پوسٹ تلاش کریں

فتنہ الدھیماء اور جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کے آخر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

جامعہ العلوم السلاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ :

سوال:فتنہ الدھیماء سے کیا مراد ہے ؟کیا حدیث میں ایسے فتنے کے مصداق کا ذکر ہے؟۔
جواب:رسول اللہ ۖ نے جن چند بڑے فتنوں کی پیشین گوئی فرمائی ہے ان سے ایک فتنہ ”الدھیمائ” بھی ہے۔ اس کی تفصیل ایک طویل حدیث میں مذکور ہے۔ وہ یہ ہے۔

” عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ۖ کی مبارک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ۖ نے آخرزمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر شروع فرمایا، بہت سارے فتنوں کو بیان فرمایا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ فتنہ احلاس کا فتنہ کیا ہے؟۔( اس فتنے کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کس صورتحا ل میں ظاہر ہوگا؟) آپ ۖ نے فرمایا: وہ بھاگنا اور مال کا ناحق لیناہے۔ (یعنی اس فتنے کی صورت یہ ہوگی کہ لوگ آپس میں سخت بغض و عداوت رکھنے اورباہمی نفرت ودشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے سے بھاگیں گے، کوئی کسی کی صورت دیکھنے اور کسی کیساتھ نباہ کرنے کا روادار نہیں ہوگا۔ایک دوسرے کے مال کو چھین لینے اور ایک دوسر ے کو ہڑپ کرلینے کا بازار گرم ہوگا)۔

پھر ”فتنہ سراء ”ہے۔اس فتنہ کی تاریکی اور تباہی اس شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گی (یعنی اس فتنے کا بانی وہ شخص ہوگا ) جو میرے اہل بیت سے ہوگا ،اس شخص کا گمان تو یہ ہوگا کہ وہ فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اہل بیت میں سے ہے لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ وہ خواہ نسب کے اعتبار سے بھلے میرے اہل بیت ہی ہو مگر فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اپنوں میں سے ہرگز نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دوست اور میرے اپنے تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پرہیز گا ر ہوں۔

پھر اس فتنہ کے بعد ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کریں گے جو پسلی کے اوپر کولہے کے مانند ہوگا۔پھر دھیماء کا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ فتنہ امت میں ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس پر اس کا طمانچہ ، طمانچے کے طور پر نہ لگے۔(یعنی وہ فتنہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہوگا کہ امت کے ہر شخص تک اس کے برے اثرات پہنچیں گے اور ہر مسلمان اس کے ضرر اور نقصان میں مبتلا ہوگا) اور جب کہا جائے کہ یہ فتنہ ختم ہوگیا ہے تو اس کی مدت کچھ اور بڑھ جائے گی۔ یعنی لوگ یہ گمان کریں گے کہ فتنہ ختم ہوگیا ہے مگر حقیقت میں وہ ختم کی حدتک پہنچاہوا ہی نہیں ہوگا بلکہ کچھ اور طویل ہوگیا ہوگایہ اور بات ہے کہ کسی وقت اس کا اثر کچھ کم ہوجائے، جس سے لوگ اس کے ختم ہونے کا گمان کرنے لگیں لیکن بعد میں پھر بڑھ جائے گا۔اس وقت صبح کو آدمی ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا۔ (یعنی فتنہ کے اثرات لوگوں کے دل ودماغ کی حالت کیفیت اس قدر تیزی سے تبدیلی پیدا ہوتی رہے گی کہ مثلاً ایک شخص صبح کو اٹھے گا تو اس کا ایمان وعقیدہ صحیح ہوگا اور اس پختہ اعتقاد کا حامل ہوگا کہ کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا یا اس کی آبروریزی کرنا اور یا اس کے مال واسباب کو ہڑپ کرنا و نقصان پہنچانا مطلقاً حلال نہیں ہے مگر شام ہوتے ہوتے اس کے ایمان وعقیدے میں تبدیلی آجائے گی اور وہ اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرنے لگے گا کہ گویا اس کے نزدیک کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا اس کی آبروریزی کرنا اور اسکے مال وجائیداد کو ہڑپ کرنا نقصان پہنچانا جائز وحلال ہے) اس طرح جو صبح کو مؤمن تھا تو اس عقیدے کی تبدیلی کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اوریہ صورتحال جاری رہے گی یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا ہوگا اور اس میں کوئی نفاق نہیں ہوگا اور ایک خیمہ نفاق کا ہوگا کہ اس میں کوئی ایمان نہیں ہوگا۔ جب یہ بات ظہور میں آجائے تو پھر اس دن یا اس کے اگلے دن دجال کے ظاہر ہونے کا انتظار کرو۔ (ابوداؤد)

”عن عمیر بن ہانی العنسی ،قال : سمعت عبداللہ بن عمر یقول: کنا قعودًا عند رسول اللہ فذکر الفتن فاکثر ذکرہا حتی ذکر فتنہ الاحلاس۔ فقال قائل یا رسول اللہ ومافتنہ الاحلاس؟۔قال: ھی ھرب و حرب ثم فتنة السراء دخنھا من تحت قدمی رجل من اھل بیتی یزعم انہ منی و لیس منی وانما اولیائی المتقون ثم یصطلح الناس علی رجلٍ کورکٍ علی ضلعٍ ثم فتنة الدھیماء لا تدع احد من ھذہ الامة الا لطمتہ لعطمةً فاذا انقضت تمادت یصبح الر جل فیھا مؤمنًا و یمسی کافرًا حتی یسیر الناس الی فسطاطین فساط ایمانٍ لا نفاق فیہ و فسطان نفاقٍ لا ایمان فیہ فاذا کان ذاکم فانتظروا الدجال من یومہ او من غدہ ”۔

” فتنہ الدھیماء کے مصداق سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں : اس سے چھٹی صدی ہجری میں بغداد پر تاتا ریوں کے حملہ اور عام خونریزی کا فتنہ مراد ہے ، جنہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ انتہائی سخت فتنہ تھا۔جس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے، حجة اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ نے لکھا:

والفتنة الدھیماء تغلب الجنکیزیة علی المسلمین و نھبھم بلاد الاسلام …..الفتن العظیمة التی اخبر ھا النبی ۖ اربع:الأولی: فتنہ امارة علی أقذاء ، وذلک بمشاجرات الصحابة بعد مقتل عثمان رضی اللہ عنہ الی ان استقرت خلافة معاویة، وھی أشیر الییھا بقولہ ”ھدنة علی دخن” و ھو الذی یعرف أمرہ وینکر لانہ کان علی سیرة ملوک لا علی سیرة الخلفاء قبلہ الثانیة : فتنة الاحلاس وفتنة الدعاة الی ابواب جھنم و ذلک صادق باختلاف الناس و خروجھم طالبین الخلافة بعد موت معاویة الی ان استقرت خلافة عبدالملک الثالة: فنتہ السراء والجبریة والعتو وذلک صادق بخروج بنی العباسیة علی بنوامیة الی ان استقرت خلافة العباسیة و مھدھا علی رسوم الاکاسرة وأخذوا بجبریة و عتو الرابعة: فتنة تلطم جمیع الناس اذا قیل : انقضت تمادت حتی رجع الناس الی فسطاطتین و ذلک صادق بخروج الاتراک الجنکیزیة وابطالھم خلافة بنی العباس ومزقھم علی وجھھا الفتن ”

” حضرت سہارنپوری فرماتے ہیں کہ : ” یہ فتنہ امام مہدی کے ظہور سے کچھ پہلے پایا جائے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک چلتا رہے گا۔ حدیث کے آخری لفظ سے بھی اسی کی طرف شارہ مل رہاہے۔ بذل المجھود فی حل سنن ابی داؤد فتویٰ نمبر:144110201255

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

الائنس موٹرز کیلئے اطلاعی مدت ایک ماہ کی جگہ3ماہ اور پھر6ماہ کا فتویٰ مفتی عبدالرحیم نے دیا اور لوگوں کا مال ہڑپ کیا۔ مولانا سیدمحمد بنوری کی شہادت وغیرہ درست آئینہ دکھایا ہے۔
ھرب و حرب کا معنی غلط لکھا ۔ ھرب بھاگنا ۔ حرب جنگ ۔

ترجمہ حدیث: ”عبداللہ بن عمر نے کہا: ہم رسول اللہۖ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ ۖ نے فتنوں کاذکر کیا تو کثرت سے کیا اور فرمایا: پھر فتنہ احلاس ہوگا۔ کسی نے کہا: وہ کیا ہے؟۔ فرمایا: یہ بھاگنا اور جنگ کرنا ہے۔ پھر فتنہ السراء ہے جس کا دھواں میرے قدموں کے نیچے سے ہوگا جو میرا اہل بیت سے ہوگا اور سمجھتا ہوگا کہ مجھ سے ہے لیکن وہ مجھ سے نہیں اور بیشک میرے اولیاء پرہیز گار ہیں۔ پھرلوگ ایک شخص پر اصطلاح کریں گے جو پسلی پر چوتڑ جیسا ہوگا پھر فتنہ الدھیماء ہوگا ۔اس امت میں کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر کوئی تھپڑ تو لگائے گا۔ جب کہا جائے کہ ختم ہواتو بڑھے گا ، صبح آدمی مؤمن ہوگا اور شام کوکا فر ،یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہونگے۔ایک میں ایمان ہوگا نفاق نہیںاور ایک میں نفاق ہوگا ایمان نہیں ۔ جب یہ ہو تو دجال کا انتظار کرو ۔ اس دن یا کل”۔

مولانا یوسف لدھیانوی نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ نبیۖ سے خیر کا پوچھتے تھے اور میں شر کا معلوم کرتا تھا کہ مبادا مجھے شر نہیں پہنچ جائے۔

حذیفہ یارسول اللہ!ہمیں یہ خیر (اسلام) پہنچنے کے بعد کوئی شر پہنچے گا؟۔ فرمایا:ہاں!۔ حذیفہ : کیا اس شرکے بعد خیر پہنچے گی؟ فرمایا: ہاں لیکن اس میں دھواں ہوگا۔ اچھے لوگ ہوں گے اور برے بھی۔ حذیفہ : پھرکوئی شر ہو گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ہاں ! جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ہماری زبان میں بات کریں گے اور لبادے میں ہوں گے جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔اگر مسلمانوں کی جماعت اور ان کا امام ہو تو اس کیساتھ مل جاؤ ورنہ ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ چاہے درخت کی جڑیں چوس کر بھی گزارہ کرنا پڑے۔ (عصر حاضر)

اس حدیث سے فرقہ ”جماعت المسلمین ” نے جنم لیا ۔اس فرقے کے امام رسول اللہۖ ہیںاور خود سرکٹی لاش ہے۔

شاہ ولی اللہ نے دھوئیں کا آغاز معاویہ کی ملوکیت سے کیا ہے اور ہم نے نقش انقلاب میں امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار میں دھوئیں کو تسلسل کیساتھ گہرا کرکے دکھایا ہے۔ الدھیماء کا فتنہ اصولی طور پر جبری حکومتوں کے آخری دور پر ہونا چاہیے۔ لیکن اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ روایات میں70سے زیادہ دجالوں کا ذکر ہے جس میں30نبوت کا دعویٰ بھی کریںگے۔ دجالوں کی طرح مہدیوں کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین سب مہدی تھے اور عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدد کی تھی وہ بھی مہدی تھے۔

جاویداحمد غامدی اور اس کے شاگرد ڈاکٹر عرفان شہزاد کے سامنے شاہ ولی اللہ کی بات آئے گی تو اس نے کہنا ہے کہ فتنہ السراء میں حضرت علی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے حضرت عثمان شہید ہوگئے اورفتنہ کے طور پر ایک گروہ کی قیادت کی اور اس کا زعم بھی غلط تھا۔ اقذاء ابوبکر و عمر اور عثمان ہیں جن کی اس طرح خاندانی حیثیت نہیں تھی جو ابوسفیان اور اس کے خاندان اور مران بن حکم کی شخصیت اور ان کے بیٹوں کی تھی۔ اس نے واضح کیا کہ حضرت ابوبکر وعمر اور عثمان ، معاویہ سے زیادہ یزید کی خلافت شرعی تھی اور حضرت علی کو وہ خلیفہ مانتا نہیں ہے۔ پھر پسلی پر چوتڑ کے فتنہ کا مصداق حضرت حسن ہے جس نے300طلاقیں دیں،لالچ کی خاطر صلح کی اور ایک بڑا حصہ مال کا ذاتی اغراض کیلئے حکومت سے طے کیا۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد عبداللہ بن زبیر پربھی اس کا اطلاق کرسکتا ہے جس کو پھر الدھیماء اور مختار ثقفی کو ایک دجال قرار دے۔ جبکہ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں تک کوہی وہ اسلام کا نظام مانتا ہے۔

دوسری طرف بیانیہ یہ ہوسکتا ہے کہ امیرمعاویہ کے بعد یزید سے فتنہ احلاس شروع کیا جائے۔ جس میں ھرب و حرب اسلئے تھا کہ یزید کے خلاف امام حسین نے کربلا کا سفر کوفہ والوں کے خطوط پر کیا اور پھر وہ جنگ سے بھی بھاگ گئے اور واقعہ کربلا سے پہلے امام حسین نے تین مطالبات پیش کئے۔ مدینہ واپسی، سرحد کی طرف جانا اور یزید سے براہ راست بات ۔لیکن تینوں باتیں نہیں مانیں اور واقعہ کربلا کی جنگ مسلط کردی۔ مدینہ پر چڑھائی کردی اور سانحہ حرہ پیش آیا جس میں اہل مدینہ کیساتھ بہت زیادتی ہوئی۔ پھر مکہ کے محاصرے کے دوران یزید مرگیا اورلشکر کے نمائندے نے عبداللہ بن زبیر کے سامنے بیعت کی تجویز رکھی۔ معاویہ بن یزید نے امام زین العابدین کو خلیفہ بننے کی پیشکش کی اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ لیکن انہوں نے نہیں مانا اور پھر مران بن حکم نے اپنے بیٹے عبدالملک کیساتھ شام کی طرف بھاگنے کے بعد جنگ شروع کردی۔ یہی فتنہ احلاس تھا۔ احلاس چٹائی کو کہتے ہیں۔ فقیہ مدینہ سعید بن المسیب نے کسی کی بھی بیعت نہیں کی اورگھر میں بیٹھ گئے۔ اہل فارس نے امام زین العابدین کو امام بننے کی خفیہ پیشکش کردی جو انہوں نے مسترد کردی۔ پھر محمد بن حنفیہ کی خفیہ بیعت کی گئی اور یہی اصل فتنہ السراء تھا۔ جو اہل بیت کے نام پر چھپ کر کھڑا ہوا اور اس میں نبیۖ کی سنت قائم نہیں کی بلکہ امت کا بیڑاغرق کیا۔

مروان بن حکم پسلی پر چوتڑ اور عبدالملک بن مروان کے دور پر فتنہ الدھیماء اور حجاج بن یوسف پر دجال کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدید کرکے مجدد کا کام کیا۔

شاہ ولی اللہ نے منہاج النبوة کی خلافت کے بعد معاویہ کی بادشاہت کو د ھواں قرار دیا تو دھوئیں کا سبب امام حسن تھے۔ حضرت علی کے فضائل پر مستند احادیث ہیں اور حضرت حسین کیلئے فرمایا کہ ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں”۔ تو حسین کی مزاحمت کو دنیا مانتی ہے۔ حضرت حسن کی صلح نے خلافت سے معاملہ ملوکیت میں بدل دیا تو پھر حضرت علی کی جگہ امام حسن پر فتنہ السراء کی حدیث کو فٹ کرنا چاہیے؟۔

نبیۖ نے فرمایا کہ ” میں وحی کیلئے قوم سے لڑا ہوں اور علی وحی کی تاویل کیلئے مسلمانوں سے لڑے گا”۔ علی کے خلاف پہلے اماں عائشہ اور عشرہ مبشرہ کے صحابہ نے قتال کیا اور علی نے شکست دینے کے بعد احترام کیا۔ پھر خلافت کے باغیوں کے خلاف قتال کیا تو یہ فطری شریعت ہے ۔ پھر خوارج کے خلاف جہاد کیا جو قرآن کی غلط تاویل کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ” خلافت کا وعدہ ابوبکر وعمر اور عثمان کیساتھ پورا ہوا مگر علی کیساتھ پورا نہ ہوا کیونکہ خلافت غیر منتظمہ تھی لیکن پھر قیامت تک کیلئے حضرت علی کی خلافت انقلاب کا ذریعہ ہے ۔ قرآن میں خلافت کا وعدہ جمع کے صیغہ کیساتھ ہے جس کا کم ازکم تین افراد پر اطلاق ہوتا ہے وہ اللہ نے تین خلفاء سے پورا کردیا”۔

لاکھ سے زیادہ صحابہ سے وعدہ اور تین سے پورا ہوا؟۔ یہ تو وعدہ خلافی ہے؟۔ خلافت کا وعدہ مسلمانوں سے تھا۔ خلافت راشدہ ،بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کیساتھ1924ء تک سب پر اطلاق ہوتاہے۔ امریکہ سپر طاقت چاہے پاگل ٹرمپ کو اپنا حکمران بنائیں یا بارک حسین اوبامہ اور کلنٹن کو۔ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ فتنہ اقذاء ممالیک خاندان غلاماں پھر فتنہ السراء کا مصداق شریف مکہ ، پسلی پر چوتڑ غلام احمد قادیانی کی نئی اصطلاح بروزی نبوت ومھدویت اورفتنہ الدھیماء بلیک واٹر۔

جاویداحمد غامدی کو ایک طرف بنوامیہ سے محبت اور بنوہاشم سے جلن ہے تو دوسری طرف شیعہ مخالف ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے گھناؤنی ذہنیت ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بیان دیا۔ لیکن غامدی کے بغل بچے حسن الیاس کی تو حالت ایسے تھی کہ جس طرح بشری بی بی کے بچے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ماں کی شادی پر خوش تھے۔ حسن الیاس کا گویاخون بھی بہت بڑھ گیا تھا۔

فتنہ اقذاء کسے کہتے ہیں؟۔ عرب میں ایک قسم کا نکاح یہ تھا کہ10یا10سے کم افراد ایک عورت سے نکاح کرلیتے ۔ دوسرا یہ کہ عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے۔ تیسرا یہ تھا کہ ادنیٰ نسل والااعلیٰ نسل والے کو بیوی حمل کیلئے سپر د کردیتا تھا۔ فتنہ اقذاء کی آخری قسم غامدیہ نے ایک شخص سے ناجائز مراسم کے ذریعے ایک بچہ جنم دیا تھا۔

قذیٰ آنکھ میں پڑجانے والے تنکے اور گند کو کہتے ہیں۔اور بیکار نسل والوں کو اقذاء کہا جاتا تھا۔ ضرورت پڑنے پر یہ لوگ بھی ذمہ دار عہدوں پر آگئے۔ حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص ، ابوہریرہ ،مغیرہ بن شعبہ، خالد بن ولیدجیسے صحابہ کو بھی منصبوں سے سبکدوش کیا۔ نبیۖ نے مروان بن حکم اور اسکے باپ کو جلاوطن کردیا تھا۔ حضرت عمر کے بعد نبیۖ نے سمندر کے مانند طلاطم خیز موجوں والے فتنے کا ذکر فرمایا۔ یہ فتنہ اقذاء تھا۔ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کیلئے بھی فرمایا کہ ”یہ منصب کیلئے نااہل ہے”۔ حضرت عثمان دور میں عہدوں پر فتنہ اقذاء کا طوفان آیا۔ حضرت علی نے حضرت عثمان کو آگاہ کیا لیکن فتنہ اقذاء نے شکار کیا۔ حضرت عثمان کے ہاتھ میں سب کچھ تھا لیکن عبیداللہ بن عمر سے قصاص نہیں لیا جس نے طیش میں چندا فراد کو قتل کیااور پھر اپنے اقتدار میں مسائل کے شکار ہوگئے تو حضرت علی پر ذمہ داری ڈالنا بالکل غلط ہے۔ حضرت علی سے اچھے بھلے لوگ لڑرہے تھے تو قصاص لینے کے بجائے خود بھی شہید کردئیے جاتے لیکن علی تو پھر علی تھا۔ جس نے کفار اور مسلمانوں سے کبھی شکست نہیں کھائی۔تینوں خلفاء راشدین کے ساتھ تعاون کیا اور مشکل ترین دور میں امت کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت علی کے حامی اور مخالف کے کرداروں کا کما ل اور زوال حقائق کے آئینہ میں دیکھ سکیں گے۔ انشاء اللہ

حضرت عمر نے تین طلاق پر عورت کے حق میں ٹھیک فیصلہ دیا تھا لیکن عبداللہ بن عمر نے اس وجہ سے اختلاف کیا کہ جب اس نے تین طلاق دی تو نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا اور اس پر مامور کردیا کہ مرحلہ وار اس طرح طلاق دینی ہے لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھتا تھا کہ اس کی بیوی طلاق پر راضی نہیں تھی جبکہ حضرت عمر نے اس عورت کا فیصلہ کیا جو رجوع نہیں چاہتی تھی۔

فتنہ اقذاء والوں نے حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظہ اور حلالہ کی لعنت میں ملوث کرکے امت کی ناک کاٹ ڈالی لیکن ان کاDNAہی ایسا تھا کہ حلالہ کی لعنت اور عزتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ جب گورنر بصرہ مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف چار افراد گواہی دینے آئے تو ایک زیاد نے ایسی گواہی دی کہ جس سے اسلامی تاریخ ، فقہ اور احادیث کی کتابوں کے علاوہ سب مسالک بھی شرمندہ ہیں لیکن خود سزا سے بچ گیا اور باقی تینوں کو80،80کوڑے لگوادئیے۔کون ابن زیاد؟۔ جس کو معاویہ نے کہا کہ جاہلیت میں تمہاری ماں مرجانہ کیساتھ میرے والد ابوسفیان نے ناجائز جنسی تعلقات رکھے تھے اسلئے تم میرے بھائی ہو۔ صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، انصاری اور انواع واقسام کی نسبتیں ہیں مگر جاوید احمد غامدی کا ذوق دیکھو؟۔ کوئی اچھی فطرت والا غلط نسبت غامدی اسلئے نہیں رکھتا کہ غامدیہ کے ایک بچے نے احادیث کی کتابوں میں بڑی شہرت پائی ہے۔ چاروں ائمہ اہل سنت امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے لوگ تھے لیکن ان کے متبعین نے طلاق مغلظ پر غلط اجماع کیا جس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت پر امت کو مجبور کیا جارہاہے۔ یہ فتنہ اقذاء کا تحفہ تھا اور ان سےDNAکی ایک نسبت کی وجہ سے جاویداحمد غامدی بھی قرآن ، احادیث اور حضرت عمر کے فیصلے کو غلط رنگ دے رہاہے۔

ایک طرف غلام احمد پرویز کے مؤقف کو ٹھیک سمجھتا ہے اور دوسری طرف پھر ایک ضعیف حدیث کی بنیاد پر ایک غلط مسئلہ کھڑا کررہاہے اور پسلی پر چوتڑ اور دجال کا مظاہرہ کررہاہے۔

فتنہ ھرب و ضرب افغان جہاد میں امریکی سی آئی اے کے کردار کو فراموش نہ کرنا۔ افغانی تنظیموں، بھاگے ہوئے لوگوں نے حرب میں حصہ لیا۔ خمینی فتنہ السراء یا ابوبکر البغدادی ؟۔ اسامہ بن لادن پسلی پر چوتڑ تھا یا ملاعمر؟۔فتنہ الدھیماء امریکہ کا بلیک واٹر؟۔

کوئی تھپڑ سے محفوظ نہیں رہا۔2007ء میں مولانا فضل الرحمن نے دہشتگردوں کو ابن ماجہ کی حدیث سے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل شہید، مرزاغلام احمد قادیانی،مولانا احمد رضا بریلوی، شریف مکہ ، حسن البنائ، سید مودودی،مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت، مولانا الیاس قادری،میرے مرشد حاجی عثمان اور مجھ سید عتیق الرحمن گیلانی جس پر بھی کوئی چاہے تو فتنہ السراء اور پسلی پر چوتڑ کا فتویٰ فٹ کرے۔ مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة پھر بینکاری کے سودی نظام کو اسلامی قرار دیا۔ پسلی پر چوتڑ کا مصداق مفتی تقی عثمانی کے مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام کی اصطلاح پر لوگوں کا اتفاق ؟۔ جماعت پرستی کے داعی جہنم میں جھونکنے کے مصداق اور مسلمانوں کی جماعت اور امام ؟۔قرآنی احکام واضح ہوں تو کوئی رات اصلاح کی ہوگی اورتقدیر الٰہی سے دنیا بدلے گی۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدۖ اس کے بدن سے نکال دو!

علامہ یوسف بنوری کے شاگرد نے ملاعمر کو خراسان کا مہدی قراردیا اور پاکستان میں ڈنڈے والی سرکار کا ذکر کیا۔ شیعہ عالم نے امام خمینی کو مہدی قرار دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران، ہندوستان ،افغانستان سے جنگ اور ڈنڈے والی سرکار قائم کی۔ اسرائیل و امریکہ سے کہاکہ ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا لے جائیں گے اور عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ حافظ کو قرآن کا درست ترجمہ سمجھ میں آیا تو بہت بڑا انقلاب ہے۔
ــــــــــ
جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے امین رسول، ہمارے سردار محمد ۖ اور ان کی تمام آل و اصحاب پر درود و سلام ہو۔ آج ہمارے پاس امام مہدی کے بارے میں نیاخواب ہے۔ دیکھنے والے کا گمان ہے کہ یہ خواب امام مہدی سے متعلق اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصلاح کا وقت قریب ہے، وہ جان چکے کہ کون ہیں اور انہیں اپنے مہدیِ منتظرہونے کا پختہ یقین ہے۔

خواب کے الفاظ:

”میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر کھڑا تھا، مرد و خواتین علماء باہر نکل رہے تھے۔ امام مہدی جامعہ کے دروازے پر لگی ہوئی پودوں کی باڑھ سے سیب توڑ رہے تھے۔ کیاریوں سے جو سیب چن رہے تھے ان کا سائز تقریباً25سینٹی میٹر (کافی بڑا)تھا اور رنگ سرخ تھا میں نے ان کیساتھ سیب چکھے،وہ میری زندگی کے لذیذ ترین سیب تھے۔ پھر علم رکھنے والی خواتین میں ایک نے امام مہدی سے کہا کہ وہ اپنے خاص رویے (سلوک)کو تبدیل کر لیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔ یہ سن کر وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ آخری سیب توڑ رہے تھے، انہوں نے وہ سیب اس عالمہ خاتون کو دیا۔خاتون نے چکھا تو اسکے شاندار ذائقے پر دنگ رہ گئی، خواب یہیں ختم ہو ا میں جو کہہ رہا ہوں اس پر اللہ گواہ ہے۔

تعبیر:

خواب دیکھنے والے نے سچ کہا اور یہ اللہ عزوجل کی طرف سے سچی نوید دلیل ہے کہ امام مہدی کو اپنی حقیقت کا پورا یقین ہو چکا ،انکے ارد گرد لوگوں کی بڑی تعداد جان چکی ہے کہ وہ کون ہیں؟ ثبوت یہ ہے کہ علم رکھنے والی خاتون نے ان سے کہا کہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔

جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر امام مہدی کا کھڑا ہونا اور علما ء کاباہر نکلنا اللہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ علامت ہے کہ ان کے پاس علوم جمع ہو چکے ہیں۔ تقوی اور صلاح کا ثمر انکے قلب پر جاری ہو چکا اور ان کا سینہ اللہ کی طرف سے ”علمِ ربانی”سے بھر چکا، بالخصوص اسلامی علوم کی تمام شاخوں جیسے فقہ، زبان، بلاغت اور ان سے جڑے دیگر علوم علمِ اصول، علمِ کلام، متکلمین کو جواب دینا، بحث و مباحثہ اور مکالمے کے فنون، اسلام کے قواعد و اصول، علمِ حدیث جڑے دیگر علوم ، تخریجِ حدیث وغیرہ میں انہیں مہارت حاصل ہو چکی ہے۔ ان علوم کا بڑا حصہ انہوں نے کتب اور شاید خطبات سے حاصل کیا لیکن ان کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے انہیں اپنے ”علومِ لدنی” الہام کیے ہیں اور ان پر الٰہی مدد کا فیضان ہوا ہے، جس کی بدولت وہ ان علوم کو بالکل مختلف اور نئے انداز میں سمجھتے ہیں۔

جامعہ کے دروازے سے ان کا سیب توڑناشاید”ثمرِ علم” (علم کے پھل)کی طرف اشارہ ہے، انہوںنے اس علم کا جوہر حاصل کر لیا اور وہ عملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان پر فیوضات اور علم کا ثمر عام لوگوں سے مختلف ہے۔یعنی اگرچہ یہ علوم بظاہر روایتی معلوم ہوتے ہیںمگر امام مہدی کے پاس ان کی جو سمجھ بوجھ ہے وہ بالکل نئی اور ربانی ہے، جو موجودہ حالات اور وقت کی اصلاح کیلئے موزوں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سیب کا سائز بہت بڑا (25سینٹی میٹر)تھا، جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

علم رکھنے والی خاتون کا یہ کہنا کہ وہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور پھر ان کا حیرت زدہ ہونا غالباً یہ اشارہ ہے کہ امام مہدی آس پاس کے کچھ لوگوں کیلئے معلوم ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی اپنے معاملے میں یقین کامل رکھتے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اس خاتون کو سیب دیا اور اس نے چکھا تو لاجواب ذائقے پر دنگ رہ گئی۔ یہ ثبوت ہے کہ اس مردِ مومن کے پاس وہ ذوق روحانی لذت و معرفت ہے جس سے خاتون واقف نہیں تھی۔ شاید وہ رویہ جو اس خاتون کو منصبِ خلافت اور ولی اللہ کے مقام کے لائق نہیں لگ رہا تھا، امام مہدی بتانا چاہتے تھے کہ یہ تقدیرِ الٰہی سے ہے اور کچھ معاملات وہ ہیں جنہیں وہ خود تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جب تک مقررہ وقت نہ آ جائے اور یہ کہ وہ خود ان علومِ ربانی کا ذائقہ چکھ چکے ہیں اور انہیں کامل یقین ہے۔ اسی لیے جب انہوں نے وہ سیب (علم و معرفت کا ثمر) اس خاتون کو دیا اور اس نے چکھا، تو وہ بھی حیران رہ گئی۔

اس خواب کی تعبیر کے بارے میں یہ ہمارا گمان ہے اور اصل علم اللہ ہی کے پاس ہے۔والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

المھدی وعلوم آخر زمان

امور لایغیرھا المھدی من نفسہ ولا یستطیع متیقن من ھذ.
المھدیوعلومآخرزمان@ABMONZER and
25اپریل2026ء کو یہ ویڈیو اپ لوڈ ہوئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غیرمتبرجٰتٍ بزینةٍ : تفسیربا تصویراورغامدی کی تقدیر

امریکہ نوازسمگلر اشرف پہلوی پر بلال غوری کا پروگرام۔2سو عاشقوں اور ذوالفقار علی بھٹو سے ناجائز تعلق۔3شادی میں ناکامی اور بیک وقت کئی افراد سے جنسی تعلق تھا ۔ جمائما کے بوائے فرینڈ زاور پھر شادی کا اشرف پہلوی کیساتھ موازنہ ہوتو فرق ہے ۔بیک وقت زیادہ افراد سے تعلق خطرناک ہے۔ قرآن ھدی للناس سبھی کیلئے ہدایت ہے اور ہدایت جبری نہیں ہے بلکہ آزادی کیساتھ دل ودماغ و کردار کی ہدایت ہے۔ اسلام ایکسپائرہوچکا ہے یا پھر تحریف کے بغیرچل سکتا ہے؟۔

شدت پسندی کو روکنے کیلئے اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کی تصاویر چھاپ دیں تو سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا ”ٹانگوںمیں بڑی جاذبیت ہے”۔گاڑی کی لائٹ جیسے ڈم اور تیز ہوسکتی ہے۔اللہ نے نظریں ڈم رکھنے کا حکم فرمایا۔

4سوسال پہلے مغرب سیکولر ازم بنی آدم کو ننگا کرنے کا ابلیسی نظام لایا تھا تو عرب وعجم ، مشرق ومغرب محفوظ نہیں رہ سکے ۔

اوزاعی نے نکاح سے پہلے عورت کا پورا جسم شرم گاہ کو چھوڑ کر دیکھنا جائز قرار دیا۔ ابن حزم نے شرمگاہ کوبھی جائز قراردیا۔

یایھا النبی قل لازواجک و بنٰتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین

”اے نبی اپنی ازواج، اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں یہ معمولی ہے تاکہ پہنچانی جائیں اور ستایا نہ جائے”۔

تاکہ گاہک تلاش کرنے والیوں سے امتیازی پہچان رہے۔

وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زنیتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن

” اور مؤمنات سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے حسن النساء کو نہیں دکھائیں مگر جتنے دکھ جائیںاور اپنے سینوں پراپنے دوپٹوں کو لپیٹ لیں”۔

جاویدغامدی نے کہا کہ ”شرمگاہ کی حفاظت نیم برہنہ لباس ہے۔ پردہ کی احادیث من گھڑت اور ہندوستانی کلچر ہے” ۔دوپٹے کا حکم نہیں دکھتا شرمگاہ کی حفاظت سے برہنہ کرنے پرپٹہ لگانے کی ضرورت ہے۔

بیوہ و طلاق شدہ بیگمات ایگریمنٹ والی اوروقتی متعہ والی۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم… فما استمتعتم بہ منھن

”اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو …جن سے تم فائدہ اٹھالو ”۔ ( النسائ)

بیواؤں اور بگڑی لڑکیوں کاجائز حل بگاڑ کا بڑھتا ہوا رحجان ختم کرسکتاہے۔ معاہدے کے بغیر چھپی یاری اور کھلی فحاشی کے بھیانک انجام کو سوشل میڈیا روز دکھارہاہے۔

مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ” قرآن معنوی تحریفات کا شکارہے”۔ ایرانی متعہ والی کنواریوں سے سعودیہ کی مسیار والی طلاق شدہ وبیوہ بیگمات نکاح کیلئے بہت زیادہ بہترہیں۔

ومن لم یستطع منکم طولًا ان ینکح المحصنات المؤمنات فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المؤمنات واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعضٍ فانکحوھن باذن اہلھن واٰتوھن اجورھن بالمعروف محصناتٍ غیر مسافحاتٍ ولا متخذات اخدان فاذااحصن فان اتین بفاحشةٍ فعلیھن نصف ما علی المحصنات من العذاب ذٰلک لمن خشی العنت منکم وان تصبرواخیرلکم واللہ غفور رحیمO

”اورجو بیگمات سے نکاح کو نہیں پہنچتا تومؤمنات معاہدہ والی لڑکیاں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے ۔تم آپس میں ایک ہو۔ پس نکاح کرو انکے سرپرستوں کی اجازت سے اور ان کو انکا حق مہر دو معروف طریقے سے نکاحی بندھن میں لاکر نہ شہوت رانی اور نہ چھپی یاری ۔پس جب نکاح میں لاؤ تو اگر وہ فحش کریں تو ان کی عام شادی شدہ کے مقابلے میں آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں مشکل سے ڈرے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے ” ۔ سورہ النسائ:آیت:25)

متعہ والی دوشیزہ سے مجبوری میں نکاح مگر کمتر نہیں سمجھیں اور سزا عام عورت سے نصف اورمشکل نہ ہوتو معافی ہی بہترہے۔

ایرانی سعودی متعہ ومسیار سے افغانی بکنے والی بچیاں زیادہ خطرناک ہیں۔ پاکستانی جسم فروشی ، جبری اڈے بدترین ہیں۔ ہم جنس پرستی میں لڑکوں کو رکھنا لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہے۔ مردہ ضمیروں کی کثرت سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

لڑکے کو لونڈابازی کی جگہ اس کی بہن کو رکھنا بہتر اسلئے تھا کہ مرد کو بدفعلی کی علت ہو تو معاشرہ ضمیر چھوڑ مشین بن جاتا ہے اور ضمیر نہیں رہتا تو ظلم کی ہرحد پارکرنے میں بیباک بنتاہے۔

قرآن،لغت، حدیث ،فقہ کی تطبیق نہیں آتی ۔ عورت کو سینے پر دوپٹے کاحکم آیا تو برصغیرعمل پیرا تھا مگر جاویدغامدی اسلام دشمنی میںپہلے جلتارہا، بھڑاس نکالی تو ننگا ہوا۔

ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکی لایعلم بعد علمٍ شیئًا

”اور تم میں سے وہ بھی ہے جو رذیل ترین عمر کو پہنچا،تاکہ علم کے بعد کوئی چیز نہ سمجھ سکے”۔

This is Javed Ghamdiaa

عیسی بغیر والد معزز ، غامدیہ سنگسار۔ ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر وہ بے اصل ” ۔ولید بن مغیرہ بنی اسرائیل جعلی قریشی بنا۔

حرم میں حبشی گریبان سے بریسٹ نکالے دودھ پلاتی ہیں مگر دھیان نہیں جاتا تو بڈھی میں کیا؟۔ حسن نساء برہنہ کرنا منع، گھر میں قمیص اور اجنبی سے دوپٹہ لپیٹنا۔ غیر مسلم مخاطب نہیں ۔ مقامات الحریری میں دوسیب، عربی لٹریچر میں فتونھااسکے فتنے اور نبیۖ نے فتنہ النساء سے پناہ مانگی تو وہ یہی فتنہ ہے۔ باقی فتنوں میںمرد عورت برابرہیں۔

ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

واضح مگر ترجمہ معنوی تحریف ہوئی۔ لڑکے لڑکی کے درمیان یہی فرق ہے۔ لڑکے کیساتھ10شیطان اور لڑکی کیساتھ ایک شیطان کا ذکر ہے لیکن یہی چیز بڑا فتنہ ہے۔

عورت نے کہا:تمہیں چارشادی اورہمیں؟۔ مفتی محمود نے کہا:”تم20کرلو، حکم قرآن ماننے والوں کیلئے ہے ”۔ اجتہاد کے نام پر تحریف کفر ہے۔ قرآنی تعلیم مذہبی طبقے، عوام ، حکمران طبقہ اور دنیا تک پہنچانا فرض ہے۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ کی بنیاد علامہ بنوری نے تقویٰ پر رکھی۔ حضرت ابراہیم واسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر پر دعارحمة للعالمینۖ کی بعثت کیلئے فرمائی۔

قرآن مشرقی نہ مغربی اور نہ تہذیبوں کا تصادم بلکہ اعلیٰ و ادنیٰ معیارات کے ذریعے دنیا میں مثالی توازن کو یقینی بناتا ہے۔پھر سب سے بڑھ کراصلاح معاشرہ کیلئے ہمہ وقت رو بہ عمل ہے۔ تہذبوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ بڑا اعتدال و توازن ہے۔
ــــــــــ

وزیرستانی مورچے اور آیات کی زبردست تفسیر

کانیگرم میں ہمارے گھر کے بالا خانے کی چھت پر دوپکے مورچے اس کابڑا حسن بھی تھے۔

تبارک الذی جعل فی السماء بروجًا

”برکت والا جس نے آسمان میں بروج بنائے” مجاہد نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مورچے جس میں حفاظت کرنے والے رہتے ہیں”۔

اینما تکونوا یدرککم اللہ الموت ولوکنتم فی بروج مشیدة

ٍ ”جہاں بھی تم ہو،موت تمہیں پالے گی ،اگرچہ تم بلند وبالا پختہ مورچوں میں ہو”۔ (سورہ النساء آیت78)

دوبئی میں برج العرب ہوٹل ہے۔ عورت کے برج ”حسن النساء ” ہیں۔ جاہلیت میں زیادہ تعداد میں شوہروں کی تلاش میں عورت اپنے حسن النساء کو کھلا رکھتی تھی۔ جس کی جاذبیت میں اس کے گاہک بڑھ جاتے تھے۔ قرآن کایہ حکم صدرٹرمپ وغیرہ کو آج بھی بالکل قابل قبول ہوگا۔

ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی

”اور حسن النساء کی نمائش نہ کروپہلی جاہلیت کی نمائش ”
اسلام میں عورتوں کیلئے دو طرح کا لباس ہے۔ ایک میں مکمل کپڑے اور سینے پر اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ لپیٹنا اور دوسرا لونڈی ، متعہ اور مسیار والی عورت کا لباس ہے جو نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں ،وہ مردوں کی طرح ٹانگیں ،کاندھے، پیٹھ ، پیٹ ننگے لیکن حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر ۔

والقواعد من النساء الّٰتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO

”اور قواعدعورتوں کے حوالہ سے جو نکاح کی امید نہ رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتاریں اپنے حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر اور اگروہ پاکدامن رہیں تو ان کیلئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ سنتا جانتاہے”۔

1948ء میں اقوام متحدہ نے غلامی کو ختم کیا۔ غلامی کی فیکٹری جاگیرداری اورمارکیٹنگ سود کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ۔متعہ ومسیار کا اسٹیٹس لونڈی و غلام والا نہیں معاہدے والا بنایامگر نکاحی حقوق نہیں۔ ام ہانی سمیت بدر الدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکر کیا، متعہ ومسیار والی امہات المؤمنین نہیں۔ ” ہدایہ” میں مالکی و حنفی مسلک میں وقتی نکاح کا اختلاف ہے ۔ قرآن نے نکاح اور معاہدے کے قوانین کو واضح کیا۔تین افرادکی گرل فرینڈماہ نور کا ایک کوقتل کرنا المیہ ہے۔ حملہ آورشیطانی تہذیب کا مداوا اسلام ہے۔جاویداحمد غامدی نے قرآن سے من گھڑت طاغوت کا حکم اخذ کیا ۔تحریف کفر ہے ۔ احکام کی وضاحت سے مسلکی اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا اور پوری دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کوجبر کے بغیر دل وجان سے قبول کرے گی۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندو کی آنکھ سے بڑے انقلاب کی تصویردیکھ!

ہندوستان کی مشہور شخصیت ڈاکٹربربیل کے انکشافات:
ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی اور بدبو آ رہی ہوگی۔ پیاس لگی ہے، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے پڑے ہیں، کیا آپ ایسا پانی پی پائیں گے؟یہ سونامی تو کچھ بھی نہیں۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ آنیوالا وقت، میں نے پچھلی بار کہا تھا،2026سے شروع ہوگا۔ شروعات دیکھ چکے ،2028تک یہ زور پکڑے گا۔ جب میں نے پہلے بولا تھا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا تھا۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر ہے، لوگ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے قیمت بتائی ہے۔ اب اوپر والوں کی پلاننگ سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ہے، جس کا نام ٹرمپ ہے، بنیادی طور پر اس کا تعلق خلائی مخلوق (ایلینز)سے ہے۔

مرد:روس، یورپ اور امریکہ کے جو حالات ہیں، انہیں دیکھ کریہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ عالمی جنگ (ورلڈ وار) چھڑ سکتی ہے۔ آپ نے پہلے بھی بتایا تھا کہ آنے والا وقت صحیح نہیں ہے، گھر میں کچھ راشن رکھ لو، پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ میم، کیا آپ اس موضوع پر ہمیں کچھ مزید بتانا چاہیں گی؟ ۔

خاتون:ہاں، تو کیا آپ لوگوں نے پوجا پاٹ (عبادت)کرنی ہے؟ مجھے کئی لوگوں کے بڑے مضحکہ خیز سوالات ملتے ہیں کہ میم، کیا ہم کچھ دان صدقہ کر کے اپنے گناہ معاف کرا سکتے ہیں؟، میرا ایک کلائنٹ جسے بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں، تو وہ کہتا ہے کہ جی ہم ان سے معافی مانگ لیں گے۔ میں نے کہا اچھا!کسی کے بچے کو تم قتل کر دو، کسی کی بہن بیٹی کی عصمت دری کر دو اور کہو کہ معافی مانگ لیں گے، تو ٹکڑے تو میں ہی کر دوں گی اس کو پکڑ کر۔ یہ جو آپ کی سوچ ہے نا کہ گناہ کر کے معافی مانگ لیں گے، ایسا نہیں ہے۔ سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وقت طاقتور ہے؟ نہیں، بلکہ تقدیر اور آپ کے اعمال طاقتور ہیں۔ اور اعمال کے حساب سے۔

جو ابھی آپ نے سوال پوچھا تو مجھے یہ بتائیں کہ امریکہ نے دنیا کو اب تک دیا کیا؟ ،پوچھنا چاہتی ہوں۔ بھارت میں تھوڑے سے پیسے بڑھے تو بھاگو امریکہ، بھاگو کینیڈا۔ انکے بلائے ہوئے نوکر ہی تو ہیں آپ لوگ؟۔ پہلی بار2008میں گئی تھی تو حیران رہ گئی کہ یہ کیا ہے؟ ۔ جتنے بھی آپ امیر کہتے ہو، وہاں سب نوکری کرتے ہو۔ آپ ان کے ملازم ہو کیونکہ پہلے ایک ڈالر یہاں50کا ملتا تھا اب90روپے کا ہو گیا ہے۔ اسکے گناہگار کون ؟ ہم لوگ؟ ہماری حکومت؟ جتنا پیسہ بھارت میں لوگوں کی تعلیم پر لگا دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں، ہمیں باہر نہ جانا پڑے۔جتنے بھارتی باہر ہیں وہ واپس آ جائیں تو ان ممالک کا بھٹہ بیٹھ جائے، ورکر نہیں رہیں گے۔ فیکٹریوں میں کام کون کرتا ہے؟ کیب کون چلاتا ہے؟ آپ لوگ۔ تو آنے والے وقت کا میں نے بولا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا۔ کچھ نے ایسی بات کی کہ میں ہنس پڑی کہ کوئی بات نہیں یار، ان کی عقل اتنی ہی ہے ۔

مجھے سب سے پہلے یہ بتائیں امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ میں امریکہ سے شروع کر رہی ہوں۔ کیا دیا؟ بندوقیں؟ لڑائیاں؟ میزائل؟ ایک ملک کو دوسرے سے لڑایا۔ اب اوپر والوں کی گیم دیکھ لو۔ یہ تو یہاں کی باتیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں، لیکن اصل تصویر کسی کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی؟ اصل کہانی کہاں ہے؟ روحانی علم (آدھیاتمک گیان)آپ کو کتابی علم میں نہیں ملے گا۔ جو کتابیں پڑھتے ہو، ڈگریاں لیتے ہو، پی ایچ ڈی کرتے ہو، وہ صرف آپ کی نوکری کیلئے ہیں۔ کہتے ہیں ”جب آنکھ کھلے تبھی سویرا” یہ کہاوت سنی ہو گی؟۔ تو جن کی تیسری آنکھ کھلی ہے یا جنہیں وجدان ہوتا ہے، آنے والے وقت کا احساس ہو جاتا ہے۔ بہت لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ میم! ایسا خواب آ رہا تھا، یہ ہو رہا تھا، اور وہ سب آنے والے وقت کے بارے میں ہے۔ یہ جو امریکہ میں ابھی بندہ بیٹھا ہوا ہے جسے آپ پاگل کہتے ہو، ٹرمپ۔ ٹرمپ تاش کے کھیل کا لفظ بھی ہے۔ دوسری بار کیوںبنایا گیا؟ یوٹیوب بھرا پڑا ہے کہ پاگل ہے، حرکتیں اور ایکشن بھی پاگلوں والے ہیں، ہے نا؟ سچی بات گہرائی تک کوئی نہ جائے گا، میں بتاتی ہوں۔ امریکہ نے پوری دنیا کو لڑایا اور نفرت پھیلائی۔

اب اوپر والوں کی منصوبہ بندی سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ۔ اس کا خلائی مخلوق سے تعلق ہے، یہ کم لوگوں کو معلوم ہے۔ خلائی مخلوق نے کچھ لوگ قبضے میں رکھے ہیں،ان کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اسے ڈیوٹی دے دی گئی کہ ”چل امریکہ کو تو ختم کر”۔ یہ اوپر والے کھیل رہے ہیں۔امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ وہ کہتا ہے ”چل اب ٹرمپ کو بھیجو بنا کر”اور اس کا مقصد اسے خود ابھی نہیں معلوم کیونکہ وہ انسانی جسم میں آیا ہوا ہے۔ وہ اپنا پورا کام کر کے جائے گا تو شاید شاباش مل جائے، اگر نہیں کرے گا تو وہ انجام جیسے ایبسٹین فائل کی کہانی سنی ہے نا؟ پھر تمہاری کہانی پوری ہو جائے گی تو قربانی کا بکرا بنے گا۔ ایران کیوں نہیں ڈر رہا؟ آپ ”مسلم مسلم”کرتے ہو لیکن یہ بھول جاتے ہو کہ سب کا مالک ایک ہے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے، اس کی نظر سے کوئی بچا ہوا نہیں۔

آنے والا وقت کا پچھلی بار کہا تھا2026سے شروع ہوگا۔2028تک یہ زور پکڑے گا، کوئلے والی ٹرین چھک چھک کر کے آہستہ چلتی تھی پھر رفتار پکڑتی تھی۔ رفتار2028کے بعد پکڑے گی اور یہ2032تک مسلسل بڑھتی جائے گی۔ میرے پاس جو معلومات ہیں میں اسی کی بات کر رہی ہوں، میرے پاس علمِ نجوم یا علمِ اعداد جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔2032کے بعد سے2038تک آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہوگا۔ وہ بدترین دور ہو گا، تباہی تو2032تک ہو گی لیکن32سے38تک کا وقت ناقابلِ برداشت ہے۔ ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی، بدبو آ رہی ہوگی۔ آپ کو پیاس لگی، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے ہیں۔ کیا آپ وہ پانی پی پائیں گے؟28سے32کے درمیان یہ سبھی ہونے والا ہے۔

سونامی تو کچھ بھی نہیں ۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ پچھلی بار کہا تھا کہ خلائی مخلوق وہاں کام کر رہی ہے، پوری منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ یہ تو ہمارے لیے الگ الگ ممالک ہیںلیکن انکے حساب سے یہ ممالک نہیں بلکہ زمین کے حصے ہیں۔ کس کو تقسیم کرنا ہے، مارنا ہے؟ اور وہ حکم کے پابند ہیں، ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ لاکھ کوشش کر لیں، کچھ نہیں کر پائیں گے۔ بہت سے لوگوں نے پوچھا کہ”بچیں گے کیسے؟”تو ان سے میری بات ہوئی تھی، وہ کہتے ہیں وہی جو میں نے پچھلی بار بھی کہا تھا پھر کہہ رہی ہوں، بار بار ہاتھ جوڑ کر عرض کر رہی ہوں کہ اسے سمجھو۔ جو روحانی علم میں بے غرض خدمت کر رہے ہیں۔

آپ نے چھ مہینے کا راشن پانی جمع کر لیا، لیکن آپ کے نوکر کے گھر میں کھانے کو نہیں تو کیا ان سے پوچھا ؟ گیس کی مثال لیں، قلت ہوئی تو ورکرز کے گھروں میں، میرے ہاں کام کرتے ہیں، کئی کے پاس سلنڈر نہیں تھے۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر وہ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے مانگے ہیں۔ بتائیں یہ کل یگ نہیں تو اور کیا ہے؟ اعمال تو یہاں بن رہے ہیں۔ ایک ہزار روپے کا سلنڈر چار ہزار میں دے رہے ہیں، دو ہزار سے کم پر تو آپ بات ہی نہیں کر رہے۔ چار ہزار کی بات تو مجھے ہضم نہیں ہوئی، وہ کہنے لگا چار ہزار روپے لے آ، تین ہزار کادوں گا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے پاس ہے؟ میں نے کہا پڑا ہے لے جا۔ میرے پاس تو الیکٹرک چولہا بھی ہے، اس پر کام کر لوں گی، ابھی آدھا سلنڈر ہے، کام چل جائے گا۔

آپ اعمال کہاں کرتے ہیں؟ جو بے غرض خدمت کر رہا ہے اس کا حساب کتاب اوپر لکھا جا رہا ہے اور وہ اعمال کے بدلے کٹ جائے گا۔ پوجا پاٹ یا مندر میں چڑھاوا چڑھانے سے اعمال کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ ہون کروانے سے بھی برے اعمال نہیں کٹیں گے، چاہے جو مرضی کوشش کر لیں۔ اگر کسی ذاتی مقصد کے بغیر خاموشی سے صدقہ و خیرات کر دی، ادھر ادھر نہ دیکھا، تو یہ ہوتا ہے اصل صدقہ۔ اگر دیکر بتا ؤگے تو کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں، لوگوں کے سوال آئے کہ میم !پھر کیا کریں؟ مرنے سے کیوں ڈرتے ہو بھائی؟ روح تو امر ہے آج نہیں تو کل جانا ہی ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ چلو اسے تکلیف نہیں اٹھانی پڑی۔ لیکن مجھ سے پوچھ کر دیکھو ان روحوں کے بارے میں جو ہوا میں بھٹک رہی ہیں جنہیں تانترک نے اپنے بس میں کر رکھا ہے۔ وہ چھٹکارا چاہتی ہیں لیکن نہیں مل رہا کیونکہ ان کے پچھلے اعمال ہی ایسے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا کیا تھا تو نے؟ وہ کہتی ہے کہ میرے بھائی کا قتل کیا تھا۔سیشن کر رہی ہوں وہاں سے وہ ہستی بول رہی ہے جو ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ پوچھا کہ کب کی بات ہے؟ تو جواب ملتا ہے1406۔ میں آپ کو کس کس کی کہانیاں سناں؟ سب گندگی سے بھرے پڑے ہیں اور یہ اعمال کی گندگی ہے۔

ارے صبح اٹھو نہ، رات کو سونے سے پہلے اپنا آئینہ دیکھو کہ سارا کیا کیا؟ اس قابل ہوں کہ خدا مجھے گلے لگا لے؟ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیار نہیں کرتا۔ سوچیے خود اپنی نفرتوں کے سبب اکیلے رہ گئے۔ ایک کیس میرے پاس آیا، پوچھا کہ کتنی گرل فرینڈز ہیں؟ بولا ابھی ایک ہے، پہلے چار تھیں۔ تو جب اس کا سیشن کیا تو پتہ چلا کہ پچھلے جنم میں وہ کسی کا بھائی تھا، کبھی باپ، کبھی نوکر، کبھی ڈرائیور۔ جو ہسٹری نکلی چاروں لڑکیاں جو اسے چھوڑ کر گئی تھیں، یہ وہی تھیں جن کیساتھ پچھلے جنم میں کچھ کیا تھا، اگلی ویڈیو اس پر بناؤں گی۔ تب تک کیلئے اپنا آئینہ دیکھیں نمسکار،شری رام…
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گھر سے بھاگ کر شادی

بھاگ کر شادی کرنے والی بیٹی سامنے آئی تو باپ نے کیا کیا؟۔

پاکستان کایہ کلچر مذہبی طبقات کا قرآن وحدیث اور اصول فقہ میں تضادات کا نتیجہ اور فطرت سے انحرافات کا آئینہ ہے۔ معاشرے سے خرابی کو دور کرنے کیلئے درس نظامی کی تعلیمات کو درست کرناہوگا ورنہ تو یہ سانحات پھر اسی طرح جاری رہیں گے بلکہ بڑے پیمانے پر بڑھ سکتے ہیں۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا ۔استاذ العلماء حضرت مولانا بدیع الزمان اصول فقہ پڑھارہے تھے۔

حتی تنکح زوجًا غیرہ

آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے جبکہ حدیث ہے کہ ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے باطل ہے”۔ حنفی اصول فقہ میں ضعیف حدیث کی بھی تطبیق ہوسکے تو قابل عمل ہے۔ حدیث ہے جس نے نمازکے آخری قاعدے میں ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔ احناف نے اس وجہ سے سلام کیساتھ نماز سے نکلنے کو واجب اور اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنے کو فرض قرار دیا ہے۔

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو حدیث میں باطل قرار دیا تو قرآن کی آیت سے ٹکرانے کی وجہ سے ناقابل عمل ہے ۔ جب میں نے مولانا بدیع الزمان سے عرض کیا کہ قرآن میں طلاق کی صورتحال کے بعد کا ذکر ہے اور حدیث کو کنواری کیساتھ خاص کردیں تو حنفی مسلک کا یہی تقاضا ہے۔ جس پر استاذ کا نورانی چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور فرمایا کہ تمہاری بات میں بڑاوزن ہے اور دوسری کتابیں پڑھ کر اس کا حل ڈھونڈ نکالوگے۔

اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ اس آیت میں فان طلقہا کا تعلق متصل فدیہ سے ہے اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا تعلق حلالہ سے نہیںبلکہ فدیہ کی صورت کی وجہ سے سابقہ شوہر سے آزادی کیلئے ہے۔امام ابوحنیفہ کی جیل میں المناک شہادت کا سانحہ ہوا تو شاگرد اور حکمرانوں نے امام ابوحنیفہ کے فقہ سے بھی کھلواڑ کیا جیسے قرآن اور احادیث صحیحہ سے کیا ہے۔

اصول فقہ کی کتابوں میں دیگر چیزوں پراعتراض کیا۔ مولانا بدیع الزمان بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے زحمت نہیں دی لیکن قاری مفتاح اللہ سے جب باتیں ہوئیں تو انہوں نے ملاجیون کی سادگی سے متعلق بہت سارے لطیفے سنائے۔ اور بڑا حوصلہ دیا کہ ان سارے مسائل کو آپ خود ہی حل کرلیں گے۔

BBC رپورٹ سے امریکن بچی کا واقعہ لکھاجو مختلف ریاستوں میں بچیوں کیلئے الگ قوانین تھے۔ زیادہ بھیانک جبری جنسی زیادتی کا شکار بچی محافظ سے حاملہ ہوگئی لیکن اس سے زیادہ مدارس کاغلط نصاب ماحول میں وہ بگاڑ پیدا کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ بدترین مثال دنیا کے کسی ملک ومذہب میں بھی نہیں ملتی ہے۔ مولانا بدیع الزمان و اساتذہ نے تائید کی تھی اورآج اللہ مجھ سے دین کا کام لے رہاہے۔ مجھے مدارس سے محبت ہے مگرمدارس میں بیٹھے لوگ ناسمجھ یا مفاد پرست ہیں ۔

اگر قرآن کی ایسی تعبیر اور تفسیر ہو کہ کٹر سے کٹر رافضی شیعہ کو اعتراف کرنا پڑجائے کہ حضرت عمر فاروق اعظم اور سنیوں کے چاروں ائمہ امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا فیصلہ قرآن کے مطابق تھا اور فقہ جعفریہ انتہائی غلط اور گمراہی پر مبنی قرآن وحدیث اور علی و ائمہ اہلیبت سے بہت دور ہیں تو فرقہ واریت میں کتنی زبردست اور مثالی کمی آئے گی؟۔

پھر اہل سنت اعتراف کرلیں کہ اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت کی بات اس وقت مان لیتے تو ہم آپس میں بھی منتشر نہ ہوتے تو شیعہ کے ہاں ماتم کی جگہ محرم الحرام میں ڈھول کی تھاپ پر وہ خوشیوں کے شادیانے بج جائیں گے کہ سنی علماء ومفتیان ناچنا شروع ہوجائیں گے۔ صرف امت مسلمہ کے سنجیدہ طبقات کی توجہ چاہیے پھر اسی محرام الحرام میں یہ مناظر دیکھنے کو مل جائیں گے اور انقلاب کا سفر شروع ہوجائے گا۔ انشاء اللہ العزیز

ایران ، عراق ، پاکستان اور دنیا بھر میں بدلتے ہوئے منظر کی خوشیوں پر دشمن اور شیطان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی ۔
مشہور ہے کہ ”پیر نہیں اڑتا ہے مرید اس کو اڑاتے ہیں”۔ امام ابوحنیفہ و امام شافعی میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد کے لوگوں نے اختلاف رائے کو انتہائی بھیانک شکل دیکر کفر سے بھی آگے بدفطرتی کے طوفان میں عجیب و غریب رنگ دیدیا۔
ائمہ اہل حق نے اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر رکھی تھیں۔

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہوا

لیکن بعد کے لوگوں نے پیٹ پوجا کیلئے دین کو بگاڑ دیا ۔

سچ تو یہ ہے کہ بات کچھ بھی نہ تھی
بیڑہ غرق پھر بھی پیٹ پوجا نہ ہوا

کہاں امام ابوحنیفہ جو جیل میں زہر دیکر شہید کئے گئے اور کہاں قاضی القضاة (چیف جسٹس) امام ابویوسف نے بادشاہ کیلئے اس کے باپ کی لونڈی معاوضہ لیکر حلال قرار دیدی؟۔

تصویر کے معاملہ میں ابوالکلام آزاد اور علامہ سلیمان ندوی نے ایک منشی مفتی محمدشفیع کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے مگرجب میں نے کتاب ”جوہری دھماکہ ” میں جاندار کی تصویر کو جواز بخشا تو چڑیا گھر سے تمام بند جانور کھل کر میدان میں آگئے۔

شبلی نعمانی وکالت میں ناکام ہوگئے تو علی گڑھ میں فارسی کے ٹیچر لگے۔ الفاروق کتاب لکھی تو علماء سے کہا کہ ”حدیث قرطاس کا انکار کردیتے ہیں لیکن علماء نے حدیث کے انکار اور جھوٹ کو منع کردیا”۔ پھر اسکے ہاتھ حمیدالدین فراہی لگا جس کو خلافت عثمانیہ سے عربوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر الگ کرنے کیلئے انگریز اور عربوں میں ترجمان کا کام سونپ دیا تاکہ کچھ معاوضہ مل جائے۔ انگریز نے ایڈوکیٹ شبلی نعمانی کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔ اسی سلسلے سے جاویداحمد غامدی بھی وابستہ ہے۔

عن ابن ابی سعید الخدری قال: صلی بنا رسول اللہ ۖ صلاة العصر نھارًا ثم خطب ان غابت الشمس فلم یدع شیئًا ھو کائن الی یوم القیامة الا حدثنا بہ حفظہ من حفظہ ع نسیہ من نسیہ ۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ ۖ ان اللہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا و ما ھو کائن فیھا الی یوم القیامة کما انظر الی کفی ھذہ جیلان من اللہ جلاہ لنبیہ کما جلاہ للنبین قبلہ ۔ ( الفتن : نعیم بن حماد استاذ مصنف صحیح البخاری)

رسول اللہ ۖ نے ہمیں دن کو عصر کی نماز پڑھائی ،غروب آفتاب تک خطاب فرمایا۔ تو کوئی چیز نہیں چھوڑی قیامت تک پیش آنے والی مگرہمارے لئے بیان فرمایا ، جس نے یاد رکھا تو اس نے یاد رکھا اور جو بھول کیا تو وہ بھول گیا۔ فرمایا: بیشک اللہ نے میرے لئے دنیا کو اٹھایا تو میںنے اس کو دیکھا اور اس میں قیامت تک پیش آنے والی ہر چیز کو دیکھا جیسا کہ اپنی اس ہتھیلی میں ادوار کو دیکھتا ہوں۔ اپنے نبی کیلئے جیسے پہلے انبیاء کیلئے اللہ نے روشن کرد دیا تھا۔ ( حدیث نمبر1اور حدیث نمبر2)

قرآن میں لوگوں نے اپنا کردار خود منتخب کیا۔عہد الست کو واضح کیا۔ وقت کا الگ پیمانہ ثابت ہوا۔ نبی ۖ نے جٹ قوم کا بتایا کہ مجھے پوری رات اذیت دی مگر خوش تھے اسلئے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جٹ قوم نے کردار ادا کرنا تھا۔ نبیۖ نے نسل کا تعارف تبدیل کرنا غلط قرار دیا۔ اسلام سے پہلے اعلیٰ نسل کے پاس ادنیٰ نسل والے نسل کی تبدیلی کیلئے غلیظ کام کرواتے تھے۔ بدکاری کی سزا ، رخ قبلہ اور جو احکام قرآن میں نازل نہیں تھے تو اہل کتاب کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ جٹ کے ہاں نسل و تعارف تبدیل نہ تھی ،پدو مارتے۔ عرب نسل کی تبدیلی کو بے غیرتی نہیں سمجھتے تھے مگر پدو مارنے پر شرم کھاتے تھے۔

قرآن نے غلط چیزوں کو بدلا۔نبیۖنے غامدی،فراہی اور عثمانی کو دیکھا کہ نسل اور دین کو بدل دیا؟ اور نبیۖ نے ذوالخویصرہ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کی طرح خوارج مختلف ادوار میں پیدا ہوتے رہیںگے۔ قرآن آئینہ ہے جس میں بڑا کچھ ہے لیکن اس پر تدبر کرنے کی بجائے امت نے چھوڑ دیا۔

قرآن کا آئینہ :غامدی اور سومیا

اللہ نے فرمایا :فذرھم فی غمرتھم حتی حین …
ترجمہ :” اور انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وقت آئے۔ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ انہیں ہم نے مال اور بچوں کیساتھ کھینچا(امریکہ پہنچا دیا،75سالہ سالگرہ داماد اور بچوں کیساتھ منارہاہے)ہم لگے ہیں ان کو خیر پہنچانے میں؟ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے۔ بیشک جو لوگ اپنے رب کے خشوع سے شفقت کرتے ہیںاور جو اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور جو اپنے رب کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جو دیتے ہیں جو ان کودیا گیا۔ اور ان کے دل کانپتے ہیںکہ اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ لوگ اچھائی میں جلدی کرتے ہیں اور اس کیلئے سبقت لے چکے۔ ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے۔ اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کیساتھ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا بلکہ انکے دل اس (کتاب) سے غفلت میں ہیں اور ان کے اعمال ہیں اسکے علاوہ جس کیلئے (بیرونی آقا) یہ عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک جب ہم انکے خوشحال لوگوں کو پکڑیں گے تویہ حق کو جاری کرینگے۔ آج اجراء نہ کرو بیشک تم نے ہماری مدد نہ کی۔ جب تمہارے سامنے میری آیات پڑھی جاتیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاتے تھے۔ (المؤمنوں:آیت54تا66)

آیات کی بڑی زبردست تفسیر

قرآن میں ہر چیز کا ذکر ہے بلکہ اس کی وضاحت کردی ہے۔ سائنسی علوم کو سائنسدان قرآن کے آئینہ میں سمجھ سکتا ہے لیکن ابن تیمیہ سے متاثر ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں قرآن سے قرآن کی تفسیر کرنے کی جگہ اسرائیلیات کو درج کردیاہے۔

عبداللہ بن عباس نے فرمایا:” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا” تو سائنسی ترقی کا تعلق بھی زمانے کیساتھ ہی ہے۔ قرآن کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر درست کیسے ہوسکے گی؟۔اللہ نے فرمایا : وانزلنا الحدید ” اور ہم نے لوہے کو اتارا”۔ ترجمہ کیا جائے کہ” ہم نے لوہے کے کان بنائے” اور پھر سائنس بتائے کہ لوہا مختلف اوقات میں زمین کے اندر باہر سے آیا ہے تو غلط ترجمے کا قصوربھی غلط ترجمہ کرنے والے کے کھاتے میں ڈالیں گے۔

سورہ مؤمنون کی آیت

لانکلف اللہ نفسًا الا وسعھا

”ہم کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے”۔ کا ترجمہ جاویداحمد غامدی یہ کریگاکہ ” حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے”۔ تو نتیجہ کا نکلے گا؟۔

جاویداحمد غامد کہتا ہے کہ اسرائیل کو خدا نے موقع دیا ہے اور غزہ والوں پر مظالم کی انتہا ان کی طاقت سے زیادہ نہیں۔ شہداء کربلا کیساتھ ٹھیک ہوا ، حسین کو سبق سکھانے کیلئے اللہ نے یزید کو مسلط کردیا تھا۔اللہ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ طاقت سے زیادہ کسی پر بوجھ ڈالتا ہے۔ خدا نے ابھی فیصلہ کیا ہے کہ نوح کے بیٹے یافث کے پاس قیامت تک اقتدار رہے گا۔ مسلمان اپنی باری گزار چکے ہیں”۔ جاوید غامدی نے جیسے گیس ویلڈر کی طرح زبان میں کٹر اٹھایا ہو اور سب چیزوں کو کاٹتا ہے لیکن جب حقائق سمجھ میں آجائیں گے تو بات سمجھ میں آئے گی کہ غلط جگہ پنگا لیا ہے۔ پھر اس کو بدبودار پھوسی اور گیس سلنڈر کے کلر کی آگ اپنے نیچے کی طرح سے دماغ میں اٹھتی نظر آئے گی۔

جب قرآن کے الفاظ کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر کہاں سے پھر درست ہوسکتی ہے۔ جب ترجمہ درست ہوگا تو سومیا ہندو کے کردار کو جاویداحمد غامدی کے مقابلے میں ساری دنیا سراہے گی کہ اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے سے انسانیت پکڑسے بچے گی۔ ملا جیون اپنی بیوی سے لڑا تو اورنگزیب بادشاہ سے مدد کیلئے ایک پلاٹون فوج طلب کرلی۔ جب اپنے گھر، اپنی جان کی دسترس اور اپنے عہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ ہوگی۔ سومیا ہندو لڑکی نے قرآن کو نہیں پڑھا لیکن اس کی فطرت کو مذہبی طبقات نے مسخ نہیں کیا ہے جیسے رسول اللہ ۖ نے یہودونصاریٰ کے بارے میں فرمایا اور آج مسلمانوں کی اکثریت انکے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ ایمان کا تعلق کسی خاص مذہب سے نہیں ہے۔

فرعون کی قوم کے مؤمن نے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ غامدی قرآن کی معنوی تحریف اور اپنی فطرت مسخ کر چکاہے۔

ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و النصارٰی و الصابئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون

” بیشک جو لوگ مسلمان ہیں ، جو یہودی اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں۔ جو اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کرے تو اس کیلئے اجر ہے انکے رب کے پاس اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے”۔ البقرہ62

مسلمان، یہودی اور عیسائی میں ابراہم اکارڈ کے طبقات کو شامل کیا گیا ہے۔ صابئین میں ہندو اور تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ رسول اللہ ۖ پر مشرکین عرب نے صابی کا الزام لگایا اور وہ بد فطرت لوگ سلیم الفطرت ہندؤوں سے نفرت کے شکار تھے۔ غامدی عرب قبیلہ ہے اور جاوید غامدی جھوٹ سے غامدی ہے لیکن ہندو کو جزیرہ عرب سے نکال رہاہے۔ یہ یونہی نہیں ہے بلکہ ایک بڑے ایجنڈے میں ملوث لگ رہاہے۔ اور شیعہ وایران سے نفرت اور قادیانیوں سے محبت کرتا ہے۔ جس میں صرف مذہبی طبقات کے اندر اپنی کوئی جگہ بنانا ہے۔

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکلٍ جعلنا منکم شرعة و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً و لٰکن لیبلوکم فی مااٰتاکم فاستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفونO(المائدہ:48)

”اورہم تیری طرف کتاب اتاری حق کیساتھ تصدیق کرتی ہے جو اسکے ہاتھ میں ہے کتاب میں سے اور اس پر نگہبان۔ پس فیصلہ کرو جو آپکے پاس حق آیا ۔ ہر ایک کیلئے الگ الگ شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک امت بنادیتا۔لیکن اللہ تمہیں آزماتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے۔پس نیکیوںمیں ایکدوسرے سے سبقت لے جاؤ۔ تم سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہارے اختلاف تمہیں تنبیہ کرتا ہے” ۔

جب روس نے غریبوں کا خیال رکھا تو سپر طاقت بن گیا اور جب امریکہ نے غلامی پر پابندی لگائی تو امریکہ سپر طاقت بن گیا۔ قوم یا افراد کی حیثیت سے بلکہ تفریق مذاہب جو انسانیت کیلئے سبقت لے جائیگا تو امامت کے منصب پر فائز ہوگا۔

سبق پھر پڑھ شجاعت کا صداقت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

غامدی سمجھتا ہے کہ طاقتور کی گانڈ میں گھس جانا اللہ کا حکم ہے اور سومیا نے فطرت کی بہترین شاہکار کا کردار ادا کردیا ہے اور مسلمان ہر نیکی میں تعاون ، برائی میں عدم تعاون کریں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قاضی شریح کا بڑاکردار؟10مئی ماؤں کادن عورت مارچ شیما کرمانی

شیما کرمانی کو پولیس نے گرفتار چند گھنٹے بعد رہا کیا۔ کراچی پریس کلب میںسندھ حکومت کوذمہ دار قرار دیا جومائیں بچوں سے محروم کی گئیں اگر خواجہ سراؤں کی جگہ ان کو بلایا جاتا تو یہ نمائش نہیں تحریک کو سندھ اور پاکستان سے زبردست پذیرائی ملتی۔اصل ذمہ دار قاضی شریح تھا

قاضی شریح نبیۖ کی حیات میں مشہور تھا مگر آیا نہیں پھر حضرت عمر کے دور سے عبدالملک بن مروان تک عدالت میں اپنی موت80ھ سے ایک سال پہلے تک قاضی القضاة رہا۔

ساس اور بہو کے درمیان قاضی شریح کا ایک فیصلہ یہ ہے:
پہلے ساس اپنا مقدمہ اشعار میں پیش کرکے کہتی ہے کہ

أبا امیة أتیناک وانت المرء نأتیہ
أتاک ابنی واماہ و کلتانا نفدیہ
ثم تزوجت فھاتیہ و لایذہب بک التیہ
فلو کنت تأیمت لما نازعتکم فیہ
الا ایھا القاضی فھذہ قصتی فیہ
ابوامیہ! ہم تیرے پا س لائے ،آپ آدمی ہو ہم لاتے ہیں میرا لڑکا(پوتا) اور اسکی ماں تیرے پاس آئے ۔ ہم دونوں اس پر فداء ہیں۔ (بہوسے ) پھر جب تم نے دوسری شادی کرلی تو لڑکا مجھے دیدو۔ زبردستی مت کرو بیوہ ہوجانے کے بعد ،تم اس کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑا کرتی ہو۔(قاضی سے ) قاضی صاحب لڑکے کے بارے میں دونوں کا قصہ یہ ہے”۔

پھر بہو نے اپنا مقدمہ جواب میں یوں پیش کیا۔

یا ایھا القاضی قد قالت لک الجدہ
مقالًا فاستمع منی ولا تنظر فی ردہ
أعزی النفس عن ابنی وکبدی حملت کبدہ
فلما کان فی حجری یتیمًا ضائعًًا وحدہ
تزوجت رجاء الخیر من یکفینی فقدہ
ومن یکفل لی رفدہ ومن یظھر لی وحدہ
اے قاضی !دادی نے جو کہاوہ آپ نے سنا ،اب آپ مجھ سے سن لو،اسے ٹھکراؤ نہیں۔ میں تسلی دیتی ہوں دل کو اپنے بیٹے سے۔میں نے اسے ہمیشہ اپنے کلیجے سے لگائے رکھا پھر مجھے تنہائی کی وجہ سے یتیم کو ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔اسلئے میں نے اس کی بھلائی اور نگہداشت کی خاطر ایسے شخص سے شادی کی جو اس کو ضائع نہیں ہونے دے اور اس کی کفالت کرسکے”۔

قاضی شریح نے بھی نظم میں اس کا فیصلہ دیا۔

قد فھم القاضی ما قلتما وقضا ثم فصل
بقضاء بین بینکما وعلی القاضی جھدًا ان عقل
قال للجدہ بینی بالصبی وخذ ی ابنک من ذات العلل
انھا لو صبت کان لہاقبل دعواھا تبغیھا البدل
ترجمہ:” تم دونوں نے جو کہا ،قاضی نے وہ سمجھا اور دونوں میں ایک واضح فیصلہ کر دیا، اگر قاضی سمجھدار ہے تو اس پر کوشش کرنا فرض ہے پھر دادی سے کہا کہ لڑکے کو اس حیلہ ساز سے لیکر الگ ہوجا،اگروہ نکاح نہ کرتی تو پھربچہ اسکے پاس رہتا” ۔

پھول بچے چھن کر کلی کھلنے سے پہلے ماؤں کے گود اجڑ تے ہیں۔ ممتا اور بچے کے درمیان برزخ کا جہنم کھڑا کردیا جاتا ہے ان ساری معاشرتی محرومیوں کا گناہ قاضی شریح کے سر ہے۔ خطبۂ جمعہ: تم پر میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے۔ ابوبکر کی وفات پر علی نے بیوہ سے شادی کرلی اور چھوٹا بچہ محمد بن ابی بکر خاتون نے اپنے ساتھ رکھا اور علی نے پرورش کردی۔

قرآن نے غلام کا اسٹیٹس تبدیل کیا اور انسان کو اللہ کا عبد (غلام) قرار دیا، جانور کی سی ملکیت ختم کردی اور یہ واضح کیا:

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن ارادان یتم الرضاعة وعلی المولودلہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف لا تکلف نفس الا وسعھا لاتضار والدة بولدہا ولا مولود لہ بولدہ و علی الوارث مثل ذٰلک فان ارادافصالًا عن تراضٍ منھما و تشاورٍ فلا جناح علیھما و ان اردتم ان تسترضعوااولادکم فلا جناح علیکم اذا سلّمتم ما اتیتم بالمعروف واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیرO (سورہ البقرة:آیت:233)

ترجمہ:” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔یہ حکم اس کیلئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑے معروف طریقے سے بچے کے باپ پر فرض ہے۔ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔نہ ماں کو اسکے بچے کی بنیاد پر ضرر پہنچائی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب۔ اور ان کے وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوتا ہے۔ پھر اگر آپس کی مرضی سے دونوں اور مشاورت سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر اگر تم اپنی اولاد کو کسی رضائت کا دودھ پلانا چاہتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم معروف طریقے سے جو معاوضہ دینا چاہو وہ طے کرلو۔ اور اللہ سے ڈرو اور بیشک جان لو کہ جو تم کرتے ہو ،اللہ تمہیں دیکھتا ہے”۔

ابوامیہ قاضی شریح نے معاشرتی، عدالتی اوراخلاقیات کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ امت کو سامری کے سازو سوز کے پیچھے لگادیا۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO(سورہ البقرہ:آیت:228)

” اورطلاق والی عورتیں تین ادوارتک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔ اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہیں۔اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں معروف طریقے سے جیسا کہ ان پر ان کے شوہروں کے ہیں۔ مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غلبے والا بہت حکمت والا ہے”۔

آج پاکستان ، امریکہ، روس، چین، بھارت اور دنیا بھر کی عدالتوں کا قانون ہے کہ میاں بیوی میں جدائی کیلئے ایک مدت تک صلح و صفائی کا موقع دینا ضروری ہے لیکن قاضی شریح نے یہودیت اور جاہلیت کی کوکھ سے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے مذہبی اصطلاحات نکال کر قرآن و سنت کے بالکل منافی صلح کی گنجائش ختم کردی اور آج تک یہودکی طرح ہمارا معاشرتی نظام تباہ اور عورتیں حلالہ کے نام پر چدھ رہی ہیں۔اللہ معذور بچہ اور ذہنی مریض نہیں کہ ایک آیت میں کچھ دوسری میں کچھ بکے!۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیمتوھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاو لٰئک ھم الظالمونO(سورہ البقرہ:آیت:229)

ترجمہ: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لوجو کچھ بھی ان کو دیا ہے مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی گناہ نہیںہے عورت کی طرف سے وہ چیز فدا کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

آیت228البقرہ عدت کے تین ادوار اور معروف کی شرط پر صلح واضح ہے۔ اس آیت میں دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری میں معروف کی شرط یعنی دونوں کی رضامندی سے صلح کا فیصلہ ہوگا تو بھی ٹھیک ہے اور اگر جدائی کا فیصلہ کیا تو اس کی پوری تفصیل ہے ۔ جس میں عورت کے مالی حقوق کا تحفظ ہے ۔اور شوہر کی طرف دی ہوئی چیز واپس کرنے کا جواز اس وقت ہے کہ جب وہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے سمجھیں کہ دونوں حدود کو توڑ سکتے ہیں تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں ان دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو آیت230کا حکم ہے جس کا اطلاق بہر صورت ہوتا ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو لیکن اگر عورت رجوع پر راضی ہو تو معروف رجوع کی اجازت تو آیت231اور232البقرہ اور سورہ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے۔

قاضح شریح نے عورت کے حقوق کابیڑہ غرق کیا۔ پاکستان میں عائلی عدالت ایکٹ1964ء نافذ ہے۔ مگر پہلی بار جسٹس عائشہ ملک نے تاریخ ساز فیصلہ دیااور حلالہ کی لعنت کو خلاف قانون و خلاف شریعت قرار دیا۔ ہندوستان احمد آباد میں مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی زیر صدارت1972ء میں آل انڈیامسلم مجلس مشاروت کے زیر اہتمام سیمنار میں دیوبندی ، جماعت اسلامی ، بریلوی اور اہل حدیث کے علماء نے حلالہ کی لعنت ختم کرنے کیلئے مقالے پیش کئے۔ جو لاہور سے کتابی صورت میں شائع بھی ہے اور اس میں پیر کرم شاہ الازہری کا رسالہ دعوت فکر بھی شامل کیا گیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے بندہ قتل کیا۔ شادی کی، وحی ، معجزہ، خضر اورفرعون کا معاملہ دیکھا اور اعتدال آیا۔ غزالی علم کے بعد صوفی بنا اوراعتدال کھوبیٹھا۔ ابن تیمیہ فاطر العقل تھا۔شیخ الہندگنگوہی سے علم اور ناناتوی سے تصوف میں بیعت ہوتا تو یہ احساس نہ ہوتا کہ فرقہ پرستی اور قرآن سے دوری ہے۔ میں نے جوانی صحیح کھپائی ہے قرآن ، حدیث، فقہ ، اصول فقہ ، تصوف ، عربی میں:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن وا حصوا العدة و اتقواللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشةٍ مبینةٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بعروفٍ واشھدوا ذوی عدلٍ منکم واقیموا الشہادة للہ ذٰلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًاO

ترجمہ ” اے نبی! جب تم لوگ عورت کو طلاق دو تو پھر ان کی عدت تک کیلئے طلاق دو۔ اور عدت کو شمار کرکے پورا کرو۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور ان سے تجاوز مت کرو اور جس نے اس کی حدود سے تجاوز کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ آپ کو خبر نہیں کہ اللہ ان میں کوئی نئی بات پیدا کردے۔ پس جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی بنادو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کرو۔یہ تمہیں اس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔اور جو اللہ سے ڈرا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ بنادے گا”۔ (سورہ الطلاق )

رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ عدت کے اختتام پر رجوع کے بجائے معروف کیساتھ الگ کردیا ۔ دو عادل گواہ بھی بنادئیے۔ پھر دوسری عورت سے شادی کرلی۔ دوسری نے کہا کہ نامرد ہے جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ اس کے بچے کس قدر اسکے مشابہ ہیں؟۔ اور اس عورت کیلئے طلاق کا فیصلہ کیا۔پھر فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرلیتا؟۔ انہوں نے کہاکہ وہ تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اورسورہ طلاق کی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)

ابوداؤد کی اس حدیث میں سورہ طلاق کی ان آیات کی بہت بہترین تفسیر ہے۔ ابوداؤد اور بخاری دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل کے مسلک کو بھی قبول کیا تھا اور امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والاحکمران معتزلی تھا۔ پھر اس کے بعد والا بنوعباس کا حکمران معتزلی کے خلاف ہوا اور امام شافعی کے مسلک کو سرکاری سطح پر نافذ کردیا۔

اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب میں باب من اجاز الطلاق الثلاث میں اکٹھی تین طلاق کے مسئلے میں نہ صرف یہ کہ امام شافعی کے مسلک کو سپورٹ کیا ہے بلکہ مدعی سست گواہ چست اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے اور قرآن کی آیت بھی ایک معذور بچے اور عقل سے پیدل شخص کی طرح سیاق وسباق کے بالکل منافی نقل کردیا ہے۔

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے ایک ہی حدیث ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی اور اس کے علاوہ نہ کوئی آیت ہے اور نہ ہی کوئی حدیث ہے۔ محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری اور مفسر العصر علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری میں بالکل واضح ہے۔

سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں لعان کے بعد عویمر عجلانی کا تین طلاق دینا متوقع تھا اور اس کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق کو مباح، جائز اور سنت قرار دینا حنفی اور شافعی مسلک میں بنتا نہیں لیکن رافضیت کے فتویٰ سے بچنے کیلئے شاید امام شافعی نے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ کشمیری نے فیض الباری میں لکھا کہ شاید یہ طلاق بھی الگ الگ مرتبہ میں دی ہو ۔

جبکہ بخاری میں اکٹھی تین طلاق کے ضمن میں رفاعة القرظی کی بیوی والی روایت بخاری کی اپنی روایات کے خلاف ہے۔ اور اس میں اتنی جان نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فتویٰ دیا جائے کہ قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر جو گنجائش ہے وہ سب ختم ہوجاتی ہیں۔ بلکہ یہ شافعی مسلک کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی ہے اور جو عویمر عجلانی کے لعان والی روایت پوری اترتی ہے تو اس سے قرآن کی آیات پر بلڈوزر پھیرنا بہت بڑی حماقت ہے۔

جہاں تک حضرت عمر کی طرف تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے یا پھر حضرت علی کی طرف سے لفظ حرام پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے تو وہ قرآن کے عین مطابق ہے اسلئے کہ عورت طلاق یا طلاق کے کسی لفظ کے بعد رجوع پر راضی نہ ہو تو قرآن نے معروف کی شرط پر ہی شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو رجوع کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔ حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظ قرار دینا اور حضرت علی کے فیصلے کو طلاق بائن قرار دینا یہودیت کے نقش قدم پر چلنا ہے جو قاضی شریح جیسے لوگوں نے کردار ادا کیا اور آج تک امت مسلمہ اس کی سخت ترین سزا بھگت رہی ہے۔

جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر ایلاء سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمام ازواج مطہرات پر واضح کردو کہ اگر وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں تو ان کی مرضی ہے۔ یہ سارا واقعہ صحیح بخاری اور قرآن کی آیت میں موجود ہے تاکہ عورت کا ناراضگی کے بعد اختیار واضح ہوجائے۔ افسوس یہ ہے کہ طلاق کی آیات میں معروف اور اصلاح کی شرط کے باوجود بھی مذہبی طبقات نے قاضی شریح جیسے یہودیت کے پروردہ لوگوں کے بہکاوے میں عورت کا اختیار چھین لیا ہے جس سے قرآن کی ساری آیات کی بوٹیاں بن جاتی ہیں اور تضادات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حضرت عمر اور حضرت علی میں طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی تفریق ڈال کر بڑی باریک واردات کی ہے۔

قاضی شریح جیسے لوگوں نے اپنی شیطانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرکے حضرت عمر کے نام پر حضرت علی کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا کہ حضرت عمر کے موقف کو نہیں مانتا۔ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے۔ حالانکہ حضر ت عمر اور حضرت علی کے موقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔ شیعہ اس بنیاد پر قرآن سے ہٹ گئے کہ عورت کا اختیار بہت وضاحتوں پر بھی قبول نہیں کیا کہ یہ حضرت عمر کا مؤقف ہے اور سنی اسلئے قرآن سے دور ہوگئے کہ صلح کے باوجود بھی صلح کے منکر بن گئے ہیں۔

حجاج بن یوسف دجال نے سعید بن جبیر کی شہادت سے پہلے جو مکالمہ کیا ہے وہ دیکھ لیں۔95ھ میں شہید کردیا۔ جب99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹادی تو حضرت علی کے شاگرد حسن بصری نے سچ بول دیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی ، جو مسائل کا حل تھا۔ لیکن پھر یزید اور ہشام اقتدار میں آگئے تو معاملہ بگڑ گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولی رحمانی انسانیت کا ہیرو

ولی رحمانی عمر27سال ہے۔ اسٹینڈر کا سکول ہندوستان کے بنگالی مسلمان غریب بچوں کیلئے بنایا ہے۔جس میں700طلبہ وطالبات ہیں۔ ولی کامل کا سنا ہوگا تو مسلمان کامل کو اگر سننا ہے تو ارفع خانم خاکوانی کے چینل پر ولی رحمانی کو سن لیں۔ اقلیتی برادری مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیساتھ ہندو کیلئے بھی مثبت انسانی سوچ بہت ہی اعلیٰ درجے کمال کی بات ہے۔ ان کی باتیں پیرکامل کی طرح سن لیں ۔پھریہ سوچ ہندوستان ، پاکستان، افغانستان ، ایران، عرب، عالم اسلام ،عالم انسانیت میں پھیلائیں۔ ولی بھائی نے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی شکل میں جانور ہیں ۔ مسلمانوں کو قرآن وسنت اور غیر مسلموں کو قرآن کے بغیر اچھا انسان بنانا ضرورت ہے۔ غریبوں سے غریبوں کیلئے10دن میں10کروڑکا چندہ کیا۔ ٹرمپ، مودی اور غامدی میں جانور وںکی جھلکیاں نظرآتی ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سجدہ جائز ہوتا توخلافت کا حق ادا کرنے والی یہ ہندو عزت کی دیوی بنتی

سومیا نے انسانیت کیلئے جو کیا اگر یہی چیز مسلمانوں اور انسانوں میں آگئی توپھر زمین پر خدا کا کلام ،خدا کا نظام ہوگا

سومیا ہندو نے ایک مسلمان عورت کی عزت بچائی

ہنگامہ پھرBBCانٹرویو

سومیا چلاتے ہوئے:رات گھڑ اور یہاں پہ لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ شراب پی کے سوال پوچھ رہا ہے، ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہے۔
I m just asking who’re you to ask buddy you have no right.

سومیا:نہیں!تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟ یہاں آس پاس لڑکے لڑکیاں ہیں تم ان سے تو نہیں پوچھ رہے؟۔یہ لڑکا سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ مسلم ہے اور انکو جاننا ہے اس کی شناخت۔یہ یہاں کھڑے ہو کر بیئر پی رہا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو بیئر؟ اور یہ یہاں کھڑا ہے۔
شرابی آدمی:مجھے میرے حال پر رہنے دو۔ تمہیں مطلب کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ جب وہ برقعے میں ہے ناں…

سومیا:تمہارا کوئی حق نہیں!گور سٹی 2میں سب کر رہے ہیں یہ لوگ۔ ذات پات، مذہب ، یہ سب کر رہے ہیں یہاں پہ۔ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں اور یہ بندہ شراب پیتے ہوئے سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہیں اور اس کی جسارت دیکھو، بولا رہا ہے کہ ”میں تو بس پوچھ رہا ہوں”۔ تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟، ہاں، تم ایک مرد ہو۔ ٹھیک ہے۔ تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔

سومیا مسلم جوڑے سے:دونوں پرسکون رہو۔
سومیا شرابی سے:تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں حق کس نے دیا؟ کون سی حکومت، کون سا پولیس اسٹیشن تمہیں حق دے رہا ہے؟،تمہاری جپسی (پولیس گاڑی) کہاں ہے جو دو منٹ میں آ رہی تھی؟ کہاں ہے تمہاری جپسی؟ مجھے اپنی جپسی یہیں دکھا۔ کب آئے گی؟ جب کوئی حادثہ ہو جائے گا؟

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ ان کو ان کی اوقات دکھاتے ہیں، ہم دکھائیں گے۔
شرابی آدمی سومیا سے:میں تو پوچھوں گا نا میڈم، آپ کیوں پریشان ہو رہی ہو؟
سومیا:تم باقی لڑکیوں اور لڑکوں سے کیوں نہیں پوچھ رہے؟ میری بیوی وہاں کھڑی ہے… ارے بیوی بولو، گرل فرینڈ بولو، اس سے کیا مطلب ؟ اس سے اس شخص کوکیا مطلب ہے؟

سومیا:یہ پاگل آدمی بیئر پی رہا ہے اور دنگا کر رہا ہے، پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں پہ۔ پوچھ رہا ہے نام…ان کا نام مسکان ہے۔ اس نے بولا تمہارا نام تمہاری شکل سے لگ نہیں رہا۔شوہر کہتا ہے میں میاں بیوی ہونے کا ثبوت دوں گا۔

سومیا:میں سمجھ گئی۔ سمجھ میں آ رہا ہے۔ ثبوت کیوں دو گے؟ آپ ثبوت دے کر کمزور مت بنو۔ آپ کوئی بھی ہو، بھائی بہن یا کوئی بھی، اس سے نہیں ڈرنا ہے۔ ڈرنا نہیں ہے بالکل۔ ایسے لوگوں سے نہیں ڈرنا ہے۔ یہ ملک میں دنگا کراتے ہیں۔

سومیا شرابی آدمی سے:15منٹ ہو گئے…
شرابی آدمی:میں انہیں تب تک نہیں جانے دوں گا جب تک جپسی نہیں آ جاتی۔ سومیا: تم کون ہو؟ یہ ابھی میری آنکھوں کے سامنے جائیں گے میں دیکھتی ہوں کہ تم انکا کیا کر سکتے ہو۔

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ یہ دھمکی دے رہا ہے کہ آپ نہیں جا سکتے۔ آپ جاؤ۔ جاؤ۔ جاؤ۔ گاڑی نکالو اپنی۔ گاڑی نکالو اپنی۔ جاؤ اب گاڑی نکالو۔ چلو۔ اس کی مرمت کرتے ہیں۔ اس کو دھوئیں گے آج تو۔
سومیا:پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!تم کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!۔

سومیا:ذات پات، دھرم اور یہ سب کر رہے ہیں یہاں پر، لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ بیئر پیتے ہوئے کویسچن (سوال)پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعہ میں ہے۔ اور اس کی آڈیسٹی (جسارت)دیکھو! میں بس یہ پوچھ رہی ہوں کہ تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے؟ تمہارا کوئی حق نہیں۔تمہارا کوئی حق نہیں ، پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں کس نے حق دیا؟ کونسی گورنمنٹ نے رائٹ دیا ہے؟ کون سے کانسٹی ٹیوشن (آئین)نے رائٹ دیا ہے؟۔

BBCنے ہنگامے کی یہ ویڈیو چلانے کے بعد انٹرویو کیا

رپورٹر:بتائیں اصل میں16اپریل کی رات کو کیا ہوا تھا؟
سومیا:میں رات کے ساڑھے دس بجے کھانا کھانے نکلی تھی ۔ اپنے گھر کے سامنے مارکیٹ میں۔ مجھے دور سے ہی دکھا کہ کافی لوگ بھیڑ لگا کر کھڑے ہیں اور کچھ لڑائی سا ہو رکھا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی بھی تھی اور وہ چلا رہی تھی، تو میں نے چیکنگ کیلئے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک لیڈیزنے بتایا کہ اس لڑکی سے سوال کیا جا رہا ہے اس کی شناخت کا، اور اس نے وہ جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ کیوں پہن رکھے ہیں۔ پھر مجھے تھوڑی گڑبڑ تو لگی کہ کچھ تو ہے۔

پھر میں اس جوڑے کے پاس گئی کہ آپ کو کوئی دقت ہے؟ آپ ان کو جانتے ہو؟ یہ آپ کو کیا بول رہے ہیں؟ تو لڑکی نے بتایا کہ وہ میراIDکارڈ ، میرا ایڈریس مانگ رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟ اس نے حجاب پہن رکھا تھا پھر میں بنا سوچے سمجھے اس انسان کے پاس گئی اور بولا آپ کو کوئی پرابلم ہے؟ اس نے صاف صاف یہی بولا کہ مجھے کوئی پرابلم نہیں، مجھے بس جاننا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں ۔ یہ یہاں پر مطلب کیوں ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ ۔یہ مجھے بالکل صحیح نہیں لگا کیونکہ رات ساڑھے دس بجے کسی لڑکی کو کسی آدمی کے تھرو جاننا کہ وہ کیوں ہے وہاں پر۔

میں نے بولا آپ کون ہو؟ اس نے بتایا: پولیس والا۔ میں نے ان سے بیج ،آئی ڈی پروف مانگا، جو اس نے تھوڑی ایکٹنگ کی نکالنے کی ۔ انکے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جو وہ پی رہے تھے پھر کال لگایا اور بولا کہ جپسی لیکر آ، بولا جپسی دو منٹ میں آ رہی ہے۔ پھر بھی میں نے بولا کہ یہ کوئی پروٹوکول نہیں ہے، اگر کسی کو رات کے دس بجے روک رہے ہو، اسپیشلی لڑکیوں کو، تو آپ کے پاس لیڈی کانسٹیبل ہونی چاہیے لاء کے مطابق حق ہے۔ پھر تھوڑی میں چلائی، چیخ و پکار ہوئی، بات چیت ہوئی بہت لمبی، اس نے بالکل جانے سے منع کردیا، بول رہا ہے میں جانے نہیں دوں گا جب تک یہ لڑکی مجھے دکھاتی نہیں یہ کون ہے۔ جیسے ہی اسکے پتی اپنی گاڑی پر چابی لگاتے، وہ آدمی پیچھے سے آ کر بالکل گندے طریقے سے لڑکی کو ٹچ کرتا ہے اور اسکے پتی سے چابی نکال لیتا ہے اور بولتا ہے کہ جب تک یہ بتاتی نہیں کہ یہ کیوں پہن رکھا ہے نہیں جانے دوں گا۔

رپورٹر:تو آپ وہاں سے نکل سکتی تھیں مگر فیصلہ کیا وہاں رک کر ان کیلئے آواز اٹھائی، آپ کو لگا کہ آپ کو بولنا چاہیے؟۔
سومیا:اگر نکل جاتی یا دوسروں کی طرح چپ ہو کر دیکھتی تو میں بھی اس پرابلم کا حصہ بن جاتی، کیونکہ نہ بولنا ہمیشہ جواب ہی ہوتا ہے کہ تم اس چیز کے خلاف ہو۔ بہت ساری ویڈیوز دیکھی ہیں جہاں پر لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں، ہم بطور انسان سوچتے ہیں کہ کاش ہم ہوتے اس کی مدد کر پاتے۔ تو مجھے لگا کہ نہیں اگر کوئی نہیں کر رہا ہے تو میرا کرنا تو بنتا ہے، خاص کر کہ وہ ایک عورت تھی اور میں بطور عورت جانتی ہوں کہ کتنا حساس ہوتا ہے یہ ہمارے لیے یہ ماحول، رات کے ٹائم پہ اسپیشلی ہمارے دیش میں کہ ہم محفوظ نہیں ہیں۔ تو مجھے لگا ایک لڑکی کی مدد کرنا بہت ضروری تھا اور میں نے وہی کیا۔

رپورٹر:رات کا وقت تھا۔ وہ نشے میں تھا، تو آپ کو اس سب کے باوجود، عورت ہونے کے باوجود اپنی سیفٹی کیلئے ڈر نہیں لگا؟ اور آپ کو ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا کہ اگر کچھ ہو جائے گا تو؟۔
سومیا:بالکل ڈر تو لگا، اس ماحول میں اس کیلئے بھی ڈر لگا جتنا اپنے لیے لگا۔ لیکن جیسے ہی میں نے آواز اٹھائی کیونکہ میرا گھر آس پاس تھا تو میرے لیے زیادہ آسان تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوتا بھی ہے تو میں اپنے گھر والوں کو بلا سکوں گی، اپنے دوستوں کو بلا سکوں گی۔ لیکن وہ تھوڑی باہر کی تھی، وہ میرے علاقہ کی نہیں تھی، اس کیلئے مجھے زیادہ لگا کہ میں اس کی مدد کروں، اس کو اس ماحول سے نکال سکوں اور اس پرابلم سے نکال سکوں۔ ڈر تو ہر چیز میں لگتا ہے لیکن مددکرنا وہ بڑی چیز ہے جو کرنی چاہیے۔

رپورٹر:آپ کے آس پاس جو لوگ وہاں پہلے سے موجود تھے جب وہاں اتنا ہنگامہ ہو رہا تھا، انہوں نے کیا کیا؟۔
سومیا:سچ کہوں توپہلے جب میں نہیں گئی تھی تب تک مجھے کچھ ایسا پکچر دکھ رہا تھا کہ ایک آدمی کھڑا ہے، ایک جوڑا کھڑا ہے اور لوگ ایسے گول بنا کر کھڑے ہیں، کوئی پوچھ نہیں رہا تھا، بالکل اس طرح جیسے شو دیکھ رہے تھے لوگ کھڑے ہو کر۔ میرے پوچھنے پہ بھی جس سے میں نے پوچھا اس نے مجھے بہت ہنس کر بہت عام سا جواب دیا کہ ”اس نے حجاب پہن رکھا ہے اس لیے اس کو پریشان”… بہت عام سا جواب تھا، مجھے لگا بھی کہ یہ ہنس کیوں رہی ہے؟ تو لوگ بس تماشہ دیکھ رہے تھے جو زیادہ تر لوگ کرتے ہیں، تماشہ دیکھتے ہیں۔

رپورٹر:انہوں نے کہا کہ اس نے حجاب پہنا ہے اسلئے یہ سب ہو رہا ہے، وہ سن کر آپ کو کیسا محسوس ہوا؟۔
سومیا:بہت بیکار لگا کہ کوئی، مطلب ہیومن رائٹ ہے، آپ کچھ بھی پہن سکتے ہو، کہیں بھی جا سکتے ہو، کسی کیساتھ بھی جا سکتے ہو اور کسی کے کپڑے پہ اعتراض کرنا میرے خیال میںیہ شو کرتا ہے کہ وہ بندہ ڈیپلی کتنا پریشان ہے کسی چیز سے یا کسی کے کپڑے سے کتنا پریشان ہو رہا ہے۔ تو یہ تو بہت برا لگا اور سب سے بڑا پرابلم یہی تھا آئی گیس، اس کے کپڑے اس کیلئے پرابلم تھے کہ وہ ٹرگر ہو گیا کہ اسے سوال پوچھنا پڑ گیا۔

رپورٹر:آپ نے ویڈیو بنائی، وہ بنانے کے بعد کیا ہوا؟۔
سومیا:ویڈیومیں نے پوسٹ کیلئے تو نہیں بنایا تھا جیسا لوگ کمنٹ میں بول رہے ہیں۔ ویڈیو بنایا پولیس کیلئے کہ فور سیفٹی، تاکہ پولیس جان سکے اصل میں کیا ہوا تھا، جو لاسٹ میں ہوا۔ جب پولیس آئی تو جو بندہ پی رہا تھا اس نے پولیس کو بتایا کہ یہ پبلکلی کچھ غلط کام کر رہے تھے دونوں کپل، جو کہ نہیں تھا۔ ویڈیوز میں صاف صاف دکھ رہا تھا کہ کچھ ایسا نہیں تھا، اس کو آئی ڈی جاننی تھی۔

ویڈیو میں نے پوسٹ کی، شروع میں تو مجھے کافی زیادہ لوگوں نے بولا، تعریف کی کہ آپ نے اچھا کام کیا، مدد کی کسی کی۔ پھر تھوڑا ویڈیو وائرل ہو گیا، پھر مجھے ایک طرح کے لوگ ملے جو مجھے گالیاںدے رہے تھے، جنسی طور پر ہراساںکر رہے تھے آن لائن۔ میرے باڈی شیم کرنا، ایک عورت کیلئے یہ ہوتا ہے،عام ہے ہمارے دیش میں۔ گالی دینا، میرے مذہب پر سوال کرنا کہ کنورٹڈ ہے یا غلط الفاظ استعمال کرنا، گالی تو بہت پڑی۔ دھمکیاں بھی ملیں کہ میرے گھر تک آئیں گے، مجھے ریپ تھریٹس ملے ہیں، میرے دوستوں کو میسج گئے کہ سومیا کا ایڈریس دیدے تجھے پیسے ملیں گے۔ تو یہ بہت بڑا ہو گیا ہے یہ پرابلم اور جتنی تعریف ملی تھی وہ نیگیٹو کافی زیادہ بڑھ گیا کیونکہ لوگوں نے بہت گندے کام کیے۔ میری فیملی پکچرز پہ بھدے بھدے کمنٹس، میری ممی کے، میرے خود کے کریکٹر پہ سوال کرنا۔ مجھے لگاکسی کی ہیلپ میں نے کی، کسی کو ہراس ہونے سے بچایا تاکہ میں آگے چل کر خود ہراس ہوسکوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے۔

رپورٹر:آپ کو دھمکیاں اور ٹرولنگ بھی بہت زیادہ ہوئی ہے جو آپ نے مینشن کیا، پر اس کے ساتھ ساتھ سپورٹ ملا؟۔
سومیا:سپورٹ تو بہت اچھا ملا، کوئی شک نہیں مجھے90%سپورٹ ہی ہے نو ڈاؤٹ۔ لوگوں نے میسجز کر کے، کمنٹس کر کے، میرے اوپر ویڈیوز بنائے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب تمہیں ایسے گندی دھمکیاں آتی ہیں ریپ تھریٹس، مارنے کے، مرڈر کے، تو وہ ساری چیزیں پھیکی پڑ جاتی ہیں، سائیڈ پر ہوجاتی ہیں اور یہ ڈر لگنے لگتا ہے کہ اچانک سے ایسا کیا ہو گیا کہ لوگوں کو غلط لگ رہا ہے کہ میں نے کسی کی مدد کر دی۔

رپورٹر:اب جب ایسے حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ معاشرے میں کچھ امید باقی ہے یا پھر ایسے دھیرے دھیرے عام ہوتے جا رہے ہیں یہ حادثات؟۔
سومیا:جواب دینا مشکل ہے لیکن ہاں، اگر یہ انسیڈنٹ ہوا ہے، میں نے مدد کی تو میرے جیسے اور بھی لاکھ انسان ہوں گے جو آگے بڑھ کر مدد کریں گے۔ لیکن آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید بہت کم ہے اور جیسے یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں، ڈویژن چل رہے ہیں لوگوں کے بیچ میں، بہت کم امید ہے کہ ایسے ماحول میں لوگ آگے آ کر مدد کرتے ہیں، سو میں سے ایک ہی آتے ہیں مجھے لگتا ہے جہاں تک۔

رپورٹر:ان لوگوں کیلئے جو ایسے انسیڈنٹس سے گزرتے ہیں جن کیساتھ یہ ہوتا ہے، اور ایسے لوگوں کیلئے جو وہاں رہ کے اس کیخلاف آواز نہیں اٹھاتے، آپ کا کیا پیغام رہے گا ان کیلئے؟
سومیا:میرا یہی مؤقف ہے کہ ہمیں بطور انسان ہمیشہ انسانیت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کسی کی مدد یہ سوچ کر نہیں ہوکہ اسکی ذات اوردھرم کیا ہے، جس کو ضرورت ہے اس کی مدد کرنی چاہیے۔ انسانیت بہت اہم ہے جو ہمیں ہر حال میں باقی رکھنا ہے اور جو لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کیلئے یہی میسج ہے کہ مدد ، کیونکہ آج ہم کسی کی مدد کریں کل ہمارا کوئی مدد کرے گا ضرور، یہ تو لکھا ہے۔ تو بس یہی بولنا چاہوں گی کہ یہ سوچ کے مدد کر لو کہ کل تم پرابلم میں ہو گے تو تمہیں کوئی مدد کرنے آئے گا۔

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی پہلا شہیدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا۔ دورِ حاضر میں ہندو کی پہلی شہیدہ حضرت سومیا ،اللہ ان سے راضی ہو۔ یہ یاد رکھیں کہ اللہ کے راضی ہونے کی دعا جائز ہے اور شہید صرف مقتول نہیں بلکہ گواہ بھی شہید ۔مولانا فضل الرحمن غریدہ فاروقی اور عاصمہ شیرازی کو بھی حضرت کہتے ہیں تو سومیا نے کمال کیا۔

مکافات عمل کا دنیا میں سامنا کرنا پڑے یا موت کے بعد۔ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ہوگا کہ آپ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ جو اب کا آخر

وانت علی کل شی ئٍ شہیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیمO

”اور آپ ہر چیز پر گواہ ہو۔اگر انہیں عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور انہیں معاف کردے تو بیشک آپ زبردست حکمت والے ہو”۔

سورہ مائدہ کی یہ آیات شہید اور اللہ کے راضی ہونے کی دعا کا ثبوت ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام مشرکوں کیلئے نرم گوشہ رکھیں۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولًا ” اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک رسول مبعوث نہ کردیں”۔ ہندو کے ہاں رسول کی بعثت نہیں ہوئی۔ اسلام بھی مسخ صورت میں پہنچا ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ عورت جبری جنسی زیادتی کا نشانہ بنے تو تین گواہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے۔ حضرت آدم و یوسف کے سامنے فرشتوں اور انسانوں کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر قرآن میں ہے۔ اسلام نے ممنوع قرار دیا تو مسلمانوں کیلئے منع ہے۔ اکبر بادشاہ کیلئے تو علماء سو نے جائز قرار دیا تھا۔ خداکی خلافت نہیں عبادت تو جن اور فرشتے بھی کرتے ہیں ۔

خلافت اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری ہے۔ سومیا نے مسلمان لڑکی کو تحفظ دیا جس میں محمد بن قاسم کی طرح جھوٹ کا عنصر بھی نہیں۔ جہاں سجدے کی گنجائش ہو تو خدا کی یہ خلیفہ ہے جس کو سجدہ کیا جاتا تو قرآن کی روشنی میں لمبی تاریخ کے تناظر میں بنتا تھا۔ عقیدے کی آڑ میں شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ جیسے لوگ کسی اور کو عزت و احترام کے قابل نہ سمجھیں تو یہ بدکردار لوگوں کی مجبوری ہے۔عمران خان پاکپتن کی راہداری پر مرغا بنا تو اس سے زیادہ مستحق باضمیر لوگوں کیلئے ہندوستان کی زر خیز مٹی سے اگنے والی انسانیت کیلئے سومیا کی ہستی ہے۔

اگر ہندوستان اور دنیا بھر کے حکمران خود ظالم جابر نہ ہوتے تو اس لڑکی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بڑے اعزازسے نواز دیتے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے مظالم کی روک تھام میں انسانیت اور اس کی ذمہ داری خلافت الارض کو زندہ کرتے مگر مجبوری ہے۔ صدر تباہ کاری ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامز د کیا جائے لیکن ہندوستان کی عوام میں بڑھتے ہوئے مظالم کے سامنے انسانیت کی روح پھونکنے والی دیوی سومیا کیلئے دولفظ شاباش کے نہیں ہیں۔ سورہ فاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں اور اس میں یوم الدین کے مالک کا معنی مکافات عمل ہے۔

بڑی قیامت تو ضرور آئے گی لیکن پہلے دنیا میں چھوٹی بڑی قیامتیں برپا ہوں گی۔ عیسیٰ قیامت سے پہلے نازل ہوں تو قرآن میں لکھے یہ الفاظ ضرور اللہ کے سامنے دھرائیں گے۔ یہودی پیش گوئی میں یہ ہے کہ ” آنے والا خلیفہ مسلم یہودی ” کہلائے گا ۔ قرآن کی محکم آیات سے مسلمان ویہودی کو حلالہ سے چھٹکارا ملے گا۔ عمران خان کا بیٹا خلیفہ بن گیا تو یہود ماں کو اہم سمجھتے ہیں، اسلئے اسماعیل سے اسحاق کو قابل سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل ماؤں سے بہت پھیل گئے ہیں۔یہودی عیسیٰ و مریم سے تنگ دل نہ ہوں۔ ہماری نانی بھی محسود تھی جو بنی اسرائیل مشہور ہیں۔ایک بڑا پرامن انقلاب آئے گا۔ انشاء اللہ العزیز

سورہ الزمر میں روئے زمین پر قیامت سے پہلے جس بہت بڑے انقلاب اور چھوٹی قیامت برپا ہونے کا ذکر ہے اس کو ہندو اپنی روحانی استعداد کیمطابق اپنے حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل میں یہود ونصاریٰ کیلئے بڑی خوشخبری ہے کہ تم نے دو مرتبہ تکبر کیا اور دوسری مرتبہ میں ہوسکتا ہے کہ تم پر رحم کیا جائے ،اسلئے کہ اصل جزا وسزا تو اللہ نے دینی ہے اور خوشحالی لانیوالا انقلاب فتح مکہ کی طرح انتقامی نہ ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًاغیرہ؟

ترجمہ :” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔

سورہ بقرہ کی آیت230میں اُمت مسلمہ کے اندر انواع و اقسام کے اختلافات موجود ہیں۔ علت سبب کو کہتے ہیں جبکہ معلول اس سبب سے نکلنے والے نتیجے کو کہتے ہیں۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ امت مسلمہ نے اس آیت کی علت اور معلول پر بہت اختلافات کئے ہیں۔ علامہ تمنا عمادیایک حنفی عالم تھے اور ان کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے ہم عصروں میں ان کا مقام تولہ اور باقی مشہور علماء انکے مقابلہ میں ماشا تھے اور انہوں نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھی ہے ۔ جس کا دعویٰ تھا کہ قرآن میں طلاق صرف دو ہیں۔ایرانیوں نے ایک سازش کرکے احادیث میں تین طلاق کا تصور ڈال دیا ہے اور قرآن میں تیسری طلاق نہیں ہے۔ قرآن میں عورت کی طرف سے طلاق مانگی جائے تو یہ خلع ہے اور اس کے بعد شوہر طلاق دے تو اس کیلئے حلال نہیں ہے۔ اصول فقہ میں یہی حنفی مؤقف لکھا ہوا ہے کہ آیت230کا تعلق فدیہ سے ہے۔

حنفی اصول فقہ کی تعلیمات کے مطابق قرآن کے مقابلے میں احادیث کا انکار بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب قرآن سے اس کی ٹکر ہو اور علامہ تمنا عمادینے حنفی اصول فقہ کو قرآن سے جوڑ کر اس کے مقابل احادیث کو ایرانی ساز ش قرار دیا ہے تو اس کے بعد سنی مکتبہ فکر کی صحاح ستہ کے خلاف لکھا جانے لگا اور غلام احمد پرویز جیسے لوگوں نے اپنے فن سے اس کو چمکادیا۔

علامہ تمنا عمادی نے کہا کہ جرم مرد کا ہو اور سزا عورت کو ملے تو یہ کہاں کا انصاف ہے لیکن اس کے پیچھے عربی، حنفی مسلک اور درس نظامی کی تعلیمات کا بہت بڑا ذخیرہ اور صلاحیت بھی تھی۔

کسی عالم کو جرأت نہیں ہوئی کہ علامہ تمنا عمادی کی کتاب کا جواب دیتا لیکن ان کی کتاب کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔اس کی وجہ بڑے بڑے مدارس اور مشہور علماء ومفتیان سے ٹکرانے کے علاوہ احادیث کی کتابوں کو ایرانی ساز ش قرار دینا بھی تھا۔ علماء نے اس بات کا عوامی جواب دیا کہ جرم مرد کرے اور اس کی سزا عورت کو ملے تو کیسے ہوسکتا ہے؟۔ تو کسی نے کہا کہ شوہر کی بیوی جب چدھ جاتی ہے تو یہ شوہر کیلئے بھی بڑی سزا ہے اور کسی نے کہا کہ ریح خارج ہوجائے تو فائرنگ کہاں سے ہوتی ہے اور سزا وضو میں کن اعضاء کو ملتی ہے۔ استنجا نہیں کرنا پڑتا ہے اور منہ ، ہاتھ ،پیر دھونے اور سر کا مسح کرنا پڑتا ہے۔

علامہ شاہ تراب الحق قادری اور دعوت اسلامی کے مفتی اس بات کی تشہیر کرتے رہے کہ ”روزہ میں لیٹرین کے بعدپھول نما آنت نکلتی ہے جس کو دھونا بھی ضروری ہے اور دھونے کے بعد اس کو کپڑے سے سکھانا بھی ضروری ہے اگر سکھائے بغیر آنت اندر چلی گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ اسکے ایک مرید سلیم طاہر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ بکواس ہے۔ ضرب حق کی خبر بنادی اور اس کی تردید بھی کردی۔ کچھ بریلوی علماء نے بھی میرے مؤقف کی کھل کر حمایت کردی ۔ شاہ تراب الحق قادری نے خاموشی اختیار کرلی۔ پھر جب ہمارا اخبار بند ہوگیا تو علامہ تراب الحق قادری نے کہا کہ میں نے ایک مسئلہ بیان کیا تھا جو ایک گوبر شاہی طرز کے آدمی نے اچھالا۔ اسکے مرید سلیم طاہر کو یہ فکر پڑی تھی کہ مقعد کو کپڑے سے سکھانے کے بعد اگر پھرکپڑا اس فلش میں ڈالا جائے تو فلش بند ہوگا اور جیب میں رکھا جائے تو جیب خراب ہوگی۔ پھر اس کے دماغ میں مسئلے کا یہ حل سوجھا کہ ”اس کپڑے سے سکھانے کے بعد اس جگہ رکھ دیا جائے”۔ اور جب علامہ تراب الحق قادری سے کہا کہ میری زندگی کے کتنے روزے خراب ہوں گے ؟۔ اور اسی جگہ کپڑا رکھنے کی بھی تجویز پیش کردی تو علامہ صاحب نے بھگادیا کہ میرا کام مسئلہ بتانا تھا اور معاملات یہاں میرے پاس ڈسکس مت کرو۔

سلیم طاہر نے غازی عبدالقدس بلوچ سے علاج کے مسئلے پر ایک تھپڑ بھی کھایااور شاید پھر غائب ہوگیا۔ پھر دعوت اسلامی کے مفتیوں نے بعد میں مسئلہ اٹھایا اور مردوں اور عورتوں کو تلقین کی کہ استنجاء کرتے وقت سانس لینے میں بھی احتیاط کریں ورنہ تو پانی اندر گھس سکتا ہے جو معدہ میں پہنچ کر روزہ توڑ دے گا۔

مجھے معلوم تھا کہ مسئلہ کچھ ہوتا ہے اور غلو کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے اسلئے لکھا کہ ”پچکاری سے قبض کو توڑا جاتا توسوال پیدا ہوا کہ پانی معدہ تک تو نہیں پہنچ جائے گا؟۔ اسلئے دو فقہی مسلک بن گئے۔ ایک نے کہا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا تو دوسرے نے کہا کہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور پھر غلو اس حدتک پہنچ گیا کہ آنت دھونے سکھانے اور سانس لینے تک بات پہنچ گئی”۔

کانیگرم شہر میں گھروں کیلئے پانی گدھوں کے ذریعے لاد کر لایا جاتا تھا یا صبح سویرے اور مغرب کے بعد عورتیں لاتی تھیں۔ اور ندی سے اوپر تک پانی سے لدا ہوا گدھا راستے میں لید کرتا تھا۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے جس پھول نما آنت کی بات بتائی تھی تو گدھوں کی نکلتی ہوئی ہم نے دیکھی تھی اور اس کو فطری طور پر باہر نکلنے کے بعد اندر خود بخود جانا ہوتا ہے۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری کے پاس ہوسکتا ہے کہ اس کو روکنے کی مشق بھی ہو لیکن میرا دعویٰ ہے کہ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے! اور یہ ممکن نہیں لگتا ہے۔ سلیم طاہر کو بھی میں نے یہی سمجھایا تھا مگر وہ اس کے پیچھے پڑا رہا کہ کپڑے کو فلش میں ڈالنے سے فلش بند ہوگا اور جیب میں ڈالنا بھی ٹھیک نہیں ہے لہٰذا وہی پر رکھ دو۔

بریلوی مکتب کے بہت بڑے عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد کے اندر علت بنایا حرف ”ف” کو جو تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے اور لکھ دیا کہ ” اگر اس آیت میں ”ف” نہیں ہوتی تو پھر قرآن اور احادیث کے تقاضوں سے بالکل واضح ثابت ہوتا کہ تین مرتبہ الگ الگ طلاق دینے سے ہی حلالہ کی لعنت فرض ہوجائیگی مگر ”ف” کی وجہ سے اگر اکٹھی تین طلاق دی گئی تو پھر حلالہ کرنا لازم ہوجائے گا۔ اصول فقہ میں دو متضاد مؤقف ہیں اور اس تضاد کی وجہ سے علامہ غلام رسول سعیدی نے بہت یہ بڑا مغالطہ کھایا تھا۔ ایک حرف ”ف” پر الگ بحث ہے جس میںیہ بحث بالکل بکواس ہے کہ ف کے حرف کی وجہ سے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف و غیرہ میں اختلافات ہیں کہ کس صورت میں پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری نہیں ہوگی؟۔ جس طرح طلاق کوئی تین روٹی کی طرح جامد چیزہے کہ پہلی کھائی، دوسری چھوڑ دی اور پھر تیسری کھائی؟۔ جب فقہ کی حد تک بات یہاں تک پہنچ جائے کہ ” پہلی طلاق واقع ہوئی۔ دوسری طلاق جیب میں پڑی رہے گی اور تیسری طلاق بھی واقع ہوگی ۔ یا پھر پہلی طلاق بھی جیب میں پڑی رہے، دوسری طلاق بھی جیب کے اندر پڑی رہے لیکن تیسری طلاق واقع ہوجائے تو پھر”؟۔

پھر یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اس کے نزدیک حلالہ کیلئے تیسری طلاق ہی علت ہے اور جب تیسری طلاق علت ہو تو پھر یہ بحث بھی بالکل فضول بن جاتی ہے کہ اکٹھی تین طلاق یا الگ الگ تین طلاق سے حلالہ کے نتیجے پر پہنچنے کی بات کی جائے؟۔

پھر شافعی اور حنفی مسلک میں یہ بحث ہے کہ تیسری طلاق کا تعلق آیت229البقرہ کے الطلاق مرتان سے ہے یا اس کے بعد فدیہ کی صورت سے ہے؟۔ نورالانوار میں جہاں حرف ف پر بحث میں پہلی، دوسری اور تیسری طلاق کو ایک جامد شکل میں الگ الگ کردیا گیا ہے وہاں تو معاملہ بالکل جدا ہے لیکن جہاں پر شافعی حنفی کا مقابلہ ہے تو شافعی کے مقابلے میں حنفی مسلک یہ ہے کہ ف عربی میں تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے۔تو تیسری طلاق کو اس کے ساتھ متصل آیت229میں فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہوا کہ شافعی مسلک کا تقاضہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد ہی اس حلالہ والی طلاق کی تیسری مرتبہ ہے۔ اور حنفی کے نزدیک اس کا دو مرتبہ طلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی علت فدیہ کی صورت سے خاص ہے۔ پڑھانے والے اساتذہ کرام20سے40اور60سال تک پڑھاتے ہیں لیکن ان کا دماغ اس الجھن کا شکار رہتا ہے کہ معاملے کا مقصد کیا ہے اور بس عبارت کا مفہوم سمجھنا بھی بڑا کمال سمجھا جاتا ہے اور طلبہ کو بھی یہی سمجھادیتے ہیں۔

اگر تفاسیر کی طرف دیکھ لیں تو علامہ جاراللہ زمحشری کو معتزلہ لیکن حنفی مسلک کا حامل سمجھاجاتا ہے۔ تفسیر میں امام کا درجہ ان کو حاصل ہے اور14سالوں تک بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میںاپنی تفسیر ”الکشاف ” لکھی ہے۔ انہوں نے اپنی یہ تجویز رکھی ہے کہ ”دو الگ الگ مرتبہ کے بعد پھر تیسری مرتبہ طلاق دی جائے تو حلالہ کی سزا کا نفاذ ہونا چاہیے مگر اس پر کوئی فیصلہ بھی نہیں دیا ہے جس کی وجہ میں بتادیتا ہوں کہ کیا ہے؟۔

لبنان کے مشہور دانشور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے عربی قوم کے مشہور لکھاری خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ” ایک ملحد اور ایک عالم دین میں مناظرہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں عالم دین ملحد بن گیا اور ملحد نے مذہب کو قبول کرلیا”۔ حنفی اور شافعی اس پر لڑتے ہیں کہ شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہیں اور حنفی کے نزدیک بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں۔

آیت230البقرہ میں تیسری طلاق کو آیت229البقرہ کے اندر الطلاق مرتان دو مرتبہ طلاق سے جوڑ کر شافعی مسلک کی خلاف ورزی کرتے ہیں اسلئے کہ پھر تو الگ الگ تین مرتبہ کی طلاق قرآن کا تقاضہ ہوگی جو شافعی مسلک کیلئے قابل قبول اسلئے نہیں کہ علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس حرف ”ف” کی بنیاد پر شافعی مسلک کی تائید کردی ہے۔ جبکہ دوسری طرف حنفی مسلک والے ف تعقیب بلامہلت کے ذریعے ”ف” سے جوڑ کر الگ الگ کی جگہ فدیہ سے اتصال کو تقویت بخشتے ہیں۔

یہ معاملہ اس قدر الجھاؤ کا شکار کردیا گیا کہ جب امام ابوبکر جصاص رازی حنفی اپنی کتاب ”احکام القرآن ”میں طلاق سنت پر بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ” الطلاق مرتان فعل ہے، کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ جیسے دو روپیہ۔ دو روپیہ کو دو مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے ہیں البتہ دو مرتبہ کھانا کھایا یا ملاقات کی وغیرہ فعل ہے اور فعل کیلئے وقفہ اور الگ الگ ہونا ضروری ہے ”۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر3طلاق کہہ دیا تو اس پر تین مرتبہ طلاق کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔ پھر تو قرآن اور تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ حل ہوا؟۔

لیکن یہی امام ابوبکر جصاص رازی جب حنفی مسلک پیش کرتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں تو سرکے بل الوکا پٹھا لٹک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ” جس طرح ایک طہر میں تین مرتبہ الگ الگ طلاقیں دیں جائیں تو واقع ہوجاتی ہیں اسی طرح سے اگر ایک مجلس میں تین طلاق دی جائے تب بھی واقع ہوگی اور یہ ایک باریک قسم کی بات ہے جس کو ہرکوئی نہیں سمجھتا ”۔

فقہاء اور محدثین میں یہ الجھاؤ بہت قدیم اور پرانا مسئلہ ہے اور امام حسن بصری جس کی پیدائش21ہجری اور وفات101ہجری میں ہوئی جو حضرت علی کے خاص شاگرد تھے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری سے روایت ہے کہ ” بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کے لفظ سے تیسری طلاق واقع ہوگی اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے پھر بیوی حلال ہوجائے اس کیلئے حلالہ کی لعنت سے گزرے بغیر پھر چارہ کار نہیں ہے”۔ حسن بصری کی اس بات کو قرآن کی سورہ تحریم کے آئینہ میں دیکھا جائے تو انتہائی غلط ہے۔بخاری نے ایک روایت چھوڑ کر عبداللہ بن عباس کے قول کو نقل کیا ہے کہ حرام کے لفظ سے طلاق ، کفارہ یا حلف کچھ بھی واقع نہیں ہوتا ہے اور یہی سیرت رسول ۖ کے تقاضہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن سورہ تحریم کا حوالہ نہیں دیا۔

امام ابوبکر جصاص رازی بہت بڑے آدمی تھے لیکن مسلک پرستی سے انسان ہیرو سے زیرو بن جاتا ہے۔ سنت کیلئے طلاق کو فعل قرار دیا اور بہت زبردست دلیل دی لیکن یہ مسلک پرستی کا تقاضہ تھا اور جب مسلک کا معاملہ آیاتو پھر یہ بھی نہیں دیکھا کہ طلاق کا فعل کس طرح3کے عدد میں بدل گیا؟۔ امام ابوبکر جصاص رازی کی پیدائش918ء ، وفات981ء میں ہوئی۔

پھر ایک اور توپ چیز علامہ ابن تیمیہ پیدائش1263ء اور وفات1328ء میں آگئی۔ علامہ ابن تیمیہ نے مسلک کو فرقہ اور شرک قرار دیکر سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔ تصوف اور اولیاء کی سخت مخالفت کیلئے زبردست اور بہت بڑی جدوجہد کے بڑے امام بن گئے۔ طلاق کے مسئلے کا حل یہ نکال دیا کہ نماز کے بعد تسبیحات میں33مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے وظیفہ پورا نہیں ہوگا جب تک کہ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ……33مرتبہ نہیں پڑھا جائے۔ اس طرح3طلاق سے3مرتبہ طلاق نہیں ہوسکتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ کی اس بات کو سعودی عرب ، عرب امارات اور بہت سے عربوں نے قبول کرلیا اور اس کو اپنا کلکلی اوتار سمجھ لیا کہ یہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا نجات دہندہ ہے۔

علامہ ابن تیمیہایک بہادر انسان بھی تھے لیکن عقل کا تعلق بہادری نہیں نور ہدایت سے ہے ۔ عربوں نے امام ابن تیمیہ کی یہ بات اپنے پلے باندھ لی لیکن میں نے ایک عربی سے سوال کیا کہ اگر تسبیح کی طرح کوئی کہے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق تو پھر کیا ہوگا؟۔ تو اس نے کہا کہ طلاق تو تسبیح نہیں ہے کہ واقع ہوجائے ، تسبیح الگ چیز ہے اور طلاق الگ چیز ہے۔

عرب اہل زبان ہونے کے باوجود بھی عقلی صلاحیت گدھے کی طرح رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے شاید محسوس کیا کہ بہت الجھا ہوا معاملہ ہے اور اس سے اہل تشیع کو تقویت مل رہی ہے اسلئے حنفی علماء کو بلاکر سرکاری طور پر تین طلاق کو رائج کردیا اور اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ سعودی والے امام احمد بن حنبل کے مسلک پر ہیں۔ ابن تیمیہ اور حنبلی مسلک کو ایک ساتھ کرنا ایسا ہے کہ جیسے چھپکلی اور مچھلی کو اکٹھا کرنے کی بات کی جائے۔

سعودی عرب سے ایک کتاب ”اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعہ: تالیف: محمود داؤد العبیری” شائع ہوئی ہے جس کے مفصل حوالہ جات میں نے اپنی کتاب ”ابررحمت ” میں دئیے ہیں ،یہاں مختصر خلاصہ پیش کرتاہوں۔

”المسئلة الثالثة : الطلاق بالفاظ الکنایة من المعلوم

تیسرا مسئلہ : کنایہ کے الفاظ سے طلاق: یہ بات معلوم ہے کہ طلاق واقع ہونے کا تعلق الفاظ صریح سے ہوگا یا کنایہ سے!

جمہور علماء کے نزدیک الفاظ صریح سے طلاق واقع ہونے کیلئے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ دلیل اس کی رسول اللہۖ کی حدیث ہے کہ تین چیز یں سنجیدگی اور مذاق میں واقع ہوتی ہیں۔ نکاح طلاق اور رجوع۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)کنایہ طلاق کے مندرجہ ذیل الفاظ میں خلفا ء راشدین میں اختلاف ہے۔

1:انت الخروج: حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق ہے اور حضرت علی کے نزدیک اس لفظ سے تین طلاق واقع ہوتی ہے۔
2:طلاق الحرج: حضرت عمر ایک، حضرت علی تین طلاق ۔
3:طلاق الخلیة : حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین۔
4:البریة: اس میں بھی دونوں میں ایک اور طلاق طلاق۔
5:انت علی حرام: جس نے بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو حضرت ابوبکر صدیق نے کہا کہ یہ قسم ہے اس کا کفارہ دے گا اور یہی بات امام ابوحنیفہ کی ہے اگر اس سے طلاق اور ظہار کی نیت کی نہیں کی جائے اور وہ اپنی بیوی سے قسم کھانے والا ہو۔ حضرت عائشہ، اوزاعی ، ابن عباس کا بھی یہ قول ہے۔حضر ت عمر کا بھی یہی قول ہے اور حضرت عمر سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ اور یہی الزہری، عبدالعزیز بن ابی سلمیٰ اور الماحثون کی رائے ہے۔ اور ابن قیم نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ یہ ایک طلاق ہے۔ حضرت عثمان نے اس کو ظہار قرار دیا اور امام احمد بن حنبل کی یہی رائے ہے۔ علی بن ابی طالب اور زید بن ثابت دونوں کے نزدیک یہ تین طلاق ہیںاور امام مالک کی بھی یہی رائے ہے۔

اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعة: تالیف:محمود داؤد العبیری صفحہ 143تا146

تیسرا مسئلہ بہت تفصیلات کیساتھ بیان کیا گیا ہے یہاں پر ایک مختصر خلاصہ پیش کردیا ہے۔اگر فٹ بال کے میچ میں ایک گول پر اختلاف ہو جائے اور ایک کے ہاں ایک اور دوسرے کے نزدیک تین گول ہوں تو فطری طور پر کوئی مانے گا؟۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ شریعت میں اتنا بڑا اختلاف ہو؟ َ۔

بریلوی مکتب فکر کے مشہور مناظر عالم علامہ اشرف جلالی نے کہا کہ ایک حدیث میری نظر سے ابھی گزری ہے کاش مجھے اس کا پتہ 25سال پہلے چل جاتا توآج معاملہ بالکل مختلف ہوتا۔ حدیث ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی ۔پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حکم ہے”۔ نماز، روزہ اور حج وغیرہ کا نہیں فرمایا ۔ حکومت کا فرمایا۔

خلافت راشدہ، امارت ، بادشاہت اور جبری حکومتوںکے ادوار میں آج بھی حکومتیں تو قائم ہیں؟۔ حکم سے پھر کیا مراد ہے اور کس طرح کے حکم کیلئے نبیۖ نے یہ پیش گوئی فرمائی ؟۔

وان خفتم شقاق بینھما بابعثوا حکمًا من اہلہ و حکمًا من اہلھا ان یریدا اصلاحًا یوفق اللہ بیھما ان اللہ کان علیمًا خبیرًاO (سورہ النساء:آیت:35)

” اور اگر ان دونوں کے درمیان جدائی کا خطرہ پیدا ہو تو ایک حکم شوہر کے خاندان اور ایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو۔اگر وہ دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کرے گا۔بیشک اللہ علم خبر رکھنے والا ہے”۔

قرآن میں حکم کا معنی واضح ہے۔ حضرت عمر کے دور میں یہ پہلا واقعہ ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس کی بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر کے دور میں یہ مسئلہ آنے سے پہلے اپنے ہاں دو حکم قرآن کے مطابق بلالیتے تو اسلام کی یہ پہلی کڑی نہیں ٹوٹتی۔ حضرت عمر نے تین طلاق کا جو فیصلہ کیا وہ قرآن کے بھی مطابق تھا اور دنیا کی ہر عدالت نے یہ فیصلہ انسانی فطرت کے مطابق عورت کے حق میں کرنا ہے۔

سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق بھی ہے اور اس کو شوہر کی طرف دئیے ہوئے منقولہ اشیاء سے بھی محروم نہیں کیا جاسکتا ہے اور طلاق میں سورہ النساء آیت20میں منقولہ و غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے محروم نہیں کرسکتے۔ خلع کے مقابلہ میں طلاق کے حقوق زیادہ ہیں اسلئے طلاق کے بعد عورت اگر راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ نہیں تو قرآن کی آیات و احادیث بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ تین چیزوں میں مذاق معتبر ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع ۔ نکاح میں ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہر فرض ہے اور مہر کا تعلق غریب و امیر پر وسعت کے مطابق ہے۔ طلاق اور رجوع میں بھی عورت کے حقوق ہیں۔فقہاء نے اسلام کو بہت مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے بھتیجے نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر مریدنی سے شادی کی۔ اس سے بچے پالنے کا کام لینے کے بعد جب گھر گئی تو پیچھے سے پیغام بھیج دیا تھا کہ تمہیں طلاق دیدی ہے۔اس عورت پر کیا گزری؟۔ اور کس حال میں تھی؟۔ مفتی تقی عثمانی نے قرآن کی آیات کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے کہ طلاق میں حق مہر کی بات ہے اور باقی دی گئی اشیاء واپس لے سکتے ہیں اور فتاویٰ عثمانی میں بھی لکھ دیا کہ ”ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ بیوی کو چیزیں تحفہ میں دی جاتی ہیں اور وہ شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں جو طلاق کے بعد واپس لی جاتی ہیں”۔ اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ حق مہر کو اعزایہ تحفہ قرار دیا ہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم ہوتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت اسلام اور قرآن میں تحریف اور بددیانتی پر نکالتے۔ اب تو اس نے اپنی بدنمائی دور کرنے کیلئے خود ہی اکھاڑ دئیے ہیں۔ ترجمہ قرآن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”قریب ہے کہ آسمان فرشتوں کی بڑی تعداد میں عبادت کی وجہ سے پھٹ جائے”۔ حالانکہ سورہ شوریٰ میں وضاحت ہے کہ دین میں تحریف کی وجہ سے فرشتوں کو بہت غصہ آتا ہے لیکن اللہ مقرر ہ وقت سے پہلے ان کو عذاب کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ آج کے دور میں اکابرین کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی کوئی انتہا نہیں رہی ۔شیخ الحدیث نذیر احمد جامعہ امداد العلوم فیصل آباد کا بھی شیخ الحدیت مولانا مفتی عزیز الرحمن کا صابرشاہ جیسا معاملہ تھامگر ویڈیو نہ تھی اسلئے سامنے نہیں آیا۔

وللطلقات متاع بالمعروف حقًا علی المتقین ”

اور طلاق شدہ عورتوں کیلئے خرچہ ہے معروف کیساتھ متقیوں پر لازم ہے”(البقرہ241)قرآن کی آیات میں طلاق کے بعد مختلف جگہوں پر عورتوں کے حقوق واضح ہیں لیکن جس نے سینہ زوری کرنی ہو تو مفتی تقی عثمانی کی طرح وقف زمین میں اپنا گھر بھی خرید لیتا ہے اور اسکے خلاف فتویٰ دینے پراپنے استاذ مفتی رشید احمد لدھیانوی کی تاریخی پٹائی بھی لگادیتا ہے۔ جبکہ عورت طلاق کے بعد بہت کمزور بن جاتی ہے اور بنوں میں تو ایک مولوی نے زبردستی حلالہ بھی کیا تھا جو پولیس نے پکڑا تھا۔

سورہ البقرہ آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعدعورت کا حق مراد ہے جس سے خلع مراد لینا انتہائی حماقت ہے لیکن یہ حماقت سکہ رائج الوقت بن گیا اور علامہ تمنا عمادی نے بھی اس کی وجہ سے الطلاق مرتان کتاب میں اپنی حماقت کا اظہار کیا۔ اگر عورت کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تو حماقتوں میں مبتلاء امت مسلمہ قرآن کی روح کو بوٹی بوٹی کرنے کا جرم نہیں کرتی۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے بخاری کی شرح ”کشف الباری” اور ” نعم الباری” میں لکھا کہ عدی بن حاتم کے جواب میں رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” البقرہ کی آیت229میں الطلاق مرتان کے بعد تیسری مرتبہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔لیکن اس تیسری طلاق کے بعد تو حلالہ کا کوئی حکم نہیں ہے۔ پھر عورتوں کے حقوق کا معاملہ ہے اور اس میں استثناء کی صورت کا ذکر ہے جس میں حکموں (فیصلہ کرنیوالوں) کی بھی وضاحت ہے۔

وان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افدت بہ

” اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے”۔

اس سے خلع مراد نہیں ہے ۔ حنفی مسلک کے اصول فقہ میں آیت230البقرہ کی طلاق کو اس فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے اور اس میں حکم کے فیصلے کے بعد اس فدیہ کا ذکر ہے جو عورت کی عزت کے تحفظ کیلئے کیا جائے اور عورت فیصلہ کرلے کہ اس نے دوبارہ واپس نہیں آنا ہے۔ اس صورت میں حلالہ کی لعنت مراد ہوہی نہیں سکتی ہے بلکہ عورت کی آزادی مراد ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد واضح الفاظ میں معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط پر رجوع کی گنجائش بالکل واضح کی گئی ہے۔

مسئلہ قرآن کی فصاحت وبلاغت اور معاملہ واضح کرنے کا نہیں بلکہ ایک غلط ماحول سے پیدا ہونے والے نتائج کا ہے۔ ہمارا ایک دوست لطیفے سناتا ہے سلیم سوریا کراچی کا میمن ہے۔ ایک شخص حالات سے تنگ آیا اور پہاڑی پڑ چڑھ کر خودکشی کے ارادے سے چھلانگ لگانا چاہا لیکن نیچے ایک آدمی کو دیکھا جو بہت خوش خوش گھومتے ہوئے نظر آرہاتھا۔ اس نے سوچا کہ خود کشی سے پہلے اس کی خوشی کا راز پوچھ لیتا ہوں۔ جب قریب جاکر پوچھا کہ کس بات کی وجہ سے اتنے خوش ہو؟۔ اس نے کہا کہ خوشی کس بات کی؟۔ میرے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اور گانڈ میں خارش ہورہی ہے ، کھجا نہیں سکتا ہوں اسلئے مصیبت کو جھیل رہا ہوں۔ قرآن نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔ میں نے بھی بہت اچھی طرح سے وضاحتیں کردی ہیں لیکن جب کسی کی غیرت مرجاتی ہے تو اس کو حلالہ کیلئے خارش ہوتی ہے۔ اس کی بیوی بھی لذت کے درپے ہوتی ہے اور شوہر نامرد بھی ایک طرح کا سہولت کار بن جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی ایسے ہی بے غیرت تھے ، اسلام نے غیرتوں کو جگایا اور فطرتوں کو سمجھایا ۔

عورتوں کیلئے فتاویٰ مفتی کیلئے نہیں چھوڑا بلکہ اللہ نے فرمایا:

ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن

”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ انکے بارے میں خود ہی فتاویٰ دیتا ہے”۔ (البقرہ:127)

علماء ومفتیان کے مقابلے میں جاویداحمد غامدی ڈیڑھ ضمیر سے عاری ہے۔ بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان نے خود کو اندر ہی اندر سے بالکل بدل دیا ہے اور اگر ان پر دباؤ نہیں ہوتا تو تبدیلی کا اعلان بھی کردیتے۔ ہمارے دلائل کا بھی کوئی ردنہیں کیا بلکہ دعوت اسلامی کے مرکزفیضان مدینہ کے مفتی نے بھی ہمارے فتوے پر اپنے عقیدت مند سے کہا کہ اس میں دلائل بالکل مضبوط ہیں اور تم اپنی بیوی سے بغیر حلالہ کے رجوع کرلو لیکن ہم لکھ کر نہیں دے سکتے یہ ہماری مجبوری ہے۔

دارالعلوم کراچی میں تین قسم کے علماء ومفتیان ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے ہمارے دلائل کی وجہ سے طلاق کے مسائل پر فتویٰ دینا چھوڑ دیا ہے ۔ دوسرے وہ ہیں جو ہمارے پاس فتویٰ کیلئے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور تیسرے قسم کے وہ ہیں کہ جب ہم نے کہا کہ مفتی عصمت اللہ کے دستخط سے فتویٰ لو تو مغالطہ دیا گیا اور کسی تخصص کے طالب علم عصمت اللہ کے نام سے اس کو فتویٰ دیا گیا۔ وقت آئے گا تو جرائم پیشہ طبقہ بے نقاب ہوگا اور اچھے لوگوں کو مدارس سونپ دئیے جائیں گے۔ انشاء اللہ

دور جاہلیت میں انواع واقسام کے طلاق تھے۔ سخت ترین طلاق کی صورت ظہار کی تھی جس کا حل سورہ مجادلہ میں اللہ نے پیش کیا اور پھر سورہ احزاب میں بتایا کہ کفاراور منافقین کی اس حوالے سے کیا حالت ہے؟۔ کفار اور غیر مسلم میں بہت فرق ہے۔ کفار منکر اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ غیر مسلم کسی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے یہود و نصاری کی خواتین سے بھی شادیاں کی تھیں لیکن مشرکین مکہ کی عورتوں کو جو مسلمانوں کے نکاح میں تھیں کفار کہا گیا ہے۔

یاایھا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المؤمنات مہاجراتٍ فا متحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مؤمناتٍ فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن واٰتوھم ما انفقوا ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن و لاتمسکوا بعصم الکوافر واسالوا ماانفقتم ولیسالوا ما انفقوا ذٰلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم O

جب صلح حدیبیہ کے معاہدے میں یہ طے ہوا کہ جو لوگ بھی مکہ سے بھاگ کر آئیں گے تو ان کو واپس کیا جائے گا اور جو مسلمان مدینہ سے مکہ بھاگے گا تو اسکو واپس نہیں کیا جائے گا۔ تو پھر جب عورتیں آئیں تو نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں کے حوالے سے یہ معاہدہ نہیں ہے۔

اس آیت کے اہم نکات:

1:عورتوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی مخالفت۔
لیکن وہ بھی مسلمان ہیں جو عورتوں پر مظالم کو ختم کرنے کیلئے قومی روایات رکھتے ہیں؟۔ ان کو اس سے ختم کرنا چاہیے۔

2:اس آیت میں غیرت کے حوالہ سے بڑا اہم نکتہ ہے۔ یہ بہت بڑے اشتعال کا ذریعہ تھا کہ کافروں کی عورتیں بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آگئی تھیں تو ان کو واپس نہ کرنے کا حکم تھا مگر پھر اللہ نے حکم دیا کہ مسلمان کافر ات بیویوں سے چمٹ کر نہیں رہ جائیں بلکہ ان کو بھی واپس ہی کردیں۔ کافروں کی بھی غیرت کا لحاظ رکھا گیا اور کفارعورتوں کو لوٹانے کا حکم دے دیا۔

3:جاہلیت میں عورت کے حق مہر کے اسلامی تصورات سے معاشرہ محروم تھا اسلئے اس آیت میں سابقہ جاہلیت کا قانون ہی برقرار رکھا گیا تھا۔ جس میں مسلمان اپنے حق مہر اور کفار اپنے حق مہر کو مانگنے کے مجاز تھے اور یہ خاص حکم جاری کردیا گیا۔

جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے سمجھا کہ کفار کو مسلمانوں کی طرف سے عورتیں لوٹائی گئیں اور ان کی بہن کو بھی لوٹانا چاہیے تھا اور ان کی بہن اس مشرک شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ مشرک اس کیلئے حلال ہے۔ اسلئے قتل کرنا چاہا مگر نبی ۖ نے ام ہانی کے مطالبے پر امان دیدی۔ جس کا مطلب وہ مشرک شوہر کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ سکتی تھی۔ اگر مشرک عورت بھی رہنے کی بات کرتی تو اس کو بیوی کی حیثیت سے رہنے میں مسئلہ نہیں تھا۔ قرآن و سنت اعلیٰ ترین انسانی فطرتوں کا نمونہ ہیں لیکن نالائق لوگوں نے اس کو اپنے کاروبار کیلئے بہت بڑا ذریعہ بنالیا ہے۔

جس طرح اللہ نے رسول اللہ ۖ کے ذریعے سے ہی سورہ مجادلہ کا معاملہ حل کرادیا ،اس طرح سے قرآن کی بنیاد پرجو غلط فہمی بن سکتی تھی تو حضرت علی کے ذریعہ امت کی رہنمائی ہوئی جن کو رسول اللہ ۖ کے بعد امت کا پہلا مولانا بننا تھا۔ جب سب سے اچھے قاضی حضرت علی تھے تو مفتی بھی بڑے تھے اور مولانا صاحبان نے بعد کے ادوار میں اسلام کو تباہ کرنا تھااسلئے سورہ مجادلہ میں رسول اللہ ۖ اور سورہ ممتحنہ میں حضرت علی کے فعل کو امت مسلمہ کیلئے نمونہ بنادیا ۔ جب ان سے یہ معاملہ ہوا تو پھر کون مفتی ، کون عالم ، کون قاضی اور کون مولانا ہے؟۔

جاہلیت میں حرام کے لفظ سے بھی عورت ہمیشہ کیلئے حرام ہی سمجھی جاتی تھی۔ یہ معاملہ بھی رسول اللہ ۖ کی سیرت اور سورہ تحریم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بہت واضح طور پر حل کروادیا مگر اس پر بھی افسوس کیساتھ یزیدی ادوار کے بعد ابہام پیدا کیا گیا یزید بن معاویہ اوریزید بن عبدالملک جو عمر بن عبدالعزیز کے بعد بے غیرت کی اولاد نے امت مسلمہ کا بیڑہ غرق کردیا۔

صحابہ کرام کا ہمیں احترام ہے خوارج کے سردار ذوالخویصرہ اور حضرت علی کے قاتل ابن ملجم کے فوتے بھی صحابی کے نام پر کوئی چاٹے تو ہم اس کا شوق پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے لیکن قرآن وسنت اور اسلام کا بگاڑ قبول نہیں ہے۔

سعودی عرب سے شائع ہونے والی کتاب میں درج ہے:

المسئلة الرابعة: قال الرجل لزوجتہ : انت علی حرام فللعلماء فی ذٰلک عدة آراء لکن سنقتصر علی ذکر الخفاء الاربعة ومن تابھم من الفقاء و ھی:

چوتھا مسئلہ:آدمی نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے۔ پس علماء کی اس میں متعدد آراء ہیں لیکن ہم مختصر کریں گے چار خلفائ تک اور ان کے ماننے والوں تک اور وہ یہ ہیں:

پہلی رائے:یہ یمین ہے اور اس پر کفارہ واجب ہے۔ یہ امام اوزاعی ،ا بوحنیفہاور ان کے اصحاب کی رائے ہے بشرط یہ کہ اس سے طلاق کا ارادہ نہ کیا جائے اور بیوی سے قسم کھائی ہو۔

دلائل:سورہ التحریم کی آیات۔ ابن عباس کا قول کہ تمہارے لئے نبیۖ کی سیرت میں اسوہ حسنہ ہے۔ ابوبکر ، عمر اور ابن مسعود نے اسی پر فیصلہ کیا۔ بدایة المجتھد،اعلام الموقعین۔

دوسری رائے:یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ یہ زہری اور سلمان بن حماد کی رائے ہے۔ تیسری رائے: یہ سعید بن جبیر،محمود بن مہران، البتی کی رائے ہے۔ چوتھی رائے: تین طلاقیں ہیں۔ یہ حسن بصری ، ابن ابی لیلیٰ ،امام مالک اور زیدیہ کی رائے ہے۔

شوکانی نے کہا:حاصل یہ ہے کہ طلاق ہوتی ہے ہر اس لفظ کیساتھ جو اس پر دلالت کرے مستقل طور پراگر اس سے طلاق کا ارادہ کیا جائے، پس الفاظ کی تعداد میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مندرجہ بالا تین طلاق پر استدلال کیا تین امور سے۔

1:علی، زید بن ثابت اور ابوہریرہ نے اس پر فیصلہ دیا تھا۔
2:امام مالک نے استدلال کیا حضرت علی کے فعل سے ۔

اجتہاد الخلفاء الاربعة : محمود داؤد العبیری

اسی کتاب کے مسئلہ3کے نمبر5میں حرام کا مسئلہ بیان کیا اور پھر مسئلہ4بھی یہ بنادیا اور انواع واقسام کے تضادات بھی ڈال دئیے لیکن اگر غور کیا جائے تو صحابہ کرام کے فیصلے اور فعل سے تین طلاق کا استدلال لیا گیا ہے اور فیصلہ تنازع میں ہوتا ہے اور تنازع کی صورت طلاق صریح، کنایہ وغیرہ تو چھوڑ دیں جب ایلاء میں نبیۖ نے طلاق بھی نہیںدی تھی تو پھر بھی اللہ نے ازواج مطہرات کے پاس ایک ماہ کے اندر جانے پر بھی حکم دیا کہ ان کو طلاق کا اختیار دیں تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ طلاق سے رجوع کیلئے علت عورت کی رضامندی ہے اور جب عورت راضی ہوتو پھر الفاظ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور میاں بیوی کا معروف طریقے سے راضی ہونا شرط ہے ایک دفعہ شوہر نے قدم اٹھایا تو پھر عورت کو اختیار منتقل ہوجاتا ہے۔ تنازع کی صورت میں حضرت عمر اور حضرت علی کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ واسرائیل کی ایران و لبنان جس طرح جنگ بندی کرائی ہے اور صلح کی کوشش میں مگن ہیں ۔ اگر وہ پہلے پاکستان اور پھر عالم اسلام کی سطح پر طلاق اور رجوع اور صلح کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کرلیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم سب پر اپنے فضل وکرم کے عظیم دروازے کھول دے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv