پوسٹ تلاش کریں

حاجی ترنگ زئی مجاہد کا تعارف

برصغیر کی تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد، روحانی پیشوا اور دینی شخصیت سید فضل واحد المعروف حاجی صاحب ترنگزئی کی ولادت1846میں چارسدہ کے تاریخی گاؤں ترنگزئی میں ہوئی، جبکہ1937میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ ایک معزز حسینی سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس کے بزرگ دینِ اسلام کی اشاعت، روحانی تربیت اور جہادِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ۔

حاجی صاحب ترنگزئی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ترنگزئی میں اپنے وقت کے معروف عالم مولانا ابوبکر اخوندزادہ سے حاصل کی، بعد ازاں مزید دینی تعلیم کیلئے پشاور کے علاقہ تہکال میں قائم مدرسہ میں داخلہ لیا، جہاں تقریباً8سال تک دینی علوم، فارسی اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ اسی دوران افغانستان، پختونخوا اور برصغیر کے ممتاز علماء سے ملاقاتوں نے ان کی شخصیت کو مزید نکھارا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ واپس اپنے آبائی گاں ترنگزئی آئے، جہاں لوگ آپ کو آپ کے بلند اخلاق، دینداری اور سید گھرانے سے تعلق کی وجہ سے احتراماً پیر صاحب اور بادشاہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد خصوصا پیر بہاوالدین المعروف نوموڑے بابا وقت کے بزرگ، ولی کامل اور مجاہد سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے اس خطے میں دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔حاجی صاحب ترنگزئی نے روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس کیلئے افغانستان کے مشہور بزرگ مولانا نجم الدین المعروف ہڈہ ملا صاحب سے بیعت کی، جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔

1877 میں آپ دینی علوم اور تحریکِ آزادی کے مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے، جہاں آپ کی ملاقات شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور دیگر جید علما سے ہوئی۔ آپ کی شخصیت، اخلاص اور پشتون طلبہ میں عزت و احترام نے علما دیوبند کو متاثر کیا۔ اسی سال آپ نے نامور علما کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، جس میں برصغیر کی آزادی کے حوالے سے اہم مشاورت بھی ہوئی۔حاجی صاحب ترنگزئی نے زندگی دینِ اسلام، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم، اور انگریز استعمار کے خلاف جدوجہد میں صرف کی۔ آپ کے خاندان نے بھی تحریکِ آزادی میں بے مثال قربانیاں دیں۔ آپ کے والد اور دادا بھی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

1896 میں آپ نے اپنے بھائی کے ہمراہ دوبارہ حج بیت اللہ کا سفر اختیار کیا، جو افغانستان، ایران اور عراق کے راستے پائے پیادہ طے کیا گیا۔ واپسی پر اہلِ بیت اطہار اور شہدائے کربلا کی زیارت کے دوران آپ کے بھائی جدا ہوگئے، جن کا بعد میں کوئی سراغ نہ مل سکا۔حاجی صاحب ترنگزئی نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے بلکہ ایک روحانی پیشوا، مصلح، معلم اور قوم کے حقیقی رہنما بھی تھے۔ ان کی زندگی قربانی، استقامت اور دین و ملت کی خدمت کی روشن مثال ہے۔حاجی صاحب کا مزار ضلع مہمند کی تحصیل صافی میں واقع ہے۔ جو گندھاب باجوڑ شاہراہ کے قریب، لکڑو بازار سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔ حاجی صاحب ترنگزئی سید فضل واحد انتقال1937میں ہوا تھا اور انہیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
ــــــــــ

قائد ملت کو کیوں قتل کیا تھا؟

قائد ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کے بیٹے نے نیا شوشا چھوڑ دیا:1951میں لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کرنے والے افغان مہاجر سید اکبر کے بیٹے نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں متعدد دعوے کئے ہیں سید اکبر کے بیٹے پی ایچ ڈی ڈاکٹر فاروق ببرک جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور عرصہ دراز تک درس و تدریس کے پیشے سے منسلک رہے ہیں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سید اکبر محمد بن قاسم اور جمال الدین افغانی کو اپنا ہیرو مانتا تھا علامہ اقبال کی شاعری سے متاثر تھا اور کشمیر کی آزادی کا خواہشمند یا متوالا تھا ، جب لیاقت علی خان نے فوج کو کشمیر میں سرنڈر کرنے پر مجبور کیا تو فوج کی اعلی صفوں میں انکے خلاف بغاوت کی ابتدا ہوئی ، کشمیر کی آزادی کیلئے متحرک میجر خورشید انور نے سید اکبر کو لیاقت علی خان کے قتل کیلئے آمادہ کیا اور بدلے میں انکی حفاظت اور مستقبل میں اہم عہدہ دینے کا لالچ دیا ، ایک ان پڑھ اور اجڈ شخص سید اکبر اس لالچ میں آگیا کہ وہ بھی بڑا لیڈر بنے گا ، چنانچہ اس نے یہ کام سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا ، لیکن اس کام کا نتیجہ اس کے حق میں اچھا نہ نکلا اور لیاقت علی خان پر گولیاں چلانے کے بعد اسکو وہاں پکڑ لیا گیا اور ایک پولیس افسر نے اس کا کام تمام کردیا ۔۔۔ (نوٹ: یہ دعوی سید اکبر کے بیٹے فاروق ببرک کا ہے ، جو امریکہ میں قیام پذیر ہیں )۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی کے غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات

قبائلی صحافی۔میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی نے ڈی سی کمپانڈ میںADFفنڈ کے تحت ہونے والی مبینہ غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :تقریباً60سے زائد نان لوکل جونیئر کلرک اور کلاس فور ملازمین گزشتہ تقریبا20سالوں سے مقامی قوم کے حقوق پر قابض ہیں۔ یہ محسود نوجوانوں سے کھلی ناانصافی، محرومی اور حق تلفی ہے۔ شاہ فیصل غازی کے مطابق بعض ایسے افراد بھی ہیں جو ریٹائرمنٹ کے باوجود آج بھیADFفنڈ سے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مقامی وسائل اور سرکاری ملازمتوں پر غیر مقامی افراد کا قبضہ نہ صرف میرٹ بلکہ انصاف کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والی نسلیں بھی اسی محرومی اور بے روزگاری کا شکار رہیں گی۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ حکام اورMPAآصف محسود سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، غیر قانونی بھرتیوں اور تنخواہوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور مقامی نوجوانوں کے حقوق بحال کیے جائیں۔ قوم کے مشران، نوجوانوں اور باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں اور اپنے حق، انصاف اور مستقبل کیلئے آواز بلند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کو باقاعدہ تحریری درخواست بھی جمع کروائی جائے گی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان
اور ہندوستان میں بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان

آئین کی بات کرینگے تو آئینی راستہ اختیار کرینگے۔ قانون کی بات کرینگے تو قانونی راستہ اختیار کرینگے۔ جمہوریت کی تو جمہوریت کا راستہ اختیار کرینگے۔ شرافت کی تو شرافت کا راستہ اختیار کریں گے۔ ہاں! اگر وہ اس ملک میں بدمعاشی کرینگے، تو ہم نے انگریز کی بدمعاشی نہیں مانی، تیرے باپ کی بدمعاشی نہیں تو تو کون ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ بدمعاشی کرے۔ بات بالکل ختم ہے جی۔ جو حکومت ملک میں امن قائم نہیں کر سکتی، اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہاں پر آ کے حکمرانی کرے گی؟ یہ کوئی ہمارے جاگیردار ہیں؟ ہم انکے ہاری ہیں ۔اس ملک کے حاکم ہیں اور جو حکومت آپ کو قوم کو تحفظ نہیں دے سکتی اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس ملک پہ حکمرانی کرے۔ اور اب تو بالکل بات کھل کے سامنے آئی ہے۔ باہر والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ کراچی کے مسئلے کا کیا حل ہوگا؟ بھائی کراچی کا مسئلہ سیاسی ہے اور سیاسی مسئلے کا حل سیاسی ہونا چاہیے۔

اگر سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کریں گے، تو ایک تجربہ اس کے باپ (بھٹو) نے کیا تھا جی۔ہم نے مشرقی پاکستان کے سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ اپنا ملک ہم نے توڑا اور اپنے فوج کو ذلیل کروایا۔ ایک لاکھ فوجی ہم نے ہندوستان کے قید میں دیے ۔ اب بھی ہم یہ کہتے ہیں ڈھائی سال تک سندھ فوج کے تحویل میں رہا ہے ۔ ہم یہی کہتے رہے کہ یہ فوج پیپلز پارٹی کی نہیں پاکستان کی فوج ہے ۔ ڈھائی سال سے ہم کہتے رہے کہ سیاسی حل ڈھونڈو ، فوجی حل سے مسئلہ نہیں حل ہوگا۔ فوج کو تنخواہ بینظیر بی بی نہیں دے رہی، یہ کوئی شخصی ذاتی نوکر زرداری صاحب کے نہیں ہے ۔ ان کو پیپلز پارٹی کو کہنا چاہیے کہ تم اپنا سیاسی جنگ خود لڑو، پاکستان کے فوج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ان کے جا کے سیاسی پالیسیوں کو جا کے وہ دفاع کرے اور اس کے لیے لڑے۔

اب بھی ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ فوج سے، رینجرز ، پولیس، تشدد ، گولی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی کے عوام کی نمائندگی کون کرتا ہے ؟ پیپلز پارٹی کرتی ہے؟ نہیں!مسلم لیگ کرتی ہے؟ نہیں!اے این پی کرتی ہے؟ نہیں! تو کراچی کے عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم ہے ۔ کچھ بھی ہوں ان کی اپنی پالیسی مگر جب تک ایم کیو ایم کو نہیں بٹھائیں گے، ان سے سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیاسی عمل میں شریک نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بات بالکل واضح ہے ۔

ایک دفعہ میں پنڈی پریس کلب میں گیا تو ایک صحافی نے کہاکہ ایک بہت ہی ایک عجیب مسئلہ اٹھا…

ضیا الحق نے بلایا اور کہا کہ بھائی اسلام میں کوئی اپوزیشن کی پارٹی نہیں کوئی حزب اختلاف نہیں صرف حزب اللہ ہے۔ اپوزیشن غیر اسلامی حرکت ہے، تو میں نے ہنس کے کہا کہ جنرل صاحب سے آج کل ہمارے ذرا تعلقات کشیدہ ہیں وہ مل نہیں رہے اور نہ ہمیں کوئی ارادہ ہے ان کے پاس جانے کا مگر خالص اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم بھی خالص اسلامی بات کریں گے۔ ایک امیر المومنین کا لڑکا یزید۔ دوسرے امیر المومنین کے صاحبزادے کا نام تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔ تو جنرل صاحب سے پوچھیں کہ یزید نے خلافت کا دعوی کیا تو حسین نے بیعت کی کہ نہیں کی؟ ۔ ایک جوان نے کہا سر داد نہ داد دست در دست یزید۔ حسین نے تو اپنا سر دیا مگر اس کی بیعت نہیں کی۔ میں نے کہا جزاک اللہ تو جا ؤکہو ضیا الحق کو کہ ہمت ہے کہ کہے کہ حضرت حسین نے جو کردار ادا کیا وہ غیر اسلامی ہے جی؟ ۔ اور اگر وہ غیر اسلامی نہیں ہے تو اس کو کہو…یہ ہمارا سر کسی آمر کے سامنے نہیں جھکا۔ تم لگے رہو تم سنت یزیدیہ ادا کرو اور انشا اللہ ہم سنت حسینیہ ادا کر کے مقابلے میں لڑیں گے۔ تو یہ جو اس طریقے سے بات کرنی تھی، ہمیں کیا پتا، ہمیں نہ پرمٹ چاہیے نہ لائسنس چاہیے نہ وزارت چاہیے نہ صدارت چاہیے۔

ہمارے صوبے میں پیپلز پارٹی کی ایز اے پولیٹیکل پارٹی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ ایک صحافی نے کہا کہ یہ ممبر بک رہے ہیں یہ جو آفتاب خان ممبر خرید رہے ہیں تو آپ صابر شاہ کو بھی کہیں کہ وہ بھی ممبر خریدے۔ میں نے کہا جی ممبر تو وہ خرید لے گا مگر اسے ایک تکلیف ہے، مسلمان ہے پیر ہے پیر زادہ ہے جی۔ اس نے کہا جی وہ کہتا ہے کہ اب تو خریدنے سے ذرا بات آگے نکل گئی ہے ۔ میں نے کہا وہ کہتا ہے میں وزیر بنا لوں گا، محکمہ دے دوں گا، گاڑی دے دوں گا، جھنڈا بھی دے دوں گا، بنگلہ بھی دے دوں گا، چلو تمہاری بات صحیح پیسہ بھی دے دوں گا۔ مگر میں کہتا ہوں اس ملک میں ایک خاتون ہے جو سچ بولتی ہے اور اس کا نام ہے نصرت بھٹو۔ اس نے کہا ہے کہ ہمارے جو پختونخواہ کے ممبر اغوا کر کے کراچی لائے تھے، میں نہیں کہہ رہا، اجمل صاحب نہیں کہہ رہے، حاجی صاحب نہیں کہہ رہے۔ نصرت بھٹو کہتی ہے کہ ان ممبروں کو انہوں نے شراب کا انتظام کیا تھا اور ان کو لڑکیاں سپلائی کی تھیں۔ تو میں نے اس کو کہا…

اس صحافی کو میں نے کہا جی وہ پیسہ بھی دے دے گا، محکمہ بھی دے گا، اگر تم ٹھیکہ لیتے ہو یہ لڑکیوں اور شراب کا تو میں ان سے بات کر لوں ۔

آپ خود اندازہ لگائیں اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو علما ء کرام کہتے ہیں جی۔ وہ ایسے معاشرے میں ایسی حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں جی۔ کیا کیا بات کہیں۔ ایک صاحب اٹھے جلسے میں کہاکہ خارجہ پالیسی میں یہ کمی ہے یہ خرابی ہے ۔ میں نے کہا جی دیکھئے وہ پرانی باتیں چھوڑیں۔ اب انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ میں نے کہا دیکھئے نواز شریف وزیراعظم نے بینظیر صاحبہ کو خارجہ امور کی کمیٹی حوالہ کی کہ تعلیم یافتہ ہیں، دنیا میں شناخت ہے ، باہر سے تعلیم حاصل کر کے آئی ہیں، تجربہ رکھتی ہیں، جب بینظیر خود آئی، تو اس نے مولانا فضل الرحمن کو خارجہ پالیسی…تو اور کیا چاہیے تو انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ مذاق ہے کہ نہیں ملک کیساتھ ؟…

ایسے آدمی کو وزارت خارجہ سونپ دو جوسکول بھی نہیں گئے اور جو اسلام کیساتھ ہو رہا ہے ۔

اقبال احمد خان اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہو گئے، کچھ تو خدا کا خوف کریں کیا ہو رہا ہے اس ملک میں ۔ ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ہمارے علما کرام جو اپنے آپ کو کہتے ہیں آرام سے بیٹھے کہتے ہیں حلوہ کھلا ؤجائے بھاڑ میں ملک بھی جائے اور اسلام بھی جائے۔ اس لیے اب یہ ذمہ داری آپ کی بنتی ہے ، قوم کی بنتی ہے ۔ کیونکہ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو ہم آپ کو اپنے کام کے لیے نہیں کہتے، خود سوچیں ان باتوں پہ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کو جو راستہ دکھائیں گے، وہ آبادی کا راستہ ہے، وہ امن کا راستہ ہے، اس ملک میں بھائی چارے کا راستہ ہے ۔

ایک دوسری ویڈیو سے مختصر اقتباسات ….ملاحظہ کریں۔

باچا خان نے انیسویں صدی کے آخری عشرے میں جنم لیا اور پیدا ہوئے۔ اس وقت کے حالات، اس علاقے کے سیاسی حالات یا سیاسی ماحول، قومی ماحول، عوامی ماحول اور مذہبی ماحول، اگر دیکھا جائے تو ہم اندازہ کر سکیں کہ باچا خان کے سامنے کونسی مشکلات تھیں۔ انگریز حاکم تھا ۔ درانی اور سکھوں کا دور ختم ہو چکا تھا ۔ افغانستان پہ انگریز اپنی حکمرانی قائم کرنے میں دو مرتبہ شکست کھا کے واپس آیا تھا اور امیر عبدالرحمن خان کو وہاں تخت پہ بٹھایا اور افغانستان کو اس نے ایک بفر اسٹیٹ کی حیثیت دی۔ اس سے پہلے سردار یعقوب خان سے اس نے جو معاہدہ ”گندمک”کے نام سے کیا تھا، جس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا، جس کی طرف کافی اشارہ ہوا ہے مقالوں میںیہ علاقے ان سے چھین کے انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے۔دلچسپی یہ تھی کہ کس طرح پر وہ زارِ روس کی اس پالیسی کو روکے جس سے وہ وسطی ایشیا میں آیا تھا۔ اس کی وہ پیش بندی کرے۔ تو اس لیے یہ درے جو افغانستان کی طرف جاتے ہیں، جیسے میرے بھائی محمود خان نے ابھی کہا کہ پختونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ کچھ حصہ افغانستان ، کچھ بلوچستان، کچھ ”یاغستان”اورکچھ ایجنسیوں کے نام اور قبائلی علاقے کے نام سے آئے، کچھ کو، کچھ حصوں کو انہوں نے ریاستوں میں تبدیل کیا اور کچھ باقی انہوں نے اپنے زیرِ اثر یہاں پر صوبہ سرحد کے نام سے ہندوستان کے ساتھ ملا لیے ۔

اس طرح سے انہوں نے اس پورے خطے کو…کیونکہ انگریز چلا تھا کلکتہ سے اور100سال کی حکمرانی کے بعد پہلی مرتبہ اس کو شکست اس سرزمین پہ ہوئی جس کو آج پختونوں کی سرزمین یا افغانستان کہا جاتا ہے ۔ اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کی قوت کو وہ زائل کرے اور زائل کرنے کا کوئی طریقہ ان کے پاس تھا ہی نہیں ماسوائے اسکے کہ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور پھر ٹکڑے بھی کیسے ، پچھلی صدی اس وقت تک پوری پالیسی کا محور ایک ہی تھا کہ روس کا راستہ روکا جائے ۔ اس وقت زارِ روس کی بات تھی، وہاں انقلاب نہیں آیا تھا مگر اس کی پیش قدمی روکنے کیلئے یہ سارے درے جو جتنے بھی ہیں، ہمارے راستے جو افغانستان کی طرف سے جاتے ہیں، یہ انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے اور آپ کو سن کے حیرت ہوگی کہ آپس میں ان کا کوئی طریقہ، تسلسل نہیں اور رابطہ نہیں رہا۔ ایک ریل درگئی تک مالاکنڈ درے کی طرف، دوسری لنڈی کوتل کی طرف ، تیسری ٹل کوہاٹ کے راستے سے اور چوتھی ٹانک کے راستے سے، مگر آپس میں ان کا کوئی رابطہ نہیں۔ کوشش ان کی یہ تھی کہ ان کو بانٹا جائے تاکہ ان کا رابطہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہے اور ایک ایجنسی کا دوسری ایجنسی کیساتھ۔یہ حکومتِ وقت کی اس وقت پالیسی تھی کہ کس طرح ہم ان پر ایڈمنسٹریشن ایسا چلائیں کہ ان کا دوسرے سے تعلق نہ ہو اور اکیلے اکیلے ان لوگوں سے ڈیل کریں مگر مقصد صرف ایک جو آج شاید زیادہ واضح ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ کیونکہ آج افغانستان کے مسئلے میں وہی پالیسی امریکہ کی ہے، وہ انگریز کی پالیسی جو آخر میں امریکہ کی جھولی میں ڈال دی کہ بھائی ہمارے بس کا کام اب نہیں رہا ۔

یہ تھا سیاسی ماحول اس وقت کا۔ پھر انہوں نے اس پورے خطے کو مختلف قومیتوں، قبیلوں میں تقسیم کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ ہر ایک کہتا ہے، کوئی وزیر ہے، کوئی کوئی ہے۔تصور ہی پختون کا انہوں نے ختم کروایا کہ میں وزیر، میں شنواری، میں آفریدی ، میں مہمند زئی ، میں یوسف زئی، میں باجوڑ کا رہنے والا ہوں۔ اسی طرح سے اگر اس سطح پر بھی ان میں اتفاق اور اتحاد کی بات ہو سکتی تھی تو اس کو بھی انہوں نے توڑنے کی کوشش کی تھی۔

میں مختصراً بتاؤں گا انگریز خود کہتا ہے، دستاویزات اس بات کی گواہ ہیں کہ یہاں پر جو پہلے خاندان ہیں ، جو خان ہے، جو ملک ہے ، ان کو ہٹاؤ، اپنے خان بناؤ، اپنے ملک بناؤ، اپنے پودے لگا ؤتاکہ وہ پودے تمہارے رحم و کرم پہ ہوں اور جب تم ان کیساتھ ایسا نہیں کرو گے تو پودوں میں جان نہیں ہوگی، یہ پالیسی ان کو ملی تھی وراثت میں۔

پھر بھی معلوم نہیں یہاں پر آج پھر اسلام اور کفر کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں انگریز کی وراثت میں یہ زمین ملی ہے، جیسے انگریز ان کا باپ ہے، میں نہیں کہتا خود کہتے ہیں کہ ہم انگریز کے وارث ہیں ۔باپ کے بغیر کسی اور کی جائیداد کس کو ملتی ہے؟۔افغانستان کے ساتھ فرنگی نے جو معاہدہ کیا تھا، وہ بھی تمہیں وراثت میں ملا ہے۔ بہرکیف، وہ پالیسی وہی وہ چلتے رہے، ملا کو انہوں نے خریدا اور خان کو خریدا، خان اور ملک کے ذریعے سے پورے معاشرے، عوامی ماحول پہ قبضہ کر رکھا تھا ۔ آج100سال کے بعد بھی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ جو ہے، وہی مذہبی ماحول کا مسئلہ ہے۔ آج بھی وہی مسئلہ ہے۔ آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں ، آج بھی کس طرح سے یعنی اسلام کو کس طرح سے ان سامراجی اور نوآبادیاتی قوتوں کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس طرح سے وہ اس وقت کیا کرتا تھا۔ تو وہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

انگریز کو ہندو سے نہیں مسلمانوں سے خوف تھا اسلئے کہ اگر پورا ہندوستان، افغانستان، ایران، ترکی ،افریقہ ،عرب ممالک اور یورپ سے مل جاتا تو اسلام پوری دنیا کی بڑی طاقت تھی۔ ہندو نے کبھی بیرونی قوت کے آگے مزاحمت نہیں کی ۔ انگریز مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتا تھا۔ مختلف ریاستوں میں بانٹ دیا۔ انگریز کے خلاف مزاحمت کرنے اور وطن کی خاطر قربانی دینے والے غدار بن گئے اور انگریز کے پروردہ ملک کے مالک بن گئے۔ انگریز نے ان کو ہم پر مسلط کردیا۔

قیوم خان کے وقت میں جب مجھے کچھ سال قید کی سزا ہوئی تو منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی۔ بچے کو زمین پر پھینک دیا اور جھولا اٹھا کر لے گئے۔

ہم پاکستان کے مخالف نہیں انگریز کیخلاف تھے مگر مملکت خداداد پاکستان نے ہمارے کارکنوںکو ننگا کرکے سڑکوں پر گھمایا اور ننگا کرکے بہو، بیٹی اور خاندان کے سامنے گھروں میں بھیج دیا۔ کرک کے ایک کارکن عبدالغفار خان نے خط لکھا کہ ہم نے ہرقسم کی سختیاں برداشت کیں، جیل کی سزا کاٹی لیکن گھر کی بے حرمتی برداشت نہیں ہوتی ۔اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ورنہ قیوم خان سے لیکر ایک ایک کو گولی مارتا۔ پولیس اور مسلم لیگ کے کارکن گھروں میں گھس عزت خراب کرتے ہیں اسلئے خود کشی پر مجبور ہوں۔ گاندھی نے کہا تھا کہ یہ معجزہ ہے کہ غفار خان نے پختون قوم کو عدم تشدد سکھائی جن کی طاقت ہے مزاحمت کرنے کی ۔ہم تو مجبور ہیں عدم تشدد پر ہم تو مزاحمت کرنہیں سکتے۔ جنرل ضیاء الحق کو میں نے کہا کہ آبائی وطن چھوڑ کر اس ملک کیساتھ تم تھوڑی وفادار ہوسکتے ہو؟۔ اگر فائدہ کمالیا تو باہر جائیداد بنالی اور ملک چھوڑ کر بھاگے۔ ہم نے یہاں رہنا ۔ہمارا یہ آبائی وطن ہے۔ آبائی وطن سے وفا نہیں کی تو اس وطن سے کیا وفا کروگے۔

تمہاری لڑائی سامراج کیلئے ہے روس سے دشمنی نہیں امریکہ سے دوستی ہے۔ چین بھی کمونسٹ ہے جس کیلئے دختران اسلام کو سڑکوں پر نچاتے ہو اور گل پاشی کرتے ہو۔

سوات سے آتے وقت راستے میں قاضی غازی کی چاکینگ دیکھی۔ جہاد افغانستان میں غازی ادھر بنا پھرتا ہے۔ یہ سب سامراج کیلئے ہے جہاد کیلئے نہیں۔ یہ گوریلا وار یہاں پر تباہی لائے گا ۔ امریکہ جینوا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن پاکستان کرتا ہے اسلئے پاکستان استعمال ہورہاہے۔
ــــــــــ

بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں

ہم لڑتے ہیں آپ سے، آئین ہاتھ میں لے کر لڑتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں ہے سر۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور دیش کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کر چل دل رو پڑے گا تجھے پشیمان دیکھ کر
صرف پارلیمنٹ چلانے میں ہر منٹ ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔2014سے لے کر2024کے سرمائی سیشن تک کل ملا کر3,300کروڑ روپے کا نقصان ہوا، کیوں؟ کیونکہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ اہم موضوعات پر بحث ہو۔ یہ اپوزیشن کا کام ہے سوال اٹھانا، اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب ہر اس انسان کو دے جس کے ٹیکس کے پیسے سے یہ ایوان چلتا ہے۔

یہ طاقت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پر بیٹھے ہیں وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

اسلئے خواب ضرور دیکھئے، لیکن خوابوں میں گھر بنا کر رہنے کی غلطی مت کیجیے گا۔آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

آج303سے زیادہ ایم پیز،2,000سے اوپر ایم ایل ایزآپ کے،21ریاستیں آپ کی ہیں۔ ہر بحث، مکالمے اور ہر بل پر بولنے کیلئے70فیصد وقت آپ کو ملتا ہے۔ میڈیا آپ کا۔ اور آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔ ہم اپنے لیڈر کا نام ایک سے زیادہ دو بار بولیں تو ہم پر روک لگائی جاتی ہے اور ٹریژری بینچ والے وہاں بیٹھ کر پارٹی کا نعرہ لگاتے ہیں اور اپنے رہنماؤں اور وزیروں کا نام جپتے ہیں، تو تب سب ٹھیک ہے سر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آپ اوور نائٹ رات کے12بجے،1بجے بلز لے کر آتے ہیں اور عام بلز نہیں سر، وہ بلز جو لوگوں کے حال اور ان کے مستقبل کے ساتھ براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ سر!ہم کریں بھی تو کریں کیا، جائیں بھی تو جائیں کہاں؟ آدھے سے زیادہ بل تو اس ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس ہو جاتے ہیں۔ سر! باہر احتجاج کرتے ہیں توFIRہو گی،EDCBIہو گی، کارروائی ہو گی، اور ایوان کے اندر احتجاج کریں تو معطل کر دیں گے۔ سر! باہر بھی بلڈوزر چلائیں گے اور ایوان کے اندر بھی بلڈوزر چلائیں گے، سر ایسا نہیں ہوتا۔الیکشن کمیشن کے بل بوتے پر لاکھوں کروڑوں ووٹرز کا نام کاٹ رہے ہیں آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔100سال سے اس ملک کو اپنا گھر، اس دھرتی کو اپنی ماں سمجھنے والے ہر دھرم، ہر برادری کے لوگوں کے عزتِ نفس کو دن دہاڑے اپنے پیروں تلے کچلنے کا کام کیا ہے آپ نے، اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔

آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے۔دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

ہم مانتے ہیں کہ ایل او پی کا صلاح کار کوئی نہیں ہے سر، لیکن وزیرِ اعظم جی کا صلاح کار بن کر ان کو ایوان میں آنے سے روک دیا یہ کہہ کر کہ خاتون ارکانِ پارلیمنٹ سے ان کو خطرہ ہے۔ سر! آپ نے تو ہمیں دیش واسیوں کے سامنے آتنگ وادی بنا دیا۔ جبکہ اصلی آتنگ وادی اس دیش میں سائیکل چلا کر گھس جاتے ہیں اور پیدل واپس چلے جاتے ہیں، آپ ان کو روک نہیں پاتے۔بھارت پر چین کی جارحیت آپ روک نہیں پاتے۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور ملک کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے، آپ اس کو روک نہیں سکتے اور ایوان میں ہم ارکانِ پارلیمنٹ کو روک کرآپ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی
31مئی2007ئ:خبریکم جون کو نشر ہوئی

اسلام میں نسل نہیں کردار اہم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا :”تم سب ایک آدم کی اولاد ہو ۔ عرب عجم، کالے گورے کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں فضلیت کا معیار تقویٰ ہے”۔

مرشد حاجی محمد عثمان نے فرمایا” میرے والد ، والدہ دونوں سید ہیں”۔ کانیگرم وزیرستان ،گومل کے لوگ والدہ کے خاندان کوسید نہیں مانتے تھے ۔دونوں خاندان مرج البحرین تھے۔ ان کے درمیان برزخ ہے جو ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے۔

کانیگرم شہر دو ندیوں کے درمیان ہے۔ ایک مردوڑ لگاڈ ”ناپاک ندی”سے مشہورلیکن ناپاک نہیں ہے ۔

ھذا عذب فرات و ھذا ملح اجاج

”یہ میٹھا خوشگواراور یہ کھارا کڑوا پانی ہے لیکن کانیگرم کے ندیوں میں نام کا یہ فرق کیوں ہے؟۔ اس میں ایک بہت بڑے زبردست راز کی بات ہوسکتی ہے۔

میرے ننھیال اور دھدیال کے خاندانوں میں ہم نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اور دو مختلف وجود کے باوجود ایک قالب تھے لیکن جب2007ء کا سانحہ ہوا تو ابھی اس کی آگ نہیں بجھ سکی تھی کہ یہ وار بھی سرد جنگ کی طرح شروع ہوگئی۔ نانا سلطان اکبر نے جٹہ قلعہ گومل سکندر مرزا کو افغان پیر شیرآغا کو کرایہ پر دینے سے انکار کیا تھا۔ جو انگریز افغان قتل کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ میرے بھائی پیرامیرالدین شاہ ایکس کمشنر بنوں نے خواب دیکھا تھا کہ جٹہ قلعہ کی مسجد میں نبی ۖ تشریف لائے ہیں اور اس میں نانا خان کو سلام دینے کا بھی فرمایا تھا۔

ڈاکٹر آفتاب نے بتایا:مولانا اشرف خلیفہ سید سلیمان ندوی نے کہا کہ ” قائداعظم محمد علی جناح1940ء سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن اس کے بعد ایک سچے پکے مسلمان تھے”۔ صحابہ کرام پہلے جوبھی تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعدعکرمہ بن جہل، ابوسفیان، ہند سچے پکے مسلمان تھے۔ میرے ننھیال والے بھی کانیگرم کی آمد سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن پھر اچھے بن گئے۔

جب2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی اور میں دوبئی منتقل ہوا تو اس کے بعد پھر سانحہ2007ء ہوگیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور ان میں مہمان بھی شامل تھے اور یہ پہلا سانحہ تھا جس پر طالبان نے معافی مانگی اور مجرموں کو کیفر کردار تک بھی پہنچانے کا کہا لیکن پھر آپریشن کی وجہ سے وہ افغانستان گئے۔

مجھے واقعہ کی صبح بتایا کہ یوسف شاہ کی بہن نے کہا کہ ”اگر گھر میں چھپایا ہے تونکالیں ورنہ گھر میں گھس کر تمہیں بھی نقصان پہنچادیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ” ہمارا یہ راز فاش نہ ہو ورنہ تو ہمیں اٹھالیں گے”۔پھر شہر یار نے خیبر ہاؤس پشاور میں بتایا:”طالبان کی میٹنگ کے ذریعے ذہن سازی کی گئی تھی کہ یہ گھرانہ بڑا ظالم ہے ۔ لوگوں کی بیویاں ،بچے چھینے ہیں”۔

میں نے17سال تک بہت باتیں سن لیں۔مجھے اصل چیز کی تلاش دو بنیادی نکات کی تھی۔ خاتون کیسے آئی اور میٹنگ کہاں اور کیسے ہوئی؟۔ لیکن دونوں چیزوں کا تذکرہ نہیں آیا۔

فیس بک پر گالیاں لکھ سکتے ہیں لیکن معقول سوال کا جواب نہیں دے سکتے؟۔ سب سے پہلے ممکنہ طور پر ڈاکٹر عبدالجباراور پیر عبدالغفار ایڈوکیٹ اور پیر حاجی عبداللطیف تینوںبھائیوں کو ملوث قرار دینے کا خدشہ سامنے آیا جس کو میں نے مسترد کردیا۔

پھر ان کے سوتیلے بھائیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے ٹھوس شواہد اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی مہم جوئی سامنے آئی لیکن وہ بھی میں نے اللہ کے فضل سے ناکام بنادی۔ کیونکہ ان کے ساتھ غیرت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں وجوہات سامنے رکھتا تھا کہ ہم سے انتقام لینے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے اسلئے کہ میٹنگ کا سراغ لگانا تھا۔ جب تک یہ کنفرم نہیں ہوجاتا کہ حقائق کیا ہیں؟ تو جن لوگوں کیساتھ ممکنہ مسائل ہوسکتے تھے تو ان سے بھی نفرت اور الزام قبول کرنے کی نوبت نہیں آئی اسلئے کہ ملزم مجرم نہیں۔ الزامات کی دنیا میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگااور بہت پاکیزہ ماحول والے صحابہ و صحابیات بھی ملوث ہوگئے۔ عاشق رسول نعت خواں حضرت حسان، حضرت ابوبکر کے رشتہ دار اور بدری صحابی حضرت مسطح، نبیۖ کی سالی حمنا تو بہتان لگانے والوں میں شامل تھے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔صحابہ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی تلقین کی گئی کہ افواہ سازی کا کام اور اسے پھیلانے سے اجتناب کرو۔

ہمارے آپس کے زمینوں کے بھی کچھ معاملات تھے اور اس پر تصفیہ کرنے اور حق داروں کو اپنا حق واپس کرنے کا بھی تہیہ کیا ہوا تھا۔پھر بیچ میں میرے بھائی پیر نثار اور کزن پیر ریاض شاہ ایکس انکم ٹیکس کمشنر کے درمیان زبانی تلخ کلامی ہوئی تو میرا بیچ میں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا پروگرام تھا کہ زبانی معاملات کا تصفیہ بھی اچھے انداز سے ہوجائے لیکن پھر محسوس کیا کہ معاملے کو جب تک تحریری طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جائے تو یہ داستان ستم کے بادلوں کے ڈیرے بڑھتے چلے جائیں گے۔

امیرالدین بھائی نے بہت ہلکا سا لیا تھا اور کہتے تھے کہ جلدی کرو لیکن مجھے پتہ تھا کہ کتے کی دم نے سیدھا نہیں ہونا ہے اور جب کوئی اتنا بے ایمان ہو کہ ایک مجلس میں اپنی لکھوائی ہوئی بات سے بھی نہ صرف مکر جائے بلکہ الٹی مہم چلائے تو اس کا ایک علاج تحریر اور اس کی تشہیر ہے اور دوسرا ویڈیو ریکاڑ د ہے۔
مجھے اصل خوف اس بات کا تھا کہ واقعہ کے پیچھے میٹنگ اور اس خاتون کی خبر کا ادارک اپنی جگہ پر رہ جائے گا اور ہم کسی بھی زبانی جمع خرچ میں الجھ جائیں گے۔ منہاج نے مجھے کانیگرم میں کہا کہ اپنے پردادا کی قبر تلاش کررہے ہو؟۔ میں نے اپنے اعصاب پر قابو پایا اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے پردادا کی قبر لدھا میں روڈ کے کنارے نظر آتی تھی لیکن تم لوگوں نے خود کو لا تعلق کردیا ہے تو ہمیں بھی اپنا جیسا سمجھ رکھا ہے کیا؟۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دوسروں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی۔ ہیں وہ کم عقل کہ یہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کی اکثریت نے مٹھی بھر کرایہ کی خاطر استعما ل والے طبقے کی مخالفت کی تھی لیکن جس کو دیکھو اس کو بس بارود سے اڑادولیکن جو پال رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں؟۔

منہاج کبھی کہتا تھا کہ ”سبحان کا گھر بیچا ہے” اور کبھی کہتاتھا ”تمہارے اجداد ہمارے اجداد کے پیچھے کمبل گھماتے تھے”۔

میرے والد نے کانیگرم کے دوست کے انکار کے بعدجس زمین کاکہا تھا کہ بیچنے اور منافع کمانے کی چیز نہیں اور کانیگرم کے لوگوں کو پلاٹننگ کرکے دیتے تو دشمن نے جس راہ سے حملہ کیا تو اس راستے سے آنے جانے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ مذہبی جذبہ سے طالبان پالتے تو ہماری روح خوش ہوتی کہ چلو بے دین لوگ بھی دیندار بن گئے لیکن جس نے ساری زندگی اجداد سے علماء ، مساجد اور مذہبی معاملات سے منافرت رکھی ہو اور وہ ایسے موقع پر طالبان کے سہولت کار بن جائیں کہ جب مجھ پر2006ء میں فائرنگ ہوئی ،میرے بچوں اور ساتھیوں کیلئے سخت خطرات تھے تو مجھے غصہ تو آتا ہوگا؟۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نانا سلطان اکبر ، اس کے بھائی سید حسین شاہ اور سیدمحمد امین شاہ اور ماموں غیاث الدین شاہ اپنی قبروں میں بھی اس بہت بڑی بے غیرتی پر انتہائی غصہ ہوں گے کہ اتنا بڑا واقعہ2007ء میں ہوگیا اور یہ بے شرم ، بے حیا اور دلے پھر بھی پالتے ہیں؟۔

ایک مجرم ہوتا ہے اور دوسرا سہولت کار۔ سہولت کار بھی جرم میں برابر شریک ہوتا ہے ۔ ایک اصل محرک ہوتا ہے اور دوسرا صرف کرائے پر استعمال ہونے والا۔ میری دلچسپی اس میٹنگ میں تھی جنہوں نے طالبان کا ایک جتھہ ورغلا کر استعمال کیا اور کچھ لوگ خوش ہوں گے کہ ہم نے اپنی بے غیرتی کا بدلہ لیا ہے تومجھے اس پر فخر بھی ہے کہ کھل کر سامنے آنے کی جرأت نہیں کی اوریہ اعزاز کی بات ہے کہ کوئی بے غیرت پھر مزید بھی بے غیرت بن گیا۔ کوئی چھپ کر واردات کرتا ہے تو یہ اس کی بزدلی، بے غیرتی ، کمینہ پن اور بے ضمیری کے علاوہ ایک امکان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے لحاظ رکھا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ کسی بات میں100احتمال کفر کے اور ایک اسلام کا ہو تو ایک اسلام والا احتمال لو اور کفر کے احتمالات کو رد کردو۔

اے این پی کے1200افرادقتل ہوئے پھر میاں افتخار حسین کے بیٹے اور تمام خاندان کے اکلوتے وارث کو بھی شہید کیا گیالیکن میاں افتخار حسین نے پکڑے ہوئے قاتل کیخلاف بھی خود مقدمہ چلانے سے انکار کردیا۔ ذاتی دشمنی بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر اپنے قریبی رشتہ دار کیساتھ۔ پھر کسی ثبوت کے بغیر؟۔ لیکن جس طرح مہک ملک ایک طرف منبر پربیٹھ کر تبلیغ کرتی تھی اور دوسری طرف ڈانس کرتی ہوئی اس کا نیکر بھی نظر آتا تھا ۔ اسی طرح دو دھاری تلوار کی طرح کچھ لوگوں نے اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کا فلیٹ میں نے اسلئے اس داستان کیساتھ چھوڑ دیا تھا کہ اکبر علی کو جہانزیب کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اگر اکبر علی کو کہانی کا تھوڑا پتہ چلتا تو وہ کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ توہین کا انتقام آدمی توہین سے لیتا ہے لیکن کاروباری لین دین میں اونچ نیچ پر تلخ کلامی کوئی توہین نہیں ہوتی ہے۔ اگر میرے بھتیجے نعمان سے کسی کو قتل کروادیتے تو یہ2007ء کا حادثہ سے بھی زیادہ مشکل ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمٰی انما یتذکراولو الالبابOالذین یوفون بعھداللہ ولا ینقضون المیثاقOوالذین یصلون ما امراللہ بہ ان یوصل ویخشون ربھم و یخافون سوء الحسابOوالذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم و اقاموا الصلٰوة و انفقوا مما رزقناھم سرًا و علانیة ً و یدرء ون بالحسنة السیئة اؤلٰئک لھم عقبی الدارOجنات عدنٍ یدخلونھا و من صلح من اٰبائھم وازواجھم و ذرّیاتھم والملائکة یدخلون علیھم من کل بابٍOسلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارOوالذین ینقضون عھداللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امراللہ بہ ان یوصل و یفسدون فی الارض اولٰئک لھم اللعنة و لھم سوء الدار O

ترجمہ :” پس کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ تیرے رب کی طرف سے جو تیری طرف نازل ہوا ہے وہ حق ہے اس کی طرح ہوسکتا ہے کہ جو اندھا ہے؟ سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں ۔ وہی لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو نہیں توڑتے اور جو لوگ ملاتے ہیںجس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضامندی کیلئے اور نماز کو قائم کیا اور خرچ کیا جو اللہ نے انہیں دیا تھا چھپ کر اور اعلانیہ اور برائی کے بدلے میں اچھائی کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کیلئے پیچھے کا گھر ہے۔ہمیشہ کیلئے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور جو ان کے اجداد میں اچھے ہوں گے اور ان کی ازواج اور اولاد بھی اور ملائکہ ہر دروازے پر ان کے ہاں داخل ہوں گے۔ (کہیں گے) تم پر سلام ہو جو تم نے صبر کیا اور کیا اچھا پچھلا گھر ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کے بندھن کے بعد اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کیلئے برا گھرہے”۔

سورہ الرعد کی ان آیات19سے25تک میں دو قسم کے افراد کا ذکر ہے۔ ایک وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو حق سمجھتے ہیں ۔ دوسرے وہ جس کو کھلے عام اندھا قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ ہیں جو صلہ رحمی کے پابند اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو صلح رحمی کو توڑتے ہیں۔ ایک طبقے کو حساب کی فکر ہے اور دوسرے طبقے کو حساب کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

یہ خوشخبری صرف آخرت کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ہے۔ عمران بن حصین نے فرمایا کہ” پہلے ہم سنت پر عمل کرتے تھے تو فرشتے راستوں میں ہم سے مصافحہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے قرآن کے نازل کردہ احکام اور سنت کی جب مخالفت دیکھی تو سب کچھ ہم سے چھن گیا۔(صحیح مسلم) حضرت عمران بن حصین نے دنیاوی کامیابیوں کو کایابی نہیں سمجھا بلکہ قرآن کے احکام اور سنت کی مخالفت کے غم میں زندگی گزار رہے تھے۔

حال ہی میں ایک پختون11سالہ بچی کا واقعہ ہوا تو اس پر ایک طرف بلوچستان کے پختون مردوں کیساتھ عورتوں نے بھی بندوق اٹھائی تو دوسری طرف پشاور کے صحافی حضرات کی آراء مختلف تھیں۔ ایک ہائی پروفائل کیس پر اتنے تضادات کی وجہ یہ تھی کہ پختونخواہ کے اس ایریا میں پرانی ویڈیوز بھی بنی ہیں جہاں پولیس نے بے غیرت مردوں اور عورتوں کو اقبال جرم بھی کروادیا تو دوسری طرف بلوچستان کے لوگوں کو اصل کرتوت کا پتہ نہیں ہے۔ ٹانک میں بھی بیٹنی قبائل کے سردار کا بڑاشاندار استقبال لوگوں نے کیا لیکن اگر ایک طرف یہ الزامات لگانے والے ہیں کہ حروم سعید کے والدین دوسری لڑکیوں کے بیچنے کا فراڈ کرتے تھے اور خود پھنس گئے اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا یقین ہے کہ بچی اغواء ہوئی تھی اور بازیاب کرنے پر اکثریت خوش ہے اور مظلوم والدین پر گھٹیا الزامات کے خلاف ہیں۔

جن لوگوں نے ایک طرف جھوٹ بولا یا سچ؟کہ فلاں لوگ ملوث ہیں اور پھر قتل کروانے کی کوشش کی اور پھر طعنے دئیے مگر پھر ان کے ساتھ مل کر لکھا کہ ”ہماری وحدت میں دراڑ پیدا نہیں ہوسکتی اور انگریزی میں بے نامی خط لکھا دیا”۔میرا دل کوہ سفید کا برفانی پہاڑ بن جاتا تب بھی اتنا ٹھنڈا نہیں ہوسکتا تھا جتنا اس بات پر ہوا کہ کون کس کو کس کے خلاف استعمال کررہاہے؟۔

نبیۖ نے سود کو70سے زیادہ گناہوں میں سے کم از کم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ دارالعلوم کراچی کا مؤقف چھپا ہوا موجود ہے کہ شادی بیاہ کے لین دین میں لفافہ سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور پھر علماء دیوبند کے متفقہ فتوے کے باوجود بھی عالمی سودی بینکاری کو زیادہ سود کیساتھ اسلام کے نام پر جواز فراہم کیا۔ ہمارے نکاح پر حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لکھنے والوں کو اللہ نے کس درجہ تذلیل کی پستیوں میں پہنچایا ؟۔ ہم تواس کا تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ اللہ اتنا مہرباں؟پھر کیا رکھوں اپنا گماں؟۔

دشمن میرے بہت ہیں کوئی ایک نہیں ہے
میں برا تو ان میں بھی کوئی نیک نہیں ہے
تیرہ افراد مہمانوں کے ساتھ ہوگئے شہید
کھاپی کے بھول جاؤ کوئی کیک نہیں ہے

جب رسول اللہ ۖ کی بعثت ہوئی تو ایرانیوں اور عربوں کی پہلی جنگ”ذی قار” ہوئی جس میں عربوں نے اتحاد کا بڑا مظاہرہ کرکے ایرانیوں کو شکست دی تھی۔ رسول اللہ ۖ کا اس میں دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن عربوں نے نبیۖ کی شہرت سن کر ”یا محمد یا منصور” کے نعرے لگائے تھے اور نبیۖ نے اس جنگ کو جیتنے کا کریڈٹ بھی لیا تھا کہ عربوں کی نبوت کی برکت سے فتح نصیب ہوئی اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ تعصبات کا نام نہیں تھا مگردنیا کی سپر طاقتوں کو مسلمانوں نے شکست دی۔

وزیرستان میں محسود اور وزیر کے علاوہ داوڑ اور برکی ہیں ۔ وزیروں کا قانون یہ ہے کہ دشمنی میں فیصلہ کرنے کے بعد پھر انتقام نہیں لیتے۔محسود وں کا قانون یہ ہے کہ کمزور طاقتور کے ساتھ وقتی طور پر صلح کرکے دیت لیتا ہے اور جب وقت آتا ہے تو پھر بدلہ اتارکر دیت واپس کردیتا ہے۔ ہمارا کانیگرم محسود قوم کیساتھ شامل ہے۔ کمزور نے طاقتور کیساتھ پریشر ڈالنے کے باوجود بھی صلح نہیں کی تو یہ کریڈٹ لوگ ہمیں دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے بدلتی ہوئی فضاؤں کو دیکھ کر طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ تیسرا یہ کہ بہت بعد میں مجھے یہ پتہ چلا کہ …

مفتی تقی عثمانی نے اس واقعہ کے بعد ہمارے خلاف اپنا فتویٰ فتاوی عثمانی جلد دوم2007ء میں چھاپ دیا تھا

اور پھر جب2022ء کو اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس کا پھر مجھے پتہ چلا۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مفتی تقی عثمانی اس درجہ بھی گرا ہوا ہوسکتا ہے ۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ غلیظ نے اپنی غلاظت کو اس طرح شائع کیا ہے تو طالبان کو دجال کا لشکر قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن سے کہتا کہ دجال سے بڑا دجال تو یہ دلا ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن خود بھی کم نہیں ہے اور جب ڈیرہ اسماعیل خان میںہمارے ساتھیوں کے پیچھے کسی اور کو آگے کیا تو مجھے الف سے ی تک سب پتہ تھا۔ نثار بھائی نے کہا کہ مولانا کے پاس جاتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ وہ سمجھے گا کہ مشکل میں سہارا لیا۔ پھر خلیفہ عبدالقیوم کے پاس گئے ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ اصل مولانا فضل الرحمن ہے اور ٹانک میں میری حمایت کرنے والے علماء کو ان کے بیانات دکھا کر دباؤ بھی ڈالا تھا اور پھر خلیفہ عبدالقیوم نے بھی اشارہ دیا۔

ضلع ٹانک کے تمام مذہبی جماعتوں کی قیادت سے تائیدملی تھی۔ اقبالنے ابلیس کا اپنی مجلس شوریٰ سے خطاب لکھ دیا:

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مرگیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق حق سے جدا یا عین ذات
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلمان کیلئے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات ومنات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے تا قیامت رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعرو تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپادے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتاہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے

ہمارا مقصد ذاتیات نہیں بلکہ درست اقدار کا قیام ہے اور درست اقدار کے قیام کیلئے معروضی اور زمینی حقائق کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی کو سگی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا اور باپ کی منکوحہ بیویوں سے شادی کرنا غیرت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ مگر پہلے جو ہوچکا بیشک یہ فحاشی، غضب کاکام ،برا راستہ تھا”۔ قرآنی آیات اور نبیۖ کی سیرت طیبہ اس پر شاہد عدل ہیں۔ نبی ۖ نے جاہلیت کے سود اور قتل کا بدلہ لینے کو ختم کرنے کا آغاز اپنے خاندان سے کیا ۔ چھوٹی بڑی سطح کی اقدارغلط تو جرم مذاق اور مفاد پرستی بے غیرتی کی جگہ کمال بن جاتی ہے اوراس قسم کاDNAبہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس وائرس کے علاج کا آسان طریقہ ایک بہت بڑا اخلاقی آپریشن ہوتا ہے جس میں اس معاشرے کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد صحابہ کرام اور عربوں کی تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔

حاجی محمد عثمان پر آزمائش کے پہاڑ ٹوٹے تو منبر پر بیٹھ کر فرمایاکہ ایک مجذوب نے مجھ سے کہا کہ تیری صفائی ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ

وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ و اقمن الصلاة و اٰتین الزکوة و اطعن اللہ و رسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرًا O (سورہ احزاب آیت33)
”اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو اورپہلی جاہلیت کی طرح سے تبرج مت کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے گند کو دور کردے اور تمہاری اچھی طرح سے تطہیر کرے”۔

عورتیں پنج وقتہ نمازمسجد میں، لکڑیاں ، پانی ، رفع حاجت اورگند پھینکنے کیلئے روزانہ کی معمولات کے مطابق گھروں سے باہر نکلتی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں طواف اور سعی خواتین و حضرات شانہ بشانہ کرتے تھے اور تبرج جاہلیة کا مطلب واضح تھا کہ10اور بیشمار شوہروں اور اپنے کمزور شوہر کے مقابلے میں طاقتور خاندان یا اعلیٰ نسل کے لوگوں حمل کروانے ، خواہش پوری کرنے اور سکون کی تلاش میں گھروں سے نکلنا معمول تھا اور قرآن اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ لاترین ثدیکن اپنی حسن نساء مت دکھاؤ کی جگہ تبرج کے الفاظ کو استعمال کیا اور مخاطب عرب کی دوسری خواتین کی جگہ امہات المؤمنین ہی کو کیا ،جس طرح نبیۖ کو مخاطب کرکے اللہ نے جگہ جگہ وعیدوں کا ذکر کیا لیکن اصل مخاطب قیامت تک آنے والے ہیں۔

حضرت مریم علیہا السلام کی عزت پر بات آئی تو قرآن نے

والتی احصنت فرجھا فنفخنا من روحنا و جعلنٰھا وابنھا اٰیة للعٰلمین O

” اور وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس بیٹے کو تمام جہانوں کیلئے نشانہ بنایا ” (الانبیائ:91) میں اسی انداز میں صاف صاف الفاظ کے اندر بچایا بھی ہے۔

یہ آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے فاطمہ، حسن، حسین،علی پر چادر تھان لی اور پھر فرمایا: اللھم ھولاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیرًا۔ ” اے انکے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،پس ان سے گند کو دور کردے ۔اور ان کو اچھی طرح سے پاک کردے”۔ ام سلمہ نے عرض کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ (یعنی اس دعا میں شامل ہوں) نبیۖ نے فرمایا کہ انت علی مکانتک وانت الی خیر۔ تیرا مرتبہ اپنی جگہ پر ہے ۔تیری میری طرف نسبت زیادہ بہتر ہے”۔

میرے بھتیجے پیر عبدالصمد شاہ کا آدھا مجذوب بیٹا محسن جب چھوٹا تھا تو میں نے جٹہ قلعہ کے اڈے پر ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ لایا۔ اس کے دماغ میں ہوگا کہ کبوتر، خرگوش یا مرغی دے رہا ہوگا لیکن جب سکول کے گیٹ کی طرف احساس ہوا تو پوچھا کہ کہاں لے جارہے ہو؟۔ میں نے کہا کہ سکول میں تو فوراً وہ رونا شروع ہوا ،میں نے بھی فوراً چھوڑ دیا کہ جاؤ۔

ام المؤمنین حضرت سلمہ یہ جان بھی لیتی کہ اہل بیت کیلئے کیا آزمائش کی دعا مانگی جارہی ہے تو آپ نے انکار نہیں کرنا تھا لیکن نبیۖ کے ساتھ جن سختیوں سے وہ گزری تھیں تو مزید آزمائشوں کی ضرورت نہیں تھی اسلئے نبیۖ نے فرمایا کہ اس آیت کی پہلی مصداق تو آپ خود بہتر جگہ پر ہیں۔ شیعہ سنی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی حلوہ بٹ رہاتھا کہ کس اہل بیت کو ملے ؟۔

ماں عائشہ نے پہلے بھی آزمائش کا سامنا کیا اور بعد میں بھی لیکن حضرت فاطمہ، حسن ، حسیناور علی کو دعا نے شامل کردیا۔

ہراساں ہراساں جو ہیں اندھیروں کی شدتیں
پھلوں کو مٹھاس بخش دیں روشنیوں کی حدتیں
قرآن کی ٹھوس آیات خلفاء راشدین کے فیصلے
حلالہ کی لعنت رہے گی اور نہ کوئی بدعتیں
ظلم کی حکمرانی رہے نہ فرقہ پرستی کی فراوانی
کافر و مرتد کے فتوے رہیں گے نہ کوئی ردتیں

میرے ننھیال والے آزمائش کے شکار ہوئے بلکہ کچھ زیادہ اسلئے کہ حسینی ہیں؟۔ مجھے اپنی والدہ اپنے والد سے زیادہ پیاری تھی لیکن سوالات کے جوابات بنتے ہیں۔ یہ سب انکے اپنے ہاتھوں کی کمائی ثابت کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز ۔ لالچ و عزت دونوں کشتی کا ایک سوار ہو تو ایک کشتی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ تھانہ پولیس،عدالت اور پشتو خالوت جرگہ سے بہتر صفائی کے طریقہ کار دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہے۔ الزام کی تردید اور اٹھنے والے معقول سوال کا تسلی بخش جواب ہے۔خدا کی لاٹھی بے آواز اور پکڑ سخت ہے،آزمائش اعزاز اور ذلت وبال ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شمس الدین شگری:فراز صدیقی-قرآن کی سائنسی تفسیر اور الحاد

ڈاکٹر فراز صدیقی کہتا ہے کہ قرآن عرب کے دیہات کے ماحول کے مطابق تھا موجودہ سائنسی دور میں اس کی تعلیمات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب نالائق لگتاہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”مستقبل میں ہم تمہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور تمہاری جانوں میں بھی ”۔امریکہ بعد میں دریافت ہوا ہے جہاں دو سمندوں کے ملنے کا دنیا میں سب بڑا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی جان میں دو بحروں کے ملنے کا کیا مظاہرہ ہے؟۔ ڈاکٹر کو جنم دینے کیلئے اس کے والدین نے کشتی شروع کردی تو یہ مرج البحرین کا مظاہرہ تھا۔قابل ڈاکٹر سمجھ سکتا ہے کہ لاتعداد سپرم کے درمیان یلتقیان جو جھگڑا ہوتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سب زندگی کے سمندر میں اپنی بقاء کی جدوجہد کرتے ہیں اور آخرکار ڈاکٹر کی جان والدین کے نطفہ امشاج میں آگئی۔

بینھما برزخ لایبغیان

اس میں برزخ کی ایسی پروٹکشن ہوتی ہے جو ایک دوسرے پر تجاوز نہیں کرسکتے۔ نہ عر ب نے دنیا کے بڑے سمندردیکھے تھے اور نہ ان کو اپنے اندر نطفہ امشاج کے اس طوفافی بحروں کا پتہ تھا۔

قرآن نے واضح کیا : خلق الانسان من علق

”انسان کو لٹکی ہوئی چیز سے پیدا کیا”۔ ایک بالکل جاہل کہہ سکتا ہے کہ والد کے عضو تناسل کی پیداوار ہے۔ جرمن کا ایک ڈاکٹر صرف اسلئے مسلمان ہوا کہ عربی میں جونک کو علق کہتے ہیں کہ انسان کو رحم مادر سے جونک کی طرح چمٹا دیا جاتا ہے کہ اتنے عرصہ پہلے قرآن کو اس کا کیسے پتہ چلا؟۔ جبکہ یہ تو بالکل جدید تحقیق ہے۔

ڈاکٹر صاحب اپنے فن میں کوئی کمال دکھا کر شہرت حاصل کریں، اگر شلوار سرپر باندھ کر بھرے بازار میں پوٹی کرنے کا شوق شہرت کیلئے پورا کرنا ہے تو پچھاڑی میں سیٹی بھی لگائیں جو خوب بجے گی اور زبردست تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسلام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکتے تو پہلے اپنے فن میں کمال حاصل کرو اور پھر اپنے فن میں کمال حاصل کرنے والوں کی رائے قرآن کی کسی آیات اور معلومات کے بارے میں پہلے دیکھ لو پھر اس کے بعد تنقید کرنے کا کوئی معیار بھی بن جائے گا۔

سورہ فرقان میں بشر کو پانی سے پیدا کرنے اور نسب اور صہر دونوں رشتوں کی بات ہے۔ اگر اپنے فن میں کمال حاصل ہوگا اور پھر قرآن کی طرف آؤگے تو اپنا فن بھی زیادہ سمجھ میں آئے گا اور قرآن بھی۔ لیہ پنجاب میں ہمارے بیالوجی کے استاذ حضور بخش تھے۔ بیالوجی میں زندگی شروع ہونے کا تضاد تھا اور میں نے اعتراض کیا تو بعد میں نصاب سے وہ سبق ہی نکال دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غیرمتبرجٰتٍ بزینةٍ : تفسیربا تصویراورغامدی کی تقدیر

امریکہ نوازسمگلر اشرف پہلوی پر بلال غوری کا پروگرام۔2سو عاشقوں اور ذوالفقار علی بھٹو سے ناجائز تعلق۔3شادی میں ناکامی اور بیک وقت کئی افراد سے جنسی تعلق تھا ۔ جمائما کے بوائے فرینڈ زاور پھر شادی کا اشرف پہلوی کیساتھ موازنہ ہوتو فرق ہے ۔بیک وقت زیادہ افراد سے تعلق خطرناک ہے۔ قرآن ھدی للناس سبھی کیلئے ہدایت ہے اور ہدایت جبری نہیں ہے بلکہ آزادی کیساتھ دل ودماغ و کردار کی ہدایت ہے۔ اسلام ایکسپائرہوچکا ہے یا پھر تحریف کے بغیرچل سکتا ہے؟۔

شدت پسندی کو روکنے کیلئے اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کی تصاویر چھاپ دیں تو سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا ”ٹانگوںمیں بڑی جاذبیت ہے”۔گاڑی کی لائٹ جیسے ڈم اور تیز ہوسکتی ہے۔اللہ نے نظریں ڈم رکھنے کا حکم فرمایا۔

4سوسال پہلے مغرب سیکولر ازم بنی آدم کو ننگا کرنے کا ابلیسی نظام لایا تھا تو عرب وعجم ، مشرق ومغرب محفوظ نہیں رہ سکے ۔

اوزاعی نے نکاح سے پہلے عورت کا پورا جسم شرم گاہ کو چھوڑ کر دیکھنا جائز قرار دیا۔ ابن حزم نے شرمگاہ کوبھی جائز قراردیا۔

یایھا النبی قل لازواجک و بنٰتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین

”اے نبی اپنی ازواج، اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں یہ معمولی ہے تاکہ پہنچانی جائیں اور ستایا نہ جائے”۔

تاکہ گاہک تلاش کرنے والیوں سے امتیازی پہچان رہے۔

وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زنیتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن

” اور مؤمنات سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے حسن النساء کو نہیں دکھائیں مگر جتنے دکھ جائیںاور اپنے سینوں پراپنے دوپٹوں کو لپیٹ لیں”۔

جاویدغامدی نے کہا کہ ”شرمگاہ کی حفاظت نیم برہنہ لباس ہے۔ پردہ کی احادیث من گھڑت اور ہندوستانی کلچر ہے” ۔دوپٹے کا حکم نہیں دکھتا شرمگاہ کی حفاظت سے برہنہ کرنے پرپٹہ لگانے کی ضرورت ہے۔

بیوہ و طلاق شدہ بیگمات ایگریمنٹ والی اوروقتی متعہ والی۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم… فما استمتعتم بہ منھن

”اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو …جن سے تم فائدہ اٹھالو ”۔ ( النسائ)

بیواؤں اور بگڑی لڑکیوں کاجائز حل بگاڑ کا بڑھتا ہوا رحجان ختم کرسکتاہے۔ معاہدے کے بغیر چھپی یاری اور کھلی فحاشی کے بھیانک انجام کو سوشل میڈیا روز دکھارہاہے۔

مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ” قرآن معنوی تحریفات کا شکارہے”۔ ایرانی متعہ والی کنواریوں سے سعودیہ کی مسیار والی طلاق شدہ وبیوہ بیگمات نکاح کیلئے بہت زیادہ بہترہیں۔

ومن لم یستطع منکم طولًا ان ینکح المحصنات المؤمنات فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المؤمنات واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعضٍ فانکحوھن باذن اہلھن واٰتوھن اجورھن بالمعروف محصناتٍ غیر مسافحاتٍ ولا متخذات اخدان فاذااحصن فان اتین بفاحشةٍ فعلیھن نصف ما علی المحصنات من العذاب ذٰلک لمن خشی العنت منکم وان تصبرواخیرلکم واللہ غفور رحیمO

”اورجو بیگمات سے نکاح کو نہیں پہنچتا تومؤمنات معاہدہ والی لڑکیاں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے ۔تم آپس میں ایک ہو۔ پس نکاح کرو انکے سرپرستوں کی اجازت سے اور ان کو انکا حق مہر دو معروف طریقے سے نکاحی بندھن میں لاکر نہ شہوت رانی اور نہ چھپی یاری ۔پس جب نکاح میں لاؤ تو اگر وہ فحش کریں تو ان کی عام شادی شدہ کے مقابلے میں آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں مشکل سے ڈرے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے ” ۔ سورہ النسائ:آیت:25)

متعہ والی دوشیزہ سے مجبوری میں نکاح مگر کمتر نہیں سمجھیں اور سزا عام عورت سے نصف اورمشکل نہ ہوتو معافی ہی بہترہے۔

ایرانی سعودی متعہ ومسیار سے افغانی بکنے والی بچیاں زیادہ خطرناک ہیں۔ پاکستانی جسم فروشی ، جبری اڈے بدترین ہیں۔ ہم جنس پرستی میں لڑکوں کو رکھنا لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہے۔ مردہ ضمیروں کی کثرت سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

لڑکے کو لونڈابازی کی جگہ اس کی بہن کو رکھنا بہتر اسلئے تھا کہ مرد کو بدفعلی کی علت ہو تو معاشرہ ضمیر چھوڑ مشین بن جاتا ہے اور ضمیر نہیں رہتا تو ظلم کی ہرحد پارکرنے میں بیباک بنتاہے۔

قرآن،لغت، حدیث ،فقہ کی تطبیق نہیں آتی ۔ عورت کو سینے پر دوپٹے کاحکم آیا تو برصغیرعمل پیرا تھا مگر جاویدغامدی اسلام دشمنی میںپہلے جلتارہا، بھڑاس نکالی تو ننگا ہوا۔

ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکی لایعلم بعد علمٍ شیئًا

”اور تم میں سے وہ بھی ہے جو رذیل ترین عمر کو پہنچا،تاکہ علم کے بعد کوئی چیز نہ سمجھ سکے”۔

This is Javed Ghamdiaa

عیسی بغیر والد معزز ، غامدیہ سنگسار۔ ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر وہ بے اصل ” ۔ولید بن مغیرہ بنی اسرائیل جعلی قریشی بنا۔

حرم میں حبشی گریبان سے بریسٹ نکالے دودھ پلاتی ہیں مگر دھیان نہیں جاتا تو بڈھی میں کیا؟۔ حسن نساء برہنہ کرنا منع، گھر میں قمیص اور اجنبی سے دوپٹہ لپیٹنا۔ غیر مسلم مخاطب نہیں ۔ مقامات الحریری میں دوسیب، عربی لٹریچر میں فتونھااسکے فتنے اور نبیۖ نے فتنہ النساء سے پناہ مانگی تو وہ یہی فتنہ ہے۔ باقی فتنوں میںمرد عورت برابرہیں۔

ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

واضح مگر ترجمہ معنوی تحریف ہوئی۔ لڑکے لڑکی کے درمیان یہی فرق ہے۔ لڑکے کیساتھ10شیطان اور لڑکی کیساتھ ایک شیطان کا ذکر ہے لیکن یہی چیز بڑا فتنہ ہے۔

عورت نے کہا:تمہیں چارشادی اورہمیں؟۔ مفتی محمود نے کہا:”تم20کرلو، حکم قرآن ماننے والوں کیلئے ہے ”۔ اجتہاد کے نام پر تحریف کفر ہے۔ قرآنی تعلیم مذہبی طبقے، عوام ، حکمران طبقہ اور دنیا تک پہنچانا فرض ہے۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ کی بنیاد علامہ بنوری نے تقویٰ پر رکھی۔ حضرت ابراہیم واسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر پر دعارحمة للعالمینۖ کی بعثت کیلئے فرمائی۔

قرآن مشرقی نہ مغربی اور نہ تہذیبوں کا تصادم بلکہ اعلیٰ و ادنیٰ معیارات کے ذریعے دنیا میں مثالی توازن کو یقینی بناتا ہے۔پھر سب سے بڑھ کراصلاح معاشرہ کیلئے ہمہ وقت رو بہ عمل ہے۔ تہذبوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ بڑا اعتدال و توازن ہے۔
ــــــــــ

وزیرستانی مورچے اور آیات کی زبردست تفسیر

کانیگرم میں ہمارے گھر کے بالا خانے کی چھت پر دوپکے مورچے اس کابڑا حسن بھی تھے۔

تبارک الذی جعل فی السماء بروجًا

”برکت والا جس نے آسمان میں بروج بنائے” مجاہد نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مورچے جس میں حفاظت کرنے والے رہتے ہیں”۔

اینما تکونوا یدرککم اللہ الموت ولوکنتم فی بروج مشیدة

ٍ ”جہاں بھی تم ہو،موت تمہیں پالے گی ،اگرچہ تم بلند وبالا پختہ مورچوں میں ہو”۔ (سورہ النساء آیت78)

دوبئی میں برج العرب ہوٹل ہے۔ عورت کے برج ”حسن النساء ” ہیں۔ جاہلیت میں زیادہ تعداد میں شوہروں کی تلاش میں عورت اپنے حسن النساء کو کھلا رکھتی تھی۔ جس کی جاذبیت میں اس کے گاہک بڑھ جاتے تھے۔ قرآن کایہ حکم صدرٹرمپ وغیرہ کو آج بھی بالکل قابل قبول ہوگا۔

ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی

”اور حسن النساء کی نمائش نہ کروپہلی جاہلیت کی نمائش ”
اسلام میں عورتوں کیلئے دو طرح کا لباس ہے۔ ایک میں مکمل کپڑے اور سینے پر اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ لپیٹنا اور دوسرا لونڈی ، متعہ اور مسیار والی عورت کا لباس ہے جو نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں ،وہ مردوں کی طرح ٹانگیں ،کاندھے، پیٹھ ، پیٹ ننگے لیکن حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر ۔

والقواعد من النساء الّٰتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO

”اور قواعدعورتوں کے حوالہ سے جو نکاح کی امید نہ رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتاریں اپنے حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر اور اگروہ پاکدامن رہیں تو ان کیلئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ سنتا جانتاہے”۔

1948ء میں اقوام متحدہ نے غلامی کو ختم کیا۔ غلامی کی فیکٹری جاگیرداری اورمارکیٹنگ سود کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ۔متعہ ومسیار کا اسٹیٹس لونڈی و غلام والا نہیں معاہدے والا بنایامگر نکاحی حقوق نہیں۔ ام ہانی سمیت بدر الدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکر کیا، متعہ ومسیار والی امہات المؤمنین نہیں۔ ” ہدایہ” میں مالکی و حنفی مسلک میں وقتی نکاح کا اختلاف ہے ۔ قرآن نے نکاح اور معاہدے کے قوانین کو واضح کیا۔تین افرادکی گرل فرینڈماہ نور کا ایک کوقتل کرنا المیہ ہے۔ حملہ آورشیطانی تہذیب کا مداوا اسلام ہے۔جاویداحمد غامدی نے قرآن سے من گھڑت طاغوت کا حکم اخذ کیا ۔تحریف کفر ہے ۔ احکام کی وضاحت سے مسلکی اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا اور پوری دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کوجبر کے بغیر دل وجان سے قبول کرے گی۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندو کی آنکھ سے بڑے انقلاب کی تصویردیکھ!

ہندوستان کی مشہور شخصیت ڈاکٹربربیل کے انکشافات:
ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی اور بدبو آ رہی ہوگی۔ پیاس لگی ہے، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے پڑے ہیں، کیا آپ ایسا پانی پی پائیں گے؟یہ سونامی تو کچھ بھی نہیں۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ آنیوالا وقت، میں نے پچھلی بار کہا تھا،2026سے شروع ہوگا۔ شروعات دیکھ چکے ،2028تک یہ زور پکڑے گا۔ جب میں نے پہلے بولا تھا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا تھا۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر ہے، لوگ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے قیمت بتائی ہے۔ اب اوپر والوں کی پلاننگ سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ہے، جس کا نام ٹرمپ ہے، بنیادی طور پر اس کا تعلق خلائی مخلوق (ایلینز)سے ہے۔

مرد:روس، یورپ اور امریکہ کے جو حالات ہیں، انہیں دیکھ کریہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ عالمی جنگ (ورلڈ وار) چھڑ سکتی ہے۔ آپ نے پہلے بھی بتایا تھا کہ آنے والا وقت صحیح نہیں ہے، گھر میں کچھ راشن رکھ لو، پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ میم، کیا آپ اس موضوع پر ہمیں کچھ مزید بتانا چاہیں گی؟ ۔

خاتون:ہاں، تو کیا آپ لوگوں نے پوجا پاٹ (عبادت)کرنی ہے؟ مجھے کئی لوگوں کے بڑے مضحکہ خیز سوالات ملتے ہیں کہ میم، کیا ہم کچھ دان صدقہ کر کے اپنے گناہ معاف کرا سکتے ہیں؟، میرا ایک کلائنٹ جسے بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں، تو وہ کہتا ہے کہ جی ہم ان سے معافی مانگ لیں گے۔ میں نے کہا اچھا!کسی کے بچے کو تم قتل کر دو، کسی کی بہن بیٹی کی عصمت دری کر دو اور کہو کہ معافی مانگ لیں گے، تو ٹکڑے تو میں ہی کر دوں گی اس کو پکڑ کر۔ یہ جو آپ کی سوچ ہے نا کہ گناہ کر کے معافی مانگ لیں گے، ایسا نہیں ہے۔ سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وقت طاقتور ہے؟ نہیں، بلکہ تقدیر اور آپ کے اعمال طاقتور ہیں۔ اور اعمال کے حساب سے۔

جو ابھی آپ نے سوال پوچھا تو مجھے یہ بتائیں کہ امریکہ نے دنیا کو اب تک دیا کیا؟ ،پوچھنا چاہتی ہوں۔ بھارت میں تھوڑے سے پیسے بڑھے تو بھاگو امریکہ، بھاگو کینیڈا۔ انکے بلائے ہوئے نوکر ہی تو ہیں آپ لوگ؟۔ پہلی بار2008میں گئی تھی تو حیران رہ گئی کہ یہ کیا ہے؟ ۔ جتنے بھی آپ امیر کہتے ہو، وہاں سب نوکری کرتے ہو۔ آپ ان کے ملازم ہو کیونکہ پہلے ایک ڈالر یہاں50کا ملتا تھا اب90روپے کا ہو گیا ہے۔ اسکے گناہگار کون ؟ ہم لوگ؟ ہماری حکومت؟ جتنا پیسہ بھارت میں لوگوں کی تعلیم پر لگا دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں، ہمیں باہر نہ جانا پڑے۔جتنے بھارتی باہر ہیں وہ واپس آ جائیں تو ان ممالک کا بھٹہ بیٹھ جائے، ورکر نہیں رہیں گے۔ فیکٹریوں میں کام کون کرتا ہے؟ کیب کون چلاتا ہے؟ آپ لوگ۔ تو آنے والے وقت کا میں نے بولا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا۔ کچھ نے ایسی بات کی کہ میں ہنس پڑی کہ کوئی بات نہیں یار، ان کی عقل اتنی ہی ہے ۔

مجھے سب سے پہلے یہ بتائیں امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ میں امریکہ سے شروع کر رہی ہوں۔ کیا دیا؟ بندوقیں؟ لڑائیاں؟ میزائل؟ ایک ملک کو دوسرے سے لڑایا۔ اب اوپر والوں کی گیم دیکھ لو۔ یہ تو یہاں کی باتیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں، لیکن اصل تصویر کسی کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی؟ اصل کہانی کہاں ہے؟ روحانی علم (آدھیاتمک گیان)آپ کو کتابی علم میں نہیں ملے گا۔ جو کتابیں پڑھتے ہو، ڈگریاں لیتے ہو، پی ایچ ڈی کرتے ہو، وہ صرف آپ کی نوکری کیلئے ہیں۔ کہتے ہیں ”جب آنکھ کھلے تبھی سویرا” یہ کہاوت سنی ہو گی؟۔ تو جن کی تیسری آنکھ کھلی ہے یا جنہیں وجدان ہوتا ہے، آنے والے وقت کا احساس ہو جاتا ہے۔ بہت لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ میم! ایسا خواب آ رہا تھا، یہ ہو رہا تھا، اور وہ سب آنے والے وقت کے بارے میں ہے۔ یہ جو امریکہ میں ابھی بندہ بیٹھا ہوا ہے جسے آپ پاگل کہتے ہو، ٹرمپ۔ ٹرمپ تاش کے کھیل کا لفظ بھی ہے۔ دوسری بار کیوںبنایا گیا؟ یوٹیوب بھرا پڑا ہے کہ پاگل ہے، حرکتیں اور ایکشن بھی پاگلوں والے ہیں، ہے نا؟ سچی بات گہرائی تک کوئی نہ جائے گا، میں بتاتی ہوں۔ امریکہ نے پوری دنیا کو لڑایا اور نفرت پھیلائی۔

اب اوپر والوں کی منصوبہ بندی سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ۔ اس کا خلائی مخلوق سے تعلق ہے، یہ کم لوگوں کو معلوم ہے۔ خلائی مخلوق نے کچھ لوگ قبضے میں رکھے ہیں،ان کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اسے ڈیوٹی دے دی گئی کہ ”چل امریکہ کو تو ختم کر”۔ یہ اوپر والے کھیل رہے ہیں۔امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ وہ کہتا ہے ”چل اب ٹرمپ کو بھیجو بنا کر”اور اس کا مقصد اسے خود ابھی نہیں معلوم کیونکہ وہ انسانی جسم میں آیا ہوا ہے۔ وہ اپنا پورا کام کر کے جائے گا تو شاید شاباش مل جائے، اگر نہیں کرے گا تو وہ انجام جیسے ایبسٹین فائل کی کہانی سنی ہے نا؟ پھر تمہاری کہانی پوری ہو جائے گی تو قربانی کا بکرا بنے گا۔ ایران کیوں نہیں ڈر رہا؟ آپ ”مسلم مسلم”کرتے ہو لیکن یہ بھول جاتے ہو کہ سب کا مالک ایک ہے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے، اس کی نظر سے کوئی بچا ہوا نہیں۔

آنے والا وقت کا پچھلی بار کہا تھا2026سے شروع ہوگا۔2028تک یہ زور پکڑے گا، کوئلے والی ٹرین چھک چھک کر کے آہستہ چلتی تھی پھر رفتار پکڑتی تھی۔ رفتار2028کے بعد پکڑے گی اور یہ2032تک مسلسل بڑھتی جائے گی۔ میرے پاس جو معلومات ہیں میں اسی کی بات کر رہی ہوں، میرے پاس علمِ نجوم یا علمِ اعداد جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔2032کے بعد سے2038تک آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہوگا۔ وہ بدترین دور ہو گا، تباہی تو2032تک ہو گی لیکن32سے38تک کا وقت ناقابلِ برداشت ہے۔ ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی، بدبو آ رہی ہوگی۔ آپ کو پیاس لگی، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے ہیں۔ کیا آپ وہ پانی پی پائیں گے؟28سے32کے درمیان یہ سبھی ہونے والا ہے۔

سونامی تو کچھ بھی نہیں ۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ پچھلی بار کہا تھا کہ خلائی مخلوق وہاں کام کر رہی ہے، پوری منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ یہ تو ہمارے لیے الگ الگ ممالک ہیںلیکن انکے حساب سے یہ ممالک نہیں بلکہ زمین کے حصے ہیں۔ کس کو تقسیم کرنا ہے، مارنا ہے؟ اور وہ حکم کے پابند ہیں، ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ لاکھ کوشش کر لیں، کچھ نہیں کر پائیں گے۔ بہت سے لوگوں نے پوچھا کہ”بچیں گے کیسے؟”تو ان سے میری بات ہوئی تھی، وہ کہتے ہیں وہی جو میں نے پچھلی بار بھی کہا تھا پھر کہہ رہی ہوں، بار بار ہاتھ جوڑ کر عرض کر رہی ہوں کہ اسے سمجھو۔ جو روحانی علم میں بے غرض خدمت کر رہے ہیں۔

آپ نے چھ مہینے کا راشن پانی جمع کر لیا، لیکن آپ کے نوکر کے گھر میں کھانے کو نہیں تو کیا ان سے پوچھا ؟ گیس کی مثال لیں، قلت ہوئی تو ورکرز کے گھروں میں، میرے ہاں کام کرتے ہیں، کئی کے پاس سلنڈر نہیں تھے۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر وہ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے مانگے ہیں۔ بتائیں یہ کل یگ نہیں تو اور کیا ہے؟ اعمال تو یہاں بن رہے ہیں۔ ایک ہزار روپے کا سلنڈر چار ہزار میں دے رہے ہیں، دو ہزار سے کم پر تو آپ بات ہی نہیں کر رہے۔ چار ہزار کی بات تو مجھے ہضم نہیں ہوئی، وہ کہنے لگا چار ہزار روپے لے آ، تین ہزار کادوں گا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے پاس ہے؟ میں نے کہا پڑا ہے لے جا۔ میرے پاس تو الیکٹرک چولہا بھی ہے، اس پر کام کر لوں گی، ابھی آدھا سلنڈر ہے، کام چل جائے گا۔

آپ اعمال کہاں کرتے ہیں؟ جو بے غرض خدمت کر رہا ہے اس کا حساب کتاب اوپر لکھا جا رہا ہے اور وہ اعمال کے بدلے کٹ جائے گا۔ پوجا پاٹ یا مندر میں چڑھاوا چڑھانے سے اعمال کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ ہون کروانے سے بھی برے اعمال نہیں کٹیں گے، چاہے جو مرضی کوشش کر لیں۔ اگر کسی ذاتی مقصد کے بغیر خاموشی سے صدقہ و خیرات کر دی، ادھر ادھر نہ دیکھا، تو یہ ہوتا ہے اصل صدقہ۔ اگر دیکر بتا ؤگے تو کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں، لوگوں کے سوال آئے کہ میم !پھر کیا کریں؟ مرنے سے کیوں ڈرتے ہو بھائی؟ روح تو امر ہے آج نہیں تو کل جانا ہی ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ چلو اسے تکلیف نہیں اٹھانی پڑی۔ لیکن مجھ سے پوچھ کر دیکھو ان روحوں کے بارے میں جو ہوا میں بھٹک رہی ہیں جنہیں تانترک نے اپنے بس میں کر رکھا ہے۔ وہ چھٹکارا چاہتی ہیں لیکن نہیں مل رہا کیونکہ ان کے پچھلے اعمال ہی ایسے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا کیا تھا تو نے؟ وہ کہتی ہے کہ میرے بھائی کا قتل کیا تھا۔سیشن کر رہی ہوں وہاں سے وہ ہستی بول رہی ہے جو ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ پوچھا کہ کب کی بات ہے؟ تو جواب ملتا ہے1406۔ میں آپ کو کس کس کی کہانیاں سناں؟ سب گندگی سے بھرے پڑے ہیں اور یہ اعمال کی گندگی ہے۔

ارے صبح اٹھو نہ، رات کو سونے سے پہلے اپنا آئینہ دیکھو کہ سارا کیا کیا؟ اس قابل ہوں کہ خدا مجھے گلے لگا لے؟ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیار نہیں کرتا۔ سوچیے خود اپنی نفرتوں کے سبب اکیلے رہ گئے۔ ایک کیس میرے پاس آیا، پوچھا کہ کتنی گرل فرینڈز ہیں؟ بولا ابھی ایک ہے، پہلے چار تھیں۔ تو جب اس کا سیشن کیا تو پتہ چلا کہ پچھلے جنم میں وہ کسی کا بھائی تھا، کبھی باپ، کبھی نوکر، کبھی ڈرائیور۔ جو ہسٹری نکلی چاروں لڑکیاں جو اسے چھوڑ کر گئی تھیں، یہ وہی تھیں جن کیساتھ پچھلے جنم میں کچھ کیا تھا، اگلی ویڈیو اس پر بناؤں گی۔ تب تک کیلئے اپنا آئینہ دیکھیں نمسکار،شری رام…
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولی رحمانی انسانیت کا ہیرو

ولی رحمانی عمر27سال ہے۔ اسٹینڈر کا سکول ہندوستان کے بنگالی مسلمان غریب بچوں کیلئے بنایا ہے۔جس میں700طلبہ وطالبات ہیں۔ ولی کامل کا سنا ہوگا تو مسلمان کامل کو اگر سننا ہے تو ارفع خانم خاکوانی کے چینل پر ولی رحمانی کو سن لیں۔ اقلیتی برادری مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیساتھ ہندو کیلئے بھی مثبت انسانی سوچ بہت ہی اعلیٰ درجے کمال کی بات ہے۔ ان کی باتیں پیرکامل کی طرح سن لیں ۔پھریہ سوچ ہندوستان ، پاکستان، افغانستان ، ایران، عرب، عالم اسلام ،عالم انسانیت میں پھیلائیں۔ ولی بھائی نے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی شکل میں جانور ہیں ۔ مسلمانوں کو قرآن وسنت اور غیر مسلموں کو قرآن کے بغیر اچھا انسان بنانا ضرورت ہے۔ غریبوں سے غریبوں کیلئے10دن میں10کروڑکا چندہ کیا۔ ٹرمپ، مودی اور غامدی میں جانور وںکی جھلکیاں نظرآتی ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :

ولا تنحکوالمشرکات حتی یؤمن ولامة مومنة خیر من مشرکةٍ ولو اعجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا ولعبد مؤمن خیرمن مشرکٍ ولو اعجبکم اولئک یدعون الی النار واللہ یدعوا الی الجنة و المغفرة باذنہ و یبین ایاتہ للناس لعلھم یتذکرون O

ترجمہ:” اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔اور مؤمنہ لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے گو وہ تمہیں بھلی لگے۔ اور مشرک مردوں سے نکاح مت کراؤ یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بھلا لگے یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اپنی اجازت سے۔اور اپنی آیات کو واضح کرتا ہے لوگوں کیلئے ہوسکتاہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں”۔ البقرہ:221

مشرکوں سے نکاح منع کیا، حتی کہ ایمان لائیں۔ مشرکوں کے مقابلے میں غلام ولونڈی کو خیر قرار دیا بھلے وہ پسند ہوں اسلئے کہ مشرک آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر لونڈی بغیر نکاح کے بھی جائز ہے تو نکاح کی کیا ضرورت؟۔ جس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف لونڈی سے نکاح کا حکم ہے بلکہ اس کو اور غلام کو آزاد مشرک کے مقابلے میں بہتر بھی قرار دیا گیا ہے۔

جاویداحمد غامدی کہتا ہے ” آج ہیرہ منڈی کی عورتوں سے نکاح کا حکم ہو تو کوئی کرلے گا؟۔ لونڈیوں کی اس وقت یہی حیثیت تھی۔ ان کو بہت بری طرح سے استعمال کیا جاتا تھا”۔ حالانکہ سورہ نور میں واضح ہے کہ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے”۔ مشرک یا مشرکہ کیساتھ نکاح کو روکنے کی وجہ بھی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ جیسے مشرکوں میں اچھے کردار کے مرد اور عورتوں کا وجود تھا جو بدکار نہیں تھے ویسے غلاموں اور لونڈیوں میں بھی دونوںقسم کے لوگ معاشرے میں موجودتھے۔

سورہ بقرہ کی اس آیت221کے بعد جتنی وضاحتیں طلاق ، رجوع اور عورتوں کے حقوق سے متعلق ہیں اگر غامدی کے ترجمہ قرآن کو دیکھا جائے تو لگے گا کہ اس نے بھینس کی طرح بھوسہ اور کھل کا بھاڑہ کھایاہے یا روٹی ضائع کی ہے کہ اتنی موٹی موٹی وضاحتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں؟۔ علماء کو تفاسیر، مسلکی و فقہی اختلاف سے قرآن کے متن کیلئے فرصت ہی نہیں ملتی ۔

قرآن نے مسلمان کومشرکوں سے نکاح کو منع کیا لیکن حرام نہیں قرار دیا جبکہ زانی اور زانیہ سے نکاح کو حرام بھی قرار دیا۔ علی کی بہن ام ہانی اولین مسلمانوں میںتھیں لیکن ہجرت نہیں کی اور اس کی وجہ سے موجودہ دور کا مذہبی طبقہ ان پر حرام کاری کے فتوے لگا سکتا تھا لیکن اللہ اور اسکے رسولۖ نے نہیں لگایا۔

وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم O

(سورہ النور:آیت:32)ترجمہ:” اور نکاح کراؤ اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ اوربا کردار غلاموں کا اور لونڈیوں کا۔ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو مالدار بنا دے گا اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والابہت جاننے والا ہے”۔

عام طور پر لوگ صالح سے مراد نیک لیتے ہیں لیکن نیک اور صالح میں بہت فرق ہے۔ نیکی کو ”بر” کہتے ہیںاور صالح کے معنی کردار کی درستگی ہے۔ وہ بیوہ ، طلاق شدہ، غلام اور لونڈی جو بدکاری اور جنسی خواہشات کی بیماری کا شکار نہیں ہوں تو معاشرہ ان کے نکاح کرانے کی کوشش میں اپنا فریضہ ادا کرے۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ ان کو امیر بنادے گا۔ ایک مالدار آدمی نے جنسی خواہش کیلئے لونڈی رکھی ہے تو جب وہ نکاح کا متبادل ہو تو پھر نکاح کرانے کا کیا مطلب ہوا؟۔ لونڈیوں سے جنسی تعلق کی اسلام نے کوئی اجازت نہیں دی ہے۔ پھر اس کا نکاح کرانے کا حکم کیوں ہوتا؟۔ عربی کے کچھ الفاظ کے کئی معانی ہوتے ہیں جن سے سیاق وسباق کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ کیا مراد ہے؟۔ فقہی اختلافات میں غلو کرکے اسلام کا حیلہ بگاڑ دیا گیا ہے۔

لفظ محصنات کے بھی کئی معانی ہیں اور ماملکت ایمانکم کے بھی کئی معانی ہیں۔ عبد اور عباد کا تعلق بندگی اور غلامی سے ہے اور اس کی اللہ کے علاوہ اجازت نہیں ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے غلام اور لونڈیوں کے وہی نام ذکر کئے جو رائج تھے۔

ولیستعفف الذین لایجدون نکاحًاحتٰی یغنھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتاب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرًا واتوھم من مال اللہ الذی اٰتاکم و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO (سورہ النور:آیت:33)

اللہ نے پہلے بیوہ وطلاق شدہ اور غلام ولونڈی کے نکاح کا حکم دیا کہ اگر غریب ہیں تو اللہ امیر بنادے گا۔ پھرفرمایا کہ ”اگر ان میں سے کسی کو ضرورت کے باوجود نکاح کا موقع نہیں ملتا تو گند نہیں کریں بلکہ پاکیزہ زندگی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ کوئی راستہ اپنے فضل سے نکال دے”۔ دوسرا مسئلہ غلام کا تھا جسکے پاس حق مہر دینے کیلئے کچھ نہیں تو اسکے ساتھ مکاتبت یعنی لکھت پڑھت کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ”اگر وہ مکاتبت کرنا چاہیں اور تمہیں اس میں خیر نظر آئے تو پھر یہ کام کر ڈالو اور وہ مال بھی خرچ کرو جواللہ نے تمہیں دیا ہے”۔ اس سے غلام کی آزادی کیلئے مکاتبت مراد لینا انتہائی درجہ کی بیوقوفی اور خود غرضی ہے۔ غلام کو آزاد کرنے میں بھی یہ شرط ہوسکتی ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے؟۔ آیت میں تو اپنا مال خرچ کرنے کا بھی حکم ہے تو مال ہتھیانے کیلئے مکاتب کیسے ہوسکتی ہے؟۔

مولانا ابولاعلیٰ مودودی اورمفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان وغیرہ اپنی بیٹیاں غلام کو دیتے تو کچھ تحریر لکھواتے اور اپنا مال بھی ان پر خرچ کردیتے۔ کسی طلاق شدہ یا بیوہ کو شوہر نہیں ملتا تو غلام سے نکاح کرکے مکاتبت کرنے میں بھی حرج نہیں تھا۔

مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کا دارالعلوم کراچی میں شہرہ تھا کہ ٹیوشن پڑھانے والے سے معاشقہ ہوگیا اور شادی کرنے پر ضد کررہی ہے تو اس میں قرآن کی کیا رہنمائی ہے؟۔ چنانچہ اللہ نے یہ نازک معاملہ بھی حل کردیااور فرمایا : ” اور اپنی لڑکیوں کو بدکاری(یابغاوت) پر مجبور مت کرو جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ اس سے تم دنیاوی وجاہت تلاش کرو اور جن کو مجبور کیا گیا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد غفور رحیم ہے”۔

کراچی میں ایک مشہور کیس سیدہ دعا زہرہ کا تھا اور دوسرا مفتی تقی عثمانی کی بیٹی کا۔بغاء کے عربی میں دو معانی بنتے ہیں۔ ایک بدکاری اور دوسرا بغاوت۔ جب لڑکی والدین کی اجازت کے بغیر کسی لڑکے کیساتھ بھاگ جائے تو یہ بغاوت ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت پر مجبور نہیں کرو۔ بھاگنے والی لڑکیوں پر بدکاری نہیں بغاوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن اگر مفتی تقی عثمانی کی لڑکی کی طرح اس کا معاشقہ کسی اور کیساتھ ہو لیکن اس کو جبری طور پر کسی اور کیساتھ مجبور کردیا جائے تو یہ بالکل حرام اور فطرتاً بھی حرام کاری ہے۔ قرآن نے ایسی لڑکیوں کیلئے معافی کا اعلان کیا ہے اسلئے کہ وہ مجبور کی گئی ہیں اور ان کی اولاد پر اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگے گا۔

مولانا یوسف لدھیانوی کے داماد مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ سمیت حاجی محمد عثمان کے کروڑوں عقیدتمندوں پر نکاح کی حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لگانے والا مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کس طرح فتوے کی زد میں آرہی ہے؟۔ یہ ہے مکافات عمل لیکن ہمارا مقصد قرآن کی تفسیر کو ٹھیک کرنا ہے جو بہت عرصہ سے غلط لوگوں کے ہاتھ بہت مسخ کیا گیاہے۔

اس آیت کا یہ ترجمہ کیا گیا ” لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو جب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم اس سے دنیا کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اللہ غفور رحیم ہے”۔

امریکہ میں بیٹھا ہوا علامہ شہریار رضاعابدی انتہائی کمینہ قسم کا انسان ہے ،اس نے کہیں سے نکالا کہ ” حضرت ابوبکر صدیق کا خاندان اس پیشہ سے وابستہ تھا جو لونڈی کا چکلہ چلاتا تھا”۔

جب مفتی تقی عثمانی کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کہے گا کہ ” شادی بیاہ میں لفافہ کی لین دین سود ہے اور اس کا کم از کم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے” اور پھر سودی بینکاری بھی معاوضہ لیکر اسلامی قرار دی جائے گی تو لوگ اسلام اور اسلاف سے بدظن ہوں گے کہ یہ شیوخ الاسلام کے احوال ہیں؟۔

فتاویٰ عثمانی جلد دوم میں دو اقسام کی خباثتیں ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ اگر کسی بدمعاش نے کوئی لڑکی اغواء کرکے جبری نکاح کیا تو اب یہ عدالت اور فتوے سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ اسلام اور انسانیت کے خلاف یہ میراثی طبقے کی بہت بڑی سازش ہے جس کو کوئی بھی شریف انسان قبول نہیں کرسکتا ہے۔ دوسری یہ ہے کہ نابالغ بچی کے باپ نے نکاح کردیا ۔ پھر جب اس کی عمر نکلنے لگی تو رخصتی کا مطالبہ کردیا۔ آدمی اس کے بعد غائب ہوا اور5سال گزرنے کے بعد عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا اور عدالت سے خلع ملنے کے بعد کسی اور سے نکاح کرلیا پھر پہلا شخص آگیا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ جاری کیا کہ پہلے شخص کی بیوی ہے۔ اور اس کے شوہر سے فتویٰ کے ذریعے جدا کردیا۔

ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور یہودی دنیا کا کوئی مذہب بھی ایسے غیر فطری فتوؤں کا پیش خیمہ نہیںہے لیکن علماء ومفتیان نے اسلام کو جس حد تک پہنچادیا تو مخبر صادق نبی اکرم شفیع اعظم ۖ نے جو پیش گوئی ان علما ء ومفتیان کے حوالہ سے دی ہیں تو وہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ”عصر حاضرحدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” کے اندر درج کی تھیں جن کو شہید کردیا گیا اور ان کی کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی ۔ اس طرح جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار نے ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ کیا تھا تو ان کو شہید کرکے کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلمان بچیوں کو تعلیم دی جائے کہ لونڈیوں کو بدکاری پر اس وقت مجبور کرنا غلط ہے کہ جب وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں لیکن اللہ غفور رحیم ہے تو اس تعلیم کا کیا اثر پڑے گا؟۔ یہ جبری نظام ہی اصل میں بدترین غلامی ہے جو اسلام ، قرآن اور فقہ کے نام پر مسلمانوں پر مسلط کردیا گیا ۔

بہت ساری احادیث ہیں جن میں رسول اللہ ۖ نے یہ فرمایا کہ ” ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں ہے”۔ جو کنواری لڑکی کیلئے ہی ہوسکتا ہے اسلئے کہ ایک مرتبہ شادی اور پھر طلاق یا بیوہ بن جانے کے بعد احکام بدل جاتے ہیں۔ میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا اور اپنے استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان کے سامنے یہ بات پیش کردی تو بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا کہ آگے آپ اس کا حل بھی نکال لوگے۔

ایک طرف عورت کی رضامندی شرط اور دوسری طرف ولی کی اجازت بھی ہو تو اعتدال وتوازن قائم ہوجاتا ہے ۔ اسلام کا یہی کمال ہے کہ ہرمعاملہ میں توازن قائم کرتا ہے۔ ایک طرف احادیث کا انکار کرکے عوام الناس کی لڑکیوں میں بغاوت برپا کی گئی اور دوسری طرف حدیث کا انکار کرکے جبری نکاح کو بھی جواز بخش دیا گیا اور قرآن کی آیات کی بھی بوگس تشریح کی گئی اور پھر جعلی عثمانی بن کر اپنی لڑکیوں کیلئے الگ شریعت گھڑدی۔

لوگ سمجھتے ہیں اتنا عرصہ سے یہ چیزیں دہرارہاہوں مگر قوم وہیں کھڑی ہے۔ مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ کون کہاں ہے؟ ۔حضرت نوح نے کتنی تبلیغ کی ؟ لیکن جتنے لوگ کشتی میں تھے تویہ شروع سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارا کام پہنچانا ہے اور بس!۔

فرعون اور اس کے ملاؤں اور پیشواؤں کو جب حضرت موسیٰ و ہارون علیھاالسلام نے دعوت دی تو کہنے لگے : فقالوا انؤمن لبشرین مثلنا و قومھما لنا عابدون ” پھر کہا کہ ہم اپنے جیسے دو شخص پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کررہی ہو”۔

فرعون اور اس کے سیٹ اپ کے حوالے سے کوئی دوسری خام خیالی نہیں تھی بلکہ ان کے غلط مذہبی احکام کی پیروی تھی اور آج مذہبی طبقات نے جس طرح کی غلامی اس قوم پر مسلط کی ہے تو شاید فرعون کو بھی شرم آجاتی۔اسلام نے جس عبدیت کا خاتمہ کیا تھا وہ مذہبی خداؤں کی شکل میں مسلمانوں پر مسلط ہے اور حکمرانوں کے تخت بھی ان سے لرزتے ہیں مگر اللہ نے مجھے وہ توفیق دی جس کے لائق میں نہیں لیکن اس کی اپنی شان ہے اور وہ تقدیروں کو بدلنے پر بالکل بھی کامل قدرت رکھتا ہے۔

فکذبوھما فکانوا من المھلکینOولقد اٰتینا موسی الکتاب لعلھم یھتدونOو جعلنا ابن مریم وامہ اٰیةً واٰوینا ھماالیٰ ربوةٍ ذات قرارٍ و معینٍOیاایھا الرسل کلوا من الطیباتٍ واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم اُمةً واحدةً وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزبٍ بما لدیھم فرحونOفذرہم فی غمرتھم حتی حینO

” پھر ان دونوں کو جھٹلایا اور ہوگئے ہلاک ہونے والوں میں اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی کہ ہوسکتا ہے ہدایت پائیں اور ابن مریم اور اسکی ماں کو نشانی بنادیا اور ان کو ٹھکانہ دیا ایک اونچی جگہ جو سکون اور چشمے والی تھی۔اے رسولو! کھاؤپاک چیزوں میں سے اور درست عمل کروبیشک میں جانتا ہوں جو تم عمل کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت ایک ہی تھی اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ سے تقویٰ اختیار کرو۔ پس انہوں نے اپنا حکم کاٹ ڈالا ٹکڑے کرکے اور ہر گروہ خوش ہے جو انکے پاس ہے اس پر۔ پس انکو چھوڑدو غفلت میں ایک وقت تک”۔

سورہ مؤمنون کی ان آیات سے پہلے حضرت نوح سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا اور بیچ میں بہت سارے انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے ۔ جن کو وقتاً فوقتاً ہلاک کیا گیا ہے۔ پھر آخر میں موسیٰ و ہارون اور حضرت عیسیٰ و مریم کے بعد تمام رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی ایک امت سے تقسیم اور پھر سب کو ایک مقررہ وقت تک انتظار کا حکم ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہم پڑھتے تھے تو مولانا محمدسالم قاسمی دارالعلوم دیوبند وقف قریب میںجمعہ کی تقریر مسجد طیبہ کراچی کرنے تشریف لائے۔ انہوں نے حدیث سنائی کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں” ۔ حضرت موسیٰ اور امام غزالی کا مناظرہ بھی سنایا۔ جاویداحمد غامدی نے اس پرا عتراض کیا ہے کہ اس طرح کی خرافات گھڑی گئی ہیں اور ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کی اس حوالے سے بڑی جرأت وہمت ہے۔ لیکن علماء و صوفیاء کی ان باتوں سے مذہبی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔

معراج میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کرام کی امامت کی اور جب دنیا میں بڑا انقلاب آجائے تو اس وقت تمام اقوام پر قرآن کی ایک ایک آیت کی حجت قائم ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا سے جانے کے بعد انبیاء کرام نے کونسی نماز پڑھی؟ ۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ سورہ الحدید میں اس جنت کی بات کی گئی ہے کہ جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہوگا تو یہ کونسی جنت ہے؟۔ یہ عالم برزخ کی جنت ہے۔ عالم برزح میں جہاں کھانے پینے کا ثبوت قرآن کی کئی آیات میں موجود ہے تو نبیۖ نے فرمایا :”نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” ۔ اور رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں تو عالم برزخ کیلئے بھی ہیں اور باقی انبیاء کرام کے فیض بھی اپنی اپنی امتوں کو پہنچتے ہیں اور تمام مذاہب کی روحانی دنیا میں ملتی جلتی باتیںہیں۔ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے ترید نہیں کرتا اور وقت معلوم وہی ہے جو ان آیات میں بھی ہے۔ سورہ الزمر ،سورہ الحدید وغیرہ میں بھی واضح ہے۔ اگر ایک ایسے امام کے ہاتھوں انقلاب برپا ہو جس کی سنی عقیدہ کے مطابق ایک رات میں اصلاح ہوتو بہت بڑی حیرت بھی ہوگی اور آسمان اور زمین والوں پر بجلی بھی گرے گی کہ کہاں انبیاء کرام کی سخت مشقتیں، عظیم جدوجہد، پاکیزگی ، وحی اور معجزات کے ذریعے رہنمائی ؟اور کہاں ایسے لوگ جن کی علم وعمل اورکسی بھی اعتبار سے کوئی اوقات نہیں تھی لیکن ان کے ہاتھوں اتنا بڑا انقلاب برپا ہوگیا؟۔ قرآن کی تصدیق ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ ہاؤس کا ایران کے خلاف جنگی اخراجات عرب ممالک سے وصول کرنے کا واضح اشارہ: ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف امریکہ و اسرائیل کی ایران ولبنان سے صلح کروائیں اورعورت کے حقوق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ حل کرنے پر بھی اجلاس بلائیں!

جب تک قرآن کی درست تفسیر سے مسلمان غلط فہمی کو دور نہیں کرتا تو ظلم کا نشانہ بنتا رہے گا

امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایرانی قیادت مار ڈالی ۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا مگر پہلے قطر کو اسرائیل پھر ایران سے امریکہ نے تحفظ فراہم نہ کیا بلکہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان کو بڑی گندی گالی بھی دی، امریکہ کی ترجمان کیرولائن نے کہا کہ ٹرمپ عربوںسے جنگ کے اخراجات بھی مانگ سکتا ہے جیسے1990ء میںاشتراکی جنگ میں امریکہ نے عرب ممالک سے اخراجات لئے تھے۔

دنیا حیران ہے کہ امریکہ واسرائیل بدمعاشی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔15اگست1945ء میں جاپان کو سرنڈر کرنے کیلئے دو بڑے شہروں پر ایٹم بم گرائے اور برطانیہ نے آزادی ہند کی خوشی کیلئے15اگست1947ء کا انتخاب کیا تاکہ ہم اس دن آزادی کی خوشی منائیں جس دن جاپان پر ایٹم بم کا غم ہو۔ پاکستان نے پہلا جشن آزادی15اگست کو منایا۔ برطانیہ نے کئی دنوں کا انتظار کیا تھا اور رات کو12بجتے ہی آزادی دے دی گئی تاکہ مشرقی ممالک آپس کی دشمنی میں مشغول رہیں، یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے آزادی کو14اگست دن میںبدل دیا۔

اللہ کہتا ہے کہ جب تم مناسک حج پورے کرچکو

فاذکروا اللہ کذکر کم اٰباء کم وا اشد ذکرًا

” تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ”۔

جاوید احمد غامدی کہتا ہے کہ صفا ومروہ کی سعی مسلمانوں کے روحانی باپ ابراہیم کی زوجہ حضرت حاجرہ کا واقعہ نہیں تھاجبکہ غامدی نے نسل تبدیل کردی تو غامدی یا غامدیہ کا ذکر کرے گا؟۔ ہندو سندھ حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹوں کے نام پر ہیں اور حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی نسل تھے۔ جاوید غامدی قرآن پر جھوٹ کہتا ہے کہ قیامت تک حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کی حکومت رہے گی اور امریکہ دنیاکا سب سے بڑا مہذب فاتح ہے۔

لخ لعنت سڑی شکل، کفریہ عقائد ، اخلاق سے گری حرکت پر ۔ عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا۔ سعید بن جبیر جیسوں کو کلمہ حق پر شہید کردیا۔حلالہ کو رائج اورجاہلیت کو مسلط کردیا۔ قرآن کی تعلیمات اجنبیت کا شکار ہوگئے۔ سنی اور شیعہ دونوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہوگا۔ پاکستان کی سرزمین کا اعزاز ہے کہ امریکہ و ایران اور عرب وایران کی جنگ کو روکنے میں اپنی حکمت عملی سے کامیاب ہوگیا لیکن ابھی مزید بھی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی ہیں آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں

ا سرائیل کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ مسلم یہودی کو بہر حال قتل کرینگے۔ غیر مسلموں کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ تمہاری جو بھی خواتین چاہے شوہر والی ہوں سب کو لونڈیاں بنائیںگے۔ اسلامی خلافت آگئی تو زمین و آسمان والے سب کے سب اس سے خوش ہوں گے۔عربی میں ”عبد” غلام کو کہتے ہیں اور غلام کی ملکیت کا اسلام نے جواز ختم کردیا تھا مگر خلافت پر قبضہ مافیا نے قرآن وسنت کی روح کے منافی جاہلیت کوپھر زندہ کردیا۔

واقیمواالوزن بالقسط و لاتخسروا المیزان ”اور انصاف کیساتھ توازن کو قائم کرو اور میزان کو مت بگاڑو” کا عملی نمونہ اسلامی خلافت نے پیش کرنا ہے ۔ بلا تفریق مذہب و نسل دنیا سب اچھے لوگوں کیلئے جنت کا منظر پیش کرے گی۔

اسلام کو اجنبیت سے واپس لانے کیلئے پاکستان ، بھارت، افغانستان اور ایران کے لوگوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے اور یہ حقیقت ثابت کرنی ہے کہ اسلام نے حلالہ اور لونڈی کے نظام کو ختم کردیا تھا لیکن مفاد پرست حکمرانوں نے پھر غلط تصور کو دنیا میں مسلط کردیا۔ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv