پوسٹ تلاش کریں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًاغیرہ؟

ترجمہ :” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔

سورہ بقرہ کی آیت230میں اُمت مسلمہ کے اندر انواع و اقسام کے اختلافات موجود ہیں۔ علت سبب کو کہتے ہیں جبکہ معلول اس سبب سے نکلنے والے نتیجے کو کہتے ہیں۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ امت مسلمہ نے اس آیت کی علت اور معلول پر بہت اختلافات کئے ہیں۔ علامہ تمنا عمادیایک حنفی عالم تھے اور ان کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے ہم عصروں میں ان کا مقام تولہ اور باقی مشہور علماء انکے مقابلہ میں ماشا تھے اور انہوں نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھی ہے ۔ جس کا دعویٰ تھا کہ قرآن میں طلاق صرف دو ہیں۔ایرانیوں نے ایک سازش کرکے احادیث میں تین طلاق کا تصور ڈال دیا ہے اور قرآن میں تیسری طلاق نہیں ہے۔ قرآن میں عورت کی طرف سے طلاق مانگی جائے تو یہ خلع ہے اور اس کے بعد شوہر طلاق دے تو اس کیلئے حلال نہیں ہے۔ اصول فقہ میں یہی حنفی مؤقف لکھا ہوا ہے کہ آیت230کا تعلق فدیہ سے ہے۔

حنفی اصول فقہ کی تعلیمات کے مطابق قرآن کے مقابلے میں احادیث کا انکار بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب قرآن سے اس کی ٹکر ہو اور علامہ تمنا عمادینے حنفی اصول فقہ کو قرآن سے جوڑ کر اس کے مقابل احادیث کو ایرانی ساز ش قرار دیا ہے تو اس کے بعد سنی مکتبہ فکر کی صحاح ستہ کے خلاف لکھا جانے لگا اور غلام احمد پرویز جیسے لوگوں نے اپنے فن سے اس کو چمکادیا۔

علامہ تمنا عمادی نے کہا کہ جرم مرد کا ہو اور سزا عورت کو ملے تو یہ کہاں کا انصاف ہے لیکن اس کے پیچھے عربی، حنفی مسلک اور درس نظامی کی تعلیمات کا بہت بڑا ذخیرہ اور صلاحیت بھی تھی۔

کسی عالم کو جرأت نہیں ہوئی کہ علامہ تمنا عمادی کی کتاب کا جواب دیتا لیکن ان کی کتاب کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔اس کی وجہ بڑے بڑے مدارس اور مشہور علماء ومفتیان سے ٹکرانے کے علاوہ احادیث کی کتابوں کو ایرانی ساز ش قرار دینا بھی تھا۔ علماء نے اس بات کا عوامی جواب دیا کہ جرم مرد کرے اور اس کی سزا عورت کو ملے تو کیسے ہوسکتا ہے؟۔ تو کسی نے کہا کہ شوہر کی بیوی جب چدھ جاتی ہے تو یہ شوہر کیلئے بھی بڑی سزا ہے اور کسی نے کہا کہ ریح خارج ہوجائے تو فائرنگ کہاں سے ہوتی ہے اور سزا وضو میں کن اعضاء کو ملتی ہے۔ استنجا نہیں کرنا پڑتا ہے اور منہ ، ہاتھ ،پیر دھونے اور سر کا مسح کرنا پڑتا ہے۔

علامہ شاہ تراب الحق قادری اور دعوت اسلامی کے مفتی اس بات کی تشہیر کرتے رہے کہ ”روزہ میں لیٹرین کے بعدپھول نما آنت نکلتی ہے جس کو دھونا بھی ضروری ہے اور دھونے کے بعد اس کو کپڑے سے سکھانا بھی ضروری ہے اگر سکھائے بغیر آنت اندر چلی گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ اسکے ایک مرید سلیم طاہر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ بکواس ہے۔ ضرب حق کی خبر بنادی اور اس کی تردید بھی کردی۔ کچھ بریلوی علماء نے بھی میرے مؤقف کی کھل کر حمایت کردی ۔ شاہ تراب الحق قادری نے خاموشی اختیار کرلی۔ پھر جب ہمارا اخبار بند ہوگیا تو علامہ تراب الحق قادری نے کہا کہ میں نے ایک مسئلہ بیان کیا تھا جو ایک گوبر شاہی طرز کے آدمی نے اچھالا۔ اسکے مرید سلیم طاہر کو یہ فکر پڑی تھی کہ مقعد کو کپڑے سے سکھانے کے بعد اگر پھرکپڑا اس فلش میں ڈالا جائے تو فلش بند ہوگا اور جیب میں رکھا جائے تو جیب خراب ہوگی۔ پھر اس کے دماغ میں مسئلے کا یہ حل سوجھا کہ ”اس کپڑے سے سکھانے کے بعد اس جگہ رکھ دیا جائے”۔ اور جب علامہ تراب الحق قادری سے کہا کہ میری زندگی کے کتنے روزے خراب ہوں گے ؟۔ اور اسی جگہ کپڑا رکھنے کی بھی تجویز پیش کردی تو علامہ صاحب نے بھگادیا کہ میرا کام مسئلہ بتانا تھا اور معاملات یہاں میرے پاس ڈسکس مت کرو۔

سلیم طاہر نے غازی عبدالقدس بلوچ سے علاج کے مسئلے پر ایک تھپڑ بھی کھایااور شاید پھر غائب ہوگیا۔ پھر دعوت اسلامی کے مفتیوں نے بعد میں مسئلہ اٹھایا اور مردوں اور عورتوں کو تلقین کی کہ استنجاء کرتے وقت سانس لینے میں بھی احتیاط کریں ورنہ تو پانی اندر گھس سکتا ہے جو معدہ میں پہنچ کر روزہ توڑ دے گا۔

مجھے معلوم تھا کہ مسئلہ کچھ ہوتا ہے اور غلو کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے اسلئے لکھا کہ ”پچکاری سے قبض کو توڑا جاتا توسوال پیدا ہوا کہ پانی معدہ تک تو نہیں پہنچ جائے گا؟۔ اسلئے دو فقہی مسلک بن گئے۔ ایک نے کہا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا تو دوسرے نے کہا کہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور پھر غلو اس حدتک پہنچ گیا کہ آنت دھونے سکھانے اور سانس لینے تک بات پہنچ گئی”۔

کانیگرم شہر میں گھروں کیلئے پانی گدھوں کے ذریعے لاد کر لایا جاتا تھا یا صبح سویرے اور مغرب کے بعد عورتیں لاتی تھیں۔ اور ندی سے اوپر تک پانی سے لدا ہوا گدھا راستے میں لید کرتا تھا۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے جس پھول نما آنت کی بات بتائی تھی تو گدھوں کی نکلتی ہوئی ہم نے دیکھی تھی اور اس کو فطری طور پر باہر نکلنے کے بعد اندر خود بخود جانا ہوتا ہے۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری کے پاس ہوسکتا ہے کہ اس کو روکنے کی مشق بھی ہو لیکن میرا دعویٰ ہے کہ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے! اور یہ ممکن نہیں لگتا ہے۔ سلیم طاہر کو بھی میں نے یہی سمجھایا تھا مگر وہ اس کے پیچھے پڑا رہا کہ کپڑے کو فلش میں ڈالنے سے فلش بند ہوگا اور جیب میں ڈالنا بھی ٹھیک نہیں ہے لہٰذا وہی پر رکھ دو۔

بریلوی مکتب کے بہت بڑے عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد کے اندر علت بنایا حرف ”ف” کو جو تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے اور لکھ دیا کہ ” اگر اس آیت میں ”ف” نہیں ہوتی تو پھر قرآن اور احادیث کے تقاضوں سے بالکل واضح ثابت ہوتا کہ تین مرتبہ الگ الگ طلاق دینے سے ہی حلالہ کی لعنت فرض ہوجائیگی مگر ”ف” کی وجہ سے اگر اکٹھی تین طلاق دی گئی تو پھر حلالہ کرنا لازم ہوجائے گا۔ اصول فقہ میں دو متضاد مؤقف ہیں اور اس تضاد کی وجہ سے علامہ غلام رسول سعیدی نے بہت یہ بڑا مغالطہ کھایا تھا۔ ایک حرف ”ف” پر الگ بحث ہے جس میںیہ بحث بالکل بکواس ہے کہ ف کے حرف کی وجہ سے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف و غیرہ میں اختلافات ہیں کہ کس صورت میں پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری نہیں ہوگی؟۔ جس طرح طلاق کوئی تین روٹی کی طرح جامد چیزہے کہ پہلی کھائی، دوسری چھوڑ دی اور پھر تیسری کھائی؟۔ جب فقہ کی حد تک بات یہاں تک پہنچ جائے کہ ” پہلی طلاق واقع ہوئی۔ دوسری طلاق جیب میں پڑی رہے گی اور تیسری طلاق بھی واقع ہوگی ۔ یا پھر پہلی طلاق بھی جیب میں پڑی رہے، دوسری طلاق بھی جیب کے اندر پڑی رہے لیکن تیسری طلاق واقع ہوجائے تو پھر”؟۔

پھر یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اس کے نزدیک حلالہ کیلئے تیسری طلاق ہی علت ہے اور جب تیسری طلاق علت ہو تو پھر یہ بحث بھی بالکل فضول بن جاتی ہے کہ اکٹھی تین طلاق یا الگ الگ تین طلاق سے حلالہ کے نتیجے پر پہنچنے کی بات کی جائے؟۔

پھر شافعی اور حنفی مسلک میں یہ بحث ہے کہ تیسری طلاق کا تعلق آیت229البقرہ کے الطلاق مرتان سے ہے یا اس کے بعد فدیہ کی صورت سے ہے؟۔ نورالانوار میں جہاں حرف ف پر بحث میں پہلی، دوسری اور تیسری طلاق کو ایک جامد شکل میں الگ الگ کردیا گیا ہے وہاں تو معاملہ بالکل جدا ہے لیکن جہاں پر شافعی حنفی کا مقابلہ ہے تو شافعی کے مقابلے میں حنفی مسلک یہ ہے کہ ف عربی میں تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے۔تو تیسری طلاق کو اس کے ساتھ متصل آیت229میں فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہوا کہ شافعی مسلک کا تقاضہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد ہی اس حلالہ والی طلاق کی تیسری مرتبہ ہے۔ اور حنفی کے نزدیک اس کا دو مرتبہ طلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی علت فدیہ کی صورت سے خاص ہے۔ پڑھانے والے اساتذہ کرام20سے40اور60سال تک پڑھاتے ہیں لیکن ان کا دماغ اس الجھن کا شکار رہتا ہے کہ معاملے کا مقصد کیا ہے اور بس عبارت کا مفہوم سمجھنا بھی بڑا کمال سمجھا جاتا ہے اور طلبہ کو بھی یہی سمجھادیتے ہیں۔

اگر تفاسیر کی طرف دیکھ لیں تو علامہ جاراللہ زمحشری کو معتزلہ لیکن حنفی مسلک کا حامل سمجھاجاتا ہے۔ تفسیر میں امام کا درجہ ان کو حاصل ہے اور14سالوں تک بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میںاپنی تفسیر ”الکشاف ” لکھی ہے۔ انہوں نے اپنی یہ تجویز رکھی ہے کہ ”دو الگ الگ مرتبہ کے بعد پھر تیسری مرتبہ طلاق دی جائے تو حلالہ کی سزا کا نفاذ ہونا چاہیے مگر اس پر کوئی فیصلہ بھی نہیں دیا ہے جس کی وجہ میں بتادیتا ہوں کہ کیا ہے؟۔

لبنان کے مشہور دانشور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے عربی قوم کے مشہور لکھاری خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ” ایک ملحد اور ایک عالم دین میں مناظرہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں عالم دین ملحد بن گیا اور ملحد نے مذہب کو قبول کرلیا”۔ حنفی اور شافعی اس پر لڑتے ہیں کہ شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہیں اور حنفی کے نزدیک بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں۔

آیت230البقرہ میں تیسری طلاق کو آیت229البقرہ کے اندر الطلاق مرتان دو مرتبہ طلاق سے جوڑ کر شافعی مسلک کی خلاف ورزی کرتے ہیں اسلئے کہ پھر تو الگ الگ تین مرتبہ کی طلاق قرآن کا تقاضہ ہوگی جو شافعی مسلک کیلئے قابل قبول اسلئے نہیں کہ علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس حرف ”ف” کی بنیاد پر شافعی مسلک کی تائید کردی ہے۔ جبکہ دوسری طرف حنفی مسلک والے ف تعقیب بلامہلت کے ذریعے ”ف” سے جوڑ کر الگ الگ کی جگہ فدیہ سے اتصال کو تقویت بخشتے ہیں۔

یہ معاملہ اس قدر الجھاؤ کا شکار کردیا گیا کہ جب امام ابوبکر جصاص رازی حنفی اپنی کتاب ”احکام القرآن ”میں طلاق سنت پر بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ” الطلاق مرتان فعل ہے، کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ جیسے دو روپیہ۔ دو روپیہ کو دو مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے ہیں البتہ دو مرتبہ کھانا کھایا یا ملاقات کی وغیرہ فعل ہے اور فعل کیلئے وقفہ اور الگ الگ ہونا ضروری ہے ”۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر3طلاق کہہ دیا تو اس پر تین مرتبہ طلاق کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔ پھر تو قرآن اور تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ حل ہوا؟۔

لیکن یہی امام ابوبکر جصاص رازی جب حنفی مسلک پیش کرتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں تو سرکے بل الوکا پٹھا لٹک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ” جس طرح ایک طہر میں تین مرتبہ الگ الگ طلاقیں دیں جائیں تو واقع ہوجاتی ہیں اسی طرح سے اگر ایک مجلس میں تین طلاق دی جائے تب بھی واقع ہوگی اور یہ ایک باریک قسم کی بات ہے جس کو ہرکوئی نہیں سمجھتا ”۔

فقہاء اور محدثین میں یہ الجھاؤ بہت قدیم اور پرانا مسئلہ ہے اور امام حسن بصری جس کی پیدائش21ہجری اور وفات101ہجری میں ہوئی جو حضرت علی کے خاص شاگرد تھے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری سے روایت ہے کہ ” بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کے لفظ سے تیسری طلاق واقع ہوگی اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے پھر بیوی حلال ہوجائے اس کیلئے حلالہ کی لعنت سے گزرے بغیر پھر چارہ کار نہیں ہے”۔ حسن بصری کی اس بات کو قرآن کی سورہ تحریم کے آئینہ میں دیکھا جائے تو انتہائی غلط ہے۔بخاری نے ایک روایت چھوڑ کر عبداللہ بن عباس کے قول کو نقل کیا ہے کہ حرام کے لفظ سے طلاق ، کفارہ یا حلف کچھ بھی واقع نہیں ہوتا ہے اور یہی سیرت رسول ۖ کے تقاضہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن سورہ تحریم کا حوالہ نہیں دیا۔

امام ابوبکر جصاص رازی بہت بڑے آدمی تھے لیکن مسلک پرستی سے انسان ہیرو سے زیرو بن جاتا ہے۔ سنت کیلئے طلاق کو فعل قرار دیا اور بہت زبردست دلیل دی لیکن یہ مسلک پرستی کا تقاضہ تھا اور جب مسلک کا معاملہ آیاتو پھر یہ بھی نہیں دیکھا کہ طلاق کا فعل کس طرح3کے عدد میں بدل گیا؟۔ امام ابوبکر جصاص رازی کی پیدائش918ء ، وفات981ء میں ہوئی۔

پھر ایک اور توپ چیز علامہ ابن تیمیہ پیدائش1263ء اور وفات1328ء میں آگئی۔ علامہ ابن تیمیہ نے مسلک کو فرقہ اور شرک قرار دیکر سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔ تصوف اور اولیاء کی سخت مخالفت کیلئے زبردست اور بہت بڑی جدوجہد کے بڑے امام بن گئے۔ طلاق کے مسئلے کا حل یہ نکال دیا کہ نماز کے بعد تسبیحات میں33مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے وظیفہ پورا نہیں ہوگا جب تک کہ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ……33مرتبہ نہیں پڑھا جائے۔ اس طرح3طلاق سے3مرتبہ طلاق نہیں ہوسکتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ کی اس بات کو سعودی عرب ، عرب امارات اور بہت سے عربوں نے قبول کرلیا اور اس کو اپنا کلکلی اوتار سمجھ لیا کہ یہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا نجات دہندہ ہے۔

علامہ ابن تیمیہایک بہادر انسان بھی تھے لیکن عقل کا تعلق بہادری نہیں نور ہدایت سے ہے ۔ عربوں نے امام ابن تیمیہ کی یہ بات اپنے پلے باندھ لی لیکن میں نے ایک عربی سے سوال کیا کہ اگر تسبیح کی طرح کوئی کہے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق تو پھر کیا ہوگا؟۔ تو اس نے کہا کہ طلاق تو تسبیح نہیں ہے کہ واقع ہوجائے ، تسبیح الگ چیز ہے اور طلاق الگ چیز ہے۔

عرب اہل زبان ہونے کے باوجود بھی عقلی صلاحیت گدھے کی طرح رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے شاید محسوس کیا کہ بہت الجھا ہوا معاملہ ہے اور اس سے اہل تشیع کو تقویت مل رہی ہے اسلئے حنفی علماء کو بلاکر سرکاری طور پر تین طلاق کو رائج کردیا اور اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ سعودی والے امام احمد بن حنبل کے مسلک پر ہیں۔ ابن تیمیہ اور حنبلی مسلک کو ایک ساتھ کرنا ایسا ہے کہ جیسے چھپکلی اور مچھلی کو اکٹھا کرنے کی بات کی جائے۔

سعودی عرب سے ایک کتاب ”اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعہ: تالیف: محمود داؤد العبیری” شائع ہوئی ہے جس کے مفصل حوالہ جات میں نے اپنی کتاب ”ابررحمت ” میں دئیے ہیں ،یہاں مختصر خلاصہ پیش کرتاہوں۔

”المسئلة الثالثة : الطلاق بالفاظ الکنایة من المعلوم

تیسرا مسئلہ : کنایہ کے الفاظ سے طلاق: یہ بات معلوم ہے کہ طلاق واقع ہونے کا تعلق الفاظ صریح سے ہوگا یا کنایہ سے!

جمہور علماء کے نزدیک الفاظ صریح سے طلاق واقع ہونے کیلئے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ دلیل اس کی رسول اللہۖ کی حدیث ہے کہ تین چیز یں سنجیدگی اور مذاق میں واقع ہوتی ہیں۔ نکاح طلاق اور رجوع۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)کنایہ طلاق کے مندرجہ ذیل الفاظ میں خلفا ء راشدین میں اختلاف ہے۔

1:انت الخروج: حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق ہے اور حضرت علی کے نزدیک اس لفظ سے تین طلاق واقع ہوتی ہے۔
2:طلاق الحرج: حضرت عمر ایک، حضرت علی تین طلاق ۔
3:طلاق الخلیة : حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین۔
4:البریة: اس میں بھی دونوں میں ایک اور طلاق طلاق۔
5:انت علی حرام: جس نے بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو حضرت ابوبکر صدیق نے کہا کہ یہ قسم ہے اس کا کفارہ دے گا اور یہی بات امام ابوحنیفہ کی ہے اگر اس سے طلاق اور ظہار کی نیت کی نہیں کی جائے اور وہ اپنی بیوی سے قسم کھانے والا ہو۔ حضرت عائشہ، اوزاعی ، ابن عباس کا بھی یہ قول ہے۔حضر ت عمر کا بھی یہی قول ہے اور حضرت عمر سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ اور یہی الزہری، عبدالعزیز بن ابی سلمیٰ اور الماحثون کی رائے ہے۔ اور ابن قیم نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ یہ ایک طلاق ہے۔ حضرت عثمان نے اس کو ظہار قرار دیا اور امام احمد بن حنبل کی یہی رائے ہے۔ علی بن ابی طالب اور زید بن ثابت دونوں کے نزدیک یہ تین طلاق ہیںاور امام مالک کی بھی یہی رائے ہے۔

اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعة: تالیف:محمود داؤد العبیری صفحہ 143تا146

تیسرا مسئلہ بہت تفصیلات کیساتھ بیان کیا گیا ہے یہاں پر ایک مختصر خلاصہ پیش کردیا ہے۔اگر فٹ بال کے میچ میں ایک گول پر اختلاف ہو جائے اور ایک کے ہاں ایک اور دوسرے کے نزدیک تین گول ہوں تو فطری طور پر کوئی مانے گا؟۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ شریعت میں اتنا بڑا اختلاف ہو؟ َ۔

بریلوی مکتب فکر کے مشہور مناظر عالم علامہ اشرف جلالی نے کہا کہ ایک حدیث میری نظر سے ابھی گزری ہے کاش مجھے اس کا پتہ 25سال پہلے چل جاتا توآج معاملہ بالکل مختلف ہوتا۔ حدیث ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی ۔پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حکم ہے”۔ نماز، روزہ اور حج وغیرہ کا نہیں فرمایا ۔ حکومت کا فرمایا۔

خلافت راشدہ، امارت ، بادشاہت اور جبری حکومتوںکے ادوار میں آج بھی حکومتیں تو قائم ہیں؟۔ حکم سے پھر کیا مراد ہے اور کس طرح کے حکم کیلئے نبیۖ نے یہ پیش گوئی فرمائی ؟۔

وان خفتم شقاق بینھما بابعثوا حکمًا من اہلہ و حکمًا من اہلھا ان یریدا اصلاحًا یوفق اللہ بیھما ان اللہ کان علیمًا خبیرًاO (سورہ النساء:آیت:35)

” اور اگر ان دونوں کے درمیان جدائی کا خطرہ پیدا ہو تو ایک حکم شوہر کے خاندان اور ایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو۔اگر وہ دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کرے گا۔بیشک اللہ علم خبر رکھنے والا ہے”۔

قرآن میں حکم کا معنی واضح ہے۔ حضرت عمر کے دور میں یہ پہلا واقعہ ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس کی بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر کے دور میں یہ مسئلہ آنے سے پہلے اپنے ہاں دو حکم قرآن کے مطابق بلالیتے تو اسلام کی یہ پہلی کڑی نہیں ٹوٹتی۔ حضرت عمر نے تین طلاق کا جو فیصلہ کیا وہ قرآن کے بھی مطابق تھا اور دنیا کی ہر عدالت نے یہ فیصلہ انسانی فطرت کے مطابق عورت کے حق میں کرنا ہے۔

سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق بھی ہے اور اس کو شوہر کی طرف دئیے ہوئے منقولہ اشیاء سے بھی محروم نہیں کیا جاسکتا ہے اور طلاق میں سورہ النساء آیت20میں منقولہ و غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے محروم نہیں کرسکتے۔ خلع کے مقابلہ میں طلاق کے حقوق زیادہ ہیں اسلئے طلاق کے بعد عورت اگر راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ نہیں تو قرآن کی آیات و احادیث بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ تین چیزوں میں مذاق معتبر ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع ۔ نکاح میں ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہر فرض ہے اور مہر کا تعلق غریب و امیر پر وسعت کے مطابق ہے۔ طلاق اور رجوع میں بھی عورت کے حقوق ہیں۔فقہاء نے اسلام کو بہت مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے بھتیجے نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر مریدنی سے شادی کی۔ اس سے بچے پالنے کا کام لینے کے بعد جب گھر گئی تو پیچھے سے پیغام بھیج دیا تھا کہ تمہیں طلاق دیدی ہے۔اس عورت پر کیا گزری؟۔ اور کس حال میں تھی؟۔ مفتی تقی عثمانی نے قرآن کی آیات کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے کہ طلاق میں حق مہر کی بات ہے اور باقی دی گئی اشیاء واپس لے سکتے ہیں اور فتاویٰ عثمانی میں بھی لکھ دیا کہ ”ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ بیوی کو چیزیں تحفہ میں دی جاتی ہیں اور وہ شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں جو طلاق کے بعد واپس لی جاتی ہیں”۔ اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ حق مہر کو اعزایہ تحفہ قرار دیا ہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم ہوتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت اسلام اور قرآن میں تحریف اور بددیانتی پر نکالتے۔ اب تو اس نے اپنی بدنمائی دور کرنے کیلئے خود ہی اکھاڑ دئیے ہیں۔ ترجمہ قرآن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”قریب ہے کہ آسمان فرشتوں کی بڑی تعداد میں عبادت کی وجہ سے پھٹ جائے”۔ حالانکہ سورہ شوریٰ میں وضاحت ہے کہ دین میں تحریف کی وجہ سے فرشتوں کو بہت غصہ آتا ہے لیکن اللہ مقرر ہ وقت سے پہلے ان کو عذاب کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ آج کے دور میں اکابرین کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی کوئی انتہا نہیں رہی ۔شیخ الحدیث نذیر احمد جامعہ امداد العلوم فیصل آباد کا بھی شیخ الحدیت مولانا مفتی عزیز الرحمن کا صابرشاہ جیسا معاملہ تھامگر ویڈیو نہ تھی اسلئے سامنے نہیں آیا۔

وللطلقات متاع بالمعروف حقًا علی المتقین ”

اور طلاق شدہ عورتوں کیلئے خرچہ ہے معروف کیساتھ متقیوں پر لازم ہے”(البقرہ241)قرآن کی آیات میں طلاق کے بعد مختلف جگہوں پر عورتوں کے حقوق واضح ہیں لیکن جس نے سینہ زوری کرنی ہو تو مفتی تقی عثمانی کی طرح وقف زمین میں اپنا گھر بھی خرید لیتا ہے اور اسکے خلاف فتویٰ دینے پراپنے استاذ مفتی رشید احمد لدھیانوی کی تاریخی پٹائی بھی لگادیتا ہے۔ جبکہ عورت طلاق کے بعد بہت کمزور بن جاتی ہے اور بنوں میں تو ایک مولوی نے زبردستی حلالہ بھی کیا تھا جو پولیس نے پکڑا تھا۔

سورہ البقرہ آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعدعورت کا حق مراد ہے جس سے خلع مراد لینا انتہائی حماقت ہے لیکن یہ حماقت سکہ رائج الوقت بن گیا اور علامہ تمنا عمادی نے بھی اس کی وجہ سے الطلاق مرتان کتاب میں اپنی حماقت کا اظہار کیا۔ اگر عورت کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تو حماقتوں میں مبتلاء امت مسلمہ قرآن کی روح کو بوٹی بوٹی کرنے کا جرم نہیں کرتی۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے بخاری کی شرح ”کشف الباری” اور ” نعم الباری” میں لکھا کہ عدی بن حاتم کے جواب میں رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” البقرہ کی آیت229میں الطلاق مرتان کے بعد تیسری مرتبہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔لیکن اس تیسری طلاق کے بعد تو حلالہ کا کوئی حکم نہیں ہے۔ پھر عورتوں کے حقوق کا معاملہ ہے اور اس میں استثناء کی صورت کا ذکر ہے جس میں حکموں (فیصلہ کرنیوالوں) کی بھی وضاحت ہے۔

وان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افدت بہ

” اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے”۔

اس سے خلع مراد نہیں ہے ۔ حنفی مسلک کے اصول فقہ میں آیت230البقرہ کی طلاق کو اس فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے اور اس میں حکم کے فیصلے کے بعد اس فدیہ کا ذکر ہے جو عورت کی عزت کے تحفظ کیلئے کیا جائے اور عورت فیصلہ کرلے کہ اس نے دوبارہ واپس نہیں آنا ہے۔ اس صورت میں حلالہ کی لعنت مراد ہوہی نہیں سکتی ہے بلکہ عورت کی آزادی مراد ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد واضح الفاظ میں معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط پر رجوع کی گنجائش بالکل واضح کی گئی ہے۔

مسئلہ قرآن کی فصاحت وبلاغت اور معاملہ واضح کرنے کا نہیں بلکہ ایک غلط ماحول سے پیدا ہونے والے نتائج کا ہے۔ ہمارا ایک دوست لطیفے سناتا ہے سلیم سوریا کراچی کا میمن ہے۔ ایک شخص حالات سے تنگ آیا اور پہاڑی پڑ چڑھ کر خودکشی کے ارادے سے چھلانگ لگانا چاہا لیکن نیچے ایک آدمی کو دیکھا جو بہت خوش خوش گھومتے ہوئے نظر آرہاتھا۔ اس نے سوچا کہ خود کشی سے پہلے اس کی خوشی کا راز پوچھ لیتا ہوں۔ جب قریب جاکر پوچھا کہ کس بات کی وجہ سے اتنے خوش ہو؟۔ اس نے کہا کہ خوشی کس بات کی؟۔ میرے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اور گانڈ میں خارش ہورہی ہے ، کھجا نہیں سکتا ہوں اسلئے مصیبت کو جھیل رہا ہوں۔ قرآن نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔ میں نے بھی بہت اچھی طرح سے وضاحتیں کردی ہیں لیکن جب کسی کی غیرت مرجاتی ہے تو اس کو حلالہ کیلئے خارش ہوتی ہے۔ اس کی بیوی بھی لذت کے درپے ہوتی ہے اور شوہر نامرد بھی ایک طرح کا سہولت کار بن جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی ایسے ہی بے غیرت تھے ، اسلام نے غیرتوں کو جگایا اور فطرتوں کو سمجھایا ۔

عورتوں کیلئے فتاویٰ مفتی کیلئے نہیں چھوڑا بلکہ اللہ نے فرمایا:

ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن

”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ انکے بارے میں خود ہی فتاویٰ دیتا ہے”۔ (البقرہ:127)

علماء ومفتیان کے مقابلے میں جاویداحمد غامدی ڈیڑھ ضمیر سے عاری ہے۔ بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان نے خود کو اندر ہی اندر سے بالکل بدل دیا ہے اور اگر ان پر دباؤ نہیں ہوتا تو تبدیلی کا اعلان بھی کردیتے۔ ہمارے دلائل کا بھی کوئی ردنہیں کیا بلکہ دعوت اسلامی کے مرکزفیضان مدینہ کے مفتی نے بھی ہمارے فتوے پر اپنے عقیدت مند سے کہا کہ اس میں دلائل بالکل مضبوط ہیں اور تم اپنی بیوی سے بغیر حلالہ کے رجوع کرلو لیکن ہم لکھ کر نہیں دے سکتے یہ ہماری مجبوری ہے۔

دارالعلوم کراچی میں تین قسم کے علماء ومفتیان ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے ہمارے دلائل کی وجہ سے طلاق کے مسائل پر فتویٰ دینا چھوڑ دیا ہے ۔ دوسرے وہ ہیں جو ہمارے پاس فتویٰ کیلئے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور تیسرے قسم کے وہ ہیں کہ جب ہم نے کہا کہ مفتی عصمت اللہ کے دستخط سے فتویٰ لو تو مغالطہ دیا گیا اور کسی تخصص کے طالب علم عصمت اللہ کے نام سے اس کو فتویٰ دیا گیا۔ وقت آئے گا تو جرائم پیشہ طبقہ بے نقاب ہوگا اور اچھے لوگوں کو مدارس سونپ دئیے جائیں گے۔ انشاء اللہ

دور جاہلیت میں انواع واقسام کے طلاق تھے۔ سخت ترین طلاق کی صورت ظہار کی تھی جس کا حل سورہ مجادلہ میں اللہ نے پیش کیا اور پھر سورہ احزاب میں بتایا کہ کفاراور منافقین کی اس حوالے سے کیا حالت ہے؟۔ کفار اور غیر مسلم میں بہت فرق ہے۔ کفار منکر اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ غیر مسلم کسی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے یہود و نصاری کی خواتین سے بھی شادیاں کی تھیں لیکن مشرکین مکہ کی عورتوں کو جو مسلمانوں کے نکاح میں تھیں کفار کہا گیا ہے۔

یاایھا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المؤمنات مہاجراتٍ فا متحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مؤمناتٍ فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن واٰتوھم ما انفقوا ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن و لاتمسکوا بعصم الکوافر واسالوا ماانفقتم ولیسالوا ما انفقوا ذٰلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم O

جب صلح حدیبیہ کے معاہدے میں یہ طے ہوا کہ جو لوگ بھی مکہ سے بھاگ کر آئیں گے تو ان کو واپس کیا جائے گا اور جو مسلمان مدینہ سے مکہ بھاگے گا تو اسکو واپس نہیں کیا جائے گا۔ تو پھر جب عورتیں آئیں تو نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں کے حوالے سے یہ معاہدہ نہیں ہے۔

اس آیت کے اہم نکات:

1:عورتوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی مخالفت۔
لیکن وہ بھی مسلمان ہیں جو عورتوں پر مظالم کو ختم کرنے کیلئے قومی روایات رکھتے ہیں؟۔ ان کو اس سے ختم کرنا چاہیے۔

2:اس آیت میں غیرت کے حوالہ سے بڑا اہم نکتہ ہے۔ یہ بہت بڑے اشتعال کا ذریعہ تھا کہ کافروں کی عورتیں بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آگئی تھیں تو ان کو واپس نہ کرنے کا حکم تھا مگر پھر اللہ نے حکم دیا کہ مسلمان کافر ات بیویوں سے چمٹ کر نہیں رہ جائیں بلکہ ان کو بھی واپس ہی کردیں۔ کافروں کی بھی غیرت کا لحاظ رکھا گیا اور کفارعورتوں کو لوٹانے کا حکم دے دیا۔

3:جاہلیت میں عورت کے حق مہر کے اسلامی تصورات سے معاشرہ محروم تھا اسلئے اس آیت میں سابقہ جاہلیت کا قانون ہی برقرار رکھا گیا تھا۔ جس میں مسلمان اپنے حق مہر اور کفار اپنے حق مہر کو مانگنے کے مجاز تھے اور یہ خاص حکم جاری کردیا گیا۔

جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے سمجھا کہ کفار کو مسلمانوں کی طرف سے عورتیں لوٹائی گئیں اور ان کی بہن کو بھی لوٹانا چاہیے تھا اور ان کی بہن اس مشرک شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ مشرک اس کیلئے حلال ہے۔ اسلئے قتل کرنا چاہا مگر نبی ۖ نے ام ہانی کے مطالبے پر امان دیدی۔ جس کا مطلب وہ مشرک شوہر کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ سکتی تھی۔ اگر مشرک عورت بھی رہنے کی بات کرتی تو اس کو بیوی کی حیثیت سے رہنے میں مسئلہ نہیں تھا۔ قرآن و سنت اعلیٰ ترین انسانی فطرتوں کا نمونہ ہیں لیکن نالائق لوگوں نے اس کو اپنے کاروبار کیلئے بہت بڑا ذریعہ بنالیا ہے۔

جس طرح اللہ نے رسول اللہ ۖ کے ذریعے سے ہی سورہ مجادلہ کا معاملہ حل کرادیا ،اس طرح سے قرآن کی بنیاد پرجو غلط فہمی بن سکتی تھی تو حضرت علی کے ذریعہ امت کی رہنمائی ہوئی جن کو رسول اللہ ۖ کے بعد امت کا پہلا مولانا بننا تھا۔ جب سب سے اچھے قاضی حضرت علی تھے تو مفتی بھی بڑے تھے اور مولانا صاحبان نے بعد کے ادوار میں اسلام کو تباہ کرنا تھااسلئے سورہ مجادلہ میں رسول اللہ ۖ اور سورہ ممتحنہ میں حضرت علی کے فعل کو امت مسلمہ کیلئے نمونہ بنادیا ۔ جب ان سے یہ معاملہ ہوا تو پھر کون مفتی ، کون عالم ، کون قاضی اور کون مولانا ہے؟۔

جاہلیت میں حرام کے لفظ سے بھی عورت ہمیشہ کیلئے حرام ہی سمجھی جاتی تھی۔ یہ معاملہ بھی رسول اللہ ۖ کی سیرت اور سورہ تحریم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بہت واضح طور پر حل کروادیا مگر اس پر بھی افسوس کیساتھ یزیدی ادوار کے بعد ابہام پیدا کیا گیا یزید بن معاویہ اوریزید بن عبدالملک جو عمر بن عبدالعزیز کے بعد بے غیرت کی اولاد نے امت مسلمہ کا بیڑہ غرق کردیا۔

صحابہ کرام کا ہمیں احترام ہے خوارج کے سردار ذوالخویصرہ اور حضرت علی کے قاتل ابن ملجم کے فوتے بھی صحابی کے نام پر کوئی چاٹے تو ہم اس کا شوق پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے لیکن قرآن وسنت اور اسلام کا بگاڑ قبول نہیں ہے۔

سعودی عرب سے شائع ہونے والی کتاب میں درج ہے:

المسئلة الرابعة: قال الرجل لزوجتہ : انت علی حرام فللعلماء فی ذٰلک عدة آراء لکن سنقتصر علی ذکر الخفاء الاربعة ومن تابھم من الفقاء و ھی:

چوتھا مسئلہ:آدمی نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے۔ پس علماء کی اس میں متعدد آراء ہیں لیکن ہم مختصر کریں گے چار خلفائ تک اور ان کے ماننے والوں تک اور وہ یہ ہیں:

پہلی رائے:یہ یمین ہے اور اس پر کفارہ واجب ہے۔ یہ امام اوزاعی ،ا بوحنیفہاور ان کے اصحاب کی رائے ہے بشرط یہ کہ اس سے طلاق کا ارادہ نہ کیا جائے اور بیوی سے قسم کھائی ہو۔

دلائل:سورہ التحریم کی آیات۔ ابن عباس کا قول کہ تمہارے لئے نبیۖ کی سیرت میں اسوہ حسنہ ہے۔ ابوبکر ، عمر اور ابن مسعود نے اسی پر فیصلہ کیا۔ بدایة المجتھد،اعلام الموقعین۔

دوسری رائے:یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ یہ زہری اور سلمان بن حماد کی رائے ہے۔ تیسری رائے: یہ سعید بن جبیر،محمود بن مہران، البتی کی رائے ہے۔ چوتھی رائے: تین طلاقیں ہیں۔ یہ حسن بصری ، ابن ابی لیلیٰ ،امام مالک اور زیدیہ کی رائے ہے۔

شوکانی نے کہا:حاصل یہ ہے کہ طلاق ہوتی ہے ہر اس لفظ کیساتھ جو اس پر دلالت کرے مستقل طور پراگر اس سے طلاق کا ارادہ کیا جائے، پس الفاظ کی تعداد میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مندرجہ بالا تین طلاق پر استدلال کیا تین امور سے۔

1:علی، زید بن ثابت اور ابوہریرہ نے اس پر فیصلہ دیا تھا۔
2:امام مالک نے استدلال کیا حضرت علی کے فعل سے ۔

اجتہاد الخلفاء الاربعة : محمود داؤد العبیری

اسی کتاب کے مسئلہ3کے نمبر5میں حرام کا مسئلہ بیان کیا اور پھر مسئلہ4بھی یہ بنادیا اور انواع واقسام کے تضادات بھی ڈال دئیے لیکن اگر غور کیا جائے تو صحابہ کرام کے فیصلے اور فعل سے تین طلاق کا استدلال لیا گیا ہے اور فیصلہ تنازع میں ہوتا ہے اور تنازع کی صورت طلاق صریح، کنایہ وغیرہ تو چھوڑ دیں جب ایلاء میں نبیۖ نے طلاق بھی نہیںدی تھی تو پھر بھی اللہ نے ازواج مطہرات کے پاس ایک ماہ کے اندر جانے پر بھی حکم دیا کہ ان کو طلاق کا اختیار دیں تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ طلاق سے رجوع کیلئے علت عورت کی رضامندی ہے اور جب عورت راضی ہوتو پھر الفاظ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور میاں بیوی کا معروف طریقے سے راضی ہونا شرط ہے ایک دفعہ شوہر نے قدم اٹھایا تو پھر عورت کو اختیار منتقل ہوجاتا ہے۔ تنازع کی صورت میں حضرت عمر اور حضرت علی کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ واسرائیل کی ایران و لبنان جس طرح جنگ بندی کرائی ہے اور صلح کی کوشش میں مگن ہیں ۔ اگر وہ پہلے پاکستان اور پھر عالم اسلام کی سطح پر طلاق اور رجوع اور صلح کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کرلیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم سب پر اپنے فضل وکرم کے عظیم دروازے کھول دے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :

ولا تنحکوالمشرکات حتی یؤمن ولامة مومنة خیر من مشرکةٍ ولو اعجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا ولعبد مؤمن خیرمن مشرکٍ ولو اعجبکم اولئک یدعون الی النار واللہ یدعوا الی الجنة و المغفرة باذنہ و یبین ایاتہ للناس لعلھم یتذکرون O

ترجمہ:” اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔اور مؤمنہ لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے گو وہ تمہیں بھلی لگے۔ اور مشرک مردوں سے نکاح مت کراؤ یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بھلا لگے یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اپنی اجازت سے۔اور اپنی آیات کو واضح کرتا ہے لوگوں کیلئے ہوسکتاہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں”۔ البقرہ:221

مشرکوں سے نکاح منع کیا، حتی کہ ایمان لائیں۔ مشرکوں کے مقابلے میں غلام ولونڈی کو خیر قرار دیا بھلے وہ پسند ہوں اسلئے کہ مشرک آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر لونڈی بغیر نکاح کے بھی جائز ہے تو نکاح کی کیا ضرورت؟۔ جس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف لونڈی سے نکاح کا حکم ہے بلکہ اس کو اور غلام کو آزاد مشرک کے مقابلے میں بہتر بھی قرار دیا گیا ہے۔

جاویداحمد غامدی کہتا ہے ” آج ہیرہ منڈی کی عورتوں سے نکاح کا حکم ہو تو کوئی کرلے گا؟۔ لونڈیوں کی اس وقت یہی حیثیت تھی۔ ان کو بہت بری طرح سے استعمال کیا جاتا تھا”۔ حالانکہ سورہ نور میں واضح ہے کہ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے”۔ مشرک یا مشرکہ کیساتھ نکاح کو روکنے کی وجہ بھی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ جیسے مشرکوں میں اچھے کردار کے مرد اور عورتوں کا وجود تھا جو بدکار نہیں تھے ویسے غلاموں اور لونڈیوں میں بھی دونوںقسم کے لوگ معاشرے میں موجودتھے۔

سورہ بقرہ کی اس آیت221کے بعد جتنی وضاحتیں طلاق ، رجوع اور عورتوں کے حقوق سے متعلق ہیں اگر غامدی کے ترجمہ قرآن کو دیکھا جائے تو لگے گا کہ اس نے بھینس کی طرح بھوسہ اور کھل کا بھاڑہ کھایاہے یا روٹی ضائع کی ہے کہ اتنی موٹی موٹی وضاحتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں؟۔ علماء کو تفاسیر، مسلکی و فقہی اختلاف سے قرآن کے متن کیلئے فرصت ہی نہیں ملتی ۔

قرآن نے مسلمان کومشرکوں سے نکاح کو منع کیا لیکن حرام نہیں قرار دیا جبکہ زانی اور زانیہ سے نکاح کو حرام بھی قرار دیا۔ علی کی بہن ام ہانی اولین مسلمانوں میںتھیں لیکن ہجرت نہیں کی اور اس کی وجہ سے موجودہ دور کا مذہبی طبقہ ان پر حرام کاری کے فتوے لگا سکتا تھا لیکن اللہ اور اسکے رسولۖ نے نہیں لگایا۔

وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم O

(سورہ النور:آیت:32)ترجمہ:” اور نکاح کراؤ اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ اوربا کردار غلاموں کا اور لونڈیوں کا۔ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو مالدار بنا دے گا اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والابہت جاننے والا ہے”۔

عام طور پر لوگ صالح سے مراد نیک لیتے ہیں لیکن نیک اور صالح میں بہت فرق ہے۔ نیکی کو ”بر” کہتے ہیںاور صالح کے معنی کردار کی درستگی ہے۔ وہ بیوہ ، طلاق شدہ، غلام اور لونڈی جو بدکاری اور جنسی خواہشات کی بیماری کا شکار نہیں ہوں تو معاشرہ ان کے نکاح کرانے کی کوشش میں اپنا فریضہ ادا کرے۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ ان کو امیر بنادے گا۔ ایک مالدار آدمی نے جنسی خواہش کیلئے لونڈی رکھی ہے تو جب وہ نکاح کا متبادل ہو تو پھر نکاح کرانے کا کیا مطلب ہوا؟۔ لونڈیوں سے جنسی تعلق کی اسلام نے کوئی اجازت نہیں دی ہے۔ پھر اس کا نکاح کرانے کا حکم کیوں ہوتا؟۔ عربی کے کچھ الفاظ کے کئی معانی ہوتے ہیں جن سے سیاق وسباق کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ کیا مراد ہے؟۔ فقہی اختلافات میں غلو کرکے اسلام کا حیلہ بگاڑ دیا گیا ہے۔

لفظ محصنات کے بھی کئی معانی ہیں اور ماملکت ایمانکم کے بھی کئی معانی ہیں۔ عبد اور عباد کا تعلق بندگی اور غلامی سے ہے اور اس کی اللہ کے علاوہ اجازت نہیں ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے غلام اور لونڈیوں کے وہی نام ذکر کئے جو رائج تھے۔

ولیستعفف الذین لایجدون نکاحًاحتٰی یغنھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتاب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرًا واتوھم من مال اللہ الذی اٰتاکم و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO (سورہ النور:آیت:33)

اللہ نے پہلے بیوہ وطلاق شدہ اور غلام ولونڈی کے نکاح کا حکم دیا کہ اگر غریب ہیں تو اللہ امیر بنادے گا۔ پھرفرمایا کہ ”اگر ان میں سے کسی کو ضرورت کے باوجود نکاح کا موقع نہیں ملتا تو گند نہیں کریں بلکہ پاکیزہ زندگی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ کوئی راستہ اپنے فضل سے نکال دے”۔ دوسرا مسئلہ غلام کا تھا جسکے پاس حق مہر دینے کیلئے کچھ نہیں تو اسکے ساتھ مکاتبت یعنی لکھت پڑھت کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ”اگر وہ مکاتبت کرنا چاہیں اور تمہیں اس میں خیر نظر آئے تو پھر یہ کام کر ڈالو اور وہ مال بھی خرچ کرو جواللہ نے تمہیں دیا ہے”۔ اس سے غلام کی آزادی کیلئے مکاتبت مراد لینا انتہائی درجہ کی بیوقوفی اور خود غرضی ہے۔ غلام کو آزاد کرنے میں بھی یہ شرط ہوسکتی ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے؟۔ آیت میں تو اپنا مال خرچ کرنے کا بھی حکم ہے تو مال ہتھیانے کیلئے مکاتب کیسے ہوسکتی ہے؟۔

مولانا ابولاعلیٰ مودودی اورمفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان وغیرہ اپنی بیٹیاں غلام کو دیتے تو کچھ تحریر لکھواتے اور اپنا مال بھی ان پر خرچ کردیتے۔ کسی طلاق شدہ یا بیوہ کو شوہر نہیں ملتا تو غلام سے نکاح کرکے مکاتبت کرنے میں بھی حرج نہیں تھا۔

مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کا دارالعلوم کراچی میں شہرہ تھا کہ ٹیوشن پڑھانے والے سے معاشقہ ہوگیا اور شادی کرنے پر ضد کررہی ہے تو اس میں قرآن کی کیا رہنمائی ہے؟۔ چنانچہ اللہ نے یہ نازک معاملہ بھی حل کردیااور فرمایا : ” اور اپنی لڑکیوں کو بدکاری(یابغاوت) پر مجبور مت کرو جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ اس سے تم دنیاوی وجاہت تلاش کرو اور جن کو مجبور کیا گیا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد غفور رحیم ہے”۔

کراچی میں ایک مشہور کیس سیدہ دعا زہرہ کا تھا اور دوسرا مفتی تقی عثمانی کی بیٹی کا۔بغاء کے عربی میں دو معانی بنتے ہیں۔ ایک بدکاری اور دوسرا بغاوت۔ جب لڑکی والدین کی اجازت کے بغیر کسی لڑکے کیساتھ بھاگ جائے تو یہ بغاوت ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت پر مجبور نہیں کرو۔ بھاگنے والی لڑکیوں پر بدکاری نہیں بغاوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن اگر مفتی تقی عثمانی کی لڑکی کی طرح اس کا معاشقہ کسی اور کیساتھ ہو لیکن اس کو جبری طور پر کسی اور کیساتھ مجبور کردیا جائے تو یہ بالکل حرام اور فطرتاً بھی حرام کاری ہے۔ قرآن نے ایسی لڑکیوں کیلئے معافی کا اعلان کیا ہے اسلئے کہ وہ مجبور کی گئی ہیں اور ان کی اولاد پر اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگے گا۔

مولانا یوسف لدھیانوی کے داماد مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ سمیت حاجی محمد عثمان کے کروڑوں عقیدتمندوں پر نکاح کی حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لگانے والا مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کس طرح فتوے کی زد میں آرہی ہے؟۔ یہ ہے مکافات عمل لیکن ہمارا مقصد قرآن کی تفسیر کو ٹھیک کرنا ہے جو بہت عرصہ سے غلط لوگوں کے ہاتھ بہت مسخ کیا گیاہے۔

اس آیت کا یہ ترجمہ کیا گیا ” لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو جب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم اس سے دنیا کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اللہ غفور رحیم ہے”۔

امریکہ میں بیٹھا ہوا علامہ شہریار رضاعابدی انتہائی کمینہ قسم کا انسان ہے ،اس نے کہیں سے نکالا کہ ” حضرت ابوبکر صدیق کا خاندان اس پیشہ سے وابستہ تھا جو لونڈی کا چکلہ چلاتا تھا”۔

جب مفتی تقی عثمانی کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کہے گا کہ ” شادی بیاہ میں لفافہ کی لین دین سود ہے اور اس کا کم از کم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے” اور پھر سودی بینکاری بھی معاوضہ لیکر اسلامی قرار دی جائے گی تو لوگ اسلام اور اسلاف سے بدظن ہوں گے کہ یہ شیوخ الاسلام کے احوال ہیں؟۔

فتاویٰ عثمانی جلد دوم میں دو اقسام کی خباثتیں ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ اگر کسی بدمعاش نے کوئی لڑکی اغواء کرکے جبری نکاح کیا تو اب یہ عدالت اور فتوے سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ اسلام اور انسانیت کے خلاف یہ میراثی طبقے کی بہت بڑی سازش ہے جس کو کوئی بھی شریف انسان قبول نہیں کرسکتا ہے۔ دوسری یہ ہے کہ نابالغ بچی کے باپ نے نکاح کردیا ۔ پھر جب اس کی عمر نکلنے لگی تو رخصتی کا مطالبہ کردیا۔ آدمی اس کے بعد غائب ہوا اور5سال گزرنے کے بعد عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا اور عدالت سے خلع ملنے کے بعد کسی اور سے نکاح کرلیا پھر پہلا شخص آگیا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ جاری کیا کہ پہلے شخص کی بیوی ہے۔ اور اس کے شوہر سے فتویٰ کے ذریعے جدا کردیا۔

ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور یہودی دنیا کا کوئی مذہب بھی ایسے غیر فطری فتوؤں کا پیش خیمہ نہیںہے لیکن علماء ومفتیان نے اسلام کو جس حد تک پہنچادیا تو مخبر صادق نبی اکرم شفیع اعظم ۖ نے جو پیش گوئی ان علما ء ومفتیان کے حوالہ سے دی ہیں تو وہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ”عصر حاضرحدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” کے اندر درج کی تھیں جن کو شہید کردیا گیا اور ان کی کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی ۔ اس طرح جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار نے ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ کیا تھا تو ان کو شہید کرکے کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلمان بچیوں کو تعلیم دی جائے کہ لونڈیوں کو بدکاری پر اس وقت مجبور کرنا غلط ہے کہ جب وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں لیکن اللہ غفور رحیم ہے تو اس تعلیم کا کیا اثر پڑے گا؟۔ یہ جبری نظام ہی اصل میں بدترین غلامی ہے جو اسلام ، قرآن اور فقہ کے نام پر مسلمانوں پر مسلط کردیا گیا ۔

بہت ساری احادیث ہیں جن میں رسول اللہ ۖ نے یہ فرمایا کہ ” ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں ہے”۔ جو کنواری لڑکی کیلئے ہی ہوسکتا ہے اسلئے کہ ایک مرتبہ شادی اور پھر طلاق یا بیوہ بن جانے کے بعد احکام بدل جاتے ہیں۔ میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا اور اپنے استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان کے سامنے یہ بات پیش کردی تو بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا کہ آگے آپ اس کا حل بھی نکال لوگے۔

ایک طرف عورت کی رضامندی شرط اور دوسری طرف ولی کی اجازت بھی ہو تو اعتدال وتوازن قائم ہوجاتا ہے ۔ اسلام کا یہی کمال ہے کہ ہرمعاملہ میں توازن قائم کرتا ہے۔ ایک طرف احادیث کا انکار کرکے عوام الناس کی لڑکیوں میں بغاوت برپا کی گئی اور دوسری طرف حدیث کا انکار کرکے جبری نکاح کو بھی جواز بخش دیا گیا اور قرآن کی آیات کی بھی بوگس تشریح کی گئی اور پھر جعلی عثمانی بن کر اپنی لڑکیوں کیلئے الگ شریعت گھڑدی۔

لوگ سمجھتے ہیں اتنا عرصہ سے یہ چیزیں دہرارہاہوں مگر قوم وہیں کھڑی ہے۔ مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ کون کہاں ہے؟ ۔حضرت نوح نے کتنی تبلیغ کی ؟ لیکن جتنے لوگ کشتی میں تھے تویہ شروع سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارا کام پہنچانا ہے اور بس!۔

فرعون اور اس کے ملاؤں اور پیشواؤں کو جب حضرت موسیٰ و ہارون علیھاالسلام نے دعوت دی تو کہنے لگے : فقالوا انؤمن لبشرین مثلنا و قومھما لنا عابدون ” پھر کہا کہ ہم اپنے جیسے دو شخص پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کررہی ہو”۔

فرعون اور اس کے سیٹ اپ کے حوالے سے کوئی دوسری خام خیالی نہیں تھی بلکہ ان کے غلط مذہبی احکام کی پیروی تھی اور آج مذہبی طبقات نے جس طرح کی غلامی اس قوم پر مسلط کی ہے تو شاید فرعون کو بھی شرم آجاتی۔اسلام نے جس عبدیت کا خاتمہ کیا تھا وہ مذہبی خداؤں کی شکل میں مسلمانوں پر مسلط ہے اور حکمرانوں کے تخت بھی ان سے لرزتے ہیں مگر اللہ نے مجھے وہ توفیق دی جس کے لائق میں نہیں لیکن اس کی اپنی شان ہے اور وہ تقدیروں کو بدلنے پر بالکل بھی کامل قدرت رکھتا ہے۔

فکذبوھما فکانوا من المھلکینOولقد اٰتینا موسی الکتاب لعلھم یھتدونOو جعلنا ابن مریم وامہ اٰیةً واٰوینا ھماالیٰ ربوةٍ ذات قرارٍ و معینٍOیاایھا الرسل کلوا من الطیباتٍ واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم اُمةً واحدةً وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزبٍ بما لدیھم فرحونOفذرہم فی غمرتھم حتی حینO

” پھر ان دونوں کو جھٹلایا اور ہوگئے ہلاک ہونے والوں میں اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی کہ ہوسکتا ہے ہدایت پائیں اور ابن مریم اور اسکی ماں کو نشانی بنادیا اور ان کو ٹھکانہ دیا ایک اونچی جگہ جو سکون اور چشمے والی تھی۔اے رسولو! کھاؤپاک چیزوں میں سے اور درست عمل کروبیشک میں جانتا ہوں جو تم عمل کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت ایک ہی تھی اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ سے تقویٰ اختیار کرو۔ پس انہوں نے اپنا حکم کاٹ ڈالا ٹکڑے کرکے اور ہر گروہ خوش ہے جو انکے پاس ہے اس پر۔ پس انکو چھوڑدو غفلت میں ایک وقت تک”۔

سورہ مؤمنون کی ان آیات سے پہلے حضرت نوح سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا اور بیچ میں بہت سارے انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے ۔ جن کو وقتاً فوقتاً ہلاک کیا گیا ہے۔ پھر آخر میں موسیٰ و ہارون اور حضرت عیسیٰ و مریم کے بعد تمام رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی ایک امت سے تقسیم اور پھر سب کو ایک مقررہ وقت تک انتظار کا حکم ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہم پڑھتے تھے تو مولانا محمدسالم قاسمی دارالعلوم دیوبند وقف قریب میںجمعہ کی تقریر مسجد طیبہ کراچی کرنے تشریف لائے۔ انہوں نے حدیث سنائی کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں” ۔ حضرت موسیٰ اور امام غزالی کا مناظرہ بھی سنایا۔ جاویداحمد غامدی نے اس پرا عتراض کیا ہے کہ اس طرح کی خرافات گھڑی گئی ہیں اور ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کی اس حوالے سے بڑی جرأت وہمت ہے۔ لیکن علماء و صوفیاء کی ان باتوں سے مذہبی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔

معراج میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کرام کی امامت کی اور جب دنیا میں بڑا انقلاب آجائے تو اس وقت تمام اقوام پر قرآن کی ایک ایک آیت کی حجت قائم ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا سے جانے کے بعد انبیاء کرام نے کونسی نماز پڑھی؟ ۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ سورہ الحدید میں اس جنت کی بات کی گئی ہے کہ جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہوگا تو یہ کونسی جنت ہے؟۔ یہ عالم برزخ کی جنت ہے۔ عالم برزح میں جہاں کھانے پینے کا ثبوت قرآن کی کئی آیات میں موجود ہے تو نبیۖ نے فرمایا :”نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” ۔ اور رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں تو عالم برزخ کیلئے بھی ہیں اور باقی انبیاء کرام کے فیض بھی اپنی اپنی امتوں کو پہنچتے ہیں اور تمام مذاہب کی روحانی دنیا میں ملتی جلتی باتیںہیں۔ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے ترید نہیں کرتا اور وقت معلوم وہی ہے جو ان آیات میں بھی ہے۔ سورہ الزمر ،سورہ الحدید وغیرہ میں بھی واضح ہے۔ اگر ایک ایسے امام کے ہاتھوں انقلاب برپا ہو جس کی سنی عقیدہ کے مطابق ایک رات میں اصلاح ہوتو بہت بڑی حیرت بھی ہوگی اور آسمان اور زمین والوں پر بجلی بھی گرے گی کہ کہاں انبیاء کرام کی سخت مشقتیں، عظیم جدوجہد، پاکیزگی ، وحی اور معجزات کے ذریعے رہنمائی ؟اور کہاں ایسے لوگ جن کی علم وعمل اورکسی بھی اعتبار سے کوئی اوقات نہیں تھی لیکن ان کے ہاتھوں اتنا بڑا انقلاب برپا ہوگیا؟۔ قرآن کی تصدیق ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!

لاہور میں رنجیت سنگھ کی مسلمان بیوی گل بیگم کا مزار تاریخی یادگار موجود ہے ، مذہبی طبقہ دلال طبقہ غریب پر فتویٰ لگاتا ہے طاقتور امیر پر نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے جنرل رحیم الدین قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح جنرل ضیاء الحق کے بیٹے سے پڑھایا۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے اپنے فتاویٰ کفایت المفتی میں قادیانیوں کو اہل کتاب کے حکم میں قرار دیا لیکن دوسری طرف دیوبندی قادیانیوں کو زندیق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر توبہ کرلیں تو بھی واجب القتل ہیں۔ اور پھر اتنے نالائق ہیں کہ جب شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، علامہ سید یوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے حوالہ دئیے بغیر کتابوں سے فتویٰ طلب کیا تو حاجی عثمان کی بات سمجھ کر کفر، گمراہی، زندقہ اور قادیانیت کا فتویٰ لگادیا۔ حقیقت کا پتہ چلا تو پیشکش کردی کہ حاجی عثمان کے خلاف فتویٰ واپس لیں گے۔ مولانا فضل الرحمن قائد جمعیت علماء اسلام نے کہا تھا کہ ”چھرا ہاتھ میں ہے اور بکرے کو لٹایا ہوا ہے ۔ ذبح کر و، ٹانگیں ہلائیں گے تو ہم پکڑ لیں گے”۔ اس فتوے پر دارالعلوم کراچی نے دستخط نہیں کئے اسلئے ایک عبارت مولانا سبحان محمود کے ترجمہ کردہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب اخبار الاخیارسے تھی لکھاہے کہ ” جب سیدنا عبدالقادر جیلانی منبر پر واعظ فرماتے تھے تو تمام انبیاء کرام و اولیاء عظام موجود ہوتے تھے اور سرکار دوعالم ۖ آپ کی تربیت کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے”۔

مولانا سبحان محمود نے سعودی عرب کے خوف سے اپنا نام بدل کر سحبان محمود رکھ دیا تھا کہ سبحان محمود شریعت کے خلاف ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے وکیل کو جواب میں لکھا کہ ”ہم نے حاجی عثمان کے خلاف نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا”۔ حاجی عثمان نے انکے خلاف کیس بھی واپس لیا اور فتویٰ چھاپنے کی اجازت بھی نہیں دی تو کسی نے حاجی عثمان کے معتقد سے نکاح سے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید کے سابقہ دارالافتاء والارشاد جس کو مولانا فضل الرحمن نے کھوٹہ قرار دیا ہے سے فتویٰ لیا اور تینوں کا جواب مختلف تھا۔ بنوری ٹاؤن نے لکھاکہ حاجی عثمان پر فتوے بھی نہیں لگتے اور نکاح تو بہر حال جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ”نکاح منعقد ہوجائے گا اور بہتر ہے کہ ان کے احوال سے آگاہ کیا جائے”۔ کھوٹے نے لکھا کہ ”نکاح جائز نہیں ہے”۔

پھر مفتی عبدالرحیم نے اپنی طرف سے سوال جواب مرتب کئے اور آخر میں لکھا کہ ”اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جس پر مفتی ولی حسن نے بھی دستخط کئے جو مفتی سے زیادہ مجذوب تھے۔ دارالعلوم کراچی نے بھی اپنا مؤقف تبدیل کرکے لکھا ”جائز نہیں گو منعقد ہوجائے” ۔ میں نے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن کو انکی مساجد میں اعلان کرکے چیلنج کیا ۔ مفتی تقی عثمانی وغیر ہ مسجد سے بھاگے اور کھوٹے والے مفتی عبدالرحیم ،مفتی رشیداحمد لدھیانوی کو تحریری چیلنج دیا تو چیلنج قبول نہیں کیا ہمارے ساتھیوں کو پکڑ کر پٹائی لگائی اورایک موقع پر ہمارے ساتھی عبدالقدوس بلوچ وغیرہ کیساتھ حوالات میں لشکر جھنگوی کے دہشتگرد مفتی رشید احمد لدھیانوی اور مفتی عبدالرحیم کی طرف سے ساتھ بند تھے۔ ملک اسحاق نے ڈرانے کیلئے اداکاری کی تو غازی عبدالقدوس بلوچ نے اپنا مکا دکھایا کہ ”پنچ بنانا تو پہلے سیکھو” جس سے وہ دبک کر بیٹھ گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی فتوے اور لڑائی کا معاملہ پیش آیا جس کی تفصیل سے عوام دنگ رہ جائیں گے۔ پھرمجھ پر2006ء میں قاتلانہ حملہ ہوا اور2007ء میں کرایہ کے دہشت گردوں نے گھر پر حملہ کرکے13افراد شہید کئے تو اس کے بعد مفتی تقی عثمانی نے ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں حاجی عثمان کے کسی معتقد سے نکاح کا انجام عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا کے الفاظ والا فتویٰ2007ء میں پہلے چھاپا اور پھر2022ء میں لیکن میں نے اخبار میں پوچھا کہ ” فتوے کے بعد مولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند حاجی عثمان کے مرید کو دارالعلوم کراچی میں کیوں رکھا تھا؟۔ جس کی بیوی فوت ہوگئی تھی تو کیا خود حلالہ کی لعنت کے فتوے دیکر اپنی بیگمات کو وقت دینے کی فرصت نہیں تھی اور حاجی عثمان کے مریدکو ان کیلئے رکھا ہوا تھا؟۔ جس کی بیوی فوت ہوچکی تھی؟۔ مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ مفتی تقی عثمانی کے دوبیٹے اور ایک بیٹی7،7سال کے وقفے سے پیدا ہوئے۔

مردے نہلانے اور حاجی بدل پر کمانے والے مفتی تقی عثمانی کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی کہ بال بچوں سمیت دنیا میں جہاز پر سفر کئے؟۔ جب جہاز میں مفتی شفیع کا فتویٰ ہے کہ نماز نہیں ہوتی تو اس میں گھوم کر نمازوں کا جان بوجھ کر قضا کرنا جائز ہے؟ اور شرم بھی نہیں آئی کہ دنیا میرے آگے کتاب لکھی؟۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں آیت کا حوالہ دیکر کہا کہ” چیخ وپکار کو اللہ پسند نہیں کرتا مگرمظلوم کی چیخ وپکار کو اللہ پسند کرتاہے”۔ علماء پر کس نے ظلم کیا ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن شہر ڈلیوری وارڈ کا منظر پیش کرتا ہے؟۔

جب1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے سرکاری تعلیم میں عربی اور سنکسرت زبانوں کا سلسلہ ختم کیا تو دیوبند کے سید عابد حسین نے ایک مقامی مسجد میں اسلامی تعلیم کیلئے مدرسہ کھولا ۔ اپنی طرف سے بھی چندہ دیا اور بلامعاوضہ خدمت کرتے تھے۔ مقامی ملا محمود کو15روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا۔ مولانا محمود الحسن نے وہاں درمیانہ درجے کی کتابیں پڑھیں۔ مولانا قاسم نانوتوی اس وقت میرٹھ میں ملازم تھے۔ مولانا محمود الحسن نے میرٹھ میں ان سے احادیث کی کتابیں پڑھیں اور پھر دارالعلوم دیوبند میں مدرس ہوگئے۔ حاجی عابد حسین بانی ومہتمم جو بلامعاضہ خدمت کرتے تھے۔ رفیع الدین کو اہتمام کی ذمہ داری سونپتے تھے۔ جب انہوں نے مکہ میں مستقل قیام کیا تو شروع میں دو مقامی علماء کو باری باری اس خدمت پر مأمور کیا۔1880ء میں مولانا قاسم ناناتوی کا انتقال ہواتھا اور1885میں ان کا بیٹا حافظ محمد احمد دارالعلوم کا مدرس مقرر ہوا اور1895ء میں مہتمم بن گیا تو اسکے بعد یہ خاندان کیسے چپک گیا اور جب1980ء میں بیٹے کو مہتمم نامزد نہیں کرنے دیا تو پھر دارالعلوم دیوبند ہی اپنے لئے وقف کے نام سے الگ بنالیا۔

کھلا جھوٹ:

1928ء سے1930ء ویب سائٹ کو دیکھو۔ حافظ محمد احمد1930تک مہتمم ۔1928ء سے قاری طیب1980ء اور1928ء سے1929ء تک حبیب الرحمن عثمانی ہیں۔ تاریخ کی بنیاد جھوٹ پرہے جو آپس کے اختلافات کے سبب کچھ معلوم کتابوں میں اور کچھ نیٹ پر دستیاب ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذ شیخ الہند تھے جن کی اولاد لا پتہ ہے۔ بانی مہتمم سید عابد حسین کا نام اور اولاد غائب کرنے کی کوشش کی گئی۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے مہتمم حاجی رفیع الدین نے مرنے سے پہلے کعبہ کے والی کو مہدی کیلئے خط اور تحائف رکھوا دئیے تھے۔خطبات حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دیوبند۔

1980ء میں سوانح قاسمی میں پڑھا تھا کہ نانوتوی کی بیوہ کو قبر سے مٹھائی کا ڈبہ گھر میں ملتا تھا لیکن پھر شکوک و شبہات کو ہوامل گئی تو مٹھائی کا ڈبہ جو مسلسل آتا تھا پھر آنا بند ہوگیا تھا۔

علی کی بیوہ بھابھی سے ابوبکر نے نکاح کیا اور ابوبکر کی وفات کے بعد علی نے اس بیوہ سے دوبارہ شادی کی ۔ مولانا قاسم ناتوتوی کا اعزاز یہ تھا کہ اپنی بوڑھی بیوہ بہن کا نکاح اسلئے منت سماجت کرکے قائل کروایا کہ وعظ میں تاثیر ہوگی لیکن ان کا ایمانی جذبہ بیوہ کیساتھ نہیں رہا؟۔پھر مٹھائی ملنے لگی تھی؟۔

پرنسپل بنوری ٹاؤن ڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید کی بیوہ کوشادی پر بدمعاش طبقہ نے تمام مالی حقوق سے دستبردار کرانے پر مجبور کیاتھا اور پھر وہ بے دردی سے قتل اور غائب کردی گئی تھی۔ سید محمد بنوری کو شہید اور خودکشی کے بہتان سے شرم بھی نہیں آئی۔

والذین یتوفون منکم ویذرون ازوجًا وصیة لازواجھم متا عًا الی الحول غیر اخراجٍ فان خرجن فلا جناح علیکم فی ما فعلن فی انفسھن من معروف واللہ عزیز حکیمO

آیت میں بیوہ کیلئے وراثت کے علاوہ ایک سال کا خرچہ ہے۔ جب تک وہ گھر سے نہیں نکلے تو نکالنا جائز نہیں ۔ غیر اخراج کا تعلق سال سے نہیں ہے جیسے

فلیس جناح علیھن ان یضعن ثیابھن غیر متبر جٰت بزینةٍ

آیت میںغیر متبرجات سے سنگار کو مستقل ڈھکنے کا حکم ہے۔اسی طرح بیوہ جب تک خود نہیں نکلے تو اس کو نہیں نکال سکتے۔ مفتی شفیع اور مفتی تقی عثمانی کی بیوہ کیلئے مدرسہ کے وقف زمین میں قبر ہو لیکن دوسروں کی بیوہ کو قرآن کا غلط ترجمہ کرکے گھروں سے نکلوائیں؟۔

انبیاء درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑتے اور انکے جعلی وارث چندوں کے وقف مال پرموروثی قبضہ کریں؟۔ اسلام کو یرغمال بناکر فتویٰ فروشی کا دھندہ کریںواہ واہ۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن نے مالٹا کی جیل سے1920ء میں آمد اور وفات سے پہلے فرمایا کہ” امت کے زوال کے دو سبب ہیں۔ قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی” لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔1928ء میں دیوبند میں اختلافات کے سبب مولانا انورشاہ کشمیری وغیرہ الگ ہوکر ڈھابیل گئے۔ وفات1933ء سے پہلے فرمایا کہ ” قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی ، مسلک کی وکالت میں عمر ضائع کردی”۔ علامہ یوسف بنوری نے علماء کو عربی ، قرآن و حدیث اور فقہ سمجھانے کیلئے مدرسہ کھولا تھا مگرمفتی شفیع نے جب نانک واڑہ سے دارالعلوم کرچی کو شرافی گوٹھ منتقل کیا تو علماء وطلبہ کیلئے ابتدائی کتابوں تک توسیع کردی تھی لیکن سالانہ فنڈز کا تعین ہوتا اور باقاعدہ آخر میں آڈٹ کرایا جاتااور اپنی ضرورت سے زیادہ پیسہ نہیں لیتے تھے اسلئے علماء کے لشکرہی لشکر رمضان میں آتے تھے کہ وہاں پیسہ لینے کی گنجائش نہ ہوتی تھی۔

1983ء میں ایک طالب علم کا ماہنانہ خرچہ110روپیہ تھا اور10مہینے کے11سوروپیہ بنتا تھا۔ اسلئے کہ دو ماہ چھٹی ہوتی تھی۔ حافظ محمد احمد1962ء میں ناتوتہ میں پیدا ہوئے ، حفظ کے بعد کچھ ابتدائی کتابیں والد مولانا قاسم ناتوتوی سے پڑھیں، پھر بلندشہر میں تعلیم حاصل کی ، شیخ الہند سے دیوبند میں پڑھا اورگنگوہ میں مولانا گنگوہی سے دورہ حدیث کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے اہتمام کی طرح تدریس سے بھی مولانا قاسم ناناتوی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

حافظ محمد احمد سے پہلے دارالعلوم دیوبند کا سالانہ آمدن5،6ہزار تھا جوپھر انہوں نے90ہزار تک پہنچادیا۔ طلبہ کا اوسط آمدن دو ڈھائی سو تھا جو9سوتک پہنچ گیا۔ کتابوں کی تعداد5ہزار سے40ہزار تک پہنچ گئی۔ دارالعلوم کی عمارت کا تخمینہ36ہزار سے4لاکھ تک پہنچ گیا۔1922ء سے1925ء تک نواب حیدر آباد دکن کے ہاں ملازمت کی اور1928ء نواب کو جلسہ میں شرکت کرانے کیلئے حیدرآ باد دکن گئے اور وہیں انتقال ہوا اور مدفون ہوگئے۔

مولانا بنوری نے مدرسہ کو دنیاوی کاروبار بنانے سے بچایاتھا۔ ہم درجہ اولیٰ میں تھے تو پہلی بار طلبہ کو مدرسہ نے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کیلئے رضا کارانہ طور پر بھیج دیا پھر اسی سال محرم میں مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا اسفندیار خان جن پر سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا نے شیعہ کے خلاف پیسہ کھانے کا اخبارات میں الزام لگایا تھا تو ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے درسگاہ میں ان کو فتنہ قرار دیا۔ جب دوسرے سال عیدالاضحی کی چھٹیاں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی غرض سے ختم کرکے عید کے بعد دی گئیں تو میں احتجاجاً اپنے گھر کوٹ ادو پنجاب گیا۔ مفتی احمد الرحمن کی رحمانی ، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کے قہر سے احتجاجاً مدرسہ چھوڑ دیا ۔ اگلے سال دوبارہ آیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کی یادگار لڑائیاں، امتیازی عزت ۔ پھر علمائ، خانقاہ پھر جمعیت علماء ، طالبان اور اقارب سے جھگڑا؟

ولقد صرفنا فی ھٰذا القراٰن من کل مثل و کان الانسان اکثر شی ئٍ جدلً

ا” اور بیشک ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیرکرہر قسم کی مثال بیان کردی ہے اور انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(سورہ الکہف:آیت:54 )

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم

اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو ۔اللہ کی کتاب کی پیروی تم پر لازم ہے اور انکے علاوہ تمہارے لئے حلال ہیں( النساء)

سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ، پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO

”اور عورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ، تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے اورحلال ہیں جو ان کے علاوہ ہیں تمہارے لئے کہ تم اپنے اموال کے بدلے ان کو ڈھونڈو ان سے معاہدے کی پابندی کیساتھ نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے پس جو تم ان سے فائدہ اٹھاؤ تو جو معاوضہ طے کیا ہو فرض تو وہ انہیں دیدو۔ اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے کہ معاوضہ طے کرنے کے بعد کمی بیشی پر راضی ہوجاؤ۔ بیشک اللہ بہت جاننے والا بہت زیادہ حکمت والا ہے”۔ النساء:24

گوجرانولہ کے ڈاکٹر پروفیسر اورنگزیب صاحب پاکستان کی ایک معروف شخصیت اور سائنسدان ہیں۔ وہ ایک بہت اچھے عالم دین، تفسیر، حدیث، اصول فقہ اور اسلامی تاریخ کے بہت ماہر شخصیت ہیں۔ ایک دفعہ گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ”آیت کی تفسیر کا فیصلہ آیت کے آخر کی بنیاد پر ہوتا ہے”۔

اب سوال یہ ہے کہ

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم ……النساء :24

میں اگر ہم آیت کے آخری حصہ کو دیکھ لیں تو کیا نظرآتاہے؟۔

آیت کے آخری حصہ پر تفاسیر میں اختلاف ہے کہ متعہ مراد ہے یا نکاح ؟۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں الی اجل مسمی کے الفاظ بھی ہیں۔جس کا مطلب متعہ اور مقررہ وقت ہے۔ اصول فقہ میں امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک بیان ہوا ہے کہ ”خبر واحد کی آیات خبر واحد کی احادیث سے زیادہ معتبر ہیں”۔

امام شافعی خبر واحد کی آیات کو قرآن میں تحریف سمجھتے ہیں۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ میں عقیدے کا کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن مدارس کے درس نظامی میں امام ابوحنیفہ کے نام پر بکواس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی القضاہ امام ابویوسف نے امام ابوحنیفہ کے مسلک سے انحراف کیا تھا۔

عبداللہ بن مسعود سے بخاری ومسلم میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ ۖ سے عرض کیا کہ ہم خصی نہ ہوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں!، ایک دو چادر کے بدلے میں کسی عورت سے متعہ کرلو۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ

یا ایھا الذین اٰمنوا لاتحرموا طیبٰت ماحل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لایحب المعتدینO

”اے ایمان والو! تم پاک چیزوں کو حرام مت کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔اور حد سے نہ بڑھو اور بیشک اللہ حدسے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے ”۔ المائدہ:87

صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور صحیح مسلم میں ہے کہ ابن مسعود نے حوالہ دیا۔

رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام فیضانِ صحبت کی وجہ سے صحابہ کہلاتے ہیں۔ مدارس اور خانقاہوں کی صحبت کا اپنا ایک بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مدارس اور خانقاہوں کی کوئی ہوا نہیں کھائی ہے تو ان کی گمراہی کا اندازہ بہت جلد لگ سکتا ہے۔

کسی حکم کی علت نکالنا جاویداحمد غامدی جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے جو مدارس اور خانقاہ کی صحبت کے جھوٹے اور بے بنیاد قصے سناتے ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں متعہ کی علت بیان کرتے ہوئے آیت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اللہ نے یہ حلال کیا ہے تو اس کو حرام نہیں قرار دے سکتے ۔ ابن مسعود کے خلاف یہ بہتان ہے کہ وہ آخری دو سورتوں کو نہیں مانتے تھے ۔ جاویدغامدی نے یہ سلسلہ قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی کمی کرنے کی بات کی ہے کہ سورہ النساء اور فلاں سورة اصل میں اتنی ہے اور باقی قرآن نہیں ہے۔ قادیانیت سے بڑی دجالیت غامدیت ہے۔ جس کو اغیارکی وجہ سے مسلط کیا جارہاہے۔

عبداللہ بن عباس کی طرف ایسی روایات بھی منسوب ہیں کہ الی اجل مسمٰی کے بارے میں کہتے تھے کہ ایسی ہی نازل ہوئی تھی مگر صحیح بات یہی ہے کہ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور کچھ دیگر صحابہ بطور تفسیر اس طرح پڑھتے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب اللہ میں ملکت ایمانکم کا تصور کیا ہے؟۔ اگر آیت کے آخر سے متعہ مراد لیا جائے تو پھر یہ بھی متعہ ہے۔ سعودی عرب میں مسیار کا قانون رائج ہے اور اس پر متعہ اور ماملکت ایمانکم ہی کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ محصنات سے کون مراد ہیں؟۔
اس کی تفسیر پر بھی صحابہ میں اختلاف تھا کہ کیا کون مراد ہیں؟ لیکن اللہ نے ”کتاب کی پیروی کو لازم قرار دے دیا”۔

ھو الذی انزل علیک الکتٰب منہ اٰیٰت محکمٰت ھن ام الکتٰب و اُخر متشٰبھٰت فاما الذین فی قلوبھم زیع فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویلہ ومایعلم تأویلہ الا اللہ والرّا سخون فی العلم یقولون اٰمنا بہ کل من عندربنا و مایذکرالا اولوا البابO(سورة آل عمران آیت:7)

متشابہات کا معنی یہ ہے کہ جس کی نظیریں یا مشابہ معاملات ہوں۔ احمق لوگوں نے ان کو مشتبہ سمجھ لیا ہے جس میں شک اور اشتباہ ہو۔ حالانکہ یہ لاریب فیہ کے بالکل خلاف ہے۔

جیسے سورہ رحمان میں سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر ہے تو اگر14سو سال پہلے اس کی نظیریں یا مشابہ چیزیں نہیں تھیں تو اس کے پیچھے فتنے اور تاویل کی غرض سے پڑنے والوں کو اللہ نے کنفرم کردیا ہے کہ انکے دلوں میں کجی ٹیڑھا پن ہے۔

قرآن میں محصنات کے کئی معانی ہیں۔ کنواری کے مقابلے میں بیوہ و طلاق شدہ پر بھی محصنات کا اطلاق ہوتا ہے اور جب اللہ نے حکم فرمایا کہ ”اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ ” تو پھر محصنات سے بیگمات کیسے مراد لے سکتے تھے؟۔ پھر آج وہ دور بھی آیا ہے کہ بیگمات میں سے سرکاری افسران کی مراعات ہوتی ہیں اور وہ اپنی مراعات کو بھی نہیں چھوڑ سکتی ہیں۔

اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اُف اللہ چپ رہ بھی نہیں سکتے
امت پہ عجب وقت امتحاں کا آپڑا ہے
اس طوفاں میں مزید بہہ بھی نہیں سکتے

اگر ایک جوان لڑکی کے جوان شوہر کو شہادت کے بعد نشانِ حیدر مل جاتا ہے تو اس کی بیوہ کیلئے ایک طرف زندگی بھر خواہش کی قربانی یا مراعات میں سے ایک چیز کی قربانی دینی پڑے گی اور اگر وہ بیگم لیاقت علی خان رعنا لیاقت علی خان کی طرح پیرس فرانس میں سفیر تعینات ہو اور ایک جوان ملاز م سے کہے کہ یہی تمہاری ڈیوٹی ہے کہ میرے ساتھ شراب پی کر میرا دل بہلاؤ تو ریاست مدینہ کے طرز پر ریاست پاکستان کا کیا امیج بنے گا؟۔

دوسری طرف دیکھیں تو ایران اور سعودی عرب حکومت میں متعہ و مسیار کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا؟۔ جب افغانستان پر نیٹو کی افواج نے قبضہ کیا تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی گود میں افغان لڑکیوں کی کھیلتی ہوئی ویڈیوز ریلز کی گئی تھیں۔ یہ اچھا ہے کہ علماء ومفتیان نے احتجاج نہیں کیا کہ یہ تم ناجائز کرتے ہو ،ان کو زبردستی سے لونڈیاں بناؤ تاکہ تمہارے لئے جائز بن جائیں۔بڑے بڑے علماء ومشائخ کے بارے میں یہ کہانیاں لکھی ہیں کہ ”میں بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوسکتا ہوں، مجھے گرفتار کرکے لے جاؤ تو ٹھیک ہے”۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں لیٹ نہیں سکتا مگر مجھے لٹاکر میری مارو۔

بخاری ومسلم اور دیگر کتابوں میں دو چیزوں کے اندر بہت واضح بگاڑ نظر آئے گا ایک حلالہ اور دوسرا متعہ۔ حلالہ کو جواز بخشنے کیلئے بے غیرت مذہبی طبقات نے ساری رسیاں توڑ دی ہیں۔ متعہ کو حرام قرار دینے کیلئے بھی بہت ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے لیکن اگر عدل وانصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو معاملات روزِ روشن کی طرح ایسے واضح ہوجاتے ہیں کہ کوئی بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ہے۔ بشرط یہ کہ اللہ اور آخرت پر ایمان ہو۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے دو جعلی و بے بنیاد مؤقف تشکیل دئیے گئے۔ بنوامیہ نے شیعہ سنی تفریق کی بنیاد رکھ دی اور بنوعباس نے اس پر ایک بلڈنگ کھڑی کی۔

وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامٰی فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنٰی وثلاث و رباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدةً او مالکت ایمانکم ذٰلک ادنٰی الا تعولواO (سورہ النساء:آیت3)

ترجمہ ”اوراگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو نکاح کرو ! دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہوجائے اور یہ معمولی درجہ کی بات ہے تاکہ تم بغیر عیال کے نہیں رہو”۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :”دنیا گزر اوقات کی چیز ہے اور بہترین گزر اوقات کی چیز عورت ہے۔ صالحہ عورت”۔ صحیح مسلم

رسول اللہ ۖ نے یہ بھی فرمایا:” جس نے شادی کرلی تو اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہٰذا اس کو چاہیے کہ باقی آدھے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے”۔ طبرانی ، مستدرک الحاکم

سورہ النساء کی اس آیت میں اللہ نے پہلی وضاحت یہ کردی کہ اگر تمہیں یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ان سے نکاح مت کرو۔ باقی جہاں تمہیں پسند ہوں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کرو لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ معاہدہ ہو۔

انصاف نہ کرنے کی صورت میں ایک عورت کیساتھ نکاح یا پھر کسی کے ساتھ آخری درجہ میں معاہدے کی اجازت ہے۔

ایک عورت کا بھی ایک بوجھ ہوتا ہے ۔ گھر بار، خرچہ، اولاد، بیماری تعلیم وتربیت وغیرہ۔ جب یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر کسی ایسی عورت سے ایگریمنٹ جو اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہو۔ اسلئے کہ معاشرے میں عیالداری کے بغیر رہنے سے معاملہ خراب ہوگا۔

جس کوقرآن نے بالکل آخری درجہ میں رکھا ہے اس کی بنیاد پر عورتوں سے لونڈیاں مراد لی گئی ہیںجس میں تعداد کا کوئی بھی تصور نہیں ہے اسلئے حکمران ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں رکھ کر معاشرے، عورت اور انسانیت کیساتھ بے انصافی کرتے تھے لیکن مولوی اور مذہبی طبقہ لالچ، خوف اور کم عقلی یا بے علمی کی وجہ سے قرآن کا درست مفہوم نہیں بتاسکتا تھا۔12نواب آف بہالپور کی بیگمات اور لونڈیوں کے احوال گوگل پر دیکھو اور پھر قرآن وسنت کی تعلیمات کیساتھ مطابقت کرکے دکھاؤ۔

غزوہ بدر میں کس کو غلام اور لونڈی بنایا گیا؟۔ فتح مکہ ہوا تویہ کوئی بتاسکتا ہے کہ اگر ابوسفیان کو غلام اور حضرت ہند کو لونڈی بنادیا جاتا تو مشرکینِ عرب اسلام قبول کرتے؟۔

سبرہ بن معبد نے کہا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہۖ نے عورتوں کیساتھ متعہ کی اجازت دی تو میں اور میرے چچازاد ہم تلاش میں بنی عامرگئے اور ایک عورت مل گئی جیسے وہ کنواری ہو اور خوبصورت پتلی گردن والی۔میرے پاس چادر پرانی تھی اور ساتھی کے پاس نئی خوبصورت۔ اس نے کہا کہ بدلے میں کیا دو گے؟تو اس نے میری اور اس کی چادر کی طرف دیکھا ، دونوں کی شکلیں بھی دیکھیں تو بدصورت تھا بھاری خون کے قریب اور میری شکل اچھی تھی تو اس نے میرا انتخاب کیا۔ اس نے پرانی چادر کو نئی چادر پر ترجیح دی۔

مکثت معھا ثلاثًا ثم ان رسول اللہ ۖ قال : من کان عندہ شی ء من ھذہ النساء التی یتمتع فلیخل سبیلھا

”میں اسکے ساتھ تین دن تک رہا ۔ پھر رسول اللہ ۖ نے فرمایا: جس کے پاس متعہ کی عورتوں میں سے کسی سے تعلق ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے”۔

حرام حلال کا تعلق اس سے نہیں ہوسکتا ہے کہ فتخ مکہ کے دن حلال کیا پھر حرام کیا، بخاری میں ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبیۖ نے پالتو گدھوں کا گوشت اور عورتوں سے متعہ حرام کیا لیکن احادیث کے نام پر بہت سارے معاملات میں ڈنڈیاں ماری گئی ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کیلئے متعہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں ہے لیکن لونڈی کا معاملہ تو اس بھی بہت زیادہ بدتر ہے۔

معاشرے میں ضرورت کے تحت ایک عورت کیلئے یہ جب ہوسکتا ہے کہ شوہر کو تمام حقوق سے دستبردار قرار دے لیکن اس کو اپنی زوجیت میں رکھے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باقی حقوق سے وہ عورت آزاد رکھے ، رہائش کھانا پینا اور خرچہ لیکن جنسی تسکین کی خاطر کچھ اوقات کے بعد ملاپ کا سلسلہ جاری رہے۔ یہی چیز ایگریمنٹ ہے۔ عربی سمجھنے کیلئے ترکیب کی ضرورت ہے۔

ماملکت ایمانکم ” حرف ”ما ” موصولہ بمعنی جو۔ ملکت :فعل۔ ایمان جمع یمین کی مضاف کم مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر فاعل ۔ فعل فاعل سے مل کر صلہ ۔

عربی میں دائیں ہاتھ سے عہد لیا جاتا ہے اسلئے اس کو یمین کہتے ہیں۔ ہاتھ بھی عربی مؤنث ہے اور یمین بھی۔ یمین کی وجہ ملکت کا فعل مؤنث ہے۔ جملے کا ترجمہ یہ ہے” وہ عورتیں جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ایک نکاح کا پکا معاہد ہ تو دوسرا نکاح کا کچامعاہدہ ہے۔ کوئی آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو تو دونوں کے ساتھ پکا نکاح بھی ہوسکتا ہے جس میں بیوی کے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو عورتوں کو دئیے گئے ہیں دوسری طرف عورتیں بیوی کے حقوق سے دستبردار ہوں تو پھر ان پر ہی ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ غلام اور لونڈی پر اس وجہ سے فٹ ہے کہ اس کو عبدیت اور ملکیت سے نکال کر گروی کا درجہ دیا گیا ہے لیکن غلام اور لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات کی اجازت نہیں ہے ،وہ مالی معاملات کی وجہ سے معاہدے والے کہلاتے ہیں ورنہ پھر عورت بھی اپنے غلام سے جنسی تعلق قائم کرے گی۔ جس طرح عبد اور عبدیت کا جواز نہیں چھوڑا ہے تو اسی طرح لونڈی اور لونڈیت کے جاہلانہ احکام کو قرآن وسنت نے دنیا سے ختم کیا لیکن مفاد پرستوں نے پھر جواز بخش دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے کیوں؟،قرآن وحدیث اور فطرت سے اس کا اطمینان بخش جواب، تاکہ اسلام کے نام پر جعلی بہروپئے دانشوروں کی حقیقت اور علماء حق کا دنیا کو پتہ چلے!

قریش عرب اوربنی اسرائیل حضرت ابراہیم کی نسل تھے ۔ حضرت محمد نبی آخرزمانۖ کی بعثت قریش میں ہوئی ہے اور حضرت اسماعیل کے بعد سے رسول اللہ ۖ تک کوئی نبی بھی عرب میں مبعوث نہیں ہوئے۔ جبکہ بنی اسرائیل میں ہزاروں کی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔علامہ شہشاہ حسین نقوی نے کہا کہ ”دنیا میں ہمیشہ حجت الزماں شخصیات رہی ہیں اور نبیۖ سے پہلے عبداللہ، عبدالمطلب،حضرت ہاشم سب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک حجت اور امام زماں تھے”۔

اللہ نے قرآن میں اہل کتاب سے فرمایاکہ ”دین میں غلو مت کرو”۔ رسول اللہ ۖ کے چچا ابوالہب کا نام عبدالعزیٰ تھا تو کیا کوئی حجت خدا اپنے بیٹے کا نام مشرکانہ رکھ سکتا ہے اسلئے وہ زن مرید بن گیا تھا کہ اس کا نام ایک معبودہ کے نام پر رکھا تھا؟ لیکن جاہلوں کو بس چندہ بٹورنے کا فن آتا ہے اور کچھ نہیں۔

سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے بعد جب حضرت اسحاق کی نسل سے اتنے سارے انبیاء کرام مبعوث ہوئے تو پھر عرب نے جب حضرت ابراہیم کے صحائف بھی کھو دئیے تھے تو پھر وہ اس بنی اسرائیل کے انبیاء کے پیچھے کیوں نہیں گئے جہاں ملوک اور انبیاء پیدا ہوئے؟۔ اللہ نے قرآن میں بنی اسرائیل سے یہ فرمایا کہ”اس نعمت کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں جہاں والوں پر فضیلت دی تھی”۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ” حضرت ابراہیم کے وقت میں حضرت لوط کی قوم پر عذاب آیا۔ ابراہیم نبی اور امام تھے لیکن ان کا دائرہ کار اپنی حدود تک ہی محدود تھا۔ جب ایک نبوت کا سلسلہ تھا کہ اسحاق کے بعد یعقوب اور پھر یوسف بھی نبی تھے تو یوسف کیساتھ اپنے ان بھائیوں نے کیا کیا؟۔ جو اس نبوت کے سلسلے کی مضبوط کڑی سے تعلق رکھتے تھے؟۔ جب گھر میں معاملہ اس قدر خراب تھا تو عرب اس کو کیوں قبول کرتے؟ اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے99بیویوں کے باوجود بھی جب اپنے مجاہد اوریا سے اس کی بیوی لینے کی خواہش دل میں رکھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتے نازل کرکے

لی نعجة ولہ تسع و تسعون نعجة

”میرے پاس ایک دنبی ہے اور اس کے پاس99دنبیاں ہیں”سے تنبیہ کردی اور اس نے پھر اللہ سے معاف مانگی فغفر لہ پھر اللہ نے اس کو معاف کردیا۔

حضرت موسی علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جاؤ اور ان سے لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے ہیں اور ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا جس پر حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو داڑھی سے پکڑکر اپنی طرف کھینچااور اس نے کہا کہ ”اے میری ماں کے بیٹے!” یعنی وہ حضرت یوسف کی طرح سوتیلے بھائی بھی نہیں تھے۔ شیعہ کا خطیب ہوتا تو داڑھی کھینچنے کے ساتھ پوری تاریخ کو بھی کھینچ کر کہا ں سے کہاں پہنچادیتا؟۔ اور بعض بدبخت تو پھرکردار سے اختلاف کی بنیاد پر نسل پر بھی تہمت لگانے سے نہیں شرماتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند ساتھی تھے تو عرب ان کے دین کو کیسے قبول کرتے؟۔ عرب کے پاس تو عیسائیت اس حال میں پہنچی کہ وہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں کے قائل تھے جبکہ یہودی ضد میں حضرت عزیز علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ جیسے شیعہ عاشورہ میں دس محرم کو ماتمی جلوس منانا شروع ہوگئے تو جن لوگوں کے ہاں میلادالنبیۖ کا یوم منانا بدعت تھا وہ ضد میں فاروق اعظم کے دن کو یکم محرم میں منانے لگ گئے۔ یہی وہ غلو تھا جس کو منع کیا گیا تھا مگر غلو نے پنجے بہت گاڑھ دئیے ہیں۔

قریش عربوں کیلئے بنی اسرائیل کے مذاہب یہود ونصاریٰ میں کوئی دلچسپی کی چیز نہیں تھی تو کیوں ان کا دین قبول کرتے؟۔ اسلئے رسول اللہ ۖ کے والدین کو کافر اور جہنمی قرار دینے والا طبقہ پہلے یہ دیکھ لے کہ قرآن میں مؤمن ، کافر اور منافق کی کیا تعریف ہے؟۔ سورہ بقرہ کے پہلے رکوع میں مؤمن اور کافر کا حلیہ بتایا گیا ہے۔ ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیںہے۔ ہدایت ہے متقیوں کیلئے ،جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیںاور جو اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور جوایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ کامیاب ہیں”۔ رسول اللہۖ کے والدین کے وقت میں یہ قرآن نازل نہیں ہوا تھا اورابراہیم کے صحائف بھی عرب میں نہیں تھے۔ اسلئے وہ اہل کتاب نہیں تھے لیکن ایمان کے ترازو پر پورے اترتے تھے۔

پھر قرآن نے کفار کا آئینہ پیش کیا ہے” بیشک جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے برابر ہے کہ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیں گے۔ مہر لگادی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے”۔ اگر نبیۖ کے والدین کو قرآن کے اس آئینہ میں دیکھ لیں تو کفار کی صفات پر پورے نہیں اترتے لیکن پھر اگر قرآن کے واضح احکامات کی موجودگی اور وضاحت کے باوجود بھی کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں تو وہ اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ لیں۔

پھر قرآن نے منافقین کا دوسرے پورے رکوع میں آئینہ پیش کیا ہے جس میں ہم خود کو اور دوسروں کو دیکھ سکتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کی فطرت سلامت تھی اسلئے بنی اسرائیل کی طرح عربوں میں انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ اس طرح سے نہیں رہا تھا اور عرب کے مقابلے میں پھر برصغیر پاک وہند کے ہندو اور بدھ مت کے لوگوں کی فطرت اتنی نہیں بگڑی تھی جتنی عربوں کی بگڑ چکی تھی اسلئے قرآن عرب میں نازل ہوا۔ عرب کعبہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور عرب میں دوپٹہ کا تصور نہیں تھا۔ عرب کی عورتیں اپنی چھاتیاں برہنہ کرتی پھرتی تھیں جس کو تبرج الجاہلیة کا نام دیا گیا۔ عورتیں ننگا نہاتی تھیں جس کی وجہ سے جاہلی شاعر امراء القیس کا قصہ وجود میں آیا تھا۔ برصغیر پاک وہند کی خواتین کا قومی لباس بہت ہی عزت دار اور شرم وحیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔

قرآن نے عرب خواتین میں سینہ کھولنے سے منع کرنے کیساتھ ساتھ سینے پر اضافی دوپٹہ اوڑھنے کا حکم بھی دیا۔ بخاری کے اندر چار قسم میں سے تین اقسام کے نکاح بہت خراب تھے جس کا مغرب و مشرق میں کہیں تصور نہیں ہے۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ یہ اجنبی لوگ عبداللہ بن مسعود کے سامنے کرہ ارض پر اللہ نے دکھائے۔جس کا تعلق جٹ قوم سے تھا۔ جو بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ”اگر ہندو اپنی کتاب ویدوں پر چلیں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے”۔عرب کے پاس حضرت ابراہیم کے صحائف نہیں تھے لیکن ہندو کے پاس اپنے صحائف ہیں اوراس میں قرآن کی طرح تعلیمات محفوظ ہیں تو ہندو اور مسلمان ایک اسلئے نہیں ہوتے کہ دونوں نے اپنی اپنی کتابوں میں معنوی تحریفات کا ارتکاب کررکھاہے۔ سکھ اسلئے ایک تیسرے مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئے کہ ہندو مسلمان اپنے مذاہب کے برعکس اپنی فطرتیں بگاڑ چکے تھے۔

طلاق وحلالہ کی لعنت کے غلط اور خلاف فطرت مسائل کون قبول کرے گا؟۔ جس دن مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کریںگے اور اسلام کو اجنبیت سے نکال لیں گے تو ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی، جین ، پارسی اوربدھ مت وغیرہ سب مسلمانوں کے ساتھ اسلام کے فطری نظام کیلئے کھڑے ہوجائیں گے۔

عربی مدارس میں نصاب کے اندر بہت زیادہ تبدیلی کی بڑی سخت ضرورت ہے لیکن اصول فقہ میں کچھ ایسے قواعد کے نشان ہیں جن سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوسکتی ہے۔بطور مثال :

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

”پھراگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ البقرہ آیت:230

اصول فقہ میں حنفی مؤقف موجود ہے کہ ” اس طلاق کا تعلق جسکے بعد حلال نہ ہونے کی وضاحت ہے اس سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے”۔ اور یہی مؤقف زادالمعاد میں علامہ ابن قیم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے لکھا ہے۔

اگر تدبر کرکے دیکھا جائے تو یہ وہی صورت ہے کہ جس میں عورت کی طرف سے طلاق کے بعد کنفرم ہوجاتا ہے کہ رجوع پر وہ کسی صورت بھی راضی نہیں یہاں تک کہ فدیہ کی قربانی بھی دینے پر تیار ہے۔ جبکہ قرآن کی تمام آیات میں یہ واضح ہے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو رجوع حلال نہیں۔ لیکن جب عورت رجوع پر راضی ہو تو اس کا نام معروف ہے اور پھر بہر صورت عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں حنفی اور اہل حدیث کی یہ کتابیں بہت بنیادی ہیں اور یہی قرآن ہے، یہی حدیث ہے اور یہی فطرت ہے اور اسی پر وہ دنیا چل رہی ہے جن کی فطرت کو مذہبی طبقات نے یہودونصاریٰ کی طرح بگاڑ نہیں دیا ہے۔

حنفی اصول فقہ میں یہ ہے کہ

حتی تنکح زوجًا غیرہ

”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”اللہ کے اس حکم میں عورت کو اپنے نکاح کیلئے آزادی مل گئی ہے جبکہ اس کے برعکس حدیث میں ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے، باطل ہے”۔ اسلئے حنفی کے نزدیک قرآن کے مقابلے میں اس حدیث کو ناقابل عمل قرار دیکر ترک کردیا جائے گا۔

اہل حدیث اس پر متفق نہیں ہیں لیکن قرآن کے اس جملہ کی بنیاد طلاق شدہ عورت ہے اور اس کو ولی کی اجازت کے مقابلے میں کھڑا کرنا بھی غلط ہے اسلئے قرآن اس کو سابقہ شوہر کے ہی اختیار سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ سے لیکر شہزادہ چارلس تک سابقہ بیوی کی کسی اور شوہر کیساتھ نکاح پر غیرت کھانے کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے عورت کو آزاد کرنا بہت بڑی بات ہے۔ ریحام خان کو جب طلاق دی گئی تھی تو لندن سے وہ پاکستان جان کا خطرہ مول لیکر واپس آنے کا میڈیا پر اعلان کررہی تھی۔ واقعات سے دنیا بھری ہوئی ہے اور قرآن کی آیت230البقرہ کا مطلب بھی بالکل واضح ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں معروف کی شرط پر عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع واضح ہے۔

تاہم حنفی قاعدہ کے مطابق :

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف

” اور انکے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیاددہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو معروف کے ساتھ ان پر ہیں”۔البقرہ:آیت228

اگر حنفی قاعدہ کے مطابق دیکھا جائے اور اس سے کوئی ایک حدیث بھی ٹکرائے تو کیا قرآن پر عمل ہوگا یا حدیث پر؟۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے سامنے بات پیش کی اور وہ مان گئے اور پھر قبلہ ایاز صاحب کے سامنے بات پیش کی جو6سال چیئرمین رہے ،مجھے خط بھی لکھا اور بالمشافہہ ملاقاتوں میں بھی مان گئے لیکن جرأت کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ قرآن کے برعکس کوئی بھی حدیث نہیں ہے جس میںعدت کے اندر کوئی رجوع کرنا چاہتا ہو تو رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اگر بالفرض کوئی حدیث ہوتی بھی تو حنفی اصول فقہ کا تقاضہ یہ تھا کہ اس حدیث کو مسترد کردیا جاتا۔ مدارس کے علماء ومفتیان کو جب اپنے عقیدتمندوں کی عزتوں کے بچانے کا احساس نہیں تو غیرمسلم کی خواتین ان پر بھروسہ کرسکتی ہیں؟۔

قبلہ ایاز نے کہا تھا کہ” علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں”۔ جاویدغامدی کا شاگرد مولاناعمار خان ناصرعلامہ زاہدالراشدی کا بیٹا اور مولانا سرفراز خان صفدر کا پوتا ہے۔ مولوی کو جہاں پر اچھی روٹی ملتی ہو تو اس کیلئے غامدی، شیعہ اور ہربلا بننے کو بالکل تیار ہوجاتا ہے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت مآبۖ کو اپنا منہ آخرت میں دکھائیں گے کہ آپۖ کے والدین شریفین کو بغیر اتمام حجت کے کافر اور جہنمی قرار دیتے تھے لیکن خود قرآن کی کوئی حجت اپنی آنے والی نسلوں کی عزتیں بچانے کیلئے بھی قبول نہیں کرتے تھے تو شرمندگی تو میرے خیال میں بنتی ہے؟۔

جاویداحمد غامدی کے دو تفصیل سے ویڈیوز یوٹیوب پر ہیں۔ ایک مسئلہ تین طلاق پر اور دوسرا شرعی پردے پر۔ دونوں میں ریکارڈ بکواس کی ہے۔ جب علماء ومفتیان درس نظامی میں فقہ کے اصول پڑھ کر اس کی سمجھ اور اس پر عمل سے قاصر ہوں گے تو پھر جاہل لوگ خود ساختہ اس کی حماقتیں کریں گے۔

عرب میں درست نکاح والے بھی تھے اور بدفطرت بھی اور درست لباس والے بھی تھے اور بیکار لباس والے بھی۔ اسلئے کہ اللہ نے جاہلیت کی طرح سینہ ننگا کرنے سے بھی روکا ہے اور اس کی ابھار کی زینت کو نمایاں کرنے سے اجنبیوں کے سامنے سے روکا ہے۔ جس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور کبھی مزید اس کی وضاحت کروں گا انشاء اللہ۔ جاویداحمد غامدی ”شرمگاہوں کی حفاظت کے حکم ” سے لوگوں کو بے لباس کرنے کے چکر میں لگتا ہے۔ حالانکہ شرمگاہوں کی حفاظت تو برقعوں میں بھی حکم ہے۔ ہٹلر پر اپنے لوگ یقین رکھتے تھے لیکن بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ دماغی طور پر معذور ہوگیا تھا۔ غامدی کا بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

والذین ھم لفروجھم حافظونOالاعلٰی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیرملومینO

اورجو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج یا جن کیساتھ معاہدہ ہواہے تو بیشک وہ ملامت نہیں ہیں (المؤمنون)

اسلام نے عبدیت اور ملکیت کے نظام کوبالکل ایگریمنٹ اور گروی رکھنے میں تبدیل کردیا!

قد افلح المؤمنونOالذین ھم فی صلاتھم خاشعونOوالذین ھم عن اللغو معرضونOوالذین ھم للزکاة فاعلونOوالذین ھم لفروجھم حافظونOالا علی ازوجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومینOفمن ابتغٰی وراء ذٰلک فاولئک ھم العادونOوالذین ھم لاماناتھم و عھدھم راعونOوالذین ھم علی صلواتھم یحافظونOالٰئک ھم الوارثونOالذین یرثون الفردوس ھم فیھا خالدونO(سورہ المؤمنون)

1:بیشک فلاح پاگئے ایمان والے،
2:جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں،
3:جو لغویات سے پہلوتہی برتے ہیں،
4:جو زکوٰة دیتے ہیں،
5:جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج پر یا جن کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے،
6:جو اس کے علاوہ کے طلب گار ہیں تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں،
7:جو اپنی امانتوں کو اور اپنے وعدوں کو نبھاتے ہیں،
8:جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،
9:یہی لوگ وارث ہیں (زمین کے اور انبیاء کرام کے)
10:یہی لوگ وارث ہیں فردوس کے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(آیات1تا11)

ایک پٹھان مروت حافظہ یتیم لڑکی نے سوال کیا کہ ہمارے ہاں لوگ مدارس چلاتے ہیں اور مذہبی ہیں لیکن قوم لوط کے عمل میں مبتلاء ہیں۔ جس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک بہت طیش میں آیا اور لڑکی کو خوب سنایا۔ مذہبی حلقوں نے ذاکر نائیک کی بات کو بہت سراہا اور معروف صحافی سبوخ سید نے اپنے ولاگ میں بتایا کہ وہ یتیم بچی ہے۔ مدرسہ کو اپنی زمین بھی دی ہے اور اب لوگوں کی طرف سے اس کی جان کو خطرات پیش آئے ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک جاہل نے قرآن کی مخالفت کی۔ اس کو کہنا چاہیے تھا کہ مؤمن کے جامع صفات کا واضح نقشہ بیان کیا گیا ہے اگر ایک صفت کی بھی کمی ہو تو وہ اس کی وجہ سے مؤمن کی صفات سے نکل کر حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ چاہے وہ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ہو جس کی ویڈیوز نشر ہوئیں یا پھرشیخ الحدیث مولانا نذیراحمد جامعہ امدادیہ فیصل آباد جس کو طلبہ پر جنسی تشدد کی وجہ سے مدرسہ سے نکال دیا گیا تھا اور چاہے کسی بھی مسلک اور مذہب سے اس کا تعلق ہو۔

سورہ بقرہ کی آیات229اور230میں بڑی وضاحت کی بنیاد پر حلالہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو ظالم قرار دیا ہے لیکن پھر بھی حلالہ کی تلاش میں فقہاء نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ دیا ۔ حلالہ کی طرح سے غلام اور لونڈی کے نظام کو بھی اسلام نے ختم کردیا تھا لیکن ہوس پرستوں نے پھرسے جاہلیت کے دور کو زندہ کردیاتھا ۔

دورِ جاہلیت میںحضرت ابوبکر کا نام عبدالکعبہ تھا۔ یعنی کعبے کا غلام۔ رسول اللہ ۖ نے نام بدل کر عبداللہ رکھ دیا اسلئے کہ اسلام میں اللہ کے سوا اللہ کے گھر کی غلامی بھی جائز نہیں لیکن قرآن واحادیث کے مفہوم کو بگاڑ کر دورِ جاہلیت کو زندہ کردیا۔ عربی میں غلام کا معنی لڑکا، بیٹا اور برخوردار ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی مواعظ میں یاغلام! کہتے تھے تو اس کا مطلب ”اے برخوردار !” ہے لیکن لوگوں نے اسکو اردو اور فارسی کا غلام سمجھ لیا اور پیری مریدی کا تصور بھی عربی عبدیت غلامی میں بدل گیا۔

جاہلیت میں عبد (غلام) اَمة (لونڈی) ملکیت تھے۔ جیسے جانور۔ مثلاً غلام و لونڈی کے جسمانی اعضاء کو بیچا جاسکتا تھا۔ لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات جائز تھے اور قرآن وسنت نے اس تصور کا خاتمہ کردیا لیکن اسلام بہت تیزی کیساتھ اجنبیت کی طرف لوٹ گیا اسلئے دنیا میں غلامی ولونڈی کا نظام موجود ہونے کی وجہ سے قرآنی آیات کے مفہوم کو غلط رنگ دیا گیا۔

قرآن نے غلام و لونڈی کی ملکیت کا خاتمہ کرکے ان کیلئے گروی کی اصطلاح متعارف کرادی۔ مزارع، مزدور اور نوکر کو قرضہ دیا ہو تو وہ گروی ہوسکتا ہے لیکن مملوک نہیں ہوسکتا ہے۔ امریکہ ،پاکستان اور بہت سارے ممالک پر سودی قرضہ ہے تو وہ مملوک نہیں گروی ہیں۔ جیسے کراچی یا اسلام آباد ائیر پورٹ کو بینک گروی رکھے تو اگر دیوالیہ قرار دیا جائے تو پھر اس کی اس وقت نیلامی ہوگی اور حاصل ہونے والے پیسوں سے قرضے کی ادائیگی ہوگی۔ نام نہاد اسلامی بینکاری میں فرضی قیمت سے یہی ائیرپورٹ بینک کے نام کردیا جاتا ہے اور جب دیوالیہ ہونے کی بات آئے تو اصل مالک پھر پہلے سے اسلامی بینک ہوگا۔ اسلامی بینکاری ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ خطرناک ہے۔

اسلام نے انسانوں کی ملکیت غلامی اور لونڈی بنانے کے معاملے کو بالکل ناجائز قرار دیا۔ لونڈی اور غلام کیلئے آزاد سے نکاح کا قانون متعارف کرایا۔

والعبد مؤمن خیر مشرک ولامة مؤمنة خیر من مشرکة اور انکحوا الایامی منکم الصالحین من عبادکم وامائکم

”اور مؤمن غلام آزاد مشرک سے نکاح کیلئے بہتر ہے اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے نکاح کیلئے بہتر ہے” اور ” نکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ و بیوہ عورتوں کا اور اپنے تندرست غلاموں کا اور لونڈیوں کا”۔ (القرآن) ایک طرف مفتی تقی عثمانی، غامدی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی لونڈی ہوتی اور دوسری طرف اس کا کسی اور سے نکاح کرایا جاتا؟۔ اگر یہ قرآن کا حکم ہوتا تو رسول اللہ ۖ حضرت ماریہ قبطیہ سے قرآنی حکم کے مطابق نکاح کراتے؟۔ قرآن نے لونڈی کا نکاح کرانے کا حکم اسلئے دیا کہ نکاح کے بغیر اس کے ساتھ جنسی تعلق جائز نہیں تھا اور اگر لونڈی بیوی تھی تو پھر کسی اور سے نکاح کرانے کی کیا ضرورت ہوسکتی تھی؟۔

قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وماملکت ایمانھم

”بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے حق مہر فرض کیا ہے ان کی بیویوں کا یا ان سے معاہدہ کرنے والیوں کا”۔(سورہ احزاب:50)عورت آزاد ہو یا لونڈی ہو اسکے ساتھ جنسی تعلقات کیلئے عمرانی معاہدے کی یہ دو صورتیں ہیں۔ ازواجھم اوماملکت ایمانھم میںیہ فرق ہے کہ ازواج کی پوری ذمہ داری اٹھانی ہے جس کو قرآن نے واخذن منکم میثاقًا غلیظًا طلاق کے بعد ان کے حقوق دو اور ان پر الزام تراشی کرکے حقوق سے محروم مت کرو اسلئے کہ انہوں نے تم سے پکا عہد لیا۔جسکے مقابلے میں ملکت ایمانھم کے اندر واخذن منکم میثاقًا خفیفًا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کو اللہ نے کسی ازواج کی تعدادمیں اضافہ یا تبدیلی کو منع فرمایا تو الا ماملکت یمینک کا استثنیٰ دیا۔حضرت علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی اسلئے کہ وہ اپنے بچوں اور شوہرکی وفادار تھی۔ اللہ نے نبی ۖسے فرمایا ”ہم نے ان چچا کی بیٹیوں کو آپ کیلئے حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔

علامہ بدرالدین عینی نے نبی ۖ کی28ازواج کا ذکر کیا ہے جن میں حضرت ام ہانی بھی شامل ہیں۔ حالانکہ انکے ساتھ ماملکت ایمانھم کا تعلق تھا نہ کہ ازواج مطہرات کا ۔ عبداللہ بن زبیر نے متعہ کو زنا قرار دیا تو حضرت علی نے کہا کہ ”تم خود بھی متعہ کی پیدوار ہو”۔ مدینہ میں مسلمانوں کی ہجرت ہوئی تو یہود نے دعویٰ کیا کہ ان کی ازواج پر جادو کردیا گیا ہے اور کوئی اولاد کسی جوڑے کی پیدا نہیں ہوگی۔ عبداللہ بن زبیر ہی پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا تھا اور نبیۖ نے بہت خوشی کا اظہار بھی ان کی پیدائش پر کیا تھااور مسلمان بھی بہت خوش ہوئے تھے۔

واتبعوا ماتتلو الشیاطین علی ملک سلیمان و ما کفرسلیمان و لٰکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر وانزل علی المکین ببابل ھاروت وماروت وما یعلمان من احدٍ حتی یقولا انما نخن فتنة فلا تکفر فئتعلمنون منھما ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ وھم بضارین بہ من احدٍ الا باذن اللہ و یتعلمون ما یضرھم و لا ینفعھم ولقد عملوا لمن اشتراہ مالہ فی الاٰ خرة من خلاق و لبئس ما شروا بہ انفسھم لو کانوا یعلمونO(سورہ البقرہ:102)

اللہ نے اس سے پہلے یہود کا تفصیل سے ذکرکیا ہے جنکے پاس موسیٰ علیہ السلام معجزات لائے پھر انہوں نے اس کے بعد بچھڑے کو پکڑلیا اوراللہ کی باتیں سن کر اس کی نافرمانی کرتے۔

واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرھم ”اور ان کے کفر کی وجہ سے انکے دلوں میں بچھڑے کوانڈیل دیا گیا تھا”۔

جاویداحمد غامدی اور اس کے ساتھیوں کا بچھڑا حسن الیاس ہے جس کی وجہ سے صریح آیات کی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو امریکہ کو مہذب فاتح کہہ کر اپنے لئے جگہ بنارہاہے۔ ہاہاہا

دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کیلئے ایک سرمایہ دارانہ سودی نظام تھا اور دوسرا جاگیردارانہ مزارعت کا نظام تھا۔ جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ آج اگر ریاست مدینہ کے مطابق پاکستان کی سرزمین کو سودی اور مزارعت کے نظام سے پاک کردیں گے تو امریکہ، روس، چین ، بھارت ، شمالی وجنوبی کوریا، یورپ، افریقہ اور آسڑیلیا سمیت پوری دنیا پاکستان کے تابع بن جائے گی اور اسرائیل بھی پاکستان کے اسلامی نظام سے خوش ہوجائے گا۔

پاکستان اور دنیا میں بیروز گاری اور بھوک کا خاتمہ مزارعت کے جاگیردارانہ اور سودی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے ممکن ہے۔ پھر میرٹ پر تعلیمی نظام سے دنیا عروج کو پہنچے گی۔

مسلمانوں نے اپنی ازواج کو بھی انکے حقوق نہیں دئیے۔ رسول اللہ ۖ سے اللہ نے فرمایا کہ ” یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ یہود حلالہ کی لعنت میں مبتلاء تھا۔ عیسائیوں میں طلاق نہیں تھی۔ یہود اور عیسائی کا مذہبی طبقہ اپنی خود ساختہ ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر نبیۖ سے راضی نہیں ہوسکتا تھا اسلئے اللہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ” ان کو اپنے اولیاء مت بناؤ”۔ اولیاء سے مراد دوستی نہیں افتاء وقضا ہے۔ جب ان کی عورتوں کو نکاح میں لے سکتے ہیں تو اس سے زیادہ دوستی کیا ہے؟۔

جب دنیا کو یہ یقین ہوجائے گا کہ قرآن وسنت کا نظام اس سے بہت مختلف ہے جو مذہبی طبقات نے ایجاد کررکھاہے تو پھر مسلمانوں سے پہلے یہ لوگ اپنے ہاں اسلام کو نافذ کریں گے۔

سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ،پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO

”اور شادی شدہ عورتوں میں سے مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ۔ تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے……”۔

اس آیت کی تشریح و تفسیر متشابہات میں سے تھی۔ اسلئے اس پر مختلف صحابہ کرام کی طرف بھی کئی اختلافات منسوب ہیں۔
آج بیوہ عورت کو شوہر کی سرکاری مراعات ملتی ہیں کہ جب تک وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔ محصنات کا اطلاق بیوہ سرکاری افسر وںکی بیگمات پر بھی ہوتا ہے جن کو مراعات سے محروم کرنا غلط ہے اور زمانہ نے کتاب اللہ کی تفسیر کردی ہے۔

اگر غیر مسلموں کو پتہ چل جائے کہ مسلمانوں نے خلافت قائم کرنے کے بعد دنیا پر بالادستی قائم بھی کی تو ان کی عورتوں کو لونڈی بنانے اور انسانی حقوق سے محروم کرنے کا کوئی تصور نہیں ہوگا تو وہ مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی بھی نہیں رکھیں گے۔

اگرغیر مسلم خاتون جائیداد پر قبضہ کے خوف سے نکاح نہیں کرتی تو ایگریمنٹ کا معاملہ اللہ نے جائز قرار دیا۔ قرآن کے قوانین قیامت تک ہدًی للناس انسانوں کیلئے رہنمائی ہیں

والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم اذا اٰتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسافحین و لامتخذی اخدان
” نکاح یا معاہدہ کیا جائے نہ کہ مستی نکالی جائے اور نہ چھپی یاری کرو”۔

عرب میں عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ جنسی تعلق رکھتے اور10تک افراد سے بیک وقت نکاح ہوتا اور اپنی بیوی کسی کو حوالہ کردی جاتی تو اس بے غیرتی کا قرآن وسنت نے خاتمہ کیا اور آج دنیا اسلام پر عمل کرنے کو تیار مگرچراغ تلے اندھیرا ہے۔ یہ شمارہ اغیار اور اپنوں کی غلط فہمیاں دور کرے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ ہاؤس کا ایران کے خلاف جنگی اخراجات عرب ممالک سے وصول کرنے کا واضح اشارہ: ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف امریکہ و اسرائیل کی ایران ولبنان سے صلح کروائیں اورعورت کے حقوق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ حل کرنے پر بھی اجلاس بلائیں!

جب تک قرآن کی درست تفسیر سے مسلمان غلط فہمی کو دور نہیں کرتا تو ظلم کا نشانہ بنتا رہے گا

امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایرانی قیادت مار ڈالی ۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا مگر پہلے قطر کو اسرائیل پھر ایران سے امریکہ نے تحفظ فراہم نہ کیا بلکہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان کو بڑی گندی گالی بھی دی، امریکہ کی ترجمان کیرولائن نے کہا کہ ٹرمپ عربوںسے جنگ کے اخراجات بھی مانگ سکتا ہے جیسے1990ء میںاشتراکی جنگ میں امریکہ نے عرب ممالک سے اخراجات لئے تھے۔

دنیا حیران ہے کہ امریکہ واسرائیل بدمعاشی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔15اگست1945ء میں جاپان کو سرنڈر کرنے کیلئے دو بڑے شہروں پر ایٹم بم گرائے اور برطانیہ نے آزادی ہند کی خوشی کیلئے15اگست1947ء کا انتخاب کیا تاکہ ہم اس دن آزادی کی خوشی منائیں جس دن جاپان پر ایٹم بم کا غم ہو۔ پاکستان نے پہلا جشن آزادی15اگست کو منایا۔ برطانیہ نے کئی دنوں کا انتظار کیا تھا اور رات کو12بجتے ہی آزادی دے دی گئی تاکہ مشرقی ممالک آپس کی دشمنی میں مشغول رہیں، یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے آزادی کو14اگست دن میںبدل دیا۔

اللہ کہتا ہے کہ جب تم مناسک حج پورے کرچکو

فاذکروا اللہ کذکر کم اٰباء کم وا اشد ذکرًا

” تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ”۔

جاوید احمد غامدی کہتا ہے کہ صفا ومروہ کی سعی مسلمانوں کے روحانی باپ ابراہیم کی زوجہ حضرت حاجرہ کا واقعہ نہیں تھاجبکہ غامدی نے نسل تبدیل کردی تو غامدی یا غامدیہ کا ذکر کرے گا؟۔ ہندو سندھ حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹوں کے نام پر ہیں اور حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی نسل تھے۔ جاوید غامدی قرآن پر جھوٹ کہتا ہے کہ قیامت تک حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کی حکومت رہے گی اور امریکہ دنیاکا سب سے بڑا مہذب فاتح ہے۔

لخ لعنت سڑی شکل، کفریہ عقائد ، اخلاق سے گری حرکت پر ۔ عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا۔ سعید بن جبیر جیسوں کو کلمہ حق پر شہید کردیا۔حلالہ کو رائج اورجاہلیت کو مسلط کردیا۔ قرآن کی تعلیمات اجنبیت کا شکار ہوگئے۔ سنی اور شیعہ دونوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہوگا۔ پاکستان کی سرزمین کا اعزاز ہے کہ امریکہ و ایران اور عرب وایران کی جنگ کو روکنے میں اپنی حکمت عملی سے کامیاب ہوگیا لیکن ابھی مزید بھی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی ہیں آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں

ا سرائیل کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ مسلم یہودی کو بہر حال قتل کرینگے۔ غیر مسلموں کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ تمہاری جو بھی خواتین چاہے شوہر والی ہوں سب کو لونڈیاں بنائیںگے۔ اسلامی خلافت آگئی تو زمین و آسمان والے سب کے سب اس سے خوش ہوں گے۔عربی میں ”عبد” غلام کو کہتے ہیں اور غلام کی ملکیت کا اسلام نے جواز ختم کردیا تھا مگر خلافت پر قبضہ مافیا نے قرآن وسنت کی روح کے منافی جاہلیت کوپھر زندہ کردیا۔

واقیمواالوزن بالقسط و لاتخسروا المیزان ”اور انصاف کیساتھ توازن کو قائم کرو اور میزان کو مت بگاڑو” کا عملی نمونہ اسلامی خلافت نے پیش کرنا ہے ۔ بلا تفریق مذہب و نسل دنیا سب اچھے لوگوں کیلئے جنت کا منظر پیش کرے گی۔

اسلام کو اجنبیت سے واپس لانے کیلئے پاکستان ، بھارت، افغانستان اور ایران کے لوگوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے اور یہ حقیقت ثابت کرنی ہے کہ اسلام نے حلالہ اور لونڈی کے نظام کو ختم کردیا تھا لیکن مفاد پرست حکمرانوں نے پھر غلط تصور کو دنیا میں مسلط کردیا۔ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے اٹھائے جبکہ انقلاب مخالف ایرانیوں نے لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کے ساتھ ڈانس کیا

امریکہ کی بربادی کا راز ہے فقط صیہونی نواز
غرق جہادی بچہ باز مفتی دلا حیلہ ساز
حلالہ کی لعنت پہ ناز سودی معیشت تگ و تاز
انسان انسانیت کا مجاز ہوجائیں سب ایک آواز

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور پاکستان کا شکریہ ادا کررہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے ایران کی وجہ سے پاکستان میں پاکستان کے ہی خلاف نہ صرف جلاؤ گھیرا کیا بلکہ منظم مہم جوئی بھی شروع کردی تھی۔

یہ خوشگوارانقلاب ہے ۔ نفرت کی جگہ محبت ، بداعتمادی کی جگہ اعتماد اور مفاد کی جگہ انسانیت کا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔

جبکہ ایرانی انقلاب مخالف شیعہ لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کیساتھ ڈانس کررہے ہیں جس طرح افغانی طالبان کو پنجاب کا مزدور کہتے ہیں۔ حسن الہیاری اور کافی شیعہ امام خمینی کو تیرواں امام نہیں بلکہ عقیدے کا بدعتی اور گمراہ سمجھتے ہیں۔

صحافی فرزانہ علی کو افغانی صحافی سمیع یوسفزئی نے انٹرویو دیا جس میں ایک اہم بات یہ تھی کہ طالبان سے افغانی اتنے تنگ ہیں کہ اگر اسرائیل آگیا تو افغانی اس کا خیر مقدم کریں گے۔ اس کے بعد پاکستان نے کابل پر بھیTTPکے مفتی نور ولی محسود کو نشانہ بنانے کیلئے بمباری کی تو سمیع یوسفزئی کو غصہ آیا۔

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا
اے میرے گل زمیں تجھے چاہ تھی ایک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر تیرا کیا حال کردیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ فیصلہ اور تھا کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کردیا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کردیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا

سمیع یوسفزئی شاید ناراض ہوکر چل دئیے ۔ اللہ خوش رکھے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ

( اس چینل پر دو افراد ایک مرد اور لڑکی کازبردست مکالمہ)
مرد:عموماً کہتے ہیں کہ آزمائش مومن کو نکھارتی ہے ،درجات بلند کرتی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلا اور آزمائش میں سب سے سخت وقت انبیاء کا ہوتا ہے، پھر ان کا جو ان کے بعد (مرتبے میں)سب سے بہتر ہوں، اور پھر اسی ترتیب سے۔
لڑکی:جی بالکل درست۔
مرد:آج ہم ان مصادرکی گہرائی میں اتریں گے جو اسلامی مستقبل کی انتہائی مرکزی شخصیت یعنی ”مہدی منتظر” کے ذاتی سفر کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لڑکی:مہدی منتظر، جی ہاں۔
مرد:ہم خاص توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں ان کی ”اصلاح کی رات”سے پہلے کے حالات پر ہی۔
لڑکی:آہ، وہ فیصلہ کن رات۔
مرد:جی ہاں۔ اور یہ وہ دور ہے جو ان مصادر کے مطابق گہری آزمائشوں اور منفرد چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ تو ہمارا آج کا مقصد انکے سفر کے اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے جو شاید عام طور پر اتنا معروف نہیں۔
لڑکی:بالکل اور یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ عام تصور سے تھوڑا مختلف ہے۔ لوگ مہدی کو ایسی شخصیت سمجھتے ہیں جو پیدائش ہی سے تمام صفات میں کامل اور مکمل طور پر پاک و صاف ہوں اور عام انسانوں سے وہ مختلف ہوں۔
مرد:بالکل۔
لڑکی:لیکن ہمارے پاس موجود مصادر ایک مختلف راستے کا اشارہ کرتے ہیں، کم از کم الٰہی اصلاح کے لمحے سے پہلے کے بارے میں۔ یہ مصادر ان کے ایسے حالات سے گزرنے کا ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم نشیب و فراز، تجربات اور آزمائشیں کہہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ انہیں ظاہری طور پر لغزشیں یا گناہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
مرد:ہاں، لیکن یہاں فکر اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
لڑکی:کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام کا حصہ ہے جسے ”قانونِ اصطفا”(چن لیے جانے کا قانون) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس میں کبھی کبھی منتخب شخصیت کو زندگی میں توڑ پھوڑ اور پھر تعمیر نو جیسے عمل سے گرزنا پڑتاہے۔
مرد:آہ، توڑ پھوڑ اور دوبارہ تعمیر تاکہ وہ ”اللہ کی نگرانی میں تیار کیے جائیں” (تصنع علی عین اللہ) کہا جاتا ہے۔
لڑکی:بالکل تاکہ اللہ کی خاص نگرانی میں ان کی نشوونما ہو !
مرد:اچھا، یہاں موضوع بہت حساس ہو جاتا ہے اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔یہ لغزشیں کیاہیں جنہیں ”نزول”یا ”ہبوط” (گراوٹ) سے تعبیر کیا جاتا ہے؟۔ مصادرمیں تاکید ہے کہ یہ عام انسانوں کے گناہوں جیسی نہیں ، کیا یہ درست ہے؟۔
مرد:جی نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ منجانب اللہ تقدیر کے تجربات ہیں جو ان کی پاکیزگی اور تیاری کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی دھات کو پگھلانے اور ڈھالنے کا عمل ہو۔
لڑکی:پگھلانا اور ڈھالنا؟۔
مردا:جی ہاں تاکہ خود پسندی یا اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کی کسی بھی ممکنہ باقیات کو توڑ دیا جائے اور قلب کو مکمل طور پر خالی کردیا جائے تاکہ عظیم ترین خلافت کی امانت کو اٹھانے کا اہل ہو سکے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔
مرد:چنانچہ مصادر زندگی کی سخت آزمائشوں اور ظاہری طور پر بار بار گرنے کا ذکر کرتے ہیں اور ہاں!یہاں اہم بات یہ ہے اس تاکید کیساتھ کہ ان کے دل میں ایک فطری نور ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک روشن نقطہ جو کبھی نہیں بجھتا۔
لڑکی:اس نورانی نقطے کی طرح۔
مرد:جی ہاں گویا وہ آگ جو انہیں ظاہری طور پر جلا رہی ہے، وہ حقیقت میں انہیں ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے اور اندر سے پاک کر رہی ہے۔
لڑکی:ہوں! یعنی ایک طرح سے آگ کے ذریعے تطہیر۔
مرد:ایک معنی میں جی ہاں پاکیزگی اور تیاری۔
لڑکی:اورجو چیز اس معاملے کو مزید گہرا بناتی ہے وہ ”اخفا”یا ”الٰہی پردہ پوشی” ہے۔ یہ بدلا ہوا حال ایک طرح کے مموہیCamouflage/(بھیس بدلنے)کے طور پر کام کرتا ہے؟۔
مرد:آہ، یہ ایک اور انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یہ بدلا ہوا حال، ان کا بیرونی مظہر (ظاہری روپ)جو شاید بھٹکنے یا دنیاوی امور میں مشغولیت جیسا نظر آئے، یہ ”الٰہی حجاب”کا کام کرتا ہے۔
لڑکی:حجاب؟۔
مرد:جی ہاں، ایسا حجاب جو حقیقت اور بلند روحانی مقام کو چھپائے رکھتا ہے۔ پس یہ اتار چڑھا ؤ، آزمائش انہیں شیاطین اور ان کے کارندوں کی نظروں سے بچاتی ہے جو روحانی قوت والوں کی تاک میں رہتے ہیں۔
لڑکی:وہ انہیں تلاش کر تے ہیں۔
مرد:بالکل، وہ اس موعود شخصیت کو تلاش کرتے ہیں تاکہ شروع ہی میں نشانہ بنا سکیں۔ چنانچہ جب وہ یہ ظاہری بدلا ہوا حال دیکھتے ہیں، تو وہ شاید یہ سمجھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ یہ وہ مطلوبہ شخصیت نہیں۔
لڑکی:یعنی ایک شعوری الٰہی حفاظت۔
مرد:شعوری الٰہی حفاظت، جی ہاں۔ یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ اصلاح کے عمل سے پہلے مکمل حقیقت کو نہیں پا سکتے۔ یہ ایک الٰہی راز ہے جو (پردہ غیب میں) ودیعت کر دیا گیا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔ تو یہ سخت تیاری اور یہ محکم پردہ پوشی، یہ سب ایک عظیم مقصد کیلئے ہے۔ اس کا تعلق انکے مستقبل کے عظیم کردار سے ہے، کیا ایسا ہی ہے؟۔
مرد:یقینا۔ یہ سخت مصائب اور آزمائشیں اس قائد کی تخلیق کیلئے ضروری ہیں جو امت کی ہمہ گیر اصلاح اور زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا بوجھ اٹھائے گا اسکے بعد جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
لڑکی:ہوں گویا یہ آزمائشیں ان کی سابقہ شناخت کو مٹا دیتی ہیں، عام انسان کی شناخت جو انہوں نے خود بنائی تھی اور انہیں ہر چیز، اللہ کے سوا ہر سہارے سے آزاد کر دیتی ہیں۔
مرد:مکمل تجرید (سب سے کٹ جانا)جی ہاں تاکہ وہ ایک صاف شفاف برتن بن جائیں جو الٰہی خلافت کو مکمل اور خالص طور پر قبول کر سکے۔ چنانچہ ظاہری کمزوری اور بلا سے چھپی ہوئی قوت اور انتخاب (اصطفیٰ)تک کا یہ سفر، انکے عظیم مشن کیلئے ان کی ربانی تیاری کا جوہر ہے۔
لڑکی:یہ تو نقطہ نظر کو بالکل ہی بدل دیتا ہے۔
مرد:مکمل طور پر۔
لڑکی:اچھا، اگر ہم ان مصادر سے نتائج کا خلاصہ کرنا چاہیں تو؟۔
مرد:خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصلاح کی رات سے پہلے مہدی کا سفر انتہائی گہری پیچیدہ تیاری کا راستہ ہے، جو ظاہری آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے جو حیران کن لگ سکتی ہیں ، جو نشیب و فراز اور ایک شعوری الٰہی پردے پر مشتمل ہے اور ان باتوں کو، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ ان کے حق میں کبھی بھی نقص یا عیب نہیں سمجھنا چاہیے۔
لڑکی:ہرگز نہیں۔
مرد:بلکہ یہ اس الٰہی تیاری کے عمل کا اٹوٹ حصہ ہیں جسے معاملات کی سطحی ظاہر بینی سے نہیں بلکہ باطنی حکمت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لڑکی:بلکہ اسکی عمیق باطنی حکمت سے جی ہاں۔
مرد:پس اصلاح سے پہلے ان کی حالت اپنی تمام تر شدت اور ظاہری اجنبیت کے باوجود روحانی شخصیت کی تکمیل ، عظیم مقام، اہلیت کیلئے بہت ضروری ہے جو ان کا منتظر ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ کمال کبھی کبھی آزمائش کی بھٹی سے گزر کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ اور اختتام پر یہ ہم سب کو اللہ کی اپنے بندوں کی تقدیر میں چھپی کامل حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیسے باطن، ظاہر کے بالکل برعکس ہو سکتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے، یہ عظیم کاموں کیلئے تیاری کے راستے بالکل غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
مرد:درست۔
لڑکی:ہم اللہ سے اپنے اور سب کیلئے صبر، ثابت قدمی اور بصیرت کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اس شخصیت کے ظہور اور فرج (کشائش) میں تعجیل فرمائے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیگا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
مرد:اللہم آمین۔
لڑکی:ہم یہ سوال معزز سامعین کے غور و فکر کیلئے چھوڑتے ہیںکہ واقعات اور اشخاص کے پسِ پردہ حقائق کو پڑھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ اور ہم ان گہری حقیقتوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں جو ہماری زندگی اور دنیا میں ظاہری سطروں کے پیچھے چھپی ہو سکتی ہیں؟۔
ــــــــــ

المہدی المنتظر

لا یعلم السری الکمین بداخلہ

نہیں پتہ کس راز کو چھپائے گھات میں بیٹھاہے

بخوف سکت عن الکلام لریبتہ

اپنے اندیشوں سے خوف میں خاموش ہے

بحزن ذرفت الدمع لأمتہ

امت کے غم میں اس نے آنسو بہائے

حارب الظلم بکا مل قوتہ

اور اپنی پوری قوت کیساتھ ظلم کا مقابلہ کیا

رآی الاسلام بضعف فرقتہ

اس نے اسلام کو فرقہ بندی سے کمزوردیکھا

یشاہد موت الأطفال بأعینہ

اور اپنی آنکھوں سے بچوں کی موت کامشاہدہ دیکھا

متی نصر اللہ لنصرتہ

اس کی مدد کیلئے اللہ کی نصرت کب آئے گی؟

تنتظرہ الناس لبیعتہ

لوگ اس کی بیعت کے انتظار میں ہیں۔

یہزم الأعداء یرقی فی السمائ

وہ دشمنوں کو شکست دے گا اور آسمان (بلندی)پر فائز ہوگا۔

ینصر الفقراء یعاقب الأمرائ

وہ فقرا کی مدد کرے گا اور (ظالم)حکمرانوں کو سزا دے گا۔

ثم ابتدی وقت الشقائ

پھر سختی کا دور شروع ہوا

ان العطاء بعد العنائ

بے شک مشقت کے بعد ہی عطاہے

یطلب رضاء رب السماء بین البشر لکن فی خفائ

وہ عوام میں رہ کر ربِ آسمانی کی رضا چاہتا ہے مگر پوشیدہ طور پر

ذہب وحیداً یزرع الصحراء سیہدینا اللہ درب العلمائ

وہ تنہا صحرا میں بیج بونے نکل پڑا، اللہ ہمیں علما ء کی راہ دکھائے گا

لن یظہر المہدی فی أ رض شعبہا جہلائ

مہدی ایسی سرزمین پر ظاہر نہیں ہوگا جس کے لوگ جاہل ہوں

یا ربی انک النور فی من ہدی ارسل سراجک یحکم لنا

اے میرے رب!تو ہی ہدایت پانے والوں کیلئے نور ہے۔ اپنا
وہ روشن چراغ بھیج جو ہمارے درمیان فیصلے کیا کرے۔

یا رب کثر اللئام بأرضنالن یظہر المہدی الاأ ن یشاء ربنا

اے رب!ہماری زمین پر کم ظرف اور کمینے لوگ بہت بڑھ گئے ۔ مہدی تب ہی ظاہر ہوں گے جب ہمارا رب چاہے گا۔

فاذا بہ کالنور یظہر فجأہ اضاء العالم وکاد یہلک ظلمة

پھر اچانک وہ ایک نور کی طرح نمودار ہوگا۔وہ دنیا کو روشن کر دے گا اور تاریکی کو مٹانے کے قریب ہوگا۔

یکسر اللہ بہ شوکہ وتکون الامة فی عہدہ وحدہ

اللہ اس کے ذریعے (دشمن کی) شان و شوکت توڑ دے گا اور اس کے عہد میں امت ایک ہو جائے گی۔
وحدہ مکمل وحدت
ــــــــــ

شیعہ سنی کاتفرقہ سمجھ

ہل تعلم کیف اشتعل الحریق شیعی وسنی بمساجد تفریق
کیاجانتے ہو آگ کیسے لگی؟ مساجدکی شیعہ و سنی کی تفریق سے

کافر ان خرجت من البئر السحیق طائفتک یا بنی الاصل العریق

کافر قرار دے گااگر آپ اس گہری کھائی تفرقہ سے نکلے تیرا گروہ اے اصل اعلیٰ نسب والے!۔

نحن الاصح وہم ضلوا الطریق نسالک لمحنتنا زوال

(ہر گروہ کہتا ہے کہ )ہم ہی درست ہیں اور وہ راستہ بھٹک گئے اے اللہ ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کو دوبارہ باہمی ملاپ عطا کر، انہوں نے فتنہ بھڑکایا ہے اور وہ گمراہی چاہتے ہیں۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

وہ ظاہر میں شیخ ہے مگر باطن میں دجال ہے، اے میرے رب! تیرے ہی ذریعے ہم متحد ہو سکتے ہیں اور تیرے سوا یہ ناممکن ہے۔

یا رب المسجد بالفتنہ ملیء والشعب من فتنتہ بریء امتلأت کلاما عربیا ردیء الہی امتنا لوجہک تفیء ننتظرک ربی المساجد لتضیئ

اے رب!مسجدیں فتنوں سے بھر گئی ہیںاورقوم فتنے سے بیزارہے،(مساجد)گھٹیا عربی کلام سے بھر گئی ہیں۔میرے معبود! ہماری امت تیری طرف لوٹتی ہے، اے رب!ہم تیرا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مساجد روشنی دیں۔

نسالک لمحنتنا زوال رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہم تجھ سے اپنی مصیبت کا زوال مانگتے ہیں، امت کا اتحاد واپس مانگتے ہیں، انہوں نے گمراہی کیلئے فتنہ بپا کیا۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

ظاہرشیخ کا اور حقیقت دجال کی، اے اللہ!ہم تیرے سہارے متحد ہونگے تیرے بغیر ممکن نہیں۔

نجاہد رب فخارت قوانا ترکناہم یشعلوہا واتبعنا ہوانا

اے رب!ہم جدوجہد کرتے کرتے تھکے ہماری ہمت ختم ہوگئی، انہوں نے آگ لگائی اورہم اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔

رب ارحمنا وزدنا ایمانا ۔ نطلب منک ربی غفرانا

اے رب!ہم پر رحم فرما اور ہمارے ایمان میں اضافہ کر، اے میرے مالک!ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں

لیکون العدل لأولادنا زمانا نسالک لمحنتنا زوال

تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے عدل و انصاف کا دور ہو، ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ مانگتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کے بچھڑے ہوؤں کو ملا دے، انہوں نے گمراہی کی خاطر فتنہ بھڑکایا ہے۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی ناتلف وبغیر محال

وہ ظاہر میں پارسا اور باطن میں فریبی ہے، اے رب!تیرے ہی فضل سے ہم ایک ہونگے تیرے سوا راستہ نہیں

مکن یا رب لأولیائک الصالحین

اے رب!اپنے نیک بندوں کو غلبہ و تمکین عطا فرما۔

من ہم لعبادتک مخلصین و بفضلک اجعلنا مؤمنین نقف بوجہ المعتدین

وہ جو تیری عبادت میں مخلص ہیں اور اپنے فضل سے ہمیں وہ مومن بنا دے جو ظالموں کے سامنے ڈٹ جائیں۔

باللہ ابدا لن نکون مساکین

اللہ کی قسم!ہم کبھی بے بس اور لاچار نہیں رہیں گے۔

لن نکون مساکین

ہم ہرگز لاچار نہیں رہیں گے۔
ــــــــــ

یخفون المہدی

بالحق ھم کافرون

وہ لوگ حق کے کافر ہیں

بالتفرقة ھم بارعون

تفرقہ بازی کے بڑے ماہر ہیں

باللہ ھم ملحدون

قسم خدا کی یہی لوگ تو ملحدین ہیں

عن سبیل اللہ یصدون

اللہ کی راہ سے وہی روکتے ہیں

ھم بالمھدی عالمون

مہدی کووہ جانتے ہیں

عن شعبنا ھم یخفون

ہماری قوم سے اس کو چھپاتے ہیں

یظنون انہم قادرون

وہ سمجھ رہے ہیں کہ بچنے پر قادر ہیں

واللہ مخرج ما یحذرون

اللہ انہیں نکالنے والا ہے، جس کا انہیں ایک دھڑکا لگا ہوا ہے۔

سیأتی بالعدل والمال

وہ امام عدل و مال لیکر آئیں گے

سیکون خیر شلال

خیر و بھلائی میں ان کی حیثیت ایک آبشار کی ہوگی

سھدینا للمتعال

وہ ہمیں خدائے برتر کی طرف ہدایت دیں گے

لظالمین مطر الوبال

اور ظالموں کیلئے ہلاکت کی بارش ہیں

کالاسد یفترالصباع

وہ شیر کی طرح ان بزدل لگڑبھگوں کا شکار کریں گے

یظنون وحدتھم قلاع

وہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ان کا اتحاد ایک مضبوط قلعہ ہے

فیھجم وحدہ شجاع

وہ بہادر اکیلا ہی ان پر حملہ کرے گا

لقوتہ الضباع تنصاع

جس کی قوت کے سامنے یہ لگڑبھگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جعلونا نصدق اساطیر

انہوں نے ہمیں یقین دلایاکہ من گھڑت قصوں کی تصدیق کریں

خذعونا لمسکن اعاصیر

ہمیں دھوکہ دیا تاکہ ہم فتنوں میں گھرے رہیں

ولوا علینا اباطیر

انہوں نے ہم پر باطل پرستوں کو مسلط کر دیا

ولکن بالخیر مطیر

لیکن ہمارا رب خیر و برکت برسانے والا ہے

الخیر فینا موجود

بھلائی ہم میں اب بھی موجود ہے

ینبت المھدی من الصمود

مہدی کی نشو ونمابہت استقامت اور ثابت قدمی کیساتھ رواں دواں رہے گی

وسیعلم انہ مورود

اور عنقریب سب جان لیں گے کہ ان کا آنا طے ہے

عندما سنجنی الورود

تب ہم کامیابی کیساتھ گلاب کے پھول چنیں گے

یکادون ینتصرون

انہیں لگا کہ بس کامیاب ہوگئے

فرحین بالحصون

خوش ہیں اپنے قلعوں میں

یأتی المھدی لیکون

مہدی کو تو بہر حال ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے آنا ہے

اسوأ مایحذرون

اور بہت برا ہے جسکے خوف میں مبتلا ہیں

یأتھیم نورالزمان

انکے پاس زمانے کا نور آئیگا

ینتصر بعز الرحمٰن

جو رحمان کی دی ہوئی عزت سے فتح پاجائے گا

یاتھیم قائد فنان

انکے پاس ایک بے مثال قائد آئے گا

مؤمن غضبہ طوفان

وہ ایسا سچا مومن ہے جس کا غصہ باطل کیلئے ایک طوفان ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv