اپریل 2024 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

موٹی موٹی باتوں سے مسلمان اپنے مشکل ترین مسائل سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

موٹی موٹی باتوں سے مسلمان اپنے مشکل ترین مسائل سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

اسلام کا معاشی نظام ایک طرف مفت کی مزارعت اور دوسری طرف سود سے پاک تجارت، تیسری طرف اپنے وسائل کا صحیح استعمال، چوتھی طرف مٹی کو سونا بنانے کے طرز پر منصوبہ سازی!

جدید تعلیم سے تسخیر کائنات کا قرآنی فلسفہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ سورج، ہوا ، پانی اور ایٹمی پلانٹ سے بجلی پیدا کرنے کے سستے ترین منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں جس سے انقلاب آئیگا

شاہد خاقان عباسی ، مصطفی نواز کھوکھر، لشکر رئیسانی ، محمود خان اچکزئی ، ڈاکٹر مالک بلوچ اور لطیف ایاز پلیجو اور تمام کے تمام سندھی ، بلوچ، سرائیکی ، پنجابی اور پشتون قیادت سے اہم لوگوں کو لیا جائے۔ ایک بڑی اور ایسی نظریاتی پارٹی بنائی جائے جس سے نظام کا پہیہ درست سمت چلنے لگے۔
پارٹی ایسے جمہوری اصولوں پر ہو ،جس میں عوام کے حق انتخاب کو درست نمائندگی دی جائے۔ جو پہلے لوگوں کو حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کرنے کے آداب سکھائے اگر پنڈی اسلام آباد کے ریجن سے عوامی الیکشن ہو اور کوئی نئی قیادت عوام نے منتخب کی ہو تو شاہد خاقان عباسی اور مصطفی نواز کھوکھر منصبوں کا چکر چھوڑ کر صحت مند اپوزیشن کے ذریعے نئے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ جب لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ایک ایک ووٹ سے ہارنے والے بھی نہ صرف ایمانداری سے اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں بلکہ اپنے مدمقابل کو ایک ایسے قائد کی طرح عزت دیتے ہیں جیسے سیاسی پارٹیاں اپنے بانی قائدین کو دیتی ہیں تو ہماری سیاست کی روش پر ا سکا اچھا اثر پڑے گا۔
ایک ایسی فضاء بن جائے کہ کارکن قیادت کریں اور قائد کارکن کی طرح کام کرے تولوگوں میں جمہوریت کی اصلی اور حقیقی روح بیدا ہوگی۔ حضرت خالد بن ولید نے قیادت کا بھی حق ادا کیا اور جب قیادت سے اتارا گیا تو کارکن بن کر بھی وہ کام کیا جو ایک اچھا کارکن کرسکتا ہے۔ قوم اسی سے قوم بنے گی اور ہمیں اپنی قوم کو بنانے کیلئے ایک زبردست کردار ادا کرنا ہوگا۔ امریکہ کے صدر جب اپنے منصب سے ہٹ جاتے ہیں تو بازار میں پھل کی ریڑھی لگانے پر بھی نہیں شرماتے ہیں۔
اگر ٹریفک کا نظام ٹھیک ہوجائے تو بڑے لوگ بھی عوامی بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنے سے نہیں کترائیں گے۔ اب تو پاکستان کی سڑکیں موت کے کنویں کی ٹریننگ کراتی ہیں اور یہ خوف لگارہتا ہے کہ کب ٹریفک کی گاڑیاں ایک دوسرے پر خود کش کرتی ہیں اور انسانوں اور مسافروں کا خون بہتا ہے؟۔
پاک فوج کے اہلکاروں کو ایک دفعہ ٹریفک کے نظام کیلئے استعمال کرنا پڑے گا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور جب بگڑے لوگ سدھر جائیں گے تو ٹریفک کا نظام بہت زبردست ہوجائے گا۔ سب سے پہلےNLCکے ڈرائیوروں کو انسان کا بچہ بنانا ہوگا جن سے لوگ اتنے خوف کھاتے ہیں کہ گویا وہ موت کے شکار کیلئے سڑکوں پر نکل کھڑے ہیں۔ امید ہے کہ پاک فوج اپنے ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئےNLCکودرست ہدایات جاری کرکے ایک بنیاد فراہم کرے گی۔
سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقہ میں دریائے سندھ کا بڑا ڈیم اور پانی کا ذخیرہ بناکر اس میں بڑے پیمانے پر مچھلیاں چھوڑ دیں تو لوگوں کو اتنا روزگار مل جائیگا کہ اغواء برائے تاوان کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو تعلیم وہنر پر لگادیں گے۔ پنجاب اور سندھ کے یہ پسماندہ ترین علاقے ہیں اور پسماندہ لوگوں میں بہت صلاحیتیں ہوتی ہیں اور اقدار کے بھی پابند ہوتے ہیں۔
علماء ، ومشائخ اور دعوت اسلامی وتبلیغی جماعت کو وہاں پر تعلیم بالغاں کی خدمات سپرد کی جائے تو یہاں سے ڈکیٹ نہیں اولیاء اللہ اور علماء کرام پیدا ہوں گے۔ اگر ریاست بھی لاتعلق ہو اور لوگ بھی ان سے نفرت کریں گے تو ان کی حالت کبھی بھی نہیں بدلے گی۔ اگر زکوٰة وخیرات میں ان کو بھی ان کا حصہ دیا جاتا تو ڈکیٹ کی جگہ وہاں اچھے کاروباری انسان دوست لوگ بستے۔ اب یہ لوگوں کو سستی گاڑیوں، مرغوں اور لڑکیوں کا روپ دھار کر بلاتے ہیں اور پھر کئی کئی مہینوں تک یرغمال بناتے ہیں۔ غریب ،متوسط طبقے اور امیر لوگوں سے مال کھینچتے ہیں۔
اسی طرح طالبان کو بھی باعزت روزگار دیا جائے اور ان کو لوگوں پر چھوڑنے اور ریاست کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشنا س کرایا جائے۔اسی طرح بلوچ شدت پسندوں کو بھی اس خطے کی تعمیر وترقی کیلئے وہ اطمینان بخش مقام دیا جائے کہ بلوچ عوام کوخود اسٹیک ہولڈر سمجھ لیں اور مثبت سرگرمیوں میں لگ جائیں۔ جب پورا بلوچستان ہم نے سمگلستان بنادیا ہے تو وہاں ایک طرف سمگلر ہوں گے اور دوسری طرف پسماندہ نظریاتی کارکن اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اسمگلنگ سے وہ عزت نہیں مل سکتی ہے جو نظریاتی کارکن ، رہنما اور قائد کی حیثیت سے مل گئی ہے۔ ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی باعزت نوکری پر سیاسی کارکن اور مشکل حالات میں سیاسی قیادت کو اسلئے ترجیح دیتی ہے کہ وہ اپنی قوم کی مشکلات کو حل کرنا چاہتی ہے۔ آج بلوچستان کا حال ٹھیک نہیں ہے تو کل سندھ کے حالات اس سے بدتر ہوں گے اور پھر پنجاب میں بھی یہ ساری بیماریاں پھیل جائیں گی۔
محمود خان اچکزئی نے درست کہا ہے کہ ہمیں اپنے بلوچ بھائیوں سے ، سندھی بھائیوں سے ، سرائیکی بھائیوں سے اور پنجابی بھائیوں سے شکوہ ہے کہ ہم پشتون چالیس سالوں سے بارود ، جلاوطنی، ڈرون اور جیٹ جہازوں کی بمباری کے اندر مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن انہوں نے ہمارے لئے کبھی احتجاج نہیں کیا ہے۔ لیکن وہ بیچارے تو احتجاج کیا کرتے وہ تو پشتون قوم پر رشک کررہے تھے کہ عالمی قوتوں کو شکست دے رہے ہیں۔ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ پشتون امریکی غداروں کو ٹھکانے لگارہے ہیں۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ پشتون کو جب موقع ملتا ہے تو وہ اپنے پشتون بھائیوں کو مارنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
محسود قوم نے طالبان کی شکل میں بیٹنی قوم کو مارا اور پھر بیٹنی قوم نے طالبان کی شکل میں محسود قوم کو مارا۔ عزیزواقارب بھی ایک دوسرے کو ماررہے تھے۔دشمن اور عزیز اقارب کے حوالے سے پختون قوم کا ماحول کیسے اچھائی میں بدل سکتے ہیں جب خواتین کے حوالے سے اسلام اور پشتو کے نام پر عورت کو انسانیت اور بنیادی حقوق سے محروم رکھاجائے؟۔ افغانستان کے طالبان سے دنیا اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتی ہے بلکہ وہ افغان خواتین کیلئے حقوق کا مطالبہ کرتی ہے لیکن طالبان جس اسلام اور جس پشتون ولی کے ماحول میں رہتے ہیں وہ حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔ ایک اعلیٰ نسل یا ادنیٰ نسل کے کتے اور جانور کو بھی جب تک ایک خاص تعلیم وتربیت نہیں ملتی ہے تو وہ اچھے چال چلن سے محروم ہوتا ہے اور انسان جب اچھی تعلیم وتربیت سے محروم ہوتا ہے تو وہ جانور سے بدتر ہوتا ہے۔ قرآن نے اس کی نشاندہی بھی کردی ہے۔
پاکستان میں بلوچ، سندھی اور پشتون کے مقابلے میں ہمارے پنجابی بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم وتربیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور پاک فوج اور پنجاب پولیس کو بڑا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔
حال ہی میں بہاولنگر پولیس اور پاک فوج کے درمیان جو تنازعہ اور جھگڑا ہوا ہے اس سے معاشرے کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ پولیس نے عوام الناس کیساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھنے کا وطیرہ بنایا ہوا تھا، پھرSSGفوجی کمانڈو کے گھر کے ساتھ بھی وہی کیا تو پاک فوج نے بہاولنگر تھانوں کی پولیس کیساتھ وہ کیا جس کی تاریخ میں شاید کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔
مارکٹائی کیساتھ ساتھ ان کی ویڈیوز بھی وائرل کردی گئیں تاکہ پنجاب اور ملک بھر کی پولیس اور عوام یاد رکھے کہ ایسا بھی ہوتا ہے؟۔ لگتا یہ ہے کہ9مئی کو جناح ہاؤس لاہورکور کمانڈر کے گھر ، میانوالی ،GHQاور کرنل شیر خان شہید سمیت ملک بھر میںPTIکے کارکنوں نے جس طرح کا ردِ عمل دیا تھا اور پاک فوج نے باقاعدہ اظہار بھی کیا تھا کہ آئندہ اس قسم کوئی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پاک فوج نے اس کا بدلہ پنجاب پولیس سے بہاولنگر میں لے لیا ہے۔ پنجاب پولیس کی شاید اس میں غلطی بھی نہ ہو لیکن پنجاب پولیس نے بھی بہت سارے بے گناہوں کو ایسا رگڑادیا تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہمیں آگ کو بڑھاوا دینے کے بجائے حقائق کے تناظر میں معاملات کو حل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
جناح ہاؤس لاہور کے ایک قیدی کی ویڈیو واٹس ایپ پر وائرل کی گئی تھی جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ ” میری شلوار نکال کر پیچھے سے ٹیوب ڈالی گئی جس سے بہت شدید جلن ہوئی”۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر1سیاسی کارکن سے بہت لوگوں کو انسانی ہمدردی ہوسکتی ہے لیکن جب کورکمانڈر ہاؤس پر دھاوا بول دیا گیا تھا تو اس کی سزا بھی بنتی تھی۔ اگر لوگوں کو اجازت دی جائے تو پھر یہ حقیقت ہے کہ شرپسند عناصر سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
گناہگاروں کیساتھ جو ہونا تھا وہ ٹھیک ہوا لیکن بے گناہ کیوں رگڑے میں آگئے؟۔ اس کی بھی ایک وجہ تھی کہPTIکا رہنما، کارکن اور ہمدرد پہلے پاک فوج سے جتنی محبت رکھتاتھا تو بھی مثالی تھی اور جب معاملہ الٹ ہوگیا تو بغض بھی مثالی تھا۔ جب مریم نواز کے ہوٹل کا دروازہ توڑا گیا تھا تو سندھ پولیس نے استعفیٰ دینا شروع کردیا۔PTIکے ہمدرد کہہ رہے تھے کہ پاک فوج کو چاہیے کہ سندھ پولیس ہی نہیں پورے پاکستان کی پولیس کی چھٹی کرکے تھانوں میں خود بیٹھ جائے۔ پولیس ظالم ہے اور پاک فوج خود انصاف فراہم کرسکتی ہے۔ پولیس کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا ہے لیکنPTIکے کارکنوں کی پاک فوج سے لازوال محبت دیدنی ہوا کرتی تھی۔ پھر جب اس محبت کا پانسہ پلٹ گیا تو پاک فوج کی ساری اچھائیاں برائیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ عمران خان نے میرجعفر اور میر صادق کا نام لیا اور پھر کہا کہ میری مراد پاک فوج کی قیادت نہیں تھی بلکہ سیاسی قیادت زرداری اور شہباز شریف کو یہ القاب دے رہا تھا لیکن ارشد شریف شہید نے عمران خان کی محبت میں ملک کے کونے کونے سے16مقدمات کا سامنا کیا۔ آخر کار دیار غیر میں وہ جان کی بازی بھی ہارگئے مگر اپنے مؤقف سے باز نہیں آئے ۔
عمران ریاض خان کا پیمانہ بھی الٹ گیا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے بھی معافی مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا جھوٹا الزام لگایا تھا تو مولانا سے بھی معافی طلب کرنی چاہیے۔ جب اسد علی طور نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے انٹرویو لیا تو مسلم لیگ ن کی ہمدردیاں ختم ہوگئیں کہ بلو چ باغی کو اہمیت کیوں دی ؟۔ پھر اسدطور کھڈے لائن لگا دیا ہے۔
محلہ داری سے لیکر قوموں ،قبیلوں اور ملکی سطح پر ایسا ہلا بول دیا جاتا ہے جس طرح پاک فوج کے اہلکاروں نے بہاولنگر میں پنجاب پولیس کیساتھ کیا ہے لیکن اصل معاملہ نظر انداز کرنے کے لائق نہیں ہے۔ صحافی عمر چیمہ نے بتایا کہ پولیس نے ناکہ لگایا تھا اور ایک موٹر سائیکل سوار کو ڈاکو کے خطرناک علاقہ سے پکڑلیا جس سے اسلحہ پکڑا گیا اور دوسرا موٹر سائیکل والافرار ہونے میں کامیاب ہوا جس کا پیچھا کیا تو وہ فوجی افسر کا گھر تھا اور وہاں پولیس کو یرغمال بنالیا گیا۔ پھر پولیس نے اپنا سخت رد عمل دکھایا اور فوجی اہلکاروں کو تھانے میں بند کردیا۔ پھر فوج کی طرف سے ردعمل میں پولیس پر تشدد کیا گیا۔ پولیس کے خلاف پرچہ کٹ گیا لیکن فوجی اہلکاروں کے خلاف پرچہ نہیں کٹا۔
پولیس کی طرف سے یہ آڈیو وائرل ہورہی ہے کہ دو فوجی ڈاکو کیساتھ برا سلوک کرنے پر ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے اور اس بات کی تحقیقات بہت ضروری ہیں۔ جب سکیورٹی اہلکار پولیس اور فوجی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تو پھر اس ملک کو بچانا بہت مشکل ہے۔ عوام سے لیکر خواص تک ، سپاہیوں سے لیکر افسران تک اور اداروں سے لیکر سیاسی پارٹیوں تک کا ضمیر جب مرجائے تو ایک بڑے انقلاب کی ضرورت پیش آتی ہے اور پاکستان ہی نہیں پوری دنیا اس دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
ہماری مین اسٹریم میڈیا تک رسائی نہیں ہے۔ پولیس اور فوج سے لیکر سرکار کے تمام اداروں میں بہت اچھے لوگ موجود ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں ، رہنماؤں اور قائدین میں اچھے لوگ ہیں۔ سب کی خوبیاں اب خامیوں میں اسلئے بدل رہی ہیں کہ اس نظام میں بہت زیادہ خرابیاں ہیں۔ چاپلوسی کی انتہاء کرنیوالے صحافتی اداروں کو نوازا جائے گا تو اخلاقیات کی تباہی نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ سارے میڈیا کو ببانگ دہل اس بات کی ضرورت تھی کہ بہاولنگر واقعہ کے حقائق کو عوام الناس کے سامنے لایا جائے اور اصل مجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ مٹی پاؤ کی پالیسی سے یہ ملک تباہی کی طرف جائیگا۔
مذہبی شخصیات ، مسالک اور فرقوں کو ایک دوسرے سے قریب لایا جائے۔ سیاسی پارٹیوں میں دوری کی فضاء ختم کردی جائے۔ غلطیوں کو برملا مانا جائے اور سرعام توبہ کی جائے۔ اس ملک وقوم میں جزا وسزا کا یکساں قانون بنایا جائے۔ رسم رواج اور طاقتوروں کا لحاظ کرنے کے بجائے جس کی زیادہ ذمہ داری ہو تو اس کو زیادہ بڑی سزا دی جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن اسلام کے رکھوالوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے۔
اگر بیداری کی لہر نہیں دوڑائی گئی تو پھر ملک وقوم کی موت واقع ہوجائے گی۔ اب مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے جب بھی ملک کو قرضہ ملتا ہے تو اشرافیہ کے اللے تللے بڑھ جاتے ہیں اور عوام پر مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ اگر عوام آپے سے باہر ہوگئی تو پھر کوئی سیاسی قیادت، ادارہ اور مذہب اس کو سہارا نہیں دے سکے گا اسلئے ہمیں اصلاحِ احوال کی طرف آنا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

اسرائیل کے وجود سے بہت پہلے جب بیت المقدس عیسائیوں کا مرکز تھا تو اللہ اپنے بندے رسول اللہ ۖ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جہاں کا ماحول بڑابابرکت تھا

اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھاجس کا معنی اللہ کا بندہ۔ آج اسرائیل بیت المقدس کو اپنے مذہبی رنگ میں رنگ رہا ہے اور سعودی عرب اپنی حکومت کو مغرب سے رنگ رہا ہے

آج دنیا میں بڑا مسئلہ فلسطین ہے۔ دوسرا شیعہ سنی تنازعہ ہے۔ تیسرا مذہبی و سیکولر طبقات کے درمیان چپقلش ہے۔ چوتھا مسالک کے درمیان قرآن وسنت پر لڑائی ہے۔ ……….
جب برصغیر پاک وہند میں ہندو مذہب اپنے ویدوں اور مسلمان قرآن سے ہٹ گئے تو بابا گروہ نانک نے نئے الہامی مذہب کی بنیاد ڈالی ،پھر30لاکھ سکھوں نے7کروڑ لوگوں پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ جن میں مسلمان اور ہندو شامل تھے۔
آج اسرائیل فلسطین پر مظالم کے پہاڑ ڈال رہاہے لیکن مسلمان بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بھی مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے اسلئے کہ اسرائیل کی پشت پر امریکہ اور مغربی ممالک کھڑے ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا گیا تو بھی مسلم ممالک مغربی ممالک کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تھے۔
فلس عربی میں پیسے و کرنسی کو کہتے ہیں جس کی جمع فلوس ہے اورطین مٹی کو کہتے ہیں۔ فلسطین کے معنی کرنسی کی مٹی ہے۔ جب مسلمان اپنی زمینیں فلسطین میں یہودیوں کو بیچ رہے تھے تو یہود اپنے مذہب کیلئے قربانی دے کر زمینیں بہت مہنگی قیمت میں ہی خرید رہے تھے اور مسلمان مہنگی قیمت وصول کرکے اپنی زمینوں کو بیچ رہے تھے۔ یہود محنت کرکے زمینوں کو آباد کررہے تھے مگر مسلمان امام مہدی کی توقع پرہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے تھے۔ عبدالغفار خان نے فلسطینیوں کو پٹھانوں کی طرح قرار دیا تھا۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو جگانے کیلئے بہت نصیحت کی کہ ”تو خود تقدیر یزداں ہے” مگر کسی نے کان نہیں دھرے، ہم نے اسلام کے نام پر ہندوستان کو تقسیم کردیا،پھرآدھا پاکستان بھی ہاتھ سے نکل گیامگر کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملہ کیا تو پاکستان اور ایران نے کیا کردار ادا کیا؟۔ سنی اور شیعہ دونوں امریکہ ہی کیلئے استعمال ہوگئے۔ پاکستان اور ایران سے فلسطین کیلئے کسی قسم کی کوئی توقع رکھنا دل بہلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پاک فوج کی چھاؤنیوں کے پاس انگریز دور میں لال کرتیاں بنائی گئی تھیں جن میں غریب نائی، دھوبی، موچی وغیرہ رہائش پذیر ہوتے تھے اور فوج کے افسروں و سپاہیوں کو خدمات مہیا کرتے تھے۔ جیسے بڑے شہروں میں غریبوں کی کچی آبادیاں ہوتی ہیں اور وہاں سے امیر طبقے کومزدور، چوکیدار اور ماسیاں ملتی ہیں۔
فلسطین دو حصوں میں تقسیم ہے۔ بیت المقدس کے پاس فلسطین کا بڑا حصہ ہے اور غزہ کی پٹی فلسطین کا چھوٹا حصہ ہے۔ جب1948میں عسقلان شہر میں مسلمان اپنا گھر بار، زمینیں اور کاروبار بیچ باچ کر مکمل طور پر چلے گئے تو اسرائیل نے اس کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا ۔اس سے پہلے بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت اس شہر میں موجود تھی ،عسقلان غزہ کی پٹی کے بالکل قریب ہے،عسقلان میں شراب وکباب اور فحاشی کی سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں نے وہاں سے جانا پسند کیا تھا۔
غزہ کی پٹی سے مسلمانوں نے ایک طرف یہودیوں کے ہاں کلاس فور ٹائپ کی نوکریاں تلاش کرنی شروع کیں اور پھر دوسری طرف اچانک بڑے پیمانے پر حملہ کر کے اسرائیل کے یہودیوں کو موقع فراہم کردیا کہ اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے عالم انسانیت اور مسلمانوں کا ضمیر چیلنج کردے۔ عیسائی ممالک میں طاقت ہے لیکن وہ اسرائیل کیساتھ کھڑے ہیں اور مسلمانوں کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر طاقت نہیں رکھتے۔
آج اگر اسرائیل اعلان کردے کہ مفتی محمد تقی عثمانی وغیرہ کو جہاد کیلئے ہم غزہ جانے کی اجازت دیتے ہیں یا خود ہی پہنچا دیتے ہیں تو صورتحال بہت واضح ہوجائے گی لیکن ایک طرف سودی بینکاری سے اسلامی بینکاری کے نام پر مسلمانوں کو مکمل غلامی کی طرف دھکیلا جارہاہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا خون بہا کر انسانیت کے ضمیر کو مارا جارہا ہے۔ آج عیسائیوں کو اپنے بیت المقدس اور حضرت عیسیٰ و حضرت مریم کے خلاف یہود کے گھناؤنے عزائم پر غیرت نہیں آرہی ہے تو کل جب وہ مدینہ اور مکہ پر قبضہ کرلیں گے تو مسلمانوں کیلئے کیوں غیرت آئے گی؟۔ عالمی اسلامی خلافت کے قیام کا خوف اہل مغرب کے دلوں میں چھایا ہواہے اسلئے وہ مسلمانوں کو انکے مراکز مکہ ومدینہ سے محروم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں۔
وزیرستان میں ایک ایسی قوم یا قبیلہ یا شاخ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ”وہ کسی کی بھی زمین پر اپنی حق ملکیت کا دعویٰ کرنے کیلئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہاں ہمارے اجداد کی بیٹھک رہی ہے”۔ ایک طرف مسلمانوں کی روایات میں ہے کہ کچھ عرصہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ رہاہے اور پھر انہوں نے اپنا رخ اللہ کے حکم سے کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا۔اس بنیاد پروہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ اول قرار دیکر اس پر اپناہی حق سمجھتے ہیں۔پھر بات یہاں تک محدود نہیں رہتی ہے بلکہ وہ تمام غیر مسلم افراد کی بیگمات کو بھی چھین لینے اور ان کو اپنی لونڈیاں بنانے کا شرعی حق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حال یہ ہے کہ افغانستان و دیگر ممالک میں مسلمان اپنی خواتین کی عزتیں نہیں بچاسکے ہیں اور اگر معاملات بگڑگئے تو بہت خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
شیعہ سنی تنازعہ اس حد تک ہوتا کہ انصار وقریش میں جب مسئلہ خلافت پر اختلاف جائز تھا اور پھر خاندانی بنیادوں پر یزید اور بنوامیہ وبنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کا قبضہ رہا تھا تو حضرت علی اور آپ کے خانوادے کا خلفاء راشدین ابوبکر، عمر اور عثمان سے بھی زیادہ حق تھا تو بات بالکل جائز اور قابل فہم ہے اسلئے کہ جب انصار خلافت سے اس بنیاد پر محروم ہوگئے کہ قریش نہیں تھے تو باقی قریش کے مقابلے میں علی کے حق کی بات بھی اسلامی تعلیمات اور صحابہ کرام کی ذہنیت کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ جب مسلمانوں کے اقتدار کی نفی کردی جائے کہ علی کی جگہ کفار نے خلافت پر قبضہ کرلیا تو پھر اللہ نے جو اہل ایمان سے وعدہ کیا تھا اور اہل ایمان صرف اہل بیت اور چند صحابہ تھے اور میرے نصیب کی بارش کسی اورکے چھت پر برس گئی تو اس سے قرآن اور اسلام کی بالکل نفی ہوجاتی ہے جس میں اہل بیت نہ صرف مظلوم بلکہ شریک جرم بھی جاتے ہیں۔ حسن اللہ یاری کا اپنا شجرہ معلوم نہیں اور دوسروں سے تعارف کو ضروری سمجھتا ہے لیکن اس کو شیعہ بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ قرآن سے دُوری ہے اور قرآن سے دوری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عام مسلمان اس کے مجرم اور قصور وار ہیں۔ غلام احمد پرویز اور مولانا طاہر پنج پیری کے شاگرد لوگوں کو قرآن کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی امت مسلمہ راہِ ہدایت کی طرف نہیں آسکتی ہے اسلئے کہ اصل معاملہ قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھاہے کہ ” قرآن کی معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا مغالطہ سے ”۔ اس پر قاضی عبدالکریم کلاچی نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک سے سوال پوچھا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
قرآن میں لفظی تحریف کی مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ نے زانیہ اور زانی کیلئے100،100کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ آیت رجم الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما ”جب بوڑھا اور بوڑھی زنا کریں تو دونوں کوسنگسار کرو”سورہ احزاب میں تھی اورسورہ بقرہ جتنی سورہ احزاب بھی تھی۔ پھر کم ہوتے ہوتے آدھی رہ گئی۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آیت رجم اور بڑے شخص کا کسی عورت کا دودھ پینے پر رضاعت ثابت ہونے کی آیات نبی ۖ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے پڑی تھیں اور بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ (کتاب رضاعت کبیرابن ماجہ)
علامہ غلام رسول سعیدی نے نعم الباری شرح صحیح البخاری کتاب الخلع میں یہ بھی لکھا ہے کہ ” شافعی مسلک کے معروف عالم کے نزدیک آیت خلع سورہ بقرہ:229منسوخ ہوگئی ہے سورہ النساء آیت:20آیت طلاق کی وجہ سے ”۔
مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان اور مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان نے لکھا ہے کہ ” سورہ النساء میں اللہ نے عورتوں پر فحاشی کے ارتکاب میں چار گواہوں کے بعد گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا ہے تو اسی سے سنگساری کا حکم ثابت ہوتا ہے”۔
قرآن کے تراجم اور تفاسیر ایسے کئے گئے ہیں کہ علماء کرام کو خود بھی ان سے راہ ہدایت نہیں ملتی ہے اسلئے وہ امام مہدی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئیں گے تو ہدایت نصیب ہوگی۔

شریعت اور بربریت
جب تک قرآن کی درست تعلیمات کو فروغ نہیں بخشیں گے اس وقت تک مسلمانوں کے اپنے حالات بھی نہیں سدھر سکیں گے اور غیر مسلم بھی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہیں گے اسلئے بہت ضروری ہے کہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہمارا باشعور طبقہ قرآن وسنت کو سمجھ کر جاہلیت سے نکال باہر کرے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چند وضاحتیں کردی ہیں۔
1: وانزلنا الکتاب تبیانًا لکل شئی ” اور ہم نے کتاب کو نازل کیا ہے ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے”۔
2:ولوکان من عندغیراللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت سارا اختلاف (تضادات) پاتے”۔
3: وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہٰذا القراٰن مھجورًا ” اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ”۔
4:قل انی انا النذیرالمبینOکما انزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOلنسئلنھم اجمعینO” کہہ دو کہ میں کھلا ڈارنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے بٹوارہ کرنے والوں پر۔ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا ۔ہم ضرور ان سب سے پوچھ لیں گے”۔
ہمارے ہاں کی فرقہ واریت اور مسلک سازی کے نام پر تباہ کاری اور ہلاکت خیزی کی مِلیں اور فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ شیعہ سنی، حنفی شافعی ، مقلدو غیر مقلد اور اہل حدیث واہل قرآن کے نام پر بہت سارے فرقے اور مسالک نے اسلام کا بیڑہ غرق کردیا ہے اس کی ایک ادنیٰ مثال سمجھنے کی کوشش کریں!

نکاح وطلاق میں کھلواڑ
اللہ تعالیٰ نے نکاح اور طلاق کے مسائل قرآن میں واضح انداز میں بیان کئے ہیں لیکن نکاح وطلاق کے حوالے سے ہمارا مسلمان عورت کیساتھ اسلام کے نام پر جتنے مظالم روا رکھتا ہے اور جس طرح کے ظالمانہ وجابرانہ مسائل ایجاد کئے ہوئے ہیں ان کا تصور بھی بہت بھیانک ہے۔ جب ایک پٹھان اپنی بساط سے بڑھ کر20،25لاکھ میں ایک بیوی خرید لیتا ہے تو پھر اس کیلئے ناممکن بن جاتا ہے کہ وہ یہ تصور بھی رکھے کہ اس کو خلع کا حق دے۔ اگر ایسا ہوگا تو پھر لوگ عورت کو کاروبار بناکر پیسے بٹوریںگے اور نکاح وخلع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اسلئے وہ ایک ہی بار میں سودا کرلیتے ہیں۔ ابھی بعض لوگوں نے یہ بھی سلسلہ شروع کردیا ہے کہ لڑکی کو بیچ کر کئی کئی بار واپس لینے کیلئے اور بار بار بیچنے کو دھندہ بنالیا ہے۔ پنجاب میں جہیز بھی دیا جاتا ہے اور حق مہر بھی برائے نام ہوتا ہے لیکن عورت کو پھر بھی خلع کا حق حاصل نہیں ہوتا ہے۔ ایک شوہر جب چاہتا ہے تو زندگی بھر کیلئے عورت کو بسانے اور طلاق دینے سے محروم رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ عورت کیساتھ اسلام کے نام پر وہ ظلم وجبر ہوتا ہے جو فلسطین اور کشمیر کے مسلمان یہود اور ہندو سے اس طرح کا ظلم وجبر روا رکھنے کا چتصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جب میاں بیوی راضی ہوتے ہیں تو پھر پٹھان اور پنجابی کے غلط رسومات خاطر میں نہیں لائے جاتے ہیں لیکن جب معاملہ لڑائی جھگڑے اور طلاق تک پہنچ جاتا ہے تو پھر ان ظالمانہ وجابرانہ مسائل کا تصور سامنے آتا ہے کہ دنیا کے کسی ملک اور مذہب میں اس کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ عورت کو بلیک میل کرکے خلع کے نام پر اس سے منہ مانگی رقم بٹوری جاسکتی ہے۔ اس کو طلاق نہ دینے کی صورت میں زندگی بھر رلایا جاسکتا ہے۔ باپ اپنی کم سن لڑکی کا نکاح کرے تو بلوغت کے بعد بھی اس کی مرضی سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے۔ باپ کے علاوہ کوئی کم سن لڑکی کا نکاح کردے تو بلوغت کے فورًا بعد اس کو اختیار مل جاتا ہے لیکن بر وقت اس کو معلوم نہ ہو اور اپنے اختیار کا استعمال نہ کرے تو زندگی بھر وہ حق سے محروم ہوجاتی ہے۔ اگر زبردستی سے اس کا نکاح کیا جائے اور اس کا کوئی عربی خاندان نہ ہو تو اس کیلئے شوہر سے طلاق لئے بغیر چارہ نہیں ہے ۔اگر شوہر3طلاق دے اور مکر جائے تو عورت کیلئے2گواہ لانا لازم ہیں۔ اگر گواہ نہ ہوئے تو عورت کو خلع لینا لازم ہے لیکن شوہر خلع نہ دے تو عورت حرام کاری پر مجبورہے ۔پھر وہ مباشرت میں لذت نہ اٹھائے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

وانکحوا الایامٰی منکم و الصٰلحین من عبادکم و امآئکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ و اللہ واسع علیم (32) ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحاً حتیٰ یغنیھم اللہ من فضلہ و الذین یبتغون الکتٰب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتٰکم ولا تکرھوا فتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیٰوة الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم(33)

اورنکاح کراؤ جو تم میں سے بیوہ و طلاق شدہ ہیں اور جو تمہارے صالح غلام ہیںاور لونڈیاں ہیں اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گااور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اور جو نکاح تک نہ پہنچیں تو وہ لوگ خود کو پاکدامن رکھیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے مستغنی کردے۔ اور جو کتابت چاہتے ہوں تمہارے ساتھ معاہدہ کرنے والوں میں سے تو ان کے ساتھ کتابت کرو اگرتم ان میں خیر جانواور ان کو مال دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور مجبور مت کرو اپنی جوان لڑکیوں کو بغاوت پر اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم چاہو دنیا کی زندگی کا مقام اور جو ان لڑکیوں کو مجبور کرے گا تو بیشک ان کی مجبوری کے بعد (ناجائز ہونے کے باوجود ان سے اللہ درگزر کرے گا) اللہ غفور رحیم ہے۔ (سورہ النور آیات33-32)قرآن کی ان آیات سے ایک بڑا اور متفقہ انقلاب بھی آسکتا ہے

مفتی منیر شاکر ایک نابغہ روز گار شخصیت ہیں لیکن ان سے اپنے اور پرائے سب ناخوش ہیں ۔ جس نے بھیک مانگنے کے بجائے اسلام آباد میں دیہاڑی اور مزدوری کی ہے اور برف بھی بیچنے کا کام کیا ہے اور دوسرے چھوٹے روزگار بھی کئے ۔
کرم ایجنسی میں شیعہ سنی منافرت مذہبی طبقات کو ورثے میں ملتی ہے اور اس کا مفتی منیر شاکر بھی کبھی شکار رہے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے بلکہ ماحول اثر انداز ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کا تعلق ایک طرف دیوبندی حنفی مکتب سے رہاہے اور دوسری طرف وہ اشاعت التوحیدوالسنة کے بھی شیر رہے ہیں تو اس ماحول کا بھی ان پر بہت بڑا اثر رہاہے۔ اب تو جس طرح صوفیاء تصوف کی منزلیں طے کرکے لامکاں تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح مفتی صاحب نے بھی منزلیں طے کی ہیں۔
مفتی منیر شاکر پر سب سے بڑا اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ وہ احادیث کے منکر ہیں اور عام روش کی مخالفت کرتے ہیں۔
جسٹس شوکت صدیقی نےISIکے خلاف تقریر کرکے جو شہرت حاصل کرلی ہے اور اب عدالت نے ان کو بے گناہ بھی قرار دیا ہے۔ وہ ایک مذہبی شخصیت بھی خود کو سمجھتے ہیں اور اس نے جماعت اسلامی کی بھی حال میں تعریف کی ہے ۔ جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے ایک دن کہا کہ ” جو لڑکی بھاگ کر والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرتی ہے تو یہ اسلام کے بھی خلاف ہے”۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک دن ججوں نے یہ حرکت انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے لڑکے سے پوچھاکہ ”اگر تمہاری بہن کسی کیساتھ بھاگ کر شادی کرلے تو اچھا لگے گا؟”۔ لڑکی کا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا پاکستان و بھارت کے علاوہ شاید دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔
ایک طرف انگریز کی عدالت نے انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو اپنی مرضی کا مالک قرار دیا تودوسری طرف حنفی مسلک نے واضح حدیث اور مشرقی روایات واقدار کو پامال کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو والدین سے بغاوت کی کھلی اجازت دی ہے اور حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا ہے۔
پہلے لوگ امام ابوحنیفہ کے متعلق کہتے تھے کہ منکر حدیث ہے اور آج مفتی منیر شاکر کو منکر حدیث قرار دے رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درس نظامی اور حنفی مسلک میں جو پڑھایا جاتا ہے تو کیا ایک قابل آدمی متاثر نہیں ہوسکتا ہے؟ اور جب کوئی بھی اپنے ماحول سے متأثر ہوسکتا ہے تو مفتی منیر شاکر پر سوشل میڈیا میں مذہبی طبقے کی طرف سے لعن طعن کرنا غلط نہیں ہے؟۔ مفتی منیر شاکر کے لہجے میں تلخی ہوسکتی ہے لیکن جب تک ان کو دلائل سے قائل نہیں کیا جائے تو اپنا لہجہ بھی کسی کی مخالفت سے کیوں بدلے گا؟۔ شیعہ نے صحابہ کرام پر اپنے لہجے کو مخالفین کی وجہ سے کبھی بدلا ہے؟۔ حنفی اہلحدیث نے اپنا لہجہ بدلا ہے؟۔ بریلوی دیوبندی نے ایک دوسرے کے خلاف اپنا لہجہ بدلنے کی طرف کبھی پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ؟۔
لاہور کی شہری قنوت کا بچپن سے عمیر کیساتھ معاشقہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ عمیر سنی اور قنوت شیعہ ہو۔ بہرحال والدین نے اس کا نکاح علی رضا کیساتھ کردیا تھا جو کینیڈین شہری تھا۔ جب ان کے دو بچے بھی پیدا ہوگئے تو قنوت نے علی رضا کو پاکستان بھیج دیا اور عمیر سے قتل کرنے کی فرمائش کی تاکہ بچپن کی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ علی رضا قتل ہوگیا اور سازش پکڑلی گئی۔ دعا زہرہ نے ایک سنی لڑکے سے محبت کی شادی کی تھی اور اس کیس کو پہلے میڈیا میں بہت غلط رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی لیکن آخر کار بہت مشکلوں سے معمہ سب کی سمجھ میں آگیا۔
بعض لوگوں نے200تک روایات کا کہا ہے کہ حد تواتر تک پہنچتی ہیں کہ” ولی کی اجازت کے بغیر نبی ۖ نے عورت کے نکاح کا منع فرمایا”۔ جب ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر نکاح کرتی ہے تو بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوتاہے۔ کورٹ میں مار کٹائی اور قتل وغارت تک بات پہنچ جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی سنجیدہ حل پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایاکہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ پھر حنفی مسلک نے اس حدیث کو کیوں مسترد کردیا تھا؟۔ حالانکہ جمہور مالکی، شافعی،حنبلی،جعفری اور اہل حدیث کا یہی مسلک ہے۔ اسلئے پڑوسی ایران اور سعودی عرب اوردوبئی کی عدالتوں میں اس طرح کے کیس نہیں ہوتے ہیں۔ البتہ وہاں کی لڑکیاں بیرون ملک کسی کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں تو یہ الگ بات ہے۔
پاکستان وبھارت میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے اسلئے عدالتوں میں لڑکی کی طرف سے والدین سے بغاوت کا معاملہ چلتا ہے۔ سعودی عرب اور دوبئی وغیرہ کے خلاف انسانی حقوق کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اسلئے نہیں اٹھتا ہے کہ عرب ممالک میں حنفی مسلک کا ماحول نہیں ہے اور ان کے مذہبی طبقات بھی اپنا ماحول احادیث کے مطابق بناتے ہیں کہ والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کا تصور باطل اور غلط ہے۔ جب قرآن کی بنیاد پر حدیث کو مسترد کیاگیا کہ اللہ نے فرمایا : حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ تو اس آیت سے عورت کی خود مختاری ثابت ہوتی ہے ۔ حدیث خبر واحد ہے اسلئے عورت کو ولی کی اجازت کا پابند نہیں بناسکتے۔ حنفی مسلک کی ٹریننگ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں حدیث کی تطبیق نہ ہوسکے تو حدیث کو مسترد کیا جائے گا لیکن اگر قرآن کی مخالفت نہ ہو تو ضعیف حدیث بھی قابل عمل تصور کیا جائے گا۔
اس آیت میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے ۔ حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے تو قرآن وحدیث میں تطبیق موجود ہے۔ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جب ہمیں پڑھارہے تھے تو میں نے ان کے سامنے یہ تطبیق رکھی تھی اور اس پر انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایاتھا۔ اور امید ظاہر کی تھی کہ میں معاملے کے حل تک آئندہ پہنچ جاؤں گا۔
سورہ نور آیت32میں طلاق شدہ ،بیوہ ، غلام اور لونڈیوں کے نکاح کا حکم دیا اور آیت33میں کنواری لڑکیوں کا حکم دیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور مت کرو۔ عربی میں بغاء کے دونوں معانی آتے ہیں۔ کنواری لڑکی کو اگر اس کی مرضی کے نکاح سے روک لیا جائے تو وہ چھپ کر بدکاری کرے یا کھل کر بغاوت کرے تو اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم دنیا میں ٹکر کا رشتہ چاہتے ہو اور اپنی توہین سمجھتے ہوکہ دنیاوی حیات میں اپنی لڑکیوں کا اس سے رشتہ کراؤ اور پھر مجبور کرتے ہو کہ اس کے ٹکر والے سے رشتہ کراؤ ۔ اگرچہ لڑکی کوزبردستی سے مجبور کرنا غلط ہے لیکن اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اس تعلق کو ناجائز نہیں قرار دیا جائے گا۔ سورہ نور کی اس آیت میں عورتوں پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے کہ ایک طرف اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو پھر تمہیں ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور کرنا غلط ہے۔ لڑکی کو کھل کر بغاوت یا چھپ کر نکاح کی اجازت بھی نہیں ہے اور زبردستی سے کسی اور سے نکاح پر مجبور کرنابھی غلط ہے لیکن عورت کو مجبورکرنے کے بعد اللہ نے خود کو غفور رحیم قرار دیاہے۔ قرآن کی طرف توجہ نہیں کی گئی ہے۔
دورِ جاہلیت کے مشہور شاعر امرء القیس نے جب چچا سے اس کی لڑکی لیلیٰ کا رشتہ طلب کیا ،جس کیساتھ بکریاں چراتے ہوئے اس کی محبت ہوگئی تھی تو یہ محبت بہت بڑا جرم بن گئی تھی۔ قیس مجنون بن گیا لیکن اس کو لیلیٰ نہیں مل سکی۔ پطرس بخاری کا ایک مضمون مچھر ہم نے سکول کے نصاب میں پڑھا تھا اس میں مچھر پربہت زبردست باتیں لکھی تھیں کہ نمرود کو بھی اس نے مار دیا تھا۔ ساری دنیا اس کے خلاف سازش کرتی ہے کہ اس کا وجود بھی دنیا میں نہیں رہا لیکن جہاں اور جس فیکٹری میں بھی اسکے نابود کرنے کے منصوبے بنتے ہیں وہیں پر منصوبہ سازوں کو مچھر ہاتھ پر کاٹ لیتے ہیں۔ آج کے دور میں پطرس بخاری مضمون لکھتا تو اس میں مزاح کے علاوہ دوسری طرح کا مصالحہ ڈال دیا جاتا کہ فرانس اور ترقی یافتہ دنیا نے ایسی ادویات ایجاد کی ہیں کہ اس میں بدبو بھی نہیں ہے اور6،6ماہ اور سال تک مچھر کمرے میں آنے کا رسک نہیں لے سکتا اور لے لیتا ہے تو اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ لیکن ایک تو ترقی پذیر ممالک کو ترقی سے روکنے کیلئے وہ اچھے فارمولے نہیں بتاتے لیکن اگر وہ یہ مہربانی کر بھی لیں تو ہمارے مریضوں کو بھی جعلی ادویات سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے تو مچھروں کے خاتمے کیلئے اصلی دوائی کون بنائے گا؟۔ خیر پطرس بخاری نے مچھر کے مضمون میں لکھاہے کہ ”ایک بزرگ کہتا تھا کہ میں دل سے مچھر کو پسند کرتا ہوں۔ سب سے پہلے وہ میرے ایک کان میں سائرن بجاتا ہے ۔ پھر دوسرے کان میں اور پھر پیر پر ہلکا کاٹتا ہے۔ پھر زور سے کاٹتا ہے اور پھر ہاتھوں کو بھی کاٹنا شروع کردیتا ہے اور منہ کو بھی پھر نہیں چھوڑتا ہے۔ جب تک تہجد کیلئے اٹھنے پر مجبور نہیں کرتا تو پیچھا نہیں چھوڑتا ہے۔ لیکن پھر مچھر تھوڑا سا شرمندہ ہوجاتا ہے کہ جب اس کو یاد آتا ہے کہ وہی بزرگ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو سجدے کی حالت میں بھی اس کو پیر پر زور زور سے کاٹنا شروع کردیتا ہے”۔ مفتی منیر شاکر احادیث کا انکار کردیتا ہے تو شیعہ بھی خوش ہوتا ہے کہ ابوطالب پر بخاری میں کفر کا مسئلہ بھی غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ پھر میں قرآن کا حوالہ دوں گا کہ بعثت کے وقت اہل کتاب بھی پہلے سے مسلمان تھے۔ جب نبی ۖ کی بعثت ہوئی تو بھی دو قسم کے لوگ تھے ۔ ایک وہ تھے جنہوں نے اس خوف سے بھی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا کہ جاہل عرب ہمیں اپنی زمین سے اچک کر غائب کردیں گے۔ جیسے آج کل کلمہ حق بلند کرنے والوں کو بھی اٹھالیا جاتا ہے۔انور مقصود نے اپنے اچکنے کی تردید کرلی لیکن اس کی تردید پر بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے؟۔ ایک بلوچ نے بلوچستان کی معروف کوچ سروس کی حیثیت سے بڑی شکایت کی تھی کہ ہمیں سمگلنگ پر مجبور کیا جارہاہے اور پھر اسنے تردید بھی کرلی ہے کہ میں نے فرط جذبات میں کرنل وغیرہ کے نام لے لئے ہیں۔
اب تو بشام میں چینیوں پر خود کش حملہ کرنے کا ذرائع سے بتایا جارہاہے کہ ” افغانستان سے چمن بارڈر پر بارود سے بھری ہوئی کار چمن کے بارڈر پر آئی ۔ پشین، کچلاک ، مسلم باغ اور بلوچستان کے طویل راستے کو طے کرکے درہ زندہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی۔ پھر پشاور، مردان سے ہوتے ہوئے کوہستان کی سرحد پر پہنچی اور بشام میں اپنا ٹارگٹ پورا کرلیا”۔ گویا یہ پورا پشتون بیلٹ اس میں ملوث ہے۔ عورت مارچ والی بہت ہی مزاح کے انداز میں فرماتی ہیں کہ ” ہم گنا ہگارعورتیں”۔ پشتون کو بھی چاہیے کہ وہ پلے کارڈ اٹھائیں اور اس پر جلی حروف کیساتھ یہ لکھ دیں کہ ” ہم گناہگار پشتون ”۔ اسلئے کہ جب ادلے بدلے کی جنگ لڑی جائیگی تو امریکن ڈرون ہونگے۔ جٹ طیارے ہونگے بمباریاں ہونگی۔ خود کش حملہ آور کے اہل وعیال کو تباہ وبرباد کیا جائیگا۔ جس طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا تھاکہ ” ایران میں جو مارے گئے ،انکے لواحقین یہاں پر موجود ہیں”۔ پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے عالم زیب محسود کے ساتھ کوئی تصدیق کرے گا کہ ہمارے والے مارے گئے۔
اب گوادر میں مارے جانے والے حملہ آوروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو بلوچ مسنگ پرسن تھے۔ سرکار اور خرکار کی لڑائیوں میں عوام الناس کی خیر نہیں ہے۔ جہاں تکCTDپولیس کے اس الزام یا حقیقت کا تعلق ہے کہ بلوچستان سے سمگلنگ کی گاڑی30سے35تک ہر ماہ جاتی ہیں تو اس میں صداقت اسلئے ہے کہ مولانا خان محمد شیرانی صاحب کو جلوس کی شکل میں بلوچستان سے خیبر پختونخواہ لے جایا جاتا تھا تو اس میں کسٹم کے بغیر گاڑیوں کے سمگلر بھی اپنا کام دکھاتے تھے۔
کراچی کے لوگوں کو سوات میں گاڑیوں کا سامان سستا مل جاتا ہے۔ سوات میں کسٹم کے بغیر گاڑیاں حکومت کی اجازت سے نہیں بلکہ سمگلنگ سے ہی آتی ہیں اور سمگلنگ افغانستان کی سرحد لنڈی کوتل سے نہیں بلوچستان سے بھی ہوتی ہے۔
جب اللہ کا فضل میسر آتا ہے تو پڑھے لکھے اور ان پڑھ بھی برابر ہوجاتے ہیں۔ جب عذاب آتا ہے تو بروں کیساتھ اچھے بھی کشتی میں ڈوب جاتے ہیں اسلئے کہ جب کشتی میں سوراخ کرنے والوں کو نہیں روکا جاتا ہے تو ڈوبنے والی کشتی سب کیلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ٹائی ٹینک جہاز میں سب کی جان کو خطرہ تھا تو آج ہمارے لئے پھر کہیں ٹائی ٹینک کا مسئلہ نہ ہو؟۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن میں جہاں نبی ۖ کی بعثت کے ذریعے بعض لوگوں کو ہدایت ملنے اور بعض لوگوں کو ہدایت نہ ملنے کی بات ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ” بیشک اس کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہتے ہوں” تو اس سے ابوطالب مراد نہیں ہوسکتے ہیں اسلئے کہ قرآن میں پھر دو طبقات کا ذکر ہے ۔ ایک طبقہ وہ ہے جس میں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق کی دعوت قبول کرلی تو اچک لئے جائیں گے اور دوسرا طبقہ وہ تھا جن کو کسی سے کوئی خوف نہیں تھا۔ ابوطالب بڑا ڈٹ کر کھڑا تھا اسلئے ان پر خوف کا الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو ان پر الزام لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ نے ان کا ذکر بھی کیا ہے اور فرمایا کہ ” اگر وہ پھر ایمان لائیں اور اچھے عمل بھی کریں تو ہوسکتا ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوں”۔
دوسرے طبقے میں ابوسفیان ، اسکے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ شامل تھے۔ایک طرف سنی ابوطالب کو غیرمسلم اور کافر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف شیعہ ابوطالب کو پیدائشی مسلم قرار دیتے ہیں۔ اپنے اپنے مؤقف میں تھوڑا لچک لانے کی گنجائش اسلئے ہے کہ ماحول سے ہٹ کر بھی بعض اوقات کچھ حقائق ہوتے ہیں۔ حضرت حسن اور حسین نے ہی امیر معاویہ کو خلیفہ بنانے میں بنیادی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ابوسفیان نے بھی حضرت ابوبکر کے مقابلے میں حضرت علی کیلئے اقتدار کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اگر20سال تک امام حسین نے معاویہ کی خلافت برداشت کی تھی تو اب اس کا سارا ملبہ آج کے دور میں فرقہ بندی کا ذریعہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔
اہل تشیع کہتے ہیں کہ نبی ۖ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ابوطالب نے پڑھایا تھا۔ بخاری میں خطبہ نکاح کیلئے کوئی ایک بھی قابل اعتماد حدیث نہیں ملی تو خطبہ نکاح کی جگہ پر یہ حدیث نقل کردی کہ ”نبی ۖ نے فرمایا: بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔ دو جاہلوں نے سحر انگیزی سے خطابت کی تھی تو نبی ۖ نے اس پر یہ ارشاد فرمایا تھا۔ جب صحابہ کیلئے خطبہ مروج نہیں تھا تو پھر قبل ازاسلام حضرت ابوطالب کی طرف نکاح کے خطبے کو کون سنی مان جائے گا؟۔ البتہ اگر ہم سرتسلیم خم کرکے مان بھی لیں تو پھر ابوطالب نے اپنی بیٹی ایک مشرک کو کیوں دیدی تھی؟۔
حالانکہ رسول اللہ ۖ نے خدیجہ سے پہلے رشتہ طلب کیا تھا لیکن ابوطالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ نہیں دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر کی وجہ سے ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ پر حضرت علی نے ام ہانی کے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا تو اس نے نبی ۖ سے اپنے مشرک شوہر کیلئے پناہ لی۔ پھر اس کے شوہر نے نجران جاکر عیسائیت قبول کی۔ رسول اللہ ۖ نے پھر اس کو نکاح کا پیغام دیا لیکن اس نے قبول کرنے سے معذرت کی اور نبی ۖ نے اس پر ان کی خوب تعریف بھی کی تھی۔
پھر آیات نازل ہوگئیں کہ ” اے نبی ! ہم نے حلال کیا ہے تمہارے لئے ان چچا کی بیٹیوں کو، خالہ کی بیٹیوں، ماموں کی بیٹیوں جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی”۔ اسی طرح ان لونڈیوں کو بھی حلال قرار دیا جو مال غنیمت میں مل گئی تھیں۔ پھر اس کے بعد قرآن میں کسی بھی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا ،اگرچہ ان کا حسن اچھا لگے اور کسی بیوی کے بدلے بھی کسی اور عورت سے نکاح کا منع کردیا۔ البتہ الا ماملکت یمنککی اجازت دیدی ۔قرآن کی ان آیات ، احادیث پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے اسلئے علامہ بدرالدین عینی حنفی نے لکھ دیا ہے کہ ” اُم ہانی نبی ۖ کی28ازواج میں شامل تھیں”۔ حالانکہ اگر قرآن کی تفسیر کا خیال رکھا جاتا تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا تھا لیکن ایگریمنٹ کی قرآن نے اجازت دی ہے اور وہ مراد لیا جاسکتا تھا۔ لیکن ام ہانی پر جس طرح نکاح کا اطلاق نہیں ہوسکتا تھا اسلئے کہ ازواج مطہرات میں شامل نہیں تھیںتو اسی طرح لونڈی کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر ماملکت یمینک سے مراد ایگریمنٹ لیا جائے اور والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم ”اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ” سے بھی ام ہانی مراد لی جائے تو یہ اس کی تفسیر درست سمجھی جاسکتی ہے۔
امریکہ اور مغرب فلسطین ، افغانستان، عراق ، لبییا، شام اور پاکستان کی تباہی کے درپے اسلئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا میں دوبارہ خلافت کے قیام کی خوشخبری پوری ہوگئی تو ہماری خواتین کو ہم سے چھین کر لونڈیاں بنادیں گے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا نے جو حقوق بھی خواتین کے دئیے ہیں تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافی ہیں لیکن مسلمان اپنی خواتین کو حقوق نہیں دے سکے ہیں تو دوسری قوموں کی ہم سے کیا امیدیں ہوسکتی ہیں؟۔ پاکستان کا مقتدر طبقہ سیاستدان ، فوجی جرنیل اور مذہبی لیڈر شپ مسلمانوں سے دشمنی نہیں رکھتے لیکن ایک ماحولیاتی مجبوری ہے جس سے آج مسلمانوں کو نکالنے کی ضرورت ہے۔
اگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو آج جس چیز کو ہمارا مذہبی طبقہ نکاح کہتا ہے ،یہ نکاح نہیں بلکہ ایگریمنٹ ہے اسلئے کہ نکاح کے کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں لیکن اسلامی دنیا میں عورت کو نکاح کے وقت یہ حقوق نہیں ملتے ہیں۔ عرب اور پختون لڑکی کو اس کا باپ بہت مہنگے داموں اس کے شوہر پر بیچ دیتا ہے۔ جب ایک مزدور اپنی حیثیت سے بڑھ کر25لاکھ میں اپنے لئے بیوی خریدے گا تو اس کو خلع کا حق نہیں دے سکتا ہے اسلئے کہ وہ اس کی زر خرید لونڈی ہے۔ اگر اجازت دی گئی تو لڑکی بار بار خلع لیکر باپ کیلئے کمائی کا بہترین ذریعہ بنے گی۔
اللہ نے فرمایا : قدعلمناما فرضناعلیھم فی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورًا رحیمًاO”ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے فرض کیا ہے ان پر انکی بیویوں کا یا جن سے انہوںنے ایگریمنٹ کیا ہے تاکہ آپ پر حرج نہ ہو۔اللہ غفور رحیم ہے”۔
عورت کی جس طرح کی حیثیت ہو باقاعدہ نکاح یا پھر ایگریمنٹ ۔ان کا حق مہر اور خرچہ شوہر پر اس کی مالی حیثیت کے مطابق فرض کیا گیا ہے۔ جس طرح ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں اللہ نے واضح کیا : لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی موسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنین (البقرہ236)
ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں کوئی حرج نہیں ہے اگر حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو ان کو خرچہ دینا ہے۔ امیر اور غریب پر اس کی استطاعت کے مطابق ۔معروف طریقے سے خرچہ اور یہ نیکوں کاروں پر حق ہے۔ اسلئے کہ آدمی میں کتنی مالی استطاعت ہے ؟۔ وہ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑائے تو یہ معروف متاع نہیں ہوگا۔ عورت کو رشتہ قائم کرنے میں مرد سے اس کی اصلی اوقات اور استطاعت کے مطابق توقع بھی ہوتی ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے استطاعت کے مطابق حق مہر اور معاوضہ فرض ہے تو ہاتھ لگانے کے بعد کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ۔ اسلئے کہ ہاتھ لگانے سے پہلے مقرر کردہ نصف ہے توہاتھ لگایا گیا توپھر اس حساب اور اندازہ لگانا مشکل کام نہیں ہے۔
جب عورت اپنی عزت حوالہ کردیتی ہے تو اس کے حق مہر میں مرد کے مالی استعداد کے مطابق حصہ دار ہونے کی بات بالکل فطرت کے عین مطابق ہے۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں یہ طے ہے کہ اگر شوہر عورت کو نکاح کے بعد طلاق دیتا ہے تو اس کی آدھی جائیداد ہی اس کو دینی پڑتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ عورت کو بھی آدھی جائیداد دینی پڑتی ہے۔ ان حقوق سے وہ اپنی جان چھڑانے کیلئے باقاعدہ نکاح کی جگہ گرل وبوائے فرینڈ کے طور پر تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ آج ٹیکس و کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ کون امیر اور کون غریب ہے ۔ جب قرآن کے مطابق عورت کو شوہر کے مال کا حصہ دار بنادیا جائے تو اس پر نکاح کا اطلاق ہوگا اور اگر شوہر اس کے نکاح کا حق دینے پر تیار نہیں ہے تو آپس کی رضامندی سے یہ ایگریمنٹ ہوگا۔ سورہ نور میں لونڈی اور غلام کا نکاح کرانے کا حکم ہے اور لونڈی کا بھی حق مہر ہے لیکن غلام کے پاس کچھ دینے کیلئے نہیں ہوتا ہے اسلئے اس کو کتابت اور معاہدے پر گزارہ کرنا ہوگا لیکن جب وہ کسی آزاد عورت سے نکاح کی کتابت کرے گا تو پھر اس میں جب خیر نظر آئے تو اللہ کا دیا ہوا مال خرچ کرنے کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین اندھے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ غلام کی آزادی میں خیر نظر آئے تو پھر اس کے ساتھ معاہدہ کرلو۔ حالانکہ غلام کی آزادی تو بجائے خود خیر ہے اور پھر آیت میں اس سے مال طلب کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ اللہ کا دیا ہوا اپنا مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری آیات کنواری مراد لینے کے بجائے لونڈیاں مراد لی گئی ہیں اور یہ مطلب لیا گیا ہے کہ اگر وہ بدکاری پر راضی نہیں ہیں تو ان کو مجبور کرکے مال مت کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا تو اللہ غفور رحیم ہے؟۔ یہ یعنی ان لونڈیوں کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کو حکومت اور ریاست اکٹھا کرکے قرآنی آیات کا درست ترجمہ وتفسیر عوام کو سمجھادیں اور دنیا کے سامنے رکھ لیں تو ہماری مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب اپنے ڈر کے مارے ہم سے دشمنی والا سلوک روا رکھتے ہیںجس کی پھر قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

لاہور میں کینیڈین نوجوان کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کردیا
بیوی اور آشنا گرفتار۔ حیران کن وجوہات ، حقیقت سامنے آگئی۔

ویلکم ٹو کرائم سٹوریز ۔ میرا نام میرب ذیشان ہے۔ ایک سٹوری شیئر کی تھی۔ یہ3اور4مارچ کے درمیانی رات بظاہر یہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا لگ رہا تھا۔ کینیڈین نیشنل علی رضا کو قنوت جو کہ علی رضا کی بیوی ہے اسی نے اپنے شوہر کو قتل کروایا تھا اور اپنی بچپن کی محبت کو واپس پانے کیلئے اس نے اپنے شوہر کو راستے سے ہٹوایا۔ عمیر نام کا ایک کردار سامنے آیا ہے جس کا تعلق قنوت کیساتھ6کلاس سے تھا یعنی یہ دونوں بچپن سے کلاس فیلوز ہیں اور آگے تک ان کا جو تعلق ہے وہ اتنا مضبوط ہو چکا تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر ان کا گزارا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود علی رضا کے ساتھ قنوت کی شادی طے کی گئی اور علی رضا چونکہ کینیڈین نیشنلٹی ہولڈر تھا تو قنوت کے جو والدین ہیں وہ چونکہ اتنے کوئی ویل سیٹلڈ نہیں ہیں ۔ان کی دو بیٹیاں ہوئیں اور پھر اس کا دوبارہ سے رابطہ عمیر کے ساتھ بحال ہوا جو کہ اس کی بچپن کی محبت ہے۔ عمیر کے ساتھ اس نے یہ پلان کیا کہ میں تمہارے ساتھ شادی کروں گی ۔ اب اس میں یہ ہے کہ انہوں نے پورا پلان کیا اور قنوت نے علی رضا کو پہلے پاکستان بھیجا کسی بہانے سے اپنے والدین کے گھر اور وہاں پر عمیر سے کہا کہ اس کو قتل کر دے۔ عمیر نے دو دفعہ قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا پھر قنوت جو ہے وہ کینیڈا سے خود آئی پاکستان میں۔ پاکستان پہنچنے سے10دن کے بعد یا پھر وہ اپنے والدین کے گھر آئی۔ اب اس میں بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ڈائریکٹ پاکستان آ کر اپنے والدین کے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی وہ ایک ہوٹل میں گئی جہاں پر عمیر نے پہلے سے بکنگ کروائی ہوئی تھی۔ اس ہوٹل میں کچھ دن یہ رکے رہے۔ ہوٹل کے کلوز سرکٹ فوٹیجز بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے اس کیس کی تفتیش میں کہ یہ خاتون ایئرپورٹ آئی اور وہ سیدھا اپنے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی بلکہ ہوٹل میں رہی ۔ ہوٹل میں پلاننگ کے دوران کے کچھ شواہد پولیس کو ملے اہم فوٹیج بھی ملی ۔ ہم نہ ان کو ڈسکس کر سکتے ہیں نہ آن ایئر کر سکتے ہیں۔ ایگزیکیوٹ کرنے کا جب معاملہ آیا تو قنوت پھر اپنے گھر آگئی اور اپنے شوہر کو کسی بہانے سے باہر شاپنگ کرنے کیلئے بھیج دیا جب وہ شاپنگ کیلئے نکلا تو عمیر نے اپنے دوست مصطفی کے ساتھ بالکل کلوز جا کے اس کے سر پر ہتھیاررکھ کے فائر کیا اور اس کی جیب میں سے کچھ پیسے اور موبائل فون ساتھ لے کر چلے گئے تاکہ یہ ڈکیتی کا واقعہ لگے۔ لیکن اس کی جیب میں پڑے کینیڈین ڈالرز اور کچھ پاکستانی روپے جو ہے یہ بھول گئے جس سے یہ تاثر تو زائل ہو گیا کہ یہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت میں قتل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تاثر اسٹیبلش ہو گیا کہ اس کے قتل کی وجہ کچھ اور ہے اس کے بعد پھر پولیس نے قنوت کو ریٹین کیا ۔ قنوت سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کینیڈا سے واپس پاکستان آ کر تم سب سے پہلے کہاں گئیں؟ تو اس نے کہا کہ جی میں تو اس جگہ پہ اپنے گھر آئی ہوں ڈائریکٹ لیکن اس کے موبائل کی لوکیشن کسی ہوٹل کی تھیں اور جس نام سے بکنگ تھی وہ ایک لوکل نمبر تھا اس لوکل نمبر کے نام سے قنوت کے لیے کمرہ بک تھا۔ اس لوکل نمبر کا جب پتہ کیا گیا تو وہ عمیر کا نمبر تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں

شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں

وما کان المؤمنون لینفروا کافة فلولا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون (التوبہ : آیت122)

اور مؤمنوں کیلئے نہیں کہ سب نکلیں اگر ہر فرقے میں سے چند افراد نکلیں ان میں ایک گروہ تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف لوٹیںہوسکتا ہے کہ وہ بچیں

شیعہ سنی میں جھگڑا بہت پرانا ہے۔ حنفی اور جمہور میں بھی بڑا پرانا جھگڑا ہے۔ شافعی، مالکی اور حنبلی کے مقابلے میں حنفی بالکل تنہا ہوتے تھے۔ محدثین اور حنفیوں میں بھی بہت پرانا جھگڑا تھا اور اہل حدیث و مقلدین کا بھی جھگڑا ہے۔ بریلوی دیوبندی کا بھی جھگڑا ہے اور دیوبندی اور جماعت اسلامی کا بھی جھگڑا چل رہاہے۔ دیوبندیوں اور پنج پیریوں کا بھی جھگڑا ہے۔ مفتی منیر شاکر اور دیوبندیوں میں بھی جھگڑے کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔
انجینئرمحمد علی مرزا اور مفتی منیر شاکردونوں نے خطے میں بڑا کہرام برپا کیا ہے۔ ہم نے دونوں جگہ حاضری دی لیکن مرزا نے مایوس کیا اور مفتی منیر سے بات حوصلہ افزاء رہی۔ قرآن و سنت پر سب کا اتفاق ہے اسلئے کہ پنج وقتہ نماز سے خلافت تک کے سارے احکام میں قرآن بنیاد اور سنت تعمیر نو کا ذریعہ ہے۔
احادیث میں قرآن واہلبیت کا ذکر ملتا ہے لیکن امت اس بات پر متفق نہیں کہ اہل بیت سے کیا مراد ہے؟۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ اہل بیت کا ذکرنبی ۖ کی ازواج کیلئے کیا گیا مگر حدیث میں علی ، حسن، حسین اور فاطمہ کیلئے وضاحت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ان سے رجس (گند) کو دور کردے”۔ قرآن وسنت میں اس گند سے کیا مراد ہے؟۔ انسان کے اندر دوطرح کی فطرتی کمزوری ہوتی ہے۔ ایک مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف جنسی میلان ہے ۔ جنسی میلان میں جائز اور ناجائز کے اندر بڑا فرق ہے۔ میاں بیوی کا ایکدوسرے کی طرف جنسی میلان جائز ہے لیکن جنس مخالف کی طرف جنسی میلان کے باوجود بھی ایک حد سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
الذین یجتنبون کبٰئر الاثم والفواحش الااللمم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنة فی بطون امھٰتکم فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی (النجم32)
ترجمہ:”اور جو بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر … (آگے خالی جگہ ڈیش ڈیش) بیشک تیرا رب مغفرت میں وسیع ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے کہ جب تمہیں زمین سے اگارہاتھا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین تھے۔پس اپنی پاکی بیان مت کرو ، وہ زیادہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ رکھتا ہے”۔
اللہ تعالیٰ اپنے لئے کہتا ہے کہ لم یلد ولم یولد ”اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہے”۔ انسان مخالف جنس کی طرف رحجان رکھتا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو مکا مارکر غلطی سے قتل کردیا تو اپنی جان بچانے کیلئے فرعون کا ملک چھوڑ دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کنویں پر جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور دوعورتیں کھڑی ہیں تو ان سے پوچھ لیا کہ آپ کیوں کھڑی ہیں۔ انہوں نے اپنا اور اپنے بوڑھے والد کا حال بتایا۔ حضرت موسیٰ نے ان کی مدد کی اور جب وہاں سے وہ چلی گئیں تو موسیٰ نے دعا مانگی۔ رب لما انزلت الیّ من خیرفقیر” اے میرے رب! تو جو مجھے خیر عطا فرما تو میں اس کا محتاج ہوں”۔جوان لڑکیوں کو دیکھ کر ایک جوان کی کونسی خواہش ہوسکتی ہے؟۔ عفت وعصمت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی گھر کی اچھی لڑکی دل کو بھا جائے تو ازخود اس کا اظہار نہ کیا جائے۔ اللہ پر اسکو چھوڑ دیا جائے۔ اللہ نے اس ایک لڑکی کے دل میں بھی ہمدردی اور محبت کا جذبہ ڈال دیا تھا، اپنے والد سے اسکی سفارش کردی کہ اپنے پاس ملازم رکھ لو۔ جب لڑکی کو باپ نے بلانے کیلئے بھیج دیا تو وہ حیاء کیساتھ گئی۔ حضرت موسیٰ سے اس کے پیغمبر باپ نے کہا کہ ”میں ان دونوں میں سے ایک لڑکی کا آپ سے بیاہ کرنا چاہتا ہوں اور اس کے بدلے8سالوں تک یہاں نوکری کرنی پڑے گی اور اگر10سال کرلو تو یہ آپ اپنی طرف سے احسان کروگے”۔ باپ نے دونوں میں سے ایک بیٹی کا نام اسلئے لیا تھا تاکہ جس کے دل میں محبت بیٹھی ہے اس کا راز فا ش نہ ہوجائے اور موسیٰ کی محبت کا بھی راز رہ جائے۔
جب موسیٰ کی بیگم کے ہاں بچہ پیدا ہورہاتھا تو آگ دیکھ کر آپ نے کہا کہ میں اسکی کوئی خبر یا روشن ٹکڑا لے کر آتا ہوں مگر وہاں سے آواز آئی کہ ” بیشک میں اللہ ہوں”۔ شیطان نے کہا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ میں کیسے اس کو سجدہ کرسکتا ہوں۔ بعض لوگ آگ کی پرستش کرتے ہیں۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے آزمائش کا سامان دنیا میں رکھا ہے۔ ایران کا آتشکدہ کبھی نہیں بجھتا تھا اسلئے کہ اس کی پرستش کی جاتی تھی۔ پھر مسلمانوں نے ان کو شکست دیدی اور آج سعودی عرب اور ایران میں اسلام پر شدید اختلافات کے باوجود صلح واصلاح کی طرف میلانات موجود ہیں۔
قرآن میں ازواج النبی کیلئے اہل بیت کا لفظ استعمال ہوا ۔ جہاں رجس سے مراد جنسی میلان ہے۔ اللہ نے نبی ۖ کی ازواج مطہرات کیلئے امہات المؤمنین کا لقب اتارا ہے۔ اللہ نے منع فرمایا کہ نبی کی ازواج سے کوئی نکاح نہ کرے اسلئے کہ اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے۔ اللہ نے نبی ۖ کو وہ مقام دیا تھاکہ کوئی اس کے قریب تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اللہ نے اعراب کو بدتمیزی سے منع کرنے کیلئے آداب سکھائے کہ حجرات کے پیچھے سے مت پکاریں۔ ان بدتمیز لوگوں سے یہ بعید نہیں تھا کہ وہ نبی ۖ کی ازواج کو رشتہ بھیجنے کی حماقت کرسکتے تھے اسلئے کہ وہ مسلمان تھے لیکن قرآن نے واضح کیا کہ ابھی ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے نبی ۖ کی ازواج کو پردے کا خاص اہتمام کرنے کا بھی حکم دیا تھا اور ساتھ ساتھ ان کو جنسی میلان کے رحجانات سے بچانے کیلئے بھی ایسے حالات سے گزار دیا کہ وہ کندن بن گئیں۔ اللہ نے ان میں رجس کا مادہ بالکل پاک کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
دوسری طرف رجس کا معنی حکومت وخلافت کی امانت کیلئے اپنی انتہائی کوشش اور حماقت بھی ہے۔ جب انسان کا مادی جسم زمین سے نہیں اُگا تھا تب بھی عالم ارواح سے اس کا تعلق تھا اور جب اللہ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر بارامانت کو پیش کیا تھا تو سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا تھا لیکن انسان نے اس بار امانت کو اٹھالیا اسلئے اللہ نے واضح کیا کہ ”پھر انسان نے اسکو اٹھایا اور وہ بہت ظالم اور جاہل تھا” جب امانت کے بار کو اٹھانے کیلئے اللہ نے انسان کی طرف ظلم وجہل کی نسبت کی ہے تو یہ بھی ایک قسم کا ”رجس” گند ہے۔ اسلئے نبی اکرم ۖ نے علی ، فاطمہ ، حسن و حسین کیلئے دعا فرمائی کہ یہ میرے اہل بیت ہیں ،ان سے رجس (گند) کو دور کردے۔
علی کے دل میں خلافت کے طلب کی حرص ولالچ ہوتی تو پھریہ بڑا گند ہوتا اور پہلے دن سے ہی انصار وقریش اور حضرت علی کے درمیان اس پر بہت بڑا جھگڑا کھڑا ہوجاتا۔ ابوسفیان نے علی کے سامنے حضرت ابوبکر کے ہٹانے کی تجویز رکھی تو اس کو حضرت علی نے مسترد کردیا۔ حضرت حسن کے دل میں بھی کوئی حرص ولالچ نہیں تھی اسلئے امیر معاویہ کے سپرد کردی ،پھر حسین کے دل میں بھی لالچ نہیں تھی لیکن یزید کی نامزدگی غلط لگی اسلئے کوفہ کا سفر کیا لیکن جب کوفہ والوں نے دھوکہ دیا تو پھر واپس مدینہ جانے یا سرحد پر جانے یا یزید سے براہ راست کوئی بات کرنے کا معاملہ رکھا۔ مدینہ سے کوفہ اور کوفہ سے شام جب کوئی جائے تو راستے میں کربلا آتا ہے اسلئے یزید کی طرف سفر کرنے کا معاملہ ثابت ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یزید سے لڑنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ جس کی بادشاہت مستحکم ہوجائے تو اس سے کلمہ حق کہنا ہی اتمام حجت اور افضل جہاد ہوتا ہے۔ یزید ی لشکر کا سپاہ سالار ”حر” بھی حضرت حسین کی صف میں شامل ہوا۔
فرقہ امامیہ یا اثناعشریہ کے باقی ائمہ اہل بیت کیلئے معصوم کا جو عقیدہ رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب ”حکومت کی لالچ ” کے رجس (گند) سے پاک ہونے کی دعا کا ان کے حق میں قبول ہونا ہی مراد لیا جاسکتا ہے اسلئے کہ حسین کے ایک پوتے زید اور حسن کی اولاد نفسہ زکیہ عبداللہ اور ابراہیم وغیرہ نے خلافت کو حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اور اہل تشیع کے ائمہ معصومین نے کوئی کوشش نہیں کی کہ حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ جب مہدی غائب میں دجال اکبر سے لڑنے کی استعداد اور صلاحیت ہے تو بنوعباس، خلافت عثمانیہ اور موجودہ دور کے ایرانی و سعودی حکمرانوں سے بھی حکومت وہ چھین سکتے ہیں لیکن اس کے دل میں لالچ وطلب نہیں ہے۔
اہل تشیع کی مشہور کتابوں میں مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کو حکومت ملنے کا ذکر ہے اور ایک مشہور کتاب ” الصراط السوی فی احوال المھدی” میں درمیانہ زمانے کے مہدی سے مصنف نے مہدی عباسی مراد لیاہے۔ اگر کوئی اور مہدی بھی مراد لیں تو ان کے عقیدے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ علامہ طالب جوہری نے علامات ظہور مہدی میں قیام قائم سے پہلے کئی قیام کرنے والوں کا ذکر کیا ہے جن میں ایک مشرق کے دجال کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے حسنی سید کا ذکر کیا ہے۔ سید گیلانی کو بھی ایک روایت کی تشریح ”دعوت حق ” دینے والا شخص قرار دیا۔
اگر تمام فرقوں اور مسالک سے بااعتماد لوگوں اور علماء کرام کو ایک مقام پر جمع کیا جائے ،جس میں قرآنی آیات کی تفسیر سب اتفاق رائے سے کریں پھر امت مسلمہ کے سامنے پیش کردیں تو بہت سارے مخمصے سے امت مسلمہ نکل جائے گی۔ ریاست کی تشکیل سے لیکر معاشرتی معاملات اور عبادات کے مسائل پر اتفاق تک بہت کچھ ہم مشترکہ کاوش سے حاصل کرسکتے ہیں۔
مفتی منیر شاکر کو ہم قائل کرسکتے ہیں کہ پیر سیف الرحمن کے خلفاء کے ہاتھ پر ذکر واذکار کیلئے بیعت کرلے اور پیر سیف الرحمن کے خلفاء کو قائل کرسکتے ہیں کہ مفتی منیر شاکر کی طرز پر وہ قرآن اور توحید کی طرف دعوت وتبلیغ کو عام کریں۔انشاء اللہ
شیطان نے اچھے لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ، دشمنی اور نفرت کی فضاء قائم کردی ہے لیکن اس کی حیثیت مکڑی کے جالوں سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ سب نبی ۖ کے امتی ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان کی سرزمین پر روس اور امریکہ کے بعد چین نے بڑ ے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا ہے تو کیا اب روس و امریکہ کے بعد تیسری عالمی طاقت چین کیخلاف جنگ ہوگی؟

پاکستان کا پلیٹ فارم افغانستان میں تیسری بار چین کے خلاف استعمال ہوگا تو افغان طالبان اور پاکستان کی فوج کو شدید خطرات کا سامنا ہوگا اسلئے باہمی صلح و اصلاح کا ماحول قائم کرنا ہوگا

جب امریکہ نے روس کے خلاف جہاد کے نام پر پاکستان کو استعمال کیا تو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ہمارا مقدر ٹھہر گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس وقت افغان جہاد کو پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کو افغان جہاد کا مخالف اور مولانا سمیع الحق شہید ومولانا عبداللہ درخواستی کو حامی سمجھاجاتا تھا۔ خاموش مجاہدISIچیف جنرل اخترعبدالرحمان نے اپنے بیٹوں کے نام پر اس وقت آف شور کمپنیوں کے نام پر کروڑوں ڈالر بیرون ملک رکھے ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کو جہاد کی وجہ سے واحد ایماندار اور جمہوری پارٹی قرار دیا گیا۔ حالانکہ میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے اس کواپنا ماموں بنایا تھا۔
گلبدین حکمت یار کو ہمیشہ پروامریکہ اور پرو پاکستان پیش کیا گیا اور باقی مجاہدین لیڈر شپ کو میدان میں لڑایا گیا لیکن ان پر کبھی اعتماد نہیں کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کے فوت ہونے کے بعد سے ہمیشہ یہ کہتا رہاہے کہ پاک فوج ہماری آنکھوں کی پلکیںہیں جو زینت اور حفاظت کا واحد ذریعہ ہیں لیکن پلکوں کا ایک بال بھی آنکھیں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتیں تو ساری پلکیں آنکھوں میں کیسے برداشت ہوسکتی ہیں؟۔ مولانا نے ہمیشہ پاک فوج کے خلاف جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔MRD،MMAاورPDMتک ہمیشہ اس کے خلاف سیاسی جدوجہد کی جو سیاسی جماعت پاک فوج کیلئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو آج کہیں سے وزیراعظم کی پیشکش آجائے تو قبول نہیں کریں گے۔ آج وہ عمران خان کیساتھ تلخ مخالفت کی یاد گار کو بھلاکر اپوزیشن بھی کرسکتے ہیں لیکن عمران خان کے نام جب قرعہ نکلے گا تو اس پر یہ اعتماد کرنا مشکل ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گا۔
عمران خان اور مولانا فضل الرحمن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جنرل پرویزمشرف کی طرح امریکہ کا آلہ کار بن کرہم کوئی کردار ادا نہیں کریں۔ حالانکہ دونوں پرویزمشرف کیساتھ ظاہروباطن میں اچھے تعلقات کیلئے بھی بدنام تھے لیکن ق لیگ کے خلاف دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے۔ اپوزیشن و حکومت آج اگر دونوں مل جائیں تو بھی استحکام نہیں آسکتا ہے اسلئے کہ سیاسی استحکام کیلئے معاشی استحکام ضروری ہے اور معاشی استحکام کیلئے پڑوسی ممالک چین، افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب بھی اس طرف قدم اٹھنے کو ہوتا ہے تو ہمارے اندر کسی نہ کسی طرح کوئی غیرت کے نام پر بے غیرتی کو جگاتا ہے۔ بھارت کیساتھ بھی اچھے تعلقات ضروری ہیں۔ دوبئی بھارت کیساتھ سمندر میں جو بہت بڑی قیمت پر سرنگ بنارہاہے اور ہم ایک کلچر وپڑوسی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے تو کشمیر کے نام پر ہمیں امریکہ ہی لڑاتا ہے۔ ہندوستان کی چین ، ایران ،دوبئی اور سعودی عرب کیساتھ بڑی تجارت ہے مگر پاکستان سے نہیں۔ ایران و سعودیہ کے تعلقات درست ہوگئے لیکن ہم ایران سے تیل وگیس نہیں لے سکتے۔ بھارت افغان طالبان سے اچھے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ چین افغان طالبان سے اچھا تعلق رکھ سکتا ہے لیکن صرف پاکستان چین، افغانستان اور ایران سے اچھے تعلقات نہیں رکھ سکتا ہے؟۔ امریکی صدر فلسطین پر رحم نہیں کھاتا لیکن پاکستان کا ماما بنتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کو اسلئے حکومت سے باہر کیا گیا کہ امریکی مفادات کیلئے پاکستان استعمال نہیں ہوسکتا تھا۔ پنجاب اور سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں سے جب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری لڑنے کو تیار نہیں ہیں تو امریکی جنگ کیلئے کس طرح دونوں نے لنگوٹ باندھ لی ہے؟ جو اترسکتی ہے۔ طالبان بھی کھلم کھلا اعلان کریں کہ ہم نے کسی صورت بھی نہیں لڑنا ہے ورنہ پاک فوج اور افغان طالبان کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عالمی اسلامی خلافت سے آسمان والے اور زمین والے دونوں کے دونوں کیسے خوش ہونگے؟

عالمی اسلامی خلافت سے آسمان والے اور زمین والے دونوں کے دونوں کیسے خوش ہونگے؟

علماء و مشائخ کا غلط مذہبی کردار اور ان پر قرآن میں کفر کا فتویٰ

و من لم یحکم بما انز ل اللہ فاؤلئک ھم الکٰفرون
اور جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں۔

اِنا انزلنا التورٰ ة فِیہا ہدی و نوریحکم بِہا النبِیون الذِین اسلموا لِلذِین ہادوا و الربنِیون و الاحبار بِما استحفِظوا مِن ِکتبِ اللہِ و کانوا علیہِ شہدآء فلا تخشوا الناس و اخشونِ و لا تشتروا بِایتِی ثمنا قلِیلا و من لم یحکم بِما انزل اللہ فاولئک ہم الکٰفِرون (44)
ترجمہ: ”بیشک ہم نے نازل کیا توراة ، اس میں ہدایت اور نور ہے ، فیصلہ کرتے ہیں اس کے ذریعے سے انبیاء جنہوں نے قبول کیا ان لوگوں کیلئے جو یہودی ہیں اور مشائخ ہیں اور علماء ہیں بسبب جن کو اللہ کی کتاب کا نگہبان ٹھہرایا گیا اور وہ اس پر گواہ ہیں ۔ پس تم لوگ لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور مت خریدو میری آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں”۔
ملت اسلامیہ کے تمام مذہبی طبقات علماء و مشائخ اور اسلامی اسکالروں کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ احکام پر فیصلے کریں اور تھوڑے سے معاوضے کی قیمت پر اللہ کی آیات کوفروخت نہ کریں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو ان پر کفر کا سخت ترین فتویٰ لگتا ہے۔
سورہ مائدہ کی ان آیات میں یہود کے علماء و مشائخ پر بھی اللہ کے احکام پر فتویٰ نہ دینے کی وجہ سے اللہ نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ اس سخت ترین فتوے کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی طبقات کے فیصلے بدلنے سے اللہ کے دین کو بدل دیا جاتا ہے۔ حکمران اور عوام مذہبی طبقات کے فتوؤں کو دین سمجھتے ہیں اور جب مذہبی طبقہ دین کو بدل دے تو اس سے بڑا گھناؤنا جرم روئے زمین پر اورکوئی نہیں ہوسکتا ہے۔

اور جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

و من لم یحکم بما انز ل اللہ فاؤلئک ھم الظٰلمون
ریاستوں ، عدالتوں اور حکومتوں میں حکمرانوں پر ظالم کا فتویٰ

و کتبنا علیہِم فِیہا ان النفس بِالنفسِ و العین بِالعینِ و الانف بِالانفِ و الاذن بِالاذنِ و السِن بِالسِن و الجروح قِصاص فمن تصدق بِہ فہو کفار لہ و من لم یحکم بِما انزل اللہ فاولئک ہم الظلِمون(45)ترجمہ:”اور ہم نے ان پر فرض کیا تھا اس میں کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور زخموں کا بدلہ ہے اور جو خود کو خوشی کے ساتھ قصاص کیلئے پیش کردے تو یہ اس کیلئے کفارہ ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔
اس آیت میں حکمران طبقے کی وضاحت ہے۔ حکمرانوں کا تعلق کسی خاص مذہب سے نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ عادل یا ظالم ہوتے ہیں۔ پاکستان ، افغانستان، ایران اور سعودی عرب کا حکمران طبقہ اگر لوگوں میں اللہ کے دئیے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کریں کہ جان کے بدلے جان اور اعضا کے بدلے اعضا اور زخموں کے بدلے زخم کا فیصلہ کریں تو ان پر عادل حکمران کا اطلاق ہوگا۔ لیکن اگر وہ اللہ کے نازل کردہ حکموں کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے تو ان پر ظالم کا اطلاق ہوگا۔ جب ہمارے مقتدر طبقات میں اپنے لئے کسی قسم کے عدل کی کسوٹی قائم نہیں ہوتی ہے تو ان کے سائے میں کچے کے ڈاکوؤں سے لیکر دہشت گردوں تک بہت کچھ کالا دھن پل رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کی عدالتوں اور ریاستی مشینری میں اگر اللہ کے حکم کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم ہوجائے تو ان پر نہ صرف عادل کا اطلاق ہوگا بلکہ دنیا بھر میں ظالمانہ نظام کا خاتمہ بھی ہوجائے گا۔

اور جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

و من لم یحکم بما انز ل اللہ فاؤلئک ھم الفٰسقون
مسلمان عوام الناس پر کفر کا فتویٰ نہ ظلم کا بلکہ ان پر فاسق کا فتویٰ

و قفینا علی اثارِہِم بِعِیسی ابنِ مریم مصدِقا لِما بین یدیہِ مِن التورٰة و اتینٰہ الاِنجِیل فِیہِ ہدی و نورو مصدِقا لِما بین یدیہِ مِن التورٰة و ہدی و موعِظة لِلمتقِینOو لیحکم اہل الاِنجِیلِ بِما انزل اللہ فِیہِ و من لم یحکم بِما انزل اللہ فاولئک ہم الفسِقون(46،47)
ترجمہ:”اور ہم نے ان کے پیچھے بھیجا ان کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو تصدیق کرنے والا جو ان کے ہاتھ میں توراة میں سے اور ان کو عطا کی انجیل جس میں ہدایت اور نور ہے اور جو تصدیق کرنے والا ہے ان کے ہاتھ میں توراةکی اور ہدایت ہے اور متقیوں کیلئے واعظ ہے۔ پس چاہیے کہ انجیل والے عوام الناس فیصلہ کریں اللہ کے نازل کردہ پر اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔
پاکستان میں مذہبی اور حکمران طبقے کے علاوہ عوام الناس میں جرگہ سسٹم کے ذریعے بھی فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جب لوگ اپنے فیصلے اپنے سرداروں ، نوابوں ، خانوں اور قبائلی عمائدین کے ذریعے سے کرتے ہیں تو اس میں بھی اللہ کے احکام کے مطابق انصاف کے تقاضوں سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ اور جو لوگ اللہ کے احکام پر فیصلہ نہیں کرتے ہیں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ ریاست مدینہ میں رسول اللہ ۖ ان لوگوں کا فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق کرتے تھے جو قبائلی جرگہ کی طرح اپنا اختیار نبی ۖ کو سپرد کردیتے تھے۔ پاکستان میں بڑا طبقہ جرگہ سسٹم کے ذریعے سے انصاف کی فراہمی کو ممکن بناسکتا ہے۔ جس کے اثرات مذہبی اور حکمران طبقے پر بھی پڑیں گے۔ خلافت اسلامیہ کے قیام کیلئے ملت اسلامیہ کے سارے طبقات نے قربانی دینی ہوگی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی منیر شاکر بڑا فتنہ ہے یا پھر فرقہ واریت کو ختم کرنے کا کوئی ایک بڑاوسیلہ بن سکتا ہے؟

مفتی منیر شاکر بڑا فتنہ ہے یا پھر فرقہ واریت کو ختم کرنے کا کوئی ایک بڑاوسیلہ بن سکتا ہے؟

مردان کے مایہ ناز سپوت مصنف صحافی اور عظیم شاعر شعیب صادق اور لال بادشاہ کے توسط سے مفتی منیر شاکر سے ملاقات ہوئی۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ رمضان المبارک میں جاری رہا۔ قرآن و احادیث اور تصوف کے حوالے سے باہمی گفتگو ہوئی ۔اُمت مسلمہ کے تمام فرقوں کو قرآن و احادیث کی روشنی میں اتحاد و اتفاق اور وحدت کے راستے پر گامزن کرنا ہوگا۔ امام ابو حنیفہ، غلام احمد پرویزاور مفتی منیر شاکر پر منکر حدیث کا فتویٰ لگا ، شیعہ حضرت عمر اور اہلحدیث کو بھی منکر حدیث سمجھتے ہیں۔ یکجہتی کا ماحول قائم کرنے کیلئے اگر راستہ نکل آیا تو سب کے سب صراط مستقیم پر متحد ہوجائیں گے۔ بقیہ صفحہ نمبر2پر ملاحظہ فرمائیں۔

بقیہ صفحہ2:مولانا عبیداللہ سندھی فقہ حنفی کے مطابق قرآنی انقلاب کی بات کرتے تھے۔ مولانا محمد طاہر پنج پیری بھی مولانا سندھی کے شاگرد تھے۔ مفتی منیر شاکر نے زندگی کا پہلا حصہ پنج پیری سوچ کے حامل لوگوں میں گزارا۔ جس کی وجہ سے علماء دیوبند میں ان کو خوب پذیرائی حاصل ہوگئی۔ دیوبند دو حصوں میں تقسیم تھا اور بنیاد سب کی ایک ہے لیکن جرأت وبہادری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قبرپرستی اور مشرکانہ رسم ورواج سے نفرت کرنے میں حنفی مکتب کے دیوبندی بریلوی ایک فکر رکھتے تھے لیکن دیوبند کے علماء کرام نے جرأت وبہادری سے کام لیا اور بریلوی پیچھے رہ گئے اسلئے دونوں میں تفریق بھی ہوگئی اور دیوبندی چھا گئے۔
جب کراچی کے معروف علماء ومفتیان مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان ، فقیہ العصر مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ پر امتحان آگیا تو مولانا مسعودالدین عثمانی اور ان اکابر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ بس مولانا مسعودالدین عثمانی میں اظہار کی جرأت تھی اور اکابر کی حیثیت عقائد اور اعمال کے حوالے سے بہت مجرمانہ تھی۔
جنہوں نے مسند فتویٰ وارشاد کو بدنام کرنے کے بعد پھر جعل سازی سے پیری ومریدی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ان کا احترام اتنا ہی تھا جتنا احترام عمران خان کو مفتی سعید خان دیتا تھا ، جب وقت آیا تو پھر اس کے خلاف سلطانی گواہ بھی بن گئے۔ صحافی کو اپنا سورس بتانے میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بہت بڑی قربانی دیتا ہے لیکن سورس نہیں بتاتا لیکن مفتی صاحبان کو صرف موقع ملنا چاہیے پھر بہت کچھ بھی بدل دیتے ہیں۔
بھارت میں امتحانوں کے اندر طلبہ اور تعلیمی اداروں سے رٹا سسٹم ختم کرنے کیلئے اجازت دی گئی ہے کہ امتحان دیتے وقت طلبہ اپنے ساتھ کتابوں کو بھی لے جاسکتے ہیں تاکہ ان میں رٹا سسٹم کی جگہ اصل تعلیمی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ مذہبی طبقے میں قرآن وسنت کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے رٹے سسٹم کا ہم اپنے ہاں خاتمہ کرلیں گے تو فرقہ واریت اور جہالت کا بالکل خاتمہ ہوجائے گا۔ علماء ومفتیان آپس میں مل بیٹھنے کا سلسلہ جلد شروع کریں اور حقائق کو سمجھیں تو نفرتوں اور گمراہی کا بہت ہی کم وقت میں خاتمہ ہوجائے گا۔
مفتی منیر شاکر اور ہمارے درمیان صرف اس بات پر ہی اتفاق رائے ہے کہ اپنی اپنی جہالتوں کو ختم کرنے میں کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرنا چاہیے۔ باقی ہم ایکدوسرے سے انتہاء درجہ مخالفت کا ماحول رکھتے ہیں۔ وہ تصوف کو نہیں مانتے اور ہم تصوف کے بغیر اسلام کے ڈھانچے کو بغیر روح کے سمجھتے ہیں۔ وہ جہاد وقتال کے ذریعے اسلام کا غلبہ چاہتے ہیں اور ہم حکمت اور معاشرے میں شریعت وسیاست کے ذریعے اسلام کا غلبہ چاہتے ہیں اور انقلاب کے حوالے سے صرف قرآن پر یقین کا اظہار کرتے ہیں اور ہماری احادیث بھی بنیادی ڈھانچہ ہے۔ وہ اہل تشیع اور ایران کو خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیںاور ہم شیعہ کی اپوزیشن کو بھی بہت مثبت نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بہت بڑا کمال یہی ہے کہ اختلافی فکر رکھنے کے باوجود بھی ہمارا احترام کا رشتہ برقرار ہے۔ ایک دوسرے سے کوئی بدظنی اور بدزبانی نہیں ہے۔ بہت سارے علماء ومفتیان کو ان سے جس طرح کا بھی اختلاف ہے ہم ان کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے۔
کچھ علماء اور مذہبی عناصر ان کو قاتل ، بدعقیدہ اور فتنہ سمجھتے ہیں اور برملا اس کا اظہار کرتے ہیں لیکن بلوچستان سے سوات تک جتنی قتل وغارت گری ہوئی ہے جن میں بڑے نامی گرامی علماء حضرات بھی شامل تھے تو ان سب کے قاتل مفتی منیر شاکر تو نہیں تھے؟۔ باڑہ خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام انہوں نے بنایا تھا اور انصار الاسلام مخالفین کا تھا۔ پیر سیف الرحمن بریلوی مکتب کا پیر تھا تو دیوبندیوں کے قاتل کون لوگ تھے؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مفتی منیر شاکر غلام احمد پرویز ہی سے بہت متاثر ہیں لیکن پرویز سے کچھ معاملات پر اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان کا بہت بڑا لکھا پڑھا طبقہ پرویز سے بہت متاثر ہے۔ پورا پنجاب اس کی لپیٹ میں ہے ۔بلوچ، پشتون، سندھی ، سرائیکی اور پنجابیوں کا سمجھدار طبقہ بھی پرویزی ہے۔
پرویز نے تصوف کی بنیادیں ہلادی ہیں۔ تصوف پر اب دیوبندی بریلوی علماء سمیت کوئی بھی یقین نہیں رکھتا ہے۔ شیعہ علماء بھی اس کو سنیوں کا ڈھکوسلہ سمجھتے تھے ،اہل حدیث اور وہابی بھی سخت خلاف تھے۔ لیکن ہمارا علماء طبقہ بھی تصوف ہی کا شکار تھا۔ اگر تصوف کو نکال دیا جائے تو اسلاف پر اعتماد نہیں رہ سکتا۔ جس کی وجہ سے دیوبندی بریلوی اکثریت تصوف کو مانتی ہے۔
مفتی منیر شاکر پر سب سے بڑا الزام یہی ہے کہ حدیث کا منکر ہے اور یہی پرویز کے بارے میں بھی خیال تھا۔ جبکہ پرویز اور مفتی منیر شاکر دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس حدیث کو نہیں مانتے جو قرآن کے خلاف ہے۔ اور یہی فقہ حنفی کی تعلیمات بھی ہیں۔ جب علماء ومفتیان اور پرویز سے متاثر ہونے والی عوام کو ایک ڈگر پر لایا جائے کہ کونسی حدیث قرآن سے متصادم ہے تو پھر ہم آہنگی اور یکجہتی کا راستہ بھی نکلے گا۔ جس دن حنفی و پرویزی ایک راستے پر چلنے کیلئے تیار ہوگئے تو یہی بہت بڑا انقلاب ہوگا اور پھر دوسرے لوگوں کو ساتھ ملانے میں بھی وقت نہیں لگے گا۔
شیعہ تو حضرت عمر سے لیکر امام ابوحنیفہ ، حنفی علماء اور پرویز تک سب کو منکرین حدیث سمجھتے ہیں اور اہلحدیث کے بارے میں بھی یہی سمجھتے ہیں کہ رفع الدین کی احادیث مانتے ہیں لیکن اہل بیت کی احادیث نہیں مانتے ہیں۔ جب ہم شیعہ کو قریب کرنے اور ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی سوچ رکھتے ہیں تو یہ دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث پھر ہمارے اپنے لوگ ہیں۔
مفتی منیر شاکر نے کہا کہ میں تصوف اسلئے نہیں مانتا ہوں کہ تصوف قرآن میں نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ قرآن میں غیب پر ایمان لانے کا ذکر ہے ۔ جب حضرت ابراہیم نے اللہ سے کہا کہ آپ مردہ کو کیسے زندہ کرتے ہو؟۔ اللہ نے فرمایا: کیا آپ اس پر ایمان نہیں رکھتے؟۔ ابراہیم نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ! لیکن تاکہ د ل کا اطمینان مل جائے۔ پھر اللہ نے4پرندوں کے4،4ٹکڑے کرنے کا حکم دیا اور سب ٹکڑوں کو بھی دوسرے پرندوں کیساتھ جوڑنے کا فرمایا اور پھر جب ابراہیم نے بلایا تو وہ زندہ ہوکر آگئے۔ ہر ایک پرندہ مختلف چار پرندوں کے4ٹکڑوں سے بنا ہوا تھا۔ یہی تو تصوف ہے۔
مفتی اعضاء کی پیوندکاری پر بحث کرتے ہیں کہ یہ خدا کی تخلیق میں مداخلت تو نہیں؟۔ جائز یا ناجائز؟۔ اگر قرآن سمجھتے تو جواز ڈھونڈنے کیلئے کتابیں نہ لکھ ڈالتے۔ یہ شکر ہے کہ سنت کے تواترسے ختنہ ثابت ہے ورنہ اس کو بھی تخلیق میں مداخلت قرار دیتے۔ عجب بات یہ ہے کہ فارمی مرغیاں اور جانور آگئے اور یہ تخلیق میں مداخلت نہیں لیکن اگر بچہ کا غذ پر بظخ کی تصویر بنا دے تو یہ تخلیق میں مداخلت ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ مزدور کا مکان بنانا بھی تخلیق میں مداخلت ہے لیکن وہ معاف ہے۔ کم عقلی کی انتہاء پر پہنچے وہ لوگ جن میں علم سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی لیکن ان کا سکہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے مذہبی لوگ کباڑ خانہ بن کر رہ گئے ہیں۔
فرعون بھی بچوں کو قتل کرتا تھا اور حضرت خضر نے بھی بچے کو قتل کیا لیکن تصوف کی وجہ سے قرآن پر ایمان رکھنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑے حقائق ہیں اور مخلص لوگوں کو اکٹھا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔200تک اس حدیث کی تعداد موجود ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح باطل ہے لیکن حنفی اس حدیث کو قرآن سے متصادم ہونے کی وجہ سے نہیں مانتے۔ حالانکہ یہ حدیث قرآن سے متصادم نہیں ہے لیکن حنفیوں نے غلط متصادم سمجھ لیا ہے۔ اگر حقائق سمجھ میں آگئے تو حنفی اور دیگر منکرین حدیث اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں گے۔
اہل تشیع سمجھتے ہیں کہ اہل سنت کی کتابوں میں بارہ خلفاء کا ذکر ہے جن کا تعلق قریش سے ہوگا۔ مگر اہل سنت کے پاس اس حدیث کی کوئی معقول توجیہہ نہیں ہے۔ جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا کہ ”ابھی تک کوئی بھی 12 خلفاء میں سے نہیں آیا اسلئے کہ ان میں سے ہر ایک پر اُمت کا اجماع ہوگا ”۔ شیعہ سنی روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ” وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں، درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ مگر درمیانے زمانے میں کج رو لوگ ہوں گے میں ان کے راستے پر نہیں اور وہ میرے راستے پر نہیں ہیں”۔ درمیانہ زمانے کے مہدی سے ہی12خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا اور وہ سب ہی اہل بیت میں سے ہوں گے۔ مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں ہے کہ ”پہلے6افراد امام حسن کی اولاد سے ہوں گے ، پھر5افراد امام حسین کی اولاد سے ہوں گے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا”۔ اہل تشیع کی کتابوں میں بھی حدیث ہے کہ مہدی کے بعد11مہدی آئیں گے جن کو حکومت ملے گی اور اس حدیث پر شیعہ نے اسلئے اضطراب کا اظہار کیا ہے کہ وہ مہدی آخری امام ہوگا تو پھر ان کے بعد11امام کیسے آسکتے ہیں؟۔ حالانکہ اگر مہدی درمیان کے بعد یہ سلسلہ ہو تو پھر شیعہ کو اپنی کتابوں پر کوئی اضطراب نہیں ہوگا۔ اس طرح اہل تشیع نے درمیانہ زمانے کے مہدی کو مہدی عباسی قرار دیا ہے۔ لیکن اتنے بڑے کردار کیلئے مہدی عباسی پر بھی اضطراب ہونا چاہیے تھا۔ اگر درمیانہ زمانے سے یہ سلسلہ شروع کیا جائے تو پھر اس پر کسی کو کوئی اضطراب نہیں ہوگا۔ علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی اپنی کتاب ”تصفیہ مابین شیعہ و سنی” میں لکھ دیا ہے کہ ”ان بارہ خلفاء سے مراد آنے والے بارہ خلفاء ہیں”۔
اگر مہدی آخرزمان آخری امیر اُمت کو تقدیر پر چھوڑ دیا جائے جب عیسیٰ علیہ السلام بھی آسمان سے نزول فرمائیں گے اور اُمت مسلمہ نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اتار سکتی ہے اور نہ ہی دجال اکبر کو لا سکتی ہے اور نہ مہدی آخرزمان کھڑا کرسکتی ہے لیکن درمیانہ زمانے سے تقدیر بدلنا شروع کرے تو مہدیوں کا سلسلہ جاری ہوگا۔ اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ کرام ہدایت کے ستارے تھے اور اہل تشیع کے نزدیک ان کے گزرے12امام ہدایت کے ستارے ہیں۔ علامہ طالب جوہری نے لکھا :
واعطیتک ان اخرج من صلبہ احد عشر مھدیاً کلھم من ذریتک من البکر البتول اٰخر رجل منھم یصلی خلفہ عیسیٰ ابن مریم ”اور تمہیں یہ عطا کیا ہے کہ میں اس کے صلب سے اور بتول کی نسل سے تمہاری ذریت سے11مہدی قرار دوں گا۔ اور ان میں آخر وہ ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم نماز پڑھیں گے”۔ …
و خروج ولدٍ من ولد الحسن بن علی و ظھور الدجال یخرج بالمشرق من سجستان ‘ ‘ اور حسن بن علی کی اولاد سے ایک شخص خروج کرے گا اور مشرق میں دجال سجستان سے خروج کریگا”۔ (روایت معراج )۔خروج سفیانی سے قبل سید حسنی کا خروج ہوگا اور اس کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے جن کے سبب کرہ ٔارض طویل جنگوں کا آغاز ہوگا۔ (صفحہ40،41،43)کوفہ، ملتان اور خراسان کے عنوان سے روایت لکھی ہے جسکے حاشیہ پر لکھا کہ ”اور ہم سے ایک قیام کرنے والا میں ہم کی نسبت بتلاتی ہے کہ یہ سید گیلانی دعوت حق دینے والا شخص ہوگا۔ بعض محققین کے نزدیک بعید نہیں ہے کہ اس سے مراد سید حسنی ہوں”۔ (صفحہ242)
(علامات ظہور مہدی : علامہ طالب جوہری)
کوئی سوال کرسکتا ہے کہ معراج کے وقت حضرت فاطمہ کی شادی نہیں ہوئی تھی تو پھر یہ خبرکیسی ؟۔ جواب ظاہر ہے کہ یہ ساری مستقبل کی پیشگوئیاں ہیں۔ مفتی منیر شاکر نے علماء سے سوال پوچھا کہ معراج میں نبی ۖ نے اگر سارے انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی تو وہ پھر کونسی نماز تھی؟۔ اسلئے کہ عشاء و فجر کی نماز توگھر میں پڑھی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مفتی شاکر نے عید کی نماز پڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ فرض نہیں نفل نماز ہے تو معراج کے وقت بھی نفل نماز سمجھ لینی چاہیے۔
جن مسائل پر اختلافات کا کوئی فائدہ نہیں تو ان کی مثال متشابہات کی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ محکم آیات پر بھی اُمت کا اتفاق نہیں ہے۔ اللہ نے آیت224البقرہ میں فرمایا ہے کہ ”اور اللہ کو رکاوٹ مت بناؤ اپنے عہد و پیمان کیلئے کہ تم نیکی کرو ، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔
یہ طلاق کے احکام کیلئے مقدمہ ہے۔ آیت226میں اللہ نے فرمایا : ”جو لوگ اپنی بیگمات سے لا تعلقی اختیار کرتے ہیں تو ان کیلئے4ماہ ہیں پس اگر وہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
احناف کے نزدیک4ماہ بعد عورت طلاق ہوجائے گی اور باقی فقہاء کے نزدیک4ماہ بعد بھی نکاح قائم رہے گا۔ اس اختلاف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عورت حنفی مسلک کے مطابق اپنے شوہر کو4ماہ بعد اپنے لئے حرام سمجھے گی اور باقی فقہاء کے ہاں اس کا نکاح4ماہ بعد بھی قائم رہے گا۔ حالانکہ دونوں کا مؤقف غلط ہے۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو توڑ دیا جس میں کوئی عورت طلاق کے بغیر ساری زندگی خود کو نکاح میں سمجھتی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ حنفی مؤقف اقرب الی الحق ہے۔ باقی مسالک کا قرآن و فطرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حنفیوں کے نزدیک شوہر نے اپنا حق استعمال کیا اور باقیوں کے نزدیک شوہر نے اپنا حق استعمال نہیں کیا۔ اس وجہ سے تضادات سامنے آئے۔
حالانکہ اللہ نے عورت کی گلو خلاصی کیلئے یہ آیت نازل کی ہے۔ اگر عورت4ماہ بعد کسی اور سے نکاح کرنا چاہے تو اس کی عدت پوری ہے اور اگر عورت4ماہ بعد بھی شوہر کے نکاح میں رہنا چاہے تو نکاح باقی رہے گا۔ جس طرح عدت وفات کے بعد عورت مرضی کی مالک بنتی ہے اگر وہ اپنے فوت شدہ شوہر ہی کے نکاح میں4ماہ10دن بعد بھی رہنا چاہے تو ساری زندگی اس کا نکاح باقی رہے گا یہاں تک کہ قیامت اور جنت میں بھی اس کے ساتھ ہوگی۔ اور اگر دوسرے شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو پھر اس کی بھی اجازت ہے۔ سرکاری ملازمین کی ذہنیت بھی علماء و مفتیان سے زیادہ کام کرتی ہے۔ کوئی عورت عدت کے بعد جب دوسری شادی نہیں کرتی تو اس کے فوت شدہ سرکاری شوہر کی مراعات باقی رہتی ہیں۔ جب وہ دوسرا نکاح کرتی ہے تو پھر فوت شدہ شوہر سے اس کا نکاح ختم ہوجاتا ہے۔
نبی ۖ نے اماں عائشہ سے فرمایا کہ اگر مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو میں غسل دوں گا۔ ابوبکر کو بیوی نے غسل دیا اور علی نے فاطمہ کو غسل دیا۔ مولوی کہتا ہے کہ شوہر کی سانس نکلتے ہی بیوی طلاق ہوجاتی ہے۔ اللہ نے انسان کو نطفہ امشاج سے پیدا کیا ۔ نبی ۖ رجال میں سے کسی کے باپ نہ تھے اسلئے بیٹی کی اولاد منسوب ہے۔ مفتی منیر شاکر سید کو نہیں مانتے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا: رب ارحمھما کما ربیانی صغیراً باپ کی طرح ماں سے بھی بچے منسوب ہوتے ہیں۔ گھر والی کی طرح گھر والے بھی ہوتے ہیںجن میں چچا زاد شامل ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امریکہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ایٹمی پاور ہے، چین سے قریبی تعلق ہے اس کی فوج پریشان کرسکتی ہے۔ اس کو ترقی اور مسلم ممالک کی قیادت نہیں کرنے دینی!

امریکہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ایٹمی پاور ہے، چین سے قریبی تعلق ہے اس کی فوج پریشان کرسکتی ہے۔ اس کو ترقی اور مسلم ممالک کی قیادت نہیں کرنے دینی!

امریکی مصنف نے پاکستان کو تباہ وبرباد رکھنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔معاشی وسیاسی عدم استحکام کیساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی دنیا اور اپنی عوام کی نظروں سے گرانے کی منصوبہ بندی ہوئی تھی

پاک فوج ایسی کمزور منّی نہیں ہے جس کو دوسرے بدنام کرسکیں مگر اپنے کردار کی بدولت اس کو بدنام کیا گیا۔ امریکہ شمالی اتحاد کے علاقہ میں اپنے اڈے بناسکتا تھا مگر پاکستان کو بدنام کرنا تھا!

امریکی مصنف ڈینیل مارکی اپنی کتاب نو ایگزٹ فرام پاکستان میں لکھتے ہیں کہ ہم امریکن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے اس کی تین بڑی وجوہات ہیں پہلی وجہ پاکستان کا نیوکلیئر میزائل پروگرام اتنا بڑا اور ایکس ٹینسو ہے کہ اس پر نظر رکھنے کے لیے ہمیں مسلسل پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا پڑے گا۔ دوسری وجہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے چین کی سول وملٹری قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں چین پر بھی نظر رکھنے کیلئے پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج ہے کہ نہ صرف ریجن کو بلکہ پوری دنیا کو ڈی سٹیبلائز کر سکتی ہے۔ پاک فوج پر نظر رکھنے کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے وہ مزید لکھتا ہے کہ ہم نے72سال پہلے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ڈیویلپ ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پاکستان کو اسلامک دنیا کو بھی لیڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کیلئے ہم نے کچھ طریقے اپنائے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اتنا ڈی سٹیبلائز کرو کہ ہم اسے مینج کر سکیں جس طرح اس وقت وہ وہاں پہ بیٹھ کے مبینہ طور پر پاکستان کو مینج کر رہے ہیں اور ڈی سٹیبلائز اس طرح کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی لیڈرز کو خرید لیتے ہیں جن میں پولیٹیکل لیڈرز سول بیوروکریسی کے لیڈرز اور افسران اور اس کے علاوہ جرنلسٹ بھی شامل ہیں اور میڈیا ہاؤسز بھی اس میں شامل ہیں ڈینیل مارکی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پاکستان کے لیڈرز اپنے آپ کو بہت تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں اتنی تھوڑی قیمت کہ انہیں امریکہ جانے کا ویزہ مل جائے یا امریکہ میں ان کے بچوں کو سکالرشپ مل جائے اور اتنی چھوٹی چیز پر وہ پاکستان کے مفادات بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں دوستو یہ تھے کچھ پوائنٹ ڈینیل مارکی کی کتاب ”نو ایگزیکٹ فرام پاکستان” کے کچھ پوائنٹس جس سے آپ کو پتہ چلا کہ امریکہ مبینہ طور پر پاکستان کو کن تین وجوہات کی بنا پر نہیں چھوڑ سکتا ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv