نومبر 2018 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

عمران خان نے خود چھپ کر عدلیہ اور فوج کو مذہبی طبقے کے آگے کردیا: اشرف میمن


کراچی ( نمائندہ خصوصی) اشرف میمن پبلشر نوشتۂ دیوار نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی بہادری کو لوگ داد دیتے ہیں۔ طالبان کی دہشت تھی تو عمران خان نیازی اداروں کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ساتھی بن گئے تھے۔ نوازشریف کے خلاف تحریک لبیک کی تحریک چلی تو تحریک لبیک کیساتھ کھڑے ہوگئے۔ تحریک لبیک اور مولانا سمیع الحق نے عمران خان کا پول بھی کھولا، گالیاں بھی دیں لیکن وہ اداروں کے پیچھے چھپ گئے۔ یہ کوئی سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی تو نہیں کہ گستاخانہ خاکوں کی تقریب ختم کرنیوالے وزیراعظم عمران نیازی کے دورِ اقتدار میں یہ المیہ پیش آیا کہ ذیلی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والی گستاخ کو سپریم کورٹ سے بری کروایا گیا۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ممتاز قادری کی طرح عمران نیازی کو بھی اپنا گارڈ بن کر سلمان تاثیر کی طرح قتل کرڈالے اور پھر عمران خان کے بیٹوں کو اقتدار سونپ دیا جائے۔ جس طرح ملک کا زبردست پرائیوٹ ادارہ شاہین ائر لائن بیٹھ گیا اور بحران کا شکار ہوا ہے۔ ہماری قوم سازش کو سمجھنے میں دیر لگادیتی ہے۔

احادیث میں زمین کو بٹائی اور کرائے پر دینے کی ممانعت ہے مفت دینے کا حکم ہے

مولانا مودودیؒ نے قرآن وسنت کی نہیں سرمایہ دارانہ نظام کی خدمت کی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا تھاکہ اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر ان القرآن الفجر کان مشہودا O ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لک O عسیٰ ان یبعثک مقاما محموداO’’نماز قائم کرو، سورج کے غروب سے رات کا اندھیرا چھا جانے تک اور فجر کا قرآن بیشک فجر کا قرآن مشہود ہے اور تہجد کی نماز تیرے لئے نفل ہے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمود عطاء کرے‘‘۔
یہ آیات اُمت مسلمہ کیلئے دعوتِ فکر ہیں۔ سارا دن کام کاج کرکے مغرب سے عشاء تک تھکاوٹ ہوتی ہے۔ ٹی وی کے ٹاک شوز ، مقررین کی تقریریں اور مذہبی وعظ کا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان کے دل ودماغ کوتازگی میسر نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو حکم دیا کہ مغرب سے رات گئے تک نماز قائم کرو۔ نبیﷺ نے اس پر عمل بھی کیا ہے لیکن افسوس کہ کسی نے بھی قرآن کے اس حکم اور نبیﷺ کے اس عمل کو سنت نہیں قرار دیا ہے اسلئے کہ اگر یہ سنت بن جائے تو واعظین اور مقررین پھر اس وقت میں کیسے لوگوں کواپنی خرافات سنا سکیں گے؟۔ فرمایا کہ انا ارسلنٰک شاہدا ومبشرا ونذیرا ’’بیشک ہم نے آپ کو شاہد، بشارت دینے اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے‘‘۔ نبیﷺ شاہد تو قرآن مشہود ہے جس کی گواہی دی گئی ۔ صبح کے وقت انسان کا دل ودماغ تازہ، صاف اورسمجھنے سمجھانے کے قابل ہوتا ہے ، اسلئے صبح کے وقت کے قرآن کا خصوصی طور پر اہمیت کا ذکر فرمایا ہے۔
پھر ان آیات میں تہجد کی نماز کو نبیﷺ کیلئے نفل قرار دیا، جس کا پڑھنا ضروری نہیں اسلئے کہ یہ ایک انفرادی عمل ہے جبکہ قرآن اجتماعی اور اہم فریضہ ہے۔مغرب اور رات گئے تک تسلسل سے نماز قائم کرنے کی سنت کا حکم بھی نبیﷺ کی ذات مبارکہ کو مخاطب کرکے دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کی توقع بھی دلائی ہے اور اس کیلئے اگلی آیات میں مکہ سے نکلنے اور مدینہ میں داخل ہونے اور اقتدار کو مددگار بنانیکی دعا کا حکم ہے اور حق کے آنے اور باطل کے مٹ جانے اور قرآن کو مومنین کے شفاء اور رحمت کا ذکر ہے اور یہ کہ ظالم نہیں بڑھیں گے مگر خسارہ میں کی بھرپور وضاحت ہے۔ مولانا مودودیؒ سرمایہ دارانہ نظام کوتحفظ نہ دیتے تو بندۂ مزدور کے اوقات آج بہت تلخ نہ ہوتے۔ یہ بدترین المیہ آج بھی قرآن وسنت سے حل ہوسکتا ہے۔
یہ آیات اسلئے پیش کی ہیں تاکہ لوگ قرآن کے اہم معاشرتی مسائل کو سمجھنے کیلئے خاص طور پر فجر کے وقت کا انتخاب کریں۔ جب امت مسلمہ کی طرف سے قرآنی احکام کو سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوگا تو دنیا پر اسلام کی حکمرانی قائم ہو گی۔ یہ نبیﷺ کامقام محمود ہوگا۔ دنیا میں دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی صرف احادیث میں نہیں بلکہ قرآن میں بھی ہے لیکن جب تک قرآن کے مسخ شدہ احکام دنیا کے سامنے ہونگے ،اسلامی خلافت کا قائم ہونے کا تصور تو بہت دور کی بات ہے، دنیا ہمارااور اسلام کا مذاق اُڑائے گی اور ہم توہینِ رسالت کے مرتکب افراد کا محض تماشہ دیکھتے رہیں گے۔ آسیہ بی بی کیس ہمارے سامنے ہے۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ممتاز قادری، احتجاج میں تبلیغی جماعت کے کارکن اور مولانا سمیع الحق کی جان گئی مگر معمہ حل ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔
جب خواتین کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے ہوئے حقوق سے محروم کیا جائیگا۔ حلالے کے نام پر گھروں کو تباہ، عصمتوں کو لوٹنے اور بچوں کو والدین کے سایائے عاطفت سے محروم کیا جائیگا تو اس معاشرے کے کمزور طبقات نے حکمرانوں اور بڑے علماء ومفتیان کو بد دعائیں دینی ہیں ۔ ایک ایک کا انجام عبرتناک ہوگا۔ جو لوگ ریاست کیلئے وفا رکھتے ہیں اور پاکستان کی افواج کا تحفظ کرتے ہیں ان کو پشتون تحفظ موومنٹ والے ’’ گل خانوں‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مولانا سمیع الحق کی ساری زندگی ریاست ہی کا تحفظ کرتے کرتے گزری ہے۔ شریعت بل، مارشل لاء کا دفاع، مجاہدین کی سرپرستی،اسلامی جمہوری اتحاد میں کردار اور طالبان کا تحفظ کرنے کیساتھ ساتھ وہ پاکستان، افواج پاکستان کا ہر موقع پردفاع کرتے ۔اُن کی موت بھی بڑے پیمانے پر ریاست کو نقصان پہنچانے کا سدِ باب بن گئی۔ ریاست کے خلاف طوفان برپا ہورہاتھا، دیوبندی بریلوی فسادات کا خدشہ بھی تھا اور ایک بڑی افراتفری کی فضاء قائم ہونے کاخطرہ بھی تھا۔ نیک لوگ تماشۂ حیات کی طرف دیکھتے نہیں، بدی کی قیادت بدعنوانی سے ہورہی ہے مگر ایک طرف شعور بیدار ہورہاہے اور دوسری طرف باطل کے منہ سے نقاب اُٹھ رہاہے، ہنگامۂ خیز اور ہیجانی صورت پیدا کرنے کی خواہش بہت سے لوگوں کے دِ لوں میں موجزن ہے۔تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کا طرزِ عمل مروجہ احتجاج کا نہیں ورنہ طوفان برپا ہوسکتا تھا۔

ہماری عدلیہ آزادہوتی تو کم ازکم ڈاکٹر عافیہ کی طرح آسیہ کوقید کی سزا دیتی
اگرسورۂ نورمیں بہتانِ عظیم کا معاملہ واضح کیا جاتا توعظیم نتائج نکل جاتے

علماء کرام کا سب سے بڑا کمال ہے کہ قرآن وسنت کاتحفظ کررہے ہیں۔ غلام احمدپرویز اور اسکے کارندوں کی فکر نے بیوروکریسی، جدید تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں میں جاہلیت کی روح پھونک دی ،سورۂ نور میں بہتان عظیم کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہؓ کے حوالے سے بہتان سیرت رسول اور اسوۂ حسنہ کا سب سے بڑا ، بہت ہی اذیت ناک واقعہ تھا۔ غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کا انکار کرکے یہ لکھ دیا ہے کہ ’’ یہ کسی عام عورت کا واقعہ تھا، اگر نبیﷺ کی زوجہ مطہرہؓ پر یہ بہتان لگتا تو مسلمان اس کو قتل کردیتے، یہ اہل تشیع نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عصمت وعزت کو داغدار کرنے کیلئے ایرانی عجم کی سازش سے ہماری کتب احادیث میں گھڑ دیا ہے‘‘۔ غلام احمد پرویز کی اس فکر نے ایک طرف فرقہ واریت کا بیج بویا ہے تو دوسری طرف جس مذہبی انتہاء پسندی کو مذہبی لبادے میں نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی شکل میں پروان چڑھایا ہے،اسکے نتائج بھی میڈیا پر عوام کے سامنے مرتب ہورہے ہیں۔حامدمیر نے ایک کلپ میں انصار عباسی سے مذہبی و لامذہبی انتہاپسندی کی تعریف پوچھی ہے تو انصار عباسی نے سلمان تاثیر کا قتل درست اسلئے قرار دیا ہے کہ ’’ مملکتِ پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ، عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں اور اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ عوام قانون کو ہاتھ میں لیں‘‘۔


انصار عباسی کے ذاتی گھر کیلئے ایک لمبی سڑک سرکار کے خرچے پر ن لیگ نے بنائی تھی جس کا انکشاف اسوقت لوگوں پر ہوا، جب ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تھا، عوام تعزیت کیلئے وہاں پہنچی تھی۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا کی کتاب ’’ ایک قتل جو نہ ہوسکا‘‘ میں یہ انکشاف ہے کہ ایک سازش کے تحت انصار عباسی نے اپنے کالم میں انکشاف یہ کیا کہ پنجاب کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، جس میں صدر زرداری، سلمان تاثیر کا مرکزی کردار ہے۔ لیکن پنجاب پولیس کے ایک اہم سپاہی نے اس سارے کھیل کو ناکام بنادیا تھا۔ ورنہ تو انصارعباسی نے اس گھٹیا خدمت کیلئے اپنی خدمات انجام دیں۔ کسی موقع پر جنگ کے معروف صحافی نذیر ناجی نے کہا کہ’’ مجھے معلوم ہے ،یہ کتے کے بچے انصار عباسی نے کیا ہے ‘‘۔
ہماری خواہش تھی کہ طلاق کے مسئلے کو میڈیا تک پہنچا دیا جائے، تاکہ مذہب کے نام پر خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ رک جائے۔ عمر چیمہ نے ایک بچے سے زیادتی کا کیس اٹھایا تھا، اوکاڑہ کے مضافات میں حجرہ شاہ مقیم سے ایک گاؤں میں جس بچے کیساتھ یہ واقع ہوا تھا، اسکے والد سے ہم نے ملاقات بھی کی۔ جس کرب سے گزررہاہے یہ ناقابلِ بیان ہے۔ ایک امیر، بلدیہ ذمہ دار، ن لیگ سے تعلق رکھنے والے بااثر سیاسی رہنماکے بیٹے نے جسطرح کی زیادتی کی ہے۔ پنجاب ،مرکزی حکومت اور عدلیہ نے اگر زینب کیس کی طرح اس کو اہمیت دی اور غریب کی داد رسی ہوئی اور ظالم انجام تک پہنچا تو آگ بجھانے کی کوشش میں ریاست کا یہ کردار بھی ایک چڑیا کی طرح ہی ہوگا۔
ہم عمر چیمہ سے ملنے گئے ۔ طلاق وحلالہ کوسمجھنے و میڈیا پراٹھانے کی استدعا کی۔ عمر چیمہ نے بات سننے کے بعد کہا کہ آپ لوگ انصار عباسی سے ملیں وہ قرآن وسنت کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ ہم انصار عباسی سے ملنے گئے تو معاملہ ان کو سمجھ آیا یا نہیں آیا لیکن ان کا مشورہ تھا کہ ایسے موضوعات کو اہل علم کی مجالس تک محدود رہنا چاہیے اور یہ میری ذاتی رائے ہے، تاکہ کوئی مسئلہ انتشار کا باعث نہ بنے۔ ہم نے انصار عباسی سے مزارعت کا مسئلہ بھی ذکر کیا کہ ’’ احادیث میں زمین کو بٹائی اور کرایہ پر دینے کی ممانعت ہے، مفت دینے کا حکم ہے۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام داؤد ظاہری سب اسکی حرمت پر متفق ہیں‘‘۔مگر انصار عباسی نے کہا کہ میں نے بخاری میں ایک حدیث پڑھی ،جسمیں رسول اللہ ﷺ نے زمین کو بٹائی پر دینے کا حکم فرمایاہے‘‘۔
علامہ طاسین صاحبؒ نے ’’ مروجہ نظام زمینداری‘‘ پر بڑا تحقیقی کام کیا اور ان خفیہ گوشوں سے پردہ اٹھایاہے کہ جن کی وجہ سے علامہ اقبال ؒ نے کہاتھا کہ ’’ وہی سرمایہ داری ہے بندۂ مؤمن کا دین‘‘۔بخاری میں ایسی حدیث نہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اقوال کے منافی زمین کو بٹائی پر دینے کا حکم دیا ہو۔ البتہ آل عمر، آل عثمان،آل علی کیلئے روایت ہے مگر ان سے بھی صحابہؓ مراد نہیں بلکہ کوئی اورہے۔
9ھ میں سود کی حرمت کا قرآن میں حکم نازل ہوا،پھر رسول اللہﷺ نے زمین کو بٹائی، کرایہ پر دینے کو بھی حرام اور سود قرار دیا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اورامام شافعی ؒ تک مزارعت کو سود قرار دیتے رہے جو حکمرانوں کے زیرِعتاب رہے۔ امام ابوحنیفہؒ نے جیل میں وفات پائی۔ شاگردامام ابویوسف قاضی القضاۃ( چیف جسٹس) شیخ الاسلام تھے۔ جس نے مزارعت کو جائز قرار دیا۔ آج مفتی تقی عثمانی شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن بینکاری کو اسلامی قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہی اپنے اساتذہ کرام کی مخالفت ، قرآن سے انحراف ،دین کی بدترین تحریف ہے اور علامہ اقبالؒ نے اسلئے بندہ مؤمن کے دین کوسرمایہ داری قرار دیا ہے۔ سودی نظام کو قرآن میں اللہ اور اسکے رسولﷺ سے اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کا آئین قرآن وسنت کا پابند ہے۔ جب علماء ومفتیان نے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دیا ہے تو بھارت، اسرائیل یا امریکہ کا نام بھی اسلام کیوں نہیں رکھا جاتا ہے تاکہ اسلامی اور غیر اسلامی کی دردِ سری کا معمہ حل ہوجائے اور ابلیس کی اپنے مشیروں سے خطاب کی ضرورت بھی نہ رہے؟۔
سورۂ نور میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان کی بات احادیث میں غلط ہے تو علماء ومشائخ پرویزی مذہب اختیار کرلیں اور درست ہے تو اللہ نے فرمایا: ’’ اسے اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے ‘‘۔ آج یہ آیات دنیا کے سامنے پیش کرکے نام نہاد عاشقانِ رسولؐ، سیاسی مفادات، مذہبی جنونیت کی آڑ میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے والوں کا ہی راستہ نہیں روکا جاسکتاہے بلکہ اسلام کے ذریعے دنیا بھر کے اسٹیٹس کو بھی توڑا جاسکتاہے۔ ایک طرف ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا مقام اور دوسری طرف آپ پر بہتان کی وہی سزا جو ایک عام غریب، بے بس اور نادار پر بہتان لگانے کی ہے،دونوں میں برابری مساوات اور یکساں سلوک انصاف کے تقاضوں کو نہ صرف پورا کرتا ہے بلکہ نام نہاد اسلامی اور غیر اسلامی ریاستوں کے اندر موجود باطل نظام کے مگر مچھوں سے انسانی حیات کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ علامہ طاسین صاحبؒ نے انقلابی تحقیق کی تھی۔ مولانا بنوریؒ کے بڑے داماد ہونے کے بھی باوجود ’’ ماہنامہ البینات، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی‘‘ میں انکا ایک مضمون پورا شائع نہ ہوسکا تھا۔مولانا فضل الرحمن بھی مولانا طاسینؒ ہی کو آئیڈیل شخصیت مانتے ہیں لیکن…

پاکستان کی بقاء ، خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا راستہ


معروف صحافی مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’ جنگ و جیو اور دیگر میڈیا چینلوں میں یہ فرق ہے کہ جنگ اور جیو کسی بات کو سچ اور جھوٹ اسلئے نہیں کہتا کہ کوئی اسے کہلواتا ہے بلکہ خود جس کو جھوٹ اور سچ سمجھتا ہے، اپنی بنیاد پر کہتا ہے‘‘۔ سیاست کی طرح مذہبی جذبہ بسا اوقات کوئی کسی کے کہنے پر استعمال کرتا ہے اور اپنے طور پر بھی مذہبی جذبہ استعمال ہوتا ہے، بالفاظِ دیگر جو بات مظہر عباس کہہ رہا تھا،وہی بات مولانا فضل الرحمن بھی علامہ خادم رضوی کیلئے کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جنگ وجیو اپنے مفادات کیلئے مہم جوئی کا کردار ادا کرنے کے بجائے حق اور حقیقت کیلئے کام کرتے تو بھی تھوڑے دنوں میں ایک مثبت انقلاب آسکتا تھا۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن اسلام کے معاشرتی، سیاسی اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیتے اور اسکا برملا اظہار کرتے تو خواہ مخواہ میں سیاسی ومذہبی قوتوں اور قائدین کے درمیاں نکاح خواں سے گرکر اب میراثی کا کردار ادا نہ کرنا پڑتا۔ حقیقی اسلام کے ذریعے زر،زن اور زمین کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر غیرشرعی جاگیردارانہ اور غیر اسلامی بینکاری نظام ہو اور معاشرے پر غیر اسلامی معاشرتی نظام ہو تو پاکستان کی بقاء ممکن ہے اور نہ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا قیام ممکن ہے۔ یرغمال شریعت مدارس اور اسٹیبلشمنٹ سے آزاد کرنے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔ صرف ہمت مرداں کی ضرورت ہے تو مدد خدا بھی ہو گی۔
لوگ تہائی،چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کراتے تھے، پس نبیﷺ نے فرمایاکہ جس کی زمین ہو،وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دیدے،اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین اپنے پاس یونہی رکھ لے۔ (صحیح بخاری) جابرؓ سے نقل ہے کہ جب تحریم ربوٰ کی حرمت نازل ہوئی الذین ےأکلون الربوٰ لایقومن الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس لآیہ (جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہونگے مگر جسطرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو جنات نے اپنی گرفت میں لیکر پاگل بنایا ہو) جو شخص مزارعت کو نہ چھوڑے اس سے آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور اسکے رسولؐ کیساتھ جنگ میں مصروف ہے‘‘۔ المستدرک۔ اسلامی اقتصاد کے پوشدہ گوشے
نمونہ کے طور پر دو احادیث پیش کردی ہیں ، تفصیلات کیلئے علامہ طاسینؒ کی کتاب میں مواد موجود ہے۔ ان احادیث کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان کی سرزمین میں استحکام آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں بھی ایک ایسا انقلاب آسکتا ہے جو پوری دنیا کے تیور کو بدل ڈالے۔ عرب ممالک کے پاس تیل کی طاقت تھی لیکن انہوں نے خود کو اسرائیل اور امریکہ کی گرفت میں دیدیا ہے۔عرب کی بقاء بھی برصغیرپاک وہند، ایران وافغانستان، روس وچین اور ترکی کے علاوہ مشرقی ممالک کے اتحاد میں ہے۔ مغرب نے امامت کے مقام سے انصاف نہیں کیا۔ علامہ طاسینؒ سے ایک سہو ہوگئی کہ ایک طرف قطعی طور پر حرام ہونے کی بات کہی اور پھر مشتبہ قرار دیا، اسی طرح مضاربہ کو بھی سود قرار دینے کی کوشش فرمائی ہے۔

گستاخ آسیہ مسیح اور مذہبی وسیاسی قیادت کا شاخسانہ


پاکستان میں یہ قانون آئین کا حصہ ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی شان میں اگر کوئی گستاخی کریگا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ریمنڈ ڈیوس نے اپنا نام مولانا تاج محمد ظاہر کرکے سی آئی اے کیلئے اپنی خدمات انجام دیں، جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو قتل کے بدلے قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ سزا سے بچنے کیلئے دیت کے اسلامی قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آسیہ مسیح کو سیشن اور ہائیکورٹ سے سزائے موت سنائی گئی۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا کہ اس پر یہ کیس بنتا ہی نہیں ، جس کو قومی اخبارات میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا گیا۔ وجہ اس کی یہی ہوسکتی تھی کہ اس کیلئے عالمی دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد دیت کا کوئی قانون بھی لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا، اگر سپریم کورٹ عمر قید کی سزا دیتی تو بھی اس پر زیادہ سخت ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ تحریک لبیک کے قائدین نے عدالت کیساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا سمیع الحق نے عدلیہ کے جج حضرات پر توہین رسالت کا مقدمہ چلانے اور ان کو لٹکانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے پہلے حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اپوزیشن کی جماعتوں نے ساتھ نہیں دیا۔ پھر صدارتی امیدوار کے طور پر ایک کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اب حکومت کے خلاف آسیہ مسیح کیس کو آخری حربہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اس میں بھی کامیابی مشکل ہے۔ جب شخ رشید نے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے خلاف سازش کا انکشاف کیا تھا تو وہ اس میں تنہاء تھے، پھر قافلے ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ آخر کار اسلام آباد دھرنے کے ذریعے اور ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کا حربہ کامیاب ہوا۔ اس وقت تو اے آر وائی کے سمیع ابراہیم، صابر شاکر اور حمید بھٹی اور شیخ رشیدو عمران خان اس جذبے کو اسلام کی تعلیمات قرار دے رہے تھے لیکن اس دفعہ جب حکومت نہیں اسٹیبلیشمنٹ نشانہ بن گئی تو پھر معاملے کو دوسرا رنگ دیا جانے لگا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے زرداری کے بعد نوازشریف کی بھی خوب خدمت کی لیکن جمہوری میدان میں اپنے ساتھ اس بارجماعت اسلامی کو بھی لے ڈوبے۔ خلافِ معمول جماعت اسلامی کی بدقسمتی تھی کہ تحریک انصاف کی صفوں سے نکل کر مولانا فضل الرحمن کے بغل میں بیٹھ گئی۔ اب دونوں کی سیاست کیساتھ ساتھ مذہب کی ٹھیکہ داری کا بھی سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ بن کر دھوکہ کیا۔ نوازشریف نے ایک میڈ اِن پاکستانی اسلام کے نام پر عوام کو دھوکے میں رکھا اور اب عمران خان نے ریاست مدینہ کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کے تیسرے ایجنٹ کے طورپر عوامی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے،پاکستان کی بقاء اسلامی نظام میں ہے اور جھوٹ کے اسلامی نظام سے کفر کا عادلانہ نظام بہتر ہے۔ کمیونزم اور کیپٹل ازم کے درمیان اسلام کا نظام ہی حقیقی اعتدال اور درست معنوں میں عدل ونصاف کا نظام ہے۔ دھوکے بازی کا سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہ سکتا ہے ، حقیقی انقلاب ناگزیر ہے۔

مزارعت کے بجائے زمین کو مفت دینے کے چند فوائد


1: اللہ تعالیٰ نے سودی نظام کو قرآن میں اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے اعلان جنگ قرار دیا اور احادیث صحیحہ میں نبیﷺ نے زمین کو کرایہ، مزارعت، ٹھیکہ اور بٹائی پر دینے کی تمام صورتوں کو حرام وناجائز اور سود قرار دیا ہے۔ کوئی جاگیر دار بھی خود کاشتکاری کرتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں سے کاشتکاری کراتاہے۔ جب شاہ محمود قریشی، عمران خان، نوازشریف، زرداری ، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن ومولانا اسد محمود وغیرہ تمام سیاستدانوں ، فوجی جرنیلوں اور بڑے بیوروکریٹوں اور انکے بچوں کو کاشتکاری پر لگایا جائے تو انکی صحت بھی ٹھیک ہوجائے گی اور اگر یہ لوگ خود نہ کرسکتے ہوں تو کسان کے بچوں کو نہ صرف اپنی روزی ملے گی بلکہ ان کی قابل اولاد میں بہترین تعلیم کے ذریعے فوجی جرنیل اور بیوروکریٹ،ڈاکٹر وسائنسدان ، انجنئیر اور سیاستدان بھی پیدا ہوں گے۔
بلاول، بختاور ، حسن وحسین اور مریم جیسے لوگوں کی اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے باوجود اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے سے زیادہ حیثیت پیدا نہیں کی ۔ فارمی و برائلر ٹائپ کے مرغے اور مرغیاں اقتدار میں اور بااثر عہدوں پر براجمان ہوتے جارہے ہیں مگر دیسی اور اصلی مرغے اور مرغیاں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے ہوں ،پھر اس ملک کا انجام کیا ہوگا؟۔ ایک ناگوار انقلا ب سے بچت کیسے ہوسکے گی؟۔
2: زیادہ سے زیادہ یہ خدشہ ہوگا کہ تیار خور طبقہ بھوک کی موت مرے گالیکن اس کیلئے فکر کی ضرورت نہیں ، مولوی حضرات کے بعد بڑے بڑے ادارے بھی جب بھیک اور زکوٰۃ پر چل رہے ہیں تو چند جاگیرداروں کوبھی زکوٰۃ سے پالا جاسکتا ہے۔ زمین کو مفت کاشت پر دینے سے مزدور طبقے کی دہاڑی بھی بہت بڑھے گی اور غریب وامیر طبقات کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوجائیگا۔ جس کو بھی اپنی محنت سے زمین کے ذریعے مالدار بننے کا موقع ملے گا تو وہ زمین کی کاشت کو چھوڑ کر کسی سہل کام میں اپنا سرمایہ لگائے گا۔ یوں باہر سے سرمایہ کار لانے کیلئے ہمیں ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ روس اور چین بھی اس نظام کو قبول کرنے میں بہت خوشی محسوس کرینگے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے درمیان اعتدال سے صراطِ مستقیم کی نشاندہی ہوگی تو ابلیس فساد فی الارض کی سازش میں ناکام ہوگا۔
3: برصغیر پاک وہند کی زر خیز زمینوں میں کاشتکاری کے ذریعے غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی تو بھارت پاکستان کیلئے رام ہوجائیگا۔ میدانی علاقوں میں بڑے پیمانے پرکاشتکاری سے چین وروس کے پہاڑی علاقوں میں سپلائی کا کام ہوگا تو نسلی اور طبقاتی تقسیم کا بھی خاتمہ ہوگا۔ رسول اللہﷺ نے کالے گورے، عرب وعجم اور تمام نسلی امتیازات کا خاتمہ کردیا تھا۔ ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان کا غرور توڑ کر بلالِ حبشیؓ، صہیب رومیؓ اور سلمان فارسیؓ کی عزت افزائی ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں کرپشن سے جاگیردار اور سرمایہ دار پیدا کرکے طبقاتی تقسیم کا بیج بویا گیا ہے۔ کاشتکار شودر اور جاگیردار برہمن بن گئے ہیں۔اسلامی اقتصادی نظام کے ذریعے پاکستان میں کرپشن کے سردار پھر اپنی جگہ اور اوقات پر آسکتے ہیں۔

اسلامی اقتصاد کے چند پوشیدہ گوشے: علامہ محمد طاسین ؒ


مندرجہ بالاکتاب کی طباعت سن 2002ء میں ہوئی ہے۔ ناشر : فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹیڈ کراچی۔ ترتیب وپیشکش :ڈاکٹرمحمدعامرطاسین وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین رہے۔ پتہ: گوشہ علم و تحقیق : 20.A، کتیانہ سینٹر ، بنوری ٹاؤن، ای میل: gosha elmo tahqeeq hotmail. com
آج امریکہ نے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کرنے کے بعد شام کی خانہ جنگی سے ابھی تشفی نہیں پائی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے خلاف سازش کو عملی جامہ پہنانے کی ترکیب کررہا ہے۔ ایران کی تیل پر پابندی کو روس، چین اور بھارت نے مسترد کیا ہے جس کو امریکہ نے قبول بھی کرلیا ہے۔ اگر ہم امریکہ کے بجائے روس اور چین کیساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں لگے ہیں تو اسلامی نظام کی طرف ہی آنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط غریب کو آخری حد تک غربت کی لکیر سے ماردیگی جس کا حکمران اور بڑے طبقے پر اثر نہ ہوگالیکن جب غریب اُٹھ کھڑا ہوگا تو پاکستان کی ریاست بھی بچ نہیں سکے گی۔ فوجی سپاہی کا تعلق غریب گھرانے سے ہوتا ہے، پولیس اور تمام اداروں کے غریب ملازمین کی ہمدردیاں اپنے بڑوں کے بجائے اپنے گھرانوں سے ہوں گی۔ یہ وقتی طور پر مذہبی اشتعال انگیزی کا مسئلہ نہیں ہوگا کہ مولانا سمیع الحق کو قتل کرکے علامہ خادم حسین رضوی کو رام کیا جائے بلکہ بھوکی عوام وحشی درندوں کی طرح انقلاب برپا کردینگے۔ جانیں، عزتیں، محلات، بازار، قلعے، چھاونیاں، عدالتیں اور مدرسے کچھ بھی محفوظ نہ رہ سکیں گی۔ سابق صدر زرداری نے حامد میر کو جیو ٹی چینل پر بتایا ہے کہ ’’ عمران خان کے اپنے تعلقات سعودیہ سے اتنے اچھے نہیں کہ اتنا بڑا پیکج مل سکتا تھا، چین بھی بڑی مدد کریگا، اسکے علاوہ ابوظہبی بھی مدد کریگا‘‘۔
زرداری کا واضح اشارہ اسرائیل کی طرف تھا اسلئے کہ اسرائیلی خاتون وزیر نے ابوظہبی کی بڑی مسجد کا دورہ کیا تھا جس کی میڈیا میں تشہیر بھی ہوئی ۔ ممکن ہے کہ اسرائیل سے مسقط اور اسلام آباد آنے والے طیارے میں بھی صداقت ہو اور کسی نے فیصل مسجد اسلام آباد کے بجائے اصحاب اقتدار سے اہم ملاقاتیں بھی کی ہوں۔ پاکستان میں امریکہ کو دئیے جانے والے ائرپورٹوں کو بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔ ریاست اور عوام کے اندر اعتماد کا فقدان اپنی جگہ ہے۔ طالبان کی دہشت کا راج ابھی عوام کے دِلوں سے ختم نہیں ہوا ہے کہ کوئی دوسرا فتنہ کھڑا نہ ہوجائے۔
لگتاہے کہ عالمی قوتیں پاکستان کو قدرت کا بڑا ڈھیٹ شاہکار سمجھ کر صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب قبلہ ایاز صاحب کو چاہیے کہ علامہ طاسینؒ کی مندرجہ بالا کتاب کو اقتدار کے ایوانِ بالا تک پہنچائیں تاکہ بڑے پیمانے پر زمین کی کاشت ممکن ہوسکے ۔ علامہ اقبالؒ نے فرشتوں کے گیت کے عنوان سے کیا خوب کہاتھا کہ جو مخلص مسلمان تھے۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
اشتراکیت نے بھی پنجے گاڑ رکھے تھے جسکے اثرات سے علماء محفوظ نہیں رہ سکے تھے ۔ دوسری طرف سودی نظام کو بھی جواز بخشنے تک بات پہنچی، اسلام اعتدال ہے

تین طلاق پر عتیق گیلانی نے جو نکتہ اٹھایا وہ قرآن کی اصل تفسیر ہے. ڈاکٹر فاروق ستار


کراچی ( احمد جمال) ایم کیو ایم کے ہر دلعزیز رہنما اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے دلوں میں بسنے والے ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے اخبار ’’نوشتہ دیوار‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ محترم سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب نے تین طلاق کے حوالے سے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ قابلغور اور قابل عمل ہے اور قرآن کی اصل تفسیر کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام جوڑنے کا درس دیتا ہے توڑنے کا نہیں اور اللہ کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ فعل طلاق ہے کیونکہ نکاح کے رشتے سے دو خاندان اور اولادیں وابستہ ہوتی ہیں، اوراس ناپسندیدہ عمل سے سب ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔
طلاق کی قرآن کی روشنی میں صحیح تفسیر پیش کرنے پر سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

قرآن نے حلالہ کا تصور قائم نہیں بلکہ قطعی طور پر ختم کیااور شرعی پہلو واضح کیا


سورۂ بقرہ کی آیات 222تا 229 تک تفصیل سے دیکھو

قرآن کریم کی آیات کاایک دوسرے سے فطری ربط موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ ’’ آپ جلد بازی سے کام نہ لیں۔ اس کا جمع کرنا( ترتیب و تدوین) ہماری ذمہ داری ہے اور پھر اس کا واضح کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے‘‘۔ تفسیر بالرائے کی انتہائی سخت مذمت ہوئی ہے مگر تفسیری آراء میں اتنا بڑا اختلاف ہے جس میں جائزو ناجائز اور حلال وحرام تک کے اختلافات آگئے ہیں۔ کوئی بھی شخص تفاسیر کی کتب سے استفادہ کرکے ایک نئی تفسیر کر ڈالتا ہے۔ غلام احمد پرویز کے پیروکاروں کی پاکستان میں بہت بڑی تعداد ہے اور اس نے ’’ تبویب القرآن‘‘ کے نام سے اپنی ایک کتاب بھی مرتب کی ہے۔ علماء کرام نے غلام احمد پرویز کی اس شکایت کا بہت برا منایا ہے کہ قرآن کے اندر بکھرے مضامین کو ایک اچھی ترتیب سے نہ مرتب کیا جائے تو یہ اللہ کی نہیں کسی اچھے مصنف کی کتاب بھی نہیں لگتی ہے۔ حقیقت ہے کہ اس سے بڑی بکواس اور کیا ہوسکتی ہے؟،مگر علماء کرام نے جس طرح فقہی مسالک کی خاطر قرآن کے اصل متن اور مفہوم کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے ، نتیجے میں قرآنی آیات کے واضح مضامین کا واضح سے واضح مفہوم بھی بالکل مسخ ہوکر رہ گیا ہے۔ مردان میں علماء کرام کو وائٹ بورڈ و بلیک مارکر سے آیات کا مفہوم سمجھایا۔ پہلے مجھے گلہ تھا کہ علماء کرام اور مفتیانِ عظام جان بوجھ کر قرآن کو نظر انداز کررہے ہیں، اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنے پکے اسباق کی وجہ سے کسی قدر معذور ہیں۔
علماء کرام سے گزارش ہے کہ فجر کے وقت قرآن کی آیات کے اصل متن ، اسکے مفہوم اور مسائل کو سمجھ لیں۔
قرآن نے حلالہ کا تصور دیا نہیں بلکہ جاہلیت کے دور میں رائج حلالہ کو نہ صرف ختم کیا بلکہ شوہر کیلئے طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کی اصل صورتحال بھی سمجھادی۔ عورت کو جن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان سب کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ کمالِ بلاغت سے واضح بھی کیا۔
سورۂ بقرہ آیت222میں اللہ نے فرمایا:’’ تجھ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہیے کہ یہ اذیت ہے‘‘۔ علماء نے اس سے گند مراد لیا ہے، حالانکہ عربی کی کسی لغت میں بھی اذیٰ کے معنی گند کے نہیں ہیں۔ آیت میں حکم ہے کہ حیض کی حالت میں انکے قریب نہ جاؤ،یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں، جب پاک ہوجائیں تو انکے پاس آئیں اللہ پاکی رکھنے والوں اور توبہ کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے۔
پاکی کا تعلق گند اور توبہ کا تعلق اذیت سے ہے۔ جس چیز سے بھی عورت کو اذیت ملتی ہو ، اس صورت میں اسکے ساتھ مباشرت کرنے کی آیت میں روک تھام ہے۔ جس کوترجمہ اور کتب فقہ وتفسیر میں نظرانداز کردیا گیا ہے۔
البقرہ آیت223میں ہے کہ تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں۔ انگریزی میں ایسٹ کہتے ہیں، بیویاں بچوں کی مائیں ہوتی ہیں، دنیا اور جنت کی رفیقِ حیات ہوتی ہیں۔ والدین، بہن بھائی اور بچوں کی اپنی زندگی ہوتی ہے ، بیوی جوڑی دار ہوتی ہے۔ یہ کتنا ظلم ہے کہ علماء نے اس کو کھیتی قرار دیا ہے؟ کھیتی کے حقوق تو گھرکے جانوروں جتنے نہیں اذیٰ اور حرث کا درست ترجمہ ومفہوم سامنے ہوتا تو فقہ کے ائمہ میں یہ اختلاف نہ ہوتا کہ لواطت حرام ہے یا حلال؟۔
البقرہ آیت 224میں اللہ نے فرمایا کہ’’ اپنے عہد و پیمان کیلئے اللہ کو ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘‘۔ ایمان یمین کی جگہ ہے جو صرف حلف یا قسم کیلئے نہیں آتا بلکہ ہرقسم کے عہد اور وعدہ ، حلف، قول ، طلاق ، ظہار، ایلاء سب شامل ہیں۔ یہ طلاق کیلئے ایک بنیادی کلیہ ہے کہ میاں بیوی صلح چاہتے۔ مذہب اس میں رکاوٹ بنتا تھا۔ اللہ نے یہ فتویٰ ختم کرنے کیلئے اس آیت کو مقدمہ کے طور پر پیش کیا ہے کہ میاں اور بیوی ہی نہیں مشرک ومسلمان، یہودی، ہندو، عیسائی وغیرہ کسی کے درمیان صلح کیلئے یہ بہانہ نہ بناؤ کہ اللہ رکاوٹ ہے۔ خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعد۔
البقرہ آیت 225 میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا ہے کہ ’’ اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے نہیں پکڑتا ہے مگر تمہارے دلوں نے جو کمایا ہے اس پر پکڑتا ہے‘‘۔ گزشتہ سے پیوستہ آیت کا ربط یہی ہے کہ صلح نہ کرنے یا جدائی کیلئے کوئی عہد کیا جائے تو کسی لغو بات کیلئے مذہبی بہروپ کے پاس دوڑ کر جانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ الفاظ نکل گئے ہیں اب میاں بیوی میں صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ خود فتویٰ دیتا ہے کہ اس پر تمہاری کوئی پکڑ نہ ہوگی ، البتہ دلوں کے گناہ پر اللہ نے پکڑنا ہے۔ دلوں کا گناہ بھی آگے واضح ہے۔
البقرہ آیت226میں ہے کہ’’ جو بیویوں کے پاس نہ جانے کا عہد کرلیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے۔ پھر اگر وہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے‘‘۔جب عورت کو طلاق دینے کا کھل کر اظہار نہ کیا تو لامحدود مدت تک اس کو انتظار نہیں کرایا جاسکتا ہے اسلئے چار ماہ کی مدت متعین ہے۔یہ بھی عورت کو اذیت سے بچانے کا اہم معاملہ ہے۔ جمہور فقہاء کا مسلک ہے کہ جب تک طلاق کا زبانی اظہار نہ کرے تو عمر بھر بھی طلاق نہ ہوگی اور حنفی مسلک میں چار ماہ گزرتے ہی طلاق واقع ہوگی۔ دونوں کو مرد کے حق سے مطلب تھا، عورت کی اذیت سے نہیں۔ قرآن اس قدر لغو اختلاف کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی متحمل ہوسکتا ہے۔
البقرہ آیت227میں ہے کہ ’’ اگر انکا طلاق کا عزم تھا تو اللہ سنتا جانتا ہے‘‘۔یہ سمیع اور علیم کے الفاظ ڈرانے کیلئے ہیں اسلئے کہ دل میں عزم ہو اور طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو یہ دل کا گناہ ہے اور وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق کی عدت ایک ماہ بڑھ جاتی ہے۔ جس پر اللہ نے دل کے گناہ اور اس پر پکڑنے کا کھل کر اظہار فرمایا ہے۔
البقرہ آیت228میں طلاق کے اظہار پر تین ادوار کی عدت کو واضح کیا ہے اور اس میں اصلاح کی شرط پر ہی ان کے شوہروں کو لوٹانے کا حق دیا ہے۔ مردوں کیلئے اس آیت میں عورتوں پر ایک درجے کا ذکر کیا ہے اور دونوں کے ایکدوسرے پر مساوی معروف حقوق کو واضح کیا ہے۔ اس سے بڑا درجہ اورکیا ہوسکتا ہے کہ شوہر طلاق دیدے اور عورت عدت تک انتظار کرے؟۔ یہ بھی عورت کے مفاد میں ہے۔بچھڑنے پر عورت کو زیادہ مشکل کا سامنا ہوتاہے اسلئے اللہ نے مرد کو حق مہر کیلئے سکیورٹی کا پابند کیا ہے۔ یہ آیت بھی تمام مسائل کے حل کیلئے کافی ہے کہ عورت ایک عدت تک انتظار کی پابند ہے اور اس میں شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر شوہر کو غیرمشروط حق دیا جائے تو یہ ایکدوسرے پر معروف حق کا تصور نہ ہوگا۔
البقرہ آیت 229میں اللہ تعالیٰ نے مزید وضاحت کردی ہے کہ ’’ طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ واپس لے لو، الا یہ دونوں کو یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکتے ہوں۔ پھر اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو ان سے تجاوز کرے توبیشک وہی ظالم ہیں‘‘۔
یہ آیت گزشتہ سے پیوستہ بھی ہے اور معاشرے کیلئے ایک بہترین گلدستہ بھی ہے اور آنے والی آیت کی تفسیرمیں برجستہ بھی ہے۔ قرآن پاک کی آیات میں دشمن کیلئے بھی چیلنج ہے کہ’’ کوئی تضاد ثابت کرکے دکھائیں۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے تضادات وہ پاتے‘‘۔یہ تو نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ نے عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دیا ہو اور اس کو عدت میں بھی چھین لیا ہو۔ علماء وفقہاء نے فقہی موشگافیوں کے سبب قرآن میں تضادات کے انبار کھڑے کردئیے ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ نے عدت کے تین ادوار تک انتظار کو متعین کردیا ہے تو یہ سمجھنے میں کیا دشواری ہے کہ انہی ادوار میں الگ الگ تین مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے؟ جبکہ نبیﷺ نے غضبناک ہوکر یہی مفہوم اسلئے طہرو حیض کے ادوار کی وضاحت کرتے ہوئے سمجھایا ہے۔ پہلے طہرو حیض میں پہلی مرتبہ کی طلاق، دوسرے طہرو حیض میں دوسری مرتبہ کی طلاق، پھر تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ کی طلاق۔ اس آیت میں تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے جدا نہیں ہوسکتا ہے۔ عورت کیلئے عدت کا انتظار ایک اذیت ناک چیز ہے مگریہ اسکے اپنے مفاد میں بھی ہے اور جو شوہر نے اس کو سہولیات دی ہیں اس کا تقاضہ بھی ہے۔
اگر مرحلہ وار تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا فیصلہ ہوگیا تو بھی عدت میں رجوع کیلئے قرآن وحدیث میں کسی پابندی لگنے کا کوئی تصور نہیں۔ البتہ ایسی صورت میں اللہ نے واضح کردیا کہ اسکے بعد جو کچھ بھی شوہر نے دیا تھا اس میں کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے ،الا یہ کہ دونوں کو یہ خوف ہو کہ ۔۔۔‘‘ یہ وہ صورتحال ہے کہ جب میاں بیوی اور انکے درمیاں فیصلہ کرنیوالے افرادباہوش وحواس اسی نتیجے پر پہنچیں کہ اب دونوں رابطے کا بھی کوئی ذریعہ نہ ہونا چاہئے۔ ایسی صورت میں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا ہے کہ اگر رجوع کرلیا جائے تو ہوجائیگا یا نہیں؟۔ بلکہ ایک دوسرے معاشرتی روگ کا مسئلہ سامنے آتا ہے کہ شوہر اسکے باوجود بھی عورت پر اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے پر پابندی لگادیتا ہے اسلئے کہ یہ اس کی عزتِ نفس کا مسئلہ ہوتا ہے۔
ریحام خان کو عمران خان نے طلاق دی تو اس کوبڑی دھمکیاں دی گئیں کہ لندن سے واپس مت آؤ۔ اس نے کہا کہ میں پٹھان ہوں اور جان پر کھیلنا آتا ہے۔ بہرحال آیت کا مفہوم آئندہ آیت کیلئے ایک بہترین مقدمہ ہے۔

پھر البقرہ آیت 230کا واضح مطلب اچھی طرح سمجھ لو۔

البقرہ آیت230 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ اگر اس نے پھر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے، پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو دونوں کو رجوع کی اجازت ہے بشرط یہ کہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم رہ سکیں گے‘‘۔ آیت میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اس سے پہلے والی آیت میں صورتحال بھی واضح ہے۔ جب وہ دونوں جدا ہونا چاہتے تھے اورشوہر کی طرف سے بیوی کو دی گئی چیز اسلئے واپس کی گئی کہ اس عورت کی منزل دوسری شادی تھی اور ظاہر ہے کہ جب اس کی دوسری جگہ شادی ہو اور پہلے شوہر کی دی ہوئی کوئی چیز رابطے کا ذریعہ اور حدود کو توڑنے کا باعث بن رہی ہو تو وہ فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ چونکہ شوہر ایسی صورت میں طلاق کے بعد بھی اپنی عزتِ نفس کا مسئلہ سمجھ کر اس کو اپنی مرضی سے کہیں نکاح نہیں کرنے دیتا اسلئے واضح الفاظ میں دوسری جگہ نکاح کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک زیادہ عمر والے جوڑے میں طلاق اور جدائی کی یہ نوبت پہنچ جائے تو عورت کو اپنی مرضی سے کسی اور سے نکاح کرنے کی وضاحت ہے۔ جب دوسرے شوہر سے طلاق مل جائے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچوں سے پیار کی خاطر پہلے سے نکاح تو کرلیا جائے مگر دوسرے کی زوجیت میں رہنے کے پیشِ نظر یہ خدشہ بھی موجود ہو کہ اللہ کی حدود پائمال ہوں۔ اسلئے سب واضح کردیا ہے۔
ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے عدت کی مدت میں رجوع کی گنجائش رکھ دی اور عدت کی تکمیل کے بعد یہ گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ اور اس آیت230میں اللہ تعالیٰ نے پھر اس حلالے کو زندہ کردیا ہے جس کا تصور ایام جاہلیت میں تھا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے ان مذہبی طبقات کی طرف سے پیدا کئے جانے والے خدشات کا قلع قمع کردیاہے۔ جس کی وضاحت آئندہ آیات میں ہے۔

پھرالبقرہ: 231،232 اگلی آیات اور سورۂ طلاق دیکھو!

البقرہ آیت 231میں اللہ نے فرمایا کہ ’’جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور ان کی عدت پوری ہوگئی تو ان کو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔ اور اسلئے مت روکو تاکہ ان کو ضرر پہنچاؤ، اور جو ایسا کرتاہے تو وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ تم یاد کرو جو نعمت اللہ نے تم پر کی ہیں اور جو کتاب میں سے آیات نازل کی ہیں اور حکمۃ کو، ان آیات سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرۃ کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔ قرآن میں کہیں کوئی تضاد کا شائبہ تک بھی نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح کردیا تھا کہ عدت کی مدت میں بھی صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے۔ پھر یہ واضح کردیا کہ جب تین الگ الگ مراحل میں طلاق کا فیصلہ ہوش وحواس کیساتھ ہوجائے اور آئندہ کوئی رابطہ نہ رکھنے پر اتفاق ہو اور کوئی چیز رابطے کا ذریعہ بن کر حدود توڑنے کا باعث بنتی ہو تو اس کو واپس کرنے میں حرج نہیں۔ یہی وہ صورتحال تھی کہ جب دونوں میاں بیوی اور معاشرہ جدائی کو ناگزیز سمجھتے ہوں اور اس میں ایک معاشرتی مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس طلاق اور جدائی کے باوجود بھی شوہر عورت کو اپنی مرضی سے دوسرے سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ بچے سامنے گھومتے ہوں اور اس کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کیا جائے تو یہ صورتحال معاشرے کیلئے آج بھی گھمبیر ہے لیکن قرآن نے عورت کو بالکل آزادی دی ہے اور اس وجہ سے قرآن پوری دنیا کیلئے عام طور پر خواتین اور غیر مسلم معاشرے کیلئے ،خاص طور پرمغرب کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کیلئے ہدایت کا زبردست وبہترین ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ اگر بیوی راضی ہو توپھر عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ معروف کی شرط باہمی رضامندی کی بنیاد پر ہے۔ ورنہ تو عدت کے اندر بھی غیرمشروط رجوع کی اجازت نہیں ہے، جس کی وجہ سے فقہ کی کتابیں منکرات سے بھری پڑی ہیں۔ احناف رجوع کو نیت کا پابند بھی نہیں سمجھتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی رجوع ہوجاتا ہے اور شوافع کے نزدیک مباشرت بھی رجوع نہیں ہوتا ہے۔ علماء ومفتیان اور مدارس والے اللہ کے عذاب سے ڈریں اور مسلمان خاندانوں پر رحم کریں۔مولانا سمیع الحق کی شہادت المیہ بھی ہے اوربہت بڑی عبرت بھی۔
البقرہ آیت 232 میں اللہ تعالیٰ نے رجوع کیلئے حد کردی ہے۔ فرمایا’’ جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو ان کو اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، جب وہ معروف طریقے سے آپس میں رجوع کرنے پر رضامند ہوں،اس میں تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی اور زیادہ تزکیہ ہے‘‘۔ یہ وہ صورتحال ہے کہ جب عورت نے خلع لیا ہو۔ یہ اسلئے بتانا پڑ رہا ہے کہ ایک عالم دین علامہ تمنا عمادی نے اپنی کتاب ’’ الطلاق مرتان‘‘ میں خلع کی صورت میں حلالہ کا حکم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ حنفی مسلک کی کتاب نورالانور اور اصول فقہ کا بھی تقاضہ ہے۔ علامہ ابن قیم شاگرد ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ’’ زادالمعاد‘‘ میں خلع کے باب میں ابن عباسؓ کی یہ تفسیر بھی نقل کی ہے۔ جس کو میں بار بار نقل کرچکا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بعد یہ حکم نازل کیا کہ جو مؤمنات ہجرت کرکے آئیں تو پہلے ان کا امتحان لیں اور یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی وہ ایمان والی ہیں تو ان کو سابقہ شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، ’’یہ ان کیلئے حلال نہیں اور وہ ان کیلئے حلال نہیں‘‘۔اس میں حلال نہ ہونے کی نسبت دونوں طرف کی گئی ہے اور حلال نہ ہونے کا تصور شریعت کی بنیاد پر نہیں بلکہ لغت کی بنیاد پر تھا۔ حضرت علیؓ نے سمجھ لیا تھا کہ یہ شرعی حلال نہ ہونے کا تصور ہے اسلئے فتح مکہ کے موقع پر اپنے بہنوئی حضرت ام ہانیؓ کے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا۔ جس کوپھر نبیﷺ نے پناہ دیدی تھی۔
آیت230البقرہ میں حلال نہ ہونے کا تصور صرف شوہر کی طرف منسوب ہے اورآیت 232 میں یہ واضح کردیا کہ بیوی اپنے شوہر سے رجوع پر رضامند ہو تو اس کیلئے کوئی رکاوٹ پیدا کرنا غیر شرعی ہے۔ جسکے بعد فتوے کی گنجائش نہیں رہتی۔ البتہ بسا اوقات مصلحت اس میں سمجھ لی جاتی ہے کہ رکاوٹ پیدا کرنے میں رنجش کا معاملہ ہوتاہے۔ سورۂ طلاق کی آیات میں مزید وضاحت ہے۔

نادان دوست نادان دوستوں کے ہاتھوں مارا گیا؟

مولانا سمیع الحق پاکستان میں دوسرے دار العلوم دیوبند جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولانا عبد الحق صاحبؒ کے بڑے صاحبزادے اور جامعہ حقانیہ کے مہتمم تھے، انتہائی سادہ لوح عالم دین تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شریعت بل پیش کیا۔ روزنامہ جنگ کراچی میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔ جس میں مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شریعت بل میں کچھ منافقین رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ پوچھا گیا کہ ان منافقین کے ساتھ آپ کیا کریں گے؟۔ مولانا نے کہا کہ ہم انکے خلاف جہاد کریں گے۔ پوچھا گیا کہ یہ منافقین کون ہیں؟۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ دور میں منافقین نہیں ، منافقین صرف رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھے۔
مولانا کی وفات کے بعد سلیم صافی نے ان کے انٹرویوز کی مختلف جھلکیاں دکھائیں جس میں پل پل سادہ لوحی جھلک رہی تھی۔ جب تحریک لبیک کے کارکن آسیہ مسیح کے حوالے سے احتجاج کررہے تھے تو پشاور اور اسکے گردو نواح میں صرف تحریک لبیک کے محدود چند کارکنوں نے یہ سہرا اٹھایا تھا۔ جمعیت علماء اسلام (س) اور (ف) کے علاوہ جماعت اسلامی کے کارکن بھی نظر نہیں آتے تھے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی مسجد میں جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے خطیب نے کہا کہ پنجاب کے لوگ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبت رکھتے ہیں اسلئے وہاں نعتوں کی محفلیں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور اب وہاں احتجاج بھی زیادہ ہورہا ہے۔ اگر حکومت آسیہ مسیح کو پھانسی پر چڑھانے میں دباؤ کا شکار تھی تو جج حضرات عمرقید کی سزا سنا دیتے۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی ویڈیو پیغام پر احتجاج کی کال دی تھی لیکن جب اس کے کارکنوں نے قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کیخلاف احتجاج کیا تھا تو پولیس نے ان پر بے تحاشا لاٹھی چارج کیا تھا۔ اسلئے وہ خوف کے مارے اس احتجاج میں شرکت کا رسک نہیں لے رہے تھے۔ مولانا سمیع الحق سیاسی کم اور مذہبی زیادہ تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد پر خود کش حملے ہوچکے تھے لیکن مولانا سمیع الحق کو شاید کبھی سیکورٹی کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ایک چینل سے یہ واضح خبر آرہی ہے کہ ایک 19سالہ لڑکا کسی دوسرے بڑے ساتھی کے ساتھ تنہائی میں ملاقات کرنے آیا۔ انہوں نے مہارت سے مولانا سمیع الحق کو شہید کیا۔ یہ را کے تربیت یافتہ اسلئے تھے کہ خون سپلائی کرنے والی نسوں سے بخوبی واقف تھے۔ مولانا کے اکلوتے باڈی گارڈ ان کے رحم و کرم پر مولانا کو چھوڑ گئے تھے ۔ واپسی پر باڈی گارڈ نے تالا کھولا اور اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ کافی دیر گزرنے کے بعد مولانا کو خون میں لت پت پایا۔ قاتل باورچی خانے کے راستے بھاگ نکلے تھے۔ مولانا کے وارثوں نے وعدہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ قاتلوں تک پہنچنے کیلئے مطلوبہ افراد گرفتاری دیں گے۔ بینظیر بھٹو کیلئے اقوام متحدہ کی ٹیم بلائی گئی تھی لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ بینظیر کو قتل کس نے کیا۔ دھماکے سے ہوئی ، گولی سے ہوئی یا جیپ کا ہینڈل لگنے سے ہوئی ؟۔
مولانا سمیع الحق نے ضرب حق کو بہت پہلے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ درس نظامی کے نصاب میں خامیاں ہوسکتی ہیں یہ کوئی وحی کا نصاب نہیں ان کو درست کیا جاسکتا ہے۔ کاش! مولانا صاحب درس نظامی کے نصاب میں اصلاحات پر توجہ دیتے۔ دنیا آنی جانی ہے اور اللہ نے دین حق کے ذریعے سے دنیا میں ظلم کا نظام ختم کیا تھا۔ جب حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تھا تو بھی صحابہ کرامؓ نے اشتعال کی آگ بھڑکا کر ان افراد کو قتل نہیں کروایا تھا۔ سورہ نور میں بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان کا سلسلہ بھی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔