جولائی 2022 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

ترقیاتی کام کیلئے پانی اور بجلی بنیادہے ۔ وجعلنا من الماء کل شیء حی

ترقیاتی کام کیلئے پانی اور بجلی بنیادہے ۔ وجعلنا من الماء کل شیء حی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہر ملک وقوم کی کوئی نعمت ہوتی ہے اور پاکستان کی نعمت ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہاڑوں سے سمندر میں پانی کا بہاؤ ہے جس سے بہت سستی بجلی پیدا کرکے خوشحالی آسکتی ہے!
اللہ نے فرمایا: اللہ کے پاس خاص وقت( انقلاب) کا علم ہے،وہ بارش برساتاہے اور وہ جانتا ہے کہ رحموں میںکیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کمائے گا اور کس زمین پر وہ مرے گا۔ (القرآن)
پاکستان کے پاس پانی کا بہاؤ ایک کنارے کے پہاڑوں سے لیکر دوسرے کنارے کے سمندر تک قدرت کا عظیم تحفہ ہے ، اگر زراعت اور سستی بجلی پیدا کرنے کا وسیلہ بنایا توانقلاب آجائیگا!

مشہور ہے کہ قرآن حجاز میں نازل ہوا۔ مصر والوں نے اس کو پڑھا اور ہند والوں نے اس کو سمجھا۔ علامہ اقبال نے بھی طلوع اسلام میں شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی اور نطق اعرابی کی بات کی ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم دین ڈاکٹر عائض قرنی کی کتابیں سعودی عرب، دوبئی اور دنیا کے ائیرپورٹ اور بک سٹالوں میں موجود ہیں۔ عربی میں کمال حاصل کرنے کیلئے ان کی کچھ کتابیں میں خرید ی تھیں ۔ جس میں ان کی تفسیر بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر عائض قرنی امریکہ سمیت دنیا بھر میں گھومے ہیں اور ایک عالم دین،عربی ادیب کے علاوہ جہاندیدہ شخصیت بھی ہیں۔پہلے عربی کی تفاسیر میں لکھا تھا کہ ” اللہ ہی کو معلوم ہے کہ بارش کب ہوگی”۔ اب جب دنیا نے ترقی کرلی ہے اور ڈاکٹر عائض قرنی کو معلومات ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں بارش کب ہوگی ،اس کا پتہ چلتا ہے تو اس نے تفسیر میں تبدیلی کرلی اور لکھ دیا کہ ” اللہ ہی قدرتی بادلوں سے بارش برسا سکتا ہے”۔ لیکن جب دنیا کچھ مزید ترقی کرلے اور قدرتی بادلوں سے بارش برسانے اور بادلوں کو ہنکاکر بھگانے کی صلاحیت بھی پیدا کرلے تو پھر تفسیر بدلنی پڑے گی؟۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”دجال اکبر میں یہ صلاحیت ہوگی کہ جہاں بھی چاہے گا تو بارش برسے گی اور جہاں چاہے گا تو بارش نہیں برسے گی”۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کا مطلب ڈاکٹر عائض قرنی غلط لے رہے ہیں۔ حدیث میں دجال کے اندر ایسی صلاحیت کا ذکر ہے تو دوسرے لوگوں سے بھی صلاحیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس کو خدا کے ساتھ قرار دینا بھی قرآن کا مفہوم نہیں ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں دوسرے لوگوں اور ممالک میں بھی بارش سے پانی نچوڑنے کی صلاحیت ہو لیکن دجال زیادہ طاقتور ہو اسلئے اس کا خاص طور پر نبی ۖ نے ذکرکیا ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ سورج ، چاند ، ستاروں، بادل اور دنیا کی ہر چیز کیلئے فرمایا ہے کہ انسانوں کیلئے سب چیزیں مسخرات ہیں۔
قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ” بیشک اللہ کے پاس الساعة کاعلم ہے۔ وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ کل وہ کیا کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا”۔ پہلی بات یہ ہے کہ الساعة سے مراد قیامت بھی ہے اور انقلاب کا وقت بھی ۔ قرآن نے دونوں کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جب فتح مکہ کا انقلاب آیا تو مشرکین ِ مکہ اور یہود ومنافقین کے وہم وگمان میں بھی نہیںتھا کہ حجاز کے حالات اتنے جلد تبدیل ہوجائیں گے اور مسلمانوں کو اتنی بڑی فتح اور برتری حاصل ہوگی اور وہ پھر قیصرروم اور کسریٰ ایران کو بھی شکست دیں گے جو مشرق ومغرب کی دو سپر طاقتیں تھیں۔ مدینہ سے مکہ تک حجاز میں پانی کا کوئی چھوٹا نالہ بھی نہیں تھا لیکن پھر وہ شام وعراق ، اسپین و ہندوستان اور ترکی کے پانی وباغات کے دنیا میں مالک بن گئے۔ دنیا میں انکے ساتھ حور وقصور اور جنت کے باغات کے وعدے پورے ہوگئے تھے۔ قرآن کی آیات میں باغات سے مراد صرف جنت مراد نہیں ہے بلکہ دنیا کے باغات بھی مراد ہیں اور جہنم سے مراد صرف قیامت نہیں بلکہ دنیا میں جہنم کی زندگی بھی ہے۔
پاکستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے دنیا میں یتیموں، اسیروں اور غریبوں کی مدد اسلئے نہیںکی کہ پھر وہ ووٹ دیں گے یا انکے حق میں زندہ باد کے نعرے لگائیںگے۔ کورونا کی طویل بیماری میں رضاکاروں کی ٹیمیں گھر گھر تک پہنچ رہی تھیں اور بہت لوگوں نے کھل کر اور چھپ کر امداد کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ادیب رضوی کی SIUT،انڈس ہسپتال ، ایدھی، چھیپا، امن اور سیلانی کے علاوہ چھوٹے بڑے لاتعداد اداروں نے غریبوں کی ایسی خدمت کی جو ریاست سے بھی زیادہ عوام کیلئے سکون واطمینان کا باعث بن گئے۔ سورۂ الدھر میں بسہولت پانی کی نہریں نکالنا اور اللہ کیلئے قوم کی خدمت کے علاوہ زبردست انقلاب کے بہترین تذکرے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مصداق پاکستانی قوم بن سکتی ہے اور پوری قوم کو اس کا درس دینے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سخت ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے الساعة میں اس بڑے انقلاب کا بھی ذکر کیا ہے جو ہمارے سر پرتیار کھڑا ہے۔ پہلے حجاز کے لوگوں نے انقلاب کے مناظر دیکھے ۔خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ ، بنو عباس اور خلافت عثمانیہ تک ایک طویل دورانیہ تک مسلمانوں نے دنیا کے مزے اُڑائے ہیں۔ پھر پاکستان سے برپا ہونے والا دوسرا انقلاب دنیا کی تاریخ پھر بدلے گا۔ قرآن کی تفسیر کے نکات کبھی ختم ہونے نہیں ہیں اور اگر الساعة کی تفسیر کی جائے تو اس میں عام طور سے وقت کی بات ہے۔ دن رات سے زمین کا اپنے گرد چکر لگانا اور ماہ وسال سے زمین کا سورج کے گرد چکر لگانا ثابت ہے اور یہ بھی ایک علم ہے۔ پھر سورۂ معارج میں روح و ملائکہ کے چڑھنے کی ایک دن کو یہاں کے 50ہزار سال کے برابر قرار دیا گیاہے۔ جس کا مشاہدہ نبیۖ نے معراج میں کیا تھا اور البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کوریاضی اور سائنس کی بنیاد پر بھی دنیا میں ثابت کردیا جس سے علوم کے دروازے کھلے ہیں۔ نبی ۖ نے ان پانچ چیزوں کو علم غیب کی چابیاں قرار دیا۔ آسمان جب سر کے اوپر ہو تو اس کانام آسمان ہے اور جب پیروں کے نیچے آجائے تو یہی زمین ہے۔ جب تک علم پردہ غیب میں ہو تو وہ غیب ہے مگر جب دسترس میں آجائے تو پھر وہ غیب نہیں رہتا ہے۔ پہلے معراج پر مسلمانوں کا ایمان بالغیب تھا اور جب وہ نظریہ اضافیت تک پہنچ جائیں تو پھر وہ غیب بھی نہیں رہتا ہے۔ نبیۖ نے بہت کچھ دیکھ کرپانچوں چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا تھا۔ قرآن میں اس بات کی نفی نہیں ہے کہ اللہ کے علاوہ کے کسی پاس ساعة کا علم نہیں ہے اور نہ بارش نازل کرنا ایسی بات ہے کہ جس میں کسی اور کی نفی ہو اسلئے مصنوعی بارش پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا ہے۔ بارش میں بجلی کی چمک اور بجلی کی تسخیر غیب کی چابی ہے۔ جس کی وجہ سے کائنات کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھ گیا۔ افسوس کہ ہم نے سستی بجلی پیدا کرکے اپنی غریب عوام کو اتنی چھوٹی سی سہولت سے بھی محروم رکھا ہواہے اورپاکستان میں پانی کے بہاؤ سے سستی بجلی پیدا کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ہمارا مفاد پرست حکمران طبقہ اور اشرافیہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتا ہے۔ لوگوں کو سستی بجلی اور پانی کی سہولت مل جاتی تو وہ اپنا روزگار خود پیدا کرلیتے ۔
اللہ تعالیٰ نے تیسری چیز کا فرمایا ہے ” وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے”۔
ہمارا مذہبی طبقہ آنکھیں بند کرتا ہے کہ الٹراساؤنڈ میں بچے یا بچی کا پتہ چلنا قرآن وسنت کے خلاف ہے اور اس سے عقیدہ خراب ہوجاتا ہے۔ اگر عقیدے کا واقعی مسئلہ ہے تو عقیدہ تو خراب ہوہی گیا ہے۔ آنکھیں بند کرنے سے عقیدہ سلامت نہیں رہ سکتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہی نہیں ہے کہ بچے بچی کا ماں کے پیٹ میں پتہ نہیں چلتا۔ اگر بدبخت ونیک بخت کی تفسیر ہوتی تو بھی بھلا ہوتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تو کسی دوسرے کے علم کی نفی نہیں فرمائی ہے۔ حدیث میں ٹھیک بات ہے کہ یہ غیب کی چابی ہے۔ رحم حیوانات میں ہیں، نباتا ت میں بھی ہیں اور جمادات میں بھی۔ فارمی گائے ، مرغیاں اور پرندوں نے حدیث کی تصدیق کردی ہے۔ فارمی پھل اور اناج نے نباتا ت کی تصدیق کردی ہے اور ایٹم کے ذرے ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیا نے جمادات کی بھی تصدیق کی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ زمانے کی طرف سے علم الساعة ، بارش برسنے اور علم ارحام کی تفسیر ہوگئی ہے۔ چوتھی چیز اللہ نے فرمایا کہ ” تم میں سے کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کل کیا حاصل کرے گا”۔ تیز رفتار تبدیلیوں نے آنے والے کل کی ترقی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ واقعی ہر آنے والا کل نت نئے انکشافات اور خبر نامہ لیکرآتا ہے اور یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کون کس زمین پر مرے گا؟۔ آنے والے وقت میں ان کا غیب کی چابیاں ہونے کی بات بھی کسی نئے طرز پر آسکتی ہے اور فی الحال بھی آیت کی پوری تصدیق ہے۔
اگر مساجد ومدارس میں جمود کو توڑا جائے تو لوگ جوق درجوق اسلام سے محبت کا اظہار کریں گے۔ پس مردہ دلوں میں ایک ولولہ اٹھے گا اور زندگی کی نئی راہیں کھل جائیں گی، زمانہ کروٹ بدلے گا تو پاکستانیوں کے چودہ طبق روشن ہوجائیںگے۔ سیاسی قیادتوں کاتمسخر اور مقتدر طبقے کا مذاق اڑانے سے بہتر یہ ہے کہ قوم کا رُخ مثبت سر گرمیوں کی طرف پھیر دیا جائے۔
پورے دریائے سندھ کو ڈیم میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جسکے دونوں طرف بڑی بڑی نہریں ہوں اور تمام شہروں کے گندے نالوں سے جنگلات آباد کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ گندے پانی کو صاف کرنے کے بہت سستے طریقے ہیں۔ اور صاف پانی کو محفوظ کرنے کے بھی بہت اچھے طریقے ہیں۔ ریاست کو اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہماری سیاسی لیڈر شپ نالائق اور موروثی طبقے سے تعلق رکھے تو وہ کیا کیا گل کھلائیں گے؟۔
آنے والے طوفانوں سے پہلے مختلف جگہوں پر پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔ سندھ میں دادو ڈیم اور دوسرے ڈیموں کو بارشوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے مصنوعی نہروں کے ذریعے پانی پہنچانے کا طریقہ بنایا جائے تاکہ جب پانی کاطوفان آجائے تو بہت سار ا ذخیرہ کیا جاسکے۔ لوگ قدرت کی نعمتوں سے فائدے اٹھاتے ہیں اور حکمرانوں نے نعمتوں کو ضائع کرنا تھوڑے سے مفاد کیلئے وطیرہ بنایا ہے۔ سیلاب زدگان کا پیسہ کھا جاتے ہیں۔
جب پاکستان میں پانی کے وافر مقدار میں ذخائر ہوںگے اور نہروں سے زراعت اور باغات کیلئے وافر مقدار میں آسانی سے پانی پہنچے گا تو افغانستان اور ملحقہ علاقوں کی طرف سمگلنگ کرنے سے اناج کو نہیں روکا جائیگا بلکہ تاجر سپلائی کرکے اچھی مقدار میں زرمبادلہ کمائیں گے۔ اگر پاکستان کے لوگوں کیلئے اناج اور پھل سستے ہوں گے اور پانی پر بجلی کے پلانٹ لگاکر سستی بجلی فراہم کریںگے تو پھر دنیا میں پاکستان سے بڑی جنت کوئی نہیں ہوگی۔ پھر لوگ آئیں گے اور سیر و تفریح کیلئے عرب ممالک کی جگہ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے۔ یہاں امن و امان کا مسئلہ بے روز گاری کی وجہ سے ہے اور جب بھوک وافلاس کا راستہ رُک جائیگا تو امن وامان بھی قائم ہوجائے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اگر غیرملکی ایجنسی کے آلہ کار اہم شخصیات کو قتل کررہے ہیں تونوٹس کیوں نہیں لیا جاتا ہے؟
اگر حامد میر عمران خان کو ڈرانے کیلئے ڈرامہ کررہے ہیں تو اس جھوٹ کا نوٹس لیا جائے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حامد میر نے کہا تھا کہ جنرل رانی اور کس فوجی کی بیگم نے کسے گولی ماری ؟۔ باصلاحیت انسان قوم کا قیمتی اثاثہ ہے ۔ اختلاف رائے پر دشمنی ریاست کو زیب نہیں دیتی ۔ مخالفت سے حکومت وریاست کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ صحافی اگر ریاست وحکومت کی ڈھال بنے تو وہ کسی نکڑ پر فضول بھونکنے والا فالتو کتاہے جس پر کوئی توجہ نہیں دیتا مگر جب سخت ترین ناقدصحافی کرائسس میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو رکھ کرساتھ دیتا ہے تو اس کا اعتماد قوم میں اعتبار دلاتا ہے۔ تنقید سے خامیاں بروقت نظر آتی ہیں اور ازالے کی کامیاب کوشش ہوسکتی ہے۔جبپانی سر سے گزر جائے تو پھرتنقید کا کوئی فائدہ بھی نہیں ۔
حامد میر نے کہا کہ” ان کو غیر ملکی ایجنسی نیٹ ورک کا شخص مارنا چاہتا تھا مسجد میں نماز پڑھتے وقت جوتے میں کیمیکل لگاکر۔ پتہ نہیں چلتا، بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے اور اٹیک سے بندہ مرجاتا ہے۔ طبی رپورٹ طبعی موت کی آتی ہے ۔ دوسال میں عدلیہ وغیرہ کی جتنی اہم شخصیات کی اچانک موت واقع ہوئی ہے، تفصیل بتانا خطرناک ہے ”۔سوال یہ ہے کہ اپنی ایجنسیاں قاتلوں کو کیوں نہیں پکڑتی ہیں؟۔ کیا اس میں نیشنل انٹرسٹ ہے؟۔ اور اگر حامد میر نے عمران خان کے شر سے بچنے کیلئے کسی کے کہنے پر افواہ چھوڑی تو وضاحت کریں اسلئے کہ ملک وقوم میں ویسے بھی اعتماد کا فقدان ہے۔ افواہ سازی کے ذرائع کم نہیں کہ اور اضافہ ہو۔ جیونیوز رپورٹ کارڈ میں ، وسعت اللہ خان ذرا ہٹ کے میں اور پارلیمنٹ میں بھی اس پر بحث ہونی چاہیے اور سینٹ میں بھی اور کور کمانڈر کانفرنس میں بھی۔
اتنی ساری اہم شخصیات کے اچانک بے گناہ قتل پر خاموشی بڑاالمیہ ہے۔ حامدمیر بتائیں کہ کس جرم میں قتل کرنا چاہتے تھے اور کس خوبی کی وجہ سے چھوڑ دیا؟۔ یہ بڑی دہشتگردی نہیں ؟۔ اسرائیل کے آلۂ کاروں کا کھیل ہوسکتاہے لیکن حامدمیر فلسطین گئے ۔اگراس دہشتگردی کے پیچھے غیرملکی گردی یا افواہ گردی ہے تو کھلی بات کی جائے۔ حامد میر اور میجرجنرل R شاہدعزیز چیئرمین نیب کی ویڈیو کلپ ہے کہ” امریکہ میں دودفعہ دورانِ ٹریننگ یہ پیشکش ہوئی کہ ہماری نوکری کرو، پاک فوج میں رہ کر فری میسن کیلئے کام کرو۔ برطانیہ وامریکہ میں فری میسن مضبوط ہے وہیں سے ڈیل کیا جاتاہے”۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان اور انکے حامیوں پر یہود کے آلۂ کار اور عمران خان نے نوزشریف پر غیرملکی ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ Xسروس فوجی افسران نے حاضر سروس پرلگادیا ۔قبائلی علاقوں میں کھل کر دہشتگردی کا کھیل جاری ہے ۔پاکستان میں اعتمادکی بحالی، کردار سازی اورایثاروقربانی کی سخت ضرورت ہے۔انسانیت کابڑا ولولہ ہمیں بچاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

مولانا اجمل قادری کا دورۂ اسرائیل
مفتی محمود کی وفات کے بعد مولانا اجمل قادری اور مولانا فضل الرحمن کا راستہ جداہوگیا تھا
مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
مین سٹریم وسوشل پر میڈیا سید علی حیدر اوردیگر افواہ پھیلارہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اعلیٰ کا دورۂ اسرائیل منافقت ہے۔ایک طرف اسرائیل کیخلاف جلوس اور دوسری طرف درپردہ تسلیم کرنے کی کوشش۔ مولانا اجمل کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہے اور مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے اور مولانا عبیداللہ انور کے بیٹے ہیں۔ مفتی محمود وفات پاگئے توپھر جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری پر اختلاف ہوا۔امیر درخواستی صاحب نے مولانا عبیداللہ انورکی تجویز پیش کی اور جماعت کی شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کو مفتی محمود کے بعد جنرل سیکرٹری منتخب کرلیا۔ جس کے بعد جماعت تقسیم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن MRDکیساتھ کھڑے ہوگئے اور مولانا اجمل قادری ضیاء الحق کیساتھ تھے۔ نوازشریف کیساتھ اسلامی جمہوری اتحاد میں تھے۔ 1988ء میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو جمعیت علماء اسلام ف ن لیگ کے ہی خلاف تھی۔ پھرآئی جے آئی کی حکومت آئی تو بھی مولانا فضل الرحمن انکے خلاف تھے۔ پھر دوبارہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی کے اتحادی بن گئے اور جب ن لیگ کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن اسمبلی میں بھی نہیں تھے لیکن ن لیگ کے سخت خلاف تھے۔ مولانا اجمل قادری نے سب کچھ بتادیا ہے، البتہ تضاد بیانی بھی کی ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن کو موردِ الزام ٹھہرانا انتہائی حماقت ہے۔ علی حیدر کو چاہیے کہ اتنا تو دیکھ لیتا کہ ایک بالکل غیرمعروف شخصیت جمعیت علماء اسلام کی سرپرست اعلیٰ کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرکزی جمعیت علماء اسلام کا کہیں نہ کہیں کوئی لنک بنتا ہے تو بھی یہ غلط ہے۔ شیعہ سنی روایتی فرقہ واریت کی ٹچ اس میں داخل کرنا صحافت اور شیعہ دونوں کیلئے نیک شگون نہیں ہوسکتے ہیں۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی نے ببانگِ دہل اسرائیل سے تعلقات کی بات کی اور اگر مولانا فضل الرحمن کی سمجھ میں بات آگئی تو وہ بھی مولانا اجمل قادری اور شیرانی کی طرح بلکہ ان سے زیادہ کھل کر بات کرنا چاہیںگے۔ مصر، ترکی ، عرب امارات، بحرین اور اردن وغیرہ ہمارے لئے کوئی ناقابلِ نفرت نہیں ہیں تو نوازشریف کی نیت پر بھی شک نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ بتاناضروری ہے کہ اس وقت نوازشریف پر بینظیر بھٹو نے بھی اسرائیلی ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور نوازشریف اسٹیبلیشمنٹ کا متفقہ نمائندہ اور کارندہ تھا۔ اپنے ضمیر کے مطابق تما م ایشوز پر جذبات اور بلیک میلنگ کی جگہ حقائق پر بات کرنا یقینا سب کے مفاد میں ہے۔بلوچ اور قبائل میں بھی فلسطین جیسے حالات سے گزرے ۔اب حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے خلاف فلسطینیوں اور یہودیوں کی طرح محاذ جنگ کھول دیا جس میں سیاسی پارٹیوں کا بڑا عمل دخل ہے اور مذہبی طبقے کا کردار زیادہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

موجودہ سسٹم میں پاکستان قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ مزید دھنسے گا۔ نمائندہ نوشتہ دیوار شاہد علی، ماہر معاشیات ۔

موجودہ سسٹم میں پاکستان قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ مزید دھنسے گا۔ نمائندہ نوشتہ دیوار شاہد علی، ماہر معاشیات ۔

پچھلے سال کی کل آمدنی کا تخمینہ 7909ارب تھا ۔ چاروں صوبوں کا حصہ 3412ارب۔ وفاق کے پاس 4497ارب بچ گئے ۔ وفاق کو 4497ارب میں درج ذیل کام کرنے ہوتے ہیں۔
(1)قرضوں کی قسط اور سُود 3060 (2) دفاعی بجٹ1370 (3) پنشن 480 ۔ ( فوجی 360اور سویلین 120) (4) حکومت چلانے کے اخراجات479ارب (5)سبسڈیز682ارب (6)صوبوں کو گرانٹ 1168ارب (7) متفرق اخراجات284ارب ۔وفاقی کل اخراجات8487ارب ۔آمدنی4497 ارب اورخسارہ3990 ارب ۔ خسارے کیلئے سودی قرضہ لیاجاتاہے۔

وفاق 3990 کا خسارہ پورا کرنے کیلئے IMFاور دیگر ممالک اور مقامی پرائیویٹ بینکوں سے قرضہ لیتا ہے تو سودی رقم مزید بڑھ جاتی ہے!

شاہد علی نے کہا کہ ہم سودی قرضوں کے دلدل سے نکل نہیں رہے بلکہ مزید دھنس رہے ہیں۔( شاہد کی سیاسی ہمدردیاں تحریک انصاف سے تھیں اور ہیں۔) اسٹیٹ بینک سے سستے سود پر قرضہ ملتا تھا، IMFنے اسٹیٹ بینک کوروک دیا۔ اب حکومت کو کمرشل بینکوں سے مہنگے شرح سود پر قرضہ لینا پڑتا ہے۔ جو ہردفعہ شرح سود کو بڑھاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک سے کم شرح سود اور پرائیویٹ بینکوں سے 13سے ساڑھے 15فیصد تک شرح سود پر قرضہ ملا ہے۔ پہلے جس طرح امریکہ ڈالر چھاپتا تھا اسی طرح ہم اسٹیٹ بینک سے نوٹ بھی چھپوالیتے تھے۔
یہ اعداد و شمار پچھلے سال بجٹ کے ہیں اورجون میں نیا بجٹ آئیگا تو اگلے شمارے میں تفصیل دیں گے۔ ہمارے ہاں احتساب کا کوئی درست نظام نہیں۔ بجٹ کا وفاق، دفاع ،چاروں صوبے اور تمام اخراجات کا حساب نہیں دیا جاتا۔ پہلے نیب تھا اس کے بھی پر کاٹ دئیے۔سیاستدان، جج، جرنیل ، سول افسر کے بیٹے اور بیگمات بیرون ملک کے شہری ہیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے سے پیسے اپنے خاندانوں کو منتقل کئے جاتے ہیں لیکن ان سے حساب نہیں لے سکتے ہیں۔
بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر کالاباغ ڈیم اور چھوٹے بڑے ڈیموں سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے فرنس آئل ، ڈیزل اور گیس سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگادئیے۔ اب ہمارے پاس پانی کے ذخائر بھی نہیں اور بجلی بھی مہنگی پڑتی ہے اور گیس کے ذخائر بھی تقریباً ختم ہیں۔ یوریاکھاد گیس سے بنتا ہے اور گیس نہ ہونے کی وجہ سے یوریا کھاد کی پیداوار کم ہوگئی۔ امپورٹڈ گیس سے یوریا بنائیں گے تو لاگت دوگنی ہوجائیگی۔ پرویز مشرف نے گاڑیوں کو گیس پر کنورٹ کردیا جو گیس پچاس ساٹھ سال چل سکتی تھی وہ چند سال میں ختم ہوگئی۔ سعودی عرب میں گیس اور تیل کے بڑے ذخائر ہیں جو دنیا کو دیتا ہے لیکن اسکے باوجود گھروں میں گیس کے کنکشن نہیں لگائے اور لوگوں کو گیس سلینڈر استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ جس کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ گیس کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بھی گیس کے کنکشن گھروں میں نہیں لگائے جاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کبھی 100بچوں کو قتل کرکے کیمیکل میں سڑانے کی خبر آتی ہے، کبھی قصور بچوں اور بچیوں کے ریپ کی کہانی میڈیا پر آتی ہے ،اچھے خاصے غیرتمند پنجاب کو کیا ہوا ہے؟۔یالیڈروں کا قصور ہے؟
پشتون، بلوچ ،سندھی اور مہاجروں کی تبلیغی جماعت ودعوت اسلامی کی طرز پرمگر ذرا ہٹ کے ٹیمیں تشکیل دیکر مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں تو بے غیرتی کے وبائی مرض سے بچیں!
دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ اور سندھ حکومت نے بڑا کچھ کیا ، ریاست نے کام دکھایامگر آخر میں والدین کو ملاقات کیلئے زیادہ وقت اور موقع ملنا چاہیے تھا وہ ابھی تک شکوہ کررہے ہیں۔
مئی کے آخر میں BBCاردو کی رپورٹ کہ پنجاب سے40 ہزار بیٹیاں 2017ء سے2022ء تک اغواء ہوئیں، 37ہزار بازیاب اور ساڑھے تین ہزار ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایک بیٹی کے والدین کاانٹرویو دیا ۔ ماں باپ نے دو سال سے لاپتہ بیٹی کو بازیاب کرانے کی کوشش میں گھر بیچ دیا اور کنگال ہوگئے۔ ملزمان معلوم ہیں لیکن بااثر ہیں ۔پولیس اور عدالتوں کے چکر لگائے لیکن بیٹی نہ ملی۔ کھانا پینا ، سونا اور دن رات کا سکون غارت ہے۔ والدین نے BBCکے نمائندے سے کہا کہ زندہ یا مردہ حالت میں مل جائے، جینامشکل ہوا۔ یہ ایک بیٹی کے والدین کی کہانی نہیں اسی طرح ساڑھے تین ہزار بیٹیاں تاحال لاپتہ ہیں ۔ اگر پنجاب میں ہزاروں بیٹیوں کی داستانیں ہیں تو پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کو اپنے مسنگ پرسن کا غم ایک طرف رکھ کر گوادر و تربت سے ڈیرہ بگٹی تک، حب چوکی سے کوئٹہ تک بلوچوں کی جماعتیںاور کراچی سے کشمور تک سندھی اور مہاجروں کی جماعتیں اور کوئٹہ سے سوات تک پشتون جوانوں کی جماعتیں تشکیل دینی ہوں گی جو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے طرزپر مگر ذرا ہٹ کے اپنے مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں اور ان کو برہمن واچھوت جیسے بدترین کلچر سے نکالیں۔ بے غیرتی وبائی مرض سے زیادہ خطرناک ہے جس پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ہمارا پنجابی بھائی اپنی غیرت میں کسی سے پیچھے نہیں تھا لیکن جب سیاسی قیادت نے بدمعاشوں کی سرپرستی کرکے ظلم کی آبیاری کی تو بے غیرتی کی بیماری نے گھر کرلیا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ کبھی سو بچے کو قتل کرکے کیمیکل میں گلانے کی کہانی سامنے آتی ہے ، کبھی قصور میں ان گنت بچے اور بچیوں کے ریپ کی میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے اور اب 40ہزار سے زائد بیٹیوں کے اغواء کی خبر نے دنیا کو حیران کیا۔ پنجاب میں ہندوستان کی طرح خواتین پر بہت مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کا تدارک کرنا حکومت، ریاست اور دانشوروں کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ بسا اوقات جھوٹی کہانیاں بھی گھڑی جاتی ہیں جو بہت خطرناک ہیں۔ چیچہ وطنی میں ایک مرتبہ ن لیگ کے رہنما کے مشورے پر جھوٹی کہانی میڈیا پر آئی اور افسوس کہ ہم نے بھی چھاپ دی ۔ جھوٹے قصے کہانیوں کے افواہ سازسوشل میڈیا سینٹرز سیاستدانوں کے نیٹ ورک ہیں۔ ان کو مین اسٹریم میڈیا پر پکڑکر سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
اگر دعا زہرہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے تب بھی اس کے والدین کے حقوق سلب نہیں ہوتے ہیں۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ بچی ان کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئی تھی لیکن ایک مونچھوں والے سادہ کپڑے میں ملبوس پولیس اہلکار نے بچی کا بازو پکڑا اور یہ کہہ کر لے گیا کہ میں اس کا باپ ہوں۔ پھر جج کے پاس گئے تو جج نے منع کیاکہ بار بار اسٹیٹ منٹ نہیں لی جاتی۔ ہمارے ملک میں عورت کواسلامی حقوق حاصل نہیں ہیں اور اگر ان کو اس طرح اپنے والدین کے آسرے سے دور رکھا گیا تو ان کا مستقبل بھیانک ہوسکتا ہے۔ اگر بچی نے مرضی سے شادی کی ہے تو بھی والدین سے رابطہ نہ کاٹا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یتیم عورتوں کا اسپیشل خیال رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر اس کے والدین زندہ ہوں اور پھر اس کو عدالتی حکم کے ذریعے سے والدین کے سائے سے محروم کیا جائے تو یہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ سندھ میں 16سال سے کم عمر کی لڑکی کیلئے قانون بہت پہلے بدل چکا تھا۔ جس میں عمر کی کم از کم حد 18سال کی گئی اور پھر پورے پاکستان میں بھی 18سال کی عمر لازمی کرنے کا قانون میڈیا میں آیاجو غالباً پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔ یہ ان لڑکیوں کیلئے ہونا چاہیے جن کے والدین راضی ہوں۔ لیکن جب والدین راضی نہ ہوں تو حدیث میں آتا ہے کہ جس نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کی فقہ میں جمہور فقہاء مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ اور اہل حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح ناجائز اور حرامکاری ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر میری کوئی بات صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو۔ امام ابو حنیفہ نے چیف جسٹس بننے کی پیشکش مسترد کردی تو ان کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ 85فی صد فقہی مسائل امام ابو حنیفہ کی مخالفت میں ان کے فقہ کے نام پر دئیے جاتے ہیں۔ تاہم فقہ حنفی کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر لڑکی کا خاندان لڑکے کے خاندان سے دنیاوی وجاہت میں اعلیٰ درجے کا ہو تو پھر ولی کے مسترد کرنے سے نکاح شرعاً مسترد ہوجائے گا۔ امریکہ اور مغرب میں نکاح کے بعد عورت آدھی جائیداد کی مالک بن جاتی ہے اور جب چاہے شوہر سے اپنی جان بھی چھڑاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں بچے جنوانے کے بعد بھی جب چاہیں تو لڑکی کو گھر سے نکال سکتے ہیں اور وہ خلع لینا چاہے تو مولوی کی شریعت میں خلع کا تصور نہیں۔ الا یہ کہ عورت کو بلیک میل کرکے اس کی تمام آباء و اجداد کی جائیداد کو اپنے نام کرواکر خلع دینے پر شوہر راضی ہوجائے۔ یہ جہالت ابو الاعلیٰ مودودی اور جاوید غامدی تک نے بھی قرآن کے من گھڑت ترجموں میں لکھی ہے۔ ججوں سے اتنی استدعا ہے کہ شریف والدین کے دل کی بدعاؤں سے بچیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

حقیقی جمہوریت اور نظام خلافت بحال کرنے کی پاکستان سے اہم تجویز

حقیقی جمہوریت اور نظام خلافت بحال کرنے کی پاکستان سے اہم تجویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اہلسنت کے نزدیک امام کا تقرر مسلمانوں پر فرض ہے ، اگر امام مقرر نہیں کیا تو ساری امت گناہ گار اور جاہلیت کی موت مرے گی۔پاکستان صدر مملکت کی جگہ ایک امام مقرر کرکے یہ مشکل حل کرے
نبی ۖنے صرف توحید کی تعلیم نہیںدی بلکہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنے کیلئے غیرسودی نظام بھی دیاتھا۔ پاکستان کی ریاستIMFکی لونڈی اور مزارعین جاگیرداروں کے غلام ہیں
منشور کا بنیادی نکتہ مقامی اور بین الاقوامی سودی نظام سے مملکتِ خداد پاکستان کی ریاست اور پوری قوم کی جان چھڑانا اور غلامانہ عدالتی قوانین سے چھٹکار اہو تاکہ بغاوت کا نام نشان نہ ہو
پاکستان اسلام کے نام بنا اور آئین کی بنیاد قرآن وسنت ہے۔ سود کی آیت نازل ہوئی تونبیۖ نے مزارعت کوسود قرار دیا۔ امام ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور ابن حنبل کے نزدیک زمین کو مزارعت پر دینا سود ہے۔ اسلام بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کا غلام بناتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے مسلمانوں اور بنی آدم کو غلامی سے چھٹکارے کیلئے محض عقیدۂ توحید نہیں سکھایا بلکہ غلامانہ نظام سے نکالنے کیلئے صالح نظام دیا۔ عقیدہ و نظام میںجبر مسلط نہ کیا۔ کسی نے مال کی دعا کرائی اور مالدار بن گیا۔ نبیۖ کو زکوٰة دینے سے انکار کیاتوپھر نبیۖ نے زکوٰة کیلئے قتال نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر نے زکوٰة پر قتال کا فیصلہ کیا توحضرت عمر نے اتفاق نہ کیا لیکن خلیفہ کی اطاعت کرنی پڑی ۔ خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کے قتل کے بعد اس کی بیوہ سے عدت میں شادی کی۔ عمر نے کہا کہ” اس کوسنگسار کیا جائے”۔ ابوبکرنے تنبیہ پر اکتفاء کیا۔ چاروں فقہی امام متفق ہیں کہ ” زکوٰة نہ دینے پر قتال نہیں ”۔افغان طالبان نے نماز کا جبر چھوڑ کر قرآن وسنت پر عمل کیا ۔فقہ اور ملا عمر کے غلط طرزِ عمل سے رجوع بھی اسلامی انقلاب ہے۔
مسلم اُمہ کیلئے حضرت ابوبکر کی سیرت حجت ہے اور نہ ہی حضرت علی کی بلکہ رسول اللہ ۖ کی سیرت حجت ہے۔ قرآن میں اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کا حکم ہے اور رسول ۖ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ۖ اولی الامر تھے اور ایسی وصیت لکھوانا چاہ رہے تھے کہ جسکے بعد امت گمراہ نہ ہو تو حدیث قرطاس کی حضرت عمر نے مخالفت کی کہ ” ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔ نبی کریم ۖ نے اپنی بات مسلط نہ فرمائی اور یہی قیامت تک سب مسلمانوںکیلئے بہترین نمونہ ہے۔
قرآن کے احکام کی عملی شکل نبیۖ کی سنت ہے۔ نماز اللہ کا حکم اور اس کو عملی جامہ پہنانا سنت ہے۔ حدیث قرطاس میںاولی الامر سے اختلاف تھا اور قرآن سے انحراف جائز نہیں۔ ”جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی ”۔ حدیث قرطاس قرآن اور نہ ہی اس پر عمل کرنا سنت تھا۔
بدر ی قیدیوں پر حضرت عمر و سعد کی رائے خون بہانے کی تھی۔ ابوبکر و دیگر صحابہ کی رائے فدیہ لیکر معافی کی تھی۔ نبیۖ نے عمر کی رائے کو نوح اور ابوبکر کی رائے کو ابراہیم کی رائے سے تشبیہ دی فرمایاکہ مجھے ابراہیم کی رائے پسند ہے اور اسی پر فیصلہ دیا۔ اللہ نے ابراہیم کو رحم کی دعا سے منع کیا اور نوح کی کافروں کیخلاف دعا کو قبول کیا۔ نوح کی دعا کا مظہر قرآن میں آیا کہ ” نبیۖ کیلئے مناسب نہ تھا کہ جب آپکے پاس قیدی ہوں حتیٰ کہ خوب خون بہالیتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اگر اللہ پہلے سے تمہارے لئے لکھ نہ چکا ہوتا تو تمہیں سخت عذاب دیتا” (القرآن)۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے وہ عذاب دکھادیا جس سے عمر وسعد کے علاوہ کوئی نہ بچتا۔ نبیۖ نے علی کی بہن ام ہانی کے مشرک شوہر کوفتح مکہ میں پناہ دی ،علی نے قتل کرنا چاہا تھا۔ اسکا مشرک شوہر چھوڑ کر گیا تونبیۖ نے ام ہانی کو نکاح کاپیغام دیا۔انکار ہوا تواللہ نے وحی نازل کی کہ ”ہم نے تمہارے لئے ان چچا وماموں کی بیٹیوں کو آپ کیلئے حلال کیا جنہوں آپ کیساتھ ہجرت کی”۔ جس سے واضح ہے کہ نبی ۖ کا ہر قول اور فعل اللہ کی وحی ہرگز بھی نہ تھا۔اُم ہانی اولین مسلمانوں میں تھیں۔ معراج کا واقعہ انکے گھر میں ہوا۔اگریہ ابوبکر، عمر یا عثمان کی بہن ہوتی توشیعہ منطقی نتائج نکال نعوذ باللہ زانیہ، مشرکہ اور خبیثہ کی آیات کاثبوت دیتے۔
آئین میں قرآن وسنت سے عوام ، مقتدر اور مذہبی طبقے بہرہ مندنہیں۔ بدری صحابہ کے بڑے فضائل ہیں۔ ابوبکر ، عثمان اور علی و صحابہ کے بھی بڑے فضائل ہیں۔ رحمت للعالمین ۖ کی ہستی ہیں۔ جمہور کی رائے میں نیت کا کتنا خلوص اور ایمان کی کیسی چاشنی ہوگی؟ مگر قرآن وسنت میں عجیب وغریب قسم کی وضاحت ہے کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور پھر دنیا کی چاہت پر المناک عذاب کی خبر آیت میں موجود ہے اور دوسری طرف عمر اور سعد کی رائے صائب قرار پائی۔
ان آیات کے بعد قیامت تک کوئی عقلمند انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں، نبیۖ کی تصنیف ہے۔ ان آیات اور سیرت رسول ۖ میں قیامت تک کیلئے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر چہ فیصلہ جمہوری بنیاد پر کیا جائے مگریہ ملحوظِ خاطر رہے کہ بڑی ہستیوں اور اکثریت کے باوجود اقلیت کی رائے کو حقیر نہیں سمجھاجائے۔ اسلامی جمہوریت کی یہی روح ہے ۔
جب فرد واحد یا اکثریت دوسروں کی نیت پر شک کرے اور خود کو ناگزیر قرار دے تویہ نمرودیت اورفرعونیت ہے۔ صحابہ نے تعلیم و تربیت اللہ سے وحی کی روشنی میں رسولِ خدا ۖ کی ذات اقدس سے پائی تھی۔ فتنوں کا دور ہے ۔ہماری کیا اوقات ہے؟۔ قرآن وسنت سے رہنمائی لیکر ہر نماز کی ہر رکعت میں حمد وثناء کے بعداللہ کی عبدیت اورمحتاجی کا اظہار کریں اور صراط مستقیم کی ہدایت مانگیں، ایسے لوگوں کا رستہ جن پر اللہ نے انعام فرمایا جس کے بعد ان پر نہ غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔ الفاتحہ کی سات آیات بار بار دھرائی جاتی ہیں۔
سود کی حرمت کے بعد نبیۖ نے زمین کو مزارعت کے بجائے مفت میں دینے کی تقلین فرمائی تو کسی پر جبرو زبردستی نہیں تھی، صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا۔ محنت کشوں کی جان میں جان آگئی اور ان میں قوت خرید پیدا ہوگئی تو مدینہ شہر تجارت کا بہت مشہور بڑا مرکز بن گیا۔ مہاجر صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا کہ ”مٹی میں ہاتھ ڈالتا تو سونا بن جاتا”۔ اس نظام کی برکت سے غیر آباد زمینیں آباد ہونا شروع ہوگئیںاور غلہ واناج کی فراوانی سے حجاز ِپاک کی زمین مالا مال ہوگئی۔
انگریز قابض تھا تو نوابوں، خانوں اور بے غیرت پیروں کومقبوضہ زمینیں دیدیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے صحافی مہر بخاری سے پہلے کہا تھا کہ ”کرپشن کو تین اداروں سول بیوروکریسی، فوج اور عدلیہ نے اپنے لئے لیگل کردیا اورانسٹیٹیوٹ کا حصہ بنادیا۔ جب2کروڑ کا پلاٹ 10لاکھ میں لیا جائے تو یہ ایک کروڑ 90لاکھ سیدھی کرپشن ہے اور اس میں بھی شہید ہونے والے فوجی سپاہیوں،سول جج اور سیکشن افسر اور اس سے نیچے لیول والوں کو کچھ نہیں ملتا ہے بلکہ جرنیلوں، بڑے گریڈ کے افسروں اور بڑے درجے کے ججوں کو سب کچھ ملتا ہے۔ اور اب جب میڈیا تو تھوڑا مضبوط ہوگیا ہے تو اس کو بھی حصہ دار بنادیا ہے لیکن اس میں شہید ہونے والے کیمرہ مینوں، رپوٹروں کوبھی کچھ نہیں ملتا ہے”۔
جاگیردارانہ نظام لونڈی وغلام بنانے کا بنیادی ادارہ تھا۔ جاگیرداروں کے نسل در نسل مزارعین غلام اور لونڈیاں بنتے تھے اور جن مزارعین کے بچوں اور بچیوں کو مزارعت سے اُٹھاکر منڈی میں فروخت کیا جاتا تھا تو اس پر ان کو ایسی خوشی ہوتی تھی جیسے پسماندہ ممالک سے افراد جب ترقی یافتہ ممالک میں محنت مزدوری کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ آج مزارعین جاگیرداروں کے غلام اور ہماری ریاستIMFکی لونڈی بن چکی ہے۔ عوام کی حیثیت خرکار کیمپوں میں اغواء مزدوروں کی طرح رہ گئی ہے۔
قرآن میں اللہ نے مسلمانوں سے وہ غلمان ایکدوسرے کو ہدیہ میں دینے کی پیش گوئی فرمائی کہ جو خوش ہونگے اور اس بات کا اظہار کرینگے کہ سخت گرم ہواؤں کی مشکلات سے زندگی کی سہولیات ملنے پر اللہ کا شکرادا کرتے ہیں اور صحابہ کرام سے لیکر محمود غزنوی کے غلام ایاز تک مسلمانوں کا کردار دنیا کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ ہم نے مرکزیت کو چھوڑ کر گروہ بندی، فرقہ واریت اورفقہی مسالک میں مکڑی کے جالوں کی طرح بھول بھلیاں بنالی ہیں۔ جن کو قرآن وسنت کے واضح احکامات سے ملیامیٹ کرکے صاف کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔
جب حکمران طبقے نے خلافت کو اپنی لونڈی اور اسلام کے احکامات کو مسخ کرنا شروع کیا تو مذہبی طبقات نے جواز بخش دیا اور اسلام اجنبیت کے اندھے کنویں میں گرنا شروع ہوگیاتھا۔ اور اس حال پر پہنچادیاگیا کہ دین، علم اور ایمان تک رسائی عوام وخواص کیلئے ثریا کی حدکو چھونے کے مترادف ہے۔ نبیۖ نے سورۂ جمعہ کی آیت واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم ”اور ان میں سے آخر والے جو ابھی ان پہلوں تک نہیں پہنچے ہیں”کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر دین، علم اور ایمان ثریا پر پہنچ جائے تو پھربھی فارس میں سے ایک شخص یا چند افراد اس تک پہنچ جائیںگے ”۔ ( بخاری ومسلم )کسی روایت میں دین کا ذکر آیا ہے ، کسی میں علم اور کسی میں ایمان کا ذکرہے۔ دین ، ایمان ، علم ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔ علم کے نہ ہونے سے دین بگڑ جاتا ہے اور دین کے بگڑنے سے ایمان بگڑجاتا ہے۔
قرآن واحادیث میں امت مسلمہ کے دو حصے ہیں ۔ پہلا حصہ اول سے لیکر درمیان تک کا زمانہ ہے ۔دوسرا حصہ درمیان سے لیکر آخر تک کا زمانہ ہے۔ سورة الحدید میں کفلین دو حصے واضح ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیانے زمانے میں ایک کج رو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں اور میں اس کے طریقے پر نہیں۔
پہلے حصے میں اول سے خلافت راشدہ ، بنوامیہ، بنوعباس کی امارت ، سلطنت عثمانیہ کی بادشاہت اور 1924ء سے لیکر موجودہ دور تک جبری حکومتوں کا دور ہے۔ جب تک یہاں سے دوبارہ خلافت علی منہاج النبوة کی پیش گوئی پوری نہ ہوجائے اس وقت تک پہلا حصہ رہے گا۔ جب خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوجائے تو پھر مہدی اول امیر امت سے یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ تک رہے گا۔ صحابہ کرام کیلئے قرآن واحادیث میں بڑی خوشخبریاں ہیں اور دوجماعتوں کیلئے بھی خوشخبری ہے۔ ایک جو ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسری جو حضرت عیسیٰ کیساتھ ہوگی۔ ہندوستان سے جہاد کرنے والی جماعت منہاج النبوة کی خلافت قائم کرے گی اور یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ تک چلے گا۔ جس کی حدیث کے اندر خوشخبریاں اور نشاندہی موجود ہے۔
دوسرے حصے میں بارہ اہل بیت کے امام ہیں جن پر منتشر اُمت متفق ہوجائے گی۔ امام خمینی نے اسلامی انقلاب برپا کیا مگر امت کا انتشار بڑھ گیا۔ پھر افغانستان سے ملاعمر کی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا کیا گیا لیکن امت مسلمہ متفق نہ ہوسکی۔
امام کی تقرری کا فریضہ
شیعہ معتبر عالم دین علامہ طالب جوہری نے کہا کہ ” شیعہ مہدی کے انتظار میں ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ پہلے گیارہ امام بھی ہم نے مقرر نہیں کئے، اللہ کی طرف سے آئے تھے۔ شیعہ کا انتظار میں بیٹھنا بنتا ہے لیکن ہمارے بھائی سنی کیوں انتظار میں بیٹھ گئے؟ ان کا عقیدہ ہے کہ امام کا مقرر کرنا مخلوق کا کام ہے۔ جب اتنے سارے امام پہلے بنالئے اور ان پر اتفاق رائے بنالی تو ایک اور مہدی پر بھی اتفاق رائے بنالو۔ ہم تو اپنے عقیدے کی وجہ سے منتظر ہیں لیکن تمہارا انتظار تو بنتا ہی نہیں ہے”۔
شیعہ مسجد کے امام کو پیش نماز کہتے ہیں۔ انکے نزدیک بارہ ائمہ اہل بیت کے سوا کوئی امام نہیں لیکن خمینی نے انقلاب برپا کردیا تو اپنے عقیدے کے منافی ان کوایک امام تسلیم کرلیا۔
جنرل ضیاء الحق دور میں بریلوی مکتب کے مولانا سید محمد جمال الدین کاظمی نے تمام مشہور مدارس سے فتویٰ پوچھاتھا کہ ”اہل سنت کے نزدیک امت پر ایک امام کا مقرر کرنا فرض ہے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے”۔ دیوبندی اور دیگر معروف مدارس نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا تھا لیکن بریلوی مکتب کے معروف عالم دین علامہ عطاء محمد بندیالوی نے تفصیل سے فتویٰ دیا تھا کہ ” امام کا تقرر ایک شرعی فریضہ ہے۔ ایک قریشی امام کے بغیر جنرل ضیاء الحق کی موت بھی اسی طرح جاہلیت کی موت ہوگی جیسے مسلم امہ کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ احادیث کے الفاظ ایسے ہیں اسلئے مجبوری میں یہ فتویٰ دے رہاہوں اور احادیث سے کوئی بھی ناراض نہ ہوگا”۔
جو احادیث خلافت اور جماعت کے حوالے سے ہیں ان کو مولانا فضل الرحمن نے اپنی جمعیت علماء اسلام پر فٹ کیا تھا۔ جب مولانا فضل الرحمن نے میرے سکول کبیر پبلک اکیڈمی کا افتتاح کیا اورکہا کہ ” اس خاندان کے بزرگوں کی خدمات ہیں اور اس میں عتیق جیسا اہل علم ہے ”اور ساتھ میں فتویٰ بھی جڑ دیا کہ جمعیت علماء اسلام جماعت ہے۔ من شَذ شُذ( جو پھسل گیا وہ آگ میں گیا)۔ میں نے جواب میں ” اسلام اور اقتدار” نامی کتاب لکھ دی۔ جس میں ثابت کیا کہ احادیث کی وعید کسی گروہ سے الگ ہونے کیلئے نہیں بلکہ اس سے خلافت کو قائم رکھنے والی جماعت مراد ہے۔ عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔ پھر مولانا فضل الرحمن کی جماعت نے انقلابی جہدوجد کا آغاز اور انتخابی سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا لیکن اسٹیبلشمنٹ نے اس راستے پر ان کو چلنے سے ڈرا دھمکا کربالکل روک دیا تھا۔
تحریک انصاف حکومت کو گرانے کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمن کو جاتا ہے اسلئے کہ تسلسل کیساتھ محنت کی۔ اپوزیشن نے PDMکا مشترکہ سربراہ بنالیا تھا۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن اور سبھی اس کو صدر مملکت بنانے پرمتفق ہوتے تو بھی اسٹیبلشمنٹ نے اجازت نہیں دینی تھی اسلئے کہ مولانا فضل الرحمن کی جڑیں اس سے پختہ ہوجاتیں۔ جنرل ضیاء الحق سے لیکر جنرل قمر جاوید باجوہ تک جتنے آرمی چیف آئے ہیں ان کو مضبوط ہونے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کمزور ہونے کی وجہ سے یہ منصب سپردکیا گیا ہے۔جب طاقتور عہدہ اور طاقتور شخصیت اکٹھے ہوجائیں توپھر اس سے مشکلات کے اندیشے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔
مدینہ کے انصار طاقتور تھے اسلئے ان کو خلافت کا منصب سپرد کرنے کی کھل کرمخالفت ہوئی۔ حضرت ابوبکرنے خلافت کا منصب سنبھالا تو کمزور قبیلے سے تعلق تھا۔ حضرت ابوسفیان نے حضرت علی کو پیشکش کی کہ” اگر آپ کہو تو مدینہ کو پیدل اور سوار جوانوں سے بھردوں۔ ابوبکر سے منصب چھین کر آپ کو بٹھا دیں۔ کیا بنی ہاشم مرگئے کہ ان کے ہوتے ہوئے بنی تمیم کا ایک شخص اس منصب پر بیٹھ گیا؟ ”۔ علی نے پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا اسلام قبول کرنے سے پہلے کم دشمنی کی کہ پھر ان باتوں میں لگ گئے”۔ یہ قدرت کی حکمت تھی کہ سب سے مضبوط اور شریف خاندان کے فرد کو خلافت راشدہ کے آخر میں خلافت مل گئی ۔ ابوبکر، عمر ، عثمان کے بعد علی نے خلافت کا منصب سنبھالا تو علی کے بعد حسن اور حسین کی فضیلت کے مقابلے میں کس میں ہمت تھی ؟۔ لیکن پھر دست قدرت نے حسن سے صلح اور حسین سے شہادت کا کام لیا۔ پہلے بنوامیہ آئے اور پھر بنوعباس آئے۔ بنی امیہ سے زیادہ بنو عباس نے اہل بیت پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ بنی فاطمہ نے بھی ایک حصے پر خلافت قائم کی تھی لیکن لاڈلے حجراسود کو بھی خانہ کعبہ سے نکال کر لے اُڑے تھے۔آغا خانی اور بوہری اس سلسلے کی کڑیاں ہیں جن سے اہل تشیع کے فرقہ امامیہ والے اہل سنت کے مقابلے میں بہت زیادہ نفرت بھی کرتے ہیں۔
بریلوی مکتب میں حسینی اور یزیدی کی جنگ چھڑ گئی ۔ ایک طرف بے گناہ بے خطاء معاویہ معاویہ کے نعرے لگانے والے مولانا الیاس قادری ہیں جن کو شاید مدینہ میں شاہی خاندان نے مرکز بنانے کی اجازت دی۔ دوسری طرف حسینی بریلوی ہیں۔ مفتی فضل احمد چشتی اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان بھی جنگ چھڑ گئی ۔ علامہ فضل چشتی نے بریلوی مکتب کے مفتی احمد یار خان کی کتاب کا حوالہ دیاہے کہ ” جب امیرمعاویہ نے قسطنطنیہ کا لشکر یزید کی قیادت میں بھیجا تو حضرت حسین نے یزید کی قیادت میں جہاد کیا اورنمازیں بھی پڑھی ہیں”۔
اس سے پہلے کہ تفرقہ بازی اور مسلک پرستی سے فرقے آخری حدتک لڑجائیں، ایکدوسرے کیخلاف آگ بھڑکانے کا سلسلہ جاری رکھ کر مسلم امہ کا وجود ہی جھلس جائے۔ ایسے علمی نکات کی طرف آئیں کہ مسلم اُمہ شیروشکر ہوجائے۔ جب یزید سمیت جسکے دور میں کربلا کا سانحہ ہوا، مختلف ادوار میں حضرت ابوبکر سے لیکر سلطان عبدالحمید تک مسلم امہ میں مختلف خلفاء رہے ہیں تو آج ایک خلیفہ مقرر کرنا زیادہ اچھنبے کی بات نہیں ۔ داعش نے دولت اسلامیہ عراق وشام قائم کی تو مغربی ممالک سے بھی بہت سارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے شمولیت اختیار کی تھی۔ عراق وشام کے علاوہ پوری دنیا میں بھی اس نے کھلبلی مچا دی تھی۔داعش خراسان اور داعش برصغیروپاک وہند سے آج بھی اس خطے کو بڑے خطرات کا سامنا ہے۔
ایک مرتبہ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو خلیفہ بنانے کیلئے ”خلافت آپریشن” کا منصوبہ بنایا گیامگر اتفاق سے پکڑکر ناکام بنادیاگیا۔ تحریک خلافت کی وجہ سے پاکستان بنامگر سول و ملٹری بیوروکریسی والے کہتے ہیں کہ ہم نسلوں سے ملکی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب لوگوں میں ایک دوسرے کیخلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور اسکا سب سے زیادہ ذمہ دارہمارا سب سے بڑاطاقتور طبقہ ہے۔ غریب غربت کی آخری حد تک پہنچ گیا ہے اور ہرخوشہ گندم کو جلانے میں دیر نہیں لگائے گا۔
اگر پاکستان کے اصحاب حل وعقد اور مقتدر طبقات متفق ہوجائیں کہ دنیا کیلئے امام کا تقرر کرنا ہے اور صدر مملکت کی جگہ امام کا تقرر کردیں تو پاکستان کا نظام بدلنے میں بہت جلد مدد ملے گی۔ ہماری پارلیمنٹ نے عدالت کے وہ قوانین بھی نہیں بدلے جو انگریز نے ہمیں قابو کرنے کیلئے بنائے۔ حکمران جب مخالف پربغاوت کا مقدمہ بنانا چاہے تو اسکے الفاظ اور نیت کو بہانہ بناکر اس کی آزادی کو سلب کرتا ہے۔ حکمران اپنے مخالف پر ان دفعات کے تحت مقدمات قائم کرکے جیل میں بھیج دیتے ہیں۔ اس سے ریاست مستحکم نہیں ہوتی بلکہ مزید کمزور بنتی ہے۔
قائداعظم نے اپنی سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا اور مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی عوام کو انگریز نے غلام رکھنے کیلئے ان انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے جو برطانوی شہریو ں کو حاصل ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی سیاست کا میدان مسلم لیگ کو بنادیا لیکن افسوس ہے کہ پاکستان بننے کے 75سال بعد مسلمانوں کی جان ان غلامانہ قوانین سے آج تک نہیں چھوٹ سکی ہے۔
جب متحدہ مجلس عمل کی بھاری اکثریت سے خیبر پختونخواہ میں حکومت تھی تو مولانا فضل الرحمن اور ہماری ریاست طالبان کے سامنے سرنڈر تھے۔ اسلام آباد میں افسر سرکاری نمبر پلیٹ لگانے سے ڈرتا تھا۔ جب ANP اور پیپلزپارٹی کی پختونخواہ اور مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تب بھی تحریک طالبان سوات کی شرعی عدالتوں کو قبول کرنا پڑا۔ جب وزیرستان اور سوات آپریشن ہوئے تو بھی طالبان نے ریاست کا ناک میں دَم کررکھا تھا۔ پھر پختونخواہ میں تحریک انصاف اور مرکز میں ن لیگ کی حکومت تھی اور ضرب عضب آپریشن تھا توآرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ ہوگیا۔ آج قبائل اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ پہلے افغانستان میں امریکہ تھا اور قبائل میں ڈرون حملے جاری تھے اور آج امریکہ ونیٹو بھی نہیں اور ڈرون کا مسئلہ بھی نہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے اور عوام میں ایک مضبوط بیانیہ چل رہاہے کہ ہماری فوج نے ہمیشہ پیسوں کی خاطر اس خطے کو تباہ کیا ہے اور طالبان دہشت گردوں کو بھی اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا ہے۔
اسلام آباد میں PTMکے دھرنے سے شروع ہونے والے نعرے ” یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے۔”نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو بھی خیبر پختونخواہ کیساتھ لپیٹ میں لے لیا۔ ن لیگ اور وکلاء کے جلسوں میں بھی ان نعروں کی گونج رہی ہے۔ قوم پرستوں سے لیکر ریاست پرست عمران خان تک ایک ہی بیانیہ ہے کہ یہاں فوج نے ڈالروں کیلئے روس کے خلاف امریکی جہاد کی افغان جنگ لڑی۔ پھر طالبان کے خلاف امریکہ سے ڈالر لیکر اس خطے کو تباہ کیا۔ افغان سفیر ملا ضعیف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے سے بھی شرم نہیں آئی۔ نیوٹرل وہ مالخورجانورہے جو ڈالر کے شوق میں ہر طرح کے اخلاقی ، قانونی اور شرعی اقدار کو پامال کرنے میں دیر نہیں لگاتا ہے۔نہ صرف غلام ہے بلکہ دوسروں کو بھی غلام بناتاہے۔
یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کا نعرہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزاراحمد خان کے بینچ میں بھی گونجا تھا اسلئے کہ وزیراعظم عمران خان کو حکم دیا تھا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کا اتنا بڑا سانحہ ہوگیا تو اس میں اندر کے لوگ جب تک ملوث نہ ہوں اتنا بڑا واقعہ نہیں ہوسکتا۔ سپاہیوں اور چوکیداروں کو سزا ئیں دی گئیں۔ دفاع پر اتنازیادہ بجٹ خرچ ہوتا ہے۔ اس وقت کے آرمی چیف اور ISIچیف کو بھی پیش کیا جائے۔ ذمہ داری کی تھی تو کیس میں شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا؟۔
پہلے PDMسے فوج کی قیادت کے خلاف آوازیں آتی تھیں تو عمران خان ڈھال بنتا تھا اور اب عمران خان بول رہا ہے تو حکومت ڈھال بنتی ہے۔ یہ سب جھوٹ کا سیاسی عمل ہے اور سچ وہی ہے کہ جب خراسان کی طرف سے ایک لشکر تشکیل دیا جائے اور امام کے تقرر تک جہاد کا نعرہ بلند کیا جائے۔ پھر سیاسی جماعتیں دُم دبا کر بھاگ جائیں گی اور ریاست میں بھی دم خم نہیں ہوگا اسلئے کہ امریکی ڈالر بھی نہیں ملیں گے تو جنگ کس طرح سے لڑی جاسکے گی؟۔کیا ہم اس وقت کا انتظار کریں؟۔
اگر وہاں تک معاملہ پہنچنے سے پہلے پاکستانی قیادت امام کی تقرری کا فیصلہ کرلے تو اس خطے میں افغانستان اور ایران کو اس سے بہت ریلیف مل جائیگا۔ شرعی امیر کا تقرر دہشتگردی کی راہ میں رکاوٹ بن جائیگا۔ جس طرح لوگ شریعت کا حکم سمجھ کر جب بیوی کو تین طلاق دیتے ہیں تو عدت تک انتظار ہوتا ہے۔ پھر حلالہ کی لعنت کرواتے ہیں اور پھرازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں۔ جو شریعت انسان کو بے غیرتی کی اس انتہاء پر مجبور کرسکتی ہے اس کیلئے دہشتگردی میں قربانی دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ امام کا تقر ر ہوگا تو پھر شریعت کے نام پر حلالہ کی جہالت سمیت دہشتگردی کی جہالت سے بھی نکالنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔
ریاست ، حکومت ، معاشرت کی سطح پر جتنا گند بھرا ہوا ہے ، اس میں مذہبی جہالت کسی سے کم نہیں ۔ اگر سب مل کر صرف اور صرف پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے تو یہ غلط ہے۔ جب تک آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ نہ ہواتھا تو دہشتگردوں کے خلاف فوجی عدالتیں بھی ہم نے قائم نہیں کی تھیں اور موجودہ عدالتوں کا حال یہ ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کو ISI پیسہ دیکر اقتدار میں لائی ۔ بینظیر بھٹو کا اقتدار اسلئے چلتا کردیا تھا کہ IMFسے پاکستان میں پہلی مرتبہ قرضہ 1989ء میں لیا گیا۔ زرداری کے گھوڑے مربے کھاتے ۔ پھر نوازشریف کی حکومت کرپشن کی بنیاد پر ختم کی گئی۔ پھر بینظیر بھٹو اقتدار میں آئی تو نوازشریف پر لندن A.1فیلڈ کے فلیٹ کی خریداری FIA کے تمام ریکارڈ کیساتھ ثابت کردی۔ IMFسے قرضہ لینے کا سلسلہ دونوں نے جاری رکھا ہوا تھا۔ پھر مرتضیٰ بھٹو اپنے گھر کے سامنے پولیس مقابلہ میں ماراگیا اور بینظیر بھٹو کی حکومت بھی ختم کی گئی۔ زرداری کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا اور نوازشریف کو دوتہائی اکثریت سے لایا گیا۔ پھر زرداری پرسوئس اکاؤنٹ اور سرے محل کے مقدمات چلائے گئے۔ دونوں نے IMF سے خوب قرضے لئے اور بیرون ملک خوب پیسہ منتقل کیا تھا۔ حبیب جالب نے جب اشعار میں کہا تھا کہ ” ہربلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے” تو بینظیر بھٹو کو بڑا غصہ آیا لیکن بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن نے جھوٹی وکالت کی کہ ”محترمہ جالب نے تو آپ کی تعریف کی ہے”۔
پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اسکے ریفرینڈم کی حمایت عمران خان کر رہا تھا۔ پرویزمشرف نے 2004ء سے 2008ء تک IMFکا قرضہ واپس کردیا تھا لیکن پھر 6ارب ڈالر IMFسے قرضہ لیا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں لندن A,1فیلڈ کے فلیٹ پر عدالت نے نوازشریف کو قید اور 14 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ پھر سعودی عرب جلاوطنی سے معاملات ختم ہوگئے۔ براڈ شیٹ کے کیس سے پتہ چلتا ہے کہ پرویزمشرف نے آفتاب شیرپاؤ اور فیصل صالح حیات کے کیس کس طرح معاف کرکے پیٹریاٹ گروپ بنوایا؟۔ اور براڈ شیٹ میں میجر جنرل R امجد شعیب دفاعی تجزیہ نگار نے کس طرح قوم کا پیسہ ضائع کیا؟۔اگر پیپلزپارٹی چاہتی تو ق لیگ کو موقع دینے کے بجائے مولانافضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کرتی اسلئے کہ نوازشریف اور عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تھا اور ظفراللہ جمالی صرف ایک ووٹ کی برتری سے وزیراعظم بن گئے تھے ۔ اگر MQMچاہتی تو بھی جمالی اور ق لیگ کو اقتدار سے محروم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار کی دہلیز تک نہیں چھوڑا اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس کیلئے راستہ ہموار ہونے کے باوجود معاف نہیں کیا ہے۔
جب پرویزمشرف کے بعد پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے باری باری اقتدار حاصل کیا تو یوسف رضاگیلانی کو اسلئے نااہل کردیا گیا کہ اس نے زرداری کیخلاف خط لکھنے سے انکار کیا۔ پھر نوازشریف دور میں پانامہ کا معاملہ سامنے آیا تو پارلیمنٹ میں نوازشریف نے تحریری بیان پڑھ کر سنایا کہ ”اللہ کے فضل و کرم سے 2005ء میں میں نے سعودی عرب کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر 2006ء میں لندنA,1فیلڈ کے فلیٹ خریدے۔ جسکے تمام دستاویزی ثبوت بھی میرے پاس موجود ہیں اور عدالت میں طلب کے وقت دکھا سکتا ہوں”۔
سوال اٹھائے گئے کہ اونٹوں سے اتنے پیسے منتقل کئے گئے یا کونسا طریقہ تھا ؟۔ منی ٹریل بتاؤ۔ عدالت نے طلب کیا توپھر قطری خط سامنے آیا اور پھر اس میں نقائص کی وجہ سے اس کا بھی انکار کردیا۔ عدالت جھوٹ کے ان پلندوں کو نہیں پکڑ سکتی تھی اسلئے کہ پہلے بھی اپیل کی ڈیٹ گزرنے کے باوجودعدالت کی طرف سے نہ صرف نوازشریف کیلئے دروازے کھولے گئے تھے بلکہ گزشتہ کیس، جرمانہ اور قید کی سزا میں کلیئر کردیا گیا تھا۔
جس عدالت میں کھلی کرپشن کے کیس نہ پکڑے جائیں تو وہ دہشت گردوں کو پکڑنے اور سزائیں سنانے کیلئے کہاں سے اپنے اندر اتنی صلاحیت پیدا کرتے؟۔ جب آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعہ کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تو پھر دہشت گردی سے اس ملک کی جان چھوٹ گئی تھی اور اس سے پہلے GHQپر قبضہ سے لیکر مہران ایئربیس پر حملہ تک کیا کیا نہیں ہوا تھا؟۔ جس شخص جنرل راحیل شریف کو یہ کریڈٹ جانا چاہیے تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات اٹھائے،اسی کو عدالت میں طلب کرنے کا کیا فائدہ تھا؟۔ اور جس نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ،اسی آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ کیخلاف دہشت گردی کی ترویج کے نعرے لگنا بہت بری بات ہے۔ دہشت گردی کی کاروکاری میں پوری قوم کا منہ بھی کالا تھا اور جہاں ہر گھر میں دہشتگردی کی خوف وہراس سے حمایت کی جاتی تھی وہ تو جانتے تھے کہ دہشتگرد کس قماش کے لوگ ہیں؟۔ حکیم اللہ محسود کے گاؤں کوٹ کائی جنوبی وزیرستان میں انتہائی شریف انسان ملک خاندان اور اس کی فیملی کو شہید کیا گیا۔ جس میں ایک حافظہ قرآن بچی بھی تھی۔ قاری حسین اور حکیم اللہ بدقماش قسم کے افراد تھے۔ جب ان کو بیت اللہ محسود نے ہمارے واقعہ کے قصاص میں قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا تو انہوں نے کہا کہ ”ہم نے تیرے حکم سے بے گناہ خاندان ملک اور اس کی فیملی کو قتل کیا تھا اسکے بدلے میں تم بھی پھر قتل کیلئے تیار ہوجاؤ”۔ فوج کا اس وقت وزیرستان میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اگر محسود قوم چاہتی تو دہشتگردوں کو ٹھکانے لگانا مشکل نہیں تھا لیکن اس وقت لوگوں کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں اور ان پر خوف طاری تھا۔
میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گیا تو میرے گھر والوں اور عزیز واقارب نے طالبان کو سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ہمارا واقعہ ہوا تب بھی میرے ماموں کے گھر سے پاک فوج نے دہشتگردوں کی پک اپ پکڑ کر بارود سے اڑادی تھی ۔ جب مساجد، گھروں اور مذہبی جماعتوں سے لیکر سیکولر سیاسی لیڈروں تک سب طالبان کی حمایت کرتے تھے تو صرف فوج کو نشانہ بنانا زیادتی ہے۔ عدل و انصاف کا معاشرہ قائم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ امام کے تقرر سے مرکزی خیال ایک ہوگا۔ قوم اتحاد واتفاق اور وحدت کے راستے پر گامزن ہوگی اور جس میں کوئی برائی ہوگی تو اس کو دور کرنے کیلئے باقاعدہ حکم جاری کیا جائے گا اور امر بامعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا ہوگا۔
داعش کا مطلب دولت اسلامیہ عراق وشام سے امامت کی تقرری کا فریضہ ادا نہیں ہوتا اور افغانستان کا امیرالمؤمنین بھی اپنے ملک تک محدود ہے ۔ پاکستان کا امیر المؤمنین دنیا کیلئے ہوگا، فلسطین وشام ، عراق وسعودیہ ، بھارت وامریکہ اور دنیا بھر کے مسلم وغیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کیلئے تاکہ پوری دنیا کے مسلمان اس گناہ سے بچ جائیں جس میں وہ امام زمانہ کا تقرر نہ کرنے کی وجہ سے مبتلاء ہیں۔ جب شیعوں کا امام مہدی غائب یا سنیوں کا مہدی موعود تشریف لائے توعیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دجال اکبر کا خروج بھی ہوگا۔ مسلمانوں کا امام ان کی آمد سے پہلے اتحادواتفاق اور وحدت کا کارنامہ انجام دے چکا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی آمد سے پہلے گیارہ اور ایسے افراد بھی آئیں جن پر امت مسلمہ متحدو متفق ہوجائے۔
اگرقرآن وسنت کے احکام کی ایسی تشریح امام کریں جس پر بریلوی، دیوبندی ، اہلحدیث ، جماعت اسلامی، اہل تشیع اور جماعة المسلمین وغیرہ دنیا کے سب فرقے اور مسالک متحدومتفق ہوجائیں اور غیر مسلم بھی دینِ فطرت اسلام کی طرف راغب ہوجائیں تو مسلمانوں کی تمام مساجد میں اسلام کی فطری تعلیم کو بھی عام کیا جائے گا۔ پاکستان کے تمام ادارے فوج، عدالت، پولیس، سول بیورکریسی اور پارلیمنٹ فعال اور اپنے دائرۂ کار میں کردار ادا کریں گے تو دنیا بھر کیلئے پاکستان بہترین نمونہ بن جائے گا اور دیگر ممالک میں بھی اصلاح کا معاملہ شروع ہوگا۔
پاکستان مسلم قومیت کی بنیاد پر بنا۔ نبیۖ کو اللہ کی بارگاہ میں مسلمانوں سے شکایت ہوگی وقال الرسول یاربی ان قومی اتخذوا ہذا لقراٰن مھجورًا ” اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ ہندوستان کے مسلمان آزادی سے پہلے اس بات پر لڑرہے تھے کہ قوم مذہب سے بنتی ہے یا وطن سے؟۔ علامہ اقبال نے دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں کہا کہ ” وہ کہتاہے کہ قوم وطن سے بنتی ہے یہ کیا بولہبیہے؟” پھر ڈاکٹرا سرار احمد نے کہا کہ ” مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا کہ مسلمان پہلے ایک قوم نہیں تھے لیکن اب قوم بن گئے ہیں”۔
امام کا تقرر کرکے جمہوری خلافت کا نظام بڑا ناگزیرہوچکا ہے ورنہ خطرات اور فتنہ وفساد کی لپیٹ میں سب آجائیں گے۔
حقیقی جمہوریت کے قیام کا تصور
جماعت اسلامی کے امیر سیدمنور حسن سے سلیم صافی نے اگلوایا کہ ” طالبان کے مقابلے میں امریکی فوجی شہید نہیں تو پھر امریکہ کے اتحادی پاکستانی شہید ہیں؟”۔ سید منور حسن نے کہا کہ ” یہ سوال تو آپ سے پوچھتا ہوں کہ پھر وہ شہید ہوسکتے ہیں لیکن آخر کہہ دیا کہ ظاہر ہے کہ امریکہ کے اتحادی ہمارے فوجی بھی شہید نہیں ہیں”۔ اس پر جماعت اسلامی والوں نے ایک طرف سلیم صافی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دوسری طرف منورحسن کو امارت سے اتار دیا۔ جب اسلامی جمہوری اتحاد ISIنے ہی بنوائی تھی جس کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے جو پیپلزپارٹی کے بھگوڑے اورIJI کی دیگر جماعتوں مسلم لیگ جونیجو یا مسلم نواز سمیت سب کیلئے گھوڑے تھے۔ اس وقت نوازشریف کی حیثیت پنجاب کے کھوتے سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ ساری پود جماعتیں اور شخصیات عوام پر تھوپی گئی ہیں۔ فوج کے پیچھے ہٹنے اور سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا خیرمقدم کرنا چاہیے لیکن جب وزیراعظم کی سکیورٹی فوجی اہلکار کے ذمہ ہوگی جو جلاد کی طرح پشت پر کھڑا رہے گا تو فوج کی اس سے زیادہ مداخلت کیا ہوسکتی ہے؟۔ نوازشریف کو111بریگیڈ نے غائب کردیا تھا۔ عمران خان استعفیٰ نہ دینے کیلئے ڈٹا ہوا تھا کہ BBCنے خبر بریک کردی کہ عمران خان کو چھترمارکر جانے پر مجبور کیا گیا۔
وزیراعظم اور ملک کی تمام اندرونی سکیورٹی سول پولیس کو دینی چاہیے اور جس طرح ARYکے اینکروں پر نامعلوم لوگ FIRکا اندراج کرچکے ہیں، یہ سول سپرمیسی کی دلیل نہیں ہے اور دوسری طرف جب تک پاک فوج سے مدد نہیں لی جائے تو فوج کی پالی ہوئی پارٹیاںاور مذہب وسیاست کے نام پرایسی شخصیات ہیں جن کو پولیس قابو نہیں کرسکتی ہے اور جب تک ہم حقیقی جمہوریت کا قیام عمل میں نہ لائیں توفوج ضرورت ہوگی۔
پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے سب سے پہلے ان اپنی موروثی پارٹیوں اور شخصیت پرستی سے جان چھڑانی ہوگی۔ جن خاندانوں کی بنیاد پر پارٹیاں چلتی ہیں ان پر پابندی لگانی چاہیے کہ وہ کسی طاقتور عہدے کیلئے پرائیوٹ اور سرکاری سطح پر اہل نہیں ہوں گے۔ سزایافتہ مریم نواز اور نوازشریف کو سرکاری پروٹوکول مل رہاہے اور وزیراعظم شہباز کے عدالت کو مطلوب صاحبزادے ترکی کے سرکاری دورے کا لطف اٹھارہے ہیں۔
عدالتی فیصلے نے لوٹا کریسی ختم کردی یا پارٹی کے ارکان پر اعتماد نہیں ہوسکتاہے؟۔ جب نوازشریف نے حکم دیا تو قمر باجوہ کی توسیع پر بھی ن لیگ مجبور ہوگئی۔ اور پھر نام لیکر ساری خرابی کا بھی جنرل قمر جاویدباجوہ کوہی ذمہ دار قرار دیتا رہا۔ایسی پارٹی شلوار ہے یا پاجامہ ؟۔ اس کا تعین کرنا بھی بہت مشکل ہے۔
بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اکثریتی جماعت بن کر بلدیاتی انتخابات میں سامنے آئی ہے اور ا س سے پہلے پختونخواہ میں بھی آئی تھی۔ حامد میر کے پروگرام میں ڈاکٹرخالدسومرو کے بیٹے کے سامنے انصار عباسی نے مولانا فضل الرحمن کو GHQ کی طرف سے زمینیں الاٹ کرنے کا صرف الزام نہیں لگایا بلکہ دستاویزی ثبوت اور زمینوں کے الاٹ نمبر بھی دئیے تھے۔ مردان کے سپین جماعت کے خطیب بریلوی ہیں اور کس کے کہنے پر جمعیت علماء اسلام میں شامل ہوئے ہیں؟۔ جس طرح بلوچستان میں اتنی تعداد میں آزاد ارکان پاس ہوئے ہیں کہ اگر تمام پارٹیوں کو ملایا جائے تب بھی آزاد ارکان کی تعداد ان سے زیادہ ہے۔ اسی طرح آئندہ انتخابات میں پارٹیوں سے زیادہ آزاد ارکان پارلیمنٹ پر راج کرسکتے ہیں جس کی پیشگی اطلاع کا سیاسی تجریہ آصف علی زرداری نے چند ماہ پہلے دیا ہے۔
آزاد ارکان ایک منشور کے تحت ایک انتخابی نشان سے حصہ لیں اور منشور میں تمام سرکاری جائیداد پر سیاسی پارٹیوں و دیگر اداروں کے ناجائز قبضوں اور اپنے نام پر الاٹ کرنے کو ختم کیا جائے اور جائز زمینوں کو مالکان خود کاشت کریں یا پھر مزارعین کو مفت فراہم کریں۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ”کیا ہم عمران خان کے کوئی مزارع ہیں”۔ جب جاوید ہاشمی نے ن لیگ چھوڑی تھی تو بھی یہ کہا تھا کہ ”ہم نوازشریف کے مزارع نہیں ہیں”۔ مزارع کا لفظ سندھ وپنجاب اور پاکستان میں غلام کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ جب مزارع کو مفت میں زمین ملے گی تو کاشتکار سب سے معزز لفظ بن جائیگا ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔اناج امپورٹ نہیں ایکسپورٹ ہوگی تویہ ملک فوری طور پر اتنی ترقی کرے گا کہ IMFکے قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ جب اسلامی قوانین کا نفاذ ہوگا تو پھر مریم نواز اور پنجاب کے ایک مزارع کی بیٹی کی عزت قانون کی نظر میں ایک ہوگی۔ مذہبی اور سیاسی طبقات سورۂ نور کے ذکر سے بھی مرتے ہیں جہاں نبیۖ کی زوجہ پاک حضرت اماں عائشہ صدیقہ پر بہتا ن لگانے کی سزا80کوڑے ہے اور عام عورت پر بہتان لگانے کی بھی 80کوڑے کی سزا ہے۔ جبکہ یہاں کسی کی عزت اربوں میں ہے اور کسی کی کوڑی برابر نہیں۔ کسی کیلئے10کروڑ بھی مشکل سزا نہیں اور کسی کیلئے دس ہزار بھی بڑی سزا ہے اسلئے کہ امیر وغریب کے پیسے برابر نہیںہیں۔ لیکن 80، 80کوڑوں کی سزا میر وغریب کیلئے برابر ہے۔
جب مزارع آزاد ہوگا تو اس کا ووٹ بھی آزادہوگا ، اس کی عزت بھی آزاد ہوگی ، وہ تعلیم ، صحت اور معاشرے کی تمام سرگرمیوں میں برابر حصہ لے گا وہ کسی کی خیرات زکوٰة سے نہیں پلے گا بلکہ دوسرے لوگ اسکے عشر سے پلیں گے۔اسکا ہاتھ نیچے والا نہیں اوپر والا ہوگا۔ اس سے مزدور کی دیہاڑی بھی جاندار بن جائے گی اور دکاندار بھی اس محنت کشوں میں دنیاوی طاقتور ہونے سے خوشحال بن جائیگا۔ روس وچین اور دنیا میں مزدور ومحنت کش لوگوں سے ہمدردیاں رکھنے اورکارل مارکس کے نظریات والے اسلام کے شیدائی بن جائیں گے۔ قدر زائدکی درست تعبیر اسلامی نظام میں نظر آئے گی۔ جن لوگوں نے امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہ کے تمام ائمہ سے انحراف کرکے مزارعت کا سودی نظام جائز قرار دیا ہے وہ دوسرے مسائل میں بھی حقیقی اسلام کی طرف متوجہ ہوں گے۔ جب محنت مزدروی میں کچھ ملنا شروع ہوگا تو مذہبی طبقات بھی محنت کش بن جائیں گے۔ جس کی وجہ سے سیاستدانوں اور اشرافیہ کی نالائق اولاد بھی گدھے گاڑیاں چلانے میں شرم محسوس نہیں کریںگی۔ ذہنی استعداد رکھنے والے افراد ڈاکٹر، استاذ ، سائنسدان اور تمام شعبوں میں کمال حاصل کریں گے اور ہاتھ پیر کی استعداد رکھنے والے بھی اپنے اپنے فن میں کمال حاصل کریںگے۔ آزادارکان جیت جائیں تو لابنگ کے بغیر کسی ایک کو منتخب کرلیں جس میں زیادہ استعداد نظر آتی ہو اور آزاد حیثیت میں منشور کو عملی جامہ پہنائیں اور حقیقی جمہوریت کو پاکستان میں قیامت تک جاری رکھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر مطالبہ کیا ہوتا کہ پیٹرول اور بجلی مہنگاکرو اور ملک بچاؤ توآج وہ بالکل سرخرو ہوتے مگر مہنگائی کیخلاف نعرے لگانے والوں نے مہنگائی کردی ؟

پوری قوم اور دنیا کے سامنے اللہ نے منافق سیاسی ٹولے اور اسکے زرخرید صحافیوںکوننگا کرکے رکھنا تھااسلئے کہ بے انتہاء مہنگائی کرکے ثابت کردیا کہ اصل مقصد اقتدار میں آنا تھا

وزیراعظم شہبازنے کہا ” میں اس بات پر قائم ہوں کہ اگر پختونخواہ کی حکومت نے آٹا سستا نہ کیا تو کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا”۔ پہلے اپنے کپڑوں کا کہا اور پھر بات بدلی۔مرد آہن کو کپڑے کا نہیں لوہے کا تجربہ ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کریں۔ہزاروں کا روزگار اور اربوں منافع سے معیشت بحال ہوگی۔ اسٹیل ملز کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسٹیل کے پراسیس میں ایک عنصر بلوچستان سے نکلتا ہے جوچین خریدتا ہے پھر مہنگے دام امپورٹ کیا جاتاہے اگر اسکا کارخانہ لگ جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کماسکتا ہے۔چین نے انڈسٹریوں سے ترقی کی اور ہمارے انڈسٹریلسٹ سیاستدان قرضے لیکر خودکو دیوالیہ شو کرکے قرضہ معاف کرانے میں ایکسپرٹ ہیں۔ چین سے سی پیک کی مد میں پہلی قسط 19ارب ڈالر ملی تھی پھر کتنے پیسے ہتھیا لئے تھے؟۔ IMF کاقرضہ اُتارتے مگر لزرداری نے6سے16تک IMFکا قرضہ پہنچایا، نوازشریف نے 14 ارب ڈالر لیکر30تک پہنچادیا۔ بے دریغ سودی قرضہ ملک کو ڈبونے کیلئے کافی تھا ۔ ہم نے اسی وقت نشاندہی کی تھی کہ دفاعی بجٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم سود کی مد میں رقم دی جاتی ہے۔ سود ی قرضوں سے نکلنا چیلنج تھا ۔ قوم گرداب میں پہلے پھنسا دی ۔ زرداری کو روڈ پر گھسیٹنے، پیٹ چاک کرکے پیسے نکالنے اور چوکوں پر لٹکانے کی باتیں لندن بیماری کا علاج کرنے گئیں؟۔ جب پختونخواہ کی بجلی، تیل اور گیس پنجاب وپاکستان میں برابر کی قیمت پر جارہی ہے تو پنجاب کا آٹا اسی قیمت پرآنا چاہیے۔ اگر شوبازی کرنی ہے تو اپنا انگریزی ہیٹ امیر مقام کو دو،وہ سلیمانی ٹوپی پہن کر پنجاب سے پختونخواہ آٹااسمگلنگ کریگا اور سستا ہوجائیگا؟۔ قوم مسخروں کی متحمل نہیں۔ پہلے مہنگائی مکاؤ کا شور مچایا اور جعلی کی جگہ اصلی الیکشن کا مطالبہ تھا۔ ملک کو بچاؤ، پیٹرول وبجلی بڑھاؤ مطالبہ ہوتا تو آج سرخرو ہوتے۔ نعرہ لگایا مہنگائی کیخلاف اورمہنگائی آسمانوں تک پہنچادی۔ نعرہ لگایا الیکشن کا؟ ملکربھی الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔ منافق ٹولے کیساتھ لفافہ مافیا صحافی ننگے تھے تو تڑنگے بھی بن گئے۔ اللہ نے جھوٹی شرافت و اصول پسندی کا نقاب اُتارنا تھا۔ عمران خان صوبوں وغیرہ سے کٹوتی کرکے پیٹرول کی قیمت کو کنٹرول کررہاتھا۔ کھاؤ پیو عیش اُڑاؤمافیا نے اقتدارلیکر مہنگائی کی جگہ غریب عوام مکاؤ کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر لال خان کہتاتھا: مجموعی ٹیکس کا85 فیصد بالواسطہ عوام سے لیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے کمیشن اور ٹھیکوںاور سامراجی سود کی ادائیگی میںاُڑادیا جاتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

حضرت اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 16 سال اور رخصتی کے وقت 19 سال تھی۔

ضرت اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت16سال اور رخصتی کے وقت19سال تھی۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بھارتBJPکی نوپور شرما کو حقائق معلوم ہوجائیں تو گستا.خانہ لہجے میں مسلمانوں کو چیلنج کرنے کے بجائے اسلام قبول کرلے
اماں کی پیدائش نبوت کی بعثت سے5سال قبل ہوئی تھی ،11نبوی16سال کی عمر میںنکاح ہوا
1ہجری کو حضرت اماں عائشہ صدیقہ کی عمر رخصتی کے وقت19سال تھی جو مستند تاریخی حقائق ہیں۔
قاضی محمد یونس انور خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور نے کہا ہے کہ بخاری و مسلم میں بدقسمتی سے6سال میں نکاح والی روایت آگئی ہے جو رسالت مآب ۖ کے نا.موس پر حملہ. ہے اور حضرت عائشہ وحضرت ابوبکر پر بھی حملہ. ہے۔
پاکستان کا آئین قرآن و سنت کا پابند ہے۔ اگر6سالہ بچی سے نکاح اور9سالہ بچی کی رخصتی سنت ہو تو اس پر کیسے پابندی لگ سکتی ہے؟۔ جب اللہ نے قرآن پاک میں لڑکوں کیلئے نکاح کی عمر تک پہنچنے کی وضاحت کی ہے حتیٰ اذا بلغوا النکاح (یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں)۔ پاکستان میں لڑکوںکے نکاح کیلئے کم از کم عمر18سال ضروری ہے۔ نبی ۖ نے25سال کی عمر میں شادی کی تھی۔ قرآن کے واضح الفاظ سے اس بات کا تعین ہوگیا ہے کہ لڑکوں کیلئے بھی نکاح کی عمر تک پہنچنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک پیمانہ رکھا ہے۔ لڑکیوں کیلئے بھی فطری بات یہی ہے کہ ان کے نکاح کی عمر تک پہنچنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک پیمانہ رکھا ہے۔ اگر واقعی مذہبی طبقات کو اس بات کا یقین ہوتا کہ بچی کا6سال کی عمر میں نکاح اور9سال کی عمر میں رخصتی سنت ہے تو پگڑیوں سے لیکر ٹخنوں کے اوپر شلوار رکھنے والے اس سنت پر ضرور عمل کرتے۔ حدیث کیلئے بنیادی علم سیرت النبوی کی کتابیں اور علم الرجال کا علم ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰة المصابیح کے ساتھ علم الرجال کی کتاب ”الاکمال فی اسماء الرجال” چھپی ہوئی ہے۔ جس میں اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر نبی ۖ کی بعثت کے وقت5سال ہی ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ کی مستند کتاب طبقات ابن سعد میں بھی ہے کہ ”بعثت کے بعد5نبوی تک دارِ ارقم میں چھپ کر تبلیغ ہوتی تھی۔ دارِ ارقم کے محدود افراد میں اسماء بنت ابی بکر اورعائشہ بنت ابی بکرشامل تھیں۔ ابوبکر کی4اولادکی پیدائش حضرت عائشہ سمیت قبل از نبوت ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری بل الساعة موعدھم و الساعة ادھیٰ و امر تو اس وقت میں چھوکری تھی اور کھیلا کودا کرتی تھی۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب التفسیر)۔ یہ سورہ قمر ہجرت سے5سال پہلے نازل ہوئی۔ جس میں شق القمر کا واقعہ ہے۔ اس وقت حضرت اماں عائشہ کی عمر13سال تھی۔ کیونکہ سورہ قمر8نبوی کو نازل ہوئی تھی یعنی بعثت کے8سال بعد اور حضرت عائشہ کی پیدائش بعثت سے5سال قبل تھی۔ دارِ ارقم میں حاضری کے وقت بعثت کے بعد5سال کے بعد سے10سال تک حاضر ہوتی تھیں۔
حضرت اماں عائشہ صدیقہ کا نکاح بعثت نبوت کے بعد11نبوی میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر ٹھیک16سال تھی۔5سال بعثت سے قبل اور11سال بعثت کے بعد ٹھیک16سال بنتے ہیں۔
اگر بالفرض محال یہ مان لیا جائے کہ حضرت اماں عائشہ کی عمر11نبوی کو6سال تھی تو اس کاواضح مطلب یہ ہوگا کہ آپ کی پیدائش5نبوی کو ہوئی تھی۔ لیکن جب یہ بہت واضح تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے بعثت کے بعد5سال چھپ کر دارِ ارقم میں تبلیغ کی اور اس میں حضرت عائشہ ان لوگوں میں شامل تھیں جو دارِ ارقم میں موجود تھے۔ تو کیا پیدائش سے قبل حاضر ہوسکتی تھیں؟۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ بعثت نبوی اور5سال دارِ ارقم کی تبلیغ کے بعد ہی حضرت اماں عائشہ کی پیدائش ہوئی تھی تو بعثت کے5تا11سال تک کتنا کٹھن مرحلہ مسلمانوں کیلئے تھا؟۔ کیا اس وقت حضرت ابوبکر صدیق جیسے اولین جانثاروں میں شامل صحابی کی بیٹی سے ایک سال سے6سال تک کی عمر میں کوئی دشمن رشتہ لینے کا تصور کرسکتا تھا؟۔ جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ابوبکر کو بیٹی حضرت اماں عائشہ کیلئے نکاح کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکرصدیق نے عرض کیا کہ اس کا رشتہ بچپن سے جبیر بن مطعم کو دے چکا ہوں۔ ان سے پوچھ کر حال بتاتا ہوں۔ جب حضرت ابوبکر نے جبیر کے باپ مطعم کے سامنے بات رکھی کہ جبیر کے رشتے کا کیا پروگرام ہے؟۔ مطعم نے کہا کہ آپ لوگ جب اپنا دین ہی بدل چکے ہو تو میں اپنے بیٹے کیلئے تمہاری بیٹی کا رشتہ بالکل بھی نہیں لوں گا۔
غور کرنے کی بات ہے کہ جب جاہل اس بات پر اصرار کریں گے کہ اماں عائشہ کی عمر نکاح کے وقت11نبوی میں6سال تھی تو مخالفت کے عروج کے دور میں وہ پیدا ہوئی تھیں۔ پھر مطعم نے اپنے بیٹے کا رشتہ کیسے کرنا تھا؟۔ بعثت کے5سال بعد جب رسول اللہ ۖ نے کھل کر تبلیغ شروع کی تھی اور اس وقت کے بعد اگر حضرت عائشہ کی پیدائش ہوئی تھی اور مطعم نے اپنے بیٹے کا رشتہ کردیا تھا تو وہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ تم لوگوںنے اپنا دین بدل دیا ہے اسلئے رشتہ ختم ہے؟۔
ان تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائش بعثت سے5سال قبل ہوئی تھی اور مطعم نے دوستی میں اپنے بیٹے کیلئے رشتہ مانگا تھا۔ حضرت ابوبکر نے حامی بھرلی تھی۔ جیسا کہ پہلے بھی رواج تھا اور آج بھی ایسا ہوتا ہے۔
پھر بعثت نبوی کے بعد حضرت عائشہ کی عمر5سال تھی۔5سے10سال تک دارِ ارقم میں خفیہ تبلیغ ہوتی تھی تو بھی اس میں موجود ہوتی تھیں۔ پھر جب8نبوی کو شق قمر کا واقعہ ہوا اور سورہ قمر نازل ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر اس وقت13سال تھی۔ پھر جب11نبوی کو نبی کریم ۖ نے حضرت ابوبکر کو نکاح کا پیغام حضرت عائشہ صدیقہ کیلئے بھیجا تواس وقت آپ کی عمر16سال تھی۔
حدیث کی مشہور کتاب ”مشکوٰة المصابیح ” کے ساتھ علم الرجال کی کتاب ”الاکمال فی اسماء الرجال” میں حضرت عائشہ صدیقہ کی بڑی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر کا ذکر ہے جس کی فوٹو کاپی اخبار کے صفحہ2پردی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ”اسماء بنت ابی بکر الصدیق :جس رات نبی ۖ ہجرت کیلئے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے دسترخوان اور دوسرے سے مشکیزہ باندھا۔ اس لئے انہیں ذات النطاقین، یعنی دو کمر بندوں والی کہا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن زبیر آپ ہی کے فرزند ہیں، مکہ میں شروع ہی میں مشرف با اسلام ہوئیں۔ کہا گیا ہے کہ آپ نے سترہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ اپنی بہن اُم المؤمنین سیدہ عائشہ سے دس سال بڑی تھیں اور اپنے بیٹے عبد اللہ بن زبیر کی شہا.دت سے دس یا بیس دن بعد فوت ہوگئی تھیں۔ جب ان کے بیٹے کو پھانسی کی لکڑی سے اتارا گیا تھا اس وقت ان کی عمر سو سال تھی۔ آپ کی وفات مکہ میں ٧٣ ھ میں ہوئی۔ آپ سے بہت لوگوں نے روایت کی۔ (مشکوة المصابیح۔ مع الاکمال فی اسماء الرجال۔ فصل صحابیات) ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ آپ اپنی بہن اُم المؤمنین سیدہ عائشہ سے10سال بڑی تھیں۔ اپنے بیٹے عبد اللہ ابن زبیر کی شہادت سے10یا20دن بعد فوت ہوئیں۔ جب ان کے بیٹے کو پھانسی کی لکڑی سے اتارا گیا تو اس وقت ان کی عمر100سال تھی۔ آپ کی وفات73ہجری میں ہوئی۔ آپ سے بہت لوگوں نے روایت کی۔
حضرت اسمائ کی وفات 100سال کی عمر میں 73ہجری کو ہوئی ۔ جب 72سال مکمل ہوتے ہیں تو پھر73واں سال شروع ہوتا ہے۔ اگر72سال ہجرت کے بعد کے نکالے جائیں تو100سال کی عمر سے72سال نکلیں گے۔ جس کابالکل واضح حساب یہ آتا ہے کہ حضرت اسمائ کی عمر ہجرت کے وقت28سال تھی۔ پھر حضرت اسمائ کی عمر کے13سال مکی دور کے نکالے جائیں تو آپ کی عمر بعثت کے وقت15سال بنتی ہے۔ حضرت اماں عائشہ صدیقہ سے10سال بڑی تھیں تو حضرت اماں عائشہ کی عمر بعثت کے وقت ٹھیک5سال تھی۔
عام اصطلاح میں لوگوں کے درمیان جو زبان استعمال ہوتی ہے تو اس میں مختصر الفاظ بولے جاتے ہیں۔ جہاں بکروں کی قیمت ہزاروں میں ہوگی تو اس کیلئے صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ20میں لیا ہے،40میں لیا ہے۔ اور مراد20اور40ہزار ہوگا۔ گنتی کے ان الفاظ سے20اور40روپے مراد نہ لئے جائیں گے اور نہ ہی20اور40لاکھ مراد لئے جائیں گے۔ اسی طرح گھروں کی قیمت لاکھوں میں ہوگی یا کروڑوں میں ہوگی تو20اور30سے مراد عام اصطلاح کے مطابق جہاں لاکھوں میں گھر ہوں گے تو لاکھ مراد لئے جائیں گے اور جہاں کروڑوں میں گھر ہوں گے وہاں اتنے کروڑ مراد لئے جائیں گے۔
نکاح کی عمر1سے10سال کے بچپن میں نہیں ہوتی۔ عربی میں بنت لڑکی کو کہتے ہیں اور لڑکی کی عمر14سال سے20سال تک تقریباً ہوتی ہے۔ عربی کی گنتی11سے19تک احدعشر، اثنتا عشر، … ستة عشر…، تسعة عشر ظاہر بات ہے کہ6سے9سال تک کی بچی نکاح کی عمر میں نہیں ہوتی اور اگر بالفرض اس کا نکاح بچپن میں6سال کی عمر میں کردیا جاتا اور رخصتی9سال کی عمر میں ہوتی تو پھر اس کیلئے عربی میں بنت کی جگہ طفلة کا لفظ استعمال ہوتا۔ بخاری کی روایت میں بنت ست سینین سے مراد16سال کی لڑکی ہے نہ کہ6سال کی بچی ۔ورنہ پھر طفلة ست سینینآتا۔جس طرح چلڈرن اور بوائز اینڈ گرلز اسکولوں کاالگ الگ تصور ہے اسی طرح عربی میں اطفال اور بنین و بنات کا الگ الگ تصور ہے۔ ”عورت کے حقوق ”نامی کتاب میں یہ تحقیق لکھ دی ہے جس کی تائید مفتی حسام اللہ شریفی ، مفتی خالد حسن مجددی اور قاری اللہ داد وغیرہ کرچکے ہیںاور شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان نے بھی اس کتاب کو پسند کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022