قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :
ولا تنحکوالمشرکات حتی یؤمن ولامة مومنة خیر من مشرکةٍ ولو اعجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا ولعبد مؤمن خیرمن مشرکٍ ولو اعجبکم اولئک یدعون الی النار واللہ یدعوا الی الجنة و المغفرة باذنہ و یبین ایاتہ للناس لعلھم یتذکرون O
ترجمہ:” اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔اور مؤمنہ لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے گو وہ تمہیں بھلی لگے۔ اور مشرک مردوں سے نکاح مت کراؤ یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بھلا لگے یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اپنی اجازت سے۔اور اپنی آیات کو واضح کرتا ہے لوگوں کیلئے ہوسکتاہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں”۔ البقرہ:221
مشرکوں سے نکاح منع کیا، حتی کہ ایمان لائیں۔ مشرکوں کے مقابلے میں غلام ولونڈی کو خیر قرار دیا بھلے وہ پسند ہوں اسلئے کہ مشرک آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر لونڈی بغیر نکاح کے بھی جائز ہے تو نکاح کی کیا ضرورت؟۔ جس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف لونڈی سے نکاح کا حکم ہے بلکہ اس کو اور غلام کو آزاد مشرک کے مقابلے میں بہتر بھی قرار دیا گیا ہے۔
جاویداحمد غامدی کہتا ہے ” آج ہیرہ منڈی کی عورتوں سے نکاح کا حکم ہو تو کوئی کرلے گا؟۔ لونڈیوں کی اس وقت یہی حیثیت تھی۔ ان کو بہت بری طرح سے استعمال کیا جاتا تھا”۔ حالانکہ سورہ نور میں واضح ہے کہ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے”۔ مشرک یا مشرکہ کیساتھ نکاح کو روکنے کی وجہ بھی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ جیسے مشرکوں میں اچھے کردار کے مرد اور عورتوں کا وجود تھا جو بدکار نہیں تھے ویسے غلاموں اور لونڈیوں میں بھی دونوںقسم کے لوگ معاشرے میں موجودتھے۔
سورہ بقرہ کی اس آیت221کے بعد جتنی وضاحتیں طلاق ، رجوع اور عورتوں کے حقوق سے متعلق ہیں اگر غامدی کے ترجمہ قرآن کو دیکھا جائے تو لگے گا کہ اس نے بھینس کی طرح بھوسہ اور کھل کا بھاڑہ کھایاہے یا روٹی ضائع کی ہے کہ اتنی موٹی موٹی وضاحتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں؟۔ علماء کو تفاسیر، مسلکی و فقہی اختلاف سے قرآن کے متن کیلئے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
قرآن نے مسلمان کومشرکوں سے نکاح کو منع کیا لیکن حرام نہیں قرار دیا جبکہ زانی اور زانیہ سے نکاح کو حرام بھی قرار دیا۔ علی کی بہن ام ہانی اولین مسلمانوں میںتھیں لیکن ہجرت نہیں کی اور اس کی وجہ سے موجودہ دور کا مذہبی طبقہ ان پر حرام کاری کے فتوے لگا سکتا تھا لیکن اللہ اور اسکے رسولۖ نے نہیں لگایا۔
وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم O
(سورہ النور:آیت:32)ترجمہ:” اور نکاح کراؤ اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ اوربا کردار غلاموں کا اور لونڈیوں کا۔ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو مالدار بنا دے گا اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والابہت جاننے والا ہے”۔
عام طور پر لوگ صالح سے مراد نیک لیتے ہیں لیکن نیک اور صالح میں بہت فرق ہے۔ نیکی کو ”بر” کہتے ہیںاور صالح کے معنی کردار کی درستگی ہے۔ وہ بیوہ ، طلاق شدہ، غلام اور لونڈی جو بدکاری اور جنسی خواہشات کی بیماری کا شکار نہیں ہوں تو معاشرہ ان کے نکاح کرانے کی کوشش میں اپنا فریضہ ادا کرے۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ ان کو امیر بنادے گا۔ ایک مالدار آدمی نے جنسی خواہش کیلئے لونڈی رکھی ہے تو جب وہ نکاح کا متبادل ہو تو پھر نکاح کرانے کا کیا مطلب ہوا؟۔ لونڈیوں سے جنسی تعلق کی اسلام نے کوئی اجازت نہیں دی ہے۔ پھر اس کا نکاح کرانے کا حکم کیوں ہوتا؟۔ عربی کے کچھ الفاظ کے کئی معانی ہوتے ہیں جن سے سیاق وسباق کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ کیا مراد ہے؟۔ فقہی اختلافات میں غلو کرکے اسلام کا حیلہ بگاڑ دیا گیا ہے۔
لفظ محصنات کے بھی کئی معانی ہیں اور ماملکت ایمانکم کے بھی کئی معانی ہیں۔ عبد اور عباد کا تعلق بندگی اور غلامی سے ہے اور اس کی اللہ کے علاوہ اجازت نہیں ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے غلام اور لونڈیوں کے وہی نام ذکر کئے جو رائج تھے۔
ولیستعفف الذین لایجدون نکاحًاحتٰی یغنھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتاب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرًا واتوھم من مال اللہ الذی اٰتاکم و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO (سورہ النور:آیت:33)
اللہ نے پہلے بیوہ وطلاق شدہ اور غلام ولونڈی کے نکاح کا حکم دیا کہ اگر غریب ہیں تو اللہ امیر بنادے گا۔ پھرفرمایا کہ ”اگر ان میں سے کسی کو ضرورت کے باوجود نکاح کا موقع نہیں ملتا تو گند نہیں کریں بلکہ پاکیزہ زندگی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ کوئی راستہ اپنے فضل سے نکال دے”۔ دوسرا مسئلہ غلام کا تھا جسکے پاس حق مہر دینے کیلئے کچھ نہیں تو اسکے ساتھ مکاتبت یعنی لکھت پڑھت کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ”اگر وہ مکاتبت کرنا چاہیں اور تمہیں اس میں خیر نظر آئے تو پھر یہ کام کر ڈالو اور وہ مال بھی خرچ کرو جواللہ نے تمہیں دیا ہے”۔ اس سے غلام کی آزادی کیلئے مکاتبت مراد لینا انتہائی درجہ کی بیوقوفی اور خود غرضی ہے۔ غلام کو آزاد کرنے میں بھی یہ شرط ہوسکتی ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے؟۔ آیت میں تو اپنا مال خرچ کرنے کا بھی حکم ہے تو مال ہتھیانے کیلئے مکاتب کیسے ہوسکتی ہے؟۔
مولانا ابولاعلیٰ مودودی اورمفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان وغیرہ اپنی بیٹیاں غلام کو دیتے تو کچھ تحریر لکھواتے اور اپنا مال بھی ان پر خرچ کردیتے۔ کسی طلاق شدہ یا بیوہ کو شوہر نہیں ملتا تو غلام سے نکاح کرکے مکاتبت کرنے میں بھی حرج نہیں تھا۔
مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کا دارالعلوم کراچی میں شہرہ تھا کہ ٹیوشن پڑھانے والے سے معاشقہ ہوگیا اور شادی کرنے پر ضد کررہی ہے تو اس میں قرآن کی کیا رہنمائی ہے؟۔ چنانچہ اللہ نے یہ نازک معاملہ بھی حل کردیااور فرمایا : ” اور اپنی لڑکیوں کو بدکاری(یابغاوت) پر مجبور مت کرو جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ اس سے تم دنیاوی وجاہت تلاش کرو اور جن کو مجبور کیا گیا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد غفور رحیم ہے”۔
کراچی میں ایک مشہور کیس سیدہ دعا زہرہ کا تھا اور دوسرا مفتی تقی عثمانی کی بیٹی کا۔بغاء کے عربی میں دو معانی بنتے ہیں۔ ایک بدکاری اور دوسرا بغاوت۔ جب لڑکی والدین کی اجازت کے بغیر کسی لڑکے کیساتھ بھاگ جائے تو یہ بغاوت ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت پر مجبور نہیں کرو۔ بھاگنے والی لڑکیوں پر بدکاری نہیں بغاوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن اگر مفتی تقی عثمانی کی لڑکی کی طرح اس کا معاشقہ کسی اور کیساتھ ہو لیکن اس کو جبری طور پر کسی اور کیساتھ مجبور کردیا جائے تو یہ بالکل حرام اور فطرتاً بھی حرام کاری ہے۔ قرآن نے ایسی لڑکیوں کیلئے معافی کا اعلان کیا ہے اسلئے کہ وہ مجبور کی گئی ہیں اور ان کی اولاد پر اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگے گا۔
مولانا یوسف لدھیانوی کے داماد مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ سمیت حاجی محمد عثمان کے کروڑوں عقیدتمندوں پر نکاح کی حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لگانے والا مفتی تقی عثمانی کی اکلوتی بیٹی کس طرح فتوے کی زد میں آرہی ہے؟۔ یہ ہے مکافات عمل لیکن ہمارا مقصد قرآن کی تفسیر کو ٹھیک کرنا ہے جو بہت عرصہ سے غلط لوگوں کے ہاتھ بہت مسخ کیا گیاہے۔
اس آیت کا یہ ترجمہ کیا گیا ” لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو جب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم اس سے دنیا کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اللہ غفور رحیم ہے”۔
امریکہ میں بیٹھا ہوا علامہ شہریار رضاعابدی انتہائی کمینہ قسم کا انسان ہے ،اس نے کہیں سے نکالا کہ ” حضرت ابوبکر صدیق کا خاندان اس پیشہ سے وابستہ تھا جو لونڈی کا چکلہ چلاتا تھا”۔
جب مفتی تقی عثمانی کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کہے گا کہ ” شادی بیاہ میں لفافہ کی لین دین سود ہے اور اس کا کم از کم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے” اور پھر سودی بینکاری بھی معاوضہ لیکر اسلامی قرار دی جائے گی تو لوگ اسلام اور اسلاف سے بدظن ہوں گے کہ یہ شیوخ الاسلام کے احوال ہیں؟۔
فتاویٰ عثمانی جلد دوم میں دو اقسام کی خباثتیں ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ اگر کسی بدمعاش نے کوئی لڑکی اغواء کرکے جبری نکاح کیا تو اب یہ عدالت اور فتوے سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ اسلام اور انسانیت کے خلاف یہ میراثی طبقے کی بہت بڑی سازش ہے جس کو کوئی بھی شریف انسان قبول نہیں کرسکتا ہے۔ دوسری یہ ہے کہ نابالغ بچی کے باپ نے نکاح کردیا ۔ پھر جب اس کی عمر نکلنے لگی تو رخصتی کا مطالبہ کردیا۔ آدمی اس کے بعد غائب ہوا اور5سال گزرنے کے بعد عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا اور عدالت سے خلع ملنے کے بعد کسی اور سے نکاح کرلیا پھر پہلا شخص آگیا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ جاری کیا کہ پہلے شخص کی بیوی ہے۔ اور اس کے شوہر سے فتویٰ کے ذریعے جدا کردیا۔
ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور یہودی دنیا کا کوئی مذہب بھی ایسے غیر فطری فتوؤں کا پیش خیمہ نہیںہے لیکن علماء ومفتیان نے اسلام کو جس حد تک پہنچادیا تو مخبر صادق نبی اکرم شفیع اعظم ۖ نے جو پیش گوئی ان علما ء ومفتیان کے حوالہ سے دی ہیں تو وہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ”عصر حاضرحدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” کے اندر درج کی تھیں جن کو شہید کردیا گیا اور ان کی کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی ۔ اس طرح جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار نے ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ کیا تھا تو ان کو شہید کرکے کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلمان بچیوں کو تعلیم دی جائے کہ لونڈیوں کو بدکاری پر اس وقت مجبور کرنا غلط ہے کہ جب وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں لیکن اللہ غفور رحیم ہے تو اس تعلیم کا کیا اثر پڑے گا؟۔ یہ جبری نظام ہی اصل میں بدترین غلامی ہے جو اسلام ، قرآن اور فقہ کے نام پر مسلمانوں پر مسلط کردیا گیا ۔
بہت ساری احادیث ہیں جن میں رسول اللہ ۖ نے یہ فرمایا کہ ” ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں ہے”۔ جو کنواری لڑکی کیلئے ہی ہوسکتا ہے اسلئے کہ ایک مرتبہ شادی اور پھر طلاق یا بیوہ بن جانے کے بعد احکام بدل جاتے ہیں۔ میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا اور اپنے استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان کے سامنے یہ بات پیش کردی تو بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا کہ آگے آپ اس کا حل بھی نکال لوگے۔
ایک طرف عورت کی رضامندی شرط اور دوسری طرف ولی کی اجازت بھی ہو تو اعتدال وتوازن قائم ہوجاتا ہے ۔ اسلام کا یہی کمال ہے کہ ہرمعاملہ میں توازن قائم کرتا ہے۔ ایک طرف احادیث کا انکار کرکے عوام الناس کی لڑکیوں میں بغاوت برپا کی گئی اور دوسری طرف حدیث کا انکار کرکے جبری نکاح کو بھی جواز بخش دیا گیا اور قرآن کی آیات کی بھی بوگس تشریح کی گئی اور پھر جعلی عثمانی بن کر اپنی لڑکیوں کیلئے الگ شریعت گھڑدی۔
لوگ سمجھتے ہیں اتنا عرصہ سے یہ چیزیں دہرارہاہوں مگر قوم وہیں کھڑی ہے۔ مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ کون کہاں ہے؟ ۔حضرت نوح نے کتنی تبلیغ کی ؟ لیکن جتنے لوگ کشتی میں تھے تویہ شروع سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارا کام پہنچانا ہے اور بس!۔
فرعون اور اس کے ملاؤں اور پیشواؤں کو جب حضرت موسیٰ و ہارون علیھاالسلام نے دعوت دی تو کہنے لگے : فقالوا انؤمن لبشرین مثلنا و قومھما لنا عابدون ” پھر کہا کہ ہم اپنے جیسے دو شخص پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کررہی ہو”۔
فرعون اور اس کے سیٹ اپ کے حوالے سے کوئی دوسری خام خیالی نہیں تھی بلکہ ان کے غلط مذہبی احکام کی پیروی تھی اور آج مذہبی طبقات نے جس طرح کی غلامی اس قوم پر مسلط کی ہے تو شاید فرعون کو بھی شرم آجاتی۔اسلام نے جس عبدیت کا خاتمہ کیا تھا وہ مذہبی خداؤں کی شکل میں مسلمانوں پر مسلط ہے اور حکمرانوں کے تخت بھی ان سے لرزتے ہیں مگر اللہ نے مجھے وہ توفیق دی جس کے لائق میں نہیں لیکن اس کی اپنی شان ہے اور وہ تقدیروں کو بدلنے پر بالکل بھی کامل قدرت رکھتا ہے۔
فکذبوھما فکانوا من المھلکینOولقد اٰتینا موسی الکتاب لعلھم یھتدونOو جعلنا ابن مریم وامہ اٰیةً واٰوینا ھماالیٰ ربوةٍ ذات قرارٍ و معینٍOیاایھا الرسل کلوا من الطیباتٍ واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم اُمةً واحدةً وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزبٍ بما لدیھم فرحونOفذرہم فی غمرتھم حتی حینO
” پھر ان دونوں کو جھٹلایا اور ہوگئے ہلاک ہونے والوں میں اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی کہ ہوسکتا ہے ہدایت پائیں اور ابن مریم اور اسکی ماں کو نشانی بنادیا اور ان کو ٹھکانہ دیا ایک اونچی جگہ جو سکون اور چشمے والی تھی۔اے رسولو! کھاؤپاک چیزوں میں سے اور درست عمل کروبیشک میں جانتا ہوں جو تم عمل کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت ایک ہی تھی اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ سے تقویٰ اختیار کرو۔ پس انہوں نے اپنا حکم کاٹ ڈالا ٹکڑے کرکے اور ہر گروہ خوش ہے جو انکے پاس ہے اس پر۔ پس انکو چھوڑدو غفلت میں ایک وقت تک”۔
سورہ مؤمنون کی ان آیات سے پہلے حضرت نوح سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا اور بیچ میں بہت سارے انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے ۔ جن کو وقتاً فوقتاً ہلاک کیا گیا ہے۔ پھر آخر میں موسیٰ و ہارون اور حضرت عیسیٰ و مریم کے بعد تمام رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی ایک امت سے تقسیم اور پھر سب کو ایک مقررہ وقت تک انتظار کا حکم ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہم پڑھتے تھے تو مولانا محمدسالم قاسمی دارالعلوم دیوبند وقف قریب میںجمعہ کی تقریر مسجد طیبہ کراچی کرنے تشریف لائے۔ انہوں نے حدیث سنائی کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں” ۔ حضرت موسیٰ اور امام غزالی کا مناظرہ بھی سنایا۔ جاویداحمد غامدی نے اس پرا عتراض کیا ہے کہ اس طرح کی خرافات گھڑی گئی ہیں اور ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کی اس حوالے سے بڑی جرأت وہمت ہے۔ لیکن علماء و صوفیاء کی ان باتوں سے مذہبی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔
معراج میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کرام کی امامت کی اور جب دنیا میں بڑا انقلاب آجائے تو اس وقت تمام اقوام پر قرآن کی ایک ایک آیت کی حجت قائم ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا سے جانے کے بعد انبیاء کرام نے کونسی نماز پڑھی؟ ۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ سورہ الحدید میں اس جنت کی بات کی گئی ہے کہ جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہوگا تو یہ کونسی جنت ہے؟۔ یہ عالم برزخ کی جنت ہے۔ عالم برزح میں جہاں کھانے پینے کا ثبوت قرآن کی کئی آیات میں موجود ہے تو نبیۖ نے فرمایا :”نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” ۔ اور رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں تو عالم برزخ کیلئے بھی ہیں اور باقی انبیاء کرام کے فیض بھی اپنی اپنی امتوں کو پہنچتے ہیں اور تمام مذاہب کی روحانی دنیا میں ملتی جلتی باتیںہیں۔ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے ترید نہیں کرتا اور وقت معلوم وہی ہے جو ان آیات میں بھی ہے۔ سورہ الزمر ،سورہ الحدید وغیرہ میں بھی واضح ہے۔ اگر ایک ایسے امام کے ہاتھوں انقلاب برپا ہو جس کی سنی عقیدہ کے مطابق ایک رات میں اصلاح ہوتو بہت بڑی حیرت بھی ہوگی اور آسمان اور زمین والوں پر بجلی بھی گرے گی کہ کہاں انبیاء کرام کی سخت مشقتیں، عظیم جدوجہد، پاکیزگی ، وحی اور معجزات کے ذریعے رہنمائی ؟اور کہاں ایسے لوگ جن کی علم وعمل اورکسی بھی اعتبار سے کوئی اوقات نہیں تھی لیکن ان کے ہاتھوں اتنا بڑا انقلاب برپا ہوگیا؟۔ قرآن کی تصدیق ہوگی۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv