Month: 2026 جولائی
حافظ ؟جنس پر ستی پر والد کا قتل :
کروڑ لعل عیسن لیہ کا واقعہ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔
واللاتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاOواللذٰن یاتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا و اصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًا رحیمًاOسورہ النساء
”اگرتمہاری عورت فحاشی کرے تو اپنوں میں چار سے گواہی مانگو ،وہ گواہی دیں تو انہیں گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد بدکاری کریں تو دونوں کو اذیت دو اور اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو انہیں طعنے مت دو۔ بیشک توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے”۔(15،16)
مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع اور مفتی ولی حسن ٹونکی نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا۔ آیت15کو سنگساری کی دلیل بنا دیا ۔کچھ نے سورہ نور کی آیت کو متبادل لکھا جہاں کوڑوں کی سزا ہے۔ محکم آیات کی غلط تفسیر تو متشابہات ؟۔ پرائی نہیں اپنی عورتوں کو فحاشی پر گھروں میں نظر بندکرنے کا حکم ہے تاکہ ماحول کو خراب نہ کریں اور مریں یا شادی ہوجائے۔ مردوں کیلئے اذیت ہے۔ تھپڑ ، لاٹھی اور سرمہ دانی جلانے کا معاملہ ہو تو بھی ٹھیک اذیت ہے اسلئے کہ عورت کا توعلاج شوہر مگر مرد تو ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ جیسے حافظ حاشر کیلئے جنسی پیاس کیلئے واحد ذریعہ بدمعاش تھا جس کو پہلے بگاڑ دیا گیا اور بعد میں ایک ہی شخص ملتا ہوگا جس کیلئے باپ کو مار ڈالا۔ حضرت علی نے زندہ نہیں جلایا بلکہ سرمادانی جلادی۔ بے ضمیر مضر ہوتے ہیں اسلئے ان کا ہرممکن اذیت سے علاج ضروری تھا۔ مفتی عزیز الرحمن و شیخ الحدیث نذیر احمد کے علاوہ بے ضمیر لوگوں کو حلالہ سے چھٹکارا ملے تو بھی عزتیں بچانے کیلئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
3 طلاق پر حلالہ
3 طلاق پر حلالہ
پیر نصیر الدین گیلانی
مولاناپیرنصیرالدین: محترمہ کون صاحبہ بات کر رہی ہیں؟
ایک خاتون: جی میں اپنا نام نہیں بتانا چاہتی ہوں۔ مجھے پیر صاحب سے بات کرنی ہے۔مولانا صاحب: جی ضرور کیجیے۔ جی جی فرمائیں، میں سن رہا ہوں۔
خاتون: ہیلو اسلام علیکم جی۔
مولانا: وعلیکم اسلام۔
خاتون: جی مجھے طلاق کے بارے میں ایک بات پوچھنی ہے اگر اجازت ہو تو؟ ۔
مولانا: جی جی۔
خاتوں: ایسا ہے کہ مجھے میرے خاوند نے کتنی دفعہ ہی کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ تو ایک دن اس نے مجھے بہت مارا ہے اور اس نے مجھے کہا ہے اوپر نیچے کوئی چھ سات دفعہ۔پھر میں نے اس کا گھر چھوڑ دیا لیکن کچھ مولانا سے پوچھا تو کچھ کہتے ہیں کی طلاق ہو گئی لیکن کچھ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ کوئی آپ کے پاس کوئی اور گواہ نہیں تھا۔
مولانا: بی بی طلاق کے سلسلے میں یہ جو غیر مقلد حضرات ہیں جو کسی امام کو نہیں مانتے نہ امام ابوحنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ شافعی کو، نہ حنبل کو۔ وہ اجتہاد کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے حدیثیں ہی کافی ہیں بس۔ ہم بحمداللہ امام ابوحنیفہ مانتے ہیں اور ان کے ہم کوئی رشتہ دار نہیں نہ ماموں یا چچا لگتے ہیں۔ ہم انکے علم سے متاثر پوری امت ان کی اقتدا کرتی ہے سمجھ آئی ناں؟۔ انکے خلوص ، محبت اور ان کا جو تفقہ کا مقام تھا تو انکے نزدیک اور میرے دادا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی لکھا فتاوی مہریہ میں کہ تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں۔ پھر حلالہ کے بغیر عورت پہلے خاوند پر جائز نہیں۔ رہا یہ سوال جو غیر مقلد حضرات کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت کہ تین طلاق ایک ہوتی ہے۔ اگر قابل قبول ہوتی تو ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ، امام محمد ، امام یوسف جیسے لوگ ،آج کل کے یہ حضرات ان کے جوتوں کی دھول کے برابر بھی نہیں تو یہ ضرور اس روایت پر فتوی دیتے کہ تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے فقہا ء احناف کے نزدیک تین دینے والا تین واقع ہوتی ہیں۔ لہٰذا آپ ان کی باتوں پر نہ جائیں اگر آپ غیر مقلدہ ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ پھر اس کی سند پر کوئی اعتبار نہیں۔ یہ نہ ہو کہ میل ملاپ میں فعل حرام ہو اور حرام کاری ہوتی رہے۔ احتیاط کریں ،مستند جید احناف اور اہل علم سے رجوع کریں تا کہ صحیح مسئلہ بتائیں۔ میں نے مسئلہ آپ کو بتا دیا کہ طلاق ہو گئی ہے کیونکہ تین الفاظ سے تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
تبصرہ :عتیق گیلانی:
یہ اجتہادی مسئلہ نہیں کہ حلالہ ہو یا نہیں؟۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ درس نظامی کی اصول فقہ ”نورالانور: ملاجیون” میں ہے کہ حلالہ کی طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے ۔ عورت ، شوہراور فیصلہ کرنے والے سبھی فدیہ کا متفقہ فیصلہ کریں، کنفرم ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو حضرت عمر نے تین طلاق، حضرت علی نے حرام پر فیصلہ دیا۔ نبیۖ کے ایلاء پر بھی اللہ نے فرمایاکہ تمام ازواج کو علیحدگی کا اختیار دیں لیکن عورت راضی ہو تو طلاق مغلظ کا تصور اہلحدیث کے امام بخاری نے غلط تراشاہے۔ائمہ مجتہدین کا مطلب یہ نہ تھا کہ قرآن میں صلح کا حکم منسوخ ہے۔اسلام اجنبی بن گیا تو ظہار کا حکم بھی سورہ مجادلہ میں واضح ہوا۔ علماء حق کو اجنبی اسلام ملا تھا۔ نبیۖ سے عورت کا مجادلہ ہوا :”وہ قول منکراورجھوٹ ہے” ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
دورحاضر اور گزشتہ ادوار کے علماء حق کے نام جنہوں حق کوببانگ دہل تسلیم کیا
حضرت مولانا اکرم سعیدی روڈ ایکسیڈنٹ میں مرتبہ شہادت کو پہنچ گئے۔ ڈاکٹر فداء خلیفہ مولانا اشرف سلیمانی نے اپنے ایک ڈاکٹر کا حادثے میں شہادت کا لکھا ہے۔
علماء حق کے قلم کی سیاہی کو شہداء کے خون سے اسلئے ہی افضل قرار دیا ہے کہ ان کا درجہ مصدقین اور صدیقین کا ہوتا ہے۔ مکذبین حق کی تکذیب کرنے والے کافر ہوتے ہیں اور مصدقین حق کی تصدیق کرنے والے صدیقین ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ کو اجنبی اسلام ملا تھا اسلئے سورہ مجادلہ نازل ہوئی۔ جاہلیت کی طلاقیں عورتوں کیلئے اذیت تھیں۔ ظہار کے بعد ناممکن تھا۔حرام پر مغلظہ، اکٹھی تین طلاق پر حلالہ اور طلاق بائن سے تعلق ختم ، رجعی میں عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع ہوتا تھا لیکن افسوس کہ پھر قرآن چھوڑ کر جاہلیت مسلط کی گئی۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیااور چھوڑ دیا۔ علماء حق کا تعلق صرف مسلمان فرقوں یا جماعتوں سے نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے بھی ہے اور علماء سو کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا بلکہ ہرفرقے اور مذہب میں علماء سو ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام علماء حق اور عیسائی یہودی پادری اور ہندو پنڈتوں سے بھی حق سمجھنے کی ایک اپیل کرتا ہوں۔
قرآن میں علماء سو کی مثال گدھوں اور کتے سے دی گئی۔
پنجابی کہتے ہیں کہ ”جتھے دی کھوتی اوتے ان کھلوتی”۔ علامہ محمد اسد یہودی سے مسلمان بن گیاتھا۔ پاکستان کا پہلا پاسپورٹ نمبر000001پندرہ ستمبر1947ء کو جاری ہوا تھااور اس نے اسلام اسلئے قبول کیا تھا کہ قدیم یہودی اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ،قرآن و احادیث میں حلالہ کی لعنت بھی ایک تھی۔ اس بیچارے کویہ پتہ نہیں تھا کہ یہود کے نقش قدم پر ہم مسلمان بھی اپنے دین میں معنوی تحریف کا ارتکاب کرچکے۔ جس کا علامہ انورشاہ کشمیری نے کھل کر تحریری اور زبانی اقرار کیا تھا لیکن حالات کو سدھانے کیلئے موقع نہیں ملا کیونکہ آخری دور1920میں شیخ الہند اور33ء مولانا کشمیری سے کیا ہونا تھا؟۔
سوشل میڈیا اور مواصلات کے ذرائع، لکھنے اور چھاپنے کی آسانی اور پہنچانے میں عدم دشواری اور پڑھے لکھے لوگوں کی بھی اکثریت لیکن19سال ہوگئے اور بہت ساروں کی تائید کے باوجود بھی تاحال تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی لیکن جب آئے گی تو
واذالسماء شقت واذنت لربھا و حقت
چھت پھاڑ کر آئے گی ، انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم المتعال
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ طلاق بہت حساس موضوع ہے
اور نایاب اور حساس کی طرف اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے اور میں بھی نہ دیتا لیکن کئی بار پھنس گیا تو پھرآخر میں قرآن سے دماغ کھل گیا اوراحادیث بھی قرآن کے خلاف نہیں تھیں ۔ علم کی درست بنیادوں پر اچھے علماء کی حوصلہ افزائی بھی دیکھی تھی۔
قرآن میں طلاق کا پہلا ذکر آیت227البقرہ میں ہے۔ جبکہ اس سے پہلے 222،223،224،225،226کی5آیات میں طلاق کے مقدمات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد228،229،230،231اور232کی5آیات میں پھر طلاق کی تمام تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن میں کوئی ابہام نہیں ۔ لیکن قرآن کے سادہ متن کو سمجھنے کے بجائے اس کی بوٹی بوٹی کرکے سمجھنے کی کوشش کریں گے اور کٹے ہوئے بکرے یا بکری کو سمجھنے کیلئے بوٹی بوٹی اور عضو سے سمجھیں گے تو مشکل ہوگی؟۔
علماء حق اور قارئین کے سامنے گر کی بات رکھ دیتا ہوں کہ
وان عزم الطلاق فان اللہ سمیع علیمO البقرہ:227
”اور اگر اس کا عزم تھا طلاق کا تو اللہ سننے جاننے والا ہے”۔
عزم دل میں ہوتا ہے اور اللہ وہ بھی سنتا اور جانتا ہے لیکن یہ کیوں فرمایاہے؟۔ سیاق وسباق آگے پیچھے کو کہتے ہیں۔ اس سے پہلے آیت226میں
تربص اربعة اشھر
کا ذکر ہے۔ چار مہینے کا انتظار ہے۔ آیت228میں
یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء
کا ذکر ہے۔تین ادوار یا تین مہینے کا انتظارہے۔
اگر طلاق کا اظہار کیا تو عدت تین ماہ اور اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو چار مہینے کا انتظار ہے۔
دونوں عدتوں میں ایک ماہ کا فرق ہے۔ اگر طلاق کا عزم تھا اور اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ کی پکڑہے۔ کیونکہ ایک مہینے عورت کاعدت کو بڑھانا خوامخواہ میں یہ بہت بڑا جرم ہے۔ طلاق دینے کا عزم نہیںتھاتو ایک مہینے زیادہ انتظار کا موقع بھی مل جائے گا لیکن اگر عورت راضی نہیں ہوئی تو چار ماہ کے بعد عدت پوری ہے اور وہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ میں رجوع فرمایا ۔اللہ نے حکم دیا کہ ان پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورتیں مسائل کا شکار نہیں ہوں۔ عورت سے اس کا اختیار چھین لینا بہت بڑی زیادتی ہے ۔ جاہلیت میں عورتیں انہی اذیتوں کا شکار تھیںاور سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ماہ عدت بڑھانا دل کا گناہ تھا تو زیادہ عدت بڑھانے کاسوال پیدا ہوتا ہے؟۔ جاہلیت میں شوہر طلاق کا اظہار نہ کرتاتھا تو بیوی بڑی رلتی تھی۔
”اللہ تمہیں لغوایمان پر نہیں پکڑتا مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا” ۔البقرہ آیت225۔شیاطین نے ہر جانب سے اللہ کا حکم بوٹی بوٹی بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ ایک طرف عدت کی مدت بڑھانا، دوسری طرف لغو طلاقیں حرام، مغلظ ، بتہ وغیرہ کی جعل ساز شریعت جس میں الفاظ منہ سے نکلتے تو بیوی سے جدا ہونا پڑتا تھا۔ اللہ نے واضح کردیا کہ ان لغویات سے خدا تمہیں نہیںپکڑتا ہے مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔
قرآن کی آیات کو عربی اور اپنی اپنی زبانوں میں دل نشین کرلو اور پھر احادیث صحیحہ کا درست تجزیہ کرکے خلفاء راشدین کے فیصلوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھ لو اور پھر ائمہ مجتہدین کے مسالک کو سمجھ لو تو اسلام روح، ذہن اور دل کی غذا بن جائے گا مگر قرآن وحدیث کو سمجھے بغیر فقہاء بھی سمجھ میں نہیں آسکتے ۔
میں اسلئے نہیں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک سے مجھے تربیت ملی ہے کہ امام ابوحنیفہ امام اعظم کہلانے کے مستحق تھے بلکہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے بعد امام ابوحنیفہ کے مسلک حق کو سمجھنے میں زبردست مدد ملی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شافعی، مالکی، حنبلی، اہلحدیث اور شیعہ بھی امام ابوحنیفہ کے مسلک کو اپنے دل اور دماغ کیساتھ قبول کر کے اسلام کا پرچم بلند کریں گے۔
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فائوا فان اللہ غفور رحیمO (سورہ بقرہ آیت226)
”ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اپنی عورتوں سے ایلاء کیا ہے چار مہینے کا انتظار ہے پس اگر وہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
باقی لوگ علامہ ابن قیم شاگرد امام ابن تیمیہ وغیرہ اور سب جمہور کے نزدیک یہ آیت طلاق سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ واحد فقیہ ہیں جو اس کو طلاق قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ طلاق کا ذکر اگلی آیت227میں پہلی بار ہواہے لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ آیت227کا تعلق آیت226اور225سے بھی ہے ۔224،223،222تک اس کی جڑیں بہت مضبوطی سے پھیلی ہوئی ہیں۔قرآن کی مثال اس پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے ہر وقت پر اپنا پھل دینے کا سلسلہ رکھتا ہے۔
آیت227البقرہ میں طلاق کے ساتھ گناہ کو باندھ دیا۔ اسلئے کہ آیت226کے ایلاء میں4مہینے کا انتظار ہے اور پھر228میں تین مہینے کا انتظار ہے اور طلاق دونوں میں ہے جبکہ عربی میں طلاق صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ عورت چھوڑنے اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے کو ہی طلاق کہتے ہیں۔
قرآن میں طلاق کے ترازو میں اگرآیت227سے پہلے اور بعد کی آیات کو انصاف کیساتھ وزن کیا جائے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ آیت226میں چار ماہ کی عدت اور228میں طلاق کا اظہار کرنے کے بعد تین ماہ کی عدت واضح ہے۔
مثلاً زاہد نے اپنی بیوی سلمہ سے ایلاء کیا اور طلاق کا اظہار نہیں کیا۔ سلمہ نے4مہینے تک انتظار کیا اور پھر کسی اور شوہر سے نکاح کرلیا۔ سلمہ کو 4مہینے کی عدت میں کتنی اذیت ہوگی؟۔
یاپھر زاہد نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق اور سلمہ نے تین مہینے تک اس کا انتظار کیا تو سلمہ کو کتنی اذیت ہوگی؟۔
دونوں صورتوں میں سلمہ کی ذہنی اذیت کا اندازہ لگا یاجائے تو پہلی صورت میں رجوع کی زیادہ توقع ہوگی اور دوسری میں رجوع کی کم توقع ہوگی اسلئے اذیت میں کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا۔
جمہورشیعہ، شافعی، مالکی، حنبلی، اہل حدیث، ابن قیم ، ابن تیمیہ اور داؤد ظاہر ی وغیرہ کے ہاں تو قرآن میں چار ماہ کے بیان کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔ ساری زندگی ہی عورت نے اپنے شوہر کا انتظار کرنا ہے جب تک کہ وہ زبان سے طلاق کا اظہار نہیں کرتا ہے۔ قرآن کے واضح الفاظ چار مہینے کے انتظار کو ہی ان لوگوں نے شیطانی دماغ سے بالکل لغو بنادیا ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ مسلک حنفی میں15فیصد امام ابوحنیفہ کے مسلک پر عمل ہوتا ہے لیکن باقی85فیصد شاگردوں کے مسلک پر عمل ہورہاہے۔
یعنی امام ابوحنیفہ سے امام ابویوسف وغیرہ سب منحرف ہوگئے تھے۔
یہ امام ابوحنیفہ سے انحراف کا نتیجہ ہے کہ قرآن کی درست تعلیمات سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایلاء کی عدت چار ماہ ہے اسلئے کہ قرآن بالکل واضح ہے مگر شاگردوں نے جمہوری کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ چار ماہ کے بعد طلاق ہوگی اور پھر عورت کی عدت شروع ہوگی اور یوں چار مہینے کیساتھ تین مہینے مزید ملائے جائیں تو عورت کو جعل ساز حنفی مسلک میں7مہینے کی عدت گزارنی ہوگی۔
اس کے بعد پھر ایک بہت بڑا معرکہ شروع ہوگیا۔ مسلک حنفی والوں نے کہا کہ چار مہینے کے بعد نکاح ختم ہوگیا اور باقی کہتے ہیں کہ نکاح برقرار ہے۔ دیکھو یہ دلے کیسے ظالم قصائی بن گئے ہیں۔ قرآن کی آیات کے احکام کو کتوں کی طرح اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔جمہور کہتے ہیں کہ پہلے شوہر کا نکاح باقی ہے اور وہ عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے لیکن حنفی کہتے ہیں کہ عورت پہلے شوہر کے نکاح سے نکل چکی ہے اور عدت کے دن گزار رہی ہے۔ عورت کو چار مہینے پہلے سے شوہر نے ہاتھ نہیں لگایا اور تین مہینے ابھی مزید انتظار کی عدت ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ” مرد کو چار بیویوں کی اجازت اسلئے ہے کہ اگر ہوسکتا ہے کہ دو اور تین عورتوں کے حیض کا وقت ایک ہو اور پھر شوہر کی شہوت کیلئے چوتھی بھی ہونی چاہیے کیونکہ یہ مشکل ہے کہ چار کو ایک ساتھ حیض آجائے”۔
خدا مرد پر اتنا مہربان ہے اور عورت کا اتنا دشمن ہے کہ چار ماہ تک انتظار کیا اور اب تین ماہ مزید عدت گزارنی پڑے گی؟۔ یہ تو حنفی مسلک والے ہیں جن کے ہاں7مہینے بعد تو عدت ختم ہوجائے گی لیکن جمہور کے نزدیک تو7سال میں بھی عدت ختم نہیں ہوگی۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لکھ دیا ہے کہ ” جمہور کا مسلک درست ہے ، احناف کا غلط ہے اسلئے کہ آیت226کے بعد227میں فان عزموا الطلاقہے ۔ ف کو متصل لانے سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی عزم کی گنجائش بھی باقی ہے تو طلاق کہاں ہوئی ہے؟۔ ف تعقیب بلا مہلت ہے۔
ایک آدمی یہ نہیں سمجھتا ہے کہ آخر ف تعقیب بلامہلت میں کونسی گیدڑ سنگی ہے؟۔ بریلوی مکتبہ فکر کے بہت قابل عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” آیت230میں
فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ
(اور اگر اس کے بعد اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ) میں اگر ”ف” تعقیب بلا مہلت کا مسئلہ نہیں ہوتا تو پھر قرآن و احادیث بالکل تقاضہ یہی تھا کہ الگ الگ تین طلاقیں دی جاتیں”۔
جس کا مطلب یہی ہے کہ آیت229میں الطلاق مرتان کو کھینچ کر لانے اور تیسری طلاق سے متصل کرکے یکجا کرنے میں ف تعقیب بلا مہلت کا ہی زبردست کردار ہے۔
حالانکہ نور الانوار میں ملا جیون نے اسکے بالکل برعکس لکھ دیا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک دو مرتبہ کی طلاق کے بعد فدیہ کو جملہ معترضہ مانا جائے اسلئے کہ دو مرتبہ کی طلاق کے بعد خلع کو متصل مان لیا تو پھر آیت230کی تیسری طلاق چوتھی طلاق بن جائے گی اور چوتھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے جبکہ حنفی کہتے ہیں کہ ف تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے اسلئے آیت230کی طلاق کا تعلق اپنے سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ چوتھی طلاق بن جائے گی تو فدیہ کو مقدمہ بناکر شامل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر تیسری طلاق واقع ہوگی۔ پاکستان کے ایک نام حنفی عالم علامہ تمنا عمادی نے اس کو بنیاد بناکر کتاب لکھی جس کا نام ”الطلاق مرتان” رکھ دیا اور خلع والی طلاق سے ہی حلالہ کو منسلک کردیا ۔ اور کہا کہ قرآن میں صرف دو طلاق ہیں اور تیسری طلا ق کا وجود قرآن میں اللہ نے ختم کردیا اور حلالہ کو عورت کے خلع کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ کوئی عورت خلع لے گی تو پھر سزا کی بھی مستحق ہوگی ۔ مرد کی وجہ سے عورت کو سزا کا تصور اللہ تعالیٰ نے بالکل ختم کردیا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے مسلک کا اصل ہدف قرآن چھوڑ دیا گیا تو علامہ تمنا عمادی اور علامہ غلام رسول سعیدی نے آپس میں کتنا بڑا اختلاف کیا اور دونوں حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں؟۔
امام ابوحنیفہ کے مسلک کی صحیح ترجمانی کرنے کیلئے آیت230فان طلقہا کی طلاق کو آیت229میں متصل فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ اگر عام شخص قرآن کی آیت کو دیکھے گا تو کیا نتیجہ نکالے گا؟۔ احادیث کے آئینہ میں اس کا کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے؟۔ اگر یہ سب ہی بات میل کھاتے ہوں تو پھر قرآن کو بھی مانیں۔ احادیث کو بھی مانیں اور انسانی فطرت میں رکھی ہوئی انسانی عقل کو بھی مانیں اور یہ نتائج اخذ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سورس سے بھی اس مسلک کو زبردست تقویت پہنچتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قیم امام ابن تمیہ کے شاگرد نے بھی زاد المعاد میں حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے اسی مسلک حنفی کی تائید کردی ہے۔ وہ خلع کے باب میں لکھتے ہیں کہ ”عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس کو رسول اللہ ۖ نے قرآن فہمی کی دعا دی تھی اور یہ دعا ان کے حق میں قبول ہوگئی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ حلالہ کی طلاق آیت230کا حکم سیاق وسباق کے بغیر نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ آیت229میں جتنے مرحلے بیان کئے گئے ہیں ، ایک یہ کہ الگ الگ مرتبہ طلاقیں اور دوسرا یہ کہ فدیہ کی صورت حال ان سب کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے بغیر حلالہ کا حکم لگانا اور تیسری طلاق کو جاری کرنے کا فتویٰ دینا غلط ہے۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ علامہ ابن قیم کے نزدیک عبداللہ ابن عباس نے بھی وہی موقف اختیار کیا تھا جس کو حنفی کتابوں میں مسلک حنفی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ مختلف ہے۔
جب تک قرآن کا متن اور احادیث کی شرح نہیں دیکھیں گے تو یہی رٹ لگائیں گے کہ دونوں اجتہادی مسالک ہیں اور کوئی بھی صحیح ہوسکتاہے۔ اجتہاد تو اس وقت آئے گا کہ جب یہ مسئلہ قرآن نے حل نہ کیا ہو۔ حدیث میں واضح نہ ہوا ہو۔
آیت230کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آیت229اور231کو سمجھ لیںاور آیت229کو سمجھنے کیلئے آیت228اور230کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی آیت کو سیاق و سباق سے الگ قصائی کی طرح بوٹی بوٹی کرکے سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ٍ ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة اللہ عزیز حکیم(228)
اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین ادوار (تین ماہ) تک اپنے آپ کو روکیں۔اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے ارحام میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور یوم آخرپر یقین رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں اصلاح کی شرط پران کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیںاور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو شوہر وں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور آدمیوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غالب اور بہت حکمت رکھنے والا ہے”۔
مردوں کا ایک درجہ کیا ہے؟۔
عورتوں کو حیض آتا ہے لیکن مردوں کو نہیں آتا ہے یہ ہوا ایک درجہ اور حقوق دونوں کے برابر ہیں معروف کیساتھ۔ایلاء میں عدت چار مہینے یہاں تین ادوار یا تین مہینے اور بچہ ہو تو اس کو چھپایا حلال نہیں اور عدت میں ان کے شوہر اصلاح کی شرط پر زیادہ حقدار ہیں اور عورت عدت کی پابند ہے رجوع کی نہیں اسلئے وہی معروف حق اس کا بھی ہے۔
سب بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ رجوع میں صلح کی شرط اور عورت کے معروف حق رجوع سے انکار کا حق اپنی پچھاڑی کے اندر چھپاتے ہیں۔ عورت کیلئے جیسے رحم مادر میں بچے کا چھپانا حلال نہیں اس طرح مذہبی طبقے کو صلح اور معروف کی واضح شرط کو چھپانا جائز نہیں ہے۔ علماء اور عوام خاص طورپر نوٹ کرلیں۔
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان و لا یحل لکم ان تاخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاولیٰئک ھم الظالمونO (سورہ البقرہ آیت229)
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں کچھ بھی واپس لومگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہوکہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ دی ہوئی چیزقربان کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو پھر وہی لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں”۔
یہ آیت228کی مزید وضاحت ہے۔ عدت کے تیسرے مرحلے میں دو مرتبہ طلاق کے معروف کی شرط پر صلح یا احسان کے ساتھ چھوڑنا ہے۔ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے آیت229میں ۔دیوبندی وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور بریلوی تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں حدیث لکھ دی۔
بخاری میں متعدد مرتبہ عبداللہ بن عمر کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ سمجھایا اور فرمایا قرآن میں یہی عدت و طلاق واضح ہے۔
عورت کی مرضی اور معروف طریقے کے بغیر طلاق رجعی کا حق منکر ہے ۔ شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے بھی رجوع نہ ہوگا اورحنفی مسلک میںنیت نہ ہو تو شہوت کی نظر پڑنے سے بھی رجوع ہوجائے گا۔ دونوں صورت میں مرد کو اختیار دیکر عورت کو اذیت پہنچانے کا سامان کیا گیا ہے اور عبداللہ بن عمر اور امام مالک کے نزدیک بیوی کی گانڈ مارنے کا بھی حق ہے حالانکہ قرآن نے حیض اور اذیت کو واضح کیا تھا۔
عورت کا اختیار ختم کرنے سے اس کی مدت آیت228کی واضح ہدایت تین ماہ کے خلاف جتنی مرضی بڑھاسکتے ہیں۔ پھر آیت229میں احسان کیساتھ تیسری مرتبہ میں طلاق نے واضح کیا ہے کہ عورت کو اسکے حق سے زیادہ مالی حقوق دیدو۔ اور پھر پابند کیا ہے کہ ”جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لینا حلال نہیں ہے”۔ یہ حقوق کیلئے واضح عنوان ہونا چاہیے تھا جس کا ذکر سورہ النساء آیت20میں بھی ہے۔ سورہ النسائ:35میں جدائی کے خدشہ پر دو نوں کے خاندان سے حکم مقرر کرنے کا حکم ہے ،اگر وہ معروف صلح و اصلاح پر راضی ہوں تو اللہ موافقت پیدا کردے گا لیکن اہل سنت نے خوارج سے متاثر ہوکر حکم کے قرآنی تصور کو ختم کردیا ہے۔ حالانکہ آیت229میں بھی حکم کی وضاحت ہے۔ دونوں کو خوف ہو کہ اگر شوہر نے کوئی ایسی چیز دی جو اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں اور حکموں کو ڈر ہو کہ دونوں گتھم گتھا ہوکر جنسی اسکینڈل کا شکار ہوں گے تو پھر عورت کی عزت کے تحفظ کی خاطر شوہر کی طرف سے دی گئی وہ چیز واپس کی جائے جس پر دونوں کیلئے کوئی حرج نہیں ہے اسلئے کہ عورت کی عزت کا تحفظ دئیے ہوئے مال سے زیادہ ضروری ہے۔ جو دیا ہوا مال واپس لینا حلال نہیں تھا تو اس کو بھی عزت بچانے اور اللہ کے حدود توڑنے سے بچنے کیلئے سب کی مشترکہ صلاح سے واپس کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرے تو پھر وہ لوگ ظالم ہیں۔
مذہبی طبقات بشمول کالیا جاویداحمد غامدی نے اللہ کی بیان کردہ ساری حدود کو توڑ دیاہے۔ اللہ نے تیسری مرتبہ طلاق کی وضاحت کرنے کے بعد عورت کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اور یہ دلے اور بے غیرت شرم و حیا سے عاری انسانیت اور قرآن وسنت کے بدترین دشمن الٹی گنگا بہاتے ہیں ۔ عورت کے مالی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔یہ اللہ کے حدود سے تجاوز اور عورت کے حقوق کو پامال کرنے والے یہی ظالم ہیں۔
تیسری طلاق کے بعد دونوںاور حکموں کے کردار کو واضح کیا اور اس میں مجبوری کی حالت میں شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز فدیہ کرنا جس کا اصل کے اعتبار سے واپس لینا غلط تھا لیکن عورت کی عزت اور اللہ کے حدود کا تحفظ ضروری تھا۔ ایسا کہ جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن بقدر مجبوری جائز ہے اور اس صورتحال سے عزیز حکیم خدا نے قیامت تک مخلوق خدا کے پاس پیغمبر نہیں بھیجناتھا اسلئے بھرپور طریقے سے وضاحت کردی کہ یہ وہ شکل ہے جس میں آیت229کے مطابق معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی نہیں ہے اور جب یہ کنفرم ہو پھر بھیڑئیے سے زیادہ بڑے ظالم معاشرے سے بچانے کیلئے پھر آیت230البقرہ کی زبردست وضاحت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کو تو چھوڑ دیں قبائلی معاشرہ ہے۔ سندھی، پنجابی، بلوچ اور پختون معاشرے میں اقدار کا مسئلہ ہے لیکن برطانیہ میں تو اقدار کا مسئلہ نہیں ہے لیکن طلاق کے بعد پھر بھی لیڈی ڈیانا کسی اور سے جنسی تعلق قائم کرنے پر قتل کردی جاتی ہے۔
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبنھا لقومٍ یعلمون O
”پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پھر اگر وہ طلاق دے تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ دونوں گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم کر سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو اللہ واضح کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت230)
تقی جان نے اپنی بیوی کو آیت229کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں، اس کی بیوی مرجانہ نے اس خوف سے کہ آئندہ سابقہ پڑے گا تو اس کے دئیے ہوئے ایک کمرہ کو بھی واپس کردیا اسلئے کہ فیصلہ کرنیوالوں نے کہا کہ تقی مرجان یہ کمرہ خریدنے کی استعداد نہیں رکھتا ہے۔ اور کمرے میں آنا جانا رہا تو سابقہ شوہر ہونے کے ناطے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا ڈر ہے۔
پھر مرجانہ نے اس کے بھائی رفیع سے شادی کرلی اور کچھ عرصہ کے بعد رفیع نے بھی طلاق دی۔ اب تقی اور رفیع دونوں آپس میں سگے بھائی بھی ہیں اور پڑوسی بھی ہیں لیکن معاملہ یہ بھی ہے کہ رفیع کے پاس مضبوط جنسی طاقت ہے اور تقی مردانہ کمزوری کا بدترین شکار ہے۔ اگر تقی اس کی سابقہ بیگم مرجانہ کو دوبارہ آپس میں رجوع کرنا ہے تو اس وقت کرسکتے ہیں کہ ان دونوں کو یہ گمان ہو کہ اللہ کی حدود پر دونوں قائم رہ سکیں گے مگر یہ یقین نہیں ہو بلکہ مرجانہ کا اس طلاق کے بعد رفیع کیساتھ پھر بھی ناجائز جنسی تعلقات میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو تو دونوں کو رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی حدود کو ڈبر ڈوس کرتے رہے ہیں گے اور یہ حالات دیکھ کر آیت229اور230میں فیصلہ کرنے والے فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس وقت دونوں میں یہ خوف ہوگا کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیںگے۔ رہایہ کہ آیات میں تو واضح ہے کہ تقی اور مرجانہ جنسی تعلق سے اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے لیکن دوسری آیات میں تو رجوع پر تقی اور مرجانہ کے اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خوف ہے؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب مرجانہ اور رفیع جنسی تعلق استوار کریںگے تو تقی مرجان دونوں کو قتل بھی کرسکتا ہے اور سورہ نور میں لعان کا حکم ہے قتل کی اجازت نہیں ہے۔مرجانہ جنسی لذت میں اسکینڈل کا شکار ہوگی اور تقی مرجان قتل بھی کرسکتا ہے۔
اب امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کو سمجھنے میں آسانی ہے کہ نورالانوارمیں ملاجیون نے آیت230کی طلاق کو فدیہ سے آیت229کے عین مطابق کیوں منسلک کردیا ہے؟۔
جواب بالکل واضح ہے کہ میاں بیوی اورفیصلہ کرنے والے تیسری طلاق کے بعد ایک متفقہ فیصلہ کردیتے ہیں کہ حلال نہ ہونے کے باوجود عورت کی طرف سے خنزیر کے گوشت کی طرح شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز کو قربان کرنے کا مطلب واضح ہے کہ عورت اب رجو ع کیلئے راضی نہیں اور جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں اور یہ بات پہلے بھی تمام آیات میں واضح ہے لیکن مذہبی طبقات کو سمجھ میں نہیں آرہی تھی اسلئے آیت230میں زبردست قسم کی وضاحت کردی کہ جب تک کسی اور کیساتھ نکاح نہ کرلے تو وہ پہلے شوہر کیلئے حلال قطعی طور پر بالکل بھی نہیں ہے۔
جب عورت راضی نہ ہو تو آیت226کے مطابق ایلاء کی صورت میں بھی رجوع جائز نہیں ہے جس میں طلاق کا سرے سے اظہار بھی نہیں ہے۔ آیت تتخیر اور بخاری کی روایات میں یہ بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تو اللہ عورتوں کو علیحدگی کے اختیار کو واضح کرنے کا فرمایا اور یہ کوئی تنگ کرنے اور تفریح لینے کیلئے نہیں تھا بلکہ عورت کے حق کو واضح کرنے کیلئے تھا۔ اگر یہ واضح نہیں ہو تو شوہر بیوی کو چار ماہ کیلئے ناراض ہوکر چھوڑ دے گا اور وقت سے پہلے رجوع کرلے گا اور شوہر کو طاقتور ہونے کے باوجود ایک غلط بالادستی کا شرعی قانون ہاتھ میں آئے گا لیکن یہ ظلم خدا نے نہیں کیا ہے بلکہ اللہ کی حدود کو عبور کرنے والے ظالم مذہبی طبقات کا یہ کام ہے۔
امام ابوحنیفہ نے زبردست کمال کردیا کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھنے کیلئے علت نکال لی کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہوگی تو آیت230کے مطابق حلال نہ ہونے کا حکم لاگو ہوگا۔ جو صرف آیت230میں ہی واضح نہیں ہے بلکہ آیت228میں بھی واضح ہے اور آیت229میں بھی معروف کی شرط پر واضح ہے اور آیت230کے بعد آیات231اور232میں بھی معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر واضح ہے۔
لیکن جب عورت راضی ہوگی تو آیات228،229میں عدت کے اندر اور آیات231،232البقرہ میں عدت مکمل ہونے کے بعد بھی اللہ نے رجوع کو بالکل حلال قرار دیاہے۔ اور ان سب کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ نے یہ درست مؤقف ائمہ اہل بیت امام باقر اور امام جعفر صادق سے سیکھ کر اختیار کیا تھا۔ امام زید کا مسلک بھی اس سے ہٹ کر تھا۔ ان کی کتاب المجموع میں یہ ہے کہ الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن امام زید کا یہ مسلک عبداللہ بن عمر کے ہی مطابق تھا۔ جس کو بعد میں فاطمی خلافت نے فقہ جعفریہ کے طور پر پھیلادیا تھا ۔ علامہ شمس الدین حسن شگری نے درست کہا کہ شیعہ نے اہل سنت سے اصول فقہ اور دوسری تعلیمات حاصل کیں اور اہل سنت نے شیعہ سے حضرت عمر کا دن منانا سیکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ علامہ شمس الدین شگری کا مقصد کسی طرح سے اپنے ہم مذہب کو اس بات سے فائدہ پہنچانا ہے اور سب کا یہ حق اور دل کی تمنا ہے کہ جو حق یا اپنے ماحول کے مطابق کوئی بات لگے تو اس کو تقویت دی جائے۔ آیوش ملک جب محمد علی بن گیا تو ایک ہندو پنڈت کی باتیں بہت عمدہ تھیں لیکن وہ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہاہے کہ ایوش ملک گائے کو بچانے گیا ہے۔
امام ابوحنیفہ اور ائمہ اہل بیت کے مسلک کو بنوامیہ ،بنوعباس اور تمام فقہاء ، محدثین ، معتزلہ اور اہل ظواہر وغیرہ قبول کرتے تو قرآن سے امت دور نہیں ہوتی اور قرآن سے امت کے دور ہونے کا قرآن میں ذکر ہے جب عالمی اسلامی خلافت قائم ہو تو اس کیلئے اصل بنیاد یہی ہوگی کہ امت مسلمہ نے قرآن کو بڑا ذبح کردیا ہے۔پتہ نہیں کیا کیا بکواسات مسلسل بول رہی ہے اور نت نئے فتنے پیدا ہورہے ہیں ۔لیکن قرآن کا سادہ ترجمہ تک بھی نہیں آتا ہے ورنہ تو جو ترجمہ کیا جارہاہے ایک آیت کی دوسری آیت سے تردید ہورہی ہے معانی الٹ دئیے گئے ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جو قرآن کے منافی ہو۔
صحاح ستہ کے مصنفین ائمہ مجتہدین کے بعد کی پیدوار ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس پر ائمہ کا تفاق ہو کہ اس میں اکٹھی تین طلاقیں ہیں اور اس حدیث پر سب کا اتفاق ہے لیکن صحاح ستہ میں جمہور کے عنوان سے احادیث کا مجموعہ نقل کیا گیا ہے جس میں اکٹھی تین طلاق کے واقع ہونے کے دلائل بتائے گئے ہیں۔ درس نظامی میں اسلئے پہلے فقہ میں پختہ کردیا جاتا ہے اور آخر میں دورہ احادیث پڑھاتے ہیں۔
مولانا سلیم اللہ خان فقیہ نہیں محدث العصر تھے اور ان کا بڑا کمال ہے کہ سمجھ میں غلطی کھانے کے باوجود اپنی بخاری کی شرح ”کشف الباری ” میں بہت سارا مواد بہت بہترین انداز میں جمع کیا ہے اور علامہ غلام رسول سعیدی نے تو بخاری ومسلم کی شرح کے علاوہ تبیان القرآن میں بڑا مواد جمع کردیاہے۔
امام ابوحنیفہ و امام مالک کے ہاں اکٹھی تین طلاق بدعت ہے ،دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ”ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو تین طلاق دی نبیۖ اس پر غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟”۔(سنن نسائی)
امام شافعی ان دونوں کے شاگرد اور شاگرد کے شاگرد تھے لیکن ان کا موقف تھا کہ اکٹھی تین طلاق دینا سنت ہیں اور اس کی دلیل عویمرعجلانی کی لعان والی روایت ہے۔ جبکہ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے اور ان کے دونوں طرف پر ایک ایک قول ہے کہ سنت بھی ہے اور مباح بھی ہے اسلئے ان کو فقہاء کی فہر ست سے زیادہ محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ صحاح ستہ والے ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد ہیں۔
اب قضیہ کھڑا ہے صرف دو احادیث پر اور دونوں پر اتفاق نہیں ہے اور امام احمد بن حنبل نے ڈھیر ساری احادیث لکھیں لیکن اپنا کوئی مضبوط قول یا یکطرفہ موقف پیش نہیں کرسکے۔
اما شافعی نے الگ دکان نہیں بنانی تھی بلکہ ان کو علم ہوا کہ یہ محمود بن لبید کی روایت میں اشخاص کا ذکر نہیں۔ وہ خود چھوٹے صحابی تھے۔ اور بعض روایات میں تصریح ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر کا واقعہ ہے تو اس کو اکٹھی تین طلاق کیلئے بدعت کی دلیل بنانا غلط ہے جبکہ نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم بھی دیا تھا۔ جبکہ عمریمر عجلانی کی روایت مضبوط ہے جہاں نبی ۖ کی موجودگی میں لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں۔
حنفیہ و مالکیہ کی طرف سے جواب یہ ہے کہ شافعی کے ہاں لعان خود طلاق ہے تو اس کے بعد تین طلاق سنت قرار دینا غلط ہے۔ جبکہ لعان کی صورت اور عام حالات میں طلاق دینے کا معاملہ مختلف ہے۔ جب نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کے معاملہ پر غصہ فرمایا اور رجوع کا حکم دیا تو پھر اس عمل کی ترویج سنت نہیں بدعت ہے۔ یہ ہے فقہ و مجتہدین کے اختلاف کا پس منظر۔
اسکے بعدیہ معاملہ کہ تمام فقہاء کا اس پراتفاق تھا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں؟۔ اس کا ایک حکومتی پس منظر ہے کہ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر پھر بھی کہا جائے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور مرد کا حق رجوع بھی عورت کے راضی نہ ہونے کے باوجود بھی باقی ہے تو یہ قرآن کی جملہ آیات کے بالکل خلاف ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو قرآن و حدیث میں واضح ہے کہ ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر رجوع کا حق دیا جائے تو سال میں شوہر اپنی بیوی کے پاس تین مرتبہ جائے گا تو بھی یہ حق حاصل ہوگا؟۔ خدا نے ظلم نہیں کیالیکن یہود کے پیروکاروں نے خود پر یہ ظلم کیاہے۔
اسلئے اجماع کا یہ مؤقف درست ہے کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ، حرام ، تین طلاق ، ایک طلاق اور ایلاء کسی صورت میں بھی عورت راضی نہیں تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن اگر میاں بیوی راضی ہوں تو پھر الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی رجوع ہوسکتا ہے اور قرآن سے بھی یہ ثابت ہے اور حدیث بھی ثابت ہے۔
قرآن کی تو ایک ایک آیت میں طلاق سے رجوع کو عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد سورہ بقرہ کی آیات اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں معروف کی شرط واضح ہے اور منکر رجوع کی ایک ہی جگہ آیت230البقرہ میں واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اس کا تعلق عورت کی طرف سے یہ کنفرم ہونے کے بعد ہے کہ وہ فدیہ سے رجوع نہیں چاہتی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ ،ائمہ اہل بیت اور مجتہدین کا موقف تھا۔
امام بخاری اور امام ابوداؤد کے بارے میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے اور ابوداؤد ان کے مسلک حنبلی پر بھی تھے۔ جس نے یہ واقعہ نقل کیا کہ جب رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔پھر گواہ بنالئے اور خدا کا خوف کیا اور اسکو اسکے گھر سے قرآن کے مطابق نہیں نکالا۔ دوسری شادی کی اور دوسرا گھر بنایا تو جب اس کو طلاق دی تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی تلاوت کرتے ہوئے ام رکانہ سے رجوع کا فرمایا اور ممکن ہے کہ ام رکانہ کیلئے یہ ایک طرح کی سفارش ہو تاکہ رضامند ہو اور پھر جب رکانہ نے خود تین طلاق اکٹھی دیں تو نبیۖ نے اسلئے قسم نہیں کھلائی کہ فیصلہ قسم پر کرنا تھا بلکہ غلط حرکت پر ڈانٹ سے بچنے کا یہ طریقہ تھا ورنہ تو حضرت عمر نے قتل کی پیشکش کی تھی اور نبیۖ کو علم تھا کہ پہلے جس طرح کی بے غیرتی کا ماحول تھا کہ ایک عورت10افراد سے بھی نکاح کرتی اور لاتعداد کیلئے بھی جھنڈا لگاتی اور کمزور خاندان والے اپنی بیگمات بھی طاقتور خاندان کو حاملہ بنانے کیلئے سپرد کریتے اور حجاج بن یوسف کی طرح کم ذات لوگوں نے اسلام کو پھر اجنبی بنانا تھا لیکن جاوید غامدی الٹی گنگامیں سرکے بل ننگا کھڑے ہوکر قرآن ، احادیث اور فقہاء ومجتہدین کے خلاف رکانہ کی اس روایت سے دلیل پکڑ رہاہے۔ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اسلئے انہوں نے تین طلاق سے رجعی کا حضرت عمر کے خلاف غلط تصور پیش کیا تھااور باپ بیٹے کو پتہ ہوتا کہ بعد میں کیا معاملہ بن جائے گا تو اسی وقت اجتماعی دماغ کو بلاکر فیصلہ کیا جاتا کہ عبداللہ بن عمر کی بیگم نے غل غپاڑہ مچایا ہوا تھا کہ مجھے طلاق دی اسلئے رجوع کا حکم دیا گیا اگر وہ رجوع نہ کرنا چاہتی تو نبیۖ وہی فیصلہ بھی اس وقت دیتے جو حضرت عمر نے بہت بعد میں دیا۔ عبداللہ بن عمر کی طرف بہت کچھ منسوب ہے لیکن اصل بخاری میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ فرماتے” ۔اور اسی سے طلاق رجعی کا غلط مفہوم بعد میں رائج کردیا گیا ہے۔ نبیۖ واقعی دو مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کا حکم نہیں دیتے لیکن اگر تین مرتبہ طلاق بھی دیتے اور آپس کی رضامندی سے رجوع کرتے تو نبیۖ کبھی منع نہیں کرتے جیسے رکانہ کے والدین کا واقعہ ہے۔
عبداللہ بن عباس کے فتوے اور عمل میں تضاد نہیں تھا بلکہ جب تین طلاق کے بعد عورت راضی نہیں ہوتی تھی تو رجوع کا حکم نہیں دیتے تھے اور جب عورت راضی ہوتی تھی تو رجوع کا حکم دیتے تھے۔ احادیث میں تطبیق ہے لیکن کاروباری طبقات نے مدارس کو تجارت بنایا ہوا ہے۔ میرے استاذ مفتی محمد نعیم کو مفتی تقی عثمانی نے وفاق سے نکلوانے کی دھمکی دیکر روکا تھا اور اب بھی علماء حق پر گوپالوں کا قبضہ ہے اورجلد انشاء اللہ ختم ہوگا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
وجعلواالقرآن عضین اور قرآن کو بوٹی بوٹی کیاانّ قومی اتخذوا ھٰذا قراٰن مھجورا بیشک میری قوم نے یہ قرآن کو چھوڑ رکھاہے۔ (القرآن)
وفدیناہ بذبحٍ عظیمٍO
اورہم نے اس پر قربان کیا ذبح عظیم کو(الصافات:107)
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
دین قائم حمزہ کے کلیجے ہند کی معافی سے
صحابہ کی استقامت ہے رسول کا صبر جمیل
قرآن کو اقتدار، تجارت، اثر ورسوخ ، مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔ خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ وبنوعباس نے قرآن کواپنے مفادات کیلئے ذبح کیا۔ امام حسین کی شہادت نہ ہوتی تو حلالہ کی لعنت کا امت میں لنڈا بازار نہیں لگ سکتا تھا۔
رسول اللہ ۖ نے حضرت عمر کے بعد طوفان سمندر کی مانند موجزن فتنے کا بتایا اور بند دروازہ توڑنے کی وضاحت کی
علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی پیدائش1848وفات1888نے تین طلاق کو ایک قرار دینے کا فتویٰ دیا اور مولانا رشیداحمد گنگوہی وفات1905نے فتاوی رشیدیہ میں نقل کیا اور مفتی کفایت اللہ نے غیرتمندوں کیلئے یہی موزوں قرار دے دیا۔
2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز پر ”جوہری دھماکہ” کتاب کوقبول عام کا درجہ ملا، پھر آتش فشاں بھی مقبول ہوئی ۔2007ء میں حلالہ کی لعنت کے خلاف دلائل شائع کئے تو ہم پر دہشت گردانہ حملہ کروایا گیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور اس وقت اس ذبح عظیم کی قربانی کے بعد حلالہ کی لعنت سے ہم مسلک لوگوں کی جان چھڑائی جاتی تو بھی بہتر تھا مگر دجال سے بدتر علماء سوء نے ہٹ دھرمی اور علماء حق نے حمایت کی۔ عائلی قوانین1964ء پر بھی جسٹس عائشہ ملک کا فیصلہ آیا۔الحمدللہ
1982تا1988تک کراچی کی مقدس گائیوں مفتی اکابر کی ہلال احمر سے بدرتک زوال ،عروج اور گٹھیا پن دیکھ لیا۔ مولانا محمد بنوری شہید حاجی عثمان کے ہاں مولانا عبدالمجید ندیم و دیگر علماء کو لاتاتھا جو1998ء میں انتہائی بے شرمی، بے غیرتی سے قتل ہوا ۔ پروفیسر علی محمد ماہی نے1947سے قرآن کی47نمبر سورہ محمد کو جوڑا تھا ۔1987تا1991ء سورہ اعلیٰ تا الفجر کی مناسبت ۔ یوم الفصل عظیم انقلاب کیلئے1999اور99ویں سورة زلزال کا بتا یا کہ خیر وشر کا ذرہ ذرہ دنیا دیکھے گی۔
قرآن کے ذبح عظیم کا منظر
المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبة (قرآن کی تعریف)
” جو رسول ۖ پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہواہے جو ان سے نقل ہوا ہے تواتر کیساتھ بغیر کسی شبہ کے”۔ مصاحف میں لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ، مصحف پر حلف نہیں ہوتا۔ علاج کیلئے ضرورت پڑنے پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے۔نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئی ہیں مگر شافعی کا یہ مسلک ہے حنفی کے نزدیک غیر متواتر بھی قرآن ہے اور حنفی کے نزدیک جوحدیث صحیحہ ناقابل قبول ہیں وہ شافعی کے ہاں قابل قبول ہیں۔ یعنی قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ پر اتفاق نہیں ہے۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اور صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے اور کسی آیت کا منکر کافر ہے لیکن بسم اللہ میں شبہ زیادہ قوی ہے اسلئے اس کے انکار سے کافر نہیں بنتا۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے ،یا تو مغالطہ سے یہ کیا یا جان بوجھ کر ۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)
ناکام وکیل شمس العلماء شبلی نعمانی،خلافت عثمانیہ کے خلاف سازش میں ملوث حمیدالدین فراہی، امین حسن اصلاحی، جاوید غامدی کا شجرہ معلونہ دور جدید کا سازشی معتزلہ طبقہ ہے۔ قرآن کی تحریف لفظی و معنوی کیلئے دم اٹھائے گھومتا ہے۔ طلاق سے رجوع کیخلاف قرآن میں معنوی سازش کا ارتکاب بنومروان دور میں ہوا تھا جسکے بارے میں ابوداؤد کی روایت ہے کہ وہ جھوٹ بھی اپنے ہواخارج کرنے کی جگہ چوتڑ سے نکالتے ہیں اس کو جاویدغامدی پدو مار نے پھر تحفظ دینے کی کوشش کی ہے۔
بعل:
ازدواجی تعلق والا شوہرہے۔ البقرہ آیت228میں طلاق کا روڈ میپ یہ کہ عدت تک عورت انتظار کی پابند ہے اور بعل اصلاح و معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدارہے۔ آیت229میں معروف کی شرط پر تین مراحل میں رجوع کی اجازت پر عمل ہو یا احسان کیساتھ چھوڑنے کا عمل ہو تو تفصیل کیساتھ عورت کی طرف سے فدیہ دینے تک بات پہنچے تو آیت230میں بعل نہیں بلکہ نکاح ہے۔ حجاج نے سعید بن جبیر فقیہ کو95ھ میں اسلئے شہید کردیا کہ وہ کہتاتھا بعل بنانے کی ضرورت نہیںہے۔قرآن میںبعل نہیں تومحلل و محلل لہ دونوں لعنتی ”بعل ”سے عزت خراب کرنا انتہائی بھیانک ہے ۔
علماء حق اور غامدی میں فرق
جاویداحمد غامدی قرآن کے لفظی تحریف کا بھی قائل ہے اور معنوی تحریف کیلئے تو اس کے شب و روز کا دھندہ لگاہوا ہے۔
جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہے اور حدیث میں رسول اللہ ۖ نے اپنے اجتہاد سے طلاق کا مسئلہ حل کیا اور اجتہاد میں غلطی اور اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ رسول اللہ ۖ نے اجتہاد کیا کہ کوئی تین طلاق کہے تو اس کی نیت پوچھی جائے اور وہ ایک طلاق کا بتائے تو ایک پر فتویٰ دیا جائے لیکن حضرت عمر نے اس اجتہاد سے اختلاف کیا اور اس کی گنجائش تھی اور تین کو ایک قرار دیا جس کی طرف امت مسلمہ گئی اور میں سمجھتاہوں کہ نبیۖ کا اجتہاد درست تھا۔
علماء حق اور جاوید غامدی میں الٹی گنگا بہانے کا ہی فرق ہے جس کی آسان مثال یہ ہے کہ علماء حق منہ سے کھاتے ہیں، پھر گلے سے معدہ اور آخر میں پچھاڑی سے فضلہ نکالتے ہیں جبکہ جاوید غامدی پچھاڑی سے معدہ اور حلق کی راہ منہ سے نکالتاہے کیونکہ بنیاد قرآن و حدیث کی جگہ عقل و قیاس کو بنارہاہے۔
فتاویٰ رشیدیہ میں مولانا رشیداحمد گنگوہی اور شیخ الہند نے شاگرد مفتی عزیز الرحمن عثمانی کا فتویٰ اپنے کے خلاف مان لیا۔ مفتی عزیز الرحمن کے بیٹے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کو شرح صدر40سال پہلے ہوتا تو انکے والد حق کا اعلان کرتے۔ احمد آباد ہندوستان میں حلالہ پرسیمینار1972ء میں علماء دیوبند اور جماعت اسلامی نے مقالے پڑھے اور پیرکرم شاہ الازہری کے رسالے کو بھی اسکے ساتھ لاہور سے شائع کیا ہے۔
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
نظر نہیں تو میرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
تیر لیے ہے میرا شعلۂ نوا قندیل
آؤ میرے ساتھ میراث علم کی پاسبانی کیلئے
حملہ آور ہیں کمینے بے غیرت اوربڑے رذیل
حضرت داؤد کے نام لیوا یہود
یہودی حضرت داؤد موسٰی ،حضر ت الیاسانبیاء کے سلسلے کو مانتے ہیں اور حلالہ کی لعنت میں بھی مبتلا ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے۔
لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لایتناھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلونO(المائدہ78،79)
”بنی اسرائیل میں جو کافر ہوئے لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے اسلئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ وہ منکر سے نہیں منع ہوتے تھے جو وہ کررہے تھے کیسا برا کام ہے اور جو وہ (شہوانی لذت کا چسکا تھا) کرتے تھے”۔
بنی اسرائیل کے کچھ لوگ حلالہ کی لعنت کی وجہ سے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے لعنت کے مستحق ٹھہرے تھے اور یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر حلالہ کی لعنت اور کرنے اور کروانے والے رسول اللہۖ کی زبان مبارک سے حلالہ کی لعنت کے مستحق ٹھہر گئے ہیں۔ لعنت حلالہ کے پیشواؤں نے ابھی سودی نظام کو بھی حیلے سے اسلامی قرار دیا ہے۔ عوام کے سامنے بالکل اب کھل کر آگئے ہیں۔ الحمدللہ
ترٰی کثیرًا منھم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لھم انفسھم ان سخط اللہ علیھم وفی العذاب ھم خالدونOلو کانوا یؤمنون باللہ والنبی و ما انزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولکن کثیرًا منھم فاسقونO( المائدہ:80،81)
” آپ دیکھتے ہو ان میں بہت جو متولی بنتے ہیں کافروں کے تو برا ہے جو انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجا وہ یہ کہ ان پر اللہ کا غضب ہو اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں اور اگر وہ اللہ اور نبی پر ایمان لاتے اور جو اس کی طرف نازل ہوا، اس پر تو ان کافروں کو متولی نہیں بناتے۔ لیکن بہت سارے ان میں فاسق ہیں”۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن ابھی یہودی نظام کے بینکوں کے متولی بن گئے ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی مکتب کے علماء حق کو انہوں اپنے دباؤ میں رکھا ہواہے۔ ایک دن وہ آئے گا کہ جب عوام سمجھ جائیں گے کہ کوئی حلالہ شلالہ نہیں ہے بلکہ پہلے علماء حق کا دھیان اس طرف نہیں گیا لیکن اب جب سب طرح دلائل بالکل سامنے آگئے ہیںاور پھربھی ہت دھرمی پر قائم رہنے کا مطلب علماء حق نہیں بلکہ بدترین علماء سو بن گئے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے
”عنقا مغرب” آج کا عنوان : ”ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے”۔ دوستو! دوسری قسط میں منظر نامے کی گہرائیوں میں اتریں گے جس کا سامنا ہے۔ کمزوری، نفاق اور ٹیکسوں/ جزیہ وصولی پر بات کرنے کے بعد، عظیم اصلاح کار پر غور کرتے ہیں جن کی وہ صفات ابن عربی نے بیان کی ہیں کہ عقلیں حیران ہیں۔
مہدی اس طرح نہیں جیسا کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ تلوار اور جبر سے آئے گا، بلکہ مطلق عدل اور ایسے علم سے حکومت کرے گا جس کا ثانی نہ ہو۔
ابن عربی نے ”عصائے موسی کا حامل” قرار دیاہے۔ یہ وصف صرف قیادت کی علامت نہیں بلکہ یہ مضبوط حجت اور باطل کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت کی علامت ہے۔
پہلی صفت ”عدل”سے مراد انتخابی یا متبادل عدل نہیں بلکہ وہ عدل جو چیزوں کو صحیح مقام پر رکھتا ہے، جیسے انبیاء کرتے تھے نہ وہ خواہشات کی طرف جھکتا ہے اور نہ ملامت سے ڈرتا ہے۔
ان کا علم جسے ”علمِ لدنی”یا ”علمِ کتاب”کہتے ہیں۔ جسکے پاس کائناتی قوانین کی چابیاں ہوں، وہ جادوگر نہیں وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے کا منظر دیکھتا اور بڑی طاقتوں کی چالوں کو سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی وسائنسی منصوبے یا شیطانی سحر جسکے ذریعے تاریک قوتیں بڑے فتنوں کی تیاری کر رہی ہیں، انکے پیچھے کیا مقصد ہے؟۔
انکے پاس مکڑی کے جالوں کو دیکھنے کی بصیرت ہوگی جو دنیا کے گرد بنے گئے اور وہ خاموشی سے ان جالوں کو توڑ دیں گے۔
وہ” محمدِ عمل” ہیں، یعنی حقیقت کو بدلنے کیلئے آسمان سے معجزات کے نازل ہونے کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ ظاہری اسباب ، مشورہ، منصوبہ اور انتہائی ذہانت کے ساتھ معاملات کو چلائیں گے بالکل جیسے ہمارے نبی حضرت محمد ۖ کرتے تھے، جنہوں نے سکھایا کہ اسباب کو اختیار کرنا توکل کی روح ہے۔
لیکن ”محمدِ عمل”ہونے کیساتھ وہ ”عیسی روح”بھی ہیں۔ اس کا مطلب مکمل الٰہی تائید و نصرت کیساتھ جی رہا ہوگا، گویا وہ زمین پر چلتا پھرتا زندہ شہید ہے۔ وہ دنیا کی خواہشات یا ذاتی فکروں میں غرق نہ ہوگا، بلکہ اس کی روح الگ ہی ملکوت میں پرواز کر رہی ہوگی، جس کی وجہ سے ایسی ثابت قدمی حاصل ہوگی جو طاقتور ترین فوجوں کے سامنے بھی نہیں ڈگمگائے گی۔
ابن عربی نے بتایا کہ وہ ”موسی الساحر”ہیںمطلب روایتی جادو نہیں، بلکہ وہ اس دور کے حقیقی جادوگروں کی چالوں کو فاش کرنے والے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اندھیرے کمروں میں طے پانے والے شیطانی منصوبوں کو کیسے ناکام بنانا ہے۔
وہ انبیا کی صفات کے جامع ہیں:حضرت سلیمان سے وہ مخفی قوتوں سے نمٹنے کی حکمت لیتے ہیں۔حضرت داؤد سے اپنے ہاتھ سے کام اور خود انحصاری اور حضرت یوسف سے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی گہرائی کو سمجھنے کی صلاحیت لیتے ہیں۔
یہ اصلاح کار ”صاحبِ مصر”انتہائی عاجزانہ و لطیف پرورش والے ہوں گے، وہ متکبر یا اقتدار کے بھوکے نہیں ہوں گے۔ وہ ہمارے درمیان موجود لیکن انہیں صرف چند نایاب لوگ ہی دیکھ پائیں گے وہ لوگ جنہیں اللہ نے خاص بصیرت عطا کی ہو۔ تصور کریں کہ روزانہ کتنے ہی لوگ اس شخص کے پاس سے گزرتے ہوں گے اور ان کی طرف توجہ بھی نہیں دیتے ہوں گے، کیونکہ اللہ نے انہیں عام نگاہوں سے چھپا رکھا ہے۔
جب تک دھماکے کا لمحہ نہیں آ جاتا وہ چھپے رہیں گے۔
اس مبارک زمین پر دشمنوں کے چڑھ آنے کا وقت۔ اور جب دنیا تنگ ہو جائے گی، فتنے شدید ہو جائیں گے اور تمام اقوام امڈ آئیں گی، تب یہ شخص ظاہر ہو کر تمام توازن کو پلٹ دے گا۔
یہ ظہور مصر کی عوام پر بڑے فتنے کے بعد ہوگا اور یہ فتنہ دلوں کو پرکھے گا، سچے کو جھوٹے سے الگ کر دے گا۔ اور تب صرف تبھی ان کا فضل و مقام ظاہر ہوگا۔آغاز میں لشکریا فوج کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ ایسا رعب ہوگاجو بغیر کسی محنت کے دلوں اور عقول کو اپنی طرف کھینچ لے ۔ کائنات ان کیلئے سمیٹ دی جائے گی، یعنی معاملات اتنے آسان ہو جائیں گے جو عقلوں کو دنگ کر دے ۔شدید ترین دشمن بھی ان کے عدل کے سامنے حیران رہ جائیں گے۔ابن عربی کی مسلمان اور عیسائی کی مثال کو یاد کریں جن میں تنازع تھا۔ اصلاح کار نے حق کے مطابق عیسائی کے حق میں فیصلہ سنایا، تو مسلمان دوست کے پاس یہ کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا: ”خدا کی قسم!اس فیصلے کے بعد آپ میرے نزدیک پہلے سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ہیں”۔
اس عدل کی امت کو ضرورت ہے جو عدل جو مذہب، رنگ یا نسل نہیں پوچھتا، بلکہ صرف اور صرف محض حق پر مبنی ہوتا ہے۔
ابن عربی نے بتایا: وہ ”روم(مغربی طاقتوں)کو آسان و معمولی دشمن بنا دیں گے”۔ فوجی اڈے، طیارہ بردار جہاز، دور تک مار کرنے والے میزائل ،جدید ٹیکنالوجی جو بڑی طاقتیں چلا رہی ہیںاس شخص اور ساتھیوں کی نظر میں خوف کے قابل ہی نہیں رہیں گی۔ اس کا مطلب طاقت کو نظر انداز کرنا نہیں ہے، بلکہ ایسا علم اور تدبیر ہوگی جو ہتھیاروں کوبے اثر بنا دے گی۔ وہ جانتے ہیں کہ ظلم اور کمزوری پر قائم طاقتیں حق کا سامنا کریں گی تو سارا مصنوعی رعب و دبدبہ ڈھے جائے گا۔ یہ یقین گہرے ایمان سے پھوٹتا ہے، اسی سبق کی ضرورت ہے۔ہم خالی اور بے روح طاقت کی آوازوں سے نہ ڈریں، کیونکہ ٹیکنالوجی کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑھ جائے، جب حق اپنے سچے حاملین کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔
ابن عربی نے کہا کہ ”انکے خادم میں فرشتے ہوں گے”۔
دوستو!تعجب نہ کرو، جو اللہ کیساتھ ہو، اللہ تمام کائنات کو اسکے تابع کر دیتا ہے۔ یہ خادم صرف نمائش کیلئے نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس نظام کا حصہ ہوں گے جو بڑے انقلاب کو چلا رہا ہوگا۔
وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں، ظہور سے پہلے جدوجہد کے سال ہو سکتے ہیں، جہاں بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹال رہے ہوں، امن قائم کر تے ہوں جن کا ہمیں کچھ علم نہیںاور یہ محسوس کیے بغیر ہو رہا ہوگا۔ ہم اس کردار کی وسعت اور تفصیلات صرف تب ہی جان پائیں گے جب وہ ظاہر ہوں گے اور پردہ اٹھے گا۔
”عصائے موسی کا حامل”جو ظالموں کاسر توڑے گاسحر نہیں بلکہ حق اور حکمت سے جس کو سمجھنے سے ان کی عقلیں قاصر ہیں۔ سب سے زیادہ خوبصورت ان کا ”عدل”ہے جو وہ قائم کرتے ہیں۔ وہ دوسروں پر حدنافذ کرنے سے پہلے خود اپنے آپ پر حد نافذ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون سے بالاتر نہیں ہوتے اور نہ ہی خود کو عام انسانوں سے برتر سمجھتے ہیں۔
ابن عربی نے کہا: تمام علم، ہیبت، طاقت کے باوجود ” اپنے گھر والوں کو اپنے اقتدار یا حکومت میں شریک نہیں کرتے”۔ یہ بنیادی اور اہم ترین نقطہ ہے طرفداری ہوگی نہ اقرباء پروری، اور نہ ہی رشتہ داروں اور منظورِ نظر لوگوں کو نوازنا ہوگا جیسا کہ ہم اکثر نظامِ حکومت میں دیکھتے ہیں۔ تمام تر معاملہ اللہ کیلئے ہوگا اور عدل سب کیلئے یکساں ہوگا۔یہ منصوبہ صرف ایک حکمران کا نہیں یہ فوجی طاقت سے پہلے الٰہی اخلاقیات پر قائم ہے۔ لہٰذا دلوں کو تیار رکھیں اوراہل بصیرت میں شامل ہو جائیں جو شور و غل کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھتے ہیں، وقت قریب حق جلد ہی ظاہر ہوگاشاید اتنا دور نہیں جتنا کچھ لوگ سوچتے ہیں۔انشاء اللہ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
المہدی الآن موجود فی بیت شخص اسمہ
ہذہ الرؤیا رآہاا بن خالی یوسف۔ رأی بأتی وایاہ نادانا شخص ما وکان ہذا الشخص الذی نادانا اسمہ عتیق وقال لنا عندی سر ارید ان اخبرکم بہ فأخذنا انا وابن خالی الی فوق سطح بیت خالنا و اسمہ الامین فقال لنا انا حارس جثمان رسول اللہ ۖ ولی فترة وارید منکم ان تحرسوہ وہو الان موجود فی بیت خالنا واسمہ عبد القادر فقال لہ بن خالی و کیف اتی جثمان رسول اللہ الینا فقال لنا عتیق لا تسألوننی کیف اتی ولکن ہل ستحرسونہ فقال لی ابن خالی بأنتی قلت لہ اجل سوف نحرسہ وکذلک ابن خالی قال لہ ان شاء اللہ فقام ا بن خالی فسألہ ولماذا لا تحرسہ أنت فقال لہ انا عزرائیل نادانی وبعد لحظات قال لی جاء ت طائرات تبحث عن الجثمان فقمنا بدسہ منہم ولم یجدوہ۔
خواب ماموں زاد بھائی یوسف نے دیکھا کہ ایک شخص نے مجھے اور اسے آواز دی۔ جس نے آواز دی اس کا نام ”عتیق” تھا۔
اس نے کہا ”میرے پاس راز ہے، میں بتانا چاہتا ہوں” وہ ہمیں ماموں کے گھر کی چھت پر لے گیا، جن کا نام ”الامین”ہے۔ عتیق نے کہا: ”میں رسول اللہ ۖ کے جسدِ مبارک کا محافظ ہوں، میرا فترہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم حفاظت کرو ۔ وہ ہمارے ماموں کے گھر میں ہے جن کا نام عبدالقادرہے۔ ماموں زاد نے پوچھا رسول اللہ ۖ کا جسدِ مبارک ہمارے پاس کیسے آیا؟ ۔ عتیق نے کہا: یہ مت پوچھو کہ کیسے آیا، بلکہ یہ بتاؤ کہ کیا تم حفاظت کرو گے؟۔ ماموں زاد نے بتایا کہ میں نے کہا: ہم ضرور حفاظت کریں گے ، ان شا اللہ۔ پوچھا: اور تم خود حفاظت کیوں نہیں کرتے؟تو اس نے کہا: مجھے عزرائیل نے پکارا موت کا وقت آیا۔ کچھ دیر بعد یوسف نے کہا: کچھ جہاز آئے جو جسدِ مبارک کو تلاش کر رہے تھے، تو ہم نے اسے ان سے چھپا دیا اور وہ اسے نہ ڈھونڈ سکے۔
تعبیر: کیا فرشتے مرتے ہیں؟
جی ہاں، ملک الموت روحیں قبض کرکے خود بھی مر جائے گا۔ خواب کے نام رمز ہیں۔
یوسف: خواب جو مہدی کی خبریں ہیں۔
عتیق: حفاظت مہدی پر مامور فرشتہ، یہ قدیم عمر ایک ہزار سال سے زیادہ ہے۔
الامین: وہ امانت جو مہدی کے کندھوں پر ڈالی جائے گی۔
نبی ۖ کا جسدِ مبارک: یہ اصلاح مہدی سے پہلے کی علامت،
عبدالقادر: ۔ یہ نام خوابوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے، اور اس کا مہدی علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے، جسے اللہ بہتر جانتا ہے۔
یہ تعبیر کہ نبیۖ کا جسدِ مبارک اصلاح مہدی سے پہلے تو دیکھیں:بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کیلئے ایک نور بنا دیا جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور وہاں سے نکل ہی نہ پائے؟ اسی طرح کافروں کیلئے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔سورہ الانعام، آیت:122)
عتیق کو عزرائیل نے پکارا تو وہ کسی کو کام سونپ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے خواب بتایا کہ ان فرشتوں پر حملہ ہوا جو مہدی کی حفاظت پرمامور ہیں، چاند کے گرد3دائروں میں ہر بار ستارہ آ کر ان پر ضرب لگاتا ہے، ستارہ آخری تیسرے حلقے کو مار دیتا ہے اور زمین ہل جاتی ہے۔ واللہ اعلم اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
تعبیرخواب پرتبصرہ عتیق گیلانی
عتیق فرشتہ ہوتاتو پھر فرشتہ مقرر کرتا۔ اماں حضرت عائشہ سے نبی ۖ کی سیرت کا پوچھاتو فرمایا ”قرآن!”۔
نبیۖ کے جسد مبارک کی تعبیر قرآن ہے۔جو مسلمانوں کے گھر میں ہے۔
یوسف نام : سورہ یوسف کی مانند خاص خوابوں کا ذکر ہے۔
عبدالقادر: سید عبدالقادر جیلانی کا گھرانہ مراد ہے۔
الامین: قال نبی ۖ : العلماء امناء الرسل
” علماء اللہ کے بندوں پر رسولوں کے امین ہیں۔ جب تک وہ حکمرانوں سے خلط ملط نہ ہوں اور دنیا میں گھس نہ جائیںاور جب وہ حکمرانوں سے مل جائیں اور دنیا میں گھس جائیں تو ان سے بچو اور ان سے الگ رہو”۔درباری علماء اور امام مہدی میں یہ فرق ہوگا کہ علماء کئی سرپھوڑی کے بکھیڑے ہوں گے اور مہدی صرف رسول اللہ ۖ کی اطاعت کیلئے سرتسلیم خم ہوگا۔
ضرب اللہ مثلًا رجلًا فیہ شرکاء متشاکسون و رجل سلماً لرجل ھل یستویان مثلًا الحمد للہ بل اکثرھم لایعملونOانک میت و انھم میتونO
ترجمہ: ”اللہ مثال دیتا ہے اس شخص کی جس میں بہت سے شریکوں کا بکھیڑا ہے اور اس شخص کی جس نے ایک شخص کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟۔ اللہ کیلئے تمام تعریفیں ہیں لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ بیشک آپ میت ہیں اور وہ میت ہیں”۔ (سورہ الزمر29، 30)
مہدی کیلئے۔ من اطاع الرسول فقد اطاع اللہ ۔
جہاں تک مہدی کی حفاظت کرنے والے فرشتوں پر حملے کا خواب ہے تو ہر انسان کیساتھ شیطان قرین اور اس کو فرشتے بھی تحفظ دیتے ہیں۔ مہدی کے محافظ اقرباء، ہمدرد اور حکومتی اہلکار
من شر الوسواس الخناسOالذی یوسوس فی صدور الناسOمن الجنة والناس
اس خناس کے وسواس کا شکار ہوں گے جن کی وجہ سے ان کو تحفظ حاصل ہوگا اور پھر خطرات کا باعث بن جائیں۔ انقلاب سے پہلے لوگ اپنا چہرہ اپنے کردار کی روشنی میں دیکھ لیں تاکہ اپنے بارے میں غلط فہمی نہ رہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
مرجع قدیم و جدید…مولانا بدیع الزماں
عالمِ رنگ و بو میں جو آیا جانے کیلئے آیا
لِدوا لِلموتِ وابنوا لِلخرابِ
خلاقِ عالم نے ہر تنفس کیلئے وقت پر دنیا سے جانا مقدر فرمایا۔ علومِ نقلیہ وعقلیہ قدیمہ کے علاوہ حضرت شیخ کو علومِ جدیدہ سے خاص دلچسپی اور شغف تھا۔ سائنس اور فلسفہ جدیدہ سے گہرا تعلق تھا اور سائنسی علوم و ایجاداتِ جدیدہ کی روشنی میں اسلام کے حقائق کو منفرد انداز سے سمجھا تے تھے۔ حدیث میں ابرادِ بالظہر کا حکم دیتے ہوئے وجہ یہ بیان فرمائی گئی
فان شدة الحر من فیح جھنم
اشکال وارد ہوتا ہے کہ گرمی تو سورج کا اثر ہے۔ حضرت شیخ رحم اللہ تشریح فرماتے کہ جہنم کی مثال پاور ہاؤس ہے، شمس کی کا منبع جہنم ہے۔ شمس کے واسطہ سے جہنم کی حرارت کا اثر پہنچتا ہے۔ آتشیں شیشہ سورج سے حرارت اخذ کر تاہے۔ تمثیل سے اشکال رفع ہو جاتا ہے۔
فرید واجدی کی دائر المعارف (انسائیکلوپیڈیا)سے حضرت شیخ بہت متاثر تھے۔ برزخ میں انسان کے مادی جسد کیساتھ روح کا تعلق قائم رہتا ہے، اگرچہ روح کا مستقر اعلی علیین یا اسفل السافلین ہو۔ یہ مسئلہ حضرت شیخ دائر المعارف کے ایک واقعہ سے ذہن نشین فرمایا کرتے تھے کہ: ایک شخص علم التنویم کے ذریعہ وقتی طور پر انسان کی روح کو جسم سے جدا کر سکتا ہے، لیکن اس مفارقت کی صورت میں بھی روح کا رابطہ جسم کیساتھ برابر قائم رہتا ہے۔ چنانچہ فرید وجدی نے لکھا کہ: ایک عامل نے علم التنویم سے ایک انسان کو لٹا کر اس کی روح کو جدا کیا، وقتِ مقررہ پر وہ روح واپس نہیں آئی تو عامل کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کی موت واقع نہ ہو۔ چنانچہ فورا ایک دوسرے شخص پر عمل کر کے اس کی روح سے کہا کہ پہلی روح کو جلد لانے کی کوشش کرو، چند لمحات کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پہلی روح واپس آ گئی ہے اور اس وقت فلاں گوشہ میں موجود ہے، عامل سوئی ہاتھ میں لیکر اس کی طرف بڑھا اور غصہ میں سوئی کو آگے کیا، اس پر روحِ ثانی نے کہا کہ سوئی اس کی پنڈلی میں پیوست ہو گئی ہے، عامل نے پلٹ کر دیکھا کہ جس شخص کی وہ روح تھی اس کی ٹانگ سے خون نکلنا شروع ہو گیا، جبکہ وہ دوسری جگہ تھا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد شیخ فرمایا کرتے تھے کہ: جب اس عالم میں روح اور جسد میں مفارقت کے باوجود تعلق قائم رہتا ہے تو برزخ میں بھی اسی طرح تعلق قائم رہے گا تاکہ جسم و روح دونوں کو راحت یا تکلیف محسوس ہو۔
(یہ تحریر نیٹ پردیکھ لو اور قرآن کے شواہد میری تحریرمیں)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
عالم برزخ میں انبیاء ،صدیقین، شہداء اور صالحین نعمتوں میںہوں گے اور ظالم ، مشرک عذاب میں
دنیا اور عالم برزخ کے درمیان ادنیٰ فرق سمجھنے کیلئے یہ ہے کہ جیسے ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکلنے کی حقیقت ہے اور یہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں بالکل واضح ہے۔ گروپ کمانڈر کیپٹن عاصم طارق شہیدنے ایک لڑکی کو بچانے کیلئے اپنی جان دیدی۔ اللہ نے کہا کہ ”جس کو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے تو ان کو مردہ مت کہو ، بلکہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے”۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا اور انکے فرزند شاہ رفیع الدین نے اردولفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاروہ ترجمہ کیا۔ باقی تراجم نقل ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی درجہ ثانیہ میں آخری پارہ عم پڑھتے وقت تفسیری عزیزی میں قبر کے عذاب کا انکار دیکھا تو قاری مفتاح نے کہا کہ مفتی ولی حسن ٹونکی کو پوچھ لو اور اس نے کہا کہ کیا تم پنج پیری ہو ؟۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے دوست حاجی عثمان کا مرید ہوں۔ تو کہا کہ پھر یہ نہ پوچھو!۔ پھر قاری مفتاح اللہ نے تفسیر کشاف کامشورہ دیا جو تفسیر کے امام معتزلی تھے۔عذاب قبر کا انکار ہو تو پھر لمبے عرصہ تک سوال جواب اور عذاب قبرکا خوف نہیں رہتا ۔
قرآن میں ایک تلی ہوئی مچھلی کو زندہ کرنے کے ذکر کرنا مقصد تھا۔ مفتی منیر شاکر شہید بہت مخلص تھے اور طلاق سے زیادہ عذاب قبر کا مسئلہ مان لیتے مگر افسوس موقع نہیں مل سکا۔
سورہ الحدید آیت16میں کافی مدت گزرنے پر بیدار ی کا وقت ہے اور آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے، آیت18میں مصدق صدیقین مردوں اور عورتوں کا ذکر ہے جو مکذب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں ہیں۔ تراجم میں صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔ اگلی آیت19میں صدیقین، شہداء اور مکذبین کی وضاحت ہے۔ آیت20میں دنیا کی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکہ کے اسباب قرار دیا۔ آیت21میں برزخی جنت ہے جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لانے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اللہ بڑے فضل والاہے۔ آیت22اور23میں مصیبت اور بڑے عالمی انقلاب کا لکھے جانے اور غم کھانے اور اترانے اور فخر سے منع کیا گیاہے۔
دنیا کی دو دو جنتوں کا ذکر سورہ سبا اور سورہ رحمن میں ہے
اور عالم برزخ کی ایک جنت کے مقابلے میں دنیا کی ساری جنتیں اور دوزخ بہت چھوٹی ہوں گی لیکن قرآن پر تدبر کرنا پڑے گا۔
ہم نماز میں رسول اللہ ۖ کو سلام کرتے ہیں۔
السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ برکاتہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے مشکوٰة شریف پڑھاتے وقت بتایا تھا کہ ”ملاعلی قاری نے مرقاة المفتاتیح میں لکھا ہے کہ رسول اللہۖ کو مخاطب کرکے سلام کریں۔استاذ جی فتویٰ کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ مولانا بدیع الزمان کو میرا پتہ چلا کہ فتویٰ فروشان اسلام کی مٹی پلید کردی تو پوچھا کہ وہی ہے جو چائے زیادہ پیتا تھا؟۔ پھر میں حاضر خدمت ہوا تھا اور بہت خوش ہوگئے۔ مرجع قدیم وجدید ضرور پڑھ لیں۔
قل ھو نبؤا عظیمO انتم عنہ معرضونO ما کان لی من علم بالملا الاعلٰی اذ یختصمون Oان یوحی الیّ الا انما انا نذیر مبینO
” کہہ دو کہ وہ بڑی خبر ہے۔ تم اس سے منہ پھیرتے ہو۔ مجھے علم نہ تھا کہ جب ملااعلیٰ جھگڑ تے ہیں۔ مجھے وحی کیا گیا مگر میں تو کھلا ڈرانے والا ہوں”۔ ( ص67تا70)
اس خبر عظیم کا ذکر سورہ النباء میں بھی ہے جس پر زمین کے لوگوں کا اختلاف ہے۔ آخر یہ کیا بڑی خبر ہے جس پر نہ صرف زمین والوں کا بلکہ ملا اعلیٰ میں جھگڑا ہے؟۔ جس طرح دنیا میں تمام مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہم غالب آجائیں اور ہمارے ہاتھوں سے بڑا انقلاب برپا ہواور نجات دہندہ ہمارا ہو تو ملا اعلیٰ کے پیغمبربھی اپنے ماننے والوں سے فطری تعلق رکھتے ہیں۔ جس پر زمین اور ملا اعلیٰ میں اختلاف اور جھگڑاجاری رہتا ہے۔
انبیاء تبلیغ پر اجر نہیں مانگتے مگر قرابت کی موودة ،یہ اجر نہیں فطری ہے۔جیسے والدین اوربچوں کی ہے۔یہ جھگڑا عالم برزخ میں ہے اورعالم ارواح میں بھی ہوچکا ہے ۔یہودکو جرم پر سخت سزا دی گئی اور ہند نے کلیجہ چبایا تھا۔ موسی ہندکو زیادہ سخت سزا دیتے ۔ملا اعلیٰ میں بھی موودة فی القربیٰ ہے۔
قاری عبیدالرحمن یوسف اہل حدیث نے کہاہے کہ لاہور کے ایک خطیب نے معراج کا واقعہ سنایا اور اس میں امام غزالی کے حوالہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مناظرہ سنایا تو میں اس کے گھر پر گیا اور حوالہ پوچھا تو اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اپنے بچوں کو بھی میرے مدرسہ میں بھیج دیااور کہا منبر پر قرآن و حدیث کے حوالے کے بغیر کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل حدیث بھی اپنے مطلب کی احادیث مانتے ہیں اور تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم سے ایک ایسی آواز کی ضرورت ہے کہ قرآن و احادیث صحیحہ پر سب کا اتفاق ہوجائے اور ساری کی ساری غلط فہمیاں آپس میں دور کردی جائیں۔
رسول اللہ ۖ نے قیامت تک آنیوالے مستقبل کے کچھ واقعات بیان فرمائے ہیں یہاں تک کہ موجودہ ترقی یافتہ دور کا بھی ذکر ہے جس میں دور سے بیٹھ گھر کے حالات دیکھنے اور کسی آلہ کے ذریعے رکارڈ کرنے کا بھی ذکر ہے ۔اپنی ران کیساتھ بات کرنے کی ہم یہ توجیہ کرسکتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کا خوف ہوتا ہے تو موبائل ڈرائیونگ کے وقت ران پر رکھتے ہیں۔
رسول اللہ ۖ کی حدیث میں عالم ارواح کا بھی ذکر ہے
جس میں ساری انسانیت اپنا اپنا ایک روحانی دور گزارچکی ہے اور وہاں کی دوستی اور دشمنی کے آثار یہاں بھی نمایاں ہیں اور یہ صرف ایک حدیث نہیں بلکہ قرآن میں عہدالست کا عالم ارواح سے بھی پہلے پشت در پشت نسلوں کا ذکر ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہاں جو کچھ برپا ہونے والا ہے چھوٹی اور بڑی تمام مصائب اور کامیابیاں پہلے سے واقع ہوچکی ہیں تاکہ تمہیں نہ افسوس ہو اور نہ اس پر اتراؤ اسلئے کہ اللہ شیخی بگارنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ سائنسی ترقی سے ماضی اور مستقبل کو دیکھنا اب ایسا مسئلہ نہیں رہاہے جو سمجھ میں نہ آئے۔
تمام مسلمانوں کی ایک عرصہ سے ایسی حالت رہی ہے کہ وہ طلاق کے حوالے سے بہت موٹی موٹی آیات کو بھی سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں اور اگر تھوڑی توجہ کی جائے تو لوگ اپنی اس قسم کی حماقت پر شاید خود ہی کالک لیکر برسر منبر اپنے منہ پر مل دیں کہ ہم نالائق گدھوں نے اتنی موٹی موٹی باتوں کو نہیں سمجھا؟۔
آج کے دور میں ایک قانون ہے کہ پارٹی کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس پر لوگوں سے ووٹ کے ذریعے حکومت لی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمانوں کیلئے دوسرے مذاہب کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔ اس کا جواب ہم قرآن سے لیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب کا منشور پیش کرنا بھی ضروری ہے اور لوگوں کو ایک پیکیج بھی دینا ضروری ہے۔
قرآن دنیا کے تمام انسانوں کو ایک ایسا منشور دیتاہے کہ جس میں تین قسم کی آبادیاں ہوں گی۔
ایک کرپٹ لوگ ہوں گے جن کیلئے خود کا ر نظام ہوگا اور ان کو معلوم کیا جائے گا کہ کتنی ناجائز دولت کمائی ہے اور اس کو انڈسٹریل آبادی میں دولت سمیت ڈال دیا جائے گا۔تاکہ اس کی دولت سے ملک و قوم کی ترقی کا سامان ہواور وہ بھی برزخ سے پہلے سختیاں جھیل کر گناہ بھی معاف کروائے، صحت بھی بنائے اور نیکیاں کمانے کا بھی موقع ملے تاکہ اس کی آخرت کی بہتری کا بندوبست ہوجائے۔ جس کا ذکر سورہ رحمن میں پہلے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں تیسرے نمبر پر تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سورہ الحاقہ اور سورہ ق، ص اور الزمر وغیرہ میں بھی وضاحت سے موجود ہے۔
دوسری آبادیVIPلوگوں کی ہوگی۔ جن میں ہر شہری کیلئے دنیا میں بہترین گھر ، باغیچے اور دنیا کی سہولیات کی تمام اشیاء کی فراہمی جس کا ذکر سورہ رحمان اور سورہ واقعہ میں دوسرے نمبر پر کیا گیا ہے۔ یہ عوام الناس کیلئے بہترین قسم کا ماڈل ہوگا۔
تیسری آبادیVVIPلوگوں کیلئے ہوگی جس کا ذکر سورہ رحمن میں تیسرے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں پہلے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس میں مذاہب اور قوموں اور ملکوں کے درمیان کوئی تعصبات کے مسائل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ جرائم پیشہ بھی اس تمام نظام سے عدل وانصاف کی وجہ سے خفا نہ ہوں گے۔
اس منشور کو عملی جامہ پہنانے میں دنیا اور ملا اعلیٰ میں سب کا اتفاق ہوگا۔قرآن سے عالمی انسانیت کیلئے ایک بڑا پیغام :
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فا حکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکل جعلنا منکم شرعةً و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً ولکن لیبلوکم فی ما اٰتا کم فستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون O(سورة المائدہ آیت:48)
”اور ہم نے آپ کی طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی ہے جو تصدیق کرتی ہے ہاتھوں کے درمیان کتاب کی جو اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔پس جو اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرو۔اور ان کی خواہشات پر مت چلواسکے خلاف جو حق تیری طرف آیا ہے۔ ہر ایک کیلئے ہم نے شریعت اور طور طریقہ مقرر کیا ہے ۔ اگر ہم چاہتے تو تم سب کو ایک ہی امت بناتے۔لیکن اللہ تمہیں آزمائش میں ڈالتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے ۔پس ایکدوسرے سے خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو ۔تم سب کا ٹھکانہ اللہ کے پاس ہے پس وہ تم سب کوتنبیہ کرتا ہے جس میں تم اختلاف کرتے ہو”۔
یہود ونصاریٰ ، پارسی، بدھ مت ، سکھ ، ہندو اور دنیا کے تمام مذاہب کیلئے قرآن کی یہ آیت قابل قبول ہوگی کہ خدا نے سب کو اپنی اپنی جگہ پر اپنی اپنی شریعت اور طریقہ کار کے مطابق رکھا ہے اور مسلمانوں کے دماغ سے یہ بات نکل جائے کہ سب کو مسلمان بنانا ضروری ہے تو یہ خوش آئندہے۔ لیکن مسلمانوں کو یہ آیت کیسے ہضم ہوگی؟۔ لیکن جو آیت کو نہیں مانتا ہے تو پھر اس کو مسلمان کہا جائے گا یا کافر؟۔ پھر دوسرے مان جائیں گے اور مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ اس کے پہلے کافر تو مت بنو۔
اللہ نے تمام مذاہب کو باقی رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ جس کو سبقت لے جانی ہے تو وہ خیر میں سبقت لے جائے۔ جبر و شر میں سبقت لے جانا بہت غلط ہے۔ مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اگر لوگ شیعہ مسلمان بنتے تو عاشورہ، جلوس اور ماتم سے دنیا کے لوگ تنگ آجاتے۔ بہت سارے شیعہ بھی ملحد بن گئے ہیں۔ اگر سنی مسلمان بنتے اور حلالہ کی لعنت میں دنیا پڑتی تو کہتے کہ سکھ ، ہندو، پارسی اور عیسائی ہی رہتے تو بہتر تھا۔ اللہ نے بہت منصوبہ بندی کیساتھ فرمایا دیا کہ یہ میری چاہت ہی نہیں ہے کہ سب ایک امت بن جائیں بلکہ ایک دوسرے کا اچھائی میں مقابلہ کرو اور جو اچھا ثابت ہوگا تو یہ طے شدہ بات ہے کہ زمین کی وراثت اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو ہی دینی ہے۔ یہود اور مسلمان سینہ زوری سے دنیا پر حکومت نہیں کرسکتے ہیں۔(پنجاب پر ہندو اور مسلمان کی جگہ سکھ حکومت بنی تھی)
ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحونOان فی ھذا لبلاغ لقومٍ عابدینOوماارسلنک الا رحمة للعالمینO
البتہ ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا: زمین کی وراثت میرے صالح (درست عمل والے) بندوں کو ملے گی۔بیشک اس میں پیغام ہے غلامی کرنیوالی قوم کیلئے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہان والوں کیلئے رحمت”۔(الانبیائ:105تا107)
رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں اور وہی بات حضرت داؤد علیہ السلام کے زبور میں لکھی ہے
قرآن اسی کی تائید کررہا ہے۔ یہ نصیحت ہو کہ اچھائی میں سبقت لے جاؤ تو پھر خدا خود اپنے بندوں کو زمین کا وارث بنادیتا ہے۔ آج حکمران تو عوام سے بھی چھپ کر رہتے ہیں اور دوسروں سے بھی خوف ہے۔
یا ایھا النبی حرض المؤمنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائة یغلبوا الفًا من الذین کفروا بانھم قوم لایفقھون O
”اے نبی ! لوگوں کو جہاد پر ابھارو ، اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور تم میں سو ہوں گے تو ہزار پر غالب آجائیں گے ان لوگوں میں سے جو کافر ہیں اسلئے کہ یہ قوم سمجھتے نہیں ہیں”۔ (انفال:65)
1965ء میں بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان کے ایئرفورس، نیوی اور ملٹری نے کمال کردیا تھا
اور نصیراللہ بابر غلطی سے بھارت میں اتر کر بھی بڑی تعداد میں کم عقل دشمن فوج کو گرفتا ر کرکے لایا تھا۔ پاکستان سے بھارت کئی گنا بڑے ہونے کے گھمنڈ میں لاہور کے اندر دو پہر کا کھانا کھانے کی وہ تیاری کرکے آئے تھے مگر ناکام ہوگئے۔1964ء میں عائلی قوانین میں تبدیلی کرکے قرآن کے مطابق ایک3ماہ کا فریم ورک طلاق کیلئے تیار ہوا لیکن مدارس اور عدالتوں میں اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ پھر قدرت نے معاملہ بالکل الٹا کردیا اور بھارت کے10ہزار فوجیوں نے ہمارے لاکھ بندے پکڑے اور تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کی فضاؤں میں پھر حلالہ کی لعنت کی ایک فضا چلی تو اللہ نے اس پر حملہ اور بھارت کو بدتر شکست سے دوچار کردیا اور جب جسٹس عائشہ ملک نے حلالہ کے خلاف پہلا فیصلہ دے دیا تو پھر اللہ نے عالمی جنگ رکوانے میں پاکستان کو بہت بڑا اعزاز بخشا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ہندو کے ویدوں میں وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ جو نوح پر نازل ہوا قرآن وہی تو ہے۔ہندو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور انسان ظاہر یا باطن میں اللہ کا خلیفہ بنتا ہے تو اس کو بھگوان کہتے ہیں۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح میں عورت کا قصہ لکھا جس کا بیٹا بند تھا اور وہ چرواہا کے پاس گیا۔
سورہ المائدہ کی آیت48میں اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سب کو اپنی اپنی شریعت کے مطابق چلنے کا حق ہے۔ مسئلہ طلاق کو جس طرح شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا نے بگاڑدیا ہے اس سے مودی جیسا خر دماغ بھی لاکھ درجہ بہتر ہے اور قرآن کی آیت کا یہی مقصد ہے کہ جس نے بھی اپنی کتاب کے مطابق سبقت حاصل کرلی تو وہ دنیا اور آخرت میں سبقت لے جائیگا۔ امت مسلمہ پر سب کو متحد کیا جاتا تو یہ سب کا بیڑہ غرق کرنے کے مترادف تھا۔ اسلئے اللہ نے امت واحدہ سب کو بنانے کے خلاف قرآن میں فیصلہ جاری کردیا۔
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و الصابئون والنصاریٰ من اٰمن باللہ وا لیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون O
” بیشک جو مسلمان ہیں، جو لوگ یہودی ، ہندو غیرہ ہیں جو عیسائی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کریں تو ان پر نہ خوف ہوگاتو وہ غمین ہوں گے”۔(المائدہ:69)
حضرت نوح کے پوتوں کا نام ہند اور سندھ تھا۔
ویدوں پر عمل نہیں کیا تو محکوم رہے۔ عیسائیوں نے طلاق کے مسئلے پر عمل کیا تو ان کو عروج مل گیا اور مسلمان حلالہ کی لعنت میں لگ گئے تو شکست کھائی۔ سورہ الحدید اور سورہ بنی اسرائیل کے مطابق مسلمانوں نے یہود ونصاریٰ پر فتح حاصل کرنی ہے۔ جب عیسائیوں کو عروج ملتا ہے تو اچھائی کی وجہ سے ملتا ہے اور زوال برائی کی وجہ سے ملتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روحانی فیض ان کو حاصل ہوتا ہے۔ جب مسلمان ان سے اچھے بچے بن جائیں گے اور عیسائی ہاتھ میں آجائیں گے تو اس کا مکالمہ قرآن کی زبان میں اللہ نے کیا بتایا ہے؟۔ چنانچہ فرمایا:
واذ قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی و اُمی الٰھین من دون اللہ قال سبحٰنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلمہ ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوبO ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدو اللہ ربی و ربکم و کنت علیھم شھیدًا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم و انت علیٰ کل شی ئٍ شھیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیمO (المائدہ116تا118)
یہ مکالمہ معراج کی رات، قیصر روم کے فتح کے دور میں اور بیت المقدس کے فتح کے وقت عالم اعلیٰ میں ہوتا رہاہے اور اس کا معاملہ آئندہ بھی عیسائیوں کو شکست دیتے وقت چلے گا۔
ثم رددنا لکم الکرة علیھم وامددناکم باموالٍ و بنین و جعلناکم اکثر نفیرًاOان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا فاذا جاء وعد الاٰخرة لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرةٍ و لیتبروا ما علوا تتبیرًاOعسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا و جلعلنا جھنم للکا فرین حصیرًاOان ھٰذا لقراٰن یھدی للتی ھی اقوم و یبشر المؤمنین الذین یعملون الصالحات ان لھم اجرًا کبیرًاO(سورہ بنی اسرائیل آیت6تا9)
”پھر ہم نے بال تمہارے کورٹ میں پھینک دی اور تمہاری مدد کی اموال اور اولاد کے ساتھ اور تمہیں آبادی کے لحاظ سے بڑی اکثریت دیدی۔ پس اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے لئے کی اور برائی کی تو جس نے کی اس پر پڑے گی۔جب آخری وعدہ آئے گاتاکہ تمہارے چہرے سیاہ کردئیے جائیں اور وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلے داخل ہوئے تھے ۔تاکہ باطل نظام کی اعلیٰ سطح پر تباہی پھر جائے۔ ہوسکتا ہے کہ تم پر اللہ رحم کرے اور اگر تم پھر لوٹ گئے تو ہم بھی مڑ کر آئیں گے۔ بیشک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے جس کا سب سے زیادہ ٹھیک راستہ ہے اور ان مؤموں کو بشارت دیتا ہے جن کے اعمال درست ہوں۔ بیشک ان کے لئے بہت بڑا بدلہ بھی ہے”۔
سورہ النباء میں عظیم خبر اور یوم الفصل کا میقات انقلاب ہے۔جو فتح مکہ کے وقت برپا ہوا اور اب پھر برپا ہوگا۔ سورہ النباء آیت21تا30تک عالم برزخ کا عذاب مراد ہے۔ ایک حقب80سال کا ہے اور ابوجہل وابولہب احقاب سے برزخی عذاب میں ہیںاور ان کی غذا پپپ ہے۔جب رسول اللہ ۖ کی ولادت ہوئی تو ابولہب نے اس کی خوشخبری دینے والی لونڈی کو آزاد کردیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جس انگلی کے اشارے سے آزاد کی تھی تو اس انگلی سے پیر کے دن ابولہب کو راحت پہنچتی ہے۔ ایک طبقہ عذاب قبر کا منکر پیدا ہوگیا۔
جس طرح سورج کی روشنی سے عالم شمسی کو فیض ملتا ہے اور اس میں سورج کا اختیار نہیں بلکہ فیض اٹھانے والے پر ہے کہ وہ شاہین بنتا ہے یا چمگادڑ؟۔ اللہ نے فرمایا:
قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب ولا اقول لکم انی ملک ان اتبع الا ما یوحٰی الیّ قل ھل یستوی الاعمی و البصیرافلا تتفکرونO(الانعام:50)
”اے رسول ! کہہ دو کہ میں تمہیںنہیں کہتاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ بیشک میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف ہوتی ہے کہہ دو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ تو تم سوچتے کیوں نہیں ہو”۔
عرب کے دورِ جاہلیت میں لوگوں کے دل و دماغ میں اس کا امکان نہیں نظر آرہاتھا کہ رسول اللہ ۖ کے ذریعے بہت بڑا انقلاب آئے گا جو عرب کی خصلتوں کو بدل کر رکھ دے گا اور دنیا کی سپر طاقتوں قیصرروم اور کسریٰ فارس کو شکست دی جائے گی لیکن ایمان والوں نے سب کچھ کر کے دکھا دیا ہے۔ تاریخ بدل گئی تھی اور1924ء تک خلافت عثمانیہ کے باقیات تھے۔
آج دنیا گلوبل ویلج ہے اور اگر قرآن کا منشور پیش کردیا تو روس، چین، یورپ ، امریکہ ، آسٹریلیا ،جاپان ، بھارت ، کوریا اور مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی ساری دنیا اس پر بہت جلد متفق ہوسکتی ہے اسلئے کہ آج زمین کو امن وسلامتی کی سخت ضرورت ہے۔ بے راہ روی سے بچانا لازم ہے۔ معیشت کی بہتری بہت ضروری ہے۔ دنیا کو جنگ کے ماحول سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ زمین کو آلودگیوں سے بچانے کیلئے ساری دنیا کو مشترکہ نظام کی ضرورت ہے۔ مذہبی رحجانات کو بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی نظام کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلی اور زلزلے ، سمندری طوفان اور ہرطرح کے معاملات کو اچھے انداز سے کرنے کیلئے سب کو ایک جگہ کام کرنا ہوگا اور جب قرآن و سنت کے ذریعے سے ہوگا تو پھر سارے مسلمان رضا کار بن کر پوری دنیا کی خدمت کریں گے۔ جب سارے مذاہب کے لوگ میرٹ پر بھرتی ہوں گے تو سرکاری ملازمین کو ”درجہ اعراف” حاصل ہوگا۔سورہ اعراف کا تعلق بھی آخرت سے نہیں دنیا کے عظیم انقلاب سے ہے جہاں بروں کو سزا اور اچھے لوگوں کو انعام ملنے پر وہ خوش ہوںگے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے اور ان کی عبادت گاہوں کیلئے بہت احترام کا درجہ حاصل ہے۔ یہود ونصاریٰ کی تاریخ میں ہمیشہ دشمنی رہی ہے اور پہلی بار ان کو اقتدار اور کاروبار کیلئے اکٹھا ہونا پڑا ہے۔ مسلمان تو یہودی اور عیسائی بیگمات کو اپنے بچوں کی مائیں بناتے تھے لیکن افسوس کہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا وہ مذہبی طبقات نے ختم کیا۔
جب دنیا میں اسلامی خلافت کا آغاز ہوجائے تو یہ بہت بڑا زلزلہ ہوگا
جس کی گونج آسمانوں تک پہنچے گی اور بڑے بڑے پیغمبر اور جلیل القدر رسول بھی پریشان ہوں گے کہ مسلمان اب ان کے پیروکاروں کی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو پھر سے لونڈی بنانا شروع کردیںگے؟ لیکن یہ بنوامیہ، بنوعباس، خاندان غلاماں اور سلطنت عثمانیہ و مغل حکومت کی طرح نہیں ہوں گے اور نہ فاطمی خلافت کی طرح بلکہ نبیۖ کی سنت ہی کو زندہ کریںگے۔ یہود نے جو ظلم مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اس کی سزا نبیۖ نے نہیں دی تھی بلکہ یہود نے جس مسلمان کو اپنا فیصل بنایا تھا انہوں نے خدا کی قدرت سے سخت سزا دی تھی۔
جہاں تک ملا اعلی کے جھگڑے کا تعلق ہے تو اس سے رسول ہی مراد ہیں جن کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ
یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزب بما لدیھم فرحونOفذرھم فی غمرتھم حتی حینٍOایحسبون انما نمدھم بہ من مالٍ و بنین Oنسارع لھم فی الخیرات بل لایشعرونO
ترجمہ :” اے رسولو! طیبات میں سے کھاؤ اور درست کام کرو ۔ بیشک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت تمہاری ایک مشترکہ امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو۔ پس انہوں نے اپنے کام کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا ہر گروہ کے پاس جو ہے اس پر خوش ہیں۔ پس ایک انقلاب کی آمد تک ان کو چھوڑ دو۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد سے ترقی دے رہے ہیں۔ہم انہیں فوائد جاری کررہے ہیں بلکہ یہ شعور نہیں رکھتے”۔ (سورہ المؤمنون آیات51تا56)
رسولوں کا اجتماع تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
قرآن نے بتایا کہ عالم بالا میں بھی ان کو روزی ملتی ہے۔جب عالمی خلافت کا عالم بالا میں فیصلہ ہوگا تو ان کو مخاطب کیا جائے گا کہ یہ ساری کی ساری امت بھی ایک ہے اور زمین کے ٹکڑے اور مذاہب کی تقسیم بھی انہوں نے خود کی ہے اسلئے اس پر راضی ہوجائیں۔
جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور مرکز جمعیت علماء اسلام کے بانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا سید محمد میاںنے اپنی مقبول ترین کتاب ”علماء ہند کا شاندار ماضی ” میں لکھا ہے کہ
” شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو سب مشائخ اپنی خلافت دینا چاہتے تھے اور رسول اللہ ۖ نے پھر فیصلہ کیا کہ سب اپنی اپنی خلافت دو لیکن کام نقشبندیہ کیلئے کرے گا”۔ مولانا عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”اخبار الاخیار” میں لکھا ہے جس کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی نے کیا: ”جب سید عبدالقادر جیلانی اپنی مجلس کرتے تو تمام انبیاء کرام اور اولیاء عظام موجود ہوتے تھے اور نبی اکرم ۖ بھی آپ کی تعلیم وتربیت کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے”۔ جب میں نے حوالہ دئیے بغیر روحانیت کی اندھیر نگری میں رہنے والے اکابرمفتیان سے فتویٰ لیا تو کفر و زندقہ اور قادیانیت کے فتوے لگائے گئے۔ یہی ایک عبارت دارالعلوم کراچی کی تھی اسلئے انہوں نے دستخط نہیں کئے لیکن دوسروں کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا اورجب ہم نے فتویٰ چھاپنے کا پروگرام بنایا تو مولانا سبحان محمود نے نام مولاناسحبان محمود میں تبدیل کیا۔ جیسے آخری وقت میں ہندو سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا ہواور یہ جہالت کی بھی دلیل تھی کہ اپنے نام کا پتہ نہ چلے مگر دوسروں کو حلالہ کے فتوے جاری کررہے ہیں؟۔ اور اصل بات یہ خوف کہ سعودی عرب کو پتہ چل گیا تو مشکلات کھڑی ہوں گی اور اس وقت ایک عربی مصری عالم سے ہم معاملات کا ترجمہ بھی کروارہے تھے اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ بکرے کو لٹایا ہے چھرا پھیر دو ، ٹانگیں ہلائیں تو ہم بھی پکڑلیں گے۔ لیکن ہم نے نہ فتویٰ چھاپا اور نہ سعودی عرب میں ان کو خراب کیا۔
رسول اللہ ۖ کی رحمت للعالمینی تعصبات سے نہیں چلتی بلکہ قرآن نے سب کیلئے زبردست درست اعمال اور بندگی کا معیار مقر ر کردیا اور یہ پہلے سے کتابوں میں بالکل واضح ہے۔
اور انبیاء کرام و صحابہ عظام کی ارواح کو روزی ملتی ہے۔ رحمة للعالمین ۖ بیت المقدس میں انبیاء کرام کے امام بن گئے اور معراج میں انبیاء سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔سب ہی انبیاء اور اچھے لوگوں کا فیض میرٹ کی بنیاد پر پہنچتا ہے لیکن ان سب کا اپنے اپنے سے وابستہ لوگوں سے پیار بھی قائم ہے۔
یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام غیوب O
” جس دن اللہ تمام رسولوں کو جع کرے گا کہ تمہاراکیا جواب ہے؟۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں ، تو ہی غیب کو خوب جانتا ہے”۔( المائدہ:109 )
قبر میں رسول اللہ ۖ کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھذا الرجل ”اور اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟”۔ (صحیح بخاری)تمام انبیاء کرام کی خدمت میں ان کی قومیں پیش ہوں گی۔ رسول اللہ ۖ نے تو مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کیساتھ بھی صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا۔
یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یھدی القوم الکافرینOقل یا اہل الکتاب لستم علی شی ئٍ حتی تقیموا التوراة والانجیل و ما انزل الیکم من ربکم ولیزیدن کثیرًا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانًا و کفرًا فلا تاس علی القوم الکافرینO(سورہ المائدہ :67،68)
”اے رسول ! پہنچادے جو تیری طرف سے تیرے رب نے نازل کیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو رسالت کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ آپ کو لوگوں سے تحفظ دے گا۔بیشک اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو یہاں تک کہ قائم کرو توراة اور انجیل کو اور جو نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف اور ضرور بڑھائے گا بہت ساروں کو ان میں سے کفراور سرکشی کے اندرجو تیری طرف نازل کیا سے توآپ کفر کرنے والی قوم پر افسوس نہیںکریں ”۔
قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئًا ولا یتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا شھدوا بانا مسلمونO ( آل عمران:64)
”کہہ دو کہ اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم غلامی نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں اور ہم ایک دوسرے میں سے بعض بعض کو رب نہیں بنائیں”۔
آج یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر مسلمانوں کا مذہبی طبقہ حلال و حرام قرار دینے میں رب بنادیا گیا ۔ قرآنی آیات میں واضح ہے کہ تمام ادیان میں مشترکات تین ہیں۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنی، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا ہے اور آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بنانا ہے۔
ان دین عنداللہ اسلام
کا مطلب نام کا مسلمان ہونا نہیں ہے۔اگر ہندو، سکھ ، عیسائی ، یہودی، مجوسی، پارسی ، بدھ مت اور کسی بھی مذہبی طبقے کا عقیدہ اور عمل اپنی جگہ درست ہے تو وہ مؤمن بھی ہے اور مسلمان بھی لیکن جب مسلمان خدا کے کلام سے منحرف ہوجائے اور انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ کیونکہ دین کی اصل خدا کے احکام کو دل سے تسلیم کرنا ہے۔
قالت الاعراب اٰمنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا و لما یدخل الایمان فی قلوبکم (الحجرات:14)
”دیہاتی بولے کہ ہم ایمان لائے۔کہہ دو کہ تم ایمان نہ لائے مگر کہو کہ ہم اسلام لائے ،جب تک تمہارے دلوںمیں ایمان داخل ہوجائے” ۔
ومن الاعراب من یؤمن باللہ وا لیوم الاٰخر و یتخذماینفق قربٰتٍ عنداللہ وصلوٰت الرسول الا انھا قربة لھم سیدخلھم اللہ فی رحمتہ ان اللہ غفور رحیم
”اور کچھ دیہاتی وہ ہیں جو اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان لائے۔ جو خرچ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔ (التوبہ:99)
وممن حولکم من الاعراب منٰفقون ومن اہل المدینة مردوا علی النفاق لاتعلمھم نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذابٍ عظیمٍ
”اور اردگرد کے دیہاتیوں میں منافق ہیں اور اہل مدینہ میں کچھ نفاق پر اڑ گئے۔آپ ان کو نہیں جانتے ،ہم جانتے ہیں ان کو عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے۔پھر ان کو عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جائے گا”۔ (التوبہ:101)
رحمت للعالمینۖ23سالہ بعثت تک محدود نہیں ۔
جب قاری محمد طیب نے تکلیف اٹھانے کے بعد نعت پڑھی جسے علماء دیوبند کے اکابر نے آنکھوں کے آنسوؤں کیساتھ سنا تو شرک کے فتوے لگانے والے کہاں گئے؟۔ آفرینش عالم سے پہلے نور نبوتۖ کی رحمت للعالمینی کا سراج منیر بالکل حق ہے۔
” بیشک آپ میت ہو اور وہ سب میت ہیں”۔ کا مطلب برزخی زندگی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی ہے۔ احمق اور گمراہ طبقہ اس سے برزخ کی حیات کا انکار ثابت کرتاہے، اللہ نے فرمایا:
وما ھذہ الحیٰوة الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاٰخرة لھی الحیوان لو کانوا یعملونO(عنکبوت:64)
”اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے مگر فالتو اور کھیل ، بیشک آخرت کا گھر وہی تو اصل زندگی ہے ۔کیا اچھا تھا کہ یہ لوگ جانتے”۔
تبارک الذی خلق الموت والحیاة ۔
اس زندگی کا ہر لمحہ موت اور پھر اصل زندگی عالم برزخ سے شروع ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا :
واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالًا و علی کل ضامر یاتین من کل فجٍ عمیقٍ O ……………ولیطوفوا بالبیت العتیقO
ترجمہ :” اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے ۔تیرے پاس لوگ آئیں گے پیدل اور پتلے دبلے اونٹوں پر دور دراز کی ہر راہ سے آئیں، تاکہ اپنے فائدے کیلئے حاضر ہوں اور جو جانور اللہ نے انہیں دئیے ہیں اللہ کا نام یاد کرکے (قربانی) کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤاور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ،پھر چاہیے کہ اپنا میل کچیل بھی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں”۔( سورہ الحج آیت27،28،29)
یہ دنیا میں بغیرٹاور کے سنگنل پہنچانے کی دلیل ہے۔
جب ہمارے گھر پر2007ء میں دہشت گردوں نے13افراد کو شہید کیا تو کانیگرم کے برکی نے خواب دیکھا کہ” میرے والد پیر مقیم شاہ ہنگامی حالت میں ہیں اور بتایا کہ شہداء آرہے ہیں ان کیلئے تیاری کررہاہوں”۔علماء حق کی ارواح خوش ہوں گی کہ ہمارے سلسلے کے شاگرد نے کام کردکھایا ہے۔ انشاء اللہ
مولاناقاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ سابقMNAچھوٹا لاہور صوابی حال مقیم امریکہ نے کہا کہ ”مجھے اور مولانا فضل الرحمن کو مولاناعبداللہ درخواستی کے نواسے مولانا شفیق الرحمن درخواستی نے اپنے مدرسہ جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور میں بلایا تھا تو ہم وہاں قریب اپنے بزرگوں کے قبرستان کی زیارت کرنے دین پور بھی گئے جہاں خلیفہ غلام محمد ، مولانا عبدالہادی اور مولانا عبید اللہ سندھی کی قبریں ہیں۔ فاتحہ پڑھی تو مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و عقائد سے تھوڑی کراہت ہے ”۔ میں نے کہا کہ چلو مراقبہ کرتے ہیں جب ہم نے مراقبہ کیا تو مولانا فضل الرحمن رونے لگے اور کہا کہ” یہ تو بہت ہی بڑے مرتبے کی شخصیت ہیں”۔تفردات پر لوگوں کو اگر کافر قرار دینا شروع کیا تو کوئی مسلمان نہیں رہے گا۔ سندھی کی شخصیت انقلابی تھی جس کسی نے کہا کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ اسلام نے انقلاب لانا ہے تو جذباتی ہوکر کہا کہ یہ کام انہوں نے نہیں کرنا ہم نے خود کرنا ہے تاکہ لوگ انتظار میں نہ رہیں مگر پھر ان کی اس بات کو پکڑ انہیں خوب بدنام کردیا گیا تھا”۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات سے عقائد اور مسائل میں پختگی مل جائے تو اختلافات بھی رفع ہوجاتے ہیں اور جاہلوں کا مقابلہ پہلے موجودہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن آج بہت زیادہ معاملہ آسان ہوگیاہے اور قرآن سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے عقائد خراب ہوگئے۔
قرآن میں معجزات ہیں اور معجزات کا عقیدہ شرک نہیں ہے لیکن بزرگوں کی کرامات کو سچ یا جھوٹ سمجھنے سے عقائد کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شرک قرار دینے سے قرآن پر زد پڑے گی اور ماننے سے بہروپیہ طبقات بھی بہت فائدہ اٹھائیں گے۔
قرآن کی محکم آیات کو بھی اختلافات کی نذر کردیا گیا ہے اور مشتابہات کا تو تعلق ہی ترقی یافتہ ادوار سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ”زمانہ قرآن کی تفسیر کرے گا”۔
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف دیتا ہے ، وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں خود ہوں۔ سب تبدیلیاں میرے قبضہ میں ہیں اور شب وروز کی گردش میرے حکم سے ہے”۔
الرحمٰن Oعلم القراٰن O
” رحمن نے قرآن سکھایا۔ (سورہ رحمان) قرآن ایک آئینہ ہے اور جب زمانہ ترقی کرتا ہے تو متشابہ آیات کی مشابہ چیزیں دنیا میں آتی ہیں اور اللہ اس کی تفسیر بھی انسان کو زمانے میں سمجھا دیتا ہے۔
قرآن میں سورج، چاند اور زمین وغیرہ کے اپنے مدار میں گھومنے کا ذکر14سوسال پہلے تھا لیکن چاند اور سورج گرہن کا اب پہلے سے پتہ چل جانا دراصل قرآن کی تصدیق ہے لیکن اگر ہمارے دعوت اسلامی کا تعلیم یافتہ طبقہ نہیں مانتا ہے تو یہ ان کے مذہب کا نہیں روزی کا مسئلہ ہے۔ ساری دنیا کو تبلیغی بنادو یا دعوت اسلامی میں شامل کردو تو یہود و نصاریٰ کا کم عقل طبقہ اپنا مذہب چھوڑ کر ان کے پاس آتا ہے اور ویڈیوز سے پتہ چلتاہے کہ اسلام قبول کرکے مفادات حاصل کرنا بھی تجارت ہے۔
محمد علی دوبارہ آیوش ملک بن گیا لیکن کسی نے بھی مرتد اور واجب القتل کا فتویٰ جاری نہیں کیااسلئے کہ نتائج کا پتہ ہے۔ رسول اللہ ۖ کے خلاف گستاخانہ کتاب1923میں لاہور کے ایک ہندو دکاندار نے لکھی ۔ مسلمانوں نے بڑا احتجاج کیا اور انگریز نے گرفتار کرنے کے بعد چھوڑا ۔پھر تانگے وال کے بچے غازی علم الدین شہید نے1829ء میںقتل کیا اور مذہبی جماعتوں کے کارکن، مدارس کے طالب علم اور خانقاہوں کے مریدوں نے یہ کام نہیں کیا ۔ آیوش ملک کو چاہیے کہ ویدوں کو پڑھ کر پورے ہندوستان کو شرک سے بچائیں اور ہم اپنے جاہل مسلمانوں کو تعلیم دیکر حقیقی معنوں میں مسلمان بنائیں۔
قسمت کی بات ہے کہ ابولہب نے ایک انگلی کے اشارے سے لونڈی نبیۖ کی پیدائش پر آزاد کردی تو پیر کے دن اس کو بخاری کے مطابق سپلائی ہوتی ہے اور ابوطالب نے ساری کی ساری زندگی لگادی اور جہنم کے نچلے طبقے میں منافق کی طرح پہنچ گیا اسلئے کہ علی کا باپ تھا اور حجاج بن یوسف علی کو بھی جہنمی قرار دیتا تھا اور آج میں علی کا بیٹا ہوں اور یہی میرا قصورہے؟۔
ہمارے ضلع ٹانک کی تمام مذہبی جماعتوں کے امیروں نے مجھ پر کھل کر تحریر اور تقریر میں اعتماد کا اظہار کیا اور صوبائی سطح اور ملکی سطح پر تمام مکاتب کے بڑوں نے تائید کی لیکن پھر بھی مجھ پر فتوے؟۔کوئی ابوطالب کا کافر کہتا ہے تو خیر ہے اور یزید کا بھی احترام کرتا ہے تو مسئلہ نہیں لیکن قرآن کی طرف جس دن آگئے تو تاریخ اور حقائق سب تشت از بام ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv