اگست 2020 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

نوشتہ دیوار شمارہ اگست اسپیشل ایڈیشن 2020 کی اہم خبریں

جب سازش سے حکمران لایا جائے خبردار! انکی اطاعت نہ کرو، گرچہ قتل کی نوبت بھی آجائے۔حضرت عمر
حکوم
ت اور اپوزیشن کا رویہ افسوسناک ہے۔ یہاں ریاستِ مدینہ والا رویہ نہیں، ایک دو مثالیں ہیں!

ہدیٰ بھرگڑی کا سسکیاں لیکر روتے ہوئے درد ناک بیان۔ جو چیز انسان کو کسی اور مخلوق سے ممتاز کرتی ہے ،وہ صرف اور اندر کی انسانیت کا جذبہ ہے!
بچوں کیساتھ زیادتی، عورتوں کیساتھ زیادتی، جانوروں کیساتھ زیادتی، ہم سوشل میڈیا پر چلاتے رہے۔یہاں انصاف نہیں۔ سوشل میڈیا پر بیان دیکھئے
علامہ سید محمد حیدر نقوی: ویڈیو


اختر خان ااور سلیم جاوید(فیس بک)


مولانا طارق مسعود سے
اسلامک بینکنگ پر کچھ سوالات


ایک لڑکی اور لڑکے کی محبت کی روح کو رلادینے والی ایسی تحریر جو معاشرے میں ضرور پڑھی جانی چاہیے۔


مرزائی اور نبوت کے دعویدار کا قتل اور اس کا حکم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
قرآن کریم نے دنیا کو چیلنج کررکھا ہے کہ ” قرآن کی طرح دس سورتیں بناکر لاؤ۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ آیات بناسکے ”۔
رسول اللہ ۖ کے دور میںابن صائد نے نبیۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں تمام جہانوں کا نبی ہوں۔ لیکن نبیۖ نے اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ فرمایا کہ اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔( صحیح :بخاری)
کوئی شخص اگر موجودہ دور میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دماغ خراب ہوسکتا ہے اسلئے اس کو پکڑ کرڈاکٹر سے اس کا علاج کرانا چاہیے۔ اور اگر وہ پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک میں سازش کرکے ایسی فضاء بنانا چاہتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کیا جاسکے تو اس کی سازش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔
فیصل خان عرف خالد خان غازی نے جس مرزائی کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر قتل کیا تو اس پر ایک عجیب فضاء بنائی گئی۔ کیا صحابہ کرام اور نبیۖ میں ایمان نہیں تھا نعوذ باللہ من ذٰلک کہ ابن صائد نبوت کے دعویدار کو قتل نہیں کیا تھا؟۔
بخاری کی حدیث ہے کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہاہے مگر مبشرات اور وہ نیک خواب ہیں۔ بعض روایات میں نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ باقی رہنے کی خبر ہے۔ اگر نبوت سے مراد اصطلاحی نبوت لی جائے تو پھر ختم نبوت پر بھی ایمان باقی نہیں رہے گا۔ اسلئے کہ بہت بڑا حصہ اس کا باقی سمجھا جائے گا۔
حدیث میںنبوت مراد نہیں بلکہ غیب کی خبر ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: عم یتسا ء لونO عن النبأِ العظیمOالذی ھم فیہ مختلفون Oکلاسیعلمون Oثم کلاسیعلمونOالم نجعل الارض مھٰداO والجبال اوتادًاO ” کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں؟۔ بڑی خبر کے بارے میں۔ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیںگے۔ پھر ہر گز نہیں وہ عنقریب جان لیںگے۔ کیا ہم نے زمین کو جھولا نہ بنایا ؟اور کیا پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟”۔ ان آیات میں بڑے انقلاب کی خبر ہے اور جس سے نبوت مراد لینا بہت کم عقلی ہے، اسی طرح سے نیک خوابوں کی تعبیر سے بھی خوشخبری لینے کے بجائے نبوت مراد لینا انتہائی کم عقلی ہے۔ آج دنیا میں ایسے جھولے ہیں جیسے زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے اور اپنے محور کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ اس طرح کے جھولے بھی ایجاد ہوچکے ہیں اور دنیا کے پارکوں میں لگے ہیں کہ جو دونوں محور پر گھومتے ہیں۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زمین میں پہاڑ وہی میخوں والے کام کرتے ہیں جو قرآن نے بتایا ہے۔ ہندو، عیسائی، مجوسی، بدھ مت اور مسلمان سمیت پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب کی خوشخبری ہے لیکن یہ اسلام ہی کے ذریعے سے پوری ہوگی۔ جس کا عنقریب دنیا کو بھی پتہ چل جائیگا۔ کسی کواس حوالے سے اچھے خواب آتے ہیں تو اس کو حدیث میں غیب کی خبر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا نبوت کے اصطلاحی معنی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اگر عورت کے حقوق واضح ہوتے تو مرزا کو محمدی بیگم زبردستی مانگنے پر ضرور قتل کردیا جاتا جب عیسیٰ بننے کا شوق چڑھا تو حیض بھی آنے لگا ۔خود اپنے سے جن لیا۔ مرزا کا جانشین اتنا کم عقل ہے کہ کہتا ہے کہ قرآن مؤمنوں کی مثال میں دو عورتوں کا حوالہ ہے اسلئے مرزا کو بھی حیض آگیا۔ پھر توخلیفہ کو بھی حیض آتا ہوگا؟۔ چیک کیا جائے!

پاکستان میں مسئلہ قادیانیت کا حل!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سب سے پہلے مخالف کی طاقت اور اس کی دلیل کو سمجھنے ، پھر اس کو رد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک عرصہ گزر گیا لیکن قادیانی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جارہے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ” مرزا غلام احمد قادیانی کیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوسکتے ہیں؟۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام عیسیٰ اور اس کا نام غلام احمد تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا اور غلام احمد کاباپ تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کا نام مریم تھا اور اس کی ماں کا نام فلاں تھا”۔ وغیرہ وغیرہ (علامات قیامت اور نزول مسیح : تصنیف مفتی محمد رفیع عثمانی)
جب مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوچکا ہے۔ آپ نے دنیا میں نہیں آنا ہے۔ یہ اسرائیلی روایات سے ہمارے ہاں بات آئی ہے۔ جیسے اہل تشیع کا امام مہدی غائب کے بارے میں عقیدہ ہے کہ وہ ہزار وں سال بعد بھی آئیںگے ، اسی طرح عیسیٰ کے بارے میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے۔ اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے پھر نبیۖ کی آمد کے متعلق ہونا چاہیے تھا۔ جب ہمارے نبیۖ قبر میں ہیں تو عیسیٰ کے بارے میں آسمانوں کا عقیدہ ان عیسائیوں کو تقویت پہنچانے کا باعث ہے جو اس کو خدا مانتے ہیں”۔
ایک عام پڑھا لکھا آدمی جب مفتی محمد شفیع اور مرزائی مبلغ کا موازانہ کریگا تو اس کو مفتی شفیع کی بات عجیب لگے گی۔ چلو وہ بزرگ تھے، ایک غلطی ہوگئی تو اس کے بیٹے مفتی اعظم پاکستان کو اپنی کتاب میں باپ کا حوالہ دیکر غلطی کو نہیں دھرانا چاہیے تھا لیکن پتہ نہیں کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے یہ ہورہاہے یا اسکے پیچھے کوئی بات ہے؟۔ ہمیں نہیں معلوم لیکن اس سے قادیانی فائدہ اٹھارہے ہیں۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں لکھا ہے کہ ” وہ وقت کا مہدی و مسیح ہوگا”۔ اور غالباً مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی سے اپنا دعویٰ کیا ہوگا۔ چونکہ یہودیوں کو بھی غلام احمد قادیانی کے پروگرام سے نظریاتی فائدہ پہنچ رہاہے۔ عیسائی بھی مذہبی عقیدہ سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اسلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو جو بھی فائدہ پہنچائیں ان پر کوئی اپنا زور مسلط نہیں کرسکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے جہاد منسوخ کرنے کا اعلان اسلئے کیا گیا تھا کہ برطانیہ کا دنیا میں غلبہ تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دجال اکبر کو قتل کرکے دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنادینگے تو عملی طور پر جہاد کی ضرورت نہ ہوگی۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو منسوخ کیا مگر دنیا فتح نہیںکی تھی۔ البتہ مسلمان بھی جہاد کی بجائے عدمِ تشدد کی تحریک چلار ہے تھے۔ پھرصورتحال یہ بن گئی کہ فوج میں بڑے پیمانے پر قادیانی بھرتی ہوگئے اور جب ان پر جبر ہوتا ہے تو اپنی شناخت چھپالیتے ہیں۔ فوج کا پیشہ جہاد فی سبیل اللہ ہے لیکن مرزا غلام قادیانی کی جعلی نبوت نے جہاد کو منسوخ کردیا ۔ جنرل رحیم الدین وغیرہ کٹر قادیانی مبلغ تھے۔ مرزائی فوج میںتھے تو بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈالے۔ پاکستان میں عوام سے دشمن کی طرح سلوک کیا جس سے فوج بدنام ہوگئی۔ جب قادیانیوں سے اچھے ماحول میں افہام وتفہیم کے ذریعے بحث ہوگئی تو قادیانیت اور اسکے مضر اثرات سے قوم محفوظ رہے گی۔ کوئی پتہ نہیں چلتا ہے کہ کون کون قادیانی ایجنٹ ہیں مولانا منظور مینگل نے اپنے پر الزام لگایا۔

مریم نواز شریف اور نیب کا کیس کیاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوازشریف نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی ٹرک استعمال کرتے ہوئے جو رائیونڈ کی زمینیں سستی کرکے مریم نواز کے نام پر لیں تھیں تو اب بدمعاشوں کو اکٹھا کرکے نیب کے دفتر میں سرکاری افسران کو ہراساں کیا گیا ہے۔ جس ملک میں جج بک جاتے ہوں۔ کسی کے خلاف کیس کی سماعت ہورہی ہو اور وہی جج عمرے ساتھ کرتا پھرے۔ کھانوں کی نشست میں رہائش گاہوں پر اسکے حق میں ویڈیو بنائے۔ پھر کسی اور سے خیر کی توقع کیا کی جاسکتی ہے؟۔
پاکستان زرعی ملک ہے ۔یہاں خوراک سب سے زیادہ سستی ہوسکتی ہے۔ جس طرح عرب میں تیل سستا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے کہ جسکا آئین اسلامی و جمہوری ہے۔ جب قرآن میں سود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہۖ نے زمین کو مزارعت پر دینے کو سود قرار دیتے ہوئے منع فرمایا۔ کئی احادیث ہیں جہاں زمین کو مفت دینے یا اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب پاکستان میں محنت کشوں کو مفت زمینیں دی جائیںگی تو محنت کش طبقہ عروج وترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
علامہ اقبال نے اسلئے یہ نظم ” فرشتوں کے گیت” کے نام پر لکھی تھی کہ دنیا کی تاریخ میں کمیونزم ایک بڑا انقلاب برپا کرنے جارہا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر اور اسکے بھائی کا اخبار بھی ” کامریڈ” کے نام سے نکلتا تھا۔ جنہوں نے خلافت کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلائی تھی۔” اماں بولی ۔جان بیٹا خلافت پر دے دینا” انہی کی ماں تھی۔
مولانا ظفر علی خان کا اخبار ” زمیندار” اور مولانا حسرت موہانی بھی مسلمان کمیونسٹ تھے۔ کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ” انگریز کی دی ہوئی جاگیر آزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط ہوگی ، اسلئے کہ انگریز کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہندوستان کی زمین اپنے وفاداروں اور اپنی قوم کے غداروں میں تقسیم کرے”۔ پاکستان کے خانوں، نوابوں اور جاگیرداروں نے اسلام کی خاطر نہیں اپنی جائیداد کے تحفظ کیلئے تقسیم ہند اور پاکستان کا ایجنڈہ قبول کیا تھا۔جب پاکستان پر مختلف مافیاز نے قبضہ کرنا شروع کیا تو لینڈمافیا اور سیاستدان ایک نئی شکل میں میدان کے اندر اترے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کوئی عالم دین یاپی ایچ ڈی ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ ان کا خلوص، زبان کی فصاحت اور ایمان کا جذبہ اپنی جگہ پر لیکن انہوں نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک کی رائے تھی کہ مزارعت جائز نہیں ۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے ،جب بات رائے کی آتی ہے تو پھر سود کی لعنت کو بھی رائے سے جواز مل جاتا ہے۔جو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ اعلان جنگ ہے۔
جس دن پاکستان میں اتنی تھوڑی سی قربانی دیدی کہ جاگیرداروں کو مجبور کیا کہ اپنی زمینیں خود کاشت کرو یا مزارعین کو مفت میں دو تو روس کا راستہ دنیا نے آخر روک لیا مگر پوری دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔ جب کوئی کاشتکار اس قابل بن سکے گا کہ وہ اپنا سہل کاروبار کرسکے تو اپنے بچوں کو کاشتکاری کی مصیبت میں ڈالے گا۔ یہ اللہ کی زمین مخلوقِ خدا کیلئے غریب سے امیر بننے کا بہت بڑا ذریعہ بن جائیگی۔ حسن نواز، حسین نواز اپنی زمینیں خود کاشت کرینگے تو صحت بھی اچھی بن جائے گی۔کاشکاروں کی جگہ بلاول بھٹو ، بختا ور اور آصفہ کھیتی باڑی کرتے تو غریبوں کے دکھ درد کا پتہ چل جاتا۔ پاکستان خوراک کی ایکسپورٹ سے امیر بن جاتا۔

دنیا نئے نظام کی تلاش میں پھر جنگ کے دھانے پر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ اور چین میں دنیا کی معاشی سرگرمی پر ایکدوسرے سے جنگ ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ قرآن میں سورۂ نمل موجود ہے جو اس چیونٹی کے نام پر ہے جس نے اپنی قوم کو آواز دی کہ” اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ، سلیمان کا لشکر آرہاہے ۔وہ تمہیں کہیں پاؤں تلے روند نہ ڈالے”۔ اپنی قوم کے مفاد میں یہ تاریخی جملہ چیونٹی کی زباں سے نکلا تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک قرآن میں اس کواتنی عزت بخشی کہ انسانوں کیلئے ایک عمدہ مثال بنادیا۔ مقتدر طبقات کی حالت اور سوچ یہ ہے کہ جب عالمی جنگ میں ہماری حیثیت چیونٹیوں کی ہے تو کس لشکر کے بوٹوں سے چمٹ کر فوجی لنگر سے کچھ بچی کھچی خوراک مل سکتی ہے؟۔ روس اور امریکہ کی جنگ تھی تو یہ امریکہ کیساتھ کھڑا تھا اور افغانستان و بھارت روس کیساتھ کھڑے تھے۔ آج امریکہ نے بھارت کو اپنا گودی بچہ بنالیا تو پاکستان کسی دوسری گود کی تلاش میں ہے۔
جب کعبہ پر ہاتھیوں سے حملہ ہورہا تھا تو رسول اللہۖ کے دادا عبدالمطلب نے کہا تھا کہ ”میں اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہا ہوں، کعبہ کا مالک اس کی خود ہی حفاظت کریگا ۔ میرے لئے اونٹ تلاش کرکے کوئی نہیں دے گا”۔ بت شکن ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی بنیاد پر کعبہ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن اس میں 360بت نصب کردئیے گئے تھے۔ رسول اللہۖ کی بعثت ہوئی تو کعبہ کو بتوں سے بھرا ہوا چھوڑ کر مدینہ ہجرت اختیار کرلی۔ بدر اور احد کے غزوات کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی کیا تھا لیکن آخر فتح مکہ پر بات پہنچ گئی۔ جب عرب کو شرک کی جگہ توحید، جاہلیت کی جگہ اسلام اور انسانیت کا سبق مل گیا تو وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ہم دوسروں کی جنگ بھی قومی مفادات کے نام پر لڑتے ہیں لیکن جب بلی تھیلی سے باہر نکلتی ہے تومعاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ افغان وار امریکی سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے لڑی لیکن پاکستان کے فوجی حکام آرمی چیف، صدر ،امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل اختر عبدالرحمن سمیت حادثے کا شکار ہوئے تو نتیجے میں کوئلے کی دلالی کی بات کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں کیا آیا تھا؟۔ البتہ اختر عبدالرحمن نے اپنی اولاد کیلئے حق حلال کی وہ کمائی چھوڑی جو امریکہ نے جنگ کیلئے بھیجی تھی۔
ایک تبلیغی جماعت کا فرد کہہ رہاتھا کہ ”ہم کیسے مسلمان ہیں۔ امریکہ سات سمندر پار سے افغان مہاجرین کیلئے امداد اور خوراک بھیجتا ہے اور ہم یہاں کھا جاتے ہیں؟”۔ رستم شاہ مہمند اور اوریا مقبول جان ان مذہبی خطیبوں کی طرح ہیں جن کو اچھا معاوضہ ملتا ہے تو بہت اچھے جذبے ، جوش وخروش اور ایمانی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ عناصر کو اپنوں اور بیرونی امداد نہیں ملے تو پھر اس جوش سے فسادات تک بات نہیں پہنچے گی۔ ہماری ریاست نے دوسری مرتبہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی۔ پوری قوم تباہ ہوگئی لیکن آسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کی خبر اشفاق پرویزکیانی کی بتائی جاتی ہے۔ جو پرویز مشرف کے دور میں آئی ایس آئی کا چیف تھا اور آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ مدت پوری کرنے کے بعد دوسری مدت کیلئے بھی آرمی چیف بنادیا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کو طبقاتی تقسیم میں گھسیٹنے کی بجائے اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہماری اپنی حالت صحیح ہوگی تو ہم ہر جگہ سرخرو اور خوشحال ہوں گے۔

پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی

میرا تعلق پکتیا صوبے افغانستان سے ہے اور میں ایک سید خاندان سے ہوں ہمارے آباؤ اجداد کی پشتون عورتوں سے شادیاں ہوتی چلی آرہی ہیں۔ میرے بڑے چاچا کی کابل میں سپیئر پارٹس کی دکان تھی جو وہ جرمنی سے امپورٹ کرتے تھے اچھا خاصا کاروبار جاری تھا روسیوں نے جب ملک پر قدم رکھا تو دکان کم داموں میں فروخت کرکے ان کے خلاف جنگ میں لوکل عوامی لوگوں کے کمانڈر بنے پشاور میں مجاہدین کے لیڈرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں سے ان کو اسلحہ ملتا تھا چند دفعہ وہاں جا کر ہی چاچا جو معاملات سے پتہ چل گیا تھا کہ یہاں تو لیڈرز اپنے مفاد کے بندوں کو رکھتے ہیں اور اسلحہ دینے میں اپنی چوری کرتے ہیں۔ بہرحال اس نے جنگ جاری رکھی جنگ کے دوران ہمارے خاندان نے کرم ایجنسی ہجرت کی تھی اور اللہ کے فضل سے لوکل لوگوں سے بہت اچھی دوستی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے عزت کے میدان میں علاقے میں شہرت بھی دی تھی۔جس کا ثبوت یہ تھا کہ سن 2000 میں جب ہم افغانستان واپس لوٹے تو دادا سے ملنے بہت سے کرم ایجنسی کے لوگ بھی آتے تھے۔ 1990 کے شروعات کے سالوں میں جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت کا پانسہ الٹ گیا تو مجاہدین کے لیڈرز نے کابل کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے آپس میں سول وار شروع کی جن کی خودغرضی اور قتل و غارت دیکھ کر ہی میرا چاچا اس نتیجے پر پہنچا کہ جو جہاد ہم نے کیا وہ دراصل جہاد نامی فساد تھا۔ 2001 میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں پشاور آیا اور پڑھتے پڑھتے یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں” international relations ” نامی سبجیکٹ تھا جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ ہمیں 18 صدی کے فلاسفر Maciavelli کی فلاسفی متعارف کرائی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مقصد حاصل کرنے کیلئے انسان کو کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خواہ وہ غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیچرز ہمیں کہہ گئے کہ تب سے بین ال اقوامی تعلقات میں ” self interest first” کی ڈپلومیسی چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے پر آمادگی کے لیے جنرل ضیاء نے امریکہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جنگ جیتنے پر پاکستان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق formulate کرے جسے achieve کرنے کے لیے روس کے نکلنے کے بعد مجاہدین کو ڈاکٹر نجیب کے خلاف سپورٹ کیا گیا اور بعد میں 1996 کو طالبان موومنٹ تشکیل کیا گیا جو اسی سوچ کا تسلسل تھا۔
طالبان نے تاجک،ازبک اور ہزارہ جن کا ان سے طرز حکومت پر اختلاف تھا ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ہی صرف اسلام کی پہچان قرار پائے اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کے ساتھ نفرت پشتونوں میں پھیل گئی۔ جس کا ثبوت یہ تھا کہ نا صرف افغانستان کے پشتونوں میں منبر کے ذریعے یہ ذہنیت پھیل گئی بلکہ پاکستان میں بھی یہی حال تھا۔ مسلمان افغانستان سے آتے ہوئے لوگوں کو جب پولیس اور ایف سی گاڑی سے اتارتے تو پشتونوں کو چھوڑ دیتے اور تاجک،ازبک اور ہزارہ کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ یہی حال شہروں میں رہنے والی ان اقوام کے افراد کا تھا نہ صرف پولیس بلکہ کچھ عوام بھی ان سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود بھی اسی ذہنیت کا شکار تھا اور میں نے پشاور میں رہتے وقت تعلیمی اداروں میں ان کو کبھی دوست نہیں بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ بھی ایک تاجک ہی تھے۔ یہ سلوک دیکھ کر جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں ان لوگوں کی حکومت قائم کی تو انہوں نے صرف افغان پشتونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور جذبہ دکھایا بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی یہی حال رہا جسکا فائدہ انڈیا نے لیا۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان نے نہ صرف روس کے آنے سے قبل بار بار پاکستان کو دھمکیاں دیں بلکہ پاکستان بنتے وقت مخالفت بھی کی اور ان دونوں اطراف سے تلخی کی اصل بنیاد 1893 کی ڈیورنڈ لائن معاہدہ تھا جو انگریز چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے زندگی کے زیادہ تر ایام پاکستان میں گزارے ہیں اور افغانستان کو مکہ اور پاکستان کو مدینہ مانتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ افغانستان کی نسبت زیادہ نرم طبیعت کے اور باشعور ہیں کیونکہ نہ صرف 300 سال انگریزوں کے ساتھ اور خلاف جدوجہد میں تحریکوں میں institution کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ 73 سالہ پاکستانی جمہوریت سے گزرے ہیں بلکہ پاکستان زیادہ diverse اور جامع ہونے کے ناطے ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہے جبکہ افغانستان 18 صدیوں سے لیکر 1978 تک دو قبائل (درانی اور غلزائی) خاندانوں کی موروثی monarchies (شاہی حکومت)کا شکار رہا ہے اور جمہوری عمل اور سیاست سے عوام کو دور رکھا گیا تھا۔
1978 سے لے کر 2001 تک کمیونسٹ غلزائی پشتون تھے، ڈاکٹر نجیب بھی اسی قبیلے سے جبکہ ملا عمر درانی قبیلے سے تھا۔ کل اگر افغان یہ کہتے تھے کہ پاکستان پر انگریزوں نے حکومت کی ہے اس لحاظ سے ہم اس سے برتر ہیں تو خدا نے برطانوی انگریز کے کزن امریکی انگریز کی حکومت افغانوں پر قائم کر کے اسکا جواب دے دیا ہے اور حساب برابر ہوا ہے۔ اب اگر پاکستانی عوام یہ سمجھتی ہے کہ افغان آرمی مرتد ہے کیونکہ وہ یہودو نصاری کی صف میں کھڑی ہے تو انکو اس پر غور کرنا ہوگا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریزوں کی فوج میں رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تختہ بھی الٹا ہے۔ اگر وہ مرتد نہیں تھے تو یہ کیسے ہو؟؟؟ اس لیے یہ امید رکھنا بہتر ہوگا کہ حالات کچھ ایسے بن سکتے ہیں جو امریکہ کو انگلستان کی طرح جانے پر مجبور کر دے۔
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں بہت زیادہ چیزوں میں مشابہت ہے اور ہونی بھی چاہیے اگر ایک قوم ہے تو۔ اسکا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست پکتیا اور غزنی کا رہن سہن، لباس،کھانا پینا، لہجہ اور دیگر رسومات تقریبا شمالی و جنوبی وزیرستان ، خیبر ، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملتا جلتا ہے اور بہت سے قبائل بارڈر کے پار نہ صرف مشترک آباؤ اجداد کے دعوی ہیں بلکہ بارڈر کے دونوں طرف ایک قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں جیسے منگل،وزیر اور بنگش۔ اسی طرح ننگہار (جلال آباد) کے رہائشی یوسف زئی اور قندہار اور ہلمند کے رہائشی بلوچستان کے پشتونوں کے قریب تر ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف روس کے حملے سے پہلے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی البتہ اسمگلنگ ہوتی رہتی تھی کیونکہ زیادہ تر بارڈر پڑوس تھا مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں جسکی اصل بنیاد انگریز کا چھوڑا ہو مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ ہمیں ایک امت کے ناطے اصل اسلام جو اخوت اور بھائی چارے پر زور دیتا ہے کی طرف معاملات کو موڑنا چاہئے۔ جیسا کہ آیت ہے ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو ” اور حدیث ہے کہ مسلمان امت ایک جان کی مانند ہے جیسے جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرا بھی محسوس کرتا ہے۔

وزیرستان سے پوری دنیا کیلئے معاشرتی بنیاد پراسلامی انقلاب کا آغاز ہوسکتا ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

وزیرستان کی عوام میںاجتماعی شعور کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ جس قوم میں اپنی فلاح و بہبود کی فکر اور اس پراجتماعی فیصلے اور عمل کرنے کی صلاحیت ہو وہ قوم صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کہلانے کی مستحق ہے۔ پاکستان کے چپے چپے پر منشیات کے اڈے ہیں مگر کسی ایک جگہ سے بھی منشیات کے خلاف اجتماعی فیصلے کی آواز سنائی نہیں دی ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملک ابھی تک صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہوا ہے۔ عوام کے ہاتھ بندھے ہیں، پولیس ، عدالت اور تمام سرکاری ادارے اور ان اہلکار وں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اسلئے کوئی مثبت قدم اٹھانے کے بجائے ہر جگہ کھانچہ سسٹم چل رہا ہے۔
عوام کے ووٹ خرید لئے جاتے ہیں۔ سیاست قومی مفادات کی جگہ پارٹی مفادات کا نام ہے۔ پارٹی کا انجن پیسوں کے ایندھن سے چلتا ہے۔ جب کوئی قومی سیاسی پارٹی مرکز یا صوبے کی حکومت میں آتی ہے تواس کا سب سے پہلا کام اپنے انجن کو چلانے کیلئے ایندھن پیسوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے قومی دولت کو لوٹنا شروع کردیتی ہے۔ جب قومی سیاسی پارٹیاں اپنی ضرورت پیسہ میں ایکدوسرے سے سبقت لے جانے کا مقابلہ کرتی ہیں تو نتیجے میں قومی ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو بھی اس دوڑ میں برابر کے مقابلے کا احساس ہوتا ہے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ پھر طبقاتی بحث شروع ہے کہ انڈہ پہلے پیدا ہوا یا مرغی؟۔ عوام بیچارے اس بحث میں اُلجھ جاتے ہیں کہ کون اصل میں کرپٹ اور کون نتیجے میں کرپٹ ہے؟۔ کوئی فوج کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے اور کوئی سیاستدانوں پر بھونکتاہے۔ پھر کوئی پولیس کو اصل ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور کوئی عدالتی نظام کو اور آخر کار گیند پھر عوام کی طرف لوٹ کر آتی ہے کہ قصور اور نااہلی کی ذمہ دار ہماری عوام ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب معذور اور بے بس نظر آتے ہیں اور ہماری ریاست کے تمام اداروںسول ، ملٹری اور عدالتی بیورو کریسی عوام کو ایک آزاد قوم کا حق نہیں دیتی ہے۔ مگر دوسری طرف عوام بھی جس سیاسی قیادت پر اعتماد کرتی ہے وہ بھی پیسے بٹورنے کا فن اسلئے جانتی ہے کہ اس ایندھن سے انجن چلتا ہے۔
جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ قومی مفادات کو چھوڑ کر ایک پرزے کی طرح پیسہ بٹورتا ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کے نام لندن میں پراپرٹی ہے اور وہ کرپٹ نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ نوازشریف کے بچوں نے بھی اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے لندن میں بہت پیسہ کمالیا ہے۔ جج اور سیاسی قیادت فوج کو کرپٹ کہیںاور فوج اور اسکے حامی سیاست اور عدالت کو۔ صحیح اور غلط کون ہے؟۔
جب شمالی اور جنوبی وزیرستان میںطالبان کی آمد ہوئی تو میرانشاہ اور وانا وزیر علاقے اس کا مرکز تھے۔ محسود ایریا میں قومی سطح پر طالبان نہیں تھے۔ پورے پاکستان کی طرح امریکہ کیخلاف جذبہ محسودوں میں بھی تھا۔ جب امریکہ کا نزول ہوا تھا تو مقابلے میں سب سے پہلے شمالی وزیرستان کے راستے لشکر مولانا معراج الدین قریشی شہید کی قیادت میں افغانستان پہنچا تھا۔مولانا معراج الدین افغانستان میں طالبان کی مدد کیلئے پہنچے تھے لیکن ان کو واپس کردیا گیا تھا اور وہ اس جنگ کو شروع سے سازش قرار دینے لگے مگر کھل کر برملا اس کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ ایسا کرتے تو لوگ امریکی ایجنٹ کا الزام لگا سکتے تھے۔
جب مجھ پر 2006ء میںٹانک کے قریب فائرنگ ہوئی تو مولانا معراج الدین مجھ سے اظہارِ افسوس یا یکجہتی کرنے آئے،یہ ایک طرح کی رسم ہے اور مجھے بتایا کہ یہ جنگ ایک سازش ہے اور اسکے اصل مقاصد اور نتیجے کا کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے۔ مولانا شیرانی نے بھی مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ یہ پتہ کریں کہ امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟
مولانا معراج الدین اور مولانا صالح شاہ پہلے آئے تھے تو بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ ” یہ ہمارے علاقہ کے خلاف ایک سازش ہے اور مقاصد کا نہیں پتہ ہے”۔ اس وقت ہمارے بھائیوں کے غیض وغضب سے بچانے کی خاطر میں نے اپنے ماموں سے کہا کہ جب امریکہ نے اسامہ پر حملہ کیا تھا اور میں نے اسامہ کے حق میںامریکہ کو گالی دی تھی تو آپ لوگ کتنے ناراض تھے؟۔ جس پر میرا بڑابھائی مہمان علماء کرام پر برسنے کے بجائے مجھ پر برس پڑا ۔ یوں میں نے ڈھال بن کر اپنا کام دکھایا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا معراج الدین فائرنگ کے بعد بھی میرے پاس آئے اور جب بڑے بھائی کی تعزیت کے سلسلے میں آئے تب بھی اسپیشل اُٹھ کر میرے پاس بیٹھ گئے تھے اور پھر میں ان کو رخصت کرنے باہر گاڑی تک ساتھ گیا۔
طالبان کی تحریک کو محسود ایریا میں سب سے آخر میں پذیرائی مل گئی لیکن سب سے زیادہ فوجی آپریشن، عوام کی بار بار نقل مکانی اور بمباری سے تباہی ونقصان بھی محسود قوم کو پہنچا ہے۔ آپریشن کیلئے محسود ایریا خالی کرالیا جاتا تھا تو طالبان ملحقہ وزیرایریا میں چلے جاتے اور آپریشن مکمل ہوتا اور عوام کیساتھ طالبان بھی پہنچ جاتے۔ محسود ایریا کو کلیئر قرار دیا گیا تو عسکری حکام نے اپنے علاقہ میں واپسی کی اجازت دی بلکہ کیمپوں میں راشن پہنچانے کا انتظام بھی ان کی ذمہ داری تھی اسلئے حکم تھا کہ وزیرستان واپس جاؤ۔ مولانا معراج الدین نے کہا پہلے سارا علاقہ کلیئر ہو تو پھر عوام کو جانا چاہیے۔ پھر مولانا شہید کردئیے گئے۔
جنوبی وزیرستان وزیر علاقہ میں طالبان تھے اور آج تک وہاں آپریشن نہیں ہوا۔ جب وزیر قوم کی ازبک سے لڑائی ہوئی تو وزیرطالبان اور پاک فوج نے وزیر قوم کوان دہشت گردوں سے بچایا تھا۔ پھر ازبک محسود ایریا میں پہنچ گئے اور جب حکومت نے بمباری کی تو قبائل کے کیمپ کو نشانہ بنایا، ازبک کے کیمپ کو چھوڑ دیا۔ جو تباہی کے مناظر کی ویڈیوز بنارہے تھے۔ مولانا عصام الدین محسود نے اس وقت گورنر جنرل ریٹائرڈاورکزئی سے پوچھا تھا کہ ہم اتنی معلومات نہیں رکھتے جتنی تمہارے پاس ہیں لیکن پھر قبائل کی بجائے ازبک کو کیوں نشانہ نہیں بنایا؟۔ جس پر گورنر نے کہا کہ ”اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ تمہیں مارتا”۔
محسود قوم کی اپنی بھی بہت غلطیاں تھیں جن کی سزا بھی بہت بھگت لی لیکن آزمائش کے نتیجے میں قوم کے اندر بڑا نکھار پیدا ہوتا ہے، صدیوں کی منزل محسودقوم نے چند عشرے میں طے کرلی۔وزیرستان کا دنیا میں ایک نام پیدا ہوا ہے۔ امریکہ سے مقابلہ ہوگیا۔ طالبان نے پاکستان کو وزیرستان کی پہچان کروائی۔ PTMکو بھی شہرت مل گئی۔ لیکن کرنے کا کام کیا ہے؟۔ کیا مذہب کے بعد قومی جذبہ نئی آزمائش ،نجات یا عالمی سازش کاشکار بنادے گا؟۔
جب تلوار ، نیزوں ، اونٹوں ، گدھوں اور خچروں سے لڑائی لڑی جاتی تھی تو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں ایک چھوٹی سی ریاست کی بنیاد رکھنے والے مہاجر صحابہ تھے۔ رسول اللہۖ نے ہمیشہ تہبند پہنا لیکن یہودکا قومی لباس پسند فرمایا ۔ صحابہ سے شلوار پہنے کی تلقین فرمائی۔ تعصبات کی جگہ معاشرتی فلاحی معاملات کو سلجھایا۔ پھر اس دور میں یہ قوم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ قیصر وکسریٰ کی سپرقوتوں کو اس اُمی قوم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ محسود قوم کی تعداد مدینہ کے گرد رہنے والی عرب قوم سے زیادہ ہے۔ اگر یہاں وہ معاشرہ قائم کرلیا جاتا ہے جو مدینہ میں چودہ سو سال پہلے قائم ہوا تھا تو قبائل اور پاکستان کی اقوام اس خطے کی وجہ سے بدلنے پر مجبور ہونگے۔ وزیرستان میں معاشی بہتری کیلئے رسول اللہۖ کے دئیے ہوئے نظام سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ یہ طے ہے کہ کونسی زمین اور کونسا پہاڑ کس قوم ، کس خاندان کی ملکیت ہے۔ چند سالوں کیلئے کسی محنت کش کو زرعی کاشت اور باغ لگانے کی اجازت دی جائے تو وزیرستان جنت کا منظر پیش کریگا۔ اسکے عشر وزکوٰة سے معذور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے اور صحتمند افراد کو معاشی طور پر کھڑا ہونے کااچھا موقع ملے گا۔ قرآن کا بہترین معاشرتی نظا م دنیا سے اوجھل ہے ۔ وزیرستان کے لوگ بڑا انقلاب لاسکتے ہیں۔

نوشتہ دیوار شمارہ اگست 2020 کی اہم خبریں

پنجاب پولیس کا پازیٹو فیس: یاسر شامی

ایک اچھے انسان کا بہت اچھا بیان

سینیٹر محمد علی سیف متحدہ قومی موومنٹ
سمیع ابراہیم کا تہلکہ خیز سوشل میڈیا بیان
مولاناعبد الغفور حیدری سینٹرJUI

جامعہ فریدیہ اورام حسان پر حملے کا معاملہ

اسسٹنٹ کمشنر سچ کیا اورجھوٹ کیا؟

تو آکھیں تے میں دساں۔

ساجدہ احمد چیئر پرسن استحکام پاکستان اتحاد

آیت اللہ درانی کی وفات سانحہ ہے

عورت کا حق مہر شوہر کی ہتکِ عزت کے مساوی ہوتا تو یہ بھی ٹھیک ہوتا،ملک اجمل

ڈاکٹر رشید کے دو جاہلانہ گستاخانہ سوال اور تیز و تند کا تبصرہ

نوشتہ دیوار فرقہ واریت کیخلاف ہے: مولانا غلام اللہ خان حقانی

ابوبکر بن علی، عمر بن علی، عثمان بن علی، سیدنا حسین ابن علی: کربلا کی دھرتی پر حضرت علی کے کتنے بیٹے شہید ہوئے؟ پیر سید علی ابراہیم شاہ

بغیر فیس کے جو حسین کے عشق میں مجلس پڑھنے آگیا میں اسکے ہاتھ چوم لوں گا۔ علامہ سید جواد نقوی

نامعلوم افراد : سید عقیل عباس جعفری

غلامی قبول اور نہ بنگالی سے کمزور ہیں

سینٹ اسمبلی میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر اور سینیٹر عثمان خان کاکڑ کا سینٹ سے دھواں دھار خطاب

فوج نے آج تک کونسی جنگ جیتی ؟

مولانا عطاء الرحمن کا سینٹ میں بیان

کے۔الیکٹرک چور ہے یہی نعرہ کراچی میں گونج رہا ہے۔ عوامی احتجاج

ایک غریب بابا کی ایمانداری قوم کو عروج پر پہنچا سکتی ہے

وزیر اعظم بننے کا خواب پورا ہوگیا لیبارٹری کا تجربہ ناکام

صحافی مطیع اللہ جان کا سوشل میڈیا پر تجزیہ

صحافیوں پر ضربیں: سندھی شاعر غفار جمالی

مطیع اللہ جان! سلمان شہباز ، حسن نواز اور حسین نواز منہ کیوں چھپارہے ہیں؟

بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ سید مقیم الرحمن شاہ گیلانی کے معصومانہ سوالات۔

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان وزیرستان ، بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا عدم اعتماد کی فضا ہے

نواز شریف کی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں خواجہ سعد رفیق کا نعرہ ….

سندھ نے پاکستان بنایا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے اگر پختون کو سندھ پنجاب پاکستان سے دھکیلا تو طالبان و فوج کے مظالم بھولیں گے

سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی پختون قوم ایک طرف چڑھائی پر فخر کریں اور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں ؟ تفصیل نیچے اداریہ پر دیکھئے

اپنی صحافت اور سیاست کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کشمکش

صحافی مطیع اللہ جان کا اسلام آباد سے اغواء اور فتح جنگ کے قریب چھوڑنا موضوع بحث بنا۔ رسول بخش پلیجو نے کیا کچھ نہیں کہا مگر کرپٹ سیاستدان نہ تھے۔ بلوچ وپختون قوم پرست، سندھی ، پنجابی، مہاجر کی شکایت ملٹری ایجنسی سے ہے۔ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں فوج کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ ANP رکن اسمبلی سردار بابک نے کہا کہ 6ستمبر کو 300 توپوں 14اگست کو 500توپوں اور 23مارچ کو 200توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ F16طیارے ہیں ۔ جدید میزائل ہیں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہیں ۔ سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور مولاناعبدالغفورحیدری نے افواج پاکستان کو سنائیںاور سینیٹر محمد علی سیف نے پاک فوج کا دفاع کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی بھی فوج کیخلاف تقریریں موجود ہیں۔
پاکستان اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ فوج کی مخالفت میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ، قوم پرست ، دانشور ، صحافی، کامریڈ، جوان طبقہ ، خواتین کی تنظیموںکااپنا اپنا انداز ہے۔ تحریک انصاف والے عمران خان سے برگشتہ نہیں تو فوج پر یہ الزام دھر تے ہیں کہ کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس چھوٹے سے اخبار کے ذریعے سے پورے حقائق نہیں پہنچاسکتے ہیں لیکن مہنگائی ، بیروزگاری، سیاسی و صحافتی اور ریاستی بدچلنی سے تنگ عوام اٹھی توخون کا منظرہوگا مگر یہ کسی کیلئے بھی اچھا نہیں۔ عمران خان سوشل میڈیا پراپنی ہر بات سے پھرکی کی طرح حدِ رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ سے گھوم رہا ہے۔ ڈر ہے کہ اسکرو ڈھیلے ہوکر سلپ نہ کرجائیں اورپرانا فوجی ساخت ہیلی کاپٹر گر کر تباہ نہ ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ہیلی کاپٹر کو ہوا میں اڑانے والا انجن جہانگیر ترین فیل ہوکر کنارہ کش ہوااور اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔
عمران خان فوج کو گالی دیتا رہا ۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایکس ٹینشن کیلئے جو پاپڑ بیلنے پڑے، کفارہ چکانے کیلئے عمران خان کی نااہلیت کو چھپائیں گے تو حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے، پاکستان ایک بدترین دلدل میں پھنس چکا ۔مالی، اخلاقی، شرعی، قانونی اور ہرطرح کا بحران برپا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو اتنی دولت کس نے دی؟۔ کرپٹ مافیا جج اور صحافی کو نہیں خرید سکتا؟۔ وکلاء نے بڑی تعداد میں عدالت کیخلاف نعرہ لگانے کے بجائے ”یہ جو دہشت گردی ہے ،اسکے پیچھے وردی ہے” کا نعرہ لگایا۔پاڑا چنار میں دھماکے کے بعد فوج پہنچی تو عوام نے پتھروں سے دوڑیں لگوادیں ۔عیدک شمالی وزیرستان میں فوج کی کانوائے کو نعروں سے ریس کرایا گیا۔ وقت ہاتھ سے نکلا تو پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ مسمار ہوجائیگا۔ ڈھانچہ مسمار ہومگر افراتفری مچے اورنہ ایکدوسرے کاہم خون بہائیں ۔
پتہ نہیں کہ جوفوج کی حمایت یا مخالفت کرتاہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ رسول بخش پلیجو نے کہاتھا”پاکستان توڑنے یا پنجابیوں کو تباہ کرنے کی باتیں کرنے والوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ کوئی سنجیدہ سندھی پاکستان توڑنے اور پنجاب سے لڑنے کی بات نہیں کرتا۔ دو ٹکے کا آدمی کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ آرمی آئے اور ہمیں ایجنٹ ثابت کرے”۔ عمران خان وزیرستان و بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا۔ امریکہ نے گڈ، بیڈ طالبان کہااور ہماری ایجنسیاں عمل پیرا تھیں مگر عوام کوحقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ عدمِ اعتماد کی فضاء میں کوئی کسی پر اعتماد کیلئے تیار نہیں۔ طارق اسماعیل ساگرنے بلیک واٹر کے حوالے سے انکشافات کئے ۔ اس روش سے پاکستان اور ہماری عوام کا مستقبل یقیناخطرے میں ہے۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیخلاف بڑی قوت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اور اسکی بیٹی مریم نواز کو قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی بڑی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے حق میں جج بولے تو خواجہ نے بھونڈے انداز میں نعرہ لگایا کہ
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
خواجہ سعد رفیق سے کوئی پوچھے کہ نواز شریف کو کیا مرد نہیں سمجھتے؟ جو بیماری کا بہانہ کرکے بھاگے؟،مریم نواز مرد نہیں جو یہ شعر پڑھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف پر رحمن ملک نے اسوقت کیس بنایا جب پیپلز پارٹی کے دور میں آئی بی کا ڈائریکٹر تھا۔ لندن فلیٹ سول اداروں کے ذریعے پوری تفتیش کے بعد نواز شریف کے نکلے۔ پھر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی گئی۔ فاروق لغاری نے کردار ادا کیا جو بعد میں ن لیگ سے ملا ۔اسکے بچے ن لیگ ، ق لیگ اور تحریک انصاف سے ہوتے ہوئے ہر سیاسی جمہوری حکومت کے کیمپوں میں کیمپیئن چلاتے ہیں۔
ن لیگ کی حکومت میںسیف الرحمن نے سرے محل سوئٹزرلینڈ کے اکاؤنٹ اور دوسرے کرپشن کے کیس پیپلز پارٹی کے خلاف چلائے۔ جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے کہ اس کی حکومت قائم کرکے ن لیگ کا تختہ الٹ دیا گیا۔ نواز شریف دس سال کا معاہدہ کرکے سعودیہ گئے۔ پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو شہباز شریف زرداری کو چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا تھا۔ پھر مرکز میں ن لیگ کی حکومت آئی تو نواز شریف نے پانامہ لیکس سے پہلے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر پڑھ کر سنائی کہ 2005ء میں سعودیہ کی اراضی اور دوبئی مل بیچ کر لندن کے یہ فلیٹ خریدے۔ حالانکہ میڈیا پر ن لیگ کے سینئر ترین رہنماؤں کے بیانات موجود تھے کہ بیس، پچیس، تیس سالوں سے یہ نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو میاں نواز شریف نے بڑی دہائیاں دیں کہ بچاؤ لیکن جس راحیل شریف نے کرپٹ فوجیوں کیخلاف اقدامات اٹھائے تھے وہ نواز شریف کو کیوں بچاتے؟۔ جنگ اور جیو نے پیپلز پارٹی کے وزیر مذہبی امور مولانا حامد سعید کاظمی کیخلاف جھوٹی شہہ سرخیاں لگائیں کہ کرپشن کا اعتراف کرلیا لیکن نواز شریف کو بچانے کی مہم جوئی میں وکیلوں سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ بہادری کوسلام مگر مفادپرستی میں ہے کلام۔
صحافت کا نام مقدس ہے ۔ قرآن میں صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر ہے۔یعنی ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفے۔ اس مقدس پیشے کا قانونی تقاضہ یہ ہے کہ کرائے کی وکالت سے صحافت کو بدنام نہ کیا جائے۔ حکومت صحافت کی قانونی اجازت اسی وقت دیتی ہے جب غیر جانبدارانہ صحافت یقینی بن جائے۔ عورت کا شوہر سے نکاح ہو تو بدچلنی اور بے راہروی کو آزادی کا نام نہیں دے سکتے۔ خرچہ پانی لیکر وکالت کرنا صحافت کی توہین ہے۔ مطیع اللہ جان کی تصویر سوشل میڈیا پر آئی تھی جس میں سلمان شہباز، حسین نواز اور حسن نواز کیساتھ بیٹھے ہیں اور کیمرے سے بچنے کیلئے نام نہاد سیاسی خانوادہ منہ چھپا رہاہے۔ ہوسکتا ہے کہ حصہ وصول کیلئے ان کو اغوا کیا گیا ہو۔ حقائق پہنچانے میں خیانت ہوتی ہے۔ عوام سیاسی خانوادوں سے تو پہلے ہی بدظن تھے مگر اب فوج کیخلاف آنکھیں بہت تیزی سے کھل رہی ہیں۔ فوج کی وکالت الطاف حسین کے پسماندگان کریں۔ سینیٹر سیف با صلاحیت ہونگے مگر سوات سے الیکشن نہیں جیتے۔ ایم کیو ایم کی حیثیت سرکٹی ہے جسکا دل تو ہوسکتا ہے مگر دماغ نہیں اسلئے سینیٹر سیف نے کہا کہ کشمیر فتح کرنے آپ آگے بڑھیں فوج آپکے پیچھے ہے۔ استحکام پاکستان اتحاد کی چیئر پرسن ساجدہ احمد کا بیان دیکھا جس میں وہ افغانی کا کہہ رہی ہیں کہ ”پشتین کے پاس شلوار کے علاوہ کچھ نہیں رہا تو اس نے کہا کہ شلوار اتارنے کے بجائے میں خود ہی بتادوں کہ گند والا بیر کھالیا ہے۔ یہ گند کھانے والے افغانی پاکستانی پختون بھائیوں کو گل خان کہتے ہیں…”۔ ساجدہ احمد کے چہرے اور آواز کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر کیا یہ پی ٹی ایم کے مبارزین کو معقول جواب ہے؟۔ مہاجرین کے نام پر اختر عبد الرحمن نے کتنا مال کمایا ؟ ۔ بیٹے سیاسی جماعتیں بدل بدل کراپنے بدن پر شلواربھی نہیں چھوڑتے ۔بدبودارو زور دار ہوا خارج کرکے پھٹی شلوار نہیں سل سکتی ۔صوبائی،قومی اسمبلی اور سینٹ میں اٹھنے والی آوازیںخطرناک ہیں۔ افراتفری پھیلی توعوام کیساتھ بڑی تعداد میں طالبان کو بھی میدان میں اتارا جائیگا۔ جنگ ومحبت میں ہر چیز کو جائز سمجھنے والی قوم حشر برپا کرے گی تو مٹک مٹک کر بیان دینے والیوں کو خوابگاہوں میں بھی آرام نہیں آئیگا۔
پختونوں نے سندھ ، کراچی ، پاکستان کی ریاست سے بہت فائدے حاصل کئے، رسول بخش پلیجو کی طرح ہم خود کو بہت تہذیب یافتہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو دو سال تک روپوش رہنا پڑا تھا اسلئے کہ ملا نے قتل کے فتوے جاری کئے تھے۔ یہ تو دینِ اکبری اور فتاویٰ عالمگیری مرتب کرنے والوں کا حال تھا مگر جب شاہ ولی اللہ کے صاحبزادوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیااور پھر تمام زبانوں میں تقریباً تراجم ہوچکے تھے تو پنجابی پختون مکس علاقہ چھجھ کا ایک پختون عالم مولانا غرغرشتو نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ جس پر پختون علماء نے ان پر کفر اور قتل کے فتوے لگائے۔شاہ ولی اللہ سے بھی700سال پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ رسول بخش پلیجونے ڈاکو کا الزام ریاست پر لگایا اسلئے کہ ریاست کیلئے ڈاکو ختم کرنا مسئلہ نہ تھا۔ سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی۔ پختون ایک طرف چڑھائی پر فخر کریںاور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں؟۔ پختون کو کسی نے مجبور نہ کیا، جذبے اور مفاد کیلئے طالبان بن گئے۔محمود اچکزئی کہتا تھا کہ ریاست طالبان کو ختم کرسکتی ہے ، اقدام اٹھایا تو ظلم کا الزام لگایا؟۔انگریز سے ٹکر لینے والوں کو جرمنی سے امداد ملتی تھی۔ عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید نے مزدوری کرکے بچوں کو لندن میں تعلیم نہیں دلائی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا توپھر پختون نسبتاً زیادہ بڑی ریاست سے حقوق لے سکتے تھے؟۔ علیحدگی پسندی کی تحریک سے سرحدی گاندھی اورخان شہید کی روحوں کو قرار ملے گا؟۔ سندھ نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے۔اگر پختو ن کو سندھ، پنجاب اور پاکستان سے دھکیلاگیا توطالبان اور فوج کے مظالم بھول جائیں گے۔ ڈاکٹر اسرار کی کلپ ہے کہ ”جماعت اسلامی کے میاں طفیل نے کہا کہ سندھی بزدل ہیں فوج میں بھرتی نہیں ہوتے ، جسکا جواب غلام مصطفی شاہ نے دیا کہ سندھی کوئی کرائے کے ٹٹو نہیں ”۔ اسلئے سندھیوں کو فوج میں کم ہونیکا گلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک شریف الطبع انسان لگتے ہیں۔ دوسری مدت ملازمت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اوریا مقبول جان کی کسی بات پر اعتماد کرنا لوگوں کیلئے بڑا مشکل ہے۔ انہوں نے کسی بزرگ کا خواب بتایا کہ” جنرل باجوہ کو رسول اللہ ۖ نے خواب میں تحفہ دیا تو باجوہ نے بائیں ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی اور پھر حضرت عمر نے جنرل باجوہ کا دایاں ہاتھ تحفے کیلئے بڑھایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب باجوہ کے آرمی چیف بننے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا”۔
قوم کیساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے یہ بایاں ہاتھ ہی شاید استعمال ہورہا ہے۔ اب جنرل باجوہ کو چاہیے کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کیلئے دو ٹوک انداز میں اپنی کور کمانڈر کانفرنس بلا کر سب سے پہلے پارلیمنٹ کے سامنے شکریہ کیساتھ یہ بات رکھ دیں کہ آرمی،فضائیہ ، نیوی کے چیف کے ایکس ٹینشن کا قانون پارلیمنٹ واپس لے۔ اب ہمیں پارلیمنٹ کی اسطرح کی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوںکو عدمِ استحکام کا شکار کرنے کیساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور فوج کے اندرونی پوزیشن کو بھی خطرات سے دوچار کرنے کا بدترین ذریعہ ہوگا۔
دوسرے نمبر پر پارلیمنٹ سے ایسی قانون سازی کروائیں کہ فوج اپنا کرپٹ طبقہ گرفت میں لانے کیلئے دنیا بھر سے پکڑ کر عدلیہ کے سامنے کھڑا کردے۔ جہاں سزا نہیںکہ ججوں کے ہاتھ قیدی کی طرح قانون سے بندھے ہیں۔ کرائے کا وکیل انصاف کی بجائے اندھیر نگری کی یاد دلادیتا ہے۔ پارلیمنٹ وہ قانون سازی کرے کہ جرائم اور کرپشن جو عوام کودکھتے ہیں جج کو بھی دکھائی دیں۔ نیب کا قانون بجا طورپر غلط استعمال ہوا مگر یہ اللہ کافضل ہے کہ تخت لاہور کے دُرِ یتیم خواجہ سراؤںکو دیکھ کر عدلیہ کے رحم مادر سے رحم کا درد تو آخر اٹھا۔ شاہ رُخ جتوئی کو دبئی سے لایا لیکن پنجاب کی بیوہ اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا مقدمہ واپس لینے پر اسلئے مجبور ہوئی کہ اس کو اپنی جوان بچیوں کی عزتوں کا خطرہ تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا احوال سنارہی تھی۔ اسکے بیٹے کو ن لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے نے نشے میں دھت اور بدمست ہوکر شہید کیا تھا۔ نیب بے موسم بارش کی طرح برسی اور نہ ٹڈی دل کی طرح فصلوں پر حملہ کیا بلکہ یہ کہانی ہے۔ فوج کے بریگیڈیئر اسد منیر نے نیب سے خودکشی کرلی۔ عدالت اپنا کام اپنے وجود کے وقت سے درست کرتی تو احتساب عدالت ، نیب اور ماورائے عدالت قتل کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ مکافات عمل کب تک جاری رہے گا؟۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی عدل و انصاف کا صرف نام ہی لیا۔
Kالیکٹرک اور واپڈا ظلم کی انتہا کرتے ہیں۔ چوری بھی ہوتی ہے سینہ زوری بھی لیکن سبسڈی کے نام پر بہت کچھ مل بانٹ کر کھایا جاتا ہے۔ اگر ریاست عوام کو اجازت دے تو Kالیکٹرک اور واپڈا کے تمام دفاتر اور تنصیبات نذر آتش کی جائیں گی۔ پھر وہ جو آنکھ مچولی ہوتی ہے وہ بھی نہیں رہے گی اور مشکل بڑھ جائے گی۔
ریاست اپنے فرائض منصبی پورا کرنے کیلئے اپنے ملازمین سے کام لیتی ہے اور نوکر پیشہ لوگوں کا اپنا کوئی ویژن نہیں ہوسکتا۔ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن قیادت نوکر پیشہ لوگوں کے ذریعے سے پیدا نہیں کی جاسکتی۔ بنت الوقت کو تخلیق کرکے مواقع دئیے گئے مگر بغاوت کرکے کورٹ میرج کرنے والی لاڈلی بیٹیوں کی طرح مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان میں امامت کا کردار کورٹ میرج والی روبوٹ ادا نہیں کرسکتی ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ ” سمندر اور خشکی میں فساد برپا ہوا بسبب جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا”۔ اسٹیفن ہاکنگ نے آخری کتاب میں لکھا ”دنیاکو سب سے بڑا خطرہ روبوٹوں سے ہوگا جو انسان نے بنائے ہونگے”۔ رسول اللہۖ کی شکایت پر غور کریں کہ ” میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ گھراور معاشرے سے ہمارا نظام درست ہوگا تو عالمِ انسانیت کو نیا نظام ہم دے سکتے ہیں۔

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

رسول بخش پلیجو کا ویڈیوبیان، جنرل حمیدگل کی موجودگی میں بڑ ے تلخ حقائق
ملکیت کی اقسام ہیں ذاتی ، خاندانی، قومی ، قبیلے کی ملکیت ، بلوچستان میں مری قبیلے کی ملکیت ہے۔ کارپوریٹ پراپرٹی ، قومی اور بین الاقوامی بھی ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ ملک کے اس ٹکڑے کو میں یہ کرنا چاہتا ہوں تو دنیا کو بچانے والے کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے، بالکل یہ آپکا ملک، آپ کی حدود ہیں لیکن اس میں وہ کام نہ کریں کہ جس سے دنیا کے لوگوں کا وجود اسکی بھلائی خطرے میں پڑ جائے سب لوگوں کا ایکدوسرے پر انحصار ہے اورایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ پر دنیا بنی ہے۔سندھی دنیا میں چھوٹی قوم ہے اور ہم پانچ ہزار برس سے اس علاقے پر رہ رہے ہیں اور لوگ بھی ہیں جرمن ، فرنچ ، جاپانی ۔ اگر کوئی نعرہ بلند کرے کہ دنیا انسانوں کی ہے بنی آدم علیٰ یک ود یگرم، اسلئے فرانس کے سارے وسائل سارے انسانوں کے ہوگئے تو فرانس میں لوگوں کو آنے کیوں نہیں دیتے؟ ۔ہم سے بہتر مسلمان حرمین شریفین کے محافظ ہیں یہ لیکچر انہیں کیوں نہیں پلایا جاتا کہ یہ سرزمین جہاں پر لوگ آتے ہیں غریب اور مسلمان تو ان کو تم حقوق کیوں نہیں دیتے ان کو شہریت کیوں نہیں دیتے؟۔ کہتے ہیں کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھا ۔ کس نے فیصلہ کرلیا تھا ہم کو پاکستانی بنانے کا؟
The bunch of rural ….. destory PakistanThe criminal gang with responsible for killing million of people
اس بنچ کو آپ نے حق دیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ۔ یہ ہم کون ہیں جو ہماری ملکیت کا فیصلہ کریں؟ یہ سرزمین ہماری ہے۔ تو جناب! سندھ کی سرزمین کی حفاظت کیلئے ہمارے آباو اجداد نے مغلوں سے لڑائیاں کیں، افغانوں سے ، سلطانوں سے ، روس سے ، ہماری عورتیں، بچے لے گئے، ہمارے خون کی ندیاں بہیں، ہم کیوں لڑے ؟ اگر ایک دن یہ ہونا تھا کہ دنیا میں جو ملک سے غداری کرے ،ملک کے لوگوں کو خون میں نہلائے، وطن سے بے وفائی کرے وہ یہاں آکر اس سرزمین کے وسائل سے فیضیاب ہوسکتا ہے، تو پھر ہم نے یہ قربانیاں کیوں دی تھیں؟۔ پھر قومیت کیا ہے؟۔جہاں مسلمان کا حوالہ ہے تو مسلمان تو ایک قوم ہے۔ یہ کس نے ہمیں او ر آپ کو حق دیا کہ ہم کہیں کہ یہ پاکستانی قوم ہے۔ کیا قرآن میں پاکستانی قوم سے کوئی واقفیت رکھتا ہے؟۔ کیا اسلامک لاء او رشریعت محمدی کے مطابق دنیا میں کوئی واحد اسلامی ملک ہوسکتا ہے؟۔ یہاں تو ایک خلیفة المسلمین ہوتا ہے نبی کا جانشین۔ دنیا میں اگر اسلامی اور مسلمان مملکت بنی ہے تو وہ ایک ہے۔ حضور کی روش اور حضور کی سنت پچاس مملکتوں کوقبول نہیں کرتی۔ آپ یہ تو نہیں مانتے۔ اگر سارے لوگوں کو میرے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہے ۔میرا ذاتی، اجتماعی ، قومی وطن نہیں۔ پاکستان بننے کے دن 14اگست کو بے وطن بن گیا ، میرا مال مالِ غنیمت بن گیا، جو بھی جہاں سے آئے جس جنرل کی مرضی ہو میرے ملک ، میرے دریا، میری آباد ی ، میرے بچوں کے رزق پر قبضہ کرلے ، بانٹ دے، سخاوت کردے تو کیا اسلئے میں نے پاکستان بنایا؟، یہ تھا پاکستان کا مفہوم ؟،یہ اسلام سکھایا جاتا ہے، جو ان لوگوں نے اسلام کی تشریح کی، جس نے پاکستان کو 25برسوں کے اندر تباہ کردیا۔ آج بھی یہ دہشت گردی قائم کئے ہوئے ہیں۔آج بھی ملک کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔ concentration camp نازی کیمپ قائم ہیں، وہ لوگ ہمیں اسلام آئین سکھاتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کو سرِ بازار رسوا کیا، ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ان پر فخر کرو۔ بنگال میں بفضل تعالیٰ ہم سے بہتر مسلمان ہیں ۔ ہم اسلام کا ٹھیکہ اٹھائیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں جن کو قتل کیا گیا؟، جن کی عورتوں کو ذبح کیا گیا، جنکو کنوئیں میں ڈالا گیا۔ جنہوں نے انکو ذبح کرنے ان کی عصمت باختگی کرنے میں مدد دی ہم فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرح پاکستانی ہیں، ہم نے ریپ کیا وہ ہمارے ساتھ تھے، تو وہ ہمارے بھائی ہیں ان کو بلالو۔ This is a matte of shame…. 1940کے ریزولوشن کے تحت پاکستان میں شامل ہوئے کسی جنرل نے حکم نہیں دیا ،یہ آپ اس وقت تشریح کرتے کہ مسلمان کون ہوگا… ملک میرا ہوگا، تمہاری زمین کو میں فتح کرونگا، میں دور سے اچکوں اور بدمعاشوں کو بلا کر پورے ملک کو تقسیم کردونگا، پھر پاکستان میں شامل ہوتے توہم مجرم ہوتے۔ ہمارے ساتھ فراڈ ہوا، مس گائیڈ کیا گیا ہمیں کہا گیا کہ یہ اسلام کا ملک ہوگا، بھائی چارہ ہوگا، تمہارے حقوق کا تحفظ ہوگا، جمہوریت ہوگی، اسلام کے درخشاں اصولوں پر عمل ہو گا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جنرل اپنی فاشسٹ آئیڈیا لوجی کے تحت حکم دینگے کہ اسلام یہ ہے۔ اسلام ہمیں کوئی نہیں سکھا سکتا۔ ہم سب سے بہتر اسلام کے طالبعلم ہیں۔ پتہ ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے، ہم عمر کو جانتے ہیں، ہم سارے اصحاب کے کردار اور انکے نکتہ نظر سے اچھی طرح سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہاں لوگوں سے سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اسلام کی روح اور رول کیا ہے۔ جمہوری رول کیا ہے؟ جناب من! سندھ میں ہمارے پاس مخصوص زمین ، وسائل ہیں، اگر پشتون بھائی آتے ہیں تو یہ ہمارے ساتھ دوستی نہیں، مجبوری ہے جبر ہے۔ پاکستان بنا کر ٹریپ کرکے آپ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں کہ جی پشتون بھی آئیگا۔ پنجابی کیوں آتا ہے؟ یعنی ایک ہمارے ساتھ زیادتی اور اس کو آپ دلیل بناتے ہیں کہ دوسری بھی ہوگی پھر تیسری پھر چوتھی بھی ہوگی۔ یہ صحیح نہیں ۔ آپ آج جو کریں کرسکتے ہیں ۔یہ جابرانہ رویہ ہے جو پاکستان بننے کے پہلے دن سے ہی اختیار کیا گیا۔ آپ پچاس لوگ لیکر کسی ملک میں گھس جائیں اور کہیں کہ ہم نے جارحیت نہیں کی ۔ آپ لوگوں کے ہجوم لیکر منگولوں کی طرح کسی ملک میں گھسیں پھر کہیں کہ ہم مسلمان بھائی آگئے۔ یہ جارحیت ہے ہم پرجارحیت ہوئی پاکستان بننے کے بعد۔ ہمارے وسائل پر قبضہ،ہمارے شہر چھین لئے، ہمارے ساتھ دھوکہ ، فراڈ، دہشت گردی استعمال کی گئی۔ آج ہم اپنے شہروں میں کیوں رہیں؟ ۔ ہم یتیم ہیں مسکین ہیں آنکھیں ہماری نیچے ہیں، ساری دنیامیں ہندوستان کے جو بدترین جراثیم تھے دہشتگردی، نفرت، مذہبی تعصب کے، جودرندوں کی طرح لڑتے ہیں، یہاں یہ روایت نہیں، یہاں کسی ہندو کو کسی نے نہیں مارا، کیونکہ ہم تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ انسان کی عزت اور تقدس کا احساس ہے۔ ہمارے محلے میں جو آدمی رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ ہم بچوں کو ، عورتوں کو قتل نہیں کرتے، چھاتیاں نہیں کاٹتے، اسلام اسطرح نہیں پھیلاتے۔ تبلیغ اس طرح جائز نہیں سمجھتے کہ تمconcentration campحراستی کیمپ بناؤ، ٹارچر کیمپ بناؤ، لمبی تقریریں کرو، یہ قرآن ہے؟ یہ قرآن کی بے عزتی ، قرآن کی توہین ہے۔ ایسے نا مقدس اور ناپاک کام میں ایسی مقدس چیز کا نام لیا جائے۔ ہمارے ساتھ بین الاقوامی جرم کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی جرم ہٹلر کرتا تھا اسکے پاس بھی دلائل تھے… میں جرمنی گیا سارا ریکارڈ موجود ہے، بڑی دلیلیں اس کے پاس تھیں۔ کولون میرا ہے یوگو سلاواکیہ میرا ہے۔ بس ختم اینڈ۔ اس پر میں حملہ کرونگا، اس کو ختم کرنا ہے…۔ آپ آج بوتے ہیں تو کل نتیجہ ہوگا۔ آپ بورہے ہیں طاقت کے زور پر ۔ پنجاب کے وزیر اعظم سندھ کیخلاف پہلے دن سے حرکتیں کررہے ہیں۔ ایک گٹھ جوڑ ہے سندھ کیخلاف۔ شہر کھینچ لو، شہروں میں دہشتگردی کرو، لوگوں کی جماعتیں بناؤ، اندر سے ایجنسیز بناؤ، سارا دن ایجنسیز کہتی ہیں کہ ہم بغاوت کرتے ہیں ہمارے بھائیوں میں سے سندھ میں ایجنٹ بنائے، جو سارا دن کہتے ہیں کہ ہم پنجاب کو تباہ کرینگے۔ جو کہتے ہیں ہم پاکستان کو توڑینگے۔ وہ ناچ رہے ہیں یہ کس کے ایجنٹ ہیں؟ اسلام آباد کے ایجنٹ ہیں۔ سندھ نہیں کہتا، میں چیلنج کرتا ہوں کہ سندھ میں کوئی ذمہ دار آدمی یہ کہے کہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں یہ کونسل کا ممبر تو بن کر دکھائے۔ یہ ایجنسیز کی مہربانیاں ہیں۔ یہ آپ کی نوازشیں ہیں کہ آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں کہ پاکستان کو توڑینگے ، تاکہ آپ کو موقع ملے آرمی لائیں، آپ ہمیں پاکستان دشمن، پنجاب دشمن ، عوام دشمن، قاتل ، بھارتی ایجنٹ، را کا ایجنٹ ثابت کریں۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں جناب من ! ہم تعلیمافتہ ہیں جاہل نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج انٹیلی جنس کی اسٹریٹیجیز کیا ہیں؟ ہم پڑھے ہوئے ہیں ہم tacticsحربے جانتے ہیں۔ ہم ڈائریکشنز جانتے ہیں۔ قطرہ قطرہ کرکے آپ ہمارے جسم میں زہر ڈال رہے ہیں۔ ایک لاکھ آگیا ،دو لاکھ آگیا، کوئی پرواہ نہیں اسلام کا دامن بہت وسیع ہے۔ آپکا دامن کیوں وسیع نہیں ؟۔ ہمارے لئے ایک نوکری نہیں چھوڑتے ۔ فوج میں ایک لیفٹیننٹ دینا نہیں چاہتے۔ آپکے دامن کی وسعتوں کو کیا ہوگیا؟۔ آپ تو ایک پرائم منسٹر کو برداشت نہیں کرسکتے کہ دو دن کیلئے وہ پرائم منسٹر بن جائے۔ ہمارے لئے تو سینٹ میں سیٹ نہیں۔ ہمارے لئے پاکستان میں کوئی جگہ ہو تو دکھائیں۔ سندھ کیلئے آپکے دامن میں کیا ہے؟، ہمیں سخاوت کاسبق پڑھارہے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ماما کے گھر مہمان آئے تو میرے دل کو کوئی اندیشہ نہیں ۔آپ اپنے مال پر کچھ سخاوت کرکے دکھائیں جناب! تو ہم دیکھیں، ہمارے بھائی ہندوستان میں تھے، 1940 ریزولوشن میں ایک آدمی کو سندھ لانے کیلئے ایگریمنٹ نہ تھا۔ ہم ان پڑھ نہیں، وکیل قانوندان ہیں۔ آپ کی تشریح ہم نہیں مانتے۔ آپ کہاں تھے جب پاکستان بن رہا تھا؟، لوگ جیلوں میں جارہے تھے تو آپ انگریز بہادر کے سامنے اپنے فلسفے جھاڑ رہے تھے۔ آپ تو دشمن کے کیمپ میں تھے۔ آپ ان کو سبق سکھاتے تھے جو جیلوں میں تھے۔ میں بچہ تھا ، ہم لڑے جلوس نکالے ، ہم نے 1946ء آرمی ونیوی کا جو انڈین باغی تھا، جلوس نکالا تھا کراچی میں آپ کہاں تھے؟۔ آپ تمام معزز اور قابل احترام جرنیل کہاں تھے؟۔ سندھ ایگریمنٹ یہ ہے کہ ایک بھی آدمی کو سندھ کے وسائل پر متصرف ہونے کا حق نہیں دیا گیا۔ پھر راستہ بند ہوگیا کہ اس تاریخ کے بعد لوگوں کا منتقل ہونا بند ہوجائیگا۔ آپ نے وہ بھی توڑ دیا اس کے بعد۔ ہندوستان میں تو لاکھوں مسلمان ہیں ۔ دس کروڑ مسلمان ابھی ہندوستان میںہیں۔اگریہ بہاری حضرات ہمارے بھائی جنہوں نے کچھ کارہائے نمایاں اسلام اور پاکستان کیلئے انجام دیا، جو ساری دنیا میں مشہور ہیں اگر وہ حق رکھتے ہیں تو10 کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں ہیں اسلامی مملکت میں رہنے کا حق کیوں نہیں رکھتا؟۔ آپ تو کل کھڑے ہونگے کہ یہ مسلمان ہے ہمارا دامن وسیع ہے۔ پھر پنجابی حضرات آپکے رہنے کی جگہ بھی نہیں ہوگی۔ آپ سخاوتیں کریں تو آپ مینورٹی میں بدلو گے۔ اگر 10کروڑ آیا تو تم کہاں جاؤ گے؟۔ آپکے دماغ چھوٹے ہیں، تاریخ نہیں پڑھی۔ آپ توکہتے ہیں ون ٹو تھری لیفٹ رائٹ مارچ ہوگا۔ جو بڑاتیر مارا، ہم نے بنگال میں دیکھا ، آپکی فہم و فراست، آپکے مشورے کہ قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑو۔ قہر خداوندی بنکر ٹوٹ پڑے پاکستان کی سالمیت اور بقاء پر ۔ پاکستان کی حدود پر آپ ٹوٹ پڑے اور پوری دنیا میں آپ نے رسوا کردیا۔ ہم کہتے ہیں ان لوگوں کو مت لاؤ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ اسلئے لارہے ہیں تاکہ سندھی لوگوں کو جیسے میرے بھائی نے کہا کہ آپ سزا دے سکیں۔ آپ ہمیں پاکستان میں فٹ نہیں دیکھتے ہم آپ کو نہیں بھاتے۔ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ جس طرح بنگالیوں کو تہہ تیغ کرنے کے منصوبے اور سازشیں بنارہے تھے ،پہلے دن سے آپ سندھ کیخلاف سازشیں بنا رہے ہو۔ آپ کی ہر ادا، نظریہ آپ کی ہر دلیل آپ کی ہر تشریح بتاتی ہے کہ آپ سندھ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہیں۔ اس کیلئے آپ نے دلائل کے ابنار لگائے اور آہستہ آہستہ ہمیں پیرالائز کررہے ہیںاور سائیکالوجیکل پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سندھی نوکری نہیں کرتے؟۔ آپ دیں میں آپ کو پانچ ہزار نوجوان دیتا ہوں کہاں ہے نوکری؟۔ سب لے گئے آپ۔ میں دیتا ہوں نوجوان۔ لیفٹیننٹ چاہئیں میجر کیلئے کوالیفائڈ چاہیے میں۔ آپ ہمیں اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ میں 20سال پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اسٹیبلشمنٹ بڑی گھناؤنی سازش کرکے سندھی لوگوں کے حق پرست انسان دوست مہذب وجود کو برداشت نہیں کرتی۔ آپ اپنے آپ کو خاص مخلوق سمجھتے ہیں کہ دنیا کو فتح کرنا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ خداوند عالم نے آپ کو حاکم کا منصب عطا کردیا کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے والوں میں سے ہم نہیں۔ ہم انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں ، جمہوریت اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کیلئے یہ فٹ نہیں ۔ اسلئے تہہ تیغ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دلائل لاتے ہیں دنیا بھر سے دہشتگرد جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے ان کو ہتھیار بند کیا یہ سارا کھیل آپکا ہے۔ پہلے دن سے پتہ ہے کہ ہم سے یہ ملکیت لیکرکنگال اور فقیر کرکے بے وطن کررہے ہیں۔ یہ ڈاکو آپکے پالے ہیں۔ آپ طاقت کے زور پر دہشت کریں، یہ دلائل ہم جانتے ہیں؟بنگالی مسلمان نہیں؟ انکے ساتھ کیوں نہیں رہے؟ کیا ضمانت کہ ہمیں خون میں ڈبونے کیلئے نہیں آئیں گے؟۔ کیا ضمانت ہے کہ کل آپ سے ملکر ہمارے یہاں وہی حالت اور وہی ڈرامہ نہیں کرینگے جو پہلے کیا، جو آج کیا جارہا ہے؟۔ کراچی پری ویو ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ 20برس سے ٹریلر آپ دکھارہے ہیں دہشتگردی کا، آپ نے سنا، پنجاب میں ایسی کوئی بات ہو؟ جو کراچی میں ہو رہی ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں کاٹی جاتی ہیں ؟۔ پنجاب ، سرحد ،بلوچستان، سندھ میں یہ روایت ہے؟ عورتوں کی تذلیل کی یہ روایت ہے؟ یہ ٹارچر جس میں مشینیں لیکر گھساتے ہیں یہ کون ہیں؟ یہ ہمارے زبردست آدمی ہیں جو سکھاتے ہیں کہ اس طرح سے لوگوں کو دشمن بنایا جائے۔
جناب عالی! ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سندھیوں کیساتھ ظلم، بین الاقوامی جرم ہے۔یہ مظلو م محکوم اور پر امن قوم کا وجود مٹانے کی سازش کی بہت بڑی کڑی ہے۔ ہم پنجاب کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ غور کریں ، آج ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم آپ کو متاثر کرسکیں کیونکہ آپکے پاس طاقت ہے۔ پنجاب کی عوام نہیں کیونکہ آپ تو خود محروم ہیں۔ حکمران طبقوں کے پاس طاقت ہے اور انکے دماغوں میں بڑے بڑے خواب ہیں ساری دنیا پر حکومت کرنے کے۔ ہٹلرسے بڑے خواب ۔ ٹھیک ہے، آپ یہ سمجھیں اخلاقاً کہ ہم آپکے ساتھ ہوئے مشکل وقت میں پاکستان ہمارے بغیر بن نہیں سکتا تھا۔ قائد اعظم ہم نے دیا۔ پاکستان کا پہلا ریزولوشن ہم نے دیا۔ پہلا تخت گاہ ہم نے دیا،میزبانی کیلئے راستوں پر ہم کھڑے تھے۔ دیگیں ہم نے پکائی تھیں، اپنے ہم زبانوں کیلئے نہیں جیسے پنجاب میں آئے ۔ ان کیلئے جن کی زبان ہماری نہیں تھی ۔ ہم سے نفرت کرتے تھے ہمیں دراصل فتح کرنے آئے مگر ہم نے اپنے دل ان کیلئے کھول دئیے۔ یہ نہیں کہ فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوئے لمبی دھارائی، تقریریں اور ڈانس سے ہم متاثر ہوئے۔ ہم سیدھے لوگ دیہاتی ہیں یہ تقریریں ہمارے لئے وقعت نہیں رکھتیں۔ ہم انسان کا دل دیکھتے ہیں۔ دیکھا کہ مظلوم ہیں تو اپنا دل پیش کیا۔ آج ہمارے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے کیا اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا؟۔ آج آپ جو بورے ہیں، کیا کل نہیں کاٹیں گے؟ تاریخ میں کوئی بھی ایسا فعل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نہ ہو۔ آج نہ ہو تو کل ہوگا ،کل نہ ہو تو پرسوں ہوگا۔