پوسٹ تلاش کریں

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
اور ان دونوں سے مو دبانہ گزارشات :سید عتیق الرحمن گیلانی

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف
حضرت مولانا اشرف صاحب سلیمانی کا واقعہ
(ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم)

پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے کہا کہ سالِ اول کے طالب علم سرفراز چند دن میڈیکل کالج میں گزارنے کے بعد ہمارے شیخ و مربی مولانا محمد اشرف (سابق پروفیسر و صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی) سے ملنے کیلئے آیا۔ برخوردار تبلیغی دینی لحاظ سے فکر مند تھا، ملتے ہی کہا، ”حضرت میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑنا چاہتا ہوں یہاں کا مخلوط ماحول اور بے دین فضا مجھے بالکل پسند نہیں”۔ فرمایا ”بھلے آدمی!لڑکیاں تو نہیں بھاگ رہیں تو مرد ہو کر ہتھیار ڈال رہا ہے۔ یہ تعلیم چھوڑ کر کرو گے کیا؟”اس نے کہاکہ دینی مدرسے جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا دیکھو علما ء بہت ہیں علما ء کے خادم کم ہیں۔ تم ڈاکٹر بن کر علما ء کا خادم بنو۔ ڈاکٹر بنا، حضرت کی صحبت کا نتیجہ کہ عملی لحاظ سے کئی علما ء کیلئے قابلِ رشک بنا اور واقعی علماء کا ایسا خادم بنا کہ جہاں بھی رہا وہاں کے علماء کی خوب خدمت کی۔ ایک حادثے میں شہادت ہوگئی لیکن آج تک ان کی خدمات دوست احباب اور علمائے کرام کے حلقوں میں یادگار ہیں۔ ہمارے حضرت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے مریدوں کو دنیا کے کاموں میں ایسا چلاتے تھے کہ اس دنیا کو دین اور عبادت بنا دیتے تھے۔

تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

مسلک صاحبِ فتاوی

صاحبِ فتاوی مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر طعن نہیں کرتے
احقر العباد بندہ رشید احمد گنگوہی عفا اللہ تعالی عنہ بخدمت اربابِ فہم و دیانت عرض کرتا ہے کہ بندہ کا مذہب حسب مسلکِ حق جملہ حق و دین یہ ہے کہ جس مسئلہ میں صحابہ و مجتہدین علیہم الرحمة کا اختلاف ہو تو اس میں جس جانب کو اپنی تحقیق سے یا تقلید کسی مجتہد اہل حق سے راجح سمجھے اس پر عمل درآمد رکھے اور دوسری جانب پربھی بے جا کوئی طعن و تشنیع نہ کرے۔ عند الضرورت اس پر بھی عمل کر لے۔ اسی وجہ سے یہ بندہ عاجز حنفی المذہب ہے کسی اہل مذہب پر طعن نہیں کرتا اور نہ اپنے مذہب کی خواہ مخواہ ترجیح کے درپے ہوتا ہے مگر عندالضرورت جہاں کچھ رفعِ فساد یا اصلاح متصور ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں کچھ لکھ دیتا ہے۔فقط کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ

تبصرہ: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب1982میں رائیونڈ کے اندر حاجی عبدالوہاب سے میں نے مشورے کا کہا تو فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ نہیں لینا”۔ کانیگرم کے مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ جماعت میں تشکیل کریں ۔ مولانا شاہ حسین محسود نے کہا کہ نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ لیں۔ دارالعلوم کراچی میں انڈسڑیل ایریا کی وجہ سے داخلہ لیا جہاں کام بھی ملا لیکن جب میں نے کہا کہ زکوٰة میرے لئے جائز نہیں اور بلا معاوضہ دین کی خدمت کروں گا تو داخلے سے انکار کردیا۔ پھر مولانا یوسف لدھیانوی شہید سے کہا کہ والدین کی اجازت نہ ہو جبکہ میری خدمت کی ان کو ضرورت نہیں تو کیامیرے لئے علم حاصل کرنا جائز ہے ؟۔فرمایا: مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔ میں نے کہا کہ مشورہ نہیں فتویٰ مانگ رہاہوں تو فرمایا کہ ”پھر پڑھ سکتے ہو”۔ ایک سال مدرسہ میں پڑھا تو بہت فضول لگا اسلئے کہ سارے معاملات الٹ تھے اور اپنے مرشد حاجی عثمان سے کہا کہ علم چھوڑ کر حفظ کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا : میں عالم نہیں ہو ں ،کسی استاذ سے مشورہ لو۔ میں مولانا عبدالیقوم چترالی کے پاس گیا تو فرمایا کہ ”حفظ کی ایسی حیثیت نہیں علم حاصل کرو”۔ آج اگر مولانا چترالی کا مشورہ نہیں ہوتا تو میں علم کی یہ خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ رحمان بابا نے فرمایا:

” جب تم علم کے بغیر پیری فقیری کروگے تو اپنی کھوپڑی کو آگ لگادوگے”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی اور عمر ضائع کردی”۔ اسلئے مولانا بنوری نے علماء کو قرآن، حدیث اور عربی سکھانے کیلئے مدرسہ کھول دیا لیکن جب دارالعلوم کراچی شہر سے کورنگی منتقل ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت آگئی اور درس نظامی کی تکمیل کیلئے پھر جت گئے۔ الحمدللہ مولانا بنوری کے اخلاص کی برکت سے اساتذہ کرام سے تعلیم کی درست رہنمائی مل گئی۔
ــــــــــ

الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت

” ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک مکان و زمان کی قید سے آزاد و مطلق ہے ۔ روح مطلق ہوتواسکے نزدیک ماضی، مستقبل، حال، ظاہر باطن سب برابر ہیں ۔ روح کے نزدیک ہر چیز ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہمارے آقا نبی کریم ۖ اگر آپ عقل یا دل سے سوچیں تو آقا نبی کریم ۖسنتے ہیں۔

فتحِ مکہ کے دن، جب ہمارے آقا نبی کریم ۖ کعبہ کے پاس تھے، تو ایک شخص آیا، اس نے اپنے دل میںکہا: ‘آج میں محمد (ۖ)کو قتل کر دوں گا عربوں کو ان سے نجات دلاؤں گا۔ ”ہمارے آقا نبی کریم ۖ وفود کا استقبال کر رہے تھے اور فتح کا موقع تھا، جبکہ وہ کہہ رہا تھا: ”آج میں محمد(ۖ)کو قتل کر کے عربوں کو ان سے راحت دلاؤں گا۔اس نے ایک خنجر (چھری)لیا اور ہمارے آقا نبی کریم ۖ کے قریب آنے لگا، اور اپنے دل میں کہہ رہا تھاوہ کیا کہہ رہا تھا؟ ”آج میں محمد (ۖ) کو قتل کر کے مخلوق کو ان سے آرام دلاؤں گا۔”

ہمارے آقا نبی کریمۖ دیکھ رہے تھے۔ وہ شخص رسول اللہ ۖ کے پاس کہہ رہا تھا، چاہے وہ زبان سے کہتا یا دل میں سوچتا، ایک ہی بات تھی، ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اس سے فرمایا:تم نے کیا کہا؟۔

اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول!میں تو اللہ سے استغفار کر رہا تھا، میں تو استغفار کر رہا تھا۔آپ ۖ نے فرمایا: نہیں، سچ بتا تم نے کیا کہا تھا، کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ آج میں محمد کو قتل کر کے اس سے خلقت کونجات دلاؤں گا؟۔اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں! پھر ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اسے اپنے پاس کیا، اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ وہ شخص کہتا ہے: رسول اللہ ۖنے مجھے اس حال میں چھوڑا کہ آپ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو چکے تھے۔

شایدیہ ہے کہ ہمارے آقا نبی کریم ۖکی روحِ مبارک مطلق (آزاد)ہے، اسلئے ان کے ہاں ظاہر باطن برابر ہیں۔ اور یہ چیز ہم نے اللہ کے ولیوں کے ہاں بھی دیکھی ہے۔ ولی کے پاس جب اس کی روح مطلق ہوتی ہے چاہے آپ اپنے دل میں سوچیں یا اپنی زبان سے بولیں، دونوں ایک ہی بات ہوتی ہے؛ چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ سوچ رہے ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عقل تسلیم نہیں کر سکتی، یہ روح کی دنیا ہے، اور روح کی دنیا کا جسمانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، روح کی دنیا میں ہر چیز (موجود)ہے۔

مثال کے طور پر، آپ اپنے شیخ سے ملتے ہیں، آپ اور شیخ کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے شیخ سے ملتے ہیں، تو وہ دوسرا شیخ آپ سے کہتا ہے: کیا آپ کے شیخ نے اس دن آپ سے یہ بات نہیں کہی تھی؟۔ روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر اولیاء کی روحوں کا یہ حال ہے تو ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک کا مقام کیا ہوگا؟ ہمارے یہ آقا نبی کریم ۖہر چیز کو دیکھتے ہیں، ہر چیز کو سنتے ہیں، ہر چیز میں اجازت دیتے ہیں اور ہر چیز میں تصرف فرماتے ہیں۔

یہ ہم ایسی باتیں کر سکتے ہیں جسے شاید (ظاہری)عقل قبول نہ کرے، لیکن روحِ محمدی ایسی روح ہے جس کی کوئی سرحد و حد نہیں۔ تمام کائناتیں رسول اللہ ۖکے نور سے پیدا کی گئیں، اور فرشتے رسول اللہ ۖکے نور سے تخلیق کیے گئے، اور آپ ۖ تمام موجودات کے سردار ہیں، اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کا اور اس کی مخلوق کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔

تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رحمة للعالمین ۖ سے یہ فرمایا کہ
فلم تقتلوھم و لٰکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولیکن اللہ رمٰی ولیبلی المؤمنین منہ بلآئً حسنًا ان اللہ سمیع علیمO
”تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے وہ کنکر پھینکے تاکہ مسلمانوں کو اچھی آزمائش میں مبتلا ء کردے۔ بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (سورہ الانفال آیت:17)

پھر غزوہ ، احزاب اور غزوہ حنین میں مشکل کا اللہ نے شکار کیا۔ تاکہ صوفیا ء کرام تزکیہ نفس کو مشاہدات کے علاوہ آزمائش کے حقیقی میدانوں میں بھی جانچ سکیں۔ کبھی کمزور انسان کو اللہ بلا سے لڑادیتا ہے۔جیسے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام لڑے۔
ــــــــــ

مودبانہ گزارشات
سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فداء محمد ہمارے بچپن میں غالبًا کانیگرم تشریف لائے تھے اور مولانا اشرف ہمارے ہاں اللہ کے ولی مشہور تھے جن کی ہمارے مرشد حاجی عثمان نے بھی تعریف کی تھی۔

مولانا اللہ یار خان نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔1982ء میں اسٹیل مل میں ان کے مرید تھے اور ان کے رسالہ ”المرشد” کے مضامین مجھے بہت اچھے اور اعتدال والے لگے۔ خاص طور پر نبیۖ کے نور وبشریت پر ادنیٰ مثال کرنٹ والے بجلی کے تار اور عام تار میں فرق کا دیا تھا اور مجھے انہوں نے پیشکش کی تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہیں کریں ،براہ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت ہوگی لیکن میں نے پہلے سے منع کردیا تھا۔ امام مسجد مولانا بیعت تھے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نبیۖ کی زیارت کی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ میری ایسی قسمت کہاں ؟۔ پہلی بار آپ کیلئے یہ پیشکش سنی ہے۔ سردار امان الدین شہید نے انکے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اخوان تحریک ،MNAجنوبی وزیرستان مولانا نور محمد شہید اور مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی تھی۔ مشرق اخبار کی معروف کالم نگار مریم گیلانی نے امان الدین شہید کی طرف سے تحریک کو اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ جبکہ مولانا اکرم اعوان نے وزیرستان کے لوگوں کیلئے فرمایا تھا کہ ” اس بیچ کو اللہ نے انقلاب کیلئے رکھا ہے”۔ اگر تحریک طالبان و دیگر ہتھیار اٹھانے والی سب تنظیمیں ہتھیار رکھ دیں اور علماء و صوفیاء اور ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں قرآن کے احکام کی طرف آجائیں تو بغیر کسی مشکلات کے دنیا میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔ سب اس نظام سے تنگ اور مایوس ہوچکے ہیں۔

مشاہدات، خواب اور انقلابی جدو جہد کے نتائج دیکھنے کی حسرت اس وقت پوری ہوسکتی ہے کہ جب قرآن کے احکام کو معاشرے میں زندہ کریں گے اور مردہ لوگوں کی روح کو زندگی مل جائے گی۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور ہندوستان کے مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے زندہ و تابندہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹ لیں گے۔ جب اسلامی جمہوری محاذ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان میں ہوا تھا اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی زندہ تھے۔ قبر پر فاتحہ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے۔ عقائد میں سب ایک ہوسکتے ہیں۔ مولانا خان محمد شیرانی سے اس وقت جمعیت علماء اسلام کا ایک عالم دین الجھ رہاتھا تو میں نے اجازت مانگ کر مطمئن کیا تھا اور اس نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے بتادیا۔ اس نے کہا کہ مجھے پہلے گمان تھا کہ آپ ہوسکتے ہیں۔ آپ نے چھڑا دیا۔

ہمیں ہار جیت کیلئے نہیں اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے مسلمانوں کو ہی نہیں تمام مذاہب کو بھی قرآن کی درست تعبیرات سے وہ نشان منزل قائم کرنا چاہیے جس سے جلد منزل کو پہنچ جائیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم!(خاتون کی آواز ہے)
پارلیمنٹ میں بیٹھے بہت سے افراد پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک جن کے آبا اجداد ملک و ملت اور مذہب سے غداری اور برطانیہ سے وفاداری کے صلے میں اس مقام تک پہنچے ۔

سب سے پہلے بھٹو خاندان کا شجرہِ نسب یہ ہے: غلام مرتضی بھٹو، ان کا بیٹا شاہنواز بھٹو اور ان کا بیٹا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت اصفہانی ایرانی لڑکی دوسری بیوی تھی جن سے بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ خاندان کی کہانی یہ ہے کہ1843میں چارلس نیپئیر کی قیادت میں انگریز نے سندھ پر قبضہ کیا اور دولت کی لوٹ مار کیلئے انگریز نے خاص طبقہ پیدا کیا جسکے ذمے عوام سے لگان یعنی ٹیکس کی وصولی تھی۔ برصغیر کی غریب عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریز کی مہربانیوں سے بھٹو برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں غربت کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔

بہر حال خدابخش خان اور اسکے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور انکے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ باری باری وفات پا گئے۔ مگر انہی میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے صلح کر لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا گوارا نہ کیا اور یہاں سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انگریز نے شاہنواز بھٹو کو بہت نوازا اور یہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ شاہنواز بھٹو1888میں پیدا ہوا اور1957میں فوت ہوا۔ یہ ممبئی حکومت میں مشیرِ اعلی، جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان اور انگریز کی بمبئی پریذیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ اس کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلےCIEاور بعد میں برطانیہ نے”سر” کا خطاب دیا۔ خاندان کے ابتدائی افراد، جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریز کے خلاف مزاحمت کی بعد کی نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ نے ”سر”، ”نواب” اور ”بہادر”کے خطابات دئیے۔ خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بے شمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب ہاریوں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے۔ سکھر اور جیکب آباد عملاً ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ خود انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین (David Cheesman) نے اپنی کتاب
Landlord Power and Rural Indebtedness in Colonial Sind
کے مطابق سندھ میں یہ وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھیں مگر برطانیہ کے وفادار رہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان کے علاوہ انگریز کے وفادار میں وڈیرو غلام قدیر درخان، میر عبدالحسین خان تالپور موجودہ سیاستدان فریال تالپور کے اجداد ہیں، اس کے علاوہ غلام رسول جتوئی اور جتوئی خاندان انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے، شامل تھے۔

شاہ محمود قریشی جو مخدوم کہلواتا ہے سکھوں کے ابتدائی دور اسکے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود، درگاہ کے گدی نشین تھے۔1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو فتح کیا تو مخدوموں کو ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی جو بڑی رقم تھی۔1847میں سکھ کی قوت لڑکھڑانے لگی اور برطانیہ نے یونین جیک کا جھنڈا برصغیر پر گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے انگریز کو جو خفیہ خبریں دیں، جو مخدوموں کے نئے آقا کیلئے انتہائی مفید اور مددگار ثابت ہوئیں۔ انگریزنے ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تاحیات1700روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا۔1857کی جنگِ آزادی کے خونی ہنگاموں کے دوران اس یارِ وفادار نے سرکاری فوج میں20ہزار سوار اور کافی پیادے بھرتی کروائے اور25سواروں کی پلٹن بنا کر جب کرنل ہیملٹن، رائے احمد خان کھرل اور انکے مجاہدین کے خلاف خونی لڑائی لڑ رہا تھا تب مخدوم شاہ محمود نے خفیہ مخبر کے علاوہ انگریز کی قوت بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔

جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی رہنما انگریزوں کی امداد کر رہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہدِ آزادی پر بہت برا اثر پڑا۔ اور مخدوم شاہ محمود کو30ہزار روپے نقد کے علاوہ1800روپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوؤں پر مشتمل زمین برطانیہ نے دی۔ شاہ محمود قریشی کی1859میں وفات کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش سجادہ نشین بنا۔ اس کی دستار بندی انگریز ڈپٹی کمشنر نے بڑی شان و شوکت سے اپنے ہاتھوں سے کی۔ انگریز اور افغان کے درمیان جنگ ہوئی تو انگریز کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ جہاں مجاہدین پاکستان کے پہاڑوں میں انگریز کیخلاف لڑائی لڑ رہے تھے تو گدی نشین انگریز کا ساتھ دیکر امت سے غداری کے بدلے میں بھاری رقم وصول کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اجداد اور مرزا غلام احمد قادیانی خاندان کا انگریز کی ایجنٹی میں کردار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلم مزاحمت کو کچلنے اور انگریز کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کی۔ دوسرے خاندان سے کذاب نبی نے جنم لیا جس کی باقیات آج بھی ہم پر مرزائیوں کی صورت میں مسلط ہیں اور تفصیل سن لیں۔ وکیل انجم کی کتاب ”سیاست کے فرعون”

ویڈیو لنک درج ذیل ہے۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔

حرام حلالہ سینٹرز

ویڈیو کی تفصیل دیکھ لیں ۔ یہاں کچھ اقتباس دیتے ہیں۔
میزبان: کراچی، لاہور، اسلام آباد، بہالپور ایسے شہروں میں حلالہ سینٹر ہیں۔ پیسے لے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔

تہمینہ شیخ : یہاں کیا کرتے ہیں؟ کہتے ہیں دو لاکھ روپیہ دو، حلالہ کرا دیں۔ بہالپور میں دو لاکھ کا باقاعدہ ہ ا شتہار۔

تہمینہ شیخ: بہت بہترین قسم کا یہ کیس ہے جس سے لوگوں کو سبق بھی مل سکتا ہے۔ ہر خبر میں سبق ضرور ہوتا ہے لیکن لوگ صرف خبر کا مزہ ضرور لیتے ہیں لیکن سبق نہیں حاصل کرتے۔ اس خبر میں جو ذکر ہے، جو سبق ہے وہ حلالہ ہے۔ وہ دین ہے، وہ دنیا ہے اور وہ آخرت ہے ایک عورت کی۔ لیکن پتہ نہیں مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ کیوں بربادی کی طرف چل پڑے ہیں، چل نہیں پڑے دوڑ پڑے ہیں سارے کے سارے۔ یہ کیس پشاور کا ہے اور ایک موضع ہے جسے کہتے ہیں متھرا۔ ہدایت اللہ نامی شخص ایک عورت کا شوہر۔ ہوتا کیا ہے؟2010میں والدین اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں ہدایت اللہ سے اور اس میں بیٹی جو ہے اس کا نام زینب ہے۔ یہ شادی15سال بڑی بہترین انداز میں چلی زینب کو شوہر بہت زیادہ مارتا پیٹتا تھا۔ ہر دفعہ برداشت کرتی تھی، ایک دن سامنے اکڑ کے کھڑی ہوگئی، خبردار جو اب ہاتھ لگایا۔ پتہ نہیں وہ طاقت، وہ حوصلہ، وہ ہمت کہاں سے اس کے اندر آیا۔ جس دن اس نے آواز اٹھائی فرسٹ ٹائم، میں 15سال بتا رہی ہوں کہ شادی رہی، اسی دن اس کو تین طلاقیں ہوئیںموقع پہ۔ میں غیرت مند آدمی ہوں اور میں کیسے برداشت کروں کہ میری عورت کی آواز مجھ سے بلند ہوئی۔ اوکے ڈن، طلاق ہوگئی۔

اب اکٹھی تین طلاقیں ہوئیں نا، تو یہاں پر کردار ہے ایک اسلامک سکالر کا، وہ بہت اچھے سے بتا سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہم نے سنا، غلطی بھول چوک معاف کہ اکٹھی تین طلاقیں ہوتی نہیں۔ دین تو یہ کہتا ہے۔ باقی اسلامک سکالر، مفتی حضرات جو ہیں ہم سے بہت بہتر علم بھی رکھتے ہیں اور وہ بتائیں گے اس حوالے سے۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں ہوتی ہیں۔

پھر بیٹھ گئے۔ مسئلے کا حل نکالتے ہیں، کسی کو بتایا تو نہیں؟ نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے ماں باپ کو؟ نہیں بتایا۔ اوکے۔ چلو پھر اس کا حل حلالہ ہے۔ میں تو نہیں مانتی یہ کیا ؟۔ میں مولوی کو لاتا ہوں، مولوی آگیا۔ میاں بیوی، مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ مسئلہ سننے کے بعد مولوی کہتے ہیں حل واقعی حلالہ ہے، اگر دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ بتا کون رہا ہے؟ مولوی صاحب۔۔ اچھا جی اب یہ طے پا گیا۔ اب کس کے ساتھ اس کا حلالہ کرواؤں؟ ایک اس کا بڑا بیسٹ بڈی ہے، دوست ہے اس کا، اس دوست کا نام ہے راجبری۔

میزبان: اگر حلالہ کی بات کریں تو دین ہمیں جو بتاتا ہے کہ اس مرد کی اب وہ سابقہ بیوی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو کسی اور مرد کیساتھ نکاح کرنا پڑے گا، ازدواجی تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد جو نیا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے گا تب جا کر جو بیوی ہے اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور وہ تب جا کر حلال ہوگی، یہ پورا ایک کنسیپٹ ہے۔
تہمینہ شیخ: شرعی حیثیت بالکل آپ نے جو کہا یہ ہے سچویشن۔ مگر شرعی حیثیت میں پری پلانڈ اگر کیا جائے تو ہوتا ہی نہیں ۔

میزبان: ہاں پیسے دیکر حلالہ کروا لیا جائے یا اس نیت سے کروایا جائے کہ طلاق دینی ہے پھر بیوی نے واپس جانا ہے۔
تہمینہ شیخ: بالکل۔ جیسے ہم کیس میں بات کر رہے ہیں اب شوہر دوست ڈھونڈ کے اس کیساتھ حلالے کیلئے بھیجے، واپس لے آئے، تو یہ ہوتا ہی نہیں ہے نا، دین تو ایسا نہیں کہتا۔ راجبری کو کہا کہ میرا جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے طلاق دے دی، حلالہ کرنا ہے تیرے ساتھ۔ وہ اس کا منہ دیکھ رہا ہے، کیا بول رہا ہے اپنی بیوی کے بارے میں؟ پانچ سے دس منٹ کی اس نے کونسلنگ، راجبری کو ایگری کر دیتا ہے نکاح کیلئے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے پھر کل نکاح کریں؟ کہتا ہے ہاں کریں۔ اب راجبری کے ساتھ نکاح کر دیا جاتا ہے باقاعدہ طور پر اور نکاح میں مولوی بیٹھا ہے اور اس نکاح میں کچھ گواہ بھی بیٹھے ہیں۔ رخصت ہو کر چلی گئی جو کوئی گھر یا فلیٹ ہوگا۔ صبح ہوئی، بڑا ہنسی خوشی جاتا ہے راجبری کے اسی فلیٹ پر جہاں پر اپنی بیوی کو رخصت کر کے آیا ہے یہ۔ حیران اور پریشان ہوں میں، مجھے سناتے ہوئے بعض اوقات شرم آتی ہے میں کیا بتاؤں عوام کو، لیکن جو صورتحال ہے وہ بتانی اتنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو کم سے کم اویئرنس تو آئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ نہ کھلے، پھر کھٹکھٹایا نہ کھلے۔ دھیان گیا سائیڈ پر چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے دروازے کو،، فون کیا، فون بند۔ چار دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے بعد فون آن ہوا اور رابطہ ہوا۔ راجبری تم کہاں چلے گئے یار؟ تمہارے ساتھ میرا طے ہوا تھا؟ تم کون بات کر رہے ہو؟ جواب آرہا ہے۔ شاک۔ میں کون بات کر رہا ہوں؟ یار میں نے حلالے کیلئے اپنی بیوی کا نکاح نہیں تم سے کرایا تھا؟ کہتا ہے اچھا اچھا۔ اپنی بیوی کا نہیں اب وہ میری بیوی ہے اور میں ہنی مون پیریڈ پر ہوں۔ کہتا ہے کیا مطلب ہے تم ہنی مون پہ ہو، میں نے واپس لینی تھی، تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا۔ کہتا ہے میری بات سنو، طے میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، لیکن میرا اب دل آگیا اس پہ، میں نے نہیں چھوڑنی بھائی میری بیوی ہے۔ زینب کی آوازیں آرہی ہیں پیچھے سے۔ کہتا ہے بیٹھ کر بات تو کر لو تم لوگ۔ ٹائم سیٹ کرتے ہیں۔یہ بیٹھ جاتے ہیں سیٹنگ میں، زینب، راجبری، اس کا وہ شوہر پچھلا۔ بیٹھ گئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے یار یہ میری بیوی ہے میں نے نہیں چھوڑنی۔

میزبان: زینب کا کیا موقف ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا اتنا انٹرسٹنگ مؤقف ہے۔ یہ کہتا ہے میں نے بیوی نہیں چھوڑنی دل آگیا۔ وہ کہتا ہے زینب، چلو نا گھر، دیکھو یہ کیا فضول باتیں کر رہا ہے۔بچے انتظار کر رہے ہیں۔ زینب کیا کہتی ہے؟ کیا مطلب ہے چلو نا چلیں گھر؟ میرا گھر تو یہی ہے جس کے میں نکاح میں ہوں، تم چلو یہاں سے باہر، نکلو باہر کمرے سے۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا حلالہ، کیا تم بھول گئیں وہ15سال شادی کے، وہ تین بچے۔ زینب آگے سے کہتی ہے ہاں میں بھول گئی تھی تب جب تم نے مجھے کہا تھا تین مرتبہ طلاق اور جب ہر دفعہ تم مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ مارتے تھے، میں بدظن ہوگئی۔ اس نے مجھے ایک ہفتے میں اتنا کمفرٹیبل رکھا ہے کہ میں نے اب اس کو چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ یہی میرا حقیقی شوہر ہے، اسکے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس نے کیا کرنا تھا۔ اب یہ سارا جھگڑا ہوگیا بہت زیادہ۔
3جنوری تاریخ ہے اور ایک لاش ملتی ہے، ہوتی ہے زینب کی۔ زینب کی جب لاش ملتی ہے، پولیس کو پتہ چلتا ہے، پرچہ درج ہوتا ہے، ٹریسنگ شروع ہوتی ہے، ملزم تک پہنچ جاتے ہیں، تو ملزمان میں جو گرفتاری ہے وہ آتی ہے ایک تیسرے بندے کی اور اس تیسرے بندے کا نام ہوتا ہے نقیب اللہ۔

میزبان: نقیب اللہ کون ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا سگا بھائی۔ پولیس پوچھتی ہے کہ یہ معاملہ کیاہے، کہاں اس کا شوہر، کیا تم لوگوں کے چکر کیا ہیں؟ نقیب اللہ پولیس کو بتاتا ہے کہ ایک بندہ میرے پاس آیا اور کہتا ہے اس ڈالے میں چلنا ہے اور چل کے آگے یہ کام ہے، اتنے پیسے ہوں گے، اوکے ڈن۔ میں یہ کرتا تھا، میں چلا گیا۔ ڈالے میں بیٹھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت اللہ بھی ہے، زینب کا پچھلا شوہر۔ ڈالے کے فرش کو دیکھتا ہوں تو عورت کی لاش پڑی ہے۔ چہرہ دیکھنا چاہا، آگے بڑھا، چادر ہٹائی تو زینب کی لاش تھی۔بہن اس کی؟سگی بہن۔ پولیس نے کہا اچھا پھر؟ بڑی عجیب سٹوری ہے، ایسے میں نے بہت کم کیسز دیکھے۔ اب مجھے وہاں پر گن پوائنٹ پر بلیک میل کر کے یہ کہا جاتا ہے ہدایت اللہ کی جانب سے کہ اس لاش کو اٹھانا ہے ، وہاں پھینک کے آنا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تیری لاش بھی ہوگی۔ اب میرے پاس کوئی نہ وہاں پر موقع نہ کچھ مجھے کرنا پڑا مجبور ہو کے، میں نے اٹھایا اس کو پھینک دیا۔ اب وہ سی سی ٹی وی فوٹیج جو لاش پھینکنے کی ہے اس میں نظر آرہا ہے نقیب اللہ، تو پولیس کو اور سب کو تو لگے گا کہ قاتل نقیب اللہ ہے۔ اس پر جا کے پولیس نے کہا کہ کیا ٹائم تھا کال کا، کیا سلسلہ تھا سارا، پھر وہ کال کی ٹائمنگز، چیزیں میچ کرتے کرتے پتہ لگا کہ واقعی اصل گیمر اس میں ہدایت اللہ ہی ہے، سابقہ شوہر، کہ میری نہیں تو تیری بھی نہیں۔

تہمینہ شیخ: قیامت آنے والی نہیں ہے، قیامت آچکی ہے۔ مائیں بچے قتل کر رہی ہیں۔ شوہر بیویاں دے رہے ہیں حلالے کیلئے اپنے ہاتھوں سے بھائی زبانوں کو قابو کرو تاکہ نہ طلاق طلاق کہنا پڑے، نہ کل کو پچھتانا پڑے، نہ بیوی کسی غیر آدمی کے بستر پر چھوڑ کے آنی پڑے، کراچی، بہاولپور، اسلام آباد یہاں پر حلالہ سینٹر ہیں۔ یوٹیوبر بہن صحافی نے کال کی حلالہ سینٹر لائیو ریکارڈنگ ، یہ بہاولپور کا تھا، کتنا ریٹ؟ دو لاکھ۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالے کے نام پر سینٹرز کھول کے کمائی کر رہے ہیں، کس کی گردن پکڑیں؟ کدھر ہیں ہمارے ٹھیکے دار جو اس ملک کو سیاسی بنیادوں پر کسی نے آواز اٹھائی؟ کسی ہائر لیول پر آپ مجھے بتائیں، میں نے تو نہیں سنا۔ اٹھائی بھی ہوگی تو اسی طرح میں نے آپ نے اسی نے اسی نے کسی نے آواز اٹھا لی، بھائی جن کے ہاتھوں میں اختیارات ہیں، جن کی قلم میں پاور ہے، انہوں نے آواز اٹھائی؟ بالکل نہیں اٹھائی۔ آج یہ ہو رہا ہے تو کل اس سے اگلا اسٹیپ ہوگا۔

میزبان: کراچی کا ایک کیس مجھے یاد ہے۔ شوہر نے بیوی کو طلاق دی غصے میں ، احساس ہوا کہ نہیں غلطی ہوگئی، اس نے اپنے بھائی کیساتھ نکاح کروا دیا۔ وہ دونوں نکاح کے بعد گئے، بندہ برداشت نہیں کر سکا، ہارٹ اٹیک آگیا اور موت ہوگئی۔
تہمینہ شیخ: اب میری بات سے بہت غصہ آئے گا۔ وہ موت، وہ اٹیک جو ہے نا کاش وہ پہلے ہی ہو جاتا جب مار پیٹ رہا تھا بیوی کو یا جب طلاق دے رہا تھا بیوی کو۔ شاید دوسرے اٹیک کی تو امید ہوتی ہے نا ایک انسان تین اٹیک برداشت کر لیتا ہے، میں کہتی ہوں یہ اٹیک پہلے ہی ہو جاتا تاکہ نہ اس کی عزت تار تار ہوتی، نہ اس کا تماشہ بنتا، نہ ہم آج اس کو خبر کے طور پہ رپورٹ کر رہے ہوتے۔(مکمل ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیل دیکھیں)

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ ایلن کیسر

السلام علیکم، میرا نام ایلن کیسلرAllenKeislerامریکہ میں بیٹھ کر ہمیشہ… پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب انصاف، سچائی، اخلاق، رحمت، معافی، ہمیشہ اللہ پاک کو یاد کرنا اور ذکر کرتے ہی رہنا۔ مجھے اور سب کو بتا دیا آج وہی دن ہے جس کاانتظار ہم ہزاروں سالوں سے کر رہے ہیں۔ جب انصاف اور سچائی قائم ہو جائے گی پوری دنیا میں، صرف اس سیارے پہ نہیں بلکہ کائنات میں۔ یہ وہی دن ہے۔ تو کتنی خوشی کی بات ہے۔ مسیحا کا مطلب مہدی حقیقت میں۔ مسیحا صرف یسوع مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام نہیں، بہت سارے مہدی ہیں ہماری استادنی نے یہی بتایا۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں ایک ہی مہدی ہو سکتا ہے۔ ، نہیں بہت سارے۔
ویڈیومیں تفصیلات ہیں اور قارئین خودبھی دیکھ سکتے ہیں۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔

مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار!
ڈاکٹر اکمل سومرو

پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔

ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔

السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔

یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔

سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔

انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔

بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔

جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔

یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔

برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔

1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔

1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔

اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔

پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔

1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔

مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔

برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔

ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔

یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔

یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آدم کا قصہ اور نظریہ ارتقاء

مرد عورت کا ارتقاء
عظمیٰ رومی

عظمیٰ رومی کا سائنسی پروگرام اچھا۔ سائنس منڈے چڑھی مگر علماء قرآنی کائناتی ماڈل نہیں سمجھتے۔اسرائیلیات کا نبیۖ نے فرمایا کہ ہم نہ تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔انسان ایک جان سے پیدا ہیں۔سائنس الحاد کو روکے گی۔ لباس نشانی تاکہ شرم گاہوںکو چھپائیں ۔ ریش پنک زینت اور موسم سے بچاؤ۔ فطری لباس کو جنسی تعلق نے اتارا ۔ پتوں سے موجودہ دور تک۔ اسی جوڑے سے نسل کی بقاء اور نہ ختم ہونے والا ملک ملا ۔ ابوالعلاء معری نے شادی نہ کی۔ قبرپر کتبہ:ہذا جناہ أبی علیّ وما جنیت علی احد”یہ میرے باپ کا گناہ ہے جو اس نے مجھ پر کیا،میں نے یہ گناہ کسی پر نہیں کیا”۔سلیمان و قاسم اور وائٹ ٹیرن کا فرق ؟ ہابیل مقتول خوش توقابیل قاتل پریشان! قرآن کو سائنس سے دیکھا جائے توپہلے جوڑے کا قدرتی لباس ثابت ہوگا اور اس کی ایک نشانی لڑکی کا پردہ بکارت موجود ہے!
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”

اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
قرآن میں یہ شجرہ کیا ہے؟

والشجرة ملعونة فی القراٰن ”اور قرآن میں ملعونہ درخت”

زوج منگیتراور جس کیساتھ نکاح ہو اس کو بھی کہتے ہیں اور ”بعل” ازدواجی تعلقات والا شوہر ہے

وہ سمجھتے ہیں علی خلیفہ نہیں؟،بنی مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا، سفینہ رضی اللہ عنہ ابوداؤد4646

و یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا ھذہ الشجرة…… الم انھکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبینO(الاعراف:19تا22)

” اور اے آدم رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور کھاؤ جیسے چاہو اور قریب مت جاؤ اس شجرہ کے تو ظالم ٹھہرجاؤ گے ۔ پھر شیطان نے دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ دکھادے دونوں کو جس کو ان سے چھپایا گیا دونوں کی شرم گاہوں میں سے اور کہا کہ تمہارے رب نے نہیں روکا مگر اسلئے کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا تم دوام پانے والے نہ ہوجاؤ۔اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کررہاہوں۔ تو دھوکہ سے دونوں کونشاندہی کردی جب دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھا دونوں کی شرم گاہیں کھل گئیںاور وہ جنت کے پتوں سے خود کو ڈھانکنے لگے اور دونوں کو ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تمہیں تمہارے دونوں کے شجرہ(اعضائے مخصوصہ) سے منع نہیں کیا تھا؟اور تمہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے”۔

عربی الفاظ ”الم انھکما عن تلکما الشجرة” واضح ہیں کہ دونوں کے شجرہ سے شرمگاہ مراد ہے خارجی درخت نہیں۔ یہ شجرہ نسب جو ہمیشہ کی بقاء نسل اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت ہے۔ نظریہ ارتقاء ہوتوتب بھی عورت کی پردہ بکارت کی طرح یہ پہلے جوڑے کا قدرتی لباس ہے جس کی چھیڑ خانی سے دونوں کا بے لباس ہونا اور پتے سے شرمگاہ کو چھپانا بالکل واضح ہے۔

یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواٰتکم وریشاولباس التقویٰ ذٰلک خیر ذٰلک من اٰیٰت اللہ …… انا جعلنا الشیا طین اولیاء للذین لا یؤمنونO (سورة الاعراف:آیت26،27)

”اے بنی آدم !ہم نے تم پر لباس اتارا ، تاکہ تمہاری شر م گاہوں کو چھپائے اور خوبصورتی سردی گرمی کیلئے۔ اور تقوی کا لباس بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ہوسکتا ہے تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے اور اس کا قبیلہ بھی اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو متولی بنادیا ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے”۔

قرآن میں حضرت آدم و حواء کا قصہ حفظ ما تقدم کے طور پر مذہبی حلالہ کی لعنت کو روکنے کیلئے بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔

مروان ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حلالہ کی لعنت کوبدترین جھوٹ اور حجاج بن یوسف نے جبراًمسلط کیا۔

واذا فعلوا فاحشة ً قالوا وجدنا علیھا اٰبآء نا واللہ امرنا بھا قل ان اللہ لایأمر بالفحشاء اتقولون علی اللہ مالا تعلمونO( سورہ الاعراف:آیت:28)

”اور جب وہ فحاشی (حلالہ ) کریںتو کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر اپنے اجداد کو پایا اور اللہ نے ہمیںاس کا حکم دیا کہہ دو کہ اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ، کیا اللہ پر کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ”۔

اس آیت سے بنی آدم میں حلالہ کی لعنت مراد ہے ۔ فحاشی حلالہ مشرکین مکہ و یہود میں اللہ کا حکم بتاکرنسل در نسل چالورہا۔ یہود پرحضرت داؤد اور عیسٰی کی زبان سے قرآن میںلعنت ہے اور امت میں حلالہ کی لعنت جاری کرنے والے مروان بن حکم اور حلالہ کی لعنت چالو کرنے والی اس کی اولاد پر نبی کریمۖ کی زبان سے اللہ کی لعنت کی گئی ۔ تفصیلات بھی سمجھ لیجئے گا۔

مروان کی دادی زرقاء (نیلی آنکھوں والی) بدچلن تھی ۔ مروان نے منبر نبوی ۖ پر کہا :یزید کی نامزدگی ابوبکر و عمر کی سنت ہے تو عبدالرحمن بن ابی بکر نے کہا : بلکہ قیصرو کسریٰ کی۔ مروان : عبدالرحمن کے خلاف آیت اتری،اماں عائشہ نے فرمایا: ”کذب مروان واللہ مانزلت فیہ” مروان نے جھوٹ بولا ،میرے بھائی کے متعلق یہ نازل نہیں ہوئی۔ ہماری شان میں صرف آیت برأت آئی لیکن نبی ۖ نے مروان کے ابا پر لعنت کی جس میں مروان تھا۔ (صحیح بخاری ) ۔ مروان اور اس کی اولاد نے حلالہ کو حضرت عمراور قرآن کے نام پرمسلط کیاتھا:

حدثنا احمد بن حنبل حدثنا سفیان بن عیینة عن سعید بن جمھان عن سفینة قال :قال رسول اللہ ۖ خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم یوتی اللہ الملک او ملکہ من یشاء قال سعید:قال لی سفینة: امسک : خلافة ابی بکر سنتین ،و عمر عشر سنین و عثماناثنی عشرة سنة و علی کذا۔ قال سعید: قلت لسفینة : ان ھو لاء یزعمون ان علیا علیہ السلام لم یکن بخلیفة: قال :کذبت استاہ بنی الزرقاء ،یعنی بنومروان ۔ (حدیث نمبر4646ابوداؤد)

30خلافت نبوت ہے نبیۖ۔ سعید نے حضرت سفینہ سے کہا کہ یہ لوگ گمان رکھتے ہیں کہ علی خلیفہ نہ تھے تو سفینہ نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنو مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا ۔ ابوداؤد نے علی کی خلافت ثابت کی ۔علی حلالہ کیخلاف تھے ۔ بنی مروان نے حلالہ کو مسلط کیا۔ حلالہ کیلئے علی کی خلافت کا انکار کیا۔ کبھی جاویداحمد غامدی کی بیوی یا بیٹی حلالہ کیلئے ملتی تو میں بھی لعنت جماع کرلیتا ۔

الذین یجتنبوں کبٰئرالاثم والفواحش الا اللمم ان ربک واسع المغفرة…… فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی

”جو بڑے گناہ اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر…. اللہ کی مغفرت وسیع ہے۔.. اپنی جان کو پاک نہ بناؤ ،اللہ جانتا ہے کون متقی؟”(سورہ نجم آیت32)۔

فقلنا یآ دم ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنة …..فاکلا منھافبدت لھما سواٰتھما……و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیا مة اعمٰی O

”پس ہم نے کہا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو تمہیں جنت سے نہ نکلوادے تو مشکل میں پڑیگا۔ تجھے اس میں بھوک لگے گی، نہ ننگا ہوگااور نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ۔ پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہاکہ اے آدم میں تجھے ہمیشہ رہنے والا شجرہ اور دائمی بادشاہی بتاؤں۔ پس دونوں نے کنگھی کی اور انکی شرمگاہیں ان کو دکھ گئیںاور جن پرجنت کے پتے چپکائے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور پھر بھٹکا۔ (سورہ طہ117تا121)

اللہ نے یہاں آدم کو مخاطب کیا اور تھوڑا سخت لفظ کنگھا کرنا استعمال کیا۔ لامستم النساء چھونا جماع ۔ اکل کنگھا کرنا،کیل ٹھونکنا، جماع۔ یونیورسٹی یا جامعہ کو عربی میں”کلیہ” کہتے ہیں۔ کل جمع ۔1جمع1کا کل:2ہے۔

جیسا نکاح کے بعد رخصتی سے قبل لڑکا لڑکی کو کنگھاکرلے ۔ نبیۖ نے فرمایا: بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، حوا نہ ہوتی تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ۔( بخاری)

مصرنے اہرام تک ریکارڈ ترقی کی ،بنی اسرائیل کی تباہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا ترقی نہ کرسکی ورنہ گوشت نہ سڑتا۔ عورت کا چھپ کر حلالہ کرنا خیانت تھی۔زلیخاکویوسف سے حلالہ کرناتھا۔ اگر اللہ نہ بچاتا تو دونوں ھم کرچکے تھے ۔یہی تو اللمم… ہے۔

واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنةً للناس و الشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فما یزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO (سورہ بنی اسرائیل:آیت:60)

”اور جب تیرے رب نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب کو جو تجھے دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں ملعونہ شجرہ کو اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ نہیں بڑھتے مگربڑی سرکشی میں”۔

یہ عالمی اسلامی غلبے کاوہ خواب ہے جو نبیۖ کو دکھایا گیا اور شجرہ ملعونہ حلالہ میں مسلمان اور یہودی مبتلا ہیں۔قرآن سابقہ کتابوں کیلئے درست تعبیر ” مہیمن ” ہے۔

اسرائیلیات میں زلیخا کا شوہر عزیز مصر نامرد؟ مگر3طلاق اور حلالہ کیلئے یوسف علیہ السلام کے پیچھے پڑی ہوگی پھر حضرت یوسف سے عقد ہوگا۔ اوریا کی3طلاق حضرت داؤد پر زبور کے احکام اور99دنبیاں اور ایک دنبی پر تنبیہ مسئلہ حلالہ ہوگا۔ حضرت زید کی3طلاق پرنبیۖ نے چاہا ہو کہ وہ آپس میں جدا نہ ہوں بھلے حلالہ کا معاملہ کرنا پڑے۔

عن انس بن مالک قال: زید بن حارثة یشکوفجعل النبی ۖ یقول ”اتق اللہ وامسک علیک زوجک” قال انس لو کان رسول اللہ ۖ کاتمًا شیئًا لکتم ھذہ ،قال کانت زینب تفخر علی ازواج النبیۖ تقول زوجوکن اھلیکن وزوجنی اللہ تعالی من فوق سبع السموات و عن ثابت۔ ”وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ و تخشی الناس” سورہ الاحزاب37(صحیح بخاری7420)

انس بن مالک نے کہا کہ زید بن حارثہ شکایت کرنے لگے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ”اللہ سے ڈرو ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔حضرت انس نے کہا کہ اگر رسول اللہ ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت زینب جبکہ تمام ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کرائی اور میری اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ جس چیز کو چھپار ہے تھے جس سے اللہ نے ظاہر کرنا ہے ، آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں”۔ حضرت عائشہ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”اگرنبی ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس کو ہی چھپاتے”۔ ازواج مطہرات میں سوکناہٹ تھی اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں کہ یعنی تمہارے لئے کوئی فخر کی بات نہیں۔

ڈاکٹر شبیرا حمد کی کتاب” اسلام کے مجرم ” میں داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری سے مولانا اشرف علی تھانوی تک کا اس واقعہ کے حوالے سے اور داؤد علیہ السلام کے واقعہ کے حوالہ سے بڑا خطرناک مواد ہے اورعلامہ سید کمال حیدری نے شیعہ حدیث کو بھی شرمناک قرار دیا ہے۔ اصل میں حرمت مصاہرت کا من گھڑت مسئلہ فرقوں کے درمیان روایات گھڑنے سے بھی کسی حدتک تمام متضاد اقسام کی حدود پھلانگ چکا ہے۔

یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدًا و مبشرًا و نذیرًاOوداعیًا الی اللہ باذنہ و سراجًا منیرًاOو بشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلًا کبیرًاOولا تطع الکافرین والمنافقین ودع اذاھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلًاOیا ایھا الذین اٰمنوا اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدةٍ تعتدونھا فمتّعوھن و سرحوھن سراحًا جمیلًاO

”اے پیارے نبی! بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بناکر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اللہ کی طرف بلانے والا اس کی اجازت سے اور چراغ روشن۔اور مؤمنوں کو بشارت دو کہ اللہ کا ان پر بڑافضل ہے اور تم کافروں اورمنافقوں کا کہنا نہ مانو۔ اور ان کی اذیت کو چھوڑ دیںاور اللہ پر توکل کریںاوراللہ کی وکالت کافی ہے۔ اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دو ،اس سے پہلے کہ تم نے انہیں چھولیا ہو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرو پس ان کو خرچہ دو اور انہیں اچھے انداز میں رخصت کرو”۔

سورہ الاحزاب کی یہ آیات:45تا49کیا بتاتی ہیں کہ کوئی جاہلیت کا مارا ہوا شکار پھنس جائے تو اس کو حلالہ کی بیڈ نیوز سے آگاہ کریں؟۔ رسول اللہ ۖ نے حلالہ کرنے والے اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جب صرف نکاح ہو تب عربی میں شوہر کو زوج کہا جاتا ہے لیکن بعل نہیں کہا جاتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ صرف نکاح میں عورت پر تمہاری کوئی عدت نہیں ہے اور تمہیں انہیں خرچہ دینا پڑے گا اور چھوڑنا بھی خوبصورتی کیساتھ اچھے انداز میںتاکہ دنیا اسلام کو مانے۔

ایک حلالہ کا گند کیا جائے اور دوسرا اس پر معاوضہ بھی لینے سے بدبخت شرم نہ کریں۔ یہاں پریہ کیسی الٹی گنگا بہتی ہے؟۔

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ (البقرہ:230)

اگر چہ اس آیت کا سیاق وسباق بالکل واضح ہے کہ شروع کی دو آیات228،229البقرہ میں عدت کے اندر معروف یعنی باہمی صلح کی شرط پر شوہر ہی کو رجوع کا حق ہے اور اس کے بعد کی دو آیات231اور232البقرہ میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے فوراً بعدبھی اور عدت کی تکمیل کے بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی میاں بیوی میں کوئی حلالہ و غیر ہ کی رکاوٹ اللہ نے کھڑی کرنے سے منع کیا ہے۔

اور ان تمام آیات میں رجوع کیلئے بیوی کی رضامندی شرط ہے اور کچھ نہیں اور آیت230سے پہلے آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد ایک مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے جس کی بنیاد عورت کے مالی حق کا تحفظ ہے کہ شوہر کی طرف دی گئی کوئی چیز واپس لینا قطعی حرام ہے جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے ۔لیکن اگر کوئی ایسی چیز شوہر نے دی ہو جو طلاق کے بعد رابطے اور اللہ کی حدود توڑنے یعنی جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر عورت کی عزت بچانے کیلئے عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ یعنی قربان کرنا غلط نہیں ہے اور جب عورت فدیہ دے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ رجوع نہیں چاہتی اور اس کیساتھ آیت230کا حکم منسلک ہے اسلئے کہ عورت راضی نہ ہو تو پھر یہ حکم آیت228میں بھی سرایت کرجاتا ہے اور آیت229میں بھی اورآیات231اور232میں بھی اور قرآنی آیات کی علت رجوع کیلئے عورت کی رضامندی ہے اور یہ اتنی واضح ہے کہ خردماغ لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں بشرط یہ کہ اس پر تھوڑاتدبر کریں۔لیکن بالفرض تمام آیات کو سیاق وسباق سے ہٹا بھی دیں تو بھی آیت230میں صرف نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی آگے پیچھے بھی نہیں دیکھتا ہے اور اس آیت پر اس کی سوئی اٹک جاتی ہے تو بھی ”بعل” بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ نکاح سے صرف زوج بنانا کافی ہے۔ یہ اللہ نے بہت خاص پرو ٹیکشن رکھی ہے۔

حضرت سعید بن جبیر نے جب دیکھا کہ بنو زرقاء بنو مروان حلالہ کی لعنت پر زور ڈال رہے ہیں تو قرآن سے استدلال کیا کہ آیت230البقرہ میں صرف نکاح کی بات ہے جماع کی نہیں ہے۔ حجاج بن یوسف نے شہید کرنے سے پہلے مکالمہ کیا۔ حضرت علی پر جہنمی کا فتویٰ لگانے کیلئے حجاج بن یوسف زور ڈال رہاتھا۔ جلاد سر کو تن سے جدا کرنے کیلئے تیار کھڑا رکھا ہوا تھا۔ اصل معاملہ حلالہ کی لعنت کو مسلط کرنا تھا۔ عربی میں بھی بعل اور زوج کا فرق واضح ہے اور قرآن میں بھی اور دونوں کا حکم بھی بالکل مختلف ہے اور احکام میں بھی بہت فرق ہے۔

سلام علی موسی و ہارونOانا کذٰلک نجزی المحسنینOانھما من عبادنا المؤمنینOوان الیاس لمن المرسلینOاذقال لقومہ الا تتقونOاتدعون بعلًا و تذرون احسن الخالقینOاللہ ربکم و رب اٰبائکم الاولینOفکذبوہ فانھم لمحضرونOالا عباد اللہ المخلصینO

سلام ہو موسیٰ و ہارون پر ،بیشک ہم محسنوں کو ایساہی بدلا دیتے ہیں، بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں تھے اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بعل کو بلاتے ہو اور احسن خالق کو چھوڑ تے ہو، اللہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آبا کا پس انہوں نے اسے جھٹلایا بیشک وہ حاضر کئے جائیں گے مگر اللہ کے مخلص بندے۔(سورہ الصافات:120تا128)

یہود عرصہ دراز سے اللہ کے احکام کو چھوڑ کر حلالے کا بعل بلاتے ہیں ۔

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذٰلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لا یتنا ھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون O

”لعن کی گئی ہے کفار میں سے بنی اسرائیل میں سے (یہود) پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے۔ وہ منکر (حلالہ ) سے نہیں رکتے تھے جس سے منع کیا گیا تھا اور وہ کرتے تھے۔ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں” ۔(سور المائدہ آیت78،79)

لتجدن اشد الناس عداوة للذین اٰمنوا الیھود والذین اشرکوا و لتجدن اقربھم مودةً للذین امنوا الذین قالوا انا نصارٰی ذٰلک بان منھم قسّیسین و رھبانًا و انھم لا یستکبرونO

”آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی میں یہود اور مشرکوں کو پاؤگے۔اور محبت میں سب سے زیادہ قریب نصاری کو پاؤگے اسلئے کہ ان میں علماء اور صوفی ہیں اوروہ تکبر نہیں کرتے ”۔ (سورہ المائدہ آیت:82)

یہود اور مشرکین مکہ میں حلالہ کی لعنت بھی تھی اور جب کسی اور کی بیوی کے ممنوعہ ”بعل” بنتے ہوں توپھر تکبر بھی آئے گا۔

یہود حضرت موسیٰ وہارون کو مانتے ہیں اور قرآن نے ان پر سلام بھیجا ہے۔ حضرت علی اور ائمہ اہل بیت اطہار کے ساتھ صحیح بخاری اور پرانی ادب کی کتب میں علیہ السلام اور علیہا السلام لکھاہے اوریہ کشتی نوح کی طرح حلالہ کے گند سے بچے تھے۔ مسجد نبویۖ پر بارہ ائمہ اہل بیت کے نام آج لکھے ہیں اور مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہنے ان کو تصوف کیلئے اصل قرار دیا۔

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بڑی قربانی دی تھی والدہ ہند کے والد، چچااور بھائی کو غزوہ بدر میں امیرحمزہ اور علی نے قتل کیا تو ہند نے غزوہ احد میں حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ ام حبیبہ کی قربانی سے خاندان کو ہدایت ملی۔ امام حسن امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ امیر معاویہ نے مروان کو معزول اور اپنے بھتیجے ولید کو گورنر بنادیا۔ امام حسین سے جبری بیعت نہیں لی تو مروان بن حکم نے کہا کہ اس کو قتل کردیتے ۔ جس پر امام حسین نے کہا کہ ”زرقاء کے بیٹے تمہاری یہ اوقات نہیں ہے”۔ مروان بن حکم کو پہلے امام حسن نے بدتمیزی پر زرقاء کا بیٹا کہا تھا۔

شیعہ نے امام حسین سے دغا کیا اور لشکر یزید نے شہید لیکن یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حرنے امام حسین کا ساتھ دیا۔یزید کے بیٹے معاویہ نے امام زین العابدین کومستند خلافت پیش کی جبکہ عبداللہ بن زبیر نے مروان کی بیعت کو بھی قبول نہ کیا اور اس کو بیٹے عبدالملک سمیت مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔

بنوامیہ میں حضرت عثمان اور ابوسفیان اور مروان تینوں کے کردار کو ایک کھاتے میں ڈالنا غلط ہے۔ مروان اور عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں سے بھی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ قرآن سے دوری کے نتیجے میں حلالہ کی لعنت نے امت مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ ایران کے شیعہ بادشاہ اسماعیل صفوی کے دادا کا نام بھی اسماعیل صفوی تھا جو جدید ایران کا بانی سنی تھا، حلالہ سے بچنے کیلئے پوتا شیعہ بن گیا۔ اسلئے ایرانی اور ہندوستانی شیعوں میں بڑا فرق ہے۔ علامہ عارف واحدی کا جامعة الرشید میں خطاب خوش آئند ہے۔

جاویداحمد غامدی نرا بکواسی ہے۔اس کا یہ کہنا کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہوئی ۔ نبی ۖ نے اجتہاد کیا تھا ۔ رکانہ نے اپنی بیوی کو 3 طلاق دی تو نبیۖ نے ان کو پوچھا کہ نیت کیا تھی؟۔اس نے کہا کہ ایک طلاق کی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ حلف اٹھاؤ۔ اس نے قسم اٹھائی تو ایک قرار دی۔ (ابوداؤد )

جاویدغامدی نے کہا کہ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایسے معاملے میں قابل قبول ہے۔ اور یہ نبیۖ کا اجتہاد تھا ۔ جس سے اختلاف کی گنجائش تھی ۔حضرت عمر نے اسکے برعکس اجتہاد کیا اور تین کو تین قرار دیا اور ایک کا اعتبار ختم کیا۔ امت نے حضرت عمر کے اجتہاد کو قبولیت بخش دی۔ گنجائش دونوں پر عمل کرنے کی ہے لیکن نبیۖ کی طرف لوٹانا زیادہ بہتر ہے۔

جاوید احمد غامدی نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ایک عالم دین بھی تھے لیکن اپنی طلاق کا مسئلہ خود حل نہیں کیا بلکہ رسول اللہۖ کی خدمت میں پیش کردیا اور آپ نے سمجھادیا کہ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق اور عدت کا معاملہ ہے۔ علماء کے پاس اپنا معاملہ لیکر جانا چاہیے اور وہ جو بھی فتویٰ دید یں۔

جاویدغامدی نے ایک طرف میڈیا پر عوام کو شعور دینے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے اور دوسری طرف اپنا ٹھیہ بھی لگایا ہواہے تاکہ لوگ سب کو مان کر اس کا ٹھیہ منافع بخش کاروبار بنائے۔

کل حزب بما لدیھم فرحون” ہر گروہ اپنی کمائی پرخوش ہے ۔یہ جتھے اور جماعتیں منافع بخش کاروبار ہیں۔

ولاتکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوة انکاثًا تتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون امة ھی اربٰی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبینن لکم یوم القیامة ماکنتم فیہ تختلفونO

” اس جماعت کی طرح مت بن جاؤ ، جو اپنا سوت قوت کے بعد توڑ ڈالے۔ تم آپس میں عہد منشور کو بناتے ہو تا کہ ایک جماعت دوسری سے زیادہ منافع بخش بن جائے بیشک اللہ تمہیں اس

سے آزماتا ہے تاکہ قیامت کے دن تمہیں پتہ چل جائے کہ تم کس بات پر آپس میں اختلاف کررہے تھے”۔ (سورہ نحل :92)

جاوید غامدی نے جمع پونجی کی قوت طلاق اوربکواس کی نذر کردی۔ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کا واقعہ دیکھتے تو مسئلہ طلاق پر بک بک نہ کرتے۔ رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار عدت میں تین طلاقیں دیں۔ تکمیل عدت پر معروف کی شرط یعنی رضامندی سے رجوع کی بجائے معروف طریقے سے الگ کیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کیا۔ اس نے بعد میں نامرد ہونے کی شکایت کی اور حضرت رکانہ کے والد عبد بن یزید نے اس کو طلاق دی ۔ پھر رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا مجھے علم ہے اور پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ ابوداؤد

ان دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ سورہ طلاق کی تفسیر اور تین طلاق سے حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ابوداؤد کی حدیث سے زیادہ بڑی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک رکانہ سے قسم کھلانے کا تعلق ہے تو جس طرح عبداللہ بن عمر پر نبیۖ بہت غضبناک ہوگئے تھے تو والدین کے واقعہ کے بعد رکانہ کی ٹھیک طرح سے خبر لی جاتی کہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے لیکن جب قسم کھائی تو یہ نبیۖ کے دربار میں طیش سے بچ نکلے۔

یہ تو انتہائی گھناؤنی بات ہے کہ عوام کی عزتوں کو مذہبی طبقہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور بیوی کے حسن و جمال کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔ واہ غامدی واہ۔ تجھ سے عیسائی خنزیر بھی نہ چرائیں کہ کیا اٹکل پچھو کرلے گا؟۔

قرآن وسنت میں معاملہ اتنا واضح ہے کہ آج دنیا ساری کی ساری قرآنی انقلاب کا ثمرہ ہے۔ عیسائی طلاق نہیں مانتے اور آج قرآن وسنت کے مطابق طلاق بھی دنیا میں رائج ہے اور روس جیسے ملک کا بھی عدت اور اس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا قانون ہے۔ حضرت عمر اورحضرت علی نے کوئی اجتہاد نہیں کیا تھا بلکہ اکٹھی تین طلاق اور حرام کے لفظ پر جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

جیسے یہ کہنا غلط ہوگا کہ رکانہ کے والد نے کسی اور عورت سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دینے کے بعد پہلی کیلئے حلال ہوگئے تو ویسے یہ غلط کہ حسین نے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق کے بعد نکاح کرکے حلالہ کیا۔اس اتفاق سے شیعہ غلط فہمی میں پڑا۔ زید بن باقربن زین العابدین بن امام حسین نے اپنی کتاب ”المجموع” میں لکھا کہ ”عربی عورت کفو کے بغیر نکاح کرے تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر، ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر اور تین کے بعد تحلیل کے بغیر پہلے شوہر سے نکاح جائز ہوگایا نہیں ”۔ حالانکہ یہ تحلیل بکواس ہے۔ اس سے زیادہ مسلک حنفی قرآن کے عین مطابق تھا۔

عائلی قوانین1964ء پاکستان میں طلاق کی عدت اور آپس کی اصلاح سے رجوع کا قانون اور طلاق رجعی ومغلظ کا خاتمہ عالم اسلام ہی نہیں اسرائیل کے کٹر یہود کو بھی ہزاروں سال بعد پہلی مرتبہ حلالہ کی لعنت سے نکال دے گا اور وہ اسلام کی عالمی خلافت کو اپنی عورتوں کی عزت کے بچاؤ کیلئے بخوشی قبول کریں گے اور بیت المقدس بھی مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے۔

گورنر بصرہ مغیرہ بن شعبہ کے خلاف تین افراد نے زناکی گواہی دی اور زیاد نے کہا : ورأیت استہ یضرب استہاو رجلاھا کاذنی الحمار ”میں نے دیکھا کہ مغیرہ کی سرین ام جمیل کی سرین سے ملی ہوئی ہے اورام جمیل کی دونوں ٹانگیں گویا گدھے کے کان کی طرح کھڑی ہیں”۔تین گواہ ابوبکرہ، نافع ، شبل کے نام صحیح بخاری میں ہیں۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد آل مروان نے حلالہ کی لعنت کو تسکین کا ذریعہ بنایاتھا۔ نبیۖنے سمندر کی طغیانی کے مانند فتنے کا ذکر کیا تھا۔ قرآن کی سورہ بنی اسرائیل آیت60میں رسول اللہ ۖ کے خواب کا پوری دنیا پر غلبہ اور قرآن میں شجر ملعونہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پہلے یہود خدا کے غضب کا شکار تھے اور آج ان کی اتباع میں مسلمان بھی بن گئے ہیں۔

ماحول میں مسئلے کا پتہ نہیں ہو تو یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کے دور میں ظہار کا منکر قول اور جھوٹ رائج تھا تو ایک عورت کے مجادلہ پر سورہ مجالہ نازل ہوئی ۔ جب نبیۖ ماریہ قبطیہ سے حرمت کا مروجہ معاملہ کیا تو سورہ تحریم نازل ہوئی اور جب حضرت زید نے بیوی کو تین طلاق دی اور نبیۖ نے چاہا کہ وہ اپنے پاس روکے رکھے تو حضرت زینب پہلے بھی ایک شوہر سے نکاح کرچکی تھیں اور38سال عمر تھی پھر حضرت زید سے بھی شادی ہوئی اوراس کے ذریعے جاہلیت کا ایک مسئلہ حل کرنا تھا جو بے غیرت سوتیلی ماں سے شادی کرتے تھے لیکن منہ بولے بیٹے کی بیوی کو طلاق کے بعد حقیقی بہو سمجھتے تھے۔

حضرت زینب سے پہلے حضرت زید کی شادی حضرت ام ایمن سے ہوچکی تھی جس سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے تھے اور اس کے علاوہ مکی دور میں ایک اور نکاح حضرت ابوبکر کی بہن حضرت شمامہ بنت قحافہ اور پھر مدینہ میں حضرت ہند بنت لبید انصاری خاتون سے ہواتھاپھر3یا4ھ میں حضرت زینب سے نکاح ہوا اور خود ان کی چاہت تھی کہ نہیں رکھے۔ ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ شادی کا دروانیہ رہا ۔ حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب کی طلاق کے بعد معزز قریشی خاتون ام کلثوم بنت عقبہ سے نکاح کیا جن سے زیداور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے۔ دوسرا نکاح رسول اللہ ۖ کی چچازاد درہ بنت ابی لہب سے ہوا۔ پھر ہند بن عوام سے ہوا جو رسول اللہ ۖ کی پھوپھی حضرت صفیہ کی بیٹی اور زبیر بن عوام کی بہن تھیں۔

اللہ نے سورہ حج میں مذہبی تعصبات کا خاتمہ ، خلافت کے قیام اور مختلف انبیاء کرام اور اقوام میں اچھے بروں کی نشاندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال ایک دن کے برابر ہے۔ گویا اسلام کی نشاة اول کے بعد سے موجودہ دور تک ڈیڑھ دن بھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور پھر خلافت کا راستہ پوری دنیا میں ہموار ہوجائے گا اور حق پر عمل کرنا پڑے گا۔

وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO

”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کردیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ” ۔ (سورہ حج آیت52)

اگلی دوآیات53اور54میںاہل باطل اور اہل حق کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیات میں انقلاب کی آمد تک اہل باطل کو قرآن سے شک میں پڑے رہنے کی اور انقلاب کی وضاحت ہے۔

صحابہ کرام اسلام سے قبل مردہ زمین کی طرح تھے لیکن پھر نبیۖ کی صحبت اور قرآن کے احکام سے نہ صرف خود زندہ ہوگئے بلکہ پورے عالم بھی زندگی کا زبردست غلغلہ مچادیا تھا۔

خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا

قرآن کا شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت سے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں حضرات انبیاء کرام کے بعد شیطانی القاؤں سے زندہ ہے اوراس کی تاریخ جنت سے نکالنے کیلئے شروع ہوئی ہے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم کو حضرت حواء کا زوجہ بنادیا لیکن بعل بننے سے روک دیا تھا۔ قابیل نے بھی غلط بعل بننے کیلئے ہابیل کو قتل کردیا تھا۔ امت مسلمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی نیک نیتی کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ ۖ کی تمنا میں شیطان نے اپنی کاروائی کی اور آج تک امت مسلمہ ایک بہت بڑے عذاب کا شکار ہے۔

عبداللہ بن عمر نے بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی تو حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو خبر دی کہ بہو نے گھر میں رونا دھونا مچا رکھا ہے جو ایک فطری بات تھی۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو تو حضرت عمر نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں؟۔

نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم دیا تو اسلئے تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی تھی لیکن عبداللہ نے اس سے طلاق رجعی کا غلط تصور لیا اور کہا: ”اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔(بخاری) یوں بنی زرقاء کو موقع ملا کہ اکٹھی تین طلاق کو مغلظ قرار دیں اورحضرت عمر کا سہارا بنائیں ، حضرت علی نے عورت راضی نہ تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ علی کو سورہ تحریم سے انکار اور کافر و جہنمی قرار دے دیا۔ بخاری ، مسلم ،ابوداؤد ، نسائی اور تاریخ میں سب واضح ہے لیکن ہٹ دھرم نہیں مانتے۔

لعنت حلالہ سے بچنے کیلئے قرآن میں ایک آیت بھی کافی تھی لیکن اللہ نے بہت ساری آیات کی ڈیفنس لائن لگادی ۔

1: حلالہ کیخلاف پہلی دفاعی دیوار

ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرینO

”اور تجھ سے حیض کی حالت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ اذیت ہے ،پس حیض کی حالت میں عورتوں کو چھوڑ دو اور انکے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جیسا تمہیں اللہ نے امر کیا ، بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی والوں کو پسند کرتا ہے”۔ (البقرہ آیت222 )

یہاں حیض کی حالت کو اذیت قرار دیا گیا۔اس میں عورتوں سے فاصلہ رکھنے کا حکم ہے اور جب پاک ہوجائیں تو اللہ نے جیسا حکم دیا ویسے آئیں اور اذیت سے توبہ اور ناپاکی سے پاکی اختیار کرنے والوں کو اللہ نے پسندیدہ قرار دیا ہے۔

الا لہ الخلق والامر” خبردار اسی کیلئے تخلیق اور امر ہے۔ عورت کو حیض آتا ہے تو یہ اذیت اس کی تخلیق ہے اور مردوں کو اس میں دور رہنے اور جب پاک ہوجائیں تو امر کے مطابق ہی ان کے پا س آنے کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں پر اللہ نے تخلیق میں امر کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کیا تھا۔ فرمایا:

ولوط اذقال لقومہ انکم لتاتون الفاحشة ما سبقکم بھا من احدٍ من العالمینOائنکم لتاتون الرجال و تقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقینOقال رب انصرنی علی القوم المفسدینO

”اورلوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم فحاشی کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ تم آدمیوں کے پاس آتے ہو اور جائز راستہ منقع کرتے ہو اور پھر اعلانیہ معروف کی جگہ منکر کرتے ہو۔تو قوم کا جواب نہیں تھا مگر یہ کہ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ کہا کہ اے میرے رب میری مدد فرما قوم فساد کرنے والوں پر ” ۔(عنکبوت:28تا30)

قرآن میں واضح ہے کہ عورت کی تخلیق اور اس کے پاس امر کا حکم کیا ہے؟۔ دونوں راستوں میں سے کونسا راستہ ہے؟۔ جہاں سے حیض آتا ہے معروف راستہ ؟ یا جو مردوں عورتوں میں یکساں ہوتا ہے منکر اور فحاشی کا راستہ؟۔ غلط تو اگر مرد بھی بنتے ہیں تو ٹھنڈے نہیں ہوتے۔لیہ کے حافظ حاشر نے بدمعاش بدکار کیلئے اپنے باپ کا قتل کیا اسلئے کہ پیاس نہیں بجھ رہی تھی۔

علماء نے قوم لوط کی تفسیر کی وہ راستے میں ڈکیتی کرتے تھے لیکن اصل راستہ کو بھول گئے کہ جرم کیا تھا جو بالکل واضح ہے۔ عورت کی عدت میں اضافہ بھی اذیت ہے اور جس طہر میں اس کو طلاق دی جائے تو اس سے پہلے حیض بھی اس عدت کا حصہ خود بخود بن جاتا ہے۔ علماء غلط پڑھاتے ہیں کہ عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت منع ہے۔ حضرت عائشہ نے بھی تین اطہار قرار دیا۔ نبیۖ نے بھی عدت اور طلاق کو تین اطہار کے ساتھ واضح فرمایا لیکن حنفی مسلک میںریاضی کے فہم عقل اور قرآن وسنت سے عاری احمقوں نے اصول فقہ میں یہ شامل کیا کہ ”قرآن کے خاص پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 3عدد خاص ہے جس طہر میں طلاق دی جائے تو اسکا کچھ حصہ شمار ہوگا تو تین کی جگہ ڈھائی بن جائیگا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے اسلئے کہ پھر وہ طہر بھی شمار ہوگا اور تین کی جگہ ساڑھے تین بن جائیگا۔ روزہ میں کچھ کھائے بغیر سورج نکلنے کے بعد بھی روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا ہے اور جس طہر میں مباشرت نہ کی ہو تو وہ طہر بھی پورا شمار ہوگا۔ علماء لکھتے ہیں کہ عدت الرجال طہر اور عدت النساء حیض ہے۔ مگر کرکٹ میں یہ ممکن ہے کہ دن میں بال کی جائے اور رات کو شارٹ مارا جائے؟ اور یہ بہت بڑی حماقت ہے۔ نبی ۖ نے عدت و طلاق کے متعلق تین طہروں کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ نے فرمایا:

یا ایھا لنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن

”اے نبی جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کیلئے دو”۔ (سورہ الطلاق ) جس کامولویانہ ترجمہ یہ بنے گا کہ جب تم لوگ طلاق دو تو حیض کیلئے طلاق دو۔ حالانکہ حیض میں ویسے بھی مقاربت منع ہے اسلئے مولوی ترجمہ وتفسیر نہیں جانتا۔

ان ساری چیزوں کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت کیلئے سب سے بڑی اذیت حلالہ کی لعنت ہے جس کو علماء نے باقاعدہ سزا قرار دیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ عورت کو ایسی اذیت اور سزا دے سکتا ہے جس میں حلالہ کی فحاشی والی لعنت ہو؟۔ جب چھوٹی چھوٹی اذیتوں کا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کا عادی بنادیا جاتا ہے تو پھر وہ گدھی کی طرح حلالہ بھی گدھے سے کرواتی ہے۔

عربی کی کسی لغت میں اذًی کا معنی گند نہیں ہے لیکن علماء نے اس کو گند قرار دیا ہے۔ عربی میں گند کو ”قذر” کہتے ہیں۔ آیت کے آخرمیں توبہ اور طہارت کا ذکر ہے۔ توبہ اذیت سے ہوتی ہے اور طہارت گند سے دور رہنے کی وجہ سے ہے۔ آیت میں دونوں چیزوں کا ذکر ہے اسلئے کہ حیض کی حالت کو ”قذر” کہنا عورت کی توہین اور الفاظ کا چناؤ غلط ہوتا لیکن ساتھ میں اذیت سے مقصود عورت کو تخلیقی و شرعی امور میں اذیت سے بچانا ہے۔

ولونزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبینO

”اور اگر ہم آپ پر کتاب کو کاغذ میںلکھا ہوا اتارتے تو اس کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے تو ضرور کفر کرنے والے لوگ کہتے کہ بیشک یہ تو کھلا جادو ہے”۔ (سورہ الانعام آیت:7)

مولوی بنتے وقت اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن لکھائی میں اللہ کا کلام نہیں صحف تو نقش ہے۔ حالانکہ مکتوب فی المصاحف جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔ یہ فقہی مسئلہ کہ قرآن کے مصحف پر حلف بھی نہیں ہوتا ہے۔زبانی قرآن کی قسم کھائی جائے تو حلف اور کفارہ بنتا ہے۔ ایک طرف دلا اور دلال کہتا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں اور دوسری طرف فتاویٰ قاضی خان سے فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی، مفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان اور مولانا الیاس گھمن تک کی بکواس کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ سے توبہ کی اور مدارس میں وہی پڑھا رہاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم و حواء دونوں کو نیچے اترنے کا حکم دیا اور حواء کے پیٹ میں قابیل بھی تھا تو سب بعض بعض کے دشمن بننے کا کیا مطلب ہے؟۔ حضرت آدم و حواء نے توبہ کی اور قابیل کم بخت نے ہابیل کو قتل کرکے ہدایت پر عمل نہیں کیا ۔ امریکہ عرب ممالک وایران ، اسرائیل وفلسطین اور دنیا بھر میں ایکدوسرے سے دشمنی بالکل قرآن کی واضح تفسیر ہے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذرو ھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمOانما اموالکم و اولادکم فتنة واللہ عند ہ اجر عظیمOفاتقواللہ ما استطعتم واسمعوا وا طیعوا وا نفقوا خیرًا لانفسکم و من یوق شخ نفسہ فاولٰئک ھم المفلحونO

”اے ایمان والو! بے شک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے لئے دشمن ہیں پس ان سے بچتے رہواور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بھی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ پس اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہوسکے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ، یہ تمہاری اپنی جانوں کیلئے بہتر ہے۔جس نے اپنی جان کو لالچ سے بچایا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔(التغابن14تا16)

اللہ نے بتایا کہ شیطان نے کس طرح آدم کو اولاد اور ہمیشہ کی بادشاہت کا لالچ دیکر ورغلایا؟۔ حوا ء زوجہ تھیں مگر ازدواجی تعلق سے اللہ نے منع کیا تھا۔ بنوامیہ وبنو عباس نے اولاد کیلئے ہمیشہ کی بادشاہت کی لالچ میں حلالہ کی لعنت کو رواج دیا تھااور خلفاء راشدین نے خود کو اس لالچ اور فتنے سے محفوظ رکھا تھا۔

حضرت علی کی اولاد نے حلالہ کی لعنت نہیں قرآن کی طرف دعوت دی مگر ان پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کو جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا تھا۔ شیطان نے بھی حکمران اور مذہبی طبقات کو روغلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔

2: حلالہ کیخلاف دوسری دفاعی لائن

نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انیٰ شئتم و قدموا لانفسکم واتقوا اللہ واعلموا انکم ملاقوہ و بشرالمؤمنینO

تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں پس اپنے اثاثہ کے پاس جیسے چاہو آؤ اور نیکیاں اپنے لئے آگے بھیجو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم نے اس سے ملنا ہے اور مؤمنوں کو بشارت دو”۔ (سورہ بقرہ آیت:223)

جیسا کہ انگریزی اور اردو میں بھی جو بیٹا یاشاگرد زیاہ اچھا لگتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ میرا اثاثہ ہے۔ قرآن میں اثاثہ کھیتی کیلئے بھی آتا ہے اور اثاثہ جات کیلئے بھی۔ جیسے جو دنیا کا اثاثہ چاہتا ہے اور جو آخرت کا اثاثہ چاہتا ہے۔ تو اس کیلئے بھی حرث استعمال ہوا ہے۔ کیمسٹری میں عناصر Properties اثاثہ جات۔ مالیکیول عناصر کا گچھا ۔عنصر آزاد حالت میں نہیں ہوتا ہے اور ان کو آپس میں جدا کرنے کیلئے جدید سائنس کا استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”میں نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کی ہیں”۔ نکاح کے خطبے میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی ہے۔ عورت کو کھیتی قرار دینا عورت کی توہین ہے کھیتی سے بلی اور کتے کے زیادہ حقوق ہیں۔

اگر مولوی کھیتی کا حق دے تو بھی صحیح لیکن عورت کی حالت تو حلالہ کی لعنت پر کھیتی سے بھی بدتر بنتی ہے۔ اذیت اور تذلیل کی انتہا اور پھر اللہ کے نام پر؟۔ جیسا ایک قیمتی اثاثہ کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے اس طرح شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان الفاظ کے گورکھ دھندے سے رکاوٹ کھڑی کرنا انتہائی غلط بات ہے جس کیلئے اللہ نے بڑی واضح آیات نازل کی ہیں جو بالکل محکمات ہیں اور ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتی ہیں لیکن شیطان کھلا دشمن ہے اسلئے زیادہ مضبوط بند باندھ دیا۔

3: حلالہ کیخلاف تیسری دفاعی لائن

ولا تجعلواللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس و اللہ سمیع علیم

”اور اپنے عہدوں کو ڈھال مت بناؤ کہ نیکی کرو اورتقویٰ اختیار کرو اور لوگوں میں صلح کراؤاللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (البقرہ224)

یہ حلالہ کی لعنت کے خلاف آہنی دیوار ہے۔میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ سے زیادہ بڑا غلط معاملہ کیا ہوسکتا ہے؟۔ یہی نیکی اور تقویٰ ہے کہ دونوں میں تفریق نہیں ہونے دی جائے اور حلالہ تو انتہائی درجہ جرم ہے۔ حکمران، شیطان اور آدم کی اولاد نے حلالہ کیلئے راستہ بنانا تھا لیکن وہ دفاعی دیوار تھی کہ خود کش حملوں اور ایٹم بم بھی اس پر اثر نہیں کرسکتا تھا۔

یہاں یمین سے مراد حلف نہیں ہے بلکہ جن الفاظ سے شوہر اور بیوی کو یہود اور یہود نما مذہبی طبقات نے آپس میں صلح سے روکنا تھا اور نیکی اور تقویٰ میں رکاوٹ ڈالنی تھی اس مسئلے کا حفظ ما تقدم کے طور پر حل ہے۔ اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان صلح کو ناممکن قرار دیا جائے اور حلالہ جیسی فحاشی کے حکم کا توکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہاں اللہ نے فیصلہ کردیا کہ صلح میں رکاوٹ کھڑی کرنا اللہ کے نام پر فتویٰ نہیں بلکہ بالکل واضح فراڈ ہے۔

قرآن کی آیات ایک دوسرے سے فصل بھی ہیں اور مربوط اور ایک دوسرے کی تفسیر بھی۔ سورہ مائدہ میں واضح ہے کہ وہاں یمین سے مراد طلاق نہیں حلف ہے۔

ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم

”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو” ۔ (سورہ المائدہ آیت:89)

جہاں تک طلاق سے متعلق حلف کی بات ہے تو نبیۖ کا حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالے سے حرمت کی بات طلاق والی یمین تھی۔ علامہ فریدالدین دہلوی کی تالیف”فتاویٰ تاتار خنہ” پر مدرسہ شاہی مراد آباد ہندکے مفتی محدث شبیراحمد قاسمی نے بھی لکھا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اگر تمہاری شرمگاہ سے میری شرمگاہ خوبصورت نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے ۔میری لونڈی آزاد ہے ۔ کھڑے تھے تو مرد سے زیادہ عورت کی خوبصورت ہے اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی خوبصورت ہے اور ایک کھڑا اور دوسری بیٹھی ہو تو مجھے بھی پتہ نہیں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل ۔فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ دونوں کا یمین واقع ہونا چاہیے۔ (مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)

یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم واللہ مولاکم و ھو العلیم الحکیمO

"اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے اپنی بیویوں کی خوشنودی کیلئے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ نے تمہاری حرمت کے ایمان کو حلال کرنا فرض کردیا ہے وہ تمہارا مولی ہے اور علیم حکیم ہے”۔ سورہ تحریم

صحیح بخاری میں بیوی کو حرام کہنے پر اختلافی ١قوال ہیں اور حسن بصری نے بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے کہ حرام کہہ دیا تو حلالہ کرنا ہوگا اور بعض نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام کی طرف منسوب کیا ہے کہ حرام تین طلاق ہیں۔ بے غیرت قرآن کو نہیں دیکھتے؟۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام اس طرح کے جاہل نہیں تھے انہوں نے قرآن کے عین مطابق ہی فیصلہ کیا لیکن سبھی فرقے والے اپنے مذہب پر ڈرتے ہیں۔

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فراز اپنی جگر کاویوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاع ہنر بھی صدا کسی کی نہیں

4: حلالہ کیخلاف چوتھی دفاعی لائن

لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفورحلیمO

”اللہ تمہیں تمہارے لغو یمین سے نہیں پکڑتا مگر تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا اور غفور حلیم ہے”۔ (البقرہ225)

لغو یمین سے یہاں مراد طلاق والی لغو یمین ہے اور وہ پھر کیا ہے؟۔ جو سورہ تحریم میں حرام کے لفظ میں واضح ہے۔ اسکے بھی علاوہ جتنے الفاظ طلاق صریح اور کنایہ کے نام پر مذہبی طبقے نے یہود کے نقش قدم پر رائج کئے ہیں وہ سبھی لغویات ہیںاسلئے کہ اس سے پیشتر آیت میں ملاؤں کو خدا نے تنبیہ کی ہے کہ یہود کی پیروی میں میاں بیوی کے درمیان صلح میں کوئی رکاوٹ اللہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح تمام لوگوں صلح ہوسکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دل کا گناہ کیا ہے؟۔ اس کی اگلی آیات میں تفسیر ہے کہ طلاق کا اظہار کیا تو تین ماہ اور اظہار نہ کیا تو عدت چار ماہ لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ اس پر پکڑ ہے۔

5: حلالہ کیخلاف پانچویں دفاعی لائن

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO

”جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں ان کیلئے چار ماہ ہیں پس اگر وہ آپس میں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر ان کا طلاق کا عزم تھا تو سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ226،227)

رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر رجوع کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورت کو تکلیف نہیں دے سکیں۔ نبیۖ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ والدین سے خواب مشورہ کرکے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ یہ میرا کام ہے والدین کی ضرورت نہیں ، میں رہتا چاہتی ہوں ۔

ناراض ہونا مرد کا حق ہے لیکن راضی ہونا عورت کا حق ہے اور اگر عورت کا حق چھین کر مرد ناراض ہوتا رہے تو خدا بھی اس تکلیف میں ذمہ دار ہوتا جس کی وجہ سے عرب و عجم عورتوں میں الحاد کا بازار گرم ہے اور مذہبی طبقہ حقائق نہیں جانتا اور کانوں کو نیچے کرکے تماشائی بنا ہوا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر جواب دیں۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO

”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کیا اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ان پر ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔ اللہ عزیز حکیم ہے”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)

یہ آیت طلاق ، عدت ، رجوع اور بیوی و شوہر کے درمیان برابری کے حقوق کیلئے سنگ میل ہے۔ عائلی قوانین1964ء آئین پاکستان میں یہ آیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلاق اور اس سے رجوع کا تعلق باہمی رضامندی کیساتھ عدت کے ساتھ ہے۔ عدت میں شوہر کو رجوع اور بیوی کو انکار کا پورا پورا حق ہے۔ اس نے حلالہ کو دریا مردار میں غرق کردیا ہے۔ دنیا کی اسلام کی نشاة ثایہ کیلئے پہلی عظیم ریاست پاکستان ہے جس میں قرآن وسنت کے مطابق آئیں سازی کی گئی ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ حلالہ کیلئے نہیں دیا بلکہ قرآن نے انکار کا حق دیا اسلئے کہ خلع میں عورت کے کم حقوق اور طلاق میں زیادہ ہیں۔

سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت20میں طلاق کے حقوق بالکل واضح ہیں۔ بڑے علماء نجی مجالس میں مانتے ہیں لیکن عوامی سطح پر مفتی تقی عثمانی سے خوف کھاتے ہیں کہ مدرسہ کے بورڈ وفاق المدارس پاکستان سے نکلوا دیں گے۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کی زندگی میں ان کا بیان شائع کیا تھا۔

قرآن کا مرکزی نقطہ تمام آیات میں باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن فقہ کی کتابوں میں قرآن کی بنیادی شرط کو فقہاء نے کرائے کے بکروں کی طرح کھالیا ۔

6: حلالہ کیخلاف چھٹی دفاعی لائن

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسانٍ ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے ان تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق والی عورتوں سے کچھ بھی واپس لو ۔ (احسان کیساتھ رخصت کا مطلب اپنے حق سے زیادہ دو ، جو نہیں دیا وہ بھی دو اور جو ان کو دیا ہے وہ واپس لینا خنزیر کے گوشت کی طرح حرام ہے) مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگر اس میں کوئی خاص چیز نہیں دی اوراے فیصلہ کرنے والو!تمہیں بھی یہ خوف ہو کہ واقعی دونوں اس دی ہوئی چیز کو واپس کئے بغیر اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے عورت کی عزت بچانے سے زیادہ اہم نہیں اسلئے فدائی حملے کی طرح قربان کی جائے تو دونوں پر حرج نہیں اور یہ سب اللہ کی واضح حدود ہیں جو بھی ان سے تجاوز کرے تو حقیقت میں وہی لوگ ظالم ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت229)

تین طلاق کے بعد سورہ طلاق میں بھی عورت کی صلح لازمی ہے اور یہاں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے اور سورہ النساء آیت35میں بھی دونوں طرف سے حکم مقرر کرنے کی بات واضح ہے۔ سورہ النساء آیت20،21میں بھی طلاق کے مالی حقوق واضح ہیں لیکن یہاں ایک ااستثناء ہے کہ بعد میں رابطے کا ذریعہ کوئی چیز بنتی ہو جس سے دونوں میں جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر وہ چیز واپس کی جائے اور یہاں یہ کنفرم ہے کہ عورت فدیہ دینے کے بعد رجوع نہیں چاہتی تو اس کے بعد یہ حکم ہے:

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعاان ظنا ان یقیما حدوداللہ وتلک حدود اللہ یبینھا لقومٍ یعلمونO

”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پس اگر اس نے طلاق دیدی تو دونوں پر رجوع کرنے میں حرج نہیں اگر وہ گمان رکھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو سمجھ والوں کیلئے بیان کرتا ہے”۔ (البقرہ230)

یہ طلاق حلالہ کیلئے نہیں ہے بلکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو اس کی مکمل آزادی کیلئے ہے تاکہ شوہر اس پر کہیں بھی شادی کرنے میں کوئی قدغن نہ لگائے۔ اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ اگلی پچھلی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کی بالکل واضح الفاظ میں وضاحت ہے اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی درسگاہ میں مولانا بدیع الزمان صاحب نے نورلانوار ملا جیون میں یہی پڑھایا تھا اور اس کو احادیث کے خلاف لانے پر میری تائید کی فرمائی تھی۔ دوسری آیت نے پہلی کی توثیق کردی جیسا کہ دوبھائی ایک مدرسہ میں رہتے ہوں۔ تقی نے مرحلہ وار تین طلاقیں حکم کی موجودگی میںدیں۔ کوئی چیز گھر بار وغیرہ واپس نہیں لی مگر موبائل کی سم کا خطرہ ہے کہ اگر وہ نہیں دی تو یہ قریب میں دوسرے بھائی کے پاس رہتی ہے اور رابطہ ہوگا اور حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اسلئے وہ سم واپس کردی۔فیصلہ ہوگیا اور وہ عورت اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے بالکل آزادی کیساتھ دوسرے بھائی رفیع سے نکاح کیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ان میں ناچاقی ہوگئی ،اس نے بھی طلاق دی اور اب اس شرط پرپہلے سے رجوع کی اجازت ہوگی کہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اگر تقی کو گمان ہو کہ وہ نامرد طرح کا ہے اور جنسی تسکین نہ کرسکے گا اور عورت کو بھی گمان ہو کہ رفیع کی مردانہ قوت زیادہ ہے اور تقی سے دوبارہ نکاح کیا تو رفیع کے ساتھ جنسی تعلق کا خدشہ رہے گا تو پھر رجوع جائز نہیں ہوگا۔ قرآن کے واضح الفاظ میں ابہام نہیں ہے۔ احادیث میں نامردوں کے ذریعے حلالہ کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا لیکن بنادئیے گئے۔ صحابیات اور صحابہ کرام کے بارے میں نامرد کی باتیں تو وزیرستان کے محسود کہتے ہیں کہ ” شریعت میں شرم نہیں ہے”۔ لوگوں کو آیات واضح سمجھانا مقصد ہونا چاہیے۔

7: حلالہ کیخلاف ساتویں دفاعی لائن

واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ و لا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و ماانزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیمOواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر و اللہ یعلم وانتم لاتعلمونO(سورہ البقرہ 231،232)

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکے اور وہ عدت پوری کرچکیں تو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور ان کو ضرر کیلئے مت روکو تاکہ حدود کو پھلانگ جاؤ۔ اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ تم لوگ مت بناؤ اللہ کی آیات کو مذاق کا ذریعہ ۔ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے کتاب میں احکام کی آیات کی نعمت کو نازل کیا ہے اس کو یاد کرو اور جو تمہیں حکمت دی ہے اس سے کام لو جس کے ذریعے تمہیں وعظ کیا جاتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو ان کو مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ یہ نصیحت صرف ان کیلئے ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔

ان آیات میں عدت کی تکمیل کے بعد اور تاحیات میاں بیوی جب بھی رجوع کرنا چاہیں تو حلالہ کی لعنت کو رکاوٹ بنانا تزکیہ اور طہارت کی جگہ بہت بڑا گند ا دھندہ ہے لیکن مفتی دلا خود بھی آیات نہیں سمجھتا اور جس کو اللہ نے سمجھ دی ہے اس کی بھی نہیں مانتا اسلئے کہ ان کا ریاستی ڈھانچہ ختم ہوگا۔ جب لوگ ان کے کہنے پر بیویاں حلالہ کے نام پر چدھوا سکتے ہیں تو خود کش اور جان کی بازی دینا کونسی بڑی بات ہے؟۔ پہلی کڑی اسلام کی میاں بیوی کے درمیان حکم کے بعد جدائی کا فیصلہ زرقاء کے بیٹے مروان بن حکم نے ختم کیا ۔جاوید غامدی اور مفتی تقی عثمانی کو اسلام نہیں زرقاء کے بیٹے کی پشت سے نکالا ہوا جھوٹ چاہیے حکم نہ ماننے کی وجہ سے خوارج پیدا ہوگئے ،یہ انکا دین ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی ماحول میں بھی دورہ حدیث اور شیخ الحدیث کا تصور نہیں تھا۔ ختم بخاری کا دلہا حلالہ کیلئے تیار ہوتا ہے حالانکہ بخاری میں طلاق کے حوالے سے سبھی احادیث کو بے بنیاد جگہ جوڑ دیا گیاہے لیکن رفع الیدین کی حدیث نہیں مانتے اور حلالہ کی غلط روایت جس کا کوئی جواز نہیں مانتے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حافظ ؟جنس پر ستی پر والد کا قتل :

کروڑ لعل عیسن لیہ کا واقعہ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔

واللاتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاOواللذٰن یاتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا و اصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًا رحیمًاOسورہ النساء

”اگرتمہاری عورت فحاشی کرے تو اپنوں میں چار سے گواہی مانگو ،وہ گواہی دیں تو انہیں گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد بدکاری کریں تو دونوں کو اذیت دو اور اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو انہیں طعنے مت دو۔ بیشک توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے”۔(15،16)

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع اور مفتی ولی حسن ٹونکی نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا۔ آیت15کو سنگساری کی دلیل بنا دیا ۔کچھ نے سورہ نور کی آیت کو متبادل لکھا جہاں کوڑوں کی سزا ہے۔ محکم آیات کی غلط تفسیر تو متشابہات ؟۔ پرائی نہیں اپنی عورتوں کو فحاشی پر گھروں میں نظر بندکرنے کا حکم ہے تاکہ ماحول کو خراب نہ کریں اور مریں یا شادی ہوجائے۔ مردوں کیلئے اذیت ہے۔ تھپڑ ، لاٹھی اور سرمہ دانی جلانے کا معاملہ ہو تو بھی ٹھیک اذیت ہے اسلئے کہ عورت کا توعلاج شوہر مگر مرد تو ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ جیسے حافظ حاشر کیلئے جنسی پیاس کیلئے واحد ذریعہ بدمعاش تھا جس کو پہلے بگاڑ دیا گیا اور بعد میں ایک ہی شخص ملتا ہوگا جس کیلئے باپ کو مار ڈالا۔ حضرت علی نے زندہ نہیں جلایا بلکہ سرمادانی جلادی۔ بے ضمیر مضر ہوتے ہیں اسلئے ان کا ہرممکن اذیت سے علاج ضروری تھا۔ مفتی عزیز الرحمن و شیخ الحدیث نذیر احمد کے علاوہ بے ضمیر لوگوں کو حلالہ سے چھٹکارا ملے تو بھی عزتیں بچانے کیلئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرجع قدیم و جدید…مولانا بدیع الزماں

عالمِ رنگ و بو میں جو آیا جانے کیلئے آیا

لِدوا لِلموتِ وابنوا لِلخرابِ

خلاقِ عالم نے ہر تنفس کیلئے وقت پر دنیا سے جانا مقدر فرمایا۔ علومِ نقلیہ وعقلیہ قدیمہ کے علاوہ حضرت شیخ کو علومِ جدیدہ سے خاص دلچسپی اور شغف تھا۔ سائنس اور فلسفہ جدیدہ سے گہرا تعلق تھا اور سائنسی علوم و ایجاداتِ جدیدہ کی روشنی میں اسلام کے حقائق کو منفرد انداز سے سمجھا تے تھے۔ حدیث میں ابرادِ بالظہر کا حکم دیتے ہوئے وجہ یہ بیان فرمائی گئی
فان شدة الحر من فیح جھنم
اشکال وارد ہوتا ہے کہ گرمی تو سورج کا اثر ہے۔ حضرت شیخ رحم اللہ تشریح فرماتے کہ جہنم کی مثال پاور ہاؤس ہے، شمس کی کا منبع جہنم ہے۔ شمس کے واسطہ سے جہنم کی حرارت کا اثر پہنچتا ہے۔ آتشیں شیشہ سورج سے حرارت اخذ کر تاہے۔ تمثیل سے اشکال رفع ہو جاتا ہے۔

فرید واجدی کی دائر المعارف (انسائیکلوپیڈیا)سے حضرت شیخ بہت متاثر تھے۔ برزخ میں انسان کے مادی جسد کیساتھ روح کا تعلق قائم رہتا ہے، اگرچہ روح کا مستقر اعلی علیین یا اسفل السافلین ہو۔ یہ مسئلہ حضرت شیخ دائر المعارف کے ایک واقعہ سے ذہن نشین فرمایا کرتے تھے کہ: ایک شخص علم التنویم کے ذریعہ وقتی طور پر انسان کی روح کو جسم سے جدا کر سکتا ہے، لیکن اس مفارقت کی صورت میں بھی روح کا رابطہ جسم کیساتھ برابر قائم رہتا ہے۔ چنانچہ فرید وجدی نے لکھا کہ: ایک عامل نے علم التنویم سے ایک انسان کو لٹا کر اس کی روح کو جدا کیا، وقتِ مقررہ پر وہ روح واپس نہیں آئی تو عامل کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کی موت واقع نہ ہو۔ چنانچہ فورا ایک دوسرے شخص پر عمل کر کے اس کی روح سے کہا کہ پہلی روح کو جلد لانے کی کوشش کرو، چند لمحات کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پہلی روح واپس آ گئی ہے اور اس وقت فلاں گوشہ میں موجود ہے، عامل سوئی ہاتھ میں لیکر اس کی طرف بڑھا اور غصہ میں سوئی کو آگے کیا، اس پر روحِ ثانی نے کہا کہ سوئی اس کی پنڈلی میں پیوست ہو گئی ہے، عامل نے پلٹ کر دیکھا کہ جس شخص کی وہ روح تھی اس کی ٹانگ سے خون نکلنا شروع ہو گیا، جبکہ وہ دوسری جگہ تھا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد شیخ فرمایا کرتے تھے کہ: جب اس عالم میں روح اور جسد میں مفارقت کے باوجود تعلق قائم رہتا ہے تو برزخ میں بھی اسی طرح تعلق قائم رہے گا تاکہ جسم و روح دونوں کو راحت یا تکلیف محسوس ہو۔

(یہ تحریر نیٹ پردیکھ لو اور قرآن کے شواہد میری تحریرمیں)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ

واقیموا الوزن بالقسط

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ ایران جنگ میں فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر نے زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس میں طاقت نہیں حکمت کو کام میں لایا ہے۔ اہل تشیع کے علماء کے متضاد بیانیہ میں حکمت کے ساتھ توازن قائم کرنا امریکہ ایران جنگ سے بھی زیادہ مشکل معاملہ ہے لیکن ہم اس پر تھوڑی محنت کرنے کا رسک لیتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے ہمیں صلح یا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔

کسی کی اصلاح کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ جس کو مخاطب کیا جائے تو اس کو لگے کہ میری دوستی مقصود ہے دشمنی نہیںاور یہ بھی دیانتداری کا تقاضہ ہے کہ اس کا مؤقف غلط پیش نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اس کو مخالف کے سامنے شرمندہ بھی نہیں کیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدکمال حیدری نے کربلا کی مٹی کا حق ادا کرتے ہوئے شیعہ کے اصلاح کی بڑی زبردست کوشش کی ہے۔عربی میں عنوان لگایا ہے کہ ”اثناعشری دین کو پھاڑ کر رکھ دیا ہے”۔ اس میں بھی شک نہیں کہ پاکستانی شیعہ کا تجزیہ درست ہے کہ ”سنی اور شیعہ میں90فیصد اتفاق ہے لیکن وہابیوں کو کامیابی ملنے کی وجوہات کچھ اور ہیں”۔

اصل بات یہ ہے کہ سید کمال حیدری نے شیعہ کا جو مذہب بیان کیا ہے وہ اصل اختلاف ہے لیکن شیعہ اس کو چھپاتے ہیں اور سنی اپنے علماء کی کتابوں سے جاہل ہیں ورنہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ کامیابی اس بات میں نہیں ہے کہ کسی کو شیعہ یا سنی بنایا جائے بلکہ کامیابی اس بات میں ہے کہ دونوں قرآن پر درست ایمان کی تعلیمات کا معیار بنائیں۔

بارہ امام قرآن سے فتویٰ دیتے تھے اور آج بھی قرآن سے فتویٰ دینا بالکل آسان ہے لیکن شیر سے ویسے بھاگو مت جیسے قرآن میں بدکے ہوئے گدھوں کے فرار کا ذکر موجود ہے۔
ــــــــــ

علی علیہ السلام کا نام توراة میں ایلیا آیا ہے: علامہ سید جان علی شاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عزیز و! بڑا نازک مسئلہ ہے۔ آج ہمارے اہل سنت بھائی عاشق اہل بیت ہیں۔ اہل سنت کی تعداد ہر جگہ پہ زیادہ ہے۔ ادھر شیعہ، ادھر وہابی، بیچ میں اہل سنت ہیں۔ شیعوں اور وہابیوں کی تعداد اور کم ہے۔ تجربہ بتلا رہا ہے جو عقلمندی کرے گا تو مستقبل میں تعداد اس کی بڑھے گی۔ شیعہ سنی عقیدے90%ایک جیسے ہیں۔ وہابی90%دونوں کے خلاف ہیں۔ شیعہ یا رسول اللہ، سنی یا رسول اللہ کہتے ہیں۔ شیعہ عاشق رسول نبی کی ضریح کو چومنا چاہتے ہیں وہابی ڈنڈا مارتے ہیں سنی بھی چومنا چاہتے ہیں۔ شیعہ زیارت پہ جاتے ہیں سنی بھائی زیارت پہ جاتے ہیں وہابی اسے حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ کہتے ہیں یا رسول خدا مدد یا علی مدد مگر وہابی حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت نذر نیاز کرتے ہیں، وہابی حرام سمجھتے ہیں، بدعت سمجھتے ہیں، کافر سمجھتے ہیں اسی طرح عزیزان گرامی اگر آپ گنتے چلے جائیں گے۔ شیعہ اور سنی غم حسین میں روتے ہیںمگر وہابی بدعت سمجھتے ہیں۔ عزاداری دونوں کرتے ہیں، ہمارے سندھ میں پورا سیہون شریف کے سنی ماتم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں چلے گا شیعہ کون ہے محرم میں سب کے لباس کالے ہوں گے۔ مٹیاری شہرمیں وہابی پر بھی ماحول کا اثر ہے وہ بھی ماتم میں شریک ہوتے ہیں زیارت نہیں پڑھتے کہتے ہیں زیارت پڑھنا بدعت ہے۔

آپ نے دیکھا شیعہ سنی کا عقیدہ90%ایک جیسا ہے۔ وہابی90%شیعہ کو بھی کافر سمجھتے ہیں، سنی کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ عقلمندی کیا ہے جن کا عقیدہ90%ہمارے جیسا ہے جو عاشق رسول ہے انہیں ہمیں اپنی طرف بلانا چاہئے یا بھگانا چاہئے۔ توجہ فرمائیں! و ہابی پیسہ دے کر سنی کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ توجہ فرمائیں! اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگ صرف تھوڑی چند منٹ کی واہ واہ کیلئے ایسی بات کر دیتے ہیں کہ وہ سنی بھائی پھر مجلس میں نہیں آتا۔ اب بتایئے یہ کوئی عقلمندی ہے۔ آپ اس سنی بھائی کو وہابیوں کی طرف بھیج رہے ہیں وہ مجلس میں آیا ہے آپ بھگا رہے ہیں۔ صلو ةپڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ تو عقلمندی سے کام لینا ہے۔

عزیزان گرامی! یوٹیوب پر میں نے ایک ویڈیو دیکھی ایسی واقعاً حقیقت ہے کتنی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ ایک سنی بیچارے نے شیعہ سے گفتگو سنی یا مجلس میں جا کے سنا کہ بھئی بی بی پاک گئی تھیں فدک لینے اور بی بی کو فدک نہیں ملا۔یہ سنی بیچارہ کہتا ہے مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جو نبی کے صحابی ہوں وہ فدک نہ دیں؟ کہتا ہے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کہا نیند نہیں آ سکتی۔ بارہ بجے رات میں اٹھا محلے میں میرے ایک مولانا تھے سنی عالم میں نے کہا مولانا میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں۔ کیا پریشانی ہے؟ کہا مولانا یہاں مسئلہ حل نہیں ہوگا مسجد میں آیئے آدھی رات کو سنی عالم کو مسجد میں لے آیا اس کے سر پہ قرآن رکھا وہ گھبرا گیا۔ میں نے کہا مولانا اس کے سوا میری پریشانی دور نہیں ہوگی میں بہت پریشان ہوں صرف دو سوال کہوں گا آپ یہاں کہیں ہاں یا نہیں۔ کیا سوال ہیں؟ کہا مولانا میں نے سنا ہے کہ نبی کی بیٹی فاطمہ زہرا فدک لینے دربار میں گئی تھیں۔ مولانا نے تقریر شروع کی تجھے کسی شیعہ نے بھٹکایا ہے۔ مولانا میں نے تقریر نہیں سنی میں نے کہا ہاں یا نہیں بی بی گئی تھیں یا نہیں؟ سر پہ قرآن ہے آپ کے۔ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں کہا بی بی گئی تھیں۔ صحیح بخاری مسلم میں ہے بی بی فدک لینے گئی تھیں۔ بہت شکریہ۔ دوسر ا سوال خلیفہ نے فدک دیا یا نہیں ؟ مولانا نے کہا نہیں دیا۔ میں نے سر سے قرآن اتار دیا کہا مولانا آپ نے بہت احسان کیا۔ میری مشکل حل ہو گئی۔ کہا تیری مشکل کیسے حل ہو گئی؟ کہا میں بہت گنہگار ہوں مولانا میں بہت گنہگار ہوں۔ اگر میرا کوئی جگری یار ہو نا اور اس کی بیٹی مر جائے وہ وہ مر جائے وہ بیٹی یتیم ہو جائے اگر وہ میرے گھر پر آئے اگر اس کا حق بھی نہ ہو میں گھر بیچ کر دوں گا۔ یہ کیسے یار تھے؟ نبی کی بیٹی کو واپس کر دیا؟۔ ہزاروں لوگ شیعہ بننے کیلئے تیار ہیں۔ تڑپ رہے ہیں بے خبر ہیں بیچارے۔ ہمارے منبر سے انہیں بلایا نہیں بھگایا جا رہا ہے۔ دو منٹ کی واہ واہ کی خاطر۔

عزیزان گرامی! اب بچپن سے انہوں نے تعریفیں سنی ہیں۔ آپ کو یہ پتا ہوگا کہ ایران نے ایک اسمگلر کو جہاز سے اتار کر پھانسی دی تھی۔ ریگی نام تھا اس کا۔ یہ بلوچ تھا جس نے ایران میں سوسائڈ اٹیک (خود کش حملے)کئے تھے اور کتنے مومنین کو شہید کیا تھا۔ تو امارات کے جہاز سے اتار کے اس کو پکڑ کے پھانسی دینے سے پہلے اس سے پوچھا کہ تو کیسے جوانوں کو تیار کرتا ہے؟ کہ ایک جوان خود کو مارتا ہے اور حملہ کرتا ہے۔ اس نے کہا میں کچھ نہیں کرتا سب کام آپ کے مولوی کرتے ہیں۔ بتایئے یہ ریگی کا انٹرویو ہے۔ کہتا ہے میں کچھ نہیں کرتا میرا کام آسان تمہارے مولوی اور ذاکر کرتے ہیں۔ میں50-40نوجوانوں کو بلاتا ہوں اچھا کھانا کھلاتا ہوں پھر میں نے کلپ بنائے ہوئے ہیں جو آپ کے مولوی جو تبرہ بازی کرتے ہیں جو ان پر الٹی سیدھے جملے کستے ہیں میں وہ انہیں دکھاتا ہوں۔ انہوں نے بچپن سے تعریفیں سنی ہیں کہ یہ عاشق رسول ، عاشق اہل بیت ہیں جب وہ سنتے ہیں تو ان میں سے10قسم کھاتے ہیں کہ ہم تب تک یہ کام نہیں کریں گے بیوی کے پاس نہیں جائیں گے یا نکاح نہیں کریں گے جب تک ہم60-50شیعوں کو مار نہ دیں۔ کہتے ہیں سارا کام جو ہے نا آپ کے علما کرتے ہیں۔ میںنے صرف ان کی کلپیں بنائی ہوئی ہیں اور وہ میں دکھاتا ہوں۔

عزیزان گرامی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم چند منٹ کی واہ واہ کیلئے اپنی قوم کو مروا رہے ہیں۔ یا وہابی بنوا رہے ہیں کہ آنے والا سنی وہ چلا جاتا ہے یا ہم اپنی قوم کو مروا رہے؟۔ کیونکہ خود خدا کہتا ہے قرآن میں کہ آپ کسی کے برے خدا کو برا نہ کہیں کہیں آپ کے سچے خدا کو کوئی نہ کہے۔ خود امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا جس سے مولا سخت ناراض ہوئے کہا کہ یہ تبرے کیلئے شرائط ہیں کہ تم اس کے سامنے تبرہ پڑھو جس کو پتہ ہو کہ یہ ظالم ہے۔ دوسرے کو پتہ نہیں کہ یہ ظالم ہے جب تو اسے ظالم کہے گا، برا بھلا کہے گا اس نے مولا علی کو برا بھلا کہا اس کا مجرم تو ہے۔ امام سخت ناراض ہوئے کہ تبرے کے شرائط ہیں جو جتنے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو پتہ ہے یہ بندہ ظالم ہے اس نے بی بی کا گھر جلایا ہے اس نے حضرت محسن پہ ظلم کیا اب آپ تبرہ کریں تو کوئی بات نہیں کیونکہ سب کو پتہ ہے لیکن ایک کو پتہ ہی نہیں ہے وہ اسے عاشق رسول سمجھ رہا ہے عاشق علی سمجھ رہا ہے عاشق اہل بیت سمجھ رہا ہے آپ کہیں گے تو کیا ہوگا وہ آپ کا دشمن ہوگا۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔

عزیزان گرامی! بہت دھیان بہت ہوشیاری سے کام کرنا ہے۔ پاکستان میں40سال پہلے وہابیوں کی تعداد5%تھی اور وہابی اگر کسی کو کہیں غصہ کرتے تھے ہم عاشق رسول ہیں ہمیں وہابی مت کہو وہ گستاخ ہیں رسول کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں سنی برداشت نہیں کر سکتا اور اگر وہابی مسجد میں کوئی چلا جائے ہمارے شہر میں تو بہت بری نگاہ سے دیکھتے تھے وہابی ہے۔ اب وہابی30%فیصد ہو گئے ۔ بعض اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔5سے40سال میں40-30فیصد کیسے بنے؟ ۔ ہم ان پہ ہنستے ہیں یہ بستر بند، لوٹے والا لطیفے بناتے ہیں۔ بستر لوٹے والے تبلیغ کر رہے ہیں ۔ہر وہابی انجینئر، ڈاکٹر ،پروفیسر بارہ ماہ میں ایک مہینہ وقف کرتا ہے تبلیغ اسلام کیلئے۔ بتایئے آپ میں سے کتنے ایک مہینہ وقف کرتے ہیں؟ ہم تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بھائی تبلیغ کا حق تو ہمیں ہے کہ ہم امام کا انتظار کر رہے ہیں۔ تبلیغ کا حق ہمیں ہے کہ ہم باب مدینة العلم کے ماننے والے ہیں۔ وہ تبلیغ کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ۔

ہر وہابی نے قسم کھائی ہے کہ مرنے سے پہلے10لوگوں کو وہابی کرنا ہے۔ اگر ہر شیعہ قسم کھا لے کہ مرنے سے پہلے10اہل سنت کو مومن بنانا ہے تو ہماری تعداد10گنا بڑھ جائے گی۔ ہم تبلیغ کرتے نہیں۔ ہم نارتھ امریکہ سے آ رہے ہیں بتایا کہ وہابی ہر سال50ہزار امریکن کو مسلمان بناتاہے۔ عزیزان گرامی! ہم تبلیغ کر ہی نہیں رہے۔ ایک آدمی کو مسلمان بنانے پہ کم از کم ایک لاکھ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ آپ کو خرچ نہیں کرنا۔ بغیر خرچ کے آپ مسلمان کر سکتے ہیں۔ ہمارے ایک مولانانے امریکہ میں بہت ساروں کو مسلمان کیا بھئی آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا میں پکی پکائی روٹی کھاتا ہوں۔ کہا وہ کیسے؟ کہا جیسے وہابی مسلمان کرتے ہیں وہ تیار شدہ مال5سال مدرسے میں پڑھے ہوئے میں ایک کتاب بھیج دیتا ہوں انہیں تیجانی کی ”پھر میں ہدایت پا گیا” (Then I was Guided)یا نائٹس آف پشاور یعنی شبہائے پشاور ایک کتاب پڑھ کر وہ5سالہ تیار مولانا شیعہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعصب نہیں رکھتے نا امریکن حق کی تلاش میں ہیں۔ کتنے ہمیں ملے جو شیعہ ہیں وہ پہلے وہابیوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے۔5سال مدرسے میں، لندن میں ایک ملا میں نے کہا تو کیسے شیعہ بنا؟ کہا میں ایسے شیعہ بنا کہ وہابیوں نے مجھے مسلمان بنایا اور میرے استاد نے مجھے سند دی کہ تو امام بن گیا، نماز پڑھا سکتا ہے مولوی بن گیا لیکن خیال رکھنا کبھی شیعہ سے بات نہ کرنا۔ میں نے کہا شیعہ کون ہے؟ کہ یہ شیعہ کافر ہیں بہت برا بھلا کہنے لگا، شیعہ نے40جز قرآن بنایا ہے یہ کافر ہیں ان سے کبھی بات نہ کرنا اتنا ڈرایا اتنا ڈرایا کہ میرے دل میں شوق پیدا ہو گیا کہ ایک شیعہ کو دیکھ تو لوں۔ یہ کیا ہے بھوت ہے جن ہے کیا ہے اتنا ڈرایا۔ تو کہا میں امریکہ نیویارک میں ٹیوب میں جا رہا تھا ریلوے اسٹیشن میں قرآن مجید میرے پاس تھا ماہ مبارک رمضان تھا سامنے ایک مسلمان قرآن پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے نزدیک گیا اسلام علیکم وعلیکم السلام مسلمان ہو؟ کہا ہاں مسلمان ہوں۔ کون سے مسلمان ہو؟ اس نے کہا میں شیعہ مسلمان ہوں۔ اوہ یہ ہے شیعہ۔ تو استاد نے کہا تھا کہ بھئی یہ قرآن نا شیعوں کا40جز بڑھا دیا ہے اس لئے کافر ہیں۔ تو میں نے کہا بھئی یہ قرآن مجھے دے سکتے؟ کہا بسم اللہ ۔ میں نے جیب سے قرآن نکالا دیکھا ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور بقرہ ادھر بھی سور بقرہ ادھر سارا قرآن وہی ہے ایران کا چھپا ہوا۔ میں نے کہا بھائی یہ قرآن مجھے تھوڑے دن کیلئے چاہئے کسی کو دکھانا۔ کہا بسم اللہ۔ میں گیا اس وہابی استاد کے پاس کہ جی آپ نے کہا تھا شیعوں کے قرآن میں40جز ہیں یہ دیکھو ایران سے چھپا ہوا وہی قرآن۔ ایک دم وہ ملاغصے میں آ گیا کہ تجھے منع کیا تھا شیعہ سے ملا کیوں؟ کہا میں بھی غصے میں آ گیا کہ مسلمان بنا تیرا غلام تو نہیں بنا کہ کسی سے ملوں نہیں۔ کہا جب تیری ایک چیز جھوٹی ہو گئی اب سب پہ شک ہو گیا۔ مجھے واپس تحقیق کرنی ہے۔ میں گیا اس شیعہ کے پاس بھائی کوئی شیعہ مذہب کا کتاب ہے اس نے مجھے یہی کتاب دی "Then I was Guided” (پھر میں ہدایت پا گیا)۔ تیجانی کی کتاب ختم ہو گئی میں نے اعلان کیا علی ولی اللہ۔ صلوة پڑھئے نعرہ حیدری یا علی نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ نعرہ حیدری یا علی حیدری یا علی حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد نعرہ صلوة۔

یقین جانیئے آپ50-20ایسے لوگوں کو مسلمان کو شیعہ کر سکتے ہیں۔ جو عیسائی سے مسلمان ہوئے صرف یہ کتاب بھی مفت میں آپ جا کے گوگل میں سرچ کریں (Then I was Guided) ایک ڈالر کا خرچہ نہیں آپ پہلے سرچ کریں کنورٹڈ مسلمان ۔ وہابیوں نے بہت کئے انکے ای میل لے لیں اور یہ کتاب بھیج دیں مفت میں آپ کا یہ کام ہو جائے گا اور ایک بندہ بھی شیعہ کر دیا تو آپ کی جنت پکی ہے صلوة پڑھ دیں محمد و آل محمد پہ۔

آپ نے دیکھا دو ٹیکنیکس وہابی کیوں بڑھے40فیصدی30فیصدی بعض جگہ مقامات پر یہی کہ یہ بستر بند ہر سال مہینے میں تبلیغ پہ جاتے ہیں اور کھینچتے ہیں انہیں پیسہ دیکر کھینچتے ہیں اور دوسری ٹیکنیک کیا ہے؟ یہ اپنے مولویوں کو مکے اور مدینے سے پی ایچ ڈی کراتے ہیں۔ ڈاکٹر بناتے ہیں مکے مدینے سے اور پھر بھیجتے ہیں انگلینڈ۔ ان کیساتھ یورپ میں یونیورسٹیاں ہیں وہاں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کراتے ہیں یعنی ڈاکٹر سے اوپر۔ یہ نہ پاکستان میں ہے نہ ایران میں تھرڈ ورلڈ کنٹریز غریب ملکوں میں ہے ہی نہیں۔ ان کا مولوی پوسٹ ڈاکٹریٹ کر کے انگلینڈ سے چلا گیا۔ جب کراچی یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی میں کوئی پروفیسر مر گیا ریٹائر ہو گیا یہ انٹرویو کیلئے آیا تو اسے تو سیٹ ملنی ہی ملنی ہے کیونکہ کوئی بندہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ہے ہی نہیں۔

دوسرا ان کا نقطہ یہ ہے کہ پورے دنیا کی یونیورسٹیوں پہ انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وزیر، سفیر وہیں حکومت کے لوگ کہاں سے نکلتے ہیں؟ یونیورسٹی سے۔ ہم سندھ تبلیغ کرنے جاتے تھے8-7علماء تو ہم نے دیکھا کہ اگر6مہینے بھی تبلیغ کریں حالانکہ چھوٹا ہے پنجاب سے تو بھی ہر گاؤں میں نہیں جا سکتے۔ اگر ہم سندھ یونیورسٹی میں بیٹھ جائیں کراچی یونیورسٹی میں ہم ایک لاکھ پمفلٹ یا کتابیں چھاپیں اور ہم لڑکوں میں تقسیم کر لیں تو ہر گاؤں میں ہمارا میسیج چلا جائے گا۔ کیونکہ ہر شہر ہر گاؤں کا اسٹوڈنٹ موجود ہے۔ اب آپ نے دیکھا کہ وہابیوں کی ٹیکنیک کہ یونیورسٹیوں پہ قبضہ کریں اسلئے ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہماری کوئی یونیورسٹی نہیں ہے مثلا پورے یورپ، امریکہ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ انکے پاس پیسہ ہے، ہمارے پاس پیسہ نہیں۔ پیسہ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے سوچا نہیں کہ یونیورسٹی کتنی اہم ہے۔ کئی سالوں سے ہم کوشش کر رہے تھے ایک یونیورسٹی بنائیں اب انگلینڈ میں یونیورسٹی بنائیں تو10سال کالج کواور ہزار اسٹوڈنٹ ہونا چاہئے50ڈاکٹر ہونا چاہئے ایک دو ملین کا پیسہ ہونا چاہئے یعنی بہت مشکل ہے۔

ہم کوشش کرتے رہے الحمدللہ مولا نے مدد کی تقریبا ابھی اسی سال8مہینے ہو گئے مولا علی کے نام جو مولا علی کا نام تورات انجیل میں ہے ایک یونیورسٹی ایلیا یونیورسٹی ہالینڈ میں ثبت ہو گئی ۔ یونیورسٹی رجسٹر اور700اسٹوڈنٹ پڑھ رہے ہیں الحمدللہ آن لائن۔700اسٹوڈنٹس سائیکالوجی اسلامک سائیکالوجی اور چائلڈ سائیکالوجی بچے کی سائیکالوجی پڑھ رہے ہیں۔ مولا سرکار امام زمانہ نے ایک تحفہ دیا اور ایک ایسا علم دیا ہے جو اس وقت کسی یونیورسٹی کے پاس نہیں ہے۔ اور انشااللہ اس کو ہم شروع کرنے والے ہیں ایک مہینے میں اور اس سے آپ بھی فائدہ کریں۔ ایک بندہ تھا یہ بیچارہ سمجھو کہ شہید زندہ ہے جنگ میں8سال تھا پھر کیمیکل گیس سے یہ زخمی ہو گیا تھا۔ جرمنی میں5سال بستر پہ تھا۔5سال کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہ5سال اس مومن نے ضائع نہیں کئے۔ یہ پڑھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ایسی چیز بناؤں جو دنیا میں کہیں نہ ہو کیونکہ جتنا انسان خاموش رہتا ہے اتنی عقل بڑھتی ہے۔5سال خاموشی میں فکر کرتا رہا اور مولا نے اسے تحفہ دیا۔ تھا بھی شہید یعنی پورا زخمی تھا۔ اللہ نے کیا تحفہ دیا جناب اس کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ ایک کورس کراتا ہے وہ ایک سال کا بھی ہے6مہینے کابھی، انسان کی صلاحیت پر ہے کہ ایک منٹ میں آپ5ہزار سے7ہزار الفاظ پڑھ سکتے ہیں۔یعنی اس کے شاگرد ایک ہفتے میں3ہزار صفحات پڑھ لیتے ہیں۔ یہ ایک چیز ۔

دوسری چیز اس نے کیا فوٹو میموری یعنی کوئی چیز یاد کرنا ہے اس کا فوٹو نکال دیتا ہے وہ آپ کو بھی سکھائے گا کہ فوٹو میموری پہلے بھی تھا یعنی کروڑوں میں ایک آدمی تھا، اس نے یہ ٹیکنیک نکالی ہے کہ ہر آدمی کے اندر فوٹو میموری ہے اگر وہ کوشش کرے۔ کروڑوں میں ایک آدمی ہوتا تھا کہ جو دیکھ لے ایک مرتبہ یاد ہوجاتا تھا۔ فوٹو میموری کی ٹریننگ شروع کی اس وقت18ہزار اس کے شاگرد ہیں ہماری یونیورسٹی میں بھی ہیں وہ کیا ہے کہ قرآن مجید چار مہینے میں آپ حفظ کر سکتے ہیں۔ ہاں جی چار مہینے میں یعنی ہر دن 12 صفحے قرآن کے فوٹو نکالیں گے یاد نہیں کریں گے بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ رٹنا نہیں ہے۔ جب آپ فوٹو نکالیں گے تو آپ سے پوچھیں گے پہلی لائن پہ پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ بتائیں گے۔ درمیانہ لفظ کون سا ہے؟ ایسا کوئی حافظ نہیں ہے۔ آخری لفظ کون سا ہے؟ دوسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ تیسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ فوٹو نکالیں گے۔ اس نے40ایکسرسائز بنائی کہ آپ کا فوٹو میموری بن جائے۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ توجہ فرمائیں۔ اب اس سے اپنی قوم کو ترقی دلانی ہے۔ اگر یہ ٹریننگ آپ لیں ایک سال بھی لگ سکتا ہے6مہینے بھی ٹائم کتنا دیتے ہیں۔ تو آپ کا پھر کیا حال ہوگا؟ اگر یہ فوٹو میموری آگیا اور ریڈنگ ایک ہفتے میں3ہزار صفحے آپ پڑھ لیں گے تو آپ چار مہینے میںبی اے…6مہینے میںایم اے ایک سال میں ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔PHDکر سکتے ہیں۔ الحمدللہ یہ اپنی ایلیا یونیورسٹی سے نیکسٹ منتھ ہم شروع کرنے والے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ ہم تین زبانیں بھی سکھائیں گے ایک مہینے میں۔ فارسی عربی انگلش۔ قرآن بھی آپ پورا ترجمہ کر لیں گے یہ ہم نے پہلے اس پہ کام کیا تھا تین زبانیں سال میں آپ کا بچہ اور آپ بھی سیکھ سکیں گے۔

روزگار کیلئے بھی ہم نے دو پروگرام اور کئے کلاؤڈنگ کیونکہ یہ امریکہ میں ہمارے ساتھ استاد ہیں کلاؤڈنگ اگر آپ سیکھ لیں یہ ایک سال میں آرام سے سیکھ لیں گے تو جتنے بھی کلاؤڈنگ کی ٹیکنالوجی آسان ہے آپ کی تنخواہ کم سے کم جو تنخواہ ہے امریکہ میں اور یہاں80ہزار ڈالر سال میں ہے۔ اور پلس وائپ، موبائل میں یہ وائپ ٹیکنالوجی ہم سکھائیں گے آپ کو اسی ایک سال میں تنخواہ دو لاکھ ڈالر ہے۔ دشمن ہمیں مار رہا ہے اقتصادی نقصان کر رہا ہے تو ہم اپنی قوم کو ٹیکنالوجی میں اتنا آگے بڑھائیں کہ دشمن کو شکست ہو ۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔
ــــــــــ

ابولہب، اسکی بیوی کا نام قرآن میں آیا توپھر علی… علامہ سید کمال حیدری

یہ خالص قرآنی اصول ہے کہ قرآن کریم کسی چیز کو پیش کرتا ہے، تو کیا اس کی اہمیت پرخاص توجہ کو ظاہر کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ ہمیں ہاں یا نہ میں جواب دیجیے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ (قرآن)ہی بنیادی محور، یہی اساسی کتاب ہے اور یہی اسلام کا دستور ہے؟ آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ کا جواب ”نہیں” ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ جب قرآن کسی چیز کو چھیڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک خاص اہمیت دے رہا ہے، یعنی اپنے معرفتی نظام کے بنیادی ستونوں میں شامل کر رہا ہے اب اگر وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کا ذکر نہیں کرتا، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ سب خاموش کیوں ہو گئے؟ قرآن نے کس چیز کو پیش کیا ہے؟ اس نے ابو لہب کا ذکر کیا اور فرمایا:

تبت یدا ابی لہب و تب

آپ خود اپنے اور اللہ کے درمیان انصاف سے بتائیں، قرآن میں ابو لہب کا ذکر زیادہ اہم ہے یا شیعہ امامت؟ آپ حضرات تو امامت کو اگر توحید سے بڑھ کر نہیں، تو کم از کم توحید کی قبولیت کی شرط قرار دیتے ہیں کہ جس کے پاس امامت نہیں، اس کی توحید بھی قبول نہیں۔ اگر یہ توحید سے زیادہ اہم نہیں توحید کی شرط ہے۔ تو کیا قرآن نے اسے پیش کیا ہے یا نہیں؟ جواب دیجیے! روایات کی بات مت کیجیے، کیونکہ روایات میں تو ہمارا آپس میں اختلاف ہے۔ سامنے والے کے پاس صحیح بخاری اور میرے پاس الکافی ہے، اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ متفق علیہ بنیاد تو قرآن ہے۔ کوئی آیت دکھائیے جو ہر زمانے میں امام کی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرتی ہو۔ آپ کہیں گے کہ قرآن نام نہیں لینا چاہتا، چلو میں نام نہیں مانگتا، لیکن یہ تو کہے کہ ہر زمانے میں معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی آیت کہاں ہے؟ میرے سامنے یہ آیت مت پڑھیں کہ

یوم ندعو کل اناس بامامہم

اور پھر یہ کہیں کہ روایات میں یوں آیا ہے روایات کو چھوڑئیے، یہ آیت کہتی ہے کہ ”ہم پکاریں گے ان کے امام کیساتھ”۔ تو کیا اس سے ہر زمانے کا امامِ زمانہ ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو دوسرے فریق کا بڑا اعتراض ہے، اس پر توجہ اور تحقیق کیجیے۔ دوسرا فریق یہ نہیں کہتا کہ اگر قرآن میں امامت کی ضرورت پر کوئی آیت آتی تو میں امامت کا انکار کر دیتا، بلکہ وہ پوچھتا ہے کہ یہ اصول قرآن میں کہاں ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن نے اسے پیش ہی نہیں کیا، تو کیا امامت کوئی بنیادی معرفتی اصل ہے یا نہیں؟ اگر یہ توحید، نبوت اور معاد کے درجے کی اصل ہے، تو کیا ان اصولوں پر سینکڑوں آیات نازل نہیں ہوئیں؟ خدا کی توحید ثابت کرنے کے لیے کیا آپ کو کسی روایت کی ضرورت پڑتی ہے؟ قرآن خود کہتا ہے:

فاعلم انہ لا الہ الا ہو

۔ توحید، نبوت اور معاد پر سینکڑوں آیات موجود ہیں، لیکن امامتِ خاصہ شیعہ پر کوئی ایک آیت کہاں ہے؟۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نے اشارہ کیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہاں؟ وہ کہتے ہیں کہ آیت

ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا

میں بارہ مہینوں کا ذکر ہے اور ائمہ کی تعداد بھی بارہ ہے۔ خدا کے لیے بتائیے، کیا یہ کوئی منطق ہے؟ یہ آیت مہینوں کی تعداد سے مربوط ہے، اس کا ائمہ کی تعداد سے کیا تعلق؟ شاید باطن میں کوئی ربط ہو، لیکن ظاہری قواعد کے حساب سے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح آیت

انی جاعلک للناس اماما

کا کیا تعلق ہے؟ یہ آیت تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مربوط ہے، اسے مولا امام جواد علیہ السلام سے جوڑنے کا کیا جواز ہے؟ آپ کے اور حق کے درمیان کیا ربط ہے؟ یہاں آپ کو مجبوراً روایات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ بات روایات تک پہنچتی ہے، تو وہ اپنے روایتی نظام کو مانتا ہے اور آپ اپنے نظام کو، اور مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے نماز کا حکم تو دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکعتوں کی تعداد بیان فرمائی، بالکل اسی طرح امامت کا معاملہ ہے۔ یہ بڑا عجیب استدلال ہے! کیا آپ نماز کا موازنہ امامت سے کر رہے ہیں؟ نماز فروعِ دین اور رکعتیں فروع کی بھی فروع ہیں، یہ قیاس مع الفارق ہے۔ مزید برآں، قرآن نے صاف لفظوں میں

یا ایہا الذین امنوا اقیموا الصلاة

فرما کر اصلِ نماز کو قرآنی طور پر ثابت کر دیا۔ آپ امامت کی اصل کو قرآنی طور پر ثابت کر کے دکھائیں۔ میں آپ کو علمی چیلنج دیتا ہوں، علمی چیلنج دیتا ہوں کہ آپ امامت کی اصل کو قرآن سے ثابت کریں، یہ تو نماز کی طرح بھی ثابت نہیں ہے۔

کوئی ایسا بارہ امامی شیعہ عالم نہیں جو باطنی طور پر مسلمانوں کے کفر کا حکم نہ لگاتا ہو۔ جی ہاں، ظاہری حکم میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا ان پر کفار کا حکم لاگو ہوگا یا مسلمانوں کا۔ بعض علما، جیسے ”کتاب الحدائق”کے مصنف صاحبِ حدائق کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی کفر اور دنیاوی نجاست کے محکوم ہیں، چنانچہ وہ دنیا میں کتے اور خنزیر کے حکم میں ہیں۔یہ صاحبِ حدائق کے الفاظ کی صراحت ہے۔ جبکہ دوسرے بعض علما، جو کہ اب مشہور رائے ہے جیسے آیت اللہ سید خوئی اور ہمارے دیگر جلیل القدر فقہا، وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ان کے ظاہری اسلام کا حکم لگائیں گے، لیکن باطنی طور پر، آخرت کے حشر اور کلامی ابعاد کے لحاظ سے شیعہ علما کا انکے کفر پر اتفاق ہے۔ میں یہ بات پوری تحقیق اور تتبع کیساتھ کہہ رہا ہوں، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ مجھے قائل کر کے دکھائے۔ جی ہاں، آیت اللہ سید کمال حیدری کہتاہے کہ یہ کفر کا حکم اسلامی اور دینی نظام کے لوازمات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ مخصوص (تفسیر)کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے امامت کو سمجھا ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے علما میں اس پر کوئی اختلاف نہ ہو؟ میں کہتا ہوں کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام ان پر یہ نتیجہ فرض کرتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پورے دین کا نظام، بلکہ وہ مخصوص فکری قرآت جو انہوں نے اپنائی، اس نے ان پر یہ نتیجہ فرض کر دیا اور وہ مخصوص قرآت پر متفق ہو گئے۔ایسا کیوں ہے؟ جواب یہ کہ روایتی نصوص انہیں اسی نتیجے کی طرف لے جاتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ میرا اپنا موقف کیا ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں روایتی دلیل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ روایتی نصوص میں جھوٹ، جعل سازی اور من گھڑت باتیں اس حد تک شامل ہیں جو تصور سے باہر ہیں۔

جب آپ سے کہا جائے کہ قولِ صحابہ حجت ہے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ اسے قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں؟ آپ کیوں قبول نہیں کرتے؟ یہ کیسا منطق ہے کہ شیعہ علماء کی بات آئے تو وہ آپ کو کھینچ کر کنویں کی طرف لے جائیں اور آپ مان لیں، لیکن صحابہ کی بات آپ کو منظور نہ ہو؟ اسی لیے میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شیعہ علماء نے بغیر کسی بنیاد کے فتوی دیا ہو۔ یہی بات اللہ کے حضور صحابہ کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، آپ صحابہ پر شک نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ صحابہ امیر المؤ منین کے زمانے تک اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اور جنگوں میں جاتے رہے۔ کیا یہ سب منافق تھے؟ وہ لوگ جنہوں نے عراق، فلسطین، روم اور فارس کو فتح کیا اور وہ جہاد کیلئے گئے نہ کہ مال و غنائم جمع کرنے کیلئے، کیا وہ سب مرتد اور منافق تھے؟ یہ کون سی منطق ہے؟ جی ہاں، اگر وہ خلافت کو اس نص کے مطابق نہیں سمجھ پائے جو امیر المؤ منین کیلئے تھی، تو میں کیا کروں؟ کیا وہ سب کے سب معاند تھے؟ اور اگر سب معاند تھے تو جہنمی ہوں گے، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کیوں گئے ؟۔صحابہ پر اعتراض کرتے ہیں، تو آپ پورے دین پر اعتراض کر رہے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ۖسے پورا دین ہم تک صحابہ کے واسطے سے ہی منتقل ہوا ۔ اگر آپ صحابہ کو ہی مشکوک بنا دیں گے، تو پھر کوئی دین باقی نہیں رہے گا، یہاں تک کہ قرآن بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ کے عقیدے کے مطابق اصل قرآنی نسخہ تو امام حجت کے پاس مخفی ہے، اور آپ جو قرآن استعمال کر رہے ہیں، یہ تو صحابہ کا قرآن ہے جنہیں آپ کافر، مرتد، منافق، فاسق اور فاجر کہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں!کیونکہ آپ کا یہ ماننا ہے کہ اصل نسخہ امیر المؤ منین کے ہاتھ میں تھا، جو ان کی اولاد سے ہوتا ہوا امام حجت تک پہنچا اور انشا اللہ وہ آخری زمانے میں اسے لیکر ظاہر ہوں گے،یہی ہمارا منطقی عقیدہ ہے۔

اگر آپ صحابہ پر شک کریں گے، تو نہ کوئی حدیث بچے گی اور نہ ہی کوئی دین بچے گا، کیونکہ دین انہی کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے اخباریوں نے کہا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخباریوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کے مطابق یہ بات کہی تھی، میں ان کی تائید نہیں کر رہا، کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ سید کمال حیدری اخباری ہو گئے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ جو قواعد آپ نے قائم کیے، انکے تحت اخباریوں کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہے، کیونکہ قرآن خلفاء کے عہد میں جمع ہوا تھا، تو یہ حجت ہے یا نہیں؟ ان کے نزدیک یہ حجت نہیں ہے، تو پھر ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ صرف احادیث کی کتابیں بچتی ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ فکری ارتقا کسی مخصوص روایت سے نہیں لیا گیا، بلکہ یہ معصوم کے فعل، معصوم کی تقریر اور دیگر مجموعی دلالتوں سے حاصل کیا گیا ہے۔

عزیزانِ گرامی!شیعہ امامت میں عصمت کا عقیدہ ثابت اور غیر تبدیل شدہ امر ہے یا یہ وقت کیساتھ تبدیل ہوا ہے؟ پچھلی بحث میں ہم نے واضح اور صریح طور پر بیان کیا تھا کہ شہیدِ ثانی نے اپنی کتاب ”حقائق الایمان” میں کیا فرمایا ہے۔ ان کی عبارت بالکل واضح تھی، فرمایا کہ ان (ائمہ)کے اکثر راویوں اور شیعوں سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ائمہ علیہم السلام کو ایسے علماِ ابرار(نیک و سائر علما) مانتے تھے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی۔ اسی لیے سید بحر العلوم اس مقطوعہ حصے کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ ایسا ہی تھا، اور یہ عقیدہ خطا سے معصوم ہونے کی تصدیق سے خالی تھا۔ تو کیا تشیع کا معیار ائمہ کی عصمت پر ایمان لانے پر موقوف ہے یا نہیں؟ پہلی تین صدیوں تک عصمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر علمائِ مذہب کی رائے تبدیل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس عصمت پر دلیل قائم ہو چکی ہے۔ ”روضہ الکافی” مجلد15، روایت نمبر362میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے، عزیزو توجہ کیجیے اور اپنے سروں میں محفوظ کر لیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس امر (تشیع)کا دعوی کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ خود شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے”۔ میرے عزیز!یہ انسانوں کے روپ میں شیاطین ہیں، جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا:

شیاطین الانس والجن

یہ لوگ شیعوں میں موجود انسانوں کے شیاطین ہیں۔ آپ کہیں گے کہ سیدنا! اس کا لازمی نتیجہ تو پورے نظام کا ہدم (انہدام) ہے، تو میرا جواب یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے ہدم ضروری ہوتا ہے۔ کچھ افکار کا گرانا ضروری ہے، یا کم از کم ہمیں کچھ افکار کو گرانے پر سوچنا چاہیے تاکہ ہم ایک نئی عمارت کھڑی کر سکیں۔ میرے عزیز!اگر آپ اس مادی عمارت میں آئیں جس میں ہم اس وقت موجود ہیں، اور آپ مجھ پر پانچ اعتراضات اٹھائیں، تو آپ اس کی جگہ اس سے بہتر عمارت کب بنا سکیں گے؟ پہلے آپ کو اس موجودہ عمارت کو گرانا ہوگا، ورنہ آپ اس پر دوسری عمارت نہیں کھڑی کر سکتے۔ اسی لیے عزیزو! میں صاف کہتا ہوں کہ میرا منہج پہلے علمی ابھار اور ہدم ہے، اسکے بعد تعمیر ہے۔ یہ واقعی ایک المیہ ہے، المیہ ہے، المیہ ہے! واللہ اگر آپ ہماری کتابوں کی طرف رجوع کریں تو المیے بلکہ رسوائیاں ہیں، کیونکہ وہاں ایسی روایات کی بہت بڑی تعداد ہے جو خرافات، اسرائیلیات اور جھوٹ پر مبنی ہیں جنہیں کوئی عاقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ ایک معصوم امام ایسی بات کہے۔

آئیے عزیزو! ہم اہل بیت کے موروثی روایتی ذخیرے کا جائزہ لیں۔ سید محمد سعید الحکیم کہتے ہیں کہ روایات کے موروثی ذخیرے کا زیادہ تر حصہ ملاوٹ شدہ اور من گھڑت ہے۔ ہم نے یہ بات کہی ، کہتے ہیں، تاکید کرتے ہیں اور اپنی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارا بہت سا موروثی سرمایہ جو ہم تک پہنچا ہے، وہ اسرائیلی روایات سے سرایت کر کے ہم تک پہنچا ہے۔ عزیزو! میں یہ بات سائنسی اور علمی دلیل کیساتھ بالکل صاف اور واضح طور پر کہتا ہوں کہ شیعوں کی ایسی کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے جس کی مکمل توثیق امامِ وقت(امام حجت)نے فرمائی ہو۔ تمام کتابوں میں صحیح روایات بھی ہیں اور باطل بھی۔ نہ اصولِ اربعمائہ (400اصول)کی حیثیت ہے، نہ کتبِ اربعہ کی، اور نہ ہی ”کتاب الکافی” ہمارے شیعوں کیلئے مکمل طور پر کافی ہے۔ یہ تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔ ہمارے پاس موجودہ موروثی ذخیرے میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو امام حجت کے سامنے پیش کی گئی ہو اور انہوں نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس میں موجود ہر چیز صحیح ہے، اور میں کسی بھی شخص کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر ایک بھی دلیل لے آئے کہ کوئی کتاب، حتی کہ ”اصولِ کافی” بھی، اصولِ اربعمائہ کی تو بات ہی چھوڑیے، ایسی توثیق یافتہ ہو۔

میں معتبر ذرائع کا یہ کہہ رہا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات من گھڑت ہیں ”بحار الانوار” کا تو زیادہ تر حصہ ہی من گھڑت اور موضوع ہے۔ میں یہ بات دوسرے لوگوں پر اتمامِ حجت کیلئے کہہ رہا ہوں جو علامہ مجلسی کو معیار مانتے ہیں، ورنہ میرے نزدیک مجلسی علمی معیار نہیں ہیں، میں انہیں صرف روایات کا جامع (جمع کرنے والا)مانتا ہوں نہ کہ ایک محدث۔ ”تفسیر القمی” کے بارے میں میرا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ یہ ائمہ کی تفسیر نہیں۔ بھلا آپ ہی بتائیے، اللہ کیلئے کیا کوئی امام یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی ۖ زینب کے گھر گئے اور انہیں اس حالت میں دیکھا کہ نبی کے دل میں سما گئیں؟ کیا یہ نبی کی شان ہے قرآن کہتا ہے: وانک لعل خلق عظیم؟ یہ”تفسیر القمی” ہے، اس تفسیر میں شاید کچھ روایات صحیح ہوں، لیکن ملاوٹ شدہ، مسخ شدہ اور تحریف شدہ ہے، بہت زیادہ ہیر پھیر ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، چلیے عراقیوں کے محاورے میں بالکل صاف صاف بات کرتے ہیں، یہ بات ختم ہوئی کہ ”تفسیر المیزان” بھی اسرائیلی روایات سے بھری پڑی ہے، وہی ”تفسیر المیزان” جو شیعوں کے نزدیک بہترین تفسیر مانی جاتی ہے۔ ہمارے پاس ”تفسیر العیاشی” کی تمام روایات مرسل ہیں، اور ”تفسیر القمی”ہمارے نزدیک ثابت ہی نہیں۔

عزیزو! ان کتابوں سے مراد اصولِ اربعہ کے مصنفین کی کتابیں ہیں جو اصلِ فلان اور اصلِ فلان کے نام سے جانی جاتی ہیں، یہ لوگ ان کتابوں میں من گھڑت روایات شامل کرتے تھے اور ائمہ پر جھوٹ باندھتے تھے، خود ہمارے علمائِ طائفہ نے یہ نقل کیا کہ ان میں جھوٹ، ملاوٹ، تزویر، غلو اور زندیقیت تھی۔ خود اہل بیت فرماتے ہیں کہ غالیوں اور دشمنوں نے ہمارے اصحاب کی کتابوں کو زندیقیت، جھوٹ اور غلو پر مبنی روایات سے بھر دیا، جن میں مخالفین کو گالی گلوچ، سب و شتم اور لعن طعن کی روایات شامل ہیں۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ روایات ہمارے دشمنوں کی من گھڑت ہیں۔ خدا گواہ ہے، کچھ روایات ایسی ہیں جن کی نہ کوئی سند ہے اور نہ کوئی اصل، جیسے لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں: ”دعائے صنمائے قریش” اللہ کی قسم! اس کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی سند، نہ کوئی مستند اور نہ ہی کوئی مآخذ، اسے صرف جاہل اور عوام ہی پڑھتے ہیں۔

دوسری بات مصنف کی پہچان ہے، عزیزو! جب تک ہم مصنف کے فکری نظریات سے واقف نہیں ہوں گے، شیخ کلینی کو نہیں سمجھیں گے، ہم یہ نہیں جان سکتے کہ انہوں نے مخصوص نصوص کو کیوں نقل کیا اور دوسروں کو کیوں چھوڑ دیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کے پاس روایتی نصوص کی جو تعداد موجود تھی، وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھی جو انہوں نے ”کتاب الکافی” کے اصول، فروع اور روضہ میں ہم تک منتقل کی ہے۔ انہوں نے روایات کے دوسرے مجموعوں کو چھوڑ کر اسی مخصوص مجموعے کا انتخاب کیوں کیا؟ مثال کے طور پر، کلینی نے نوابِ اربعہ سے کوئی ایک روایت بھی کیوں نقل نہیں کی؟ کیا یہ ایک سوالیہ نشان ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ انکے ہم عصر تھے یا نہیں؟ وہ ان کے بالکل ہم عصر تھے۔ تو پھر ”کتاب الکافی”میں ایک بھی روایت کیوں نہیں نقل کی؟ ممکن ہے کہ دوسرے مآخذ میں نقل کی ہو، لیکن ”کتاب الکافی” میں کیوں نہیں، جو کہ شیعوں کے نزدیک مطلق طور پر سب سے اہم حدیثی مآخذ ہے؟ یہ کتاب اسلئے اہم ہے کیونکہ یہ اصول اور فروع کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ دوسری کتبِ ثلاثہ شیخ طوسی اور شیخ صدوق کی کتب، وہ صرف فروع سے مربوط ہیں، ہماری اصل اور معتمد کتاب ”کتاب الکافی” ہے۔ بعض اکابر کے دعوے کے مطابق کہ فقیہ کیلئے نیابتِ عامہ ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں کہ فقیہ تمام امور میں امام کا نائب ہوتا ہے۔ یہ نظریہ ولایتِ فقیہ ہے جس کے تحت زعامت صرف مجتہد کیلئے مخصوص ہوتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کتاب میں کوئی اصل نہیں ملی۔

آپ کہیں گے کہ ان ابحاث کو تو شہیدِ ثانی نے مرتب کیا تھا اور وہ ولایتِ فقیہ کے قائل تھے؛ جی ہاں، انہوں نے اسے مرتب کیا تھا، بہت اچھے۔ وہ اپنے استاد شہید محمد باقر الصدر کے تابع ہو کر ولایتِ فقیہ کے قائل تھے، لیکن یہ نظریہ بالکل واضح اور صریح طور پر آیت اللہ سید خوئی کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ میں ا نکے تمام کلمات کو وقت کی کمی کی وجہ سے پیش نہیں کرتا، میں صرف مآخذ کا حوالہ دے دیتا ہوں تاکہ عزیزان خود اس کا مطالعہ کر لیں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کل کو لوگ سید خوئی کی طرف وہ باتیں منسوب کرینگے جو انہوں نے کہی نہیں ہوں گی۔ میں یہ بات کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک دینی موقف اور ولایت کے اصول کے تحت کہہ رہا ہوں۔ سیاسی ولایت غیبت کے زمانے میں فقیہ کیلئے کسی خاص دلیل سے ثابت نہیں۔ اس بات پر اچھی طرح توجہ کیجیے، یہ بہت اہم ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف سیاسی ولایت فقیہ کیلئے ثابت نہیں ہے، بلکہ منصبِ قضا (عدالت)بھی فقیہ کیلئے ثابت نہیں، یعنی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قضاء کے معاملات کو سنبھالے۔ یہ مستند آپ کے سامنے ہے، میں عبارت پڑھ دیتا ہوں کیونکہ کل میں نے اسے نہیں پڑھا تھا۔ سید خوئی کا یہ مستند، جو شیخ مرتضی بروجردی کی تقریرات پر مبنی ہے، اس سے پہلے کہ میں اقتباس پیش کروں، میں یہ واضح کر دوں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قضاوت ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے غیبت کے دور میں یہ ذمہ داری فقیہ کے سپرد نہیں کی۔ شارع نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ فقیہ کی ذمہ داری نہیں۔

اب اگر لوگ خود ان کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو وہ انہیں حکم بتا سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کی طرف رجوع نہ کرے، تو کیا فقیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کیلئے آگے بڑھے؟ یہ ذمہ داری ان پر نہیں۔ یہی بات تیسری کڑی میں امام پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ کیا امام پر یہ ذمہ داری ہے؟ یہ نظریہ کہتا ہے کہ امام اور نبی پر تو ذمہ داری تھی، لیکن فقیہ پر نہیں ہے۔ ”مستند العرو الوثقی”جلد دوم میں شیخ مرتضی بروجردی، جو ہمارے استاد سید خوئی کی تقریرات ہیں، اس مقام پر کلام کا یہ خلاصہ کرتے ہیں کہ کیا امامِ دوازدہم (امامِ غائب)نے غیبت کے زمانے میں علما کو قضاوت کا منصب عطا کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی بھی معتبر لفظی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔

بے شک سید خوئی رحم اللہ علیہ کی عبارت اس سلسلے میں بہت بہترین ہے، میں عبارت پڑھوں گا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv