پوسٹ تلاش کریں

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری

ترمذی کی شرح معارف السنن علامہ سیدیوسف بنوری نے لکھی ۔بخاری استاذ اور ترمذی شاگرد ہیں،ترمذی کی قرآن سے متعلق حدیث علماء دیوبند میں سب سے زیادہ اچھی فکر کے عالم دین مولانا سید محمد میاں نے خطبات مسنونہ میں نقل کی ہے۔

طلاق سے متعلق اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر قرآن سے رہنمائی لے گا تو منٹوں میں اس کا دماغ کھلے گا۔احادیث میں جتنا الجھاؤ ہے اور قرآن میں جتنی صفائی ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب ممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو ساتھ میں من گھڑت اور ضعیف اور الجھے ہوئے واقعات کی ایسی بھر مار کردی گئی کہ لوگ فرقہ فرقہ بن گئے ۔

طلاق پرقرآن کی سب واضح آیات البقرہ228ہے جس میں عدت کے تین ادوار کا تصور واضح ہے اور حمل کا بھی ذکر۔ پھر اس روڈ میپ کے اندر باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر وں کو اپنی عورتیں لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیاہے اور ساتھ میں واضح کیاہے کہ عورتوں کے مردوں کی طرح وہی معروف حقوق ہیں۔

سورہ الطلاق آیت4میں واضح ہے کہ جو عورتیں حیض سے ناامید ہوں اور عدت میں الجھن ہو یا حیض نہ آتا ہو تو3ماہ ہے اور حمل والوں کی عدت جب بچہ جننے تک ہے۔ بچے کی پیدائش بھی واضح ہے اور3مہینے کی عدت بھی واضح ہے۔ عورت دعویٰ کرے کہ حیض مہینے تین یا دو مہینے میں ایک تو یہ فضو ل ہے۔

پاکستان کے آئین ترمیمی بل1964میں طلاق کا معاملہ بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ جس میں حلالہ کی لعنت کو ختم کیا۔ باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش دے دی گئی ہے۔ یہ چیز پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ النساء آیت35میں ہے۔

قرآن میں کوئی چیزبالکل متصادم اور غیر واضح نہیں ہے مگر احادیث نے بہت غلط انداز میں وضاحتوں کو الجھا دیا ہے۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ البقرہ آیت229

یہ آیت228کی بہت واضح تفسیر ہے ۔پہلی صورت وہی ہے کہ معروف یعنی باہمی اصلاح کی شرط پر صلح ہوسکتی ہے جس میں نہ جبر کا کوئی تصور ہے اور نہ قرآن کی واضح کردہ عدت کی۔ بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب التفسیر ہر جگہ رسول اللہ ۖ کی عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل کے ساتھ ہے ۔ معروف رجوع کا معنی منکر رجوع نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں نیت نہیں تھی اور شہوت آگئی تو بھی رجوع ہے اور شافعی کے نزدیک نیت نہ تھی تو جماع بھی رجوع نہیں ہے۔

جیسے انکے باپ کے مال کی شریعت ہو؟۔ عورت راضی ہو تو یہ معروف رجوع ہے اور باہمی صلح کے بغیر رجوع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بغیر عورت کی رضامندی کے طلاق رجعی کا تصور ہی آیت228البقرہ کے حدود کو پاش پاش کردیتا ہے۔ عدت بھی بڑھ سکتی ہے اور عورت کی رضامندی بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔ اکٹھی3طلاق کے بعدباہمی صلح کی رجوع پر پابندی بنوامیہ اور بنوعباس کے دلوں اوردلالوں کی عدالتیں نہیں رجواڑے تھے۔

قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی معروف شرط واضح کی ہے۔

اسے منکر میں بدلنا غلیظ ذہنیت کی انتہائی غلاظت ہے جس کے گند کیلئے احترام کا لفظ استعمال کرنا کفر ہے اور مجھے کسی سے عقیدت ہو مگر کفر کا ارتکاب بالکل نہیں کرسکتاہوں۔

لوگوں کی ماؤں ، بہنوں، بیویوں ، بیٹیوں ، بہوؤں اور دیگر خواتین کی عزتیں قرآن، اسلام، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین اور علماء ومشائخ کے نام سے قرآن وسنت کے خلاف لٹ جائیں؟ اور ہم اس کو خندہ پیشانی سے احترام کے ساتھ برداشت کریں؟ یہ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کو برداشت نہیںہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے100فیصد درست فیصلہ کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر وہ کوئی فتویٰ نہیں فیصلہ تھا۔ فتویٰ اور فیصلے میں فرق ہے۔ فیصلہ تنازعہ میں ہوتا ہے اور فتویٰ مسئلے کی وضاحت کیلئے ہوتا ہے۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو البقرہ آیت228اور229کے اندر بالکل واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اکٹھی3طلاق ہی نہیں بلکہ ایک طلاق کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ رجوع کو باہمی رضامندی ،اصلاح اور معروف کیساتھ مشروط کردیاہے۔

حضرت عمر سے سب سے پہلا اختلاف عبداللہ بن عمر نے کیا تھا اسلئے کہ وہ تین طلاق دے چکا تھا اور نبیۖ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پھر عدت و طلاق کو ایکدوسرے سے لازم وملزوم قرار دینے کا تصور دیا تھا ۔ جیسے عدت ظرف ہے اور طلاق مظروف ہے۔ تین روزے تین دن کیساتھ ظرف اور مظروف کا تعلق رکھتے ہیں۔ دن ظرف اور روزہ مظروف ہے اور جس طرح رمضان کے مہینے میں دنوں کیساتھ روزوں کا تعلق ہے ویسے تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل کے ساتھ ہے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ عدت کے بھی تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی اللہ نے فتویٰ کے اعتبار سے باہمی رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ ڈالنے کے اوپر پابندی لگائی ہے جیسے سورہ البقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ عورت کسی اور سے عدت میں نکاح نہ کرنے کی پابند ہے۔ اگر اس کی ترجیحات خاور مانیکا کی جگہ عدت میں بھی عمران خان بن جائے تو خاور مانیکا عدت میں شوہر ہوکر بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ نے بعد میں جیسے کیسے بھی مگر ٹھیک دیا ہے اور جس نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ خاور مانیکا کا حق مجروح ہواہے وہ غلط تھا۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا شوہر کو حق ہے لیکن جب عورت راضی ہو تو بھی اسلئے شوہر کو رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو ضرر پہنچائے ۔ آیت231البقرہ میں وضاحت دیکھ لیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ قرآن کے تراجم تک میں تحریف کر ڈالتے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آخری حد کردی کہ جب کافی عرصہ گزر چکا ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح سے مت روکو ، جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے کیلئے آپس میں باہمی رضامندی سے معروف طر یقے سے راضی ہوں۔ البقرہ232۔ بہت بہترین وضاحت ہے۔

آیت229میں دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ جب شوہر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس میں طلاق شدہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ جس کا واضح مطلب عدت کے تیسرے مرحلہ میں عورت کے اپنے حقوق سے بھی احسان کرکے زیادہ حقوق دینے ہیں۔ سورہ النساء آیت19خلع کا عورت کاحق اور حقوق ہیں۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ اور سورہ النساء آیت20میں طلاق اور عورت کے طلاق کے اندر خلع سے زیادہ حقوق ہیں۔ البقرہ آیت229میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح ہے کہ کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے اور پھر اس صورت میں استثناء رکھا ہے کہ جب آپس میں رابطے اور حدود کے توڑنے یعنی جنسی بے راہ روی کا خدشہ ہو تو وہ چیز عورت قربان کرسکتی ہے اور اس میں بنیادی شرط فیصلہ کرنے والے کے کردار کا بھی ہے۔ جب وہ بھی یہی سمجھیں۔ پھر جب عورت وہ چیز واپس کردے تو کنفرم ہوجاتا ہے کہ اس نے اب رجوع نہیں کرناہے اور جب یہ کنفرم ہو کہ اس نے رجوع نہیں کرنا ہے تو آیت230کا حکم ہے جس کا مقصد حلالہ کی کوئی سزا نہیں بلکہ عورت کو مکمل آزادی دینی ہے جو بالکل واضح ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن و حدیث کے آئینہ میںپاکستان کے روشن مستقبل اور دنیا میں انقلاب عظیم کی خبر ؟

سنن ترمذی حدیث:2906

باب:قرآن کی فضلیت ۔کتاب: فضائل القرآن عن نبیۖ

حدثنا عبد بن حمید، حدثنا حسین بن علی الجعفی،قال سمعت حمزة الزیات ، عن ابی المختار الطائی ،عن ابی اخی الحارث الاعوار ،عن الحارث قال:مررت فی المسجد فاذاالناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علی فقلت: یا امیر المؤمنین،الا تری ان الناس قدخاضوا فی الاحادیث ؟ قال: وقد فعلوہا، قلت: نعم، قال: اماانی قد سمعت رسول اللہ ۖ یقول: الاانھا ستکون فتنة فقلت: مالمخرج منھا یا رسول اللہ ؟ ،قال : کتاب اللہ فیہ نبأ ماکان قبکم وخبر مابعدکم وحکم ما بینکم وھو الفصل لیس بالھزل ،من ترکہ من جبارٍ قصمہ اللہ ومن ابتتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ و ھو حبل اللہ المتین وھوالکذکر الحکیم،وھوالصراط المستقیم ،وھو الذی لایزیع بہ الاھواء ولاتلبس بہ الالسنة ولا یشبع منہ العلماء ولا یخلق علی کثرالردولا تنقضی عجابہ ،وھو الذی لم تنتہ الجن اذسمعتہ حتی قالوا: انا سمعنا قرء انًا عجبًا ھدی الی الرشد سورة الجن آیة1،2من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل و من دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیمٍ خذھا یا اعور

ترجمہ: حارث اعور نے کہا کہ میں مسجد میں گیا توکیا دیکھتا ہوں کہ لوگ احادیث میں مشغول تھے میں حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین !کیا آپ نہیں دیکھتے (آپ کی کیا رائے ہے) کہ لوگ احادیث میں غور وخوض کررہے ہیں؟۔ فرمایاکہ کیا وہ اسکے مرتکب ہوچکے ہیں؟۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: بیشک میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے : آپ ۖفرماتے ہیں: خبردار ! عنقریب فتنہ ہوگا، میں نے عرض کیا: ”اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ یارسول اللہ ؟۔ آپ ۖ نے فرمایا: اللہ کی کتاب، اس میں خبریں جو تم سے پہلے لوگ گزر گئے اور اس میں پیش گوئیاں ہیں جو تم سے بعد آنے والے ہیں اور حکم ہے جو تمہارے درمیان میں ہے اور وہ ایک فیصلہ کن معاملہ ہے حق اور باطل کے درمیان کوئی مذاق نہیں ہے۔ کسی جابر حکمران کی طرف سے اس کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ اس کو توڑ کر رکھ دے گا،اور جس نے اسکے علاوہ کہیں دوسری چیز میں ہدایت کو تلاش کیا تو اللہ اس کو گمراہ کردے گا۔اور وہ اللہ کی رسی ہے مضبوط۔وہ حکمت سے بھرپور نصیحت ہے اور وہ سیدھی راہ ہے۔ اور وہ وہ ہے جس کو لوگوں کی خواہشات ادھر ادھر موڑنے کی صلاحیت قطعاً بھی نہیں رکھتی ہیں۔ باطل اس کے الفاظ کو اپنے رنگ میں نہیں ڈھال سکتا ہے۔ اور نہ اس میں زبانوں کا بس چلتا ہے کہ کوئی اشکال پیدا کریں۔ اوراس کی علمی وسعت سے علماء کبھی بھر نہیں سکتے۔ اور اس کی تردید میں کتنی کثرت کیساتھ ایڑی چوٹی کا زورلگایا جائے لیکن اس سے اس کی تخلیق میںاپنی مرضی کا کلام مرتب کرنے کی کوئی ساز ش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور اسکے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتے ہیں یعنی زمانوں کے عروج سے اس کا آئینہ مزید وسعتوں کے ساتھ سمجھ میں آتا رہے گا لیکن اس پر تعجب والی کیفیات کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اس کو سنایہاں تک کہا کہ ”ہم نے عجب قرآن سنا جو بھلائی کا رستہ دکھاتاہے”۔ سورہ جن آیت1،2۔ جس نے اس کے ذریعے کہا اس نے سچ بولا۔ جس نے اس پر عمل کیا اس کو اجر مل گیا۔ جس نے اس پر فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔اس کو مضبوط پکڑو یا اعور!

( خطبات مسنونہ :مولانا سیدمحمد میاں برائے جمعہ)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3باتین یاد رکھو!

1:بنوامیہ کاکردارایک سا نہیں

الف:سیدنا عثمان غنی خلیفہ راشد سوم ذوالنورین۔
ب:ابوسفیان ، امیر معاویہ ، یزیداور معایہ بن یزید۔ ج: مروان بن حکم ،عبدالملک بن مروان اینڈ کمپنی!

بدتمیز ضحاک نے کہا:حج و عمرہ کا احرام باندھنے والا جاہل ہے۔سعد بن ابی وقاص نے کہا : ”یہ نہ کہو نبیۖ کو میں نے باندھتے دیکھا ہے”۔

عمران بن حصین نے52ھ میں بصرہ کے اندر انتقال فرمایا، صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں۔ بعض نبیۖ کی حرمت ، صحابہ کی عظمت ، احادیث کی کا احساس نہیں رکھتے ۔ حلالہ کی لعنت سے پھڑکتی رگوں کی پیدوارہیں لیکن ہم انشاء اللہ ان کی دکانیں بند کریں گے ۔ صحابہ کرام ہادی فاتح عالم تھے ۔

بنو زرقاء بنومروان نے حجاج جیسوں کو مسلط کیا، جبراً حلالہ عمر کے سر پر ڈالا اور علی کے جہنمی کہنے کی سعید بن جبیر جیسے پر کوشش کی اور شہید کردیا۔ مگر حضرت عمربن عبدالعزیز نے عمدہ کردار ادا کیا تھا۔

2:ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
امام ابوحنیفہ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے اصول وضع کیا تھا کہ خبر واحد کی حدیث کو قرآن کے واضح حکم کے خلاف رد کرو مگر ملا جیون جیسے علماء نے میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں نزلہ ولی کی بغیر اجازت والی احادیث پر گرا دیا ہے۔

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے

مجنون نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

3:حرمت مصاہرت کے مسائل

من نساء کم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

”اورتمہا ری بیویوں سے جن میں تم نے ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ”۔

حرمت مصاہرت کیلئے منکوحہ میں دخول کی شرط سے غلیظ ترین مسائل کوچھڑا ؤ۔ بچہ پیدا ہونے پر بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے اصولی طور پر حرام اور ضرورتاً جائز قرار دیا ۔ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے کو عذر اور اندورونی پر نظر پڑگئی توبیوی پھر حرام ہوگئی۔بیٹی ، بہو، ماں ، بہن اور بھانجی بھتیجی کسی محرم کو ہاتھ لگا اور شہوت آگئی تو پھر اگر خارج کردیا تو حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اور نہیں کیا تو ہوگی؟۔

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ــــــــــ

قتل کا ذمہ دارکون؟ الٹی گنگا بہانے سےمسائل حل ہونگے؟

کراچی دعا زہرا کیس پہلے بڑا مشہورہواتھا اور پاکستان کی سطح پر ہلچل تھی۔ سندھی فاطمہ زہرا قتل اور اکبر علی انصاری کورٹ میرج واقعہ گلشن حدید کراچی میں پیش آیا۔ قتل قبائلی معاملہ ہے تو قرآن کی تفسیر ، حدیث کی تشریح کا بھی عمل دخل ہے اوراگرعوام کو معقول طریقے سے آگاہی مل جائے تو مسائل کا زبردست حل نکلے گا۔

وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO

”اور جو تم میں طلاق شدہ وبیوہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور اپنے درست غلاموں کے اور اپنی لونڈیوں کے اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے امیر کردے گا اور بہت وسعت والا علم والا ہے”۔ (سورہ نور:آیت32)

عربی میں ایامٰی بیوہ وطلاق شدہ کو کہتے ہیںاور حدیث میںآیا ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ سے اجازت کا باقاعدہ اظہار کرنے کے بعد اس کا نکاح کراؤ۔ کنواری کی خاموشی لیکن رضامندی ضروری ہے ۔

من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل

”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔(حدیث :اصول فقہ)

جمہور کے ہاں عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ و بیوہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ حنفی مسلک میں عورت آزاد ہے اور قرآن نے اس کواپنے نکاح میں خود مختار بنایا ہے۔

آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ (البقرہ:230) میں عورت کو نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ مسلک حنفی میں جو حدیث خبرواحد قرآن سے ٹکرائے تو وہ ناقابل عمل ہے۔

قرآن و حدیث کی تطبیق ہے۔ آیت سے مراد طلاق شدہ ہے ۔ جبکہ حدیث سے کنواری ہے۔

ولاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھھن غفور رحیمO

”اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرواگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔تاکہ تم اس کے ذریعے اپنی دنیاوی زندگی کی وجاہت چاہو۔ اور جو لڑکی مجبور کی گئی تو اللہ اس کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (النور:33)

اس آیت سے لونڈی مراد لی گئی کہ جبراً بدکاری پر مجبور مت کروجب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہو۔

حالانکہ کنواری لڑکیوں کے حوالے سے رہنمائی ہے جومستقبل اور سب کچھ بالکل داؤ پر لگاتی ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مفتی عزیزالرحمن عثمانی ، مولانا برساتی کا غلط فتویٰ اور اس پر گرفت۔

فتاویٰ رشیدیہ: اختلافی مسئلہ

غیر کفو میں نکاح ہو تو فسخ کا مسئلہ
سوال:زید ایک شخص اجنبی کے مکان پر رہتا تھا عمرو نے وارثانِ ہندہ کو بہکا کر اور دھوکہ دیکر زید کو نسب سید بتلایا اور نکاح کرا دیا بعد چند مدت کے معلوم ہوا کہ زید سید نہیں ہے نورباف ہے اب وارثانِ ہندہ کو شرم و حیا معلوم ہوتی ہے کہ بہت اہانت ہے کیونکہ سید اور نورباف کا نکاح نہایت عار کی بات ہے لہٰذا شرع کے مطابق وارثانِ ہندہ کو فسخ کرنا فی زمانہ جائز ہے یا نہیں دیگر زید بعدِ ظاہر ہونے کفو کے وہاں سے چلا گیا وقتِ رخصت زوجہ سے کہا کہ میں اس گھر میں ونیز قریہ میں تا حیات نہیں آؤں گا اور قسم بھی کھائی اور بعد کو ایک خط بھی اسی مضمون سے لکھا اب اس کا کیا حکم ہے۔

جواب: صورِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیاء ہندہ کو اختیارِ فسخ ہے۔ کما فی العالمکیریة ولو انتسب الزوج لہا…
(٢)زید کا قسم کھانا مستلزمِ ایلاء نہیں ہے ۔ کمافی االدر
(٣) اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے جبھی شہر کے مفتی سے حکم لیکر فسخ کر سکتا ہے کیونکہ قائم مقامِ قاضی کا مفتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن برسانی تعقبہ بعضہم وہو مندرج فی الذیل
(٤)ایضا صورتِ مستفسرہ میں وہ سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کیلئے کفائت شرطِ نکاح ہے یا ولیِ اقرب پیش از عقد عدمِ کفائت پر اپنی رضا ظاہر کر دے بعدِ عقد راضی ہونا بھی نفع نہیں دیتا والمختار
(١)یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا تو نکاح باطل محض رہا بعدِ ظہورِ حال زید کے قسم و تحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کیلئے کوئی مرتب نہیں ہو سکتا واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفے النبی الامی ۖ

فتنازعوا بینہم فرجعوا الی علمائنا خصوصا الی شیخنا الاجل امام الفقہا فی عصرہ المولانا رشید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ فاجاب باحسن التفصیل وہو ہذا

(٢)صورتِ مندرجہ ذیل مسئلہ ہذا میں اولیا کو حقِ فسخِ نکاح ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے واللہ تعالی اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ الجواب صحیح۔الٰہی عاقبت محمود گرداء محمود عفی عنہ ۔ الجواب صحیح ۔محمد منفعت علی۔بندہ مدرسِ اول مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند و توکل علی العزیز الرحمن ،جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے اولیا ء کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔ فقط۔ واللہ تعالی اعلم۔ عزیز الرحمن عفی عنہ دیوبند

فتویٰ غلط اور جواب یہ کہ

البقرہ آیت226:ایلاء میں4ماہ کی عدت۔ نبیۖ کے29دن میں ایلاء سے رجوع پر اللہ نے ازواج پر علیحدگی کا اختیار واضح کرنے کافرمایا ۔ (صحیح بخاری) نکاح نہ ہو تو بدکاری ؟۔ نکاح ہوا ۔ ہاتھ لگایا تو پورا حق مہر قرآن واضح کرتا ہے۔ عورت بیچنے والا پٹھان اور عرب قرآن نہیں سمجھتااور نہ جہیز وصول کرنے والا ہندو نسل ،عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے ۔ مہربانی کرکے فیکٹریوں پراپنا رزق کمائیں۔
قرآن وسنت کیخلاف متضاد اور غلط فتوؤںنے مسلمان قوم کا ستیاناس کردیاہے ۔

نمبر1:سورہ النساء آیت19میں خلع کا حق عورت کو ملا اور مالی حقوق کا تحفظ بھی اورسورہ النساء آیت20میں مرد کو طلاق کا حق اور اس میں عورت کے خلع کے مقابلے میں زیادہ حقوق ۔

قرآن چھوڑ کر عورت سے خلع کا حق چھینا۔ حدیث صحیح میں اسکی عدت ایک ماہ ہے تو انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی کہ شوہر گم ہے اور80سال تک انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر علماء مفتیان نے فقہ حنفی سے فقہی مالکی میں چھلانگ لگائی اور انتظار کی مدت4سال کردی۔ یہ کاکروچ80سے4سال کی کھائی میں ڈوب مرنے کے بجائے زندہ ہیں ،کمال کا پڑتال ہے؟۔

دیوبندی بریلوی دلے بغیر ولی کی اجازت احادیث صحیحہ کو قرآن سے متصام قرار دیکر نہیں مانتے ہیں تو کفوء کا مسئلہ ان کی پچھاڑیوں کی پھڑک کا نتیجہ ہے؟یاپھر کہاں سے برآمد ہوا؟۔ یہ طالب صابر شاہ ، حافظ حاشراور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ضمیرنہیں رکھتے یا آخر بے ایمان سمجھتے کچھ نہیں ہیں ؟۔

ہندوستان میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو گالیاں دیکر حیلہ ناجزہ شرمناک کتاب لکھ ڈالی اور موجودہ دور میں بہت بڑے پیمانے پر جوان طبقے کا بھی ارتداد جاری ہے اور یہ خود کو بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی بہت کھل کر ترید کی ضرورت ہے۔

پھر لکھ دیا کہ شوہر نے تین طلاق دی اور پھر مکر گیا تو عورت خلع لے اور نہیں ملے تو حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں لے ورنہ گناہ گار ہوگی؟۔ یہ اپنی ماؤں نے دلوں کو بتایا ہوگا کہ تین طلاق ہوگئی ہے لیکن باپ کی لذتیں نہیں اٹھارہی ہیں؟۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی ماں کو گالی مت دو۔ عرض ہوا کہ اپنی ماں کو کون گالی دے گا یارسول اللہ (ۖ) فرمایا : دوسروں کی ماں کو گالی دوگے تو تمہاری ماں کو گالیاں پڑیںگی۔ علماء فتویٰ اور کتابوں میں حرام کاری اور اولادلزنا کے شرعی فتوے لگارہے ہیں؟۔ رسول اللہۖ نے حضرت علی کی بہن ام ہانی کے اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہنے پر حرام کاری اور اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگایا ۔ کن چوڑوں چماروں نے دین پر قبضہ جما دیا؟۔

اگر طاقتور کمزور سے بیوی چھین لے تو امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ حلال ہے لیکن جب عورت سے خلع کا حق چھین لیا جائے تو اس کا بھاگ جانا کیوں حرام ہے؟۔ جب ولی خاندانی تفوق کی وجہ سے لڑکی کو اپنی مرضی سے بغاوت پر مجبور کرتا ہے اور اس کو اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر حرامکاری کے فتوے کیوں؟۔ حال ہی میں کھوکھر برادری کی19سالہ مہوش نے شادی میں رکاوٹ پر55سالہ عاشق خالد چوہاں کیساتھ مل کر ٹارگٹ کلر سے اپنے والد کو قتل کروادیا ہے۔ مذہبی طبقات قرآن کو سمجھتے نہیں تو تبلیغ کیسے پھر مؤثر ہوگی؟۔ قرآن کا درس کوئی صوفیانہ ریاضت نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک سکھ سندھی مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بھی انقلابی بننے پر فتوؤں کا نشانہ بنادیتے ہیں۔

ہمارے ہاں مزارع جٹ خاندان کے عبداللہ جان کیساتھ ایک مولوی کی بچے دار بیوی کمترہ (کبوتری)بھاگ کر آئی تھی، مولوی شاید اس سے قتل کی دھمکی پر پیسہ وصول کرنا چاہتا ہوگا۔

علی شاطئی الوادی نظرت حمامة
اطالت علیّ حسرتی و تندمی

”میں نے وادی کے کنارے پر ایک کبوتری دیکھی جس نے مجھ پر میری حسرت اور ندامت کی زندگی طویل کردی ”۔

یہ عربی اشعار یزید بن معاویہ کے مشہور قصیدہ کے ہیں جس نے عراق کے گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی ارینب بنت اسحاق کو دیکھا اور اس کے شوہر سے طلاق دلوائی لیکن اس نے امام حسین سے شادی کی اور امام حسین نے پھر دونوں کی آپس میں محبت دیکھ کر طلاق دی اور عبداللہ بن سلام نے پھر شادی کی اور یزید کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی اوریہ قصیدہ مشہورہے۔

اصابک عشق ام رمیت باسھم
فما ھذہ الاسجیة مغرم
خذوا بدمی منھافانی قتیلھا
ولا مقصدی لا تجود و تنعمی
ولا تقتلوھا ان ظفرتم بقتلھا
ولکن سلوھا کیف حل لھا دمی
وقولولھا یامنیة النفس اننی
قتیل الھوٰی والعشق ولو کنت تعلمی
ولا تحسبوا انی قتلت بصارم
ولکن رمتنی من رباھا باسھم
لھا حکم لقمان و صورة یوسفٍ
ونغمة داؤد ٍ و عفت مریم
ولی حزن یعقوبٍ و وحشة یونسٍ
و الاٰم أیوبٍ و حسرة آدم

”تجھے عشق کی تکلیف پہنچی یا تیر کا شکار ہوگیا؟یہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ محبت کے دلدادہ کو پہنچتا ہے۔ اس کو پکڑو میرے خون سے میں اس کا مقتول ہوں۔ میرا مقصد نہ ہی کوئی جواب ہے اور نعمتیں حاصل کرنا اور نہ آسائش پانا ہے بلکہ محبوبہ کی ذات حاصل کرنا مقصدہے۔ اور اس کو قتل مت کرو اگر تم اسکے قتل کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ اس سے پوچھ لو کہ میرا خون کیسے اس کیلئے حلال ہوگیا؟۔ اور تم سب اسے کہو کہ اے میری جان تمنا، میں تو محبت وعشق کا مارا ہوا ہوں اگر توسمجھے تو۔ اور یہ مت سمجھو کہ اس نے مجھے تلوار سے قتل کیا ہے بلکہ اپنی بلندی سے نظروں کے تیر چلاکر مجھے قتل کیا ہے۔ اس کے پاس لقمان کی حکمت، یوسف کی صورت ہے اور داؤد کا نغمہ ہے اور مریم کی پاکدامنی ہے۔ اور میرے لئے یعقوب کا غم ہے اور یونس کی( مچھلی کے پیٹ میں) وحشت ہے۔ایوب کے درد ہیں اور آدم کی حسرت ہے”۔

یزید بن معاویہ نے اقتدار کیلئے امام حسین کی شہادت میں کامیابی حاصل کرلی مگر اپنے ماتحت گورنر کی بیوی سے طلاق لینے کے باوجود بھی اسکے ساتھ اپنی شادی کرنے کی حسرت پوری کرنے کی تمنا دل میں رہ گئی ۔

یزید کیلئے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق اور امام حسین سے اس کا نکاح اور اس کو طلاق ایک اتفاق تھامگر شیطان نے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جال بچھادیا اور کسی نہ کسی صورت کو آیت سے حلالہ قرار دینے کا جواز فراہم کیا ۔ حالانکہ اللہ نے تو حلالہ کی کسی صورت کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں رکھا تھا اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی۔ عربی لڑکی کی عجم سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا معاملہ تاریخ کے ایک جبر نے پیدا کیاتو پھر؟

یہ اتفاق تھا لیکن اس کو حلالہ پر محمول کرنے کی غلطی فرقہ زیدیہ کے امام زیدبن باقر بن زین العابدین بن امام حسین نے پہلی مرتبہ کی تھی۔ ظالم عرب کو عجم اپنے کفوء نہیں لگے تو چمچہ گیروں نے فتویٰ دیا کہ عرب کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ امام زید نے اس پر سوالات اٹھائے کہ لڑکی سے نکاح کیا اور ہاتھ نہیں لگایا تو قرآن آدھے حق مہر کو فرض قرار دیتا ہے اور ہاتھ لگایا ہے تو پورا حق مہر فرض ؟ اوراگر اس نے تین طلاقیں دیں تو پھر حلالہ کے بغیر جائز ہوگایا نہیںہوگی؟۔ کتاب المجموع : امام زید ،زیدیہ کے امام ۔

زید کا استنباط تھاکہ تیسری طلاق کا تعلق حلالہ کی لعنت ہے۔ حالانکہ عدی بن حاتم نے پوچھاتھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ تو رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”البقرہ229میں دومرتبہ طلاق کے بعد او تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ جبکہ اسی تیسری طلاق کے بعدہی تحکیم کا ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توقرآن نے حلال نہ ہونے کا حکم لگاکر طاقتور کا ہاتھ روکا ہے مگر الو کے پٹھے ہیں۔

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکمومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خودبدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق

حدیث میں بھی توازن ہے کہ لڑکی اور اس کے ولی کو نکاح میں باہمی رضامندی ہے اور جبر کا خاتمہ ہے اور لڑکی جب کشتی جلادیتی ہے تو اپنے خاندان کی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے اسلئے ولی کو راضی کرنے کی ترغیب ہے اور دوسری طرف جمہور نے بیوہ وطلاق شدہ کو بھی حدیث کی بنیاد پر ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا ہے ۔قرآن و حدیث کی افہام وتفہیم کی جگہ مسالک کی جنگ میں عربی اور حقائق سے ناوقف ذہن بھٹکتا ہے۔

فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO

” پس جب وہ (بیوہ عورتیں) اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو تم پر کوئی حرج نہیں جو بھی وہ اپنی جانوں کے بارے میں فیصلہ کریںمعروف طریقے سے۔ جو تم کرتے ہو اللہ کو خبر ہے”۔

البقرہ:آیت237میں بیوہ کو اجازت دی گئی لیکن فقہاء نے مسالک کے چکر میں قرآن دیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ

الذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسألنھم اجمعینO

”وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیں گے”۔ (سورہ الحجر:91،92)
قرآن کی طرف توجہ اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تقاضہ پورا کریں تو بیڑہ پار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ

رنجیت سنگھ کی مسلم بیوی کا محل سرکاری ورثہ بنا مگر جانشین دلیب سنگھ کو وطن نہیں آنے دیاتھا۔ راجہ مہندر پرناب سنگھ(1886تا1972) جنگ1914 میں آزادی کیلئے سوئیزرلینڈ، جرمنی ،ترکی1915کابل پہنچا، مولانا عبیداللہ سندھی کو آزاد کیا، عبوری حکومت کا تاحیات صدر،مولانا سندھی وزیر داخلہ۔1918میں ترکی وجرمنی شکست کھاگئے ۔1919میں افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ قتل ہوا۔ امیر امان اللہ خان کی انگریز کیخلاف جنگ ،راولپنڈی معاہدہ اورافغانستان کی آزاد حیثیت تسلیم مگرپھر انگریزنے سازش سے1929میں امان اللہ خان کو بھگایا۔ سکندر مرزا نے1930میں میرے نانا سید سلطان اکبر سے جٹہ قلعہ افغان پیر کیلئے کرائے پر مانگا توکہا: ” افغان بھائی کاخون گرانے کیلئے نہیں دیتا”۔ پھر انگریز دوسروں کو زمینیں دیں تو نانا نے کہا کہ مجھے بھی توپنجاب دائرہ دین پناہ کوٹ ادو میں زمین دیدی۔ میرجعفر کا پڑپوتاسکندر مرزا پہلا صدر پاکستان بنا جو جنرل ایواب نے ہٹادیا۔ جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر1970کا الیکشن کرایاتو جمعیت علماء اسلام پر مفتی شفیع نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ ”خطرے میں اسلام نہیں” سے جالب مشہوراہوا۔1977میں ڈالری نظام مصطفی تحریک چلائی گئی۔1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کے ہمراہ محسود اور انکے بھائی سیداحمد شاہ کے ہمراہ بیٹنی وفد امیر شیرعلی سے ملنے کابل گیا۔1878میں انگریز نے افغانستان پر حملہ کیا، شیر علی کا بیٹا یعقوب بیٹھادیا۔ پھر1880میں اسکے چچا زاد امیر عبدالرحمن کو کابل تخت پر بٹھا یا۔ امیر حبیب اللہ انقلابیوں کا سپورٹر مگر خود انگریز کا پالتو ۔1920میں فتویٰ پر مولانا احمد علی لاہوری ،باچا خان50ہزارافراد افغانستان گئے۔
ــــــــــ

حکیم عبد الرحمن جعفر، فیس بک

مولانا عبید اللہ سندھی کی ریسرچ علماء مان لیتے، تو ہندوستان نہیں اسکے اثرات دنیا میں ہوتے۔ آج کل یونیورسٹیاں اپنے بڑے سینئر پروفیسر کو بھیجتی ہیں، این جی اوز اور گورنمنٹ پیسے دیتے ہیں کہ فلاں مسئلہ ہے، کوئی تھیسس لکھو۔تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اسیرِ مالٹا، انکے یہ شاگرد مولانا سندھی، مولانا تھانوی کو تصوف سونپا۔ مولانا الیاسنے تبلیغی جماعت بنائی۔ مولانا حسین احمد مدنی کے ذمے سیاست لگائی۔ مدرسہ بھی ذمے لگایا، مفتی کفایت اللہ بانی جمعیت علما ہند تھے، جبکہ مولانا عبید اللہ سندھی کو انہوں نے باہر سروے کیلئے تحریکِ ریشمی رومال شروع کرائی تھی کہ جا ؤ افغانستان، روس، جرمنی۔ اس وقت مولانا سندھی کی بات پہ عمل ہو جاتا تو آج دنیا کا اور مسلمانوں کا نقشہ بھی اور ہوتا۔ آج پاکستان میں مولانا سندھی کی سیاست کی تعریف صرف حضرت مولانا مسعود گدی نشین دین پور کرتے ہیں ۔باقی علما ء کو تو پتہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ کی تحریک کیا تھی، مولانا عبید اللہ سندھی کیا تھا، وہ اکابر کیا تھے، وہ بیچارے آج بس صرف جو ریڈیو ٹی وی یا جس کا انبوہ بڑا دیکھتے ہیں، جس کا جلسہ بڑا دیکھتے ہیں وہ اس طرف جاتے ہیں، اپنے اکابر کی تاریخ اور قربانیوں کا ان کو پتہ ہی نہیں۔
ــــــــــ

تاریخ کومسخ مت کرو

مولانا سندھی کی قبرپر انقلاب کی دعا1987میں مانگی۔ان کی عظمت انکی تعلیم لیکن جھوٹی کہانیاں مت گھڑو۔شاہ ولی اللہ سے دیوبند تک مقصد اسلام کی نشاة ثانیہ مگر حلالہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکاہے۔
بھارتی وزیراعظم مرار جی دیسائی کو ڈاکٹر قدیر کی طرح” نشان پاکستان ”بڑی مثالی انسانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت

واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO

”اور جب نے ہم نے آپ سے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کو گھیرا ہے اور آپ کا خواب نہ بنایا مگر لوگوں کی آزمائش اور قرآن میں شجرہ ملعونہ اور انہیں ڈراتے تو ان کو نہیں بڑھاتا مگر بڑی طغیانی میں”۔ (بنی اسرائیل:60) شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت ہے۔

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہO(المائدہ آیت:48)

”اور ہم نے تیری طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی جو اسکے ہاتھ میں کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پر محافظ ہے”۔

یہود نوح کی بیوی بدکار، عیسائی پاکدامن کافرہ اور ابن عباس ، جمہور کے نزدیک پاکدامن، حسن بصری اور مجاہد کے نزدیک بدکار ۔ (تفسیر قرطبی) قرآن تصدیق بھی کرتا ہے اور غلطی کی درستگی بھی؟۔

امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتًا فی الجنة ونجنی من فرعون و عملہ و نجنی من القوم الظالمینO

”فرعون کی بیوی نے جب کہا کہ اے میرے رب ! میرے لئے جنت میں گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ”۔ (سورہ التحریم آیت:11)

3 طلاق اور حرمت پر جبری حلالہ کیا جاتا تھا اور اسلئے فرعون کی بیوی نے حلالہ سے پناہ مانگی تھی۔

نوح نے بتایا کہ حلالہ نہیں ،3طلاق دی مگر اس نے مجنون کہا۔ چھپاکر حلالہ کیا تو پھروہ لڑکا جم گیا ۔

قال یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالحٍ فلا تسألن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجاھلینO(سورہ ھود:آیت:46)

” فرمایا: اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ یہ نادرست عمل ہے۔ پس مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں ،میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنو! ”۔

یہ نہیں کہا:
ان عملہ غیر صالح
اس کا عمل صالح نہیں بلکہ
انہ عمل غیر صالح
”بیشک وہ غیر صالح عمل ہے”۔
غیر صالح ”حلالہ کی پیدوار” اور حلالہ زنا تو نہیں لیکن جب نوح نے واضح کیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع ہے ۔ اس نے نہیں مانا تو کافرہ ہوگئی اور شوہر سے خیانت کرکے چھپا کرحلالہ کیا ۔

امرات نوحٍ و امرات لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا ھما

”نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو میرے صالح بندوں کے نیچے تھیں اور پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ”۔ (سورہ تحریم:10)

قال النبیۖ لولا بنوا سرائیل لم یخنز اللحلم و لولا حواء لم تخن انثی زوجھا صحیح بخاری نمبر 3330۔

”نبی ۖ نے فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ”۔

اہرام مصر کی ترقی میں پیش رفت بنی اسرائیل نے نافرمانی سے روکی ،ورنہ گوشت نہیں سڑسکتا تھا۔ اگر حوا حضرت آدم کے ساتھ شریک نہ ہوتی توکوئی عورت اپنے شوہر سے چھپ کر حلالہ نہ کرتی۔

اناجیل میں ہے کہ حضرت مریم یوسف نجار کی منگیتر تھی لیکن جبرائیل نے یوسف نجار کی شکل میں خدا کی روح پھونک دی ۔یوسف نجار نے توراة کے مطابق سزا سے بچانے کیلئے مریم کو تحفظ دیا۔

مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمات ربھا و کتبہ

”مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اسمیں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اوراسکی کتابوں کی تصدیق کردی”۔ (سورہ التحریم:12)

عیسائی3سوسال پہلے طلاق کے قائل ہوگئے۔ یہود حلالہ چھوڑیں گے ۔ سورہ نور میں لعان کا حکم اور زنا پرسوکوڑوں کی سزا ہے۔ شوہررنگے ہاتھ پکڑلے اور عورت جھوٹ بولے توبھی کوئی سزانہیں ہے ۔

قرآن سے توراة وانجیل کو سمجھاتو عیسائی مذہبی طلاق کومانیںاور یہود حلالہ چھوڑدیں۔نبیۖ کی نرینہ اولاد کو اللہ نے بچپن میں اٹھایا۔ عیسیٰ کی آمد تو نبیۖ کا مقدمہ تھادادا نہیںنانا کے وارث تھے۔ میرے اجداد نے یتیم نواسوں کو ذاتی و قومی جائیداد میں حصہ دیا۔ ”میراث آدھا علم ہے”۔نبیۖ۔ داؤود کا وارث سلیمان ذاتی و قومی جائیداد، خاندانی املاک ، حجرات اور باغ فدک میں فرق ۔ ازواج مطہرات کے اخراجات تھے مگر اولاد نہ تھی تواولاد فاطمہ کو ملنا تھا۔ طلاق اور مسائل کا فضول حجم ختم تو میراث اور باقی علم کا توازن برابر !۔ مفتی تقی عثمانی وارث تومولانا ولی رازی کیوں نہیں؟۔ زکی کیفی کے یتیم بچوں کو داداکی میراث کا حق کتنا مل سکا؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
اور ان دونوں سے مو دبانہ گزارشات :سید عتیق الرحمن گیلانی

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف
حضرت مولانا اشرف صاحب سلیمانی کا واقعہ
(ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم)

پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے کہا کہ سالِ اول کے طالب علم سرفراز چند دن میڈیکل کالج میں گزارنے کے بعد ہمارے شیخ و مربی مولانا محمد اشرف (سابق پروفیسر و صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی) سے ملنے کیلئے آیا۔ برخوردار تبلیغی دینی لحاظ سے فکر مند تھا، ملتے ہی کہا، ”حضرت میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑنا چاہتا ہوں یہاں کا مخلوط ماحول اور بے دین فضا مجھے بالکل پسند نہیں”۔ فرمایا ”بھلے آدمی!لڑکیاں تو نہیں بھاگ رہیں تو مرد ہو کر ہتھیار ڈال رہا ہے۔ یہ تعلیم چھوڑ کر کرو گے کیا؟”اس نے کہاکہ دینی مدرسے جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا دیکھو علما ء بہت ہیں علما ء کے خادم کم ہیں۔ تم ڈاکٹر بن کر علما ء کا خادم بنو۔ ڈاکٹر بنا، حضرت کی صحبت کا نتیجہ کہ عملی لحاظ سے کئی علما ء کیلئے قابلِ رشک بنا اور واقعی علماء کا ایسا خادم بنا کہ جہاں بھی رہا وہاں کے علماء کی خوب خدمت کی۔ ایک حادثے میں شہادت ہوگئی لیکن آج تک ان کی خدمات دوست احباب اور علمائے کرام کے حلقوں میں یادگار ہیں۔ ہمارے حضرت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے مریدوں کو دنیا کے کاموں میں ایسا چلاتے تھے کہ اس دنیا کو دین اور عبادت بنا دیتے تھے۔

تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

مسلک صاحبِ فتاوی

صاحبِ فتاوی مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر طعن نہیں کرتے
احقر العباد بندہ رشید احمد گنگوہی عفا اللہ تعالی عنہ بخدمت اربابِ فہم و دیانت عرض کرتا ہے کہ بندہ کا مذہب حسب مسلکِ حق جملہ حق و دین یہ ہے کہ جس مسئلہ میں صحابہ و مجتہدین علیہم الرحمة کا اختلاف ہو تو اس میں جس جانب کو اپنی تحقیق سے یا تقلید کسی مجتہد اہل حق سے راجح سمجھے اس پر عمل درآمد رکھے اور دوسری جانب پربھی بے جا کوئی طعن و تشنیع نہ کرے۔ عند الضرورت اس پر بھی عمل کر لے۔ اسی وجہ سے یہ بندہ عاجز حنفی المذہب ہے کسی اہل مذہب پر طعن نہیں کرتا اور نہ اپنے مذہب کی خواہ مخواہ ترجیح کے درپے ہوتا ہے مگر عندالضرورت جہاں کچھ رفعِ فساد یا اصلاح متصور ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں کچھ لکھ دیتا ہے۔فقط کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ

تبصرہ: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب1982میں رائیونڈ کے اندر حاجی عبدالوہاب سے میں نے مشورے کا کہا تو فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ نہیں لینا”۔ کانیگرم کے مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ جماعت میں تشکیل کریں ۔ مولانا شاہ حسین محسود نے کہا کہ نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ لیں۔ دارالعلوم کراچی میں انڈسڑیل ایریا کی وجہ سے داخلہ لیا جہاں کام بھی ملا لیکن جب میں نے کہا کہ زکوٰة میرے لئے جائز نہیں اور بلا معاوضہ دین کی خدمت کروں گا تو داخلے سے انکار کردیا۔ پھر مولانا یوسف لدھیانوی شہید سے کہا کہ والدین کی اجازت نہ ہو جبکہ میری خدمت کی ان کو ضرورت نہیں تو کیامیرے لئے علم حاصل کرنا جائز ہے ؟۔فرمایا: مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔ میں نے کہا کہ مشورہ نہیں فتویٰ مانگ رہاہوں تو فرمایا کہ ”پھر پڑھ سکتے ہو”۔ ایک سال مدرسہ میں پڑھا تو بہت فضول لگا اسلئے کہ سارے معاملات الٹ تھے اور اپنے مرشد حاجی عثمان سے کہا کہ علم چھوڑ کر حفظ کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا : میں عالم نہیں ہو ں ،کسی استاذ سے مشورہ لو۔ میں مولانا عبدالیقوم چترالی کے پاس گیا تو فرمایا کہ ”حفظ کی ایسی حیثیت نہیں علم حاصل کرو”۔ آج اگر مولانا چترالی کا مشورہ نہیں ہوتا تو میں علم کی یہ خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ رحمان بابا نے فرمایا:

” جب تم علم کے بغیر پیری فقیری کروگے تو اپنی کھوپڑی کو آگ لگادوگے”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی اور عمر ضائع کردی”۔ اسلئے مولانا بنوری نے علماء کو قرآن، حدیث اور عربی سکھانے کیلئے مدرسہ کھول دیا لیکن جب دارالعلوم کراچی شہر سے کورنگی منتقل ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت آگئی اور درس نظامی کی تکمیل کیلئے پھر جت گئے۔ الحمدللہ مولانا بنوری کے اخلاص کی برکت سے اساتذہ کرام سے تعلیم کی درست رہنمائی مل گئی۔
ــــــــــ

الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت

” ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک مکان و زمان کی قید سے آزاد و مطلق ہے ۔ روح مطلق ہوتواسکے نزدیک ماضی، مستقبل، حال، ظاہر باطن سب برابر ہیں ۔ روح کے نزدیک ہر چیز ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہمارے آقا نبی کریم ۖ اگر آپ عقل یا دل سے سوچیں تو آقا نبی کریم ۖسنتے ہیں۔

فتحِ مکہ کے دن، جب ہمارے آقا نبی کریم ۖ کعبہ کے پاس تھے، تو ایک شخص آیا، اس نے اپنے دل میںکہا: ‘آج میں محمد (ۖ)کو قتل کر دوں گا عربوں کو ان سے نجات دلاؤں گا۔ ”ہمارے آقا نبی کریم ۖ وفود کا استقبال کر رہے تھے اور فتح کا موقع تھا، جبکہ وہ کہہ رہا تھا: ”آج میں محمد(ۖ)کو قتل کر کے عربوں کو ان سے راحت دلاؤں گا۔اس نے ایک خنجر (چھری)لیا اور ہمارے آقا نبی کریم ۖ کے قریب آنے لگا، اور اپنے دل میں کہہ رہا تھاوہ کیا کہہ رہا تھا؟ ”آج میں محمد (ۖ) کو قتل کر کے مخلوق کو ان سے آرام دلاؤں گا۔”

ہمارے آقا نبی کریمۖ دیکھ رہے تھے۔ وہ شخص رسول اللہ ۖ کے پاس کہہ رہا تھا، چاہے وہ زبان سے کہتا یا دل میں سوچتا، ایک ہی بات تھی، ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اس سے فرمایا:تم نے کیا کہا؟۔

اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول!میں تو اللہ سے استغفار کر رہا تھا، میں تو استغفار کر رہا تھا۔آپ ۖ نے فرمایا: نہیں، سچ بتا تم نے کیا کہا تھا، کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ آج میں محمد کو قتل کر کے اس سے خلقت کونجات دلاؤں گا؟۔اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں! پھر ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اسے اپنے پاس کیا، اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ وہ شخص کہتا ہے: رسول اللہ ۖنے مجھے اس حال میں چھوڑا کہ آپ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو چکے تھے۔

شایدیہ ہے کہ ہمارے آقا نبی کریم ۖکی روحِ مبارک مطلق (آزاد)ہے، اسلئے ان کے ہاں ظاہر باطن برابر ہیں۔ اور یہ چیز ہم نے اللہ کے ولیوں کے ہاں بھی دیکھی ہے۔ ولی کے پاس جب اس کی روح مطلق ہوتی ہے چاہے آپ اپنے دل میں سوچیں یا اپنی زبان سے بولیں، دونوں ایک ہی بات ہوتی ہے؛ چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ سوچ رہے ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عقل تسلیم نہیں کر سکتی، یہ روح کی دنیا ہے، اور روح کی دنیا کا جسمانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، روح کی دنیا میں ہر چیز (موجود)ہے۔

مثال کے طور پر، آپ اپنے شیخ سے ملتے ہیں، آپ اور شیخ کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے شیخ سے ملتے ہیں، تو وہ دوسرا شیخ آپ سے کہتا ہے: کیا آپ کے شیخ نے اس دن آپ سے یہ بات نہیں کہی تھی؟۔ روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر اولیاء کی روحوں کا یہ حال ہے تو ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک کا مقام کیا ہوگا؟ ہمارے یہ آقا نبی کریم ۖہر چیز کو دیکھتے ہیں، ہر چیز کو سنتے ہیں، ہر چیز میں اجازت دیتے ہیں اور ہر چیز میں تصرف فرماتے ہیں۔

یہ ہم ایسی باتیں کر سکتے ہیں جسے شاید (ظاہری)عقل قبول نہ کرے، لیکن روحِ محمدی ایسی روح ہے جس کی کوئی سرحد و حد نہیں۔ تمام کائناتیں رسول اللہ ۖکے نور سے پیدا کی گئیں، اور فرشتے رسول اللہ ۖکے نور سے تخلیق کیے گئے، اور آپ ۖ تمام موجودات کے سردار ہیں، اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کا اور اس کی مخلوق کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔

تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رحمة للعالمین ۖ سے یہ فرمایا کہ
فلم تقتلوھم و لٰکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولیکن اللہ رمٰی ولیبلی المؤمنین منہ بلآئً حسنًا ان اللہ سمیع علیمO
”تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے وہ کنکر پھینکے تاکہ مسلمانوں کو اچھی آزمائش میں مبتلا ء کردے۔ بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (سورہ الانفال آیت:17)

پھر غزوہ ، احزاب اور غزوہ حنین میں مشکل کا اللہ نے شکار کیا۔ تاکہ صوفیا ء کرام تزکیہ نفس کو مشاہدات کے علاوہ آزمائش کے حقیقی میدانوں میں بھی جانچ سکیں۔ کبھی کمزور انسان کو اللہ بلا سے لڑادیتا ہے۔جیسے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام لڑے۔
ــــــــــ

مودبانہ گزارشات
سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فداء محمد ہمارے بچپن میں غالبًا کانیگرم تشریف لائے تھے اور مولانا اشرف ہمارے ہاں اللہ کے ولی مشہور تھے جن کی ہمارے مرشد حاجی عثمان نے بھی تعریف کی تھی۔

مولانا اللہ یار خان نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔1982ء میں اسٹیل مل میں ان کے مرید تھے اور ان کے رسالہ ”المرشد” کے مضامین مجھے بہت اچھے اور اعتدال والے لگے۔ خاص طور پر نبیۖ کے نور وبشریت پر ادنیٰ مثال کرنٹ والے بجلی کے تار اور عام تار میں فرق کا دیا تھا اور مجھے انہوں نے پیشکش کی تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہیں کریں ،براہ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت ہوگی لیکن میں نے پہلے سے منع کردیا تھا۔ امام مسجد مولانا بیعت تھے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نبیۖ کی زیارت کی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ میری ایسی قسمت کہاں ؟۔ پہلی بار آپ کیلئے یہ پیشکش سنی ہے۔ سردار امان الدین شہید نے انکے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اخوان تحریک ،MNAجنوبی وزیرستان مولانا نور محمد شہید اور مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی تھی۔ مشرق اخبار کی معروف کالم نگار مریم گیلانی نے امان الدین شہید کی طرف سے تحریک کو اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ جبکہ مولانا اکرم اعوان نے وزیرستان کے لوگوں کیلئے فرمایا تھا کہ ” اس بیچ کو اللہ نے انقلاب کیلئے رکھا ہے”۔ اگر تحریک طالبان و دیگر ہتھیار اٹھانے والی سب تنظیمیں ہتھیار رکھ دیں اور علماء و صوفیاء اور ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں قرآن کے احکام کی طرف آجائیں تو بغیر کسی مشکلات کے دنیا میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔ سب اس نظام سے تنگ اور مایوس ہوچکے ہیں۔

مشاہدات، خواب اور انقلابی جدو جہد کے نتائج دیکھنے کی حسرت اس وقت پوری ہوسکتی ہے کہ جب قرآن کے احکام کو معاشرے میں زندہ کریں گے اور مردہ لوگوں کی روح کو زندگی مل جائے گی۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور ہندوستان کے مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے زندہ و تابندہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹ لیں گے۔ جب اسلامی جمہوری محاذ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان میں ہوا تھا اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی زندہ تھے۔ قبر پر فاتحہ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے۔ عقائد میں سب ایک ہوسکتے ہیں۔ مولانا خان محمد شیرانی سے اس وقت جمعیت علماء اسلام کا ایک عالم دین الجھ رہاتھا تو میں نے اجازت مانگ کر مطمئن کیا تھا اور اس نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے بتادیا۔ اس نے کہا کہ مجھے پہلے گمان تھا کہ آپ ہوسکتے ہیں۔ آپ نے چھڑا دیا۔

ہمیں ہار جیت کیلئے نہیں اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے مسلمانوں کو ہی نہیں تمام مذاہب کو بھی قرآن کی درست تعبیرات سے وہ نشان منزل قائم کرنا چاہیے جس سے جلد منزل کو پہنچ جائیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم!(خاتون کی آواز ہے)
پارلیمنٹ میں بیٹھے بہت سے افراد پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک جن کے آبا اجداد ملک و ملت اور مذہب سے غداری اور برطانیہ سے وفاداری کے صلے میں اس مقام تک پہنچے ۔

سب سے پہلے بھٹو خاندان کا شجرہِ نسب یہ ہے: غلام مرتضی بھٹو، ان کا بیٹا شاہنواز بھٹو اور ان کا بیٹا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت اصفہانی ایرانی لڑکی دوسری بیوی تھی جن سے بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ خاندان کی کہانی یہ ہے کہ1843میں چارلس نیپئیر کی قیادت میں انگریز نے سندھ پر قبضہ کیا اور دولت کی لوٹ مار کیلئے انگریز نے خاص طبقہ پیدا کیا جسکے ذمے عوام سے لگان یعنی ٹیکس کی وصولی تھی۔ برصغیر کی غریب عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریز کی مہربانیوں سے بھٹو برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں غربت کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔

بہر حال خدابخش خان اور اسکے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور انکے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ باری باری وفات پا گئے۔ مگر انہی میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے صلح کر لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا گوارا نہ کیا اور یہاں سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انگریز نے شاہنواز بھٹو کو بہت نوازا اور یہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ شاہنواز بھٹو1888میں پیدا ہوا اور1957میں فوت ہوا۔ یہ ممبئی حکومت میں مشیرِ اعلی، جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان اور انگریز کی بمبئی پریذیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ اس کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلےCIEاور بعد میں برطانیہ نے”سر” کا خطاب دیا۔ خاندان کے ابتدائی افراد، جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریز کے خلاف مزاحمت کی بعد کی نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ نے ”سر”، ”نواب” اور ”بہادر”کے خطابات دئیے۔ خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بے شمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب ہاریوں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے۔ سکھر اور جیکب آباد عملاً ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ خود انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین (David Cheesman) نے اپنی کتاب
Landlord Power and Rural Indebtedness in Colonial Sind
کے مطابق سندھ میں یہ وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھیں مگر برطانیہ کے وفادار رہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان کے علاوہ انگریز کے وفادار میں وڈیرو غلام قدیر درخان، میر عبدالحسین خان تالپور موجودہ سیاستدان فریال تالپور کے اجداد ہیں، اس کے علاوہ غلام رسول جتوئی اور جتوئی خاندان انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے، شامل تھے۔

شاہ محمود قریشی جو مخدوم کہلواتا ہے سکھوں کے ابتدائی دور اسکے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود، درگاہ کے گدی نشین تھے۔1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو فتح کیا تو مخدوموں کو ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی جو بڑی رقم تھی۔1847میں سکھ کی قوت لڑکھڑانے لگی اور برطانیہ نے یونین جیک کا جھنڈا برصغیر پر گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے انگریز کو جو خفیہ خبریں دیں، جو مخدوموں کے نئے آقا کیلئے انتہائی مفید اور مددگار ثابت ہوئیں۔ انگریزنے ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تاحیات1700روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا۔1857کی جنگِ آزادی کے خونی ہنگاموں کے دوران اس یارِ وفادار نے سرکاری فوج میں20ہزار سوار اور کافی پیادے بھرتی کروائے اور25سواروں کی پلٹن بنا کر جب کرنل ہیملٹن، رائے احمد خان کھرل اور انکے مجاہدین کے خلاف خونی لڑائی لڑ رہا تھا تب مخدوم شاہ محمود نے خفیہ مخبر کے علاوہ انگریز کی قوت بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔

جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی رہنما انگریزوں کی امداد کر رہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہدِ آزادی پر بہت برا اثر پڑا۔ اور مخدوم شاہ محمود کو30ہزار روپے نقد کے علاوہ1800روپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوؤں پر مشتمل زمین برطانیہ نے دی۔ شاہ محمود قریشی کی1859میں وفات کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش سجادہ نشین بنا۔ اس کی دستار بندی انگریز ڈپٹی کمشنر نے بڑی شان و شوکت سے اپنے ہاتھوں سے کی۔ انگریز اور افغان کے درمیان جنگ ہوئی تو انگریز کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ جہاں مجاہدین پاکستان کے پہاڑوں میں انگریز کیخلاف لڑائی لڑ رہے تھے تو گدی نشین انگریز کا ساتھ دیکر امت سے غداری کے بدلے میں بھاری رقم وصول کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اجداد اور مرزا غلام احمد قادیانی خاندان کا انگریز کی ایجنٹی میں کردار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلم مزاحمت کو کچلنے اور انگریز کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کی۔ دوسرے خاندان سے کذاب نبی نے جنم لیا جس کی باقیات آج بھی ہم پر مرزائیوں کی صورت میں مسلط ہیں اور تفصیل سن لیں۔ وکیل انجم کی کتاب ”سیاست کے فرعون”

ویڈیو لنک درج ذیل ہے۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔

حرام حلالہ سینٹرز

ویڈیو کی تفصیل دیکھ لیں ۔ یہاں کچھ اقتباس دیتے ہیں۔
میزبان: کراچی، لاہور، اسلام آباد، بہالپور ایسے شہروں میں حلالہ سینٹر ہیں۔ پیسے لے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔

تہمینہ شیخ : یہاں کیا کرتے ہیں؟ کہتے ہیں دو لاکھ روپیہ دو، حلالہ کرا دیں۔ بہالپور میں دو لاکھ کا باقاعدہ ہ ا شتہار۔

تہمینہ شیخ: بہت بہترین قسم کا یہ کیس ہے جس سے لوگوں کو سبق بھی مل سکتا ہے۔ ہر خبر میں سبق ضرور ہوتا ہے لیکن لوگ صرف خبر کا مزہ ضرور لیتے ہیں لیکن سبق نہیں حاصل کرتے۔ اس خبر میں جو ذکر ہے، جو سبق ہے وہ حلالہ ہے۔ وہ دین ہے، وہ دنیا ہے اور وہ آخرت ہے ایک عورت کی۔ لیکن پتہ نہیں مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ کیوں بربادی کی طرف چل پڑے ہیں، چل نہیں پڑے دوڑ پڑے ہیں سارے کے سارے۔ یہ کیس پشاور کا ہے اور ایک موضع ہے جسے کہتے ہیں متھرا۔ ہدایت اللہ نامی شخص ایک عورت کا شوہر۔ ہوتا کیا ہے؟2010میں والدین اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں ہدایت اللہ سے اور اس میں بیٹی جو ہے اس کا نام زینب ہے۔ یہ شادی15سال بڑی بہترین انداز میں چلی زینب کو شوہر بہت زیادہ مارتا پیٹتا تھا۔ ہر دفعہ برداشت کرتی تھی، ایک دن سامنے اکڑ کے کھڑی ہوگئی، خبردار جو اب ہاتھ لگایا۔ پتہ نہیں وہ طاقت، وہ حوصلہ، وہ ہمت کہاں سے اس کے اندر آیا۔ جس دن اس نے آواز اٹھائی فرسٹ ٹائم، میں 15سال بتا رہی ہوں کہ شادی رہی، اسی دن اس کو تین طلاقیں ہوئیںموقع پہ۔ میں غیرت مند آدمی ہوں اور میں کیسے برداشت کروں کہ میری عورت کی آواز مجھ سے بلند ہوئی۔ اوکے ڈن، طلاق ہوگئی۔

اب اکٹھی تین طلاقیں ہوئیں نا، تو یہاں پر کردار ہے ایک اسلامک سکالر کا، وہ بہت اچھے سے بتا سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہم نے سنا، غلطی بھول چوک معاف کہ اکٹھی تین طلاقیں ہوتی نہیں۔ دین تو یہ کہتا ہے۔ باقی اسلامک سکالر، مفتی حضرات جو ہیں ہم سے بہت بہتر علم بھی رکھتے ہیں اور وہ بتائیں گے اس حوالے سے۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں ہوتی ہیں۔

پھر بیٹھ گئے۔ مسئلے کا حل نکالتے ہیں، کسی کو بتایا تو نہیں؟ نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے ماں باپ کو؟ نہیں بتایا۔ اوکے۔ چلو پھر اس کا حل حلالہ ہے۔ میں تو نہیں مانتی یہ کیا ؟۔ میں مولوی کو لاتا ہوں، مولوی آگیا۔ میاں بیوی، مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ مسئلہ سننے کے بعد مولوی کہتے ہیں حل واقعی حلالہ ہے، اگر دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ بتا کون رہا ہے؟ مولوی صاحب۔۔ اچھا جی اب یہ طے پا گیا۔ اب کس کے ساتھ اس کا حلالہ کرواؤں؟ ایک اس کا بڑا بیسٹ بڈی ہے، دوست ہے اس کا، اس دوست کا نام ہے راجبری۔

میزبان: اگر حلالہ کی بات کریں تو دین ہمیں جو بتاتا ہے کہ اس مرد کی اب وہ سابقہ بیوی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو کسی اور مرد کیساتھ نکاح کرنا پڑے گا، ازدواجی تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد جو نیا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے گا تب جا کر جو بیوی ہے اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور وہ تب جا کر حلال ہوگی، یہ پورا ایک کنسیپٹ ہے۔
تہمینہ شیخ: شرعی حیثیت بالکل آپ نے جو کہا یہ ہے سچویشن۔ مگر شرعی حیثیت میں پری پلانڈ اگر کیا جائے تو ہوتا ہی نہیں ۔

میزبان: ہاں پیسے دیکر حلالہ کروا لیا جائے یا اس نیت سے کروایا جائے کہ طلاق دینی ہے پھر بیوی نے واپس جانا ہے۔
تہمینہ شیخ: بالکل۔ جیسے ہم کیس میں بات کر رہے ہیں اب شوہر دوست ڈھونڈ کے اس کیساتھ حلالے کیلئے بھیجے، واپس لے آئے، تو یہ ہوتا ہی نہیں ہے نا، دین تو ایسا نہیں کہتا۔ راجبری کو کہا کہ میرا جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے طلاق دے دی، حلالہ کرنا ہے تیرے ساتھ۔ وہ اس کا منہ دیکھ رہا ہے، کیا بول رہا ہے اپنی بیوی کے بارے میں؟ پانچ سے دس منٹ کی اس نے کونسلنگ، راجبری کو ایگری کر دیتا ہے نکاح کیلئے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے پھر کل نکاح کریں؟ کہتا ہے ہاں کریں۔ اب راجبری کے ساتھ نکاح کر دیا جاتا ہے باقاعدہ طور پر اور نکاح میں مولوی بیٹھا ہے اور اس نکاح میں کچھ گواہ بھی بیٹھے ہیں۔ رخصت ہو کر چلی گئی جو کوئی گھر یا فلیٹ ہوگا۔ صبح ہوئی، بڑا ہنسی خوشی جاتا ہے راجبری کے اسی فلیٹ پر جہاں پر اپنی بیوی کو رخصت کر کے آیا ہے یہ۔ حیران اور پریشان ہوں میں، مجھے سناتے ہوئے بعض اوقات شرم آتی ہے میں کیا بتاؤں عوام کو، لیکن جو صورتحال ہے وہ بتانی اتنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو کم سے کم اویئرنس تو آئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ نہ کھلے، پھر کھٹکھٹایا نہ کھلے۔ دھیان گیا سائیڈ پر چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے دروازے کو،، فون کیا، فون بند۔ چار دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے بعد فون آن ہوا اور رابطہ ہوا۔ راجبری تم کہاں چلے گئے یار؟ تمہارے ساتھ میرا طے ہوا تھا؟ تم کون بات کر رہے ہو؟ جواب آرہا ہے۔ شاک۔ میں کون بات کر رہا ہوں؟ یار میں نے حلالے کیلئے اپنی بیوی کا نکاح نہیں تم سے کرایا تھا؟ کہتا ہے اچھا اچھا۔ اپنی بیوی کا نہیں اب وہ میری بیوی ہے اور میں ہنی مون پیریڈ پر ہوں۔ کہتا ہے کیا مطلب ہے تم ہنی مون پہ ہو، میں نے واپس لینی تھی، تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا۔ کہتا ہے میری بات سنو، طے میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، لیکن میرا اب دل آگیا اس پہ، میں نے نہیں چھوڑنی بھائی میری بیوی ہے۔ زینب کی آوازیں آرہی ہیں پیچھے سے۔ کہتا ہے بیٹھ کر بات تو کر لو تم لوگ۔ ٹائم سیٹ کرتے ہیں۔یہ بیٹھ جاتے ہیں سیٹنگ میں، زینب، راجبری، اس کا وہ شوہر پچھلا۔ بیٹھ گئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے یار یہ میری بیوی ہے میں نے نہیں چھوڑنی۔

میزبان: زینب کا کیا موقف ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا اتنا انٹرسٹنگ مؤقف ہے۔ یہ کہتا ہے میں نے بیوی نہیں چھوڑنی دل آگیا۔ وہ کہتا ہے زینب، چلو نا گھر، دیکھو یہ کیا فضول باتیں کر رہا ہے۔بچے انتظار کر رہے ہیں۔ زینب کیا کہتی ہے؟ کیا مطلب ہے چلو نا چلیں گھر؟ میرا گھر تو یہی ہے جس کے میں نکاح میں ہوں، تم چلو یہاں سے باہر، نکلو باہر کمرے سے۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا حلالہ، کیا تم بھول گئیں وہ15سال شادی کے، وہ تین بچے۔ زینب آگے سے کہتی ہے ہاں میں بھول گئی تھی تب جب تم نے مجھے کہا تھا تین مرتبہ طلاق اور جب ہر دفعہ تم مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ مارتے تھے، میں بدظن ہوگئی۔ اس نے مجھے ایک ہفتے میں اتنا کمفرٹیبل رکھا ہے کہ میں نے اب اس کو چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ یہی میرا حقیقی شوہر ہے، اسکے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس نے کیا کرنا تھا۔ اب یہ سارا جھگڑا ہوگیا بہت زیادہ۔
3جنوری تاریخ ہے اور ایک لاش ملتی ہے، ہوتی ہے زینب کی۔ زینب کی جب لاش ملتی ہے، پولیس کو پتہ چلتا ہے، پرچہ درج ہوتا ہے، ٹریسنگ شروع ہوتی ہے، ملزم تک پہنچ جاتے ہیں، تو ملزمان میں جو گرفتاری ہے وہ آتی ہے ایک تیسرے بندے کی اور اس تیسرے بندے کا نام ہوتا ہے نقیب اللہ۔

میزبان: نقیب اللہ کون ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا سگا بھائی۔ پولیس پوچھتی ہے کہ یہ معاملہ کیاہے، کہاں اس کا شوہر، کیا تم لوگوں کے چکر کیا ہیں؟ نقیب اللہ پولیس کو بتاتا ہے کہ ایک بندہ میرے پاس آیا اور کہتا ہے اس ڈالے میں چلنا ہے اور چل کے آگے یہ کام ہے، اتنے پیسے ہوں گے، اوکے ڈن۔ میں یہ کرتا تھا، میں چلا گیا۔ ڈالے میں بیٹھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت اللہ بھی ہے، زینب کا پچھلا شوہر۔ ڈالے کے فرش کو دیکھتا ہوں تو عورت کی لاش پڑی ہے۔ چہرہ دیکھنا چاہا، آگے بڑھا، چادر ہٹائی تو زینب کی لاش تھی۔بہن اس کی؟سگی بہن۔ پولیس نے کہا اچھا پھر؟ بڑی عجیب سٹوری ہے، ایسے میں نے بہت کم کیسز دیکھے۔ اب مجھے وہاں پر گن پوائنٹ پر بلیک میل کر کے یہ کہا جاتا ہے ہدایت اللہ کی جانب سے کہ اس لاش کو اٹھانا ہے ، وہاں پھینک کے آنا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تیری لاش بھی ہوگی۔ اب میرے پاس کوئی نہ وہاں پر موقع نہ کچھ مجھے کرنا پڑا مجبور ہو کے، میں نے اٹھایا اس کو پھینک دیا۔ اب وہ سی سی ٹی وی فوٹیج جو لاش پھینکنے کی ہے اس میں نظر آرہا ہے نقیب اللہ، تو پولیس کو اور سب کو تو لگے گا کہ قاتل نقیب اللہ ہے۔ اس پر جا کے پولیس نے کہا کہ کیا ٹائم تھا کال کا، کیا سلسلہ تھا سارا، پھر وہ کال کی ٹائمنگز، چیزیں میچ کرتے کرتے پتہ لگا کہ واقعی اصل گیمر اس میں ہدایت اللہ ہی ہے، سابقہ شوہر، کہ میری نہیں تو تیری بھی نہیں۔

تہمینہ شیخ: قیامت آنے والی نہیں ہے، قیامت آچکی ہے۔ مائیں بچے قتل کر رہی ہیں۔ شوہر بیویاں دے رہے ہیں حلالے کیلئے اپنے ہاتھوں سے بھائی زبانوں کو قابو کرو تاکہ نہ طلاق طلاق کہنا پڑے، نہ کل کو پچھتانا پڑے، نہ بیوی کسی غیر آدمی کے بستر پر چھوڑ کے آنی پڑے، کراچی، بہاولپور، اسلام آباد یہاں پر حلالہ سینٹر ہیں۔ یوٹیوبر بہن صحافی نے کال کی حلالہ سینٹر لائیو ریکارڈنگ ، یہ بہاولپور کا تھا، کتنا ریٹ؟ دو لاکھ۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالے کے نام پر سینٹرز کھول کے کمائی کر رہے ہیں، کس کی گردن پکڑیں؟ کدھر ہیں ہمارے ٹھیکے دار جو اس ملک کو سیاسی بنیادوں پر کسی نے آواز اٹھائی؟ کسی ہائر لیول پر آپ مجھے بتائیں، میں نے تو نہیں سنا۔ اٹھائی بھی ہوگی تو اسی طرح میں نے آپ نے اسی نے اسی نے کسی نے آواز اٹھا لی، بھائی جن کے ہاتھوں میں اختیارات ہیں، جن کی قلم میں پاور ہے، انہوں نے آواز اٹھائی؟ بالکل نہیں اٹھائی۔ آج یہ ہو رہا ہے تو کل اس سے اگلا اسٹیپ ہوگا۔

میزبان: کراچی کا ایک کیس مجھے یاد ہے۔ شوہر نے بیوی کو طلاق دی غصے میں ، احساس ہوا کہ نہیں غلطی ہوگئی، اس نے اپنے بھائی کیساتھ نکاح کروا دیا۔ وہ دونوں نکاح کے بعد گئے، بندہ برداشت نہیں کر سکا، ہارٹ اٹیک آگیا اور موت ہوگئی۔
تہمینہ شیخ: اب میری بات سے بہت غصہ آئے گا۔ وہ موت، وہ اٹیک جو ہے نا کاش وہ پہلے ہی ہو جاتا جب مار پیٹ رہا تھا بیوی کو یا جب طلاق دے رہا تھا بیوی کو۔ شاید دوسرے اٹیک کی تو امید ہوتی ہے نا ایک انسان تین اٹیک برداشت کر لیتا ہے، میں کہتی ہوں یہ اٹیک پہلے ہی ہو جاتا تاکہ نہ اس کی عزت تار تار ہوتی، نہ اس کا تماشہ بنتا، نہ ہم آج اس کو خبر کے طور پہ رپورٹ کر رہے ہوتے۔(مکمل ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیل دیکھیں)

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ ایلن کیسر

السلام علیکم، میرا نام ایلن کیسلرAllenKeislerامریکہ میں بیٹھ کر ہمیشہ… پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب انصاف، سچائی، اخلاق، رحمت، معافی، ہمیشہ اللہ پاک کو یاد کرنا اور ذکر کرتے ہی رہنا۔ مجھے اور سب کو بتا دیا آج وہی دن ہے جس کاانتظار ہم ہزاروں سالوں سے کر رہے ہیں۔ جب انصاف اور سچائی قائم ہو جائے گی پوری دنیا میں، صرف اس سیارے پہ نہیں بلکہ کائنات میں۔ یہ وہی دن ہے۔ تو کتنی خوشی کی بات ہے۔ مسیحا کا مطلب مہدی حقیقت میں۔ مسیحا صرف یسوع مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام نہیں، بہت سارے مہدی ہیں ہماری استادنی نے یہی بتایا۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں ایک ہی مہدی ہو سکتا ہے۔ ، نہیں بہت سارے۔
ویڈیومیں تفصیلات ہیں اور قارئین خودبھی دیکھ سکتے ہیں۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔

مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار!
ڈاکٹر اکمل سومرو

پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔

ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔

السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔

یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔

سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔

انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔

بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔

جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔

یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔

برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔

1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔

1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔

اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔

پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔

1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔

مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔

برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔

ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔

یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔

یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv