دسمبر 2022 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

علی وزیر کی تازہ تصویرکراچی سینٹرل جیل

علی وزیر کی تازہ تصویرکراچی سینٹرل جیل

جنوبی وزیرستان کےMNAعلی وزیر کو دو سال سینٹرل جیل کراچی میں مکمل ہوگئے ہیں۔ علی وزیر کے بارے میں عوام کو درست معلومات نہیں ہیں۔ جب علی وزیر جنوبی وزیرستان سے الیکشن میں کھڑے ہوئے تو عمران خان نے تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ ان کے سامنے کھڑا نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف نے بھی علی وزیر کی حمایت کی۔ علی وزیر نے قومی اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ ہمارے خاندان نے پاک فوج کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ یہ وہ قربانی نہیں تھی جو قبائل نے مظفر نگر تک کشمیر کو فتح کرنے کیلئے1948میں دی تھیں۔ بلکہ دہشت گردی کیخلاف موجودہ جنگ میں علی وزیر کے خاندان کے18افراد شہید کردئیے گئے۔ صحافی ارشد شہید نےARYنیوز کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ”افسوسMNAعلی وزیر اورMNAمحسن داوڑ کی قیادت میں کچھ لوگوں نے پاک فوج کی چوکی پر حملہ کردیا ، جس میں5فوجی اہلکار زخمی اور متعدد حملہ آور ہلاک ہوئے۔ ہم نے اس وقت بھی پاک فوج سے کہا تھا جب کور کمانڈر نے مجاہد نیک محمد کو ہار پہنائے تھے کہ یہ ہم ان سانپوں سے ہمدردی کا برتاؤ کرکے بہت غلط کررہے ہیں۔ آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ فوج کی چوکیوں پر حملے ہورہے ہیں”۔ ارشد شریف شہید ایک تحقیقاتی صحافی تھے لیکن ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ علی وزیر کو بھی یہی شکایت تھی کہ ”دہشت گرد ایک طرف ہماری عوام کو مار رہے ہیں اور دوسری طرف پس پردہ پاک فوج ان کے ساتھ پینگیں بڑھاتی ہے”۔ علی وزیر نے ایک طرف دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہی دہشت گرد نہ صرف پاکستان کی ریاست اور پاک فوج پر حملہ آور تھے بلکہ عوام الناس ، قبائلی عمائدین اور علماء کرام میں سے کسی کو بھی معاف نہیں کررہے تھے۔MNAمولانا معراج الدین قریشی شہید اورMNAمولانا نور محمد وزیر شہید بھی دہشت گردی کی نذر ہوگئے۔ پاک فوج بھی عام لوگوں کی طرح ایک عرصے تک اس تذبذب کا شکار تھی کہ دہشت گردوں سے نرمی یا سختی سے برتاؤ کیا جائے؟۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت کیلئے سب سے بڑے اور معتبر نام معراج محمد خان بھی اس دور میں طالبان کی بھرپور حمایت کررہے تھے۔ پشتون قبائل ، پنجابی و بلوچ ، سندھی و مہاجر سب کے سب طالبان کے حامی تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کے کہنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے بھی امریکہ کے خلاف طالبان کی حمایت میں ہڑتال کی تھی۔
جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کی وزیر قوم نے سب سے زیادہ مجاہدین کا ساتھ دیا تھا اور امریکہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ یہاں تک کہ جنوبی وزیرستان کے وزیروں نے ازبکوں کے ساتھ بھی رشتے تک کئے تھے۔ پھر ازبک سے وزیر قوم کا ٹکراؤ آیا تو پاک فوج نے وزیر قوم کا بھرپور ساتھ دیا۔ وزیر مجاہدین نے بھی اپنی قوم کا ساتھ دیا اور پنجابی طالبان نے بھی ازبک کیخلاف کاروائی کی۔ ازبک وزیر ایریا سے بھاگ کر محسود ایریا میں پہنچ گئے۔ پاک فوج سے وزیر قوم نہ صرف اس بنیاد پر بہت محبت رکھتی ہے بلکہ احسان مند بھی ہے۔ آج تک جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے حلقہ انتخاب میں کبھی کوئی گرینڈ آپریشن نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کبھی وزیر قوم کو انخلاء پر مجبور کیا گیا ہے۔ البتہ کچھ لوگوں نے مجاہدین کے روپ میں چھپ کر علی وزیر کے والد اور خاندان کے افراد کو بلا وجہ شہید کیا۔ پوری قوم میں اس خاندان کی شرافت مثالی ہے۔ محسود ایریا میں کوٹ کئی کے ملک خاندان اور اس کی فیملی کو بھی اسی طرح سے شرپسندوں نے بلاوجہ شہید کردیا تھا۔ جبکہ محسود علاقے میں پاک فوج نے جنرل کیانی کے دور میں راہ راست کے نام پر آپریشن کیا تھا۔ لوگوں کو علاقے سے انخلاء پر مجبور کیا گیا اور طالبان ادھر اُدھر کے علاقوں میں بھاگ گئے۔ اسلئے کہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے باقی علاقے مجاہدین سے بھرے ہوئے تھے۔ اس وقت ازبک کی مدد سے محسود ایریا کو نہ صرف دہشت گردوں نے یرغمال بنایا تھا بلکہ ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی تک میں لوگوں کے جرگے اور فیصلے بھی طالبان کرتے تھے۔ اس آپریشن کی اجازت اور مشورہ محسود قبائل کے مشران نے خود دیا تھا۔ اگر آپریشن نہ ہوتا تو دہشت گردوں نے اپنے علاقے اور دوسرے علاقوں سے یرغمالی لالا کر محسود ایریا کو مذبح خانہ بنارکھا تھا۔ لوگوں کو سر عام ذبح کرکے ویڈیو بنائی جاتی تھی جن میں ژوب کے ایک عالم دین خونامیر مُلا بھی شامل تھے جس کو ذبح کرتے ہوئے خونامیر مُلا خنزیر مُلا کی تکبیر پڑھی گئی۔ اس طرح بیٹنی قبائل کے مولوی ظاہر شاہ کو بھی شہید کردیا گیا۔ ملک خاندان کوٹ کئی کی فیملی کو جب شہید کیا گیا تو ان میں ایک حافظہ بچی بھی تھی۔ ایک لیڈی ڈاکٹر کو بھی ٹانک سے اغوا برائے تاوان میں وزیرستان لے جایا گیا۔ کئی دن رکھنے کے بعد بھتہ وصول کیا گیا اور پھر گاڑی چھین کر چھوڑ دیا گیا۔ اگر پاک فوج راہ راست آپریشن نہ کرتی تو دہشت گردوں نے محسود خاندانوں کے شریف لوگوں کا جینا بہت دوبھر کرنا تھا لیکن دہشت گردوں کو نقصان اسلئے نہیں ہوا کہ قریب کے علاقوں میں چلے گئے اور جب لوگوں کو واپس آنے کی اجازت دی گئی تو دہشت گرد بھی واپس آگئے۔
البتہ جس طرح دہشت گردوں کے پیچھے پولیس پڑ گئی تھی اس طرح اس کی زد میں عام محسود بھی متاثر ہونے لگے۔ جب اس سلسلے نے بہت زور پکڑا تو پھر نقیب شہید کا واقعہ ہوا ، جس سے محسود قوم نے کروٹ بدلی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب شہید کے والد کے ساتھ نقیب کے بچوں کو گود میں بٹھا کر عہد و پیمان کیا کہ راؤ انوار کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ راؤ انوار کو عدالت نے اس طرح سے ریلیف دی جیسے ہماری عدالتوں کے اندر معاملات چلتے ہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ مجرم تھے بھی یا نہیں؟۔ جب ہماری ریاست نواز شریف کو ایون فیلڈ کے فلیٹوں پر سزا نہیں دلواسکی تو کس کو کیسی سزا دی جاسکتی ہے؟۔ شاہ رُخ جتوئی نے پولیس افسر کے بیٹے شاہ زیب کو قتل کردیا تو عدالت نے اس کے باپ کو پکڑ کر اس کو دوبئی سے واپس آنے پر مجبور کیا۔ وارثوں نے دیت لے کر معاف کردیا مگر عدالت اور صحافت معاف کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اسلئے کہ آصف علی زرداری کے ساتھ تعلقات کا جرم تھا۔ دوسری طرف اسی طرح کے کیس میں بیوہ خاتون کے اکلوتے بیٹے کو ن لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو نے قتل کیا اور بیوہ ماں نے سپریم کورٹ کے دروازے پر کہا کہ مجھے بچیوں کی عصمت دری کی دھمکیاں ملی ہیں اسلئے مجبوراً بچیوں کی عزت بچانے کیلئے دستبردار ہورہی ہوں۔ لیکن میڈیا اور عدالت کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگی۔ اب بھی اگر آصف علی زرداری حکومت میں نواز شریف کے اتحاد ی نہ ہوتے تو شاہ رُخ جتوئی کی جان نہیں چھوٹنی تھی۔ ہماری صحافت و عدالت کا یہ دوہرا معیار ہے۔
جب شہباز گل اور اعظم سواتی کی چیخ و پکار دنیا نے سن لی توPTMوالوں کو یقین آگیا کہ پشتونوں کے ساتھ خصوصی مہربانی نہیں بلکہ جو بھی منہ کھولتا ہے اس کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے۔ پھر سوشل میڈیا پر شہباز گل کی سانس بند ہوتی ویڈیو اور علی وزیر کی باوقار تصویر ایک ساتھ شیئر کی جاتی تھی کہ پشتون اتنا مضبوط ہوتا ہے۔ شہباز گل نے جس انداز میں تصویر کشی کی تھی کہ کیمرہ زوم کرکے آگے پیچھے سے میری تصویریں لی جارہی تھیں تو علی وزیر کے ساتھ ہمیں یقین ہے کہ کچھ بھی زیادتی نہیں ہوئی ہوگی۔ احمد نورانی پاک فوج کے بہت سخت خلاف یا اصلاح کیلئے ویڈیو ز بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کیساتھ تشدد نہیں ہوا ہے۔
علی وزیر کی معمر والدہ ہیں اور بیوی بچے ہیں۔ ہم پہلے بھی کئی مرتبہ درخواست کرچکے ہیں کہ علی وزیر کو با عزت رہائی دی جائے۔ اگر کوئی غلط بات کی ہے تو یہ سزا بھی کم نہیں ہے جو دو سال سے وہ بھگت رہے ہیں۔ پشتون قوم پرست اتنے چیخ و پکار مچاتے تھے کہ مسنگ پرسن کو اپنے والدین اور بیوی بچوں کیلئے رہا کرو۔ جب پاکستان کی جیلوں اور افغانستان سے ان کو لایا گیا تو اب کہتے ہیں کہ کیوں لائے ہو؟۔ دشمنی میں کچھ نہیں رکھا ہے۔ تحریک انصاف اور پاک فوج شیر و شکر تھے۔ جونہی تحریک انصاف کی حکومت گئی تو ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ اب ایسا وقت آگیا ہے کہ کوئی کسی پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ مہنگائی ختم کرنے کیلئے موجودہ حکومت میدان میں اتری تھی لیکن مہنگائی سے اس نے غریب عوام کی جان نکال دی ہے۔ ملک کو بحران سے نکالنے کے بجائے مزید بحرانوں کا شکار کردیا ہے۔ ایک طرف ریاست کو تنخواہیں دینے کیلئے کچھ نہ ہو اور دوسری طرف دہشت گردوں کی طرف سے خودکش حملوں کیلئے بھرتیاں بھی جاری ہوں تواسکے نتائج کیا نکلیں گے؟۔ مایوسی کفر ہے لیکن امید کیلئے بھی کچھ نہ کچھ عوام کو چاہیے۔ عوام کے پاس اب اللہ کے سوا کوئی امید نہیں رہی ہے۔
پاک فوج سے اپیل ہے کہ علی وزیر کے خلاف تمام مقدمات واپس لیکر ایک نئے دور کا آغاز کریں۔ بنوں جیل میں قیدی دہشت گردوں نے کینٹ ایریا میں موجودCTDپولیس کے تھانے کو یرغمال بنایا تو ان سے یرغمالی چھڑائے بغیر یہ قبضہ چھڑانا بڑی بات نہیں ہے۔ اگر اس کے سامنے سرنڈر ہوجاتے اور مطالبے کو مان لیتے تو اور زیادہ برا ہوتا۔ مایوسی اور بدگمانی اس حد تک پھیلی ہوئی ہے کہ یہ صفائی بعض لوگ پیش کررہے ہیں کہ یہ افواہ غلط ہے کہ ڈالر سمیٹنے کیلئے جان بوجھ کر دہشت گردوں کو قبضے کا موقع دیا گیا۔ جب تک بنیاد سے معاملات کو سمیٹنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تب تک کوئی مائی کا لعل افراتفری پر قابو نہیں پاسکتا ہے۔
حجاز مقدس میں کوئی ریاست نہیں تھی لیکن جب قرآنی آیات کے ذریعے سے معاشرے کی اصلاح کا کام شروع ہوا تو یہ منتشر ، متکبر ، بدمزاج ، بد خلق اور بدمعاشرت لوگ کیسے سچے اور پکے مومن بن گئے؟۔ یہ محض وعظ و نصیحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست قسم کے ایسے قوانین وحی کے ذریعے سے نازل فرمائے کہ جس سے کمزوروں ، ضعیفوں ، عورتوں، غلاموں اور لونڈیوں کو بنیادی حقوق ملے۔ مزارعین کو کاشت کیلئے مفت میں زمینیں مل گئیں۔ پاکستان میں اگر فوجی جرنیل ، سیاستدان اور خان وڈیرے اپنی زمینیں مزارعین کو مفت فراہم کریں تو کم از کم پاکستان میں خوراک کی مہنگائی کا عوام کو سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وزیرستان سے سوات تک اور ژوب سے تربت تک اگر پہاڑی علاقوں میں محنت کشوں کو کچھ سالوں کیلئے باغات اور جنگلات کیلئے مفت میں کوئی پہاڑوں کے ٹکڑے بھی فراہم کئے جائیں تو لوگوں کو بہت بڑاروزگار مل جائیگا۔
سندھ ، پنجاب، پختونخواہ اور بلوچستان کی زرخیز و شاداب زمینوں اور دشت و صحراؤں کو مزارعت کیلئے مفت فراہم کیا جائے تو افغانستان اور اس سے ملحقہ ممالک میں بڑے پیمانے پر اناج وغیرہ ایکسپورٹ کرکے ڈالروں کی بھی بارش آسکتی ہے اور اپنی کرنسی مضبوط کرکے ڈالروں کی قیمت کو بھی گھٹاسکتے ہیں۔
آخر میں اتنا کہوں گا کہ ہمارے پشتون بھائی غیرت میں بے مثال ہیں لیکن امریکہ ، دہشت گردوں اور پاک فوج سے گلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال پر بھی تھوڑی نظر ڈالیں۔ اپنی بیٹی کو پیسوں سے یا بہو کے بدلے میں دینے کے بجائے بہتر ہے کہ اس سے خودکش کرایا جائے۔ اسلئے کہ ساری زندگی غلامی کی طرح گزارنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی مرتبہ میں ڈھیر ہوجائے۔ علی وزیر خان ایک قابل انسان ہیں جب رہا ہوجائیں تو سب سے پہلے قوم پرست رہنماؤں اور مذہبی قیادت کو ایک ساتھ بلائیں۔ عورتوں کے حقوق کے بارے میں قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کیلئے کچھ نشستیں رکھیں۔ افہام و تفہیم کی فضاء میں مسئلے مسائل کو پہلے سمجھیں اور پھر اس کیلئے ایک زبردست لائحہ عمل تشکیل دیں۔
جب بڑے بڑے مسائل پر اتفاق ہو تو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کو بھی سمجھائیں اور حنفی مکتبہ فکر کے ساتھ ساتھ دوسرے مکاتب فکر کو بھی ساتھ بٹھائیں اور پھر دیکھیں کہ یہ قوم، یہ ملک اور یہ خطہ کس طرح فسادو ظلم سے بچتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صوابی سے بازارِ حسن تک کی واردات

صوابی سے بازارِ حسن تک کی واردات

پشتون عورتوں سے بغیر نکاح اور نکاح کے نام پر بڑادھوکہ؟

خیبر پختونخوا سے شاد ی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو حیدر آباد بازار حسن میں فروخت کرنے کا انکشاف
شیما شاہین نامی خاتون نے کہا کہ جب ہم گئے ہیں تو انہوں نے ہمیں تالوں میں بند کردیا۔ لڑکیوں کو گندی چیزوں میں استعمال کررہے تھے۔ (عمران ملک: یہ جو لڑکیاں ہیں آپ نے کتنے میں خریدی ہیں؟۔ )
8لاکھ میں۔ یہاں پر ہم نے ریڈ کیا تو دو اور بچیاں اور ایک ان کی ماں ان کو بھی ہم نے ریکور کروایا۔
میں ہوں آپ کا میزبان عمران ملک اور آپ دیکھ رہے ہیں مہران ٹریبیون حیدر آباد ۔ ہم اکثر بیشتر سنتے رہتے ہیں کہ لڑکیوں کو فروخت کرنے کا ایک بہت بڑا دھندہ ہے جو پاکستان میں بھی کیا جارہا ہے اور دوسرے ملکوں سے لاکر پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ آج مارکیٹ تھانے پر ہم موجود ہیں ویسا ہی ایک کیس ہے مارکیٹ تھانے کی یہ کاروائی ہے ہم تھوڑا گفتگو کریں گے کہ پورا ماجرا کیا ہے کیا صورتحال ہے تاکہ اس پر بہتر بات ہوسکے۔ آپ لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کس طریقے سے لاکر آپ کو بیچ دیا گیا ہے یہاں پر، شادی کا جھانسا آپ کو دیا گیا ہے ، کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ؟۔
لڑکی کاجواب: السلام علیکم۔ ایسا ہوا ہے کہ جعفر جن کا نام ہم نے آپکو دیا ہے وہ ماموں بنے تھے ہمارے، وہاں سے لیکر آئے کہ ادھر شیما شاہین نامی خاتون ہے اس کا اپنا گھر ہے ادھر ، اسکے گھر رشتے کے سلسلے میں ہمیں لے کر آئے تھے ، یہ جو خاتون ہے مجھے ان کا نام یا د نہیں انکے ساتھ رخصت کیا ہے کہ ادھر لڑکے آئیں گے ادھر لڑکے کا گھر بار ہے۔ جب ہم گئے ہیں تو ان لوگوں نے ہمیں بند کردیا تالے میں باہر زنجیریں لگاکر۔ تو میں وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہوں ۔ میں سیدھاDIGصاحب کے پاس گئیں ہوں کیونکہ میں کسی پر اعتماد نہیں کرسکتی تھی۔ سارے لوگ مجھے یہاں پر کہہ رہے تھے تھانے نہیں جانا یہ لوگ پھر آپ کو اسی جگہ پر لے جائیں گے ۔ میں کسی پر ٹرسٹ نہیں کرسکتی تھی پھر یہاں سے میںDIGآفس گئی ہوں ۔
سوال: وہاں سے لاکر جب آپ کو بند کردیا گیا تو وہاں سے نکلے کیسے؟۔
جواب: انہوں نے یہ بتایا تھا کہ رشتہ ہے انہوں نے کچھ بھی نہیں بتایا تھا ناں۔ میں نے ان کو ظاہر نہیں ہونے دیا کہ مجھے ان لوگوں پر شک ہوا ہے۔
سوال: بند آپ کو بازار حسن میں کیا تھا یا کہیں اور کیا تھا؟۔
جواب: ہمیں نام تو نہیں پتہ وہ یونٹ سا بنا تھا، اوپر نیچے کمرے ہی کمرے تھے۔ زنجیریں لگاکر گرل میں اس کو تالا لگاتے تھے یہ۔ تو وہاں میں نے ان کو بولا کہ میڈیسن لے کر آتی ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمارا بندہ آپ کیساتھ آئیگا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ جیسے آیا وہ زنجیر لگانے میں مصروف تھا پیچھے سے میں گلیوں سے نکل گئی ہوں۔ اس کو نہیں سمجھ آئی۔ وہیں سے پھر میں نے درخواست دی ہے ۔ میںSHOصاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے موقع پر ہماری مدد کی ۔ ہمارے ساتھ جاکر ریڈ کیا اور سارے لوگوں کو موقع سے برآمد کیا۔ کافی زیادہ اندر لڑکیاں تھیں۔ تو پہلے ہی کسی نہ کسی کے جھانسے میں آکر فروخت ہوچکی تھیں۔
سوال: آپ کہاں کے رہنے والے ہو؟۔(جواب: ہم لوگKPKمیں صوابی سے ہیں ، تو رہائش ہماری راولپنڈی میں ہے اور راولپنڈی سے آئے تھے ہم لوگ)۔سوال: جن لوگوں نے آپ کو بیچا وہ تو پیسے لے کر چلے گئے ان کا نام کیا ہے؟۔ (جواب: ایک کا نام جعفر تھا دوسرے کانظام الدین)۔ سوال: آپ کیسے انکے جھانسے میں آگئیں، شادی کا کیا کہا انہوں نے ، کیا وہ خود شادی کرنا چاہتے تھے آپ سے؟۔
جواب: نہیں نہیں، وہ ماموں بنے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ بہت اچھا رشتہ ہے۔ وہ آنٹی کرواتی ہیں اپنا گھر ہے۔( وہ آپکے ماموں بنے تھے؟) جی ہاں۔ کہہ رہے تھے کہ24سال سے آنٹی کا اپنا گھر ہے۔ ہم آئے تو واقعی اپنا گھر تھا۔ اچھی فیملی کے لگ رہے تھے سارا خاندان تھا۔ پوری فیملی تھی۔ تو ہم انکے ٹرسٹ پر انکے گھر آئے لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا کہ یہ گھر نہیں ہے یہ یونٹ نما بنی ہوئی کوئی اور چیز تھی جہاں پر لڑکیوں کو مختلف گندی چیزوں میں استعمال کررہے تھے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہوں اور میں نے ان سب کو وہاں سے نکلوایا ہے۔
سوال: کتنے لوگ اور کتنی لڑکیاں تھیں آپ کے ساتھ جب آپKPKسے نکلے اور شادی کا جھانسہ دیا۔(جواب: ہم6لوگ تھے جن میں سے4لیڈیز تھیں2میل تھے ۔ میل آپس میں ملے ہوئے تھے وہ سارے غائب ہوگئے)۔
سوال: اچھا جو جاننے والے تھے وہ آپ کے رشتے دار ہیں؟۔ (نہیں رشتے دار نہیں تھے ویسے جاننے والے تھے۔ ) کیسے جاننے والے تھے؟۔ (والدہ کا منہ بولا بھائی بناہوا تھا ) ۔ تو وہKPKمیں ہی رہتا ہے؟۔
جواب: جیKPKمیں رہتا ہے۔ جو آنٹی ہیں وہ بھیKPKکی ہیں۔ (سوال: مطلب آپ کو کہا گیا کہ آپ کے اچھے رشتے اور شادی کروادیں گے اور آپ کو سندھ میں لیکر آئے اور بازار حسن میں بیچ دیا۔ )۔ جی ایسے ہی ہے۔
سوال: تو آپ جب وہاں سے نکلی ہیں تو آپSSPیاDIGآفس کیسے پہنچیں؟۔ (جواب: ٹیکسی والے جو ڈرائیور تھے ۔ ایک نے میری مدد کی ہے، انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ڈائریکٹ نہ جائیں کیونکہ یہ سارے لوگ ملے ہوتے ہیں، تو پھر دوبارہ آپ ادھر ہی پہنچ جائیں گی۔ آپ اوپر سے آئیں یا کوئی سفارش لیکر آئیں۔ اس طرح نہیں جانا۔ میں نے پوری رات آپ کے مقامی بڑے ہسپتال میں گزاری ہے۔ ادھر روڈوں پر پھرتی رہی ہوں پھر صبح6بجے کے ٹائم میں یہاں سے واپس نکلی ہوں تو میں نے ان کی مدد لی ہے)۔
سوال: آپ کے علاوہ6لڑکیاں برآمد ہوئی ہیں باقی لڑکیوں کو انہوں نے غائب کردیا؟۔(جواب :چار برآمد ہوئی ہیں اور باقی کو ہم نہیں جانتے ۔ )
سوال: جو لڑکیاں بند تھیں ان کو بھی شادی کا جھانسہ دیکر بلایا تھا؟
جواب: جی ہاں! وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ نے ان کی باتوں میں نہیں آنا ہے۔ یہ جھوٹ موٹ کے اپنے شوہروں کیساتھ نکاح کرواکر غلط کام کرواتے ہیں۔وہ پہلے ایک بوڑھا آدمی نکاح کیلئے لائے تو انہوں نے انکار کیا ، دوسرا کوئی اور بندہ لیکر آئے تھے جسکے ساتھ نکاح کررہے تھے لیکن موقع پر پولیس پہنچ گئی ہے جہاں پر وہ وکیل سارے بیٹھے ہوئے تھے۔ تو موقع پر پولیس نے سب کو پکڑ لیا ہے۔
عمران ملک: ہمارے ساتھ موجود ہیں جوKPKسے لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دیکر لایا گیا اور جن کے یہاں بیچا گیا جن کا نام بینظیر بتایا جاتا ہے۔ ہم گفتگو کرتے ہیں۔ یہ جو لڑکیاں ہیں آپ نے کتنے میں خریدی ہیں؟۔
جواب:8لاکھ میں۔ (سوال: آپ نے کیوں خریدی تھیں کوئی غلط کام کروانے تھے؟۔ ) نہیں نہیں غلط کام نہیں میں نے بچے کی شادی کرنی تھی۔ (کس کی شادی؟) ایک بیٹا ہے ایک بھانجا ہے میرے ساتھ رہتا ہے اس کی شادی کرانی تھی۔ (سوال: آپ کہاں رہتے ہو؟) جواب:ہم ادھر سرے گھاٹ پر۔ (سوال: بازار حسن تو اچھی جگہ نہیں ہے وہاں رہنے کے بعد ؟)
جواب : شادی کرواکر اپنے گھر بھیجنا ہے کہ ادھر بٹھانا ہے۔
سوال: تو آپ تو خود بازار حسن میں بیٹھے ہیں تو وہاں سے لڑکیاں لاکر یہاں کیا کام کروانا تھا شادی کرکے ؟ (جواب: نہیں کوئی کام نہیں کرانا تھا۔ شریف خان نے بھیجا ہے اپنے بچوں کے پاس بھیجا ہے)۔ سوال: تو آپ اپنے رشتے داروں میں شادی کرلیتے8لاکھ میں بچیوں کو خریدنے کا کیا مقصد تھا؟۔
جواب: یار ادھر نہیں ملا تو ہم ادھر سے لے رہے تھے اس میں مجھے کہا کہ ہمارے پاس لڑکیاں ہیں ہم دیں گے۔ میں جبھی لے رہی تھی۔
سوال: آپ کو پتہ نہیں لڑکیاں خریدنا اور بیچنا کتنا بڑا گناہ ہے اور کتنا بڑا جرم ہے؟۔(جواب: وہ مالکان تھے انہوں نے بیچا ہے میں نے تھوڑی بیچا ہے۔ ان کے ماں باپ نے بیچا ہے ۔ لڑکی اپنے ماموں کے ساتھ آئی اس نے مجھ سے پیسے لئے ہیں)۔ عمران ملک: مارکیٹ پولیس کا ایک اور بڑا کارنامہ شادی کا جھانسہ دیکر چند لڑکیوں کو خیبر پختونخوا سے لایا گیا اور بازار حسن میں بیچ دیا گیا۔ یہ کیا صورتحال ہوئی ہے اور لڑکیوں کو کیسے ریکور کروایا گیا ہمارے ساتھSHOمارکیٹ محمد خان صاحب موجود ہیں ان سے گفتگو کریں گے۔
SHOمارکیٹ محمد خان: یہ نظام دین اور جعفر نام کاKPKسے تعلق رکھتا ہے وہ ان کو لیکر آیا شادی کے بہانے سے اور ان کو کہا آپ کی شادی کرواتا ہوں۔ تو وہاں سے ایک لڑکی بھاگ کر صبح کو ہمارے پاس یہاں آئی۔ اس نے کہا میری دو اور بہنیں ہیں اور ایک ماں ہے میری جن کو انہوں نے قید کیا ہوا ہے۔ یہاں پر ہم نے ریڈ کیا دو وہ بچیاں اور ایک ان کی ماں ان کو ہم نے ریکور کروایا۔ اور انکا یہ کہنا تھا کہ شادی کے بہانے سے انہوں نے ہمیں یہاں قید کیا ہوا ہے۔ جعفر نامی لڑکاہمیں بیچ کریہاں سے بھاگ گیا ۔ (سوال: کتنے پیسے لئے کتنے میں فروخت ہوئیں ؟) جواب : یہ بول رہے ہیں8لاکھ روپے میں بقول ان کے جن کے گھر سے برآمد کیا ہے ان عورتوں کواور دو کو۔ لیکن یہ جو کہہ رہی ہیں1،1لاکھ روپیہ ان کامقصد ہے انہوں نے8لاکھ روپے دئیے ہیں۔
سوال: جن کو بیچا ہے ان کو بھی آپ نے گرفتا ر کیا ہے؟۔
جواب: جی ، جسکے گھر سے برآمد ہوئی ہیں ان کی دو عورتیں ہم لیکر آئے ہیں۔ (سوال: تو وہ کیا کہتی ہیں کہ ہم نے پیسوں میں خریدا؟۔ کس طرح انکے پاس پہنچی ہیں؟ ) وہ کہہ رہی ہیں کہ جعفر نامی لڑکے سے ہم نے خریدیں8لاکھ روپے میں لیکن یہ ہے کہ جعفر نامی لڑکا جو ہے وہ ناہی ان عورتوں کا کوئی رشتہ دار ہے نا ہی ان سے کوئی واسطہ ہے لیکن شادی کے بہانے سے ان کو ضرور لیکر آیا ہے۔
سوال: ایک ویڈیو ہے جس میں پیسے گن رہے ہیں جعفر وہی ہے جو پیسے لے رہا ہے اور یہ ویڈیو پیسے دیتے ہوئے کس نے بنائی ہے۔
جواب: یہ انہوں نے بنائی جسکے گھر پر ریڈ کیا ۔ جب یہ پیسے ان کو دے رہی تھی۔ انہی لڑکیوں نے کہا کہ وہی بندہ ہے جس کو انہوں نے پیسے دیئے ہیں۔
سوال: یہ جو کاروائی ہوئی جنہوں نے بیچا وہ گرفتار ہوگئے یا نکل گئے ہیں؟۔ (جواب: نہیں جو بیچ کر گئے ہیں وہ وہاں سے فرار ہوگئے ہیں)۔سوال: ان کیلئے کوئی کاروائی یا چھاپے مارنے کا پروگرام ہے؟۔ (جواب: بالکل ان کو تو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے بچیاں ہیں کسی کی زندگی کا معاملہ ہے شادی ایک الگ بات ہے لیکن کسی جگہ پر انہوں نے بٹھایا ہوا ہے ہمیں بھی دکھ ہے اس چیز کا۔
عمران ملک: پاکستان میں چلنے والا یہ گھناؤنا دھندا عروج پر ہے۔ جس کو آج ایکسپوز کیا گیا ہے مارکیٹ تھانے پر اور مارکیٹ تھانے کےSHOنے۔ اور جن لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دیکر لایا گیا اور انہیں بازار حسن میں بیچ دیا ان کو برآمد کروالیا ہے۔ یہ حیدر آباد پولیس کی بڑی کامیابی ہے۔
تبصرہ: نوشتہ ٔ دیوار
پاکستان میں اقتدار کا مرکزGHQراولپنڈی ہے اور مذہب کے زیادہ تر ٹھیکیدار میرے پشتون بھائی ہیں۔ جس طرح کے کمرے ہی کمرے کا نقشہ بازارِ حسن حیدر آباد بتایا گیا ہے، اسی طرح کے کمرے لال کرتی راولپنڈی میں بھی ہیں جو اب الحمدللہ بالکل ویران پڑے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے ہیرامنڈی لاہور، نیپیئرروڈ کراچی اور برائیوں کے مراکز کو ختم کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں لیکن جب تک عورت کے خلاف جبری نظام کے خاتمے کی کوشش نہ ہو تو یہ سانحات رونما ہوتے رہیںگے۔ بازارِ حسن میں زنجیروں سے باندھنا اس بات کی علامت ہے کہ اس میں جبری جنسی زیادتیوں کا کام ہوتا ہے۔ اگر یہ لڑکی خود فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوتی تو ان سب کو یہاں استعمال کیا جاتا۔ دوسروں نے بھی انہیں نئے جال میں پھنسنے سے خبردار کیا تھا کہ شادی کے نام پر جھانسہ دیتے ہیں اور غلط کام کرواتے ہیں۔ اس میں کتنے لوگ کہاں کہاں ملوث ہیں؟۔ اس کا اندازہ لگانا اچھا خاصا مشکل ہے۔
یوں تو پنجاب کی غربت کا یہ حال ہے کہ اقرارالحسن نے سرعام میں دکھایا تھا کہ عورتیں اپنی بیٹیاں چند لاکھ میں بیچنے کیلئے تیار ہیں جن کی قیمت بھینس سے بھی کم ہے۔ پنجاب میں لڑکیوں کیساتھ جہیز بھی دینا پڑتا ہے اور پشتون اس سے پیسہ کماتے ہیں۔ دونوں معاشرے میں بے غیرتی کی یہ انتہاء ہے۔ جب تک ان معاشرتی برائیوں کا خاتمہ نہیں کرینگے تو ہر بات دوسروں پر ڈالنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ بونیر سے ایک لڑکی کی افغانی سے شادی کروائی تھی تو وہ بعد میں تگ ودو کے بعد لاہور کی ہیرہ منڈی سے والدین کو مل گئی۔ ایک محسود لڑکی ہیرہ منڈی میں ایک محسود لڑکے کو ملی جس کو رہائی دلائی اور باپ نے اس کوبیچ دیا تھا۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ”ایدھی سینٹروں میں یہ کیا کیا ہورہا ہے؟۔” کے عنوان کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایدھی سینٹروں میں یہ کیاکیا ہورہاہے؟

ایدھی سینٹروں میں یہ کیاکیا ہورہاہے؟

پشتون عورتوں سے بغیر نکاح اور نکاح کے نام پر بڑادھوکہ؟

کراچی میں سعدیہ7سال کی عمر میں اغوا ہوئی،19سال کی عمر میں واپس ملی، وہ ان تیرہ سالوں میں کس کرب سے گزری؟۔ کرن ناز سما ء ٹی وی۔کراچی میں7سال کی عمر میں اغوا ہونے والی بچی سعدیہ13سال بعد اپنے والدین کو مل گئی۔ ٹیم7سے8ان کے گھر گئی۔ اس بچی کے ساتھ ان کی زندگی کے بارے میں بات کی۔ دیکھئے اس معصوم بچی کے13سال کیسے گزرے؟۔منیزہ فاطمہ آپ کو بتارہی ہیں۔
منیزہ فاطمہ: کراچی کی سعدیہ جو7سال کی عمر میں لاپتہ ہوئی اور19سال کی عمر میں گھر والوں کو واپس ملی۔ ان13سالوں میں گھر والے اس کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ اور وہ خود نہ جانے کتنے مسائل کا سامنا کرتی رہی۔ اسے غائب کرنے والا کون تھا؟۔ وہ گھر والوں کو واپس کیسے ملی اور کس حال میں ملی؟۔ اور اس کے ساتھ ان13سالوں میں کیا کچھ ہوتا رہا آئیے جانتے ہیں۔
سعدیہ مجھے یہ بتائیے گا جب آپ کو یہاں سے لیکر گئے تھے جب انہوں نے آپ کو اغوا کیا تھا تو7سال کی تھی آپ بہت چھوٹی تھیں لیکن کچھ تو یاد ہوگا ناں کہ وہ کیسا وقت تھا کہاں لے جاکر انہوں نے رکھا تھا؟
سعدیہ: مجھے امی نے چیز لینے بھیجا تھا دکان پر تو ایک گاڑی آئی تھی اس میں پیچھے سے شیرین جاناں نکلا تھا یہ میرا پہچانا شخص ہے میری بڑی بہن قسمت آپی کا شوہر ہے۔ یہ اکثر میرے گھر میں بھی آتا تھا اسلئے مجھے پہچان ہے اس شخص کی۔ اس نے پہلے مجھے پیار سے بلایا لیکن جب میں نہیں گئی تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور یہ مجھے زبردستی کھینچ کر اندر لے کر جارہا تھا اور یہ قہقہے بھی مار رہا تھا اس کے ساتھ باقاعدہ4لوگ اور بھی تھے پاکٹ سے کچھ نکالا اور میرے ناک پر رکھ دیا۔ اس کے بعد مجھے نہیں پتہ چلا کہ یہ لوگ مجھے کہاں لے کر گئے۔ لیکن جب میری آنکھ کھلی تھی ایک کمرہ تھا بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا اور وہ مجھے کھانا دینے آیا تھا لیکن جب میں نے اس سے کھانا نہیں لیا تھا تو وہ مجھے دھمکارہا تھا کہ اگر میں نے تمہیں آزاد کیا ویسے تو میں تمہیں آزاد نہیں کروں گا اگر آزاد کر بھی دیا تم نے کسی کو بتایا بھی ناں تو تمہاری بہن میرے حوالے ہے میں اس پر فائرنگ کردوں گا۔ میں روتی تھی چیخ کر تو وہ مجھے تھپڑ مارتا تھا کھینچ کر۔ جس جگہ پر رکھا ہوا تھا وہ ایک جنگل جیسی جگہ تھی اندھیری اندھیری تھی۔ اگر آج بھی میں اس جگہ کو دیکھوں گی تو میں پہچان جاؤں گی۔ وہ4لوگ تھے ان میں سے میرے پاس2تو نہیں آتے تھے لیکن جوآتا تھا وہ بھی باقاعدہ اس کا ساتھ دیتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ تھپڑ مارتے تھے میرے بال بھی کھینچتے تھے۔ اور انہوں نے2مہینے مجھے اپنے پاس کڈنیپ رکھا اور اسکے بعد مجھے ایدھی فاؤنڈیشن میں ڈراپ کردیا ان میں ایک پولیس کا آدمی تھا جو انہی کا ساتھی تھا۔ اس کو پیسے دیے اور اس کو کہا کہ اس کا پتہ ایسا لکھو کہ دنیا میں اس کا کوئی بھی نہیں ہے۔ جب ایدھی میں گئی تھی تو وہاں کے لوگ اچھے نہیں تھے اور انہوں نے شروعات میں جووہاں لیڈیز وغیرہ تھیں وہاں جو سنبھالتے تھے ان میں سے ایک تسلیمہ نام کی باجی تھیں اس سے میں نے کہا تھا کہ مجھے یہاں نہیں رہنا۔ مجھے اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کے نام پتہ ہیں مجھے پلیز میرے گھر تک بھیج دو۔ وہ بے دھڑک اٹھی اور میرے منہ پر تھپڑ مارا کہ تو یہاں بچپن سے بڑی ہوئی ہے اور آج تم کہہ رہی ہو کہ مجھے یہاں نہیں رہنا۔ اور پھر اس نے سیزر اٹھائی اور میرے بالوں پر چلادی۔ اسکے بعد حالات بہت برے گزرے۔ میرے روزے بھی بند کئے تھے اور مجھے سزا میں کھڑا رکھتے تھے۔ بے ٹیم کھانا دے دیتے تھے جب افطاری اور سحری کا وقت چلا جاتا تھا۔ اسکے بعدجب میں نے ان سے معافی مانگی تھی تو انہوں نے مجھے معاف کرتو دیا تھا لیکن میرا اسکول بندکیا تھا میں نے سال کی عمر میں4جماعتیں پڑھیں اس کے بعد میرا اسکول بند ہوگیا تھا پولیس والوں نے ایدھی فاؤنڈیشن میں چھاپا مارا ۔ انہیں لڑکیوں کے حالات کا پتہ چلا کہ وہاں حالات برے ہیں تو سعد اور احمد یہ دونوں سنبھالنے لگ گئے تھے ۔ میں نے ان کو کہا تھا تو ان لوگوں نے مجھے گھر تک پہنچادیا۔ یہ دونوں اچھے تھے۔ میرے ساتھ اور بھی بچیاں تھیں ان کو بھی ایسا رونا آتا تھا جیسے مجھے آتا تھا۔ کسی ایک کو مار پڑتی تھی ہم سب تڑپ جاتے تھے۔ اپنے ماں باپ کیلئے بد دعائیں بھی نکلتی تھیں۔ کچھ ماں باپ ایسے تھے جو اپنی اولادوں کو ایدھی کے دروازے کے پاس پھینک کر چلے جاتے تھے۔ اور کوئی سا بھی دن آتا تھا ناں یتیموں کے ساتھ اچھا نہیں منایا جاتا تھا۔ جیسے کہ ایک مدرز ڈے ہوتا ہے ماں کا دن ہوتا ہے ایک فادرز ڈے ہوتا ہے باپ کا دن ہوتا ہے اکثر ہم بچوں کو ماں باپ کیساتھ دیکھتے تھے تو میرے دل سے شیرین جانان کیلئے بد دعا نکلتی تھی۔ جب میں اپنے رحیم داد کے دو بچوں کو دیکھتی ہوں ابراہیم اور اسماء میرے دل سے بھی یہ بات گزر تی ہے کہ جب میرے ماں باپ میرے پاس نہیں تھے اور یتیم خانے میں تھی تو میں نے بھی ایسی بے بسی کی زندگی گزاری ۔ جیسے میرے آج دو بھتیجے گزار رہے ہیں۔ وہاں پر اکثر جب میں بیمار بھی ہوجاتی تھی کوئی خیال رکھنے والا نہیں تھا دیکھ بھال کرنے والا۔ تو مجھے اپنی ماں یاد آتی تھی کہ جب میں چھوٹی تھی مجھے ذرا سی چوٹ بھی لگتی تھی میری ماں کیسی تڑپ جاتی تھی میری چوٹ کیلئے ۔ اور میرے پاؤں اپنی گود میں رکھ کر کیسے مجھے سکون دلاتی تھی۔ وہاں پر دوستی پر بہت پابندی تھی۔ اگر پتہ چلتا تھا ناں کہ اسکے ساتھ دوستی ہے تو بہت برا مارتے تھے وہ چاروں لیڈیز بے چاری ایک لڑکی نازک سی ہوتی تھی اس پر سب جھپٹ جاتے تھے اور پہلے سے وہ یتیم اپنے دکھ اپنے اندر رکھتی تھی ماں باپ کی زندگی کے تمام شکوے اپنے دل پر رکھے تھے۔ پھر ان چاروں کی مار کھاتے تھے اس طریقے سے وہ بے بس ہوجاتی تھی۔ کچھ تو اپنی موت کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے کہ یا اللہ ہمیں موت دیدے۔ اگر پتہ چلتا تھا کہ اسکی اسکے ساتھ دوستی ہے تو دوپٹوں پر آگ لگائی جاتی تھی اور ماچس کی تیلی لگاکر بالوں پر چھوڑ دیتے تھے۔ وہاں پر دو تین لڑکیاں ہیں انکے بالوں پر آگ لگائی تھی۔ راتوں رات ان کو کھڑا رکھتے تھے ایک ٹانگ پر سردی کے دن ہوتے تھے اور بستر کے بغیر فین سر پر کھلا ہوا اور نیچے پانی ہوتا تھا۔ اس طریقے سے زندگی ہم سب کی گزری ۔ کوئی بڑا شخص آجاتا تھا تو لڑکیوں کو بے دھڑک چھوٹے سے کمرے میں50سے زائد لوگ لڑکیوں کو بند کرتے تھے صبح سے بند ہوتے تھے رات تک۔ اسی حالت میں نہ کوئی واش روم کا پوچھتا تھا نہ کھانے کا پوچھتا تھا۔ اسی میں لڑکیاں چیخ کر روتی تھیں دروازہ پیٹتی تھیں ،بہت تڑپتی تھیں میں چاہتی تھی شیرین جانان جیسے لوگوں کو جس نے صرف میرے گھر والوں کو نہیں تمام لوگوں کے بہن بھائیوں کو در بدر کیا ہے ایسے لوگوں کو میں چاہتی ہوں پھانسی پر لٹکایا جائے۔ اب تک یہ میرے باپ کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے جیل میں ہوکر بھی۔ میرے باپ نے اس کا کیا بگاڑا تھا؟ جس نے میرے باپ کی پوری زندگی کے پیسے اپنے سر پر اڑادئیے اور ان پولیس والوں کو بھی سزا دینی چاہیے جن پولیس والوں نے اس کا ساتھ دیا اور ان وکیلوں کو بھی۔ جو اس کے وکیل ہیں جو اس کیلئے آواز اٹھارہے ہیں۔ کیا انکے گھر میں ان کی بیٹیاں نہیں ہیں۔ اگر ان کو دربدر کیا جائے تو ان کے دل پر کیا بیتے گا؟۔
منیزہ فاطمہ: ناظرین اس وقت میرے ساتھ سعدیہ کی بڑی بہن موجود ہیں میں ان سے جانتی ہوں کہ انہیں اپنی بہن واپس کیسے ملی؟
سعدیہ کی بہن: میری بہن کو جب اغوا کیا تو دھمکیاں اس نے دیں کہ اگر تو نے اپنے والد یا والدہ کو بتایا تو ہم تمہیں بھی قتل کردیں گے تمہاری بہن کو بھی قتل کردیں گے۔ جب میری دوسری بہن کو پتہ چلا جو جانان شیرین کی وائف تھی قسمت بی بی کہ میرے شوہر نے میری بہن کو اٹھایا ہے تو اس کو بھی قتل کیا تین گولیاں ماریں ، اسی دوران میرا بڑا بھائی یہیں پر بیٹھا ہوا تھا اس کو بھی پتہ چل گیا اور میرابھائی جب اس کے گھر گیا ایک دن اسکے ساتھ بازار یا گھر میں لڑائی کی کہ میری بہن کو تم نے اٹھایا ہے واپس کردو ہم تمہیں کچھ بھی نہیں بولے گا مگر ہماری بہن کو واپس کردو۔ اس کو پتہ چلا کہ میرے سالے کو پتہ چل گیا ہے تو میرے بھائی کو زہر دے کر اس کو مار ڈالا۔ میری بہن کا قتل کروایا تو اسی وقت میرے والدین گئے مگر یہ مفرور ہوگیا تھا۔ میرے والدین نے اس پر رپورٹ کروایا ۔ میری بہن کا پوسٹ مارٹم کیا اس کی قبر کھودی، مگر یہ مفرور تھا اور کتنے سالوں تک یہ مفرور گھوم رہا تھا۔ ابھی تقریباً دو سال ہوئے ہیں ہم لوگوں نے اس کو پکڑا ہوا ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ یہ فلانی جگہ پر رہتا ہے تو ہم وہاں گئے وہاں ہم نے4نمبر کورنگی تھانے سے اس کو اٹھوالیا۔ ہم لوگ بھائی کی باڈی قائد آباد تھانے میں لے کر گئے تھے مگر وہ لوگ ہماری فریاد نہیں سن رہے تھے ہماری رپورٹ نہیں لے رہے تھے ۔ بھائی کی باڈی قائد آباد پولیس تھانے کے سامنے ہم لوگوں نے رکھی ہوئی تھی اوریہ اسی بھائی رحیم داد کے بچے ہیں جس کا قتل ہوا ہے۔ اس کو زہر دے کر مارڈالا ہے یہ اس کا بیٹا ابراہیم ہے یہ چا ر مہینے کا تھا، اور اس کی بیٹی اسماء ہے یہ ڈیڑھ دو سال کی تھی۔ میری بھابھی کا بھائی اور ان بچوں کا ماموں شیرین جانان کا دوست ہے وہ زبردستی آیا اور میری بھابھی کو اٹھا کر لے گیا اس کی شادی دوسری جگہ کردی۔ ان بچوں کیساتھ نہ ماں ہے اور نہ باپ ۔ اس کو سزائے موت دیا جائے ان لوگوں نے ظلم کیا ہے ۔ میری امی کی آنکھوں کی نظر چلی گئی میرا ابو شوگر کا مریض ہوگیا۔ ہم لوگوں کے پاس اپنی سوزوکیاں تھیں اور اپنی کاریں تھیں اور جب سعدیہ گم ہوگئی ابو نے اس کے اوپر لاؤڈ اسپیکر لگاکر گلیوں گلیوں ڈھونڈا ندیوں میں ڈھونڈا سب دولت اسی کے پیچھے اڑادیا۔ باقی ایسا دن بھی ابو کو دیکھنا پڑا کہ میرے ابو کے پاس کرائے کے پیسے نہیں تھے ابو لوگ گھر پر بیٹھے ہوئے تھے مالک مکان نے اس کے پیچھے تالا لگایا تھا۔ یہ سعدیہ کے بچپن کے کپڑے تھے امی نے کل نکالے تھے تو سعدیہ رونے لگ گئی جب سعدیہ کو یاد آیا کہ یہ کپڑے میں نے اس دن پہنے تھے۔ اور یہ میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے تھے سعدیہ کیلئے پوری تھیلی بھر کر رکھی ہوئی ہے۔
سعدیہ : خوشی ہورہی تھی کہ آج تک میرے اپنوں نے بہت پیار کیا کہ بچپن کے کپڑے بھی سنبھالے ہیں۔
تبصرۂ نوشتۂ دیوار
معاشرتی برائیاں، اس پر پولیس اور وکلاء کی زیادتیاں اور ایدھی جیسے ادارے کی حالت کتنی افسوسناک ہے؟۔ ایک اچھے ماحول کیلئے ضروری ہے کہ اسلام کو بنیاد بنایا جائے۔ حجاز مقدس میں اسلام سے پہلے کوئی حکومت نہیں تھی لیکن بڑی معاشرتی اور مذہبی جہالتوں کا معاشرے کو سامنا تھا۔ آج ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہوچکے ہیں۔ کراچی میں ڈکیتی کی وارداتیں کرتے ہوئے قیمتی جانوں کا ضیاع معمول کا حصہ ہے۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو موبائل چھین کر ایک14سالہ افغانی نے جان سے ماردیا اور اس کا دوسرا ساتھی فرار ہوگیا۔ اس کو پہلے بھی پولیس نے زخمی کرکے گرفتا رکیا تھا اور پھر عدالت سے رہائی مل گئی تھی۔ جب نوازشریف کو سزا کے باوجود بھی ملک سے باہر بھیج دیا گیا اور شہباز شریف نے اس کی ضمانت دی اور پھر اس کو بہت مختصر ووٹوں کیساتھ وزیراعظم بھی بنادیا گیا تو ہمارے ملک کی اخلاقیات کہاں سے بنیںگی؟۔ افغانستان سے آنے والے بچوں اور خواتین کو سندھ کی جیلوں میں ڈالنا بہت بڑی زیادتی ہے لیکن ایک طرف دہشت گردی کی فضاء ہے اور دوسری طرف ڈکیٹی کی فضاء میں اس سے اضافہ ہوتا ہے۔ اگر افغانستان میں بہترین ہسپتال، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں تو پوری دنیا سے بڑے پیمانے پر ان کی مدد ہوگی اور افغانی اس طرح جیلوں اور بے راہ روی کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔ پاکستانی پشتونوں کو بھی اپنے حالات درست کرنے ہوںگے۔ قوم پرستی کے بلند بانگ رہنما اپنی قوم کی اصلاح نہیں کرتے ۔ صرف دنیا پر الزامات تھوپتے رہتے ہیں۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” صوابی سے بازار حسن تک کی واردات” کے عنوان کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟

مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

مسلک اہلحدیث نے حلالہ کا راستہ روکنے کیلئے یہ راستہ اختیار کیا ہے کہ ” ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاقِ رجعی ہے”۔ دلیل یہ دی ہے کہ رسول اللہ ۖ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں اکٹھی تین طلاق کو ایک سمجھاجاتا تھا اور پھر حضرت عمر نے ایک ساتھ تین طلاق پر بھی تین کا حکم جاری کردیا”۔ لیکن جب عورت کو اسکا شوہر تین طلاق دے اور وہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو پھر اس کو طلاق رجعی قرار دینے سے نہ صرف عورت کا نقصان ہوگا بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بھی منافی ہوگا اسلئے کہ قرآن نے جس اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حکم دیا ہے اسکے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔ کیونکہ عورت پر ایک عدت گزارنا اللہ نے فرض کردیا ہے اور مولوی شوہر کو تین عدتوں کا حق دیتا ہے۔ جب وہ طلاق دینے کے بعد عدت پوری ہونے سے پہلے یا آدھا بچہ نکلنے سے پہلے رجوع کرلے تو رجوع ہوگا ۔ پھر شوہر نفاس کے بعد پاکی کے دنوں میں ایک اور طلاق دے تو دوسری عدت گزارنی پڑے گی اور عدت کے آخر سے پہلے پھر شوہر رجوع کرلے اور پھرطلاق دے تو عورت کو تیسری عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ یعنی مولوی شوہر کو طلاق رجعی کے نام پر ایک عدت کا نہیں تین عدتوں کا حق دیتا ہے، حالانکہ اللہ نے اس کو ایک عدت کا حکم دیا ہے۔ اہلحدیث کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے کی وجہ سے عورت پر مظالم کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اہلحدیث کے بانی نواب صدیق حسن خان مرحوم تھے جن کی داڑھی بھی بہت چھوٹی تھی اور اب مفتی حماد کہتے ہیں کہ نبیۖ نے خواب میں فرمایا کہ ” جن کی داڑھی بڑی ہے ،ان کی دعوت قبول ہے”۔ چھوٹی داڑھی والے جماعت اسلامی کے جاویدپراچہ بھی میڈیا پر ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان خوابوں کا دعویٰ تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، علامہ اقبال یہاں تک کہ قادیانی بھی کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شریعت قرآن وسنت کا نام ہے یا خوابوں سے اس کی تصدیق اور تردید ہوگی؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں مگر مبشرات جس سے رویائے صالحہ مراد ہیں۔ نبوت کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو ختم نبوت پر ایمان نہیں ہوسکتا ہے۔ لغت میں نبوت غیب کی خبر اور جمع نبوأت ، غیب کی پیشین گوئیاں قرآن واحادیث میں موجود ہیں۔ جن میں دوبارہ اسلام کی نشاہ ثانیہ اور خلافت کے قیام کی خبر بھی ہے۔ صالح خوابوں کا تعلق صرف پیشین گوئیوں سے متعلق ہے، اگر خواب کی تعبیر اور پیشگوئی درست ثابت ہوگئی تو وہ حدیث کے مطابق صالح خواب ہے اور اگر درست ثابت نہیں ہوئی تو تعبیر کی غلطی یا خواب درست نہیں ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے احکام بہت واضح ہیں اور حدیث صحیحہ سے ان کا کوئی تصادم نہیں ہے لیکن سارے مسالک والوں نے اس کو عجوبۂ روزگار بنادیا ہے۔ حنفی مسلک کے درست اصولوں سے معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی مگر حنفی علماء کے سرخیل نے سود کو حیلہ سازی کرکے جواز فراہم کرنے تک بات پہنچادی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سنیٹرمشاہداللہ خان نے حلالہ کے خلاف ہمارے ایڈیٹر ملک محمد اجمل کو بیان دیا تھا جو ہم نے ان کی زندگی میں چھاپ دیا تھا لیکن پھر اچانک ان کی وفات ہوگئی۔ حامد میر نے بتایا کہ ایک وہ ٹیکنالوجی بھی ہے کہ جس میں بڑے بڑے لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور اس کی موت کا الزام بھی کسی پر نہیں آتا ہے۔ سینٹر مشاہداللہ خان ایک جرأتمند اور بیباک انسان تھے ۔ کیا اس کو راستے سے ہٹادیا گیا ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہاتھا کہ کراچی کے اکابر علماء ومفتیان کو حاجی محمد عثمان کے خلاف فتوؤں پر ذبح کردو، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر وہ اپنی ٹانگیں ہلائیںگے تو ہم پکڑ لیںگے۔ ذاتی معاملات پر ہم نے صبر وتحمل سے کام لیا تھا لیکن اب اسلام اور مسلمان خواتین کی عزتوں، لوگوں کے گھر اور معاشرے کو تباہ کرنے کا معاملہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن اسلام کی درست تعبیر کیلئے علماء ومفتیان سے میری نشست کرادیں تو پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب کے علماء ومفتیان سمیت پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ مدارس میں اسلام کی رونقیں بحال ہوں گی۔ مساجد میں جمعہ کی تقاریر سننے کیلئے عوام الناس جوق در جوق آئیںگے۔
پچھلے شمارے میں غلطی سے یہ خبر آگئی تھی لیکن ڈاکٹرمجید صاحب جمعیت میں ہیں۔ حافظ حسین احمد بھی جمعیت میں ہیں۔ مولانا شیرانی ، مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک اور مولانا عصام الدین بھی واپس آسکتے ہیں۔ جمعیت علماء بڑی جماعت ہے جس میں چند افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر اسلامی بنیادوں پر معاشرے کی درست تشکیل ہوجائے تو بہت بڑا اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔ نہیں تو پھر ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں سیلاب متاثرین کے ٹینٹ اور سندھ موٹر وے کی اربوں غبن سوالیہ نشانات ہونگے۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی” اور ” مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی

مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

مسلک حنفی وہ نہیں ہے جو حنفیوں کی طرف منسوب فقہاء نے اپنی نالائقی کے سبب دنیا میں مشہور کیاہے۔ قرآن وسنت اور فقہ حنفی کا اصول ہے کہ ” عدت میں عورت کا اپنے شوہرسے نکاح قائم رہتا ہے”۔اسلئے جب تک عورت کی عدت ختم نہ ہو تو عورت کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتی ہے۔ شافعی مسلک کا اصول ہے کہ عدت میں بھی عورت کا نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ مثلاً شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی تو عدت میں حنفی مسلک کے نزدیک نکاح برقرار ہے اور شافعی مسلک کے نزدیک نکاح ختم ہوچکا ہے۔ اس کے نتیجے میں شافعی مسلک کے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ”اگر رجوع کی نیت نہ ہو تو عدت میں جماع کرنے سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے” اور حنفی مسلک میں ”اگر نیت نہ ہواور عدت میںغلطی سے شہوت کی نظر عورت پر پڑگئی توبھی شوہر کا رجوع ثابت ہوجائیگا”۔
فقہاء کے سات طبقات ایکدوسرے سے اوپر بیان کئے گئے ، جن کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور جس طرح قرآن میں سات آسمانوں کا تاحال سائنس میں پتہ نہیں لگ سکا ہے اسی طرح فقہاء نے بھی جو سات طبقات بنائے ہیں ان کے بارے میں کوئی خاص اور درست وضاحت علماء ومفتیان کو معلوم نہیں ہے۔ علماء ومفتیان سات آسمانوں کی طرح فقہاء کے سات طبقات پر بھی ایمان بالغیب کی طرح اعتقاد رکھتے ہیں۔
فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامی ،صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس، مفتی تقی عثمانی نے فقہی مقالات اور تکملہ فتح المہلم میں لکھا کہ ” سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جب ہم نے مفتی تقی عثمانی پر ضرب حق لگائی تو اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ روزنامہ اسلام اخبارمیں اپنی کتابوں سے عبارات نکالنے کا اعلان کردیا۔ فقہی مقالات مارکیٹ سے اٹھاکر اس کا وہ صفحہ تبدیل کردیا جس میں سائز کا فرق واضح ہے اورپھر اسلام اخبار میں اشتہار دیا کہ ”مجھ پر بہتان لگانے والے خدا کا خوف کریں”۔ ہفت روزہ ضرب مؤمن میں پھر اسلام اخبار کی دونوں باتوں کو ایک ساتھ شائع کردیا۔ ایک طرف اپنی کتابوں سے نکالنے اور متوجہ کرنے پر شکریہ ادا کرنے کا بیان اور دوسری طرف بہتان لگانے کا اشتہار تھا۔ سودی بینکاری کے خلاف دیوبندی بریلوی اور اہلحدیث سب متفق تھے لیکن پھر اسلام کاسب نے مل کربری طرح بہت حلیہ بگاڑ دیا ۔
قرآن نے واضح آیات میں بتایا کہ باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے طلاق میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے مگرنام نہاد فقہاء نے لکھ دیا کہ ” اگر عورت کو حمل تھا اور اس کا بچہ آدھے سے زیادہ نکل چکا تھا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور آدھے سے کم نکلا تھا تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ اگر مولوی کاباپ اس وقت رجوع کرے جب اس کی ماں کے بالکل نصف بچہ باہر نکالا ہو تو پھر رجوع کاکیا فتویٰ ہوگا؟۔
قرآن کی واضح آیات میں طلاق کے بعد رجوع کیلئے صلح اورمعروف طریقہ شرط ہے ، عدت کے اندر بھی اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کا راستہ روکنا اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں منع کردیا ہے۔ البتہ جب ایک ایسی رسم دنیا میں موجود تھی کہ عورت کو طلاق دینے کے باوجود بھی اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی نہیں کرنے دی جاتی تھی تو اللہ نے اس بری رسم کو ختم کرنے کی بنیاد پر ایسے الفاظ استعمال کئے کہ جس سے عورت کو طلاق کے بعد مکمل آزادی مل گئی۔ اس میں مروجہ حلالے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مجھ پر ذاتی حیثیت سے یہ الزام تھا کہ کسی کی بیوی اٹھاکر اسکی شادی میں نے اپنے بھانجے سے کرادی ، جس کی بنیاد پر طالبان کو ورغلایا گیا اور ہمارے گھر پر حملہ کرکے13افراد شہید کروائے گئے۔
میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ قرآن میں صرف ایک غلط رسم کو ختم کرنے کیلئے اللہ نے آیت230البقرہ میں ایسے الفاظ استعمال کئے ، جس کا مقصد صرف اس غلط رواج کا خاتمہ تھا کہ طلاق کے بعد عورت کو اپنی آزادی سے کسی اور کیساتھ نکاح نہیں کرنے دیا جاتا تھا۔اس غلط رسم کو ختم کرنے میں میرے والد مرحوم نے اپنی ایک بیوی کو طلاق دیکر پہل کی تھی جس کی وجہ سے ان کی عزت بڑھ گئی اور پھر میں نے بھی ایک عورت کے حق کی خاطر اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اس نیکی کا صلہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر اپنا فضل کردیا ہے اور طلاق کے مسئلے پر قرآن واحادیث صحیحہ اوردرست مسلک حنفی کی روشنی میں پوری دنیا کے اندر اسلام کا نام روشن ہوگا۔ انشاء اللہ۔ حضرت حاجی محمد عثمان پر بھی علماء ومفتیان نے پیسہ کھاکر نہ صرف غلط فتوے لگائے تھے بلکہ یہاں تک بھی لکھ دیا کہ انکے عقیدتمندوں کے نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا!۔ جب موقع ملے گا تو نہ صرف حلالہ کی لعنت کا خاتمہ ہوگا بلکہ جھوٹے پروپیگنڈے اور اسلام کو بیچنے والوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔ اگر مذہبی وسیاسی جماعتوںاور مدارس کے اپنے وارث ہیں تو اسلام کے وارث بھی موجود ہیں۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی” اور ” مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

بسااوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ اہل تشیع کا فقہ میں طلاق کے حوالے سے سب سے بہترین مؤقف موجود ہے۔ ایک شخص اپنی بیگم کو اچانک تین طلاق دیتا ہے اور پھر جب اہل سنت سے رجوع کرتا ہے تو فتویٰ ملتاہے کہ ” حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ شیعہ نے فقہ میں یہ قانون درج کردیا ہے کہ تین طلاق کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ پاکی کے ایام میں شوہر باقاعدہ طلاق دینے کے شرعی صیغے ادا کرے گا، جیسے نکاح میں ایجاب و قبول ہوتا ہے اور اس پر دو عادل شرعی گواہ بھی مقرر کرنے ہوں گے۔ پھر جب حیض آجائے تو دوبارہ پاکی کے دنوں میں شرعی گواہوں کے سامنے شوہر دوبارہ طلاق دے گا اور پھر تیسری مرتبہ پاکی کے دنوں میں تیسری بار طلاق دے گا۔ اس طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل سنت نے جس طرح حلالہ کی لعنت کا دروازہ کھول دیا تھا تو اس کے مقابلے میں شیعہ مؤقف حلالہ کی لعنت سے بچانے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ جب لوگوں کے ذہنوں میں یہ آئیگا کہ ایک ساتھ تین طلاق کی بدعت گناہ ہے۔ حضرت عمر نے اس بدعت کو امت میں جاری کیا ہے تو یقینا لوگ شیعہ بننے کی طرف راغب ہوں گے۔ لیکن جب حقائق لوگوں کو سمجھادئیے جائیںگے تو شیعہ بھی حضرت عمر اور حنفی مؤقف کوتسلیم کرلیںگے۔
شیعہ سنی کاقرآن ایک اور احادیث وروایات کی کتابوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سورۂ طلاق میں عدت کے مطابق مرحلہ وار طلاق دینے کا حکم ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کرنے یا معروف طریقے الگ کرنے کا حکم ہے۔ جب معروف طریقے سے الگ کرنے کا فیصلہ ہوتو پھر دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم ہے مگر اسکے باوجود اللہ نے سورۂ طلاق میں اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے اس مشکل طلاق وجدائی کے حصار میں پھنسنے سے نکلنے کی نوید سنائی۔ گویا شیعہ طریقہ سے دوگواہ ہرمرحلے پر مقرر کئے ہوں یا پھر طلاق کے عمل میں بغیر گواہوں کے یہ عدت گزاری ہو۔ عورت کیلئے انتظار کی مدت بہت بڑی چیز ہے، بھلے اس پر مرحلہ وار تین مرتبہ کے دو گواہ مقرر کئے ہوں یا نہ کئے ہوں کیونکہ قرآن کا تقاضہ یہ ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کرنے یا جدا کرنے کے بعد گواہوں کی تقرری ضروری ہے۔ شیعہ نے سنی کے حلالہ کے مقابلے میں اچھے شرائط رکھے ہیں لیکن قرآن سے ان کا مسلک جوڑ نہیں کھاتا بلکہ قرآن کے بالکل برعکس ہے اسلئے کہ قرآن جہاں پہنچنے کے بعد رجوع کا دروازہ کھولتا ہے وہاں شیعہ مسلک بند گلی میں پہنچادیتا ہے۔ سنیوں کیلئے اپنے مسلک کیخلاف جانا آسان ہے مگر شیعہ اس معاملے میں لچک نہیں رکھتے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک فاضل دوست نے اس بات کا اظہار کیا کہ” علماء ڈرتے ہیں کہ عوام شیعہ نہ بن جائیں”۔ اسلئے راہِ حق میں آنے سے ہررکاوٹ دور کرنے کیلئے اپنا مؤقف بہت وضاحت کیساتھ پیش کررہاہوں۔
اہل تشیع میں اعتدال پسند بھی ہیں اور شدت پسند بھی۔ دونوں چیلنج کو میں خوش اسلوبی کیساتھ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنے قریبی عزیز، پڑوسی اور احباب ” رحمن” کے نام سے جانتے ہیں اور سکول کے ماحول کی بات کروں تو مجھے ” عتیق” کہتے تھے۔ عتیق الرحمن پورا نام ہے۔ رحمان اللہ کا نام ہے اور اللہ ہی رحمن ہے اور کوئی نہیں ہے۔ البتہ نبی کریم ۖ کو اللہ نے مؤمنوں پرالرؤف الرحیم قرار دیا ہے۔ اہل تشیع شدت پسندانہ خیالات کااظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور نبی ۖ کی صفت رحیمی کی خلافت کا حق ادا کرنے کے بجائے جس قہر کی شدت برساتے ہیں تو پاکستان میں اس بھڑکتی آگ کے شعلوں کا شکار بھی خود بنتے ہیں۔
جس طرح اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ سورۂ رحمن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ الرحمٰنOعلم القرآنO”الرحمن جس نے قرآن سکھایا” سے مراد مری ذات ہے نعوذباللہ یا فلیطوفوا بالبیت العتیق ”پس عتیق (قدیم)گھر کا طواف کرو” سے مراد میرا گھر ہے۔ شیعہ علماء پتہ نہیں کتنی مرتبہ حضرت علی کیلئے قرآن سے الفاظ نکالتے ہیں جس پران کے عوام خوش ہوتے ہیں۔ دلائل اور براہین ایسے ہونے چاہییں جو فریق مخالف کیلئے بھی قابلِ قبول ہوں۔ نبیۖ کیلئے عتبہ، ولید،ابولہب اور ابوجہل میں رشتہ داری کے لحاظ سے فرق تھا لیکن قرآن میں صرف چچاابولہب اور اس کی بیوی کا نام ہے اور باقی کسی دشمن کا نہیں ہے۔ صحابہ کرام سے محبت رکھنے والوں کے سامنے اس بات کا ذکر کافی ہے کہ یزید صحابی نہیں تھا اور حضرت حسین صحابی تھے۔باقی یہ ہے کہ سنی ابوطالب کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ادب کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مہدی غائب کا وجود نہیں مانتے لیکن شیعہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کیلئے مغلظات نہیں بکتے۔ اہل تشیع کے مقتدر علماء کا فتویٰ ہے کہ سنی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنا حرام ہے۔ ذاکر اپنے علماء کے فتوؤں کا لحاظ رکھیں تاکہ قتل وغارتگری کا راستہ رک جائے۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی” اور ” مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

نوازشریف نے پانامہ لیکس کے بعد پارلیمنٹ میں تحریری جھوٹ بولا، پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا ، پھر اس سے مکر گیا، ایون فیلڈ لندن کے فلیٹ پرتو بے شرم کو سزا تک ہوچکی تھی

دھمکی خط میں مداخلت کا اعتراف اور سازش کا انکار تھا۔ توشہ خانہ کے مجرم صرف عمران خان نہیں بلکہ ایک لمبی فہرست ہے ،لاہور ہائیکوٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت نے اپیل کردی

1: پانامہ کا انکشاف ہوا تو نوازشریف نے جھوٹ بولا کہ2005میں سعودی اور دبئی مل بیچ کر 2006ء میں ایون فیلڈ کے فلیٹ خریدے۔2:حالانکہ ان فلیٹ پر پیپلزپارٹی نے1994میں کیس بنایا۔ پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا گیا اور اس سے پھر لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔
نوازشریف کے سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مسلسل پروپیگنڈہ کرتی نظرآتی ہے جس میںسارا ملبہ فوج پر گراتے ہیں، کیا ISIنے پارلیمنٹ میں سفید جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر مجبور کیا تھا؟۔ یہ وضاحت کریں!۔
1:پہلے کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ ”ہم بلیک میل نہیں ہوںگے، جس کے پاس جو ویڈیو ہے وہ جاری کرے، ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے”۔
2: عمران خان کے حامی سوشل میڈیا پر کہتے ہیں مریم نواز کی جنرل قمر باجوہ کیساتھ ویڈیو ہے جس کی وجہ سے جنرل باجوہ بلیک میل ہورہاہے۔
عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا ریکارڈ عام کرنے کا حکم دیا تو وفاقی حکومت نے مخالف اپیل دائر کردی۔تحائف کو بیچنے اور استعمال کرنے کی قانون میں اجازت نہیں بلکہ عجائب گھر کی طرح رکھنا ہوتا ہے۔اس حمام میںسب ہی ننگے ہیں۔

___انقلابِ نوازشات دھوبی گھاٹ___
جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کے خلاف فوج اورISIکے دباؤ کا ذکر کیاتھا لیکن پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے کیوں ایکسٹینشن دی تھی؟، کیا جاوید چوہدری یہ بتائیگا کہ اڈیالہ جیل میں شیو کا بلیڈ دکھا کر منے نوازشریف کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ” اگر ایکسٹینشن نہیں دی تو تجھے ذبح کردینگے؟”۔ کیا جنرل راحیل شریف نے زبردستی سے پارلیمنٹ کے جھوٹے بیان پر مجبور کیا تھا؟۔کیا جنرل باجوہ نے مجبور کیا تھا کہ جھوٹاقطری خط لکھو اور پھر اس کا انکار کردو؟۔ عدالت نے اتنے بڑے بڑے جھوٹ پکڑنے کی جگہ اقامہ پر سزا دی تو اس سے بڑی اور کیا رعایت ہوسکتی تھی ؟۔ لیکن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تسلسل کیساتھ صحافیوں کی ایک بہت بڑی اور انتہائی جھوٹی ٹیم نوازشریف اور اسکے ٹبر کے کپڑے دھو دھو کر دھودھو کر دھو دھوکر اسکا سارا گند فوج اور جنرل باجوہ پر ڈال رہی ہے۔ کیا ان تمام صحافیوں نے کبھی نوازشریف اور اسکے ٹبر سے پوچھا ہے کہ پارلیمنٹ میں اتنا بڑا جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر فوج نے مجبور کیا تھا؟۔ بکاؤ مال کا تسلسل کیساتھ ایک ہی بیانیہ قوم کے ذہن میں ڈالاجا رہا ہے کہ نوازشریف کیساتھ فوج نے بہت بڑا ظلم کیا اور اس کا یہ کہنا درست تھا کہ ”مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو”۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہیے!۔

___انقلاب ِعمرانیات دھوبی گھاٹ___
جو صحافی فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماموں، چچا اوربھتیجے بنے تھے اورعمران خان بیساکھی جہانگیر ترین اور علیم خان سے محروم ہوا ۔لوٹے کھوٹے ہو گئے ۔PDMبھی زرداری کیساتھ مل کر حکومت گرانے پر آمادہ ہوگئی تو عمران خان نے فوج کو کہاکہ مجھے کیوں گرایا یا پھر بچایا کیوں نہیں؟۔ جنرل باجوہ کو سب نے مل کر ایکسٹینشن دی ۔ جنرل آصف غفور نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے دوران کہا کہ فوج ہر حکومت کو سپورٹ کریگی جو جمہوری بنیاد پر اقتدار میں آئے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام تنگ تھی ۔ نوازشریف نے جنرلوں کے نام لیکر خوب تذلیل کی اور پیپلزپارٹی،ANPکو بہانہ بناکرPDMسے نکالا حالانکہPDMکا پہلا اجلاس پیپلزپارٹی نے بلایاتھا،جہاں مولانا فضل الرحمن نے غلط پرچی پڑھ کر سنانا شروع کی،ارشد شریف فوج کے پیچھے لگ کرانقلابی بن گئے، مولانا حق نواز جھنگوی نے عابدہ حسین کو نامزدکیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا جھنگوی کا قاتل نواز شریف اورعابدہ حسین کو قرار دیاپھر نوازشریف اور سپاہ صحابہ نے ملکر بیگم عابدہ حسین ،مولانا ایثارالحق کو جھنگ سے مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں جتوایا تھا۔مولانا جھنگوی کے بیٹے کی پراسرار موت ہوئی ، اب دوسرے بیٹے کو جھنگ سے ٹکٹ بھی نہیں دیا جاتا اور اپنوں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

آج پورا پشتونخواہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے فورسز غیر محفوظ ہیں ۔ طالبان نے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی۔

ANP کے اصغر خان اچکزئی نے ایوان کے در و دیوار ہلادئیے۔ ویڈیو بیان
اصل میں اس طرح کے معاملات میں قرار دادلانا اور پھر اس کی حمایت یا مخالفت میں بات تب ہوسکتی ہے جب ایک چیز معلوم ہو۔ ہمیں تو آج تک ان واقعات کے اصل محرکات کا پتہ نہیں کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اکثر مسئلے مسائل ہوتے ہیں دونوںکے دفتر خارجہ اسٹیٹمنٹ جاری کرتے ہیں کہ یہاں پر اس طرح کی زیادتی ہوئی ہے۔ یہاں پر دونوں طرف سے خاموشی ہے اور ابھی ہم حمایت میں یا مخالفت میں بات کریں اور کل پھر وہ پرسوں ترسوں ایک دوسرے کو بٹھائیں اور چائے پلائیں بس معاملہ ختم ہوگیا۔ اصل میں اس جرم کے مرتکب دونوں طرف ہیں۔ جناب اسپیکر! قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ جنگ اور یہ جھگڑا کس بات پر ہے۔ جس طرح آج یہاں پر دوستوں نے بات کی ہے کہ” آج کے اس ماحول کیلئے اور افغانستان کو بنانے کیلئے ہم نے کم و بیش40سال محنت کی ہے”۔ اپنے افغانوں اورانکے ملک کو اپنی جگہ چھوڑ دیں ۔ ان کی جو حالت ہم نے یہاں سے کردی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ لیکن آج کے اس موجودہ رجیم کیلئے افغانستان میں ہم نے اپنے ہی ملک کو نہ صرف فرقہ واریت سے دوچار کیا ۔ یہاں پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیا، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کلچر، اسلحہ کلچر ، دنیا جہاں کے جرائم کو ہم نے اس پالیسی کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں فروغ دیا۔ ایسا کوئی جرم دنیا میں کہیں پر نہیں جو یہاں پر ابھی نہیں ہورہا ہے؟۔ ہر لحاظ سے۔ یہ سارا سب کچھ ہم نے صرف کابل کو فتح کرنے کیلئے کیا۔ ہمیں یاد ہے جب مجاہدین کی حکومت بن گئی ۔ جنرل ضیاء الحق اس وقت زندہ نہ تھے تو نواز شریف کابل گئے کہ آج ہمارے لئے افتخار کا دن ہے اور اسکا خواب جنرل ضیاء الحق نے دیکھا تھا کہ میں پل خشتی مسجد میں دو رکعت نفل بطور فاتحانہ انداز میں ادا کرلوں۔ ایک وہ وقت تھا اور ایک جب یہ ٹیک اوور ہوا تو جس طرح بھائی نے بات کی اسی طریقے سے جنرل فیض نے کابل میں فتح کا جشن کابل منایا۔ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ جھگڑا کس بات پر ہے؟۔ ابھی جب میں یہاں پر آیا تو ہم نے بشیر بلور کیلئے فاتحہ خوانی پڑھی۔ اس کی کیا دشمنی تھی؟ یہ دہشتگردی ہمارے ملک میں کس کیوجہ سے پھیلی؟۔ جسکی نذر عوامی نیشنل پارٹی سے لیکر ہماری فورسز ، جرنیلوں، پولیس کے سپاہیوں، لیویز، سیاسی ورکرز، وکلاء تک سب ہوئے، 8 اگست کا واقعہ سامنے ہے۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات میں ہمارا خون پانی کی طرح بہایا، ہمارے سیاسی ورکر سے لیکر ہماری قیادت تک کسی کو نہیں بخشا گیا یہاں تک کہ ہمارے علماء کرام بھی اس کی نذرہوگئے۔ ابھی آپ کے توسط سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔ جمعیت علماء اسلام کے اس ایوان میں کافی سینئر ساتھی بیٹھے ہیں۔ مولانا حسن جان جیسا بندہ بھی اس دہشت گردی کی نذرہوا۔ اس دہشت گردی کی مولانا نور محمد، مولانا معراج الدین اورباجوڑ کے علماء نذر ہوئے۔ اسی دہشت گردی کی نذر کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمن پر ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں حملے ہوئے۔ زندگی دینے والا تو اللہ ہے اور لینے والا بھی اللہ ہے یہ اپنی جگہ اور اس دہشت گردی کی وجہ سے ہمارا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جو کسی نہ کسی طریقے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ جناب اسپیکر! اس میں کوئی گڈ او ربیڈ نہیں ۔ یہ سب ایک جیسے لوگ ہیں۔ آج بھی ان پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا پورا پختونخواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ آپ کے تھانے، سی ٹی ڈی کے تھانے قبضہ ہورہے ہیں۔ پھر انکے لئے پلے گراؤنڈ کس نے بنایا؟۔ جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے۔ کوئی بات نہیں کرسکتا کہ فیض اور بیرسٹر سیف کون ہے کہ وہ پشتونوں کی زمینوں اور دھرتی کا فیصلہ کرلے۔ انہوں نے خود کہا کہ میں نے مذاکرات کئے اور افغانستان سے انتہا ء پسند اور دہشتگردوں کو اپنے علاقے حوالہ کردئیے اور جس طرح کسی کے ماموں کا بیٹا ہوتا ہے ، کسی کی خالہ کا بیٹا ہوتا ہے اس طرح لوگوں کو لاکر کسی کو دیر حوالے کیا، کسی کو بونیر حوالے کیا، کسی کو سوات حوالے کیا۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے ہمارے ملک کے سیکورٹی اداروں کا اسٹیٹمنٹ تھا ڈیڑھ مہینے پہلے کی پالیسی جو یہاں پر مذاکرات کے نام پر بنائی گئی تھی اس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ ہر دو مہینے کے بعد ہم پچھلے دو مہینے کے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیں اور یہ تو40سال کی پالیسی ہے۔
میں یہاں پر دہشت گردی کی رواں لہر پر بات کررہا تھا کہ آج پورا پشتونخواہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ پورا بلوچستان ان ڈائریکٹلی لپیٹ میں ہے۔ فورسز غیر محفوظ ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات اور واردات ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یہ سارا انہی کا تسلسل ہے اور انہی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج افغانستان پر جب ہم بات کرتے ہیں ایک عجیب و غریب، پرسوں ترسوں انہوں نے ایک فرمان جاری کیا کہ اوور آل پورے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی ہے۔ یہ دنیا پر کہیں آپ نے دیکھا ؟ اگر اسکا درس اسلام دیتا ہے تو کوئی اس کی نشاندہی کردے۔ کوئی ہماری رہنمائی کرے۔ گائڈ لائن دیدے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر یونیورسٹی لیول پر پابندی ہے۔ یہ حکومت ہماری ریاست نے وہاں پر براجمان کردی ،افغان تو تباہ و برباد تھے ان کی پالیسیوں اور حکمرانی کی وجہ سے بلکہ اس کے تسلسل میں ہم یہاں پر دربدری سے دوچار ہیں، غیر محفوظ ہیں، ہر لحاظ سے ہمارے یہاں پر منفی اثرات اُدھر کے اِدھر پڑ رہے ہیں۔
جناب اسپیکر! ہمارے حکمرانوں کو آج ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ یہ تو ہم نے دیکھا کہ ہم نے بلوچستان کیساتھ زیادتی کی۔ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی پالیسیوں کو اپنا کر اس ملک کو تباہ و برباد کیا۔ یہ ہم نے دیکھا کہ یہاں پر انہوں نے معافی مانگی ہے کہ ووٹ پر ہم نے ڈاکہ ڈال کر اس ملک کو دو لخت کیا۔ آج بھی ہم کہتے ہیں کہ خدارا ! دہشت گردی کی اس پالیسی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ اس کو ری ویو کردیں۔ جو پالیسی آپ کوخون بہنے ، دربدری اور تباہی کے سوا کچھ دے نہیں پارہی ہے تو اس پالیسی کو اپنا کر آپ دھرتی پر رہنے والی مختلف اقوام کو کیا میسج دیں گے؟ اس کا نتیجہ پھر کیا ہوگا؟۔ تو جناب اسپیکر ! میں کہتا ہوں کہ بجائے اسکے کہ کوئی قرار داد کی حمایت اور مخالفت پر بات کرے ، اس پر بات کرنی چاہیے کہ واقعہ کیوں ہوا؟۔ دونوں طرف یہ بحث ہونی چاہیے اور محرکات سامنے لانے چاہئیں کہ اصل واقعے میں پس پردہ وجوہات کیا ہیں؟ جب تک یہ سامنے نہیں آئیں گے ہر دوسرے تیسرے دن اِ س نے اُس کو مارا اُس نے اِس کو مارا، یہاں پر بم پھٹا، وہاں پر بم پھٹا۔ اور نتیجہ یہ کہ دو دن کے بعد پھر مذاکرات ۔ کہتے ہیں گفتاً ، نشستاً برخاستاً، لوگوں کی جانیں گئیں، گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے اور ہم پانچ دن کے بعد پھر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ حل ہے تو اس طرح سے مسئلے حل نہیں ہوتے اور نہ اس قرار داد کی حمایت یا مخالفت سے کوئی اثر پڑے گا۔ وہاں پر ان چیزوں کو دیکھنے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟۔ ان چیزوں کا اثر لینے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟، وہاں پر تو ایسی رجیم بٹھادی گئی کہ نہ تو ان کو اپنی خواتین، بچیوں ، اپنی بہنوں اور ماؤں کے علم اور مستقبل کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے، نہ اپنی ڈولپمنٹ کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے۔ سوائے مارا ماری کے، خون بہانے کے ، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے ان کو آتا کیا ہے؟۔ اور ان سب کی قصور وار ہماری ریاست ہے ، ریاستی ادارے ہیں، جسکے بل بوتے پر یہ لوگ وہاں پر بیٹھ گئے۔ ابھی یہ ہمارے اداروں کا کام ہے کہ کیسے ان مسائل ، انتہاء پسندی اور دہشتگردی سے اپنے آپ کو نکالیں اور وہاں پر لوگوں کی حمایت ، تمام افغانوں کی حمایت سے ایک ایسی حکومت ہم کیسے تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں کہ جس پر سب کا اتفاق ہو ، جو تمام افغانوں کو قابل قبول ہو۔ اور یہ عجیب مذاکرات ہوئے جناب اسپیکر! یہاں پر بات ہورہی ہے اصل فریق تھا جو کابل کا وہ کابل میں بیٹھا تھا اور دوحہ میں مذاکرات پاکستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان ہورہے تھے۔ اصل فریق ادھر بیٹھا تھا اور سب نے مل کر جس طریقے سے اس کو ہٹایا آج کے موجودہ افغانستان اور اس ریجن کی ذمہ دار دنیا ہے بالخصوص ہمارا اپنا ملک ہے جس نے نہ صرف وہاں کے حالات کو اس نہج پر پہنچادیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں اس وقت جو صورتحال ہے ان سب کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں ۔
بلوچستان اسمبلی میں نصراللہ زیرے کی تقریر بھی اس قسم کی تھی کہ کابل سرینا ہوٹل میں جنرل فیض حمید کی تصویر نے دنیا کو کیا پیغام دیا؟۔ چمن میںNLCکو جگہ دینے کیلئے یہ جھگڑا مصنوعی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

امریکہ، برطانیہ،اسرائیل ،آسٹریلیا کو فتح کیا جائے توجہاز میں لونڈیاں بھر لانا جائز ہوگا؟

نکاح کے نام پر عورتیں پسِ پردہ بیچ دو ؟،انہیں اجنبی اٹھالیجائیں؟ ۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ نے سعودیہ، ایران پھر افغانستان میںانقلاب کے نام پراسلام کیخلاف سازش مسلط کی ہے؟

افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی اسلام اور افغانی غیرت کاتقاضہ ہے تو کیا حلالہ کی لعنت اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضہ ہے؟،علماء کو اسلام کا پتہ نہیں توطالبان بالکل ہی معذورہیں

قرآن وسنت میں نکاح وطلاق ،وضوونمازکے لایعنی مسائل ، لغو اجتہادات کی گنجائش نہیں بلکہ تسخیرِ کائنات کیلئے جدید علوم پر زور ہے۔ ام عمارہکے پورے جسم پر تیروتلوار کے نشان تھے

افغان طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، علماء ومفتیان اور اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا سے سخت ردِ عمل آیا۔ اگر طالبان کو دینی علوم کے پیرائے میں نہ سمجھایا جائے تو وہ مجبور ہونگے ۔ عمران خان اور ٹیرن وائٹ کی کہانی کا پتہ تھا مگر اقتدار میں لایا گیا۔ گیلے کا کچھ گیلا نہیں ہوتا۔ دختر قائداعظم دینا جناح، بیگم راعناقائد ملت لیاقت اورجنرل رانی سے لیکر میڈم طاہرہ مولانا سمیع الحق ، رنگیلاوزیرِ اعظم نواز شریف اور صابر شاہ و مفتی عزیزالرحمن تک داستانیں ہیں۔ منفی پروپیگنڈے اور سیاست بہت ہوچکی ، قوم کو مثبت اقدام کی طرف لائیں۔ طالبان سے اپیل ہے کہ پہلے قوم امریکہ کے مقابلے میں ساتھ کھڑی تھی لیکن اب دنیا بدل چکی ۔ ہم نے آواز لگائی تھی کہ جاندارکی تصویر جائز نہیںجاندار کی تصویر کو مٹادو۔ پردہ کرنا فرض ہے، شریعت کے مطابق پردہ کرو۔ داڑھی منڈانا جائز نہیں ،شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔ اب ہم نے بھی قرآن وسنت اور علماء حق کی تحقیقات کے مطابق اپنی رائے بالکل بدل دی۔تصویر اور داڑھی پر تم نے بھی اپنی رائے بدلی ہے لیکن خواتین کی تعلیم سے جن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ حضرت آدم و حوا نے ممنوع ہونے کے باوجود شجر کا ذائقہ چکھ لیا جس سے بے لباس ہوگئے۔ بنی آدم کو قرآن نے اپنے ماں باپ کی طرح بے لباس ہونے سے بچنے کا حکم دیاہے۔ اسلام میں باجماعت نماز کی صفوں میں خواتین کا بھی حق ہے۔طواف، صفا ومروہ کی سعی میں شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ جدید تعلیم اسلام کا تقاضا اور عروج کا ذریعہ ہے۔ ان پڑھ معاشرے میں اسلامی لحاظ سے جتنی عورت مظالم کا شکار ہے ،پڑھی لکھی خواتین کو اسکے مقابلے میں بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے،مدارس کا نصاب درست کرو۔
فقہ کی کتابوں میں ہے کہ ” باجماعت نماز کی صف میں پہلے مرد، بچے، پھر بچیاں اور عورتیں کھڑی ہوں گی”۔ جب لوگ پانچوں وقت گلی ،محلے، گاؤں دیہات اور شہروں میں مساجد کے اندر لوگ فیملی کیساتھ نماز باجماعت میں شرکت کریں ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” اپنی عورتوں کو نماز باجماعت اور مساجد میں آنے سے مت روکو”۔ یہ واضح ہے کہ اگر مسلمانوں کی بیگمات یہودونصاریٰ ہوں تو ان کو بھی اپنی عبادتگاہ میں جانے سے مت روکو۔ اگر افغان طالبان اپنی امارت اسلامی افغانستان میں ان اسلامی احکام پر عمل کریںگے تو پھر وہ خود بخود خواتین کو فیملی پارک، شاپنگ مال اور تعلیمی اداروں میں جانے سے نہیں روکیں گے۔ نماز کی طرح طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں مردوں اور خواتین میں صفوں کی ترتیب بھی نہیں ۔ قرآن نے ہمیں ملت ابراہیم پر قرار دیا تو حضرت حاجر ہ اور چھوٹے بچے حضرت اسماعیل کو وادیٔ غیرآباد مکہ میں چھوڑنا کیسا تھا؟۔کوئی محرم مرد پاس تھا؟۔ پھر ان کی سنت صفا ومروہ کی سعی کا فریضہ کیوں ادا ہوتا ہے؟۔ اگر کسی کی بیوی ، بہن، بیٹی اور ماں گھر سے باہر جائے تو اس کو پولیس والے اُٹھاکر لے جائیں؟، یہ کونسی عربی، ایرانی اور افغانی غیرت کا تقاضا ہوسکتا ہے؟۔
طالبان جنگجو ہیں۔ حضرت نُسیبہ( ام عمارہ) بہادر انصاری صحابیہ وہ تھیں، جب بہت مرد احد میںبھاگ چکے تھے تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ” جب میں دائیں دیکھتا تھا تو نُسیبہ ہے، بائیں دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے، سامنے دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے”۔پانی لانے کی خدمت پر مأمور تھیں۔ جب دشمن کے حملوں کا زور دیکھا تو نبیۖ کا ہر طرف سے دفاع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں بھی بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور جب فوت ہوگئیں تو غسل دینے والی خاتون نے کہا کہ ”جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر تیر یاتلوارکے زخم کا نشان نہ ہو”۔
اگر افغان طالبان اپنی غیرت کو پسِ پشت ڈال کر ملاعمر کے دور میں بھی افغان لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ کرتے بلکہ بہترین قسم کی جدید فوجی ٹریننگ بھی دیتے تو امریکہ اور نیٹو کے ناجائز حملوں کے بعدبہت ساری تعداد میں حضرت ام عمارہ کی جانشین خواتین نہ صرف شانہ بشانہ لڑنے کی پوزیشن میں ہوتیں بلکہ جن خواتین کی عصمت دری کی گئی اور جن جوانوں کو سزا کیلئے گوانتاناموبے کی ابوغریب جیل میں پہنچایا گیا تو اس کی بھی نوبت نہ آتی۔ اور مذاکرات کی بجائے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے ایسے بھاگتے کہ عراق و لیبیا کا رخ بھی نہ کرتے۔ دنیا کے دل ودماغ میں یہ تھا کہ افغان خواتین کو یرغمال بنایا گیا اور اس میں امریکہ ، پیپلزپارٹی اورISIکا بھی عمل دخل ہے۔ کیونکہ نصیراللہ بابر کی کہانی منظر عام پر ہے۔ پاکستانیISIسے محبت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کو ہم نے افغانستان میں لاکر شکست دی ۔ امریکیCIAسے خطرہ محسوس کرنیوالے اس کو پاکستان کے خلاف کامیاب سازش سمجھتے ہیں۔ طالبان کس جگہ کھڑے ہیں؟۔ کیا ان کو پھر سب مل کر قربانی کا بکرا بنائیں گے؟۔ ہم نے یہ لکھا تھا کہ ” تحریک طالبان پاکستان کو پرامن راستہ دیا جائے” ۔ نظام کی تبدیلی صرف جنگ سے نہیں بلکہ ایک صالح معاشرہ قائم کرنے سے ممکن ہے۔
جب روس آیا تو افغانستان سے آنے والے خاندانوں نے بڑے شہروں میں پاکستانیوں کا حال مزید خراب کردیا تھا۔ اب طالبان کے ہاتھوں جو افغانی خاندان دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں کیا یہ اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضا ہے؟۔ روس افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آیا اور امریکہ ونیٹو بھی افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آئے۔ پاکستان کو کوئلے کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرنے کے سواکچھ نہیں ملا۔ اگراب پھر دنیا نے افغانستان کے اہم مراکز پرB52طیاروں سے بمباری کرکے قلع قمع کیا توپاکستان خفیہ مدد کی ہمت نہ کریگا۔ افغان جانے اور طالبان جانے کی پالیسی اپنائے گا۔ ایران، ازبکستان اور تاجکستان بھی محتاط رہیںگے۔ قوم پرست افغانیوں کے ہاتھ میں بڑا زبردست موقع ہاتھ آئیگااور افغانی اپنے دشمنوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں؟۔ وہ سب جانتے ہیں۔
مولانا منظور مینگل کی ویڈیو احمد رفاعی کے نام سے سوشل میڈیا پر ہے جس میں یہ بھی بتایاہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی شہید اچھا مطالعہ رکھتے تھے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ہدایہ سمیت فقہ کی معتبر کتابوں میں امام ابوحنیفہ وامام شافعی کی طرف منسوب باتیں بالکل بعد والوں نے فروعات گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی ہیں۔ جو اصولی طور پر غلط اور فروعات ہیں۔
فقہ حنفی میں نماز کے چودہ فرائض میں آخری فرض یہ ہے کہ ” اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنا”۔ بھلے اپنی ریح خارج کرکے نکلے۔ طالب علمی کے دور میں اساتذہ اور مفتی اعظم پاکستان تک سے مسائل پوچھے مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ سلام سے نماز کی تکمیل واجب اور ارادے سے تکمیل فرض ہے تو ریح خارج کرکے ایسے نماز کے فرض کی ضرورت کیوں آئی کہ جو واجب الاعادہ بن جائے؟۔ پھر علامہ ابن رشد کی کتاب میں دلیل دیکھی کہ عبداللہ مغربی نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ” جو نماز کے آخری قعدے میں ہو اور اس نے ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی”۔ عربی الفاظ میں خارج ہونے کی جگہ خارج کرنے سے یہ مسئلہ اخذ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص انتقال کرگیا اور یہ بھی کہ فلا ں فوت ہوگیا یا اس کاانتقال ہوگیا۔ ریح خارج ہونا یا کرنا ایسی بات نہیں کہ اس کی بنیاد پر اتنا بڑا مسئلہ ایجاد کیا جاتا۔ آخری قاعدے تک محنت کی ہو اور پھر ریح خارج ہوجائے تو حدیث کی بنیاد پر ازسرِ نو مشقت اٹھانے سے بچنے کے علاوہ شرمندگی سے بھی بچا جاسکتا ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ کوئی جانتا ہو کہ کون پاس سے رفو چکر ہوا ہے۔ تربت میں میری گھر والی کے چچا نے بتایا کہ نماز میں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ساتھ میں ایک خاتون کھڑی ہوگئی۔ جب سلام پھیرا تو پتہ چل گیا کہ کوئی مرد غلطی سے اپنی بیگم کی شلوار پہن کر آیا تھا۔
غسل اور وضو میں بھی بالکل لایعنی اور لغو فرائض پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر قرآنی آیات کو دیکھا جائے تو جنابت سے غسل، نہانے کا حکم ہے اور وضو کے مقابلے میں نہانے میں مبالغہ ہے۔ اسلئے مبالغے پر فقہی مسالک کے اختلافات بالکل لغو اور لایعنی ہیں، اسی طرح وضو میں سر پر مسح کے حوالے سے جس بنیاد پر اختلاف ہے تو اللہ نے اختلافات والوں کا منہ کالا کرنے کیلئے تیمم میں بھی انہی الفاظ کیساتھ چہرے پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں اختلافات ممکن نہیں تھے۔ اسلئے سر کے مسح میں فرائض کی طرح تیمم کے مسح میں اختلاف نہیں ۔
اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ قاضی اور جج کا فیصلہ ہے۔ قرآن و حدیث میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے اجتہادات کی مثالیں موجود ہیں۔ فصل اور مویشی کا فیصلہ قرآن میں اور بچے کو بھیڑیا کے کھانے بعد دوسرے بچے پر دوعورتوں کے جھگڑنے کا فیصلہ حدیث میں ہے۔اجتہاد کی تقلید نہیں اسلئے کہ بچے کو ایک مرتبہ جس حکمت عملی سے اپنی حقیقی ماں کے حوالے کیا گیا تو دوسری مرتبہ لوگ اجتہاد کے حقائق سمجھ کر یہ فیصلہ نہ کراتے۔ حضرت سلیمان نے مویشی اور فصل میں دونوں کے معاشی صورتحال کا لحاظ رکھ کر فیصلہ دیا تھا مگر قرآن و حدیث کی حکمتوں اور معاشی ومعاشرتی معاملات سے ہمارے علماء بہت دور ہیں۔
نکاح وطلاق کے حوالے سے اتنے مضحکہ خیز مسائل گھڑے گئے کہ اگر ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو علماء کو شریف بھی سمجھنے سے قاصر ہونگے۔ اصول ِ فقہ کی کتاب ”نورالانوار” میں ساس کی شرمگاہ پر اندر سے شہوت کی نظر پڑنے کو نکاح قرار دیا گیااور باہر سے عذر قرار دیا گیا ۔ عدت میں عورت پر نظر پڑنے کو نیت کے بغیر بھی رجوع قرار دیا ۔ اگر ہاتھ کا لگنا اور شہوت کی نظر کا پڑنا واقعی نکاح ہے جس طرح کہ حنفی اصول فقہ میں ہے تو تعلیمی اداروں اور بازاروں کا واقعی جو فیصلہ طالبان نے خواتین کے بارے میں کیا وہ درست ہے اسلئے کہ ٹچ اور نظر کی شہوت سے تباہی کے مسائل پیدا ہونگے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تصنیف شدہ کتاب ” تین طلاق کے مسائل ” میں بھی بکواسات کو شرعی مسائل کا نام دیا گیا۔ مدارس کے نصاب کے کفریات کا اندازہ عوام کیلئے مشکل ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے ایک مولوی نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ” ایک شخص نے اپنی بیٹی کے بدلے ایک بیوی خرید لی، عورت نے خدمت کی لیکن وہ بیمار تھا اور مباشرت نہیں کرسکااور فوت ہوگیا۔ اب اس کا بیٹا اپنی اس سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟۔ ایک طرف قرآن میں اپنے آباء کی منکوحہ عورتوں سے نکاح کو منع کیا گیا ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اگر ان عورتوں میں دخول کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے اور اگر دخول نہیں کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے؟”۔
میں نے جواب دیا کہ ” عرب میں باپ کی منکوحہ کو وراثت کا مال سمجھ کر جو نکاح کیا جاتا تھا، یہ بھی وہی صورت ہے۔ اسلام تو دور کی بات ہے انسانیت کے بھی یہ منافی ہے کہ عورت کو جانور کی طرح خریدا اور بیچا جائے۔ اللہ نے باپ کی منکوحہ اور بہو کو حرام قرار دیا ہے اور ساس کو حرام قرار دیا ہے اور سوتیلی بیٹی سے بدکاری کے خدشے سے روکنے کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی جوان بیٹی کو چھوڑ کر زیادہ عمر والی ساس سے نکاح کرے اسلئے کافی تھا کہ تمہاری بیگمات کی مائیں۔ حلائل ابناء کم تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔ لیکن جن عورتوں سے شادی کی اور ان کی پہلے شوہر سے بیٹیاں ہوں تو کم بخت انسان ان لڑکیوں کو شکار کرسکتا تھا اسلئے اللہ نے واضح فرمایا کہ” جن سوتیلی بیٹیوں کو تم نے اپنے حجروں میں پالا ہے اور جن کی ماؤں میں تم نے ڈالا ہے ،اگر نہیں ڈالا تو پھر ٹھیک ہے”۔ قرآن کی اس وضاحت سے بدبختوں کو شرم دلائی گئی کہ یہ سوچ غلط ہے۔ قرآن نے جنسی تعلق کا ذکران الفاظ میں کیا ہے کہ ” جب اس نے ڈھانپ لیا اور پھر اس کو خفیف حمل ٹھہر گیا، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے صالح (سلامت) اولاد کی دعامانگی اور جب اللہ نے بیٹا دیا تو پھر اللہ سے شرک کرنے لگے”۔ قرآن نے سخت الفاظ سختی سے منع کرنے کیلئے ارشاد فرمائے۔
محرمات کی آیات سے جو چوتھے پارے کے آخر میں ہیں، جہاں پر محرمات اورحرمت مصاہرت کی بھرپوروضاحت ہے وہاں پر سخت الفاظ سے یہ بھی واضح کردیا گیاہے کہ فقہ حنفی میں حرمت مصاہرت کے نام پر جو گالیاں اوربکواسات لکھے گئے ہیں ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ جب ان بکواسات کو علماء اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کریںگے تو ان کے شاگرد طالبان کی بھی اسلام کے حوالے سے آنکھیں کھل جائیں گی۔ کیونکہ مخلوط فضاء میں کس کا ہاتھ کس کا چھوا ہے اور کس کی نظر کس پر شہوت سے پڑی ہے، سب ایکدوسرے کیلئے حرمت مصاہرت کی وجہ سے محرمات اور عجوبہ روزگار بن جائیںگے۔
قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی اصولی تعلیم میں باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور حلالہ اسلامی اور افغانی غیرت کے منافی ہے لیکن اس کے خاتمے کا اعلان بھی پہلے علماء کو کرنا پڑے گا۔ یہ قرآن کے لعان کے قانون سے زیادہ سندھی، بلوچی، افغانی اور پنجابی غیرت کے منافی ہے لیکن افسوس کہ قرآن کے لعان والے قانون کو نہیں مانتے اور فقہ کی لعنت حلالے کے قانون کو اپنے کلچر کا حصہ بہت منافقت سے بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی ماننے سے انکار کردیا تھالیکن منافقت نہیں کی تھی۔ اکبر بگٹی نے ماننے سے انکار کیا تھا لیکن منافقت نہیں کی تھی۔ علماء ومفتیان اور طالبان تو صحابہ کرام کی طرح نہیں ہیں بلکہ غیرت سے عاری منافقین کا کردار ادا کررہے ہیں۔
اگر داعش خراسان نے افغانستان پر قبضہ کرکے عالمی خلافت کا اعلان کردیا اور پھر امریکہ، روس، اسرائیل، فرانس ، برطانیہ، جرمنی ، آسٹریلیا اور چین وغیرہ کو فتح کرلیا تو کیا جہازوں میں لونڈیاں بھر بھر کر لانا جائز ہوگا کہ نہیں ہوگا؟۔ محرم کو ساتھ میں لایا جائے گا کہ نہیں؟۔ کیا اس طرح کا اسلام دنیا نافذ کرنے دے گی؟ یا پھر مسلمانوں کی خواتین کوبھی سہولت کاری فراہم کرکے لیجائیں گے؟۔ عثمانی خلیفہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں اپنے پاس رکھی تھیں۔ کیا قرآن وسنت سے اس کی اجازت ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تم نکاح کرو، جن عورتوں کو تم چاہتے ہو دو دو، تین تین ، چار چاراور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کرسکوتو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ان سے لونڈیاں مراد نہیں اسلئے کہ لونڈیوں کابھی نکاح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ان سے مراد ایگریمنٹ والی ہیں جس کو شیعہ متعہ اور سعودی عرب والے مسیار اور اہل مغرب گرل فرینڈز، اہل مشرق رکھیل اور داشتہ کہتے ہیں۔قرآن وسنت میں متعہ کا تصور موجود ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ ” اگر اس پر پابندی نہ لگائی جائے تو قیامت تک کوئی زنا نہیں کریگا مگر بدبخت”۔ عبداللہ ابن مسعود نے قرآن کی تفسیر میں متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ ان پر اضافی قرآن کا بہتان قرآن اور ابن مسعود کے خلاف سازش ہے۔ جبکہ بخاری میں ابن مسعود سے حدیث منقول ہے۔افغانی اصطلاح میں آشنا رکھنا جائز نہیں ۔ قوم لوط پر عورتوں کی جگہ مردوں سے بدفعلی کرنے پر تباہی آئی تھی۔ یہ جو کچھ افغانستان میں تباہی ہورہی ہے یہ عذاب کی ایک زبردست شکل ہے۔
اگر عمران خان نے سیتاوائٹ کیساتھ ایگریمنٹ کیا تو باقی داستان اس کی اپنی ہے، قانونی جرائم کیا ہیں اور کیا نہیں ؟۔ اس سے ہماری کوئی غرض نہیں البتہ ٹیرن وائٹ بالکل جائز بیٹی ہے۔ اسلام نے لونڈی کیساتھ نکاح کا حکم دیا تھا تو ایگریمنٹ سے لونڈی مراد نہیں ہوسکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ لونڈی اور غلام کو بھی ایگریمنٹ کا درجہ دیا گیا۔ کیونکہ انسان کسی انسان کی ملکیت نہیں ہوسکتا اور نہ اسلام نے عبدیت کا جواز چھوڑا۔ صحابہ کہتے تھے کہ ہمارا کام بندوں کو بندوں کی بندگی (غلامی) سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی کی طرف لانا ہے۔ عبدیت اور غلامی ایک بات ہے ۔ اسلام غلام اور لونڈی بنانے کیلئے نہیں آیا بلکہ آزادی دلانے کیلئے آیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کوقتل اور عورتوں کی حیاء (عصمت) لوٹتے تھے”۔ جنگی قیدی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے، کلبھوشن اور ابھی نندن سے گھر کی خدمت نہیں لی جاسکتی ۔ عزت کے درپے ہوجاتے۔ بدر میں70قیدی بنائے گئے ،کسی کو غلام نہیں بنایا گیا اور نہ ممکن تھا۔ غلام بنانے کا اصل ادارہ مزارعت کا نظام تھا۔ جاگیردارانہ نظام سے غلام اور لونڈیاں بن کربازاروں میں منڈیاں لگتی تھیں۔ نبیۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ معاشرے میں دو طبقات ہوتے تھے، ایک زمیندار ، وڈیرے، جاگیردار، خان، نواب اور دوسرے مزارعین۔ مزارعین کی حیثیت غلاموں کی طرح تھی۔ وہ اپنا پیٹ نہیں پال سکتے تھے مگر جاگیرداروں کو پورے خاندان سمیت زمین میں اپنی محنت کی آدھی کمائی دیتے تھے۔ ہمیشہ جاگیرداروں کے مقروض اور غمی شادی ، بیماری میں محتاج ہوتے تھے۔ جوانکے خوبصورت بچوں اور بچیوں کو خرید کر منڈیوں میں بیچ ڈالتے تھے۔ جوئے اور سود میں بھی لوگ اپنے بچے ، بچیاں اور بیویاں کسی کے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔آج سودی نظام کی وجہ سے خاندان نہیں پورے ملک غلام بنائے جارہے ہیں۔پاکستان کوبھی بنادیا گیا۔غلامی کے اس نظام سے ادیان نجات دلانے کیلئے آتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اہل فرعون سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی یہی خدمات تھیں۔ قرآن میں اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے” اسلام عوام کو آزادی دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بت پرستی غلام رہنے اور بنانے میں مذہبی جذبے کے تحت تسکین دیتی تھی کہ جیسے وہ کررہے ہیں اور جیسے وہ ہیں اسی طرح سے رہنے میں عافیت ہے۔ دین کا کام اس جمود کو توڑنا ہوتا تھا۔ جب کوئی بھی نبی اپنے وقت میں اللہ مبعوث کردیتا تھا تو ملاء قوم یعنی قوم کے سردار انبیاء کرام کی سخت مخالفت کرتے تھے اسلئے کہ حالت بدلنے میں ان کو اپنی آسائشوں کی موت نظر آتی تھی، خوشحال لوگ جمود توڑنے کا ہمیشہ مخالف طبقہ ہوتا تھا۔ غریب غرباء حضرات انبیاء کرام کی حمایت کرتے تھے اور جن اچھے لوگوں کی فطرت سلامت ہوتی تھی تو وہ امیر اور سردار ہوکر بھی وقت کے نبی کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے۔
معروف صحابی حضرت اسود بہت سخت کالے رنگت کے غلام تھے۔ دور دراز سے سفر طے کرکے نبیۖ کی آغوش میں اسلئے پہنچے کہ غلاموں کو عزت ملتی تھی۔ جیسا سنا تھا ویسا بلکہ اس سے بڑھ کر پایا۔ ایک دن نبی ۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ ساری مرادیں اور خواہشات پوری ہوگئیں، ایک آرزو ہے کہ شادی بھی ہوجائے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” بنو کلب کے سردار کے پاس جاؤ، اور کہو کہ مجھے نبی نے آپ سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنے کیلئے بھیجا ہے”۔ حضرت اسود نے اتنی ہمت صرف حکم کی تعمیل کیلئے کردی ۔ سردار نے اعزاز واکرام کیساتھ استقبال کیا کہ نبی ۖ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے ۔ پیغام سن لیا تو ہکا بکا ہوگئے اور تعمیل حکم سے معذرت کرلی۔ حضرت اسود جانے لگے تو سردار کی بیٹی نے نبیۖ کا پیغام سن لیا تھا اور اپنے باپ کو بلایا اور کہا کہ میرا رشتہ مانگا ہے، میں تیار ہوں۔ باپ نے بیٹی کی رضامندی کا سن کر حضرت اسود سے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرلیا۔ حضرت اسود نے تیاری کیلئے بازار کا رخ کیا تو جہاد کی منادی سنی۔ان پیسوں سے جہاد کا سامان خریدا ۔ قافلے سے تھوڑے فاصلے پر چلے تاکہ پہچان کر واپس نہ کیا جائے اور چہرے پر نقاب ڈال کرجہاد میں بہادری سے لڑکرشہید ہوئے تو نقاب اٹھانے کے بعد پتہ چلا کہ دولہا اسود ہیں اور نبیۖ کی آنکھیں آنسو ؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ اشکبار آنکھوں سے صحابہ نے لحد میں بہت عزت سے اتارا تھا۔
نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب حضرت زید سے بیاہ دی ۔ حضرت زید غلام نہیں تھے بلکہ بردہ فروشوں نے چوری کرکے بیچ ڈالا تھا۔ چچا وغیرہ آئے اور نبیۖ کو منہ مانگی قیمت کی پیشکش کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی پیسہ نہ دو مگر زبردستی نہ لے جاؤ ۔ حضرت زید نے جانے سے انکار کردیا تو چچا نے طعنہ دیا کہ آزادی پر غلامی کو ترجیح دی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ غلام نہیں میرا بیٹا ہے۔ منہ بولے بیٹے کی بیگم اپنے شوہر سے غلامی کے دھبے کی وجہ سے خوش نہ تھی تو حضرت زید نے اس کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔ نبیۖ نے بہت منع کیا کہ ایک طرف پہلے اس خاتون نے قربانی دی اور پھر طلاق دی جائے تو اس کی حیثیت مجروح ہوگی اسلئے کہ طلاق شدہ اور وہ بھی غلامی کا دھبہ والے شخص کی طرف سے؟۔اس لئے دل میں سوچا کہ یہ روگ کو ختم کرنے کیلئے خود شادی کرلیتے تو ازالہ ہوجاتا مگر خوف تھا کہ لوگ اس کو حقیقی بہو کی طرح نکاح حرام سمجھتے تھے۔ سورۂ احزاب میں بہت بہترین انداز میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر نبیۖ کسی آیت کو چھپاتے تو اس کو چھپاتے۔ (صحیح بخاری)
حضرت داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری اور مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی اپنی کتابوں میں حنفی مسلک کے عین مطابق غلط فہمی کی بنیاد پر لکھ دیا ہے کہ جب نبی ۖ کی نظر حضرت زینب کے جسم پر کپڑے بدلتے ہوئے شہوت سے لگ گئی تو وہ حضرت زید کے نکاح سے نکل کر نبیۖ کے نکاح میں آگئیں۔ جیسے داؤد کی نظر مجاہد اوریا کی بیوی پر پڑگئی تو وہ اوریا پر حرام اور حضرت داؤد کی بیگم بن گئی۔ ان خرافات کیخلاف سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے علماء ومفتیان کی طرف سے مذمت میں کتاب ”اسلام کے مجرم” پر تائیدی تأثرات آئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ” اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہواہے اور یہ پھرعنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔
امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے۔ مدینہ منورہ کی معاشی ترقی کیلئے مزارعت کا خاتمہ بنیاد بن گیا۔ جب محنت کشوں میں قوت خرید کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو بازاروں میں تاجر وں کو خاطر خواہ کامیابی مل گئی۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے تھے کہ ”مٹی بھی سونا بن جاتا ہے”۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ، مولانا محمد یوسف بنوری اور دوسرے اکابر ین اپنی بیگمات کو ایکساتھ رکھ کر ان کی خدمت پر حاجی محمد عثمان کی ڈیوٹی لگاتے تھے کہ یہ بے نفس انسان اللہ والے ہیں۔ مولانا غلام اللہ خان حاجی عثمان کیلئے کہتے تھے کہ ”یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی طرح ہیں”۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، مفتی احمدالرحمن اور ختم نبوت نمائش کا دفتر اپنی اپنی گاڑیوں کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر حاجی محمد عثمان کے مریدوں نے الائنس موٹرز کے کاروبار سے سب کو گاڑیوں سے نواز دیا تھا۔ پھر تصوف کی الف ب سے ناواقف علماء ومفتیان نے بھی پیری مریدی کا لبادہ اُوڑھ لیا اور مذہب کے نام پر تجارت اور کاروبار پیشہ بن گیا۔
پاکستان ،افغانستان، ایران ، ہندوستان، روس ، امریکہ، چین اور دنیا بھر کی ترقی وعروج کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ مزارعت کیلئے لوگوں کو مفت میں اور باغات کیلئے آسان لیز پر زمینیں دی جائیں۔ انسانی بھوک وافلاس کا خاتمہ ہوگا اور چرندے، درندے اور پرندے بھی انسانوں سے محبت کرنے لگیں گے۔
اگر اسلام کی بنیاد پر مزارعت دنیا سے ختم ہوجاتی تو کارل مارکس کو نیانظام بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ” کارل مارکس پیغمبر نہیں تھا مگر صاحبِ کتاب تھا”۔ ائمہ اربعہ کا تعلق عباسی دور سے تھا۔ بنی امیہ کے بعد بھی امام ابوحنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی کا مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دینا اہل حق کی نشانی تھی۔ ویسے تو شہید کربلا حضرت حسین کے دور میں خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی۔ بے گناہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے خون سے حکمرانوں کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے۔ حجاج بن یوسف جیسے لوگوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرکے کئی دنوں تک اس کی لاش کو لٹکا دیا تھا۔ حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق کو پتہ چلا توسوسالہ نابینا ماںبیٹے کی لاش کے پاس آئی اور فرمایا کہ ”شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا ہے؟۔ حجاج نے اس حوصلے کو دیکھ کر بڑا غصہ کیا اور کہا کہ میں نے تیرے بیٹے کی زندگی تباہ کردی۔ حضرت اسماء نے فرمایا کہ ”سودا بہت سستا ہے۔ میرے بیٹے نے تمہاری آخرت تباہ کردی ہے”۔
عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے کہا کہ ”آپ خود بھی متعہ کی پیدوار ہیں” (زادالمعاد۔ علامہ ابن قیم)۔ ابو طالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ دینے سے منع کیا، فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے شوہر کو قتل کرنا چاہا، نبی ۖ نے اسکے شوہر کو پناہ دی۔ مگر وہ عیسائی بن کر نجران گیا۔ نبیۖ نے ام ہانی کورشتے کی پیشکش کردی تو امام ہانی نے منع کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے وہ چچا کی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے آپکے ساتھ”۔ پھر آئندہ شادی سے قرآن میں ہمیشہ کیلئے روک دیا لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے ام ہانی کو ازواج مطہرات میں شمار کیا ہے حالانکہ ان سے نبی ۖکا نکاح نہیں متعہ ہوسکتا تھا۔
حضرت اسمائ73ھ میں فوت ہوگئیں جوحضرت عائشہ سے عمر میں15سال بڑی تھیں ۔ ناممکن تھا کہ21سالہ اسمائ کے ہوتے ہوئے نبیۖ6سالہ عائشہ حضرت ابوبکر سے مانگتے۔ اس وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال تھی جبکہ حضرت اسماء کی عمر31سال تھی اور ایسی عمر تک پہنچنے کے بعدکسی عورت سے نکاح کی رغبت نہیں رہتی ۔نبی ۖ نے40سالہ حضرت خدیجہ سے بھی پچیس سال کی عمر میں نکاح کرلیا تھا اور جب تک وہ زندہ رہیں تو دوسرا نکاح نہیں کیا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ خواب میں حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ آپ کی بیگم ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہو تو پورا ہوگا ۔ شیطان کی طرف سے ہو تو پورا نہیں ہوگا”۔( صحیح بخاری) چونکہ مسلمانوں کی سخت ترین مخالفت کا دور تھا اور حضرت عائشہ کی منگنی مشرک سے ہوچکی تھی جو مظالم کے پہاڑ بھی توڑسکتا تھا۔ اللہ نے اس سے حضرت عائشہ کی نجات کیلئے یہ خواب دکھایا ۔
16سال کی جگہ غلطی سے6سال کی روایت نقل کی گئی تو اس پر فقہ کے یہ مسائل گھڑلئے گئے کہ ” اگر باپ اپنی نابالغ بچی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے نکاح میں دیدے تو یہ جائز ہے”۔ مثلاً حنفی طالب یا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی بیٹی کا نکاح نابالغ ہونے کے باوجودبار بار کرتا ہے، دس بار طلاق ہو تو جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ یہ سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ جب بالغ ہوتو لڑکی جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرسکتی ہے جس میں ولی کی اجازت کا دخل نہ ہوگا۔ ایسے میں افغانستان میں نابالغ بچیوں کیلئے یہ قانون بنانا پڑے گا کہ انکے باپ ان کو کسی کے نکاح میں دیدیں اور بالغ لڑکیاں اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہیں بلکہ شہوت سے ان کا کسی لڑکے سے بوس وکنار بھی حرمت مصاہرت کی وجہ سے حنفی نکاح ہوگا۔
علماء ومفتیان پہلے اپنے درسِ نظامی کے نصاب کو درست کرلیںاور اسلام کو نافذ کرنے کی بات بعد میں کریں۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کا کوئی قانون نہیں بنا ہے لیکن جس سود کو علماء ومفتیان اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر گناہ قرار دیتے تھے اس کو اسلام اور حیلے کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، تنظیم اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان اور اب وہ مدارس بھی شامل ہیں جنہوں نے مخالفت میں فتوے اور کتابیں لکھی تھیں۔ اسلام کو جس طرح پہلے چٹنی اور اچار بنایا گیا تھا اس کا خلاصہ اب پھر سامنے آیا۔ جب سود اور حیلے کی بنیاد پر اس کا جواز اور اپنی ماں سے زنا تک بات پہنچادی گئی ہے تو اس سے زیادہ کہاں تک اسلام ثریا کے پیچھے ان کم بختوں سے چھپے گا؟۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ علینے فرمایا کہ ” رسول اللہۖ نے دوجلد (دو گتوں)میں قرآن کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے”۔ (بخاری) وفاق المدارس کے صدرمولانا سلیم اللہ خان نے اس کی تشریح میں کہا ہے یا پھر مولانا نورالبشر برمی نے خود خیانت کرکے لکھ دیا کہ ” حضرت علی کے اس قول کو صحیح میں امام اسماعیل بخاری نے اسلئے نقل کیا ہے کہ شیعوں پر رد ہو کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو لیکن تمہارے علی اور ابن عباساس تحریف کے قائل نہ تھے۔ اصل میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی اور امام بخاری قرآن کی تحریف کے قائل تھے ، جب حضرت عثمان نے قرآن کو جمع کیا تو عبداللہ بن مسعود کے پاس مصحف تھا لیکن ان کو حضرت عثمان نے جمع قرآن کے معاملے میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جب عبداللہ ابن مسعود کیلئے حضرت عثمان نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی پیشکش کردی تو بھی اس نے ناراضگی کی وجہ سے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری مولانا سلیم اللہ خان مرتب : مولانا نورالبشر)
مولانا سلیم اللہ خان نے پہلے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے نہیں لگایا۔ پھر مولانا سلیم اللہ خان نے شیعہ پر کفر کا فتوے سے رجوع کرلیا تھا۔ مولانا نورالبشر برمی کو چاہیے تھا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے اگر بات کی تھی تو بھی اس کو لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ جب دارالعلوم کراچی سے مولانا انورشاہ کشمیری کی فیض الباری شرح صحیح البخاری کی عبارت پر علامہ غلام رسول سعیدی نے حوالہ دئیے بغیر فتویٰ لیا ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا ہے”۔ تو اس پردارالعلوم کراچی کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔فیض الباری کی اس عبارت کا قاضی عبدالکریم کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک کو خط لکھا تو یہ جواب دیا کہ ”یہ مولانا انور شاہ کشمیری کی تحریر نہیں ۔ کسی نے ان کی تقریر کو نوٹ کرکے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے”۔ میں نے مفتی زرولی خان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا انورشاہ کشمیری کی طرف اس عبارت کو منسوب کرنا غلط ہے۔ اب مولانا سلیم اللہ خان کی بات تو اس سے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے۔ جب میں نے پشاور کی ایک مجلس میں اکابر علماء کے سامنے اس کا حوالہ دیا تو درویش مسجد کے خچر نے کہا کہ ” مولانا سلیم اللہ خان کی تحقیق کو یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف میں علماء ومفتیان تحریف قرآن کا عقیدہ پڑھاتے ہیں۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں ، جو آپ سے نقل کیا گیا ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ تشریح میں لکھ دیا کہ ” لکھے سے مراد لکھا نہیں کیونکہ لکھا ہوا نقش کلام ہے اور یہ نہ لفظ ہے نہ معنی۔ قرآن لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے خبر احاد اور مشہور ۔ بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے ”۔
قرآن کی اس غلط تعریف کی وجہ سے فقہ کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔ جب تحریر لفظ ہے اور نہ معنی ہے تو پھر کلام اللہ نہیں ہوا ۔ جب کلام اللہ نہیں ہے تو پھر اس کو پیشاب سے لکھنے کا جواز بھی بنتا ہے؟۔ پیشاب سے لکھنے کی زیادتی بھی اپنی جگہ ہے لیکن قرآن کی لکھی ہوئی شکل کا انکار کرنا اس کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ پھر اس میں مزید اضافی آیات کا عقیدہ رکھنا اور بسم اللہ کو مشکوک قرار دینا بہت بڑی بکواس ہے۔
افغان طالبان پہلے اس نصاب کو دیکھ لیں جس کو وہ پڑھ کر عالم بنتے ہیں اور جن علماء ومفتیان کی صلاحیت پر وہ بھروسہ کرتے ہیں ان کی حقیقت کو سمجھیں۔ پھر ان کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کفریہ تعلیم پر پابندی لگائیں اور دوسرا کام یہ ہوگا کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے ادارے طلبہ وطالبات کیلئے کھول کر ان سے یہ مطالبہ بھی کردیں کہ ہمارے عقائد اور مسالک کو درست کرنے کیلئے آپ ہمارا ساتھ دیں۔ طالبان اسلامی نظام اور جہاد کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا تھا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ نبیۖ نے آیت میں جن پانچ چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا ہے اس کی تفسیر زمانے نے کردی ہے۔ الساعة سے مراد وقت ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ملائکہ اور روح چڑھتے ہیں تو ان کے ایک دن کی مقدار50ہزار سال کے برابر ہے۔ نبیۖ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا تھا اور آئن سٹائن نے ریاضی سے اس کا ثبوت دیا کہ نظریہ اضافیت میں وقت کی مقدار کا تعین تیز رفتاری کی بنیاد پر کافی مختلف ہوتا ہے مثلاً یہاں کے چند لمحات وہاں کے کئی سال بارش کے ذریعے سے بجلی کا مشاہدہ تھا اور اب بجلی کی تسخیر سے دنیا تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ علم غیب کی دوسری چابی تھی۔ تیسری جب ارحام کا علم ہے۔ جو ایٹم بم کو توڑنے، ایٹمی صلاحیت ، الیکٹرانک کی دنیا سے لیکر فارمی مرغیاں، پرندے اور جانوروں تک بہت ساری چیزوں کا اہم ذریعہ ہے۔ قرآن میں دین کی بھرپور وضاحت ہے۔ فقہ کے نام پر ناسمجھ طبقے کی فضولیات اور بکواسات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں اس کا اہم کردار ہے اور جدید سائنسی تعلیم تسخیرکائنات کے ذریعے سے ہی ہوسکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے قوموں کو عروج اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے قوموں کو زوال ملے گا۔ مغرب نے قرآن کے نظریہ تسخیرکائنات پر عمل کر کے جو عروج حاصل کیا ،آج اس کا نتیجہ ہے کہ طالبان امریکہ سے معاہدہ کرکے اپنے ملک میں داخل ہوسکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے اندر یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ مدارس سے جو فضاء بن رہی ہے یہ دین کا تقاضا ہے۔ میرے سکول کا افتتاح مولانا فضل الرحمن نے کیا اور ٹانک کے تمام اکابر علماء نے تائید کی تھی۔ بیت اللہ محسود نے میری کتاب ”آتش فشاں ”دیکھ کر کہا کہ ” ہماری یہ علمی حیثیت نہیں کہ اس پر تبصرہ کریں”۔ کچھ عزیز وں نے طالبان کو ورغلایا کہ ” یہ ایسا گھرانہ ہے جو کسی کی بیوی بھگا کر کسی سے شادی کرائی۔ کسی کو بیوی بچے نہیں دیتے”۔ طالبان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بدکاری کروائی تھی اور ایسے لوگ اپنی پشت میں بارود بھر کر یامزید مظالم کرکے اپنے ان گناہوں کاازالہ چاہتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv