ستمبر 2016 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں

عوام میں میڈیا کے ذریعے یہ شوشہ رہتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اچھی ہیں یا فوجی ڈکٹیٹر شپ؟۔ حالانکہ یہ سوال بالکل فضول ہے، دونوں ایکدوسرے کا نعم البدل نہیں بلکہ یکجان دو قالب ہیں، جس طرح جمہوریت کے دور میں کسی کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو کوئی عتاب رہتی ہے، اسی طرح فوجی ڈکٹیٹرشپ کے دور میں بھی بعض سیاسی جماعتیں اپوزیشن اور بعض اقتدار میں رہتی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں ، ن لیگ کو یہ بھی پسند نہیں، اس سے فائدہ اٹھاکر انقلاب کی ضرورت ہے مگر کیسے؟۔

 Raheel_Saharif_FebSpac2016

سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟

اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
قرآن نے انسان کو راہ پر لگانے کیلئے گدھے اور کتے کی ٹھیک مثالیں دیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟
اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔

مصطفی کمال کے بارے میں تجزیہ : اشرف میمن

اختلاف کو تحمل سے سننے اور جھگڑا نہ کرنے کے مشن کو گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں ملک کے کونے کونے تک پہنچانا چاہیے

ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان اور مصطفی کمال کا رویہ ایک جیسا ہے ، پی ایس پی کے رہنما اچھے مشن کو ہدف بنا کر مثلث تشکیل دیں

ڈاکٹر فاروق ستار کی تعلیم و تربیت اپنے والدین اور اساتذہ کے ذریعے سے اچھے ماحول میں ہوئی ہے جبکہ مصطفی …. اشرف میمن

ڈاکٹر فاروق ستار نیک والدین اور اچھے اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرکے ڈاکٹر بنے۔ الطاف حسین کا انکے کردار ، تعلیم ، ذہنیت ، بچپن ، لڑکپن ، جوانی اورزندگی کے مختلف مراحل پر کوئی اثر نہ تھا مگر اسکے برعکس مصطفی کمال کی گروتھ دیگر ماحول میں ہوئی۔ آج سمندر کے راستے کسی بھی فوجی یا عام آدمی کو انیس قائم خانی اور ڈاکٹر فاروق ستار میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو وہ ڈاکٹر فاروق ستار کیساتھ جانا پسند کریگا یا انیس قائم خانی کیساتھ؟۔ شاہ زیب خانزادہ کے ذمہ یہ سوال لگایا جائے۔ جناب مصطفی کمال ہی بتائے کہ اگر وہ روتے روتے بدحال ہوجائے اور قسمیں کھا کھا کر یقین دلائے کہ انیس قائم خانی ڈاکٹر فاروق ستار کے مقابلے میں بڑا معصوم ہے تو کیا کوئی اسکی بات پر یقین کرنے کیلئے تیار ہوگا؟۔ مصطفی کمال کی رگ و ریشے میں جو تعلیم و تربیت رچ بس گئی ہے ، اپنی ذات کو اسکے حصار سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر متحدہ قومی موومنٹ کو چندسالوں سے خصوصی طور پر نشانہ بنا کر ایک عرصہ سے رہنماؤں اور کارکنوں کا تزکیہ ہورہا ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی والوں کی قسمت جاگ گئی ہے لیکن دوسری طرف اگر انہی لوگوں کو پھر سے فری ہینڈ دیکر کراچی والوں پر مسلط کیا گیا تو اللہ تعالیٰ بھی ایجنسیوں کو معاف نہیں کریگا۔ پہلے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سندھی قوم پرست ، مہاجر لسانی فسادات اور فرقہ واریت کو ہوا دی گئی ، پھر طالبانائزیشن کے ذریعے جی ایچ کیو سے لیکر ملک کے کونے کونے تک عوام اور اداروں کی ہتک کی گئی۔ اب جنرل راحیل شریف نے جہاں پختونخواہ ، بلوچستان اور کراچی میں ایک خوشگوار تبدیلی کا آغاز کیا ہے وہاں دوبارہ دوسرے قسم کے مسائل کھڑے نہ ہوں اور لگتا یہ ہے کہ سید مصطفی کمال نے تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہے ، اچھی بات ہے اگر مذہبی جماعتوں میں کوئی بھی پسند نہ ہو تو متحدہ قومی موومنٹ کے مقابلے میں نئی سیاسی صف بندی کے بجائے محفل مشاعرہ کا اہتمام کریں۔ اس سے قوم کی اچھی اصلاح ہوسکتی ہے، وہ نہ دوہرایا جائے جس کا سبق سیکھا گیا ہے۔ لوگ سیاست سے تو تنگ آگئے ہیں اور ڈرامہ بازی سے بھی۔
مذہبی جماعتیں اپنے مخصوص ڈھانچے میں رہ کر اپنا تشخص قائم رکھتی ہیں لیکن عوام کے اندر آکر اخلاقیات ، قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں انفرادیت اور جائز ناجائز کے حوالے سے قابل قدر کردار ادا نہیں کرتی ہیں۔ پاک سر زمین پارٹی میں رضا ہارون سمیت بڑے عمدہ اور اچھے لوگ ہیں ، قیادت کیلئے جذباتی ہونے سے زیادہ سنجیدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ شاہ زیب خانزادہ نے یہ سوال کیا کہ اگر پی ایس پی کے پاس بڑی تعداد میں عوام ہیں تو ضمنی الیکشن لڑ کر دیکھ لیں۔ اگر ضمنی الیکشن میں متحدہ کو بہت کم ووٹ پڑا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لوگ اب بھی الطاف حسین کو ہی مانتے ہیں یا اس کا کوئی اور مطلب لیا جائے۔ جس کے جواب میں مصطفی کمال جھنجھلا گئے اور قدرے ناراضگی سے کہا کہ ’’آپ لکھ کر رکھ لو ، لوگوں نے ہمارے لئے اپنی انرجی 2018ء کے الیکشن کیلئے جمع کر رکھی ہے ، اس میں لوگ بڑی تعداد میں نکل کر ہمیں ووٹ دینگے‘‘۔
اگر مصطفی کمال یہ کہتے کہ’’ فی الحال عوام کنفیوز ہیں ، آنے والے الیکشن میں ہمارے ساتھ ہونگے ‘‘ تو بہتر ہوتا۔ خدا کا خوف رکھنے والے مسلمان یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح چوزہ انڈے سے اپنے مخصوص وقت میں نکلتا ہے ، اسی طرح سے لوگوں نے ہمارے لئے ووٹ کی قوت کو محفوظ کرکے رکھا ہوا ہے اور وقت پر انڈہ ٹوٹے گا۔ مرکز میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا رویہ اور کراچی میں سید مصطفی کمال کا رویہ ایک ہی جیسا لگتا ہے ، انکو مثلث بنا کر ایک ہی پارٹی بنانا چاہیے۔ اگر ایک اچھا نظریہ لیکر پاک سر زمین پارٹی کی قیادت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا رُخ کرلیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سطح پر عوام کو سیدھے راستے پر لگانے میں کامیابی ملے گی۔ فرقے ، جماعتیں ، تنظیمیں ، پارٹیاں اور ان کے مختلف خول مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کو ان سے نکالنا ہی مسائل کا حل ہے۔ اقتدار کی سیڑھی پر لگنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اورآداب غلامی ، آداب مصلحت ، آداب منافقت ، آداب ۔۔۔نہ۔۔۔جانے کیاکیا کرنا پڑتاہے۔
آدھی عمر الطاف حسین کے فلسفے کو سمجھانے ، دفاع کرنے اور عام کرنے میں گزار دی اور باقی اس کی مخالفت میں گزرے تو زیادہ سے زیادہ حساب برابر ہوجائیگا۔ قرآن کی چند آیات جو طلاق سے متعلق ہیں اور سورہ نساء میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہیں اگر ان کا صرف ترجمہ دیکھ کر مضامین کو سمجھ لیا جائے اور اس کو مشن بنایا جائے تو میاں بیوی ، بچے ، رشتہ داروں کی سطح سے لیکر عالمی سطح تک اس تحریک کو پذیرائی مل سکتی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کی کتابیں ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ دیکھ لی جائے اور علماء و مفتیان سے اس سلسلے میں ٹھیک گفتگو کی جائے تو اُمت مسلمہ بہت بڑے عذاب سے نجات پالے گی۔ جب خواتین کو بنیادی حقوق اللہ تعالیٰ نے دئیے ہوں اور علماء نے ان کو ان سے محروم کیا ہو تو ایسی ماؤں کی گود میں پلنے والے بچے بھی جس جبری خاندانی نظام کے تحت زندگی گزارینگے ، ان سے بھی آزاد نہیں غلام ذہنیت ہی متوقع ہوگی۔
ہم ایک دفعہ شروع میں ان حقائق کو بتانے کے حوالے سے حاضر بھی ہوئے تھے لیکن ہماری ملاقات نہ ہوسکی تھی۔ یہ بہت بڑی خدمت ہے کہ اگر خلوص نیت سے اس بات کی تشہیر کی جائے کہ مخالفین کی بات سنجیدگی سے سنو ، اختلاف کو باتوں کی حد تک رکھو ، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کے ماحول سے کراچی اور پورے پاکستان کو نکالو۔ اس مشن میں ہم بھی پورا پورا تعاون کرینگے اور اس کو ملک کے طول و عرض میں گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں اور سب جگہ پہنچانا چاہیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے سے تجزیہ :سید ارشاد علی نقوی

متحدہ کا راج تھا، عوام کے سر پر ہڑتال کی تلوار لٹکی رہتی تھی، الطاف حسین نے متحدہ کی لیڈر شپ کو بھی پٹوایاتو وکالت جاری رہی تھی

واقعی اپنی اصلاح کرنی ہے تو متحدہ کے رہنما ؤں کو چاہیے کہ اس معاشرے کے بالکل شریف ، ایمانداراور نئے چہرے لیکر آجائیں

جس طرح جنرل نیازی انڈیا کی قید میں رہ کر اپنی 95ہزار قیدی فوجیوں کیلئے قیادت کا کردار ادا کرتا تو کیافائدہ ہوتا؟ ارشاد نقوی

ڈاکٹر فاروق ستار ، خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالہ سے اپنے قائد الطاف حسین اور کارکنوں کی وکالت کرتے تھے، توبہ کا دروازہ اللہ تعالیٰ بند نہیں کرتا لیکن اچھے وقتوں میں اچھے اقدام اچھے لگتے ہیں، عدالتی نظام اور سیکورٹی طریقہ کار بھی قابلِ رشک نہیں۔ جس کو مجرم بنادیا مگر وہ مجرم نہ ہو اور مجرم کو انجام تک پہنچانے کے بجائے باعزت بری کردیا تو کونسا نظام ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نظام بھی درست نہیں اور سیاسی جماعتیں بھی 420کے کردار والی ہوتی ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں قتل وغارتگری کسی عوامی جماعت کیلئے بڑا مسئلہ نہیں ۔ پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قتل کیا جائے تو گواہ بھی نہ ملے۔ کسی جائز کام سے تھانہ جانا ہو، گاڑی کاانشورنس ہواہو اور سامان چوری ہوجائے تو بھی بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے لوگ حادثات میں ایک دوسرے کی مدد اسلئے نہیں کرسکتے تھے کہ پھر پولیس والوں سے جان نہیں چھوٹتی تھی۔اب عبدالستار ایدھی اور چھیپا وغیرہ نے یہ مشکل ہٹادی ہے لیکن باقی معاملات کو کون درست کرے گا؟۔
پہلے علاقہ کے ذمہ دار ، بڑے، محترم لوگ دیانت، سچ اور حقائق کی گارنٹی ہوا کرتے تھے، اب جو جتنا ڈھیٹ، نکما، بد دیانت، کمینگی میں گندھے ہوئے ضمیر کا مالک ہو۔وہی ذمہ دار، معتبر، محترم اور عزت مآب بنا پھرتا ہے۔ یہ صرف کراچی کی گلی کوچوں کی بات نہیں، مساجد، مدارس اور پاکستان کے کونے کونے میں پورے معاشرے کی یہی حالت ہے۔ ایسے میں کہیں سے تو انقلاب کا آغاز ہونا ہے۔ چپلقش بہت ہے، شیطان انسانوں کی خوشحالی پر خوش نہیں ہوتا ۔ ایسے دور میں جب ایم کیوایم کو بہت پریشانی تھی، نوشتۂ دیوار نے ان کو سہارا اور ڈھارس دیدی۔ راستہ صاف کیا اور بہت اچھے انداز میں دوسری سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے حملوں سے نجات دلائی ، غلطیوں کی بھی اچھے انداز میں نشاندہی کردی۔ ہوا کا رخ بھی بدل گیا ہے لیکن ہماری دعوت یہ ہے کہ اب ایک دوسرا رخ اختیار کرکے اصلاح کی طرف درست آنے کی کوشش کی جائے۔
مہاجروں کو ابوالکلام آزادؒ کے اقوالِ زریں سے گمراہ نہ کیا جائے،ڈاکٹر عاصم حسین کی شاہ زیب خانزادہ نے رپورٹ پیش کردی کہ’’ دہشت گردوں کا علاج ایک ڈرامہ تھا‘‘۔پیپلزپارٹی سندھ اور وفاق کی جماعت ہے، الطاف حسین نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی تھی، کارکن آنے سے روکتے تھے، حکومت نے نہیں روکا، ڈاکٹر عشرت العباد بھی مخصوص لوگوں کے نگاہوں میں بڑا قاتل، جرائم پیشہ اور سب کچھ تھا، الطاف حسین کا ہاتھ تھا تو گورنر بن گیا اور ہاتھ نہ رہا تو بھی طویل المدت گورنری کا ریکارڈ قائم کردیا۔ شیخ رشید کھل کر کہتا ہے کہ جنرل راحیل شریف زرداری کو ملک میں نہیں آنے دے رہا ۔ آئی ایس پی آر نے کبھی اسکی تردید نہ کی ، مہاجروں کو گلہ شکوہ نہیں مثبت انداز میں سوچنے اور انقلاب پر آمادہ کرنا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی نے کتنے لوگوں کوکراچی میں اپنی طرف مائل کیا ہے؟۔ سیاست کا ڈھانچہ پہلے بھی کراچی اور حیدر آباد کے مہاجروں نے بدلا تھا اور اگر متحدہ کے رہنما سیاست کے معیار کو تبدیل کریں توبہت اچھا رہے گا۔
127کی صوبائی نشست متحدہ ہار ی، یہ پہلے بھی پیپلزپارٹی کی تھی، جن80 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کو ڈاکٹر فاروق ستار نے تسلیم کیا ، ان میں 14،15ہزار ووٹ ملے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس میں پہلے متحدہ کس مارجن سے جیتی تھی، اگر پہلے متحدہ کو 60، 70ہزار ووٹ ملتے تھے تویہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ اب 25ہزار ملتے اور ہم جیت بھی جاتے توبھی اپنی ہار تسلیم کرلیتے ہیں۔ پہلے اشفاق منگی کی مدد سے یہ جیت گئے اور اب یہ ہم ہارگئے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ۔اس رویہ سے ان کی اخلاقی قدریں دوسروں کیلئے مثال بن جاتیں۔ ظفر ہلالی کا یہ کہنا کہ پہلے تم غلط کر رہے تھے، اب تمہارے ساتھ بھی ٹھیک ہورہا ہے مسئلہ کو مزید گھمبیر بنادیتا ہے۔ صحافت میں وکالت کرنا اچھی بات نہیں، گھوڑے گدھے کے سلوتری کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا جتنا ایک صحافی کے غلط رویہ پر اس کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔معقول بات یہ ہے کہ جس تعداد میں متحدہ کے ووٹ کم ہوئے ہیں وہ قابلِ غور ہے۔ پیپلز پارٹی کے جتنے بڑھے ہیں، وہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں ۔ اشفاق منگی والے مل گئے۔
یہ اچھی بات ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ خود کو بدلنے کا عزم لئے ہوئے ہے لیکن مجبوری کے باعث بدلنے سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ ایک طرف بانی الطاف حسین اورلندن میں بیٹھے دیگر احباب کا دباؤ ہو ، دوسری طرف الطاف حسین سے محبت رکھنے والی عوام کا دباؤ ہو اور تیسری طرف ریاستی اداروں کا دباؤ ہو، چوتھی طرف دیگر سیاسی جماعتوں اور مصطفی کمال کا دباؤ ہو اور پانچویں طرف کارکنوں اور چھٹی طرف میڈیا کا دباؤ ہو تو مشکلات بڑھتی جائیں گی لیکن یہ الگ بات ہے کہ دباؤ ڈالنے والی قوتیں خود بھی بالکل ناکارہ پرزوں کی طرح ہیں۔
ایم کیوایم نے کھالیں جمع کرنے کا منع کیا ہے، کارکن عاجزی اور انکساری کیساتھ لوگوں سے کھالیں جمع کرکے غریب آبادیوں کے مکینوں تک صاف ستھرے طریقے سے پہنچادیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ زکوٰۃ اور فطرہ غریبوں کا حق ہے مگر اس کیلئے بھی بڑے بڑے اداروں نے اپنے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے سے حقداروں کو ان کے حق سے محروم کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کو پہلے سے چاہیے تھا کہ زور جبر نہیں خلوص سے عوام کی خدمت کرتے تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ اگر مساجد کی سطح پر بھی ممکن ہو تو پرہیزگار لوگوں کے ذریعے ایسی کمیٹیاں تشکیل دینا مناسب ہوگا جہاں قربانی کی کھالیں ، زکوٰۃ ، خیرات اور چندے غریبوں تک پہنچ جائیں۔فاروق ستار نے کہا کہ ان سے کھالیں چھین لی گئیں مگر زبردستی پر دل کے کرب کا احساس ہونا مکافات عمل کا نتیجہ لگتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تجزیہ: فیروز چھیپا

مولانا فضل الرحمن اعلان کریں کہ مفتی محمودؒ نے زکوٰۃ کے مسئلہ پر غلط کیا تھا، سود کے مسئلہ پر بھی مفتی تقی عثمانی کا مؤقف درست ہے

سیاست میں مفاد، پیسہ اور اقتدار کی خاطر ضمیر کی قربانی مسئلہ اسلئے نہ رہا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر دین کی حفاظت تو کریں

امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک متفقہ طور پر احادیث صحیحہ کیمطابق مزارعت جائز نہ تھی بعد میں…… فیروز چھیپا

مولانا فضل الرحمن نے اپنی زندگی کو اسلام کی خاطر سیاست کی نذر کردیا ، سیاست ایک عبادت ہے لیکن خیانت کی سیاست بڑی منافقت ہے ۔ مولانا فضل الرحمن مراقبہ کرکے یہ تجزیہ کریں کہ کیا کھویا کیا پایا؟۔ مفتی محمودؒ نے بھی سیاست کی اور اس سے پہلے مولانا آزاد ؒ ، شیخ الہندؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ وغیرہ نے بھی نظریاتی سیاست کی۔ بعض متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اور بعض تقسیم ہند اور پاکستان کے حامی تھے۔ دونوں طبقے کانگریس اور مسلم لیگ کی طفیلی سیاست کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی حیثیت بھی اپنے بڑوں سے بڑی نہیں ہوسکتی۔ ایک مرتبہ مفتی محمودؒ کو اپوزیشن کی قیادت مل گئی تھی مگر ذو الفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں پلاٹوں کا سلسلہ شروع کیا تو مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے سوا ہر اپوزیشن رہنما نے پلاٹ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ مولانا فضل الرحمن جس ڈگر پر چل رہے ہیں اس میں بدعت ہے نہ جدت۔ بلوچستان میں اکثریت جمعیت علماء اسلام کے نمائندوں کی تھی جسکی وجہ سے بلوچستان کا وزیر اعلیٰ جمعیت علماء اسلام کا ہی بن سکتا تھا، مگر اس پر سودا بازی کی گئی اور صوبہ سرحد میں اقلیت والی جماعت کی بنیاد پر مفتی محمودؒ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ الیکشن جیتنے کیلئے بھی دوسرے سیاسی امیدواروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے خود کو جتوانا اور اپنی جماعت کے افراد کو ہرانا بہت پرانا حربہ تھا۔
بنوں کی سیٹ پر جمعیت کا الیکشن لڑنے والے مولانا مطالبہ کرتے تھے کہ مولانا مفتی محمودؒ مرکز کے عہدیدار ہیں اسلئے میرے لئے بھی میرے حلقے میں آکر ووٹ مانگیں لیکن مفتی صاحب کا سیف اللہ برادران سے معاہدہ ہوتا تھا، ٹانک کی صوبائی نشست اور بنوں کی قومی نشست خفیہ طور پر دوسروں کو حوالے کردی جاتی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کھل کر اس طرح کے معاملات کریں تو وہ صراط مستقیم پر گامزن ہیں البتہ مفتی محمودؒ نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کرنے میں زبردست کردار ادا کیا ، زکوٰۃ کے مسئلے پر زندگی کی آخری گفتگو کی ، مفتی تقی عثمانی نے پان کھلادیا اور مفتی رفیع عثمانی نے بھی دورہ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈال دی مگر جانبر نہ ہوسکے۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ہم دونوں بھائیوں کو چائے کی پیشکش کی لیکن ہم نے معذرت کی کہ دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ چائے نہیں پیتے۔ پھر مفتی محمودؒ کو پان کا بٹوا دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔پھر آگے گفتگو لکھی مگر پان کھلانے اور گولی کا ذکر نہ کیا۔ جبکہ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ان دونوں باتوں کا بھی ذکر کیا تھا جس پر مفتی تقی عثمانی نے ان کو جھاڑ بھی پلائی تھی۔ پان خور وہ ہوتا ہے جو تمباکو والا پان کھاتا ہو۔ اپنے بزرگوں کو اصرار کرکے تمباکو والا پان کھلانا غلط ہے اور اچھے بچے ایسا نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی کو ایک جگہ پر دعوت کیلئے مدعو کیا جائے اور کھانے کے بعد مفتی تقی عثمانی سے پان لیکر مولانا فضل الرحمن کو کھلادیا جائے تو سارا معمہ حل ہوجائیگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مولانا نے ابھی تو پان کھاہی لیا ہو اور پتہ چلے کہ مولانا کلٹی۔ مفتی محمودؒ چھپ کر پان ضرور کھاتے ہو نگے اورمولانا فضل الرحمن کو پان کھلانے سے گریز کیا جائے۔ پان کے چھونے سے منہ پھٹنا یقینی ہوتا ہے ۔
طلاق کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمن نے اگر صحیح اسٹینڈ لیا تو چھوٹے موٹے بہت سے گناہ معاف ہوجائینگے۔ قرآن و سنت کے بنیادی مسئلے پر ذہن کھل جائے اور پھر بھی عقیدتمندوں کے گھر تباہ ہوں ، حلالوں کی لعنت سے دو چار ہوں اور اس پر چپ کی سادھ لی جائے تو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے مولانا فضل الرحمن مفتی محمودؒ کے مؤقف پر کھڑے تھے اور بینکوں سے کٹنے والی زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے ، پھر حکومتوں میں شامل ہوکر اپنے لوگوں کو زکوٰۃ کی کمیٹی کا چیئر مین بنانے کو ترجیح دی۔ بھوک کی حالت میں خنزیر کے گوشت کی بھی اجازت ہوتی ہے چلو ہم اس معاملے کو درست تعبیر پر محمول کرلیتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے کہ درباری علماء نے ہمیشہ اسلام کے حلیہ کو بگاڑا ، پہلے تو علماء حق نے مزاحمت کی مگر بعد میں انکے جانشین آہستہ آہستہ رام ہوتے گئے، زکوٰۃ کے بعد سُود کا مسئلہ آیا، سارے علماء و مفتیان ایک طرف کھڑے ہیں اور مفتی تقی عثمانی اکیلے بینکوں سے معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قرار دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سیاسی مفادات کا خیال رکھیں مگر کچھ تو ایمان اور آخرت کیلئے بھی کریں۔ اسلام فطری دین ہے ،جسکوتاریخ کے ادوارمیں غیر فطری بنایا جاتارہا۔
امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ متفق تھے کہ زمین کو مزارعت ، بٹائی ، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا جائز نہیں اور اس کیلئے بہت سی احادیث صحیحہ بھی موجود ہیں۔ پھر علماء سُوء نے ان ائمہ حق کا ہی جانشین بن کر مزارعت کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ اسکی وجہ سے لوگ غلام بنتے تھے ورنہ اپنے اصل کے اعتبار سے ناجائز نہ تھا۔ حالانکہ آج بھی مزارعین غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود پہلے اسی فکر کے بتائے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ خود بھی ان جاگیرداروں ، نوابوں اور وڈیروں کی صفوں میں شامل ہوگئے جن سے لڑنے نکلے تھے۔
ایمان ، قرآن اور آخرت کیلئے نہ سہی ، دنیا ، سیاست اور مفاد کیلئے ہی اسلام کے فطری نظام کو دنیا میں رائج کرنے کو اپنا مشن بنالیں ، حلالہ کی لعنت سے اپنے ہی عقیدتمندوں ہی کو بچالیں۔
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ،اپنا تو بن
عوام کو فطری نظام کی دعوت دی جائے تو ملک کے کونے کونے سے خوش آمدید کی آوازیں ہی سنائی دیں گی اور بصورت دیگر عوام کے شعور پر زیادہ دیر تک پہرا لگانا ممکن نہیں ہے اور جب عوام کا شعور خود بیدار ہوجائے تو پھر علماء کو اپنے ٹھکانے بدلنے پڑیں گے۔ کراچی کے حالیہ احتجاج کے پیچھے نواز شریف کا پیسہ تو نہیں تھا تاکہ جمعیت کی نفری سے فوج کو ڈرایا جائے؟۔

مفتی تقی عثمانی کے حوالے سے تجزیہ: مُلا منیر

ہمارا معاشرہ حق، دین اور انسانیت کے بجائے پیسہ، شہرت ، اثر ورسوخ اور باطل ڈھانچے کی بنیاد پر کھڑا انقلاب کامنتظرہے

مفتی تقی عثمانی شادی بیاہ کے لفافے کو سود، ماں سے زنا اور سودی نظام کو اسلامی قرار دیاہے ،باقی سارے مدارس مخالف ہیں

اسلام کا حلیہ ہر دور میں ایسے شیخ الاسلاموں کے ذریعہ سے ہی بگاڑا گیا ہے، معاوضہ اور سرکار کی سرپرستی بھی ملتی ہے۔ ملا منیر

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سود کی سخت مخالفت کی، رسول اللہ ﷺ نے اس کی مذمت فرمائی،مگر عملی طور سے سودی معاملات کا خاتمہ حجۃ الوداع کے موقع پر پہلے چچا عباسؓ کے سود کو معاف کرنے سے کیا۔ جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ سود ایک انفرادی معاملہ اور اجتماعی مسئلہ ہے۔ جیسے خنزیر کے گوشت کو اللہ نے حرام کہا لیکن بوقتِ ضرورت بقدر ضرورت اجازت بھی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرغیوں اور جانوروں کی طرح خنزیروں کے بھی فارم بنائے جائیں، دوسرا گوشت بھی ناپید کردیا جائے تو مفتی تقی عثمانی کی آل اولاد سے اس پر سوفیصد حلال ہونے کا معاوضہ دیکر فتویٰ جاری کیا جائے، تبلیغی جماعت والے مسجدوں میں اسکے کھانے کے فضائل بیان کرنا شروع کردیں۔ مخالفت کرنے والے مذہبی جماعتیں جمعیت علماء اسلام حکومت سے مفاد لیکر اس کی سپلائی اپنے ہاتھ میں لیں، تنظیم اسلامی اور جماعتِ اسلامی کے لوگ دارالعلوم کراچی سے خرچہ پانی لیکر خنزیر گوشت کیخلاف مہم شروع کردیں کہ اللہ نے اس کو قرآن میں حرام قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کریں کہ فارمی خنزیر وں کا مدارس نے فتویٰ دیا ہے کہ یہ اسلامی ہے۔ جس طرح سود کی مخالفت کے نام پر پیسہ لیکر اسلامی بینکاری کی حمایت کی جارہی ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی جہاں مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان بیٹھے ہیں، مولانا مفتی زر ولی خان اور دیگر تمام مدارس والے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کررہے ہیں مگر اس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہورہا ہے۔ آج سود کا معاملہ ہے تو کل خنزیر کے گوشت کا ہوگا۔ مفتیان نے شروع سے جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ فقہ کے چار اماموں سے پہلے مدینہ کے سات فقہاء گزرے ہیں وہ بھی عام تصویر اور مجسمہ کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے، رسول اللہ ﷺ کے اپنے گھر میں بھی حدیث صحیحہ کیمطابق پرندے کی تصویر تھی، گھوڑے کی شکل میں کھلونا مجسمہ تھا، حضرت عائشہؓ کے حجرے میں نبیﷺ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی قبریں تعمیر ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان پر احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قتل الانسان ما اکفرہ ، من ای شئی خلق، من نطفۃ ، خلقہ فقدرہ ، ثم سبیل یسرہ ، ثم اماتہ فاقبرہ ’’مارا جائے انسان یہ کیوں ناشکری کرتا ہے؟، کس چیز سے اس کو پیدا کیا؟ ، نطفہ سے پیدا کیا!، اس کو پیدا کیا، پھر اس کا مقدر بنادیا، پھر اس کیلئے اس کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کو موت دیدی اور قبر دیدی‘‘۔ یعنی قبر بھی احسان ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے پوجے جانے والی قبروں، مجسموں اور تصویروں کو مٹانے کا فرمایا لیکن اس کی دنیاوی شکل وصورت پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ مسلمانوں کے سامنے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ حقائق بتانے کی ضرورت ہے۔معجزات اور کرامات برحق ہیں لیکن اسکے نام پر تجارت اور لوگوں کو بیوقوف بنانا بہت غلط ہے۔ روحانی علاج سائنس کی بنیاد پر بھی ایک نفسیاتی علاج ہوسکتا ہے لیکن سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر اللہ نے یہی کرنا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو شعبِ ابی طالب، مکی دور کی تکالیف، طائف کے سفر میں لہولہان اور حبشہ کی طرف ساتھیوں کو مہاجر اور مدینہ ہجرت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دینا تھا کہ اپنی جگہ پر دم درود سے علاج کرو، ساری دنیا جھوٹے بتوں لات، منات، عزیٰ وغیرہ کو چھوڑ کر نبیﷺ کے درِ اقدس پر سر جھکاتی اور علاج و شفایاب ہوکر جاتی لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا، یہ الگ بات ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو غارِ ثور میں سانپ نے ڈس لیا تو لعابِ دہن مبارک سے شفاء مل گئی۔ سراقہ نے سرپٹ گھوڑا دوڑا کر انعام کے چکرمیں نبیﷺ کا پیچھا کیا تو اللہ نے معجزانہ طریقے سے اس کو ٹھوکریں کھلا کر معافی مانگنے پر مجبور کیا، کسی کا دل نہیں مانتا یاگھوڑے کے دھنسنے کا واقعہ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی اور سرسید احمد خان جیسے لوگوں کی نظروں میں بناؤٹی ہوسکتا ہے لیکن موجودہ دور میں بھی امامِ انقلاب سید عتیق الرحمن گیلانی پر کار میں گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور اللہ کی قدرت سے بچ گئے۔ گاڑی خود چلارہے تھے اور گاڑی کاوہی دروازہ لیزر ہتھیار سے ایسا کٹ گیا تھا جیسے کلہاڑی سے کاٹا گیا ہو مگر پھر بھی آپ اور ساتھ میں بیٹھنے والوں کو خراش تک نہیں آئی۔
اگر شاہ صاحب وہیں بیٹھ جاتے اور لوگوں کو دم تعویذ کے نام پر دھوکہ دیتے تو طالبان بھی ان کے مرید بن جاتے۔ وہاں کے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ بریلوی کیا ہوتا ہے، گومل کا ایک خاندان اہلحدیث بن گیا، شاہ صاحب کے گھر کی نوکرانی نے کہا تھا کہ ’’وہ بریلوی بن گئے ہیں‘‘ جس پر کہا گیا کہ وہ تمہیں بریلوی سمجھتے ہیں، اس نے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ میں بریلوی ہوں۔ اہلحدیث مسجد کے امام کی تنخواہ ، کنویں کی کھدائی وغیرہ کے نام پر کچھ مفادات اٹھارہے تھے تو شاہصاحب کے بھائی پیر نثار نے ان سے کہا تھا کہ ’’یہ کونسی بات ہے کہ ایک خاندان والے کو بیک وقت اہلحدیث کا مسلک سمجھ میں آگیا‘‘۔ مفتی تقی عثمانی کے پورے خاندان والوں کو اچھا خاصہ معاوضہ مل رہا ہے ، یہ صرف اسی خاندان اسلئے سمجھ میں آیا ہے کہ سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینا درست ہے۔ پھر مفتی منیب الرحمن بھی میدان میں کود گیا، آہستہ آہستہ آخرمخالفت کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔
اللہ تعالیٰ نے اس دور میں سید عتیق گیلانی کی صورت میں ایک تحفہ دیا ہے جس کو ڈھال بناکر ملک سے فرقہ پرستی، قوم پرستی، باطل پرستی اور سارے غلط فتوؤں کا نام نشان مٹایا جاسکتا ہے، زندگی بھر ان کا ساتھ نہ دیا جائے اور فوت ہونے کے بعد علماء حق کی فہرست میں سرخیل ہوں تو یہ بھی ان کے نام پر اپنی کتابیں بیچنے کا دھندہ ہوگا۔ علماء حق کیساتھ تاریخ کے ہر دور میں یہ معاملہ رکھا گیا ہے لیکن یہ میڈیا کا دور ہے، تصویر کا مسئلہ علماء ومفتیان نے اپنے مفاد میں قبول کرلیا ، طلاق کے مسئلے کو بھی قبولیت مل رہی ہے، لوگوں کو محنت کی ضرورت نہیں صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کو مشورہ اور بیان پر تبصرہ: ڈاکٹرسید وقار شاہ

تم شیخ الاسلام کہلاتے ہو، عتیق گیلانی کی کتابیں ’’ ابررحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ کو پڑھ کر تصدیق یا تردید کمال ہوگا

پدو مارناپنجاب کی عام روایت ہے لیکن شعور بیدار ہوتا تو پیروں فقیروں سے سیاسی لیڈروں تک لتھڑی شلوار وں کو کم از کم پہچانتے

قادری!شریف برادری پر بھارت کے کھلے ایجنٹ کا الزام لگا کر پاک فوج کے ذمہ داروں پر کالک مل رہے ہو؟۔ڈاکٹر وقار حیدر

ڈاکٹرطاہرالقادری عجیب الخلقت قسم کا جانور لگتاہے، اپنے کرنے کا کام وہ کرتا نہیں، شیخ الاسلام ہو تو عتیق گیلانی کی طلاق سے متعلق تحقیق کی تصدیق یا تردید کردیتا، علماء کی دنیا میں نام کماتا، عوام کا امام بن جاتا۔ یہ انکے کرنے کا اصل کام تھامگر اس پر کان نہیں ہلاتا ہے، سیاست اسکے بس کی بات نہیں، جان سے بڑاعزت کا معاملہ ہے حلالہ کے نام پر عزتیں لٹ رہی ہیں، قرآن و سنت کیخلاف فتویٰ سازی کی فیکٹریوں سے کیا گھر تباہ کرنا ، خاندانوں کو اجاڑنا، بچے خوار کرنا قرآن اوراسلام کا وظیفہ ہوسکتاہے؟۔
اگر شریف برادران ’’را‘‘ کے ایسے کھلم کھلا ایجنٹ ہیں تو یہ تم جنرل راحیل، ڈی جی آئی ایس آئی اور فوج کے منہ پر کالک مَلرہے ہو۔ہمارے ادارے اس قدر نااہل اور احمق بھی نہیں کہ جوڈاکٹر طاہرالقادری سمجھ رہا ہے۔ میڈیا میں بیٹھے بہت سے وہ صحافی جن کو صحافت کرنا زیب نہیں دیتی ہے، گھوڑوں کو دیسی طریقہ سے خصی کرنے والے کو سلوتری کہا جاتا تھا، یہ لوگ گدھوں کے سلوتری لگتے ہیں۔
جب ڈاکٹر طاہرالقادری پہلی مرتبہ کنٹینر سجاکر اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دیکر بیٹھ گئے تو شیر خواہ بچے بارش اور سخت ٹھنڈ میں بدحال تھے، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے صاحبزادے اور برقعہ پوش جواں صاحبزادی دندناتے ہوئے ٹھنڈ پروف کنٹینر میں گھوم رہے تھے، یزید کے سامنے یہ نہیں ہوا تھا کہ کربلا میں بچے سامنے پیاس سے مررہے ہوں، یا سردی گرمی سے بدحال ہوں، اس شخص نے پوری قوم ، میڈیا کے سامنے جس بے غیرتی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر آسمان کے فرشتے اور دنیا کے سمجھدار انسان کتنا افسوس کا اظہار کرتے ہونگے؟۔ جن غریبوں نے کبھی اسلام آباد دیکھا نہ تھا، ا نکے بچے کربلا کے نام پر قربان ہونے کیلئے سردی میں کنٹینر کے سامنے مررہے تھے، کھانے کو فاسٹ فوڈ مل رہا تھا تو غریب سمجھ رہے تھے کہ بلا کی سردی میں یہاں کھانے کایہ مزہ تو جنت کی طرف کوچ کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی خطابت سے انکے جذبات سے کھیل رہے تھے، یزید کے لشکر میں ایک’’ حر‘‘ سپہ سالار تھا لیکن قادری کے کنٹینر سے کسی ایک کی آواز نہیں آئی کہ اپنے جوان بچے محفوظ اور غریب کے شیر کوار بچے سردی اور بارش میں بدحال ہیں، اس وقت عامر فرید کوریجہ اتنا سوچ لیتے مگر پنجاب اور پاکستان کی عوام میں شعور کا فقدان ہے۔
اس وقت جس انقلاب کی بات ہورہی تھی، اس میں تحریکِ قصاص کا نام لینے کی گنجائش نہ تھی، اس وقت طالبان کا اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا، خرم نواز گنڈہ پور وزیرستان کے ان علاقوں میں کھلے عام گھوم رہے تھے جن میں طالبان اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مشترکہ راج تھا، جہاں وزیرستان کے اپنے باشندے بھی نہ جاسکتے تھے، اور خرم نواز طالبان کو فرشتہ صفت کہتے تھے، ڈاکٹر طاہرالقادری کا کردار یہ تھا کہ نیٹو نے مل کرکتوں کے ریلے کی طرح جب طالبان پر حملہ کیا تو مسلکی تعصب کی بنیادپر ریلے کیلئے کتیا کا کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور ان پر کتاب لکھ کر فتویٰ لگادیا کہ ’’یہ خوارج اور قتل کے قابل ہیں‘‘۔ نیٹو نے پھر عراق، لیبیاوغیرہ کو بھی تباہ کردیا، حالانکہ طاہرالقادری کو اتحادامت کا داعی ہونے کی وجہ سے اپنے مسلک والوں نے باہر کیا تھا۔یہ تو غلط کہتا ہے کہ ’’ بارود والے نہیں درود والے ہیں‘‘ کبھی درود وسلام کی آواز انکے کنٹینر سے آئی؟، خود کو پہلی مرتبہ آمدپرطالبان کا بھائی کہا تھا۔ یہ توسیاسی رقص وسرودوالے ہیں۔اسلام آباد میں لاؤڈ اسپیکر خراب کرکے اپنے فسٹ کزن کے راگ ورنگ والے کنٹینر میں پہنچ گیا تھا، یہ پولیس کی پٹائی لگوارہا تھا، اور عمران خان پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی سرِ عام دھمکی دے رہا تھا۔
جسطرح ایک پولیس افسر کی پٹائی لگائی گئی اور میڈیا نے اس کو کوریج بھی دی ،اگر نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں غیرت ہوتی تو حکومت بچانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو اسی طرح میڈیا کے سامنے اسی پولیس افسر کی سرکردگی میں ان پولیس اہلکاروں سے پٹوادیتے جن کو اسلام آباد ائرپورٹ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان بے غیرتوں کو گھر کے احتجاج پر طیش آتا ہے لیکن پولیس افسر کی توہین اور تشدد کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ میرا اپنا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے اور مجھے پنجاب کے بے شعور عوام پر ترس آتا ہے جن کو پیروں فقیروں سے لیکر سیاسی اور مذہبی لیڈروں تک سب بیوقوف بناتے ہیں،سرِ عام پدو مارنا تو عام سی بات ہے لیکن دھوتی ، شلوار اور پینٹ بھی گُو سے لتھڑی ہو تو کسی کو بدبو کا پتہ کیوں نہیں چلتا ہے؟۔ کئی دنوں سے مسلسل بک بک ہورہی ہے کہ ہمارے پاس سرکاری دستاویزی ثبوت ہیں کہ نوازشریف اور اسکا اتحادی را کا ایجنٹ اور اسکے پیرول پر ہے۔ پیرول پر ہونے کیلئے تو ضروری ہے کہ کوئی کسی کی کسٹڈی میں ہو اور اس کو وقتی طور سے چھوڑ دیا جائے، جب محمود خان اچکزئی بھارت کی کسٹڈی میں بھی نہیں تو پیرول پر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس بیرون ملک کی نیشنلٹی ہے اور یہ نیشنلٹی کس لئے دی گئی؟، ان سے یہاں فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی نیا دور شروع کرانے کا پروگرام تو نہیں؟۔
ڈاکٹر عاصم حسین سے متعلق اقرارِ جرم کے بہت سے شواہد اور دستاویزی ثبوت کی باتیں کی گئیں اور اب شاہ زیب خانزادہ نے کسی کی تحقیق منظرِ عام پر لائی ہے کہ جن دہشت گردوں کے علاج کا معاملہ اٹھاکر بڑے بڑے مقدمات بنائے گئے، جن میں نامی گرامی لوگ شامل ہیں، ضیاء الدین ہسپتال سے ان لوگوں کے نام نکلوائے گئے تو وہ سب کے سب شریف شہری ہیں، ان میں سے کوئی بھی دہشت گرد نہیں اور نہ انمیں سے کسی کو پتہ ہے کہ ان کی بنیاد پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں، رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ آپ نے رابطہ کیا ہے اس سے پہلے اس سلسلہ میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ اگر ریاست میں اتنے بڑے بڑے کام واقعی غلط طریقے سے ہوں تو یہ ملک شعور کا تقاضہ کرتا ہے، شعور سے انقلاب آسکتا ہے، اداروں، حکومت اور لیڈر شپ کے کردار کو بدلنا ہوگا۔

عمران خان کے بیان کا جائزہ اور حقائق: فاروق شیخ

عمران خان نے اسفندیار ولی کو کراچی کے جلسہ میں مخاطب کرکے کہا کہ جب تمہاری حکومت تھی تو دوبئی سے خطاب کرتے تھے!

درست بات ہے لیکن اس وقت عمران خان نے اپنی دم ایسی گھسیڑی تھی کہ کرین سے بھی کھینچ لیتے تو کٹ سکتی تھی نکل نہیں سکتی تھی

پہلے جناح کے مزار کے پاس جلسہ میں الطاف کیخلاف بولنے کی جرأت نہ کی تھی زہرہ شاہد کی تعزیت بھی نہ کی تھی۔ فاروق شیخ

یہ سیاسی لیڈر ہیں یا کوئی جوکر اور مداری؟ کیا عوام کو اتنا نادان سمجھ رکھا ہے کہ جو بکتے جاؤ، کسی نے نوٹس ہی نہیں لینا ہے۔ اگر یہ تماشہ جاری رہا تو لوگوں کے دلوں میں الطاف بھائی کی قدر ومنزلت بیٹھ جائے گی۔ کراچی کو اگر الطاف حسین کے شر، سحر، لیڈر شپ اور محبت سے فارغ کرنا ہے تو کسی ڈھنگ کے آدمی کو لانا پڑے گا۔ نشتر پارک میں الطاف حسین کے مقابلہ میں جلسہ کرنا تھا تو اسفندیار ولی کو کیوں یاد کیا؟، یاد کرنا بھی تھا تو کوئی ڈھنگ کی بات ہی کرلیتے، یہ کہتے کہ طالبان جیسی دہشت ، خون خرابہ اور مظالم کا تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ریاست اپنے ڈھیر سارے وسائل کے باوجود اتنی خوفزدہ تھی کہ مظلوم عوام کا تماشہ دیکھتی رہتی تھی ، مرد کا بچہ میاں افتخار حسین تھا جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کیا، بشیر احمد بلور تھا جو دھماکوں کے بعد پہنچ جاتا اور کہتا کہ آج ان شہیدوں کو ہم پوچھنے آرہے ہیں، کل ہماری لاش بھی یہیں پڑی ہوگی، افضل خان لالا تھا جس نے سوات سے آخری وقت تک کوچ نہیں کیا بلکہ مردانہ وار موت کا سامنا کرنے کی حد تک اپنی جگہ پر کھڑا رہا ہے، واہ یہ لوگ! باچاخان نے انگریز کیخلاف جدوجہد کابیج بویا تھا ، طالبان کا دور تو بہت خوف، دہشت اور خون خرابے کا دور تھا، یہ بہادری ان کو وراثت میں ملی تھی۔ او تحریک انصاف کے ورکرو!، سن لو، ہمارے اندر ملالہ یوسف زئی جتنی جرأت بھی نہیں۔ زندہ قیادت ایسی ہوتی ہے جیسے اسفندیار خان کے کارکنوں اور رہنماؤں نے طالبان کے آگے اپنا سر نہیں جھکایا ، ہمارا ان سے نظریاتی اختلاف ہے لیکن بہادری سے اپنے غلط نظرئیے کیلئے ابوجہل کو بھی لڑنا پڑے تو اس کو بزدل نہیں کہا جاسکتا، یہی وجہ تھی کہ ان کا صاحبزادہ حضرت عکرمہؓ جب اسلام قبول کرتے ہیں تو باپ کی بہادری کے جراثیم اسلام کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
عمران خان اے این پی کی بہادری کی داستان سناتا تو اپنے کارکنوں میں بھی غیرت جاگ اٹھتی، یہ جذبہ کراچی کی مشکل صورتحال میں کام آتا، ایک جنرل نیازی نے سقوطِ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دئیے تھے مگر نیازی ایک بہادر قوم ہے، پتہ نہیں عمران خان نیازی کہلوانے سے کیوں کتراتا ہے؟۔ اچھا ہے ان کا نام لیکر ان کو بدنام نہیں کرتا، الٹی سیدھی باتوں سے کیا حاصل ہوتا ہے؟، اگر انسان میڈیا پر ہو، عوام سے مخاطب ہو تو کوئی اچھا پیغام جانا چاہیے، عمران خان سمجھتا ہے کہ کسی اور پر کیچڑ اچھال رہا ہے اور اسکے جیسے جماعت کے رہنما اور کارکن بھی نہ کچھ سوچتے اور نہ سمجھتے ہیں ۔ نشتر پارک سے زیادہ دور جناح کا مزار نہیں، جہاں اسی عمران خان نے الطاف حسین سے مل کر جلسہ کیا تھا، کوئی لفظ بولنا تو چلو کوئی تاویل ہوسکتی ہے، زہرہ شاہد کی تعزیت کیلئے بھی نہ گیا، ایسی بزدلی کا مظاہرہ کرنے پر کراچی والوں کو پتہ چل گیا تھا کہ لغو قسم کی بکواس کرتا ہے، رینجرز اور پاک فوج کا شکریہ کھلے لفظوں میں ادا کرتا کہ طالبان کی دہشت اور متحدہ کی وحشت سے آزاد کردیا۔
لوگوں کے حافظے اتنے کمزور نہیں ہیں،الٹی سیدھی باتیں تو ہیجڑے بھی بول سکتے ہیں، جب کسی کا دور ہو تو اسکے خلاف آواز اٹھانا مردانگی ہوتی ہے۔ انڈیا کے اداکاروں کو بلواکر شوکت خانم کیلئے فنڈ اکٹھا کیا جاتا تھا، اگر اسوقت اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کو امریکہ سے لایا جاتا تو زیادہ سے زیادہ فنڈز بھی ملتے اور شدت پسند بھی دوسروں پر اٹیک کرنے سے رک جاتے کہ گھر کا معاملہ بھی ٹھیک نہیں ۔ مفتی سعیدخان نے رمضان میں اعتکاف کرنے والوں سے اپنی ہی مسجد چتھر پارک اسلام آبادجی ٹی روڈ مری میں خطاب کیا کہ ’’ مودی مذہبی ذہنیت رکھتا ہے، میں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ اسکو گائے ہدیہ کیا جائے‘‘۔ عمران خان کو چاہیے کہ سیاست چھوڑ کر کوئی دوسرا کام کرے، اسلئے کہ لوگوں میں بہت شعور ہے، پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ امپائر کی انگلیوں کے اشارے سے کوئی تاراج ہوگا اور اس کو تخت پر بٹھایا جائے گا، اس قسم کا ایک اشتہار بھی فیض کے اشعار سے بنایا گیا ہے کہ ’’جب تخت اچھالے جائیں گے‘‘ جس میں جنرل راحیل شریف کیساتھ عمران خان کی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے۔حالانکہ یہ نظم تو عمران خان جیسے لوگوں کیخلاف ہی تو فیض نے لکھی تھی۔ ہیلی کاپٹروں میں گھمانے والوں کی امیدیں دم توڑ دیں گی تو عمران خان کو کوئی گدھا گاڑی پر بھی نہیں بٹھائے گا۔ اب تو امید کی وجہ سے ریلے میں وڈے (بڑے)وڈے ساتھ ہیں۔
عوام کو فیصل واوڈا نے بے جا تکلیف دی تو عمران اسماعیل نے کہا کہ اس کام سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر حکومت نے اس کو رہا نہ کیا تو ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے۔ ہاتھی جیسے عمران اسماعیل کو بغیر سینگ والے بکرے کی طرح ایک بوڑھے شخص نے جیسے کیمرہ کے سامنے بھگایا اس سے اس کی ہمت کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ عوام کو اتنی تکلیف ہوئی، لوگ ائرپورٹ نہیں پہنچ سکے ، اس کا تعلق اگر خالی معافی مانگنے سے ہو تو قانون کا کیا فائدہ؟۔ ایک دن پولیس اس کو کھلی گاڑی میں بٹھادے اور اس وقت ٹریفک کی روانی میں عوام سے کہے کہ لعنت دیتے ہو تو بھی تمہاری مرضی اور یہ سمجھتے ہو کہ تنگ کرکے کارنامہ انجام دیا ہے سیلوٹ کرتے ہو تو بھی تمہاری مرضی۔ پھر اندازہ لگ جائیگا کہ کتنے لوگ لعنت ملامت کرتے ہیں۔ الطاف حسین سے لوگ اسلئے تنگ تھے کہ روز روز یہ ٹریفک کی کہانی ہوتی تھی۔ اب اگر اس کی جگہ واوڈا جیسوں کو لانا ہے تو لوگ ریاست کو ہی قصور وار قرار دینگے۔ راؤ انوار نے بذاتِ خود پکڑ کر زبردست کام کیا، عوام اور اہل اقتدار کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ کراچی کے لوگ بینروں، جماعتوں، ہڑتالوں اور اس قسم کی ساری حرکتوں سے تنگ ہیں، جو غلط حرکت کرے اس کا گھر بار، کاروبار بیچ کر نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ دو چار کیساتھ ایسا ہوگا تو عوام کو نجات مل جائیگی،نئے وزیراعلیٰ سے اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں، وقت سے پہلے ٹرالر چھوڑ دئیے جاتے ہیں ، قائدآباد سے ملیر ہالٹ روزانہ عذا ب کا منظر پیش کرتاہے ۔ گلشنِ حدید لنک روڈ کے ٹوٹے پل کیلئے شہبازشریف سے کوئی نسخہ لیتا تو عوام کی مراد بھر آتی۔

چوہدری نثار کے بیان پر تبصرہ : ایڈیٹرنوشتۂ دیوار: اجمل ملک

جاویدپراچہ نے انکشاف کیاتھا کہ شہباز تاثیر کی اطلاع طالبان نے چوہدری نثار کو دی تھی، پھر سلیم باجوہ کو کیوں بدنام کردیا ؟

پہل کرنے میں چوھری کی عزت ہے ورنہ پھر شکوہ ہوگا کہ ’’ بڑے بے آبرو ہوکے اس کو چے سے ہم نکلے‘‘ایڈیٹر:اجمل ملک

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا بیان آیا ، تو چودھری نثار نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سول حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل نہیں کرتی ہے۔ چوہدری نثار کی بات درست ہے تو ناصر جنجوعہ کو کیوں آخر میں ذمہ داری سونپی گئی ہے؟۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس میں کس قسم کی دلچسپی کب ظاہر کی ہے؟۔ اگر نوازشریف اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے تو سانحہ کوئٹہ کے موقع پر حکومتی صفوں میں بدمزگی پیدا کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مولانا محمد خان شیرانی اور محمود اچکزئی کا تعلق حکومتی اتحاد سے ہے۔ وزیرداخلہ کا محمود اچکزئی کے بیان کا نوٹس لینا اور مولانا شیرانی کے بیان کا نوٹس نہ لینا وزیراعظم کی طرف سے عدمِ دلچسپی کا ثبوت ہے۔ وزیردفاع اور وزیرداخلہ کا آپس میں رابطہ نہیں ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل ’’ ضربِ عضب‘‘تک محدود ہے۔
جن لوگوں نے ساری زندگی فوجی امریت کے سایہ میں گزاری ہو، جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہوں ان کو قومی ایکشن پلان کے تقاضوں کا کوئی پتہ بھی کہاں سے چلے؟۔یہ عرفان صدیقی جیسے مشیروں کے مرہونِ منت ہیں، جس نے حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کہاتھا کہ ’’ رفیق تارڑ نے کلاشنکوف بردار جرنیلوں کے سامنے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ نہ دیا تھا‘‘۔ حامد میر نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں پوچھا ’’ رفیق تارڑ نے‘‘۔ جنکے مشیر عرفان صدیقی جیسے لوگ ہوں، وہ وزیراعظم اور سول حکومت کو کس طرح قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرائیں گے؟۔ عرفان صدیقی کا مشیر ہونا اس بات کی غمازی کرتاہے کہ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کرنے کے ذمہ دار وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ’’ہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں، عرفان صدیقی کو اپنا مشیر رکھنا اس کا بین ثبوت ہے۔ فوج کو الجھانے کیلئے محمود خان اچکزئی ، مولاناشیرانی اور مولانا فضل الرحمن کو اپنی حکومت اور اتحادیوں میں شامل رکھنا بھی اس کی ایک وجہ ہے‘‘۔
جب سلمان تاثیر کے صاحبزادے کو رہائی مل گئی تو بلوچستان حکومت کی طرف سے یا جوبھی ذریعہ تھا، آئی ایس پی آر سلیم باجوہ نے بیان دیا کہ’’ ایک فوجی ایکشن کے ذریعہ سے شہباز سلمان کو رہائی دلائی گئی ہے‘‘۔ چوہدری نثار نے آئی ایس پی آر کو ذلیل کرنے کیلئے باقاعدہ انکوائری کمیٹی کا اعلان کیا تاکہ اس قسم کے جھوٹ سے آئندہ قوم محفوظ رہے۔ بڑی اچھی بات ہے، عزیر بلوچ کا اعلان ہوا کہ کراچی میں داخل ہوتے وقت رینجرز نے اپنی تحویل میں لیا تو چوہدری نثار کو چاہیے تھا کہ وضاحت کرتا کہ کسی نے ان کو حوالہ کردیا ہے ۔ سچ قوم کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن شہباز تاثیر کی خبر پر اتنا بڑا ایکشن کیوں لیا گیا تھا ؟،اس حقیقت تک جانے کی سخت ضرورت ہے۔
کوہاٹ کے جاوید ابراہیم پراچہ نے ایک ٹی وی چینل پر خصوصی انٹرویو دیا تھا کہ ’’ شہباز تاثیر کی رہائی کے معاملہ سے وزیرداخلہ کو آگاہ کیا تھا‘‘۔ اگر جاوید ابراہیم پراچہ کی خبر درست ہے تو مطلب یہ ہوا کہ وزیرداخلہ کو اطلاع مل چکی تھی، طالبان سے اس کے ذاتی مراسم فوج ، ریاست اور حکومت سے زیادہ ہیں، پھر اس کی ذمہ داری تھی کہ خواجہ آصف کے ذریعے یا براہِ راست آئی ایس پی آر کو آگاہ کردیتا، ایک تو اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور دوسرا یہ کہ سلیم باجوہ کو ذلیل کرنے پر کمیٹی تشکیل دینے کی بجائے قوم کو سچ بتاتا کہ ’’ اس کو طالبان نے اطلاع دی تھی، اسلئے سلیم باجوہ کو غلط اطلاع کسی نے دی ہے‘‘۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کو چاہیے کہ وزیرداخلہ کی خبر لیں، تعلقات اس نے بحال رکھے ہیں اور الزام تراشی فوج پر ہورہی ہے؟۔
جنرل راحیل شریف کی بات سوفیصد درست ہے کہ قومی ایکشن پلان پر اسکی روح کیمطابق عمل کرنا ہوگا۔ چوہدری نثار جس ولی خان اور محمود اچکزئی کی شخصیت سے متأثر ہیں، اس میں خود کوئی صلاحیت ہوتی تو ان لوگوں سے کیوں متأثر ہوتا۔ رؤف کلاسرا کے انکشاف کو درست ثابت کرنے کیلئے شاید وزیرداخلہ چوہدری نثار نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کے بیان کی تردید کردی ہے، اگر وہ جنرل راحیل کے بیان کی تردید نہ کرتا تو کیسے ثابت ہوتا وہ ان شخصیات سے واقعی متأثر تھا۔ جب الیکشن ہورہے تھے تو چوہدری نثار نے ایک حلقہ سے اپنی آزاد حیثیت سے بھی حصہ لیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ نوازشریف اور پارٹی پر پورا اعتماد نہیں کرتاتھا اور پارٹی کا اسکے خیال میں اس پر بھی سوفیصد اعتماد اور بھروسہ نہیں ، ایک حلقے سے آزاد الیکشن لڑنا کوئی کم ثبوت نہیں ۔ تحریکِ انصاف اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنوں سے لیکر مختلف مواقع پر اس کو اپنی مشکوک حیثیت کا طعنہ دیا گیا، بعض اوقات اس نے صفائی بھی پیش کی، اگر عمران خان سے اقتدار کی امید ہوتی تو شاید ایاز صادق کی طرح ادھر سے ادھر بھی ہوجاتا۔ کسی پارٹی میں قیادت کی ناراضگی کے باوجود اہم ذمہ دار عہدوں پر رہنا بھی تو بڑے ہی دل گردے کا کام ہے، یہ تو وہ جانے جس پر بیتے، اللہ تعالیٰ تمام مؤمنین ومؤمنات، مسلمین ومسلمات، خواتین و حضرات سارے انسانوں کو ایسے کرب و بلا کی صورتحال سے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین یا رب العالمین۔
بالکل آخری مرحلے میں جب چوہدری نثار نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھی محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی بھی مخالفت مول لے لی، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ’’چوہدری نثار نے جنرل راحیل شریف کے بیان کی تردید کو ضروری خیال کیا؟‘‘، آخری مرحلہ میں وقت بتائے گا کہ اچھا کیا یا برا؟۔ اپنے سابقہ بیانات کی تلافی کرنی تھی یا خورشیدشاہ کو ساتھ بٹھانے پر جنرل راحیل کو بھی طیش اور انتقام کا نشانہ بنایا؟۔ وزیراعظم سے بروقت چوہدری نثار لاتعلقی کا اعلان کردیں۔ نہیں تو وہ وقت قریب لگتا ہے کہ شکوہ کرینگے کہ ’’ بڑے بے آبرو ہوکے اس کوچے سے ہم نکلے‘‘۔

نوازشریف کے بیان پر تبصرہ: ( تیز وتند) عبدالقدوس بلوچ

ایسا حافظہ تو چوہے کا بھی نہ ہوگا، کون اپنا شکار کھیلنے کیلئے اتنی دور جاکر بھول سکتا ہے، یہ سچ ہے کہ’’ دروغ گو راحافظہ نہ باشد‘‘

جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا، بچوں کے احتساب تک قوم سے جتنے وعدے تھے سب لغو قسم کی باتیں تھیں۔ عبدالقدوس بلوچ

وزیراعظم نوازشریف خود کو بڑا معصوم نیک، باکردار، مخلص، انسان دوست، مذہب پرست، ملک وقوم کا وفادار، باصلاحیت اور ہر قسم کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے مبرا خیال کرتا ہے اور یہ اسکی حماقت کی بہت بڑی دلیل ہے، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، کمزوریاں اور گناہ ہوتے ہیں، کرپشن ہوجاتی ہے، نااہلی یا حماقت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے، اعتراف کرنے سے پکڑ ہوجائے تو دبے الفاظ میں کھل کر اپنی کمزور حیثیت کا اعتراف کرلیتا ہے تو اس سے لوگوں کے دل میں محبت، عقیدت، احترام اور اچھے جذبوں کو پذیرائی مل جاتی ہے۔سیاست کاروبار بناکر کی جائے ، بچوں کو خوب نوازدیا جائے تو یہ کہنا کہ ’’ میرا بچوں سے تعلق نہیں‘‘، بہت نامعقول بات ہے، قوم اتنی گئی گزری ہوتو وزیراعظم نوازشریف جو کھیل کھیلنا چاہے اس کی مرضی ہے۔ جن لوگوں کو مجاہد فورس کے نام سے متعارف کرایا ہے یہ وہی اُلو کے پٹھے ہیں جو پچھلی بار بھی آوازیں لگا رہے تھے کہ ’’ نواز شریف قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ جب پرویزمشرف تمہارے اعصاب پر سوار تھا،تو تم نے جواب دیا کہ ’’چپ کرو، پہلے بھی یہ نعرے لگارہے تھے لیکن جب مجھے ہتھکڑی پہناکر لے جایا جارہاتھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا‘‘۔ ترکی کی فوج اور عوام سے مغالطہ نہ کھاؤ، کراچی کے مہاجروں کو دیکھا جو الطاف بھائی پر جان چھڑکتے تھے لیکن وقت آیا تو قیادت کا قلادہ گلے سے اتارپھینکا۔تم تو طالبان کے دوست تھے مگر جب راحیل شریف نے انکے خلاف فیصلہ کیا تو پہلے طالبان طالبان کا وظیفہ پڑھنے والے نے اب ’’ ضرب عضب ضربِ عضب‘‘ کی تسبیحات شروع کردیں۔
محترمہ بینظیر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا، پھر بھی اس نے اپنی مہم جاری رکھی، آخر ایک بہادر باپ کی بہادر بیٹی تھی ، صحافی ہارون الرشید کے سر پر عقل کی بات پھسلتی اور تعصب کی بات چپکتی ہو تو یہ گنجے کے نصیب کی بات ہے۔ وہ ان کو بزدل سندھی اور تجھے بہادر پنجابی کہہ کراپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوگا، جنرل راحیل نے بھی سید خورشید شاہ کو عزت کے قابل سمجھا تو عزت دی۔ جھوٹے صحافیوں اور پیسوں سے کرایہ پر لی ہوئی عوام کی باتوں میں مت آنا،پاک فوج نے بدلنا نہیں، جتنے اثرات جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد فوج پر رہے ہیں اس سے زیادہ اثرات جنرل راحیل شریف کے بعد بدلتی ہوئی پاک فوج پر رہیں گے۔ماشاء اللہ، الحمدللہ۔
بدلے ہوئے جرنیل کا سب سے پہلا کام پنجاب کی غنڈہ گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف راست اقدام ہوگا، انشاء اللہ ۔ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ ، وزیر بجلی عابد شیرعلی اور دیگر وزراء کی کھلے عام دھمکیاں بڑے گھٹیا پن کا ثبوت ہے۔ آصف علی زرداری کو چوکوں پر لٹکانا تو درست تھا لیکن رائیونڈ کے محل کے سامنے مظاہرہ کرنا بڑی گستاخی ہے۔ ریاست میں بلوچوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت ہو اور پنجابیوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت نہ ہو ، تو وہ عوام جو پہلے بدظن تھے اور انکی بدظنی کو نوازشریف ، عاصمہ جہانگیر اور عمران خان وغیرہ بھی کسی حد تک سپورٹ کرتے رہے۔ ان میں سے بہت سوں نے بڑی غلطی کی کہ اپنے علاقے میں دوسری قومیتوں کو مار بھگایا۔ کراچی کے بعد بلوچستان کے حب سے لیکر گوادر ،تربت، پنجگور، قلات،کوئٹہ اور ایران تک بلوچ بھوک سے مرتے ہیں لیکن لوٹ مار ،چوری ،ڈکیتی نہیں کرتے۔ جن بلوچوں کو قومی دھارے میں لایا گیا ہے ان کی وجہ سے بلوچ عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔یہ لوگ پھر ریاست کیخلاف نہیں بلکہ پنجاب کے اس ظالم جابر اور ڈاکو کی سرپرستی کرنے والے سیاسی لیڈروں کے خلاف نکلیں گے جو عمران خان نیازی سے کہتے ہیں کہ’’ 24ستمبر کی تاریخ مت بدلو، مرد کے بچے بنو، رائیونڈ آجاؤ‘‘ یہ رانا ثناء اللہ وزیرقانون کی زبان ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپوزیشن سے مشورہ لینے کی بجائے بلوچ عوام کے پاس جائے۔ تاریخ کو برقرار رکھے۔ تبلیغی جماعت کیلئے اتنے سارے قافلے جاسکتے ہیں تو ایک دفعہ ملک سے بدمعاشی اور دادا گیری ختم کرنے کیلئے بھی عوام آجائیں گے۔
مجھے دکھ تھا کہ رانا ثناء اللہ کی آئی ایس آئی والوں نے مونچھیں اور بھنویں کیوں مونڈھ دیں مگر اب اندازہ ہے کہ یہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے باوجود ایسا مظاہرہ کرتا ہے تو پہلے کتنی بدمعاشی کرتا ہوگا؟۔ پاکستان کو چلانے کیلئے احمقوں، بدمعاشوں ، غنڈوں اور مفاد پرستوں کی بجائے پاکستان کی تمام قوموں سے مخلص ، ہوشیار، سمجھدار ، باوقار اور اچھے لوگوں کو قیادت وامامت کیلئے نکالنا ہوگا، چترال کی عوام تو سب ہی تقریباً اچھے اور شریف لوگ ہیں، وہاں ڈیم بناکر عوام کو سستی بجلی فراہم کی جائے ، افغانستان بھارت کی مدد سے اسی پانی پر ڈیم بنارہا ہے۔ نوازشریف نے مودی سے دوستی نبھانے کیلئے تو یہ مذاق نہیں کیا کہ خاص خوشخبری لیکر آیا ہوں لیکن ڈائری میں کاغذ ہے ، کاغذ مل نہیں رہا ہے، یہ تو ایک مذاق ہے، قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے اور نوازشریف سے وضاحت طلب کی جائے کہ اس کے پسِ پردہ عوامل کیا ہیں؟۔
نوازشریف عام لوگوں کے جذبات کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، پشاور میں ہمارے اخبار ضربِ حق کا ایک قاری تھا ، وہ دو، دو اخبار ایک ساتھ لیتا تھا، ایک دن شاہ وزیر خان اس کو اخبار دینے گیا تو اس نے کہا کہ میں اخبار نہیں لیتا کافر ہوگیا ہوں، پوچھا کہ کیوں؟، اس نے کہا کہ میں نے اجمل خٹک کو یہاں آفس کیلئے جگہ دی تھی، ان پر بہت خرچہ کرتا تھا، میری بڑی دکان اس وجہ سے اتنی مختصر ہوگئی ہے، میرے ذہن میں تھا کہ پرویزمشرف اسے وزیراعظم بنادینگے اور میں اپنے خرچے کئی گنا وصول کرونگا لیکن ایسا نہ ہوسکا، اسلئے کافر بن گیا، شاہ وزیر نے کہا کہ کافروں کی تو بہت اقسام ہیں تم کونسا کافر بناہے؟، اس نے کہا جو سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے ، وہ کونسا ہے ، شاہ وزیر نے کہا کہ ڈونگرا، اس نے کہا کہ بس میں وہی ہوں، شاہ وزیر نے کہا اجمل خٹک نے تمہیں یقین دلایا تھا؟، اس نے کہا کہ نہیں میں خود سے یہ سمجھ رہا تھا۔ عوام کالیڈروں سے لگاؤ خیالی پلاؤ کا ہی ہوتاہے۔