سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی
31مئی2007ئ:خبریکم جون کو نشر ہوئی
اسلام میں نسل نہیں کردار اہم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا :”تم سب ایک آدم کی اولاد ہو ۔ عرب عجم، کالے گورے کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں فضلیت کا معیار تقویٰ ہے”۔
مرشد حاجی محمد عثمان نے فرمایا” میرے والد ، والدہ دونوں سید ہیں”۔ کانیگرم وزیرستان ،گومل کے لوگ والدہ کے خاندان کوسید نہیں مانتے تھے ۔دونوں خاندان مرج البحرین تھے۔ ان کے درمیان برزخ ہے جو ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے۔
کانیگرم شہر دو ندیوں کے درمیان ہے۔ ایک مردوڑ لگاڈ ”ناپاک ندی”سے مشہورلیکن ناپاک نہیں ہے ۔
ھذا عذب فرات و ھذا ملح اجاج
”یہ میٹھا خوشگواراور یہ کھارا کڑوا پانی ہے لیکن کانیگرم کے ندیوں میں نام کا یہ فرق کیوں ہے؟۔ اس میں ایک بہت بڑے زبردست راز کی بات ہوسکتی ہے۔
میرے ننھیال اور دھدیال کے خاندانوں میں ہم نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اور دو مختلف وجود کے باوجود ایک قالب تھے لیکن جب2007ء کا سانحہ ہوا تو ابھی اس کی آگ نہیں بجھ سکی تھی کہ یہ وار بھی سرد جنگ کی طرح شروع ہوگئی۔ نانا سلطان اکبر نے جٹہ قلعہ گومل سکندر مرزا کو افغان پیر شیرآغا کو کرایہ پر دینے سے انکار کیا تھا۔ جو انگریز افغان قتل کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ میرے بھائی پیرامیرالدین شاہ ایکس کمشنر بنوں نے خواب دیکھا تھا کہ جٹہ قلعہ کی مسجد میں نبی ۖ تشریف لائے ہیں اور اس میں نانا خان کو سلام دینے کا بھی فرمایا تھا۔
ڈاکٹر آفتاب نے بتایا:مولانا اشرف خلیفہ سید سلیمان ندوی نے کہا کہ ” قائداعظم محمد علی جناح1940ء سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن اس کے بعد ایک سچے پکے مسلمان تھے”۔ صحابہ کرام پہلے جوبھی تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعدعکرمہ بن جہل، ابوسفیان، ہند سچے پکے مسلمان تھے۔ میرے ننھیال والے بھی کانیگرم کی آمد سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن پھر اچھے بن گئے۔
جب2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی اور میں دوبئی منتقل ہوا تو اس کے بعد پھر سانحہ2007ء ہوگیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور ان میں مہمان بھی شامل تھے اور یہ پہلا سانحہ تھا جس پر طالبان نے معافی مانگی اور مجرموں کو کیفر کردار تک بھی پہنچانے کا کہا لیکن پھر آپریشن کی وجہ سے وہ افغانستان گئے۔
مجھے واقعہ کی صبح بتایا کہ یوسف شاہ کی بہن نے کہا کہ ”اگر گھر میں چھپایا ہے تونکالیں ورنہ گھر میں گھس کر تمہیں بھی نقصان پہنچادیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ” ہمارا یہ راز فاش نہ ہو ورنہ تو ہمیں اٹھالیں گے”۔پھر شہر یار نے خیبر ہاؤس پشاور میں بتایا:”طالبان کی میٹنگ کے ذریعے ذہن سازی کی گئی تھی کہ یہ گھرانہ بڑا ظالم ہے ۔ لوگوں کی بیویاں ،بچے چھینے ہیں”۔
میں نے17سال تک بہت باتیں سن لیں۔مجھے اصل چیز کی تلاش دو بنیادی نکات کی تھی۔ خاتون کیسے آئی اور میٹنگ کہاں اور کیسے ہوئی؟۔ لیکن دونوں چیزوں کا تذکرہ نہیں آیا۔
فیس بک پر گالیاں لکھ سکتے ہیں لیکن معقول سوال کا جواب نہیں دے سکتے؟۔ سب سے پہلے ممکنہ طور پر ڈاکٹر عبدالجباراور پیر عبدالغفار ایڈوکیٹ اور پیر حاجی عبداللطیف تینوںبھائیوں کو ملوث قرار دینے کا خدشہ سامنے آیا جس کو میں نے مسترد کردیا۔
پھر ان کے سوتیلے بھائیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے ٹھوس شواہد اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی مہم جوئی سامنے آئی لیکن وہ بھی میں نے اللہ کے فضل سے ناکام بنادی۔ کیونکہ ان کے ساتھ غیرت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں وجوہات سامنے رکھتا تھا کہ ہم سے انتقام لینے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے اسلئے کہ میٹنگ کا سراغ لگانا تھا۔ جب تک یہ کنفرم نہیں ہوجاتا کہ حقائق کیا ہیں؟ تو جن لوگوں کیساتھ ممکنہ مسائل ہوسکتے تھے تو ان سے بھی نفرت اور الزام قبول کرنے کی نوبت نہیں آئی اسلئے کہ ملزم مجرم نہیں۔ الزامات کی دنیا میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگااور بہت پاکیزہ ماحول والے صحابہ و صحابیات بھی ملوث ہوگئے۔ عاشق رسول نعت خواں حضرت حسان، حضرت ابوبکر کے رشتہ دار اور بدری صحابی حضرت مسطح، نبیۖ کی سالی حمنا تو بہتان لگانے والوں میں شامل تھے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔صحابہ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی تلقین کی گئی کہ افواہ سازی کا کام اور اسے پھیلانے سے اجتناب کرو۔
ہمارے آپس کے زمینوں کے بھی کچھ معاملات تھے اور اس پر تصفیہ کرنے اور حق داروں کو اپنا حق واپس کرنے کا بھی تہیہ کیا ہوا تھا۔پھر بیچ میں میرے بھائی پیر نثار اور کزن پیر ریاض شاہ ایکس انکم ٹیکس کمشنر کے درمیان زبانی تلخ کلامی ہوئی تو میرا بیچ میں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا پروگرام تھا کہ زبانی معاملات کا تصفیہ بھی اچھے انداز سے ہوجائے لیکن پھر محسوس کیا کہ معاملے کو جب تک تحریری طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جائے تو یہ داستان ستم کے بادلوں کے ڈیرے بڑھتے چلے جائیں گے۔
امیرالدین بھائی نے بہت ہلکا سا لیا تھا اور کہتے تھے کہ جلدی کرو لیکن مجھے پتہ تھا کہ کتے کی دم نے سیدھا نہیں ہونا ہے اور جب کوئی اتنا بے ایمان ہو کہ ایک مجلس میں اپنی لکھوائی ہوئی بات سے بھی نہ صرف مکر جائے بلکہ الٹی مہم چلائے تو اس کا ایک علاج تحریر اور اس کی تشہیر ہے اور دوسرا ویڈیو ریکاڑ د ہے۔
مجھے اصل خوف اس بات کا تھا کہ واقعہ کے پیچھے میٹنگ اور اس خاتون کی خبر کا ادارک اپنی جگہ پر رہ جائے گا اور ہم کسی بھی زبانی جمع خرچ میں الجھ جائیں گے۔ منہاج نے مجھے کانیگرم میں کہا کہ اپنے پردادا کی قبر تلاش کررہے ہو؟۔ میں نے اپنے اعصاب پر قابو پایا اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے پردادا کی قبر لدھا میں روڈ کے کنارے نظر آتی تھی لیکن تم لوگوں نے خود کو لا تعلق کردیا ہے تو ہمیں بھی اپنا جیسا سمجھ رکھا ہے کیا؟۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دوسروں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی۔ ہیں وہ کم عقل کہ یہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کی اکثریت نے مٹھی بھر کرایہ کی خاطر استعما ل والے طبقے کی مخالفت کی تھی لیکن جس کو دیکھو اس کو بس بارود سے اڑادولیکن جو پال رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں؟۔
منہاج کبھی کہتا تھا کہ ”سبحان کا گھر بیچا ہے” اور کبھی کہتاتھا ”تمہارے اجداد ہمارے اجداد کے پیچھے کمبل گھماتے تھے”۔
میرے والد نے کانیگرم کے دوست کے انکار کے بعدجس زمین کاکہا تھا کہ بیچنے اور منافع کمانے کی چیز نہیں اور کانیگرم کے لوگوں کو پلاٹننگ کرکے دیتے تو دشمن نے جس راہ سے حملہ کیا تو اس راستے سے آنے جانے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ مذہبی جذبہ سے طالبان پالتے تو ہماری روح خوش ہوتی کہ چلو بے دین لوگ بھی دیندار بن گئے لیکن جس نے ساری زندگی اجداد سے علماء ، مساجد اور مذہبی معاملات سے منافرت رکھی ہو اور وہ ایسے موقع پر طالبان کے سہولت کار بن جائیں کہ جب مجھ پر2006ء میں فائرنگ ہوئی ،میرے بچوں اور ساتھیوں کیلئے سخت خطرات تھے تو مجھے غصہ تو آتا ہوگا؟۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نانا سلطان اکبر ، اس کے بھائی سید حسین شاہ اور سیدمحمد امین شاہ اور ماموں غیاث الدین شاہ اپنی قبروں میں بھی اس بہت بڑی بے غیرتی پر انتہائی غصہ ہوں گے کہ اتنا بڑا واقعہ2007ء میں ہوگیا اور یہ بے شرم ، بے حیا اور دلے پھر بھی پالتے ہیں؟۔
ایک مجرم ہوتا ہے اور دوسرا سہولت کار۔ سہولت کار بھی جرم میں برابر شریک ہوتا ہے ۔ ایک اصل محرک ہوتا ہے اور دوسرا صرف کرائے پر استعمال ہونے والا۔ میری دلچسپی اس میٹنگ میں تھی جنہوں نے طالبان کا ایک جتھہ ورغلا کر استعمال کیا اور کچھ لوگ خوش ہوں گے کہ ہم نے اپنی بے غیرتی کا بدلہ لیا ہے تومجھے اس پر فخر بھی ہے کہ کھل کر سامنے آنے کی جرأت نہیں کی اوریہ اعزاز کی بات ہے کہ کوئی بے غیرت پھر مزید بھی بے غیرت بن گیا۔ کوئی چھپ کر واردات کرتا ہے تو یہ اس کی بزدلی، بے غیرتی ، کمینہ پن اور بے ضمیری کے علاوہ ایک امکان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے لحاظ رکھا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ کسی بات میں100احتمال کفر کے اور ایک اسلام کا ہو تو ایک اسلام والا احتمال لو اور کفر کے احتمالات کو رد کردو۔
اے این پی کے1200افرادقتل ہوئے پھر میاں افتخار حسین کے بیٹے اور تمام خاندان کے اکلوتے وارث کو بھی شہید کیا گیالیکن میاں افتخار حسین نے پکڑے ہوئے قاتل کیخلاف بھی خود مقدمہ چلانے سے انکار کردیا۔ ذاتی دشمنی بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر اپنے قریبی رشتہ دار کیساتھ۔ پھر کسی ثبوت کے بغیر؟۔ لیکن جس طرح مہک ملک ایک طرف منبر پربیٹھ کر تبلیغ کرتی تھی اور دوسری طرف ڈانس کرتی ہوئی اس کا نیکر بھی نظر آتا تھا ۔ اسی طرح دو دھاری تلوار کی طرح کچھ لوگوں نے اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کا فلیٹ میں نے اسلئے اس داستان کیساتھ چھوڑ دیا تھا کہ اکبر علی کو جہانزیب کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اگر اکبر علی کو کہانی کا تھوڑا پتہ چلتا تو وہ کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ توہین کا انتقام آدمی توہین سے لیتا ہے لیکن کاروباری لین دین میں اونچ نیچ پر تلخ کلامی کوئی توہین نہیں ہوتی ہے۔ اگر میرے بھتیجے نعمان سے کسی کو قتل کروادیتے تو یہ2007ء کا حادثہ سے بھی زیادہ مشکل ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمٰی انما یتذکراولو الالبابOالذین یوفون بعھداللہ ولا ینقضون المیثاقOوالذین یصلون ما امراللہ بہ ان یوصل ویخشون ربھم و یخافون سوء الحسابOوالذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم و اقاموا الصلٰوة و انفقوا مما رزقناھم سرًا و علانیة ً و یدرء ون بالحسنة السیئة اؤلٰئک لھم عقبی الدارOجنات عدنٍ یدخلونھا و من صلح من اٰبائھم وازواجھم و ذرّیاتھم والملائکة یدخلون علیھم من کل بابٍOسلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارOوالذین ینقضون عھداللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امراللہ بہ ان یوصل و یفسدون فی الارض اولٰئک لھم اللعنة و لھم سوء الدار O
ترجمہ :” پس کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ تیرے رب کی طرف سے جو تیری طرف نازل ہوا ہے وہ حق ہے اس کی طرح ہوسکتا ہے کہ جو اندھا ہے؟ سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں ۔ وہی لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو نہیں توڑتے اور جو لوگ ملاتے ہیںجس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضامندی کیلئے اور نماز کو قائم کیا اور خرچ کیا جو اللہ نے انہیں دیا تھا چھپ کر اور اعلانیہ اور برائی کے بدلے میں اچھائی کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کیلئے پیچھے کا گھر ہے۔ہمیشہ کیلئے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور جو ان کے اجداد میں اچھے ہوں گے اور ان کی ازواج اور اولاد بھی اور ملائکہ ہر دروازے پر ان کے ہاں داخل ہوں گے۔ (کہیں گے) تم پر سلام ہو جو تم نے صبر کیا اور کیا اچھا پچھلا گھر ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کے بندھن کے بعد اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کیلئے برا گھرہے”۔
سورہ الرعد کی ان آیات19سے25تک میں دو قسم کے افراد کا ذکر ہے۔ ایک وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو حق سمجھتے ہیں ۔ دوسرے وہ جس کو کھلے عام اندھا قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ ہیں جو صلہ رحمی کے پابند اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو صلح رحمی کو توڑتے ہیں۔ ایک طبقے کو حساب کی فکر ہے اور دوسرے طبقے کو حساب کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
یہ خوشخبری صرف آخرت کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ہے۔ عمران بن حصین نے فرمایا کہ” پہلے ہم سنت پر عمل کرتے تھے تو فرشتے راستوں میں ہم سے مصافحہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے قرآن کے نازل کردہ احکام اور سنت کی جب مخالفت دیکھی تو سب کچھ ہم سے چھن گیا۔(صحیح مسلم) حضرت عمران بن حصین نے دنیاوی کامیابیوں کو کایابی نہیں سمجھا بلکہ قرآن کے احکام اور سنت کی مخالفت کے غم میں زندگی گزار رہے تھے۔
حال ہی میں ایک پختون11سالہ بچی کا واقعہ ہوا تو اس پر ایک طرف بلوچستان کے پختون مردوں کیساتھ عورتوں نے بھی بندوق اٹھائی تو دوسری طرف پشاور کے صحافی حضرات کی آراء مختلف تھیں۔ ایک ہائی پروفائل کیس پر اتنے تضادات کی وجہ یہ تھی کہ پختونخواہ کے اس ایریا میں پرانی ویڈیوز بھی بنی ہیں جہاں پولیس نے بے غیرت مردوں اور عورتوں کو اقبال جرم بھی کروادیا تو دوسری طرف بلوچستان کے لوگوں کو اصل کرتوت کا پتہ نہیں ہے۔ ٹانک میں بھی بیٹنی قبائل کے سردار کا بڑاشاندار استقبال لوگوں نے کیا لیکن اگر ایک طرف یہ الزامات لگانے والے ہیں کہ حروم سعید کے والدین دوسری لڑکیوں کے بیچنے کا فراڈ کرتے تھے اور خود پھنس گئے اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا یقین ہے کہ بچی اغواء ہوئی تھی اور بازیاب کرنے پر اکثریت خوش ہے اور مظلوم والدین پر گھٹیا الزامات کے خلاف ہیں۔
جن لوگوں نے ایک طرف جھوٹ بولا یا سچ؟کہ فلاں لوگ ملوث ہیں اور پھر قتل کروانے کی کوشش کی اور پھر طعنے دئیے مگر پھر ان کے ساتھ مل کر لکھا کہ ”ہماری وحدت میں دراڑ پیدا نہیں ہوسکتی اور انگریزی میں بے نامی خط لکھا دیا”۔میرا دل کوہ سفید کا برفانی پہاڑ بن جاتا تب بھی اتنا ٹھنڈا نہیں ہوسکتا تھا جتنا اس بات پر ہوا کہ کون کس کو کس کے خلاف استعمال کررہاہے؟۔
نبیۖ نے سود کو70سے زیادہ گناہوں میں سے کم از کم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ دارالعلوم کراچی کا مؤقف چھپا ہوا موجود ہے کہ شادی بیاہ کے لین دین میں لفافہ سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور پھر علماء دیوبند کے متفقہ فتوے کے باوجود بھی عالمی سودی بینکاری کو زیادہ سود کیساتھ اسلام کے نام پر جواز فراہم کیا۔ ہمارے نکاح پر حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لکھنے والوں کو اللہ نے کس درجہ تذلیل کی پستیوں میں پہنچایا ؟۔ ہم تواس کا تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ اللہ اتنا مہرباں؟پھر کیا رکھوں اپنا گماں؟۔
دشمن میرے بہت ہیں کوئی ایک نہیں ہے
میں برا تو ان میں بھی کوئی نیک نہیں ہے
تیرہ افراد مہمانوں کے ساتھ ہوگئے شہید
کھاپی کے بھول جاؤ کوئی کیک نہیں ہے
جب رسول اللہ ۖ کی بعثت ہوئی تو ایرانیوں اور عربوں کی پہلی جنگ”ذی قار” ہوئی جس میں عربوں نے اتحاد کا بڑا مظاہرہ کرکے ایرانیوں کو شکست دی تھی۔ رسول اللہ ۖ کا اس میں دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن عربوں نے نبیۖ کی شہرت سن کر ”یا محمد یا منصور” کے نعرے لگائے تھے اور نبیۖ نے اس جنگ کو جیتنے کا کریڈٹ بھی لیا تھا کہ عربوں کی نبوت کی برکت سے فتح نصیب ہوئی اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ تعصبات کا نام نہیں تھا مگردنیا کی سپر طاقتوں کو مسلمانوں نے شکست دی۔
وزیرستان میں محسود اور وزیر کے علاوہ داوڑ اور برکی ہیں ۔ وزیروں کا قانون یہ ہے کہ دشمنی میں فیصلہ کرنے کے بعد پھر انتقام نہیں لیتے۔محسود وں کا قانون یہ ہے کہ کمزور طاقتور کے ساتھ وقتی طور پر صلح کرکے دیت لیتا ہے اور جب وقت آتا ہے تو پھر بدلہ اتارکر دیت واپس کردیتا ہے۔ ہمارا کانیگرم محسود قوم کیساتھ شامل ہے۔ کمزور نے طاقتور کیساتھ پریشر ڈالنے کے باوجود بھی صلح نہیں کی تو یہ کریڈٹ لوگ ہمیں دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے بدلتی ہوئی فضاؤں کو دیکھ کر طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ تیسرا یہ کہ بہت بعد میں مجھے یہ پتہ چلا کہ …
مفتی تقی عثمانی نے اس واقعہ کے بعد ہمارے خلاف اپنا فتویٰ فتاوی عثمانی جلد دوم2007ء میں چھاپ دیا تھا
اور پھر جب2022ء کو اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس کا پھر مجھے پتہ چلا۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مفتی تقی عثمانی اس درجہ بھی گرا ہوا ہوسکتا ہے ۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ غلیظ نے اپنی غلاظت کو اس طرح شائع کیا ہے تو طالبان کو دجال کا لشکر قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن سے کہتا کہ دجال سے بڑا دجال تو یہ دلا ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن خود بھی کم نہیں ہے اور جب ڈیرہ اسماعیل خان میںہمارے ساتھیوں کے پیچھے کسی اور کو آگے کیا تو مجھے الف سے ی تک سب پتہ تھا۔ نثار بھائی نے کہا کہ مولانا کے پاس جاتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ وہ سمجھے گا کہ مشکل میں سہارا لیا۔ پھر خلیفہ عبدالقیوم کے پاس گئے ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ اصل مولانا فضل الرحمن ہے اور ٹانک میں میری حمایت کرنے والے علماء کو ان کے بیانات دکھا کر دباؤ بھی ڈالا تھا اور پھر خلیفہ عبدالقیوم نے بھی اشارہ دیا۔
ضلع ٹانک کے تمام مذہبی جماعتوں کی قیادت سے تائیدملی تھی۔ اقبالنے ابلیس کا اپنی مجلس شوریٰ سے خطاب لکھ دیا:
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مرگیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق حق سے جدا یا عین ذات
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلمان کیلئے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات ومنات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے تا قیامت رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعرو تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپادے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتاہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
ہمارا مقصد ذاتیات نہیں بلکہ درست اقدار کا قیام ہے اور درست اقدار کے قیام کیلئے معروضی اور زمینی حقائق کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی کو سگی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا اور باپ کی منکوحہ بیویوں سے شادی کرنا غیرت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ مگر پہلے جو ہوچکا بیشک یہ فحاشی، غضب کاکام ،برا راستہ تھا”۔ قرآنی آیات اور نبیۖ کی سیرت طیبہ اس پر شاہد عدل ہیں۔ نبی ۖ نے جاہلیت کے سود اور قتل کا بدلہ لینے کو ختم کرنے کا آغاز اپنے خاندان سے کیا ۔ چھوٹی بڑی سطح کی اقدارغلط تو جرم مذاق اور مفاد پرستی بے غیرتی کی جگہ کمال بن جاتی ہے اوراس قسم کاDNAبہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس وائرس کے علاج کا آسان طریقہ ایک بہت بڑا اخلاقی آپریشن ہوتا ہے جس میں اس معاشرے کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد صحابہ کرام اور عربوں کی تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔
حاجی محمد عثمان پر آزمائش کے پہاڑ ٹوٹے تو منبر پر بیٹھ کر فرمایاکہ ایک مجذوب نے مجھ سے کہا کہ تیری صفائی ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ و اقمن الصلاة و اٰتین الزکوة و اطعن اللہ و رسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرًا O (سورہ احزاب آیت33)
”اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو اورپہلی جاہلیت کی طرح سے تبرج مت کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے گند کو دور کردے اور تمہاری اچھی طرح سے تطہیر کرے”۔
عورتیں پنج وقتہ نمازمسجد میں، لکڑیاں ، پانی ، رفع حاجت اورگند پھینکنے کیلئے روزانہ کی معمولات کے مطابق گھروں سے باہر نکلتی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں طواف اور سعی خواتین و حضرات شانہ بشانہ کرتے تھے اور تبرج جاہلیة کا مطلب واضح تھا کہ10اور بیشمار شوہروں اور اپنے کمزور شوہر کے مقابلے میں طاقتور خاندان یا اعلیٰ نسل کے لوگوں حمل کروانے ، خواہش پوری کرنے اور سکون کی تلاش میں گھروں سے نکلنا معمول تھا اور قرآن اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ لاترین ثدیکن اپنی حسن نساء مت دکھاؤ کی جگہ تبرج کے الفاظ کو استعمال کیا اور مخاطب عرب کی دوسری خواتین کی جگہ امہات المؤمنین ہی کو کیا ،جس طرح نبیۖ کو مخاطب کرکے اللہ نے جگہ جگہ وعیدوں کا ذکر کیا لیکن اصل مخاطب قیامت تک آنے والے ہیں۔
حضرت مریم علیہا السلام کی عزت پر بات آئی تو قرآن نے
والتی احصنت فرجھا فنفخنا من روحنا و جعلنٰھا وابنھا اٰیة للعٰلمین O
” اور وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس بیٹے کو تمام جہانوں کیلئے نشانہ بنایا ” (الانبیائ:91) میں اسی انداز میں صاف صاف الفاظ کے اندر بچایا بھی ہے۔
یہ آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے فاطمہ، حسن، حسین،علی پر چادر تھان لی اور پھر فرمایا: اللھم ھولاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیرًا۔ ” اے انکے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،پس ان سے گند کو دور کردے ۔اور ان کو اچھی طرح سے پاک کردے”۔ ام سلمہ نے عرض کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ (یعنی اس دعا میں شامل ہوں) نبیۖ نے فرمایا کہ انت علی مکانتک وانت الی خیر۔ تیرا مرتبہ اپنی جگہ پر ہے ۔تیری میری طرف نسبت زیادہ بہتر ہے”۔
میرے بھتیجے پیر عبدالصمد شاہ کا آدھا مجذوب بیٹا محسن جب چھوٹا تھا تو میں نے جٹہ قلعہ کے اڈے پر ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ لایا۔ اس کے دماغ میں ہوگا کہ کبوتر، خرگوش یا مرغی دے رہا ہوگا لیکن جب سکول کے گیٹ کی طرف احساس ہوا تو پوچھا کہ کہاں لے جارہے ہو؟۔ میں نے کہا کہ سکول میں تو فوراً وہ رونا شروع ہوا ،میں نے بھی فوراً چھوڑ دیا کہ جاؤ۔
ام المؤمنین حضرت سلمہ یہ جان بھی لیتی کہ اہل بیت کیلئے کیا آزمائش کی دعا مانگی جارہی ہے تو آپ نے انکار نہیں کرنا تھا لیکن نبیۖ کے ساتھ جن سختیوں سے وہ گزری تھیں تو مزید آزمائشوں کی ضرورت نہیں تھی اسلئے نبیۖ نے فرمایا کہ اس آیت کی پہلی مصداق تو آپ خود بہتر جگہ پر ہیں۔ شیعہ سنی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی حلوہ بٹ رہاتھا کہ کس اہل بیت کو ملے ؟۔
ماں عائشہ نے پہلے بھی آزمائش کا سامنا کیا اور بعد میں بھی لیکن حضرت فاطمہ، حسن ، حسیناور علی کو دعا نے شامل کردیا۔
ہراساں ہراساں جو ہیں اندھیروں کی شدتیں
پھلوں کو مٹھاس بخش دیں روشنیوں کی حدتیں
قرآن کی ٹھوس آیات خلفاء راشدین کے فیصلے
حلالہ کی لعنت رہے گی اور نہ کوئی بدعتیں
ظلم کی حکمرانی رہے نہ فرقہ پرستی کی فراوانی
کافر و مرتد کے فتوے رہیں گے نہ کوئی ردتیں
میرے ننھیال والے آزمائش کے شکار ہوئے بلکہ کچھ زیادہ اسلئے کہ حسینی ہیں؟۔ مجھے اپنی والدہ اپنے والد سے زیادہ پیاری تھی لیکن سوالات کے جوابات بنتے ہیں۔ یہ سب انکے اپنے ہاتھوں کی کمائی ثابت کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز ۔ لالچ و عزت دونوں کشتی کا ایک سوار ہو تو ایک کشتی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ تھانہ پولیس،عدالت اور پشتو خالوت جرگہ سے بہتر صفائی کے طریقہ کار دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہے۔ الزام کی تردید اور اٹھنے والے معقول سوال کا تسلی بخش جواب ہے۔خدا کی لاٹھی بے آواز اور پکڑ سخت ہے،آزمائش اعزاز اور ذلت وبال ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv