فروری 2019 - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

نوشتہ دیوار کی طرف سے جنرل باجوہ ، عمران خان اور منظور پشتین کے نام اہم پیغام جس سے مثبت انقلاب کا آغاز ہوسکتا ہے

جب طالبان ریاست پر حملے کررہے تھے،مساجد، مدارس اور بازاروں، مہران ائربیس کراچی، جی ایچ کیو پنڈی اور آئی ایس آئی ملتان کے دفتر پر حملے اور ہرچند روز بعد بڑا دھماکہ ہوتا تو اس وقت پختون کیلئے طالبان قابلِ فخر تھے ۔ طالبان کی حمایت پر متحدہ مجلس عمل کو بڑے پیمانے پر پختونوں نے جتوایا۔ یہ الگ بات تھی کہ پختونخواہ کا وزیراعلیٰ بننے کے لائق کوئی مولوی نہ تھااسلئے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھ کر وزیراعلیٰ بنوایا گیا۔ ہنگو میں خود کش حملہ ہوا تو وزیراعلیٰ درانی نے الزام لگایا کہ ’’یہ امریکہ نے کروایا ہے‘‘۔ بس پھر کیا تھا ؟۔ اکرم خان درانی کے چچا و فیملی کے دیگر افراد پر طالبان نے حملہ کرکے شہید کردیا ۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ میں اس میڈیا پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا جو یہ کہے کہ ان کو طالبان نے ہلاک کیا، اسلئے کہ مزید نقصان کا خدشہ تھا۔ پختون قوم طالبان کے سامنے اسلئے لیٹی ہوئی تھی کہ ہرقوم ، ہرقبیلے، ہر خاندان اور ہرجگہ سے یہ نعرہ لگتا تھا کہ ’’ ہر گھر سے طالب نکلے گا اور کوئی نہ بچے گا ہر ایک کو ماریگا‘‘۔ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں جن کو ختم نہیں کرسکے اور پاک فوج نے امن کی فضاء بنائی ہے تو اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ گودیں بھی اجاڑ دی ہیں جہاں سے طالبان کی پرورش ہورہی تھی۔ طالبان کا خوف نکل گیا تو یہ نعرہ لگانا شروع کردیا ہے کہ
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
پختون طالبان نے جس طرح ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پختون طالبان کی بہادری پر فخر کرتے تھے ۔ خاص طور پران مسنگ پرسن کے لواحقین جنہوں نے پی ٹی ایم کی محفلوں کو رونقیں بخشی ہیں۔ کل یہ فوج پر خود کش کرتے تھے اور آج نعروں کی شکل میں اپنا بغض نکال رہے ہیں۔کل مذہبی لبادے انکی پشت پناہی کررہے تھے آج لسانی تعصبات والوں کے وارے نیارے ہیں۔ کل امریکہ مذہب کے نام پر پختونوں اور فوج کو لڑا رہا تھا اور آج لسانیت کے نام پر پشت پناہی ہے۔کل بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے تھے اور آج بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے ہیں۔ کل کم عقل نوجوان طالبان تھے اور آج کم عقل پی ٹی ایم کے کارکنان ہیں جن کو تھوڑی سی خوشگوار فضاء بھی ہضم نہیں ہورہی ہے۔
کل طالبان کے جنازے میں مائیں بہنیں اعلان کرتی تھیں کہ مجھے بھی خود کش کرنا ہے ، آج پی ٹی ایم کی ریلیوں میں مائیں بہنیں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے رونق افروز ہوتی ہیں۔ پختونوں نے طالبان کی شکل اپنائی تو وہ امریکہ سے پاکستان تک سب کچھ ہلاکے رہ گئے۔ پاکستانی ریاست کو یہ اسوقت بھی پیارے تھے جب ملک کا چپہ چپہ دھماکوں سے لرزتا تھا اور آج بھی ان لاڈلوں کو وہ نعرہ لگانے کی اجازت ہے جو کسی اور کو نہیں ہے۔
بلوچوں نے لسانیت کے نام پر زیادہ سے زیادہ کبھی ویران بلوچستان میں کوئی ریلوے کی ٹریک اڑادی یا کوئی اکا دکا واقعات کرلئے تو ریاست نے ان پر جبرومظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ مسخ شدہ لاشوں سے مسنگ پرسن کی کہانیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ عرصہ سے چل رہاہے۔ فرقہ پرست اور جہادی تنظیموں نے بلوچوں کو لپیٹ میں لیاہوا ہے۔ اگر پختونوں کیساتھ یہ شروع ہوا تو طالبان دور کو بھول جائیں گے۔ بلوچ، پنجابی اور سند ھیوں کو ایسی رعایت حاصل نہیں ہے جو پختونوں کو پاک فوج دیتی ہے۔ دوسری قوم کے لوگ دھرنے میں کھلے عام آزادی اور فوج کے خلاف نعرے لگائیں گے تو ان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا مگر یہ پختون لاڈلے ہیں لاڈلے۔
بلوچ سرما چار آزادی کیلئے جانوں کی قربانیوں کے علاوہ پردہ دار خواتین کو روڈوں پر لانگ مارچ سے بازاروں میں دھرنوں تک کیلئے نکالنے پر بھی غیرت نہیں کھا رہے ہیں۔ حالانکہ بلوچ دوسری قوموں کی فلم کو اپنی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی ہنگامے کرتے اور سینماؤں کو جلادیتے تھے۔ اگر بلوچی روایات کی حفاظت نہ ہوسکے تو بلوچستان آزاد ہوجائے تو اس بلوچستان کو بلوچوں نے کیا کرنا ہے؟۔ پ بلوچوں اور پختونوں سے گزارش ہے کہ ریاست سے گلے شکوے کا انداز بدل دو، خود کو ایسا مت قرار دو جیسے منکوحہ بیگم شوہر سے یا اغواء شدہ عورت اغواء کار سے شکایت کرتی ہے۔ عالمی قوتیں تمہیں استعمال کرکے پاکستان کو بخرے کرنے میں کامیاب ہوں تو تمہاری بھی خیر نہیں ہوگی۔
گھر میں بچوں کو ماں باپ سے اور بیگم کو شوہر سے شکایت ہوتی ہے لیکن گھر کا ماحول خوش اسلوبی سے درست کیا جاتا ہے تو اسکے اچھے نتائج نکلتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے گھر کو برباد کرتے ہیں تووہ کبھی سکون کی زندگی نہیں پاتے۔
پی ٹی ایم نے نعرہ لگایا کہ ’’ہمیں زندگی چاہیے۔ ہمارے گھر ویران، جوان قتل ہورہے ہیں یہ کیسی آزادی ہے‘‘۔ جی ایچ کیو سے کہا گیا کہ شکایات کا ازالہ ہونا چاہیے۔ منظور پشتین نے کہا کہ کافی ریلیف مل گئی لیکن راؤ انوار کی گرفتاری اور سزا باقی ہے۔ منظور پشتین نے کہا کہ ’’ کافی مسنگ پرسن رہاہوئے مگر ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ گناہگار ہو یا بے گناہ عدالت کے سامنے پیش کرو‘‘۔ فوج نے یہ جواب نہ دیا کہ جو عدالت راؤ انوار کو سزا نہیں دے سکتی وہ تمہارے گناہگاروں کو بھی سزا نہیں دیگی۔ راؤ انوار کیلئے جوعدالت قبول نہیں تو اپنے گناہگاروں کیلئے کیسے ہے؟ ۔ اسلئے کہ فوج کے پاس چھڑی ہے دلیل نہیں۔ اگر عدالت نے دہشتگردوں کو سزائیں دیتیں تو فوجی عدالت کی کیا ضرورت تھی؟۔ احسان اللہ احسان کو عدالت میں پیش کیا جائے تو بھی وہ عدم ثبوت سے رہا ہوجائیگا۔ جو لوگ احسان اللہ احسان کی طرح ہیں مگر ان کی شہرت نہیں ہے انہیں ہم تمہارے مطالبے پر رہا کررہے ہیں نا؟۔
پی ٹی ایم دلیل کیساتھ اپنے تضادات بھی ختم کرے۔ راؤ انوار نے طالبان سے پہلے مہاجروں کی دہشت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ، ملک اسحاق کے علاوہ پنجاب پولیس نے اب بے گناہ کو ساہیوال میں قتل کیا تو پنجابی ریاست کیخلاف تحریک نہیں چلارہے ہیں۔ رحیم شاہ نے سندھی کو قتل کیا تو سندھ میں پختونوں کیخلاف نفرت پھیل گئی۔ پنجابیوں کیخلاف نفرت انگیز نعرے لگانے سے پختونوں کا چہرہ خوشنما نہیں بنے گا۔ فوج کیخلاف نعرہ لگانا ہے تو ان شہداء کو بھی دماغ میں رکھو ، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پختون قوم کو دہشت کی بدترین فضاء سے نکالا۔ افغانی پختون طالبان ہیں اور پی ٹی ایم والوں کی اکثریت لسان پرست کمیونسٹ ہیں، اگردونوں ساتھ ہوگئے تو پنجابی فوج دوبارہ بچانے بھی نہ آئے گی اور عالمی طاقتوں کو خوشی ہوگی کہ پختون آپس میں مرکھپ کر ختم ہورہے ہیں۔ یورپ میں بیٹھے پختون آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے پختون بھائیوں کو پھر سے مشکلات کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو قربان نہ کریں۔
ریاستِ پاکستان پختونوں پر اعتماد کرکے اچھا کرتی ہے۔ سخت نعروں کے باوجود برداشت کرتی ہے تو جانتی ہے کہ یہ قوم ہر مشکل میں ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اتنی قربانی کسی نے پاکستان کیلئے نہیں دی جو پختونوں کی طرف سے دی گئی ۔حیات کی والدہ پر پختونوں کا گرینڈ جرگہ ہوا تو اس میں پہلی تقریر ملک جلال وزیر نے کی تھی۔ جذبات کے ماحول میں بھی کہا کہ ’’ہم پہلے تحقیقات کرینگے، پھر اگر فوج کا افسر یا سپاہی مجرم ثابت ہوئے تو ان کو سرِ عام قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ ہم آج بھی فوج کیساتھ کھڑے ہیں اور ہندوستانی فوج سے انکے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے‘‘۔
بقول صحافی حسن نثار کے ’’لونڈے لپاڑوں نے جمہوریت کے نام پر حکومت میں آکر اودھم مچایا ہوا ہے۔ ان کی شکلیں دیکھ لو۔ فیاض الحسن چوہانا، شیخ رشیدا، مراد سعیدا، چوہدری فوادا، یہ تبدیلی لائیں گے؟۔خاک تبدیلی آئیگی ، میں نے زندگی میں پہلی غلطی کی کہ ان کو سپورٹ کیا ہے، مجھے کیا پتہ تھا کہ عمران خان بھی لونڈے لپاڑوں کا امام تھا لیکن فوج نے اچھا کہ ان لونڈے لپاڑوں سے وزیراعظم اور وزیروں کے منصب کو اپنے گھٹیا مقام تک پہنچایا ہے۔
حسن نثار کے چھوکرے ارشاد بھٹی اپنی لکھی ہوئی یا کہیں سے لکھوائی ہوئی تحریر پڑھ کر واضح کرسکتا ہے کہ ’’ ریاست ، اس شیخ رشید پر کوئی اعتماد کریگی جو غیرت مند برملا کہتا ہے کہ ایٹم بم کے دھماکے ہم نے کروائے۔ نواز شریف بھی ڈر رہا تھا، فوج بھی ڈررہی تھی، بس میں تھا، راجہ ظفرالحق اور گوہر ایوب تھے۔ ہم تینوں نے ہمت تھی اور یہ کریڈٹ کسی اور کو نہیں جاتا۔ تمہیں کیا پتہ ہے کہ جب دھماکے کا وقت آیا تو میں نے دستر خوان پر رکھا ہوا کھانا چھوڑ دیا اور فلائٹ پکڑ لی تو پہلا کام یہ کیا، بیرون ملک میڈیا دیکھا کہ خیریت ہے؟۔ کیونکہ ایٹم بم سے خطرہ تھا کہ کہیں بھی اسکے ریزے بکھر سکتے ہیں، کہیں پٹاخے پھٹے تو میری بھی پھٹ جائے گی‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیخ رشید کو جان اتنی پیاری ہے کہ پورے پاکستان کی تباہی کیلئے ایٹمی دھماکے کردئیے لیکن جان بچا کر گئے۔ افواج پاکستان کی سلامتی کا بھی خیال نہیں رکھا؟۔ شیخ رشید منہ پھٹ ہے لیکن شیخ رشید سے پختون باغی زیادہ بھروسہ کے قابل ہیں!!! سننیے جناب سننیے!۔ فواد چوہدری کو دیکھ لیجئے، جس نے بچکانہ سیاست کا آغاز پرویز مشرف کی گودمیں چھاتیوں سے لگ کر دودھ پینے سے کیااور پرویز مشرف نے اس کی انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا۔ پرویزمشرف کا سایہ اُٹھ گیا تو لڑکپن زرداری کے گود میں گزاردی اور جوان ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوا اور اب میرے استاذ محترم اس کو لنڈا لپاڑا کہہ رہاہے ، خدا کا بھی کچھ خوف کرو۔
یہ سنہرے ادوار تو استاذ محترم حسن نثار نے بھی گزارے ۔ زیادہ دور نہیں جائیے۔ جب الطاف حسین کا طوطی بول رہا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر فوج کے کور کمانڈروں کو دعوت دیتا تھا کہ اللہ ، رسول کا واسطہ ٹیک اور کرلو، ان سیاستدانوں سے ہماری جان چھڑا دو، تو حسن نثار کہتا تھا کہ الطاف حسین ٹیچر ہے، لیڈر ایسا ہونا چاہیے جو کراچی کی عوام کواپنی تقاریر کے سحر کی گرفت میں رکھے۔ حالانکہ کراچی والے الطاف حسین کی تقریر کو سن کر مارے شرم کے پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے۔ ریاست نے حسن نثار کی آواز میں وزن دیکھا اور الطاف حسین کے لیکچرز پر پابندی لگادی۔ جب آصف علی زرداری کو اقتدار مل گیا تو حسن نثار کہتا تھا کہ ’’ یہ بلوچ ہے، بینظیر بھٹو سادہ سندھی تھی یہ بلوچ بڑا سخت جان ہے ،سب کو چنے چبوادے گا‘‘۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ استاذ محترم نے عمران خان پر اعتماد کرکے قلابازی کھائی بلکہ حسن نثار اسلئے تو علامہ اقبال کو بھی گالیاں دیتا ہے کہ حسن نثار ، لقمان ، حامد میر اور لاہوریوں کا پول کھول دیا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ، یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد‘‘۔
ٹھہرئیے ابھی مزید کچھ سنیے اور حوصلہ رکھیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جو جعلی ڈاکٹر بھی نہیں، اس نے الطاف کا ساتھ دیا لیکن مشکل پڑی تو سیاست سے توبہ کرلی۔ پھر تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے مکمل پر تول لئے۔ عمران خان نے مجبوری کے تحت لفٹ نہ دی تو اس پر عدت میں شادی کے الزام سے لیکر کیا الزام تھا جو نہیں لگایا؟۔ تاہم پھر فضاء بدلی اور عمران خان نے قبول کیا اور عامر لیاقت نے اس سیاسی سفر کو آخری قرار دیدیا۔ جب ٹکٹ کیلئے خطرہ پیدا ہوا تو ڈاکٹر عامر کے ضمیر نے عمران خان کیخلاف محاذ کھولنے کی انگڑائی لے لی لیکن ٹکٹ سے طبل جنگ بجنے سے بچت ہوگئی۔ اس ڈاکٹر عامر لیاقت پر بھروسہ کرنے کیلئے پاک فوج کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کیا؟۔ یہ تو دیسی کارتوس ہے جو شکار سے زیادہ شکاری کی آنکھ پھوڑ سکتاہے۔
چلیں چھوڑئیے ، اب آئیے ذرا، پی ٹی ایم کے نعرے کی طرف کہ جو دہشت گردی ہے ، اسکے پیچھے وردی ہے، اس میں بھی لاجک ہے اور میں بتاتاہوں کہ کیا لاجک ہے؟۔ پرویزمشرف کی حکومت ، ق لیگ اور اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن سب کے سب ایک پیج پر تھے تو یہ طالبان کے حامی تھے،اسلئے یہ نعرہ لگانا درست ہے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے۔کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف و شوکت عزیز پر بھی حملے ہوئے مگر یہ حقیقت ہے کہ پورے ملک میں وردی والوں کی حمایت سے طالبان کھلے عام دندناتے پھرتے تھے، سرِ عام بھتہ وصول کرتے اور یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے افغانستان اغواء کیا تھا تو یہ نعرے لگانا اس وجہ سے بنتے ہیں اور برداشت کئے جاتے ہیں۔انکے نشانات مٹانے کے خوف سے ساہیوال کا واقعہ ہواہے۔ جن کے ثبوت منظرِ عام پر کوئی نہیں لاسکتا ہے۔
حوصلہ کرو،ابھی مزید سنو۔ نصیراللہ بابر اور رحمن ملک نے امریکہ کے کہنے پر طالبان بناے۔بینظیر بھٹو تو طالبان کا شکار ہوگئی لیکن پیپلزپارٹی کی عظیم خدمات کے صلے میں پہلا حق ان کا بنتا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کے بعد اس کو حکومت بھی دی جاتی۔ پھر نوازشریف ، شہازشریف اور عمران خان پر طالبان سب سے زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔ اسٹیبلیشمنٹ نے شہباز کو حکومت دی جو کہتے تھے کہ ہم طالبان کے ساتھی ہیں، طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا صفایا ہواتھا اور عمران خان کو اگلی صوبائی حکومت انعام میں دی گئی تھی۔ پھر عمران خان کو پتہ چلا کہ مرکز میں بھی مجھے حکومت مل سکتی تھی اور نواز حکومت کیخلاف دھرنے شروع کردئیے۔خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی عمران خاں دھمکیاں دیتا۔ پھر طالبان کی حمایت کرنے والے عمران خان کو ہی میڈیا چینلوں اور خلائی مخلوق کے ذریعے کھلے عام اقتدار میں لایا گیا۔ حقائق واضح ہیں کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے اسلئے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو باری باری اقتدار میں لایا گیا ہے۔
ُپی ٹی ایم والے کہہ سکتے ہیں کہ ارشاد بھٹی نے یہ سارا نقشہ درست پیش کیا مگر دنیا جانتی ہے کہ اگر طالبان کے آگے یہ ہماری باصلاحیت ریاست بے بس بھی تھی، مل جل کر بھتے وصول کرنے پر مجبور سہی لیکن پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے والے اور پی ٹی وی پر قبضہ کرنے والے طاہرالقادری اور عمران خان کے پیچھے کونسی طاقت تھی؟۔ بجلی کے بل جلانے اور سول نافرمانی کا اعلان کرنیوالے عمران خان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ لوگ پشاور سے پنجاب پولیس کے تشدد کو برداشت کرتے کرتے شہد کی بوتل سمیت بنی گالہ پہنچ گئے لیکن عمران خان شیخ رشید کی کوشش سے بھی اپنے گھر سے نیچے نہیں اترسکا۔ ریاست عمران اور اس کی ٹیم پر کیا اعتماد کریگی؟۔ وہ چوہان جس پر ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا تو قرآن کھول کر ویڈیو بنائی اور شیخ رشید سمیت پوری ٹیم کو غیرت ، حمیت سے عاری اور گندی ذہنیت کا حامل قرار دیکر دنیا بھر کی مروجہ گالیوں سے نوازا۔ اگر فیاض الحسن چوہان میں غیرت ہوتی تو اس ٹیم کا حصہ نہ بنتا۔ مراد سعید سے لیکر فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت تک نہ صرف خود لونڈے لپاڑے ہیں بلکہ اپنے جیسے بڑے بڑے کھیپ کی قیادت بھی کررہے ہیں۔ ہم نے جو نعرہ لگایا ہے تو اس کی گواہی اس پاک دھرتی کا بوٹا بوٹا، پتہ پتہ دے رہاہے، فیض آباد دھرنے پر تو عدالت نے وہی نعرہ اپنی دبی زبان میں لگایا ہے جس کا ہم سخت لہجے میں اظہار کررہے ہیں۔
خاتون اول کا ویڈیو پیغام قوم نے سن لیا ہوگاکہ
’’میرا پہلا شوہر شریعت کا بہت پابند ہے۔ طلاق دیتے ہوئے عدت بھی گھر پر گزارنے کا کہا تھا، جب گھر چھوڑ دیا تو میری عدت پوری ہوگئی۔ عمران خان کی زندگی میں آنے کے بعد میرے اندر تبدیلی آئی اور عمران خان میں بھی تبدیلی۔ عمران خان نے ریحام کو لندن جاتے ہوئے مسیج پر شریعت کیخلاف طلاق دی تھی۔ عمران کی روح سعید تھی اور اس نے جمائما کو شریعت کے مطابق طلاق دی اور پھر اس کی روح بھٹک گئی ۔میری طرف غلط منسوب کیا گیا کہ خواب میں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ عمران خان سے شادی کرلوں۔ اگر چاہتی تو عدت کے فوراً بعد بھی شادی کرتی مگر میں نے سات مہینے تک مزید صبر کیا۔ تبدیلی عمران خان کے ذریعے سے آئیگی لیکن اس میں دیر لگ سکتی ہے‘‘۔ خاتون اول کے بیان سے پتہ چلتاہے کہ ریاست مدینہ بننے والی ہے، یہ شادی لو میرج ہو یا ارینج میرج دونوں کی تقدیر میں شریعت تھی۔ عمران خان میں یہ تبدیلی آگئی ہے کہ پردہ دار خاتون سے شادی کرلی، اس سے زیادہ تبدیلی کیا ہوگی؟ اور خاتون اول میں یہ تبدیلی آئی کہ باشرع شوہر کے باوجودعمران سے شادی کیلئے بات طے ہوگئی، شریعت کے مطابق پردے کا اہتمام شروع ہوگیا، دونوں کی تبدیلی حیرت انگیز تبدیلی ہے۔
البتہ اگر یہ لوگ قرآن کریم کی آیات نکاح، طلاق اور خلع کے حوالہ سے سمجھ لیں اور معاشرے کو حلالہ کی لعنت سے نجات دلادیں تو مدینہ کی ریاست کا بڑا زبردست آغاز ہوسکتا ہے۔ روز روز مدارس کے فتوؤں سے لوگوں کی عزتیں برباد ہورہی ہیں۔ گھر برباد ہورہے ہیں۔ اگر ریاست اور پی ٹی ایم کے لوگ گھروں کو تباہی اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو قرآن کریم کی طرف علماء کو متوجہ کرکے حلالہ سے بچانے کیلئے ایک زبردست کردار ادا کریں۔
اے شام بتا تو کتنی دُور ہے
آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنا دور ہے

خیر کیسے غالب آتی ہے اور پھرشر کیسے غالب آتا ہے؟

دور جاہلیت میں شر ہی شر کا غلبہ تھاتو اللہ تعالیٰ نے نبی آخر زمان حضرت محمد مصطفی رحمۃ للعالمین ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن کو نازل فرمایا۔ گنتی کے چند صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کیساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ بدر و اُحد اور تبوک و حنین کے غزوات اور صلح حدیبیہ و فتح مکہ تک کے واقعات میں ایک باکردار جماعت تیار ہوئی اور مختصر عرصہ میں اپنے دور کی سپر طاقتوں قیصر اور کسریٰ کو شکست سے دوچار کردیا۔ خلافت راشدہ کے بعد امارت و بادشاہت کی وجہ سے شر کی طاقت نے خیر کی قوت کو اس قدر کمزور کردیا کہ چنگیز کے پوتے ہلاکو خان کی یلغار نے عباسی خلافت کے پایہ تخت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ لسانیت پرست پختون و بلوچ چنگیز خان و ہلاکوخان کی طرح پاکستان کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو مسلح پیشہ ور فوج سے ٹکر ان کو مزید نیست و نابود کرسکتی ہے۔ لیکن اگر سرکار دو جہاں رحمۃ للعالمین ﷺ کے طرز پر اپنی قوم سے اصلاح کی تحریک کا آغاز کیا جائے تو نہ صرف پاکستان میں ایک مثبت انقلاب آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کا ایک اسلامی بلاک بھی بن سکتا ہے۔
ان ممالک سے درست سمت پر ایک حقیقی اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر عرب اور تمام اسلامی ممالک سمیت ایک عظیم تبدیلی آسکتی ہے۔ مغرب اور تمام ترقی پذیر ممالک بھی اسلام کے درست معاشرتی نظام سے متاثر ہوکر اپنی سوچ کو بدل دیں گے۔ دنیا میں مسلمانوں کی عزت اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بحال ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسی خلافت قائم کرے گا کہ زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں اس سے خوش ہونگے۔ بھارت پاکستان کو کشمیر تحفے میں پیش کریگا۔ اور بیت المقدس کی آزادی کسی خونریز جنگ کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ ملا عمر کی حکومت سے پہلے مجھے ایک مجاہد نے کہا تھا کہ ایک جہادی تنظیم آپ پر اعتماد کرتی ہے اور وزیرستان میں اسلامی مدرسے اور جہاد کے مرکز کیلئے ڈیڑھ کروڑ ریال کی رقم تیار پڑی ہوئی ہے اور باقی ماہانہ خرچے بھی دئیے جائیں گے لیکن میں نے کہا تھا کہ ہم کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہونے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں چوریوں اور ڈکیتیوں کا آغاز ہوا تو ڈکیت نے سام سرائے سے ایک پک اپ چھین لی اور کڑمہ کی طرف اغوا کیا۔ علاؤ الدین نامی ایک غریب شخص نے ڈکیتوں پر فائر کھولنے کیلئے کلاشنکوف اٹھائی تو وہاں پر موجود افراد نے اس کو گالی دی کہ ہمیں مروادو گے۔ گاڑی اغوا ہونے کے بعد وہ افراد علاؤالدین کیساتھ علاؤ الدین کی گاڑی میں مخالف سمت لدھا رپورٹ درج کرنے گئے۔ اغوا کی گئی گاڑی وانہ کے وزیروں کی تھی۔ رات گیارہ بجے واپس سام سرائے میں علاؤ الدین اور اسکے ساتھ دوسرے افراد گاڑی کھڑی کرکے نکل گئے۔ کانیگرم قوم کے مشیران نے دعویٰ کیا کہ اغوا کار گاڑی لے جارہے تھے تو وہ کسی کالے رنگ والی گاڑی سے ایک شخص سے آمنا سامنا کرنے پر ملے تھے۔ یہ شخص علاؤ الدین ہوسکتا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ 40 افراد میرے گواہ ہیں اسلئے مجھ پر قسم نہیں بنتی۔ بڑوں کو سمجھایا گیا کہ یہ زیادتی ہے لیکن بڑوں نے کہا کہ طاقتور چوروں کیلئے راستہ بنارہے ہیں۔ پھر جب طاقتور چوروں کو قسم اٹھانے کا کہا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ بڑے بھی قسم اٹھائینگے۔ جس کی وجہ سے طاقتور چوروں کو قسم کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکا۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید کو چوروں کیخلاف کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔ عبد الرشید نے رات کو تاریکی کا فائدہ اٹھا کر پورے لشکر میں سے ایک چور کو پکڑا اور آواز لگائی کہ ایک میں نے پکڑ لیا ہے اور باقی کوئی بھی بچ کے نہ نکل سکے۔ یہ سن کر دوسرے چور بھاگ گئے۔ اس چور کو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرکے سارے چوروں اور چوریوں کی بھرپور نشاندہی کی گئی۔ لیکن پھر کسی چور سے بھی کسی طرح کی پوچھ گچھ تک نہ کی گئی۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے چوروں کیخلاف اقدامات پر زور دیا تھا تو قومی لشکر نے علاؤ الدین اور عبد الرشید کے گھر کو اسلئے لوٹ لیا تھا کہ وہ چور ہیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور عبد الرشید نے مجھ سے کہا تھا کہ طالبان کیخلاف اٹھنے کی اجازت ہو تو یہ بڑے ظالم ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ امریکہ کیساتھ ہی جہاد کرنا چاہیے۔ پھر معلوم نہیں ہوسکا کہ عبد الرشید کو امریکیوں نے مارا یا طالبان نے خود ہی بیچارے کو شہید کردیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کانیگرم شہر میں استعمال کے پانی کا بھی بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔ خواتین و حضرات مشکل سے پانی بھر بھر کے لے جاتے تھے۔ پھر پہلی مرتبہ حکومت نے بڑی ٹینکی بنا کر گھروں میں نلکوں کا بندوبست کیا تو کسی نے ٹینکی میں ڈی ٹی ٹی ڈال کر تخریب کاری کی۔ رات کی تاریکی میں بعض لوگ راستوں میں مائن دفن کرتے تھے جس سے کچھ لوگ صبح نماز وغیرہ کیلئے جاتے ہوئے معذور ہوگئے۔ یہ طالبان کی آمد سے بہت پہلے کی تخریب کاری تھی۔ اس طرح چوروں اور ڈکیتوں نے وزیرستان میں لوگوں کا جینا دوبھر کردیا تھا۔
عوام میں اسلام کا جذبہ تھا اور طالبان کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے بڑا کردار مل گیا۔ عوامی مقبولیت کیساتھ طالبان میں بدمعاش اور ڈکیت بھی شامل ہوگئے۔ حاجی زانگبار لنگر خیلؒ کے خاندان کا ایک فرد میرے پاس آیا کہ نمرجان کا بیٹا ممتاز طالبان میں شامل ہوا ہے۔ وہ ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دو کہ ہمارے خلاف پولیٹیکل انتظامیہ کو کچھ لکھ کر نہیں دیا ؟۔ جبکہ ہم نے کورے کاغذ پر دستخط کئے تھے۔ اب ہم کیا کریں؟۔ میں نے مشورہ دیا کہ تم بھی طالبان میں شامل ہوجاؤ اور اس کے شر سے بچو۔ پھر یہ لوگ طالبان کے بڑے حامی بن گئے۔ اس طرح بہت سے لوگوں نے ڈر کے مارے اپنا لبادہ بدلا تھا۔
ساہیوال کے واقعہ میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر بندے مار دئیے تو ڈیوٹی پر موجود لوگ ریاست سے کیسے چھپ سکتے ہیں؟۔ریاست نے ہی انکو بچانے کیلئے ایسے پاپڑ بیلے ہیں کہ دنیا پریشان ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ قتل خطاء اور قتل عمد میں کیا فرق ہے؟۔ اگر مقتولین سے دشمنی کی کوئی وجہ نکلے تو یہ قتل عمد ہے ورنہ قتل خطاء اور نا اہلی ہے۔ کراچی میں دہشتگردی اور ڈکیتی کو کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کا کردار جب قابل تحسین بنا تو دو واقعات قتل خطا ء کے ہوگئے۔ ایک سے بالکل غلطی میں گولی چل گئی اور دوسرے نے بھاگتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور پر فائر کیا تو گولی لگ گئی۔ میڈیا نے آسمان سر پر اتنا اٹھایا کہ رینجرز کی غلطیوں کو بھی دھو ڈالا۔ اسی طرح کوئٹہ میں ایک واقعہ کی میڈیا نے خوب تشہیر کی۔ جس دور میں کوئی مقامی افراد کوئٹہ کے راستے سے افغانستان آنے جانے سے کتراتے تھے تو ایسے میں غیر ملکی نو مسلم خواتین کیا کرنے آجارہے تھے؟۔ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جنرل باجوہ اورتبدیلی کے برخوردار جناب وزیر اعظم عمران خان نے اگر پارلیمنٹ اور علماء و مشائخ کی مدد سے اسلام کے معاشرتی نظام کو ٹھیک کرنے کا تہیہ کرکے اقدام اٹھایا تو گھر ، محلہ ، شہر اور گلی کوچوں اور سڑکوں جنگلوں میں انقلاب کی گونج سنائی دے گی۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور گھر کی سطح سے بین الاقوامی سطح تک معاشرے کو درست کرتا ہے۔ عتیق گیلانی

طالبان اور فوجیوں کے دورِ جاہلیت سے پہلے کا واقعہ!

جنوبی وزیرستان خیسورمحسود ایریا میں ایک شخص دبئی سے آیا۔ ایک رات اسے تمام گھروالوں سمیت قتل کیا گیا۔ قاتلوں کا سراغ ملا ، تو بے خبر رکھ کر سب نے حملہ کرکے مارڈالا۔ ایک بوڑھے کو غم منانے کیلئے چھوڑ دیا۔ خیسور پل پر ان کی لاشوں کو کئی دن تک لٹکائے رکھا۔ یہ وزیرستان تھا جس میں طالبان و فوج کی آمد سے پہلے مظالم کیخلاف لوگ یہ سلوک روا رکھتے۔آج پھر تقاضہ ہے کہ عوامی اعتماد بحال ہو۔ عوام قیام امن میں کردار ادا کریں۔ علامہ اقبال نے جن توقعات کا اظہار کیا، ان پر پورا اترنے کیلئے اچھا ماحول قائم ہو،ورنہ پختون اور پاکستان مزید مشکلات کا شکار ہونگے۔ طالبان سے پہلے بھی بے غیرت تھے لیکن قوم کا اجتماعی شعور تھا۔قوم میں وہ شعور ہوتا تو طالبان پنپتے اور نہ مصیبت کا سامنا قوم کو کرنا پڑتا۔ یہ نہ ہو کہ اب پختون اور فوج کو کسی مزید آزمائش سے گزارا جائے۔
سانحہ ساہیوال میں مشکوک کردارکے پیچھے بے گناہ افراد کی جانیں گئیں۔ یہ پنجاب کی تربیت یافتہ پولیس تھی۔ پولیس و فوج کی تربیت میں فرق ہے۔ پولیس کی تربیت عوام کو کنٹرول اور فوج کی تربیت دشمن سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے۔ قبائلی علاقہ میں انگریز کو نقصان پہنچا تو عوام سے دشمن کا سلوک روا رکھنے کیلئے پولیس کی بجائے فوج کو کردار دیا گیا۔ انگریز کے بعد قبائل نے بھی سکون کا سانس لیا لیکن پھر طالبان اور القاعدہ کی شکل میں قبائل اور پختونوں کی تباہی کا سامان کیا گیا۔ علی وزیر قومی اسمبلی اور منظور پشتین عوامی سطح پر پختون عوام کے مستقبل کی تحریک چلارہے ہیں۔ وزیرستان سے MNA بن جانا عوامی مقبولیت ہے۔ سوشل میڈیا پر پٹھان فوجیوں نے دونوجوانوں پر تشدد کرکے زنجیروں اور بیڑیوں میں منظور پشتین کو انڈیا اور امریکہ کا ایجنٹ کہنے پر مجبور کیا۔ کیا اس سے فوج کی ساکھ بڑھے گی؟۔ منظور پشتین اسرائیل یا بھارت میں تو نہیں بیٹھا ہے۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں کو طالبان نے امریکہ کی امداد سے توڑ کر قیدی آزاد کرائے؟۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان دجالی لشکر کی حدیث نمازِ جمعہ کی تقریرمیں سنائی مگرعالمی و مقامی میڈیا نے کوریج نہیں دی۔محسودقوم بدظن ہے، وہ منظور پشتین کے پیچھے بھی وردی یا مشکلات دیکھتی ہے، اسلئے عوامی سطح پر قرآن کی قسم کھانے پر بھی عوام میں اعتماد بحال نہیں ہورہاہے ۔منظور پشتین کو بادشاہی محسودکے بغل میں بیٹھ کر بھی محسودوں کو جلسے میں لانے کیلئے کامیابی نہ ملی۔محسود قوم اٹھ جائے تو ساری مشکلات جلدختم ہوسکتی ہیں۔لیکن طالبان کے نام پر دھوکہ کھانے والے قومی تعصبات کے نام پر دھوکہ کھانے کیلئے اب تیار نہیں ہیں۔ محسودوں میں مشرکینِ مکہ کی طرح غیرتمندوں کی کثرت، بے غیرتوں کی کمی ہے۔اگر یہ قوم اعتماد کیساتھ اُٹھ گئی تو نہ صرف پختون اور خطے کی مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے،بلکہ عالمِ انسانیت کے مسائل بھی حل ہونگے۔ہم نے پہلے بھی اس خوف کی وجہ سے آنکھیں بند کرکے زبان کو قابو میں نہیں رکھا کہ آزمائش میں پڑجائیں گے اور آج بھی خیرخواہی کی بنیاد پر قوم کو مشکلات پیدا کرنے کیلئے نہیں مشکلات ختم کرنے کیلئے اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔

پی ٹی ایم حقائق کو سامنے رکھ کر قوم کی خدمت کیا کرے!

پختون تحفظ موومنٹ ان نوجوانوں کی تحریک ہے جنکے اندر انسانیت کا درد ہے۔ ریاست اور فوج کیخلاف اس ماحول میں اٹھنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ حبیب جالب جیسے لوگ کھونے سے پہلے ریاست حکمران طبقہ اور ادارے بیدار ہوجاتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ PTMکی صدا کو سکرات الموت لاحق ہوچکی تھی لیکن حیات کی توتلی زبان نے اس میں حیات پیدا کردی۔ رہی سہی ساکھ عالم زیب محسود کی گرفتاری نے پوری کرلی۔ عالم زیب کو پی ٹی ایم کا روح رواں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ دنیا کی کوئی طاقت اب اس مشن کو روک نہیں سکتی ہے۔ جان ومال کے نقصانات ہوئے تھے تو قوم اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اسکا خمیازہ بھگتنے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھی مگر عزت وغیرت کے مسئلہ پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔ بے غیرتی کی بنیادیں طالبان نے ڈال دی تھیں۔ وزیرستان کی سرزمین پر مقامی اورغیرملکی دہشت گردوں نے روایات واخلاقیات کو پہلے سے تباہ کردیا تھا اور بہتی گنگا میں پاک فوج نے بھی اس بدترین نجاست میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔
اللہ کے دربار میں عوام، فوج اور طالبان مجرم ہیں۔ہرکوئی اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرے تو معاملہ الجھتا رہے گا۔ پہلا بڑا مجرم میں ہوں اسلئے کہ میرا موقف درست یا غلط تھا مگر عوام سمجھنے سے قاصر تھے اور میں نے عوام کے سامنے کماحقہ حقائق پیش نہ کئے۔ جسکے نتیجے میں میرے خلاف اشتعال تھا۔ طالبان نے خلوص کیساتھ جو کرنا تھا وہ کیا۔ پہلی بار مجھ پر فائرنگ ہوئی تو میرے بہادر بھائی ، عزیز اور پڑوسی نے موقع پر پہنچ کر مجھ پر احسان عظیم کیا ،انکی جان بھی جاسکتی تھی پھر فائرنگ کے بعد طالبان کی نقل وحرکت میرے گھر اور عزیزوں میں موجود رہی اور یہ انکے دینی جذبے کا نتیجہ تھا۔ قبائلی روایات کے مطابق مجھ پر فائرنگ کے بعد ان کو آنے کا موقع دینے کا کوئی شرعی، قانونی، اخلاقی اور قبائلی جواز نہ تھا مگر خلعت افغانیت سے عاری میرے گھر، عزیز و اقارب نے دین سمجھ کروہ کیا جو انتہائی ناروا تھا۔ غلطی تھی بھائی کی وفات پر گیا۔ طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کرکے 13 افراد شہید کئے۔ گھر کے افراد ، عزیز اور مہمان خواتین وحضرات شامل تھے۔ عوام میں طالبان سے نفرت کی فضاء پھیلی مگر اس کے باوجود قریبی عزیزوں کے گھروں میں طالبان کا آنا جانا رہا۔ یہ دینی جذبہ تھایا خلعتِ افغانیت سے عاری تھے؟۔ جب فوج نے چھاپہ مارا اور طالبان کی پک اپ کو بارود سے اڑادیا تو طالبان کی آمدورفت ختم ہوئی۔ اگر اسکے باوجود وہ طالبان کی مدد کرتے تواس غیرت پر مجھے بھی فخر ہوتالیکن بھینسوں کے باڑے کو شیروں کے پنجرے کا نام نہیں دیاجاسکتا ۔
پھر طالبان وہاں دھماکہ کرتے اور فوجی ہمارے پڑوسیوں کو چھوڑ کر ہمارے رشتہ داروں کو پکڑ تے تو لگتا یہ تھا کہ فوج زیادتی کررہی ہے لیکن یہ کوئی نہ کہتا کہ ہم بھی بے غیرتی کی انتہاء کو پہنچے ہیں۔ محسود اور وزیر ہم سے زیادہ طالبان کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ دوسروں کی بے غیرتی کو سمجھنے کیلئے اپنوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالوں سے جو سلوک پاک فوج نے روا رکھا، صحیح بات یہ ہے کہ کوئی اور ہوتا تو بہت برا سلوک کرتا۔ بی بی سی کے مطابق امریکی فوج نے ایک افغانی مرد سے جنسی تشدد تک کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ پاک فوج نے ایک بدمعاش عطاء اللہ کو سپورٹ کیا جس نے طالبان کو علاقہ گومل سے ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا لیکن جب پاک فوج نے پکڑ لیا کہ چوری ڈکیتی میں ملوث ہے تو اس کوپکڑ کر مار دیا تھا۔ اس پر طالبان نے بھی حملے کئے تھے لیکن وہ بہادری سے طالبان کے خلاف لڑتا رہا تھا۔یہ مثال ہے کہ عطاء اللہ کو طالبان نہ مارسکے مگر بہتوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
PTMکے منظور پشتین کا یہ نعرہ بہت اچھا ہے کہ جو ظلم کرے ہم انکے خلاف ہیں۔ طالبان نے کوٹکئی سپین کئی رغزئی کے مقام پر خاندان ملک کو شہید کیا اور پھر انکے بیٹے اور گھر کے افراد پر حملہ کرکے 7افراد کو شہید کیا جن میں حافظ قرآن بچی بھی شامل تھی۔ مرزاعالم خان کے بیٹے کو شہید کیا، پھر انکو اور ان کی فیملی کے کافی افراد شہید کردئیے۔ خلعت افغانیت سے عاری وزیر و محسود تماشہ دیکھتے رہے۔ جو حال ہمارے بے غیرتوں کا تھا وہی انکا تھا۔ گلشاہ عالم برکی کو طالبان نے اغواء کیا تو کانیگرم کے برکی بیت اللہ محسود کے پاس شیروں کی طرح پہنچے، اس نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ۔ اگر کانیگرم شہر سے طالبان کے عمل دخل کو ختم کیا جاتا تو غیرت کا تقاضہ پورا ہوتا مگر برکی قوم بھی خلعت افغانیت سے بالکل عاری تھی۔
محسود کے مشران طالبان کیساتھ معافی اور فیصلہ کرنے آئے لیکن جس تاریخ کو کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزا سنانے کا وعدہ کیاتھا، اس دن محسود قوم کو طالبان نے کانیگرم آنے سے روکا، اسلئے کہ خلعتِ افغانیت سے عاری تھے۔ بے غیرتوں کیساتھ پاک فوج نے جو سلوک روا رکھا وہ درست تھا، جب شریف شرفاء کہلانے والے بھی پاک فوج کے تشدد کا نشانہ بن گئے اور غریب غرباء طالبان سے بالکل مناسب سلوک کیا تو اس پر پاک فوج انعام واکرام کی مستحق ہے۔ جب قبائل کے پاس اسلحہ تھا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت انہوں نے نہیں کی بلکہ ظالمان طالبان کومختلف طرح سے ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر بھی ساتھ دیتے رہے ،جن کی کاروائیوں سے پاکستان کا چپہ چپہ لرزتا رہاہے۔ راؤ انوار نے ایم کیوایم کے کارکنوں اور طالبان کو قابو نہ کیا ہوتا تو کراچی کا امن بحال نہیں ہوسکتا تھا ، پاک فوج نے وزیرستان کی گھاٹیوں اور سنگلاخ پہاڑوں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہ کئے ہوتے تو دہشتگردوں نے قبائل کی ماں بہنوں کو لونڈیاں بنانا تھا۔ پاک فوج نے قبائل کیلئے مسیحا کا کام کیا۔
ایک وزیر نوجوان نے جس طرح سے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’ میری مائیں بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں،اگر تم کہو تو میں ان کو تمہارے سامنے لاتا ہوں، جنکا پردہ ہفتے میں چار بار ٹوٹتا ہے اور عزتیں نیلام ہوتی ہیں،پرائے زبان والے یہ سب کرتے ہیں ،تم سے بھی یہ پردہ اور شرم نہیں کریں گی…..‘‘یہ بھی خلعتِ افغانیت کے اتر جانے کی دلیل ہے۔ ورنہ غیرتمند پہلے گولی کی زبان میں جواب دینے سے کم کوبے غیرتی سمجھتے تھے۔نہتے بچوں و خواتین کیساتھ یہ بڑی زیادتی ہے۔
قبائلی عوام کی طرح طالبان میں بھی اچھے برے موجود تھے اور اب بھی ہیں، پاک فوج بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ، اچھے فوجی افسران اورسپاہیوں کے ساتھ ساتھ برے لوگوں کی بھی ان میں کمی نہیں۔ کراچی کے آپریشن میں جن پولیس والوں نے کاروائیاں کی تھیں ان کو چن چن کر قتل کیا گیا لیکن ایک فوجی نے بے اعتدالی کی تھی تو پاک فوج نے اس کو خود ہی سزا دیکر پھانسی پر لٹکادیا تھا۔ آج اگر وزیرستان سے کسی کو نامزد کرکے سزا کا مطالبہ کیا جارہاہے تو پاک فوج اسے بھی قرارِ واقعی سزا دے۔ آپریشن میں بہت بے گناہ لوگوں کیساتھ بھی زیادتیاں ہوئی ہیں اور اس کا ازالہ کرنے کیلئے کسی ایک دو کو سزا دی جائے تو اس سے پشتون قوم اور پاک فوج کے درمیان اعتماد اور عزت کا رشتہ بڑھے گا۔ پنجاب میں ایک واقعہ پر لوگ آپے سے باہر آسکتے ہیں۔ اگر پختونوں میں لاوا پکتا رہا تواسکا نتیجہ بہت برا نکل سکتا ہے۔ ریاستیں قوم کے اعتماد کے بغیربالکل نہیں چل سکتی ہیں۔
یہ خیال رہے کہ میجر دریا خان پختون ہو اور جب اس کو سزا دی جائے تو پھر پختون ہی تحریک چلائیں کہ پنجابیوں کو سزا نہیں دی جاتی ہے ، پختون کیساتھ یہ زیادتی ہے۔ جب کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزاکی بات کی تھی تو انہوں نے غلط جاسوسی کے الزام میں ہمارے بعض عزیزوں کو نامزد کیا اور وہ کہہ رہے تھے کہ 13افراد کے بدلے 2تم مارچکے ہو،11کا شمار ہم پورا کرینگے لیکن ہم نے سوچا کہ غریب اور کمزور لوگوں کو سزا کا فائدہ نہ ہوگا اور غلط جاسوسی کے نام پر ہمارے عزیزوں کومارینگے تو کل باتیں ہونگی کہ انہی کو بدلے میں بھی ماردیا۔ پہلے طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کا عزم تھا کہ قاری حسین ، حکیم اللہ محسود اور تمام ذمہ دار افراد کو قصاص میں قتل کیا جائیگا اور پھر قاری حسین نے کہا کہ تمہارے کہنے پر میں نے اپنے بے گناہ پڑوسی خاندان ملک اور اسکے گھر والوں کو مارا تھا تو تم بھی قصاص میں قتل کئے جاؤگے۔ جس پر طالبان نے اپنا مؤقف ہی بدل ڈالا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل نوازشریف اور شہبازشریف ہیں مگر اقتدار ملا تو خاموش ہوا ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی خاموشی اختیار کرلی ۔

شمالی وزیرستان خیسورہ کے بچے حیات خان کی آواز !

پختون قوم ،آزادقبائل اور خاص طور پروزیرستان کے وزیر، داوڑ ،محسوداور بالخصوص کانیگرم کے برکی بہت زیادہ انسان دوست، حق پرست، آزادمنش ہیں۔ یورپی یونین، برطانیہ ، امریکہ اور مغرب میں بھی جمہوریت، آزادی اور حق پرستی کا ایسا تصور موجود نہ تھا جو وزیرستان میں تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے سابق پرنسپل عارف خان محسود نے وزیرستان پر دوکتابیں لکھی ہیں، جو پہلے کمیونسٹ بن گئے تھے ،اس نے بڑے جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر اللہ ہے تو میرے ہاتھ کو نیچے کرکے دکھائے، یہ کیسا اللہ ہے جو آنکھ، ناک اور کان نہیں رکھتا ، یہ تو پھر ایک بوتل ہے‘‘۔ عوام الناس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے مگر کسی نے ان کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ لوگوں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ توبہ توبہ کرنے لگے۔ پھر بعد میں عارف کو فالج ہوگیا اور سچے پکے مسلمان بن گئے۔ آزادی کا یہ تصور دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عوامی جذبات کے خلاف کسی کو انفرادی طور پر ایسی آزادی دنیا کے کسی خطے میں میسر نہیں تھی۔ جب طالبان کیوجہ سے وزیرستان کی فضاء بد سے بدتر ہوگئی تھی اور میں روپوشی کی زندگی گزار رہا تھا تومعروف کمیونسٹ بلوچ یوسف نسکندی سے ملاقات ہوئی۔ انکے ذہن میں ایک انقلابی کی حیثیت سے میرا یورپی یونین سے رابطہ ضروری تھا جس کو باغیوں کی تلاش تھی مگر ایک ملاقات سے اسکے عزائم بدل گئے اور پھر انہوں نے کہا کہ اسلام کیلئے سلیم اختر(پنجابی) سے ملاقات کرو ۔ سلیم اختر نے کہا کہ پہلے مجھے اس اسلام کا پتہ ہوتا تو بہت پہلے اسلام قبول کرتا۔ اس نے پھر کمیونسٹ پارٹی کے امداد قاضی سندھی سے عاصم جمال کے ہاں ملاقات کرائی۔جب ان کو آزادمنش وزیرستان اور انسان دوستی کے قصے سنائے تو وہ بڑے حیران ہوگئے۔ امداد قاضی کو پختون عورت کا فون آیا کہ کوئی پختون ساتھ میں ہے؟، بات کراؤ۔ میں نے اشارے سے منع کیا۔ پھر وہاں سے میں خطرے کے باعث فرار ہوگیا اور چند دن بعد گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ تعاقب ہورہاتھا۔پاکستانی انٹیلی جنس کی ایجنسیاں بہت تیز ہیں۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا اگر اللہ کے بعد کوئی جانتا ہے تو ایجنسی والے جانتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر قوموں اور ریاستی اداروں میں خوبی اور کمزوری دونوں کو سب جانتے ہیں۔ البتہ انسانوں کا خفیہ جوہر سمجھنے کیلئے ماحول کی ضرورت ہے۔ ذاتی مفادات کی وجہ سے آج تک پاکستان کو وہ قیادت نہیں ملی جو پاکستانی قوم اور اداروں میں خامیوں کا ادراک اور ازالہ کا کردار ادا کرتی۔

پاکستان میں اسلامی تعلیم کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی!

طالبان اسلام کے نام پر اٹھے تھے ۔ معروف صحافی حامد میرنے بہت دیر کی یہ کہتے کہتے کہ ’’ طالبان امریکہ کا منصوبہ تھا، بینظیر بھٹو کو امریکن رابن رافیل نے قائل کیا کہ وہ امیرالمؤمنین ملاعمرمجاہد کی تائید کریں۔ رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کی ایماء پر ملاعمر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ آپ نے میرے خلاف کالم لکھا؟۔ میں نے کہا کہ رابن رافیل آپ کی حمایت کرتی ہے تو آپ کو امریکی جاسوس کیسے نہ سمجھوں؟، ملاعمر نے کہا کہ وہ عورت ہے یا مرد؟۔ میں نے کہا کہ عورت تو ملا عمر نے یوں پیشانی پر ہاتھ مارا اورکہاکہ ایک عورت میری حمایت کرتی ہے؟۔ پھر کہا کہ میں آپ کی امریکہ کے سب سے بڑے دشمن سے ملاقات کرادوں تو یہ وعدہ کرتے ہو کہ آپ لکھیں گے کہ میں امریکی ایجنٹ نہیں۔ میں نے کہا کہ کون ہے وہ؟۔ تو ملاعمر نے کہا کہ اسامہ بن لادن!۔ میں نے اس کیساتھ پھروعدہ کیا ۔ پھر پاکستان آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجھے اسامہ بن لادن سے ملا دیا۔ یوں یہ انٹرویوآئی ایس آئی کی وجہ سے نہیں بینظیر بھٹو کی مہربانی سے ہوا تھا۔ طالبان کے ایشو کو آئی ایس آئی نے بعد میں اپنے حق میں استعمال کیا۔ اسامہ بڑا سادہ بندہ تھا۔ اسکے جتنے فوٹو چل رہے ہیں وہ سب میرے کہنے اور ہدایات پرہی بنائے گئے تھے، میں کہتا کہ اس طرح اسلحہ لگاکر تصویر نکالو، کبھی اسکے پیچھے کتابیں رکھ دیتا تھا۔ انٹرویو کرنیوالی پی ٹی وی کے چینل Aٹی وی کی اینکرپرسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اسامہ تیرے اشارے پر ناچتا رہا؟۔ حامد میرنے کہا کہ ناچنا تو میں نہ کہوں گا لیکن وہ ایک بہت سادہ بندہ تھا، دنیا میں جو اس کا امیج بناہواہے یہ انہی تصویروں کی وجہ سے ہے۔ اینکرپرسن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صحافی جس کو جس انداز میں پیش کرتے ہیں وہ ویسے نظر آتا ہے‘‘۔
حامد میر کسی دور میں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملاعمر کے خلاف کالم لکھنااور پھر رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کے ذریعے ملاعمر اور پھر اسامہ سے ملاقات سی آئی اے کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا، میں نے تو ملازم کا کردار اداکیا۔جنگ نے مفتی محمدحسام اللہ شریفی کو بھی نکال دیا ہے، میری تنخواہ بھی امریکی سی آئی اے دے رہی ہے۔ پاکستان کی فوج اتنی کمزور تو نہیں کہ مجھے مارنا چاہے اور مجھے نہ مارسکے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی کوئی اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اسامہ اور ملاعمر کے نام پر امریکہ نے پوری مسلم دنیا کو تباہ کردیا اور حامد میر اب پیپلزپارٹی کا گراف گرانے کیلئے انٹرویو دے رہاہے؟۔ واہ پنجابی واہ !۔ اللہ تجھے پوچھے گا۔یہ الفاظ اس پٹھان کے لبوں پر اس وقت جاری ہونگے کہ جب عالمی سازشیں ایک نیا کھیل کھیلنے کی تیاری میں لگ چکی ہیں۔ پختون قوم اور پاک فوج کے اندر موجود مخلص جاہل لوگ یا عالمی دلال ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری میں لگ چکے ہیں۔ہم نے طالبان کے نام پرسازش سے پہلے بھی خبرادر کیا تھا مگر جذباتی ماحول میں میرے خاندان نے بھی میری مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آج پھر اپنے پختون اور مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ سازشوں کے جال میں پھنس جانے سے پہلے ہوش کے ناخن لو۔ ایک دفعہ فتنہ برپا ہوگا تو رہی سہی امن کی زندگی بھی ہاتھ سے نکلے گی۔
اگر پاکستان کی فوج نے پختون علاقہ سے نکلنے کا اعلان کردیا یا پختون قوم کو اٹھ کر پنجاب سے اپنا الگ وطن بنانے کا اعلان کرنا پڑا تو نہتے پختونوں کو داعش و طالبان کے مسلح دہشتگرد وحشی جانوروں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائیگا۔ ٹارگٹ کلنگ سے پھر پشتون قوم ایسی دبک جائے گی کہ اس مرتبہ آواز اٹھانے کے قابل بھی نہ رہے گی۔ بھری محفلوں میں بہادری کی بھڑکیاں مارنے والوں کی غیرت و ایمان کو طالبان نے اچھی طرح سے جانچ لیا ہے۔ امریکہ قطر میں ہمیشہ طالبان سے رابطے میں رہاہے۔ وہ شکست کا اعلان کرکے کہے گا کہ طالبان سے ہم نہ لڑسکے، طالبان کو انعام میں افغانستان اور پختونخواہ وبلوچستان کا پختون ایریا دیدے گا۔ سرائیکی، پنجابی اور بلوچ اور سندھی اپنے اپنے الگ ممالک بنالیں گے اور کسی کو بھی پاکستان ٹوٹنے کا دکھ بھی نہیں ہوگا۔ سیاستدان اور اسٹیبلیشمنٹ یہ کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کرینگے کہ مقروض پاکستان سے جان چھڑانے میں ہمارا کمال تھا۔
پھر پانی سر سے گزرنے کے بعد حامدمیر جیسے دیگر صحافی انکشافات کرینگے کہ عمران خان کا ورلڈ کپ جیتنا، طالبان کی حمایت اور پاکپتن کے مزار پر سجدہ سب کچھ پلانٹڈ اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سے لکھا ہوا اسکرپٹ چل رہاتھا۔ اسلامی بلاک کا آغاز کرنے پر بھٹو کو نشان عبرت بنانا بھی کھیل کا حصہ شمار ہوگا اور جنرل ضیاء الحق نے لسانی تعصبات سے پیپلزپارٹی کو اس قدر دھچکا نہیں پہنچایا جتنا آصف زرداری سے بھٹو خاندان کو زرداریوں میں بدلنے کے پلان سے پہنچایا۔ ایک ایک بات کا انکشاف ہوگا تو اسلامی مدارس کے نصاب کو بھی سازش کے تحت جاری اور ساری کرنے کے انکشافات سامنے آئیں گے۔ پھر قوم سنبھل نہ سکے گی اور جس اسلام سے دنیا ڈرتی تھی اس کا دنیا سے ابلیسی نظام کے ذریعے مکمل خاتمہ کرے گی۔علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے لکھاہے کہ ابلیس کو اصل خوف امت کی بیداری اور اسلام کے آئین سے ہے۔
اگر پختون گرینڈ جرگہ وزیرستان اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ واقعی اسلام اور غیرت کیلئے مخلص ہیں توخواتین کے حقوق اور حلالے کی لعنت اور بے غیرتی کے مسائل حل کریں۔ پاکستان کی فوج امریکی امداد پر دلالی کرتی ہو اور پختونستان کا نعرہ لگانے والے حق مہر کے نام پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بیچیں تو پھردونوں سے کوئی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔ جعلی اسلام، جعلی پاکستانیت اورجعلی پشتو غیرت ایک گھناؤنا کاروبارِ سیاست ہے جسکے اچھے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز صاحب نے طلاق سے رجوع اور حلالہ کی لعنت ختم کرنے کے دلائل پر سنجیدگی کا اظہار کیا تھا مگر اب تک خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔ پختون گرینڈ جرگہ قرآن وسنت کے قوی دلائل سمجھ لیں تو حلالہ کی بے غیرتی سے نہ صرف پختونوں کی بلکہ عالمِ انسانیت کی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ شدت پسند طالبان اور دہشت گرد بھی درست اور اعتدال کے راستے پر آسکتے ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات کی گردن مروڑی گئی ہے تو اسلام کا کوئی قصور نہ تھا بلکہ ہردور کے بے غیرت شیخ الاسلاموں نے ریاست میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار خود کو ثابت کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ احادیث صحیحہ میں قرآن کی تعلیم پر معاوضے کی اجازت نہ تھی اور پہلے ادوار میں سلف صالحین کا اس پر اجماع تھاکہ قرآن کی تعلیم پر معاوضہ نہیں لیا جاسکتا۔ بعد والوں نے اس کو پیشہ کاروبار بنادیا۔ احادیث صحیحہ کا پورا ذخیرہ مولاناسیدمحمد یوسف بنوریؒ کے داماد مولانا طاسین ؒ نے نقل کیا کہ زمین کو مزارعت، بٹائی اور کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا۔ امام ابوحنیفہؒ ،امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں لیکن مولانا طاسین ؒ نے گوشہ گم نامی میں زندگی گزار دی۔ دینی مدارس نے ان کی کتابوں کو عوام میں ہوا بھی لگنے نہیں دی۔ آج طلاق کے مسئلہ پر مدارس نے چپ کی سادھ لی ہے۔ علماء ومفتیان جلد ازجلد حقائق کی طرف رجوع کریں ورنہ مشکلات آئیں گی۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

حاجی عبد الوہاب ؒ دو دفعہ مرکرزندہ ہوئے تیسری مرتبہ نہیں بچے گا:ڈاکٹر مفتی مولانا منظور مینگل

جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کے سابق معروف استاذ ڈاکٹر مولانا مفتی منظور مینگل علماء دیوبند کے مناظر اسلام ہیں۔ تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر حاجی عبدالوہاب ؒ وفات پاگئے تو ان کا درد بھرا تعزیتی خطاب منظر عام پر آیا مگر اسکے ساتھ ایک سابقہ بیان بھی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز ہے۔ مولانا منظور مینگل نے کہا کہ ’’ تبلیغی بھائی کہتے ہیں کہ حاجی عبدالوہاب صاحب دو مرتبہ فوت ہوگئے لیکن اللہ نے واپس اسے دنیا میں بھیجا۔ مولانا منظور مینگل نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب وہ نہیں بچ سکے گا۔ ایک مجلس میں حاجی عبدالوہاب صاحب کی موجودگی میں ایک تبلیغی نے کہااور اس وقت میں خودبھی اس مجلس میں موجود تھا کہ حاجی عبدالوہاب فوت ہوگئے، فرشتوں نے پوچھا کہ من ربک ، ما دینک، من نبیک ( تیرارب کون ہے؟۔تیرا دین کیا ہے؟ ، تیرا نبی کون ہے؟) حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ یہ کونسی جگہ ہے اور مجھے یہ کہاں لیکر آئے ہو؟۔ فرشتوں نے کہا کہ یہ جنت البقیع ہے۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مولاناالیاس کاندہلوی، حضرت جی مولانا یوسف، حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب کہاں ہیں؟۔ فرشتوں نے کہا کہ وہ بستی نظام الدین میں ہیں۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مجھے وہاں لے جاؤ یا ان حضرات کو میرے پاس لاؤ۔ فرشتے لاجواب ہوگئے اور اللہ نے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کو واپس بھیج دو۔اسطرح دو مرتبہ اللہ نے مرنے کے بعد حاجی عبدالوہاب کو واپس دنیا میں بھیجا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ بخاری شریف میں ایک صحابیؓ کے بارے میں بھی ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگیا تھا۔ جب وہ کمرے سے باہر آیا تو میں نے کہاکہ وہ صحابی فوت نہیں ہوا تھا بلکہ بیہوش ہوا تھا۔ جسکا نام جبلؓ تھا اور جب وہ بیہوش ہوا تو اس کی بہنیں اور گھر کے افراد نے رونا مچایا کہ واہ جبلا، واہ جبلا، واہ ملجا، واہ مأویٰ ۔ جب ہوش میں آیا تو کہا کہ فرشتے مجھ پر ہنس رہے تھے کہ چار پانچ فٹ کا بھی کوئی پہاڑ ہوتا ہے میرا نام جبل کیوں رکھا؟، مجھے فرشتوں کے سامنے شرمندگی ہوئی۔ بخاری کا واقعہ موت کے بعد زندہ ہونے کا نہیں ۔ قرآن میں ہے کہ موت کے بعد کوئی زندہ نہیں ہوسکتا ‘‘۔ مولانا منظورمینگل کی پوری ویڈیو ضرور دیکھ لیجئے گا۔
ایک نیندہے جس میں انسان پر ایک چھوٹی سی موت طاری ہوجاتی ہے، سونے سے پہلے اور نیند سے اٹھ جانے کے بعد مسنون دعا میں اس کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس طرح نیند کی حالت میں آدمی خواب دیکھتا ہے تو اسی طرح بیہوشی کی حالت میں مشاہدہ بھی دیکھ لیتا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ صحابیؓ نے مشاہدہ دیکھا ہو، حضرت حاجی عبدالوہاب ؒ نے بھی مشاہدہ دیکھا ہو۔خواب اور مشاہدہ اسلئے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے کہ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ نبیﷺ نے قیس کا نام عبدالرشیدؓ رکھا اور کافی صحابہؓ کے نام بدل دئیے۔ معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوبکرؓ بن ابی قحافہؓ کے والد زیادہ عمر والے تھے اسلئے نام نہ بدلا ہوگا۔ حاجی عبدالوہابؒ کا مشاہدہ بھی درست ہوگا کہ حدیث میں ہے کہ المرء مع من احب (آدمی جس سے محبت کرتاہے، اسی کیساتھ ہوگا) ۔جس دن تبلیغی جماعت کے سابق امیر مولاناانعام الحسنؒ کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا تو مولانا طارق جمیل نے مولانا الیاس ؒ کے پڑپوتے کیلئے دعا کی کہ اب ذمہ داری کا بوجھ اکیلے مولانا سعد کے کاندھے پر پڑگیا، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے۔ مولانا انعام الحسنؒ کو مشورہ دیا گیا کہ حضرت ابوبکرؓ کی طرح اپنے بعد کسی کو امیر بنالیں۔ حاجی عبدالوہاب کی رائے تھی کہ مولانا سعد کو امیر بنایا جائے، مولانا سعید خان کا مشورہ تھا کہ مولانا زبیر کو امیر بناؤ۔ اتفاق نہ ہوا تو ایک فیصل کو اختیار دیا مگر مولانا سعد نے کہا کہ مجھے امیرنہ بناؤ ، مولانا زبیر کے ساتھی کٹ جائیں گے، مولانا زبیر نے کہا کہ مجھے امیر نہ بناؤ، مولانا سعد کے حامی کٹ جائیں گے۔ فیصل نے تین افراد کو ذمہ داری کا بوجھ سونپ دیا۔ ایک پہلے فوت ہوگئے، پھر مولانا زبیرنے وفات پائی تو مولانا سعد پر ذمہ داری کا بوجھ آیا۔
حاجی عبدالوہاب نے پریشر پر شوریٰ کا تقرر کیاجس کو مولانا سعد نے مسترد کیا۔ اب دونوں گروپوں میں بحث ہے کہ اسلامی نظام امارت ہے یا پھر شورائی ہے؟۔ شوریٰ والے کہتے ہیں کہ مولانا سعد پر کسی نے محبت یا بغض میں حملہ کردیا یہ فیصلہ نہیں ہوسکا۔ مارپیٹ کے بعد پولیس کوحوالہ کیا گیا اور مولانا سعد کی سیکورٹی مقرر کی گئی۔ پہلے دعوت چلتی تھی پھر ماحول بدل گیا اسلئے اکابرؒ نے اصلاح کی کوششوں کے بعد بستی نظام الدین کو چھوڑ کر الگ مرکز قائم کیا۔ مولانا سعد والے کہتے ہیں کہ مولانا سعد نے مرکز میں کھانے کے خاص دسترخوان اور جماعت کے پیسوں سے بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی جو کا م کا بنیادی اصول تھا اور یہ برداشت نہ ہوا اسلئے الگ ہوگئے۔ مدرسہ کڑمہ جنوبی وزیرستان سے بھگانے کیلئے رائیونڈ کے فاضل مولانا شاہ حسین پر تبلیغی کارکن نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
پھر مولانا شاہ حسین نے ٹانک کے قریب جنڈولہ روڈ پر مدرسہ بنایا ، جسکا نام مدرسہ حسنین رکھ دیا۔ تبلیغی جماعت نے اسکے خلاف پروپیگنڈہ کرکے نام بدلنے پر مجبور کیا کہ یہ شیعہ نام ہے، حالانکہ مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا نام بھی حسنین ہے۔ مولانا شاہ حسین کی تشکیل فیصل آباد کی ایک مسجد میں ہوئی تھی، پڑوسی رائیونڈ سے پتہ کرکے آیا تھا اور ساتھ میں کلہاڑی کا لوہا واسکٹ کی جیب میں چھپایا تھا، اور اسکا دستہ ہاتھ میں تھا۔ کلہاڑی سے سرپر وارکردیا اور مولانا نور محمد شہید کے بھائی مولانا نیاز محمد نے بچایا ۔اس نے پہلے ہی مینٹل( پاگل) ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی بنایا تھا۔
حاجی عبدالوہاب صاحب کو مشاہدہ میں بتایا گیاہوگا کہ تیرا قبلہ قرآن وسنت اور حرمین شریفین نہیں بستی نظام الدین ہے اور ان اکابرینؒ کو منہ دکھانا ہے جسکے مولاناسعد کیخلاف سازشوں کے بدترین جال بچھائے گئے ہیں۔
بانیانِ تبلیغی جماعت کا مقصد کسی نئے گروہ کا اضافہ نہیں بلکہ قرآن وسنت کا احیاء تھا، تبلیغی حاجی عثمانؒ کی قدر کرتے تو تفریق وانتشار اور اس طرح سازشوں کا شکار نہ ہوتے۔ کراچی کے اکابرعلماء دیوبند عام بسوں میں سفر کرتے تھے اور پھر حاجی عثمانؒ کے مریدوں کی الائنس موٹرز کے ایجنٹ اور گاڑیوں کے مالک بن گئے تو پیری مریدی کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر اختیار کیا۔ طلبہ غریب ہوتے ہیں، مریدوں میں بڑے مرغے ہاتھ لگتے ہیں۔ اُمت کے دیانتدار علماء و مشائخ اور تبلیغی کارکن مل بیٹھ کر قرآن وسنت کے فطری احکام کو پروان چڑھائیں تو سب کا زبردست بھلا ہوگا۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختارنے مسلمان نوجوان کا اردو ترجمہ کیا، تو ان کو درس قرآن اور تبلیغی کارکنوں کے تنازعہ پر کرایہ کے غنڈوں سے شہید کروایا گیا۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے عصر حاضر میں جو عالمگیر فتنے کی حدیث کا ذکر کیا تھا تو وہ بھی شہید کئے گئے۔ دونوں کتابیں مسلمان نوجوان اور عصر حاضر مارکیٹ سے غائب کردی گئیں ۔ ایک اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے پختون قیسؓ عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیا

مؤلف کتاب کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد کراچی نے تاریخی حوالہ جات سے لکھا ہے کہ ’’ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق بخت نصر نے انہیں حکم دیا کہ ملک شام سے نکل جائیں بلکہ جس جس علاقے پر میری حکومت ہے وہاں نہ رہیں۔ جو لوگ ان کی نگرانی پر مامور تھے انہوں نے اس قافلہ کو بخت نصر کی بادشاہت سے نکال کر غور ، غزنی ، کابل، کوہ فیروزہ اور قندھار کے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا جو اقلیم پنجم و ششم میں شمار ہوتے ہیں اور خراسان و کوہستان کے صوبے میں شامل ہیں۔ اس طرح افغنہ کی اولادوں نے (موجودہ) ایران و افغانستان کے علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں کے ہورہے۔ان کی آل اولاد بڑھتی گئی اور اپنی کثرت کی وجہ سے ان لوگوں نے کافر قبیلوں کے خلاف متواتر جنگیں لڑیں اور اکثر و بیشتر پر فتح حاصل کرکے کوہستان کا سارا علاقہ اپنے زیر نگیں کرلیا۔ یہ علاقہ ولید بن عبد الملک بن مروان کے سپاہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے بھانجوں عماد الدین محمد قاسم اور محمد ہارون کے آنے تک ان کے قبضہ میں رہا۔ ہارون اور عمادالدین نے سنہ 88ہجری میں (یعنی آٹھویں صدی عیسوی) کیج اور مکران کا علاقہ فتح کیا اور سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کے آنے تک یہ لوگ اسی علاقے میں سکونت پذیر تھے۔ یہاں چونکہ افغنہ کا ذکر پھر آگیا اسلئے مناسب ہے کہ اس کو مکمل کرلیا جائے۔ چنانچہ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق: ’’اہل دانش و بینش سے پوشیدہ نہ رہے کہ تاریخ نویسوں خصوصاً صاحب ’’مجمع الانساب‘‘ و ’’اصناف المخلوقات‘‘ (تاریخی کتابیں، محمد بن علی شہانکارہ ئی نے 743ھ /1342ء میں اور نصیر الدین طوسی متوفی 672ھ میں تصنیف کی تھیں)نے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بنی اسرائیل اور آصف و افغنہ کی اولادوں کو جن کی تعداد سارے قبیلوں سے زیادہ تھی ، ملک شام سے نکال دیا تو ان میں سے ایک گروہ ملک عرب میں آبسا۔ انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اگر حضرت داؤد ؑ و سلیمانؑ کے بنائے ہوئے خانہ خدا یعنی بیت المقدس کی زیارت اور اس میں خدا کی عبادت سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سعادت ہم سے چھن گئی ہے تو کم از کم حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سعادت کو تو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیونکہ یہ پاک گھر نبی آخرزماں کی جائے پیدائش بھی ہوگا۔ اگر ہمیں سرور انبیاء ﷺ کی زیارت نصیب نہ بھی ہوئی تو ممکن ہے کہ ہماری اولادوں کا بخت یاوری کرے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور زیارت و صحبت سے شرف یاب ہوں۔ اسلئے انہوں نے مکہ معظمہ میں بلکہ حرم پاک میں سکونت اختیار کی۔ انہیں عرب کے لوگ بنی اسرائیل اور بنی افغان کہتے تھے۔ (حضرت خالد بن ولیدؓ اسی قبیلے میں سے تھے )۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایران کی تسخیر کی ۔ ان دو خوش نصیب و نیک بخت جوانمردوں کی ہمت سے نوشیرواں کی نسل کا آخری بادشاہ یزد جرد بمقام یزد قتل ہوا اور چار ہزار سات سو سال کے بعد عجم کی وسیع سلطنت اسلام کو منتقل ہوئی۔ خواجہ نعمت اللہ ہرطی لکھتے ہیں ’’جوینی نے ’’تاریخ جہانکشا‘‘ میں حمد اللہ مستوفی نے ’’تاریخ گزیدہ‘‘ میں ، محمد بن علی شبانکارہ ئی نے ’’مجمع الانساب‘‘ میں اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے ’’تاریخ اصناف المخلوقات ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے کہ جب جمال محمدی ﷺ کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں اور دنیا کی تاریکی کے بادل چھٹنے لگے اور عرب گروہ در گروہ مدینہ منورہ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو خالد نے بھی اسلام قبول کیا اور اس سعادت سے مشرف ہوکر بنی اسرائیل ، بنی افغان اور بنی اعمام کو جو غور کے نواحی پہاڑوں میں بستے تھے ایک خط لکھا جس میں خالد نے ان قبیلوں کو پیغمبر آخر الزماں کی تشریف آوری ، اسلام کی حقیقت اور اپنے ایمان کی خبر دی۔ خالد بن ولیدؓ کا یہ خط جب اس قوم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا بنی افغان کا سب سے بڑا سردار قیس نامی ایک شخص تھا جسکا شجرہ نسب 37واسطوں سے ملک طالوت اور 45واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک پہنچتا تھا۔۔۔ الغرض جب افغانوں کی یہ جماعت مدینہ پہنچی تو حضرت خالدؓ کی وساطت سے حضور سر ور کائناتﷺ کی خدمت میں شرف یاب ہوئی اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئی۔ نبی ﷺ نے اس جماعت کیساتھ ہر طرح سے شفقت فرمائی، انمیں ہر ایک کانام پوچھا اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیس عبرانی نام ہے اور ہم عرب ہیں پھر کمال شفقت سے قیس کا نام بدل کر عبد الرشید رکھا اور فرمایا چونکہ تم لوگ ملک طالوت کی اولاد ہو جسے حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’ملک‘‘ کے خطاب سے یاد کرکے عزت بخشی اسلئے بہتر ہے کہ تمہیں لوگ ملک کہا کریں۔ آپ ﷺ فتح مکہ کیلئے روانہ ہوئے تو خالدؓ اور عبد الرشیدؓ دونوں کو آپ ﷺ کے ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی جماع کو حکم دیا کہ وہ عبد الرشیدؓ کے زیر کمان جہاد میں شریک ہوں۔ اس جماعت کے سب لوگوں نے جانثاری کا ثبوت دیکر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قریش مکہ کے 70 کافر خالدؓ اور اس جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح کے بعد خالدؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ملک عبد الرشیدؓ کی بہادری اور جوانمردی کے واقعات بتائے یہ سن کر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر برملا یہ الفاظ جاری ہوئے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس مرد کی آل و اولاد کو بہت فروغ بخشے گا۔ اس حد تک کہ اس کے قبیلے کی طاقت باقی قبیلوں سے زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے وحی کے ذریعے سے آگاہ کیا گیا کہ اسلام کی خدمت کیلئے اس قبیلے کی کثرت و استحکام کو وہ بنیادی حیثیت حاصل ہوگی جو کشتی اور جہاز کے نیچے والی اس لکڑی کو حاصل ہوتی ہے جس پر کشتی یا جہاز کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ اس لکڑی کو سمندروں کے رہنے والے لوگ ’’بتھان‘‘ کہتے ہیں۔ اسلئے عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیتا ہوں‘‘۔ کثرت استعمال سے یہ لقب بتان یا بتھان سے فارسی کے اثر سے پتھان پھر پٹھان ہوگیا اور آج افغان و پاکستانی سرحدی قبائل اپنے آپ کو پٹھان کہنے پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ انکے رویوں میں وہی بنی اسرائیل یا یہودیوں والی جھلک پائی جاتی ہے اور دینی عقائد میں بھی وہ سوچنے و سمجھنے اور تفکر و تحریر سے عاری ہیں، اور باپ دادا کی پیروی یا تقلید پر ہی اڑے رہتے ہیں۔
بنی اسرائیل یا یہود کے پٹھان بننے کے بعد اب ہم پھر تاریخ کے اس باب کی طرف پلٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہود کی سرکشیاں شام کے علاقے میں بہت بڑھ جاتی ہیں حتیٰ کے وہ جلیل القدر رسول عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنی منافقانہ بد اعمالیوں سے سولی پر لٹکا کر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر 70عیسوی میں رومن عیسائی کی افواج عذاب بنا کر مسلط کر دیتا ہے وہ نہ صرف یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں بلکہ انکی مرکزی عبادتگاہ جو تقریباً پانچ سو سال پہلے پارس کی مدد سے دوبارہ تعمیر کی گئی تھی کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کے بعد آج تک کوئی بھی اس عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کو دوبارہ یا سہ بارہ تعمیر نہ کرسکا۔ وہاں اب کچھ عرصہ قبل کھدائیوں کے نتیجہ میں کسی دیوار یا نبو کے کے آثار ملے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر یہودی وہاں کھڑے ہوکر روتے ہیں۔ (چنانچہ اس آثار کا نام ہی ’’دیوار گریہ‘‘ پڑ گیا ہے Wailing Wall) اور ایک اور نبی یا مہدی کے آنے کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔ جس طرح انہی کے پروردہ ایک فرقہ کے لوگ’’ ادرکنی یا صاحب الزماں‘‘کی نہ صرف دعائیں کرتے ہیں بلکہ یہ دعا لکھ لکھ کر آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا یا سمندر میں بہاتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں کہ عراق کے غار میں تقریباً 12سو سال سے چھپا ہوا مہدی نیلا عمامہ پہنے ہاتھ میں دو دھاری اور دو شاخہ تلوار لئے ظاہر ہورہا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی کے دو ہزار سال سے تباہی کے باوجود بیوقوف مسلمان اور انکے ملا اس کو مسجد اقصیٰ کا نام دیتے ہوئے اسے قبلہ اول قرار دیتے ہیں جبکہ اس عبادتگاہ کا اپنا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قبلہ اول بنایا ہوا تھا (اول بیتٍ 96/3)۔ القرآن الحکیم قراء تی تحریف، مؤلف کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد
تبصرہ سید ارشاد نقوی
کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد نے اپنی کتاب پر اپنا پتہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف قرأتوں کا انکار کیا گیا ہے اور اس کو قرآن کیخلاف ایک سوچی سمجھی مگر ناکام سازش قرار دیا گیاہے۔
الفاظ کی ادائیگی اور لہجوں کا اختلاف مختلف زبانوں میں ہوتا ہے۔ عرب امارات کے اس معروف ملک کو شارقہ اور شارجہ کہا اور لکھا جاتا ہے۔ مصری حاجی جنت مانگنے کی دعا میں اللہ سے گنا مانگتے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ قاری عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ مصری حرم میں دعا مانگتے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ جنت مانگو، گنا نہیں مانگو، جو اسطرح کھایا جاتا ہے۔ بعض افریقی لیلۃ القدر کو لیلۃ الغدر تلاوت کرتے ہیں۔ اکثربنگالی جنت کو زنت کہتے ہیں،ولاالضالیں کی ادائیگی پر پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مسجد محراب سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ عربی میں لفظ لفظ کلمہ پڑھنے کے بھی چار اقسام کی ادائیگی ہے۔فوج کو پوج، فوز اور پاکستان کو فاکستان کہنے والے بھی کثرت سے موجود ہیں۔
کیپٹن صاحب کی تصنیف اچھی کاوش ہے اور قرآن کی وجہ سے حدیث کا انکار درست ہے۔اہلحدیث اور دیوبندیوں کے حوالہ سے اگر واقعی کسی سازش کا ادراک ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ جب شیعہ گمراہ ہیں اور سنی احادیث بھی غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟۔ اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ تاریخی غلط بات کو درست ماننا اور صحیح احادیث کا انکار کرنا کوئی منطق ہے؟۔ قیس عربی نام تھا، جاہلیت کے مشہور عربی شاعر امرء القیس تھا، عربی قصہ مجنوں لیلہ میں مجنوں کا نام بھی قیس تھا ۔ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ نے اس قوم کو رشید بنانے کیلئے قیس کا نام عبدالرشید رکھا ہو۔ اگر خطاب یہ ہو توبھی ممکن ہے۔ آج کوہ سلمان پر تختِ سلمان اور قیسے غر( قیس کا پہاڑ) اور عبدالرشید کانام اور قبر موجود ہے۔ کیپٹن صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث کی وجہ سے غلط پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں بھی پیش گوئی موجود ہے۔
ملیر کینٹ کراچی سے ریٹائرڈ فوجی صوبیدار بشیر احمدکے بیان نوشتۂ دیوار میں شائع ہوئے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اخباری تراشے بھیجے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ ہمیں جمہوری پاکستان چاہیے، جہادی پاکستان نہیں چاہیے۔ حالانکہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور جمہوری نظام شرک ہے مگرجب اس سے ہم نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا نام اسلامیہ جمہوریہ ہے اور یہاں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام ہے ،کیا آپ مجاہدین کو پاکستان کیخلاف جہاد کرنے کا کہتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے تو بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔اس کی بولتی بند ہوگئی اور پھر اس کو بتایا کہ نبیﷺ نے حدیث قرطاس لکھوانے کی بات فرمائی لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ’’ ہمارے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ غدیر خم کے موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جسکا مولی ہوں ، علی اس کا مولی ہے لیکن مسلمانوں نے جمہوری بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ (صحیح مسلم)حدیث سے جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے ۔ بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اسلام اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے اور جہاد کو نظرا نداز کردیا۔
ایک فوجی حدیث کا منکر ہے اور تاریخ سے متاثر ہے اور دوسرا حدیث کو مانتا ہے لیکن خود جہاد نہیں کرتا اور جمہوریت کو شرک قرار دیتا تھا لیکن جب جہاد کا سوال پوچھا تو گونگا شیطان بننے کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑی کم عقلی ہے کہ جو لوگ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کاتحفظ کرنے والے اداروں کو جہاد کے نام پر تحفظ بھی دیتے ہیں۔ ملک میں بہت افراتفری ، منافقت اور نااہلیت کی وجہ جاہلیت اور ذاتی مفادپرستی کے شاخسانے ہیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوجی مہم جوئی کے دوران قتل کئے تو نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ ’’اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔ابنِ نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے دورِابوبکرؓ میں شادی رچائی تو عمرؓ کایہ مشورہ تھا کہ سنگسار کیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ کو کافی قرار دیا کہ ’’خالدؓبن ولید کی اب ضرورت ہے‘‘۔

شاہین ایئر لائن کے ادارے کو بھی سیمی گورنمنٹ بنایا جائے: اجمل ملک

پاکستان کا بہترین ادارہ پی آئی اے سیاستدانوں نے تباہ کردیا۔ اسٹیل مل کو بھی تباہ کیا گیا۔جنرل صبیح الزمان نے چارج سنبھالا تھا تو 16ارب تک بچت کی تھی اور پھر اس کا بیڑہ غرق کیا گیا اور پرویزمشرف نے کرنل افضل کو چارج دیا، وہ نااہل مگر ایماندار تھا، اسٹیل مل کو منافع بخش بنادیا۔
پی آئی اے میں فوجی تعینات کرنے کا پروگرام ٹھیک ہے۔ شاہین ائرلائن کو بھی سیمی گورنمنٹ بنایا جائے اور اس میں آن ڈیوٹی دیانتدار فوجی افسران تعینات کئے جائیں۔ دونوں ائرلائنوں کو ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کا ٹاسک دیا جائے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ سول ایوی ایشن نے ایروایشا کا بھی بٹہ بٹھادیاتھا، کراچی ائرپورٹ شاہین کو حوالہ کیا جائے۔ اچھے اقدامات ضروری ہیں۔ شاہین کو کھڑا کرنے سے تبدیلی آئے گی۔

منظور پشتین، عمران خان،نواز شریف، محمود اچکزئی اور الطاف حسین سے گزارش: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے اشرف میمن نے کہا کہ سائیکل چوری پر پولیس اتنا تشدد کرتی ہے کہ مجرم نہ ہو توبھی اعترافِ جرم کرلیتا ہے کہ بہت سائیکلیں چوری کیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ سیاسی قبلہ بدلنے، مذہبی مسئلہ اگلنے اور کرپشن کی بات پر میڈیا کے سامنے وضاحت کا موقع دیا جائے، عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو تازہ درخت کے ڈنڈے کاٹ کر اس پر برسائے جائیں ۔ نوازشریف کو موقع دیا جائے کہ پارلیمنٹ میں تحریری بیان اور پھر اس سے مکرنے کی معقول وجہ بتائے، اگر نہ بتاسکے تو ڈنڈے سے میڈیا پر اُگلوایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بولنے پر بھی ہو اور فرائض منصبی کے بجائے جرائم پیشہ ریاستی عناصر کو بھی عوام کے سامنے کیا جائے۔فواد چوہدری کو بھی پارٹیاں بدلنے کی سزاہو اور الطاف حسین جو فوج کو اقتدار کی دعوت دیا کرتا تھا اس پر بھی سزا ہو۔ اس سے انقلابی سیاست کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگے گی۔