جولائی 2020 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020
قل ےٰا ایھاالناس قد جاء کم الحق من ربکم فمن اھتدٰی فانّما یھتدی لنفسہ ومن ضلّ فانما یضل علیھا وما انا بوکیل Oواتبع ما یوحٰی الیک واصبر حتّٰی یحکم اللہ و ھو خیر الحٰکمینO
ترجمہ”کہہ دیجئے (اے میرے رسول !)کہ اے لوگو! بیشک تمہارے پاس حق آگیا تمہارے ربّ کی طرف سے۔پس جو ہدایت لینا چاہے تو اپنی جان کیلئے ہدایت لیتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی اسی پر پڑے گی اور میں کوئی وکیل نہیں ہوں ۔ آپ اتباع کریں اس کی جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرلیں ،حتی کہ اللہ فیصلہ فرمادے۔ اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں بہترین ہے۔ (سورہ ٔ یونس)
فرمایا:” اپنے عہد کو ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام میں صلح کراؤ”۔(البقرہ آیت 224)۔آیت نے مذہب کے نام پر صلح نہ کرنے کی جڑ کاٹی ۔ اَیمان کے کئی معانی ہیں ۔ ملکت ایمانکم لونڈی ،غلام، معاہدہ، حلف ، حلیف۔نکاح و معاہدہ آزاد عورت ومرد، لونڈی وغلام سے ہوتاہے۔ میثاق غلیظ بیگم سے ہوتاہے۔ طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ اَیمان ہیں۔ ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم ” یہ تمہارے عہد کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ” ۔ (المائدہ)
فرمایا: ”اللہ تمہیں لغو عہدپر نہیںپکڑتا مگر جو تمہارے دل نے کمایا اس پر پکڑتا ہے۔ جو لوگ اپنی بیگمات سے لاتعلقی اختیار کرلیں تو 4ماہ کا انتظار ہے۔ اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اگر طلاق کا عزم رکھتے ہوں تو اللہ سننے جاننے والا ہے (آیت225،226،227البقرہ)۔ آیات سے واضح ہے کہ الفاظ نہیں نیت پراللہ پکڑتا ہے ۔ اگر طلاق کے عزم کا اظہار نہ کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اظہار نہ کیاتوعدت چار ماہ ہے اور اظہار کی صورت میں تین ماہ ہے۔ اللہ نے ایک ماہ کی مدت بڑھانا گناہ قرار دیا ہے۔ فقہاء نے عورت کے حق اور اذیت کو نہیں دیکھا اسلئے قرآن کی تفسیر میں اُلٹے سیدھے تضادات کا شکار ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ چار ماہ تک عورت کے پاس نہ جانا عزم کا اظہار ہے، شوہر نے حق استعمال کرلیااور عورت طلاق ہوگئی۔ کسی نے کہا کہ طلاق کے عزم کا اظہارہی مرد کا حق ہے اور مرد نے حق استعمال نہیں کیا اسلئے طلاق نہیں ہوئی۔ کتے بھونکتے اور گدھے ڈھینچو ڈھینچو کرتے مگر اللہ کے واضح احکام میں تضادات پیدا نہ کرتے۔ قرآن کوبازیچۂ اطفال بنادیا۔
میاں بیوی میں علیحدگی کی زیادہ سے زیادہ تین اقسام ہیں۔1: دونوں جدائی چاہتے ہوں تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بلکہ طلاق کے بعدبھی شوہر اس عورت کو اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا۔ اس رسمِ بد کا خاتمہ اللہ نے آیت230البقرہ کے زبردست الفاظ میں کیا ہے۔2: شوہر نے طلاق دی ، بیوی الگ نہیں ہونا چاہتی تو پھر عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر چھوڑنے کا حکم ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کو ضرر پہنچانے کیلئے رجوع نہ کرو۔ طلاق کی دوسری قسم یہ آیت231البقرہ اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ہے۔ 3: شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا مگر بیوی خلع سے طلاق لے لیتی ہے۔ عدت کی تکمیل کے بعد عورت واپس جانا چاہتی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ جب دونوں معروف طریقے سے راضی ہوں تو عورت کے اپنے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ مت بنو۔ یہ تیسری قسم آیت232البقرہ میں ہے۔ اندھو، بہرو، لنگڑو، لولو۔ اُٹھو ! پڑھو اورکچھ تو سوچو!۔
فقہ میں طلاق کی اقسام1:طلاق احسن۔ 2: طلاق حسن 3: طلاق بدعت حنفی فقہاء کی بکواس ہے۔ جو حنفی ومالکی فقہاء کے نزدیک طلاق بدعت وگناہ ہے وہ شافعی فقہاء کے نزدیک طلاقِ سنت اور مباح ہے۔جس کو حنفی فقہاء نے طلاق احسن قرار دیا ،اسی کی وجہ سے غلام احمد پرویز، جاوید غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک گمراہ ہوئے۔
امام شافعی کے نزدیک عویمر عجلانی پر لعان کے بعد نبیۖ ناراض نہ ہوئے اسلئے اکھٹی تین طلاق سنت ہیں۔جبکہ فحاشی پر فارغ کرنے کا سورۂ طلاق میں جواز ہے لیکن عام حالات میں اکھٹی تین طلاق دیکر فارغ کرنا جائز نہیں،یہ امام ابوحنیفہ و امام مالک کی دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ رسولۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟جبکہ میں تم میں موجود ہوں۔ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کردوں؟ ۔ (ترمذی) یاد رہے کہ یہ عبداللہ بن عمر والا واقعہ تھا۔زیادہ مضبوط روایت ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھے مستندشخص نے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاقیں دیں۔ 20سال تک مجھے کوئی مستند شخص نہ ملا جو اس کی تردید کرتا۔ 20 سال بعد زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ابن عمر نے ایک طلاق دی۔ (صحیح مسلم) احادیث کی کتابوں میں یہ مہم جوئی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق ثابت کیا جائے۔ چنانچہ فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے درج کیا ۔ حالانکہ حدیث صحیحہ میں الگ الگ طلاق دینا ثابت ہے جبکہ ضعیف احادیث میں آن واحد میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ صحیح وضعیف احادیث کی یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ آن واحد میں تین طلاقیں دی ہوں اور پھر اس کو ایک شمار کرکے مرحلہ وار بھی تین طلاقیں دی ہوں۔ امام بخاری ابوحنیفہ کو پسند نہیں کرتے تھے اسلئے انکے مقابلہ میں امام شافعی و جمہور فقہاء کے دلائل کے ثبوت پیش کرنے کی کوشش فرمائی۔ ”جس نے تین طلاق کو جائز کہا”عنوان میں دیا کہ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔الآےة 229البقرہ ”۔ حالانکہ اس آیت میں اکٹھی تین کے بجائے الگ الگ طلاق کی خبر ہے۔امام بخاری نے رفاعة القرظی کے واقعہ کو بھی ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کیلئے پیش کیا، حالانکہ یہ واقعہ ابوحنیفہ و مالک وشافعی کی بھی دلیل نہیںمگر افسوس کہ جب جمہور کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کی بات آجاتی ہے تو پھر ان واقعات کو بھی حدیث کی کتابوں میں نقل کیا گیا جنکے بارے میں واضح تھاکہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی گئی۔ رفاعة القرظی کے بارے میں بھی بخاری میں واضح ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی۔ وفاق المدارس کے صدر محدث العصر نے نہلے پر دھلا یہ کردیا کہ ” جس روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے اس سے یہ ثابت ہے کہ رفاعة القرظی نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور واقع ہوتی ہیں۔جس روایت میں رفاعة القرظی سے مرحلہ وار تین طلاق کا ثبوت ہے تواس سے پتہ چلتا ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دینی چاہیے۔ (کشف الباری) یہ تو ایک بڑے محدث العصر کا حال تھا اور اب تو معاملہ صاحبزادگان کے حوالے ہوتا چلا جارہاہے۔
رفاعة کی تین طلاق وعدت کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح اور خلوت اختیار کی ۔ دوپٹے کا پلو دکھاکر کہا کہ شوہر کے پاس ایسی چیز ہے اور نبیۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعہ کے پاس نہیں جاسکتی جب تک دوسرا تیرا ذائقہ اور تو اس کا ذائقہ نہ چکھ لو، جس طرح پہلے کا چکھاتھا۔ کیا نامرد کے ذریعہ حلالہ ہوسکتا ہے؟۔ وہ تو رفاعة کی نہیں دوسرے شخص کی بیگم تھی، وہ طلاق چاہتی تھا ،رفاعة سے صلح کا معاملہ نہیں تھا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ”یہ خبرواحد ہے۔اس حدیث میں اتنی صلاحیت نہیں کہ آیت پر نکاح کے علاوہ جماع کا اضافہ کریں ،احناف نکاح سے جماع مراد لیتے ہیں اس حدیث سے جماع کی شرط نہیں لگاتے۔ (کشف الباری) کیا احناف کواپنا مسلک نظر نہیں آتا ہے ؟۔ قرآن میں عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کو باربار واضح کیا گیا ہے۔ لیکن علماء قرآن کی طرف نہیں دیکھتے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت حقیقی اسلام سے بہت جلد اپنی منزل پاسکتی ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت حقیقی اسلام سے بہت جلد اپنی منزل پاسکتی ہے!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020
طلاق و خلع کا علماء نے بالکل غلط تصور بنا رکھا ہے اسلام کا تصوردنیا کیلئے قابل قبول ہے۔ خلع وطلاق کے احکام سورۂ النساء آیت 19اور20،21 ہیں۔ ہدیٰ بھرگڑی حقائق کی طرف توجہ کرکے ایک عورت کی حیثیت سے ان کو دیکھ لے۔
عورت کا ترانہ کہ ”ہم کسی کی جاگیر نہیں،ہم انقلاب ہیں”۔اللہ نے فرمایا: ولاترثواالنساء کرھًا ……….. آیت19النسائ۔ ” اور تم عورتوں کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھواور نہ اسلئے ان کو جانے سے روکو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ، بعض واپس لے لو۔ مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو، ہوسکتا ہے کہ تمہیں وہ (خلع یعنی علیحدگی کی وجہ سے) اچھی نہ لگیں تو ہوسکتا ہے کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ تمہارے لئے اس میں بہت سا خیر رکھ دے”۔( آیت19النسائ)
1: پہلا حق عورت کو یہ دیا گیا ہے کہ وہ مرد کی جاگیر نہیں ہے، جب بھی وہ چھوڑ کر جانا چاہیں تو شوہر کو چھوڑ کر جاسکتی ہیں۔وہ بالکل آزاداور خود مختار ہیں۔
2: دوسرا حق ان کو یہ دیا گیا ہے کہ خلع کی صورت میں تمام وہ منقولہ اشیاء ساتھ لے جاسکتی ہیں جو اس کو حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے ملی ہیں۔
3: فحاشی کی صورت بعض اشیاء کو وہ حق مہر سمیت اپنے ساتھ لے جاسکتی ہیںاور بعض اشیاء کو شوہر روک سکتا ہے کیونکہ شوہر نے وفاداری کیلئے دی ہیں۔
4: خلع کی صورت میں عورت کا چھوڑ کر جانا برا لگے تو بھی ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین ہے، خوش اسلوبی سے رخصت کیا جائے۔یہ قرآن کا حکم ہے۔
5: عورت خلع کا اقدام کرے تو اس میں خیر کثیرہے ،اگر عورت کو خلع کا اس طرح سے حق حاصل ہو تو تشدد اور دوسرے ناخوشگوار واقعات کا خاتمہ ہوجائے گا۔
سورۂ النساء کی آیات20اور21میں طلاق کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔
خلع میں شوہر کی طرف سے دی ہوئی منقولہ اشیاء عورت کی ملکیت ہیں لیکن غیرمنقولہ اشیاء مکان، دکان اور باغ وغیرہ کو واپس کرنا ہوگا۔ جبکہ طلاق کی صورت میں شوہر نے جتنی منقولہ اور غیرمنقولہ اشیاء دیں اگرچہ بہت ساری ہوں لیکن ان کو واپس نہیں لے سکتا ہے۔ مکان ، دکان، فیکٹری، باغ، زمین اور تمام دی ہوئی چیزیں چاہے بڑے خزانے ہی کیوں نہ ہوں ، طلاق کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا۔ گھر عورت کا ہوتا ہے مگر خلع کی صورت میں چھوڑ کر جانا ہے اور طلاق کی صورت میں عورت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یأتین بفاحشة مبینة” ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں”۔(سورۂ طلاق آیت1) آیت میں نہیں کہا گیا ہے کہ شوہر اپنے گھروں سے ان کو نہ نکالیں بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ یعنی گھر عورت کا ہے لیکن کھلی فحاشی کی صورت الگ ہے۔
آیت20اور21النساء میں مردوں کو غیرت دلائی گئی کہ بیگمات پر تھوڑے مفاد کی خاطر فحاشی کا الزام نہ لگاؤ۔ فحاشی پر عورت کو گھر سے نکالا جاسکتا ہے ۔وہ نکل بھی سکتی ہے لیکن حق مہر اور دوسری دی ہوئی چیزوں سے پھر بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔ گھر سے محروم کرنا ہو تو اس کیلئے عدالت میں لعان کے پل صراط سے گزرنا ہوگا البتہ اگر عورت خود ہی گھر چھوڑنے پر فحاشی کی وجہ سے دستبردار ہوجائے توبھی ٹھیک ہے۔
نبیۖ کی ازواج مطہرات کے حجرے انکے اپنے تھے۔ اُم المؤٔمنین حضرت حفصہ بنت عمر نے نبیۖ کیساتھ لڑائی کی تھی کہ میرے حجرے میں حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ مباشرت کیوں کی؟۔ جس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی۔ حضرت عائشہ کے حجرے میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تدفین حضرت عائشہ ہی کی اجازت سے ہوئی۔ حضرت فاطمہ نے باغِ فدک میں اپنی وراثت کا مطالبہ کیا لیکن گنبدِ خضریٰ اور دیگر امہات المؤمنین کے حجرات میں وراثت کا دعویٰ نہیں کیا۔
نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے سورۂ النساء کی آیت20میں دئیے ہوئے زیادہ سے زیادہ مال کو صرف حق مہر کیساتھ خاص کرکے دجال سے بھی بدتر کا کردار ادا کیا ہے۔ حق مہر کا تعلق تو ہاتھ لگانے سے پہلے نصف اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا پورا ہونے میں کوئی ابہام نہیں ۔قرآن کی آیات میں بالکل واضح ہے۔ شوہر اگر عورت کو طلاق دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا اس کو اختیار نہیں ہے۔ اللہ نے اس کی کھل کر وضاحت کردی ہے۔ کیا مفتی تقی عثمانی کو اگر لوگوں نے تحائف وہدیات دئیے ہوں تو اس بنیاد پر واپس لے سکتے ہیں کہ اب یہ نالائق ثابت ہوگیا ہے؟۔ شوہر بھی بیوی سے کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا ہے۔ عورت کی حرمت وعزت کا اللہ نے بڑا احترام رکھا ہے۔ صرف زبانی نکاح سے بھی مقررکردہ آدھا حق مہر اور رخصتی و جماع سے پورا حق مہر مرد کو دینا فرض ہے۔
ہدی بھرگڑی نے ٹھیک کہا کہ” عورتوں کے حقوق کیلئے سیکولر اور قوم پرست پارٹیاں سامنے نہیں آتی ہیں جبکہ فیمنسٹ ہر جگہ کھڑی ہوتی ہیں”۔ خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والیاں مولوی نہیں اسلام کی طرف آئیں ،پھر دیکھ لیں کہ اسلام ان کو وہ حقوق دیتا ہے کہ سمجھ میں آئیں تو دنیا کی خواتین انہی حقوق کا مطالبہ کریںگی۔ حج و عمرہ کے معاملہ میںخواتین اپنے لئے الگ وقت میں طواف اور خاندان کیلئے حجرِ اسود کو چومنے کی اچھی ترتیب کا مطالبہ کرکے تاریخ کا پہیہ گھماسکتی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعیدخان سے بالمشافہ ملاقات میں سورہ النساء کی آیت19میں خلع پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بیگمات مراد ہیں؟۔ میں نے کہا کہ میرے مطلب کو چھوڑ دو کیا اس کا کوئی دوسرا مطلب بھی ہوسکتا ہے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ دوسرا مطلب نہیں ہوسکتا ہے۔ عورتوں کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کی آزادی اور یہ حقوق مل جائیں اور پھر طلاق میں بھی انکے حقوق قرآن کے مطابق محفوظ ہوجائیںتویہ بڑا بریک تھرو ہوگا۔ اس سے زیادہ حقوق عورتوں کو معاشرہ دینا بھی چاہے تو قبول نہیں کریں گی۔
مولوی صاحبان کے دماغوں میں تقلید ی مکڑیوں نے جالے بنارکھے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرو اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جوبھی ان کو دیاہے کہ اس میں سے کوئی چیز بھی واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اس چیز کواگر واپس نہیں دیا گیا تو دونوں (رابطہ کی وجہ سے) اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ،ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے توبیشک وہ لوگ ظالم ہیں”۔(البقرہ آیت229)
صحابی نے نبیۖ سے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ فرمایا آپۖ نے کہ آیت229میں احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے۔ پھر جب دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ عورت کو طلاق مل گئی۔ اسکے بعد خلع کا تصور یہاں کدھر سے آگیا؟۔ مولانا نے مکڑے بن کر اپنے لئے مکڑی کے جالے بنارکھے ہیں اور مکھی سمجھ کر وہ عورتوں کو جال میں پھنسا کر شکار کررہاہے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں صوبوں سے قومی اسمبلی اور سینٹ تک قرآن کی آیات پر قانون سازی کیلئے توجہ دی گئی تو شیطان کی سازشیں ختم ہوں گی اور انسانیت ایک بڑے انقلاب کے موڑ پر کھڑی ہوجائے گی۔ خواتین اس کوجلدازجلد اٹھائیں۔

علماء ومفتیان کو اسلام کی درست تعبیرکی طرف آناپڑیگا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علماء ومفتیان کو اسلام کی درست تعبیرکی طرف آناپڑیگا!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020

اللہ نے فرمایا الٰر کتب اُحکمت آےٰتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیرOالاتعبدوا الااللہ اننی لکم منہ نذیر وبشیرO وان استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یمتعکم متاعًا حسنًا الی اجل مسمًّی و یؤت کل ذی فضلٍ فضلہ وان تولّوا فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیرO” یہ کتاب ہے جس کی آیات کو استحکام بخشا گیا ہے ۔پھر خبر رکھنے والے حکیم کی طرف سے اس کی الگ مزید تفصیل بیان کی گئی ہے۔ خبردار! مت پوجو مگر اللہ کو ۔ بیشک میں تمہارے لئے ڈرانے اور خوشخبری سنانے والا ہوں اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو ۔ پھر اس کی طرف توبہ کرو۔ وہ تمہیں مقررہ مدت تک اچھی گزر بسر سے نواز دے گا۔اور ہر صاحب فضل کو اس کی فضیلت دیدے گااور اگر تم نے منہ موڑا تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں”۔ (سورۂ ہود آیات1،2،3)
جب سود کی حرمت والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت پر بھی سود کا حکم لگادیا اور فرمایا کہ اپنی زمین کاشت کیلئے مفت دو،یا اپنے پاس رکھو لیکن مزارعت، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا سود ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی سب کا اتفاق تھا کہ زمین کو مزارعت پر دینا حرام وناجائز اور سود ہے۔ بہت ساری احادیث سے یہ ثابت ہے۔ مولانا محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا محمد طاسین نے اس پر اپنی زبردست تصنیف بھی لکھی ہے لیکن وہ گوشۂ گم نامی کے نذر کردئیے گئے تھے۔
امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی القضاة (چیف جسٹس) و شیخ الاسلام بن گئے تو اس نے مزارعت کو جائز قرار دیا ۔پھر دوسرے مسالک کے علماء ومفتیان کا فتویٰ بھی آہستہ آہستہ صفحۂ ہستی سے مٹتا چلا گیا۔ ایک بڑے عربی عالم ابوالعلاء معریٰ نے ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھا تھا کہ اسلام نے لونڈیوں کا رواج ختم کردیا تھا لیکن جب عرب حکمرانوں نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو پھر لونڈی بنانے کا جواز شروع کردیا۔ لونڈی اور غلام بنانے کی ایک ہی صورت تھی کہ جنگ کے دوران پکڑے جانے والے مرد اور عورتوں کو قیدی بنالیا جاتا تھا تو انہیں لونڈی وغلام بنانے کا جواز ہوتا تھالیکن اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں یہ رسم ختم کر ڈالی۔ فرمایا کہ تمہاری مرضی ہے کہ قیدی فدیہ کے بدلے چھوڑتے ہو یا احسان کرکے مفت میں چھوڑتے ہو۔ اللہ نے تیسری صورت غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت ختم کردی۔ چونکہ پہلے سے ایک رسم چلی آرہی تھی کہ جنگوں میں قید ہونے والوں کو لونڈی اور غلام بنایا جاتا تھا۔ اسلئے اسلام نے پہلے اس کی اجازت دی لیکن ایک طرف غلاموں اور لونڈیوں سے نکاح کرنا آزاد مشرک رشتہ داروں سے زیادہ بہتر قرار دیا اور دوسری طرف غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم دیا۔ تیسری طرف منکوحہ بیگمات کے علاوہ معاہدہ والی خواتین سے تعلق کی اجازت بھی دی۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں بیگمات و گرل فرینڈز یا بوائے فرینڈز کا جو تصور ہے اسلام نے چودہ سوسال پہلے اس آزادی کے ماحول کو پیش کیا تھا لیکن غلاموں اور لونڈیوں کی رسم ختم کردی تھی۔
قرآن نے دودو، تین تین اور چار چارعورتوں سے چاہت کے مطابق نکاح کی اجازت دی اور فرمایا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک او ماملکت ایمانکم یاپھر جن سے تمہارا معاہدہ ہوا ہو۔ جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ قرآن میں ایک ہی بیگم کا حکم ہے اور رسول اللہۖ کی بھی درحقیقت ایک ہی زوجہ رہی ہے۔ باقی ضرورت کے تحت مجبوری کی وجہ سے تھیں۔ حالانکہ اللہ نے آخر میں نبیۖ کو مزید نکاح سے روکا تھا کہ چاہے ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے لیکن معاہدے والی کی اجازت دی ہے۔ ایک طرف جاوید غامدی قرآن وسنت کو اپنی خواہشات میں ڈھال رہاہے ۔ تو دوسری طرف علامہ غلام رسول سعیدی نے علامہ بدر الدین عینی کے حوالے سے لکھ دیا کہ نبیۖ کی 28ازواج تھیںاور27کے نام لکھے ہیںجن میں ایک چھوڑنے پر علامہ سعیدی نے گلہ کیا ہے کہ تعداد پوری نہیں لکھی ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے مسنداحمد کی ایک حدیث دکھائی کہ رسول اللہ ۖ نے ایک بچی کو دیکھا تو فرمایا کہ اگر یہ بالغ ہوجائے تو میں اس سے نکاح کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ علامہ بدرالدین عینی اس بچی کو شامل کرنا بھول گیا ہو، اسلئے تعداد پوری نہیں لکھی۔
علماء ومفتیان کو چاہیے کہ میری زندگی کا فائدہ اٹھائیں ورنہ ہوسکتا ہے کہ پھر بہت گنجلک مسائل کا وہ سامنا بھی نہیں کرسکیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ مجھے وزیرخزانہ بنادو، میں حفاظت اور جاننے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔بخاری نے لکھا کہ ” نبیۖ نے ام حبیبہ سے فرمایا کہ مجھ پر اپنی بیٹیاں پیش نہ کرو” اسلئے کہ سوتیلی بیٹیاں آپۖ پر حرام تھیں۔ جب نبیۖ نے حضرت علی کی ہمشیرہ ام ہانی کو فتح مکہ کے بعد نکاح کی پیشکش کی تو آپ نے اپنے بچوں کی وجہ سے قبول نہیں کی جس پر نبیۖ نے ام ہانی کی تعریف فرمائی۔ لیکن اللہ نے آیات نازل کیں کہ ہم نے وہ چچازاداور خالہ زادآپ کیلئے حلال کی ہیں جو آپ کیساتھ ہجرت کرچکیں۔ پھر آئندہ کسی بھی عورت سے نکاح کا بھی منع کیا لیکن معاہدے والی کی اجازت دیدی۔
علامہ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو بھی ازواج مطہرات کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔ ان کو ملکت ایمانکم میں داخل کرنا مناسب ہوتا۔فتح مکہ کے موقع پر نبیۖ نے وقتی معاہدے کی اجازت دی تھی۔ علامہ بدرالدین عینی نے امیر حمزہ کی بیٹی کو بھی 28کی فہرست میں شامل کیا ہے ،حالانکہ یہ بھی لکھا ہے کہ نبیۖ نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرحمزہ میرے دودھ شریک بھائی تھے اور یہ میری بھتیجی ہے۔ اگر قرآن کی آیات اوربخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث سے اپنے معاشرے کے نظام کو درست کرینگے تو دنیا میں اسلام کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے۔
جب آزادنہ معاہدے یا ایگریمنٹ کی جگہ لونڈی نے لی تو سلطان عبد الحمید سلطنتِ عثمانیہ کے بادشاہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیاں رکھی تھیں۔ مغل بادشاہوں کی حرم سراؤں میںسینکڑوں من پسند لونڈیا ں ہوتی تھیں۔ محمد شاہ رنگیلاکے بارے میں سعداللہ جان برق نے اپنی کتاب”دختر کائنات” میں لکھا ہے کہ محل کے بالاخانہ پر جانے کیلئے زینے پر ننگی لڑکیاں کھڑی کرتا تھا اور ان کے سینوں کو پکڑ پکڑ کر چڑھتا اور اترتا تھا۔ ایک طرف سنی مکتبۂ فکر کی مستند تفاسیر میں لکھا ہے کہ عورتوں سے فائدے اٹھانے کیلئے الی اجل مسمی ایک مقررہ مدت تک قرآن کی آیت تھی جو عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں موجود تھی اور احناف کے نزدیک قرآن کی آیت خبرواحد بھی ہو تو معتبر ہے ،تو دوسری طرف بخاری میں عبداللہ ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبیۖ نے متعہ کی اجازت دی اور پھر آیت پڑھی کہ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت ” حرام مت کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے”۔
عبداللہ بن مسعود نے جلالین کی طرح تفسیر لکھی تھی وہ آیت نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ نے لونڈی بنانے کو آل فرعون کی ایجاد قرار دیا تو اس طرزِ عمل کی اسلام میں کیوں اجازت دیتے؟۔ جب آزادانہ معاہدے کے حکم پر عمل معطل ہوگیا تو مسلمانوں میں داشتاؤں کا سلسلہ جاری ہوا۔ قرآن میں زنا کی سزا عورت اور مرد کیلئے 100، 100کوڑے ہے۔ سنگساری کی سزا پر یہود عمل نہ کرتے مگر خود ساختہ آیت الشیخ والشیخة ازا زنیا فرجموا ھما(جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان کو سنگسار کردو) بنارکھی تھی۔ نبیۖ نے شروع میں مسلم ویہودی اور عورت ومرد سب کیلئے یکساں عمل کیا مگرسورۂ نور کی آیت نازل ہونے کے بعد یہ حکم معطل ہوا۔

بندر کا مندر اسلام آباد میں! بندے تعصب کی کھاد میں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بندر کا مندر اسلام آباد میں! بندے تعصب کی کھاد میں

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020

رسول ۖ کا 10سال تک مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ 6ھ کو ہوا تھا۔ 10ھ کو نبیۖ کاوصال ہوا۔ابوبکر کا پورا، عمر کا آدھا دور خلافت اسی میں گزرجانا ۔ معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر مسلم مشرک بنے تو قریش واپس نہیں کرینگے ۔ مشرک مسلم بن جائے تو واپس کیا جائیگا۔ منافقین کا جہنم میں نچلا حصہ ہے۔ کوئی منافق بن کر رہنے کے بجائے مشرک بنتا تودنیاو آخرت کے اعتبار سے فائدہ تھا۔ مسلمان کو کفر پر مجبور کیا جائے تو قرآن میں معاف ہے۔ دوسری شق یہ تھی کہ قریش اور مسلم کے حلیف قبائل کی معاہدے میں پاسداری ہو گی ۔ معاہدہ ٹوٹا اس طرح کہ قریش نے اپنے حلیف قبیلے بنوبکر کی مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنو خزاعة کے خلاف مدد کی۔ بنوخزاعة بھی مشرک قبیلہ تھا لیکن مسلمانوں سے اچھے مراسم تھے اور معاہدہ کررکھا تھا۔
خانہ کعبہ کو مشرکوں کے پاس چھوڑنا بڑی بات تھی یا اسلام آباد میں مندر بنانا بڑی بات ہے؟۔ تقسیم ہندکے وقت مولانا ابولکلام آزاد یہ تقریریں کرتاتھا کہ اتنی ساری مساجد ، مدارس، گھر ، شہر اور زمینیں چھوڑ رہے ہو ؟۔ تمہارا ضمیر یہ اجازت دیتا ہے کہ یہ ویران ہوجائیں؟۔ قرآن کے نسخے کس کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہو؟۔ لیکن کئی مسلمانوں نے پاکستان بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ مساجداور مدارس کو قرآن کے نسخوں سمیت قربان کردیا اور اپنی جان بچاکر چلے آئے۔ ہجرت کا حکم تو خدا نے نہیں دیا تھا،ورنہ دارالعلوم دیوبنداور تبلیغی جماعت کے اکابرین اور مولانا احمد رضا خان بریلوی اپنے خاندانوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے پاکستان پہنچ جاتے۔
تبلیغی جماعت کا مرکز رائیونڈ ویران مندر تھا جو حکومت سے الاٹ کروایا۔ کیا مندر کے بدلے بھارت نے تبلیغی جماعت کے بستی نظام الدین مرکز پر قبضہ کیا؟۔ آج بھی بہت ہندو بھارت میں مسلمان ہورہے ہیں۔ شاعرہ لتا حیا ، ہندوپنڈت اسلام و مسلمانوں کی تعریف اور ہندوریٹائرڈ چیف جسٹس ہندوانہ جہالت کی سرِ عام مذمت کرتا ہے۔جس طرح ہندوؤں نے اپنے اصلی مذہب حضرت نوح علیہ السلام کی تعلیمات سے روگردانی کی ہے بالکل اسی طرح سے ہمارا مسلمان طبقہ خاص طور پر شدت پسند مذہبی طبقہ اسلام کی اصلی ظاہری اورباطنی روح سے محروم ہوچکا ہے۔
مولانا نے تعارف کے بغیر ویڈیو وائرل کی کہ ” فوج ہم نے جہاد کیلئے پالی۔ عوام کو غزوۂ ہند کیلئے کہا جاتاہے۔لیکن ہم کیوں جائیں؟، کیا فوج کاروبارکیلئے پال رکھی ہے؟”۔ ویڈیو کو بہت پسند کیا گیا۔ تبلیغی جماعت کا نعیم بٹ کہتا ہے کہ ” نبی ۖ نے یہودی کو زمین دی ۔ حضرت عمر نے کہا کہ نبیۖ نے زمین دی۔ اس وقت ہم کمزور تھے۔ اب ہم طاقتور ہیں اسلئے واپس لے رہا ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ مسلمان حکومت نے اپنے پیسوں سے کبھی غیرمسلم کو عبادتگاہ بناکردی ہو اور اگر یہ جائز ہے تو مفتی تقی عثمانی سے پوچھ لیں۔ اگر وہ جائز کہیں گے تو ٹھیک ہے۔ حق بات بہرصورت بولنا ایمان کا تقاضہ ہے ۔باقی کوئی عمل کرے یا نہ کرے”۔
تبلیغی نے ویڈیو میں یہودکو نبیۖ کی طرف سے عبادت کیلئے جگہ دینا اور حضرت عمر کی طرف سے واپس لینے کا عنوان بھی فیس بک پر لکھ دیا۔ حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔نبیۖ سے مسلمان نے زمین مانگی تھی جو آباد نہیں کررہا تھا۔ اسلامی نظام کا بنیادی مقصد جاگیرداروں کو نہیں کاشتکاروں کو زمینیں دینا ہے۔انگریز نواب ، خان، ایجنٹ جاگیرداروں کو زمین دیتا تھا ۔کانگریس کے منشور میں تھا کہ انگریز کی دی ہوئی جاگیریں بحق سرکار ضبط کی جائیں گی۔ نوابوں ، پیروںاور خانوں نے اپنی زمینوں کو بچانے کیلئے مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ سیاستدان نہیںتھا اسلئے فوج قابض ہوگئی۔
سورۂ مائدہ میں فمن لم یحکم بما انزل اللہ کے بعد فأولئک ھم الکٰفرون، فأولئک ھم الظٰلمون ، فأولئک ھم الفٰسقون کا حکم لگایاگیا ہے۔ علماء ومشائخ کو توراة کے تحفظ کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی ، تھوڑے سے مال کے بدلے دینی احکام میں تحریف سے روکاگیا اور اللہ نے حکم دیا کہ مخلوق سے مت ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہی لوگ کافر ہیں۔آج ہمارے علماء ومشائخ نے اللہ کی کتاب اور اس میں نازل کردہ احکام کا کیا حال بنارکھاہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو بھی معاوضہ لیکر جواز بخشاہے۔ کیا حکمران سے اس کا جرم ہلکا ہے؟۔ اگر مفتی تقی عثمانی مندر کو جواز بخشے تو جائز بن جائیگا؟۔ پہلی قوموں نے اپنے علماء ومشائخ کو اپنا رب بناکے رکھا تھا تو انکے حلال کردہ کو حلال ، حرام کردہ کو حرام سمجھتے تھے۔ یہی ان کو رب بنانا ہوا۔ اللہ کے احکام کوبدلنے کا سرغنہ ہردور میں کوئی ایک ایک شیخ الاسلام ہوتا ہے لیکن دوسرے چھوٹے بڑے مولوی اس کی مخالفت کا حق اسلئے ادا نہیں کرتے کہ ان کو اپنے رزق کی فکر لگ جاتی ہے۔ اللہ نے قرآن میں جگہ جگہ اپنے احکام پر فتویٰ نہ دینے والوں کو ہی کافر کہا ہے۔
اللہ نے سورۂ مائدہ میں پھر جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، ناک کے بدلے ناک ، دانت اور ہاتھ کے بدلے دانت ،ہاتھ اور زخموں کے قصاص کا حکم دیا اور فرمایا کہ جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتا تووہی لوگ ظالم ہیں۔ اس کا تعلق حکمران طبقے سے ہے اسلئے کہ مظلوموں کو انصاف دینا حکمرانوں ہی کا کام ہے ۔اور پھر اللہ نے اہل انجیل کا ذکر کیا کہ جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہی لوگ فاسق ہیں۔اس سے مراد عوام ہیں۔ مولوی جب شریعت کو بدلتا ہے تو اس سے دین بگڑ تا ہے اسلئے کافر کا حکم ہے، حکمران کاتعلق عدل سے ہے اسلئے اس پر ظالم کا حکم لگایا ہے۔ عوام نہ دین بدلتے ہیں اور نہ انصاف دے سکتے ہیں اسلئے فاسق کہا گیا۔
قرآن حکیم سے امت مسلمہ نے اجتماعی روگردانی اختیار کررکھی ہے۔ جب علما ومشائخ، حکمران اور عوام الناس حقائق کی طرف متوجہ ہوجائیںتو یہ امت کفر،ظلم اورفسق سے نکل آئے گی۔ ہمارا کام فوج کا دفاع نہیں اسلئے کہ ریاست میں طاقت کا سرچشمہ پاک فوج خود ہے۔ اچھائی اور برائی کا تعلق اسکے اپنے نامۂ اعمال کیساتھ ہے۔ وہ اپنے عمل سے قوم کیلئے محبت اور نفرت کے قابل بن سکتی ہے ۔ مولانا نے جو کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کو کھری کھری سنائی ہے ،یہ ایمان کے زیادہ مضبوط ہونے کی علامت ہے ۔ واقعی ملک کا دفاع پاک فوج ہی کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ عوام غلیلوں سے بھارت کے پائلٹ ا بھی نندن کو نہیں گراسکتے تھے۔ لیکن مولانا اس وقت انڈے سے نکلے تھے یا نہیں؟۔ جب طالبان دہشتگردوں نے عوام، بازاروں اور مساجد تک کو دھماکوں سے اُڑانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ جب ٹانک ، بنوں اور میرانشاہ میں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا تو طالبان جنگ بندی کا اعلان کرتے تھے؟۔ کیا اس وقت بھی مولانا ومفتی صاحبان نے ظالمانہ خود کشوں کیخلاف کوئی فتویٰ جاری کیا اورکوئی بیان دیا۔ مولاناطارق جمیل سے سلیم صافی نے پوچھا تو مولانا نے کہا تھا کہ ہماری منزل ایک ہے مگر راستے جدا جدا ہیں۔ اپنا کام مولانا نے کیا یا نہیں کیاتھا؟۔
جس طرح تبلیغی جماعت مساجد پر قبضہ کرتی ہے ،اسی طرح کا غیرا خلاقی اور انتہائی مفاد پرستانہ رویہ حضرت عمر کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے۔ حضرت عمر نے مولفة القلوب کی زکوٰة کو بھی منسوخ نہیں کیا تھا ، یہ قرآن وسنت اور حضرت عمر کے خلاف گھناؤنی سازش ہے۔ جب حضرت عمر کے دور میں جزیرة العرب میں مشرک اور یہودونصاریٰ کا کوئی وجود بھی نہیں تھا تو مولفة القلوب کی زکوٰة لینے والے کہاں سے آتے؟۔ قرآن وسنت کے واضح اورٹھوس احکام کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے گئے۔ زکوٰة کے نام پر پلنے والوں نے انواع واقسام کی کہانیاںبنائی ہیں۔

عورت اپنے حقوق کیلئے قرآن کے احکام کو صرف دیکھ لے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت اپنے حقوق کیلئے قرآن کے احکام کو صرف دیکھ لے

عورتیں اپنے حق کیلئے اُٹھیں!

اماں عائشہ نے قرآن وسنت کے مطابق اپنا درست فیصلہ بتایا تھا کہ” عدت کے تین قروء سے مراد اطہار ہیں”۔ لوگ اپنے ذوق سے اعتکاف میں بیٹھتے ہیں۔روزہ رات نہیں دن سے شروع ہوتا ہے لیکن اعتکاف رات سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ رات میں کھانا پینا جائز ہے اور صبح سے رات تک روزہ رکھنا پڑتا ہے۔ عید کے چاندکی خبر ملتی ہے تو جیل کے قیدیوں کی طرح اعتکاف والوں کو رہائی پانے کا احساس لگتا ہے۔ عید کی رات فضائل سے بھرپور ہوتی ہے مگر اعتکاف کرنے والے یہ مشقت بہت کافی سمجھتے ہیں۔
جب ایک عورت کو طلاق وعلیحدگی کی خبر سنائی جائے تو اسکے ساتھ حیض میں بھی مقاربت نہیں ہوسکتی ہے۔ پھر اس کا طہر میں طلاق کا پہلا روزہ شروع ہوجاتا ہے۔ اعتکاف کی رات اور پہلے دن کے روزے میں بھی مشقت ہوگی مگر عورت کیلئے عدت کا یہ پہلامرحلہ بہت مشکل کا ہوتا ہے ۔ اللہ کے حکم سے اس نے اپنے نفس پر قابو رکھ کربہت تکلف کیساتھ یہ مرحلہ طے کرنا ہے۔ پھر حیض آجائے تو مقاربت نہیں ہوسکتی۔ پھر دوسرے طہر میں انتظار کی گھڑیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ روزہ ایک دن کا ، اعتکاف دس دن کا ہوتا ہے لیکن یہ تو ایک مرحلہ مہینے تک ہوتا ہے۔ پھر حیض آتا ہے تو مقاربت نہیں ہوسکتی ہے ۔ پھر طہر کا زمانہ آتا ہے تو اُمید کی آخری سانسیں دم توڑ تی ہیں۔ عورت یہ عدت کس طرح سے گزار تی ہوگی جو شوہر سے جدا نہ ہونا چاہتی ہو؟۔ بچے تو برباد ہوں اور خوشی کے طلوعِ فجر کی جگہ غموں سے لتھڑا دل اندھیروں میں نامعلوم منزل کی جانب ڈوب رہا ہو۔ جس کو حدیث میں ابغض الحلال الطلاقنا پسندیدہ حلال کاموں میں سب سے زیادہ قابل نفرت طلاق کا عمل ہے۔ یہ عورت کا جگر اور دل گردہ ہے کہ بار بار حمل ، زچگی اور بچے کو دودھ پلانے کیلئے بے خوابی کی مشقت برداشت کرلیتی ہے۔اسی طرح نہ صرف عدت کے مشکل ادوار گزارتی ہے بلکہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی بیٹھ کر رشتہ نباہنے کی خواہش پالتی ہے۔ یہاں تک کہ بیوہ عدت گزارنے کے بعد زندگی بھر اپنے وفات شدہ شوہر کی وفاداری میں گزارتی ہے۔ یہ عورتوں کی خاصیت ہے۔ اپنے شوہر کیساتھ عہد وفا داری عورت کی سرشست اور فطرت کا اہم حصہ ہوتی ہے۔
نغمانہ شیخ نے لکھا” عورت جو کہ پہاڑ سے ٹکرا سکتی ہے ۔ سمندری طوفانوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ آندھیوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتی ہے۔ حتی کہ ساری دنیا سے لڑنے کا یارارکھتی ہے۔ مگر یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کی شریک ِ الفت اور کوئی عورت ہوجائے۔ وہ یہ دکھ نہیں جھیل سکتی”۔
دھوپ میں جلتے خواب صفحہ109: افسانے، نغمانہ شیخ
عورتیں سوکن کو ساہڑی(سندھی میںسہیلی) کہہ کر عملی طور پر برداشت کرکے دکھاتی ہیں۔ عربی میں ضرہ( ضرر سے) کہا جاتا ہے مگر ہرقوم میں عورت یہ مشکل بھی سہہ لیتی ہے۔ پروین شاکر کی مشہور غزل ” میں اس کی دلہن اپنے ہاتھوں سے سجاؤں گی” ۔ ”جہاں بھی گیا لوٹ کے میرے پاس آیا یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی”۔ عورت گاتی ہے۔
حضرت عائشہ نے مختلف ادوار دیکھے تھے۔ فرمایا کہ لبید کہتا ہے کہ وہ لوگ گئے جن کے سایوں میں زندگی بسر ہوتی تھی ،اب ہمیں بہت گرے پڑے لوگوں سے واسطہ ہے۔ اللہ لبید پر رحم فرمائے ،اگر ہمارا زمانہ دیکھ لیتا تو کیا کہتا ؟۔
حضرت عائشہ کے دور میں واقعہ ہوا۔ قرآن و سنت پر عمل ہوتاتھا۔ عدت کے دوران اور عدت کی تکمیل پر رجوع کا دروازہ کھلا تھا۔ ایک عورت نے پہلی مرتبہ اپنا حق استعمال کیا اور آخری طہر کے بعد حیض آیا تو شوہر سے جدا ہوگئی۔
جب آخری طہر کے بعد حیض آنے پر عدت ختم ہو تو بھی قرآن نے عدت کی تکمیل کے بعد بار بار معروف طریقے سے یعنی صلح واصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے مگر ہمارے کم عقل فقہاء لکھتے ہیں کہ ” اگر آدھے سے زیادہ بچہ ماں کے پیٹ سے نکلا تو رجوع نہیں ہوسکتا اور اگر کم نکلا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے”۔مفتی تقی عثمانی نے پہلی مرتبہ اپنے ”آسان ترجمۂ قرآن ” میں ترجمے کے الفاظ میں کھلم کھلا تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔ عدت کی تکمیل کے بعد آیات میں ایک ہی طرح کے الفاظ کے متضاد ترجمے کردئیے۔ اگر صحابہ کے ذہن میں یہی تھا کہ تیسرے طہر کے بعد عدت کی تکمیل ہوگئی ہے تو پھر بھی حیض کے اندر باہمی صلح و معروف طریقے سے رجوع کو قرآن وسنت کے مطابق سمجھتے تھے۔ جبکہ علماء نے دوسری طرف لکھا کہ اللہ نے عدت کی تکمیل پر بھی شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دیا ہے۔ حالانکہ معروف طریقے کا اتنا بڑا چاند ان کو نظر نہیں آتاہے، جبکہ عدت میں بھی اللہ نے صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے۔
بعض نے سمجھاتھا کہ آخری طہر کے بعد حیض میں عدت باقی رہتی ہے۔ عورت بیٹھنا چاہتی تو اس پر کوئی پابندی تو نہیں تھی لیکن تیسرے طہر کے بعد حیض آئے تو عدت ختم ہوجاتی ہے ۔پھرعورت کو عدت پرمجبور کرنا قرآن و فطرت کا حکم نہیں ہوسکتا ۔یہ کونسے عقل کی بات ہے کہ پہلا حیض و طہر انتظار کی مدت سے باہر کردیا جائے۔ پھر حیض کے بعد تیسرے حیض تک 3ماہ سے عدت بھی بہت کم بنتی ہے جبکہ جن کو حیض نہ آتا ہو ،ان کی عدت تین ماہ ہے۔ روزے کی نیت کچھ کھائے پیئے بغیر طلوع آفتاب کے بعد کی جائے تو بھی پورا روزہ شمار ہوگا۔ ادھورا نہیں۔
جب حضرت عائشہ نے قرآن کا حکم واضح کردیا تو اسکے بعد کسی معقول وجہ سے اس کا انکار درست ہوسکتا تھا مگر ایک بالکل غیرمعقول اور غیرفطری دلیل سے اس کو رد کرنا غلط تھا اور اس طرح کے معاملات ایک دو نہیں بلکہ بہت سارے ہیں اور معمولی نہیں بلکہ بہت بڑے بڑے ہیں ،اگر علماء اور عورت مارچ کا اہتمام کرنے والی خواتین کے درمیان اس پر مکالمہ شروع ہوگیا تو انقلابِ عظیم آجائے گا۔انشاء اللہ
قرآن میں بیوہ کی عدت 4ماہ 10 دن ہے۔جب کسی خاتوں کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور 4ماہ 10دن سے پہلے بچے کی پیدائش ہوگئی تو اس نے عدت ختم کردی۔ نبیۖ نے اسکا فعل درست قرار دیا۔ احناف کا یہی مسلک ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ بچے کی پیدائش اور4ماہ10 دن میں سے جو زیادہ مدت ہو ،وہی عدت ہے۔ اگر عورت کے حمل کی مدت 4ماہ 10دن سے زیادہ ہو تو قرآن کے نص کے مطابق عورت اپنے لئے کم مدت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ عدت عورت گزارتی ہے اور سہولت اسکا حق ہے۔ اللہ نے عورت کو انتظار اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔
جس عورت کا شوہر گم ہوجائے ،احناف نے اس کیلئے 80سال کی عدت رکھی تھی۔ انگریز دور میں ایک عورت کو اتنی بڑی عدت سے چھٹکارا پانے کیلئے اسلام چھوڑنا پڑا۔ جس پر علماء نے امام مالک کے مذہب کے مطابق 4سال بعد عدت وفات4ماہ 10گزارنے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ اتنی بڑی عدت مقرر کرنے اور پھرکم کرنے کااختیار کیسے ملا تھا؟۔ اگر بچی کا پیدا ہوتے ہی نکاح ہوجائے پھراسکاشوہر گم ہوجائے تو کیا80سال بعد وہ نکاح کے لائق ہوگی؟۔ صدیوں جہالت پر کیسے فتویٰ دیا؟ اور حساب کون دیگا؟۔ بڑے لمبے عرصہ تک اسلاف کی طرف منسوب فتویٰ انتہائی گمراہانہ تھا تو کیادوسرے معاملات گمراہی کا شاخسانہ نہیں ہوسکتے؟۔ اس سلسلے میں علماء اور عورت آزادی والوں کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ قرآن وسنت کی طرف رجوع بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس اخبار میں بہت سارا مواد ملے گا۔
مولانا فضل الرحمن اس سلسلے میں علماء ومفتیان کی ایک کمیٹی تشکیل دیں۔ نصاب کے حوالہ سے غلطیوں کی بھرپور نشاندہی ہم کرتے رہے ہیں ۔ اسی طرح خواتین کے حقوق کے حوالہ سے فقہی مسائل کی ہم نے پہلے بھی دھجیاں بکھیری ہیں۔ بڑے مدارس کے بڑے مفتیان درون خانہ اپنی ان غلطیوں کا اعتراف کرچکے ہیں مگر ہمت نہیں رکھتے ہیں۔
ہم اس شمارے میں کچھ نمونے پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ قرآنی آیات کا واضح مفہوم کیا ہے اور مدارس کے نصاب اور قرآن کی تفاسیرنے کیا حشر نشر کیا ہے۔ جس پر رسولۖ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہٰذالقراٰن مھجورًا” اور رسولۖ فرما دینگے کہ اے میرے ربّ ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ (القرآن)

حضرت عائشہ صدیقہ کے مقابلے میں کم عقل سادہ مُلا جیون

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حضرت عائشہ صدیقہ کے مقابلے میں کم عقل سادہ مُلا جیون

اماں عائشہ کی تفسیر درست تھی

والمطلقٰت یتربصن بانسفھن ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن…….. وبعولتھن احق بردھن ان ارادوا اصلاحًا………O( البقرہ)
ترجمہ :”اورطلاق والی عورتیں خوداپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں تین ادوار تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے انکے رحموں میں پیدا کیا ہے کہ وہ اس کو چھپائیں اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔اور انکے شوہر اس عدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کا پروگرام ہو۔ ……..O (البقرہ آیت228)
میرے ہم زبان کانیگرم شہروزیرستان کے ایک بچے احمد شاہ کی اس بات نے بڑی شہرت حاصل کی ہے کہ ”پیچھے دیکھو، پیچھے دیکھو۔ اوہ پیچھے تو دیکھو نا۔ پیچھے دیکھو”۔
مفتی منیب الرحمن چیئرمین ہلال کمیٹی اورمفتی اعظم کا لوگ مذاق اڑانے کیلئے احمد شاہ کی ویڈیو چاند کی تصویر کے ساتھ لگادیتے ہیں۔ ایک مقبول نعرے کا بڑا اثر پڑتاہے۔
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قرآنی آیات کیساتھ اس اُمت کے فقہاء نے جو ظلم اور زیادتی کی ہے ،اگر عوام کو بات سمجھ میں آگئی تو ہر طرف سے آیات کا ترجمہ وتفسیر اور فقہاء کے بکواسات پر باتوں کی بھرمار ہوگی اور علماء ومفتیان پر زبردست یلغار ہوگی کہ پیچھے دیکھو اور ساتھ ساتھ آگے تو دیکھونا۔ کا نعرہ بھی مقبول ہوگا۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
ہم نے علماء کی دہلیز پر دستک دیکر اخبار پہنچائے۔ سمجھا سمجھا کر تھک گئے۔ نرمی سے سمجھایا اورپھر گرمی سے سمجھایا۔ ہمارے استاذ مفتی محمد نعیم صاحب نے بات سمجھ لی تو بہت خوش ہوئے ۔ فرمایا کہ میں سوفیصد تائید کرتاہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ علماء میری تائید سے بھڑک اٹھیںگے۔ مفتی تقی عثمانی کو بھی میں نے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں مانے۔ پھر انہوں نے ہمارے اخبار کے ذریعے علماء کرام کو ہماری بات پر غور کرنے کی دعوت دی کہ طلاق کے حوالے سے میرے شاگرد سید عتیق الرحمن گیلانی کی باتوں میں بڑا وزن ہے۔ ان پر غور کیا جائے۔ جس پر انہوں نے بتایا تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان میں کئی طبقات ہیں۔ ایک طبقہ کھل کر تائید کرتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو تائید کو چھپاتا ہے لیکن اندر سے محبت رکھتا ہے ۔تیسرا طبقہ وہ ہے جو کھل کر سامنے نہیں آتا مگر مخالفت میں کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ یہی علماء سو کا طبقہ ہے جو ہردور میں رہاہے۔
حضرت اماںعائشہ کے آخری دور میں ایک عورت کی عدت پوری ہوئی تو حیض آتے ہی وہ شوہر سے الگ ہوگئی۔ خلع اور طلاق میں فرق یہ ہے کہ خلع عورت کی طرف سے بعض حقوق سے دستبرداری کی صورت میں ملتا ہے اوراس میں عورت کو شوہر کا دیا ہوا گھر اور تمام غیرمنقولہ جائیداد سے دستبردار ہوکر طلاق لینی پڑتی ہے۔ اس میں طلاق کی طرح عدت کے 3 مراحل میں3 مرتبہ طلاق کا تصور نہیں ہوتابلکہ ایک ہی مرحلے میں عورت فارغ ہوجاتی ہے اور صحیح حدیث ہے کہ خلع کی صورت میں عدت ایک حیض ہے۔ یعنی اگر طہر میں خلع دیا تو حیض آنے پر عدت ختم ہوجائے گی ، اگر حیض ہی میں خلع لیا تو پھر اسی حیض میں فارغ ہے۔
طلاق میں شوہر کی طرف سے علیحدگی ہوتی ہے ۔جس میں تین ادوار کا انتظار ہوتا ہے۔ شوہر نے طلاق دینی ہو تو حیض میں طلاق نہیں دیگا۔ بعض فقہاء ومحدثین کے نزدیک حیض میں طلاق نہیں ہوتی ہے جس طرح روزہ رات میں نہیں دن کو ہوتا ہے۔ حیض میں عورت سے جماع جائز نہیں ہے۔ جب شوہر طہر میں شریعت کے مطابق طلاق دیتاہے تو عورت ا س سے پہلے والا حیض اور جس طہر میں طلاق دی جائے ،انتظار میں گزارتی ہے۔درس نظامی کے نصاب کی ایک معروف کم عقل ہستی ملاجیون کی ہے جسکے لطیفے ہمارے استاذ قاری مفتاح اللہ صاحب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں سنایا کرتے تھے۔ ایک بار اورنگزیب بادشاہ کے دربار سے گھر جارہاتھا، بچوں نے کہا کہ تمہارا گھر گرادیا۔ چار میل دورپل ایک شخص کاندھے پر اٹھاکر جا رہا تھا اور اسکا کونا لگا ہے۔اور نگزیب بادشاہ کے پاس غصے میں واپس پہنچ گیا کہ میرا گھر گرا دیا ۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ بچوں نے مذاق کیا ہوگا۔ پوچھ لیا تو اس نے ماجراء سنادیا۔ اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنا بڑا پل کوئی کاندھے پر اٹھائے؟۔ اس نے کہا کہ ممکن تو نہیں مگر مسلمان بچے جھوٹ نہیں بول سکتے۔
ملاجیون نے اپنی کتاب ”نورالانوار” میں فقہاء کے مسالک جس طرح سے نقل کئے ہیں وہ کم عقلی میں اس سے بھی بڑا لطیفہ ہیں جوعوام کو سمجھ آگئے تو ”پیچھے تو دیکھو نا” کے الفاظ فقہاء کی کم عقلی پر قرآنی آیات لکھ کر متوجہ کریں گے۔
ملاجیون نے تو صرف مؤقف نقل کیا ہے اور وہ سیدھا بندہ تھا لیکن ہمارے دور کے عیار علماء ومفتیان بات سمجھ کر بھی اس کو قبول نہیں کررہے ہیں۔ درباری ملاؤں کو ہر دور میں معتبر سمجھا جاتا رہاہے۔ وقف شدہ مسجد ومدرسہ کی زمین میں اپنا ذاتی اور موروثی گھر بنانے کی اجازت شریعت نے نہیں دی۔ ریاست کے املاک پر ملازمین گھر کیلئے قبضہ نہیں کرسکتے۔ کوئی ادارہ بھی قبضہ کرتا ہے تو اس پر تنقید ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اور بھائیوں کیلئے مدرسہ کے قریب مکانات بنائے تو ان پر جھوٹی تہمت لگی کہ اس نے مدرسہ کی زمین پر قبضہ کیا ہے اورجس نے زمین دی تھی وہ مخالف ہوگیا ہے لیکن پھر جس نے الزام لگایا تھا اسی شخص کے سامنے زمین دینے والا مولانا کی حمایت کررہاتھا کہ وہ بیچارے بہت مقروض ہیں۔ البتہ مفتی تقی عثمانی نے وقف مدرسہ میں اپنا مکان خریدا تھا اور اسکے خلاف فتویٰ دینے پر اپنے استاذ جامعة الرشید کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی سے بھی سخت ریمانڈ لیا تھا۔ اب سودکے جواز سے عالمی شہرت حاصل کرلی ہے مگر ملاجیون کی طرح یہ سیدھے نہیں بہت چالاک اور عیار ہیں۔ کراچی وحیدر آباد کے کوئے کھانا اس نے حلال قراردئیے ۔ جنکا گوشت اپنا اثر بھی دکھاتاہے۔ سوسائٹی آفس کراچی کے قریب فرخ بھی کوئے کھاتا ہے۔ پہلے ماں مخالفت کرتی مگر کبوتر کے دھوکہ سے کھلایا تو وہ بھی مزے مزے سے کھانے لگی۔یہ مفتی رشید کا مرید ہے۔
حضرت اماں عائشہ کے خلاف درسِ نظامی کا مؤقف یہ ہے کہ ” قرآن میں تین مراحل کا ذکر ہے۔ قرآن میں 3 کا عدد خاص ہے اور اس پر جوں کے توں عمل ضروری ہے۔ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے تو وہ ادھورا ہوجاتا ہے اور باقی دو طہروں کو ملایا جائے تو عدت کے مراحل تین نہیں بلکہ ڈھائی بن جائیںگے۔ اسلئے طہر کو عدت میں شمار نہیں کرنا ہوگا بلکہ حیض ہی کو عدت میں شمار کرنا ہوگا تاکہ عدت پوری 3عدد کی بن جائے۔ (نورالانوار : ملاجیون)۔ میں جامعہ بنوری ٹاؤن(نیوٹاؤن) کراچی میں پڑھتا تھا توہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان تھے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر طہر کا اضافہ ہوجائیگا،اسلئے کہ جس طہر میں طلاق دی ہے تو وہ بھی انتظار کی مدت کا حصہ ہے جس سے 3کے بجائے عدد ساڑھے تین بن جائیگا؟۔ استاذ نے میری بات میں وزن سمجھا اور معاملہ آئندہ آنے والے دلائل پر ٹال دیا لیکن وہ بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے زیادہ بحث مناسب نہیں تھی۔ البتہ شرح الوقایہ میں قاری مفتاح اللہ سے پوچھ لیتا تھا تو وہ ملاجیون کی سادگی کا لطیفہ سنادیتے تھے۔ اور اس توقع کا اظہار فرماتے تھے کہ آئندہ میں نصاب کی غلطیوں کو درست کرلوں گا۔ مجھے اپنے اساتذہ کرام کی تعلیم وتربیت ، حوصلہ افزائی پر ناز ہے اور اب ایک بدمعاش مافیا کا راج ہے جس نے مولانا سید محمد بنوری کے قتل وشہادت پر خود کشی کا ڈرامہ رچایاجو جنگ اخبار کی خبر بن گیا۔ کوئی بھی زندگی کا اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا ۔ میرے پاس قرآن وسنت ، عقل وفہم کا ہتھیار ہے جسکا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا جیسے سورج کا مقابلہ اندھیرا نہیں کر سکتا ۔ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشائ
عورت پر نعرہ مسلط کیا گیا کہ ” میرا جسم میری مرضی”۔ لیکن جب قرآن وسنت کے مقابلے میں مسخ شدہ اسلام کا تصور سامنے آئیگا تو پھر مدارس والے اپنے نصاب سے ہی شرمندہ ہونگے کہ عورت میدان میں ٹھیک نکل گئی ہے۔

اسلام ہی مظلوم طبقات کو عروج بخشنے کا بہترین ذریعہ ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام ہی مظلوم طبقات کو عروج بخشنے کا بہترین ذریعہ ہے

قرآن کے مقاصد کا بُرا حال؟

اللہ نے فرمایا : ونرید ان نمنّ علی الذین استضعفوا فی الارض ان نجعلھم الائمة وان نجعلھم الوارثین” اور ہمارا پروگرام ہے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنایا جارہاہے کہ ان پر احسان کریں اور ان کو امام بنائیں اور انہیں زمین کی وراثت سپرد کردیں”۔
جب کچھ افراد باطل نظام کیخلاف جدوجہد کرتے ہیں تو ان کیخلاف انواع واقسام کے پروپیگنڈے اور سازشیں ہوتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایک فرد نہیں بلکہ اس تمام طبقے کو ائمہ اور زمین کا وارث بناتا ہے۔
ہمارا عصمت شاہجہان سے رابطہ ہوا ،اس نے کہا کہ ہم اپنی تحریک کیلئے مذہب سے تعاون لینا نہیں چاہتے ہیں اور انکے خدشات اسلام اور دیگر مذاہب کے مسخ شدہ احکام کی وجہ سے بجا ہوسکتے ہیں۔ نغمانہ شیخ نے تعاون کیلئے یقین دلایا تھا۔ اب ہدی بھرگڑی کی طرف سے ہمہ گیر تحریک کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ 8عورت مارچ2020ء میں جس طرح خواتین کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور جس طرح کا ماحول بناکر خوف وہراس پھیلایا گیا اور جس بہادری اور ہمت سے اسلام آباد کی عورت مارچ والوں نے کام لیاتووہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے ایسی تاریخ رقم کردی کہ رہتی دنیا تک ان کا یہ اقدام یاد رکھا جائیگا۔ جس طرح مذہبی طبقہ چارج تھا۔روڈ پر کپڑا دیوار کے پیچھے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کررہاتھا۔ دوسری طرف نہتی خواتین نشانہ بننے کے فاصلے پر ہمت سے کھڑی اپنا پروگرام کررہی تھیں اور پولیس کی معمولی سی نفری ڈنڈیاں لیکر کھڑی تھی۔ یہ خواتین کو موت کا منظر لگتا ہوگا مگر انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھاتھا۔
پاکستان اور امریکہ کی بہادر فوج بھی اس بہادری سے بڑے بڑے کنٹینروں کے پیچھے اس طرح نہتی کھڑی نہیں ہوسکتی ہیں۔8عورت آزادی مارچ میں خواتین کا مردوں سے مناسب فاصلہ تھا مگر مذہبی طبقات اسلام کے نام پر حج و عمرے میں اپنی خواتین کو جس طرح حجر اسود کیلئے غیر محرم مردوں کیساتھ رگڑ واتے ہیں وہ بڑی بے غیرتی کامظاہرہ ہوتا ہے مگروہاں انکا دین، ایمان ، اسلام ، غیرت، عزت، کلچر، ضمیر اور سب کچھ مذہب کا نشہ پی کر خوابِ غفلت کے مزے لیتے ہیں۔جب مفتی محمود سیاسی میدان میں بیگم نسیم ولی اور کلثوم سیف اللہ کیساتھ اتحاد کرتے ہیں ، مولانا فضل الرحمن بینظیر بھٹو اورمریم نوازکیساتھ سیاسی اتحاد کرتے ہیں تو مذہب اور پشتون کلچر بھول جاتے ہیں لیکن دوسروں پر ہی دورِ جاہلیت کے فتوے لگاتے ہیں۔ پولنگ اسٹیشن سے لیکر اسمبلی کے فلور اور میڈیا کی اسکرین تک اپنے خاندان سے خواتین کو لانے والے پشتون اور علماء نہیں ہیں؟۔ داڑھی پر اسلام کا انحصار ہوتو زیادہ دراز ریش طبقہ بھی ہے لیکن جب خیبر پختونخواہ اسمبلی بڑے پیمانے پر علماء سے بھری ہوئی تھی تو جماعت ِ اسلامی کے دباؤ پراکرم خان درانی کو مختصر داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ نوابوں، سرمایہ داروں سے مقابلہ ہے مگرپارٹی میں آئیںتوپھرنوٹ لیکر ووٹ خریدیتے ہو۔
اسلام کے درست تصور کو پیش نہ کیا جائے تو اقتدار کی رسہ کشی ذاتی مفادات کا کھیل بن جاتا ہے۔ اسلام اقتدار کے ڈھانچے کے بغیر بھی معاشرتی طور پر کمزور طبقے کی ایسی مدد کرتا ہے جسکے اعلیٰ قانونی، اخلاقی اور شرعی معیارات کو دیکھ کر ظالم، جابراور شریعت کے نام پر براجمان جاہلوں کا قلع قمع ہوتاہے۔ جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت ،ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور زخموں کا بدلہ وہ عادلانہ نظام ہے جس کا کوئی مقابل نہیں۔ 500بڑے علماء نے مغل اورنگزیب بادشاہ کیلئے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا جس میں شاہ کیلئے جرم قتل، زنا، چوری اور تمام حدود معاف کئے گئے۔ اگر اسلام کا عادلانہ نظام ہوتا تو اقتدار کیلئے بھائی کے قاتل بادشاہ کو عدالت شریک مجرموں کیساتھ قتل کی سزا سنادیتی۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم بھی ان500علماء میں شامل تھے۔ جب انگریز آیا تو انگریز کے عدالتی نظام نے فتاویٰ عالمگیریہ کو مدارس کی چار دیواری تک محدود کردیا ۔
مدارس کے علماء نے شیخ الاسلامی کے نام پر خدمات کا سلسلہ بنوعباس ، خلافت عثمانیہ اور مغل بادشاہوں کی سرپرستی میں جاری رکھا ہوا تھا تو انگریز کے دور میں بھی کب انہوں نے اپنی خدمت سے کنارہ کشی کی؟۔اقبال نے کہا
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
مدارس کے شیخ الاسلاموں سے اب بھی وہی کام لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے سود کی کٹوتی کو زکوة قرار دیا گیا۔ اب تو دنیا کے سودی نظام کو اسلام کا نام دیکر کمال کردیا ۔ یہ سلسلہ عرصہ سے جاری تھا۔ بہت سی احادیث میں مزارعت کو ناجائزاور سود قرار دیا گیا۔ جمہور ائمہ حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام مالک وامام شافعی متفقہ طور پر مزارعت کو سود اور ناجائز سمجھتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ نے جیل میں جان دی، امام مالک اور امام شافعی نے بدترین سزائیں کھائیں اور شیخ الاسلام بننے والے علماء حق کی گردن زدنی کے فیصلے کرتے تھے۔ حضرت عثمان و حضرت علی کے خلاف بغاوت والے خوارج کے دہشت گردوں نے ہر دور میں اپنا کام کیا ہے۔ ان کی پشت پناہی سیاسی منافق کرتے رہے ہیں۔
جب شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حمایت نہ کریں تو ان کا فتویٰ زکوٰةکے نام سودی کٹوتی کو جلسے جلوسوں میں شراب کی بوتل پر آبِ زم زم کا لیبل قرار دیں اور ہم سے اس وقت کہا کہ جب کراچی کے معروف علماء ومفتیان کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں تھی کہ چھرا ہاتھ میں ہے۔ قربانی کے بکرے کو لٹایا ہے،چھرا پھیر دو ۔ اگر ٹانگیں ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے۔ اب سارے علماء نے مفتی تقی عثمانی کے سودی نظام کے خلاف آواز اٹھائی لیکن جب مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حمایت شروع کردی توپھر مولانا نے بھی اس کے فقہی خدمات کی مخالفت بند کردی۔
جب سودی نظام جائز ہو توپھر ہر چیز کو اسلامی اور جائز قرار دیاجائے۔ پھر تو عمران خان نے بھی مدینہ کی ریاست کا نام لیکر کوئی برائی نہیں کی۔ مولانا فضل الرحمن سے عرض ہے کہ واپس آجاؤ۔ اسلام کا آفاقی نظام معاشرے کو بنیاد سے ٹھیک کرتا ہے۔ جو علماء سو ہردور میں علماء حق پر فتوے لگاتے رہے ، اجارہ داری کا نظام ہردورمیں اسلام کی بیخ کنی کرتا رہا ،آج میں نے ان کو ذبح کردیا ہے۔ یہ مجھ سے بھاگ کرہی تیری پیٹھ کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ اب یہ زندہ رہنے کے قابل نہیں رہے۔آپ بسم اللہ اور تکبیر پڑھ کر ان کو مردار ہونے سے بچائیں۔ تاکہ یہ حلالہ نہیں بلکہ حلال کی موت مریں۔ اسلام کا حلیہ بگاڑتے بگاڑتے انہوں نے کہاں سے کہاں پہنچادیا ؟۔ شیخ الہند مالٹا میں قید ہوئے تو ان کی نظرمیںقرآن کی وہ اہمیت اجاگر ہوئی جو مدارس کے درسِ نظامی نے چھپا رکھی تھی۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے آخری وقت میں اعتراف کرلیا کہ اپنی زندگی ضائع کردی۔ قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی مسلکوں کی وکالت کرتا رہا ۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ الہند کا مشن اپنا یا تو علماء نے سخت مخالفت کی مگر مولانا سندھی جو اصل میں پنجابی تھے کوبھول جاؤ۔ اب تمہارا واسطہ سید عتیق گیلانی کی ضربوں سے پڑا ہے جسکے مقاصد ذاتی، خاندانی، سیاسی، مدرساتی، خانقاہی، گروہی، جماعتی ،مسلکی اور نظریاتی نہیں ہیں بلکہ خالصتاً انسانوں کی ہمدردی کیلئے قرآن کے واضح احکام اور سنت کا نظام ہے۔ اب یہ کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ
منزل اسے ملی جو شریکِ سفر نہ تھا
سیاسی جماعتوں میں استعمال شدہ لوٹوں کی اہمیت اپنا گند صاف کرنے اور اقتدار تک پہنچنے کیلئے ہوتی ہے لیکن جب عظیم مقاصد کا عزم ہوتا ہے تو بادلوں کے دوش پر کوئی ہم آغوش ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتاہے۔ البتہ جب بادل برس پڑتے ہیں تو مردہ ضمیر زمین کی روح میں زندگی کی شادابی کی لہریںدوڑتی اور لہلہاتی نظر آتی ہیں۔ پھر بجلی کی کڑکوں،بادل کی گرجوں ، اولوں کے ٹنڈوں پر برسوں کے سارے غم خواب کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت عکرمہ اپنے باپ ابوجہل کی جہالت پر شرمندہ ہوتا ہے۔ باپ کی گستاخانہ زبان کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وقت کی نبض بتارہی ہے کہ ظالمانہ نظام قدرت کی لپیٹ میں جلد ہی آجائیگا اور دنیا کو اللہ ایسا خوشحالی والا نظام دیگا کہ روئے زمین پر کوئی مظلوم طبقہ بھی ناخوش نہ رہے گا۔مگر قرآن کے احکام کی طرف رجوع کئے بغیرانقلاب خام خیالی لگتا ہے۔

ظالموں نے خواتین اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق دبادئیے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ظالموں نے خواتین اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق دبادئیے

عورت کے حقوق کی پامالی!

آج طاقتور طبقات دنیا پر غالب ہیں۔ ظالم کو ظلم سے روکنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ گھر، محلہ، زون اور شہر سے لیکر صوبائی ، ملکی اور بین الاقوامی سطح تک جبر، زیادتی اور ظلم کا راج ہے۔ جسکے ہاتھ طاقت کا راج ہے اسکے آگے کمزور اپاہج ہے۔ جب قرآن نازل ہوا، لوگوں کے دلوں میں اترا۔ گھر اورمعاشرے سے مظلوم طبقات کو تحفظ دینے کے عملی قوانین بنائے۔ کمزور عورت کو قانون کی طاقت دی اور تمام کمزور طبقات کو مکمل تحفظ دیا۔ عزت کا معیار دولت اور طاقت کو نہیں بنایا بلکہ کردار کو بنایا۔قانون کی نظر میں سب کو برابر کردیا۔ شعور کی دولت عام کردی۔ نسلی بنیاد پر تعصبات کا خاتمہ کیا۔ انسانیت کو معیار ، اخلاق کو بڑا درجہ دیا ۔ مخلوقِ خدا کو عیال اللہ (اللہ کا کنبہ ) قرار دیا۔ ابلیس کے تمام ہتھکنڈوں کو خاک میں ملایا تو دنیا نے دیکھا کہ کمزور عرب کے ہاتھوں قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمیں اسلام کی نشاة اول کی پیروی کرنی ہے اور اچھی توقعات کیساتھ ان باطل لوگوں سے سمجھوتہ نہیں کرنا، جنہوں نے قرآنی تعلیم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے سب سے بڑے مدرس علامہ انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لیکن لفظی بھی ہوئی ہے، یا تو انہوں مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر کیا ہے۔ (فیض الباری)
علامہ انورشاہ کشمیری سے عقیدت ومحبت رکھنے والے اس عبارت پر اپنی بڑی دُم دباکر چپ کی سادھ لیتے ہیں مگر اصولِ فقہ میں قرآن کی جو تعریف کی گئی ہے۔ اس میں المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھے ہوئے حروف نہیں جس کی وجہ سے فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان کے علاوہ صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس میں سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا گیا ۔ مفتی محمود زکوٰة کی کٹوتی پر اور مولانا سلیم اللہ خان ومفتی زرولی خان سودی اسلامی بینکاری سے تائب نہیں کراسکے مگر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز پر مفتی تقی عثمانی کو ہم نے فقہی مقالات اور ان کی کتاب تکملہ فتح المہلم سے نکالنے پر مجبور کیا۔
اگر قرآن کی تعریف میں متواتر کی قید سے مشہور اور اخبار احاد نکل جائیں ۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل جائے تو قرآن کی لفظی حفاظت پر اعتقاد کیسے باقی رہ سکتا ہے لیکن درسِ نظامی میں بہت ڈھٹائی سے پڑھایا جاتا ہے کہ شافعی کے نزدیک قرآن کی طرف منسوب مشہور اور اخبار احاد کی کوئی حیثیت نہیں ،البتہ احادیث کی ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک احادیث کی نہیں لیکن قرآن کی طرف منسوب جھوٹی آیات کی ہے۔ اس سے بڑھ کر لفظی تحریف اور کیا ہے؟۔
ہماراموضوع علامہ انورشاہ کشمیری کی طرف سے وہ معنوی تحریفات ہیں جو عورت کے حقوق کے حوالے سے ہیں۔ ویمن ڈیموکریٹ الائنس کی خواتین سوشل میڈیا کے بعد عدالت اور پارلیمنٹ میں بھی ان مسائل کو لیکر جائیں۔ ہماری طرف سے بھرپور تعان حاصل ہوگا۔ انشاء اللہ
حضرت عائشہ کے دور میں علماء ومفتیان نہیں تھے لیکن بعد والے جمہور نے اماں عائشہ سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے تقلید کی اور احناف نے اپنی کم عقلی کے باعث ان کے مؤقف کو قرآن کے خاص عددتین سے متصادم سمجھ کر بالکل غلط ثابت کرنے کی ناکام ، نامعقول اور گھناؤنی کوشش کا آغاز کردیا، جس کے نتیجے میں قرآن عوام میں متروک ہوا۔
اللہ نے آیت 228البقرہ میں واضح طور پر عدت کی وضاحت کردی کہ حیض والی کیلئے تین مراحل ہیں۔ جس کو حمل ہو وہ اپنے حمل کو نہ چھپائے۔ اور عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو ہی رجوع کا حق حاصل ہے۔ اب اگر عدت کے اندر ہی کوئی فتویٰ دیتا ہے کہ صلح کے باجود رجوع نہیں ہوسکتا۔ پہلے مفتی کے حجرے میں حلالہ کی لعنت سے قرآن کی دھجیاں بکھیرنے کی برسات کرنی پڑے گی ۔ پھر وہ عورت روسیاہ ہوکر اپنے شوہر کے پاس جاسکے گی ۔ تو بتانا پڑیگا کہ ” سامنے تو دیکھو، پیچھے تو دیکھو اور آگے تو دیکھو”۔
اللہ نے رجوع کا تعلق عدت اور صلح کیساتھ واضح کیا ہے تو عدت کے اندر صلح کی شرط پر کیا رجوع نہیں ہوسکتاہے اور مفتی نے آخری حد تک ہٹ دھرمی پر قائم رہناہے؟۔
دورِ جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ عدت میں شوہرجتنی مرتبہ چاہتا تو رجوع کرسکتا تھا۔ اللہ نے اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق واضح کرکے اس رسمِ بد کا خاتمہ کردیا ۔دوسری رسمِ بد یہ تھی کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی اصلاح کی شرط پر بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا تھا۔ اللہ نے اس رسمِ بد کو بھی دفن کردیا۔ قرآنی آیت بہت واضح ہے۔ صلح کی جگہ ” اصلاح کی شرط” اسلئے لگادی کہ اگر شوہر نے اصلاح کی بجائے محض صلح کرلی اور اصلاح نہیں کی تو پھر بھی رجوع معتبر نہیں ہوگا۔ اگر شوہر زبردستی کرتا ہے تو یہ اس کیلئے نکاح نہیںحرامکاری ہے۔ اس طرح تو کسی بھی عورت کو زبردستی سے مجبور کرکے اپنی ہوس کا نشانہ بناسکتا ہے لیکن شریعت کا قانون حلال وحرام کے حوالے سے بہت سخت ہے۔ جب عورت کیلئے حمل چھپانا جائز نہیں تو شوہر کیلئے دھوکہ سے صلح کرنے سے عورت کیسے حلال ہوسکتی ہے؟۔ اللہ نے آیت میں اصلاح کی شرط رکھ کر عورت کو کمال کا تحفظ عطا ء کردیا۔
جب ایک طلاق کے بعد بھی اصلاح کی شرط کے بغیر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے تو پھر اگر وہ اکٹھی تین طلاق دے اور عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو بدر جہ اولیٰ اس کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہوگا۔ حضرت عمر کے فیصلے اور حضرت ابن عباس کی روایت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگر عورت صلح کیلئے راضی ہو تو پھر ایک ساتھ تین طلاق کو ایک طلاق شمار کیا جائیگا۔ وہ بھی کم عقل علماء وفقہاء کے پیمانے پر نہیں بلکہ تین مرتبہ طلاق کے فعل کا تعلق قرآن وسنت کے مطابق طہروحیض کے تین مراحل سے ہے۔ حمل میں تین طلاق کا کوئی تصور نہیں اور عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے باوجود رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتاہے بلکہ صلح کی شرط پر یعنی معروف طریقے سے عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے بار بار واضح الفاظ میں رجوع کی اجازت دیدی ہے۔
حضرت عمر کے فیصلے کی ائمہ اربعہ اہلسنت نے فتویٰ سے تائید کردی تو وہ بھی قرآن کی روح کے عین مطابق ہے اور حضرت علی سے بھی یہ فتویٰ منسوب ہے کہ حرام کے لفظ کو تین طلاق قرار دیدیا۔ اس کا مطلب فیصلے اور فتوے کی وہ صورتیں ہیں جب عورت صلح پر آمادہ نہ ہو۔ تاکہ عورت کی جان شوہر کے جبر سے چھوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت230البقرہ میں فرمایا کہ ” اگر پھر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں حتی کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ اس سے پہلے آیت229کو بھی دیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح کی صورتحال کے بعد اللہ نے اس حکم کو واضح فرمایا ہے۔ آیات228،229اور231، 232 کو دیکھے بغیر آیت230پر فتویٰ دینا انتہائی گمراہی ہے اور امام ہدایت وہ ہے جس نے حق و سچ کیساتھ رہنمائی کا فرض ادا کرناہے۔ علماء ومفتیان امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں لیکن قرآن خود بھی قوموں کو ہدایت کا امام بناسکتا ہے۔
علماء سمجھتے ہیں کہ قرآن میں دو دفعہ طلاق رجعی ہے مگر پھر شوہر کااپنی عورت پر تین عدتوں کا حق ہوگا۔ ایک مرتبہ طلاق کے بعد عدت کے آخر میں رجوع کرلے گا۔ یہ ایک عدت ہوگئی۔ پھر دوسری طلاق دیگا اور عدت کے آخرمیں رجوع کرلے گا۔ یہ دوسری عدت ہوئی۔ پھر تیسری مرتبہ طلاق دیگا تو تیسری عدت گزارے گی۔ اللہ نے عورت کو ایک عدت تین مراحل میں انتظار کا حکم دیا اور مولوی نے یہ ایک عدت تین مراحل سے بڑھاکر تین عدتوں9 مراحل تک بات پہنچادی۔ اگر اُم المؤمنین حضرت عائشہ ہوتیں تو فقہاء وعلماء کو قرآن ، عورت اور طلاق وعدت سے یہ کھلواڑ کرنے دیتیں؟۔ جنگ ِ جمل میں قصاصِ عثمانکے مطالبہ سے قرآن اور خواتین کا روحانی قتل کیا کم بات ہے؟۔ صلح حدیبیہ سے پہلے رسول اللہۖ نے حضرت عثمان کے قتل کی جھوٹی خبر پر بیعت لی تھی جو بیعت رضوان کہلاتی ہے۔
رسولۖ نے یہ خبر بھی دی تھی کہ میری امت سابقہ امتوں یہودونصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی۔ جن کے علماء نے کتے اور گدھوں کا کردار ادا کیا اور لوگوں نے اللہ کے سوا ان کو اپنا رب بنالیاتھا۔ سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کا ناسور پھیلانے کی بجائے قرآن وسنت کے واضح احکام کو پیش کیا جائے تو ناسوری اور نسواری سب راہ پر آجائیں گے۔

عورت مردوں کی مخالفت بھی کرتی ہے اور انکے بغیر زندگی کا تصور بھی حرام سمجھتی ہے۔ نغمانہ شیخ

اس کو ایک بار پھر سے مرد سے شدید نفرت کا احساس ہوا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ مردوں کے خلاف آواز بلند کرے مگر دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ یہ جو ڈھیروں خواتین اپنی ہم جنس کے نام پر ادارے چلارہی ہیں ۔ تقریبات کی آڑ میں تفریحات مناتی ہیں، حقوق نسواں پر بڑے بڑے سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔ مقالات پڑھے جاتے ہیں جن کا اختتام پرتکلف ضیافت پر ہوتا ہے۔ 365دنوں میں ایک دن عالمی سطح پر عورت کی فکر میں گزارا جاتا ہے۔ ایسے عالمی ناٹک سے کیا حاصل؟ بھلا صدیوں سے کھوکھلی بنیادوں پر ٹکا سماجی پنجر ظاہری آرائش سے مستحکم ہوجائے گا۔ عورتیں کسی اور رُخ نکل جاتی ہیں۔ مردوں کے خلاف آوازیں کستے کستے آپ ہی مردوں کی بانہوں میں چلی جاتی ہیں۔ یہ عورت بھی عجیب مخلوق ہے مردوں کی مخالفت بھی کرتی ہے اور ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی حرام سمجھتی ہے۔
(دھوپ میں جلتے خواب افسانے :نغمانہ شیخ)

کڑوا گھونٹ

افسانے :نغمانہ شیخ

نادیہ نے تیسری بار طلاق کا لفظ سن کر گہری سانس لی اور نہایت پرسکون انداز میں اپنے قدم دوسرے کمرے کی طرف بڑھادئیے۔ جہاں بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو یقین دلانا چاہتی تھی کہ کیا واقعی آج سے وہ آزاد ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ کھلی ہوا میں گہرے گہرے سانس لے۔ اس لمحے کو اپنے اندر سمولے جو آزاد ہوجانے کی تصدیق کررہا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہمیشہ کی طرح شہزاد اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر آئے وہ ایک دم کھڑی ہوگئی۔ حالانکہ آج سے پہلے شہزاد نے ہر مرتبہ غصے میں طلاق کا لفظ دو بار ہی ادا کیا تھا۔ تیسری بار وہ خاموش ہوجاتا تھا۔ اسلئے شہزادکے ہاتھ جوڑنے کی گنجائش باقی رہ جاتی تھی۔ ان پچھلے آٹھ دس برسوں میں کوئی سو مرتبہ اس نے یہ لفظ اپنے شوہر کی زبان سے، کبھی آنکھوں سے، کبھی روئیے سے، کبھی ہاتھوں سے، کبھی لفظوں سے اپنی ذات کی وادی میں گھلتا محسوس کیا ہے۔ وہ چیختی رہ جاتی کہ دو مرتبہ کہاں! یہاں تو پل پل میں یہی لفظ سنتی ہوں۔ مگر لوگ گواہ کی بات کرتے ہیں اور گواہ وہ خود ہی تھی جس کی گواہی کو بھی آدھا مانا جاتا ہے پھر کون سنتا؟۔ ہر کوئی اس کو اونچ نیچ سمجھانے آجاتا۔ گھر ، گھرہستی کی اہمیت جتاتا اور سہاگن کی عظمت کا تاج اسکے سر پر پہنانے کی کوشش کرتا اور والدین ، رشتہ داروں اور بچوں کی شکلیں دیکھ کر سر جھکائے پھر اسی گھر میں آجاتی جہاں اب اس کو وحشت ہوتی تھی۔ شہزاد اتنا خود غرض تھا کہ ہوش میں آتے ہی ایک عدد فتویٰ اور معافی کے بیشمار الفاظ لے کر آجاتا۔ ہچکیاں لے کر روتا اور اپنا منہ پیٹتا۔ دیکھنے والے اور سننے والے اس کی طرف ہوجاتے۔ اور نادیہ ظالم و بے رحم نظر آنے لگتی۔ اس نے وقت کو ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ اپنے دونوں بچوں کے ہاتھ تھامے اپنی جمع شدہ رقم پرس میں ڈالی اور گھر کی دہلیز پار کرگئی۔ اس نے ٹیکسی پکڑی اور راستے بھر وہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتی رہی کہ کہیں شہزاد اس کے پیچھے تو نہیں آرہا ہے۔ میکے کی گلی میں مڑ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا اور والدین کے گھر میں داخل ہوگئی۔ اس کا اس طرح آنا اب شاید والدین کیلئے بھی کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ صرف پہلی مرتبہ جب شہزاد نے طلاق دی تھی تو باپ کا سر جھک گیا تھا، ماں روتے روتے بیہوش ہوگئی تھی کہ یہ کیا ہوگیا؟۔ اب کس کس کو جواب دیں گے۔ ایک تو یہ دنیا کو جواب دینا بھی خوب ہے۔ پہلے خود کو تو جواب دے دیں کہ اپنی بیٹی کس کے حوالے کررہے ہیں۔ بس استخارہ آگیا تو بات ہی ختم۔ کس کس کو جواب دیں گے ۔ ہونہہ!۔ پھر اس واقع کے دو دن بعد شہزاد خاندان کے کچھ بزرگ اور فتویٰ لایا تو سب کی جان میں جان آئی۔ اور انہوں نے ایک بار پھر نادیہ کو ہنسی خوشی رخصت کیا۔ مگر جب آئے دن یہی ہونے لگا تو انہوں نے گھبرانا چھوڑ دیا۔ اب بھی نادیہ کو دیکھ کر انہوں نے کسی خاص ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی خیریت معلوم کی ، بچوں کو پیار کیا لیکن نادیہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر ایک دم بولی۔ ”آج شہزاد نے تین مرتبہ طلاق کا لفظ ادا کیا ہے اور اب میں ہمیشہ کیلئے وہ گھر چھوڑ آئی ہوں، میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گی خود اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی۔ آپ لوگوں نے مجھے واپس جانے پر مجبور کیا تو میں خود کشی کرلوں گی” ماں باپ سانس روک کر اس کی باتیں سنتے رہے۔ انکی آنکھیں اس کو نصیحتیں کرتی رہیں مگر وہ انجان بن گئی۔ ساری رات سوچتی رہی کہ اس کی تعلیم کا امتحان تو اب شروع ہوگا۔ وہ ہمت نہیں ہارے گی۔ اپنے بچوں کو اچھی تربیت دے گی۔ دوسرے دن شہزاد سب لوگوں کی موجودگی میں شرمندہ بیٹھا تھا۔ کیونکہ اب اس کو بھی معلوم تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ البتہ اس نے بچوں کے خرچ کیلئے ہر ماہ ایک رقم مقرر کرنے کی بات کی اور کہا کہ وہ گھر بھی نادیہ اور بچوں کو دے دیگا سب بزرگوں نے نادیہ کی طرف پر اُمید نظروں سے دیکھا مگر نادیہ نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ میں بھیک مانگ لوں گی مگر شہزاد کا کوئی احسان نہیں لوں گی۔ سب نے ایک بار پھر نادیہ کو سمجھانا چاہا کہ یہ بچوں کا حق ہے مگر اب وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ جب سب مایوس ہوگئے تو ایک ایک کرکے وہاں سے اٹھنے لگے اور شہزاد بھی تھکا تھکا وہاں سے چلا آیا۔ عدت پوری ہونے کے بعد اپنی تعلیمی اسناد نکالیں اس نے ایم اے کیاتھا۔ بھلا اس کو نوکری کیوں نہیں ملے گی؟۔ اس نے سوچا میرے اپنے ہی ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے مجھے ایک ایسے شخص کے پاس دوبارہ بھیج دیتے تھے جس کیلئے میں حرام ہوچکی تھی !۔ بظاہر ہم میاں بیوی تھے مگر ایک دوسرے کے نا محرم مگر پھر بھی لوگ کتنی عزت دیتے تھے ۔ہو نہہ! معاشرہ بھی کتنا عجیب ہے کوئی مرد اور عورت اپنی مرضی سے بغیر کاغذی کاروائی کئے ساتھ رہنے لگیں تو فوراً زنا کا فتویٰ لگ جاتا ہے اور اپنی ناک اور عزت کیلئے حرام کو بھی حلال کرلیتے ہیں۔
اس کو یقین تھا کہ ضرور نوکری مل جائے گی۔ ایک ہفتے بعد اس کا یقین کامیاب ہوگیا اور اس کو رسالے میں جاب مل گئی۔ اس نے فاتحانہ نظروں سے اپنے والدین اور بھائی بہن کو دیکھا اور کہا کہ میں نہ کہتی تھی کہ اپنے پاؤں پر جلد کھڑی ہوجاؤں گی۔
… چھ ماہ بعد یہ جاب خود ہی اس کو چھوڑنی پڑی کہ رفیق صاحب رسالے کے چیف ایڈیٹر کی بے باکی اور بیتاب نظروں اور فقروں کی وہ تاب نہیں لاسکتی تھی۔ پہلی نوکری چھوڑنے کے بعد دوسری جگہ نوکری کی تلاش شروع کردی… اس فرم میں تنخواہ بھی اچھی تھی مگر یہاں بھی اس کا مطلقہ ہونا اس کیلئے مصیبت بن گیا۔ جانے کیوں لوگ مطلقہ اور طوائف کو ایک ہی درجے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے جیسے بعض دولت مند مطلقہ و بیواؤں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان پر کئے گئے احسانات کا خراج وصول کرسکیں۔ یہ نوکری بھی جاری نہ رہ سکی۔
اس تمام عرصے میں اس کو کیسے کیسے لوگوں سے سابقہ پڑا تھا یہ وہی جانتی تھی۔ وہ ایک گھریلو لڑکی تھی جس نے باہر کی دنیا اتنے قریب سے بھلا کب دیکھی تھی۔ وہ اتنی جلدی اس سماج کے ہاتھوں ہار مان جائے گی یہ تو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ ان دو سالوں میں شہزاد برابر بچوں سے ملنے آتا رہا۔ اس نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شہزاد اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہے۔ وہ ہر وقت اداس اور پریشان رہتا ہے۔ اب وہ اکثر ان حالات سے پریشان ہوجاتی کے اب کیا کیا جائے؟۔ ایک رات انہی سوچوں نے اس کی نیند اڑا رکھی تھی کہ اچانک ہونٹ مسکرادئیے اور چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔ وہ سکون سے سو گئی۔ اور صبح سویرے کسی کام کا کہہ کر باہر نکلی اور واپس آگئی۔ دوسرے دن ماں نے اسکے ہاتھ سے پرچہ لیتے ہوئے اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔ اور پھر اسکے باپ کو دکھایا۔ وہ بھی ویسی ہی نگاہوں سے نادیہ کی طرف دیکھنے لگا جیسے اب تک ماں دیکھ رہی تھی۔ پھر ماں نے خاموشی توڑی ”مگر تم تو تیار ہی نہیں تھیں، تم تو آزاد فضاؤں میں سانس لینا چاہتی تھیں۔ اب کیا ہوا؟”۔ نادیہ نے یہ سوچا یہ آزاد فضاء نہیں ہے یہ حبس زدہ معاشرہ ہے۔
نادیہ نے پرچہ واپس لیتے ہوئے جواب دیا کہ اس سے پہلے شہزاد اس قسم کے فتوے لاتا رہا ہے اور آپ لوگوں نے خوشی خوشی ان تمام فتوؤں کو قبول کیا اب کے ایک فتویٰ میں لے آئی تو آپ لوگ اتنے حیران کیوں ہیں؟۔ اس نے فتوے پر ایک نظر ڈالی جس کی رو سے وہ اور شہزاد اب بھی میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے تھے۔ اس نے سوچا اور اطمینان سے بھرپور لہجے میں خود کلامی کرتے ہوئے بولی کہ ”جب زندہ رہنے کیلئے حرام کاری کرنی ہی پڑے تو کیوں نہ عزت کے ساتھ ”حرام زندگی” گزاری جائے”۔ (دھوپ میں جلتے خواب کا پہلا افسانہ)۔

اخوت اور رواداری اسلامی تعلیمات کی روشنی میں:ڈاکٹر صبیحہ اخلاق

تصنیف : ڈاکٹر صبیحہ اخلاق(اُم سارہ)
غریب اور تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے یہ ایک بہت کٹھن وقت ہے۔ تعلیم کی کمی ، معیشت کی کمزوری، (بیشتر ممالک ) بد عنوان حکمران یا آمریت ، صنعتی پسماندگی کے ساتھ ان کا مقابلہ ، مبینہ انصاف کا نعرہ لگانے والی ترقی یافتہ اقوام جو حقیقتاً سرمایہ دارانہ نظام کی حامی ہیں، سے ہونے والا ہے۔ تجارت کے میدان میں پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ صورتحال کچھ اور قسم کی ہے۔ جیسے بھیڑ اور بھیڑئیے کو آزاد چھوڑ کر ان کا مقابلہ کرایا جارہا ہو۔ یقینا بھیڑیا بھیڑ کو کھاجائے گا؟۔ عالمگیریت کا نعرہ لگانے والے کیا اس صورتحال سے بے خبر ہیں۔( ایک اقتباس)
ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں: ”مگر اس اثنا میں قیصر روم اور مدینے کے تعلقات کی کشیدگی جنگ پر منتج ہوچکی تھی۔ چنانچہ 6ہجری کے اختتام پر جب مکہ سے صلح ہوگئی اور ادھر سے یکسوئی ہوگئی تو آنحضرت ۖ نے ہمسایہ حکمرانوں کو تبلیغی خطوط بھیجے”
اس حوالے سے انیتا رائے لکھتی ہیں: … ”آپ (ۖ ) نے ان دعوت ناموں میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی اہل کتاب یعنی یہودی، عیسائی اور زرتشتی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور نہ کی جانی چاہیے کہ اپنا مذہب بدلے”۔
رواداری دین اسلام کی بنیادی اقدار میں سے ہے اس کا تعلق عقیدۂ توحید کی روح سے ہے جو شعورِ انسانی کی مرکزی اساس سے پیوست و ملحق ہے۔ حضور ۖ نے سفرأ و وفود کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھا اور عطیات و تحائف سے ان کو نوازا ۔
”ہماری دنیا کی باقی اقوام سے ہمارا ضمیر ، ہمارا مزاج اور ہمارا نصب العین مختلف ہے۔ آج کا المیہ یہی ہے کہ فیضانِ سماوی کے سرچشموں سے محروم انسان کسی دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ”انا” کی تلوار لہرارہا ہے۔ جو جتنا قوی ہے ، لطیف انسانی احساسات سے اتنا ہی محروم ہے۔ مادی قوت نے رعونت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ رعونت نے تحمل و برداشت ، انسان دوستی ، ہمدردی غمگساری، عدل و مساوات اور احترامِ آدمیت جیسی اعلیٰ صفات کو نگلنا شروع کردیا ہے۔ عہد حاضر کا دوسرا المیہ اخلاقی معیارات کا زوال ہے۔ طاقت نے خود پرستی اور انا پرستی نے خود سری کو جنم دیا۔ چنانچہ مادی قوت سے آراستہ قومیں صدیوں سے مسلمہ اخلاقی اصولوں اور تہذیبی ضابطوں کو بھی اپنی مرضی کے معنے پہنارہی ہیں”
طلوعِ اسلام سے قبل مختلف معاشروں میں افراط و تفریط کے روئیے نظر آتے تھے۔ کچھ لوگ مادی زندگی کو ہی اہمیت دیتے تھے اور کچھ ترکِ دنیا پر راضی تھے۔ اسلام نے اعتدال کا راستہ دکھایا۔ قرآن نے کہا : و کذالک جعلنٰکم اُمة وسطاً لتکونوا شھداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیداً ترجمہ:”اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (ۖ)تم پر گواہی دیں گے”۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ کتب مقدسہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال حضرت محمد ۖ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ”سبل الہدیٰ و الرشاد” میں ایک دلچسپ واقعہ منقول ہے : عبد اللہ بن سلام سے مروی ہے کہ زید بن سعنہ جو یہودیوں کا بڑا جید عالم تھا ، اس نے بتایا حضور ۖ کی نبوت کی جتنی علامتیں ہماری کتب میں بیان کی گئی ہیں میں نے ان سب کا مشاہدہ کرلیا وہ حضور ۖ میں پائی جاتی ہیں مگر دو علامتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں میں نے ابھی حضور ۖ کی آزمائش نہیں کی تھی وہ دو باتیں یہ تھیں : ان یسبق حملہ جھلہ: اس کا حلم اس کے جہل سے سبقت لے جاتا ہے۔ولاتویدہ شدة الجہل الا حلماً : حضور ۖ پر جہالت اور حماقت کا جتنا مظاہرہ کیا جائے اتنا ہی حضورۖ کے حلم میں اضافہ ہوتا ہے۔
میں نے ان دو صفات کا حضور ۖ میں مشاہدہ کرنا چاہا تھا ۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کیلئے سرور عالم ۖ سے کھجوریں خریدیں اور ان کی قیمت نقد ادا کردی۔ حضور ۖ نے ایک تاریخ مقرر فرمادی۔ ابھی اس معیاد کو دو دن باقی تھے کہ میں آگیا اور کھجوروں کا مطالبہ کردیا۔ میں نے حضور ۖ کی قمیض اور چادر کو زور سے پکڑ لیا اور بڑا غضبناک چہرہ بناکر آپ ۖ کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ پھر میں نے حضور ۖ کا نام لیکر کہا : کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ ۔ اے عبد المطلب کی اولاد! بخدا تم بہت ٹال مٹول کرنے والے ہو، مجھے تمہاری اس عادت کا پہلے سے تجربہ ہے۔ اس وقت حضرت فاروق اعظم بارگاہ اقدس میں حاضر تھے۔ انہوں نے جب ابن سعنہ کی یہ گستاخانہ گفتگو سنی تو اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ای عدو اللہ اتقول لرسول ما اسمع ”اے اللہ کے دشمن ! تم یہ بکواس اللہ کے رسول ۖ کے بارے میں میری موجودگی میں کررہے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی ”۔
نبی کریم ۖ حضرت عمر کی اس گفتگو کو بڑے سکون و تحمل کیساتھ سنتے رہے اور مسکراتے رہے پھر حضرت عمر سے فرمایا انا وھو کنا احوج الی غیر ھذا منک یا عمر تامرنی بحسن الاداء وتامرہ بحسن اتباعہ ”ترجمہ: اے عمر! جو بات تو نے اسے کہی ہے مجھے اس سے بہتر بات کی توقع تھی۔ تمہیں چاہیے تھا کہ مجھے کہتے کہ میں بحسن و خوبی اس کی کھجوریں اس کے حوالے کردوں۔ اور اس سے کہتا کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ شائستگی سے کرے۔ اے عمر! جاؤ اسکا حق (کھجوریں) اس کے حوالے کردو۔ اور جتنا اسکا حق ہے اس سے بیس صاع زائد کھجوریں اس کو دو تاکہ تو نے اسے جو خوفزدہ کیا ہے اس کا بدلہ ہوجائے اور اسکی دلجوئی ہوجائے۔
زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر مجھے اپنے ہمراہ لے گئے اور اپنے آقا کے فرمان کی تعمیل کرتے ہوئے میری کھجوریں بھی میرے حوالے کردیں اور بیس صاع اس سے زیادہ بھی مجھے دے دیں۔ اس وقت میں نے حضرت عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے عمر ! حضور ۖ کی نبوت کی جتنی علامات ہماری کتاب میں مذکور تھیں ایک ایک کرکے ان سب کا مشاہدہ میں نے آپ ۖ کی ذات میں کرلیا مگر دو علامتیں ایسی تھیں جن سے میں نے ابھی تک حضور ۖ کو آزمایا نہ تھا۔ اب میں نے ان دونوں کو بھی آزما لیا ہے۔ فاشھدک انی رضیت باللہ رباً وبالا سلام دیناً و بمحمد (ۖ) نبیاً آج اے عمر! آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اس بات پر راضی ہوگیا ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ، اسلام میرا دین ہے اور سرور انبیاء محمد مصطفی ۖ میرے نبی ہیں۔
حضور ۖ اپنے جانی دشمنوں کے معاملے میں بھی عفو و درگزر سے کام لیا کرتے تھے۔ اور اس طرح اس قبائلی معاشرے میں آپ ۖ کے کریمانہ روئیے نے نفرت اور دشمنی کے کلچر کو ختم کردیا۔ حضرت انس آپ ۖ کے خادم خاص تھے، بچپن سے جوانی تک خدمت کی۔ فرماتے ہیں : آپ ۖ نے مجھے کوئی ایسا کام نہیں بتایا جس میں خود شریک نہ ہوئے ہوں۔ یا وہ کام میری طاقت سے زیادہ ہو اور اگر کبھی کوئی کام غلط ہوگیا تو کبھی غصہ نہیں فرمایا۔
آپ ۖ کی تمام زندگی میں روشن خیالی کے حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ رقمطراز ہیں : ”آپ ۖ مدینہ کے اندر آبادیوں کے قیام کے دوران مدنی (شہری) زندگی کے متعلق فرمایا : شہر کے اندر گلیوں کو اتنا چوڑا رکھو کہ دو لدے ہوئے اونٹ با آسانی گزر سکیں۔ گویا آج کے الفاظ میں آسانی کے ساتھ دو لاریاں آجاسکیں۔ اس لئے کہ گھروں اور گلیوں کی کشادگی انسانی خصائل پر اثر انداز ہوتی ہے”۔
حضور اکرم ۖ کا غیر مسلموں سے سلوک ہمدردی اور محبت کا رہا ہے۔ آپ صداقت سے ناواقف لوگوں تک سچائیاں پہنچانا چاہتے تھے اور جانتے تھے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اسلئے مخالفت کرنے والوں کی تمام زیادتیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ضروری ہے۔ غیر مسلموں میں ایک گروہ تو وہ ہوتا ہے جو حق کو اسلئے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا ہے ، ان کی جہالت اور عصبیت انہیں قبول حق سے روکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ حضور ۖ ہمیشہ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرتے رہے۔ اور ان کی یہ کوشش رہی کہ یہ لوگ جہالت اور عصبیت سے نجات پاکر صداقت کو سمجھ لیں۔ اور جہالت اور عصبیت کی بنا پر جو مخالفت یا ایذا رسانی کرتے رہے اسے حضور ۖ نے ہمیشہ معاف کیا۔ غیر مسلموں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو حق کو اچھی طرح پہچان اور سمجھ لیتا ہے لیکن اپنے مخصوص اور ناجائز مفادات کی وجہ سے سمجھ کر پھر بھی اس کی مخالفت کرتا ہے اور صرف مخالفت ہی نہیں کرتا بلکہ حق کو مٹانے کیلئے قوت استعمال کرتا ہے اور تشدد کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس گروہ کا مقابلہ ابتدا میں عدم تشدد کے اصول پر قائم رہ کر حضورۖ نے کیا لیکن تشدد کے جواب میں اس عدم تشدد سے بھی ان کے روئیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ طاقت کے استعمال میں وہ اور شیر ہوگئے۔ اس مرحلے پر مجبوراً طاقت کا جواب طاقت سے دینا پڑا۔ کیونکہ کسی انسانی گروہ کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ طاقت کے اندھا دھند استعمال سے حق کو ختم کردے۔ …
جب پورا جزیرة العرب اسلام میں داخل ہوگیا تو نجران اور دوسرے علاقے کے عیسائیوں نے نبی کریم ۖ کے پاس صلح کیلئے اپنا وفد بھیجا۔ اس وقت مسلمان اس پوزیشن میں تھے کہ اگر چاہتے تو چند دن میں ان مقامات کو زیر نگیں کرلیتے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اور ان کو اپنے مذہب و مسلک پر رہنے کی پوری آزادی دیکر ان سے صلح کرلی۔ آپ ۖ کا یہ صلح نامہ تاریخ کی کتابوں میں آج بھی درج ہے۔ ”نجران میں اس کے اطراف کے باشندوں کی جانیں ، ان کا مذہب ، انکی زمینیں ، ان کا مال، انکا حاضرو غائب، انکے وفد ، ان کے قاصد ان کی مورتیں، اللہ کی امان اور اس کے رسول ۖ کی ضمانت میں ہیں۔ ان کی موجودہ حالت میں کوئی تغیر نہ کیا جائیگا اور نہ انکے حقوق میں سے کسی حق میں دست اندازی کی جائے گی اور نہ مورتیں بگاڑی جائیں گی۔ کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدے سے نا ہٹایا جائیگا۔ اور جو بھی کم یا زیادہ انکے قبضے میں ہے اسی طرح رہیگا۔ ان سے زمانہ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائیگا۔ نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائیگا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان سے جو شخص سُود کھائے گا وہ میری ضمامت سے بری ہے۔ حوالہ جات ذیل ہیں۔
رسول اکرم ۖ کی سیاسی زندگی : ڈاکٹر حمید اللہ ، شبلی نعمانی : سیرت النبیۖ، جلد ١
Anita Rai, Muhammad ….True Story ، خلیفہ محمد سعید دستور حیات، نسرین وسیم روشن خیالی ، محمد بن یوسف صالحی، … فتوح البلدان …