پوسٹ تلاش کریں

اقیموا وجوھکم عند کل مسجد

” اے بنی ! ہم نے تمہارے اوپر لباس اتارا ۔تاکہ تمہاری شرمگاہوں کو چھپائے اور پنکھ (موسم سے بچاؤ او و خوبصورتی ) اور تقویٰ کا لباس بہتر ہے (حلالہ کی لعنت میں ننگا نہ ہونا) یہی اللہ کی آیات میں سے ہے ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اے بنی آدم ! شیطان تمہیں بہکا نہ دے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا۔ان کے کپڑے ان سے اتروا دئیے تاکہ ان کی شرمگاہیںانکے سامنے کھول دے،بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے وہ اور اس کا قبیلہ اس طرح کہ تم انہیں نہیںدیکھ سکتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا مولانا بنادیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے اور جب وہ کوئی فحاشی (حلالہ کی لعنت ) کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء ( عثمانی اور ان کے معتقدین) کو یہی کرتے پایا ہے۔(نسلوں سے یہ بیماری چلی آئی) اور اللہ نے ہمیں اسی (حلالے) کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ہے ۔کیا تم اللہ پر (جھوٹ ) بولتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے ۔ کہو کہ مجھے اللہ نے انصاف کا حکم دیا ہے (حلالہ کی نا انصافی عورت پراللہ مسلط نہیں کرسکتا )اور ہر مسجد کے پاس ہی اپنے چہروں کیساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ اور انصاف کا بول بالا کرو اس کے دین کیلئے مخلصین بن کر۔ جیسا تم نے آغاز کیا خلافت کے قیام کیلئے اسی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔ ایک فریق کو اس نے ہدایت دی ہے اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی ہے۔ بیشک انہوں اللہ کے علاوہ شیاطین کو اپنا مولانا بنادیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہی ہدایت پر ہیں”۔ (سورہ اعراف26تا30)

تبلیغی جماعت میں اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین لیکن نہ حلالہ کی لعنت کامیابی اور نہ بیوی کو چھوڑنا بلکہ یہ اللہ کے احکام نہیں ۔ مولانا الیاس نے اللہ کے احکام کو زندہ کرناتھا اور اللہ کے احکام کو زندہ کرنے والوں کو مسجدوںمیں نہیں چھوڑتے! ۔
ــــــــــ

نگاہ کم سے نہ دیکھ اسکی بے کلاہی کو

ولاتطرد الذین یدعون ربھم بالغدٰوة والعشی یریدون وجھہ ما علیک من حسابھم من شی ئٍ و مامن حسابک علیھم من شی ئٍ فتطردھم فتکون من الظالمینOوکذٰلک فتنا بعضھم ببعضٍ لیقولوا اَھٰؤلاء منّ اللہ علیھم من بیننا الیس اللہ باعلم بالشٰکرین

” اور ان کو نہ ٹھکراؤ جو اپنے رب کو پکاریں صبح و شام اور اس کی رضا چاہتے ہیں تجھ پر ان کا حساب کچھ نہیں اور تمہارا حساب ان پر کچھ نہیں کہیں یہ نہ ہو کہ ان کو مسترد کرو اور ظالموں میں ہوجاؤ اور ہم ایسا ہی بعض کو بعض سے آزماتے ہیں تاکہ (کتے ،گدھے) کہیں کہ ان کو ہمارے درمیان خدا نے اپنے احسان سے نوازدیا۔ تو کیا اللہ شکر گزاروں کو نہیں جانتاہے ”۔ (انعام :آیت52،53)

علمائ، فوجی ، پولیس، مدینہ و شام کے عربی ، تبلیغی ، ہرنسل وقوم والے حاجی عثمان کوچھوڑگئے ۔ مخلص کمزوروں کو اللہ نے استقامت دی۔ وجعلنا للمتقین امامًا دعاہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہالپورحلالہ سینٹر

السلام علیکم! میرا نام سدرہ منیر ہے ” نیوز ڈیجیٹل”۔
نادیہ خان نے کہا کہ حلالہ سینٹرز پورے پاکستان میں ہیں جو یہ مکروہ دھندا، میں نے سوچا کہ ایک ویڈیو بنائی جائے۔
سینٹر : السلام علیکم۔
سدرہ منیر:بھائی جی !یہ حلالہ سینٹر ہے؟۔
سینٹر: جی۔
سدرہ منیر: انٹرنیٹ سے نمبر لیا، اشتہارات تو کیا صحیح جگہ فون کیا؟ یہ کہاں ہے؟۔
سینٹر: یہ بہاولپور میں ہے۔
سدرہ منیر: لیکن میں تو لاہور میں ہوں، مجھے آنا پڑے گا یا پھر…؟
سینٹر: آنا پڑے گا۔
سدرہ منیر: میں چاہ رہی تھی کہ کوئی رشتہ دار یا دوست وغیرہ نہ ہو۔
سینٹر: اچھی بات۔
سدرہ منیر: بلیک میل تو نہیںکریںگے؟۔
سینٹر: الحمد للہ ایسی بات نہیں۔
سدرہ منیر: تو فیس کیا ہوگی ؟ کیا کرنا ہوگا؟۔
سینٹر: نکاح ہوگا، ایک دو دن بعد طلاق، فیس دو لاکھ روپے ۔
سدرہ منیر: پھر پھر اس کے بعد وہاں آپ کا ہی نکاح خواں ہوگا، آپ کا ہی کوئی بندہ ہوگا؟۔
سینٹر : جی۔
سدرہ منیر: نکاح ہوگا پھر ہم واپس آ جائیں گے؟۔
سینٹر: نکاح ، ایک دو دن رہنا ہو گا ۔
سدرہ منیر: ضروری تونہیں
سینٹر: اسکے بغیر تو حلالہ ہوتا ہی نہیں۔
سدرہ منیر: جو مولوی ، ان کو بھی معلوم ہوگا؟ چاہتی ہوں کہ زیادہ لوگوں کو پتہ نہ چلے؟۔
سینٹر: زیادہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوگا۔
سدرہ منیر: جائز ہے نا؟ کچھ علما کچھ کہتے ہیں، کوئی کچھ ، اسلئے میں تھوڑی پریشان تھی کہ…
سینٹر: نکاح کے فوراً طلاق ہو تو حلالہ نہیں ہوتا۔
سدرہ منیر: ٹھیک سینٹر: ایک رات کے بعد طلاق لیتی ہیں تو وہ حلالہ ہو جاتا ہے۔
سدرہ منیر: مسئلہ نہ ہوگا، وہ شخص دوسرے دن طلاق دیدے گا؟
سینٹر: وہ ہماری گارنٹی ہوگی۔
سدرہ منیر: اچھا! آپ پوری گارنٹی دے کر اسٹامپ پر لکھ کر دے دیں گے؟ ۔
سینٹرجواب: ہاں۔
سدرہ منیر: پیسے بہت زیادہ ہیں…
سینٹر: نکاح خواں کا خرچہ ہے، جس سے نکاح ہوگا اسے بھی دینے پڑیں گے، کمرے کا کرایہ ۔
سدرہ منیر: ہوٹل سیف نہیں کیمرے لگے ہوئے ہوتے ہیں؟۔
جواب: آپ بڑے شہر میں رہتی ہیں، چھوٹا شہر ہے، یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے ۔
سدرہ منیر: آپ کا نام کیا ہے؟
سینٹر: محمد عامر۔
سدرہ منیر: محمد عامر بھائی۔
سینٹر: جس سے مرضی رابطہ کریں، گارنٹی ہوگی کہ یہ آپ آئیں گی تو اندازہ ہو جائے گا۔ آپ بھی جانتی ہیں کہ آن لائن کیسے کیسے کام ہوتے ہیں، اکثر دو نمبر لوگ بھی بیٹھے ہیں۔
سدرہ منیر: وہ تو مجھے آپ کا بھی نہیں پتہ ناں۔آن لائن اشتہار دیکھا ۔ آپ کے بارے میں بھی میں نہیں جانتی۔
جواب: بالکل نہیں جانتیں! بعض اوقات انسان پریشان ہوتا ہے نا، تو اللہ پاک بالکل صحیح راستے پر لے جاتا ہے۔ وہ دیکھ لیں، اگر آپ کا دل مطمئن ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ مسئلہ نہیں !
سدرہ منیر: بس آپ پیسوں کا بتا دیں کہ کیا فائنل کریں گے تاکہ میں باقی جگہ بھی فون کروں تو مجھے پتہ ہو کہ…
جواب: آپ ڈیڑھ لاکھ کر دیجیے گا۔
سدرہ منیر: نہیں نہیں، ڈیڑھ لاکھ روپے بہت زیادہ ہیں۔
جواب: تو اس سے زیادہ کم کس طرح ہو سکتا ہے، خود سوچیں میں نے آپ کو ٹوٹل خرچہ بتایا ۔ مولوی صاحب کے کتنے پیسے، نکاح کے …
سدرہ منیر:اتنے زیادہ تو نہیں لگتے نا؟ میں بھی نوکری کرتی ہوں، میں بھی اسکول میں پڑھاتی ہوں۔
جواب: چلو بات کر کے بتا دیجیے گا، مزید کوئی کمی بیشی ہوئی تو میں کوشش کروں گا، ویسے دیکھا جائے تو یہ بہت مناسب ہے۔
سدرہ منیر: چلیں، ٹھیک ہے، شکریہ۔(فون یہاں ختم)
ــــــــــ

معجزہ یا صدی کا سب سے بڑا فراڈ؟رحم مادر سے آذان ،تلاوت کی آواز
مولانا احتشام الحق تھانوی و مولاناشفیع اکاڑوی نے انڈونیشیاکی خاتون میں مہدی کو سنا لاکھوں نے اسکے پیچھے جمعہ پڑھا ۔ خاتون ٹانگیں پھیلاکر بیٹھ گئی زیر ناف مائک لاؤڈ سپیکر لگادیا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کلاچی کی لڑکی کا فراڈ چلاکہ اللہ نے لڑکا بنادیا جو میرا والد مسترد کر چکا تھا۔ والد صاحب سے کوئی کہتاکہ کیا خدا نہیں کرسکتا؟ تو اعتمادسے کہا: کرسکتا ہے لیکن یہ عادت نہیں ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ سجدہ کا انقلاب اور ابوصالح جنگی دوست

بسم اللہ الرحمن الرحیم

المOتنزیل الکتاب لاریب فیہ من رب العالمینOام یقولون افتراہ بل ھو الحقمن ربک لتنذر قومًا ما اتاھم من نذیرٍ من قبلک لعلھم یھتدون۔

ال م۔بلاشبہ کتاب جہانوں کے رب کی طرف سے نازل ہوئی۔ کیا وہ کہتے ہیں اس نے خود گھڑی ہے بلکہ وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ اس قوم کو ڈرائے جن میں آپ سے پہلے ڈرانے والانہیں تاکہ ہدایت پائیں۔ سجدہ:1تا3

یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یومٍ کان مقدارہ الف سنةٍ مما تعدونO

”وہ ایک انقلاب کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اس کی طرف سے عروج کو پہنچتا ہے اس دن جس کی مقدار ہزار سال ہے جو تم گنتے ہو”۔(السجدة:5)

سید عبدالقادر جیلانی کے والدابو صالح موسیٰ جنگی دوست ولادت400ھ کوہزار سال ہوگئے اور بہت اچھی شہرت ہے۔

فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرة اعین جزائً بما کانوا یعملونOافمن کان مؤمنًا کمن کان فاسقًا لایستونO

” پس کوئی شخص نہیں جانتاکہ ان کیلئے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی ہے ان کے اعمال کے بدلے میں۔تو کیا مومن فاسق جیسا ہے، برابر نہیںہیں۔”۔سجدہ:17،18

تمام فرقوں و مذاہب میں اچھے برے ہیں بروں کو دنیا میں انقلاب کے بعد بلاتفریق و تعصب عذاب ملنے کا وعدہ ہے۔

اما الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات فلھم جنٰت المأوی نزلًا بما کانوں یعملونO

”پس جو ایمان اور درست اعمال والے ہیں تو باغات ان کا ٹھکانہ ہے۔ اس میں ان کو اتارا جائے گا بسبب جو وہ عمل کرتے تھے”۔سجدہ:19

واما الذین فسقوا فمأواھم النار کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا و قیل لھم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبونO

” اور جنہوں نے فسق کیا تو ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔ جب وہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے توان کو اس میں واپس لوٹایا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے”۔ سجدہ:20

ولنذیقنھم من العذاب الادنٰی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعونOومن اظلم ممن ذکر باٰیات ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمونO…سورہ السجدہ آیت21سے آخر30تک
” اور ہم ان کوضروربضرور چکھائیں گے ادنیٰ عذاب کا مزہ بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ رجوع کرلیںاور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو اسکے رب کی آیات سے سمجھایا جائے پھروہ ان سے منہ موڑے۔بیشک ہم نے مجرموں سے انتقام لینا ہے اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو آپ اس کی ملاقات میں شک نہیں کریںاور ہم نے بنی اسرائیل کیلئے ہدایت بنائی۔ اور ان میں ہم نے ائمہ بنائے جو ہمارے امر سے ہدایت دیتے تھے جب انہوں نے صبر کیااوروہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ بیشک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا،جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ کیا انہیں اس سے ہدایت نہ ملی کہ کتنوں کو ہم نے ہلاک کیا ان سے پہلے ادوار میں وہ چلتے تھے اپنی سکونت کی جگہوں میں بیشک یہ بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف ہنکا دیتے ہیں تو اس سے کھیتی نکالتے ہیںجس سے ان کے جانور بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی۔ کیا وہ دیکھتے نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کب ہوگی یہ فتح ، اگر تم سچوں میں سے ہو۔ کہہ دو کہ فتح کے دن کافروں کا ایمان کام نہیں آئے گااور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔ پس آپ ان سے اعراض کریں اور آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کررہے ہیں”۔ (السجدہ)

اس سے فتح مکہ والا انقلاب مراد نہیں۔ قرآن نے فتح کے بعد والوں کا ایمان قبول کیا مگر یہاں بالکل واضح ہے کہ فتح کے بعدتردید کرنے والوں کاایمان قبول نہ ہوگا ۔ کانیگرم وزیرستان میں ہمارے آبائی مسجد کے امام دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے جس کی مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے میرے دادا سید محمد امیر شاہ فوت ہوگئے تھے ۔پردادا سیدمحمدحسن شاہ ،سید محمد اسماعیل شاہ ، سید محمد ابراہیم خلیل ، سیدمحمد یوسف شاہ،سید محمد رضا شاہ، سید محمد جمال شاہ،سید محمد نظام الدین شاہ ،سید شاہ محمود حسن دیداری ، سید محمد ابوبکر ذاکر،سیدشاہ محمد کبیرالاولیاء تک قبریں کانیگرم میں ہیں ۔ہمارا شجرہ سید محمد ہاشم ، سیدمحمد عبداللہ ،سید فخر الدین ، سید نور الدین ،سید علاء الدین سید محمد علی شاہ،سید میر شرف الدین،سید عبداللہ طاہر،سیدمحمد طاہرالدین ،سید میر محمد شاہ ،قطب الزمان سید محمد عبداللہ ، قطب الالیاء سید عبدالرزاق، قطب الاقطاب سید محی الدین محمد عبدالقادر جیلانی بن ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن عبداللہ الجیلی بن سید یحییٰ الزاہدبن سید محمد بن سید داؤدبن سید موسٰی بن سید عبداللہ بن سید موسی الجون بن سید عبداللہ محض بن سید حسن مثنیٰ بن امیر المؤمنین حسن مجتبیٰ بن امیرالمؤمین سیدنا علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم …اسماعیل بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ ا لسلام

اللہ نے فرمایا کہ ”میں نے تمام انسانوں ایک جان سے پیدا کیا ہے”۔ عربی میں ”زوج” ایک جوڑا،ایک کپل کوکہتے ہیں اورشوہر و بیوی جوڑا ہے۔ جوتے کا جوڑا، کپڑے کا جوڑا ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ جوڑا نرومادہ میں ایک طاقتور اور دوسرا نسبتاً کمزور ہوتاہے جس سے بیلنس برابر ہوتاہے۔ جس طرح جہاز میں دوران سفر ہنگامی صورتحال کیلئے ہدایات ملتی ہیں تو اسی طرح طلاق کیلئے قرآن میں ہدایات ہیں لیکن جیسے کوئی ہنگامی حالت میں جہاز سے چھلانگ لگانی پڑجائے تو سہارا دینے کے بجائے نوسربازوں سے واسطہ پڑجائے ۔یہی نوسربازی کا سلسلہ بنوامیہ اور بنوعباس دور سے چل رہاہے۔

نکاح سے زیادہ وضاحتیں قرآن میں طلاق کی ہیں۔میری تائید بریلوی،دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ سبھی کرتے ہیں۔

اگر جوتے یا کپڑے کا استعمال شدہ جوڑا ایک دوسرے سے جدا کرکے کسی اور کیساتھ میچ کرنے کا پروگرام تشکیل پائے تو یہ کس قدر مشکل ہوسکتا ہے؟۔ کچھ ضروری مقدمات سمجھ لیجئے۔

1:اللہ نے سورہ النساء میں عورت کو خلع کا حق پہلے دیا ہے آیت19اور شوہر کو طلاق کا حق بعد میں دیا آیت20۔ پھر دونوں صورت میں شوہر کی دی ہوئی چیزوں میں کچھ بھی واپس لینے کی اجازت نہیں۔ البتہ خلع میں منقولہ اشیاء اور طلاق میں منقولہ وغیر منقولہ تمام دی ہوئی اشیاء کو واپس نہیں لے سکتے۔ خلع عورت لیتی ہے تو مالی حقوق کم ہیں۔ گھر اور جائیداد سے پھر دستبردار ہونا پڑے گا اور طلاق میں شوہر کی طرف سے اقدام ہوتا ہے اسلئے گھر اور جائیداد کوئی دی چیز واپس نہیں لے سکتا۔

خلع کی عدت حیض یا ایک ماہ ہے ۔ طلاق کی عدت تیسرے حیض یا تین ماہ ہے۔ شوہر کی دی ہوئی چیزوں سے مراد حق مہر نہیں کیونکہ حق مہر تو آدھا ہاتھ لگانے سے پہلے فرض بنتا ہے اور ہاتھ لگانے کے بعد تو پھر سوال پیدا نہیں ہوتا۔ مفتی تقی عثمانی کے گھر کا معاملہ ہے کہ عورت کو فارغ کرکے سب کچھ چھین لیا اور مسائل بھی لکھ دئیے کہ دی ہوئی چیزیں عطیہ ہوتی ہیں اور وہ واپس لے سکتے ہیں اور حق مہر بھی اعزازیہ ہوتا ہے۔وقف شدہ مدرسہ میں مفتی تقی ورفیع عثمانی کیلئے ذاتی گھر خردیدے گئے اور مخالفت میں فتویٰ دینے پر مفتی رشید کی بدترین پٹائی لگادی۔

فقہاء نے لکھا کہ شوہر پر بیوی کا علاج نہیں ۔مفتی تقی عثمانی نے اپنے والدین میں نہ جانے کیا دیکھا؟ مگر مسئلہ سے انحراف کردیا کہ بیوی کا علاج شوہر پر نہیں۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے معاملے پر الحمدللہ ہم نے مجبور کردیا ،اسی طرح تصویر کے مسئلے پر لیکن شادی بیاہ میں لفافہ کو سود قرار دینے نبیۖ پر سود کا بہتان لگانے ولاتمنن تستکثر کی غلط تفسیرسے حاجی عثمان کے پیروکار سے نکاح کو ناجائز اور انجام عمر بھر کی حرامکاری اور ولد اولادالزنا کا فتوے شائع کرنے تک لگتا ہے کہ گٹر میں خوب ڈبکیاں لگائی ہوئی ہیں۔

قرآن کے برعکس عورت سے خلع کا حق چھین لیا تو نتائج بھی کیا نکلے؟۔ حنفی فقہاء عورت کوخاوند کی گمشدگی پر80سال کے انتظار کا حکم دیتے تھے تو اگر بچی کا ماں کے پیٹ میں نکاح ہوا تو80سال بعد وہ ازداوجی تعلقات کے قابل رہے گی؟۔

انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو80سال سے چھلانگ لگاکر4سال کے انتظار پر آگئے۔ اتنی بڑی چھلانگ کا تصور بھی کوئی کرسکتا ہے؟۔ شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین پر سود اور73گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دینے والے نے سودی نظام کو جائز کردیا۔

ستم ظریفی کو دیکھئے کہ ایک شوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دے اور پھر مکر جائے۔خلع بھی نہ دے تو عورت شوہر کے نکاح میں حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہ اٹھائے ورنہ گناہگار ہوگی۔ ایک طرف اتنامضبوط رشتہ کہ حرام کاری پر مجبور لیکن ٹوٹتا نہیں؟ اور دوسری طرف تین طلاق غصہ میں بول دیا اور دونوں رجوع پر آمادہ ہیں لیکن حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا؟۔ یہ قرآن و سنت کا دین اسلام نہیں بلکہ ہوا کی جگہ مولوی کی پچھاڑی سے نکلنے والا کوئی خاص الخاص قسم کا شیطانی ڈانبر یا میجک ہے۔

خلع اور طلاق میں فرق مالی حقوق کا ہوتا ہے اسلئے اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو گواہ پیش کرے یا خلع کا حق ملے گا۔

2:ایک عورت کو مجبوری میں پیسہ دیکر حلالہ کروانا پڑے جس کا اندازہ ایک کال سے بھی نہیں لگاسکتے جب تک خود صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے لیکن یہ خدا کی شریعت ہرگز نہیں ہے ۔

حلالہ کی لعنت تو ایک بہانہ ہے اور اصل تو حقوق نسواں کاوہ بیش بہا خزانہ ہے کہ ہر عورت پکار اٹھے گی کہ کوئی شوہر، ماں، بھائی ، بہن اور حکومت عورت کو اس تحفظ کا سوچ بھی نہیں سکتی جو قرآن وسنت میںبہت ہی واضح انداز میں دئیے گئے ہیں۔

حتی الامکان عورت اکثر اپنے شوہر سے جدا نہیں ہونا چاہتی ہے اور اکثر وبیشتر شوہر بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کسی اور سے نکاح کرے۔ یہ دونوں کی فطرت ہے لیکن جب شوہر طلاق دے تو عورت کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ دیا ہے۔

سورہ البقرہ آیت226میں ایلاء کے اندر4ماہ کی عدت کا ذکر ہے اور یہ وہ صورتحال ہے کہ جب شوہر طلاق کا اظہار نہیں کرے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کے29دن بعد ازواج مطہرات سے رجوع فرمایا کہ سب خوش ہوں گی لیکن اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر واضح کردو کہ بال ان کی کورٹ میں ہے۔

یہ ہے عورت کے اختیارکا معاملہ۔ پھر اسکے ساتھ والی آیات میں یہ بھی واضح ہے کہ اللہ کی طرف سے رجوع پر کوئی پابندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو اس کا دل گناہ گار ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار کو چھپانے سے ہی عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ گئی تو اس پر شوہر کی پکڑہے۔

مولوی کا ایک ٹولہ کہتا ہے کہ 4ماہ کے بعد بھی نکاح قائم اور دوسرا ٹولہ کہتا ہے کہ نکاح ختم؟۔ حالانکہ دونوں شیطان بکواس کرتے ہیں۔ بیوہ کی عدت4ماہ10دن ہے اور اس کی مرضی ہے کہ مردہ شوہر کے نکاح میں قبرو حشر تک رہے یا پھر عدت کی تکمیل کے بعد کسی اور سے نکاح کرکے اپنا سفر شروع کرے۔

مولوی دلا کہتا ہے کہ ایک کی روح نکل گئی تو آپس میں اجنبی بن گئے لیکن اپنی ماؤں پر اجنبیوں کی تختیاں لگاتے ہیں کہ زوجہ مفتی محمود ، زوجہ مفتی محمد شفیع اور وہ ان کے شوہر نہیں ہوتے۔

البقرہ آیت228میں اللہ نے واضح کردیا کہ طلاق والی عورتوں کی عدت تین ادوار یاتین ماہ ہے اور اس میں اصلاح کی شرط پر انکے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی معروف حقوق ہیں جیسے ان پر ہیں۔

معروف حقوق و اصلاح کی شرط پر رجوع کامطلب واضح ہے کہ باہمی صلح سے عدت میں رجوع ہے حلالہ کی لعنت نہیں۔ آیت229میں پوری تفصیل ہے۔ عدت کے دومراحل میں دوبار طلاق کے بعد عدت کے تیسرے مرحلے میں تیسری بار معروف کی شرط پر رجوع یا پھر تیسری طلاق ۔ اور تیسری طلاق کے بعد معاملہ منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تفصیل ہے کہ جب کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو ایسے الفاظ میں آزادی ہے کہ اس کی مثال دنیا لانے سے قاصر ہے۔

3:قرآن کی روح عورت کی مکمل آزادی ہے اور ایک ایک چیز میں اسکا اختیار اور مالی تحفظ کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ صرف دنیاوی تحفظ پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کو مذہبی تحفظ بھی دیا ہے۔ جیسے مرد سے اپنی ماں، بیٹی، بہن ، خالہ، پھوپھی، بھانجی، بھتیجی، بہو، ساس اور سوتیلی بیٹی وغیرہ کو حرام قرار دے کر تحفظ دیا ہے تو اسی طرح سے جب اس کی بیوی اس کے ساتھ خوش نہیں ہو اور وہ رہنے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر اس کے تحفظ کی خاطر فرمایا کہ ”پھر اگر اس نے طلاق دی تواس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ”۔(البقرہ230)

عورت معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی ہو تو آیت231میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی حلالہ کے بغیر رجوع کو واضح کیا۔صرف یہ فرمایا ہے کہ عورت رجوع پر معروف طریقے سے راضی ہو تو پھر ضرر پہنچانے کیلئے رجوع نہ کرو۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن جیسے لوگوں نے جن فقہاء کو اپنا رب بنایا ہوا ہے تو انہوں نے آیات کی غلط تشریح کو بھی مذاق بنادیا کہ جب بچہ آدھے سے زیادہ ماں کے سرنگ سے نکل گیا تو لال جھنڈی کی ریڈلائٹ ہے اور پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم نکلا ہو تو پھر رجوع ہوسکتاہے۔ اور50%،50%ہو تو اس کو شیخ الاسلام مفتی اعظم بناؤ؟۔

امام ابوحنیفہ کے بڑے شاگرد امام ابویوسف نے پیسہ لیکر بادشاہ کی ماں یعنی باپ کی لونڈی کو اس کیلئے جائز قرار دیا تھا ۔

ہمارے اجداد نے بت والے”بعل ” سے بھی وزیرستان کے لوگوں کو بچایا تھا اور حلالہ والے ”بعل” سے بھی بچایاہے۔

نمبر4:سورہ طہ میں صرف حضرت آدم علیہ السلام مخاطب ہیںاور اگر عورتوں کو پتہ چل گیا کہ حلالہ نہیں تو زبردست ہوگا۔

فقلنا یٰااٰدم ان ھٰذا عدوّلک و لزوجک…
فوسوس الیہ الشیطٰن قال یٰاٰدم ھل ادلک علٰی شجرة الخلد و ملکٍ لایبلیٰoفاکلا منھا فبدت لھما سواٰتھما و طفقا یخصفٰن علیھما من ورق الجنة و عصٰی اٰدم ربہ فغویOثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ و ھدٰیO (سورہ طہ آیت117تا122)

”ہم نے کہا کہ اے آدم یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے…

پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ اے آدم کیا میں تمہیں ہمیشہ والا شجرہ بتاؤں اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت۔پس دونوں نے اس میں کنگھاجماع کیا تو ان کے سامنے ظاہر ہوگئیں ان کی شرمگاہیں اور دونوں ان دونوں پر باغ کے پتے چکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھٹک گئے۔ پھر انکے رب نے انہیں چن لیا اور ہدایت پاگئے”۔

ان آیات میں اللہ نے آدم کو مخاطب کیا اور مردوں کی فطرت بتائی ہے کہ وہ ناجائز کیلئے حیلہ تراشتے ہیں اور شیطان انواع واقسام کے لارے لپے اور اللے تللے سے ورغلاتا ہے۔

حسن مثنیٰ پیدائش29ھ نے11سال علی ،21حسن ،31سال کربلا تک حسین کے ساتھ گزارے۔ وفات97ھ ۔ پھر عبداللہ محض پیدائش70ھ ، شہادت145ھ ، موسی الجون کی پیدائش130ھ وفات180ھ اور عبداللہ پیدائش150ھ اور وفات250ھ کیا یہ طلاق کا مسئلہ نہیں جانتے تھے؟۔

فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کتاب امام ابوحنیفہ شہید اہل بیت لکھ دی۔ پیدائش80ھ ،شہادت150 ھ۔

امام ابوحنیفہ کے شاگرداور امام شافعی کے استاذ محمد بن حسن شیبانی نے اپنی کتاب الآثار میں لکھ دیا کہ عبداللہ بن عمر نے 3 طلاق دی تھی جس پر نبی ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور رجوع کا حکم بھی فرمایا۔ جس کا مطلب اکٹھی تین طلاق کا واقع کرنا درست مگر گناہ ہے اور رجوع ہوسکتاہے۔ امام شافعی نے اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دینے کیلئے عویمر عجلانی کا لعان والا واقعہ دلیل بنایا ۔ حضرت عمر3طلاق پر اورحضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ یہ لوگ قرآن و سنت کو معطل کرنے کے قائل تھے۔ روافض اکٹھی تین طلاق کی وجہ سے حضرت عمر کے خلاف اور حضرت علی کی طرف فیصلے کی نسبت کو غلط سمجھتے تھے۔ امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل نے قرآن کیلئے کوڑے کھائے ۔ امام احمد بن حنبل کے شاگرد امام ابوداؤدمسلک حنبلی نے رکانہ کے والدین کی سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار3 طلاق پربھی رجوع کی روایت نقل کی تو قرآن وسنت کا حق ادا کیا۔ آخرمیں بغداد چھوڑ کر بصرہ جانا پڑا تھا۔ابوداؤد کے شاگرد امام نسائی نے محمود بن لبید کی روایت درج اور فضائل علی پر کتاب لکھ دی تو ان کو بنوامیہ کے پروردہ شامی ایجنٹوں نے شہید کردیا ۔ امام شافعی حضرت رکانہ کی نسل سے تھے۔ رافضی کا فتویٰ لگا۔ امام احمد بن حنبل نے مصائب جھیلے۔ عبدالقادر جیلانی مسلک حنبلی ،سندھ میںسادات کا مسلک حنفی تھا۔ فقہی خرافات و بیہودہ اختلافات کو مدارس میں الگ الگ سیاروں کا امام بھی قبول نہیں کرسکتا ۔ لیکن عبداللہ شاہ غازی سے محمد بنوری تک سبھی کو شہید کردیا۔

حسن بصری21ھ ،110ھ نے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں حق بول دیا مگریزید اور ہشام بن عبدالملک نے مجبور کردیا۔ حاجی عثمان کی خلافت حسن بصری کی خلافت بلا فصل کو معتبر قرار دینے کی خدائی تدبیر تھی۔ بخاری کے شاگرد ترمذی نے لکھا کہ ”حسن بصری کی حضرت علی سے ملاقات ہی ثابت نہیں ہے”۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں”بے نمازی کیلئے حکم” میں سزا قتل، کوڑے اور قید وغیرہ لکھے تھے۔ میرے بھتیجے پیر سیف اللہ فوجی خود نماز نہیں پڑھتا تھا مگر اس نے کہا کہ ”بے نمازی کو دریا سندھ میں ڈال دو”۔ نبی ۖ نے اپنی چاچی فاطمہ بنت اسد اپنی ماں قرار دیدی ۔ قرآن میں اقارب کے گھروں میں اکٹھے اور انفرادی کھانے کی وضاحت ہیں ۔ جاہل بکیںگے کہ قرآن و حدیث میں شرعی پردے کی خلاف وزری ہے؟۔قرآن کے تراجم تک بھی بالکل غلط لکھ دئیے ہیں۔ فقہ، اصول فقہ اور تفسیر کے حوالے سے الحمدللہ میرے اساتذہ کرام طلبہ کے سامنے ہی کتابوں کی تردید اور میری تائید کرتے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز نے تائید کی، باطل پر واشگاف اندازمیں حق کی ضربیں ضروری ہیں۔ ”ہم حق کو باطل کے اوپر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے”۔ ( انبیائ:آیت18) ”میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا ہوگا جو لوگوں پر ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ وہ حق کی طرف رجوع کرلیں”۔ (حدیث)حق اللہ حق اللہ

اے مجاہد نبی نعت گنگنائے جا نغمہ محمد ی جھوم کر سنائے جا
دو جہاں پہ چھائے جا ضرب حق لگائے جا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عورتوں کے وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔البقرہ

الرجال قوامون علی النساء

”مرد عورتوں پر توازن کی برابری کیلئے ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں”۔ النساء:34

کونوا قوّٰمین للّٰہ شھداء بالقسط (المائدہ:8)وکان بین ذٰلک قوامًا”اسراف وبخل کابیچ”۔فرقان
ــــــــــ

مردطاقتور مگرفائدہ نہیں اٹھاسکتاہے
درباری علماء آمریتوں کی ناجائزپیدوارہیں ۔

خلق الانسان من عجلٍ ساوریکم اٰیٰتی فلا تستعجلونO(سورہ الانبیاء آیت:37)

”انسان کو جلد سے پیدا کیا گیا ،عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں بتاؤں گاپس تم مجھ سے جلدی مت کرو”۔

جراثیم کی طرح تیزی سے انسان ماحول میں ڈھلتا ہے۔ بعض چیزپر زنگ جلدلگتا ہے، بعض پر اثر نہیںکرتا ۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤگے تمہارااچھا جاہل طبقہ اسلام میں بھی اچھا جب وہ سمجھ لیں۔ تم بہتر اس کو پاؤگے جو اسلام سے زیادہ نفرت رکھتا تھااور سب سے زیادہ برا دو چہروں والا پاؤگے جو ایک طرف کے لوگوں کے پاس ایک منہ سے آئے اور دوسرے لوگوں کے پاس دوسرے منہ سے”۔ (صحیح مسلم)

بعض لوگ کس طرح سے ماحول میں اپنے چہرے کو اچھے اور برے قماش میں بدلتے ہیں؟۔

قرآن کی واضح آیات کی غلط تفسیریں آمریت کے دور میں درباری ملاؤں نے بالکل غلط کی ہیں۔ قرآن کی مختلف آیات میں قوام کے معانی کو سیاق وسباق سے سمجھا جائے تو حقائق سامنے آتے ہیں۔ سورہ فرقان میں مؤمنوں کی صفات بیان کی ہیں کہ ”خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل اسکے درمیان قوام کی تلاش میں رہتے ہیں”۔

”اللہ کیلئے توازن کو قائم رکھو انصاف کیساتھ۔ کسی قوم کا انتقام تمہیں اس حد تک نہیںلے جائے کہ عدل وانصاف نہیں کرسکو”۔ (المائدہ:8)

یٰایھا الذین اٰمنوا کونوا قوٰمین بالقسط شہداء للہ و لو علی انفسکم او الوالدین والاقربین(سورہ النساء آیت135)

”اے ایمان والو! ہوجاؤ توازن برقرار رکھنے والے انصاف کیساتھ اللہ کیلئے گواہی دینے والے اگرچہ تمہاری جانوں کیخلاف ہو یا تمہارے والدین کیخلاف ہو یا تمہارے اقارب کیخلاف ہو”۔

عورت کمزور اور مرد طاقتور ہے اور اللہ نے کسی جگہ بھی کمزور عورت پر طاقتور شوہر کو فوقیت دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے بلکہ قانون کے اندر ہر معاملے میں عورت کو تحفظ دیا ہے اور مرد کو مجبور کردیا ہے کہ عورت کو زیادہ قانونی حقوق کا تحفظ دیدے۔

سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق مالی و اخلاقی تحفظ کے حکم کیساتھ دیا۔ آیت20میں شوہر کو طلاق کا حق اور عورتوں کو زیادہ مالی تحفظ دیا۔

البقرہ آیت229میں عورت کو مالی تحفظ دیا مگر اصلی نسلی علماء حق نے غلط فہمی کی بنیاد پر خلع سمجھ لیااور چوڑوں چماروں اور دلوں دلالوں نے عورت کے تحفظ اور اس کو طلاق کے حقوق کی جگہ عورت کے استحصال کیلئے خلع بنادیا۔ جس دن طاقت کا توازن بدلے گا تو مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی سب سے پہلے دوسرے چہرے کیساتھ دکھائی دیں گے۔

سورہ نور میں لعان کا حکم واضح ہے۔ شوہر سچا اور عورت جھوٹی ہو اور شوہر اپنے گھر میں اپنی بیوی کو رنگے ہاتھ پکڑلے تو تب بھی اللہ کی متعین سزا بھی اس کونہیں دی جاسکتی ہے۔14سوسال پہلے بیوی کا تحفظ سورہ نور میں جبر کا خاتمہ ہے۔

ثم لا یجاورونک فیھا الا قلیلًاOملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلًا

”پھر وہ تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن، یہ ملعون لوگ ہیں،جہاں تہذیب وتمدن سکھادی تو جہاںپائے جائیں قتل کیا جائے ”۔احزاب:60،61)

عورتوں کو تنگ کرنے والے اور غلط افواہوں کو پھیلانے والے معلون قرار دئیے گئے۔ جس میں ملوث عناصر کو سدھرنے کا موقع دینے کے بعد قتل کی سزا دینے کی سخت ترین خبر سنائی گئی ہے۔
ــــــــــ

شوہر اور بیوی کے حقوق میں برابری
صحافی سجاد انور نے کہا کہ” مولانا فضل الرحمن نےPDMکیلئے قربانی دی لیکن اقتدار کا وقت آیا تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے چھوڑ دیا۔ وہ تحریک انصاف کیلئے قربانی دے گا لیکن عمران خان جب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ صلح کرے گا تو مولانا پھر اس طرح سے اپنی پوزیشن نہیں منواسکے گا”۔

مولانا نےMRD،پرویز مشرف ، پیپلز پارٹی مسلم لیگ اورPDMمیں ہردور میں قربانی دی مگر جس طرح ڈلیوری بچہ ہر دور میں عورت جنتی ہے اور

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

جب بھی شوہر طلاق دیتا ہے تو بچوں سے بھی محروم کردیتا ہے یا پھر بچوں کو اس پر پھینک مارتاہے اور قربانیاں کمزور عورت دیتی ہے لیکن فوائد طاقتور مرد اٹھاتا ہے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ نے قانون بنایا؟۔

درباری مولوی کو مراعات ملتی ہیں تو ردھم کے اندر قرآن وسنت اور اپنی اوقات سب بھول جاتا ہے اور طاقتوروں کیلئے قابل قبول بیانیہ بناتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کا ریفرنڈم کہ اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟ چلو وہ توفراڈیا تھالیکن تم بتاؤ کہ تم کیا ہو؟۔

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف

” اور انکے شوہر اس(عدت) میں انکو لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہتے ہوں اور بیویوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے ان پر ہیں”۔ (البقرہ:آیت228)

اللہ نے ایک طرف عدت میں شوہر کو اس آیت میں طلاق کے بعد اپنی بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا تو دوسری طرف اصلاح کی شرط بھی رکھ دی اور پھر معروف طریقے سے دونوں کو برابر حقوق بھی دیدئیے۔ یعنی یہ رجوع معروف طریقے سے باہمی رضامندی کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے۔ یہی صورتحال سورہ النساء آیت35میں واضح ہے کہ ” اگر تم ڈرو کہ دونوں میں جدائی ہوسکتی ہے تو ایک حکم شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے تشکیل دو اور اگر دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان میں موافقت پیدا کرے گا”۔
سورہ الطلاق آیت1میں عدت میں ساتھ رہنے کا حکم دینے کے بعد فرمایاکہ
لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًا
”ہوسکتا ہے کہ اللہ موافقت کی کوئی راہ پیداکردے ”۔

یعنی باہمی رضامندی سے ہی رجوع ہوسکتا ہے لیکن مولوی درباری نے قرآن کی بوٹی بوٹی کرکے طلاق رجعی کی جعلی شریعت سے عورت کے اختیار کو غصب کردیا۔ جب اللہ نے آیت228میں تین ادوار کی عدت کا حتمی تعین کردیا تو عرش کا استواکوئی پاگل خانہ ہے کہ طلاق رجعی سے شوہر کو مرضی کے مطابق بڑھانے کا عورت کی رضامندی کے بغیر ہی ایک دوسرا متضاد حکم جاری کردے؟۔

پھر اللہ نے

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان

میں واضح کردیا کہ عدت کے3مراحل میں3مرتبہ طلاق کا فعل الگ الگ ہے اور الگ بھی طلاق دی تو بھی حلالہ نہیں ہے جو آیت228البقرہ میں واضح ہے اور سورہ طلاق میں بھی واضح ہے۔ پھر رسول اللہۖ نے سمجھایا کہ تین طہر و حیض میں روزوں کی طرح عدت اور طلاق ایک دوسرے کیساتھ لازم وملزوم ہیں ۔ اگر مولانا انور شاہ کشمیری لکھ دیتے کہ بخاری کودرست عنوان کے تحت درست حدیث درج کرنا چاہیے تھی تو یہ نہ کہتے کہ میں نے اپنی ساری زندگی ضائع کردی ۔مفتی تقی عثمانی نے سود کو جواز بخش دیا تو ”کٹاکٹ میں ہڈی تلاش کرلی” مگر مسلمانوں کو اس کا کیا فائدہ ہے؟۔ علماء خود کواب بدل ڈالیں۔
ــــــــــ

عورت کمزور مگراللہ نے مکمل تحفظ دیا

دنیا حیران ،پریشان اور سرگردان ہے کہ شوہر کو غصہ آگیا اور3طلاق کا لفظ منہ سے نکال دیا لیکن پھرسزا حلالہ کی لعنت سے عورت کیوں کھائے؟۔

اگر عورت کو پتہ چل گیا کہ خدا نے14سو سال پہلے نہ صرف حلالہ کی لعنت سے آزادی دلائی بلکہ وہ حقوق دئیے ہیں جس کا جدید ترقی یافتہ دنیا میں بھی کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے تو اسلام قبول کرے یا نہیں کرے لیکن اسلامی نظام خلافت کو دنیا کی تمام عورتیں جمہوری بنیاد پر ووٹ ڈالیں گی جس ملک، مذہب اور براعظم سے بھی اس کا تعلق کیوں نہ ہو۔

مولوی دلا ٹغ نے قرآن میں عورت کے حقوق کو دیکھا ہی نہیں بس حلالہ کی لعنت پر چڑھ دوڑنے کیلئے اس شیطانی لشکر کا کارندہ بن گیا جس کا اللہ نے فرمایا کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے اس طرح کہ تم اسے نہیں دیکھتے ۔ (سورہ اعراف آیت27،28)

جب کسی لڑکی کو کچے کے ڈاکو زبردستی سے اغواء کرکے لے جائیں اور ایجاب و قبول کروالیں تو یہ مفتی تقی عثمانی کی شریعت میں نکاح ہے جب تک شوہر خود طلاق نہیں دے تو نکاح عدالت سے بھی ختم نہیں ہوسکتا اور اگر عدالت سے خلع لے اور کسی اور شوہر سے نکاح کرلے تب بھی اس ظالم مفتی کا یہی فتویٰ ہے کہ اسی ڈاکو کے نکاح میں ہے۔

دوسری طرف شک پر بھی کہ تین طلاق دی ہے یانہیں؟۔بہرصورت حلالے کا فتویٰ دیتا ہے اسلئے کہ سود خور کو حلال وحرام کی بہت زیادہ فکر ہے اور پھر فتوے میں شوہر اور بیوی کا نام بھی لکھ دیتا ہے جو معاشرے میں حلالہ پر مجبور کرنے کی غمازی ہے۔

بنومروان نے جبری حلالہ مسلط کیا اور بنوعباس نے جبری طلاق کی داغ بیل ڈال دی ۔ خاندان غلاماں کے دور میں اسلام بالکل اجنبی بنا۔ اسلام کو مشکل سے نکالنے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔

اللہ نے بار بار واضح کیا کہ” معروف کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے”۔ جو کسی بھی قسم کے جبر،دباؤ اور منکرات کی صاف صاف نفی ہے۔ پشتوزبان میں کہتے ہیں کہ” جس میں خو(اگر مگر) نہ ہو”۔

جیسے عناصر ایٹم اور جاندار کے جسم خلیے سے بنتے ہیں ،اسی طرح معاشرتی اکائی میں میاں بیوی کا ایک بنیادی یونٹ کی طرح کردار ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد قرآن میں دئیے گئے عورت کے حقوق کی وہ بحالی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے تمام انسانوں میں توازن قائم ہوگا۔ محمود خان اچکزئی کی جماعت کے نواب جوگیزئی نے باقاعدہ ایک چشم دید واقعہ بتایا کہ ایک خاندان کی بچی نہیں تھی تو طے ہوا کہ جب بچی پیدا ہوگی تو اس کی فلاں سے شادی ہوگی۔ پھر پیدا ہوئی اور جوان ہوگئی تو وہ آدمی بہت بوڑھا تھا ۔ شادی کے چند سال بعد مرگیا تو پھر دوسرے بھائی نے اور وہ مرا تو تیسرے بھائی نے شادی کی ۔

منگیتر منکوحہ ہوتی ہے اسلئے کہ ایجاب و قبول کا مفہوم دنیا جانتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی قوم کے اندر رسم تھی کہ منگنی کے بعد جنسی تعلق بھی قائم کیا جاتا تھا اورحمل کے بعد رخصتی ہوتی تھی۔ یہ حضرت آدم و حواء کے واقعہ کی ایک تصویر ہے لیکن وہاں اللہ نے منع کیا تھا اور یہاں ایک قوم کی رسم ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ایک جگہ باپ کی منگیتر سے بیٹے کو شادی کا جواز فراہم کیا ہے اور ساتھ میں ایک بچی پر ایک مولوی اور ایک دوسرے شخص کے مشترکہ نکاح پر فتویٰ دیا ہے کہ مقبوضہ بیوی مولوی واپس کرے ۔

عمر چیمہ نے چمن کی3سالہ بچی سے60سالہ صلاح الدین کی25لاکھ کے عوض شادی کی خبر دی اور بتایا کہ اسکے بیٹے کامران نے اس کی15سالہ بہن سے15لاکھ میں شادی کی اور دھمکی دی کہ اگر وہ نہیں دیتاتو…اس کی ایک8سالہ بہن بھی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الذین جعلوا القراٰن عضینO(حجر:91)

”جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”(وہ کتے )

فیہ نبأماقبلکم و خبر ما بعد کم حکم ما بینکم

”قرآن میں تم سے پہلوں کے قصے ہیں اور بعد والوں کی خبریں ہیں اور تمہارے درمیان کا فیصلہ ہے”۔ ( ترمذی)

فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتٰب یأخذون عرض ھٰذا الادنیٰ و یقولون سیغفرلنا وان یاتھم عرض مثلہ یأخذوہ

” پھر اسکے بعد ایسے جانشین آئے کہ وہ اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عنقریب ہمیںمعافی ملے گی اگر اتنا اور ملتا تو بھی یہ لے لیتے”۔(اعراف:169 )

واتل علیھم نبا الذی اٰتینٰہ اٰیٰتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطٰن فکان من الغٰوینOولو شئنا لرفعنٰہ بھا و لکنہ اخلد الی الارض واتبع ھوٰہ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث ذٰلک مثل القوم الذین کذّبوا باٰیٰتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرونO( اعراف175،176)

”اور ان پر تلاوت کرو اس کی خبر جس کو ہم نے اپنی آیات دیں پس وہ نکل گیا ان سے تو شیطان اسکے پیچھے لگا تو بھٹکنے والوں میں ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو انکے ذریعے اس کو بلند مرتبہ دیتے مگر وہ زمین کی طرف پکا ہوگیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگا۔تواس کی مثال کتے کی ہے اگر اس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپے۔یہ مثال اس قوم والوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو انکو یہ قصے بیان کرو تاکہ فکر کریں”۔

ابن تیمیہ مسالک کو فرقہ اور شرک لکھتا ۔ سورہ تحریم میں بیوی کو حرام کہنا اللہ نے حلال قرار دیا ۔ ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم نے بیوی کو ”حرام ” کہنے پر 20 مذاہب کو نقل کیا۔ 4 بوٹی والا کتا تو 20بوٹی والا ؟۔ ابوحنیفہ کا شاگرد محمد شیبانی شافعی کا استاذ تینوں ایک تھے۔ نبیۖ نے فرمایا :سب سے پہلے اسلام کی کڑی ”حکم” ٹوٹے گی۔ حلالہ مسلط کیا پھرزکوٰة شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل حوض کوثر بن گئی؟۔ پھر سود اسلامی سے پیٹ بھرا کہ نہیں؟
ــــــــــ

سمجھدار دنیا دار مولوی مال کمانے کے چکر میں کتا بن جاتا ہے لیکن احمق طبقہ اسکے پیچھے چلتا ہے جس کی مثال گدھے کی قرآن نے دی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں ۔

سورہ تحریم لم تحرم ما احل اللہ لک … قد فرض اللہ تحلة ایمانکم

میں واضح ہے کہ حرام سے بیوی کو حرام قرار دینا مراد ہے ۔ایمانکم سے مراد وہ تمام الفاظ و اقسام ہیں جن سے بیوی کو حرام قرار دیا جاتا تھاکہ سب کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔

سورہ بقرہ:224،225،226،227میں عورت کو حرام کرنا ختم اور عورت کا حق بھی واضح کیا۔ ناراضگی کی عدت 4ماہ ۔ طلاق کا عزم تھا تو دل گناہ گار اسلئے کہ عدت بڑھ گئی۔ نبیۖ نے29دن بعد رجوع فرمایا تو اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج مطہرات پر اختیار کو واضح کردو۔اللہ نے عورت کو اذیت سے نکالا۔ فقہاء نے ڈبکی لگاکر چوراہے پر کھڑا کیا کہ نکاح باقی ہے یانہیں؟۔ بیوہ4ماہ10دن بعد فیصلے کی مجاز ہے کہ مردہ شوہر سے نکاح باقی رکھے یا نہیں؟۔فقہاء نے لکھا کہ سانس نکلتے ہی اجنبی بن گئے۔ پھر20سال بعد بھی بیوہ ماں مرتی ہے تو اجنبی شوہر کی تختی لگاتاہے ۔ قرآن نے ایسوں کوگدھاجیسا قرار دیا۔

قرآن نے عورت کو اختیارو تحفظ دیا تو مغرب حق تک پہنچا مگرشیخ الاسلام صلح کیلئے لٹاتا کہ حلال کردو ں تو جاسکتی ہو؟۔ یہ گدھا پن ہے۔ سعدبن ابی وقاص نے کہا:
نبیۖ نے فرمایاکہ اہل غرب حق پر غالب رہیں گے یہاں تک انقلابی گھڑی کھڑی ہو۔ (صحیح مسلم)
ــــــــــ

قرآن میں جس طرح عورت کو تحفظ دیا گیا ہے اور جس طرح مختلف پیرائے میں حلالہ کی لعنت کا راستہ روکا گیا ہے اگر تھوڑا سابھی آیات پرغور وتدبر کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ امت مسلمہ کو شیطان نے بالکل کس طرح الٹی سمت چلایا ہے؟۔

لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم

”بیشک ہم نے انسان کو سب سے زیادہ توازن پر پیدا کیا ” ۔ قرآن پیش نظر نہ ہو تو
ثم رددناہ اسفل سافلین
”پھر ہم نے نچلی ترین سطح پر پہنچایا”

الاالذین اٰمنوا وعملوالصٰلحٰت فلھم اجر غیر ممنون

”مگر جو ایمان والے ہیں ان کیلئے ایسا اجر ہوگا جس پر کسی کا احسان نہیں ہوگا”۔ایمان اور اعمال صالح سے انسانیت میں جو توازن پیدا ہوتا ہے اس میں میاں بیوی سے لیکر عالمی سطح تک متوازن معاشرہ تشکیل پاتا ہے جیسے ایک تندرست انسان محتاجی کے بغیر کھڑا ہوتاہے۔

فمالھم عن التذکرة معرضینOکانھم حمر مستنفرةOفرت من قسورہO

”اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ قرآنی تذکرہ سے روگردانی کررہے ہیں گویا گدھے ہیں بدکے ہوئے جو شیر سے ڈرکر بھاگتے ہیں”۔( سورہ المدثر آیات49،50،51)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

من یأتیہ عذاب یخزیہ و یحل علیہ عذاب مقیم(الزمر40)

کون ہے جس پر عذاب آئے جو اسے ذلیل کردے اور جس پر کھڑارہنے والا عذاب کا جواز بن جائے۔

اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضٰی علیھاالموت ویرسل الاخرٰی الی اجلٍ مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرون (الزمر42)
ــــــــــ

اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا

اللہ حجت پوری کرتا ہے جب ان کی موت آئے اورجو نہیں مرتے ا ن کی نیند میں(اتمام حجت پر)

اللہ اتمام حجت سے ذلت کی موت دے تو انک لاتسمع الموتٰی بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ۔ ختم اللہ علی قلوبھم وسمعھم۔انکے دلوں اور کانوں پر مہر اللہ نے لگائی۔ ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کیلئے عذاب عظیم ہے اور ان میں کھلے کافروں کے علاوہ منافق بھی شامل ہیں۔ دوسرا طبقہ غفلت کی نیند میں ہے ،ان کا ضمیر نہیں مرا ہے اسلئے ان میں ہدایت کی گنجائش ہے۔فتح مکہ سے پہلے ابولہب و ابوجہل پر مہر لگ چکی تھی اور ہند، ابوسفیان اور عکرمہ پر نہیں۔
ــــــــــ

فیمسک التی قضٰی علیھاالموت ویرسل الاخرٰی الی اجلٍ مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرون (الزمر42)

توسانس روک لیتا ہے جن پر موت کا فیصلہ آئے اوربھیج دیتا ہے بقیہ کو مقرر میعاد تک (دورِانقلاب تک) بیشک اس میں نشانیاں ہیں فکر والی قوم کیلئے

نیند میں روح قبض نہیں ہوتی ۔ بچہ بھی سمجھتا ہے کہ ماں سانس لیتی ہے ۔ غلط تفسیر مرتد بنادیتاہے۔ اتمام حجت کی موت اورنیند میں نہ مرنا واضح ہے پھر دونوں طبقے کا فتح مکہ سے پہلے وقت آیا تو موت اور نہیں آیا تو بچ گئے۔ نبی ۖ نے فتح مکہ پر چند افراد کو مباح الدم قرار دیا۔ فرمایا کہ ”اگر فلاں غلاف کعبہ میں چھپ جائے تو بھی قتل کرو”۔عبداللہ ابن ابی سرح کو حضرت عثمان کی سفارش پر معاف کیا جو پھر عثمان کی شہادت کاسبب بنا۔ابوجہل کا بیٹا عکرمہ شامل نبیۖ نے معاف کیا جس نے اسلام کیلئے قربانی دی۔ فتح مکہ کے بعد غزوہ تبوک میں12نقاب پوش منافقوں نے نبیۖ پر قاتلانہ حملہ کیا مگر ان کو راز میں رکھا تاکہ اقرباء متأثر نہ ہوں۔نبی ۖ کی رحمت للعالمینی نے منافقوں کے اقارب کوبھی فیضیاب کیا تھا۔
ــــــــــ

من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضٰی نحبہ و منھم من ینتظر وما بدّلوا تبدیلًا(الاحزاب23)

مومنوںمیں کچھ مرد ہیں جنہوں نے اللہ کیساتھ وعدہ سچ کر دیاتو ان میں ہدف کو پہنچ گئے کچھ منتظر ہیںاور ذرا تبدیل نہ ہوئے۔

شہداء مکی دور، بدر ،احدجنہوں نے اللہ کیساتھ وعدہ سچ کر دکھایا جو اپنے ہدف کو پہنچ گئے اور جو منتظر تھے۔یعرف الاشیاء باضدادھا ”چیزیں ضد سے پہچانی جاتی ہیں”۔ حاجی عثمان کے مریدین بہت سارے اللہ کو پیارے ہوگئے اور کچھ منتظر ہیں۔مخالفین کچھ مرگئے اور کچھ مفتی تقی عثمانی کی طرح جیتے جی مرکر قرآن کی تفسیر بننے پہنچ گئے۔

روٹی میں نمک اور سالن میں مرچ کے بغیر مزہ نہیں آتا اورمومنوں کا ہدف بہت بڑا ہوتا ہے ۔مخالفین نمک اور مرچ ہوتے ہیں ۔جس طرح رب اجعلنی مقیم الصلوٰة وقت کی نماز کا قیام ہے اسی طرح عذاب مقیم بھی وقت کے ساتھ سر پر کھڑا عذاب ہوتا ہے۔
ــــــــــ

اذ قال اللہ یٰعیسٰی انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفرواو جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون O

”جب اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ ! بیشک میں تجھے اتمام حجت بناؤں گااور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافروں سے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو کافروں پر بالادستی دوں گا روزقیامت تک پھر میری طرف لوٹنا ہے تو میں فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے”۔(آل عمران آیت:55 )

آج دنیا میں عیسائی اور مسلمان بہت ہیں۔ اللہ نے پہلا وعدہ عیسیٰ علیہ السلام سے اتمام حجت بنانے کا کیا۔ عیسائی اتمام حجت نہیں بنا سکتے۔ تیسرے فریق کا فیصلہ قابل قبول ہوتا ہے۔ یہود ونصاریٰ ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن مسلمان نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت سازی میںغلوکے شکار ہیں اور نہ دشمنی رکھتے ہیں جو شخصیت سوزی کے مرتکب غلو کا شکار یہودکا طرز عمل ہے۔

عیسائی پھانسی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہود نے گندے الزام لگا دئیے اور ان دونوں کے مقابلے میں مسلمان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھالیا گیا۔ عیسائی خود کو عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار سمجھتے ہیں اور مسلمان خود کو۔ اس کا فیصلہ دنیا میں انقلاب کرے گا۔

ابوبکر باقلانی عیسائی بادشاہ سے مناظرہ کرنے پہنچا تو گیٹ پر جھکنا پڑتا۔ابوبکر نے رُخ پھیر کر پوچھ لیا کہ پادریوں کے بال بچے کیسے ہیں؟۔ بادشاہ : غصہ سے یہ مقدس شادی نہیں کرتے۔ ابوبکر : جو اللہ کیلئے بیوی بچے اور پادریوں کا تقدس ؟۔ بادشاہ : تمہاری ام المؤمنین پر الزام لگا تھا، ابوبکر:دو خواتین پر الزام لگا اور قرآن نے دونوں کو بری کیا مگرمریم کا شوہر نہ تھا بچہ ہوگیا، عائشہ کا شوہر تھا اور بچہ نہیں تھا۔ بادشاہ غضبناک ہوکر: تمہارا نبی بادشاہ کی طرح لڑتا ہے ،کبھی شکست تو کبھی جیتتا ہے؟۔ ابوبکر: ہاں انبیاء قتل ہوگئے اور بادشاہ بھی بن گئے مگر خدا تو پھانسی نہیں چڑھتا۔ عیسائی آج مذہبی بہت کم رہ گئے۔

قرآن کا مسئلہ طلاق قبول کیا مگر مسلمانوں نے یہود کی طرح حلالہ رائج کیا اور عورت کے حقوق چھین لئے۔

یہود عیسائیوں کو نہیں مسلمانوں کو معقول سمجھتے ہیں۔ محمد اسد سابقہ یہودی نے قرآن اور بخاری کا ترجمہ کیا۔ پہلا پاکستانی پاسپورٹ بنادیا۔ یہود نے توراة کو مسخ کیا تو مسلمان یہود کے نقش قدم پر چلے اسلئے دونوں ایک ہی لگے۔ قرآنی تعلیم پر عیسائی، یہودی ، بدھ مت ، ہندو اور پارسی سب کا اتفاق ہوگا لیکن مسلمانوں کو صرف حق ماننے کی ضرورت ہے جو اس کے دل ودماغ کو بھی ٹھیک لگے اور الحمد للہ ہم اس پر گامزن ہونے کی کوشش ہی کررہے ہیں۔جب سب کا دماغ کھلے گا تو معاملہ آسان ہوگا۔

سورہ الزمر میں عظیم الشان انقلاب واضح ہے۔ اسکے آخر سے نمونے پہلے پیش کردئیے ۔اب شروع سے۔

تنزیل الکتٰب من اللہ العزیز الحکیمOانا انزلنا الیک الکتٰب بالحق فاعبداللہ مخلصًا لہ الدینOالا للہ الدین الخالص والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفٰی ان اللہ یحکم بینھم فی ماھم فیہ یختلفون ان اللہ لایھدی من ھو کٰذب کفّارOالزمر1تا3

”اللہ غالب حکیم کی طرف سے نازل ہے۔ بیشک ہم نے تیری طرف کتاب کو حق کیساتھ نازل کیا، اسکے دین کیلئے مخلص بن کر ہی اللہ کی غلامی کرو۔ خبردار ! اللہ کیلئے ہے دین خالص۔جنہوں نے اللہ کے علاوہ اپنے مولانا پکڑکے رکھے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اسلئے کہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔بیشک اللہ فیصلہ کرے گا جس میں یہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا ہے جو بہت جھوٹا بڑا ناشکرا ہے”۔ (الزمر1تا3)

بتوں کو آج کون پوچھتا ہے؟۔ مولانابعل بت سے بڑھ کر حلالہ کا بعل بن گیا ہے۔ کشمیر کے سابق صدر کے بھتیجے نے بتایا جس کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے کہ تبلیغی جماعت کے کسی جاننے والے نے اس کو فون کیا تھا کہ غصہ میں طلاق دی تھی اور الحمدللہ مفتی صاحب حلالہ کیلئے تیار ہوگیا ہے۔ پھر ہم سے رابطہ کروایا اور حلالہ سے بچت ہوئی تو مفتی کو گالیاں دیں کہ واضح معاملہ غلط پکڑکے کیوں بیٹھے ہیں؟۔ جو غیرت نہیں رکھتے اور حلالہ بھی کرواتے ہیں اور عام بینکوں سے زیادہ سود بھی دیتے ہیں اور لینے کم لیتے ہیں اور پھر بھی قرب الٰہی کا سبب سمجھتے ہیں تو یہ ایک ماحول کی مجبوری ہے اور شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں نکال دیا اور مفتی تقی عثمانی نے1970جمعیت علماء اسلام پر فتویٰ لگایا تو جب1987میں حاجی عثمان پر لگایا ، مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ پیر صاحب اچھے آدمی ہونگے اور علماء نے فتوے پر پھر1970کی طرح پیسہ لیا ہوگا۔1977میں ذولفقار علی بھٹو نے مولانا عبیداللہ سندھی کے منشور کے مطابق جاگیرداری اور سرمایہ داری کے علاوہ امیر غیریب کا طبقاتی نظام ختم کرنا تھا تو امریکی ڈالروں سے سبھی ایک ہوگئے۔پھر مفتی محمود نے جنرل ضیاء الحق کو مرزائی اور رئیس المنافقین قرار دیا ۔ بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی سودی سرمایہ سے نہیں ہوسکتی تھی۔ کروڑ پر10لاکھ کا سود ملے اور ڈھائی لاکھ زکوٰة کے کٹ جائیں تو ایک کروڑ اصل رقم بھی محفوظ ہے اورساڑھے7لاکھ سود بھی ملے تو زکوٰة کہاں سے ادا ہوگی؟۔ مفتی محمود کا مؤقف پیچیدہ نہیں تھا لیکن مفتی تقی عثمانی نے پان اور مفتی رفیع عثمانی نے دوہ قلب کی گولی کھلاکر پار کردیا۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تحریر کے خلاف ہزار فیصد سے بڑا بڑا جھوٹ بول دیا کہ مفتی محمود بے تکلفی سے پان مانگتے تھے عالم برزخ میں جانے کے بعد بے تکلفی بن گئی؟۔ جنرل رحیم الدین قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح جنرل ضیاء الحق کے بیٹے سے پیسہ لیکر پڑھوایا۔ الائنس موٹرز سے پیسہ کھاکر فتوے لگائے اور آخر میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے تک نوبت آئی۔ حاجی عثمان نے کوئی بوجھ نہیں لادا تھا تب بھی کتے نے ناجائز اولاد اور نکاح پر حرام کاری کے فتوے دئیے اور بوجھ لاددیا تب اس نے یہی کام کیا۔ ہمارا مقصد قرآن کی تفسیر اجاگر کرنا ہے۔

قل انی امرت ان اعبداللہ مخلصًا لہ الدینOوامرت لان اکون اول المسلمینOقل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یومٍ عظیم O

” کہہ دو کہ مجھے حکم ہے کہ میں اللہ کی غلامی کروں اس کے دین کیلئے مخلص بن کر۔ اور مجھے حکم ہے کہ پہلے مسلمان بنوں۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو مجھے خوف ہے بڑے عذاب کے دن کا”۔ (سورہ الزمر:11تا13)

جب آدمی کسی فرقے ، مسلک اور مکتبہ فکر کی آڑ میں پناہ لیتا ہے تو اس کیلئے تعصبات کے نام پر لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بریلوی مکتب والوں نے غلام رسول سعیدی کے گریبان کو پکڑ لیا کہ سورہ فاتحہ کو علامہ شامی نے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا تو تم نے کیوں مخالفت لکھی؟۔لیکن جب مفتی تقی عثمانی کی غلطی کا پتہ چلا تو اس کے خلاف بہت بڑا طوفان کھڑا کردیا تھا۔

افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علٰی نورٍ من ربہ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلال مبین O

”تو کیا جس کا سینہ اللہ نے اسلام کیلئے کھول دیا تووہ اللہ کی طرف سے نور پر ہے پس ہلاکت جنکے دل سخت ہیں اللہ کی طرف سے اور کھلی گمراہی میں ہیں”(الزمر:22)

اللہ نزل احسن الحدیث کتٰبًا متشابھًا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ ذٰلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشاء ومن یضلل اللہ فما لہ من ھادٍO

”اللہ نے احسن الحدیث کتاب اتاری ۔ساری باتیں ایک جیسی ہیں جو دہرائی جاتی ہیں۔بال کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر اللہ کے ذکر کی طرف ان کی کھالیں اور انکے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔جس کو اللہ گمراہ کرے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں”۔الزمر23

افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب یوم القیٰمة وقیل للظٰلمین ذوقوا ماکنتم تکسبونO(سورہ زمر24)

”تو کیا انقلاب کے دن عذاب کی برائی کو اپنے اثر ورسوخ سے روکنے کی کوشش کرے گا۔ ظالموں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم لوگوں نے (اپنے کرتوت کے سبب) کمایا ہے”۔

کذّب الذین من قبلھم فاتٰھم العذاب من حیث لایشعرونOفاذاقھم اللہ الخزی فی الحیٰوة الدنیا و لعذاب لاٰخرة اکبر لو کانوا یعلمونOولقد ضربنا للناس فی ھٰذالقراٰن من کل مثلٍ لعلھم یتذکرونOقراٰنًا عربیًا غیر ذی عوج لعلھم یتقونO

”ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تو انکے پاس عذاب آیا اس طرح کہ شعور بھی نہیں رکھتے تھے۔ پس اللہ نے انہیں دنیا میں ذلت چکھادی اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے اگر یہ جان لیتے۔ اور تحقیق ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال دی شاید کہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ عربی قرآن جو ٹیڑھے پن والا نہیں شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کریں”۔ (الزمر25تا28)

قرآن میں واضح ہے کہ دنیا میں اتمام حجت کا ذلت آمیز عذاب آخرت سے پہلے الگ ہے اور ہر ماحول کا بندہ اس سے رہنمائی اسلئے لے سکتا ہے کہ ہر قسم کی مثال ہے اس میں۔ عربی کا کمال یہ ہے کہ متشابہ آیت وعربًا اتراتا کا عربی لغت اور دنیا میں کوئی وجود نہیں تھا۔تو رائے سے قد کے برابر حوریں مراد لی یا عمر کے برابر۔ لیکن پہیہ والی گاڑی دیکھ لی تو بے ساختہ اس کا نام عربة ”گاڑی” رکھ دیا۔قرآن میں بھی اس سے گاڑی ہی مراد تھا لیکن مشابہ چیز جب تک نہیں تھی تو اللہ کو معلوم تھا۔

ابھی تو متشابہات کا کیا رونا روئیں؟ محکم آیات کو بھی فقہاء نے کباڑ کا اجنبی مال بنادیا ہے۔ جب قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ایک ہی الہ ہے تو کفار نے کہا کہ سارے معبودوں کو ایک بنادیا ان ھٰذا لشی ء عجاب ”یہ تو عجوبات چیز ہے”۔ اردو میں ”عجوبات” کا لفظ نہیں ہے جب کوئی بہت ہی حیرت والی چیز دکھائی دے تو پھر عجوبات کہنا ایک فطری چیز ہے۔ عربی میں عجاب نہیں ہے لیکن بہت معبودوں کے عادیوں کولا الٰہ الا اللہ عجوبات لگتا تھا۔ تین طلاق کو ایک قرار دیا گیا تو بھی عجیب لگا تھا مگر قرآن کی حقیقت سمجھ میں آئے توعجوبات لگے گا۔

ضرب اللہ مثلًا رجلًا فیہ شرکاء متشٰکسون و ورجلًا سلمًا لرجل ھل یستویٰن مثلًا الحمد للہ بل اکثرھم لایعلمون O

” اللہ ایک آدمی کی مثال دیتا ہے جس کے کئی بداخلاق وارث ہوں۔ اور ایک آدمی جو کسی ایک کیلئے سر تسلیم خم ہو ۔کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟۔ الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے ہیں ”۔ (سورہ الزمر آیت:29)

ایک طرف حاجی عثمان تھے اور دوسری طرف کئی مفتی اپنے فتویٰ میں انتہائی متضاد اور باہم متصادم تھے تو کون جیتا؟۔ بہت بڑی داستان ہے اور ضرورت پڑی تو سامنے لائیں گے۔ ایک طرف میرے والد پیر مقیم شاہ کی بات تھی اور دوسری طرف پھر آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنیوالوںکا مشترکہ معاملہ تھا۔ تو ان میں برابری نہیں تھی۔ پوری دنیا کو سدھارنے کیلئے ان دونوں کے معاملات کو بطور مثال پیش کرسکتا ہوں الحمدللہ۔

میرے ماموں سعدالدین نے مجھ سے کہا کہ ”میں اپنے بھتیجے اور بھانجے کا بدلہ لوں گا”۔ جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ تمہارے بہن بھائی، بھانجی بھتیجا،خالہ زاد ماموں زاداور بہت سارے مہمان شہید کردئیے گئے تم بھی بے غیرت ہو اور تمہارے بھائی اور کنبہ بھی بے غیرت ہے۔ یہ سلسلہ اس کے بیٹوں نے بھی جاری رکھا ہوا تھا اور میرے بھتیجوں اور بھتیجیوں اپنی بیگمات اور اپنے سالوں سے جاری رکھتے تھے ، نسل در نسل یہ سلسلہ چلتے رہنا تھا۔ قتل بھی میرے بھتیجوں سے کروانے تھے اور غیرت بھی اس کی پوری ہونی تھی۔لیکن خدا نے اس ذلت تک پہنچادیا کہ جن کو ہمارے ہاتھوں سے قتل کروانا تھا ان کا زیر ناف چوس کر ہمیں قتل کروانے پر آگئے۔

جیسے ٹھیکہ آتا ہے تو ٹھیکہ دار اس کو حاصل کرنے کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ یہ تومجھے معلوم تھا کہDNAمیں غداری ہے اور قتل کا پروجیکٹ آئے تو پیسہ لینے کیلئے کچھ ضمیر سے عاری لوگ اپنے اجداد کی سنت کو زندہ کرسکتے ہیں ۔لیکن ہم نے اپنے مجرم کو تلاش کرنا تھا کہ کون غیرت کے نام پر استعمال ہوا؟۔ کس کو کیا تکلیف ہم سے پہنچی تھی اور کون پیسوں کیلئے بک گیا؟۔ اس تلاش میں نسلوں کو بھی شاید پتہ نہیں چلے لیکن الٹی سیدھی باتوں کی جگہ معاملات کی صفائی ضروری تھی اور اس کیلئے میرے قتل اورسکول کے بچوں اور بچیوں کو نقصان پہنچانے کی حدتک جانا اس کمینگی کو ثابت کرتا ہے کہ میں کس پر کتنا بھروسہ ر کھوں؟۔

فمن اظلم ممن کذّب علی اللہ وکذّب بالصدق اذجاء ہ الیس فی جھنم مثوًی للکافرینOوالذی جاء بالصدق و صدق بہ اولئک ھم المتقونOلھم مایشاء ون عند ربھم ذٰلک جزاؤا المحسنین

” تواس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے اور جو سچ لائے اس پر جھوٹ بولے کیا جہنم کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور جو سچ لے کر آیا اور جس نے اسکی تصدیق کی تو یہی لوگ پرہیز گا ر ہیں۔ ان کیلئے انکے رب کے پاس وہ ہے جو یہ چاہتے ہیں یہ اچھوں کا بدلہ ہے”۔ (سورہ الزمر:32تا34)

لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا و یجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوا یعملونO( الزمر:35)

”تاکہ انکے بہت برے کام مٹادے جو انہوں نے کئے اور ان کو بدلہ دے زیادہ بہتر جو اچھے کام انہوں نے کئے ”۔

ہمارے لئے سب سے بڑا اثاثہ یہی آیت ہے اسلئے کہ اپنے برے کاموں کیلئے اللہ سے معافی کے طلبگار ہیں۔ اسلام کا مشن سنبھالا ہوا ہے اور باقی ذاتی معاملات میں تو کوتاہی کی حد نہیں ہے ۔اللہ فاسقوں سے بھی دین کا کام لے لیتا ہے۔

الیس اللہ بکافٍ عبدہ و یخوفونک بالذین من دونہ ومن یضلل اللہ فما لہ من ھادٍO

کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور وہ تمہیں اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ”۔ (الزمر:36)

ومن یھداللہ فما لہ من مضلٍ الیس اللہ بعزیزٍ ذی انتقامٍO

” اور جسے اللہ ہدایت دے تو کون گمراہ کرے؟ کیا اللہ زبردست انتقام والا نہیں ہے”۔ (الزمر:37)

انتقام تو پھر اللہ کا ایسا کہ اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ مخالف میں شرم و حیا اور عزت وتوقیر نہیں ورنہ کیسے دکھائی دیتے ہیں؟۔

ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض لیقولن اللہ قل افرء یتم ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضرٍ ھل ھن کٰشفت ضرہ او ارادنی برحمةٍ ھل ھن ممسکٰت رحمتہ قل حسبی اللہ علیہ یتوکل المتوکلونO(سورہ الزمر:38)

”اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ آسمانوں و زمین کو پیداکس نے کیا؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے تو ان سے کہوکہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ،اگر اللہ مجھے تکلیف پہنچانا چاہے تو وہ لوگ اس کو دور کرسکتے ہیں؟۔اور اگر اللہ مجھے رحمت دینا چاہے تو وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟۔ کہہ دو کہ اللہ میرے لئے کافی ہے اور اسی پر توکل کرنے والے توکل کرتے ہیں”۔

قل یٰقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون O

” کہہ دو کہ اے قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کرو ۔میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تم جان لوگے” ۔زمر39

من یأتیہ عذاب یخزیہ و یحل علیہ عذاب مقیم O

”کس پر آتا ہے عذاب جو اس کو ذلیل کرے اور کس پر جائز بن جاتا ہے قائم رہنے والا عذاب”۔ سورہ الزمر40

انا انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق فمن اھتدٰی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا وماانت علیھم بوکیلO

” بیشک ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے لوگوں کیلئے حق کیساتھ تو جو اس سے ہدایت پاگیا تو اپنے لئے اور جو گمراہ ہوا تو اس کی کالک اسی کو لگ گئی ۔اور آپ ان پر کوئی وکیل مقرر نہیں ہیں”۔(سورہ الزمر:41)

اس کے بعد ان لوگوں کا حال جو اتمام حجت کی وجہ سے اپنی گمراہی بالکل پکی کردیتے ہیں اور بعض کیلئے گنجائش ہوتی ہے اور ان لوگوں کیلئے علامہ اقبال نے بیہوشی کالفظ استعمال کیا ۔

اللہ یتوفی الانفس حین موتھا و التی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضٰی علیھا الموت و یرسل لاخرٰی الی اجل مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرونO

” اللہ حجت پوری کرتا ہے جانوں پر ان کی موت کے وقت اور وہ جن پر نیند میں موت طاری نہیں ہوتی ۔ پس جس پر موت کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس کی سانس روک لیتا ہے اور دوسروں کو مقرر میعاد تک بھیج دیتا ہے ۔بیشک اس میں فکرکرنے والی قوم کیلئے نشانیاں ہیں”۔ (سورہ الزمر:42)

ام اتخذوا من دون اللہ شفعاء قل او لو کانوا لایملکون شیئًا ولایعقلونO

” کیا انہوں نے اللہ کے علاوہ سفارشی پکڑلئے ؟۔ کہہ دو کہ اگرچہ یہ نہ اختیار رکھتے ہوں اور نہ ان کے پاس عقل ہو”۔ (سورہ الزمر:43)

یہ انقلاب آنے کے بعد کی کیفیت کا بیان ہے کہ جن کے پاس نہ اختیار ہوگا اور وہ عقل سے بھی پیدل ہوں گے۔

قل للہ الشفاعة جمیعًا لہ ملک السمٰوٰت و الارض ثم الیہ ترجعونO

” کہہ دو کہ سفارش صرف اللہ کیلئے چلے گی ساری۔ اس کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر اس انقلاب کے بعد تم نے لوٹنا ہے”۔ (الزمر:44)

واذا ذکراللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لایؤمنون بالاٰخرة واذا ذکر الذین من دونہ اذاھم یستبشرونO

” اورجب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل تنگ ہوجاتے ہیں جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب اللہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو پھر وہ بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں”۔( سورہ الزمر:آیت45)

قل اللٰھم فاطرالسمٰوٰت والارض عٰلم الغیب و الشھادة انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفونO

”کہو کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے فاطر، غیب اور حاضر کا علم رکھنے والے تو اپنے بندوں کا فیصلہ فرمائے گا جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں”۔ (الزمر:آیت46)

1979میں سکول کے نصاب لیہ میں یہ ایک آرزو تھی۔
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند دل کو رونا میرا رو لادے
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

واذا رایت الذین یخوضون فی اٰیٰتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیثٍ غیرہ واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمینO

جب ان کو ہماری آیات میں غوطہ زنی کرتے دیکھوتو ان سے ہٹ جاؤ یہاں تک وہ کسی اور میں غوطہ زنی کریںاگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے کے بعدظالم قوم کیساتھ مت بیٹھو ۔68 سورہ الانعام: آیت

قرآن نے عورت کوشاندار تحفظ دیا مگر فضول بکواس سے عورت کے گرد تمام حفاظتی دیواروںکو توڑ کر حلالہ کومسلط کردیا گیا!

افمن یمشی مکبًا علی وجھہ اھدٰی امن یمشی سویًا علٰی صراطٍ مستقیمٍO

توکیا جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یاوہ جو سیدھا چلے سیدھی را ہ پر ۔(الملک آیت:22)

افلا یتدبرون القراٰن ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوافیہ اختلافًا کثیرًاO

کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے اور اگر یہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میںبہت اختلاف پاتے(النساء:22)

اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمٰی ابصارھمOافلا یتدبرون القراٰن ام علی قلوبٍ اقفالھا O

یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں بہرا کردیا اورانکی آنکھیں اندھی کردیں، کیایہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا انکے دلوں پر تالے ہیں۔( محمد آیت:23،24)

تدبر میں ٹھوکر نہیں لگتی اور ڈبکیوں میں حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے۔ قرآن کا ایک ہدف صلح میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ ہے اور دوسرا ہدف عورت کے اختیار کا تحفظ ہے۔ غوطہ خوروں نے منہ کے بل دونوں اہداف کو ضائع کردیا ہے اور علماء حق اور عوام الناس نے اگر قرن پر تدبر کیا تواللہ کے کلام سے انسانیت کی معراج پر پہنچیں گے۔

سورہ النساء آیت35، سورہ مجادلہ، احزاب، تحریم، طلاق کی ابتدائی آیات اور سورہ البقرہ آیت224سے232تک میں بار بار رجوع پر ہی زور ملے گا مگر عورت کی رضامندی کی شرط کے ساتھ اور چونکہ عورت کا اختیار وضاحتوں کے باوجود نہیں مانتے تھے توالبقرہ230سے پہلے جب واضح ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو اس کی خود مختاری کیلئے وہ الفاظ استعمال کئے جس سے آزادی کو یقینی بنایا اور جب بھی عورت راضی نہ ہو تو یہی حکم ہے مگر افسوس کہ عورت راضی ہوتی ہے تب بھی لگادیا ہے۔

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلکم ازکٰی لکم واطھر واللہ یعلم وانتم لا تعلمونO

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو مت روکو جب وہ اپنے شوہروں سے نکاح قائم دائم رکھنا چاہتی ہوں ، جب وہ معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں ۔یہ اس کیلئے وعظ کا ذریعہ ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ۔یہی ہے جو تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو”۔ (سورہ بقرہ:232)

اگر کوئی شیعہ ، اہل حدیث، حنفی ، پرویزی، غامدی یا کوئی بھی طبقہ کسی بھی مرحلے پر اور کسی بھی وجہ سے یہ کہتا ہے کہ اس صورت میں باہمی رضامندی کے باوجود بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے تو وہ لعنتی ہے اور اندھا بہراہے۔

کیا اللہ کی بات میں تضاد اور اختلاف ہوسکتاہے؟۔ بالکل بھی نہیں ہوسکتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ نے سمجھادیا۔

اللہ نے ایک پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا:

او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدوداللہ فاولٰئک ھم الظٰلمونOفان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ:229،230)

”یا اس کو احسان کیساتھ رخصت کرواور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔مگر جب دونوں کوخوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اوراگر تمہیں خوف ہو کہ اگر وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو پھر عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوںپر کوئی حرج نہیں یہ اللہ کی حدود ہیں تو ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیںپھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ البقرہ:(229،230)

یہ وہ صورت ہے کہ جب دو مرتبہ طلاق کے بعد پھر تیسری مرتبہ معروف رجوع نہیں کیا بلکہ تیسری مرتبہ کی طلاق کا فیصلہ کیا ۔ جس کے بعد کوئی چیز واپس نہیں لے سکتے۔مگر کوئی چیز جس پر دونوں اور فیصلہ کرنے والے متفق ہوں کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو رابطے کا ذریعہ بنے گا اور جنسی تعلق سے اللہ کی حدود توڑ دیں گے۔ اسلئے وہ چیز عورت اپنی طرف سے فدیہ کرسکتی ہے تو اس صورت میں کنفرم ہوگیا کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو اس کو تحفظ دینے کیلئے یہ حکم ہے کہ دوسرے سے نکاح کئے بغیر پہلے کیلئے حلال نہیںتاکہ عورت کو بھرپور تحفظ ملے مگر معروف رجوع ہو تو آیت231،232،228اور229میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بغیر حلالہ کے رجوع بہت ہی اچھی طرح واضح ہے۔ کمال نہیں بہت بڑے زوال کی بات ہے کہ جہاں پر اللہ نے یہ واضح کردیا کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد معروف رجوع کے بجائے تیسری مرتبہ احسان کیساتھ رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔ احسان کا معنی عورت کو اس تیسری مرتبہ کی طلاق میںاسکے حق سے زیادہ مال دینا۔ اور پھر یہ واضح کردیا کہ ”جو کچھ بھی دیا ہے تواس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے”۔ سورہ النساء آیت19میں خلع کے اندر بھی عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے اور سورہ النساء آیت20میں طلاق کے اندر عورت کو بہت زیادہ مالی تحفظ دیا گیا اورآیت229میں خلع کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے اور جب اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا اور اس کو خلع میں بدل کر بلیک میلنگ کا ذریعہ بنادیا گیا ہے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے اور دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ اللہ عورت کو اس وقت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کا تحفظ دینے کی وضاحت کررہاہے جب وہ رجوع کیلئے راضی نہ ہوتو اس پر الٹا حلالہ کی لعنت کو بطور سزا مسلط کیا جارہاہے۔

قرآن کی آیات پر تدبر کیا جائے تو پوری انسانیت کیلئے اس سے بڑا تحفہ دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کیلئے نہیںہے بلکہ عالم انسانیت کیلئے ہے۔ اس میں حلال وحرام واضح ہیں۔

جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی تو اللہ نے فرمایا:

یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم وللہ مولٰکم وھو العلیم الحکیم (سور ہ التحریم آیت1،2)

”اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اپنی ازواج کی رضا جوئی کیلئے اور غفور رحیم ہے ۔ بیشک اس نے تمہاری طرف سے بیوی کو حرام کرنا حلال ٹھہرادیا ہے۔ وہ تمہارا مولانا ہے وہ علیم حکیم ذات ہے”۔

حرام کا لفظ ایک نمائندہ ہے ان تمام الفاظ کا جن کی وجہ سے بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے مذہبی مسائل رائج تھے۔

ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیم O

”اور اللہ کو رکاوٹ کا ذریعہ مت بناؤ اپنے اوپر بیویوں کے حرام قرار دینے کے الفاظ کیلئے کہ تم نیکی،تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ ۔اور اللہ سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ:224)

جو سورہ تحریم میں اللہ نے واضح کیا ہے وہی یہاں طلاق کا مقدمہ سمجھانے کیلئے ایک بنیادی اہمیت کا حامل بنادیا ہے۔یہی چیز وضاحتوں کیساتھ آیت232البقرہ تک بہت سلیس انداز میں پہنچادی ہے۔علماء حق اور قارئیں صرف تدبر کریں۔ کیونکہ اللہ نے صلح کا دروازہ بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑاہے۔

لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیمOالبقرہ:25

”اور اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے تمہارے لغو یمین سے لیکن وہ تمہیں پکڑتا ہے بسبب جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے”۔

اللہ نے یہاں بیوی کو حرام قرار دینے والے تمام الفاظ کو لغو قرار دے دیا ہے لیکن دل کے گناہ سے پکڑنے کو واضح کردیا۔

سورہ مجادلہ میں ظہار کا فرمایا

انھم یقولون منکرًا من قول الزورًا

”بیشک وہ منکر جھوٹا قول بولتے ہیں”۔ سب سے سخت ترین طلاق یہی تھی لیکن اس میں بھی رجوع واضح کردیا۔

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیم O(سورہ البقرہ:226)

” جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کرتے ہیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے تو اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔

یہ ایلاء وہ ناراضگی ہے جس میں طلاق کا اظہار نہیں ہے تو اس میں طلاق کے مقابلے میں ایک ماہ زیادہ انتظار ہے لیکن اس میں بھی اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی وہ تدبر کا نتیجہ ہے کہ ایک طرف یہ مذہبی تصور ختم کردیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔تو دوسری طرف عورت کا حق بھی واضح کردیا کہ اس کی مرضی کے بغیر رجوع نہیں ہے۔

رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا تو29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے امت مسلمہ پر واضح کرنے کیلئے حکم دیا کہ تما م ازواج پر واضح کردو کہ علیحدگی کا اختیار عورتوں کے پاس اللہ نے گروی رکھا دیا ہے۔ مرد نے پہل کی اور عورت کو اختیار اللہ نے دیدیا۔

پوری دنیا نے عالم انسانیت کو یہ حقوق قرآن کے فیوضات سے دئیے ہیں لیکن مسلمان خود اس سے محروم ہوگیا ہے۔ اسلئے کہ وہ اللہ کی آیات میں ڈبکیاں لگانے والوں کے آسرے پر بیٹھ گیا ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ چار ماہ کے بعد بھی عورت اس نکاح کے بندھن میں ہے اور دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ چار ماہ گزر گئے تو نکاح باقی نہیں رہاہے ۔ اب دونوں طبقات غوطہ زن ہیں کہ اپنے اپنے حق میں دلائل کے آکٹوپس (اخبوط ، ہشت پا) تلاش کریں لیکن عورت حیران ہے کہ اس کا نکاح باقی ہے یا پھر وہ اس سے نکل چکی ہے؟۔ علامہ ابن قیم اور دوسرے حضرات لنگوٹ باندھ کر امام ابوحنیفہ کے خلاف کھڑے ہیں کہ نکاح کو قرآن نے باقی رکھا ہے۔ احناف کے نزدیک نکاح نہیں رہا۔

اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق کا تحفظ کیا ہے مگر فقہاء نے چوراہے پر عورت کو کھڑا کردیا کہ کیا کرے؟۔اللہ نے فرمایا:

وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم O

”اور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو اللہ سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ:27)

اللہ نے ایک طرف تو معاملہ اتنا واضح فرمایا ہے کہ اگر ایلاء میں نیت طلاق کی تھی تو یہ دل کا گناہ ہے جس کو اللہ سنتا جانتاہے اور اس پر شوہر کی پکڑہوگی اسلئے کہ پھر اظہار کرنا چاہیے تھا تاکہ عورت 4ماہ کی جگہ پر3 ماہ کی عدت گزار کر فارغ ہوجاتی۔ اور اس لئے اسکے دل کا گناہ قابل گرفت قرار دیا ہے اوردوسرا یہ بھی نہیں فرمایا کہ نکاح ختم ہوگیا کیونکہ یہ عورت کا حق ہے اس کی مرضی ہے کہ عدت کے بعد بھی رجوع کیلئے راضی ہے یا نہیں؟۔ اگر وہ راضی نہیں ہے تو یہ عدت ہے اور نکاح ختم ہے لیکن اگرعورت نکاح باقی رکھنا چاہتی ہے اور شوہر بھی باقی رکھے تو پھر نکاح بھی باقی ہے۔ اختلاف کرنے والوں نے قرآن پر تدبر کیا ہوتا تو پھر ان تضادات تک نوبت نہیں پہنچ سکتی تھی۔

اللہ نے قرآن میں بیوہ کو بھی عدت4ماہ10دن کے بعد اختیار دیا ہے کہ وہ نکاح باقی رکھنا چاہتی ہے یا کسی اور کیساتھ نکاح چاہتی ہے۔دونوں معاملے میں آزاد وخودمختار ہے لیکن فقہاء نے یہاں تک معاملہ پہنچادیا ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرے کو اجنبی بنادیتے ہیں۔حالانکہ حضرت ابوبکر کی میت کو آپ کی زوجہ نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ حکومت بھی بیوہ کے سرکاری پینشن کو اس وقت تک جاری رکھتی ہے کہ جب تک وہ کسی اور سے نکاح نہیں کرلیتی ہے۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ و لا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO

”اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہتے ہوں اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ان کے شوہروںکے معروف کے ساتھ ہیں۔ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔ البقرہ:228

اس آیت میں طلاق کا مثالی روڈ میپ ہے۔ عدت تک انتظار کی پابندی اور شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا زیادہ حق اور عورت کو رجوع سے انکار کا معروف حق ۔ ایک طرف حلالہ کا تصور ختم کردیا تو دوسری طرف عورت کو بھی تحفظ دے دیا اسلئے کہ خلع کے مقابلے میں طلاق کے حقوق زیادہ ہیں۔عورت اگر رجوع کیلئے معروف طریقے سے راضی نہیں تو رجوع بھی حرام ہے اور رجوع کیلئے کسی قسم کا دباؤ ڈالنا بھی حرام ہے۔ باہمی صلح کیلئے مولوی یا عدالت کے پاس جانا بھی غلط ہے اسلئے کہ بیوی راضی ہو تو شوہر رجوع کا زیادہ حق دار ہے۔ عورت راضی نہیں تو ایلاء ہو، ایک طلاق ہو ، تین طلاق ہویا حرام کا لفظ شوہر کیلئے پھر کسی صورت رجوع جائز نہیں ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر اسلئے رجوع کے حرام ہونے کا فیصلہ دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ اور عورت کے راضی ہونے کے باوجود رجوع کو ناجائز کہنا اور حلالہ مسلط کرنا انتہائی گھناؤنی حرکت ہے۔ اسلئے قرآن میں تدبر نہیں کیا ہے اور ڈبکیاں کھاکر سارا کام بگاڑ دیا ہے۔

الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ البقرہ :229

یہ اس عدت میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے جو228البقرہ میں تین مراحل بیان ہوئے ہیں۔ رجوع کیلئے یہاں بھی وہی معروف کی شرط ہے اور تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے۔ مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی رجوع میں عدت کے اندر کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی واضح ہے اور سورہ بقرہ کی ان تمام آیات میں بھی واضح ہے اورسورہ بقرہ کی آیت230کا تعلق اس صورت سے ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور اگر معروف طریقے سے وہ رجوع کیلئے راضی ہو تو آیت231میں رجوع واضح ہے۔

غور وخوض دو الفاظ ہیں۔ غور کا معنی تدبر اور قرآن کی آیات بینات کا واضح مفہوم سمجھنا ہے اور خوض ڈبکی لگانا جس میں ظاہر الفاظ کو چھوڑ کر منہ کے بل غوطہ لگانا ہے۔

عبداللہ بن مسعود وفات33ھ نے فرمایا کہ

تعلم العلم قبل ان یقبض وقبضہ ان یذھب اھلہ و علیکم بالعلم فان احدکم لایدری متی یفتقر الی ما عندہ وایاکم التبدع وایاکم التعمق وعلیکم بالعلم و علیکم بالعتیق
(سنن دارمی عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید )

”علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ قبض ہوجائے اور قبض ہونا اس کا یہ ہے کہ اسکے اہل رخصت ہوجائیں۔ تمہیں کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کب اس کی ضرورت پیش آجائے جو اسکے پاس ہے اور خبردار ! بدعات سے دور رہو اور خبردار ! غوطہ خوری سے دور رہو اور تم پر علم کی اتباع لازم ہے اور تم پر عتیق کی اتباع لازم ہے”۔

معروف کی جگہ فقہاء نے غوطہ خوری سے منکر رجوع کے بدعات سے مسلمانوں کاماحول متعفن کردیا۔ اکٹھی تین طلاق کو سنت وبدعت کے غوطے کھلائے اور باہمی رضامندی میں بھی حلالہ کی لعنت مسلط کردی۔ حالانکہ سورہ طلاق کے مطابق کوئی مرحلہ وار طلاق دے اور عدت کے آخر میں معروف رجوع کی جگہ معروف طریقے سے چھوڑ دے تو عادل گواہ بھی مقرر کرے تو مدتوں بعد نبیۖ نے اپنے خاندان کے رکانہ کے والدین کو سورہ طلاق تلاوت فرماکر رجوع کی وضاحت فرمادی۔

بخاری نے بنوقریظہ کے افرادسے حلالہ مسلط کرنے کی حماقت کی۔ من اجاز الطلاق الثلاث عربی بھی غلط ہے اور اس کے تحت آیت اور حلالہ کا واقعہ درج کرنا بھی غلط ہے۔

الحمد للہ الذی خلق السمٰوٰت والارض و جعل الظلمٰت و النور ثم الذین کفروا بربھم یعدلونOھو الذی خلقکم من طینٍ ثم قضٰی اجلًا واجل مسمًی عندہ ثم انتم تمترونOو ھواللہ فی السمٰوٰ ت و فی الارض یعلم سرکم و جھرکم ویعلم ماتکسبونOو ماتأتیھم من اٰیة من اٰیٰات ربھم الا کانوا عنھا معرضینOفقد کذّبوا بالحق لما جاء ھم فسوف یأتیھم انبٰؤا ما کانوا بہ یستھزء ونO(سورہ انعام:1تا5)

”تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا پھر جنہوں نے کفرکیااپنے رب سے عدل کرنے لگے۔ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر مہلت دی اور مقررہ میعادپر انقلاب اسکے پاس ہے پھر تم شک کرنے لگتے ہواور وہ اللہ آسمانوں میں اور زمین میں ہے جانتا ہے تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو اور کوئی آیت انکے پاس انکے رب کی آیات میں سے نہیں آتی مگر یہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔پس انہوں نے حق کو جھٹلایا جب بھی ان کے پاس آیا اور عنقریب ہم ایسی خبریں دیںگے جن کے ساتھ یہ مذا ق اڑائیں گے” ۔

ولو نزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم

اور اگر ہم کتاب کو کاغذ میں نازل کرتے اور یہ اپنے ہاتھوں سے چھوتے توبھی کافر لوگ کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔(انعام:آیت7)

قل ای شی ئٍ اکبر شھادةً قل اللہ شھید بینی و بینکم واوحی الی ھٰذا القراٰن لانذرکم بہ ومن بلغ ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھة اخرٰی قل لا اشھد قل انما ھوالہ واحد واننی بری ء مما تشرکونO

”کہہ دو کہ کیا چیز بڑی گواہی ہے؟،کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی ہوا ہے تاکہ اسکے ذریعہ تمہیں میں ڈارؤںاور جس (امام مہدی) تک قرآن پہنچا۔تم اللہ کیساتھ دوسری شخصیات کو الٰہ بنابیٹھے۔ (سودکو حلال اور حلالہ میں عزتیں پامال کرنے والی)کہہ دو میں گواہی نہیں دیتا ،الٰہ ایک ہے اور میں تم سے بری الذمہ ہوں جو تم نے خدائی احکام کیساتھ شریک کیا ہے”۔ (انعام:19)

آیت میں ہر وہ شخص مراد ہے جس کا کردار گمراہی کا نہیں بلکہ قرآن سے ہدایت لیکر اتمام حجت کا کام کررہا ہو۔

الذین اٰتینٰھم الکتٰب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم الذین خسروا انفسھم فھم لایؤمنونOمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا او کذّب باٰیٰتہ انہ لایفلح الظٰلمونO

”جن کو ہم نے کتاب دی یہ قرآن کے داعی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں جنہوں نے خود کو خسارہ میں ڈالا تو وہ ایمان نہ لائیں گے اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر افتراء کیا یا اسکی آیات کو جھٹلایا بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے”۔(انعام:20،21)

جو بھی انقلاب کیلئے اٹھے گا اور اس کی باتیں درست ہوں گی تو باطل اس کو اچھی طرح پہنچانتے ہوں گے۔

ویوم نحشرھم جمیعًا ثم نقول للذین اشرکوا این شرکاؤکم الذین کنتم تزعمونOثم لم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکینOانظر کیف کذبوا علی انفسھم و ضل عنھم ما کانوا یفترونO(سورہ الانعام: آیات22،23،24)

”اس دن (انقلاب یوم عظیم) ہم سب کو جمع کریںگے پھر کہیں گے جنہوں نے شریک کیا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں؟ جن کا تم زعم رکھتے تھے۔ پھر اس دن ان کا فتنہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ ہم مشرک تو نہیں تھے۔دیکھو اپنے اوپر کس طرح کا جھوٹ باندھتے ہیں اور جو افتراء کرتے تھے وہ بھول گئے”۔

ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلًا ما بعوضةًفما فوقھا فاماالذین اٰمنوا فیعلمون انہ… البقرہ:26،27

بیشک اللہ نہیں شرماتا کہ مچھر کی مثال دے یا اس سے اوپر کی ،پس تو مسلمان جانتے ہیں کہ حق انکے رب کی طرف سے ہے اور کافر کہتے ہیں کہ اللہ کا اس مثال سے ارادہ کیا ہے۔ بہت کواسکے ذریعے گمراہ کرتا ہے اوربہت کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے گمراہ نہیں ہوتے مگر فاسق جو اللہ سے میثاق کے بعد اپنا عہد توڑ تے ہیںاور کاٹے ہیں تعلق جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا اور زمین میں فساد کرتے ہیںیہی لوگ خسارے میں ہیں”۔

اللہ نے قرآن میں شوہر اور بیوی میں باہمی رضاسے صلح کرنے کی ترغیب دی مگر خانہ سازمسائل سے حلالہ کی لعنت اور اس تعلق کو توڑنے کیلئے شیطانی قلعہ کے مفتی فتویٰ دیتے ہیں۔

واذ قال ربک للملٰئکة انی جاعل فی الارض خلیفة قالو ا اتجعل فیھا من یفسد فیھا و یسفک الدماء و نحن نسبح بحمد ک ونقدس لک قال انی اعلم مالا تعلمونO(البقرہ:30)

”اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا اس کو بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری تعریف کے ساتھ۔تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا: بیشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔

یہ خلافت کی کہانی ہر دور میں سطح زمین پر دہرائی گئی۔ میں نے اپنی کتابوں میں قرآنی آیات کو بالکل واضح کیاتھا۔

انا انزلنا التورٰ ة … ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکٰفرون

”اورہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھااور اسکے مطابق وہ انبیاء جو اسلام لائے فیصلہ کرتے تھے ہدایت پانے والوں کیلئے اور مشائخ و علماء کیلئے بسبب جو اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے اور اس پر گواہ ۔ پس تم لوگوں سے مت ڈرو اور تم لوگ مجھ سے ڈرو۔اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت وصول مت کرو۔اور جو میرے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہی لوگ کافر ہیں”۔(المائدہ:44)

دارالعلوم کراچی کا معاوضہ لیکر سود کو اسلامی قرار دینا۔ ابویوسف کا بادشاہ کیلئے اسکے باپ کی لونڈی کیساتھ جنسی تعلق کو جائز قرار دینا۔پھر یہی دین فروش منبر پر بیٹھ کر جاہل خطیب کافر، ظالم ، فاسق کا فتویٰ حکمرانوں اور عوام پر لگاتے تھے اسلئے طالبان نے اسلام سمجھ کر کسی ہدف کے بغیرخود کش حملے کئے تھے

سورہ المائدہ آیت45میں عدل نہ کرنے پر حکمران طبقہ پر ظالم اور آیت46اور47عوام پر فاسق کا فتویٰ لگایا گیاہے۔

مولانا عبدالکریم بیر شریف مرکزی امیر جمعیت علماء اسلام ، پروفیسرشاہ فرید الحق جمعیت علماء پاکستان ، پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن صدر وفاق المدارس امیر مرکزیہ عالمی مجلس ختم نبوت ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ،امیر غرباء مولانا عبدالرحمن سلفی، پروفیسر غفور احمد جماعت اسلامی، ڈاکٹر اسرار ،علامہ شفاعت رسول نوری، علامہ حسن ظفر نقوی، ملک بھر کے چھوٹے بڑے علماء ، ٹانک سے پشاور تک مذہبی جماعتوں کے ضلعی وصوبائی رہنماؤں نے تائید کی مگر مفتی تقی عثمانی نے ڈھٹائی دکھائی۔ جب ہمارے13افراد کو شہید کیا گیا تو تحریک طالبان سمیت سبھی نے مذمت کی لیکن مفتی تقی نے فوراً بعد فتاویٰ عثمانی جلددوم میں انتہائی غلط ، غلیظ اورگھناؤنا فتویٰ بھی شائع کردیا۔

واتل علیھم نباابنی اٰدم بالحق اذقربا قربانًا فتقبل من احد ھما و لم یتقبل من الاٰخر…. کیف یواری سؤء ة اخیہ قال ….الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیمO

”آپ ان کو آدم کے دو بیٹوں کی خبر پڑھ کر سنائیں حق کے ساتھ۔ جب انہوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔… (قابیل نے ) کہا: ہائے مجھ پر افسوس کیا میں اس کوے کی مانند بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ … بیشک بدلہ ان کا جولوگ لڑتے ہیں اللہ اور اسکے رسول کیساتھ اور زمین میں فساد ی دوڑ دھوپ کرتے ہیں کہ ان کو قتل کیا جائے یا پھانسی پر لٹکایا جائے یا انکے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دئیے جائیں یا زمین سے نکال کر دور جیل میں رکھا جائے۔ یہ ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے۔ مگر جن لوگوں نے توبہ کیا اس سے پہلے کہ تم لوگ ان پر قابو پالو۔پس جان لو کہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے”۔( المائدہ آیت:27تا34)

یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی و یحی الارض بعد موتھا و کذٰلک تخرجون O

”وہی مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد اور اسی طرح تم نکالے جاؤگے”۔(سورہ الروم آیت:19)

قرآن میں حضرت آدم و حواء کی شرمگاہوں کو بھی سوء اة کہا گیا ہے اور ہابیل کی لاش کو بھی سو ء ة کہا گیا ہے۔ جب تک شرمگاہوں میں عوام کے ذریعے تحریک پیدا نہیں کی جائے تویہ مردہ لاش کی طرح ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی بھڑک بازیوں کا دور ہے اسلئے بے حیائی، جبری جنسی زیادتی اور معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ تعلیم وتربیت کیلئے حاجی عثمان کی طرح شخصیات اور تربیت گاہوں کی سخت ضرورت ہے۔ مفتی تقی عثمانی اگر حلال خون کا ہے تو سوالنامہ میں حاجی عثمان کے معتقدکا حال اور اپنا جواب شائع کریں۔

ومنھم من یستمع الیک و جعلنا علیٰ قلوبھم اکنة ان یفقھوہ و فی آذانھم وقرًا وان یروا کل آیة لایؤمنوا بھا حتی اذا جاء وک یجادلونک یقول الذین کفروا ان ھٰذا الا اساطیر الاولین O

”اور ان میں سے بعض تمہاری طرف سننے میں دلچسپ ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ رکھ دیا اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کیا ہے اگر ہرآیت بھی دیکھ لیں تو ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ تمہارے پاس آئیں اور آپ سے لڑیں کافر لوگ کہتے ہیں یہ تو پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں”۔ (انعام:25)

وھم ینھون عنہ وینأون عنہ وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون O

”اور وہ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں اور یہ ہلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانوں کو اور شعور نہیں رکھتے ہیں”۔ (انعام:26)

ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار فقالوا یالیتنا نرد ولانکذب بآیات ربنا ونکون من المؤمنین O

”اور جب تم دیکھو کہ گولیوں کے سامنے کھڑے ہیں تو کہا کہ کاش ہم پلٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور مؤمنوں سے بن جاتے ”۔ (انعام:27)

جدید عربی میں اطلاق النار گولی چلنے کو کہتے ہیں ۔ قرآن کا ماضی ، حال اور مستقبل ایک آئینہ ہے۔ جن لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ہمارے علماء کرام اور مفتیان عظام کو معلوم تھا کہ حلالہ بالکل نہیں ہے لیکن ان کے اعتماد پر ہم نے عزتیں لٹوائی ہیں تو کون کس کے ساتھ کیا کرے گا؟۔ گولیاں بھی چل سکتی ہیںاور ہمارا کام قرآن کی درست تعبیر سے خلوص کیساتھ آگاہ کرنا ہے۔

بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ و انھم لکاذبون O (انعام:28)

”بلکہ یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے ان پر ظاہر ہوگا اور اگر ان کو واپس لوٹا دیا جائے تو پھر یہی کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے ۔ اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہی ہیں”۔

یعنی آج بھی یہ جان بوجھ کر حلالہ سے عزتوں کو لوٹتے ہیں اور اگر یہ پکڑے جائیں تو حسرت کریں گے مگر جھوٹے ہیں۔

وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقًا فی الارض او سلمًا فی السماء فتاتیھم بآیة ولوشاء اللہ لجمعھم علی الھدی فلا تکونن من الجاہلینO( انعام:35)مخاطب آج کا انسان ہے۔

”اور اگر ان کی روگردانی تمہیں بہت بری لگتی ہے تو پھر اگر تمہارے بس میں ہو کہ زمین میں ان دلوں کے نان نفقہ کیلئے کچھ کرسکو یا وآسمان میں سیڑھی لگا سکو تو کوئی نشانی ان کے پاس لاؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو ہدایت پر جمع کرتا۔پس تم جاہلوں میں سے مت بنو”۔ یہ نبیۖ کیلئے نہیں مستقبل کیلئے تھی۔

انما یستجیب الذین یسمعون والموتیٰ یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون O

”بیشک حق وہی قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اورجہاں تک مردہ ضمیر ہیں تو اللہ نے ان کو عذاب کیلئے فٹ کرنا ہے پھر ہماری طرف لوٹنا ہے”۔(انعام:36)

والذین کذّبوا باٰیٰتنا صمّ وبکم فی الظلمٰت من یشاء اللہ یضللہ ومن یشاء یجعلہ علی صراطٍ مستقیمٍO

”اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں ۔جس کو اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر ڈال دے ”۔ ( انعام آیت39)

فلما نسوا ما ذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شیئٍ حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنٰھم بغتةً فاذاھم مبلسونOفقطع دابرالقوم الذین ظلمواوالحمد للہ رب العٰلمین O

”پس جب انہوں نے بھلادیا جس کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے پھرہم نے اچانک پکڑلیا تو وہ مایوس ہوگئے۔پس ظلم کرنے والی قوم کی پچھاڑی کاٹ دی گئی اور تمام تعریفیں اللہ کیلئے جوسارے جہانوں کا رب ہے۔(انعام:44،45)

حاجی عثمان کی پیشگوئی تھی کہ مفتی تقی عثمانی کو ترقی ملے گی۔ حاجی عثمان نے25حج کئے ، سعودیہ میں6ماہ کا قیام رہتاتھا ۔ علامہ سید محمدیوسف بنوری، مولانا غلام اللہ خان، شیخ الحدیث مولانا زکریا، مفتی محمد شفیع وغیرہ کی بیگمات اور خواتین ساتھ میں ہوتی تھیں تو علامہ یوسف بنوری ان کو حاجی محمد عثمان کے ذمہ لگادیتے کہ عورتوں کیلئے یہ شخصیت بہترین ہے۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ان کو عبدالرحمن بن عوف سے تشبیہ دیتے۔ مولانا فقیر محمد حاجی عثمان کی تقریر میں وجد میں گھومنے لگتے ۔

مولانا فقیر محمد نے حاجی محمد عثمان سے درخواست کرکے ورود کی نسبت خلافت دی جس کا معاملہ اتنا دلچسپ ہے کہ یہی واحد ذریعہ ہے جو حسن بصری سے بھی حضرت علی کی خلافت بلافصل کی دلیل بن سکتی ہے ورنہ تو…؟

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جن کی اتباع کروگے تو ہدایت پا جاؤگے”۔ امیر معاویہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ایک فتح مکہ کے بعد اور دوسرے پھر بدری، احدی اور عشرہ مبشرہ کے صحابی تھے جس کیلئے نبیۖ نے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں”۔ایک کا بیٹا یزید اور دوسرے کا بیٹا عمر وسعد کا کردار اچھا نہیں تھا۔ مفتی شفیع کو ایک صحابی سے تشبیہ دی جائے لیکن مفتی تقی عثمانی پھر بھی کسی وجہ سے اہل حق کا دشمن ہوسکتا تھا جیسے یزید اور عمرو سعد حضرت امام حسین کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

عن ابن عباس قال : جاء رجل الی النبی ۖ فقال : ان امرأتی لاتمنع یدلامسٍ قال: غرِّ بھا ، قال: اخاف ان تتبعھا نفسی ، قال: فاستمتع بھا ”عبداللہ بن عباس نے کہا کہ ایک شخص نبی اکرم ۖ کے پاس آیا اور کہا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی۔ آپۖ نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کردو۔ اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دل اسی میں لگا رہے گا۔ آپۖ نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ”۔ ابو داؤد، کتاب النکاح ،حدیث نمبر2049۔
قال الشیخ الالبانی : صحیح، قال زبیر علی زئی۔اسنادہ صحیح

مفتی تقی عثمانی کو اپنی ماں نے حاجی عثمان کا دشمن تو نہیں بنایا اسلئے بندہ کڑک تھا۔ نوح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر کے حوالے سے قرآن نے واضح کیا کہ اس کا بد عمل بیٹا اس کا اپنا نہیں بلکہ سراپا غیر صالح عمل تھا تو مفتی تقی عثمانی کا سود کو جواز بخشنے سے لیکر گھناؤنے کرتوت کا صاف پتہ چلتاہے۔

ابوبکرہ اور زیاد بن ابیہ دونوں کی ماںسمیہ ثقفی تھی۔ دونوں بھائیوں کے کردار میں حلال و حرام کی طرح خون کا بھی فرق تھا اور جیسے نوح علیہ السلام کے بیٹوں کنعان اور اس کی ماں جدا تھی اور حام ، سام اور یافث اپنی والدہ کے ساتھ کشتی میں بچ گئے۔ حضرت ابوبکرہ بہت کھرے کردار کے تھے۔ مولانا ولی رازی اور مفتی تقی عثمانی میں وہی نسبت لگتی ہے جو ابوبکرہ وزیاد بن ابیہ میں تھی۔مفتی شفیع کے ایک داماد جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ وفاق المدارس کے سابق صدر مولانا ادریس میرٹھی تھے لیکن شاید یہ صاحبزادی بھی مولانا زکی کیفی کی طرح والد ین کی طرف سے رنجیدہ ہوں ورنہ تو دارالعلوم کراچی میں ہونا تھا۔

ابوبکرہ نے کہا کہ زیاد ابوسفیان کا بیٹا بن گیا ، نبی ۖ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے جو اپنے باپ کا نام بدلے”۔ شخصیات کے کردار سے اللہ تاریخ کو زندہ کرتا ہے تو سب سمجھ میں آتا ہے۔

واذجاء ک الذین یؤمنون باٰیٰتنا فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سوئً بجھالة ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیمOوکذٰلک نفصل الاٰیٰت و لتستبین سبیل المجرمینOقل انی نھیت ان اعبدالذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھواء کم قد ضللت اذًا وماانامن المھتدین O

”اور جب آپکے پاس ہماری آیات پر ایمان والے آئیں تو کہو کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے خود پررحمت لکھ دی۔ بیشک اگر تم نے کوئی عمل جہالت سے کیا پھر تم نے بعد میں توبہ اور اصلاح کی تو وہ غفوررحیم ہے اور ایسے ہم آیات کی تفصیل دیتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو۔کہوکہ مجھے منع کیا گیا کہ ان کی غلامی کروں جو اللہ کے علاوہ کوپکارتے ہیں کہو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔تحقیق میں پھرگمراہ ہوں اورمیں ہدایت یافتہ میں سے نہیں ہوں۔ (انعام:54تا56)

اگر کسی نے قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود بھی جہالت کی وجہ سے حلالہ کی لعنت میں مبتلاء رہنے کا کام کیا ہے یا فتوے بھی دئیے اور وہ توبہ اور اصلاح کرے تو اس کیلئے دروازہ بند نہیں۔ لیکن آیات کا مطلب واضح ہونے کے بعد اس سے انکار کرنا کفر ہے اور اس پر ڈٹ جانے کا انجام پھر اللہ نے واضح کیا ہے اور ہمارا کام تو صرف حق باتوں کی وضاحت کرنا ہے۔

وھو الذی یتوفٰکم باللیل و یعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضٰی اجل مسمًی ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملونOو ھو القاھر فوق عبادہ ویرسل علیکم حفظةً حتٰی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ھم لایفرطونOثم ردوا الی اللہ مولٰھم الحق الا لہ الحکم و ھو اسرع الحٰسبینO

”وہ تمہیں رات کواتمام حجت کیلئے پوراکرتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن کو زخم دیتے ہوپھر اسی میں تمہیں مبعوث فرماتاہے تاکہ مقررہ میعاد کا فیصلہ کردے پھر تم نے اسی کی طرف لوٹنا ہے پھر تمہیں تنبیہ کرتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔وہ اپنے بندوں پر قہر والا ہے اور تم پر حفاظی دستہ بھیجتا ہے یہاں تک جب تمہاری کسی کی موت آئے تو اسے ہمارے ملائکہ وفات دیتے ہیںاور وہ کمی بالکل نہیں کرتے پھرلوٹادیتے ہیں اپنے حق مولا کی طرف اسی کیلئے حکم ہے اوروہ جلد حساب والا ہے۔ (انعام:60تا62)

انقلابیوں کیلئے اللہ کی طرف سے حفاظتی اقدام اور انقلاب سے پہلے فوت ہونے کیلئے بھی سہولت کی خوشخبری دی گئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری

ترمذی کی شرح معارف السنن علامہ سیدیوسف بنوری نے لکھی ۔بخاری استاذ اور ترمذی شاگرد ہیں،ترمذی کی قرآن سے متعلق حدیث علماء دیوبند میں سب سے زیادہ اچھی فکر کے عالم دین مولانا سید محمد میاں نے خطبات مسنونہ میں نقل کی ہے۔

طلاق سے متعلق اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر قرآن سے رہنمائی لے گا تو منٹوں میں اس کا دماغ کھلے گا۔احادیث میں جتنا الجھاؤ ہے اور قرآن میں جتنی صفائی ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب ممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو ساتھ میں من گھڑت اور ضعیف اور الجھے ہوئے واقعات کی ایسی بھر مار کردی گئی کہ لوگ فرقہ فرقہ بن گئے ۔

طلاق پرقرآن کی سب واضح آیات البقرہ228ہے جس میں عدت کے تین ادوار کا تصور واضح ہے اور حمل کا بھی ذکر۔ پھر اس روڈ میپ کے اندر باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر وں کو اپنی عورتیں لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیاہے اور ساتھ میں واضح کیاہے کہ عورتوں کے مردوں کی طرح وہی معروف حقوق ہیں۔

سورہ الطلاق آیت4میں واضح ہے کہ جو عورتیں حیض سے ناامید ہوں اور عدت میں الجھن ہو یا حیض نہ آتا ہو تو3ماہ ہے اور حمل والوں کی عدت جب بچہ جننے تک ہے۔ بچے کی پیدائش بھی واضح ہے اور3مہینے کی عدت بھی واضح ہے۔ عورت دعویٰ کرے کہ حیض مہینے تین یا دو مہینے میں ایک تو یہ فضو ل ہے۔

پاکستان کے آئین ترمیمی بل1964میں طلاق کا معاملہ بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ جس میں حلالہ کی لعنت کو ختم کیا۔ باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش دے دی گئی ہے۔ یہ چیز پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ النساء آیت35میں ہے۔

قرآن میں کوئی چیزبالکل متصادم اور غیر واضح نہیں ہے مگر احادیث نے بہت غلط انداز میں وضاحتوں کو الجھا دیا ہے۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ البقرہ آیت229

یہ آیت228کی بہت واضح تفسیر ہے ۔پہلی صورت وہی ہے کہ معروف یعنی باہمی اصلاح کی شرط پر صلح ہوسکتی ہے جس میں نہ جبر کا کوئی تصور ہے اور نہ قرآن کی واضح کردہ عدت کی۔ بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب التفسیر ہر جگہ رسول اللہ ۖ کی عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل کے ساتھ ہے ۔ معروف رجوع کا معنی منکر رجوع نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں نیت نہیں تھی اور شہوت آگئی تو بھی رجوع ہے اور شافعی کے نزدیک نیت نہ تھی تو جماع بھی رجوع نہیں ہے۔

جیسے انکے باپ کے مال کی شریعت ہو؟۔ عورت راضی ہو تو یہ معروف رجوع ہے اور باہمی صلح کے بغیر رجوع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بغیر عورت کی رضامندی کے طلاق رجعی کا تصور ہی آیت228البقرہ کے حدود کو پاش پاش کردیتا ہے۔ عدت بھی بڑھ سکتی ہے اور عورت کی رضامندی بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔ اکٹھی3طلاق کے بعدباہمی صلح کی رجوع پر پابندی بنوامیہ اور بنوعباس کے دلوں اوردلالوں کی عدالتیں نہیں رجواڑے تھے۔

قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی معروف شرط واضح کی ہے۔

اسے منکر میں بدلنا غلیظ ذہنیت کی انتہائی غلاظت ہے جس کے گند کیلئے احترام کا لفظ استعمال کرنا کفر ہے اور مجھے کسی سے عقیدت ہو مگر کفر کا ارتکاب بالکل نہیں کرسکتاہوں۔

لوگوں کی ماؤں ، بہنوں، بیویوں ، بیٹیوں ، بہوؤں اور دیگر خواتین کی عزتیں قرآن، اسلام، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین اور علماء ومشائخ کے نام سے قرآن وسنت کے خلاف لٹ جائیں؟ اور ہم اس کو خندہ پیشانی سے احترام کے ساتھ برداشت کریں؟ یہ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کو برداشت نہیںہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے100فیصد درست فیصلہ کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر وہ کوئی فتویٰ نہیں فیصلہ تھا۔ فتویٰ اور فیصلے میں فرق ہے۔ فیصلہ تنازعہ میں ہوتا ہے اور فتویٰ مسئلے کی وضاحت کیلئے ہوتا ہے۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو البقرہ آیت228اور229کے اندر بالکل واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اکٹھی3طلاق ہی نہیں بلکہ ایک طلاق کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ رجوع کو باہمی رضامندی ،اصلاح اور معروف کیساتھ مشروط کردیاہے۔

حضرت عمر سے سب سے پہلا اختلاف عبداللہ بن عمر نے کیا تھا اسلئے کہ وہ تین طلاق دے چکا تھا اور نبیۖ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پھر عدت و طلاق کو ایکدوسرے سے لازم وملزوم قرار دینے کا تصور دیا تھا ۔ جیسے عدت ظرف ہے اور طلاق مظروف ہے۔ تین روزے تین دن کیساتھ ظرف اور مظروف کا تعلق رکھتے ہیں۔ دن ظرف اور روزہ مظروف ہے اور جس طرح رمضان کے مہینے میں دنوں کیساتھ روزوں کا تعلق ہے ویسے تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل کے ساتھ ہے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ عدت کے بھی تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی اللہ نے فتویٰ کے اعتبار سے باہمی رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ ڈالنے کے اوپر پابندی لگائی ہے جیسے سورہ البقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ عورت کسی اور سے عدت میں نکاح نہ کرنے کی پابند ہے۔ اگر اس کی ترجیحات خاور مانیکا کی جگہ عدت میں بھی عمران خان بن جائے تو خاور مانیکا عدت میں شوہر ہوکر بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ نے بعد میں جیسے کیسے بھی مگر ٹھیک دیا ہے اور جس نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ خاور مانیکا کا حق مجروح ہواہے وہ غلط تھا۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا شوہر کو حق ہے لیکن جب عورت راضی ہو تو بھی اسلئے شوہر کو رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو ضرر پہنچائے ۔ آیت231البقرہ میں وضاحت دیکھ لیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ قرآن کے تراجم تک میں تحریف کر ڈالتے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آخری حد کردی کہ جب کافی عرصہ گزر چکا ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح سے مت روکو ، جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے کیلئے آپس میں باہمی رضامندی سے معروف طر یقے سے راضی ہوں۔ البقرہ232۔ بہت بہترین وضاحت ہے۔

آیت229میں دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ جب شوہر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس میں طلاق شدہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ جس کا واضح مطلب عدت کے تیسرے مرحلہ میں عورت کے اپنے حقوق سے بھی احسان کرکے زیادہ حقوق دینے ہیں۔ سورہ النساء آیت19خلع کا عورت کاحق اور حقوق ہیں۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ اور سورہ النساء آیت20میں طلاق اور عورت کے طلاق کے اندر خلع سے زیادہ حقوق ہیں۔ البقرہ آیت229میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح ہے کہ کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے اور پھر اس صورت میں استثناء رکھا ہے کہ جب آپس میں رابطے اور حدود کے توڑنے یعنی جنسی بے راہ روی کا خدشہ ہو تو وہ چیز عورت قربان کرسکتی ہے اور اس میں بنیادی شرط فیصلہ کرنے والے کے کردار کا بھی ہے۔ جب وہ بھی یہی سمجھیں۔ پھر جب عورت وہ چیز واپس کردے تو کنفرم ہوجاتا ہے کہ اس نے اب رجوع نہیں کرناہے اور جب یہ کنفرم ہو کہ اس نے رجوع نہیں کرنا ہے تو آیت230کا حکم ہے جس کا مقصد حلالہ کی کوئی سزا نہیں بلکہ عورت کو مکمل آزادی دینی ہے جو بالکل واضح ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن و حدیث کے آئینہ میںپاکستان کے روشن مستقبل اور دنیا میں انقلاب عظیم کی خبر ؟

سنن ترمذی حدیث:2906

باب:قرآن کی فضلیت ۔کتاب: فضائل القرآن عن نبیۖ

حدثنا عبد بن حمید، حدثنا حسین بن علی الجعفی،قال سمعت حمزة الزیات ، عن ابی المختار الطائی ،عن ابی اخی الحارث الاعوار ،عن الحارث قال:مررت فی المسجد فاذاالناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علی فقلت: یا امیر المؤمنین،الا تری ان الناس قدخاضوا فی الاحادیث ؟ قال: وقد فعلوہا، قلت: نعم، قال: اماانی قد سمعت رسول اللہ ۖ یقول: الاانھا ستکون فتنة فقلت: مالمخرج منھا یا رسول اللہ ؟ ،قال : کتاب اللہ فیہ نبأ ماکان قبکم وخبر مابعدکم وحکم ما بینکم وھو الفصل لیس بالھزل ،من ترکہ من جبارٍ قصمہ اللہ ومن ابتتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ و ھو حبل اللہ المتین وھوالکذکر الحکیم،وھوالصراط المستقیم ،وھو الذی لایزیع بہ الاھواء ولاتلبس بہ الالسنة ولا یشبع منہ العلماء ولا یخلق علی کثرالردولا تنقضی عجابہ ،وھو الذی لم تنتہ الجن اذسمعتہ حتی قالوا: انا سمعنا قرء انًا عجبًا ھدی الی الرشد سورة الجن آیة1،2من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل و من دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیمٍ خذھا یا اعور

ترجمہ: حارث اعور نے کہا کہ میں مسجد میں گیا توکیا دیکھتا ہوں کہ لوگ احادیث میں مشغول تھے میں حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین !کیا آپ نہیں دیکھتے (آپ کی کیا رائے ہے) کہ لوگ احادیث میں غور وخوض کررہے ہیں؟۔ فرمایاکہ کیا وہ اسکے مرتکب ہوچکے ہیں؟۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: بیشک میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے : آپ ۖفرماتے ہیں: خبردار ! عنقریب فتنہ ہوگا، میں نے عرض کیا: ”اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ یارسول اللہ ؟۔ آپ ۖ نے فرمایا: اللہ کی کتاب، اس میں خبریں جو تم سے پہلے لوگ گزر گئے اور اس میں پیش گوئیاں ہیں جو تم سے بعد آنے والے ہیں اور حکم ہے جو تمہارے درمیان میں ہے اور وہ ایک فیصلہ کن معاملہ ہے حق اور باطل کے درمیان کوئی مذاق نہیں ہے۔ کسی جابر حکمران کی طرف سے اس کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ اس کو توڑ کر رکھ دے گا،اور جس نے اسکے علاوہ کہیں دوسری چیز میں ہدایت کو تلاش کیا تو اللہ اس کو گمراہ کردے گا۔اور وہ اللہ کی رسی ہے مضبوط۔وہ حکمت سے بھرپور نصیحت ہے اور وہ سیدھی راہ ہے۔ اور وہ وہ ہے جس کو لوگوں کی خواہشات ادھر ادھر موڑنے کی صلاحیت قطعاً بھی نہیں رکھتی ہیں۔ باطل اس کے الفاظ کو اپنے رنگ میں نہیں ڈھال سکتا ہے۔ اور نہ اس میں زبانوں کا بس چلتا ہے کہ کوئی اشکال پیدا کریں۔ اوراس کی علمی وسعت سے علماء کبھی بھر نہیں سکتے۔ اور اس کی تردید میں کتنی کثرت کیساتھ ایڑی چوٹی کا زورلگایا جائے لیکن اس سے اس کی تخلیق میںاپنی مرضی کا کلام مرتب کرنے کی کوئی ساز ش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور اسکے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتے ہیں یعنی زمانوں کے عروج سے اس کا آئینہ مزید وسعتوں کے ساتھ سمجھ میں آتا رہے گا لیکن اس پر تعجب والی کیفیات کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اس کو سنایہاں تک کہا کہ ”ہم نے عجب قرآن سنا جو بھلائی کا رستہ دکھاتاہے”۔ سورہ جن آیت1،2۔ جس نے اس کے ذریعے کہا اس نے سچ بولا۔ جس نے اس پر عمل کیا اس کو اجر مل گیا۔ جس نے اس پر فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔اس کو مضبوط پکڑو یا اعور!

( خطبات مسنونہ :مولانا سیدمحمد میاں برائے جمعہ)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3باتین یاد رکھو!

1:بنوامیہ کاکردارایک سا نہیں

الف:سیدنا عثمان غنی خلیفہ راشد سوم ذوالنورین۔
ب:ابوسفیان ، امیر معاویہ ، یزیداور معایہ بن یزید۔ ج: مروان بن حکم ،عبدالملک بن مروان اینڈ کمپنی!

بدتمیز ضحاک نے کہا:حج و عمرہ کا احرام باندھنے والا جاہل ہے۔سعد بن ابی وقاص نے کہا : ”یہ نہ کہو نبیۖ کو میں نے باندھتے دیکھا ہے”۔

عمران بن حصین نے52ھ میں بصرہ کے اندر انتقال فرمایا، صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں۔ بعض نبیۖ کی حرمت ، صحابہ کی عظمت ، احادیث کی کا احساس نہیں رکھتے ۔ حلالہ کی لعنت سے پھڑکتی رگوں کی پیدوارہیں لیکن ہم انشاء اللہ ان کی دکانیں بند کریں گے ۔ صحابہ کرام ہادی فاتح عالم تھے ۔

بنو زرقاء بنومروان نے حجاج جیسوں کو مسلط کیا، جبراً حلالہ عمر کے سر پر ڈالا اور علی کے جہنمی کہنے کی سعید بن جبیر جیسے پر کوشش کی اور شہید کردیا۔ مگر حضرت عمربن عبدالعزیز نے عمدہ کردار ادا کیا تھا۔

2:ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
امام ابوحنیفہ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے اصول وضع کیا تھا کہ خبر واحد کی حدیث کو قرآن کے واضح حکم کے خلاف رد کرو مگر ملا جیون جیسے علماء نے میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں نزلہ ولی کی بغیر اجازت والی احادیث پر گرا دیا ہے۔

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے

مجنون نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

3:حرمت مصاہرت کے مسائل

من نساء کم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

”اورتمہا ری بیویوں سے جن میں تم نے ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ”۔

حرمت مصاہرت کیلئے منکوحہ میں دخول کی شرط سے غلیظ ترین مسائل کوچھڑا ؤ۔ بچہ پیدا ہونے پر بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے اصولی طور پر حرام اور ضرورتاً جائز قرار دیا ۔ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے کو عذر اور اندورونی پر نظر پڑگئی توبیوی پھر حرام ہوگئی۔بیٹی ، بہو، ماں ، بہن اور بھانجی بھتیجی کسی محرم کو ہاتھ لگا اور شہوت آگئی تو پھر اگر خارج کردیا تو حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اور نہیں کیا تو ہوگی؟۔

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ــــــــــ

قتل کا ذمہ دارکون؟ الٹی گنگا بہانے سےمسائل حل ہونگے؟

کراچی دعا زہرا کیس پہلے بڑا مشہورہواتھا اور پاکستان کی سطح پر ہلچل تھی۔ سندھی فاطمہ زہرا قتل اور اکبر علی انصاری کورٹ میرج واقعہ گلشن حدید کراچی میں پیش آیا۔ قتل قبائلی معاملہ ہے تو قرآن کی تفسیر ، حدیث کی تشریح کا بھی عمل دخل ہے اوراگرعوام کو معقول طریقے سے آگاہی مل جائے تو مسائل کا زبردست حل نکلے گا۔

وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO

”اور جو تم میں طلاق شدہ وبیوہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور اپنے درست غلاموں کے اور اپنی لونڈیوں کے اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے امیر کردے گا اور بہت وسعت والا علم والا ہے”۔ (سورہ نور:آیت32)

عربی میں ایامٰی بیوہ وطلاق شدہ کو کہتے ہیںاور حدیث میںآیا ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ سے اجازت کا باقاعدہ اظہار کرنے کے بعد اس کا نکاح کراؤ۔ کنواری کی خاموشی لیکن رضامندی ضروری ہے ۔

من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل

”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔(حدیث :اصول فقہ)

جمہور کے ہاں عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ و بیوہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ حنفی مسلک میں عورت آزاد ہے اور قرآن نے اس کواپنے نکاح میں خود مختار بنایا ہے۔

آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ (البقرہ:230) میں عورت کو نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ مسلک حنفی میں جو حدیث خبرواحد قرآن سے ٹکرائے تو وہ ناقابل عمل ہے۔

قرآن و حدیث کی تطبیق ہے۔ آیت سے مراد طلاق شدہ ہے ۔ جبکہ حدیث سے کنواری ہے۔

ولاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھھن غفور رحیمO

”اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرواگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔تاکہ تم اس کے ذریعے اپنی دنیاوی زندگی کی وجاہت چاہو۔ اور جو لڑکی مجبور کی گئی تو اللہ اس کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (النور:33)

اس آیت سے لونڈی مراد لی گئی کہ جبراً بدکاری پر مجبور مت کروجب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہو۔

حالانکہ کنواری لڑکیوں کے حوالے سے رہنمائی ہے جومستقبل اور سب کچھ بالکل داؤ پر لگاتی ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مفتی عزیزالرحمن عثمانی ، مولانا برساتی کا غلط فتویٰ اور اس پر گرفت۔

فتاویٰ رشیدیہ: اختلافی مسئلہ

غیر کفو میں نکاح ہو تو فسخ کا مسئلہ
سوال:زید ایک شخص اجنبی کے مکان پر رہتا تھا عمرو نے وارثانِ ہندہ کو بہکا کر اور دھوکہ دیکر زید کو نسب سید بتلایا اور نکاح کرا دیا بعد چند مدت کے معلوم ہوا کہ زید سید نہیں ہے نورباف ہے اب وارثانِ ہندہ کو شرم و حیا معلوم ہوتی ہے کہ بہت اہانت ہے کیونکہ سید اور نورباف کا نکاح نہایت عار کی بات ہے لہٰذا شرع کے مطابق وارثانِ ہندہ کو فسخ کرنا فی زمانہ جائز ہے یا نہیں دیگر زید بعدِ ظاہر ہونے کفو کے وہاں سے چلا گیا وقتِ رخصت زوجہ سے کہا کہ میں اس گھر میں ونیز قریہ میں تا حیات نہیں آؤں گا اور قسم بھی کھائی اور بعد کو ایک خط بھی اسی مضمون سے لکھا اب اس کا کیا حکم ہے۔

جواب: صورِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیاء ہندہ کو اختیارِ فسخ ہے۔ کما فی العالمکیریة ولو انتسب الزوج لہا…
(٢)زید کا قسم کھانا مستلزمِ ایلاء نہیں ہے ۔ کمافی االدر…
(٣) اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے جبھی شہر کے مفتی سے حکم لیکر فسخ کر سکتا ہے کیونکہ قائم مقامِ قاضی کا مفتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن برسانی تعقبہ بعضہم وہو مندرج فی الذیل
(٤)ایضا صورتِ مستفسرہ میں وہ سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کیلئے کفائت شرطِ نکاح ہے یا ولیِ اقرب پیش از عقد عدمِ کفائت پر اپنی رضا ظاہر کر دے بعدِ عقد راضی ہونا بھی نفع نہیں دیتا والمختار…
(١)یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا تو نکاح باطل محض رہا بعدِ ظہورِ حال زید کے قسم و تحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کیلئے کوئی مرتب نہیں ہو سکتا واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفے النبی الامی ۖ

فتنازعوا بینہم فرجعوا الی علمائنا خصوصا الی شیخنا الاجل امام الفقہا فی عصرہ المولانا رشید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ فاجاب باحسن التفصیل وہو ہذا

(٢)صورتِ مندرجہ ذیل مسئلہ ہذا میں اولیا کو حقِ فسخِ نکاح ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے واللہ تعالی اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ الجواب صحیح۔الٰہی عاقبت محمود گرداء محمود عفی عنہ ۔ الجواب صحیح ۔محمد منفعت علی۔بندہ مدرسِ اول مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند و توکل علی العزیز الرحمن ،جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے اولیا ء کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔ فقط۔ واللہ تعالی اعلم۔ عزیز الرحمن عفی عنہ دیوبند

فتویٰ غلط اور جواب یہ کہ

البقرہ آیت226:ایلاء میں4ماہ کی عدت۔ نبیۖ کے29دن میں ایلاء سے رجوع پر اللہ نے ازواج پر علیحدگی کا اختیار واضح کرنے کافرمایا ۔ (صحیح بخاری) نکاح نہ ہو تو بدکاری ؟۔ نکاح ہوا ۔ ہاتھ لگایا تو پورا حق مہر قرآن واضح کرتا ہے۔ عورت بیچنے والا پٹھان اور عرب قرآن نہیں سمجھتااور نہ جہیز وصول کرنے والا ہندو نسل ،عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے ۔ مہربانی کرکے فیکٹریوں پراپنا رزق کمائیں۔
قرآن وسنت کیخلاف متضاد اور غلط فتوؤںنے مسلمان قوم کا ستیاناس کردیاہے ۔

نمبر1:سورہ النساء آیت19میں خلع کا حق عورت کو ملا اور مالی حقوق کا تحفظ بھی اورسورہ النساء آیت20میں مرد کو طلاق کا حق اور اس میں عورت کے خلع کے مقابلے میں زیادہ حقوق ۔

قرآن چھوڑ کر عورت سے خلع کا حق چھینا۔ حدیث صحیح میں اسکی عدت ایک ماہ ہے تو انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی کہ شوہر گم ہے اور80سال تک انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر علماء مفتیان نے فقہ حنفی سے فقہی مالکی میں چھلانگ لگائی اور انتظار کی مدت4سال کردی۔ یہ کاکروچ80سے4سال کی کھائی میں ڈوب مرنے کے بجائے زندہ ہیں ،کمال کا پڑتال ہے؟۔

دیوبندی بریلوی دلے بغیر ولی کی اجازت احادیث صحیحہ کو قرآن سے متصام قرار دیکر نہیں مانتے ہیں تو کفوء کا مسئلہ ان کی پچھاڑیوں کی پھڑک کا نتیجہ ہے؟یاپھر کہاں سے برآمد ہوا؟۔ یہ طالب صابر شاہ ، حافظ حاشراور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ضمیرنہیں رکھتے یا آخر بے ایمان سمجھتے کچھ نہیں ہیں ؟۔

ہندوستان میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو گالیاں دیکر حیلہ ناجزہ شرمناک کتاب لکھ ڈالی اور موجودہ دور میں بہت بڑے پیمانے پر جوان طبقے کا بھی ارتداد جاری ہے اور یہ خود کو بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی بہت کھل کر ترید کی ضرورت ہے۔

پھر لکھ دیا کہ شوہر نے تین طلاق دی اور پھر مکر گیا تو عورت خلع لے اور نہیں ملے تو حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں لے ورنہ گناہ گار ہوگی؟۔ یہ اپنی ماؤں نے دلوں کو بتایا ہوگا کہ تین طلاق ہوگئی ہے لیکن باپ کی لذتیں نہیں اٹھارہی ہیں؟۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی ماں کو گالی مت دو۔ عرض ہوا کہ اپنی ماں کو کون گالی دے گا یارسول اللہ (ۖ) فرمایا : دوسروں کی ماں کو گالی دوگے تو تمہاری ماں کو گالیاں پڑیںگی۔ علماء فتویٰ اور کتابوں میں حرام کاری اور اولادلزنا کے شرعی فتوے لگارہے ہیں؟۔ رسول اللہۖ نے حضرت علی کی بہن ام ہانی کے اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہنے پر حرام کاری اور اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگایا ۔ کن چوڑوں چماروں نے دین پر قبضہ جما دیا؟۔

اگر طاقتور کمزور سے بیوی چھین لے تو امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ حلال ہے لیکن جب عورت سے خلع کا حق چھین لیا جائے تو اس کا بھاگ جانا کیوں حرام ہے؟۔ جب ولی خاندانی تفوق کی وجہ سے لڑکی کو اپنی مرضی سے بغاوت پر مجبور کرتا ہے اور اس کو اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر حرامکاری کے فتوے کیوں؟۔ حال ہی میں کھوکھر برادری کی19سالہ مہوش نے شادی میں رکاوٹ پر55سالہ عاشق خالد چوہاں کیساتھ مل کر ٹارگٹ کلر سے اپنے والد کو قتل کروادیا ہے۔ مذہبی طبقات قرآن کو سمجھتے نہیں تو تبلیغ کیسے پھر مؤثر ہوگی؟۔ قرآن کا درس کوئی صوفیانہ ریاضت نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک سکھ سندھی مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بھی انقلابی بننے پر فتوؤں کا نشانہ بنادیتے ہیں۔

ہمارے ہاں مزارع جٹ خاندان کے عبداللہ جان کیساتھ ایک مولوی کی بچے دار بیوی کمترہ (کبوتری)بھاگ کر آئی تھی، مولوی شاید اس سے قتل کی دھمکی پر پیسہ وصول کرنا چاہتا ہوگا۔

علی شاطئی الوادی نظرت حمامة
اطالت علیّ حسرتی و تندمی

”میں نے وادی کے کنارے پر ایک کبوتری دیکھی جس نے مجھ پر میری حسرت اور ندامت کی زندگی طویل کردی ”۔

یہ عربی اشعار یزید بن معاویہ کے مشہور قصیدہ کے ہیں جس نے عراق کے گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی ارینب بنت اسحاق کو دیکھا اور اس کے شوہر سے طلاق دلوائی لیکن اس نے امام حسین سے شادی کی اور امام حسین نے پھر دونوں کی آپس میں محبت دیکھ کر طلاق دی اور عبداللہ بن سلام نے پھر شادی کی اور یزید کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی اوریہ قصیدہ مشہورہے۔

اصابک عشق ام رمیت باسھم
فما ھذہ الاسجیة مغرم
خذوا بدمی منھافانی قتیلھا
ولا مقصدی لا تجود و تنعمی
ولا تقتلوھا ان ظفرتم بقتلھا
ولکن سلوھا کیف حل لھا دمی
وقولولھا یامنیة النفس اننی
قتیل الھوٰی والعشق ولو کنت تعلمی
ولا تحسبوا انی قتلت بصارم
ولکن رمتنی من رباھا باسھم
لھا حکم لقمان و صورة یوسفٍ
ونغمة داؤد ٍ و عفت مریم
ولی حزن یعقوبٍ و وحشة یونسٍ
و الاٰم أیوبٍ و حسرة آدم

”تجھے عشق کی تکلیف پہنچی یا تیر کا شکار ہوگیا؟یہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ محبت کے دلدادہ کو پہنچتا ہے۔ اس کو پکڑو میرے خون سے میں اس کا مقتول ہوں۔ میرا مقصد نہ ہی کوئی جواب ہے اور نعمتیں حاصل کرنا اور نہ آسائش پانا ہے بلکہ محبوبہ کی ذات حاصل کرنا مقصدہے۔ اور اس کو قتل مت کرو اگر تم اسکے قتل کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ اس سے پوچھ لو کہ میرا خون کیسے اس کیلئے حلال ہوگیا؟۔ اور تم سب اسے کہو کہ اے میری جان تمنا، میں تو محبت وعشق کا مارا ہوا ہوں اگر توسمجھے تو۔ اور یہ مت سمجھو کہ اس نے مجھے تلوار سے قتل کیا ہے بلکہ اپنی بلندی سے نظروں کے تیر چلاکر مجھے قتل کیا ہے۔ اس کے پاس لقمان کی حکمت، یوسف کی صورت ہے اور داؤد کا نغمہ ہے اور مریم کی پاکدامنی ہے۔ اور میرے لئے یعقوب کا غم ہے اور یونس کی( مچھلی کے پیٹ میں) وحشت ہے۔ایوب کے درد ہیں اور آدم کی حسرت ہے”۔

یزید بن معاویہ نے اقتدار کیلئے امام حسین کی شہادت میں کامیابی حاصل کرلی مگر اپنے ماتحت گورنر کی بیوی سے طلاق لینے کے باوجود بھی اسکے ساتھ اپنی شادی کرنے کی حسرت پوری کرنے کی تمنا دل میں رہ گئی ۔

یزید کیلئے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق اور امام حسین سے اس کا نکاح اور اس کو طلاق ایک اتفاق تھامگر شیطان نے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جال بچھادیا اور کسی نہ کسی صورت کو آیت سے حلالہ قرار دینے کا جواز فراہم کیا ۔ حالانکہ اللہ نے تو حلالہ کی کسی صورت کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں رکھا تھا اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی۔ عربی لڑکی کی عجم سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا معاملہ تاریخ کے ایک جبر نے پیدا کیاتو پھر؟

یہ اتفاق تھا لیکن اس کو حلالہ پر محمول کرنے کی غلطی فرقہ زیدیہ کے امام زیدبن باقر بن زین العابدین بن امام حسین نے پہلی مرتبہ کی تھی۔ ظالم عرب کو عجم اپنے کفوء نہیں لگے تو چمچہ گیروں نے فتویٰ دیا کہ عرب کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ امام زید نے اس پر سوالات اٹھائے کہ لڑکی سے نکاح کیا اور ہاتھ نہیں لگایا تو قرآن آدھے حق مہر کو فرض قرار دیتا ہے اور ہاتھ لگایا ہے تو پورا حق مہر فرض ؟ اوراگر اس نے تین طلاقیں دیں تو پھر حلالہ کے بغیر جائز ہوگایا نہیںہوگی؟۔ کتاب المجموع : امام زید ،زیدیہ کے امام ۔

زید کا استنباط تھاکہ تیسری طلاق کا تعلق حلالہ کی لعنت ہے۔ حالانکہ عدی بن حاتم نے پوچھاتھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ تو رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”البقرہ229میں دومرتبہ طلاق کے بعد او تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ جبکہ اسی تیسری طلاق کے بعدہی تحکیم کا ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توقرآن نے حلال نہ ہونے کا حکم لگاکر طاقتور کا ہاتھ روکا ہے مگر الو کے پٹھے ہیں۔

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکمومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خودبدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق

حدیث میں بھی توازن ہے کہ لڑکی اور اس کے ولی کو نکاح میں باہمی رضامندی ہے اور جبر کا خاتمہ ہے اور لڑکی جب کشتی جلادیتی ہے تو اپنے خاندان کی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے اسلئے ولی کو راضی کرنے کی ترغیب ہے اور دوسری طرف جمہور نے بیوہ وطلاق شدہ کو بھی حدیث کی بنیاد پر ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا ہے ۔قرآن و حدیث کی افہام وتفہیم کی جگہ مسالک کی جنگ میں عربی اور حقائق سے ناوقف ذہن بھٹکتا ہے۔

فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO

” پس جب وہ (بیوہ عورتیں) اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو تم پر کوئی حرج نہیں جو بھی وہ اپنی جانوں کے بارے میں فیصلہ کریںمعروف طریقے سے۔ جو تم کرتے ہو اللہ کو خبر ہے”۔

البقرہ:آیت237میں بیوہ کو اجازت دی گئی لیکن فقہاء نے مسالک کے چکر میں قرآن دیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ

الذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسألنھم اجمعینO

”وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیں گے”۔ (سورہ الحجر:91،92)
قرآن کی طرف توجہ اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تقاضہ پورا کریں تو بیڑہ پار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv