزانہ مخاصمت کی بنیاد پر کھڑی ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی ہے۔ یہاں اگر کوئی اسلام لاتا ہے شریعت لاتا ہے تو وہ بھی اسی مخاصمانہ تکبر کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوسکتا اگر کوئی سوشلزم لاتا ہے تو بھی مخاصمانہ تکبر کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ یہاں کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسلئے کہ ہمارا معاشرہ اسی عزیزانہ مخاصمت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ آج سے یہ عہد کرنا ہے کہ عزیزانہ مخاصمت نہیں بلکہ آپس کا بھائی چارہ ہے۔ ہم ایکدوسرے کے بھائی ہیں پختون ایکدوسرے کے ساتھ کسی صورت میں نہیں لڑینگے۔ جنگوں سے نکلنا ہے اور عورتوں کے حقوق دینے ہیں۔ ایک بھی دنیا میں ایسی قوم نہیں جس نے کسی گناہ پر اتفاق کیا ہو کہ اس کو بہر صورت کرنا ہے۔ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر بحیثیت قوم اتفاق کیا ہے کہ ہم نے کسی کو پیسوں کے بغیر نہیں دینا ہے۔ یہ کام بند کرو۔ اپنی بہنوں اور ماؤں کے حقوق کی تلفی ہمیں تباہ کریگی۔ یعنی بیٹیوں اور بہنوںکی شادی کرانے پر زیادہ زیادہ پیسے وصول کرنا ۔ سب سے پہلے میں نے گھر سے یہ ابتداء کی کہ جب بھی میری بہن کی شادی ہوگی تو اس پر میں ایک روپیہ بھی نہیں لوں گا۔ میں نے ابھی بھی ایسا کیا ہے ۔اگر میری بہن میرے گھر سے جاتی ہے تو میں کیا اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ اس کیلئے جہیز لوں۔ عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے ۔ اپنے پڑوسیوں اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے لڑنا جھگڑنا چھوڑ دو۔ میں اپنی قوم کا دل کیسے جیتوں؟۔ ایک طرف میری قوم کہتی ہے کہ انقلاب لاؤ دوسری طرف خیلوں میں معمولی زمینوں پر جھگڑے ہیں۔ کیسے انقلاب لائیں ان سب میں نا اتفاقی ہے۔ ہمیں ایک کام بتاؤ کہ اپنی قوم کو متحد کریں یا دشمن سے ٹکر لیں؟۔ دشمن ہمارے گھر میں گھسا ہے ہم اس کیلئے کھڑے ہوں یا جو اپنے بھائی آپس میں لڑ رہے ہیں ان کو دیکھیں PTMسے کون ناراض ہے اور کس لئے ناراض ہے؟۔ صرف اسلئے ناراض ہے کہ وہاں پر پکوڑے کھارہے ہیں۔ یہ بہت چالاک ہیں۔ گاؤں علاقے میں ایک آدمی کو ٹھیکہ دیتے ہیں ، پھر اس کو پکوڑے کھلاتے ہیں اور پھر اس کو چند میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں ۔ پھر اس کو قوم کی دشمنی کیلئے کھڑا کردیتے ہیں۔ یہ کام وہ چھوڑ دیں۔ قسم سے اس وقت تک یہاں کے حالات کی درستگی نہیں ہوسکتی کہ جب تک ہم آپس میں لڑنا جھگڑنا نہ چھوڑیں۔ دوستو! میں ہمیشہ دشمن کو مخاطب کرتا تھا اور آج اپنی قوم کو سمجھارہا ہوں۔ یہ لڑنے والا کام چھوڑ دیں جس کے جھگڑے ہوں وہ ایکدوسرے کو معاف کریں۔ ہم ایک ایک گھر کے پاس کھڑے ہوکر ان کو نہیں سمجھاسکتے ہیں تاہم ایک مصالحتی کمیٹی بنالیتے ہیں جو ہر جگہ پر پہنچے اور وہ جھگڑوں کا خاتمہ کردے۔ ان جھگڑوں نے بہت رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔ ان کو بند کردیں۔ آپس میں بھائی چارہ بنالیں۔

مختلف ادوار میں شہید کئے جانے والے مسلم سائنسدانوں کیخلاف سازشیں

مختلف ادوار میں شہید کئے جانے والے مسلم سائنسدانوں کیخلاف سازشیں جس سے عافیہ صدیقی پر دہشتگردی کے الزام کی جھوٹی کہانی اور ڈاکٹر سلام مرزائی کو نوبل انعام کی بات عیاں ہوگئی ۔

سمیرہ موسیٰ:ایٹمی طاقت کو میڈیکل کے کام میں لانے اور ایٹمی بجلی پیدا کرنے پر ایجادات کیں مصر سے تعلق تھا 1952 میں امریکہ کے دورے کے دوران شہید کیا گیا۔

سمیر نجیب: ایٹمی سائنسدان تھے۔امریکہ میں کام کیا، مصر جانے کا فیصلہ کیا تواس کی سائنسی تحقیقات کے مسودات کو چوری کرلیاگیا، پھر 1967ء میں انہیں قتل کردیا گیا۔

سعید بدیر: مصر کے تھے میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر، بطور خاص Rocket Engineering کے شعبے میں قابل قدر علمی تحقیقات بہم پہنچائی ہیں۔کافی عرصہ جرمنی میں سیٹلائٹ فیلڈ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں بھی 1989ء میں قتل کردیا گیا۔

سلویٰ حبیب: یہ کویت کی خاتون محققہ،جس نے صیہونیوں کی جانب سے عالم عرب اور افریقہ کے خلاف تیار کئے گئے خفیہ سازشوں اورکئی منصوبوں کو طشت از بام کیا، نیز تاریخ یہود اور Rothschildکے بارے میں متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ انہیں ان کے رہائشی فلیٹ میں ذبح کردیا گیا۔

حسن کامل الصباح: لبنان سے تعلق ماہر انجینئر تھے (انہیں عالم عرب کا ایڈیسن بھی کہا جاتا ہے) الیکٹریکل انجینئرنگ شعبے میں 173 ایجادات ہیں۔1935ء میں امریکہ میں قتل کردیا گیا۔

ڈاکٹر سامیہ میمنی: سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی میڈیکل ڈاکٹر۔ ان کی علمی تحقیقات نے ہارٹ آپریشن کے زاویے بدل کر رکھ دیے۔ آپریشن کے اس نہایت پیچیدہ پروسس کو سہل اور آسان تر بنانے کیلئے ایک آرام دہ عصبی آلہ ایجاد کیا۔ انہیں 2005ء میں قتل کرکے ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقات کے مسودات کو چرالیا گیا۔

مصطفی مشرفہ: یہ مصر سے تعلق رکھنے والے فزکس کے ماہر سائنسدان تھے، عرب کا آئن سٹائن کہلاتا تھا، 1950 ء میں انہیں موساد نے زہر دے کر قتل کروادیا۔

حسن رمال: لبنان کے یہ سائنسدان فزکس کے شاہسوار تھے، 119سے زائد سائنسی ایجادات اور سائنسی تحقیقات کی ہیں۔ 1991ء میں انہیں فرانس میں قتل کردیا گیا۔

یحییٰ المشد: مصر ی ایٹمی سائنسدان مصر کے جوہری پروگرام کے مؤسسین کے سرخیل تھے، نیز انہیں عراق کے ایٹمی پروگرام کا بابا بھی کہا جاتا ہے۔ ایٹمی ری ایکٹر کے بارے میں انکے تقریباً 50 تحقیقی مقالے ہیں۔ انہیں 1980ء میں فرانس کے شہر پیرس میں قتل کردیا گیا۔

اے ایس آئی محمد بخش کی بہادری اور 13 سالہ آرزو راجہ کی شادی

پولیس والے کے گھروالوں نے مظلوم عورت اور اس کی یرغمال بچی کوبازیاب کرانے کیلئے جو کام کیا اس کا کریڈٹ سندھ پولیس ، کلچر اور دھرتی کو یقینا جاتا ہے لیکن اصل کردار محمد بخش کے گھر والوں کا ہے۔ اگرعورت مضبوط کردار ادا کرے، خواتین کو مضبوط کیا گیا اور معاشرے میں مواقع دئیے گئے تو ہماری پاک دھرتی پاکیزہ بن سکتی ہے۔ لودھراں سے آئی ہوئی مہمان دلہن کو قائداعظم کے مزار پر زیادتی کا نشانہ بنانے والے بھی سزا سے چھوٹ گئے۔ وزیرستان کا مقولہ ہے کہ ”میرے باپ مرجائیں اور میں اچھل کود کیلئے فارغ ہوجاؤں” انگریز کے جانے کے بعد یتیم انتظامیہ نے دھرتی کے اخلاقیات کا کباڑہ کردیا۔ قائداعظم نے اپنی دختر کو غیرمسلم کزن کیساتھ جانے دیا ، اسکے مزار کے اندر کا حصہ قائداعظم کے باغی نہیں چہیتے استعمال کرتے تھے۔ مجرم کا یہ کہنا زیادہ گھناونی بات ہے کہ اس نے عورت کو 11ہزار میں خریدا لیکن یہ روش تو چل رہی ہے۔ 13سالہ آرزو سے ناجائز تعلق بڑا جرم ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”جس نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ،باطل ہے ،باطل ہے”۔ آرزو کو اسلام مبارک ہو لیکن حدیث پر عمل کرکے والدین کے پاس چلی جائے۔ مسلمان دوسرے مسلمان کی لڑکی کو ورغلائے تو جرم ہے، اگر اسلام کو ڈھال بناکر استعمال کیا جائے تو یہ مزید بڑا جرم ہے۔آرزو حدیث کی بنیاد پر شوہر کو چھوڑ کر والدین کے پاس جائے تو عیسائی دنیا اسلام کو سلام کرے گی۔

کہاوت ہے کہ” پشتو نیم کفر دا” پشتو نیم اسلام بھی ہے. تحریر: عتیق گیلانی

پشتو کی مشہور کہاوت ہے کہ پشتو آدھا کفر ہے۔ جس کا مطلب پشتو زبان نہیں بلکہ پشتون کلچر ہے۔یہ کہاوت پختون اقدار اور رسم وروایات کے حوالے سے ہے۔ جس طرح جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اسی طرح پختون روایات میں کچھ باتوں کو محض غیرت کا مسئلہ سمجھ کر اس پر عمل کیا جاتاہے ۔ اس روایت کی بڑی مثال یہ ہے کہ ” ایک پڑوسی کی دوسرے پڑوسی سے کوئی ناچاقی ہو تو پڑوسی کو اپنی ہی زمین پر چیلنج کردیتا ہے کہ تم کوئی تعمیر نہیں کرسکتے۔ جب دونوں غیرتمند بن کر اپنا اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قتل وغارتگری ہوجاتی ہے تو اس کو پختون روایات سمجھا جاتا ہے اور اس کو نیم کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ طالبان نے دہشت گرد کاروائیوں سے جہاں اپنی قوم کا بہت نقصان کرلیا ہے لیکن کافی حد تک اس نیم کفر کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ خود کش حملوں کے آگے نیم کفر اور اسلام سب بیکار تھا۔ اس کی ساری ذمہ داری ریاست پر ڈالنا بھی بہت بڑی حماقت ہے۔ دہشت گردوں کی کاروائیوں سے نیم کفر پورے کفر میں بدل گیا تھا کیونکہ نیم اسلام کیلئے بھی غیرت کا عنصر عوام میں نہیں رہاتھا۔ وزیرستان میں جن لوگوں کے گھر تک نہیں تھے وہاں ایک شناختی کارڈ پر لوگوں نے فوج کی وجہ سے بڑے پیمانے پر رقم بٹور لی جبکہ کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے لیز شدہ مکانات مسمار کئے گئے مگر ایک روپیہ بھی لوگوں کو نہیں ملا ہے۔ اگر فوج کا کردار نہیں رہا ہے اور بے غیرت سیاستدانوں کے رحم وکرم پر بے چارے عوام کا دارومدار ہوا تو بہت مشکل ہوگی۔ کوئٹہ جلسے میں کوئی مرد کا بچہ یہ کہنے کی جرأت کرتا کہ ” مجید اچکزئی نے دن دیہاڑے غریب ٹریفک پولیس اہلکار کو کچل دیا ، کیمروں کی آنکھ نے محفوظ کرکے میڈیا میں دکھایا مگر عدالت نے بری کیا۔ کیا پہاڑوں میں چھپ کر وار کرنے والوں کویہ عدالتیں سزائیں دے سکتی ہیں؟”۔
کراچی میں رینجرز اہلکار نے رنگے ہاتھوں پکڑنے والے ڈکیٹ کو غلطی سے ماردیا لیکن عدالت نے اس کو سزا دیدی۔ ہماری ریاست، ہمارا مذہب اور ہمارا کلچر سب کے سب نیم کفر کے مترداف ہے۔ ہونا یہی چاہیے تھا کہ قتل عمد اور قتل خطاء میں فرق روا رکھا جاتا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے میڈیا پر واضح کیا ہے کہ زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں فرق نہیں ہے۔ دونوں کی سزا ایک ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں گھس کر اس کی بیوی پر چڑھ جائے تو انسانی فطرت اور اسلام میں اس کی سزا قتل ہے لیکن مفتی تقی عثمانی کے نزدیک اس کیلئے چار گواہوں کی ضرورت ہے۔ اسلئے شیخ الاسلام کا اسلام بھی نیم کفر ہے۔ شادی کی رسم میں لفافے کی لین دین کو مفتی محمد تقی عثمانی نے سود قرار دیا اور بینک کے سود کو اسلام قرار دیدیا۔ سود خور پختون اوران کے بعض علماء بھی حیلہ سازی کے کرتب میں مبتلاء تھے۔
پنجابی لوگ پتہ نہیں کہاں سے کہاں نکل جائیںگے؟۔ مرزا غلام قادیانی پنجابی تھا۔ مرزائیوں کا مرکز ربوہ بھی پنجاب میں ہے۔سرکاری اور تجارتی سطح پر بھی قادیانی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب ان کو سرکاری سطح پر کافر قرار دیا جارہاتھا تب بھی مرزا طاہر غلام احمد قادیانی کا پوتا اسمبلی میں بحث کرنے کیلئے آتا تھا۔ جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر تھے تو پنجاب کے چوہدری برادران نے انکے دل کے وال بھی امریکہ سے قادیانی ڈاکٹر مبشر کو بلاکر بدلوائے تھے۔ اگر بینک منیجر قادیانی بھی ہوتا تو کیا اس کے قتل پر کوئی قاتل عاشق رسول بن سکتا تھا؟۔ اگر یہ بینک منیجر اس گارڈ کی بیگم پر زبردستی چڑھتا تو پھر اس کو قتل کرنا غیرت ، ایمان اور اسلام کا تقاضہ تھا لیکن یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ قادیانی سمجھ کر قتل کو عشق کا تقاضہ سمجھا جائے۔ پھر جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو قتل نہیں کیا وہ سب بے ایمان اور بے غیرت تھے؟۔ اگر یہی مذہبی مزاج رہا تو پھر کسی کا ایمان بھی معتبر نہیں ہوگا۔
پھر تو سمجھا جائیگا کہ جنرل باجوہ، مولانا فضل الرحمن، عمران خان، نوازشریف اور سارے فوجی جرنیل، سیاسی لیڈر اور علماء بھی قادیانی ہوسکتے ہیں۔ جان بچانے کی خاطر ڈر سے قادیانی ہونے کا اظہار نہیں کرتے۔ پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے اور کسی بڑے دھماکے سے پہلے ہمارے ریاستی اداروں ، سیاسی لیڈر شپ اور علماء کرام کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تو طالبان کے خوف سے سرکاری نمبر پلیٹ اسلام آباد میں گاڑیوں پر نہیں لگائی جارہی تھیں اوراب حالات نے پلٹا کھایا تو بہت مصیبت کھڑی ہوسکتی ہے۔ ن لیگ کے خلاف قادیانی ہونے کی مہم چلائی گئی، عمران خان کو بھی وضاحت دینا پڑی۔ جنرل ضیاء الحق نے قادیانی کے فتوے کے خوف سے ایک سخت آرڈنینس جاری کیا تھا۔ صابر شاکرنے ویڈیو میں بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کے سامنے واضح کیا کہ وہ قادیانی نہیں راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لیکن جب پروپیگنڈہ پھیلانے والے اپنا کام دکھاتے ہیں تو معاملہ مشکل بن جاتا ہے۔ اوریا مقبول جان نے کہا تھا کہ ”نبیۖ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک تحفہ دیا تو جنرل قمر باجوہ نے بائیں ہاتھ سے لیا پھر حضرت عمر نے دائیں ہاتھ سے لینے کا کہا تھا”۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نوازشریف نے آرمی چیف بنایا تھا اور اب تو ایکسٹینشن میں نوازشریف، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سب شامل ہیں۔ جمہوری لوگوں نے غلط کیا یا درست کیا لیکن اب فوج میں دراڑ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب نوازشریف کے دور میں ماڈل ٹاؤن کے قتل کی ایف آئی آر درج نہیں ہورہی تھی اور جنرل راحیل شریف کو نوازشریف نے کردار ادا کرنے کا کہا تو ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان سے جنرل راحیل شریف نے ایف آئی آر درج کرانے کا وعدہ کیاتھا۔ پھر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جب عمران خان نے دھمکی دی ،پھر وفاق کے زیر کنٹرول آئی ایس آئی اور رینجرز کو سندھ پولیس کیخلاف استعمال کرکے جناح کے مزار کی بے حرمتی کے ایکشن پر مجبور کیا گیا تو بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان گفتگو میں ایکشن لینے کی بات ہوئی۔ اس کا بھی بظاہر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا بہت تیزی سے عوام کا ریاست پر سے اعتماد اُٹھارہے ہیں مگر کسی بڑے خونی انقلاب سے پہلے ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ اور عوام مل بیٹھ کر ایک اچھے سیٹ اپ سے اپنے حالات بہتر کرلیں، غریب کی زندگی اجیرن ہے کسی وقت بھی کوئی ایشو بہانہ بن جائے تو پیٹرول کا سمندر آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگائے گا۔
حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو انصار کے سردارسعد بن عبادہ اور حضرت علی و ابن عباس نے دل سے قبول نہیں کیا۔تو نتیجے میں حضرت سعد بن عبادہ کو جنات نے قتل کردیا اور حضرت عثمان مسند خلافت پر شہید کردئیے گئے۔ پھر حضرت علی نے اپنا دارالخلافہ کوفہ منتقل کیا مگر وہاں بھی شہید کردئیے گئے۔ حضرت امام حسن کو دستبردار ہونا پڑا اور حضرت حسین کیساتھ واقعہ کربلا پیش آیا۔ خلافت بنوامیہ اور پھر بنوعباس کی لونڈی بن گئی اور پھر ارتغل غازی نے اس کو اپنے خاندان کی لونڈی بناکر دم لیا۔ اہل تشیع اپنے تین اماموں کے بعد باقی 9اماموں کی زندگی پر غور کریں۔ اپنی حدود سے تجاوز کریںگے تو خلافتِ راشدہ سے عقیدت رکھنے والوں کی طرف سے ردِ عمل آئیگا۔ حضرت عثمان کیلئے نبیۖ نے صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان لیا تھا لیکن حضرت عثمان کی حقیقی شہادت ہوئی تو اس بیعت کی پاسداری کا کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے۔اب امت میں انتشار نہیں اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی

اپوزیشن کی سیاست ، میڈیا کا کردار،مذہب کی پاسبانی. تحریر: عتیق گیلانی

مریم نواز نے کہا کہ ”بلوچستان میں راتوں رات باپ پارٹی بنی اور دوسرے دن صبح اوزیر اعلیٰ کو جنم دیا”۔ نواز شریف کو بھی جنرلوںنے جنم دیا اور اسلامی جمہوری اتحاد سے آبیاری ہوئی ۔ مولانا اویس نورانی نے محفل کو جوش دلانے کی غرض سے کہا کہ ”بلوچستان کو آزاد ریاست دیکھنا چاہتے ہیں”۔پھر اس کو زبان کی پھسلن قرار دیا۔ بلاول بھٹو زرداری اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کیلئے جلسے میں نہیں آیا پھر اس نے اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے والی بات مسنگ پرسن کا ذکر جوش و خروش سے کیا۔
حکومتی اتحادی اختر مینگل نے اپوزیشن کے جلسے میں کراچی کے بعد کوئٹہ میں بھی شرکت کی اور محمود اچکزئی کے نظرئیے پر کاری ضرب لگاکر کہا کہ افغان سے آئے لوگوںکو بے دخل کیا جائے۔ اچکزئی نے پاکستان و افغانستان میں پاسپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن پر باڑاکھاڑ پھینکنے کی بات کی۔ منتشر ذہنیت کے جلسے کو گرمانے کی کوشش ہر سیاسی خطیب اور نظریاتی رقیب نے کی اور ساتھ ساتھ اسٹیج پر شور و غل کو خاموش کرنے پر بھی برہمی کے اظہار تک پہنچے۔ اے این پی کے میاں افتخار حسین نے پی ڈی ایم کی قرار داد پیش کی اور امیرحیدر خان ہوتی نے محمود خان اچکزئی چچا کو جواب دیا کہ کراچی کے جلسے میں گلہ تھا کہ سلیکٹڈ کا نام لیا مگر سلیکٹر کا نام نہیں لیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کراچی کے جلسے میں بھی حکومت کیساتھ اپوزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ”جن کو لوگ چور اور کرپٹ کہتے تھے اس حکومت کی وجہ سے لوگ پھر انہی چوروں اور کرپٹوں کی طرف مائل ہوگئے ”۔ اور عمران خان پربھی وار کیا کہ ”عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے فون کرکے اپنی ہار جیت میں تبدیل کی۔ یہ نادان دوستوں کا کام ہے”۔
مذہب کی دھاک پر اچکزئی نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کا فلسفہ اپوزیشن کو سمجھایا۔ آذان دینے والا مؤذن تنخواہ دار ہوتا ہے اور آذان بھی کسی کی اجازت سے دیتا ہے اسلئے اس کی آذان میں طاقت نہیں ہوتی۔ مریم نواز کا کردار اپوزیشن کی آذانوں کیلئے متولی (خاکم بدہن مسجد کے زمینی مالک) کی حیثیت رکھتا ہے۔ نواز شریف کو کسی کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے دیر نہیں لگتی لیکن گریبان میں ہاتھ ڈالتے ڈالتے اسکے ارادے بدل کر پیروں کو پکڑنے تک پہنچنے میں بھی وقت نہیں لگتاہے۔
پی ڈی ایم کا اصل ہدف فوج کا حکومت سازی میں کردار کا خاتمہ ہے۔ باقی جماعتیں شروع سے اس کردار کے خلاف ہیں مگرنوازشریف کے بعد جب سے فوج نے ایک نیا بچہ پال لیا ہے اور ن لیگ کو گائے نے دودھ چھڑادیا ہے تو بچھڑا روتا پھر رہاہے کہ مجھے کیوں نکالا؟۔ ووٹ کو عزت دو۔ شہبازشریف نے جمعیت کے اسلام آباد دھرنے میں بھی واضح طور سے کہا تھا کہ ” فوج کی جتنی مدد عمران خان کو حاصل ہے ،اگر اس کا 10%بھی مجھے مل جائے تو ہر خدمت کروں گا”۔ اب فوج کو اپنے دونوں بچھڑوں سے ہی سب سے زیادہ خطرہ ہے اسلئے کہ گائے کا بچہ بیل بن کر اپنی ماں پر بھی چڑھ دوڑتا ہے۔ باقی صوبوں میں فوج سے بغاوت کے جذبات کسی کام کے نہیں لیکن پنجاب سے بغاوت اُٹھ گئی تو فوج کو سرحدات پر جانے کی نہیں بلکہ بڑا خونی انقلاب آسکتا ہے۔ پاکستان کی ریاست کا دارمدار صرف اور صرف فوج ہی کی طاقت پر منحصر ہے۔ اگر پنجاب میں ن لیگ اور ق لیگ نے حکومت بنالی اور مرکز میںاتحادی بدل گئے تو عمران خان نوازشریف سے زیادہ بڑا باغی بچہ ہوگا۔ پی ڈی ایم کی روحِ رواں مریم نواز شریف سے جان چھوٹ سکتی ہے اور بعید نہیں کہ ن لیگ پھر فوج سے زیادہ وفاداری کا ثبوت دے اسلئے کہ یہ شرماتے ہیں نہ گھبراتے ہیں۔
اصل مسئلہ سوشل میڈیا اور پنجابی قوم ہے، بھوکے ننگے عوام ہیں، سودی قرضہ اور مہنگائی ہے۔ مہنگی گیس اور بجلی ہے۔ وسائل پر لڑنے والے مسائل حل نہیں کرسکتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ نے دہشتگردی پر جیسے تیسے مگر قابو پالیا۔ جنگ کے کالم نگار ارشاد احمد حقانی حکومت ساز تھے، اسی نے پرویزمشرف اور مقتدر قوت کو مشورہ دیا کہ ” اگر امریکہ کی مدد ہم نہ کریں تو یہ کام بھارت کرلے گا”۔ ہم نے اس وقت بھی شدید الفاظ میں حقانی کی مخالفت کی تھی۔پھر پاکستان میں جس طرح دہشتگرد کاروائیوں کے باجود طالبان کی حمایت کا سلسلہ جاری رہاتھا۔ مولانا فضل الرحمن نے 2007ء میں ان کو خراسان کے دجال کا لشکر قراردیا مگر میڈیانے یہ خبر نہیں دی۔ پورا پختونخواہ دہشت گردوں کی لپیٹ میں تھا مگر خونی انقلاب نہیں آیا اور سارے پختون طالبان بن گئے تھے لیکن بہت سے غیرتمند ان کی حمایت سے بھی پیچھے ہٹ گئے۔ پختونوں میں بے غیرت لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جب ہمارے ساتھ بڑا واقعہ ہوا تب بھی ہمارے عزیز طالبان کو پراٹھے کھلاتے تھے ۔ آئی ایس آئی نے میرے ماموں کے گھر سے طالبان کی پک اپ برآمد کرکے بارود سے اڑادی۔ پاک فوج نے سہولت کاروں کو پکڑا تو ہمارے والوں کی ہمدردیاں سہولت کاروں ہی کے ساتھ تھیں۔ پنجابی ایسے نہیں ۔ پختونوں کے دل ودماغ میں جب طالبان بہت برے ٹھہرے تب بھی خوف کے مارے ان کو عزت دیتے رہے۔ طالبان نے اقرار کیا کہ مجرم ہمارے لوگ ہیں لیکن پوری محسود قوم اور ہمارے اکثر عزیزوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ نامعلوم کوہم نے معلوم کرنے کا اسٹینڈ لیا مگر قوم نے ہمت نہیں کی۔
مولانا فضل الرحمن نے یورپ کو بھی پاکستانی ووٹر سمجھ رکھا ہے تو اپنے خیالات پر نظر ثانی کرے۔ فرانس کا ملعون حکمران یہ کہہ سکتا ہے کہ” مولانا ! جب میں بامیان کے آثار قدیمہ کیلئے دست بستہ رعایت مانگ رہا تھا تو میں عیسائی ہوں ، بدھ مت کے مجسموں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا مگر آپ نے دنیا بھر کے جذبات کو محض اسلئے ٹھکرادیا کہ یہ تمہارا مذہبی جذبہ تھا۔ دوسری طرف مولانا سمیع الحق کہتا تھا کہ پیسے لیکر ان آثار قدیمہ کو فروخت کردیا جائے تو آپ اس کو بت فروش کہتے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جن مسلمانوں کے جذبات کا یہ عالم ہو کہ دوسروں کو ٹھیس پہنچا کر اس کی شریعت مکمل ہوتی ہو اور پھر یہ جذبہ کرائے پر استعمال بھی ہوتا ہو اور رکتا بھی ہو تو بڑا خطرناک ہے۔ ہم نے سوچ سمجھ کر اس کا جڑ سے خاتمہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ کرائے کے جہادی اور جذباتی سے ہم نے دنیا کو نہیں تو کم از کم اپنے اپنے ملکوں کو صاف کرنا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب ہماری استدعا کو آپ نے نہیں سنا تو مجھ سے کیوں اور کس بنیاد پر رعایت کی بھیک مانگ رہے ہو؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ آپ کو اپنا مذہب اتنا ہی پیارا ہے تو ترقی یافتہ ممالک سے جہاں لوگوں کے ہاں اپنے مذہب کا معاملہ بھی اتنا حساس نہیں ہے مسلمان بلا کیوں نہیں لیتے ؟جو ہمارے سروں پر پڑا ہوا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپ کے شر سے بچنے کیلئے جن مرزائیوں نے بڑے پیمانے پر ہمارے ہاں پناہ لی ہے ان کا قصور یہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے منکر ہیں تو ہمارے نزدیک حضرت عیسیٰ کے بعد مسلمان بھی منکرختم نبوت اور جھوٹے دعویدار ہیں اسلئے حقائق کو سمجھو۔چھٹی بات یہ ہے کہ مسلمان زیادہ بچے پیداکرتے ہیں، اگر ہم نے ان کو نہیں نکالا تو کچھ عرصہ بعد ہم اقلیت میں بدل جائیںگے اسلئے توہین کا بہانہ کرکے مسلمانوں کو یورپ بدر کرنا چاہتے ہیں۔ساتویں بات یہ ہے کہ جب تمہارا مفاد ہوتا ہے تو کرپشن بھی جائز اور سودی بینکاری بھی اسلامی تو ہمارے لئے کیوں غلط جذبہ رکھتے ہو؟۔ جب ہم بھی اپنے مذاہب سے کھلے عام دستبردار ہیں تو تم کیوں سرِ عام منافقت کرتے ہو؟”۔یہ اسلامی دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

مغرب کے اعتراض اور مثبت اقدام کی ضرورت ہے. تحریر: عتیق گیلانی

مغرب اس بات پر حیران ہے کہ مسلمان اتنا حساس کیوں ہے کہ انبیاء کرام کی تصاویر، خاکے اور کارٹون پر مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے؟۔ مغرب کو اس پر حیرانی کا سامنا ہے کہ نبیۖ نے6 سالہ بچی سے منگنی ، 9سالہ بچی سے شادی کیسے کی؟۔ مغرب اس بات پر حیران ہے کہ قرآن جنگ میں قید ہونے والوں کو لونڈی اور غلام بنانے کی اجازت کیسے دیتا ہے؟۔جب یورپ وامریکہ کے مسلمانوں کو قرآنی آیت اور احادیث کا حوالہ دیا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا ہے۔ پھر مغرب ان تصورات کو کارٹونوں کے ذریعے سے اجاگر کرتے ہیں تو مسلمان بہت پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ بعض مسلمان مشتعل ہوکر ردِ عمل دیتے ہیں تو مغرب اس کو چوری اور سینہ زوری سمجھنے لگتاہے۔ عرب میں اقامہ مشکل سے ملتا ہے مگر مغربی ممالک میں نیشنلٹی بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔شامی پناہ گزینوں کو پناہ دیدی ۔ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کے باوجودان بنگالیوں اور برمیوں کو شہریت نہیں دی ہے جن کی کئی نسلیں یہاں پیدا ہوئی ہیں۔
ہم نے یہود ونصاریٰ کو درست جواب دینے کیلئے قرآن وسنت کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا۔ آج مسلمان جس طرح اپنے دین،ایمان اور علم سے نابلد ہیں آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہودونصاریٰ اسی طرح اپنے اصل دین سے نابلد تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ ذہنیت رکھتے تھے کہ وہ ولد الزنا ہیں، نعوذباللہ۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور حضرت مریم کو خدا کی بیوی سمجھتے تھے، ایکدوسرے پرمظالم کی انتہاء کرتے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ کارٹون بنانے سے بھی زیادہ یہ گستاخانہ عقائد تھے۔
اسلام نے کسی ایک کے خلاف بھی مہم جوئی کی دعوت نہیں دی۔ دلیل برہان سے بات کی۔ دونوں کو اہل کتاب قرار دیا۔ دونوں مذاہب کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی۔ ایک مسلمان کی ایک بیوی یہودن اور دوسری عیسائی ہو۔ ایک کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اولادالزنا اور دوسری کا عقیدہ خدا کے بیٹے ہونے کا ہو اور مسلمان بچے اپنی ان ماؤں کے قدموں میں جنت سمجھتے ہوں تو اس سے زیادہ تحمل وبردباری کا درس کیا ہوسکتا ہے؟۔ اسلام نے دنیا کو جس طرح کا تحمل سکھایا ہے اور اسلامی تعلیمات میں جو مساوات ہے اسی نے دنیا کو انسانیت سکھا د ی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کو یہودونصاریٰ کے انبیاء کرام پر تو تحمل کا سبق سکھایا ہے لیکن اپنے نبیۖ کے بارے میں بہت حساسیت کا درس دیا ہے؟۔ اسلئے تو مسلمان اپنے نبیۖ کیلئے برداشت کا قطعی طور پر مادہ نہیں رکھتے۔
جواب یہ ہے کہ قرآن کی سورۂ نور میں بہتان عظیم کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان سے بڑھ کر نبیۖاور مسلمانوں کیلئے کوئی اذیت ہوسکتی ہے؟۔ کسی کا کارٹون بنایا جائے ،اس سے زیادہ اذیت ہوگی ؟،یا کسی کی محترمہ پر بہتان لگایا جائے تو اس سے زیادہ اذیت ہوگی؟۔ ظاہر ہے کہ کارٹون کے مقابلے میں جس پاکباز انسان کی پاکباز بیگم پر بہتان لگایا جائے اس سے بہت زیادہ اذیت ہوگی۔
رسول اللہۖ اور جلیل القدر صحابہ کرام چاہتے تو بہتان لگانے والوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بہتان عظیم پر بھی 80،80کوڑوں کی سزا کا حکم دیدیا۔ اوریہ سزا صرف اُم المؤمنین پربہتان لگانے کیساتھ خاص نہیں تھی بلکہ قیامت تک آنے والی ادنیٰ سے ادنیٰ عورت پر بہتان کی یہی سزا ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنی زوجہ محترمہ پر بہتان کی سزا میں جذبات سے کام نہیں لیا اور نہ مسلمانوں کو انتقام پر اُبھارا تھا اور نہ نکاح ٹوٹنے کے فتوے جاری کئے۔ تو آج مسلمان قرآن وسنت کی تعلیمات پر نہیں چل رہے ہیں۔ یہود کے احبار ،نصاریٰ کے رہبان کے نقشِ قدم پر چلنے والے علماء ومشائخ کو رب بنالیا ہے، جن کے پاس تعصبات کے چولہوں کو ہواد ینے کے علاوہ دین، ایمان اور علم کی روشنی نہیں ہے۔ اپنوں کے خلاف بھی تعصبات کے ایندھن پر یہ زندگی بسر کرتے ہیں۔
سلیم صافی نے بتایا کہ ”پشاور دھماکہ جس مدرسے میں ہوا ، وہ طالبان کے حامی ہیں، طالبان نے کھل کر اس کی مذمت بھی کی ہے۔ داعش خاموش ہے، داعش نے کیا ہے”۔ مدرسہ مہتمم نے تکفیری گروپ داعش کا نام لیا اور جماعت اسلامی کے سراج الحق اور مشتاق بھی ساتھ تھے لیکن اسکے باوجودسینٹ میں سراج الحق اور مولانا عطاء الرحمن نے پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے، جو افسوسناک بات ہے۔
میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” میں حضرت عائشہ کی عمر اور لونڈی و غلام کے تصور کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔حضرت عائشہ کی عمر منگنی کے وقت16سال اور رخصتی کے وقت 19سال تھی۔ اگرجمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی و دیگر مذہبی طبقے اپنی روایتی منافقانہ روش کو چھوڑ کر حقائق کی تبلیغ کریں توبات بن جائے گی۔
اسلام نے مزارعت کو سودی نظام قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے خاندان و افراد غلامی ولونڈی بننے کا شکار ہوتے تھے۔ احادیث صحیحہ اور فقہی اماموں کا مسلک چھوڑ کر علماء وفقہاء مزارعت کو جائز نہ قرار دیتے تو کمیونزم کا نظام دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ جب شریعت کے برعکس جاگیردارانہ نظام سے مسلمانوں نے دنیا میں غلام ولونڈی کے نظام کو دوام بخشا تو نام نہاد اسلامی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ آج سودی نظام سے ریاستوں کو غلام بنایا جارہاہے تو پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے کے باجود اپنی آزادی کھو بیٹھا ۔ اس میں سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کے علاوہ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کہلانے والے دیوبندی بریلوی بھی شریک ہوگئے ہیں۔
سودی قرضے سیاستدان اور جرنیل مل بیٹھ کر کھا جاتے ہیں اور مہنگائی و ٹیکس کی صورت میں بھگتتے عوام ہیں۔ وسائل پر لڑنے والے مقتدر طبقات مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ فرانس کے حکمران دانستہ یا نادانستہ مسلمان عوام کے جذبات بھڑکا کر انسانیت کو ملیامیٹ کرنے کے چکر میں ہیں۔ کرکٹ کے کھلاڑی عمران خان نے سیاستدانوں کو کوڑا کرکٹ بنادیا مگر اب وہ خود بھی اسی نہج پر پہنچ گیا۔ افغانستان میں طالبان و القاعدہ کے بعد داعش و طالبان کا کھیل پاکستان میں کھیلنے کی تیاری ہے۔ سندھی، مہاجر،بلوچ، پشتون کے بعد فوج سے پنجاب کا یقین بھی متزلزل ہے۔ پاکستان کے ہر ادارے میں رشوت اور بھتہ عام ہے۔ افغانستان اور ایران کی اسمگلنگ میں اداروں کے افسران واہلکار ملوث ہیں۔ پنجاب میں بھتہ نہ دینے پر فوجی اہلکار کی طرف سے گولی مارنے کا واقعہ پیش آیا یا پہلی مرتبہ سوشل میڈیا کی مہم جوئی کا محور بنادیا گیا؟۔ اگر فوج کو پنجاب کی عوام کے جذبات کا اندازہ نہیں تو قائدآباد خوشاب میں بینک منیجر کا قتل تازہ واقعہ ہے۔ جس میں تحقیق کے بغیر لوگ تھانے پر چڑھ گئے۔’علامہ اقبال نے ” پنجابی مسلمان” کے عنوان سے لکھا ہے کہ
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
پاکستان سیاسی و مذہبی ہلڑ بازی کا متحمل نہیں اور عوام آخری حد تک تنگ آمد بہ جنگ آمد تک پہنچ چکے ہیں۔ مذہب اور سیاست کی ہلکی سی چنگاری کا تماشہ دنیا دیکھ لے گی۔ نظریات اور عقائد سے رشتہ ٹوٹ چکاہے۔ جذبات کا خوفناک منظر ہے۔