جون 2017 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور کو پیغام حق

جماعت اسلامی انقلابی ہے تو طلاق و خلع کے حوالہ سے تحقیق انقلاب ہی کابڑا پیش خیمہ ہے

لاہور(تنویر)ہماراوفد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور گیا۔نجم محمود، ذکاء اللہ، محمد اجمل ملک اور سید عتیق الرحمن گیلانی نے تحقیق وتجزیہ کے شعبہ میں ایک خٹک صاحب سے بات کی جو اس شعبے کے نائب تھے۔ طلاق کے حوالہ سے ان کو کتاب دی جسکے نتائج کا انتظار ہے،انکا کہنا تھا کہ طلاق کتنوں کا مسئلہ ہے؟۔ عتیق گیلانی نے کہا: ایک انسان کا بے گناہ قتل انسانیت کا قتل ہے تو ایک عورت کی بے حرمتی انسانیت کی بے حرمتی ہے، اگرجماعت اسلامی نے طلاق وخلع کے حوالہ سے قرآن وسنت عام کرنے کا اعلان کیا تو خواتین ووٹ دیں گی۔

موجودہ دور میں خیر اور شرکا تصور

نبی ﷺ نے قرون اولیٰ میں خیر کے بعد جس شر کا ذکر فرمایا تھا، وہ حضرت عثمانؓ کے آخری دور اور حضرت علیؓ کے دور میں ظاہر ہوا۔ حضرت علیؓ نے نہج البلاغہ میں حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان کی صلاحیتوں کا جن الفاظ میں اعتراف کیا ہے، اس سے زیادہ اہلسنت بھی حضرت عمرؓ سے عقیدت و احترام کے تعلق کے قائل نہیں۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر جوافواہ پھیلائی گئی تھی اس کیلئے بیعت رضوان کی آیات سے صحابہؓ نے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کی سندحاصل کی تھی۔آج نہ تو قاتلین عثمانؓ سے بدلہ لینا ممکن ہے اور نہ ہی حضرت علیؓ اور آپ کی آل کو مسند اقتدار کے استحقاق کو تسلیم کرنے سے کوئی تاریخی حقیقت بدل سکتی ہے۔ قرآن میں نبیﷺ سے اختلاف کرنے والے منافقین اور مؤمنین کا واضح فرق ہے۔ مؤمنین پر منافقین کی آیات کا فٹ کرنا قرآن کی روح کے منافی ہے۔
حضرت عمرؓ نے حدیث قرطاس کے معاملہ میں نبیﷺ سے اختلاف کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس کی تعلیم وتربیت قرآن وسنت کا تقاضہ تھا اسلئے کہ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور ہجرت نہ کرنے کے باوجود نبیﷺ کا حضرت علیؓ کی بہن سے نکاح کی خواہش پر اللہ نے نبیﷺ کے مقابلہ میں آیات نازل کیں۔ حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کی شہادت کا معاملہ اختلاف جنگ وفساد اور شر وفتنہ تک اسلئے پہنچا کہ وحی کا سلسلہ بند ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کیلئے حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد اتفاق واتحاد اور وحدت کا راستہ حضرت امام حسنؓ کے کردار کے طفیل باعث تقلید رہا ہے۔ حضرت علیؓ سے اختلاف کرنے سے زیادہ یزید کیخلاف حضرت امام حسینؓ کی طرف سے حزبِ اختلاف کا کردار قابلِ تقلید ہے۔ بنی امیہ کے بعد بنو عباس کے دور میں اہل تشیع کے بارہ اماموں میں سے ایک امام تو ایک خلیفہ کے ولی عہد بھی تھے۔ ان سے زیادہ خلافتِ راشدہ کے دور میں ائمہ اہلبیت سے اکابر تین خلفاء کے تعلقات بہتر رہے۔ تاریخی باتوں میں بہت کچھ مسخ ہوچکاہے اور ایسے تاریخی واقعات پر یقین نہ کرنا بہتر ہے جن سے اہلبیتؓ اور صحابہؓ دونوں کے حوالہ سے بدتر تأثر قائم ہوتا ہو۔ حضرت علیؓ نے قرآن وسنت کی تعلیمات کی وجہ سے ہی حدیث قرطاس کے معاملے کو برداشت کیا،ورنہ تو حضرت عمرؓ جب ننگی تلوار لارہے تھے تو حضرت امیر حمزہؓ نے کہا تھا کہ ’’ اگر غلط ارادے سے آرہا ہو تو اس کو اس کی اپنی تلوار سے قتل کردوں گا‘‘۔
خلافت راشدہ کے بعد حضرت امام حسنؓ نے صلح کا کردار ادا کیا تو خیر میں دھواں بھی شامل ہوا۔سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کے علاوہ راستہ اختیار کیا گیا جس میں نیک و بدسب طرح کے لوگ آئے۔ یہ دھویں والا خیر اب پھر اس شر میں بدل گیا ہے جہاں داعی اسلام کے لبادے میں اسلام کی زباں میں جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر فرقہ واریت کی دعوت دے رہے ہیں۔ کل حزب بمالدیھم فرحون کا مظاہرہ ہورہاہے۔ تمام فرقوں اور جماعتوں نے اپنی طرف بلانا شروع کیا ہے اور دوسروں کو برا بھلا اور غلط کہتے ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اہل بیت سے محبت نجات کا راستہ ہے باقی جو بھی کرو، خیر ہے۔ کوئی توحید کو نجات کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے، کوئی رسول اللہ ﷺ سے محبت کے جذبے کو کافی قرار دیتا ہے، کوئی اسلاف کی طرف سے بنائی ہوئی سنت اور ہدایت کے طریقۂ کار کو کافی سمجھتا ہے۔ کوئی ذکر کرنے کو نجات کا پہلا اور آخری وسیلہ قرار دیتا ہے، کوئی نماز کے بارے میں فرض ادا کرنے کو کافی خیال کرتاہے۔ کوئی نبوت والے کام کے نام پر اپنے طریقۂ کار سے مطمئن ہے،کوئی فرقہ واریت کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے لیکن خانہ سب کا خراب ہے۔
فرقے ، مذہبی جماعتیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ڈگر پر چل رہی ہیں مگر اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟۔ کوئی حکومت سے چمٹ کر اپنے مفادات حاصل کرتاہے ۔ کوئی مذہب کو اپنا الو سیدھا کرنے کا ذریعہ سمجھتاہے لیکن اندھے ہوکر مذہب کو بے دریغ استعمال کیا جارہاہے۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منظور احمد امریکہ میں بھی پروفیسر رہے ہیں۔ بہت قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ طالب علمی کے دور میں جماعت اسلامی کے اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی ناظم اعلیٰ رہے ہیں۔ عربی پر پورا عبور حاصل کیا ہے اور اصول فقہ کی تعلیمات کو درست معنیٰ میں سمجھ لیاہے لیکن اسلام کے نام پر خلوص کیساتھ اسلام کی حمایت میں ایسی کتاب لکھ ڈالی جو اسلام کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دینے کیلئے کافی ہے۔ علماء ومفتیان حضرات مدارس میں اصول فقہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر اس تعلیم کی روح سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں ورنہ دو باتوں میں ایک بات ضرور ہوتی یا تو ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی طرح اسلام سے جان چھڑانے کی بات کرتے اور یا پھر ہماری تحریک میں شامل ہوکر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد ڈالتے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک شر کا ذکر قرون اولیٰ کے دور میں کیا تھا ، اس سے پہلے جب خواتین پر مساجد میں آنے سے روکنے کا عمل شروع کیا گیا تو اس میں اجتہادی غلطی شامل تھی۔ اب ایک طرف اسکول کالج، یونیورسٹیوں ، کاروباری مراکز اور دفاتر میں مخلوط نظام رائج ہوتا جارہا ہے۔ یورپ و مغربی دنیا کی طرح اسکے نتائج کھلے عام فحاشی کی صورت میں نکلیں گے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے مساجد خوف و دہشت اور نفرتوں کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ حج کا عظیم اجتماع آج بھی خواتین و حضرات کا مخلوط ہوتا ہے، جو مذہبی سیاسی جماعتیں خواتین کے کردار کی مخالفت کرتی تھیں جونہی پرویز مشرف نے خواتین کو خصوصی نشستیں دیں تو اپنی بیگمات ، بیٹیوں اور سالیوں کو اسمبلیوں میں لایا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اسمبلی میں جانے کیلئے مساجد میں جانا بھی ضروری قرار دیا جائے تو اللہ کیلئے نہ سہی پارلیمنٹ کیلئے مساجد بھی آباد ہوجائیں گی۔ اگر کوئی اپنی بیگم ، بیٹی، ماں اور بہن کیساتھ پانچوں وقت باجماعت مسجد میں نماز پڑھنا شروع کردے تو اس سے بڑھ کر کیا ولایت اور شرافت ہوسکتی ہے؟۔ مساجد کردار سازی کے اہم ترین مراکز ہیں لیکن اسکا فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ جدید دنیا میں داخل ہوتے ہوئے اگر شہر گاؤں محلے کی مساجد کو کردار سازی کیلئے بنیادی ماحول کے طور پر استعمال کیا جائے تو اسلامی معاشرہ پوری دنیا میں جلد سے جلد غالب آجائیگا۔ مکہ مکرمہ کے مسجد حرام میں خواتین و حضرات ایک ساتھ ہی طواف کرتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ جہاں ایک نماز کا ثواب لاکھ کے برابر ہے، مگر 49 او ر 89کروڑ کے برابر ثواب کمانے والوں کو بھی زبردست کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

اجنبی کا تعارف حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

قال رسول اللہ ﷺ: اذا حضر الغریبَ فالتفتُ عن یمینہٖ و عن شمالہٖ فلم یرالا غریباً فتنفس کتٰب اللہ لہ بکل نفس تنفس الفی الف حسنۃ و خط عنہ الفی الف السیءۃ فاذا مات مات شہیداً(الفتن: نعیم بن حماد)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اجنبی کو میرے پاس حاضر کیا گیا تو میں نے اس کی طرف دائیں جانب سے التفات کیا اور بائیں جانب سے التفات کیا ، وہ نظر نہیں آتا تھا مگر اجنبی، پس اللہ کی کتاب پوری عظمت کیساتھ اسکے سامنے روشن ہوگئی ، اس کو ہزارہا ہزار نیکیاں ملیں اور ہزار ہا ہزار گناہیں اسکی معاف کی گئیں۔ پس جب وہ فوت ہوا تو شہادت (گواہی) کی منزل پاکر فوت ہوا۔
یہ حدیث امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد ؒ نے اپنی کتاب الفتن میں نمبر 2002 درج کی ہے، یہ اجنبی کا تعارف بتایا گیاہے

قرون اولیٰ میں خیر اور شرکا تصور

نبوت و رحمتﷺ کے بعد خلافت راشدہ کا تیس سالہ دور بھی مثالی تھا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ترقی و عروج کی منزلیں طے ہوئیں ، حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کادور مسلمانوں کی آپس میں لڑائی ، جھگڑے اور فتنے فساد کا دور تھا۔ حضرت حسنؓ نے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کا کرائی، جسکی پیشگوئی نبیﷺ نے فرمائی تھی۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے وقت چالیس دن تک انکے گھر کا محاصرہ رہا ۔ حضرت عثمانؓ کی داڑھی میں ہاتھ ڈالنے والے پہلے شخص حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے تھے۔ خوارج پہلے حضرت علیؓ کیساتھ تھے مگر بعد میں مخالف ہوگئے اور جب خلافت کا مرکز مدینہ سے کوفہ و شام منتقل ہوا تو مسجدوں کے جمعہ خطبات میں ایک دوسرے پر لعن طعن کے معاملات بھی شروع ہوئے، ان تلخ تاریخی حقائق کواگر دیکھا جائے تو جن صحابہؓ کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپس میں ایکدوسرے پر رحیم اور کافروں پر سخت ہیں مگر عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے ایکدوسرے سے قتال کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے خیر کے بعد جس شر کی پیش گوئی فرمائی تھی وہ جنگ صفین اور جنگ جمل وغیرہ میں پوری ہوئی تھی۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے تنبیہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کے جنت میں داخل ہونے کے قائل نہ تھے اور پھر خود بھی ایک دوسرے کی مذمت کرتے تھے۔
اسلامی تاریخ اور خلافت راشدہ کے آخری دور میں جس شر کا نبی ﷺ نے ذکر فرمایا وہ پورا ہوکر رہا۔ اگر امت مسلمہ حقائق کی طرف دیکھنے کے بجائے جانبداری اور وکالت کا سلسلہ جاری رکھے تو قیامت تک بھی مسلم اُمہ متحد و متفق اور وحدت کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتی ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک ایک گروہ حق پر اور دوسرا باطل پر تھا۔ آغا خانی اسماعیلیہ فرقہ کے شیعہ امام حسنؓ کو اسلئے نہیں مانتے کہ صلح میں بنیادی کردار ادا کیا، اثنا عشری امامیہ فرقہ جو اہل تشیع کا اکثریتی فرقہ ہے حضرت امام حسنؓ کا کردار قابلِ تحسین سمجھتا ہے ۔ اہل سنت یزید کے مقابلے میں حضرت امام حسینؓ کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سنی شیعہ کو قریب لانے کیلئے ضروری ہے کہ جن غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتاہے ان کو جلد از جلد دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ باطل قوتیں شیعہ سنی کو لڑا کر دنیا میں اسلحہ کے فروغ اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے چکر میں ہیں۔ایران و سعودی عرب کے درمیان فتنہ و فساد کا مرکز پاکستان بنے تو دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت کا بھی خاتمہ ہوجائیگا۔ کوئٹہ میں قتل و غارت گری کے شکار ہزارہ برادری کے باشعور لوگ ایران اور سعودی عرب دونوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ انکی وجہ سے پھر سے شیعہ سنی کے درمیان منافرت کا بازار گرم ہوگا ۔ اللہ نے بار بار اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اولی الامر کے ساتھ اختلاف کی گنجائش رکھی ہے۔حضرت علیؓ اور یزید کی اولی الامری میں بڑا واضح فرق تھا۔
مسلم اُمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود خلافت و امامت کے مسئلے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ قرآن و حدیث کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور تاریخی اختلافات کو اچھالتے اچھالتے فرقہ واریت کو اسلام سمجھ لیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے فرقہ وارانہ ذہنیت کی بھی بیخ کنی فرمائی ہے اور عبادتگاہوں کی آبادی کو قرآن میں اہمیت دی ہے۔ تمام مذاہب یہود ، نصاریٰ، مجوس اور مسلمانوں کی مساجد کو اللہ کے نام کی وجہ سے قائم دائم رہنے کی قرآن میں وضاحت ہے۔ جب خلافت راشدہ کے دور میں اللہ کے حکم کے برعکس مسلمان خواتین کو مساجد میں آنے سے روکا گیا تو اسمیں ان کی نیت خراب نہ تھی لیکن یہ قرآن و سنت کے بالکل منافی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نماز میں اجتماعیت کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اپنی بیگمات کو مساجد میں آنے دو، ان کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ اسی طرح سے جن کی بیگمات یہود و نصاریٰ تھیں ان کو بھی ان کی عبادتگاہوں میں جانے دینے کا حکم تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ میرے ساتھ جو حج کرلیا وہ کافی ہے ، میرے بعد حج نہیں کرنا۔ کچھ ازواجؓ نے اس حکم کی پابندی کی ، اُم المومنین حضرت میمونہؓ مکہ مکرمہ کی رہائشی تھیں لیکن حج نہیں کیا۔ اوراُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ مدینہ منورہ سے حج کیلئے نکلیں اور پھر سیاسی و جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا تھا کہ’’ اگر اس زمانے میں نبی ﷺ حیات ہوتے تو خواتین پر مساجد میں جانے کی پابندی لگاتے‘‘۔ اجتہادی معاملہ میں خطاء کی گنجائش ہوتی ہے ۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے اور اولی الامر سے جن کو اختلاف ہوتا ہے ان سے بھی یقیناًاختلاف کی گنجائش رہتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر قرآن میں بیعت رضوان کا ذکر ہے ، جو صلح حدیبیہ سے پہلے حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ پر لی گئی تھی۔ حضرت علیؓ کو شہید کرنے والے کو سزا دی گئی مگر حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے والے ہجوم کو سزا دینا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ جو ہوا سو اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
قرون اولیٰ کے دور میں جب مسلمانوں نے خواتین کو اجتہادی بنیاد پر مساجد میں نہ آنے دیا تو خوف و ہراس کی فضا بن گئی۔ حضرت علیؓ کو مسجد میں جاتے ہوئے شہید کیا گیا۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیرؓ کے وقت میں بیت اللہ کا مطاف منجنیق کے ذریعے پتھروں سے بھر دیا گیا۔ بنو اُمیہ کے دور میں جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں سے پہلے بسم اللہ کو جہری پڑھنے کی پابندی لگائی گئی۔ حضرت امام شافعیؒ کو نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنے کو ضروری قرار دینے پر رافضی قرار دیا گیا۔ ان کا منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا۔ آج نئی صورتحال ہے ، اگراس رمضان میں سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں سے پہلے بسم اللہ کو جہری پڑھنے کی ابتداء کی گئی تو یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا۔ اہل تشیع ماتم کو سنت اور تراویح کو بدعت سمجھتے ہیں تو علمی بنیادوں پر عملی طور سے حقائق کو سامنے لانا ہوگا۔ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اہل سنت جہری نمازوں میں جہری بسم اللہ پڑھنی شروع کریں گے تو اہل تشیع بھی ماتم کی زحمت سے باز آنے میں امسال دیر نہیں لگائیں گے۔ بعض قرآنی آیات میں واضح رہا کہ صحابہؓ نے نبیﷺ سے اختلاف کیااور بعض اوقات وحی بھی نبیﷺ کے برعکس مخالف کی تائید میں نازل ہوئی جیسے بدرکے قیدیوں پر فدیہ، سورۂ مجادلہ، رئیس المنافقین کا جنازہ اور حضرت علیؓ کی بہن سے فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ کرنے کے باوجود نکاح کی پیشکش۔

ہمارے مرکزویٹی کن سٹی سے برداشت اور امن کی بات کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا: مسیحی خاتون اسکالر

اہل کتاب میں سے اکثروں کی چاہت یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان کے بعد کافر بنادیں۔ بسبب اپنے دلی حسد کے، اس کے بعد کہ ان کیلئے حق ظاہر ہوچکا ہے ۔ سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہےO اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ ۔ اور جو کچھ آگے بھیج د و گے اپنے پاس سے بھلائی تو اللہ کے پاس اس کو پاؤ گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ،سب دیکھتا ہےO اور کہتے ہیں کہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر جو ہوں یہود یا نصاریٰ ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہیں ۔ کہہ دیجئے کہ کوئی دلیل لے کر آؤ اگر تم سچے ہوO کیوں نہیں جس نے تابع کردیا اپنا منہ اللہ کیلئے اور وہ نیک کام کرنے والا ہے تو اس کیلئے اسکے رب کے پاس اجر ہے۔ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگےO اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں ہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں ہیں کسی راہ پرباوجود یہ کہ وہ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے انہی کی طرح بات۔ اللہ فیصلہ کرے گا،قیامت کے دن، ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکے کہ اس میں اس کا نام لیا جائے۔ اور کوشش کرے ان کو ویران کرنے میں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ داخل نہ ہوں گے ان مساجد میں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کیلئے دنیا میں ذلت ہے اور ان کیلئے آخرت میں بڑا عذاب ہےO اور اللہ کیلئے مشرق اور مغرب ہے سو جس طرف تم منہ کرو وہاں اللہ کی توجہ ہے ، بیشک اللہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے O (سورہ البقرہ : آیات109تا 115)

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا کہ کہیں مجھے نہ پہنچ جائے۔ میں نے کہا کہ ہم جاہلیت و شر میں تھے پھر اللہ نے یہ خیر بھیجی۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! اور اس میں دھواں ہے۔ میں نے کہا : اس کا دھواں کیا ہے؟ فرمایا: لوگ میری سنت کے بغیر راہ پر چلیں گے اور میری ہدایت کے بغیر ہدایت اپنائیں گے ، ان میں اچھے بھی ہونگے اور برے بھی۔ میں نے کہا : کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں! داعی ہونگے جو لوگوں کو جہنم کے دروازوں پر دعوت دینگے جو انکی دعوت قبول کریگا اسکو اس میں جھونک دینگے۔ میں نے کہا : ذرا انکا حال تو بیان فرمائیے۔ فرمایا: وہ ہمارے چمڑے میں ہونگے اور ہماری زبان بولیں گے ۔ میں نے کہا اگر میں انکو پاؤں تو کیا حکم ہے ؟ ،فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام سے مل جاؤ۔ میں نے کہا اگر مسلمانوں کا امام ہو اور نہ انکی جماعت تو پھر؟، فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، چاہے تمہیں درخت کی جڑ چوس کر پناہ لینی پڑے، یہاں تک کہ موت آجائے۔ (مشکوٰۃ، بخاری، عصر حاضر ، مولانا یوسف لدھیانویؒ )

جب سے میں نے اس مسیحی خاتون اسکالر کی یہ تحریر پڑھی ہے مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اسکی تردید کروں تو کس طرح، تائید کروں توکس طرح ؟ ۔ مسیحی خاتون اسکالر لکھتی ہیں ’’امریکی صدر نے دو مذاہب کے مراکز کے دورے کئے ہیں۔ ایک سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز ہے اور دوسرا ویٹی کن سٹی جو کہ ہمارا ہے۔ ہمارے مرکز سے برداشت اور امن کی بات کی گئی اور ہمارے رہنما نے امریکی صدر کو دنیا میں پائیدار امن کیلئے کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ اسلامی دنیا کے مرکز سے عدم استحکام اور بدلے کی بات کی گئی اور امریکی صدر کو جنگوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ہمارے مرکز سے دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کی نشاندہی کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا اور وہ ہتھیار دوسرے اسلامی ملک پر استعمال کے غرض سے خریدے گئے۔ ہمارے مرکز سے غربت کے خاتمے اورسماجی انصاف کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ اسلامی مرکز سے امیروں کو امیروں نے امیرانہ تحائف دینے کے باوجود اسلامی دنیا میں عدم استحکام ، غربت سے دوچار شہریوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا اور ان کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی جو اسلامی دنیا میں جنگوں سے بری طرح متاثر ہیں۔ کیا یہ فرق وہ ہے جسے آسانی سے نظر انداز کیاجائے؟

پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے ایک منشور کی ضرورت

موسمیاتی تبدیلیوں ، پانی کے ذخائر،ماحولیاتی آلودگی ، اسلحہ کی دوڑ دھوپ سازش کے تحت فرقہ وارانہ لڑائی اور مضبوط اداروں کو سازش کے تحت کمزور کرنیکا رویہ خاص طور سے بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ ریاست کی مضبوطی اداروں سے اور اداروں کی مضبوطی دیانتداری، میرٹ اور اپنے کام سے کام رکھنے میں ہی ہے۔ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک وقوم کے بجائے اپنا کاروبار چمکارہے ہیں۔
1: تعلیمی نظام کے نصاب کو درست کرنیکی ضرورت ہے، بھاری بھرکم بستے اور بڑی بڑی فیسوں نے قوم کے بچوں ، نوجوانوں اور نسلوں کے مستقبل کوداؤ پر لگادیا ہے۔ اچھے نصاب اور بچوں کے معیار سے تعلیمی قابلیت کے اساتذہ قوم کی ضرورت ہیں۔ اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ اورطلبہ کی زیادہ سے زیادہ فیس بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔ جس سے قوم تباہ ہورہی ہے، سکول مالکان کی ناجائز منافع خوری المیہ ہے، تعلیم کاروبار نہیں خدمت ہے،اساتذہ کو کسمپرسی سے نکالنا اور طلبہ کو سستی تعلیم دینا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے بوجھ بنتا جارہاہے جسکی وجہ سے نقل اور جعلی ڈگریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قوم کی نااہلی کیلئے ہمارا تعلیمی نظام اپنا کردار ادا کرنے میں سب سے آگے ہے۔
قدرت نے پاکستان کو بے پناہ دولت سے نوازا ۔ پانی اور ہر موسم کی آب و ہوا، میدانی و پہاڑی سلسلہ ، دشت وصحرا، عرب وعجم اور مشرق ومغرب کے اس سنگم پر واقعہ ہونا جس میں دنیاکیلئے اسکی بہت بڑی اہمیت ہے۔حکمران قذاقوں کی طرح لوٹ مار کے بجائے قوم کے بہتر مستقبل کیلئے سوچیں۔ہم گرمی میں پہاڑی، سردی میں میدانی علاقے کا موسم انجوائے کرنیوالے تعلیمی ادارے بناسکتے ہیں جو کم خرچ بالا نشیں ہونگے، وزیرستان کے بھی ایسے مدارس ہیں۔اگر مدارس کا نصاب درست کرلیا تو اسکے بہت مثبت اثرات پڑینگے۔ قرآن وسنت سے معاشرہ مالا مال ہوگا، تو عالم اسلام ہی نہیں پاکستان دنیا کی امامت بھی کریگا۔
2: پہاڑی علاقوں سے آنیوالا شفاف پانی ڈیموں کے ذریعہ ذخیرہ کیا جائے تو زیرزمین پانی کے ذخائز میٹھے پانی سے مالامال ہونگے۔ سستی بجلی پیدا ہوگی توعام لوگ پاکستان میں اے سی اور ہیٹر کا استعمال کرکے دنیا کے جہنم سے بچ سکیں گے اور پانی کو ہر طرح کی آلودگی سے بچانے کیلئے انتظام ہوگا تو صحتمند معاشرے پر حکمران فخر کرسکیں گے۔ ملیں، کارخانے اور فیکٹریاںآلودگی پیدا کریں توا ن کو فی الفور کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے منتقل کیا جائے۔ بلوچستان کی غیرآباد زمیں آباد اور باقی پاکستان کو آلودہ پانی سے نجات ملے گی۔ دنیامیں کیا ہورہاہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟۔ جس طرح انسانی جسم قدرت کا حسین شاہکار ہے۔ کھانے پینے اور ہگنے وپیشاب کرنیکی راہیں ایک ہوجائیں توپورا جسم بدحال ہوجائے۔ ان حکمرانوں کی مسیحائی کے سہارے بیٹھنا زیادتی ہے جو قوم کی تباہی کو پیشہ بناچکے ،پاکستان کے اندر میٹھے پانی کی اتنی صلاحیت ہے کہ کراچی کی ندیاں شفاف پانی سے مالامال ہوں۔ بڑی سڑکوں پر گرین بیلٹ، نہریں اور چھوٹی سڑکوں پر نالے بنیں اور عوام فائدہ اٹھائیں۔ ابھی تو کچی آبادی کیا، متوسط طبقے بھی نہیں ڈیفنس والے بھی پانی سے محروم ہیں۔ سندھ کی زرعی آبادی کیلئے کالاباغ ڈیم ضروری ہے، سندھ کو نہری نظام کے ذریعے بنجر ہونے سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ دریائے سندھ کبھی طوفان نوح اور کبھی کربلا کا منظر پیش کرتا ہے، دنیا آسمانی پانی کی تسخیر پر عمل پیرا ہے اور ہم بہتے پانی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔کالاباغ ڈیم بن جائے تو جب دریا خشک ہوتاہے توپورادریا ڈیم بن سکتاہے، نہ صرف دریا بلکہ جگہ جگہ بڑے مصنوعی ڈیم بنادئیے جائیں تو پاکستان سرسبزوشاداب ہوگا، باغات و جنگلات کی وجہ سے بارشیں برسیں گی ،پانی کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا، نہری نظام اور گندے نالوں کا جال پاکستان کو فطری زندگی سے مالامال کردے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی بخشی ہے‘‘ ۔پانی کا مسئلہ حل کئے بغیر بہتر مستقبل کا خواب پورانہ ہوگا۔
3: پاکستان کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر ہجوم کا معاملہ روزانہ خوامخواہ کی اذیت ہے۔ جہاں سرکاری املاک ہوتے ہیں وہاں بھی سڑک انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سرکار عوام کی خادم ہو تو سب سے پہلے سرکاری املاک کی بہت بڑی کٹوتی کرکے راہ دکھائی جائے کہ جہاں عوام کو تکلیف نہ ہوگی وہاں زمین اور مارکیٹوں کا بھاؤ بھی نسبتاً بہت زیادہ ہوگا۔ گورنمنٹ کے اداروں کیلئے زمین کونسا بڑا مسئلہ ہے، لینڈ مافیا سے مل کر حکومت اور عوام کے املاک پر قبضے کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟، مقتدر طبقہ اپنے مفاد میں اندھا ہونے کے بجائے قومی مفاد اور عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھے ،لیاری ایکسپریس وے کے مکینوں کوگھروں سے محروم کیا جارہاہے اور بدلے میں 50ہزار روپے دئیے جارہے ہیں؟۔ کیا غریبوں کی بدعا ان لوگوں کو نہیں لگے گی؟۔ حکومت کیلئے مشکل نہ تھا کہ فلیٹ یا گھر بناکر دیتی مگربے حس اور مفاد پرست طبقہ حکمرانی کے مزے لیتاہے۔ منصوبہ بندی کرکے تمام شہروں کی شاہراہوں کو وسیع کیا جائے، ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ شریعت میں قبرستان اور مساجد کو بھی راستہ بڑا کرنے کیلئے مسمار کیا جاسکتاہے۔ پنجاب کی آبادی بہت بڑی ہے، جنوبی پنجاب کو ملتان سے اسلام آباد تک موٹر وے کے ذریعے میانوالی کی صراط مستقیم سے ملایا جائیگا تو اسکا فائدہ کراچی سندھ اور کوئٹہ بلوچستان کشمیر ، گلگت بلتستان، ہزارہ کے علاوہ پنجاب کو بھی ہوگا ٹریفک کی آلودگی سے بچت ہوگی۔ بڑی مقدار میں فیول اور انرجی بچے گی۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں کو بہترشاہراہوں کے ذریعے ملایا جائے توپوری قوم موسم کیمطابق پاکستان کے ہر علاقہ سے فائدہ اٹھا ئیگی۔ بابائے قوم گرمی کی چھٹیاں زیارت میں گزارتے تھے، حکمرانوں نے پہاڑی علاقوں میں محلات بنا رکھے ہیں تو عوام بھی اپنی اوقات کے مطابق گرمیوں کا موسم پہاڑی علاقے میں گزارسکتے ہیں۔
4: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خداداد صلاحیتیں دی ہیں، کوئی ذہنی صلاحیت رکھتاہے اور کوئی جسمانی صلاحیت رکھتاہے۔کوئی بھی قوم ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو ذہنی کاموں پر لگادیتی ہے اور جسمانی صلاحیت والوں کو جسمانی صلاحیت پر لگادیتی ہے تو وہ بلندی وعروج حاصل کرلیتی ہے اور جو اسکے برعکس جسمانی صلاحیت والوں کو ذہنی اور ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو جسمانی کام پر لگادیتی ہے تو وہ گراوٹ و پستی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف میں قائدانہ صلاحیتیں نہ تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کو پروان چڑھایا جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں صلاحیت تھی تو ایوب خان نے ان کا درست انتخاب کیا تھا، جب بھٹو نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا اورایوب خان کو چھوڑ دیا تو عروج کی منزل حاصل کی مگر ڈکٹیٹر کے اثر نے خوئے جمہوریت کھو دی۔ اب بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز میں قائدانہ صلاحیت تو دور کی بات ذہنی صلاحیت بھی نہیں اور ملالہ یوسف زئی میں ایک غریب کی بچی ہونے کے باوجود قائدانہ صلاحیت ہے۔ جب امیر وغریب کو تعلیم کے یکساں مواقع مل جائیں تو ذہنی صلاحیت امیر وغریب کے بچے میں ہو تو قوم کو قابل ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ طبقہ ملے گا۔ جن میں ذہنی صلاحیت نہ ہو تو وہ قوم پر نالائق بن کر بھی بوجھ نہیں بنے گا۔ جاگیردار کا بچہ ذہنی صلاحیت سے محروم ہوکر ڈاکٹر بنے اور غریب کا بچہ ذہنی صلاحیت سے مالامال ہوکر بھی کھیتی باڑی کرے تو قوم کا مستقبل کبھی نہیں بن سکتاہے۔ پاکستان میں مزارعت پر پابندی لگائی جائے تو جاگیردار زمین کاشت کریگا یا مزراع کو مفت میں دیگا۔ جس مزارع کو مفت میں کاشت کیلئے زمین مل جائے تووہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلواسکے گا۔ والدین بچوں کو تعلیم دلاسکیں تو بچوں پر مزدوری نہ کرنے کی پابندی لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔پھر بلاول زرداری، حسن و حسین نواز جیسے لوگ کھیتی باڑی کرینگے اور قابل لوگ آگے آئیں گے۔
5: میاں بیوی ، حکمران رعایا اور طاقتور کمزور کے حقوق کا تعین ہوجائے اور معاشرہ شعور سے مالامال ہوجائے تو ظلم وجبر کا خود بخودخاتمہ ہوگا اور اعلیٰ اخلاقی قدریں تہذیب وتمدن کا حصہ بن جائیں گی۔ النساء کی آیت19میں عورت کو خلع کا حق اور20میں شوہرکوطلاق کا حق اجاگر کیا جائے تو99%شوہروں کے غیر اخلاقی اور تشدد کے رویہ میں فرق آئیگا۔ اس طرح طلاق کی درست تعبیر سامنے لائی جائے تو 100%عوام رمضان کے مہینے میں تین عشرے کی طرح تین مرتبہ طلاق اور آخری عشرے میں مساجدمیں اعتکاف کی طرح حلالہ کا مسئلہ سمجھ میں آجائیگا۔ حقوق کا مسئلہ حل ہوگا تو لوگ قرآن کے وعظ سے مستفید ہونگے۔

کوئٹہ سے سوات تک علماء اُٹھ جائیں

کوئٹہ (عبد العزیز، محمد زبیر) کچلاک کے معراج خان ولد ملک باز محمد خان کا تعلق جمعیت علماء اسلام (ف) سے تھا۔ پھر الگ ہوا کہ جمعیت نے قرآن و سنت کے بجائے دنیاوی اقتدار کو اپنا نصب العین بنالیا ۔ پھر خوابوں کی بشارت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حکم ملاکہ امام مہدی کیلئے تحریک خراسان پاکستان کی بنیاد پر کام کرے۔ وہ بڑے درد ناک انداز میں پشتو اشعار پڑھتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے ۔ ہمارا کالا جھنڈا ہے جو خوبصورت بلند ہے ۔ حق کی یہ نشانی ہے۔ پانچ اس میں ستارے ہیں اور دوسرا یہ کہ چاند اس میں واضح ہے۔ میں کتاب سے بولتا ہوں ، بڑی قیامت کے باب سے مسلم عالی جناب !مشکوٰۃ ، ترمذی ، ابن ماجہ میں یہ لکھا ہوا ہے ، جانان ﷺ کی حدیث ہے ، تحریک خراسان کی ہے ، یہ بہت بڑا بخت ہے اے مسلماں!۔ اے اُمت! اگر تم شامل ہوجاؤ ، یہ امام مہدی کا لشکر ہے ۔ یہود ہوں کہ نصاریٰ ، بیت اللہ کے اوپر قابض ہیں اور وہ سچے گمراہ ہیں۔ بیت المقدس پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہے۔ سب ایک بات پر متفق ہوجاؤ ۔ تو کفر کی سرداری ٹوٹ جائیگی ۔ حق تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ۔ قرآن کو دہشت گرد کہا جائے، یہ فرعونی دعویٰ ہے۔ میں طالب خراسان کا ہوں ، پورے جہان کیلئے اٹھ کھڑا ہوں، میں بے بس و کمزور ہوں۔ اللہ آپ مدد کرو ، مدینہ پریشان ہے۔
جولائی 1999ء میں ضرب حق کی مین لیڈ لگی مولاناامیر حمزہ بادینی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام (س) نے فرمایاکہ عتیق گیلانی کی حمایت کے بارے میں کچھ دوستوں سے مشورہ کیا لیکن دوستوں نے اجازت نہیں دی۔اللہ کے فضل سے حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 25اپریل 1999ء کومدینہ منورہ میں استخارہ کیا ، مجھے بشارت ہوئی کہ سید عتیق الرحمن گیلانی اُمت مسلمہ کا خیر خواہ ہے۔ مولانا بادینی نے علماء کرام ، بزرگان دین اور عوام سے کہا کہ وہ ملکر شاہ صاحب سے تعاون فرمائیں۔ حال ہی میں ٹانک وزیرستان کے مولانا عصام الدین محسود نے گیلانی کے اہداف کو درست اور علماء کی روش کو غلط قرار دیا تھا۔

مدارس دہشتگردی کے مراکز، جاوید غامدی… جاوید غامدی کو کرارا جواب: عتیق گیلانی

جاوید غامدی TITچینل انٹرنیٹ ویڈیو
سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کا سبب کیا ہے؟ اور اس سے کیسے نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ ۔
جواب: دہشتگری اسوقت جو مسلمانوں کی طرف سے ہورہی ہے اسکا سبب وہ مذہبی فکر ہے جو مسلمانوں کے مدرسوں میں پڑھایا جارہا ہے جو انکی سیاسی تحریکوں میں سکھایا جارہا ہے اسکا باعث ہے اور اسمیں چار چیزیں ہر مدرسہ پڑھاتا ہے ہر مذہبی مفکر سکھاتا ہے وہ آپ کے سامنے نہ سکھائے تو بہر حال لازماً سکھاتا ہے۔ وہ چار چیزیں کیا ہیں وہ سن لیجئے؟۔ پہلی چیز یہ کہ دنیا میں اگر کسی جگہ شرک ہوگا یا کسی جگہ کفر ہوگا یا ارتداد ہوگا یعنی کوئی شخص اسلام چھوڑ دیگا اس کی سزا موت ہے اور یہ سزا ہمیں نافذ کرنیکا حق ہے۔ دوسری بات یہ سکھائی جاتی ہے کہ غیر مسلم صرف محکوم ہونے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں مسلمانوں کے سوا کسی کو دنیا پر حکومت کا حق نہیں ۔ غیر مسلموں کی ہر حکومت ایک ناجائز ہے۔ جب ہمارے پاس طاقت ہوگی ہم اس کو الٹ دینگے۔ تیسری چیز ہر جگہ سکھائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی ایک حکومت ہونی چاہیے جسکو خلافت کہتے ہیں الگ الگ حکومتیں ان کا کوئی جواز نہیں۔اورچوتھی بات یہ ہے کہ جدید نیشنل اسٹیٹ جو قومی ریاست ہے یہ ایک کفر ہے۔ اسکی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ چار باتیں ہماری مذہبی فکر کی بنیاد ہیں۔ مجھے یہ بتائیے کہ اگر یہ آپ کو سکھادی جائیں تو آپ کیا کرینگے؟۔ اس وجہ سے میں مسلسل اپنی حکومت سے بھی اور پاکستان کے لوگوں سے بھی کہہ رہا ہوں کہ جب تک آپ اس مذہبی فکر یہ Narativeہے اس کے مقابل میں اسلام کا صحیح Narativeپیش نہیں کرینگے یہ لوگ پیدا ہوتے رہیں گے ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا۔ چنانچہ میں نے پاکستان میں بہت سے آرٹیکل لکھے ہیں۔ ابھی حالیہ چند مہینے پہلے اسلام اور ریاست ایک جوابی بیانیہ Counter Narativeکے عنوان سے ایک آرٹیکل میں نے لکھا اس پر بہت بحث ہوئی۔ پاکستان میں تمام علماء نے اس پر تنقید کی پھر میں نے اس پر جواب دیا۔ اس میں بھی میں نے یہی بات واضح کی ہے کہ ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے ورنہ یہ جو اس وقت صورتحال پیدا ہوگئی ہے یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جہنم بنا دے گی دنیا کو۔ اور میں یہ آپ سے عرض کررہا ہوں کہ ایک زمانے میں یہی بات افغان جہاد کے بارے میں لکھ رہا تھا کوئی نہیں مانتا تھا۔ اس کے بعد پوری قوم نے مانا۔ آج میں آپ کو بھی متنبہ کررہا ہوں اس کیلئے تین اقدام ضروری ہیں۔ Counter Narativeپر مسلمان قوم کی تربیت ضروری ہے۔ میں نے دس نکات کی صورت میں اس کو بیان کردیا ہے۔ اسلام کا اصل Narativeکیا ہے ؟ یہ نہیں ہے اصل Narativeکیا ہے آپ پڑھ لیجئے۔ یہ ضروری ہے کہ اس پر مسلمان قوم کو Educateکیا جائے۔ دوسری کیا ہے دوسری چیز یہ ہے کہ دینی مدارس کا نظام بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ کسی علم کی اسپیشلائزیشن کی تعلیم بچے کو نہیں دی جاسکتی۔ ہر بچے کا حق ہے اس کو پہلے بارہ سال تک broad baseتعلیم دی جائے۔ اسکے بعد عالم بنے اسکے بعد سائنسدان بنے ۔ ہمارے دینی مدارس اس اصول پر کام کرتے ہیں کہ پانچ سال کے سات سال کے بچے کو عالم بنادیتے ہیں۔ اس کا حق کسی کو نہیں ہے۔ ڈاکٹر بنانے کا حق بھی نہیں ہے انجینئر بنانے کا حق بھی نہیں ہے۔ بارہ سال کے Broad baseتعلیم کے بعد جو جی چاہے بنائیے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کیلئے سول سوسائٹی تیار ہو۔ لوگ ایجوکیٹ ہوں۔ مسلم حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ بارہ سال کی Broad base تعلیم کے بغیر کسی اسپیشلائزیشن کے ادارے کو قائم نہ ہونے دیں۔ اسکے بعد جس کا جو جی چاہے دیوبندی مدرسہ بنائے، بریلوی بنائے لیکن طے شدہ بات ہے کہ بارہ سال کی Broad base تعلیم کے بعد داخلے کا حق ہو۔ مجھے بتائے کہ آپ کسی کو حق دیتے ہیں اس بات کا کہ وہ پانچ سال کے بچے کو ڈاکٹری کی تعلیم دینا شروع کردے، نہیں دیتے۔ بارہ سال کیBroad base تعلیم ہربچے کا حق ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جمعہ کامنبر علماء کیلئے نہیں ہے یہ ریاست کے حکمرانوں کیلئے ہے،اسکو واپس لانا چاہیے، اگر یہ واپس نہیں جائیگا تو عالم اسلام میں مسجدیں یا تو بریلوی کی ہو نگی یا دیوبندیوں کی ہونگی یا اہل حدیث کی ہونگی خدا کی کوئی مسجد نہیں ہوگی۔

:جاویداحمد غامدی کو کرارا جواب : عتیق گیلانی

جاوید غامدی کے یہ الزامات حقائق کے بالکل منافی ہیں۔مدارس کی تعلیم کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ۔دہشت گردی آج کی اصطلاح ہے جبکہ مدارس کا وجود ہزار سال قبل ہے البتہ نام نہاد سکالرز جنہوں نے مدارس میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی ہو تو وہ قرآن کا مفہوم غلط پیش کرکے دین کو دہشت گردی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ غامدی نے جس فن میں تعلیم حاصل کی، اپنی خدمات اس تک محدود رکھتے تو یہ اسلام، فطرت اور عقل کا بھی تقاضہ ہوتا۔ عطائی ڈاکٹروں کی طرح ان عطائی اسلامی اسکالرز کا بھی سدباب ہوتا۔ مدارس اور مذہبی جماعتوں پر تنقید کا حق سب کو ہے لیکن یہ نہیں کہ’’ الٹا چور کوتوال کو پکڑے‘‘۔ یہ افکارخلافِ حقیقت کے علاوہ بدترین قسم کے تضادات کا شکار ہیں۔دنیا میں اسلام ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ دین میں زبردستی نہیں۔ جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے لیکر آج تک قائم ہے۔ ہندوستان پر 8سو سال کی حکومت میں کس مشرک و کافر کو مدرسہ کی تعلیم نے قتل کروایا؟۔انگریز نے پوری دنیا پر ظالمانہ حکومت کی مگر اسلام عدل کا نظام چاہتا ہے۔ صدیوں خلافت قائم رہی مگر دہشتگردی نہ تھی تو اب خلافت کیونکر دہشتگردی کا ذریعہ بن جائیگی
جاوید غامدی نے تین چیزوں کی وضاحت کردی۔ 1: یہ کہ قرآن و سنت ، علماء اور مذہبی طبقات کے مقابلے میں جاوید غامدی کی ذاتی فکر کے مطابق اسلام کا مفہوم پیش کیا جائے، جو دس نکات پر مشتمل ہے۔جاوید غامدی نے سورہ مائدہ کی آیات کا بھی غلط مفہوم بیان کرتے ہوئے حکمرانوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں سیاق و سباق کے اعتبار سے تین قسم کے لوگوں کی وضاحت کرتے ہوئے الگ الگ حکم واضح فرمایا ہے۔ علماء و مشائخ اگر دنیاوی مفاد کیلئے دین کو بیچ ڈالیں تو ان پرکافر کا فتویٰ لگایا ہے اور جو حکمران اللہ کے حکم کے مطابق انصاف نہ کریں ان پر ظالم کا فتویٰ لگایا ہے اور جو عوام اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں ان پر فاسق کا فتویٰ لگایا ہے۔ ایک سوال کہ قرآن میں ماں کے پیٹ کے اندر بچے یا بچی کا علم نہ ہونے کی بات ہے جبکہ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے پتہ چلتا ہے، کے جواب میں جاوید غامدی نے کہا کہ مشرکین مکہ نے قیامت کے بارے میں سوال اٹھایا تھا کہ اس کے وقت کا پتہ نہیں تو قیامت کیسے آئے گی؟۔ جس کے جواب میں اللہ نے کہا تھا کہ جس طرح بارش اور ماں کے پیٹ میں بچے کا پتہ نہیں مگر اس کی حقیقت سے انکار نہیں کرتے ، اسی طرح قیامت کا دن بھی ہے۔
حالانکہ ان پانچ چیزوں کے بارے میں حدیث ہے کہ یہ غیب کی چابیاں ہیں۔ موجودہ دور نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی قرآن و حدیث برحق ہیں اور یہ غیب کی چابیاں ہیں۔ پہلی چیز ساعہ کا علم ہے، قیامت کو بھی ساعہ کہتے ہیں اور گھنٹے اور لمحے کو بھی ساعہ کہتے ہیں۔ سورہ معارج میں فرشتے چڑھنے کی مقدار یہاں کے ایک دن کے مقابلے میں 50ہزار سال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا، 80سال سے زیادہ کا سفر کرنے کے باوجود یہاں ایک لمحہ گزرا تھا۔ آئن اسٹائن نے ریاضی کے قاعدے سے اس نظریہ اضافیت کو درست قرار دے کر ثابت کیا، جسکے ذریعے علوم کا دروازہ کھل گیا۔ دن رات ، ماہ و سال سے زمیں کی گولائی اور اپنے محور کے گرد چکر لگانے اور سورج کے گرد چکر لگانے کے انکشاف سے ثابت ہوا کہ واقعی الساعہ (وقت)غیب کی چابی ہے۔ دوسری چیز قرآن میں بارش کا برسنا ہے، بارش میں ژالہ باری اور آسمانی بجلی کا مشاہدہ غیب کی چابی تھی۔ اللہ نے بادل کو بھی مسخر قرار دیا تھا اور جب انسان اس مشاہدے کو عملی تجربات میں لایا تو مصنوعی بجلی پیدا کرنی شروع کی۔ الیکٹرک کے ذریعے دنیا کے کارخانے اور روشن کائنات اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا تھا کہ قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا ۔ دنیا کو قرآن و حدیث کی پیشگوئی بتائی جائے تو ان کا ایمان بن جائیگا۔ تیسری چیز قرآن میں ارحام کا علم ہے۔ رحم صرف ماں کا پیٹ نہیں ہوتا بلکہ تمام جانور، پرندے اور حشرات الارض کے پیٹ اور انڈے بھی رحم ہیں۔ اسی طرح نباتات درخت پودوں کے بیج وقلم وغیرہ بھی رحم ہیں۔ آج نت نئے فارمی جانور ، مرغیاں اور پرندوں کے علاوہ پھل ، اناج، گندم اور مکئی وغیرہ اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حیوانات و نباتات کے علاوہ ایسے جوڑوں کا ذکر بھی کیا ہے جس کو اس وقت کے لوگ نہ جانتے تھے۔ جمادات میں ایٹم کے ذرات پر بھی رحم کا اطلاق ہوتا ہے ، جس پر مثبت و منفی الیکٹران بنتے ہیں۔ ایٹم بم ، ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیا بھی اسی غیبی چابی کی مرہون منت ہے۔
2: جاوید غامدی نے بارہ سال تک عام تعلیم کی بات کی ہے لیکن مدارس میں جو نصاب علم کا پڑھایا جاتا ہے اس میں بارہ سال سے کم عمر کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہوتی کہ کو ئی اس کو پڑھ سکے۔ جس طرح ارفع کریم نے کم عمری میں علم میں کمال حاصل کیا اور وہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے اس طرح بعض اکابر نے پہلے کم عمری میں علم حاصل کیاہو تو یہ ان کا کمال تھا۔ بریلوی دیوبندی مدارس کا نصاب تعلیم ایک ہی ہے مگر میٹرک ، ایف اے ، بی اے اور ایم اے کے بعد بھی فرقہ وارانہ ماحول کی تعلیم دی جائے تو اسکے نتائج مختلف نہیں ہونگے ۔ یہ بہت بڑی کم عقلی کی سوچ ہے اور مذہبی ماحول سے لا علمی کا نتیجہ ہے۔ مدارس میں قرآن و سنت اور تمام مسالک کے دلائل پڑھائے جاتے ہیں۔ سوال جواب اور اشکالات کے نتیجے میں علماء و طلباء میں بڑی وسیع النظری اور وسیع الظرفی پروان چڑھتی ہے،مدارس کی تعلیم سے جمہوری تہذیب و تمدن پروان چڑھتا ہے، مسائل میں جمہور کا مسلک اور شخصیات کا مسلک پڑھایا جاتا ہے۔ اسکول و کالج اور یونیورسٹی کے مقابلے میں مدرسے کے طلبہ زیادہ با اخلاق ، باکردار اور اعلیٰ تہذیب و تمدن کا کرشمہ ہوتے ہیں۔حال ہی میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد منشیات کا اڈہ بن گیا تھا۔ قانون اور سزا نہ ہو تو یہ تعلیمی ادارے ہر وقت جنگ و جدل اور فتنہ و فساد کے مراکز بن جائیں۔ جماعت اسلامی پر انبیاء کرامؑ اور امہات المؤمنینؓ کی گستاخی کے فتوے اور الزامات لگے، دیوبندیوں پر بریلوی تسلسل کیساتھ نبیﷺ کی گستاخی کے الزامات لگاتے ہیں لیکن کسی مدرسہ میں بھی کسی کیساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشعال خان کیساتھ الزام کی بنیاد پر ہوا۔ کسی نے سلمان تاثیر کی طرح سیکیورٹی اہلکار بن کر دوسرے قتل نہیں کیا، ریاست اور یونیورسٹی میں کام خراب ہو اور الزام مدارس پر لگایا جائے؟۔
3: غامدی کا تیسرا نکتہ جمعہ پڑھانا سرکار کا حق ہے۔ جہاں جرائم پیشہ لوگوں اور منشیات کے سب سے زیادہ اڈے ہوں وہاں کا تھانہ مہنگے دام اور سفارش سے تھانیداروں کو ملتا ہے۔ شریف لوگ انصاف کے حصول کیلئے بھی تھانہ جانے میں خوف محسوس کرتے ہیں تو کیا مساجد بھی ان تھانیداروں اور بیورو کریٹوں کو حوالہ کی جائیں جنہوں نے رشوت سے معاشرے کا کباڑہ کیا ؟۔ غامدی اس عمر کو تو نہیں پہنچے ؟،اللہ فرماتا ہے ومنھم من یرد الیٰ ارزل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا ’’اور بعض لوگ وہ ہیں جو اس نکمی عمر تک پہنچتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کے بعد ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا‘‘۔
فرمایا:خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ’’تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب بنایا ‘‘۔ جس طرح ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کا اپنا اپنا مقام ہے ، اس طرح لوگوں کے ذاتی مکانات ، زمینیں ، فیکٹریاں ، کارخانے اور دفاتر ہیں۔ ذاتی ملکیت کے خاتمے کا فلسفہ ناکام ہوا۔ مزدور روس جانا پسند نہ کرتا تھا۔ اسلام میانہ روی کا دین ہے ۔ احادیث میں زمین کو مزارعت پر دینا سُود اور ناجائز ہے ۔ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا ناجائز اور سُود ہے، علماء و فقہاء نے حیلہ نکال کر جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کیاتو مزارعین غلامی سے نہ نکل سکے ۔ اگریہ حیلہ نہ ہوتا تو آج پاکستان اور دنیا میں غربت اور غلامی کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔ بیٹی بہن کم زیادہ حق مہر کے عوض نکاح میں دی جائے تو میاں بیوی جتنے چا ہیں بچے جن لیتے ہیں ۔ یہ تصور نہیں کہ اسلئے بہن یا بیٹی یا کوئی خاتون دے کہ اسکے ذریعے میرے لئے یا آدھو ں آدھ پر بچے جنواؤ۔ انسانی حقوق کا تقاضہ یہ ہے کہ جسطرح ماں باپ سے آزاد بچے پیدا ہوں ، اسی طرح زمین کی پیداوار مزارعین کیلئے غلامی کا ذریعہ نہ بنے۔ فقہاء نے لکھا کہ احادیث میں اسلئے سُود قرار دیا کہ مزارعت غلامی کا ذریعہ تھا لیکن کیا اب بھی مزارعین جاگیرداروں کی وہی بدترین غلامی کی زندگی نہیں گزار رہے ہیں؟۔
معاشرتی تہذیب و تمدن کی عوام میں اتنی غیرت ہوتی ہے کہ شک کی بنیاد پر بھی بیوی کو موت کی گھاٹ اتار دیتے ہیں جبکہ علماء و فقہاء اسکے اندر اس قدر بے غیرتی پیدا کرلیتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے والا خود اپنی بیوی کو حلالہ کی لعنت کیلئے پیش کردیتا ہے۔ کیا اس تعلیم کو عدم برداشت اور دہشتگردی کیلئے بنیاد قرار دیا جاسکتا ہے؟۔ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم یہ تعلیم دیتے ہیں کہ شادی بیاہ میں جو لفافے ایکدوسرے کو دئیے جاتے ہیں وہ سُود ہیں اور اسکے ستر گناہ ہیں اور کم از کم گناہ ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے اور دوسری طرف سُودی بینکاری کو معاوضہ لیکر اسلامی قرار دیتے ہیں تو کیا اس سے عدم برداشت اور دہشتگردی کی فضاء پیدا ہوگی؟۔ بنی اُمیہ ، بنی عباس اور خلافت عثمانیہ تک ہر دور میں فتوے ماحول کیمطابق ڈھالنے والے بیچارے کونسی دہشتگردی کی تعلیم دیتے ہیں؟۔ ہندوستان کی متحدہ قومیت کے علمبردار بھی مدارس کے علماء اور پاکستان کیلئے مسلم لیگی قیادت کیساتھ بھی علماء تھے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے حکومت الٰہیہ کا نظریہ پیش کیا، پاکستان کی اسلئے مخالفت کی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ مگرپاکستان بن گیا تو فرمایا کہ’’ مسجد بننے پر شروع میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر جب مسجد بن جائے تو اسکی حفاظت ضروری ہے۔ اگر ہندوستان کی طرف سے مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی آجائیں تو اسکے سینے میں گولیاں اتاردوں گا کیونکہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہونگے اور میں اپنے ملک کی‘‘۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن دارالعلوم دیوبندسے اسلام نہیں اقوام متحدہ کیمطابق یہ فتویٰ نہیں دلاسکتے کہ’’ کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم بند کرو‘‘۔ علماء کی بیچارگی کا یہ عالم ہے کہ مساجد میں مقتدیوں کے ڈر سے بسم اللہ پڑھنے کی نماز میں سورۂ فاتحہ ودیگر سورتوں سے پہلے جرأت نہیں کرسکتے۔ ارباب فتویٰ کے خوف کا یہ عالم ہے کہ طلاق کے درست مسئلہ کی حمایت کرکے لکھ کر فتویٰ نہیں دے سکتے۔علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓاوربی بی عائشہؓ کی جرأت کوئی کہاں سے لائے؟۔ حسینؓ کی شہادت تاریخ کا ایک سانحہ بن کر رہ گیا ہے۔
اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کیلئے قرآن و سنت اور صحابہؓ و اہل بیتؓ کی سیرت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے سردار تھے مگر جب لعان کی آیات نازل ہوئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر بیوی دیکھ لوں تو اسکو قتل کردونگا‘‘۔ نبی ﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی تو وہ عرض کرنے لگے کہ وہ بڑی غیرت والا ہے ، کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی اور جسے طلاق دی ہے تو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے (صحیح بخاری)۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ مہاجر صحابی تھے اور انکے انصاری بھائی صحابیؓ نے پیشکش کی کہ ’’ جائیداد آپ کیساتھ آدھی آدھی کرلیتا ہوں ، دو بیویاں ہیں ، جو پسند ہو، آپ لے لیں‘‘۔ یہ صحابیؓ تھے بیگمات کی صلاح سے یہ پیشکش کررہے تھے۔
اللہ کی حکمت کو دیکھئے کہ جب شوہر کی نیت میں فتور آئے تو وہ طلاق اور بیوی کوبدلنے میں غیرت محسوس نہیں کرتا مگر جب بیوی کی دوسری جگہ شادی کا مسئلہ آتاہے تو غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ جاوید غامدی کے شاگرد ڈاکٹر زبیر احمد سے ہماری ملاقات ہوئی ، ہم نے بتایا کہ جاوید غامدی نے لکھا کہ ’’ایک ساتھ تین طلاق پر سخت سزا ہونی چاہیے ‘‘ مگر حلالہ سے بڑھ کر سزا کیا ہے؟۔ ہم نے مؤقف پیش کیا تو ڈاکٹر زبیر نے بتایا کہ یہ مؤقف سو فیصد درست ہے مگر یہ ٹی وی پر پیش کیا تو ہمارا پروگرام بند کردیا جائیگا۔ اب کامران خان نے دنیا نیوز پر طلاق کا معاملہ اٹھایا توجاوید غامدی کا یہ مؤقف سامنے آیاکہ ’’قرآن میں ایک طلاق ہی کی وضاحت ہے اور پھر عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے‘‘۔ حالانکہ یہ خلافِ حقیقت اور سراسر فراڈ ہے۔
کامران خان اور دیگر اینکرپرسن کیلئے قرآن سمجھنا دشوار نہیں، طلاق کی سورۃہے ،اللہ نے عورتوں کی عدت کیلئے طلاق کا حکم دیا، عدت پوری گننے اور اس دوران بیوی کو اسکے گھر سے نہ نکالنے اور نہ خود نکلنے کا فرمایا، ہوسکتاہے کہ طلاق کے بعد اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردے ۔جب عدت کی تکمیل ہو تو معروف رجوع یا معروف الگ کرنے کا حکم دیا ہے، علیحدگی کی صورت میں دوعادل گواہ مقرر کرنے کا بھی حکم ہے اور پھر اللہ سے ڈرنے والے کیلئے راہ کھولنے کی بشارت بھی دی ہے۔
یہ فراڈہے کہ’’ اللہ نے ایک طلاق کا حکم دیا ‘‘۔ عربی میں طلاق علیحدگی کا نام ہے، آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ’’جب تم بیوی کو علیحدہ کرنا چاہو تو عدت تک کیلئے علیحدہ کرلو‘‘۔ مذہبی طبقہ طلاق کا مفہوم غلط لیتاہے، اس مفہوم سے قرآن کا ترجمہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ قرآن میں عدت تک کیلئے طلاق کا حکم ہے اورمذہبی مفہوم یہ ہے کہ’’ ایک طلاق دی تو یہ مخصوص عدت کیلئے نہیں بلکہ کمان سے نکلا ہوا وہ تیر ہے جس کا زمان و مکان سے تعلق نہیں۔1،2،3۔جو لفظ زبان سے نکل گیاوہ حتمی ، حرفِ آخر اور ہمیشہ کیلئے ہے۔ اللہ کہتاہے کہ عدت تک کیلئے طلاق دو، اور مذہبی طبقہ سمجھتاہے کہ قرآن کا یہ جملہ محض الفاظ کی رنگینی کے سوا کچھ نہیں۔ حالانکہ یہ جملہ مذہبی تصورات کا ڈھانچہ گرا دیتاہے، جس کی بنیاد پر طلاق کی باطل عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ طلاق کا مفہوم مذہبی نہیں بلکہ عربی لغت کا لفظ ہے جو عورت کو علیحدہ کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے ۔ ’’جب عورت کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو‘‘
جب عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت کے تین ادوار پاکی کے بعد حیض، پاکی کے بعد حیض اور پاکی کے بعد حیض میں علیحدگی کے عمل کو تسلسل کیساتھ تین مرتبہ طلاق کہتے ہیں۔ جن عورتوں کا حمل ہو تو وہاں تین ادوار اور تین مرتبہ طلاق کا کوئی تصور نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حیض کی صورت میں عدت کا تصور دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ ’’ طلاق دومرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان سے رخصت کرنا ہے‘‘۔ نبیﷺ نے وضاحت فرمائی کہ پاکی کے دِنوں میں روکے رکھو، یہاں تک کہ حیض آجائے، (پہلی مرتبہ طلاق )پھر پاکی کے دِنوں میں روکے رہو، یہاں تک کہ حیض آجائے، (دوسری مرتبہ طلاق )پھر پاکی کے دِنوں میں معروف طریقے سے رجوع کرلو، یاپھر ہاتھ لگائے بغیر احسان سے رخصت کردو، (یہ تیسری مرتبہ کی طلاق ہے)۔ بخاری کی کتاب التفسیر سورۂ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں یہ وضاحت ہے۔ سورۂ طلاق کی میں بھی یہی وضاحت ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ رکانہؓ کے والدنے رکانہؓ کی ماں کوطلاق کے بعد کسی خاتون سے شادی کرلی،جس نے اس کی نامردی کی شکایت کردی، نبیﷺ نے اس کو چھوڑنے اور رکانہؓ کی ماں سے رجوع کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا کہ وہ تین طلاق دے چکا ، نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات کو تلاوت فرمایا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا؟۔ جواب یہ ہے کہ حدیث کا مفہوم واضح ہے اور اس حدیث سے زیادہ قرآن میں بھی یہی بات واضح ہے کہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع کا دروازہ اللہ نے کھلا رکھا ہے۔یہی سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں تفصیل سے واضح ہے۔ جہاں تک آیت میں فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ کا تعلق ہے تووہ ایک خاص صورتحال سے نتھی ہے۔ مثلاً رمضان کے روزوں میں تین عشرے ہیں۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا مغفرت کا ہے اور تیسرا آگ سے نجات کا ہے۔ پھر اگر آخری عشرہ میں مساجد کا اعتکاف ہوتو اللہ نے اس صورت میں بیویوں سے مباشرت کو منع کردیا ہے۔ یہ کتنی بڑی نالائقی ہے کہ کوئی آخری مساجدکے اعتکاف کی صورتحال نکال کر آخری عشرہ میں مباشرت پر پابندی لگائے؟۔ یہی صورتحال قرآن میں تین مرتبہ طلاق کے حوالہ سے ہے، اللہ نے بار بار عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دی مگر ایک صورت میں یہ وضاحت کی کہ’’ طلاق دومرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصتی ہے اور (رخصتی کا فیصلہ کرتے ہوئے) تمہارا لئے حلال نہیں کہ جو کچھ ان کو دیاہے ، اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خدشہ ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکوگے۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ عورت اس میں سے وہ فدیہ کردے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں، پھر اگر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے شادی کرلے‘‘۔
درسِ نظامی، اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار ‘‘ میں اس آیت کے حوالہ سے حنفی مؤقف کی بھرپور واضح ہے کہ فان طلقہا کا تعلق دومرتبہ طلاق سے نہیں بلکہ فدیہ دینے کی صورت سے ہے اسلئے کہ ف تعقیب بلا مہلت کیلئے ہے۔دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ میں فدیہ کوئی مستقل طلاق نہیں، بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ جس طرح مساجد میں اعتکاف کی صورت کے بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو چوتھا عشرہ شمار کیا جائے بلکہ رمضان کے تیسرے عشرے کی ایک صورت ہی ہے جو تیسرے عشرے کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔علامہ ابن قیمؒ نے بھی حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیاہے کہ ’’اس طلاق کا تعلق دومرتبہ طلاق کے بعد فدیہ ہی کی صورت سے سیاق وسباق کے مطابق ہے۔ کسی بھی اس پر سیاق وسباق کے بغیر اطلاق کرنا درست نہیں ہے‘‘۔ (زادالمعاد: علامہ ابن قیمؒ )
رسول اللہﷺ ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی چند سال تک کوئی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا تو وہ ایک شمار ہوتی۔ تین طلاق کا تعلق طہرو حیض کے مراحل، رجوع کا تعلق عدت سے تھا لیکن حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق کو تین قرار دیکر ناقابلِ رجوع کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ قرآن کے عین مطابق خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے کیلئے 100%درست تھا۔یہ وہ صورت تھی جس میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا برقرار ہو۔ میاں بیوی راضی تو حکومت کو مداخلت کرنے سے کوئی غرض نہیں ہوسکتی۔ بالفرض ایک مرتبہ طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہوتی تویہی فیصلہ حضرت عمرؓ ، خلفاء راشدینؓ اورتمام صحابہؓ کرتے کہ شوہر کو یکطرفہ رجوع کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا: وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا ’’ اور ان کے شوہروں کو ہی انکے لوٹانے کااس مدت میں حق ہے ، بشرط یہ کہ صلح کرنا چاہیں‘‘۔ وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکما من اہلہ و حکما من اہلہا ’’ اگر تم دونوں کی جدائی کا خوف کرو، تو ایک فیصل شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے مقرر کرلو، اگر دونوں صلح پر رضامند ہوں تو اللہ انکے درمیان موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ قرآن کے برعکس شوہر کوغیرمشروط رجوع کا حق دیا گیا۔حضرت عمرؓ کے فیصلے کی ائمہ اربعہؒ نے درست توثیق کی، ورنہ عورت شادی نہ کرسکتی تھی مگریہ تو وہم وگمان میں نہ تھا کہ ڈھیر ساری آیات کے باوجود باہمی صلح سے بھی رجوع کا راستہ روکا جائیگااور تمام حدود کو پامال کرکے حلالہ کیلئے فتویٰ بازی ہوگی۔شوہر رجوع نہیں چاہتا،تب بھی بیوی کو مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا اسلئے اللہ نے دوسرے خاوند سے نکاح کی وضاحت کردی ۔

ہما بقائی پروفیسر کراچی یونیورسٹی سے ملاقات

کراچی ( ڈاکٹر احمد جمال) نمائندہ نوشتۂ دیوار راقم الحروف احمد جمال، ایڈیٹر اجمل ملک اور چیف ایڈیٹر سید عتیق گیلانی نے کراچی یونیورسٹی میں انٹر نیشنل امور کی ماہراور تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی سے ملاقات کی۔ اجمل ملک نے ڈاکٹر صاحبہ سے کہا کہ آپ ٹی وی پر اپنا مؤقف جرأتمندانہ پیش کرتی ہیں۔ ہمیں جرأتمند لوگ اچھے لگتے ہیں ، اسلئے ان سے ملتے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ آپ کا اخبار ملتا ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر بھی کافی لکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی نے بتایا کہ طلاق کے حوالہ سے قرآن وسنت کا مؤقف واضح ہے مگرٹی وی ا سکرین پر اس کو پیش نہیں کیا جاتا۔ جن اسلامی اسکالرز کو اہمیت کے قابل سمجھا جاتاہے، ان کی بہت ناقص معلومات ہوتی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوجؒ سے ملاقات رہی ہے۔ حضرت امّ ہانیؓ حضرت علیؓ کی بہن تھیں، انکے گھر میں معراج کا واقعہ ہواتھا، انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت علیؓ نے انکے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا، انہوں نے شوہر کی پناہ کیلئے نبیﷺ سے درخواست کی، پھر ان کا شوہر ان کو چھوڑ کر گیا تو نبیﷺ نے ان سے نکاح کی پیشکش کردی، وہ بچوں کی وجہ سے راضی نہیں ہوئی تو اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ’’جن رشتہ دار خواتین نے ہجرت نہیں کی، ان سے آپ نکاح نہ کریں‘‘۔ اتنے واضح حقائق کے باوجود ڈاکٹر شکیل اوج کا کہنا تھا کہ امّ ہانیؓ نبیﷺ کی دودھ شریک بہن تھی اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے خلاف تین افراد اور چوتھے فرد کی فحاشی کی گواہی پر حد جاری نہ کی گی تو اس پر باقاعدہ امام ابوحنیفہؒ اور دیگر مسالک کے ہاں قانون سازی ہے لیکن ڈاکٹر شکیل اوج شہیدؒ نے کہا کہ وہ تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کی اپنی بیوی تھیں۔جو اتنی موٹی موٹی باتوں کا علم نہ رکھتے ہوں ان کو اسلامی اسکالر کا درجہ دینا کتنا عجیب ہے؟۔
عتیق گیلانی نے کہاکہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منظور کو عربی دینی علوم پر دسترس تھی، ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ اب تو وہ ضعیف ہیں ۔ مشرف دور میں ان کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی بنایا گیا ، میں بھی ان سے ملتی رہی ہوں۔ عتیق گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے اسلام کے حوالہ سے جو کتاب لکھی عام آدمی سمجھ نہیں سکتا۔ اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ ’’دو تین سو سال ہمیں اسلام کیساتھ گزارا کرنا پڑیگا، اسکے بعد اسلام کا وجود ختم ہوجائیگا جوں جوں ترقی ہوگی تو اللہ کا وجود ناپید ہوتا جائیگا۔حضرت عمرؓ نے طلاق کے حوالہ سے قرآن کیخلاف اجتہاد کیا، اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کی کوئی شکل باقی نہ رہتی‘‘۔ ڈاکٹر ہما بقائی نے اس پر توبہ کرکے کہا کہ ڈاکٹر منظور فلسفی تھے اسلئے ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ سید عتیق گیلانی نے کہا انکی سوچ میں مدارس کے دینی نصاب کا بڑا عمل دخل تھا۔ انہوں نے اصول فقہ پڑھی تھی ، اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کی کتابت اللہ کا کلام نہیں۔ فقہ کی معتبر کتب فتاویٰ قاضی خان فتاویٰ شامیہ اور البحرالرائق میں ہدایہ کے مصنف کے حوالہ سے لکھا ’’ علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘ اس کو مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ، جس پر ہمارے اخبار کیوجہ سے دباؤ آیا تو اپنی کتابوں سے عبارت نکال دی۔ مفتی سعید خان نے 2007ء میں کتاب شائع کی، اس میں بھی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیاہے۔ اسکی بنیادی وجہ گمراہی کی یہ تعلیم ہے کہ ’’المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھے گئے قرآن کے نسخے نہیں بلکہ 7قاریوں کے الگ الگ قرآن ہیں‘‘۔ ڈاکٹر منظور احمد نے بھی یہی کہا کہ’’ قرآن اورل(زبانی) ہے۔ اس کی لکھی ہوئی شکل اللہ کی کتاب نہیں‘‘جس پر ان کو جواب دینے سے پہلے فلسفی کے بارے میں یہ لطیفہ بتایا کہ جو کئی ہفتوں سے دیوار پر لگے ہوئے گوبر کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ آخر یہ کیسے لگاہے؟۔ خاتون نے پوچھ کر لمحہ بھر میں اس کا مسئلہ حل کردیا۔ ہاتھ سے گوبر اٹھاکر دیوار پر چپکادیا۔ قرآن کے بارے میں اصول فقہ کی فلسفیانہ سوچ بالکل غلط ہے۔ کتاب نام ہی لکھی ہوئی چیز کا ہے۔ جیسے میز، کرسی، پنکھا، موبائل اور دیگر اشیاء کیلئے فلسفیانہ گفتگو کی ضرورت نہیں، اس طرح کتاب پر بھی فلسفے کے بجائے اس حقیقت کا تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ کی کتاب کی لکھی صورت کتاب ہے۔ پہلی وحی میں قلم کی تعلیم کا ذکرہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ لکھی ہوئی چیز کا نام کتاب ہے۔ ان پڑھ بھی سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے۔محمد اجمل ملک

فیصل رضا عابدی سے ملاقات

کراچی( اجمل ملک چیف ایڈیٹر) پہلے ڈاکٹر احمد جمال کے ہمراہ سید فیصل رضاعابدی سے ملاقات ہوئی۔ پھر گیلانی صاحب کیساتھ ملاقات کی۔ کچھ اہم نکات سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے، ہمارا مقصد غلط فہموں کو دور کرکے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ فیصل عابدی ایک دلیر مذہبی اور سیاسی کارکن ورہنما ہیں۔ اُمید ہے کہ درست مؤقف سمجھ میں آیا تو پیش بھی کرینگے۔ فیصل رضاعابدی نے یہ بتادیا کہ ناسا کی رپورٹ ہے۔’’ 2023ء میں پوری دنیا پر ایک مسلمان حاکم ہوگا۔ وہ امام مہدی ہی ہوسکتے ہیں‘‘۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ بہت جلد اس سے پہلے ہی یہ ہوجائیگا۔ مگر ہمیں کچھ حقائق کی طرف دیکھنا ہوگا۔ شیعہ سنی کی لڑائی اس بات پر ہوگی کہ تراویح بدعت یا ماتم بدعت ہے تو بات نہیں بنے گی،فیصل رضا عابدی نے کہاکہ یہ منافقت ہے کہ جو رسول کی آل پر درود نہیں بھیجتے۔ نماز میں ہم سلام کہتے ہیں اور نماز کے بعد اہلبیت کو علیہ السلام نہیں کہتے۔ رضی اللہ عنہ اور سلام میں یہ فرق ہے کہ جو پہلے کافر تھا، پھر مسلمان ہوا تو اس سے اللہ راضی ہوا، علیہ السلام اس کیلئے ہوتا ہے جس کو پہلے سے اللہ نے پاک قرار دیا ہو، آیت تطہیر جنکے بارے میں نازل ہوئی۔ جن کو مباہلہ میں بھی اہلبیت قرار دیا گیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ حق علی کیساتھ ہے اور علی حق کیساتھ ہے، جس نے علیؓ سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی۔ جس نے علیؓ سے جنگ کی وہ رضی اللہ عنہ کیسے رہا۔ اس پر لعنت بھجیں گے یا رضی اللہ عنہ کہیں گے؟۔ گیلانی صاحب نے بتایا کہ فرعون کی اولاد نہ تھی مگر قرآن میں آلِ فرعون سے مراد اسکے پیروکار ہیں۔ علیؓ سے لڑائی کے بارے میں تاریخی واقعات ہیں، احادیث پر اتفاق اور اختلاف ہے لیکن قرآن پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ سورۂ مجادلہ میں عورت کا نبیﷺ سے جھگڑے کا ذکرہے جس میں اللہ نے وحی بھی عورت کے حق میں اتاری، بدری قیدیوں پر فدیہ لینے کی مشاورت ہوئی، علیؓ اور دیگر صحابہؓ کی اکثریت کا مشورہ یہ تھا کہ فدیہ لیا جائے۔ حضرت عمرؓ کا مشورہ تھا کہ فدیہ نہ لیں تو اللہ نے وحی اتاری کہ ’’ نبی کیلئے یہ مناسب نہ تھا کہ اسکے پاس قیدی ہوں یہانتک خوب خون زمین پر بہادیا جاتا‘‘۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شیعہ ایڈوکیٹ سے میں نے کہا کہ تمہارا یہ عقیدہ کہ اگر امام کہے کہ کل میں یہ کام کرونگا تو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ خلاف ورزی کرے لیکن قرآن میں نبیﷺ کے بارے میں ہے کہ اصحاب کہف کی تعداد کے وعدے پر وحی بند ہوئی ۔ جس پر اس نے کہا کہ میری سوچ بدل گئی ہے مگر چند دن بعد ان کو شہید کردیا گیا۔
فیصل رضاعابدی نے سلام کا فلسفہ ٹھیک پیش نہیں کیا، نماز میں نبیﷺ پر سلام کے بعدہم خود پر اور صالحین بندوں پر سلام کی دعا کرتے ہیں۔سلام تو ایکدوسرے اور اہل قبور کو بھی کرتے رہتے ہیں۔ صحابہؓ کو رضی اللہ عنہ کی سند قرآن نے دی اور سلام تو عام لوگوں کے علاوہ جاہل کو بطورِ مذمت بھی پیش کیا جاتاہے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہیگا تو بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا۔ اللہ توقیق عطاء کرے۔جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے مہتمم مفتی محی الدین کے صاحبزدے مفتی طلحہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ طلاق کے مسئلہ پر امت پریشان ہے اگر سید عتیق الرحمن گیلانی کی ہمارے مدرسے کے علماء ومفتیان کی ٹیم سے ایک ملاقات ہوجائے تو بہتر ہوگا۔ گیلانی صاحب وہاں طے شدہ وقت کیمطابق ہمارے ساتھ گئے لیکن مفتی طلحہ صاحب کہیں جنازے پر گئے تھے ، انکے والد مفتی محی الدین سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اور دیگر مسائل کیلئے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن ہیں ، ہم ان مسائل پر بات نہیں کرتے، گیلانی صاحب نے نصاب پر فقہ حنفی کے مسلک کے حوالہ سے بات کرنے کا کہا لیکن انہوں نے کہا کہ اتھارٹی میری ہے اور جب میں اس کی اجازت نہیں دیتا تو جامعہ اسلامیہ کے اساتذہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ہیں۔
گوجرانوالہ میں ہم مفتی خالد حسن کے پاس گئے وہاں ہمیں بڑا حوصلہ ملاتھا، ہمارا پروگرام نصرت العلوم جانے کا بھی تھا مگراقبال صاحب نے دعا کرانے کی بات پرا حوال سے آگاہ کیا تو ہماری ہمت ٹوٹ گئی، ایک دوست کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افسر خالد عمر سے ملاقات کی تھی اگلے دن پھر ملاقات کرنی تھی مگرپھرہم چلے گئے، اکابر علماء تعاون کریں تو خوشگوار ماحول پیدا ہو، اجمل ملک