پوسٹ تلاش کریں

حافظ ؟جنس پر ستی پر والد کا قتل :

کروڑ لعل عیسن لیہ کا واقعہ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔

واللاتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاOواللذٰن یاتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا و اصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًا رحیمًاOسورہ النساء

”اگرتمہاری عورت فحاشی کرے تو اپنوں میں چار سے گواہی مانگو ،وہ گواہی دیں تو انہیں گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد بدکاری کریں تو دونوں کو اذیت دو اور اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو انہیں طعنے مت دو۔ بیشک توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے”۔(15،16)

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع اور مفتی ولی حسن ٹونکی نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا۔ آیت15کو سنگساری کی دلیل بنا دیا ۔کچھ نے سورہ نور کی آیت کو متبادل لکھا جہاں کوڑوں کی سزا ہے۔ محکم آیات کی غلط تفسیر تو متشابہات ؟۔ پرائی نہیں اپنی عورتوں کو فحاشی پر گھروں میں نظر بندکرنے کا حکم ہے تاکہ ماحول کو خراب نہ کریں اور مریں یا شادی ہوجائے۔ مردوں کیلئے اذیت ہے۔ تھپڑ ، لاٹھی اور سرمہ دانی جلانے کا معاملہ ہو تو بھی ٹھیک اذیت ہے اسلئے کہ عورت کا توعلاج شوہر مگر مرد تو ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ جیسے حافظ حاشر کیلئے جنسی پیاس کیلئے واحد ذریعہ بدمعاش تھا جس کو پہلے بگاڑ دیا گیا اور بعد میں ایک ہی شخص ملتا ہوگا جس کیلئے باپ کو مار ڈالا۔ حضرت علی نے زندہ نہیں جلایا بلکہ سرمادانی جلادی۔ بے ضمیر مضر ہوتے ہیں اسلئے ان کا ہرممکن اذیت سے علاج ضروری تھا۔ مفتی عزیز الرحمن و شیخ الحدیث نذیر احمد کے علاوہ بے ضمیر لوگوں کو حلالہ سے چھٹکارا ملے تو بھی عزتیں بچانے کیلئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرجع قدیم و جدید…مولانا بدیع الزماں

عالمِ رنگ و بو میں جو آیا جانے کیلئے آیا

لِدوا لِلموتِ وابنوا لِلخرابِ

خلاقِ عالم نے ہر تنفس کیلئے وقت پر دنیا سے جانا مقدر فرمایا۔ علومِ نقلیہ وعقلیہ قدیمہ کے علاوہ حضرت شیخ کو علومِ جدیدہ سے خاص دلچسپی اور شغف تھا۔ سائنس اور فلسفہ جدیدہ سے گہرا تعلق تھا اور سائنسی علوم و ایجاداتِ جدیدہ کی روشنی میں اسلام کے حقائق کو منفرد انداز سے سمجھا تے تھے۔ حدیث میں ابرادِ بالظہر کا حکم دیتے ہوئے وجہ یہ بیان فرمائی گئی
فان شدة الحر من فیح جھنم
اشکال وارد ہوتا ہے کہ گرمی تو سورج کا اثر ہے۔ حضرت شیخ رحم اللہ تشریح فرماتے کہ جہنم کی مثال پاور ہاؤس ہے، شمس کی کا منبع جہنم ہے۔ شمس کے واسطہ سے جہنم کی حرارت کا اثر پہنچتا ہے۔ آتشیں شیشہ سورج سے حرارت اخذ کر تاہے۔ تمثیل سے اشکال رفع ہو جاتا ہے۔

فرید واجدی کی دائر المعارف (انسائیکلوپیڈیا)سے حضرت شیخ بہت متاثر تھے۔ برزخ میں انسان کے مادی جسد کیساتھ روح کا تعلق قائم رہتا ہے، اگرچہ روح کا مستقر اعلی علیین یا اسفل السافلین ہو۔ یہ مسئلہ حضرت شیخ دائر المعارف کے ایک واقعہ سے ذہن نشین فرمایا کرتے تھے کہ: ایک شخص علم التنویم کے ذریعہ وقتی طور پر انسان کی روح کو جسم سے جدا کر سکتا ہے، لیکن اس مفارقت کی صورت میں بھی روح کا رابطہ جسم کیساتھ برابر قائم رہتا ہے۔ چنانچہ فرید وجدی نے لکھا کہ: ایک عامل نے علم التنویم سے ایک انسان کو لٹا کر اس کی روح کو جدا کیا، وقتِ مقررہ پر وہ روح واپس نہیں آئی تو عامل کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کی موت واقع نہ ہو۔ چنانچہ فورا ایک دوسرے شخص پر عمل کر کے اس کی روح سے کہا کہ پہلی روح کو جلد لانے کی کوشش کرو، چند لمحات کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پہلی روح واپس آ گئی ہے اور اس وقت فلاں گوشہ میں موجود ہے، عامل سوئی ہاتھ میں لیکر اس کی طرف بڑھا اور غصہ میں سوئی کو آگے کیا، اس پر روحِ ثانی نے کہا کہ سوئی اس کی پنڈلی میں پیوست ہو گئی ہے، عامل نے پلٹ کر دیکھا کہ جس شخص کی وہ روح تھی اس کی ٹانگ سے خون نکلنا شروع ہو گیا، جبکہ وہ دوسری جگہ تھا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد شیخ فرمایا کرتے تھے کہ: جب اس عالم میں روح اور جسد میں مفارقت کے باوجود تعلق قائم رہتا ہے تو برزخ میں بھی اسی طرح تعلق قائم رہے گا تاکہ جسم و روح دونوں کو راحت یا تکلیف محسوس ہو۔

(یہ تحریر نیٹ پردیکھ لو اور قرآن کے شواہد میری تحریرمیں)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ

واقیموا الوزن بالقسط

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ ایران جنگ میں فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر نے زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس میں طاقت نہیں حکمت کو کام میں لایا ہے۔ اہل تشیع کے علماء کے متضاد بیانیہ میں حکمت کے ساتھ توازن قائم کرنا امریکہ ایران جنگ سے بھی زیادہ مشکل معاملہ ہے لیکن ہم اس پر تھوڑی محنت کرنے کا رسک لیتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے ہمیں صلح یا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔

کسی کی اصلاح کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ جس کو مخاطب کیا جائے تو اس کو لگے کہ میری دوستی مقصود ہے دشمنی نہیںاور یہ بھی دیانتداری کا تقاضہ ہے کہ اس کا مؤقف غلط پیش نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اس کو مخالف کے سامنے شرمندہ بھی نہیں کیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدکمال حیدری نے کربلا کی مٹی کا حق ادا کرتے ہوئے شیعہ کے اصلاح کی بڑی زبردست کوشش کی ہے۔عربی میں عنوان لگایا ہے کہ ”اثناعشری دین کو پھاڑ کر رکھ دیا ہے”۔ اس میں بھی شک نہیں کہ پاکستانی شیعہ کا تجزیہ درست ہے کہ ”سنی اور شیعہ میں90فیصد اتفاق ہے لیکن وہابیوں کو کامیابی ملنے کی وجوہات کچھ اور ہیں”۔

اصل بات یہ ہے کہ سید کمال حیدری نے شیعہ کا جو مذہب بیان کیا ہے وہ اصل اختلاف ہے لیکن شیعہ اس کو چھپاتے ہیں اور سنی اپنے علماء کی کتابوں سے جاہل ہیں ورنہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ کامیابی اس بات میں نہیں ہے کہ کسی کو شیعہ یا سنی بنایا جائے بلکہ کامیابی اس بات میں ہے کہ دونوں قرآن پر درست ایمان کی تعلیمات کا معیار بنائیں۔

بارہ امام قرآن سے فتویٰ دیتے تھے اور آج بھی قرآن سے فتویٰ دینا بالکل آسان ہے لیکن شیر سے ویسے بھاگو مت جیسے قرآن میں بدکے ہوئے گدھوں کے فرار کا ذکر موجود ہے۔
ــــــــــ

علی علیہ السلام کا نام توراة میں ایلیا آیا ہے: علامہ سید جان علی شاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عزیز و! بڑا نازک مسئلہ ہے۔ آج ہمارے اہل سنت بھائی عاشق اہل بیت ہیں۔ اہل سنت کی تعداد ہر جگہ پہ زیادہ ہے۔ ادھر شیعہ، ادھر وہابی، بیچ میں اہل سنت ہیں۔ شیعوں اور وہابیوں کی تعداد اور کم ہے۔ تجربہ بتلا رہا ہے جو عقلمندی کرے گا تو مستقبل میں تعداد اس کی بڑھے گی۔ شیعہ سنی عقیدے90%ایک جیسے ہیں۔ وہابی90%دونوں کے خلاف ہیں۔ شیعہ یا رسول اللہ، سنی یا رسول اللہ کہتے ہیں۔ شیعہ عاشق رسول نبی کی ضریح کو چومنا چاہتے ہیں وہابی ڈنڈا مارتے ہیں سنی بھی چومنا چاہتے ہیں۔ شیعہ زیارت پہ جاتے ہیں سنی بھائی زیارت پہ جاتے ہیں وہابی اسے حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ کہتے ہیں یا رسول خدا مدد یا علی مدد مگر وہابی حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت نذر نیاز کرتے ہیں، وہابی حرام سمجھتے ہیں، بدعت سمجھتے ہیں، کافر سمجھتے ہیں اسی طرح عزیزان گرامی اگر آپ گنتے چلے جائیں گے۔ شیعہ اور سنی غم حسین میں روتے ہیںمگر وہابی بدعت سمجھتے ہیں۔ عزاداری دونوں کرتے ہیں، ہمارے سندھ میں پورا سیہون شریف کے سنی ماتم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں چلے گا شیعہ کون ہے محرم میں سب کے لباس کالے ہوں گے۔ مٹیاری شہرمیں وہابی پر بھی ماحول کا اثر ہے وہ بھی ماتم میں شریک ہوتے ہیں زیارت نہیں پڑھتے کہتے ہیں زیارت پڑھنا بدعت ہے۔

آپ نے دیکھا شیعہ سنی کا عقیدہ90%ایک جیسا ہے۔ وہابی90%شیعہ کو بھی کافر سمجھتے ہیں، سنی کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ عقلمندی کیا ہے جن کا عقیدہ90%ہمارے جیسا ہے جو عاشق رسول ہے انہیں ہمیں اپنی طرف بلانا چاہئے یا بھگانا چاہئے۔ توجہ فرمائیں! و ہابی پیسہ دے کر سنی کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ توجہ فرمائیں! اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگ صرف تھوڑی چند منٹ کی واہ واہ کیلئے ایسی بات کر دیتے ہیں کہ وہ سنی بھائی پھر مجلس میں نہیں آتا۔ اب بتایئے یہ کوئی عقلمندی ہے۔ آپ اس سنی بھائی کو وہابیوں کی طرف بھیج رہے ہیں وہ مجلس میں آیا ہے آپ بھگا رہے ہیں۔ صلو ةپڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ تو عقلمندی سے کام لینا ہے۔

عزیزان گرامی! یوٹیوب پر میں نے ایک ویڈیو دیکھی ایسی واقعاً حقیقت ہے کتنی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ ایک سنی بیچارے نے شیعہ سے گفتگو سنی یا مجلس میں جا کے سنا کہ بھئی بی بی پاک گئی تھیں فدک لینے اور بی بی کو فدک نہیں ملا۔یہ سنی بیچارہ کہتا ہے مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جو نبی کے صحابی ہوں وہ فدک نہ دیں؟ کہتا ہے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کہا نیند نہیں آ سکتی۔ بارہ بجے رات میں اٹھا محلے میں میرے ایک مولانا تھے سنی عالم میں نے کہا مولانا میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں۔ کیا پریشانی ہے؟ کہا مولانا یہاں مسئلہ حل نہیں ہوگا مسجد میں آیئے آدھی رات کو سنی عالم کو مسجد میں لے آیا اس کے سر پہ قرآن رکھا وہ گھبرا گیا۔ میں نے کہا مولانا اس کے سوا میری پریشانی دور نہیں ہوگی میں بہت پریشان ہوں صرف دو سوال کہوں گا آپ یہاں کہیں ہاں یا نہیں۔ کیا سوال ہیں؟ کہا مولانا میں نے سنا ہے کہ نبی کی بیٹی فاطمہ زہرا فدک لینے دربار میں گئی تھیں۔ مولانا نے تقریر شروع کی تجھے کسی شیعہ نے بھٹکایا ہے۔ مولانا میں نے تقریر نہیں سنی میں نے کہا ہاں یا نہیں بی بی گئی تھیں یا نہیں؟ سر پہ قرآن ہے آپ کے۔ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں کہا بی بی گئی تھیں۔ صحیح بخاری مسلم میں ہے بی بی فدک لینے گئی تھیں۔ بہت شکریہ۔ دوسر ا سوال خلیفہ نے فدک دیا یا نہیں ؟ مولانا نے کہا نہیں دیا۔ میں نے سر سے قرآن اتار دیا کہا مولانا آپ نے بہت احسان کیا۔ میری مشکل حل ہو گئی۔ کہا تیری مشکل کیسے حل ہو گئی؟ کہا میں بہت گنہگار ہوں مولانا میں بہت گنہگار ہوں۔ اگر میرا کوئی جگری یار ہو نا اور اس کی بیٹی مر جائے وہ وہ مر جائے وہ بیٹی یتیم ہو جائے اگر وہ میرے گھر پر آئے اگر اس کا حق بھی نہ ہو میں گھر بیچ کر دوں گا۔ یہ کیسے یار تھے؟ نبی کی بیٹی کو واپس کر دیا؟۔ ہزاروں لوگ شیعہ بننے کیلئے تیار ہیں۔ تڑپ رہے ہیں بے خبر ہیں بیچارے۔ ہمارے منبر سے انہیں بلایا نہیں بھگایا جا رہا ہے۔ دو منٹ کی واہ واہ کی خاطر۔

عزیزان گرامی! اب بچپن سے انہوں نے تعریفیں سنی ہیں۔ آپ کو یہ پتا ہوگا کہ ایران نے ایک اسمگلر کو جہاز سے اتار کر پھانسی دی تھی۔ ریگی نام تھا اس کا۔ یہ بلوچ تھا جس نے ایران میں سوسائڈ اٹیک (خود کش حملے)کئے تھے اور کتنے مومنین کو شہید کیا تھا۔ تو امارات کے جہاز سے اتار کے اس کو پکڑ کے پھانسی دینے سے پہلے اس سے پوچھا کہ تو کیسے جوانوں کو تیار کرتا ہے؟ کہ ایک جوان خود کو مارتا ہے اور حملہ کرتا ہے۔ اس نے کہا میں کچھ نہیں کرتا سب کام آپ کے مولوی کرتے ہیں۔ بتایئے یہ ریگی کا انٹرویو ہے۔ کہتا ہے میں کچھ نہیں کرتا میرا کام آسان تمہارے مولوی اور ذاکر کرتے ہیں۔ میں50-40نوجوانوں کو بلاتا ہوں اچھا کھانا کھلاتا ہوں پھر میں نے کلپ بنائے ہوئے ہیں جو آپ کے مولوی جو تبرہ بازی کرتے ہیں جو ان پر الٹی سیدھے جملے کستے ہیں میں وہ انہیں دکھاتا ہوں۔ انہوں نے بچپن سے تعریفیں سنی ہیں کہ یہ عاشق رسول ، عاشق اہل بیت ہیں جب وہ سنتے ہیں تو ان میں سے10قسم کھاتے ہیں کہ ہم تب تک یہ کام نہیں کریں گے بیوی کے پاس نہیں جائیں گے یا نکاح نہیں کریں گے جب تک ہم60-50شیعوں کو مار نہ دیں۔ کہتے ہیں سارا کام جو ہے نا آپ کے علما کرتے ہیں۔ میںنے صرف ان کی کلپیں بنائی ہوئی ہیں اور وہ میں دکھاتا ہوں۔

عزیزان گرامی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم چند منٹ کی واہ واہ کیلئے اپنی قوم کو مروا رہے ہیں۔ یا وہابی بنوا رہے ہیں کہ آنے والا سنی وہ چلا جاتا ہے یا ہم اپنی قوم کو مروا رہے؟۔ کیونکہ خود خدا کہتا ہے قرآن میں کہ آپ کسی کے برے خدا کو برا نہ کہیں کہیں آپ کے سچے خدا کو کوئی نہ کہے۔ خود امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا جس سے مولا سخت ناراض ہوئے کہا کہ یہ تبرے کیلئے شرائط ہیں کہ تم اس کے سامنے تبرہ پڑھو جس کو پتہ ہو کہ یہ ظالم ہے۔ دوسرے کو پتہ نہیں کہ یہ ظالم ہے جب تو اسے ظالم کہے گا، برا بھلا کہے گا اس نے مولا علی کو برا بھلا کہا اس کا مجرم تو ہے۔ امام سخت ناراض ہوئے کہ تبرے کے شرائط ہیں جو جتنے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو پتہ ہے یہ بندہ ظالم ہے اس نے بی بی کا گھر جلایا ہے اس نے حضرت محسن پہ ظلم کیا اب آپ تبرہ کریں تو کوئی بات نہیں کیونکہ سب کو پتہ ہے لیکن ایک کو پتہ ہی نہیں ہے وہ اسے عاشق رسول سمجھ رہا ہے عاشق علی سمجھ رہا ہے عاشق اہل بیت سمجھ رہا ہے آپ کہیں گے تو کیا ہوگا وہ آپ کا دشمن ہوگا۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔

عزیزان گرامی! بہت دھیان بہت ہوشیاری سے کام کرنا ہے۔ پاکستان میں40سال پہلے وہابیوں کی تعداد5%تھی اور وہابی اگر کسی کو کہیں غصہ کرتے تھے ہم عاشق رسول ہیں ہمیں وہابی مت کہو وہ گستاخ ہیں رسول کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں سنی برداشت نہیں کر سکتا اور اگر وہابی مسجد میں کوئی چلا جائے ہمارے شہر میں تو بہت بری نگاہ سے دیکھتے تھے وہابی ہے۔ اب وہابی30%فیصد ہو گئے ۔ بعض اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔5سے40سال میں40-30فیصد کیسے بنے؟ ۔ ہم ان پہ ہنستے ہیں یہ بستر بند، لوٹے والا لطیفے بناتے ہیں۔ بستر لوٹے والے تبلیغ کر رہے ہیں ۔ہر وہابی انجینئر، ڈاکٹر ،پروفیسر بارہ ماہ میں ایک مہینہ وقف کرتا ہے تبلیغ اسلام کیلئے۔ بتایئے آپ میں سے کتنے ایک مہینہ وقف کرتے ہیں؟ ہم تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بھائی تبلیغ کا حق تو ہمیں ہے کہ ہم امام کا انتظار کر رہے ہیں۔ تبلیغ کا حق ہمیں ہے کہ ہم باب مدینة العلم کے ماننے والے ہیں۔ وہ تبلیغ کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ۔

ہر وہابی نے قسم کھائی ہے کہ مرنے سے پہلے10لوگوں کو وہابی کرنا ہے۔ اگر ہر شیعہ قسم کھا لے کہ مرنے سے پہلے10اہل سنت کو مومن بنانا ہے تو ہماری تعداد10گنا بڑھ جائے گی۔ ہم تبلیغ کرتے نہیں۔ ہم نارتھ امریکہ سے آ رہے ہیں بتایا کہ وہابی ہر سال50ہزار امریکن کو مسلمان بناتاہے۔ عزیزان گرامی! ہم تبلیغ کر ہی نہیں رہے۔ ایک آدمی کو مسلمان بنانے پہ کم از کم ایک لاکھ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ آپ کو خرچ نہیں کرنا۔ بغیر خرچ کے آپ مسلمان کر سکتے ہیں۔ ہمارے ایک مولانانے امریکہ میں بہت ساروں کو مسلمان کیا بھئی آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا میں پکی پکائی روٹی کھاتا ہوں۔ کہا وہ کیسے؟ کہا جیسے وہابی مسلمان کرتے ہیں وہ تیار شدہ مال5سال مدرسے میں پڑھے ہوئے میں ایک کتاب بھیج دیتا ہوں انہیں تیجانی کی ”پھر میں ہدایت پا گیا” (Then I was Guided)یا نائٹس آف پشاور یعنی شبہائے پشاور ایک کتاب پڑھ کر وہ5سالہ تیار مولانا شیعہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعصب نہیں رکھتے نا امریکن حق کی تلاش میں ہیں۔ کتنے ہمیں ملے جو شیعہ ہیں وہ پہلے وہابیوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے۔5سال مدرسے میں، لندن میں ایک ملا میں نے کہا تو کیسے شیعہ بنا؟ کہا میں ایسے شیعہ بنا کہ وہابیوں نے مجھے مسلمان بنایا اور میرے استاد نے مجھے سند دی کہ تو امام بن گیا، نماز پڑھا سکتا ہے مولوی بن گیا لیکن خیال رکھنا کبھی شیعہ سے بات نہ کرنا۔ میں نے کہا شیعہ کون ہے؟ کہ یہ شیعہ کافر ہیں بہت برا بھلا کہنے لگا، شیعہ نے40جز قرآن بنایا ہے یہ کافر ہیں ان سے کبھی بات نہ کرنا اتنا ڈرایا اتنا ڈرایا کہ میرے دل میں شوق پیدا ہو گیا کہ ایک شیعہ کو دیکھ تو لوں۔ یہ کیا ہے بھوت ہے جن ہے کیا ہے اتنا ڈرایا۔ تو کہا میں امریکہ نیویارک میں ٹیوب میں جا رہا تھا ریلوے اسٹیشن میں قرآن مجید میرے پاس تھا ماہ مبارک رمضان تھا سامنے ایک مسلمان قرآن پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے نزدیک گیا اسلام علیکم وعلیکم السلام مسلمان ہو؟ کہا ہاں مسلمان ہوں۔ کون سے مسلمان ہو؟ اس نے کہا میں شیعہ مسلمان ہوں۔ اوہ یہ ہے شیعہ۔ تو استاد نے کہا تھا کہ بھئی یہ قرآن نا شیعوں کا40جز بڑھا دیا ہے اس لئے کافر ہیں۔ تو میں نے کہا بھئی یہ قرآن مجھے دے سکتے؟ کہا بسم اللہ ۔ میں نے جیب سے قرآن نکالا دیکھا ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور بقرہ ادھر بھی سور بقرہ ادھر سارا قرآن وہی ہے ایران کا چھپا ہوا۔ میں نے کہا بھائی یہ قرآن مجھے تھوڑے دن کیلئے چاہئے کسی کو دکھانا۔ کہا بسم اللہ۔ میں گیا اس وہابی استاد کے پاس کہ جی آپ نے کہا تھا شیعوں کے قرآن میں40جز ہیں یہ دیکھو ایران سے چھپا ہوا وہی قرآن۔ ایک دم وہ ملاغصے میں آ گیا کہ تجھے منع کیا تھا شیعہ سے ملا کیوں؟ کہا میں بھی غصے میں آ گیا کہ مسلمان بنا تیرا غلام تو نہیں بنا کہ کسی سے ملوں نہیں۔ کہا جب تیری ایک چیز جھوٹی ہو گئی اب سب پہ شک ہو گیا۔ مجھے واپس تحقیق کرنی ہے۔ میں گیا اس شیعہ کے پاس بھائی کوئی شیعہ مذہب کا کتاب ہے اس نے مجھے یہی کتاب دی "Then I was Guided” (پھر میں ہدایت پا گیا)۔ تیجانی کی کتاب ختم ہو گئی میں نے اعلان کیا علی ولی اللہ۔ صلوة پڑھئے نعرہ حیدری یا علی نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ نعرہ حیدری یا علی حیدری یا علی حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد نعرہ صلوة۔

یقین جانیئے آپ50-20ایسے لوگوں کو مسلمان کو شیعہ کر سکتے ہیں۔ جو عیسائی سے مسلمان ہوئے صرف یہ کتاب بھی مفت میں آپ جا کے گوگل میں سرچ کریں (Then I was Guided) ایک ڈالر کا خرچہ نہیں آپ پہلے سرچ کریں کنورٹڈ مسلمان ۔ وہابیوں نے بہت کئے انکے ای میل لے لیں اور یہ کتاب بھیج دیں مفت میں آپ کا یہ کام ہو جائے گا اور ایک بندہ بھی شیعہ کر دیا تو آپ کی جنت پکی ہے صلوة پڑھ دیں محمد و آل محمد پہ۔

آپ نے دیکھا دو ٹیکنیکس وہابی کیوں بڑھے40فیصدی30فیصدی بعض جگہ مقامات پر یہی کہ یہ بستر بند ہر سال مہینے میں تبلیغ پہ جاتے ہیں اور کھینچتے ہیں انہیں پیسہ دیکر کھینچتے ہیں اور دوسری ٹیکنیک کیا ہے؟ یہ اپنے مولویوں کو مکے اور مدینے سے پی ایچ ڈی کراتے ہیں۔ ڈاکٹر بناتے ہیں مکے مدینے سے اور پھر بھیجتے ہیں انگلینڈ۔ ان کیساتھ یورپ میں یونیورسٹیاں ہیں وہاں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کراتے ہیں یعنی ڈاکٹر سے اوپر۔ یہ نہ پاکستان میں ہے نہ ایران میں تھرڈ ورلڈ کنٹریز غریب ملکوں میں ہے ہی نہیں۔ ان کا مولوی پوسٹ ڈاکٹریٹ کر کے انگلینڈ سے چلا گیا۔ جب کراچی یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی میں کوئی پروفیسر مر گیا ریٹائر ہو گیا یہ انٹرویو کیلئے آیا تو اسے تو سیٹ ملنی ہی ملنی ہے کیونکہ کوئی بندہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ہے ہی نہیں۔

دوسرا ان کا نقطہ یہ ہے کہ پورے دنیا کی یونیورسٹیوں پہ انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وزیر، سفیر وہیں حکومت کے لوگ کہاں سے نکلتے ہیں؟ یونیورسٹی سے۔ ہم سندھ تبلیغ کرنے جاتے تھے8-7علماء تو ہم نے دیکھا کہ اگر6مہینے بھی تبلیغ کریں حالانکہ چھوٹا ہے پنجاب سے تو بھی ہر گاؤں میں نہیں جا سکتے۔ اگر ہم سندھ یونیورسٹی میں بیٹھ جائیں کراچی یونیورسٹی میں ہم ایک لاکھ پمفلٹ یا کتابیں چھاپیں اور ہم لڑکوں میں تقسیم کر لیں تو ہر گاؤں میں ہمارا میسیج چلا جائے گا۔ کیونکہ ہر شہر ہر گاؤں کا اسٹوڈنٹ موجود ہے۔ اب آپ نے دیکھا کہ وہابیوں کی ٹیکنیک کہ یونیورسٹیوں پہ قبضہ کریں اسلئے ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہماری کوئی یونیورسٹی نہیں ہے مثلا پورے یورپ، امریکہ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ انکے پاس پیسہ ہے، ہمارے پاس پیسہ نہیں۔ پیسہ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے سوچا نہیں کہ یونیورسٹی کتنی اہم ہے۔ کئی سالوں سے ہم کوشش کر رہے تھے ایک یونیورسٹی بنائیں اب انگلینڈ میں یونیورسٹی بنائیں تو10سال کالج کواور ہزار اسٹوڈنٹ ہونا چاہئے50ڈاکٹر ہونا چاہئے ایک دو ملین کا پیسہ ہونا چاہئے یعنی بہت مشکل ہے۔

ہم کوشش کرتے رہے الحمدللہ مولا نے مدد کی تقریبا ابھی اسی سال8مہینے ہو گئے مولا علی کے نام جو مولا علی کا نام تورات انجیل میں ہے ایک یونیورسٹی ایلیا یونیورسٹی ہالینڈ میں ثبت ہو گئی ۔ یونیورسٹی رجسٹر اور700اسٹوڈنٹ پڑھ رہے ہیں الحمدللہ آن لائن۔700اسٹوڈنٹس سائیکالوجی اسلامک سائیکالوجی اور چائلڈ سائیکالوجی بچے کی سائیکالوجی پڑھ رہے ہیں۔ مولا سرکار امام زمانہ نے ایک تحفہ دیا اور ایک ایسا علم دیا ہے جو اس وقت کسی یونیورسٹی کے پاس نہیں ہے۔ اور انشااللہ اس کو ہم شروع کرنے والے ہیں ایک مہینے میں اور اس سے آپ بھی فائدہ کریں۔ ایک بندہ تھا یہ بیچارہ سمجھو کہ شہید زندہ ہے جنگ میں8سال تھا پھر کیمیکل گیس سے یہ زخمی ہو گیا تھا۔ جرمنی میں5سال بستر پہ تھا۔5سال کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہ5سال اس مومن نے ضائع نہیں کئے۔ یہ پڑھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ایسی چیز بناؤں جو دنیا میں کہیں نہ ہو کیونکہ جتنا انسان خاموش رہتا ہے اتنی عقل بڑھتی ہے۔5سال خاموشی میں فکر کرتا رہا اور مولا نے اسے تحفہ دیا۔ تھا بھی شہید یعنی پورا زخمی تھا۔ اللہ نے کیا تحفہ دیا جناب اس کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ ایک کورس کراتا ہے وہ ایک سال کا بھی ہے6مہینے کابھی، انسان کی صلاحیت پر ہے کہ ایک منٹ میں آپ5ہزار سے7ہزار الفاظ پڑھ سکتے ہیں۔یعنی اس کے شاگرد ایک ہفتے میں3ہزار صفحات پڑھ لیتے ہیں۔ یہ ایک چیز ۔

دوسری چیز اس نے کیا فوٹو میموری یعنی کوئی چیز یاد کرنا ہے اس کا فوٹو نکال دیتا ہے وہ آپ کو بھی سکھائے گا کہ فوٹو میموری پہلے بھی تھا یعنی کروڑوں میں ایک آدمی تھا، اس نے یہ ٹیکنیک نکالی ہے کہ ہر آدمی کے اندر فوٹو میموری ہے اگر وہ کوشش کرے۔ کروڑوں میں ایک آدمی ہوتا تھا کہ جو دیکھ لے ایک مرتبہ یاد ہوجاتا تھا۔ فوٹو میموری کی ٹریننگ شروع کی اس وقت18ہزار اس کے شاگرد ہیں ہماری یونیورسٹی میں بھی ہیں وہ کیا ہے کہ قرآن مجید چار مہینے میں آپ حفظ کر سکتے ہیں۔ ہاں جی چار مہینے میں یعنی ہر دن 12 صفحے قرآن کے فوٹو نکالیں گے یاد نہیں کریں گے بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ رٹنا نہیں ہے۔ جب آپ فوٹو نکالیں گے تو آپ سے پوچھیں گے پہلی لائن پہ پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ بتائیں گے۔ درمیانہ لفظ کون سا ہے؟ ایسا کوئی حافظ نہیں ہے۔ آخری لفظ کون سا ہے؟ دوسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ تیسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ فوٹو نکالیں گے۔ اس نے40ایکسرسائز بنائی کہ آپ کا فوٹو میموری بن جائے۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ توجہ فرمائیں۔ اب اس سے اپنی قوم کو ترقی دلانی ہے۔ اگر یہ ٹریننگ آپ لیں ایک سال بھی لگ سکتا ہے6مہینے بھی ٹائم کتنا دیتے ہیں۔ تو آپ کا پھر کیا حال ہوگا؟ اگر یہ فوٹو میموری آگیا اور ریڈنگ ایک ہفتے میں3ہزار صفحے آپ پڑھ لیں گے تو آپ چار مہینے میںبی اے…6مہینے میںایم اے ایک سال میں ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔PHDکر سکتے ہیں۔ الحمدللہ یہ اپنی ایلیا یونیورسٹی سے نیکسٹ منتھ ہم شروع کرنے والے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ ہم تین زبانیں بھی سکھائیں گے ایک مہینے میں۔ فارسی عربی انگلش۔ قرآن بھی آپ پورا ترجمہ کر لیں گے یہ ہم نے پہلے اس پہ کام کیا تھا تین زبانیں سال میں آپ کا بچہ اور آپ بھی سیکھ سکیں گے۔

روزگار کیلئے بھی ہم نے دو پروگرام اور کئے کلاؤڈنگ کیونکہ یہ امریکہ میں ہمارے ساتھ استاد ہیں کلاؤڈنگ اگر آپ سیکھ لیں یہ ایک سال میں آرام سے سیکھ لیں گے تو جتنے بھی کلاؤڈنگ کی ٹیکنالوجی آسان ہے آپ کی تنخواہ کم سے کم جو تنخواہ ہے امریکہ میں اور یہاں80ہزار ڈالر سال میں ہے۔ اور پلس وائپ، موبائل میں یہ وائپ ٹیکنالوجی ہم سکھائیں گے آپ کو اسی ایک سال میں تنخواہ دو لاکھ ڈالر ہے۔ دشمن ہمیں مار رہا ہے اقتصادی نقصان کر رہا ہے تو ہم اپنی قوم کو ٹیکنالوجی میں اتنا آگے بڑھائیں کہ دشمن کو شکست ہو ۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔
ــــــــــ

ابولہب، اسکی بیوی کا نام قرآن میں آیا توپھر علی… علامہ سید کمال حیدری

یہ خالص قرآنی اصول ہے کہ قرآن کریم کسی چیز کو پیش کرتا ہے، تو کیا اس کی اہمیت پرخاص توجہ کو ظاہر کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ ہمیں ہاں یا نہ میں جواب دیجیے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ (قرآن)ہی بنیادی محور، یہی اساسی کتاب ہے اور یہی اسلام کا دستور ہے؟ آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ کا جواب ”نہیں” ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ جب قرآن کسی چیز کو چھیڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک خاص اہمیت دے رہا ہے، یعنی اپنے معرفتی نظام کے بنیادی ستونوں میں شامل کر رہا ہے اب اگر وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کا ذکر نہیں کرتا، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ سب خاموش کیوں ہو گئے؟ قرآن نے کس چیز کو پیش کیا ہے؟ اس نے ابو لہب کا ذکر کیا اور فرمایا:

تبت یدا ابی لہب و تب

آپ خود اپنے اور اللہ کے درمیان انصاف سے بتائیں، قرآن میں ابو لہب کا ذکر زیادہ اہم ہے یا شیعہ امامت؟ آپ حضرات تو امامت کو اگر توحید سے بڑھ کر نہیں، تو کم از کم توحید کی قبولیت کی شرط قرار دیتے ہیں کہ جس کے پاس امامت نہیں، اس کی توحید بھی قبول نہیں۔ اگر یہ توحید سے زیادہ اہم نہیں توحید کی شرط ہے۔ تو کیا قرآن نے اسے پیش کیا ہے یا نہیں؟ جواب دیجیے! روایات کی بات مت کیجیے، کیونکہ روایات میں تو ہمارا آپس میں اختلاف ہے۔ سامنے والے کے پاس صحیح بخاری اور میرے پاس الکافی ہے، اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ متفق علیہ بنیاد تو قرآن ہے۔ کوئی آیت دکھائیے جو ہر زمانے میں امام کی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرتی ہو۔ آپ کہیں گے کہ قرآن نام نہیں لینا چاہتا، چلو میں نام نہیں مانگتا، لیکن یہ تو کہے کہ ہر زمانے میں معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی آیت کہاں ہے؟ میرے سامنے یہ آیت مت پڑھیں کہ

یوم ندعو کل اناس بامامہم

اور پھر یہ کہیں کہ روایات میں یوں آیا ہے روایات کو چھوڑئیے، یہ آیت کہتی ہے کہ ”ہم پکاریں گے ان کے امام کیساتھ”۔ تو کیا اس سے ہر زمانے کا امامِ زمانہ ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو دوسرے فریق کا بڑا اعتراض ہے، اس پر توجہ اور تحقیق کیجیے۔ دوسرا فریق یہ نہیں کہتا کہ اگر قرآن میں امامت کی ضرورت پر کوئی آیت آتی تو میں امامت کا انکار کر دیتا، بلکہ وہ پوچھتا ہے کہ یہ اصول قرآن میں کہاں ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن نے اسے پیش ہی نہیں کیا، تو کیا امامت کوئی بنیادی معرفتی اصل ہے یا نہیں؟ اگر یہ توحید، نبوت اور معاد کے درجے کی اصل ہے، تو کیا ان اصولوں پر سینکڑوں آیات نازل نہیں ہوئیں؟ خدا کی توحید ثابت کرنے کے لیے کیا آپ کو کسی روایت کی ضرورت پڑتی ہے؟ قرآن خود کہتا ہے:

فاعلم انہ لا الہ الا ہو

۔ توحید، نبوت اور معاد پر سینکڑوں آیات موجود ہیں، لیکن امامتِ خاصہ شیعہ پر کوئی ایک آیت کہاں ہے؟۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نے اشارہ کیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہاں؟ وہ کہتے ہیں کہ آیت

ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا

میں بارہ مہینوں کا ذکر ہے اور ائمہ کی تعداد بھی بارہ ہے۔ خدا کے لیے بتائیے، کیا یہ کوئی منطق ہے؟ یہ آیت مہینوں کی تعداد سے مربوط ہے، اس کا ائمہ کی تعداد سے کیا تعلق؟ شاید باطن میں کوئی ربط ہو، لیکن ظاہری قواعد کے حساب سے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح آیت

انی جاعلک للناس اماما

کا کیا تعلق ہے؟ یہ آیت تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مربوط ہے، اسے مولا امام جواد علیہ السلام سے جوڑنے کا کیا جواز ہے؟ آپ کے اور حق کے درمیان کیا ربط ہے؟ یہاں آپ کو مجبوراً روایات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ بات روایات تک پہنچتی ہے، تو وہ اپنے روایتی نظام کو مانتا ہے اور آپ اپنے نظام کو، اور مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے نماز کا حکم تو دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکعتوں کی تعداد بیان فرمائی، بالکل اسی طرح امامت کا معاملہ ہے۔ یہ بڑا عجیب استدلال ہے! کیا آپ نماز کا موازنہ امامت سے کر رہے ہیں؟ نماز فروعِ دین اور رکعتیں فروع کی بھی فروع ہیں، یہ قیاس مع الفارق ہے۔ مزید برآں، قرآن نے صاف لفظوں میں

یا ایہا الذین امنوا اقیموا الصلاة

فرما کر اصلِ نماز کو قرآنی طور پر ثابت کر دیا۔ آپ امامت کی اصل کو قرآنی طور پر ثابت کر کے دکھائیں۔ میں آپ کو علمی چیلنج دیتا ہوں، علمی چیلنج دیتا ہوں کہ آپ امامت کی اصل کو قرآن سے ثابت کریں، یہ تو نماز کی طرح بھی ثابت نہیں ہے۔

کوئی ایسا بارہ امامی شیعہ عالم نہیں جو باطنی طور پر مسلمانوں کے کفر کا حکم نہ لگاتا ہو۔ جی ہاں، ظاہری حکم میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا ان پر کفار کا حکم لاگو ہوگا یا مسلمانوں کا۔ بعض علما، جیسے ”کتاب الحدائق”کے مصنف صاحبِ حدائق کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی کفر اور دنیاوی نجاست کے محکوم ہیں، چنانچہ وہ دنیا میں کتے اور خنزیر کے حکم میں ہیں۔یہ صاحبِ حدائق کے الفاظ کی صراحت ہے۔ جبکہ دوسرے بعض علما، جو کہ اب مشہور رائے ہے جیسے آیت اللہ سید خوئی اور ہمارے دیگر جلیل القدر فقہا، وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ان کے ظاہری اسلام کا حکم لگائیں گے، لیکن باطنی طور پر، آخرت کے حشر اور کلامی ابعاد کے لحاظ سے شیعہ علما کا انکے کفر پر اتفاق ہے۔ میں یہ بات پوری تحقیق اور تتبع کیساتھ کہہ رہا ہوں، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ مجھے قائل کر کے دکھائے۔ جی ہاں، آیت اللہ سید کمال حیدری کہتاہے کہ یہ کفر کا حکم اسلامی اور دینی نظام کے لوازمات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ مخصوص (تفسیر)کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے امامت کو سمجھا ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے علما میں اس پر کوئی اختلاف نہ ہو؟ میں کہتا ہوں کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام ان پر یہ نتیجہ فرض کرتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پورے دین کا نظام، بلکہ وہ مخصوص فکری قرآت جو انہوں نے اپنائی، اس نے ان پر یہ نتیجہ فرض کر دیا اور وہ مخصوص قرآت پر متفق ہو گئے۔ایسا کیوں ہے؟ جواب یہ کہ روایتی نصوص انہیں اسی نتیجے کی طرف لے جاتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ میرا اپنا موقف کیا ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں روایتی دلیل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ روایتی نصوص میں جھوٹ، جعل سازی اور من گھڑت باتیں اس حد تک شامل ہیں جو تصور سے باہر ہیں۔

جب آپ سے کہا جائے کہ قولِ صحابہ حجت ہے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ اسے قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں؟ آپ کیوں قبول نہیں کرتے؟ یہ کیسا منطق ہے کہ شیعہ علماء کی بات آئے تو وہ آپ کو کھینچ کر کنویں کی طرف لے جائیں اور آپ مان لیں، لیکن صحابہ کی بات آپ کو منظور نہ ہو؟ اسی لیے میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شیعہ علماء نے بغیر کسی بنیاد کے فتوی دیا ہو۔ یہی بات اللہ کے حضور صحابہ کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، آپ صحابہ پر شک نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ صحابہ امیر المؤ منین کے زمانے تک اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اور جنگوں میں جاتے رہے۔ کیا یہ سب منافق تھے؟ وہ لوگ جنہوں نے عراق، فلسطین، روم اور فارس کو فتح کیا اور وہ جہاد کیلئے گئے نہ کہ مال و غنائم جمع کرنے کیلئے، کیا وہ سب مرتد اور منافق تھے؟ یہ کون سی منطق ہے؟ جی ہاں، اگر وہ خلافت کو اس نص کے مطابق نہیں سمجھ پائے جو امیر المؤ منین کیلئے تھی، تو میں کیا کروں؟ کیا وہ سب کے سب معاند تھے؟ اور اگر سب معاند تھے تو جہنمی ہوں گے، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کیوں گئے ؟۔صحابہ پر اعتراض کرتے ہیں، تو آپ پورے دین پر اعتراض کر رہے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ۖسے پورا دین ہم تک صحابہ کے واسطے سے ہی منتقل ہوا ۔ اگر آپ صحابہ کو ہی مشکوک بنا دیں گے، تو پھر کوئی دین باقی نہیں رہے گا، یہاں تک کہ قرآن بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ کے عقیدے کے مطابق اصل قرآنی نسخہ تو امام حجت کے پاس مخفی ہے، اور آپ جو قرآن استعمال کر رہے ہیں، یہ تو صحابہ کا قرآن ہے جنہیں آپ کافر، مرتد، منافق، فاسق اور فاجر کہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں!کیونکہ آپ کا یہ ماننا ہے کہ اصل نسخہ امیر المؤ منین کے ہاتھ میں تھا، جو ان کی اولاد سے ہوتا ہوا امام حجت تک پہنچا اور انشا اللہ وہ آخری زمانے میں اسے لیکر ظاہر ہوں گے،یہی ہمارا منطقی عقیدہ ہے۔

اگر آپ صحابہ پر شک کریں گے، تو نہ کوئی حدیث بچے گی اور نہ ہی کوئی دین بچے گا، کیونکہ دین انہی کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے اخباریوں نے کہا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخباریوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کے مطابق یہ بات کہی تھی، میں ان کی تائید نہیں کر رہا، کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ سید کمال حیدری اخباری ہو گئے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ جو قواعد آپ نے قائم کیے، انکے تحت اخباریوں کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہے، کیونکہ قرآن خلفاء کے عہد میں جمع ہوا تھا، تو یہ حجت ہے یا نہیں؟ ان کے نزدیک یہ حجت نہیں ہے، تو پھر ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ صرف احادیث کی کتابیں بچتی ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ فکری ارتقا کسی مخصوص روایت سے نہیں لیا گیا، بلکہ یہ معصوم کے فعل، معصوم کی تقریر اور دیگر مجموعی دلالتوں سے حاصل کیا گیا ہے۔

عزیزانِ گرامی!شیعہ امامت میں عصمت کا عقیدہ ثابت اور غیر تبدیل شدہ امر ہے یا یہ وقت کیساتھ تبدیل ہوا ہے؟ پچھلی بحث میں ہم نے واضح اور صریح طور پر بیان کیا تھا کہ شہیدِ ثانی نے اپنی کتاب ”حقائق الایمان” میں کیا فرمایا ہے۔ ان کی عبارت بالکل واضح تھی، فرمایا کہ ان (ائمہ)کے اکثر راویوں اور شیعوں سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ائمہ علیہم السلام کو ایسے علماِ ابرار(نیک و سائر علما) مانتے تھے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی۔ اسی لیے سید بحر العلوم اس مقطوعہ حصے کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ ایسا ہی تھا، اور یہ عقیدہ خطا سے معصوم ہونے کی تصدیق سے خالی تھا۔ تو کیا تشیع کا معیار ائمہ کی عصمت پر ایمان لانے پر موقوف ہے یا نہیں؟ پہلی تین صدیوں تک عصمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر علمائِ مذہب کی رائے تبدیل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس عصمت پر دلیل قائم ہو چکی ہے۔ ”روضہ الکافی” مجلد15، روایت نمبر362میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے، عزیزو توجہ کیجیے اور اپنے سروں میں محفوظ کر لیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس امر (تشیع)کا دعوی کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ خود شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے”۔ میرے عزیز!یہ انسانوں کے روپ میں شیاطین ہیں، جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا:

شیاطین الانس والجن

یہ لوگ شیعوں میں موجود انسانوں کے شیاطین ہیں۔ آپ کہیں گے کہ سیدنا! اس کا لازمی نتیجہ تو پورے نظام کا ہدم (انہدام) ہے، تو میرا جواب یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے ہدم ضروری ہوتا ہے۔ کچھ افکار کا گرانا ضروری ہے، یا کم از کم ہمیں کچھ افکار کو گرانے پر سوچنا چاہیے تاکہ ہم ایک نئی عمارت کھڑی کر سکیں۔ میرے عزیز!اگر آپ اس مادی عمارت میں آئیں جس میں ہم اس وقت موجود ہیں، اور آپ مجھ پر پانچ اعتراضات اٹھائیں، تو آپ اس کی جگہ اس سے بہتر عمارت کب بنا سکیں گے؟ پہلے آپ کو اس موجودہ عمارت کو گرانا ہوگا، ورنہ آپ اس پر دوسری عمارت نہیں کھڑی کر سکتے۔ اسی لیے عزیزو! میں صاف کہتا ہوں کہ میرا منہج پہلے علمی ابھار اور ہدم ہے، اسکے بعد تعمیر ہے۔ یہ واقعی ایک المیہ ہے، المیہ ہے، المیہ ہے! واللہ اگر آپ ہماری کتابوں کی طرف رجوع کریں تو المیے بلکہ رسوائیاں ہیں، کیونکہ وہاں ایسی روایات کی بہت بڑی تعداد ہے جو خرافات، اسرائیلیات اور جھوٹ پر مبنی ہیں جنہیں کوئی عاقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ ایک معصوم امام ایسی بات کہے۔

آئیے عزیزو! ہم اہل بیت کے موروثی روایتی ذخیرے کا جائزہ لیں۔ سید محمد سعید الحکیم کہتے ہیں کہ روایات کے موروثی ذخیرے کا زیادہ تر حصہ ملاوٹ شدہ اور من گھڑت ہے۔ ہم نے یہ بات کہی ، کہتے ہیں، تاکید کرتے ہیں اور اپنی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارا بہت سا موروثی سرمایہ جو ہم تک پہنچا ہے، وہ اسرائیلی روایات سے سرایت کر کے ہم تک پہنچا ہے۔ عزیزو! میں یہ بات سائنسی اور علمی دلیل کیساتھ بالکل صاف اور واضح طور پر کہتا ہوں کہ شیعوں کی ایسی کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے جس کی مکمل توثیق امامِ وقت(امام حجت)نے فرمائی ہو۔ تمام کتابوں میں صحیح روایات بھی ہیں اور باطل بھی۔ نہ اصولِ اربعمائہ (400اصول)کی حیثیت ہے، نہ کتبِ اربعہ کی، اور نہ ہی ”کتاب الکافی” ہمارے شیعوں کیلئے مکمل طور پر کافی ہے۔ یہ تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔ ہمارے پاس موجودہ موروثی ذخیرے میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو امام حجت کے سامنے پیش کی گئی ہو اور انہوں نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس میں موجود ہر چیز صحیح ہے، اور میں کسی بھی شخص کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر ایک بھی دلیل لے آئے کہ کوئی کتاب، حتی کہ ”اصولِ کافی” بھی، اصولِ اربعمائہ کی تو بات ہی چھوڑیے، ایسی توثیق یافتہ ہو۔

میں معتبر ذرائع کا یہ کہہ رہا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات من گھڑت ہیں ”بحار الانوار” کا تو زیادہ تر حصہ ہی من گھڑت اور موضوع ہے۔ میں یہ بات دوسرے لوگوں پر اتمامِ حجت کیلئے کہہ رہا ہوں جو علامہ مجلسی کو معیار مانتے ہیں، ورنہ میرے نزدیک مجلسی علمی معیار نہیں ہیں، میں انہیں صرف روایات کا جامع (جمع کرنے والا)مانتا ہوں نہ کہ ایک محدث۔ ”تفسیر القمی” کے بارے میں میرا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ یہ ائمہ کی تفسیر نہیں۔ بھلا آپ ہی بتائیے، اللہ کیلئے کیا کوئی امام یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی ۖ زینب کے گھر گئے اور انہیں اس حالت میں دیکھا کہ نبی کے دل میں سما گئیں؟ کیا یہ نبی کی شان ہے قرآن کہتا ہے: وانک لعل خلق عظیم؟ یہ”تفسیر القمی” ہے، اس تفسیر میں شاید کچھ روایات صحیح ہوں، لیکن ملاوٹ شدہ، مسخ شدہ اور تحریف شدہ ہے، بہت زیادہ ہیر پھیر ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، چلیے عراقیوں کے محاورے میں بالکل صاف صاف بات کرتے ہیں، یہ بات ختم ہوئی کہ ”تفسیر المیزان” بھی اسرائیلی روایات سے بھری پڑی ہے، وہی ”تفسیر المیزان” جو شیعوں کے نزدیک بہترین تفسیر مانی جاتی ہے۔ ہمارے پاس ”تفسیر العیاشی” کی تمام روایات مرسل ہیں، اور ”تفسیر القمی”ہمارے نزدیک ثابت ہی نہیں۔

عزیزو! ان کتابوں سے مراد اصولِ اربعہ کے مصنفین کی کتابیں ہیں جو اصلِ فلان اور اصلِ فلان کے نام سے جانی جاتی ہیں، یہ لوگ ان کتابوں میں من گھڑت روایات شامل کرتے تھے اور ائمہ پر جھوٹ باندھتے تھے، خود ہمارے علمائِ طائفہ نے یہ نقل کیا کہ ان میں جھوٹ، ملاوٹ، تزویر، غلو اور زندیقیت تھی۔ خود اہل بیت فرماتے ہیں کہ غالیوں اور دشمنوں نے ہمارے اصحاب کی کتابوں کو زندیقیت، جھوٹ اور غلو پر مبنی روایات سے بھر دیا، جن میں مخالفین کو گالی گلوچ، سب و شتم اور لعن طعن کی روایات شامل ہیں۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ روایات ہمارے دشمنوں کی من گھڑت ہیں۔ خدا گواہ ہے، کچھ روایات ایسی ہیں جن کی نہ کوئی سند ہے اور نہ کوئی اصل، جیسے لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں: ”دعائے صنمائے قریش” اللہ کی قسم! اس کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی سند، نہ کوئی مستند اور نہ ہی کوئی مآخذ، اسے صرف جاہل اور عوام ہی پڑھتے ہیں۔

دوسری بات مصنف کی پہچان ہے، عزیزو! جب تک ہم مصنف کے فکری نظریات سے واقف نہیں ہوں گے، شیخ کلینی کو نہیں سمجھیں گے، ہم یہ نہیں جان سکتے کہ انہوں نے مخصوص نصوص کو کیوں نقل کیا اور دوسروں کو کیوں چھوڑ دیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کے پاس روایتی نصوص کی جو تعداد موجود تھی، وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھی جو انہوں نے ”کتاب الکافی” کے اصول، فروع اور روضہ میں ہم تک منتقل کی ہے۔ انہوں نے روایات کے دوسرے مجموعوں کو چھوڑ کر اسی مخصوص مجموعے کا انتخاب کیوں کیا؟ مثال کے طور پر، کلینی نے نوابِ اربعہ سے کوئی ایک روایت بھی کیوں نقل نہیں کی؟ کیا یہ ایک سوالیہ نشان ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ انکے ہم عصر تھے یا نہیں؟ وہ ان کے بالکل ہم عصر تھے۔ تو پھر ”کتاب الکافی”میں ایک بھی روایت کیوں نہیں نقل کی؟ ممکن ہے کہ دوسرے مآخذ میں نقل کی ہو، لیکن ”کتاب الکافی” میں کیوں نہیں، جو کہ شیعوں کے نزدیک مطلق طور پر سب سے اہم حدیثی مآخذ ہے؟ یہ کتاب اسلئے اہم ہے کیونکہ یہ اصول اور فروع کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ دوسری کتبِ ثلاثہ شیخ طوسی اور شیخ صدوق کی کتب، وہ صرف فروع سے مربوط ہیں، ہماری اصل اور معتمد کتاب ”کتاب الکافی” ہے۔ بعض اکابر کے دعوے کے مطابق کہ فقیہ کیلئے نیابتِ عامہ ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں کہ فقیہ تمام امور میں امام کا نائب ہوتا ہے۔ یہ نظریہ ولایتِ فقیہ ہے جس کے تحت زعامت صرف مجتہد کیلئے مخصوص ہوتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کتاب میں کوئی اصل نہیں ملی۔

آپ کہیں گے کہ ان ابحاث کو تو شہیدِ ثانی نے مرتب کیا تھا اور وہ ولایتِ فقیہ کے قائل تھے؛ جی ہاں، انہوں نے اسے مرتب کیا تھا، بہت اچھے۔ وہ اپنے استاد شہید محمد باقر الصدر کے تابع ہو کر ولایتِ فقیہ کے قائل تھے، لیکن یہ نظریہ بالکل واضح اور صریح طور پر آیت اللہ سید خوئی کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ میں ا نکے تمام کلمات کو وقت کی کمی کی وجہ سے پیش نہیں کرتا، میں صرف مآخذ کا حوالہ دے دیتا ہوں تاکہ عزیزان خود اس کا مطالعہ کر لیں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کل کو لوگ سید خوئی کی طرف وہ باتیں منسوب کرینگے جو انہوں نے کہی نہیں ہوں گی۔ میں یہ بات کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک دینی موقف اور ولایت کے اصول کے تحت کہہ رہا ہوں۔ سیاسی ولایت غیبت کے زمانے میں فقیہ کیلئے کسی خاص دلیل سے ثابت نہیں۔ اس بات پر اچھی طرح توجہ کیجیے، یہ بہت اہم ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف سیاسی ولایت فقیہ کیلئے ثابت نہیں ہے، بلکہ منصبِ قضا (عدالت)بھی فقیہ کیلئے ثابت نہیں، یعنی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قضاء کے معاملات کو سنبھالے۔ یہ مستند آپ کے سامنے ہے، میں عبارت پڑھ دیتا ہوں کیونکہ کل میں نے اسے نہیں پڑھا تھا۔ سید خوئی کا یہ مستند، جو شیخ مرتضی بروجردی کی تقریرات پر مبنی ہے، اس سے پہلے کہ میں اقتباس پیش کروں، میں یہ واضح کر دوں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قضاوت ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے غیبت کے دور میں یہ ذمہ داری فقیہ کے سپرد نہیں کی۔ شارع نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ فقیہ کی ذمہ داری نہیں۔

اب اگر لوگ خود ان کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو وہ انہیں حکم بتا سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کی طرف رجوع نہ کرے، تو کیا فقیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کیلئے آگے بڑھے؟ یہ ذمہ داری ان پر نہیں۔ یہی بات تیسری کڑی میں امام پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ کیا امام پر یہ ذمہ داری ہے؟ یہ نظریہ کہتا ہے کہ امام اور نبی پر تو ذمہ داری تھی، لیکن فقیہ پر نہیں ہے۔ ”مستند العرو الوثقی”جلد دوم میں شیخ مرتضی بروجردی، جو ہمارے استاد سید خوئی کی تقریرات ہیں، اس مقام پر کلام کا یہ خلاصہ کرتے ہیں کہ کیا امامِ دوازدہم (امامِ غائب)نے غیبت کے زمانے میں علما کو قضاوت کا منصب عطا کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی بھی معتبر لفظی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔

بے شک سید خوئی رحم اللہ علیہ کی عبارت اس سلسلے میں بہت بہترین ہے، میں عبارت پڑھوں گا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ

آپ اپنا آدھا بجٹ سود پر لگارہے ہیں۔ ہندو سینیٹر دنیش کمار

پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر ہو رہا ہے۔ میں قرآن پاک کی آیات کوڈ کرتا ہوں تو پتہ نہیں سر، نہیں فتوی تو نہیں آتا ، میں حقیقت بتاتا ہوں، سورہ البقرہ آیت نمبر275میں:جو لوگ سود کھاتے ہیں، قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہونگے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہے ، پاگل بناد یا ، اس طرح کھڑے ہوں گے ۔ سورہ البقرہ279،278میں:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ۔

جنہوں نے اسلام قبول کیا ، مسلمان کے افعال ایسے ہیں تو میں کیسے اسلام قبول کروں ؟ ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ آئیں، بٹ صاحب، ن لیگ کی حکومت ہے، اسلامی بن جائیں، میں اسلام قبول کر لوں گا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے، حدیث نمبر1598، ٹھیک ہے سر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضور پاک ۖ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ پھر بھی ہم اپنے بجٹ کا50فیصد حصہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں دے رہے ہیں، سر یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔

پاکستان نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ، سر یہ کس کی وجہ سے ہوا؟۔اگر ہم اس شخص کا نام نہ لیں تو منافقت ہوگی، یہ سید برادری عاصم منیرفیلڈ مارشل کی وجہ سے ہوا ، جن کی وجہ سے یہ چیز ہوئی، کیونکہ ہم نے آج سے14سو سال پہلے اہل بیت کی خدمت کی، مجھے پتہ ہے سید عاصم منیر کیساتھ کوئی غیبی طاقت ہے جس نے یہ ناممکن کام ممکن کر کے دکھایا ہے۔

آج ہم بجٹ پر بحث کر رہے ہیں، کن کو سنائیں؟ سر بجٹ پر بحث کرسیوں کو سنائیں، دیواروں کو سنائیں، اتنی سیریسنیس حکومت کی کہ کوئی منسٹر موجود نہیں، ہمارے لیے شرم کا باعث ہے، ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے چلو بھر پانی میں، اگر چلو بھر پانی ہے مجھے دیں میں ڈوب مروں سر، اور کسی کو نہیں۔

آپ(یوسف رضا گیلانی) کسٹوڈین آف ہاس ہیں، آپ آج انہیں کہیں کہ اگر یہ نہیں آتے تو اجلاس منسوخ کریں۔ سر کہاں ہے؟ (بشری بٹ وزیر ہوتی روز بیٹھی ہوتی ہیں:یوسف رضا گیلانی)۔ نہیں سربشری بٹ صاحبہ کا میں بتاتا ہوں، ان کے ساتھی انہی کے پاؤں کاٹتے ہیں، اس بیچاری کو منسٹر نہیں ہونے دیتے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟ یہ بشری بٹ کا یہ میں آپ کو سناتا ہوں، بشری بٹ منسٹر ہوتے ہوتے رہ گئی ہے کیونکہ ان کے اپنے ساتھیوں کی سازشوں کی وجہ سے۔

یہاں پر کوئی بھی بیٹھا نہیں جو ہماری سنے، میں صرف اور صرف دیواروں کو سناؤں، قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا دکھڑا سناؤں سر، آپ اجازت دیں تو سناؤں یا نہیں۔ میں ابھی آپ کو اپنا دکھڑا سناتا ہوں اور تو اور سنگین مذاق دیکھیں۔ آپ کے سائے تلے سنگین مذاق ہو رہا ہے، پہلے بجٹ میں افسران کی کرسیاں بھری ہوتی تھیں، ہماری تجاویز وہ نوٹ کرتے تھے، آج دو تین پتہ نہیں کون سے افسر بیٹھے ہیں بیچارے، سینیٹ کو کوئی سیریس نہیں لیتا، حیران ہوں کہ کس قسم کا ایوان بالا ہے، ہم گھر سے پگ باندھ کر آتے ہیں کہ ہم ایوان بالا کے ممبر ہیں اور یہاں پر آکر یہ حشر ہے ہمارا کہ کوئی بھی ہماری نہیں سنتا۔ شکر ہے منسٹر صاحب آگئے ، میرے خیال میں ڈیسک بجائیں رانا صاحب آگئے ۔ دیر کر دی مہربان آتے آتے، (ویسے20گریڈ کے افسرز ، ایف بی آر، فنانس سے بیٹھے ہیں، فنانس کمیٹی کے چیئرمین خود نوٹ کر رہے ہیں:گیلانی)۔ سر فنانس کمیٹی کے چیئرمین نے خود اپنی بے بسی کا اعلان کیا کہ میری کوئی نہیں مانتا، یہ سن لیں ان سے۔ تو ان کا بیٹھنے کا فائدہ ؟۔یہ سچ نہیں بولتے ، باہر آکر بولتے ہیں کہ ہماری اس حکومت میں ذرہ برابر نہیں چلتی، فنانس کمیٹی کے چیئرمین کا فائدہ کیا؟

(زیادہ سچ نہیں بولو دنیش:ایوان سے آواز) ۔اگر ہم سچ نہیں بولیں گے تو ملک کا بیڑا غرق کریں گے جھوٹ پر رہے تو اسی طرح سے نہیں چلے گا۔ میں آتا ہوں بجٹ پر۔ اپوزیشن نے کہا کہ یہ غریب دشمن بجٹ ہے، حکومت نے کہا کہ یہ غریب دوست بجٹ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں کہوں کہ دشمن بجٹ ہے تو بھی غلط ہے، دوست بجٹ ہے تو بھی غلط ہے سر۔ ہم ایسی مشکلات میں ہیں کہ عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے ہیں میں ایمانداری سے اپنے اوپر لیتا ہوں، یہ آپ بتائیں، یہ کتابوں کا پلندہ اتنا بڑا بجٹ کا، کیا یہ میں14دن میں پڑھ سکتا ہوں اور ہم بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمیں عبور حاصل ہے، میں کہتا ہوں کہ نالائق ترین ہوں کہ ایک پرسنٹ بھی یہ کتابیں نہیں پڑھیں، اپنے اوپر لیتا ہوں دوسروں کو نہیں بولتا ۔ اتنی بڑی کتاب ہے، یہ بیوروکریٹک بجٹ ہے، کوئی عوامی بجٹ نہیں، جو بیورو کریسی چاہتی ہے، جو ڈکٹیشن ملتی ہے وہی آتا ہے ۔بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ سے60ارب کے قریب کٹوتی کی گئی اور وفاق کو دیا گیا ۔ بلوچستان ملک کا آدھے سے زیادہ ہے۔ سمندری ایریا کاؤنٹ کریں بلوچستان کا تو پاکستان کا60فیصد بنتا ہے،آپکے شاید علم میں نہیں ہو،250ارب، دو کھرب50ارب ٹوٹل بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ ہے جو لاہور کے بجٹ سے بھی کم ہے ،60ارب کی کٹوتی بہت بڑی ناانصافی ہے۔ رانا ثنا اللہ صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ بلوچستان کے لوگ عذاب میں ہیں۔ دہشت گردی ہے، وہاں کے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، مگر بلوچستان کے اوپر وفاق بھی اگر ایسا کرے تو ہم کہاں جائیں؟
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

افغان طالبان میں فقہ کے غلط استنباط کیخلاف بہت بڑی تبدیلی زبردست خوش آئندہے

عربی چینل نے افغان طالبان میں بھرتی خواتین پولیس اور دیگر ملازمین کی ویڈیو بنائی ہے۔ اردو اور پشتو میں بھی اس طرح کی ویڈیوز آجاتیں تو بہت اچھا اثر پڑتا۔ امیرالمؤمنین ملا محمد عمر اخوند کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے جو شاید آخری دور ہی کی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ہم نے جوہری دھماکہ لکھی تھی تو طالبان کی طرح ملامحمد عمر نے بھی ویڈیو کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کیاتھا۔ میری کتاب ”آتش فشاں” بیت اللہ محسود کی گاڑی میں تھی تو عبدالرشید برکی شہید نے اسکے ڈرائیور سے پوچھا تھا۔ بیت اللہ محسودنے کہا تھا کہ یہ ایسی علمی شخصیت ہے جس پر تبصرہ کرنے کی بھی ہم اپنے اندر اہلیت نہیں رکھتے۔

دنیا میں تیسری عالمی جنگ ٹلنے کے بعد نمایاں تبدیلیاں نظر آنی شروع ہوگئی ہیں۔ امریکہ کے موجودہ نائب صدر نے کہا کہ ”میرے دل کے قریب دو افراد ہیں۔ پاکستان کے سید حافظ عاصم منیر اور میری بھارتی بیگم ”۔ پورپ ، چین اور عرب میں پاکستانی اور ہندوستانی آپس میں سگے چچازاد لگتے ہیں۔

یہ بھی دنیا نے سوچا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آسکتی ہے؟۔ پھر یہ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ امیرالمؤمنین ملاعمر کی ویڈیو بھی آجائے گی؟۔ پھر یہ کسی نے سوچا تھا کہ طالبان کی خواتین پولیس فورس ہوگی؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ رسول اللہۖصحابہ کے سامنے آیات کی تلاوت فرماتے اور ان کا تزکیہ فرماتے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے۔

اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ”جس کو حکمت دی گئی تو تحقیق وہ خیر کثیر پاگیا”۔ سینیٹررمیش کمار کا انکشاف کہ50%بجٹ تو سود پر اللہ اور اسکے رسول ۖ سے اعلان جنگ پر جارہاہے۔خطے کی بیداری پوری دنیا کی بیداری ہے۔ حکمت عملی سے بڑے بڑے کام ایسے طریقے پر ہوسکتے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے مفتی محمد شفیع اور فتاویٰ شامی کے حوالے سے لکھا تھا ”عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے”۔ حالانکہ پہلے گھروں میں لیٹرین، پانی، گیس اور کچرہ پھینکنے کا کوئی ایڈوانس طریقہ نہیں تھا۔ عورتوں کو ان سب کاموں کے علاوہ پنج وقتہ نماز، طواف اور صفا ومروہ مردوں کیساتھ کرنا ہوتاتھا۔ مفتی منیر شاکر شہیدنے پشتو میں افغان صحافی خاتون کو انٹریو دیتے ہوئے تفصیل سے عورتوں کی ایک بہت بڑی فہر ست جاری کی جو درس دیتی تھیں،تجارت بھی کرتی تھیںاور ان میں صحابیاتاور بعد کے ادوار کی عورتیں تھیں۔

بعض لوگ بالکل غلط تصورات کھڑے کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ اجتہاد کے نام پر دین میں تحریف کی جائے۔ حالانکہ دین وہی ہے جو قرآن وسنت میں موجود ہے لیکن علماء وفقہاء کی غلط فہمیوں اور ہٹ دھرمی نے دین میں تحریف کر ڈالی ہے جس کو تبدیل کرکے اسلام کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنا دین ہے اور اس کی مثال علامہ سید سلیمان ندوی کی معارف اعظم گڑھ میں تصاویر کے جواز کیلئے قرآن وسنت ، صحابہ وتابعیناور فقہاء مدینہ کے حوالے سے دلائل کے انبار ہیں لیکن مفتی محمد شفیع نے جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوبند کے مدرسہ کی پشت پناہی سے مولانا ابواکلام آزاد اور علامہ سید سلیمان ندوی کو مجبور کیا اور اگر وہ مجبور نہ کرتے تو طالبان بھی سختی نہیں کرتے۔ اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ مفتی محمد شفیع نے نماز اور زکوٰة کے حوالہ سے معارف القرآن کی غلط تفسیر لکھ ڈالی جس سے ملاعمر نے دھوکہ کھایاتھا۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو اسلامی قرار دیا اور2%فیصد اپنا کھاتا بھی رکھاہے جس کی عادت الائنس موٹر میں پڑی تھی تو اسلامی سود میںبجٹ کا50کی جگہ52%سود میںدیاجاتا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسینی ہندو لڑکی کا شریفانہ لباس بمقابلہ یزیدی غامدی کابڑابیہودہ جعلی استنباط

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو لڑکی کھنک جوشی کی امام حسین سے محبت، رمضان کے روزے رکھنا ،تقریریں کرناخوش آئند ہے۔ باشرم با حیاء ہندوقوم برصغیر پاک وہند کیلئے فخرہے۔ عرب ، ایرانی، افغانی سخت گیر حکومتیں نہ ہوتیں توپھر عورتیں ایڈوانس ہوتیں۔

جاویداحمد غامدی نے ایک تو پردے کو ہندو انہ رسم قرار دیا۔ دوسرپردے کی احادیث کا انکار کیا اور تیسرا قرآن سے انتہائی گمراہ کن غلط استنباط کیا۔ نالائق ہے ورنہ کیا کیا کھلواڑ کرتا ؟۔

سورہ نور آیت30،31میں مردوں و عورتوں کو اپنی نظریں ڈِ م رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ گاڑی لائٹ تیز ،ڈِم ہوتی ہے ۔گھورنا نظریں گاڑھنا منع ہے۔ سیاحوں کو یہ شکایت تھی کہ پاکستانی تاڑ تے ہیں۔ لائٹ تیز رکھ کر بھی لوگوں کو تنگ کرنا غیر اخلاقی اور گھورنا بھی غیر اخلاقی عمل ہے۔

شرمگاہ کی حفاظت کا تعلق لباس نہیں کردار سے ہے۔ دوبئی میں ساحل سمندر پر غیرملکی سیاح جلدی مرض کے علاج کیلئے دھوپ لیتے ہیں اور مقامی لوگ ہوٹلوں میں چکلے چلاتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی کے کپڑے پتھر نے اٹھائے ۔ عوام کے سامنے برہنہ کیا۔

جاویداحمد غامدی کیلئے قرآن سے لباس ڈھونڈنا مسئلہ نہ تھا لیکن نیت کھوٹی اور جان بوجھ کر گھناؤنی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ مردوں کو شرمگاہ کی حفاظت سے لباس کا استنباط کرتے ہوئے کہا کہ شرمگاہ سے ذرا نیچے اور ذرا اوپر لباس کا حکم ہے اور دلیل یہ دی کہ میرامزارع والد مختصر تہبند پہنتا تھا۔ پھر عورت کیلئے کہا کہ ذرا اوپر سینے کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے ۔ تو داماد حسن الیاس نے گھبرا کر کہا کہ تھوڑا مزید اوپر۔ حالانکہ قرآن میں واضح طور پرعورتوں کیلئے لباس کیساتھ دوپٹوں کو اپنے سینوں پر لپیٹنے کا بھی حکم ہے لیکن گھر کے افراد اس سے اللہ نے مستثنیٰ قرار دئیے ہیں۔ آیت کی تفصیل عام آدمی سمجھتاہے۔

لونڈی اور غلام بنانے کا تصور جنگوں میں نہیں تھا بلکہ مزارع کے خاندانوں کو جاگیردار چاہتے تو مارکیٹ میں بیچ دیتے تھے ۔ جاویداحمد غامدی نے آیات کے واضح الفاظ کو نظرا نداز کرکے اپناDNAبتایا ۔ لونڈی1949میں اقوام متحدہ نے غیر قانونی قرار دی، لونڈیوں کا ستر مردوں کی طرح لیکن سینوں کو چھپانے کا حکم تھا۔ پیٹھ، پیٹ، کندھوںاور سرکے بال کھلے رکھتی تھیں۔ چوہدری افضل حق کی کتاب ”زندگی” میں چوہدری کی مزارع بننے کی کہانی ہے، اس کی بیوی گرتی پڑتی کھیت میں کھانا لے گئی تو زبردست تصویر کشائی کی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا:”مسلمانوں میں شرعی پردہ نہیں ہے بلکہ اشرافیہ کا پردہ ہے”۔ مذہبی حکومتوں نے جبری پردہ نافذ کیا تو بہت انوکھا اسلئے تھا کہ یہ پردہ قرآن کے بجائے فقہی کتابوں کا بدترین شاخسانہ تھا۔

مسلمان لونڈیوں کا برہنہ لباس قابلِ قبول تھا تو پردہ غیر مسلموں پر مسلط کرنا اسلام ہے؟۔افغان طالبان نے عورت کو ملازمتیں دیں، فورس کی لڑکی موٹر سائیکل بھی چلاتی ہے۔ برقعہ، حجاب اور دوپٹہ کچھ بھی عورتین پہن سکتی ہیں۔ میںنے ”جوہری دھماکہ” تصویر کے جواز پر لکھی تو مذہبی طبقہ بدل گیا، اب الحمدللہ پردے کے معاملے میں فقہاء اور جاویداحمد غامدی کے غلو کے درمیان درست معاملے کی نشاندہی کردی ہے۔ پشتون بھائی اگر غلو کو نہیں سمجھتے ہیں تو یہ سمجھیں کہ دونوں غل خور ہیں اور ہم نے ان کو اللہ کے فضل سے ٹھیک علمی راستہ دکھا دیا ہے۔

امام ابوحنیفہ سے امام مالک یا اپنا شاگردقاضی ابویوسف کا اتفاق تھا؟، نہیں!۔امام شافعی کا اساتذہ سے اتفاق تھا؟۔ نہیں! امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل کا استاذ سے اتفاق تھا؟۔ کیا سنی ائمہ اہل بیت کو مانتے ہیں بالکل بھی۔ پھرجب حلالہ کی لعنت قرآن، حدیث، خلفاء راشدین سے ثابت نہیں تو اجماع کیسے ہوا؟۔سود خورمفتی تقی عثمانی جاویدغامدی جیسے دلالوں نے ہمیشہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالا ہے جو علماء حق کو مسترد کرنا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آپ دورِ انحطاط پرتوجہ دیں

مولانا اشفاق صدیقی جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم اسلام آباد نے اگر علامہ سید ریاض حسین شاہ کو متوجہ کیا تو امام اعظم ابوحنیفہ کے اس مسلک پر تمام مکاتب فکر متفق ہوسکتے ہیں جو اصول فقہ میں آیت230البقرہ کو دوٹکڑوں میں بانٹ کر پڑھایا جاتاہے اور پھر قرآن وسنت کی طرف لوگوں کے رحجانات بدلیں گے۔
ــــــــــ

نمبر1:حتی تنکح زوجًا غیرہ بمقابلہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل:حنفی اصول فقہ

درس نظامی کا مقصد یہ تھا کہ طالب علم ہر علم میں سے کچھ نہ کچھ سیکھ لے تاکہ اس میں مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور دنیاوی علوم میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن ہر سائنس پڑھنے والا پھر سائنسدان بھی نہیں بنتا ہے۔ اصول فقہ میں حنفی استدلال بتایا گیا ہے کہ آیت سے واضح ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں آزاد قرار دیا گیا گیا ہے لیکن حدیث صحیحہ میں عورت کو نکاح میں ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ جمہور عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر ناجائز قرار دیتے ہیں لیکن حنفی حدیث کو قرآنی آیت سے متصادم قراردیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیتاہے۔

ایک طالب کو عربی ، قرآن اور احادیث کچھ بھی پتہ نہیں مگر عبارت کا مفہوم سمجھ کر امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ چلو ہم نے یہ مان لیا لیکن اس کا نتیجہ ایک حنفی فقیہ کو کیا نکالنا چاہیے تھا؟۔

بڑااچھانتیجہ:وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا”اور انکے شوہر اصلاح کی شرط پراس (عدت) میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق زیادہ حق رکھتے ہیں”۔البقرہ آیت:228

سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے عدت کے تین ادوار کو بھی واضح کیا ہے اور حمل کو بھی۔ اور عدت میں صلح و اصلاح کی شرط پر شوہر ہی کو زیادہ رجوع کا حقدار قرار دیا ہے اور عورتوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ان پر معروف طریقے سے انکے شوہروں کے ہیں۔ یعنی شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے تو بیوی کو رجوع سے انکار کا بھی حق حاصل ہے۔

اگر ہم ذخیرہ احادیث کا بغور جائزہ لیں تو کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی ہے کہ جس کو اس آیت سے متصادم قرار دے دیا جائے۔ جہاں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو اور وہ رجوع کرنا چاہتے ہوں باہمی اصلاح کی شرط پر لیکن نبیۖ نے اس آیت کے برعکس ان کو رجوع سے روک دیا ہو۔

الغرض ایک طرف اگر ہم ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی احادیث صحیحہ کے ذخیرہ سے آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کا ٹکراؤ اوراس سے استنباط دیکھ لیں اور دوسری طرف حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنے والی احادیث کے ذخیرہ سے

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا

کاٹکراؤ اور اس سے استنباط دیکھ لیں تو ہم ایک بہت واضح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو آیت228البقرہ کے اس جملے سے متصادم قرار دیا جائے اور اگر بالفرض کوئی متصادم ہو بھی تو حنفی اصول فقہ کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کو مسترد کردیا جائے اسلئے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ سے استنباط کی ضرورت ہے لیکن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا اس درجہ واضح ہے کہ اس میں کسی استنباط کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایک ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی گئی ہے تو اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جبکہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے” میں استنباط کی ضرورت ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔پھر اس سے احادیث صحیحہ کو واقعی متصادم قرار دینا بھی کوئی ایشو ہے لیکن عدت میں رجوع کے مد مقابل کوئی ایسی حدیث ہی نہیں جو اس سے متصادم ہو ۔

امام اعظم ابوحنیفہ نے صرف اصولوں کی نشاندہی کی تھی مگر قاضی القضاة چیف جسٹس سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب حنفی اپنے اساتذہ کرام سے انحراف کرتے گئے تو امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کا اس میں کیا قصور ہے؟۔ امام ابوحنیفہ نے تلقین کی تھی کہ ضعیف سے ضعیف حدیث کی تطبیق ہوسکے تو مسترد کرنا غلط ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے قاری محمد طیب تو مفتی محمد شفیع کے بھی استاذ تھے اور انہوں نے بھی اجتہاد وتقلید کی شرعی حیثیت پر کتاب لکھی ہے اور مفتی تقی عثمانی نے بھی لکھی ہے۔ دونوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ اگر حضرت عمر کے سامنے پیش کئے جاتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت توڑ دیتے کہ قرآ ن واحادیث کایوں بھی کوئی بیڑہ غرق کرتا ہے یہودیوں کے دلے اور دلال؟۔

قرآن وحدیث میں طلاق شدہ اور کنواری کے احکام الگ الگ ہیں۔

اگر حدیث سے کنواری مراد لی جائے اور آیت سے طلاق شدہ تو قرآن وحدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں میری اس گزار ش پر میری زبردست تائید اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں دوسری کتابیں پڑھ کر اس مسئلے کا حل نکالوں ۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ ” مسلک حنفی میں85%مسائل امام ابو حنیفہ کے خلاف ہیںاور ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کی بات درست ہے یا نہیں؟ مگر امام مھدی آئیںگے تو وہ جو بھی بات کریںگے وہ حق ہوگی”۔

جب امام ابوحنیفہ کے نام پر غلط مسلک رائج کرکے حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزتیں لٹیں تو مہدی کا انتظار کریں؟ یا اگر اس سے پہلے درست بات سمجھ میں آئے توعورتوں کی عزتوں کو امام ابوحنیفہ کے درست مسلک سے بچانا شروع کریں؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے علماء دیوبند کا لکھا کہ ”تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو مہدی کی بھی مخالت ہی کروگے”۔

حنفی مسلک سے علماء کے انحراف کا ایک واضح آئینہ

اصول فقہ کے میرے استاذ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی کے استاذ تھے ۔ جب کراچی میں صرف ایک مدرسہ دارالعلوم کراچی نانک واڑہ تھا۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے بھی مولانا بدیع الزمان استاذ تھے اور ان دونوں کے ایک استاذ مولانا عبدالحق میرے پیر بھائی تھے۔

جب مرشد حاجی عثمان پر فتوے لگانے والوں کو دھول چٹائی تو میں مولانا بدیع الزمان نے اپنے بیٹے مولانا عطاء الرحمن سے پوچھا کہ یہ وہی طالب علم تو نہیں جو چائے زیادہ پیتا تھا اور پھر مولانا بدیع الزمان کے ہاں میں نے حاضری بھی دی تھی۔

حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مد مقابل جو حدیث مسترد ہے فنکاحھا باطل باطل باطل تو یہ کتب میں نہیں ہے۔

اصول فقہ میں 200احادیث کا خلاصہ ہے جس کے متعلق حد تواتر تک پہنچنے کا دعویٰ ہے البتہ متواتر و خبر احاد کی تقسیم بعد کی اصطلاح ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن کی مخالف ہر ایک حدیث غیر متواتر اور خبر واحد ہے جو مسترد ہے اور قرآن سے متصادم نہیں تو ضعیف حدیث بھی مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”امام ابوحنیفہ صرف اور صرف17احادیث مانتے تھے”۔جب عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پونے تین سالہ دور اقتدار میںممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو پھر ان کی وفات کے بعد احادیث صحیحہ کو ضعیف قرار دینے اور من گھڑت احادیث کی کثرت کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا۔

حنفی فقہاء نے ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کو باطل قرار دینے کی احادیث صحیحہ کو اپنے زعم کے مطابق متصادم قرار دیا اور جب میں نے اپنے استاذ مولانا بدیع الزمان کے سامنے بات رکھی تو انہوں نے نہ صرف اس کو قبول کیا بلکہ تھپکی دی کہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ کیونکہ جہاں اتنی ساری احادیث کا انکار تھا تو دوسری طرف جب ضرورت پڑتی تو مسئلہ کفوء کی بنیاد پر کمزور لوگوں کی بیٹیوں کو بھاگنے کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا تھا مگر طاقتور طبقے کی بیٹیوں کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اجازت نہیں تھی۔ بنوامیہ ، بنوعباس اورعربوں کی بیٹیاں عجم کیساتھ بھاگے تو ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ، جعلی عثمانی مفتی تقی عثمانی بیٹی کو ٹیوشن پڑھانے کیلئے استاذ رکھے اور وہ اس پر فریفتہ ہوجائے تو مارپیٹ کر دوسری جگہ شادی کرنے پر مجبور کردے لیکن قرآن سے تصادم کے نام پر احادیث کا ذخیرہ مسترد کیا جاتا رہے؟۔

سورہ بقرہ228میںواضح ہے کہ ”عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے” جس سے صحیح، ضعیف حتی کہ من گھڑت حدیث بھی متصادم نہیں ۔قرآن متصادم نہیں اور اللہ کا دعویٰ باطل تو مدارس ہدایت یاگمراہی کے قلعے ہیں ؟۔

بڑے بڑے حنفی مدارس ایک کاروبار اور بڑامافیا بن گئے۔
مدارس میں اصول فقہ کی کتب اگر سورہ البقرہ آیت230کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک جگہ پڑھائیں تو مالکی، شافعی، حنبلی کے علاوہ اہل تشیع اور اہل حدیث بھی اپنی اپنی فقہ چھوڑ کر امام اعظم ابوحنیفہ کی فقہ کو رائج کردیں گے۔

وجعلوا القرآن عضین ”اور قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”۔حنفی اصول فقہ میں قرآن کو بوٹی بوٹی کرنے کی مثال البقرہ230ہے

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ(سورہ البقرہ آیت230)

فان طلقہا فلاتحل لہ میں”ف” کا تعقیب بلامہلت کا تعلق اس سے متصل فدیہ سے ہے۔ فلاجناح علیھما فما افدت بہ ” اور ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں پھر عورت کی طرف سے وہ فدیہ کرنے میں”۔

اصول فقہ میں حنفی مسلک یہ ہے کہ آیت230البقرہ کی اس طلاق کا تعلق جس میں عورت کیلئے حلالہ کے بغیر چارہ نہیں رہتا ہے اس سے متصل آیت229البقرہ کے آخر فدیہ دینے کی صورت سے ہے جبکہ شافعی مسلک یہ ہے کہ اس کا تعلق اس آیت229البقرہ کے شروع الطلاق مرتان کیساتھ ہے۔

حنفی مدارس جان بوجھ کر اپنے معتقد کی بیوی چودھنے کیلئے یا جہالت کی بنیاد پر واللہ اعلم بالصواب امام ابوحنیفہ کے مسلک پر فتویٰ نہیں دیتے جو اصول فقہ میں آج بھی پڑھایا جارہاہے بلکہ شافعی مسلک کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ جس میں اس طلاق کو آیت229کے آخر فدیہ کے بجائے شافعی مسلک کے عین مطابق آیت کے شروع الطلاق مرتان سے جوڑ دیتے ہیں۔

سوال تعصب کا نہیں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ٹھیک قرار دیا جائے یا امام شافعی کے مسلک کو اور نہ یہ ہے کہ سنی مسلک میں مقلدین کی عورتوں کو حلالہ کی لعنت سے بچایا جائے یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے جس مسلک کو اصول فقہ میں ہمارے مدارس بریلوی دیوبندی پڑھاتے ہیں یہ درست ہے یا غلط ہے؟۔ اگر درست ہے تو فبہا اور غلط ہے تو اصول فقہ سے بھی اس کو یکسر نکال دیں۔ میرے نزدیک مولانا بدیع الزمان نے جو اصول فقہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں پڑھائی تو وہ بالکل درست ہے اور ہدایت کا سب سے بہترین ذریعہ بھی لیکن میرے لئے بہت ہی قابل احترام بریلوی مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے100فیصد حنفی مسلک کی غلط ترجمانی کی ہے کہ فان طلقہا تعقیب بلا مہلت کی وجہ سے اس کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں بنتا تو قرآن و احادیث سے واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔

علامہ سید محمد یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلک حنفی کی بقاء کا ذریعہ صرف اور صرف اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ہی ہیں”۔

مولانا غلام رسول سعیدی نے12جلدوں میں قرآن کی تفسیر تبیان القرآن اور بخاری ومسلم دونوں کی بہت بڑی بڑی شروحات لکھی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”اسکی یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے”۔ لیکن خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ فقہ حنفی کے سر پر عزت کا تاج اس عتیق گیلانی کے ہاتھ سے رکھا جو علماء دیوبند کا ادنیٰ شاگردہے۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کی تفسیر فقہ حنفی کے مؤقف کی تائید حدیث سے کی کہ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔مسلک حنفی کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ ان دونوں طلاق کے بھی ”ف” کی وجہ سے تسریح باحسان ہی کو تیسری طلاق قرار دیا جائے۔ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا عمل بھی واضح کیا۔

جب حنفی مسلک اور احادیث کے مطابق دو مرتبہ طلاق کے ساتھ آیت229میں تسریح باحسان کی تیسری طلاق کو جوڑد دیا اور آیت230میں حلالہ کی طلاق کو اپنے سے متصل فدیہ کے ساتھ جوڑ دیا تو پھر اسلام دین فطرت کی بنیاد کو صحیح رکھ دیا ہے۔

پھر حتی تنکح زوجًا غیرہ سے عورت کی آزادی مراد لینا100فیصد درست ہے لیکن آیت میں آزادی کا ہدف ولی سے نہیں اپنے سابقہ شوہر سے آزادی ہے۔ تاکہ منکر طریقے سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو جائے اور کچھ عرصہ پہلے بنوں شہر پختونخواہ میں ایک شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو مولوی نے فتویٰ دیا اور عورت کا زبردستی کی بنیاد پر حلالہ کیا گیا۔ جس پر عورت نے کیس کیا اور مولوی جیل میں گیا۔ زبرستی سے نکاح کے درست ہونے کا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںبھی موجود ہے جو چھوکرے مفتی زبیر نے مرتب کیا ہے اور جس کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو وفاق المدارس میں پاس کرنے کا جھانسہ دیکرہوس کا نشانہ بنایا تھا تو اس طرح کی سفارشات کا ایک مافیا بن گیا ہے۔

اگر اصول فقہ کی کتابوں میں آیت230البقرہ کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک ساتھ پڑھایا جائے تو اس سے پہلے کی آیات228البقرہ اور229میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر معروف رجوع کی اجازت واضح ہوگی اور بعد کی آیات231اور232میں معروف کی شرط پرباہمی رضا مندی سے رجوع بالکل واضح ہوگا۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں آئے گا اور علماء ومفتیان اور عوام قرآن سے ہدایت پائیں گے اور مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ،اہل حدیث، پرویزی ، غامدیہ کے دلے و دلال سب قرآن ، احادیث صحیحہ اور فقہ حنفی کو ماننے پر بہت خوشی کیساتھ تیار ہوں گے اور مذہب کے نام پر تفریق و انتشار اور فتنہ و فسادات پھیلانے کی سبھی دکانیں بند ہوں گی۔

مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی حتی تنکح پر جماع کا اضافہ حدیث سے نہیں کرتے بلکہ نکاح کو جماع کہتے ہیں۔
سعید بن جبیر نے حلالہ کیلئے نکاح کو کافی کہاتو حجاج نے کافر کہا اور شہید کردیا۔
یہ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا اتفاق تھا کہ عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو 3طلاق ہو یا حرام کا لفظ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتاہے اور نبیۖ کو ایلاء میں بھی ازواج مطہرات کو اختیار کا حکم ملا۔ جو ایک طلاق کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی مانتے ہیںیہ بھی جاہلیت ہے اور تین طلاق کے بھی تو مزید بڑی جاہلیت ہے۔ قرآن، احادیث اور صحابہ کے اندر تضاد نہیں تھا ۔
ــــــــــ

مفتی ثمر قادری کی عقیدت

بالکل چھوٹی عمر تھی سیدی اعلی حضرت کی، نیکر نہیں صرف قمیص پہنی ہے۔ سامنے سے کچھ بازاری عورتیںآرہی تھیں، بے پردہ تو آپ نے جب انہیں دیکھا تو سامنے والا پلو اٹھا کے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ کچھ چھپانے والی چیز ظاہر ہوگئی۔ تو عورتیں ہنسنے لگیں، بازاری تھیں ناں انہیں کیا شرم؟ تو کہنے لگیں بچے چھپانے والی چیز کو ظاہر کردیا اور آنکھوں پر پردہ کرلیا۔ اعلی حضرت نے جو حکیمانہ جواب دیا ہلا کے رکھ دیا اس نے عورتوں کو، اس نے کہا میں نے اپنے گھر سے سنا ہے پہلے آنکھیں گندامنظر دیکھتی ہیں، پھر خیال ذہن میں آتا ہے، پھر وہ لالچ دل میں جاتا ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر بندے کا نفس گناہوں پر آمادہ ہوتا ہے، میں تمہارے جیسا گندا منظر دیکھوں گا نہیں میرے دل میں خیال آئے گا نہیں، میرا دل بہکے گا نہیں۔ اب آپ کو بات سمجھ آرہی ہے کہ نہیں آرہی آپ حضرات کو؟ یہ ہیں اعلی حضرت۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیات، احادیث صحیحہ اور جدید سائنسی اور تاریخی حقائق کا ایک بڑا آئینہ

قرآن کریم کی سورہ کہف میں اللہ فرماتا ہے۔

واری المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفًاO(سورہ کہف آیت53)

”اور دیکھ لی مجرموں نے آگ ، پس گمان کیا کہ بیشک وہ اس میں گرنے والے ہیں اور بچنے کی کوئی راہ نہیں پاتے”۔

اس آیت میں دنیا کے اندر مجرم قوموں کے عذاب کو دیکھنے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کیا اور پھر مشرکین مکہ نے اس معاہدے کو توڑ دیا تو ابوسفیان نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا اور نبیۖ کا سسر بھی تھا اور مشرکین مکہ نے مشاورت سے بھیج دیا تھا کہ اس صلح کو دوبارہ بحال کریں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مجرموں کو پتہ تھا کہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں اور خلاصی کی بھی صورت نہیں پاتے۔ قرآن کی اس آیت میں دنیا کی تاریخ پر مجرموں کا یہی نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک دن اپنے انجام پر گمان بلکہ یقین کی حد تک پہنچ جاتے ہیں جو تاریخ کا آئینہ واضح کرتا ہے۔

آگے اللہ نے تاریخ کے ماضی ، حال اور مستقبل کا بتایا:

”اور کس چیز نے منع کیا ان کو کہ ایمان لائیں جب انکے پاس ہدایت آئی اور اپنے رب سے معافی مانگ لیں مگر انہوں نے گزرے ہوئے لوگوں کی سنت کو زندہ کرنا تھا یا ان کے پاس سامنے سے عذاب آجائے۔ اور ہم نے رسولوں کو نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور انکے ساتھ کافر باطل کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور میری آیات اور جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا مذاق بناتے تھے۔اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو میری آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے تو اس سے منہ موڑ لے اور جو اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا ہے وہ بھی بھول جائے۔ بیشک ہم نے انکے دلوں پرپردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور اس کے کانوں میں بھاری پن ہے اوراگر تم ان کو بلاؤ ہدایت کی طرف تو وہ ہرگز کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکتے ہیں۔ اور تیر ا رب بخشنے والا رحمت والا ہے اور اگر وہ ان کو اپنی کمائی پر پکڑتا تو عذاب میں جلدی کردیتا بلکہ ان کیلئے ایک مقررہ وقت ہے جس سے وہ پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ اور وہ بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کیلئے ایک وقت مقرر کیا ۔ (الکہف54سے59)

ماموں سے خانی پر گل امین نے جھگڑا کیا اور پھر شاید گڑے ہوئے مردے اکھاڑنے سے بچنے کیلئے زمینوں میں دواپنجہ کی تقسیم اور قبضہ میں دیگر کزنوں کی بھی تذلیل کاراستہ اپنایاتھا۔

سورہ کہف میں آیت60سے82تک حضر ت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ ہے اور پھر ذوالقرنین کا۔

واذ قال موسٰی لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین او امضی حقبًاO(سورہ کہف آیت 60)

”اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ میں ٹلوں گا نہیں یہاں تک کہ دو ندی کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا بہت ساری مدتیں گزر جائیں ”۔

یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ ایک حقب80سال کا ہوتا ہے اور یہاں حقب جمع ہے جس میں کم ازکم3حقب ہیں۔ اور80کو3سے ضرب دیں تو240سال کا وقت بنتا ہے۔ جس طرح معراج کا سفر ایک طرف سے لمحہ بھر تھا تو دوسری طرف وہ بہت لمبی مدت کا تھا۔ سورہ معارج میں روح اور ملائکہ کے ایک دن چڑھنے کی مقدار50ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے لیکن آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے ریاضی کے حساب سے اس بات کو ثابت کیا کہ وقت کی رفتار ایک ہی وقت میں مختلف ہے۔ ایٹم بم کا وجود بھی اسی نظریہ سے تشکیل پاسکا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واقعہ کو مختصر بیان کیا ہے لیکن اس میں بہت ہی زبردست حقائق کا نقشہ ہے۔

فلما بلغا مجمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سربًاO

”جب وہ دو ندیوں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں ہی اپنی مچھلی بھول گئے۔ مچھلی نے پانی میں سرنگ کی طرح راستہ بنایا” ۔

خانہ کعبہ میں جس طرح حجر اسود ہے اس طرح سے پانی کے اندر سرنگ بھی بہت تعجب کی بات تھی اور وہ مچھلی مردہ تھی اور زندہ ہوکر وہاں گم ہوگئی۔ غلام احمد پرویز اورجاوید احمد غامدی کو قرآن کے محکمات طلاق کی آیات کا پتہ نہیں چلتا ہے تو سائنس کے اعتبار سے متشا بہات کی آیات عوام کو سمجھاتے لیکن افسوس کہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا کے بالکل صحیح مصداق ہیں۔

فلما جاوزا قال لفتاہ اٰتنا غدا ء نا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبًاO

” پس جب دونوں آگے نکل گئے تو اپنے جوان سے کہا کہ دوپہر کا کھانا لاؤ ہم اپنے اس سفر میں ہدف سے اُلجھ گئے ”۔Something is wrong

”اس نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم چٹان کے پاس رک گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے بھلادیا کہ اس کا تذکرہ کروں۔اس نے تو ندی میں اپنار استہ لیا بہت ہی عجیب طریقے سے ۔ کہا کہ یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پھر لوٹ گئے اپنے نقوش پر دونوں قصے بیان کرتے ہوئے۔ پھر دونوں نے پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں سے جس کو ہم نے اپنی طرف سے رحمت سے نوازا اور اپنی طرف سے ایک علم اس کو سکھایا۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ کیا میںآپکے ساتھ اسلئے رہوں کہ مجھے آپ سکھادو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رشد سکھایا ہے۔ کہا کہ بیشک تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکوگے اور کیسے صبر کروگے جس خبر کا آپ احاطہ نہیں کرسکتے۔کہا کہ آپ مجھے انشاء اللہ صابر پاؤگے اور میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا، کہا : اگر آپ میرے پیچھے چلو تو مجھ سے سوال مت کرو کسی چیز کے بارے میں یہاں تک میں تجھے خود وضاحت نہ دوں”۔

(سورہ کہف 61سے70تک ) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینة خرقہا قال اخرقتہا لتغرق اھلھا لقد جئت شیئًا امر ًاO

پھر وہ دونوں چلے۔یہاں تک جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اسے پھاڑ دیا ۔ کہا کہ آپ نے اسلئے پھاڑ دی کہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کردے ،تحقیق یہ غلط کام کیا۔ (سورہ کہف آیت:71)

فانطلقا وہ دونوں چلے۔لڑکے کو چھوڑ دیا۔ کہاں چلے ؟تو یہ مدتوں کا سفر تھا۔ صدیوں پرانے حالات کے اس سفر میں پہلا واقعہ یہ پیش آگیا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر خیر اور شر کی قوتوں کا یہ کھیل اللہ نے اس آیت میں سمجھانا تھا۔ نمرود اور فرعون نے یہ نہیں چاہا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی پیدائش ہو لیکن اللہ نے شر کی قوتوں کو ناکام بنادیا۔ رسول اللہ ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا لیکن جہاں کربلا میں شریروں نے اپنا کام کیا تو خیر کی قوتوں نے اپنا کام دکھایا۔ خدائی خدمت گار خان عبدالغفار خان کے بیٹے غنی خان نے پشتو میں حضرت حسین پر جو مرثیہ لکھا اور سردار علی ٹکر نے پڑھایا تو وہاں سے یہی معلوم ہوتاہے کہ شریروں نے اپنا کام کیا اور اللہ نے خیروالوں کی تقدیر سے ایک دوسرے قسم کا انقلاب برپا کرنا تھا۔

فانطلقا حتی اذا لقیہ غلامًا

”پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بچہ مل گیا تو اس کو قتل کردیا۔ کہا کہ آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے قتل کیا بہت غلط کام کیا”۔

یہ پھر کسی اور زمانے میں پہنچ گئے دونوں اور بچے کو قتل کیا مگر راز بتانے کی جگہ بتایا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ صبر نہیں کرسکتے۔ پھر موسٰی علیہ اسلام نے آخری چانس بھی مانگ لیا۔

فانطلقا: ”پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں آیا تو ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کیا کہ مہمانی کریں۔ پھر اس میں دیوار ملی جو گرنے والی ہی تھی تو اس کو سیدھا کردیا۔ اس نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تواجرت لے لیتے۔ کہا کہ یہ میری اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ اب میں تجھے ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکتے۔وہ کشتی تو مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے اس کو عیب دار کردینا چاہا اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ اور جو بچہ تھا تو اس کے والدین مؤمن تھے تو ہم ڈرے کہ انہیں بھی سرکشی اور کفر میں نہیں ڈال دے۔تو ہم نے ارادہ کیا کہ انکے بدلے میں بہتر دیں پاکیزگی میں اور رحم میں بڑھ کر دیں۔ جو دیوار تھی تو دو یتیم بچوں کی تھی اور ان کا والد صالح تھا۔تو تیرے رب نے چاہا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ جائیں …” (سورہ کہف)

آفرینش عالم سے پہلے اپنے کردارکیلئے والدین کا انتخاب اپنی مرضی سے ہوتاہے ۔سیداکبر نے صنوبر شاہ کے غلط استعمال میں کردار ادا کیا جیسا کہ حاجی سریرالدین مغالطہ کھاتے تھے اور خضر نے مروان بن حکم اور سیداکبر کو اسلئے قتل نہیں کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور پیرعالم شاہ باباجیسی شخصیات نے آنا تھا۔

مسند احمد، صحیح مسلم ، ترمذی ،تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20 سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔

قرآن میں فانطلقا اور حدیث میںیہی فانطلقنا ہے۔

ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فانطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا . . . . روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔

خلاصہ: عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایاپھر دونوں چلے۔ ایک جگہ پر دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ اس سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے پھر نبیۖ کے کچھ تہنیتی کلمات کے بعد کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو ساتھ سواری پر لے گئے۔ وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے ۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو تکلیف کا احساس تھا۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم قرار دیا۔ جو کچھ بصرہ میں ہیں۔جاوید غامدی کے والد گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔

صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی تھی تو دنیا میں اس کا اثر ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ،سورہ حدید میں دنیا میں رونما ہونے سے پہلے سب لکھا ہوا واضح ہے ۔ سانئس ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کا ثبوت مل جائے گا۔

عبادت و معاشرت کے واضح احکام میں تحریف کر ڈالی اور قرآن میں تسخیرکائنات کی خبر پر توجہ نہ دیکر سائنسی ترقی میں پیچھے رہ گئے، قرآن و حدیث میں سائنسی معاملات متشابہات آیات سے سمجھ سکتے ہیں۔ جاوید غامدی جیسے دلے انکو مشابہ کی جگہ مشتبہ سمجھ کر مسترد کرتے ہیںمگر یہ نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز

احادیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے واقعہ کی بھی مختلف طرح کی تفصیلات ہیں اور عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی روایات اور تفصیلات ہیں۔

اہرام مصر عجوبہ ہے نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔(صحیح بخاری) یعنی سائنس کی ترقی تک وہ پہلے پہنچ جاتے۔ موجودہ دور کے سائنسی ترقی اور انٹرنیٹ کیمرہ موبائل وغیرہ کا احادیث میں ذکرہے۔

عبداللہ بن مسعود اور حضرت موسٰی کا جوان مشابہ تھے البتہ وہ سفر باطنی علوم کا تھا لیکن رسول اللہ ۖ نے عبداللہ بن مسعود کو مستقبل کا آئینہ دکھایا۔ جس کا تعلق اسلامی انقلاب اور جٹ قوم سے تھا۔ جہادی کمانڈرز خالد زبیرشہید، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا مسعود اظہر، مفتی عبدالرحیم سبھی جٹ جن میں کچھ بہت اچھے اور کچھ تکلیف پہنچانے والے محض پدو مار ہیں۔

دریا نیل کے قریب1898ء میں فرعون کی لاش مل گئی تھی جب8جولائی1907ء کو اس کے جسم سے غلافوں کو اتارا گیا تو لاش پر نمک کی ایک تہہ جمی ہوئی تھی جو کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی علامت تھی ۔ جس کا حال1912ء میں لکھی ہوئی کتاب میں درج ہے اور قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

عربی میں بحر سمندر، دریا، ندی اور نالے کو کہتے ہیں ۔ جب قرآن کے الفاظ پر غور کیا جائے تو اس میں دو ندیوں کا ملنا ہی زیادہ قرین قیاس لگتا ہے۔ کانیگرم شہر میں چٹان کی مانند ایک پتھر بھی معجزاتی اور تاریخی لگتا ہے اسلئے کہ جہاں اہرام مصر کے بڑے پتھر سے تعمیر ایک عجوبہ ہے تو کانیگرم میں موجود پتھر سے بھی تعجب ہوتا ہے ۔ کانیگرم میں بچے کی قبر کی عجب کہانی کہ ”اگر فلڈ نے بہا لیا تو پورا شہر بھی میرے پیچھے بہہ جائے گا”۔ ممکن ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا اسلئے کہ اس پہاڑی پر فلڈ کی وجہ سے کٹائی نے اس قبرستان کا نظارہ دکھایا ہے جہاں اوپر نیچے چار چار قبریں بھی ہم نے دیکھی ہیں۔

کانیگرم کبیرالالیائ کی قبر کے پاس سوناملنا مشابہ تھا۔ حاجی قریب برکی نے دیوار بنائی ۔قبرستان کی راہ پر ایک طالب علم کی قبر مشہور ہے جیسے سورہ کہف میں جوان کا ذکر ہے۔ انوکھی بات کانیگرم کی ایک ندی کا نام ”مردار ندی” ہے جس کی وجہ تسمیہ کا پتہ نہیں لیکن ممکن ہے کہ مری ہوئی مچھلی کے گم ہونے کی وجہ سے مردہ مچھلی کی مناسبت یہ نام ہو۔ کانیگرم میں سلام کی جگہ ارمڑی اور پشتو میں الفاظ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو سلام کیا تھا تو حضرت خضر نے سلام کو بنی اسرائیل کا رواج قرار دیا تھا۔ والدہ نے بتایا کہ ماموں غیاث الدین کی آنکھیں خراب تھیں ،بوڑھا شخص نظرآیا تو دم کرنے کا کہا اور پھر وہ غائب ہوا تو بتایا گیا کہ خضر نظری ہوگا اور پھر ٹھیک بھی ہوا۔ میرے کلاس فیلومفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون نے کہا کہ ”خضر نے سکہ دیا” دروغ بر گردن راوی۔

محمود غزنوی نے خضر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ بہت کمال اور اصلاح کا قصہ ہے۔

محمود غزنوی نے دربار میں سب کو مخاطب کر کے کہا ہے کوئی اللہ کا بندہ جو مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکے؟۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ سلطان سے کہا کہ خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکتا ہوںلیکن ایک شرط ہے۔ سلطان محمود غزنوی طیش میںکہا کہ شرطوں پر؟۔ مشیرانِ دربار نے کہاکہ حضور شرط سن لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تو اس نے کہاکہ چھ ماہ کیلئے چلہ کاٹنا پڑے گا، غریب آدمی ہوں اسلئے میرے گھر کا خرچہ اٹھانا پڑے گا۔ شرط منظور ہوگئی۔

چھ ماہ بعد محمود غزنوی نے طلب کیا تو اس نے کہا:وظائف اور عملیات الٹ ہو گئے ، چھ ماہ کا چلہ اور کاٹنا پڑے گا۔ سلطان نے چھ ماہ کا مزید ٹائم دیا ۔پھر دوبارہ دربارِ غزنوی میں طلب کیا کہ پورا سال ہو گیا، اب تو مجھے زیارتِ خضر علیہ السلام کروا۔ اس نے کہا کہ جھوٹ بولا تھا۔ میرے گھر میں فاقہ تھا۔سلطان غزنوی کو بہت تعجب ہوا اور شدید غصہ بھی آیا۔ وزیروں مشیروں کو طلب کیا کہ اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟۔ ایک نے کہا کہ سر قلم کر دیا جائے۔ دربار میں ایک نورانی چہرے والے بزرگ تھے وہ بولے اے بادشاہِ وقت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا۔

سلطان نے ایک اور وزیر سے پوچھا تو اس نے کہاکہ اس کو خونخوار جانوروں کے آگے زندہ ڈال دیا جائے تاکہ سسک سسک کر اور انتہائی اذیت سے مرے ہو۔ نورانی بزرگ نے کہا کہ اے بادشاہِ وقت یہ وزیر بھی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔

پھر غزنوی نے خادم خاص سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟۔ وہ نہایت عقلمند اور سلجھا ہوا آدمی تھا، عرض کی کہ حضور یہ خدا پاک کی عظمت ہے کہ ایک سال تک ایک غریب کا گھر چلتا رہا، بچے پلتے رہے۔ یہ جھوٹ بولنے پر مجبور تھا۔ اس کے جھوٹ سے نہ تو آپ کے خزانے میں کمی آئی اور نہ ہی آپ کی شان میں۔ میں یہ کہوں گا کہ غریب کو معاف کر دیں۔ اگر اس کا سر قلم کر دیا گیا تو گھر تباہ ہو جائے گا اور بچے بھوک سے مر جائیں گے۔

خادم خاص کی بات سن کر نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ محمود غزنوی نے بزرگ سے پوچھا کہ تو ہر ایک کی بات کو صحیح کیوں کہہ رہا ہے؟ تو بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت پہلا وزیر ذات کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گوشت کاٹنا، گلے کاٹنا۔ اس نے اپناDNAخاندانی رنگ دکھایا، غلطی آپ کی ہے کہ قصائی کو وزیر بنایا۔ دوسرے وزیر کے اجداد بادشاہوں کے جانور نہلاتے تھے، جانوروں سے شکار کھیلتے تھے تو اس نے مشورہ دیتے ہوئے اپنے خاندان کا تعارف کروایا۔ یہ بھی آپ کی غلطی ہے کہ اس کو اپنے دربار میں وزیر رکھا۔ جہاں اس قسم کے وزیر ہوں گے وہاں غریب عوام اور لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا جائے گا۔ آخر میں جس خادم خاص نے مشورہ دیا یہ سید زادہ ہے اور سید کی شان ہے کہ وہ اپنا سب کچھ جی ہاں سب کچھ کربلا کے میدان میں بھی لٹا دیتا ہے مگر بدلہ نہیں لیتا اور کبھی بدلہ لینے کا سوچتا بھی نہیں۔

سلطان محمود غزنوی تخت سے کھڑا ہوا اور خادم خاص سے کہا کہ کیوںنہیں بتایا کہ سید زادے ہو؟ تو اس نے کہا کہ آج تک کسی کو علم نہ تھا کہ میں سید ہوں ۔ میں بھی یہ راز کھولتا ہوں کہ یہ بزرگ کوئی عام ہستی نہیں بلکہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔

موجودہ دور کے حکمران طبقات، مشیر، وزیر اور صحافی لوگوں کے اصل نسل حسب نسب چیک کرلیں اسلئے کہ فضاؤں کو آلودہ کرنے اور مظالم ڈھانے میں ان کا بنیادی کردار ہوسکتا ہے۔

قارئین اس بات کا خیال رکھیں کہ دو بھائی بھی ایک جیسے کبھی نہیں ہوتے۔ میں نے اپنے بڑے بھائی امیرالدین شاہ سے کہا کہ آپ جیسے اخلاق خدا مجھے دیتا تو انقلاب آجاتا۔ جبکہ حضرت یوسف کے بھائی ،ایک نبی کے بھائی ،ایک کے بیٹے، ایک کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پڑپوتے تھے۔

میرے ایک ماموں غیاث الدین کے اندر اپنی محسود ماں کی غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میرے بھائی کیلئے رشتہ مانگا تو مامی نے درست کیا کہ گھر والے لینے میں خوش نہیں لیکن ماموں نے کہا کہ رشتہ دینا ہے تو دیدو نہیں تو زندگی بھر بیٹھی رہے گی۔ مامی نے دینے سے انکار کیا اور پھر اچھارشتہ بھی آیا لیکن نہیں دیا۔ ہماری مامی مرحومہ بایزید انصاری کے خاندان سے تھی جبکہ دوسرے ماموں سعدالدین لالا کا یہ حال ہے کہ اسکے بیٹے شہر یار نے اپنی کزن لینے سے انکار کیا تو پھر چاہیے تھا کہ اپنی بیٹی کا بھی کہتے کہ مت لو۔ جس طرح سے تھوپ دی تو میرا کلیجہ بھی جلتا تھا کہ ایک ماموں غیاث الدین فوت ہوگئے ۔پھر بھتیجے کیلئے ایک طرف چچا اور سسر اور دوسری طرف ماں تھی۔ اور جس دن رخصتی ہورہی تھی تو میں اس وقت مامی سے پردہ کرتا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ دلہے اور دلہن کی دوسرے دن شادی ہے مگر بول چال بند ہے۔ پھر مامی کے پاس گیا کہ یہ غلط ہے تو اس نے کہا کہ ”میرے بیٹے کی شادی ہے۔ میرا گلہ تمہارا چھرا ”پھر میں دوسری مامی کو اس کے پاس لایا۔ اس نے کہا کہ میں نہیں جاتی اور ایک لحاظ سے بات ٹھیک تھی کہ بیٹی والی کیلئے مناسب نہیں لیکن دوسری طرف جبری تھوپنے میں شرم نہیں تھی اسلئے اسی کو لیکر آگیا اور پھر یہ دائمی ناچاکی کا باعث تھااسلئے میں نے خطرات کے طوفان میں ماموں سعد الدین لالا کو منانے کی ٹھان لی کہ ایک بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کا رشتہ لو لیکن لالا نے نہیں مانا اور اس کے بعدمعمولی تقسیم پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔

میرے ماموں پیر غیاث الدین اور بھائی اورنگزیب شہید کے سامنے مولوی پیر گل حلیم شاہ کی جو حیثیت تھی وہ سب جانتے ہیں لیکن اس دلے نے میری ماں کا نام لیا اور مجھے بند کروایا ۔

ماموں سعدالدین لالا کی بہو میری بھتیجیاں میرے پاس اپنے والدین کے گھر میں نہیں آسکتی تھیں لیکن اس کی بیوی اور بیٹیاں آجاتی تھیں اور پھر میری گھر والی کو اپنے گھر کی دعوت بھی دے رہے تھے؟۔ہم نے ان کی بیٹی بھائی کی بہو کو عزت دی تو اس پر تذلیل کی کہانی گھڑ دی کہ لالا کی بیٹی ہے؟۔ شہید کی بیٹی کے بچے چھین کر اس کو خون بہانے اور بھائیوں کا خون بہنانے سے دھمکاؤ اور دوسری بہو کی تذلیل کرو تو وہ کتے کی بچیاں؟۔

میرا اصل ہدف14افراد کے قتل کے پیچھے میٹنگ ، لالچ، اوراخلاقی گراؤٹوں کو دور کرنے کیساتھ منہاج اور یوسف شاہ کو آپس میں ایک دوسرے پرسرداری جمانے کا خاتمہ بھی تھا ۔ یوسف شاہ کی بہن ملوث بھی تھی تو مسئلہ نہیں تھا اس کو اپنے بھائی پیر یونس شاہ کا دکھ ہوگا اور اس کی زندگی میں کبھی اس کا تذکرہ میں نے اسلئے نہیں کیا کہ عورت ذات کو تکلیف بھی نہیں پہنچے۔ میرے خیال میں عبدالرحیم کی بیوی اور یوسف شاہ کی غیرت کا مسئلہ ہوسکتا تھا لیکن پیر کریم اور پیر عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ کوڑ کے پیر کہتے ہیں کہ جٹہ قلعہ والے منافق ہیں تو میں اس تعصب میں نہیں آیا اسلئے کہ ہمارا ان کا ساتھ کوئی معاملہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ لوگ دل سے بہت عزت دیتے تھے۔زمینوں پر قبضہ اور تذلیل ہم نے تو نہیں کی تھی۔ ڈاکٹر ظفر علی شاہ نے بہت پہلے کہا تھا کہ حاجی عبدالرزاق نے کہا کہ ”دشمنی خدا کا قہر ہے تو یہ قہر میں مانگتا ہوں”۔لیکن یہ میں نے نہیں بتایا کہ وہ کیوں ایسا کہتا ہے؟۔ پہلے اس نے جس طرح کی تذلیل تمہارے ہاتھوں برداشت کی تو اپنے اقارب کے ہاتھوں بھی؟۔ اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟۔

جب میں نے کریم پیر کو ماموں کے ہاں دیکھااور خدشہ تھا کہ کہیں پلاننگ کے تحت عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں کو پار لگانے کا معاملہ نہ ہو اسلئے پیر کریم سے پوچھا کہ واقعہ کی کچھ معلومات ہیں؟۔ کہتے ہیں کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ لیکن میں چوہے کے پیچھے بھاگا اور حضرت خضر کی مچھلی کی سرنگ مل گئی۔

ہمارا واقعہ وہ عزت تھی جس کے ہم خود کو قابل بھی نہیں سمجھتے اور میں نے اللہ کا شکراداکیا ہے کہ ماموں کا گھر گڈ طالبان کے گھسنے سے بچ گیا جس سے عزت خراب ہوتی۔ جہانزیب نے کہا کہ ”یہ ہماری بے عزتی چاہتے ہیں” ۔ میں نے کہا کہ لالچ ہے۔ منہاج سے کہا کہ ” تم لوگوں نے اس پر فائرنگ کی ” تو اس نے کہا کہ ”وہ تو تم بھی شریک تھے”۔ میں رفع دفع کرنے کے چکر میں تھا کہ ہمارے لئے ایک پہاڑ کھڑا ہے اور اس میں کوئی غیرت نہیں دکھائی اور زمین کے ٹکڑے پر خون خرابہ کریں تو بہت بڑی حماقت اور بے غیرتی سے تاریخ لکھی جائے گی۔

ماموں نے مظفر شاہ کی اولاد کو دبانے کیلئے شاید ان کا حصہ تین بیٹوں کے مقابل چار بیٹوں کا چار بیٹیوں کا رکھا تھا تاکہ وہ اتنا دب جائیں اور تذلیل محسوس کریں کہ خانی کا معاملہ کبھی بھی نہیں چھیڑیںجس کے پیچھے کرائے کے قتل ، شجرہ کی تبدیلی اور خانی پر قبضہ کیلئے گھٹیا ترین حرکت کا پول نہیں کھلے۔

سید ایوب شاہ کو معلوم تھا کہ محمود شاہ نے فراڈ سے محسود قوم میں خانی کی خاطر شمولیت اختیار کی ہے حاجی بدیع الزمان نے کہا تھا کہ مظفرشاہ مولانا عبداللہ درخواستی کے پیر بھائی تھے اور مولانا درخواستی نے ان کو شہید قرار دیا تھا۔ جس کا مطلب فراڈ سے مروایا گیا اور اس پر میرے بھانجے عبدالرحیم نے فخرکیا اور پیرزاہد شاہ کو طعنہ دیا کہ دل بند شاہ کی خانی پر قبضہ کرنے کیلئے ہمارے والوں نے تمہارے والوں کو مروایا تھا۔ پیر منہاج کہتا تھا کہ انگریز کیلئے براہِ راست وزیر کے لشکر پر حملہ کرکے پسپا کیا تھا اور پیر فیاض کہتا تھا کہ وزیروں کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ،وزیر و محسود قومی جنگ میں ان کا بڑا مقاتلہ کیا ہے۔ اقبال شاہ نے کہا کہ ” فلاں خاتون کو ہمارا شجرہ یاد تھا”۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ سیدایوب شاہ کے پاس موجود شجرے کو وہ اپنا نہیں سمجھتا تھا۔

میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ سے پوچھاتھاکہ ”کوئی مشاہدہ ہوا ہے توانہوں نے کہا کہ لیلة القدر کو تین مرتبہ وامتازیوالیوم ایھا المجرمنون سنا”۔
جرائم کا آغاز کرایہ پر قتل ،شجرہ کی تبدیلی، زمینوں پر قبضہ پھر کرایہ پر قتل تک پہنچا؟۔ مجھے غیرت کے نام پربے غیرتی کی میٹنگ کی تلاش ہے۔ ہاہاہا

عبدالرحیم اور عبدالواحد کی خبر لالچ، نفاق اور تکبر کی وجہ سے لی۔چیلنج کیا تھا کہ اگر ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا ۔اگر ڈاکٹر ظفر علی کے کہنے پر امیرالدین مجھے پشاور منہاج کیلئے بلاتا۔ کراچی میں میرا قتل ہوتا تو ضیاء الدین نہیں بتاسکا کہ اسلحہ اکٹھا کرنے کی خبر کیوںدی تھی؟ تو پھر منہاج پر بھی بوجھ پڑتا؟۔ اورنگزیب شہید نے اعتماد کیا اور اب امیرالدین شاہ بھی ؟۔ پھر ڈاکٹر ظفر علی شاہ پر بوجھ آتا؟۔ شہریار اور اسفند یار کاDNAماں نہیں باپ سے ملتا ہے۔

نبیۖ کا داماد قیدہوا تو فدیہ میں حضرت خدیجہ کے جہیز کا ہار دیا،جس پر رسول اللہ ۖ کو دکھ ہوا۔

سیدنا عمر نے ماموں کو قتل کیا۔نبیۖ نے سسر ابوسفیان کو عزت دی ، ہند نے چچا کا کلیجہ چبایا تھا۔ ہم اپنوں کو قتل کرسکتے ہیں اور نہ دشمن کو عزت دے سکتے ہیں۔وہ عظیم لوگ تھے اور ہم اچھے والدین کی عام سی اولاد ہیں۔ منہاج کے بچے شہید چچا کا غم دیکھ چکے ، ماموں پہلے قتل ہوا۔ مصیبت زدہ کومزید تکلیف میں ڈالنا نہیں۔یہ پیکیج میری زندگی تک ہے۔ سوالات کے جواب چاہتا ہوں۔ اگرغیرت خراب ہوئی تو مہربانی ہے چھپ کر حملہ کیا۔ لالچ آئی تو آباپر گئے۔ حسد و بغض تھا تو مسئلہ نہیں ہے۔ کزن کی زمین پر قبضہ کی طرح قومی زمین نہیں کہ کسی کو گھر نہیں بنانے دیا تو جیت لی؟۔ یہ تو وہ گند ہے کہ کوئی تمہیں بھی نہیں بنانے دے گا۔ قبائلیDNAایک نعمت ہے۔ ملنگ پیر نے مفت میں زمین کی پیشکش اسلئے مسترد کی کہ کوڑ والوں کی تھی اور قیمت دیکر خریدی۔ جب حد کراس کی کہ بغیر اجازت چھت میں لکڑی استعمال کی تو چھت اکھاڑ دی ۔نورالھدٰی شاہ نے سندھ کاDNAسمجھایا اور وطن کاDNAآباد کار نہیں سمجھ سکتا ہے۔ سورہ قلم میں اسلئے خالد بن ولید کے باپ کی تذلیل ہوئی کہ وہ اشراف مکہ کاDNAنہیں تھا۔ زنیم حرامی کو نہیں کہتے۔

اگر عورت کی ذہنیت ہو کہ میں نے خاندان کو نقصان پہنچایا تو مسئلہ نہیں لیکن مرد نظرثانی کریں۔ عورت کا مرکزی کردار ہے تو وہ مرد کیاجسے عورت ہنکارہی ہو؟۔قصۂ خضر میں کشتی کابگاڑ ، بچے کا قتل اور یتیموں کی مدد سبق ہے کہ اجداد نے جو کیا ہمارے ساتھ جو ہوایہ قدرت کا راز تھا کیونکہ تحریک کا سہارا جٹ تھے۔ یہ تو ہمارے ساتھیوں کو کہتے تھے کہ ہمارا عزیز ہے…..ہاہاہاہاہا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ریشما سوات لاپتہ

سوات کی12سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کے پیچھے اس کی ماں اور گھروالوں کی حالت بہت خراب ہے۔ خدا کے قہر سے ڈریں اور جہاں کہیں بھی ہو تو اس کو اپنی جگہ پر پہنچائیں۔ دلے اور دلال علماء کی بات رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مقابلے میں غلط ہے۔ کوئی بچی جبری اغوا کی جائے یا رضامندی سے تو رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مطابق یہ نکاح باطل ہے جبکہ عدالت نے16یا18سال کے بعد جو پروٹکشن دی ہے وہ تو مفتی تقی عثمانی اپنے لئے اور میرے لئے قبول نہیں کرتا کہ عربی نسل کیلئے ولی کی اجازت ضروری ہے لیکن پٹھان، پنجابی، بلوچ اور سندھی کیلئے فتویٰ جواز کا ہے۔ یہ غلط ہے۔

بالفرض اگر ریشما12سال میں بالغ ہوچکی ہے اور مسلک حنفی کے مطابق اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی ، اخلاقی اور مذہبی طاقت سے اس کو پناہ دی ہے اور حکومت نے ایسے حادثات سے بچنے کیلئے لڑکی کی عمر18سال کا قانون بنایا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا تو فتویٰ یہ ہے کہ جبری اغواء کرلی تب بھی نکاح درست اور جج خلع بھی نہیں دے سکتا۔پھرتو اسلام مسائل کو حل نہیں پیدا کرتا ہے؟۔

دلے طبقے نے دین کو چودین بنادیا۔

قرآن و حدیث کو مسخ نہ کیا ہوتا تو لڑکی پرپھر والدین اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے۔

و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا

”اور تم اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور نہ کرو،اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں”۔ غلط تفسیر کر ڈالی کہ” اگر تمہاری لونڈیاں پاکدا منی چاہتی ہوں تو ان کو بدکاری پر مجبور مت کرو”۔
نبیۖ کے پاس ایک عورت نے شکایت کی کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح ہوا ہے تو نبیۖ اس کو معطل کردیا۔ نہ کسی ولی کو اجازت ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرے اور نہ اغواء کرکے اس کا جبری نکاح جائز ہے۔ شکار پور سندھ کے کچہ میں ملا وحید قتل کردیا گیا لیکن فتویٰ کس کا چل رہاہے؟۔ جس کی وجہ سے کچہ کا علاقہ مظلوم لڑکیوں ، بچیوں اور خواتین سے بھرا ہوا ہے؟۔ جس طرح حلالہ کی لعنت کیلئے عورت کو شوہر پیش کرتا ہے اور معاشرہ سمجھتا ہے کہ یہ لعنت مجبوری ہے اسی طرح

کچے کے علاقے میں اغواء اور خرید وفروخت کے پیچھے مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہے۔
ــــــــــ

خان جرنلسٹ نے نمائندہBBCاردو پشاور عبدالحی کاکڑ کا حقائق سے بھرپور انٹرویو کیا

مگر پشتو زبان میں ہے جس میں سوات اور قبائل کے طالبان میں بہت فرق بتایا کہ ایک طرف پنج پیری میںشدت پسندی کے علاوہ خواتین سے زبردستی کا نکاح بھی کیا جاتا اور دوسری طرف بیت اللہ محسود کی شادی میں روایتی ڈھول تھا اور لوگوں پر سختی نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قبائل آزاد منش ہیں اور کسی کو ذاتی مداخلت کی اجازت نہیں دیتے اور سوات میں قبائلی اقدار نہیں ہیں۔ میزبان نے کہا کہ سوات میں روایتی ڈھول ناچ کا کوئی تصور بھی نہیں ہے تو عبدالحی کاکڑ نے کہا کہ ملافضل اللہ اور مسلم خان نے تبلیغ کے ذریعے سوات کی خواتین کو بھی متاثر کیا تھا اور پھر رضامندی اور جبری شادی کا بھی معاملہ چلایا تھا۔

اس پشتو پوڈ کاسٹ کو مکمل طور پر اردو میں بھی آنا چاہیے

اور عوام کو پھر یہ تاریخی تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ننگرہارکے اخوند درویزہ بابا نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور پیر بابا کے مرید تھے۔ جس کی شہرت وزیرستان کی معروف شخصیت پیر روشان بایزید انصاری کے مقابلے کی وجہ سے ہوئی۔ مغل اکبر بادشاہ نے ایک طرف آئین اکبر اور دین الٰہی کی بنیاد رکھ دی تو دوسری طرف بایزیدانصاری کی بغاوت کیخلاف اخوند درویزہ بابا کو مکمل سپورٹ کیا۔ اخون دویزہ بابا کا پشاور کے پاس مزار ہے اور کئی کتابوں کے مصنف اور مشہور شخصیت پیر بابا کے خلیفہ تھے اور ان کی کتابیں اسی وقت سے حکومت کی مدد سے شائع ہوتی رہی ہیں لیکن بایزیدانصاری کی کتاب ”خیرالبیان” جرمنی کی لائلبریری سے ملی اور1980ء کی دہائی میں پہلی بار شائع کی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس کے صرف قلمی نسخے تھے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علم نے کہا کہ ”مذہب سے زیادہ مضبوط بیانیہ قومی روایات کا ہوتا ہے”۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ”اسلام عرب میں نازل ہوا اور عربوں کی جاہلانہ اقدار کا خاتمہ کیا اور قوم کی اچھی اقدار کو معروف کے نام پر سپورٹ کیا۔ قرآن کا مخاطب نشاة ثانیہ میں عالم انسانیت ہے اور پوری انسانیت میں منکرات کا خاتمہ اور معروف اقدار کو سپوٹ کرنا قرآنی احکام کا تقاضہ ہے”۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ کی بعثت کے وقت میں ایک طرف دنیا اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ فارس کے بادشاہ کو عرب شہزادی پسند آئی تو جبری نکاح پر ریاست بھی تہس نہس کی اور بادشاہ کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ پھر شہزادی ہندبنت نعمان کو بچانے کیلئے عرب قبائل نے فارس کیساتھ جنگ کرکے شکست دیدی۔ اس وقت لوگ فرسودہ مذہبی نظام سے بیزار تھے۔ کچھ صحابہ کرام جیسے ابوبکر صدیق اکبر نے بتوں سے ویسے ہی اپنی شدید بیزاری کا اظہار کیااور اسلام کو بلا چوں چراں قبول کرلیا۔

سورہ مجادلہ ظہار کیخلاف حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی مزاحمت سے بارگاہ پیمبرۖمیں نازل ہوئی۔

سورہ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو انصار کے سردار سعد بن عبادہ نے اپنی غیرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کردیا۔ دنیا میں حضرت خولہ کی جرأت سے ظہار کا خاتمہ ہوگیا لیکن حضرت سعد بن عبادہ کی غیرت سے انصار نے بھی درگزر کی درخواست کردی۔ جو بیوی کو طلاق کے بعد کسی اور شادی کی اجازت نہیں دیتاتھا۔ قرآن میں رسول اللہ ۖ کی ازواج کا یہ حکم تھا کہ امہات المؤمنین ہیں اور ان سے نکاح کی کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی بیویاں بھاگ کر مدینہ آگئیں تو رسول اللہۖ نے واپس نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی تائید کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ”وہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں اور یہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں” اور ساتھ میں قبائلی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے حکم دیا کہ اپنی کوافر بیگمات سے تم بھی مت چمٹے رہو۔حضرت عمر نے کافرہ بیوی کو چھوڑ دیا تو اس کے ساتھ امیر معاویہ نے شادی کرلی تھی۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا مگر رسول اللہ ۖ نے پناہ دی۔ رسول اللہ ۖ کے بعد امت کے پہلے مولانا علی نے سمجھا کہ جب دو طرفہ مشرک و مؤمنہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کیلئے حلال نہیں تو رسول اللہۖ کی رہنمائی سے معاملہ حل ہوگیا اور جب رسول اللہ ۖ سے خولہ نے ظہار پر مجادلہ کیا تو اللہ نے عورت کے حق میں حکم نازل فرمایا اور رسول اللہۖ نے بھی عورت کے حق میں فیصلہ فرمایا۔

جب حضرت عمر کے دور میں شاید حضرت سعد بن عبادہ کی طلاق شدہ بیگمات نے شادیاں کیں تو انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا اور شام میں دمشق کے قریب گاؤں میں رہائش اختیار کرلی لیکن شاید جن بیگمات کو طلاق کے بعد شادی نہیں کرنے دی تھی تو ان کے نئے شوہروں نے کہیں پہلے کا حساب چکایا نہ ہو۔ جس کو پھر جنات کے کھاتے میں ڈال دیا گیا تھا۔

ہمارے واقعہ میں13فراد مہمانوں سمیت شہید ہوگئے

اور طالبان نے معافی بھی مانگی لیکن یہ ہمارے اندر کا کوئی معاملہ تھا یا مذہبی شدت پسندی کا؟۔ اس پر جب تک درست تحقیق نہ ہو تو بہت ساری آراء ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے واقعات کے محرکات تلاش کئے جائیں تو شدت پسندی کے حوالے سے اس کی بہت کم مقدار ہوسکتی ہے۔

جہاں تک سوات میں عورتوں کی جبری شادیوں کا معاملہ ہے تو وقت ٹی وی نے بھی بہت ساری خبریں دی تھیں۔البتہ سوات جیسے غیرتمند لوگوں کی بیٹیوںکے حوالہ سے طالبان جبری شادیاں کیسے کرسکتے ہیں؟۔

2007ء میں مفتی تقی عثمانی کا ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم” شائع ہوئی ہے اور اس میں جبری نکاح کو شریعت کا تحفظ دیا گیا ہے۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو کیا پتہ ہے کہ ان علماء ومفتیان نے کیا کیا گل کھلائے ہیں؟۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم2022ء میں دوبارہ شائع ہوئی اور مرتب کرنے والے لونڈے مفتی زبیر کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح کتے کو ہڈی جہاں سے بھی ملے تو اس پر لڑنے کیلئے تیار ہوتاہے۔ اسی طرح فرقہ واریت اور تنظیموں سے لیکر جہاں سے اوجھڑی میں کچھ بھی جارہاہو تو جو علماء اس کیلئے بک جائیں تو وہ بعلم باعوراء کی طرح ہیں جس کی مثال قرآن نے کتے سے دی ہے کہ اس کو چھوڑ دو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے اوربوجھ ڈالو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے۔
ــــــــــ

سلطان رنداور صوبہ سندھ

سلطان رند کے چینل پر بہت ساری اغواء شدہ بچیوں اور بچوں کی ویدیوز ہیں۔ یہ سندھی میں بندہ کہہ رہاہے کہ اغواء کار پر پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے۔ جب قوم اپنے اندر چھوٹے بدمعاش طبقات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوں تو ریاست پر بھی تھو تھو کرنے کے بجائے پہلے معاشرے میں برائی خلاف ایک پرامن آواز اٹھانے اور ہاتھ کے ذریعے برائی کو ختم کرنے کیلئے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔SSPشکار محمد کلیم نے بھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے پریشر پڑا اور حورم پٹھان کیساتھ دیگر خواتین بھی بازیاب ہوگئی ہیں اور ملا عبدالوحید بھی مارا گیا۔ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کا ماحول بھی نہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بحری قذاقوںکی تحویل میں یاسرکی فریاد

کراچی میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے ہاں بحری قذاقوں کے ہاتھوں اغواء یاسر کی بیوی اور دیگر مغویاں کی بیگمات نے اپنی آواز اصحاب اقتدار تک پہنچائی کہ اگر بروقت مدد نہیں کی تو رابطہ بھی ختم ہوسکتا ہے اور پینے کا پانی بھی ختم ہے۔

انہوں نے حافظ نعیم صاحب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی آواز کو اٹھانے میں ان کی بھرپور مدد کی۔ بہت بڑا المیہ ہے کہ جہاں جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی موجودگی میں بھی یہ ماجراء ختم نہیں ہوتا کہ بحری قذاق لوگوں کو یرغمال بنالیتے ہیں ۔

پاکستان عالم اسلام اور عالم انسانیت کے تعاون سے بحریہ اور فضائیہ کی ایک ایسی پاک فورس تیار کرے جسکا کام دنیا بھر کے مظلوموں کو ظالم قذاقوں سے تحفظ فراہم کرنا ہو۔

فیلڈ مارشل ، وزیراعظم ، صدر مملکت، وزیر خارجہ، وزیراعلیٰ سندھ مغویاں کو جلد سے جلد اپنے پیاروں تک پہنچانے میں کار کردگی دکھائیں اور محلہ ، شہر، تحصیل ، صوبہ اور ملک کی سطح پر بے حس طبقہ دوسروں پر زبان چلانے اور ہاتھ اٹھانے کے بجائے اپنا فرض ادا کرے اور نظام کو پرامن طریقے سے بدلنے کی کوشش کرے۔ اللہ نے فرمایا کہ

”اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خودکو نہیں بدلتے”۔ (سورہ رعد)۔

حرکت میں برکت ہے اور سبھی کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنے کیلئے متحرک ہونا ہی پڑے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv