پوسٹ تلاش کریں

حاجی ترنگ زئی مجاہد کا تعارف

برصغیر کی تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد، روحانی پیشوا اور دینی شخصیت سید فضل واحد المعروف حاجی صاحب ترنگزئی کی ولادت1846میں چارسدہ کے تاریخی گاؤں ترنگزئی میں ہوئی، جبکہ1937میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ ایک معزز حسینی سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس کے بزرگ دینِ اسلام کی اشاعت، روحانی تربیت اور جہادِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ۔

حاجی صاحب ترنگزئی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ترنگزئی میں اپنے وقت کے معروف عالم مولانا ابوبکر اخوندزادہ سے حاصل کی، بعد ازاں مزید دینی تعلیم کیلئے پشاور کے علاقہ تہکال میں قائم مدرسہ میں داخلہ لیا، جہاں تقریباً8سال تک دینی علوم، فارسی اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ اسی دوران افغانستان، پختونخوا اور برصغیر کے ممتاز علماء سے ملاقاتوں نے ان کی شخصیت کو مزید نکھارا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ واپس اپنے آبائی گاں ترنگزئی آئے، جہاں لوگ آپ کو آپ کے بلند اخلاق، دینداری اور سید گھرانے سے تعلق کی وجہ سے احتراماً پیر صاحب اور بادشاہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد خصوصا پیر بہاوالدین المعروف نوموڑے بابا وقت کے بزرگ، ولی کامل اور مجاہد سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے اس خطے میں دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔حاجی صاحب ترنگزئی نے روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس کیلئے افغانستان کے مشہور بزرگ مولانا نجم الدین المعروف ہڈہ ملا صاحب سے بیعت کی، جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔

1877 میں آپ دینی علوم اور تحریکِ آزادی کے مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے، جہاں آپ کی ملاقات شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور دیگر جید علما سے ہوئی۔ آپ کی شخصیت، اخلاص اور پشتون طلبہ میں عزت و احترام نے علما دیوبند کو متاثر کیا۔ اسی سال آپ نے نامور علما کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، جس میں برصغیر کی آزادی کے حوالے سے اہم مشاورت بھی ہوئی۔حاجی صاحب ترنگزئی نے زندگی دینِ اسلام، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم، اور انگریز استعمار کے خلاف جدوجہد میں صرف کی۔ آپ کے خاندان نے بھی تحریکِ آزادی میں بے مثال قربانیاں دیں۔ آپ کے والد اور دادا بھی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

1896 میں آپ نے اپنے بھائی کے ہمراہ دوبارہ حج بیت اللہ کا سفر اختیار کیا، جو افغانستان، ایران اور عراق کے راستے پائے پیادہ طے کیا گیا۔ واپسی پر اہلِ بیت اطہار اور شہدائے کربلا کی زیارت کے دوران آپ کے بھائی جدا ہوگئے، جن کا بعد میں کوئی سراغ نہ مل سکا۔حاجی صاحب ترنگزئی نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے بلکہ ایک روحانی پیشوا، مصلح، معلم اور قوم کے حقیقی رہنما بھی تھے۔ ان کی زندگی قربانی، استقامت اور دین و ملت کی خدمت کی روشن مثال ہے۔حاجی صاحب کا مزار ضلع مہمند کی تحصیل صافی میں واقع ہے۔ جو گندھاب باجوڑ شاہراہ کے قریب، لکڑو بازار سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔ حاجی صاحب ترنگزئی سید فضل واحد انتقال1937میں ہوا تھا اور انہیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
ــــــــــ

قائد ملت کو کیوں قتل کیا تھا؟

قائد ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کے بیٹے نے نیا شوشا چھوڑ دیا:1951میں لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کرنے والے افغان مہاجر سید اکبر کے بیٹے نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں متعدد دعوے کئے ہیں سید اکبر کے بیٹے پی ایچ ڈی ڈاکٹر فاروق ببرک جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور عرصہ دراز تک درس و تدریس کے پیشے سے منسلک رہے ہیں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سید اکبر محمد بن قاسم اور جمال الدین افغانی کو اپنا ہیرو مانتا تھا علامہ اقبال کی شاعری سے متاثر تھا اور کشمیر کی آزادی کا خواہشمند یا متوالا تھا ، جب لیاقت علی خان نے فوج کو کشمیر میں سرنڈر کرنے پر مجبور کیا تو فوج کی اعلی صفوں میں انکے خلاف بغاوت کی ابتدا ہوئی ، کشمیر کی آزادی کیلئے متحرک میجر خورشید انور نے سید اکبر کو لیاقت علی خان کے قتل کیلئے آمادہ کیا اور بدلے میں انکی حفاظت اور مستقبل میں اہم عہدہ دینے کا لالچ دیا ، ایک ان پڑھ اور اجڈ شخص سید اکبر اس لالچ میں آگیا کہ وہ بھی بڑا لیڈر بنے گا ، چنانچہ اس نے یہ کام سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا ، لیکن اس کام کا نتیجہ اس کے حق میں اچھا نہ نکلا اور لیاقت علی خان پر گولیاں چلانے کے بعد اسکو وہاں پکڑ لیا گیا اور ایک پولیس افسر نے اس کا کام تمام کردیا ۔۔۔ (نوٹ: یہ دعوی سید اکبر کے بیٹے فاروق ببرک کا ہے ، جو امریکہ میں قیام پذیر ہیں )۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی کے غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات

قبائلی صحافی۔میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی نے ڈی سی کمپانڈ میںADFفنڈ کے تحت ہونے والی مبینہ غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :تقریباً60سے زائد نان لوکل جونیئر کلرک اور کلاس فور ملازمین گزشتہ تقریبا20سالوں سے مقامی قوم کے حقوق پر قابض ہیں۔ یہ محسود نوجوانوں سے کھلی ناانصافی، محرومی اور حق تلفی ہے۔ شاہ فیصل غازی کے مطابق بعض ایسے افراد بھی ہیں جو ریٹائرمنٹ کے باوجود آج بھیADFفنڈ سے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مقامی وسائل اور سرکاری ملازمتوں پر غیر مقامی افراد کا قبضہ نہ صرف میرٹ بلکہ انصاف کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والی نسلیں بھی اسی محرومی اور بے روزگاری کا شکار رہیں گی۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ حکام اورMPAآصف محسود سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، غیر قانونی بھرتیوں اور تنخواہوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور مقامی نوجوانوں کے حقوق بحال کیے جائیں۔ قوم کے مشران، نوجوانوں اور باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں اور اپنے حق، انصاف اور مستقبل کیلئے آواز بلند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کو باقاعدہ تحریری درخواست بھی جمع کروائی جائے گی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

”دو ندیاں” جہاں امام مہدی کی جگہ ہے

اس عربی چینل نے گویا وزیرستان کے مختلف مقامات سے ڈرون کے ذریعے تصاویر لی ہیں۔ وزیرستان کے اونچے پہاڑ کا نام ”پیر غر(پریغال)” یعنی ” پیرکا پہاڑ” ہے۔
کراچی میں ”دو دریا ” سمندر جہاں ملیر اور لیاری ندی کا ملاپ تھا۔ سمندر، دریا، ندی اور نالے کو عربی میں بحر کہتے ہیں۔

مرج البحرین یلتقیٰنOبینھما برزخ لایبغیٰن O

”اس نے دو سمندر ملادئیے جو تسلسل سے ملتے ہیں ،ان میں برزخ ہے ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے”۔ الرحمن19،20

آیت کا آئینہ:

کراچی میں مہاجر ، سندھی، پختون، پنجابی، بلوچ وغیرہ ایکدوسرے کو نیست ونابود کرنا چھوڑ دیں۔ پاکستان کی قومی زبان کا سب سے بڑا شہر کراچی لیاری و ملیر ندی کے برزخ میں ہے۔ یہ پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور انقلاب کا بھی دارالخلافہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارا کانیگرم شہر بھی دو ندیوں کے درمیان میں ہے اور گومل کا مکان بھی دو نالوں ہی کے درمیان میں ہے جہاں دہشتگردوں نے13افراد کو شہید کیا تھا۔جٹہ قلعہ بھی دو نالوں کے درمیان تھا۔ پنجاب پانچ دریاؤں کا نقشہ بھی دریاؤں اور نہروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ستلج، راوی، چناب ، جہلم اوردریائے سندھ۔نہروں کا الگ سلسلہ۔

سورہ فرقان انقلاب کا آئینہ
ارایت من اتخذ الھہ ھواہ افانت تکون علیہ وکیلاO

” کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنارکھا ہے کیا آپ اس پر وکیل ہیں” ۔

سورہ فرقان کی یہ آیت43واضح کرتی ہے کہ مسلمان اپنے نفسانی خواہش کو اپنا معبود نہیں بناسکتا ہے۔16صفحات کے چھوٹے سے رسالہ ”دعوت فکر” کی تحریر میں نے اپنے ساتھی کو سنائی تو میرے والد پیر مقیم شاہ نے سن لی اور گھر میں بہت خوشی کا اظہار کیا کہ یہ دنیا کو ہلاکر رکھ دے گا۔ اس میں نفسانی خواہش کو معبود بنانے پر بات تھی اور ڈاکٹر اسرار احمد کے ہاں عالمی خلافت کانفرنس میں یہی بات میں نے کی تھی۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن کو قصے کہانیوں کی کتاب سمجھتے ہیں۔ قرآن آئینہ ہے جہاں سے ہم اپنا اور اپنے مخالفین کا چہرہ سب کو دکھا سکتے ہیں۔ اس آئینہ میںہر ایک اپنی شکل دیکھ سکتاہے۔

فلا تطع الکافرین و جاھدھم بہ جھادًا کبیرًاOوھوالذی مرج البحرین ھٰذا عذب فرات و ھٰذا ملح اُجاج و جعل بینھما برزخًا و حجرًا محجورًاOو ھوالذی خلق من الماء بشرًا فجعلہ نسبًا و صھرًا وکان ربک قدیرًاOو یعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم و لایضرھم و کان الکافر علی ربہ ظھیرًاOو ما ارسلناک الا مبشرًا و نذیرًاOقل مااسالکم علیہ من اجرٍ الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلًاOوتوکل علی الحی الذی لا یموت و سبح بحمدہ و کفٰی بہ بذنوب عبادہ خبیرًاOالذی خلق السماوات والارض و مابینھما فی ستة ایامٍ ثم استوی علی العرش الرحمٰن فاسال بہ خبیرًاO

ترجمہ :”اور کافروں کی اطاعت مت کرو۔اور ان کیساتھ جہاد کرو بہت بڑا جہاد۔ وہی جس نے بحروں کو ملادیا ۔یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھارا کڑوا ہے۔ اور ان کے درمیان برزخ اور مبہوت العقل آڑہے۔ وہ اللہ جس نے پانی سے بشر کو بنادیا اور اس کیلئے نسب اور دامادی کا رشتہ قائم کیااور تیرا رب قادر ہے۔ اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے علاوہ جو ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور کافر نے اپنے رب کو پشت پھیری ہوئی ہے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس پرکوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر کہ جو چاہے کہ اس کے ذریعے رب تک پہنچنے کی راہ اپنائے اور توکل کرے زندہ پر جو مرتا نہیں ہے اور اس کی پاکی بیان کرو اس کی تعریف کیساتھ، وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے کیلئے کافی ہے۔ اس نے آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تخلیق کی چھ دنوں میں پھر عرش پر استواء کیا ۔رحمن کا اس سے پوچھ جو اس کی خبر رکھتا ہے۔(فرقان:52تا59)

ان آیات میں جہاد کبیر کا ذکر ہے اور بشر کو پانی سے پیدا کیا اور ماں باپ کے نطفہ امشاج کے درمیان بھی ملاپ، کشمکش اور حد سے تجاوز نہ کرنے کا ایک نمونہ ہوتا ہے جس کو آج کا سائنس تسلیم کرتاہے۔ نسب اور دامادی کے رشتے کا سلسلہ عرب میں اسماعیل کے بعد قریش اور بنوخزاعہ کے درمیان بھی چلا۔ قریش کو ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد سے بے دخل کیا گیا تھا۔پھر بنوخزاعہ سے دامادی کے رشتے کے سبب واپس آگئے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انقلابی بننا تھا اور غلطی سے قبطی کو قتل کیا تھا تو دامادی کے رشتے سے ٹھکانہ مل گیا تھا۔

میرے ننھیال کے جداعلیٰ سید سبحان شاہ کا تعلق ٹانک سے تھا اور اس کا ایک بیٹا کانیگرم کے خان سید دل بند شاہ کا داماد تھا اور تین بیٹے میرے پردادا سید حسن شاہ کے داماد تھے۔ میرے سوتیلے ماموں محمود شاہ کی ماںسیداکبر کی بیٹی تھی جس نے اپنی ماں و نانی کے توسط سے خانی کے حصول کیلئے اپنی جعلی شناخت یوسف خیل بادین زئی محسودکے جعلی کزن سفیان خیل سے بنائی اور جب سیداکبر اور صنوبر شاہ نے انگریز کیلئے قتل کئے تو اپنے سسر اور بھائیوں سید دل بند شاہ، مظفر شاہ اور منور شاہ کو جرگہ میں بھیج دیا جہاں وہ قتل کردئیے گئے اسلئے کہ وزیر وں کے7افراد شہید کروائے تھے جن میں دو خاص انقلابی شامل تھے۔

صنوبر شاہ کے قتل کو دوسرا رنگ دیا گیااور ممکنہ طور پر کرائے کے محسود قاتل سے بدلہ لینے کیلئے محسود عورت سے شادی کرکے اس کو جھوٹا الزام لگاکر قتل کیا گیا اورپھر اس کے بدلے میں محمود شاہ کو بھی قتل کردیا گیا۔ سبحان شاہ کا شجرہ سیدکبیر سے ملتا تو پھر اس کے بیٹوں کی قبریں کیوں دوسری جگہ ہوتیں؟۔ قبروں اور شناخت کے پیچھے ایک دشمنی کا مسئلہ تھا اور دوسرا خانی پر قبضے کا۔ پھر مظفر شاہ کے4بیٹوں کو جائیداد کا آدھے سے بھی چار بیٹیوں کی طرح2افراد پر شمار کرنا اور صنوبر شاہ کے3بیٹے کو3پر شمار کرنا دو ا پنجہ کی تقسیم تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ پھر بعد میں بھی ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔گدھا نمک کی کان میں نمک بنتا ہے لیکن سبحان شاہ کے بیٹوں سے نسل در نسل سسر اور دمادی کے رشتوں کا سلسلہ بعد کی نسلوں میں بھی ماشاء اللہ جاری ہے۔

شہر یار اور اسفندیار قاتل بھیجتے ہیں یا ان کو فرنٹ لائن کے طور پر ٹریک ریکارڈ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے پھر مجھ پر زور پر پڑتا ہے کہ واقعہ میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی بات اپنی جگہ لیکن قاتل بھیجنا ہی شوٹ کرنے کیلئے کافی ہے لیکن پہلے اجداد نے ان کے اجداد کو پالا تھا اور ان کی اولاد پھر ہمارے ذمہ لگ جائے تو فائدہ کیا؟۔ عربی میں حجر عقل کو کہتے ہیں اور محجور عقل سے پیدل معذور کو کہتے ہیں۔ حجر محجورًا کے معنی اس آیت میں کم عقلی اور دامادی کے امتزاج کی وجہ سے چھوڑنے کے بنتے ہیں۔ لیکن انقلاب کی آمد کے بعد یا قیامت میں پھر یہ رعایت نہیں چلتی۔ چنانچہ آیت22الفرقان میں اس مجرم کے چیخ وپکار کا ذکر ہے کہ وہ رعایت مانگے گا کہ ذہنی معذور قرار دیا جائے۔ دنیا بھر کے سمندروں، دریاؤں ، ندی اور نالوں سے لیکر نطفہ امشاج سے بننے والی نسلوں تک کا وسیع آئینہ قرآن کی آیات میں فوکس کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ مرج البحرین دونوں کا آمنا سامنا اور یلتقیان جھگڑنے کے معنی میں بھی آتے ہیں اور لایبغیان اپنی حدوں سے تجاوز نہیں کرتے۔

دوالگ الگ نسب کے لوگوں میںرشتہ دار ی کے باوجود بھی نوک جھونک رہتی ہے لڑائی جھگڑے اور قتال تک ہوتا ہے لیکن پھر بھی رشتہ داری کا لحاظ رکھ کر ایک حد سے تجاوز نہیں کرتے۔

مولوی کہتا ہے کہ حضرت علی سے یہودی نے کہا کہ آپ کی داڑھی گھنی ہے میری ہلکی تو اس کا قرآن میں کہاں ذکر ہے تو علی نے جواب دیا کہ ”قرآن ہے کہ خبیث کم سبزہ اگاتا ہے ، طیب زیادہ”۔ لیکن ایک صحابی کا ایک بال تھا اور چین، کوریا،تائیوان وغیرہ کی داڑھیاں نہیں ہوتی ہیں تو اس کی زد سب پر پڑتی ؟۔

اللہ نے فرمایا:” اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ تم پر سلام ہو ، ہم نہیں چاہتے جاہلوں کو۔ بیشک آپ جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کے ساتھ ہدایت پر چلے تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیا جائے گا۔ اور کیا ہم نے انہیں حرم میں نہیں بسایا جو امن کی جگہ ہے؟ جہاں ہر طرف سے پھل پہنچتے ہیں ہر چیز کے روزی کے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ”۔ (سورہ القصص:55تا57)

حضرت ابوطالب کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے کہ وہ اس خوف سے نبیۖ کی اتباع نہ کرتے کہ اچک لئے جائیں گے؟۔ لیکن آیات کو بغیر سیاق وسباق کے گدھوں نے ان پر ہی فٹ کردیا ہے۔ جب1987ء میں نے جٹہ قلعہ سے سارےTVنکلوادئیے تو ماموں غیاث الدین نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی کی نماز نہیں ہوتی اسلئے کہ لالچ میں ائمہ نماز پڑھاتے ہیں لیکن میرا بھانجا اللہ کیلئے پڑھاتا ہے اسلئے ہماری نماز ہوتی ہے لیکن جب1991ء میں خلافت کے قیام اور نظام کی تبدیلی کی محنت شروع کی تو مجھے جیل میں بند کرادیا کہ لوگ ہمیں نیست و نابود کردیں گے۔ خالد بن ولید کے والد بنی اسرائیل تھے لیکن جعلی قریشی بن گئے تھے۔اسکو خدشہ ہوسکتا تھا کہ اگر نبیۖ کی اتباع کی تو ہمیں لوگ اچک لیں گے۔ ابوطالب نے نبیۖ کی سرپرستی کا کردار ادا کیا۔

میرے والد نے محسودقوم کو جواب دیا کہ برکی اور محسود کے درمیان تمہاری ثالثی نہیں مانتے ۔ ایک محسود نے پیرمبارک شاہ کے پاگل بیٹے کو رشتہ دینے سے انکار کیا تو میرے والد نے گالی دیکر کہا کہ رشتہ دینا پڑے گا لیکن یہ اپنی عزت پر بھروسہ تھا۔ دوسری طرف میرے بھانجے کیلئے اٹکل پچھو کرکے اس طرح سے رشتہ لیا گیا کہ بھائیوں کی آپس میں ناچاکی کرادی اور ہم اس مصیبت میں پھنس گئے کہ غیرت کے نام پر کون ہمیں پیچھے سے قتل کرواسکتا ہے۔

معروضی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو پھر سورہ فرقان، سورہ رحمان، سورہ واقعہ ، سورہ الزمر، سورہ ص ،سورہ الدھر اوردیگر سورتوں کے معانی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ کانیگرم کی تاریخ بھی دو ندیوں کے درمیان وہ برزخ ہے جس میں بڑے حقائق ہیں ۔ جٹہ قلعہ ، وزیرستان اور ہمارے گھر کے واقعہ کے پیچھے چھپے حقائق بھی کھل سکتے ہیں اور ٹانک زام اور گومل زام کے درمیان کا علاقہ بھی انقلاب کیلئے حقائق رکھتا ہے۔ سورہ سبا کی تفسیر میں باعدبین اسفارنا شجرہ نسب کی تبدیلی، سیل العرم دہشتگردی کی لہراور اثل کریر کے پھل کی وضاحت بریک تھرو تھا۔ خیر الکلام ماقل ودل بہترین کلام جو کم ہو اور دلالت کرے ۔قرآن ہر چیز کو واضح کرتا ہے نطفہ امشاج کے قطروں اور سمندر وں اور نسلوں تک ۔ہاہاہا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان
اور ہندوستان میں بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں

انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان

آئین کی بات کرینگے تو آئینی راستہ اختیار کرینگے۔ قانون کی بات کرینگے تو قانونی راستہ اختیار کرینگے۔ جمہوریت کی تو جمہوریت کا راستہ اختیار کرینگے۔ شرافت کی تو شرافت کا راستہ اختیار کریں گے۔ ہاں! اگر وہ اس ملک میں بدمعاشی کرینگے، تو ہم نے انگریز کی بدمعاشی نہیں مانی، تیرے باپ کی بدمعاشی نہیں تو تو کون ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ بدمعاشی کرے۔ بات بالکل ختم ہے جی۔ جو حکومت ملک میں امن قائم نہیں کر سکتی، اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہاں پر آ کے حکمرانی کرے گی؟ یہ کوئی ہمارے جاگیردار ہیں؟ ہم انکے ہاری ہیں ۔اس ملک کے حاکم ہیں اور جو حکومت آپ کو قوم کو تحفظ نہیں دے سکتی اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس ملک پہ حکمرانی کرے۔ اور اب تو بالکل بات کھل کے سامنے آئی ہے۔ باہر والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ کراچی کے مسئلے کا کیا حل ہوگا؟ بھائی کراچی کا مسئلہ سیاسی ہے اور سیاسی مسئلے کا حل سیاسی ہونا چاہیے۔

اگر سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کریں گے، تو ایک تجربہ اس کے باپ (بھٹو) نے کیا تھا جی۔ہم نے مشرقی پاکستان کے سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ اپنا ملک ہم نے توڑا اور اپنے فوج کو ذلیل کروایا۔ ایک لاکھ فوجی ہم نے ہندوستان کے قید میں دیے ۔ اب بھی ہم یہ کہتے ہیں ڈھائی سال تک سندھ فوج کے تحویل میں رہا ہے ۔ ہم یہی کہتے رہے کہ یہ فوج پیپلز پارٹی کی نہیں پاکستان کی فوج ہے ۔ ڈھائی سال سے ہم کہتے رہے کہ سیاسی حل ڈھونڈو ، فوجی حل سے مسئلہ نہیں حل ہوگا۔ فوج کو تنخواہ بینظیر بی بی نہیں دے رہی، یہ کوئی شخصی ذاتی نوکر زرداری صاحب کے نہیں ہے ۔ ان کو پیپلز پارٹی کو کہنا چاہیے کہ تم اپنا سیاسی جنگ خود لڑو، پاکستان کے فوج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ان کے جا کے سیاسی پالیسیوں کو جا کے وہ دفاع کرے اور اس کے لیے لڑے۔

اب بھی ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ فوج سے، رینجرز ، پولیس، تشدد ، گولی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی کے عوام کی نمائندگی کون کرتا ہے ؟ پیپلز پارٹی کرتی ہے؟ نہیں!مسلم لیگ کرتی ہے؟ نہیں!اے این پی کرتی ہے؟ نہیں! تو کراچی کے عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم ہے ۔ کچھ بھی ہوں ان کی اپنی پالیسی مگر جب تک ایم کیو ایم کو نہیں بٹھائیں گے، ان سے سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیاسی عمل میں شریک نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بات بالکل واضح ہے ۔

ایک دفعہ میں پنڈی پریس کلب میں گیا تو ایک صحافی نے کہاکہ ایک بہت ہی ایک عجیب مسئلہ اٹھا…

ضیا الحق نے بلایا اور کہا کہ بھائی اسلام میں کوئی اپوزیشن کی پارٹی نہیں کوئی حزب اختلاف نہیں صرف حزب اللہ ہے۔ اپوزیشن غیر اسلامی حرکت ہے، تو میں نے ہنس کے کہا کہ جنرل صاحب سے آج کل ہمارے ذرا تعلقات کشیدہ ہیں وہ مل نہیں رہے اور نہ ہمیں کوئی ارادہ ہے ان کے پاس جانے کا مگر خالص اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم بھی خالص اسلامی بات کریں گے۔ ایک امیر المومنین کا لڑکا یزید۔ دوسرے امیر المومنین کے صاحبزادے کا نام تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔ تو جنرل صاحب سے پوچھیں کہ یزید نے خلافت کا دعوی کیا تو حسین نے بیعت کی کہ نہیں کی؟ ۔ ایک جوان نے کہا سر داد نہ داد دست در دست یزید۔ حسین نے تو اپنا سر دیا مگر اس کی بیعت نہیں کی۔ میں نے کہا جزاک اللہ تو جا ؤکہو ضیا الحق کو کہ ہمت ہے کہ کہے کہ حضرت حسین نے جو کردار ادا کیا وہ غیر اسلامی ہے جی؟ ۔ اور اگر وہ غیر اسلامی نہیں ہے تو اس کو کہو…یہ ہمارا سر کسی آمر کے سامنے نہیں جھکا۔ تم لگے رہو تم سنت یزیدیہ ادا کرو اور انشا اللہ ہم سنت حسینیہ ادا کر کے مقابلے میں لڑیں گے۔ تو یہ جو اس طریقے سے بات کرنی تھی، ہمیں کیا پتا، ہمیں نہ پرمٹ چاہیے نہ لائسنس چاہیے نہ وزارت چاہیے نہ صدارت چاہیے۔

ہمارے صوبے میں پیپلز پارٹی کی ایز اے پولیٹیکل پارٹی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ ایک صحافی نے کہا کہ یہ ممبر بک رہے ہیں یہ جو آفتاب خان ممبر خرید رہے ہیں تو آپ صابر شاہ کو بھی کہیں کہ وہ بھی ممبر خریدے۔ میں نے کہا جی ممبر تو وہ خرید لے گا مگر اسے ایک تکلیف ہے، مسلمان ہے پیر ہے پیر زادہ ہے جی۔ اس نے کہا جی وہ کہتا ہے کہ اب تو خریدنے سے ذرا بات آگے نکل گئی ہے ۔ میں نے کہا وہ کہتا ہے میں وزیر بنا لوں گا، محکمہ دے دوں گا، گاڑی دے دوں گا، جھنڈا بھی دے دوں گا، بنگلہ بھی دے دوں گا، چلو تمہاری بات صحیح پیسہ بھی دے دوں گا۔ مگر میں کہتا ہوں اس ملک میں ایک خاتون ہے جو سچ بولتی ہے اور اس کا نام ہے نصرت بھٹو۔ اس نے کہا ہے کہ ہمارے جو پختونخواہ کے ممبر اغوا کر کے کراچی لائے تھے، میں نہیں کہہ رہا، اجمل صاحب نہیں کہہ رہے، حاجی صاحب نہیں کہہ رہے۔ نصرت بھٹو کہتی ہے کہ ان ممبروں کو انہوں نے شراب کا انتظام کیا تھا اور ان کو لڑکیاں سپلائی کی تھیں۔ تو میں نے اس کو کہا…

اس صحافی کو میں نے کہا جی وہ پیسہ بھی دے دے گا، محکمہ بھی دے گا، اگر تم ٹھیکہ لیتے ہو یہ لڑکیوں اور شراب کا تو میں ان سے بات کر لوں ۔

آپ خود اندازہ لگائیں اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو علما ء کرام کہتے ہیں جی۔ وہ ایسے معاشرے میں ایسی حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں جی۔ کیا کیا بات کہیں۔ ایک صاحب اٹھے جلسے میں کہاکہ خارجہ پالیسی میں یہ کمی ہے یہ خرابی ہے ۔ میں نے کہا جی دیکھئے وہ پرانی باتیں چھوڑیں۔ اب انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ میں نے کہا دیکھئے نواز شریف وزیراعظم نے بینظیر صاحبہ کو خارجہ امور کی کمیٹی حوالہ کی کہ تعلیم یافتہ ہیں، دنیا میں شناخت ہے ، باہر سے تعلیم حاصل کر کے آئی ہیں، تجربہ رکھتی ہیں، جب بینظیر خود آئی، تو اس نے مولانا فضل الرحمن کو خارجہ پالیسی…تو اور کیا چاہیے تو انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ مذاق ہے کہ نہیں ملک کیساتھ ؟…

ایسے آدمی کو وزارت خارجہ سونپ دو جوسکول بھی نہیں گئے اور جو اسلام کیساتھ ہو رہا ہے ۔

اقبال احمد خان اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہو گئے، کچھ تو خدا کا خوف کریں کیا ہو رہا ہے اس ملک میں ۔ ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ہمارے علما کرام جو اپنے آپ کو کہتے ہیں آرام سے بیٹھے کہتے ہیں حلوہ کھلا ؤجائے بھاڑ میں ملک بھی جائے اور اسلام بھی جائے۔ اس لیے اب یہ ذمہ داری آپ کی بنتی ہے ، قوم کی بنتی ہے ۔ کیونکہ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو ہم آپ کو اپنے کام کے لیے نہیں کہتے، خود سوچیں ان باتوں پہ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کو جو راستہ دکھائیں گے، وہ آبادی کا راستہ ہے، وہ امن کا راستہ ہے، اس ملک میں بھائی چارے کا راستہ ہے ۔

ایک دوسری ویڈیو سے مختصر اقتباسات ….ملاحظہ کریں۔

باچا خان نے انیسویں صدی کے آخری عشرے میں جنم لیا اور پیدا ہوئے۔ اس وقت کے حالات، اس علاقے کے سیاسی حالات یا سیاسی ماحول، قومی ماحول، عوامی ماحول اور مذہبی ماحول، اگر دیکھا جائے تو ہم اندازہ کر سکیں کہ باچا خان کے سامنے کونسی مشکلات تھیں۔ انگریز حاکم تھا ۔ درانی اور سکھوں کا دور ختم ہو چکا تھا ۔ افغانستان پہ انگریز اپنی حکمرانی قائم کرنے میں دو مرتبہ شکست کھا کے واپس آیا تھا اور امیر عبدالرحمن خان کو وہاں تخت پہ بٹھایا اور افغانستان کو اس نے ایک بفر اسٹیٹ کی حیثیت دی۔ اس سے پہلے سردار یعقوب خان سے اس نے جو معاہدہ ”گندمک”کے نام سے کیا تھا، جس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا، جس کی طرف کافی اشارہ ہوا ہے مقالوں میںیہ علاقے ان سے چھین کے انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے۔دلچسپی یہ تھی کہ کس طرح پر وہ زارِ روس کی اس پالیسی کو روکے جس سے وہ وسطی ایشیا میں آیا تھا۔ اس کی وہ پیش بندی کرے۔ تو اس لیے یہ درے جو افغانستان کی طرف جاتے ہیں، جیسے میرے بھائی محمود خان نے ابھی کہا کہ پختونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ کچھ حصہ افغانستان ، کچھ بلوچستان، کچھ ”یاغستان”اورکچھ ایجنسیوں کے نام اور قبائلی علاقے کے نام سے آئے، کچھ کو، کچھ حصوں کو انہوں نے ریاستوں میں تبدیل کیا اور کچھ باقی انہوں نے اپنے زیرِ اثر یہاں پر صوبہ سرحد کے نام سے ہندوستان کے ساتھ ملا لیے ۔

اس طرح سے انہوں نے اس پورے خطے کو…کیونکہ انگریز چلا تھا کلکتہ سے اور100سال کی حکمرانی کے بعد پہلی مرتبہ اس کو شکست اس سرزمین پہ ہوئی جس کو آج پختونوں کی سرزمین یا افغانستان کہا جاتا ہے ۔ اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کی قوت کو وہ زائل کرے اور زائل کرنے کا کوئی طریقہ ان کے پاس تھا ہی نہیں ماسوائے اسکے کہ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور پھر ٹکڑے بھی کیسے ، پچھلی صدی اس وقت تک پوری پالیسی کا محور ایک ہی تھا کہ روس کا راستہ روکا جائے ۔ اس وقت زارِ روس کی بات تھی، وہاں انقلاب نہیں آیا تھا مگر اس کی پیش قدمی روکنے کیلئے یہ سارے درے جو جتنے بھی ہیں، ہمارے راستے جو افغانستان کی طرف سے جاتے ہیں، یہ انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے اور آپ کو سن کے حیرت ہوگی کہ آپس میں ان کا کوئی طریقہ، تسلسل نہیں اور رابطہ نہیں رہا۔ ایک ریل درگئی تک مالاکنڈ درے کی طرف، دوسری لنڈی کوتل کی طرف ، تیسری ٹل کوہاٹ کے راستے سے اور چوتھی ٹانک کے راستے سے، مگر آپس میں ان کا کوئی رابطہ نہیں۔ کوشش ان کی یہ تھی کہ ان کو بانٹا جائے تاکہ ان کا رابطہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہے اور ایک ایجنسی کا دوسری ایجنسی کیساتھ۔یہ حکومتِ وقت کی اس وقت پالیسی تھی کہ کس طرح ہم ان پر ایڈمنسٹریشن ایسا چلائیں کہ ان کا دوسرے سے تعلق نہ ہو اور اکیلے اکیلے ان لوگوں سے ڈیل کریں مگر مقصد صرف ایک جو آج شاید زیادہ واضح ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ کیونکہ آج افغانستان کے مسئلے میں وہی پالیسی امریکہ کی ہے، وہ انگریز کی پالیسی جو آخر میں امریکہ کی جھولی میں ڈال دی کہ بھائی ہمارے بس کا کام اب نہیں رہا ۔

یہ تھا سیاسی ماحول اس وقت کا۔ پھر انہوں نے اس پورے خطے کو مختلف قومیتوں، قبیلوں میں تقسیم کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ ہر ایک کہتا ہے، کوئی وزیر ہے، کوئی کوئی ہے۔تصور ہی پختون کا انہوں نے ختم کروایا کہ میں وزیر، میں شنواری، میں آفریدی ، میں مہمند زئی ، میں یوسف زئی، میں باجوڑ کا رہنے والا ہوں۔ اسی طرح سے اگر اس سطح پر بھی ان میں اتفاق اور اتحاد کی بات ہو سکتی تھی تو اس کو بھی انہوں نے توڑنے کی کوشش کی تھی۔

میں مختصراً بتاؤں گا انگریز خود کہتا ہے، دستاویزات اس بات کی گواہ ہیں کہ یہاں پر جو پہلے خاندان ہیں ، جو خان ہے، جو ملک ہے ، ان کو ہٹاؤ، اپنے خان بناؤ، اپنے ملک بناؤ، اپنے پودے لگا ؤتاکہ وہ پودے تمہارے رحم و کرم پہ ہوں اور جب تم ان کیساتھ ایسا نہیں کرو گے تو پودوں میں جان نہیں ہوگی، یہ پالیسی ان کو ملی تھی وراثت میں۔

پھر بھی معلوم نہیں یہاں پر آج پھر اسلام اور کفر کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں انگریز کی وراثت میں یہ زمین ملی ہے، جیسے انگریز ان کا باپ ہے، میں نہیں کہتا خود کہتے ہیں کہ ہم انگریز کے وارث ہیں ۔باپ کے بغیر کسی اور کی جائیداد کس کو ملتی ہے؟۔افغانستان کے ساتھ فرنگی نے جو معاہدہ کیا تھا، وہ بھی تمہیں وراثت میں ملا ہے۔ بہرکیف، وہ پالیسی وہی وہ چلتے رہے، ملا کو انہوں نے خریدا اور خان کو خریدا، خان اور ملک کے ذریعے سے پورے معاشرے، عوامی ماحول پہ قبضہ کر رکھا تھا ۔ آج100سال کے بعد بھی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ جو ہے، وہی مذہبی ماحول کا مسئلہ ہے۔ آج بھی وہی مسئلہ ہے۔ آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں ، آج بھی کس طرح سے یعنی اسلام کو کس طرح سے ان سامراجی اور نوآبادیاتی قوتوں کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس طرح سے وہ اس وقت کیا کرتا تھا۔ تو وہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

انگریز کو ہندو سے نہیں مسلمانوں سے خوف تھا اسلئے کہ اگر پورا ہندوستان، افغانستان، ایران، ترکی ،افریقہ ،عرب ممالک اور یورپ سے مل جاتا تو اسلام پوری دنیا کی بڑی طاقت تھی۔ ہندو نے کبھی بیرونی قوت کے آگے مزاحمت نہیں کی ۔ انگریز مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتا تھا۔ مختلف ریاستوں میں بانٹ دیا۔ انگریز کے خلاف مزاحمت کرنے اور وطن کی خاطر قربانی دینے والے غدار بن گئے اور انگریز کے پروردہ ملک کے مالک بن گئے۔ انگریز نے ان کو ہم پر مسلط کردیا۔

قیوم خان کے وقت میں جب مجھے کچھ سال قید کی سزا ہوئی تو منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی۔ بچے کو زمین پر پھینک دیا اور جھولا اٹھا کر لے گئے۔

ہم پاکستان کے مخالف نہیں انگریز کیخلاف تھے مگر مملکت خداداد پاکستان نے ہمارے کارکنوںکو ننگا کرکے سڑکوں پر گھمایا اور ننگا کرکے بہو، بیٹی اور خاندان کے سامنے گھروں میں بھیج دیا۔ کرک کے ایک کارکن عبدالغفار خان نے خط لکھا کہ ہم نے ہرقسم کی سختیاں برداشت کیں، جیل کی سزا کاٹی لیکن گھر کی بے حرمتی برداشت نہیں ہوتی ۔اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ورنہ قیوم خان سے لیکر ایک ایک کو گولی مارتا۔ پولیس اور مسلم لیگ کے کارکن گھروں میں گھس عزت خراب کرتے ہیں اسلئے خود کشی پر مجبور ہوں۔ گاندھی نے کہا تھا کہ یہ معجزہ ہے کہ غفار خان نے پختون قوم کو عدم تشدد سکھائی جن کی طاقت ہے مزاحمت کرنے کی ۔ہم تو مجبور ہیں عدم تشدد پر ہم تو مزاحمت کرنہیں سکتے۔ جنرل ضیاء الحق کو میں نے کہا کہ آبائی وطن چھوڑ کر اس ملک کیساتھ تم تھوڑی وفادار ہوسکتے ہو؟۔ اگر فائدہ کمالیا تو باہر جائیداد بنالی اور ملک چھوڑ کر بھاگے۔ ہم نے یہاں رہنا ۔ہمارا یہ آبائی وطن ہے۔ آبائی وطن سے وفا نہیں کی تو اس وطن سے کیا وفا کروگے۔

تمہاری لڑائی سامراج کیلئے ہے روس سے دشمنی نہیں امریکہ سے دوستی ہے۔ چین بھی کمونسٹ ہے جس کیلئے دختران اسلام کو سڑکوں پر نچاتے ہو اور گل پاشی کرتے ہو۔

سوات سے آتے وقت راستے میں قاضی غازی کی چاکینگ دیکھی۔ جہاد افغانستان میں غازی ادھر بنا پھرتا ہے۔ یہ سب سامراج کیلئے ہے جہاد کیلئے نہیں۔ یہ گوریلا وار یہاں پر تباہی لائے گا ۔ امریکہ جینوا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن پاکستان کرتا ہے اسلئے پاکستان استعمال ہورہاہے۔
ــــــــــ

بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں

ہم لڑتے ہیں آپ سے، آئین ہاتھ میں لے کر لڑتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں ہے سر۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور دیش کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کر چل دل رو پڑے گا تجھے پشیمان دیکھ کر
صرف پارلیمنٹ چلانے میں ہر منٹ ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔2014سے لے کر2024کے سرمائی سیشن تک کل ملا کر3,300کروڑ روپے کا نقصان ہوا، کیوں؟ کیونکہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ اہم موضوعات پر بحث ہو۔ یہ اپوزیشن کا کام ہے سوال اٹھانا، اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب ہر اس انسان کو دے جس کے ٹیکس کے پیسے سے یہ ایوان چلتا ہے۔

یہ طاقت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پر بیٹھے ہیں وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

اسلئے خواب ضرور دیکھئے، لیکن خوابوں میں گھر بنا کر رہنے کی غلطی مت کیجیے گا۔آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

آج303سے زیادہ ایم پیز،2,000سے اوپر ایم ایل ایزآپ کے،21ریاستیں آپ کی ہیں۔ ہر بحث، مکالمے اور ہر بل پر بولنے کیلئے70فیصد وقت آپ کو ملتا ہے۔ میڈیا آپ کا۔ اور آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔ ہم اپنے لیڈر کا نام ایک سے زیادہ دو بار بولیں تو ہم پر روک لگائی جاتی ہے اور ٹریژری بینچ والے وہاں بیٹھ کر پارٹی کا نعرہ لگاتے ہیں اور اپنے رہنماؤں اور وزیروں کا نام جپتے ہیں، تو تب سب ٹھیک ہے سر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آپ اوور نائٹ رات کے12بجے،1بجے بلز لے کر آتے ہیں اور عام بلز نہیں سر، وہ بلز جو لوگوں کے حال اور ان کے مستقبل کے ساتھ براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ سر!ہم کریں بھی تو کریں کیا، جائیں بھی تو جائیں کہاں؟ آدھے سے زیادہ بل تو اس ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس ہو جاتے ہیں۔ سر! باہر احتجاج کرتے ہیں توFIRہو گی،EDCBIہو گی، کارروائی ہو گی، اور ایوان کے اندر احتجاج کریں تو معطل کر دیں گے۔ سر! باہر بھی بلڈوزر چلائیں گے اور ایوان کے اندر بھی بلڈوزر چلائیں گے، سر ایسا نہیں ہوتا۔الیکشن کمیشن کے بل بوتے پر لاکھوں کروڑوں ووٹرز کا نام کاٹ رہے ہیں آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔100سال سے اس ملک کو اپنا گھر، اس دھرتی کو اپنی ماں سمجھنے والے ہر دھرم، ہر برادری کے لوگوں کے عزتِ نفس کو دن دہاڑے اپنے پیروں تلے کچلنے کا کام کیا ہے آپ نے، اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔

آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے۔دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

ہم مانتے ہیں کہ ایل او پی کا صلاح کار کوئی نہیں ہے سر، لیکن وزیرِ اعظم جی کا صلاح کار بن کر ان کو ایوان میں آنے سے روک دیا یہ کہہ کر کہ خاتون ارکانِ پارلیمنٹ سے ان کو خطرہ ہے۔ سر! آپ نے تو ہمیں دیش واسیوں کے سامنے آتنگ وادی بنا دیا۔ جبکہ اصلی آتنگ وادی اس دیش میں سائیکل چلا کر گھس جاتے ہیں اور پیدل واپس چلے جاتے ہیں، آپ ان کو روک نہیں پاتے۔بھارت پر چین کی جارحیت آپ روک نہیں پاتے۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور ملک کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے، آپ اس کو روک نہیں سکتے اور ایوان میں ہم ارکانِ پارلیمنٹ کو روک کرآپ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی
31مئی2007ئ:خبریکم جون کو نشر ہوئی

اسلام میں نسل نہیں کردار اہم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا :”تم سب ایک آدم کی اولاد ہو ۔ عرب عجم، کالے گورے کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں فضلیت کا معیار تقویٰ ہے”۔

مرشد حاجی محمد عثمان نے فرمایا” میرے والد ، والدہ دونوں سید ہیں”۔ کانیگرم وزیرستان ،گومل کے لوگ والدہ کے خاندان کوسید نہیں مانتے تھے ۔دونوں خاندان مرج البحرین تھے۔ ان کے درمیان برزخ ہے جو ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے۔

کانیگرم شہر دو ندیوں کے درمیان ہے۔ ایک مردوڑ لگاڈ ”ناپاک ندی”سے مشہورلیکن ناپاک نہیں ہے ۔

ھذا عذب فرات و ھذا ملح اجاج

”یہ میٹھا خوشگواراور یہ کھارا کڑوا پانی ہے لیکن کانیگرم کے ندیوں میں نام کا یہ فرق کیوں ہے؟۔ اس میں ایک بہت بڑے زبردست راز کی بات ہوسکتی ہے۔

میرے ننھیال اور دھدیال کے خاندانوں میں ہم نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اور دو مختلف وجود کے باوجود ایک قالب تھے لیکن جب2007ء کا سانحہ ہوا تو ابھی اس کی آگ نہیں بجھ سکی تھی کہ یہ وار بھی سرد جنگ کی طرح شروع ہوگئی۔ نانا سلطان اکبر نے جٹہ قلعہ گومل سکندر مرزا کو افغان پیر شیرآغا کو کرایہ پر دینے سے انکار کیا تھا۔ جو انگریز افغان قتل کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ میرے بھائی پیرامیرالدین شاہ ایکس کمشنر بنوں نے خواب دیکھا تھا کہ جٹہ قلعہ کی مسجد میں نبی ۖ تشریف لائے ہیں اور اس میں نانا خان کو سلام دینے کا بھی فرمایا تھا۔

ڈاکٹر آفتاب نے بتایا:مولانا اشرف خلیفہ سید سلیمان ندوی نے کہا کہ ” قائداعظم محمد علی جناح1940ء سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن اس کے بعد ایک سچے پکے مسلمان تھے”۔ صحابہ کرام پہلے جوبھی تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعدعکرمہ بن جہل، ابوسفیان، ہند سچے پکے مسلمان تھے۔ میرے ننھیال والے بھی کانیگرم کی آمد سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن پھر اچھے بن گئے۔

جب2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی اور میں دوبئی منتقل ہوا تو اس کے بعد پھر سانحہ2007ء ہوگیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور ان میں مہمان بھی شامل تھے اور یہ پہلا سانحہ تھا جس پر طالبان نے معافی مانگی اور مجرموں کو کیفر کردار تک بھی پہنچانے کا کہا لیکن پھر آپریشن کی وجہ سے وہ افغانستان گئے۔

مجھے واقعہ کی صبح بتایا کہ یوسف شاہ کی بہن نے کہا کہ ”اگر گھر میں چھپایا ہے تونکالیں ورنہ گھر میں گھس کر تمہیں بھی نقصان پہنچادیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ” ہمارا یہ راز فاش نہ ہو ورنہ تو ہمیں اٹھالیں گے”۔پھر شہر یار نے خیبر ہاؤس پشاور میں بتایا:”طالبان کی میٹنگ کے ذریعے ذہن سازی کی گئی تھی کہ یہ گھرانہ بڑا ظالم ہے ۔ لوگوں کی بیویاں ،بچے چھینے ہیں”۔

میں نے17سال تک بہت باتیں سن لیں۔مجھے اصل چیز کی تلاش دو بنیادی نکات کی تھی۔ خاتون کیسے آئی اور میٹنگ کہاں اور کیسے ہوئی؟۔ لیکن دونوں چیزوں کا تذکرہ نہیں آیا۔

فیس بک پر گالیاں لکھ سکتے ہیں لیکن معقول سوال کا جواب نہیں دے سکتے؟۔ سب سے پہلے ممکنہ طور پر ڈاکٹر عبدالجباراور پیر عبدالغفار ایڈوکیٹ اور پیر حاجی عبداللطیف تینوںبھائیوں کو ملوث قرار دینے کا خدشہ سامنے آیا جس کو میں نے مسترد کردیا۔

پھر ان کے سوتیلے بھائیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے ٹھوس شواہد اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی مہم جوئی سامنے آئی لیکن وہ بھی میں نے اللہ کے فضل سے ناکام بنادی۔ کیونکہ ان کے ساتھ غیرت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں وجوہات سامنے رکھتا تھا کہ ہم سے انتقام لینے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے اسلئے کہ میٹنگ کا سراغ لگانا تھا۔ جب تک یہ کنفرم نہیں ہوجاتا کہ حقائق کیا ہیں؟ تو جن لوگوں کیساتھ ممکنہ مسائل ہوسکتے تھے تو ان سے بھی نفرت اور الزام قبول کرنے کی نوبت نہیں آئی اسلئے کہ ملزم مجرم نہیں۔ الزامات کی دنیا میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگااور بہت پاکیزہ ماحول والے صحابہ و صحابیات بھی ملوث ہوگئے۔ عاشق رسول نعت خواں حضرت حسان، حضرت ابوبکر کے رشتہ دار اور بدری صحابی حضرت مسطح، نبیۖ کی سالی حمنا تو بہتان لگانے والوں میں شامل تھے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔صحابہ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی تلقین کی گئی کہ افواہ سازی کا کام اور اسے پھیلانے سے اجتناب کرو۔

ہمارے آپس کے زمینوں کے بھی کچھ معاملات تھے اور اس پر تصفیہ کرنے اور حق داروں کو اپنا حق واپس کرنے کا بھی تہیہ کیا ہوا تھا۔پھر بیچ میں میرے بھائی پیر نثار اور کزن پیر ریاض شاہ ایکس انکم ٹیکس کمشنر کے درمیان زبانی تلخ کلامی ہوئی تو میرا بیچ میں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا پروگرام تھا کہ زبانی معاملات کا تصفیہ بھی اچھے انداز سے ہوجائے لیکن پھر محسوس کیا کہ معاملے کو جب تک تحریری طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جائے تو یہ داستان ستم کے بادلوں کے ڈیرے بڑھتے چلے جائیں گے۔

امیرالدین بھائی نے بہت ہلکا سا لیا تھا اور کہتے تھے کہ جلدی کرو لیکن مجھے پتہ تھا کہ کتے کی دم نے سیدھا نہیں ہونا ہے اور جب کوئی اتنا بے ایمان ہو کہ ایک مجلس میں اپنی لکھوائی ہوئی بات سے بھی نہ صرف مکر جائے بلکہ الٹی مہم چلائے تو اس کا ایک علاج تحریر اور اس کی تشہیر ہے اور دوسرا ویڈیو ریکاڑ د ہے۔
مجھے اصل خوف اس بات کا تھا کہ واقعہ کے پیچھے میٹنگ اور اس خاتون کی خبر کا ادارک اپنی جگہ پر رہ جائے گا اور ہم کسی بھی زبانی جمع خرچ میں الجھ جائیں گے۔ منہاج نے مجھے کانیگرم میں کہا کہ اپنے پردادا کی قبر تلاش کررہے ہو؟۔ میں نے اپنے اعصاب پر قابو پایا اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے پردادا کی قبر لدھا میں روڈ کے کنارے نظر آتی تھی لیکن تم لوگوں نے خود کو لا تعلق کردیا ہے تو ہمیں بھی اپنا جیسا سمجھ رکھا ہے کیا؟۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دوسروں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی۔ ہیں وہ کم عقل کہ یہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کی اکثریت نے مٹھی بھر کرایہ کی خاطر استعما ل والے طبقے کی مخالفت کی تھی لیکن جس کو دیکھو اس کو بس بارود سے اڑادولیکن جو پال رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں؟۔

منہاج کبھی کہتا تھا کہ ”سبحان کا گھر بیچا ہے” اور کبھی کہتاتھا ”تمہارے اجداد ہمارے اجداد کے پیچھے کمبل گھماتے تھے”۔

میرے والد نے کانیگرم کے دوست کے انکار کے بعدجس زمین کاکہا تھا کہ بیچنے اور منافع کمانے کی چیز نہیں اور کانیگرم کے لوگوں کو پلاٹننگ کرکے دیتے تو دشمن نے جس راہ سے حملہ کیا تو اس راستے سے آنے جانے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ مذہبی جذبہ سے طالبان پالتے تو ہماری روح خوش ہوتی کہ چلو بے دین لوگ بھی دیندار بن گئے لیکن جس نے ساری زندگی اجداد سے علماء ، مساجد اور مذہبی معاملات سے منافرت رکھی ہو اور وہ ایسے موقع پر طالبان کے سہولت کار بن جائیں کہ جب مجھ پر2006ء میں فائرنگ ہوئی ،میرے بچوں اور ساتھیوں کیلئے سخت خطرات تھے تو مجھے غصہ تو آتا ہوگا؟۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نانا سلطان اکبر ، اس کے بھائی سید حسین شاہ اور سیدمحمد امین شاہ اور ماموں غیاث الدین شاہ اپنی قبروں میں بھی اس بہت بڑی بے غیرتی پر انتہائی غصہ ہوں گے کہ اتنا بڑا واقعہ2007ء میں ہوگیا اور یہ بے شرم ، بے حیا اور دلے پھر بھی پالتے ہیں؟۔

ایک مجرم ہوتا ہے اور دوسرا سہولت کار۔ سہولت کار بھی جرم میں برابر شریک ہوتا ہے ۔ ایک اصل محرک ہوتا ہے اور دوسرا صرف کرائے پر استعمال ہونے والا۔ میری دلچسپی اس میٹنگ میں تھی جنہوں نے طالبان کا ایک جتھہ ورغلا کر استعمال کیا اور کچھ لوگ خوش ہوں گے کہ ہم نے اپنی بے غیرتی کا بدلہ لیا ہے تومجھے اس پر فخر بھی ہے کہ کھل کر سامنے آنے کی جرأت نہیں کی اوریہ اعزاز کی بات ہے کہ کوئی بے غیرت پھر مزید بھی بے غیرت بن گیا۔ کوئی چھپ کر واردات کرتا ہے تو یہ اس کی بزدلی، بے غیرتی ، کمینہ پن اور بے ضمیری کے علاوہ ایک امکان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے لحاظ رکھا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ کسی بات میں100احتمال کفر کے اور ایک اسلام کا ہو تو ایک اسلام والا احتمال لو اور کفر کے احتمالات کو رد کردو۔

اے این پی کے1200افرادقتل ہوئے پھر میاں افتخار حسین کے بیٹے اور تمام خاندان کے اکلوتے وارث کو بھی شہید کیا گیالیکن میاں افتخار حسین نے پکڑے ہوئے قاتل کیخلاف بھی خود مقدمہ چلانے سے انکار کردیا۔ ذاتی دشمنی بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر اپنے قریبی رشتہ دار کیساتھ۔ پھر کسی ثبوت کے بغیر؟۔ لیکن جس طرح مہک ملک ایک طرف منبر پربیٹھ کر تبلیغ کرتی تھی اور دوسری طرف ڈانس کرتی ہوئی اس کا نیکر بھی نظر آتا تھا ۔ اسی طرح دو دھاری تلوار کی طرح کچھ لوگوں نے اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کا فلیٹ میں نے اسلئے اس داستان کیساتھ چھوڑ دیا تھا کہ اکبر علی کو جہانزیب کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اگر اکبر علی کو کہانی کا تھوڑا پتہ چلتا تو وہ کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ توہین کا انتقام آدمی توہین سے لیتا ہے لیکن کاروباری لین دین میں اونچ نیچ پر تلخ کلامی کوئی توہین نہیں ہوتی ہے۔ اگر میرے بھتیجے نعمان سے کسی کو قتل کروادیتے تو یہ2007ء کا حادثہ سے بھی زیادہ مشکل ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمٰی انما یتذکراولو الالبابOالذین یوفون بعھداللہ ولا ینقضون المیثاقOوالذین یصلون ما امراللہ بہ ان یوصل ویخشون ربھم و یخافون سوء الحسابOوالذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم و اقاموا الصلٰوة و انفقوا مما رزقناھم سرًا و علانیة ً و یدرء ون بالحسنة السیئة اؤلٰئک لھم عقبی الدارOجنات عدنٍ یدخلونھا و من صلح من اٰبائھم وازواجھم و ذرّیاتھم والملائکة یدخلون علیھم من کل بابٍOسلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارOوالذین ینقضون عھداللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امراللہ بہ ان یوصل و یفسدون فی الارض اولٰئک لھم اللعنة و لھم سوء الدار O

ترجمہ :” پس کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ تیرے رب کی طرف سے جو تیری طرف نازل ہوا ہے وہ حق ہے اس کی طرح ہوسکتا ہے کہ جو اندھا ہے؟ سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں ۔ وہی لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو نہیں توڑتے اور جو لوگ ملاتے ہیںجس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضامندی کیلئے اور نماز کو قائم کیا اور خرچ کیا جو اللہ نے انہیں دیا تھا چھپ کر اور اعلانیہ اور برائی کے بدلے میں اچھائی کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کیلئے پیچھے کا گھر ہے۔ہمیشہ کیلئے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور جو ان کے اجداد میں اچھے ہوں گے اور ان کی ازواج اور اولاد بھی اور ملائکہ ہر دروازے پر ان کے ہاں داخل ہوں گے۔ (کہیں گے) تم پر سلام ہو جو تم نے صبر کیا اور کیا اچھا پچھلا گھر ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کے بندھن کے بعد اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کیلئے برا گھرہے”۔

سورہ الرعد کی ان آیات19سے25تک میں دو قسم کے افراد کا ذکر ہے۔ ایک وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو حق سمجھتے ہیں ۔ دوسرے وہ جس کو کھلے عام اندھا قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ ہیں جو صلہ رحمی کے پابند اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو صلح رحمی کو توڑتے ہیں۔ ایک طبقے کو حساب کی فکر ہے اور دوسرے طبقے کو حساب کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

یہ خوشخبری صرف آخرت کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ہے۔ عمران بن حصین نے فرمایا کہ” پہلے ہم سنت پر عمل کرتے تھے تو فرشتے راستوں میں ہم سے مصافحہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے قرآن کے نازل کردہ احکام اور سنت کی جب مخالفت دیکھی تو سب کچھ ہم سے چھن گیا۔(صحیح مسلم) حضرت عمران بن حصین نے دنیاوی کامیابیوں کو کایابی نہیں سمجھا بلکہ قرآن کے احکام اور سنت کی مخالفت کے غم میں زندگی گزار رہے تھے۔

حال ہی میں ایک پختون11سالہ بچی کا واقعہ ہوا تو اس پر ایک طرف بلوچستان کے پختون مردوں کیساتھ عورتوں نے بھی بندوق اٹھائی تو دوسری طرف پشاور کے صحافی حضرات کی آراء مختلف تھیں۔ ایک ہائی پروفائل کیس پر اتنے تضادات کی وجہ یہ تھی کہ پختونخواہ کے اس ایریا میں پرانی ویڈیوز بھی بنی ہیں جہاں پولیس نے بے غیرت مردوں اور عورتوں کو اقبال جرم بھی کروادیا تو دوسری طرف بلوچستان کے لوگوں کو اصل کرتوت کا پتہ نہیں ہے۔ ٹانک میں بھی بیٹنی قبائل کے سردار کا بڑاشاندار استقبال لوگوں نے کیا لیکن اگر ایک طرف یہ الزامات لگانے والے ہیں کہ حروم سعید کے والدین دوسری لڑکیوں کے بیچنے کا فراڈ کرتے تھے اور خود پھنس گئے اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا یقین ہے کہ بچی اغواء ہوئی تھی اور بازیاب کرنے پر اکثریت خوش ہے اور مظلوم والدین پر گھٹیا الزامات کے خلاف ہیں۔

جن لوگوں نے ایک طرف جھوٹ بولا یا سچ؟کہ فلاں لوگ ملوث ہیں اور پھر قتل کروانے کی کوشش کی اور پھر طعنے دئیے مگر پھر ان کے ساتھ مل کر لکھا کہ ”ہماری وحدت میں دراڑ پیدا نہیں ہوسکتی اور انگریزی میں بے نامی خط لکھا دیا”۔میرا دل کوہ سفید کا برفانی پہاڑ بن جاتا تب بھی اتنا ٹھنڈا نہیں ہوسکتا تھا جتنا اس بات پر ہوا کہ کون کس کو کس کے خلاف استعمال کررہاہے؟۔

نبیۖ نے سود کو70سے زیادہ گناہوں میں سے کم از کم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ دارالعلوم کراچی کا مؤقف چھپا ہوا موجود ہے کہ شادی بیاہ کے لین دین میں لفافہ سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور پھر علماء دیوبند کے متفقہ فتوے کے باوجود بھی عالمی سودی بینکاری کو زیادہ سود کیساتھ اسلام کے نام پر جواز فراہم کیا۔ ہمارے نکاح پر حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لکھنے والوں کو اللہ نے کس درجہ تذلیل کی پستیوں میں پہنچایا ؟۔ ہم تواس کا تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ اللہ اتنا مہرباں؟پھر کیا رکھوں اپنا گماں؟۔

دشمن میرے بہت ہیں کوئی ایک نہیں ہے
میں برا تو ان میں بھی کوئی نیک نہیں ہے
تیرہ افراد مہمانوں کے ساتھ ہوگئے شہید
کھاپی کے بھول جاؤ کوئی کیک نہیں ہے

جب رسول اللہ ۖ کی بعثت ہوئی تو ایرانیوں اور عربوں کی پہلی جنگ”ذی قار” ہوئی جس میں عربوں نے اتحاد کا بڑا مظاہرہ کرکے ایرانیوں کو شکست دی تھی۔ رسول اللہ ۖ کا اس میں دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن عربوں نے نبیۖ کی شہرت سن کر ”یا محمد یا منصور” کے نعرے لگائے تھے اور نبیۖ نے اس جنگ کو جیتنے کا کریڈٹ بھی لیا تھا کہ عربوں کی نبوت کی برکت سے فتح نصیب ہوئی اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ تعصبات کا نام نہیں تھا مگردنیا کی سپر طاقتوں کو مسلمانوں نے شکست دی۔

وزیرستان میں محسود اور وزیر کے علاوہ داوڑ اور برکی ہیں ۔ وزیروں کا قانون یہ ہے کہ دشمنی میں فیصلہ کرنے کے بعد پھر انتقام نہیں لیتے۔محسود وں کا قانون یہ ہے کہ کمزور طاقتور کے ساتھ وقتی طور پر صلح کرکے دیت لیتا ہے اور جب وقت آتا ہے تو پھر بدلہ اتارکر دیت واپس کردیتا ہے۔ ہمارا کانیگرم محسود قوم کیساتھ شامل ہے۔ کمزور نے طاقتور کیساتھ پریشر ڈالنے کے باوجود بھی صلح نہیں کی تو یہ کریڈٹ لوگ ہمیں دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے بدلتی ہوئی فضاؤں کو دیکھ کر طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ تیسرا یہ کہ بہت بعد میں مجھے یہ پتہ چلا کہ …

مفتی تقی عثمانی نے اس واقعہ کے بعد ہمارے خلاف اپنا فتویٰ فتاوی عثمانی جلد دوم2007ء میں چھاپ دیا تھا

اور پھر جب2022ء کو اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس کا پھر مجھے پتہ چلا۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مفتی تقی عثمانی اس درجہ بھی گرا ہوا ہوسکتا ہے ۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ غلیظ نے اپنی غلاظت کو اس طرح شائع کیا ہے تو طالبان کو دجال کا لشکر قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن سے کہتا کہ دجال سے بڑا دجال تو یہ دلا ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن خود بھی کم نہیں ہے اور جب ڈیرہ اسماعیل خان میںہمارے ساتھیوں کے پیچھے کسی اور کو آگے کیا تو مجھے الف سے ی تک سب پتہ تھا۔ نثار بھائی نے کہا کہ مولانا کے پاس جاتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ وہ سمجھے گا کہ مشکل میں سہارا لیا۔ پھر خلیفہ عبدالقیوم کے پاس گئے ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ اصل مولانا فضل الرحمن ہے اور ٹانک میں میری حمایت کرنے والے علماء کو ان کے بیانات دکھا کر دباؤ بھی ڈالا تھا اور پھر خلیفہ عبدالقیوم نے بھی اشارہ دیا۔

ضلع ٹانک کے تمام مذہبی جماعتوں کی قیادت سے تائیدملی تھی۔ اقبالنے ابلیس کا اپنی مجلس شوریٰ سے خطاب لکھ دیا:

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مرگیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق حق سے جدا یا عین ذات
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلمان کیلئے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات ومنات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے تا قیامت رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعرو تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپادے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتاہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے

ہمارا مقصد ذاتیات نہیں بلکہ درست اقدار کا قیام ہے اور درست اقدار کے قیام کیلئے معروضی اور زمینی حقائق کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی کو سگی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا اور باپ کی منکوحہ بیویوں سے شادی کرنا غیرت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ مگر پہلے جو ہوچکا بیشک یہ فحاشی، غضب کاکام ،برا راستہ تھا”۔ قرآنی آیات اور نبیۖ کی سیرت طیبہ اس پر شاہد عدل ہیں۔ نبی ۖ نے جاہلیت کے سود اور قتل کا بدلہ لینے کو ختم کرنے کا آغاز اپنے خاندان سے کیا ۔ چھوٹی بڑی سطح کی اقدارغلط تو جرم مذاق اور مفاد پرستی بے غیرتی کی جگہ کمال بن جاتی ہے اوراس قسم کاDNAبہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس وائرس کے علاج کا آسان طریقہ ایک بہت بڑا اخلاقی آپریشن ہوتا ہے جس میں اس معاشرے کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد صحابہ کرام اور عربوں کی تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔

حاجی محمد عثمان پر آزمائش کے پہاڑ ٹوٹے تو منبر پر بیٹھ کر فرمایاکہ ایک مجذوب نے مجھ سے کہا کہ تیری صفائی ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ

وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ و اقمن الصلاة و اٰتین الزکوة و اطعن اللہ و رسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرًا O (سورہ احزاب آیت33)
”اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو اورپہلی جاہلیت کی طرح سے تبرج مت کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے گند کو دور کردے اور تمہاری اچھی طرح سے تطہیر کرے”۔

عورتیں پنج وقتہ نمازمسجد میں، لکڑیاں ، پانی ، رفع حاجت اورگند پھینکنے کیلئے روزانہ کی معمولات کے مطابق گھروں سے باہر نکلتی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں طواف اور سعی خواتین و حضرات شانہ بشانہ کرتے تھے اور تبرج جاہلیة کا مطلب واضح تھا کہ10اور بیشمار شوہروں اور اپنے کمزور شوہر کے مقابلے میں طاقتور خاندان یا اعلیٰ نسل کے لوگوں حمل کروانے ، خواہش پوری کرنے اور سکون کی تلاش میں گھروں سے نکلنا معمول تھا اور قرآن اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ لاترین ثدیکن اپنی حسن نساء مت دکھاؤ کی جگہ تبرج کے الفاظ کو استعمال کیا اور مخاطب عرب کی دوسری خواتین کی جگہ امہات المؤمنین ہی کو کیا ،جس طرح نبیۖ کو مخاطب کرکے اللہ نے جگہ جگہ وعیدوں کا ذکر کیا لیکن اصل مخاطب قیامت تک آنے والے ہیں۔

حضرت مریم علیہا السلام کی عزت پر بات آئی تو قرآن نے

والتی احصنت فرجھا فنفخنا من روحنا و جعلنٰھا وابنھا اٰیة للعٰلمین O

” اور وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس بیٹے کو تمام جہانوں کیلئے نشانہ بنایا ” (الانبیائ:91) میں اسی انداز میں صاف صاف الفاظ کے اندر بچایا بھی ہے۔

یہ آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے فاطمہ، حسن، حسین،علی پر چادر تھان لی اور پھر فرمایا: اللھم ھولاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیرًا۔ ” اے انکے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،پس ان سے گند کو دور کردے ۔اور ان کو اچھی طرح سے پاک کردے”۔ ام سلمہ نے عرض کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ (یعنی اس دعا میں شامل ہوں) نبیۖ نے فرمایا کہ انت علی مکانتک وانت الی خیر۔ تیرا مرتبہ اپنی جگہ پر ہے ۔تیری میری طرف نسبت زیادہ بہتر ہے”۔

میرے بھتیجے پیر عبدالصمد شاہ کا آدھا مجذوب بیٹا محسن جب چھوٹا تھا تو میں نے جٹہ قلعہ کے اڈے پر ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ لایا۔ اس کے دماغ میں ہوگا کہ کبوتر، خرگوش یا مرغی دے رہا ہوگا لیکن جب سکول کے گیٹ کی طرف احساس ہوا تو پوچھا کہ کہاں لے جارہے ہو؟۔ میں نے کہا کہ سکول میں تو فوراً وہ رونا شروع ہوا ،میں نے بھی فوراً چھوڑ دیا کہ جاؤ۔

ام المؤمنین حضرت سلمہ یہ جان بھی لیتی کہ اہل بیت کیلئے کیا آزمائش کی دعا مانگی جارہی ہے تو آپ نے انکار نہیں کرنا تھا لیکن نبیۖ کے ساتھ جن سختیوں سے وہ گزری تھیں تو مزید آزمائشوں کی ضرورت نہیں تھی اسلئے نبیۖ نے فرمایا کہ اس آیت کی پہلی مصداق تو آپ خود بہتر جگہ پر ہیں۔ شیعہ سنی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی حلوہ بٹ رہاتھا کہ کس اہل بیت کو ملے ؟۔

ماں عائشہ نے پہلے بھی آزمائش کا سامنا کیا اور بعد میں بھی لیکن حضرت فاطمہ، حسن ، حسیناور علی کو دعا نے شامل کردیا۔

ہراساں ہراساں جو ہیں اندھیروں کی شدتیں
پھلوں کو مٹھاس بخش دیں روشنیوں کی حدتیں
قرآن کی ٹھوس آیات خلفاء راشدین کے فیصلے
حلالہ کی لعنت رہے گی اور نہ کوئی بدعتیں
ظلم کی حکمرانی رہے نہ فرقہ پرستی کی فراوانی
کافر و مرتد کے فتوے رہیں گے نہ کوئی ردتیں

میرے ننھیال والے آزمائش کے شکار ہوئے بلکہ کچھ زیادہ اسلئے کہ حسینی ہیں؟۔ مجھے اپنی والدہ اپنے والد سے زیادہ پیاری تھی لیکن سوالات کے جوابات بنتے ہیں۔ یہ سب انکے اپنے ہاتھوں کی کمائی ثابت کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز ۔ لالچ و عزت دونوں کشتی کا ایک سوار ہو تو ایک کشتی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ تھانہ پولیس،عدالت اور پشتو خالوت جرگہ سے بہتر صفائی کے طریقہ کار دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہے۔ الزام کی تردید اور اٹھنے والے معقول سوال کا تسلی بخش جواب ہے۔خدا کی لاٹھی بے آواز اور پکڑ سخت ہے،آزمائش اعزاز اور ذلت وبال ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شمس الدین شگری:فراز صدیقی-قرآن کی سائنسی تفسیر اور الحاد

ڈاکٹر فراز صدیقی کہتا ہے کہ قرآن عرب کے دیہات کے ماحول کے مطابق تھا موجودہ سائنسی دور میں اس کی تعلیمات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب نالائق لگتاہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”مستقبل میں ہم تمہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور تمہاری جانوں میں بھی ”۔امریکہ بعد میں دریافت ہوا ہے جہاں دو سمندوں کے ملنے کا دنیا میں سب بڑا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی جان میں دو بحروں کے ملنے کا کیا مظاہرہ ہے؟۔ ڈاکٹر کو جنم دینے کیلئے اس کے والدین نے کشتی شروع کردی تو یہ مرج البحرین کا مظاہرہ تھا۔قابل ڈاکٹر سمجھ سکتا ہے کہ لاتعداد سپرم کے درمیان یلتقیان جو جھگڑا ہوتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سب زندگی کے سمندر میں اپنی بقاء کی جدوجہد کرتے ہیں اور آخرکار ڈاکٹر کی جان والدین کے نطفہ امشاج میں آگئی۔

بینھما برزخ لایبغیان

اس میں برزخ کی ایسی پروٹکشن ہوتی ہے جو ایک دوسرے پر تجاوز نہیں کرسکتے۔ نہ عر ب نے دنیا کے بڑے سمندردیکھے تھے اور نہ ان کو اپنے اندر نطفہ امشاج کے اس طوفافی بحروں کا پتہ تھا۔

قرآن نے واضح کیا : خلق الانسان من علق

”انسان کو لٹکی ہوئی چیز سے پیدا کیا”۔ ایک بالکل جاہل کہہ سکتا ہے کہ والد کے عضو تناسل کی پیداوار ہے۔ جرمن کا ایک ڈاکٹر صرف اسلئے مسلمان ہوا کہ عربی میں جونک کو علق کہتے ہیں کہ انسان کو رحم مادر سے جونک کی طرح چمٹا دیا جاتا ہے کہ اتنے عرصہ پہلے قرآن کو اس کا کیسے پتہ چلا؟۔ جبکہ یہ تو بالکل جدید تحقیق ہے۔

ڈاکٹر صاحب اپنے فن میں کوئی کمال دکھا کر شہرت حاصل کریں، اگر شلوار سرپر باندھ کر بھرے بازار میں پوٹی کرنے کا شوق شہرت کیلئے پورا کرنا ہے تو پچھاڑی میں سیٹی بھی لگائیں جو خوب بجے گی اور زبردست تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسلام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکتے تو پہلے اپنے فن میں کمال حاصل کرو اور پھر اپنے فن میں کمال حاصل کرنے والوں کی رائے قرآن کی کسی آیات اور معلومات کے بارے میں پہلے دیکھ لو پھر اس کے بعد تنقید کرنے کا کوئی معیار بھی بن جائے گا۔

سورہ فرقان میں بشر کو پانی سے پیدا کرنے اور نسب اور صہر دونوں رشتوں کی بات ہے۔ اگر اپنے فن میں کمال حاصل ہوگا اور پھر قرآن کی طرف آؤگے تو اپنا فن بھی زیادہ سمجھ میں آئے گا اور قرآن بھی۔ لیہ پنجاب میں ہمارے بیالوجی کے استاذ حضور بخش تھے۔ بیالوجی میں زندگی شروع ہونے کا تضاد تھا اور میں نے اعتراض کیا تو بعد میں نصاب سے وہ سبق ہی نکال دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مغوی بچی حورم پٹھان کی حالت بہت خراب تھی۔

مغوی بچی حورم پٹھان کی حالت بہت خراب تھی۔
کافی بچیاں اور خواتین قید میں تھیں۔
ڈاکوؤں کی قید سے بازیاب جینیفر کا انکشاف

ویڈیو میں عیسائی بچی جینیفر مسیح نے انکشاف کیا کہ مغوی بچی حورم پٹھان بھی سختیوں میں تھی اور بہت ساری بچیاں وہاں پر موجود ہیں جن کا مختلف علاقوں اور قوموں سے تعلق ہے۔ جب مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہوگا کہ نابالغ بچی کا نکاح اس کا والد کرسکتا ہے۔ بیچنے والے بھی موجود اور خریدار بھی اور اغواء کار بھی توہم سمجھتے ہیں کہ دلائل اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کی ضرورت ہے۔افغان طالبان نے9سالہ بچی کو بالغ قرار دیا تو اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ مفتی تقی عثمانی کہتا ہے کہ اگر وہ بالغ نہیں تو اس کے باپ کو جبر کا حق ہے۔ یہ تو بڑی معمولی بات ہے فتاوی عثمانی جلد دوم کے خطرناک حوالہ جات ہم کئی بار دے چکے ہیں۔ علماء کرام دین کے محافظ ہیں لیکن دین کو ہی بگاڑ دیا جائے تو پھر کس کے محافظ ہونگے؟سودی بینکاری کے ؟۔ یہ تاریخ کے ہرموڑ پر یوٹرن لیتے لیتے بھول بھلیوں میں پھنس چکے ہیں۔ طالبان تصویر ، داڑھی اور پردے پر اپنا رویہ کتنا تبدیل کرچکے ہیں؟۔ لشکر بلوچستان اور سندھ پولیس اور رینجرزکے ایکشن کو دونوں ہاتھوں سے سلام ۔شکار پور کے پولیس افسرSSPمحمد کلیم کو اسپیشل سلام۔ جس نے نہ صرف مغوی حورم پٹھان کو بازیاب کیا بلکہ متعدد بچیاں بھی بازیاب کیں اور ملا عبدالوحید آرائیں کو بھی موقع پر مار ڈالا۔ اس سے پہلے ایک اور دلال غلام یاسین بنگالی کو موت کے گھاٹ اتارنے کی خبر بھی آئی تھی لیکن پھراس کا تذکرہ دوبارہ نہیں ہوا۔

حضرت مولانا ولی اللہ معروف نے بہت سارے پرانے کیس کور کئے ہیں جن میں مختلف اقوام کی عورتیں بچپن سے ہی کسی اور قوم میں بوڑھی ہوگئیں۔ ہمارے کانیگرم میں بھی ایسی دو خواتین تھیں ۔ایک ہماری رشتہ دار اور دوسری مزارع کی بیوی جو سوات سے لائی گئی تھیں۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا کہ عورت کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا ہے ۔ فقہاء نے یہ مجبوری میں جائز قرار دیا۔ عورت تو خیر عورت ہے لیکن بچی کیساتھ یہ معاملہ اسلام کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ دور ملوکیت میں اس طرح کی روایات گھڑی گئی ہیں۔

حضرت عائشہ کے حوالے سے جو حدیث گھڑی گئی ہے تو اس سے زیادہ مضبوط روایات قرآن کی تحریف کے حوالہ سے بھی ہیں اور جن احادیث کو احناف نے رد کیا ہے تو وہ حضرت عائشہ کے6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی سے زیادہ مضبوط ہیں۔ علماء کرام اور مفتیان عظام حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی سے سبق سیکھ لیں۔1933ء میں وفات کی دہلیز پر پہنچے تو فرمایا کہ ”میں نے زندگی ضائع کردی۔ قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنا وقت ضائع کیا ”۔ علامہ انورشاہ کشمیری نے اپنے شوق سے وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ درس نظامی کی کتابوں میں اتنا الجھاؤ تھا کہ بقول مولانا ابوالکلام آزاد کے ایک ذہین آدمی بھی اس کو پڑھ کر کوڑھ دماغ بن جاتا ہے۔ مفتی سید عدنان کا کا خیل اور مفتی ولی مظفر اور دیگر مخلص اور قابل علماء کو نصاب کی تبدیلی کیلئے میدان میں لایا جائے اور بڑی بڑی چیزوں کی نشاندہی کی جائے تو بڑا انقلاب آسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انشاء اللہ ضرور آئے گا۔
ــــــــــ

9سالہ بچی کا واضح انکار

”میں زبردستی شادی نہیں کروں گی” پنو عاقل میں کمسن بچی کی فریاد، جرگہ نما فیصلے پر شدید تشویش۔سندھ پنو عاقل میں ایک کمسن بچی کی دل دہلا دینے والی فریاد سامنے آئی ہے، جس میں وہ واضح طور پر کہتی سنائی دیتی ہے ”میں وڈیرے کی بیوی نہیں بنوں گی۔بچی کی یہ آواز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کسی جوان لڑکی کی عزت بھی جبراً لوٹی گئی مگر ضمیر سوئے پڑے ہیں۔
ــــــــــ

بیوی کو غیر فطری سیکس سے قتل کر ڈالا۔ شوہر ہے یا جانور

News Dailyکے صحافی نے خانیوال کے المناک واقعہ پرBBCکی رپورٹ افسوسناک تبصروں پر ولاگ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مزید بے حسی اور بے ضمیری کی انتہاء ہے۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب غیر فطری جنسی عمل سے پیدا ہونے والی بے ضمیری کی انتہا تھی جس کی ایک جھلک یہاں بھی سنائی دیتی ہے۔ پروفیسر اورنگزیب حافی پراؤڈ آف پاکستان نے مقناطیسی کشش سے نئے سائنسی فارمولے دریافت کئے۔

جائز فطری جنسی عمل کے سامنے ناجائز غیر فطری جنسی عمل بہت بڑی تباہی ہے جس میں دو طرفہ فوائد کی جگہ ایک خواہش کا پجاری دوسرے پر جبراً مسلط ہوتا ہے اور یہ کام تجارت ، حکومت اور بین لاقوامی تعلقات تک سب کچھ کو ملیامیٹ کررہاہے جس سے دنیا کو واپس لانے کیلئے ہر سطح پر کوشش کی ضرورت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قابل تعریف فیصلہ

ایک غیر مسلم جج نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی یاد تازہ کرا دی اور اسلام کا اصل انصاف کر دکھایا اور ہمارے ”اسلامی”ججوں نے آج تک صرف ہتھوڑا مارنا سیکھا ہے۔ یہ کہانی پڑھ کے آپکو احساس ہوگا اصل انصاف کیا ہوتا ہے ۔

امریکہ میںCheckFraudیعنی جعلی چیک لکھنا ایک سنگین وفاقی جرم ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ایسا چیک لکھے جس کے پیچھے اکانٹ میں رقم نہ ہو، یا دستخط جعلی ہوں، یا چیک کسی اور کے نام پر ہو۔ اس نوجوان نے بھی یہی کیا اس نے ایک جعلی چیک لکھا۔ مگر یہ چیک کسی لالچ کیلئے نہ تھا۔ اس کی ماں بیمار تھی، دوا مہنگی تھی، انشورنس کمپنی نے انکار کر دیا تھا، اور اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ اس نے فارمیسی کے کاونٹر پر وہ چیک دیا جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا تھا صرف اسلئے کہ اس کی ماں زندہ رہے۔امریکہ میں جب چیک بینک میں جمع ہوتا ہے اور رقم دستیاب نہ ہو تو بینک فوری طور پر

Non-Sufficient Funds (NSF)

کا نوٹس جاری کرتا ہے۔ فارمیسی کو جب پتہ چلا کہ چیک باونس ہو گیا تو انہوں نے مقامی پولیس کو رپورٹ کی۔ امریکہ میں چیک فراڈ کی تحقیقات بہت تیز ہوتی ہیں بینک ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اور چیک پر لکھے نام سے چند ہی دنوں میں اس نوجوان تک پہنچ گئے۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا، ہتھکڑی لگائی، اور نارنجی جیل یونیفارم پہنا دیا۔ وہ لمحہ جب اسے گھر سے لے جایا گیا اس کی بیمار ماں نے دیکھا ہوگا۔ عدالت میں کیا ہوا؟

جب وہ جج کارلا جے اولڈز کی عدالت میں پیش ہوا تو اس پرجعلی چیک کے الزامات تھے جس کی سزا امریکہ میں ایک سے پانچ سال قید تک ہو سکتی ہے۔ وہ کٹہرے میں کھڑا تھا ،سر جھکا ہوا، آنکھوں میں آنسو، اور دل میں صرف ایک فکر کہ اگر جیل گیا تو ماں کا کیا ہوگا۔ جج نے جب اس کی پوری کہانی سنی جرم کی وجہ، ماں کی بیماری، معاشی مجبوری تو انہوں نے وہ کیا جو بہت کم جج کرتے ہیں۔ وہ اپنی اونچی کرسی سے اٹھیں، آگے جھکیں، اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی۔ پورا کمرہ عدالت خاموش ہو گیا۔

امریکی قانون میں عدالتی صوابدیدکا اختیار ہوتا ہے جج کو حق ہے کہ وہ ملزم کے حالات، ارادہ اور پس منظر دیکھ کر سزا کم یا معاف کر سکے۔ جج کارلا جے اولڈز نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تمام الزامات ختم کر دیے۔ مگر یہ صرف رحم نہیں تھا ۔یہ ذمہ داری بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”گھر جاؤ، ماں کی دیکھ بھال کرو، اور اس موقع کو ضائع مت کرو”۔قانون کہتا ہے جرم ہوا مگر جج نے دیکھا کہ اس جرم کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا انسان تھا، کوئی مجرم ذہنیت نہیں۔ یہی فرق ہے انصاف اور سزا میں۔یہ کہانی صرف عدالت کی نہیں یہ ہر اس معاشرے کا آئینہ ہے جہاں غریب کی مجبوری جرم بنتی ہے اور امیر کا جرم معافی پاتا ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں آج بھی ہزاروں لوگ اسلئے جیلوں میں سڑ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بھوک، بیماری یا مجبوری میں کوئی چھوٹا جرم کیا اور ان کی پوری کہانی کسی نے نہ سنی۔ اسلام کا نظامِ عدل کہتا ہے الضرورات تبیح المحظورات ضرورت حرام کو بھی جائز بنا دیتی ہے۔ امریکی جج نے وہ کیا جو اسلامی عدل کا تقاضا تھا۔ سوال یہ ہے کیا ہم اپنے نظاموں میں کیوںپوچھنا سیکھیں گے، یا صرف "کیا” دیکھتے رہیں گے؟
ــــــــــ

ملیر انویسٹی گیشن پولیس کی بڑی کاروائی۔ خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ گرفتار

پولیس کی بڑی کارروائی، خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ3ساتھیوں سمیت گرفتارSSPانویسٹی گیشن ملیر ماجدہ پروین ہالیپوٹو کی سربراہی میں ملیر کینٹ پولیس نے کارروائی کرکے مرکزی ملزم عامر علی کو گرفتار کیا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش17سے18لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے بھی اہم شواہد حاصل ہوئے۔ مزید کارروائی میں محمد زین، نعمان خان اور سعید کو بھی گرفتار کر لیا متاثرہ لڑکی نے شناخت پریڈ میں مرکزی ملزم کو شناخت کر لیا۔
ــــــــــ

قابل توجہ بڑا مسئلہ

تہمینہ شیخ نے سیالکوٹ کی رہنے والی اس پڑھی لکھی خاتون کا قصہ بتایا جو کسی ریٹائرڈ فوجی کی بیٹی تھی۔ بہن اور اکلوتا بھائی بھی تعلیم یافتہ تھے۔ ہوٹل منیجر کی نوکری میں ویٹر سے محبت کی شادی کرلی اور پھر دو بچے پیدا کرنے کے بعد مارپیٹ اور خرچہ مانگنے سے تنگ آکر علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر کسی شادی شدہ سے ایک شادی کی لیکن اس نے بچے قبول نہیں کئے۔ پھر دونوں آئیس کا نشہ کرنے لگے۔ آخرکار شوہر نے قتل کرکے گھر میں دفن کردیا اور پھر والدین کی آمد اور پولیس کی دھمکی پر بتاکر بھاگ گیا۔

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور احادیث صحیحہ کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کردیا جاتا تو پھر معاشرے کو مذہبی طبقے کی اس معاشرتی آفت کا سامنا روز روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہم بار بار ان باتوں کو دھراتے ہیں لیکن مذہبی طبقات کو مساجد اور مدارس میں درست تفسیر اور تشریح کی بہت سخت ضرور ت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

انمول انور محسود – انمول پنکی کوئین

انمول انور محسود

وزیرستان اور ٹانک کیلئے قابل فخر بیٹی انمول انور محسود نے سیشن جج، فوج میں کیپٹن اور اسسٹنٹ کمشنر تینوں عہدے کیلئے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ترجیح انتظامی عہدے کو دیدی۔ جب حضرت عمر نے حضرت شفاء بنت عبداللہ العدویہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ کے بازار کا انتظامی نگران مقرر کیا تھا اور حضرت صمرا بنت نہیک الاسدیہ رضی اللہ عنہا کو مکہ مکرمہ کا۔ ان کا بنیادی کام بازار میں خرید وفروخت،ناپ تول،اور تجارتی معاملات اور نظم و ضبط قائم کرنا تھا وہ بازاروں میں باقاعدہ گشت کرتی تھیں ۔ علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات میں شدت پسندی کے رحجانات پیدا کرنے میں بھی ہمارا کردار تھا اور ختم کرنیکی کوشش بھی ہمارافرض بنتا ہے۔ علماء کے فقہ وتفسیر کی الجھنوں کو دور کیا تو آسانی ہوگی۔
ــــــــــ

انمول پنکی کوئین

انمول پنکی کی ماں پنجابی اور باپ بلوچ ہے ۔حضرت اسحق کی والدہ ان کی خاندان سے اور حضرت اسماعیل کی والدہ غیر خاندان سے تھیں۔ حضرت یعقوب اور یوسف سمیت خاندان کو ہزاروں انبیاء اور بادشاہ سے نوازا گیا لیکن قریش انبیاء کے تسلسل سے محرومی کے باوجود بھی رسول اللہۖ کے دادا، والد ، چاچوں اور دیگر بعض صحابہ کرام کی قبل ازاسلام بھی عیسائیوں اور یہودیوں سے بہتر پوزیشن تھی۔ دور کے خاندانوں کے مکسچر میں اکثر اوقات صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ جب خاص لوگ کوکین سے مرگئے تو پنکی پر ہاتھ ڈال دیا لیکن جو شیشہ، آئیس، ہیروئن اور دیگر منشیات سے تباہ ہورہے ہیں۔ گھریلو تشدد اور دشمنی سے لیکر دہشت گردی تک منشیات کا بڑا عمل دخل ہے اور سرپر ست اعلیٰ صاحبان کا پتہ نہیں کہاں چرتے ہیں؟۔ قوم پر رحم کریں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے

حلالہ کے خاتمے کیلئے ٹھوس دلائل جسکے بعد اس لعنت کا باب بند ہوگا۔انشاء اللہ العزیز

قرآن میں سورہ الطلاق کی پہلی دو آیات میں طلاق کے حوالے بھرپور رہنمائی ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق واضح ہے۔ عورتوں کو اس کے گھر سے نکلنے اور نکالنے کی اجازت نہیںہے مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔کیونکہ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اللہ کی حدود کو پار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان عدت میں موافقت کی کوئی راہ نکال دیں۔پھر جب عدت مکمل ہو تو پھر معروف طریقے سے روکنے یا معروف طریقے سے عورت کو چھوڑنے کا حکم ہے۔ جس پراپنے میں سے دو عادل گواہ بنانے کی بھی ہدایت ہے جو اللہ کیلئے گواہی کو قائم کریں۔ پھر جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکال دے گا۔

سورہ طلاق کا یہ بنیادی نصاب ہے جس نے جاہلیت کے سارے دروازے بند کردئیے۔ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے ۔امام شافعی امام مالک کے شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد کے بھی امام شافعی شاگرد تھے۔

امام بخاری اورامام ابوداؤد دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ امام احمد بن حنبل کے دور میں عباسی خلفاء بہت متعصب قسم کے معتزلہ بن چکے تھے۔مامون الرشید، معتصم باللہ ، واثق باللہ نے امام احمد بن حنبل پر بہت تشدد کیا اور قید و بند میں رکھا۔ پھر جعفر متوکل علی اللہ نے232ھ میں خلافت عباسیہ کے99سال بعد خلافت سنبھالی تو اس نے امام شافعی کے مسلک کو اختیار کیا۔ اور معتزلہ کا جڑ سے خاتمہ کردیا۔99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ کو لوٹا دیا تھا۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کو رائج کیا مگر امت مسلمہ کا رحجان قرآن کی طرف کمزور اور احادیث کی طرف بڑھ گیا۔ امام ابوحنیفہ امام باقر، جعفر صادق اور امام زید کے بھی شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ نے اپنے رحجان میں قرآن کو ہی مقدم رکھا تھا۔اگر امام ابوحنیفہ کی طرف امت مسلمہ کارخ موڑ دیا گیا تو ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا”۔ (مقام محمود تفسیر پارہ عم۔ سورہ القدر )

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح ، جائز ہیں اور دلیل صرف ایک حدیث ہے۔عویمر عجلانی نے لعان کیا تو بیوی کو تین طلاق دی۔ قارئین غور کریں کہ کیا اس سے حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز ثابت ہوتا ہے؟۔ امام شافعی کے نزدیک لعان طلاق بائن ہے جسکے بعد طلاق واقع بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں عدت کا لحاظ رکھے بغیر چھوڑنے کی تفسیر ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری شافعی مسلک کے عباسی خلیفہ جعفر متوکل علی اللہ کے دور میں رائج ہوئی ہے۔ جس میں شافعی مسلک کو امام شافعی سے بھی زیادہ احادیث کے اندراج کا کمال انجام دیا ہے۔ علامہ اقبال نے لکھا ہے کہ
کمال جوش جنوں میں رہا گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

ا قبال خانہ کعبہ نہیں گئے مگر شاعرانہ تخیل میں غلافِ کعبہ کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کردیا۔ امام بخاری نے فقہ سے نابلد ہونے کے سبب امام شافعی کی تائید اور امام ابوحنیفہ کی تردید میں وہ آیت اور حدیث درج کردی جس نے امت کے روشن دن کو رات کی تاریکی میں ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا۔

باب: من اجاز الطلاق الثلاث کے تحت لکھا کہ
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان (سورہ بقرہ آیت229)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے”۔

رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی پھر اس نے کسی اور شخص سے شادی کی اور نبیۖ کو اپنے دوپٹے کا پلو دکھایا کہ اسکے پاس ایسا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: کیا رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو ، نہیں لوٹ سکتی یہاں تک کہ تم اس کا شہد نہ چکھو جیسا کہ پہلے کا چکھا اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے”۔ (صحیح بخاری)

امام بخاری نے قرآن کی آیت کو بھی اپنی کج فہمی کی وجہ سے درج کیا اور حدیث کو بھی۔ یہ تو امام شافعی کا استدلال بھی نہیں تھا۔ ہمارا ایک دوست عبدالمنان کنڈی عرف بانٹی کہتا تھا کہ ”نابلد چوروں نے مسجد کو توڑ ا تھا”۔ پہلے مسجد کا تقدس ہوتا تھا اور اس میں چوری کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دروازہ بھی کھلا رہتا تھا۔ ایک طرف سے چوروں نے مشکل سے سوراخ کیا ہوگا اور پھر پتہ چلا کہ یہ تو مسجدہے۔

قرآن کی جو آیت الگ الگ طلاق دینے کی دلیل تھی تو یہ بخاری میاں اس کو امام شافعی کی دلیل میں لائے۔ پھر حدیث بھی وہ لائے جو صحاح ستہ میں کسی اور نے یہ حرکت نہیں کی اور عقلاً و نقلاً کسی طرح کسی کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ جبکہ بخاری کی اپنی دیگر روایات میں بھی اس کی بالکل نفی ہے لیکن جو علماء ومفتیا ن اس کو نقل کرکے لوگوں کی عزتوں کو تار تار کرتے ہیں وہ شرم، حیا، ایمان، انسانیت اور غیرت سے عاری ہیں۔

بخاری کے استاذ احمد بن حنبل نے اپنے استاذ امام شافعی کا مسلک اختیار نہیںکیا اور اکٹھی تین طلاق کو سنت یا بدعت میں متذبذب تھے۔ان کا ایک قول سنت اور دوسرا بدعت کاہے۔

امام ابوداؤد اپنے استاذ امام احمد بن حنبل کے مسلک پر تھے اور اس نے وہ حدیث درج کی جس نے محدثین کرام پر اس افادیت کو واضح کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ ”کسی ضعیف حدیث کو بھی مسترد مت کرو،اگر اس کی تطبیق ہوسکتی ہو اور قرآن کے خلاف کسی صحیح حدیث کو بھی مت مانو”۔ چنانچہ ابوداؤد نے حضرت رکانہ کے والدین کا واقعہ نقل کیا ہے جب ابورکانہ نے اپنی بیوی ام رکانہ سے سورہ طلاق کے مطابق علیحدگی اختیار کی اور اس پر گواہ بھی بنالئے۔ پھر کسی اور عورت سے شادی کی پھر اس نے نامرد کا الزام لگایا اور اس کو طلاق دی تو پھرنبیۖ نے فرمایا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟” انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا۔ نبیۖ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات کی تلاوت فرمائی۔

ابوداؤد کی یہ روایت قرآنی تعلیمات کا زبردست آئینہ ہے لیکن امام بخاری اپنے دور کے عباسی خلیفہ متوکل کا ہم مسلک تھا اسلئے حکمران نے چار چاند لگادئیے۔ جیسے آج مفتی عبدالرحیم پاسدارانِ اقتدار کامنظور نظر ہے ۔ جاوید چوہدری ،سلیم صافی اور میڈیا نے مقبولیت و شہرت کے بڑے درجے پر پہنچایا ہے۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ افراد کا قتل بھی شریعت قرار دیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ کتا کچھ مالک کیلئے بھونکتا ہے اور کچھ اپنے لئے۔ حنفی علماء بھی کچھ صحیح بخاری کا تقدس سمجھتے ہیں اور کچھ حلالہ کے چکر کاہے۔پھر رفع الیدین کی احادیث کیوں نہیں مانتے ؟۔ میٹھا میٹھا ہپ ،کڑوا کڑوا تھوتھو؟۔

سورہ الطلاق اور سورہ بقرہ میں تضاد نہیں۔ سورہ طلاق میں حلالہ کی لعنت ختم تو سورہ بقرہ نے گنجائش نہیں چھوڑی۔ فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد آیت230البقرہ کا تعلق البقرہ229کے فدیہ اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا عورت کی آزادی سے ہے(اصول فقہ)۔ امام ابوحنیفہ کے پیشرو سعید بن جبیر سے محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان و شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان تک ایمان کی شمع جلانے کاایک تسلسل رہا۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ والد کورسول اللہۖ کی قبرسے آواز آئی۔ ہم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر پر گئے تھے توسید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی قبر سے بزبانِ حال شیخ سعدی کے اس شعر کو پڑھ کر اپنے تأثرات کا اظہار فرمایا تھا۔

سورہ الطلاق میں حکم تھا کہ ”اے نبی ! جب تم لوگ النساء کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور عدت کو گن کر اس کا احاطہ کرو…”

دلے ودلال عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کیلئے بھی حیلے تراش لیتے ہیں تو حلالہ کیلئے بھی حیلہ تراش سکتے تھے کہ اللہ نے سورہ الطلاق میں جس طرح کا حکم دیا ہے تو اس کی کوئی خلاف ورزی کرے تو ہوسکتی ہے اور اکٹھے تین طلاق بھی دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ چوری اور زنا منع ہے لیکن کوئی کرے تو منع ہونے کے باوجود بھی چوری اور زنا کرسکتا ہے۔

امام مالک کے سوفٹ وئیر کو جب اپڈیٹ کردیا گیا تو موطأ امام مالک میں روایت درج کردی کہ عبداللہ بن عباس سے کسی نے اکٹھی تین طلاق پر فتویٰ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پہلے تم طلاق دیتے ہو اور پھر فتویٰ پوچھتے ہو؟۔ تم نے اللہ کا خوف نہیں کھایا اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ”جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے راستہ کھول دے گا”۔ امام مالک کو ہشام بن عبدالملک نے موطا کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی پیشکش کی لیکن انکار کردیاتھا۔

جب ایک عورت کو اس کا شوہر اکٹھی تین طلاق دے ۔پھر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو یہ بھی درست ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرا اور اگر وہ عدت کے مطابق مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دیتا تو پھر یہ اللہ کا خوف بھی تھا اور عورت بھی رجوع کیلئے راضی ہوسکتی تھی۔ امام مالک نے اپنے طور پر یہ بالکل درست نقل کیا لیکن ان پر حکمرانوں کا بہت سخت دباؤ بھی تھا۔ اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں تھی کہ عبداللہ بن عباس کے فیصلے اور فتوے میں فرق تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصلہ تنازعہ کی صورت میں ہوتا ہے لیکن فتویٰ تنازعہ کی صورت میں نہیں ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے یہ استفتاء لیا کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دئیے تو فتویٰ کیا ہونا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نمبر1:رجوع ہوسکتا ہے۔ اس پر قرآن کی کئی آیات کی وضاحت موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سمجھتے تھے۔
نمبر2:رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جب عورت راضی نہ ہو۔

فیصلہ تنازع کی صورت میں ہوتا ہے اور تنازع میں عورت راضی نہیں ہوتی ہے اور جب عورت راضی نہیں ہو تو رجوع بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عبداللہ بن عباس کے قول اور عمل میں تضاد کے اندر عمل کو ترجیح دینے والے جاہل یا حلالہ کے رسیا ہیں۔

حضرت عمر کے دور میں تنازعہ کا معاملہ تھا اسلئے تین طلاق پر عورت کے حق میں فتویٰ دے دیا گیا۔ امام شافعی نے اور بہت سارے معاملات کی طرح اس میں بھی حضرت عمر کے حق میں مہم جوئی کی ہے کہ تین طلاق نہ صرف واقع ہوتی ہیں بلکہ سنت بھی ہیں اسلئے کہ انہوں نے روافض کا داغ بھی مٹانا تھا اور اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ اس حدیث سے زیادہ فاطمہ بن قیس کی طلاق کا عمل تھا جس میں ان کو عدت عبداللہ بن مکتوم کے گھر میں گزارنے کا حکم دیا گیا ۔حالانکہ ان کے شوہر نے مرحلہ وار تین طلاق کا نصاب بھی پورا کیا جو امام شافعی کیلئے دلیل نہیں مگر لعان کی روایت سے طلاق کا یہ عمل زیادہ حضرت عمر کے فیصلے کو تقویت بخشتا ہے۔ جبکہ حضرت علی کا حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دینا مزید اس موقف کی تائید ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو رجوع کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔

رسول اللہ ۖ کیلئے ایلاء کے موقع پر تمام ازاوج مطہرات کو طلاق کا اختیار دینے کے حکم سے حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس کے فیصلوں کی زبردست توثیق ہے۔

اصل مسئلہ اس وقت بگڑ گیا کہ جب عبدالملک بن مروان نے اپنی بیوی ام بنین کو طلاق دی اور وہ طلاق پر خوش تھی۔ ام بنین حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بہن اور عبدالملک بن مروان کے چچا عبدالعزیز کی صاحبزادی تھی۔ عبدالملک بن مروان کو خادم کے ذریعے پتہ چلا کہ ام بنین نے عدت میں بھی معذرت کرنے کا یامعافی مانگنے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا ہے۔ پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان نے خود رجوع کرلیا ،جس پر اس کا درباری مذہبی طبقہ اس بات پر متفق ہوا کہ طلاق رجعی شوہروں کا حق ہے۔ اس سے پہلے ہشام بن عبدالملک نے چوتھی بیوی کو طلاق دی اور اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں عورت سے شادی کی تو حضرت سعید بن مسیب نے فتویٰ دیا کہ یہ غلط ہے۔ جس طرح شوہر کو عدت میں رجوع کا حق ہے تو عورت جس کیلئے عدت گزارنے پر مجبور ہے تو مرد کا نکاح باقی ہے اور جب تک عدت پوری نہیں ہوتی تو پانچوں نکاح جائز نہیں ہے۔ اس پر سعید بن مسیب پر تشدد کے پہاڑ توڑدئیے گئے لیکن وہ ڈٹ گئے۔ یہاں تک کہ پھانسی کے پھندے تک پہنچایا اور اس نے ستر کھلنے کے خوف سے چھڈہ بھی پہن لیا۔

امام ابوحنیفہ نے سعید بن مسیب کے مسلک کو اپنایا تھا کہ عدت میں نکاح باقی رہتا ہے۔ جب دوسری طرف ایک مزید درباری مؤقف سامنے آیا کہ طلاق بائن سے نکاح ختم ہوجاتا ہے اسلئے عدت عورت پر باقی رہتی ہے لیکن مرد پر نہیں رہتی ہے اور اس سے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ بیوی مرنے کے بعد طلاق ہوجاتی ہے تو اس کو دیکھنا جائز ہے کہ نہیں۔ مفتی زر ولی خان نے کہا کہ ” علامہ شامی نے جزیہ لکھا ہے کہ ولہ ان یری وجھا ”اور شوہر کیلئے اجازت ہے کہ اس کا چہرہ دیکھے”۔

حضرت ابوبکر صدیق کی بیوی نے ان کی میت کو غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ حضرت عائشہ سے نبیۖ نے فرمایا کہ آپ پہلے فوت ہوگئیں تو میں خود غسل دوں گا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ”میں غم میں بھول گئی تھی ورنہ نبیۖ کو میں نے غسل دینا تھا”۔ فقہاء نے میت کے غسل کو ایک کمائی کا شعبہ بھی بنارکھا تھا اور حکمرانوں کیساتھ انہوں نے فقہی مسائل کی ترتیب بھی مختلف مرتب کی تھی۔

عراق کے ایک گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی بہت زیادہ خوبصورت تھی۔

امیر معاویہ کے بھائی یا یزید کو پسند آگئی اور اس کے ساتھ عشق ہوگیا۔ امیرمعاویہ نے اس کو بلایا اور کہا کہ میری بیٹی آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ گورنر کو امیرالمؤمنین امیر معاویہ کی دامادی کا شرف مل جاتا تھا تو اور کیا تھا۔ جب ہاں کردی تو امیر معاویہ نے کہا کہ تم شادی شدہ ہو اوربیٹی شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اسے سوکن برداشت نہیں۔ اس کا علاج بھی یہ دریافت کیا کہ وہ اکٹھی تین طلاق دے ۔جب اس نے تین طلاق دی تو کچھ لوگ بھی گواہ بنادئیے۔ بیٹی کو بلایا تو اس نے کہا کہ ہائے، ہائے یہ تم نے کیا کیا؟۔ تمہاری اتنی اچھی بیوی ہے اور تم نے لالچ میں طلاق دے دی۔ میں تمہارے اوپر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ میرا اس شادی سے صاف انکار ہے۔

پھر جب یزید نے اس عورت کیلئے رشتہ بھیج دیا۔ جو رشتہ لیکر جا رہا تھا تو اس نے امام حسن یا امام حسین سے بات کی۔ جس پر اس نے کہا کہ میری طرف سے بھی رشتہ کی پیشکش کردو۔ اس عورت نے نواسہ رسول کا رشتہ قبول کیا تو یہ بڑی رنجش بن گئی۔ ایک دن عبداللہ بن سلام پہنچا تو اس نے کہا کہ میں بہت غریب ہوگیا ہوں ۔ میری کچھ امانت میری سابقہ بیوی کے پاس پڑی ہے تو اگر مجھے وہ مل جائے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے دونوں کا آمنا سامنا کروایا تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر اس سے کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں اور وہ دونوں میاں بیوی آپس میں خوش ہوکر مل گئے۔ امام حسن کا کہتے ہیں کہ 3سو عورتوں کو طلاق دی تھی تو شاید یہ ایک طلاق بھی300کے برابر ہی شمار کی ہوگی۔ اور اگر یہ حضرت امام حسین نے کیا تھا تو ممکن ہے کہ اس کا بدلہ اتارنے کیلئے یزید نے کوفیوں سے خط لکھوائے ہوں۔

حکمرانوں کی چال چلن سے واقعات مسخ کردئیے جاتے ہیں لیکن واقعات سے زیادہ مسائل کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کوئی اس واقعہ سے ثبوت پکڑے گا کہ حلالہ کروایا ہے تو بھی برا ہے لیکن اس سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ تین طلاق کو سیاسی و مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہاتھا۔ لوگوں سے حکومت کے ساتھ وفاداری قائم کرنے کیلئے بھی اکٹھی تین طلاق کو ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جب حجاج بن یوسف نے لاکھوں افراد کو بے گناہ شہید کیا تو جبری طلاق اور جبری طور پر بیویاں چھین لینے کے واقعات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔

دوسروں نے تو اپنے شرم وحیا کے مارے اپنی عزتوں کی یہ داستانیں نہیں سنائی ہیں لیکن حجاج بن یوسف نے جب ایک لڑکی ہند بنت نعمان سے جبری شادی رچائی اور ایک دن چھپ کر اس نے کان لگاکر سنا تو یہ شعر گارہی تھی کہ میں اصل عربی گھوڑی ہوں ۔جس پر خچر چڑھتا ہے۔ اگر اچھا بچہ جن لیا تو یہ میری وجہ سے مناسب ہے اور اگر خچر بچے کو جنم دیا تو خچر سے خچر ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر مروان بن عبدالملک نے نہ صرف اس کی یہ بیوی چھین لی بلکہ اس کو حکم دیا کہ خود ہی اونٹ کی رسی پکڑ کر ہی میرے پاس پہنچاؤ۔ ہند بن نعمان راستے میں اس کو ذلیل اور خوب رسوا کرنے کیلئے جملے کستے ہوئے محظوظ ہوتی رہی اور جب عبدالملک بن مروان کے حوالے کیا تو پھر ہند بن نعمان نے اس کو ذلیل کرنے کیلئے کہا کہ ایک ہیرے جیسی عورت کو یہ بہت کم قیمت میں ہی تیرے حوالے کررہاہے۔

رسول اللہۖ کے دور میں ایک عربی خاتون ہند بن نعمان سے فارس کا بادشاہ زبردستی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔
لیکن اس کا باپ قید ہوکر قتل کردیا گیا۔ اس کی بادشاہت تہس نہس ہوگئی اور دوسرے قبائل نے ہند بن نعمان کو پناہ دی اور عربوں نے مل کر معرکہ ذی قار لڑا اور جیت گئے۔ پھر اسلام نے قرآن وسنت کے ذریعے زبردست انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین دنیا کو دئیے لیکن یہی سفر پھراس ہند بنت نعمان تک پہنچ گیا جس کی زندگی کو پہلے حجاج بن یوسف اور پھر عبدالملک بن مروان نے کھلواڑ بنادیا تھا۔ دونوں ناموں میں ہند بنت نعمان بن بشیر اور ہند بنت نعمان بن منذر کا فرق تھا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ”۔ دور آمریت میں سارا کھیل جاہلیت کا بنادیا گیا۔

امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک اکٹھی تین طلاق بدعت ہیں اور اس کیلئے دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے جس میں ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس پر نبی ۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟ ۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟”۔ (نسائی)

محمود بن لبید ایک صحابی تھے اور97ھ میں فوت ہوگئے اور ممکن ہے بلکہ لازم ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام مالک سے ملاقات بھی رہی ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اشخاص کے نام پھر کیوں نہیں لئے؟۔ اس کا سید ھا جواب یہ ہے کہ حضرت عمران بن حصین کی وفات بصرہ میں52ھ کو ہوئی اور صحیح مسلم میں ان کی احادیث ہیں کہ جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے روایت بیان مت کرو۔ اللہ کی نازل کردہ آیات کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی سنت کو اپنی رائے سے بدل کر جبراً مسلط کردیا گیا ہے۔حضرت ابوہریرہ کا وصال59ھ کو ہوا۔ انہوں نے کہا جو بعض باتیں رسول اللہ ۖ سے محفوظ کی ہیں اگر میں نے بیان کیں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔ (صحیح بخاری )

حضرت سعد بن ابی وقاص کے سامنے ایک جاہل دمشق کا گورنر بکتا ہے کہ جو حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے تو وہ جاہل ہے۔۔۔۔
حضرت سعدبن ابی وقاص نے فرمایا کہ یہ مت کہو! میں نے نبیۖ کو دونوں احرام ایک ساتھ باندھتے خود دیکھا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص پھر آخر میں گوشہ نشین ہوگئے۔ یہ تو امیر معاویہ کے دور کی بات ہے۔ پھر بعد میں کیا ہوا کہ جب یزید مسلط ہوگیا پھر عبداللہ بن زبیر کے خلاف اس مروان بن حکم نے متوازی حکومت قائم کی جس کی بیعت بھی عبداللہ بن زبیر نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ جب99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر بیٹھ گئے اور101ھ میں زہر سے شہید کردئیے گئے تواس دور کو خلافت راشدہ اور مہدی کا دور قرار دیا جانے لگا۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے نکاح کاذکر ہے جماع کی ضرورت نہیں ہے تو95ھ میں شہید کیا گیا۔ حسن بصری نے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں آزادی کا سانس لیا تو واضح کردیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور یہ سب کو معلوم تھا کہ نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا تھا اور محمود بن لبید کی روایت میں جن شخصیات کے نام نہیں ہیں تو وہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر تھے۔لیکن پھر یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک اقتدار میں آگئے اور حسن بصری نے نہ صرف اس سے رجوع کیا جو صحیح مسلم میں واضح ہے بلکہ حرام کے لفظ پر بھی حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیا جس کا ذکر بخاری میں ہے۔

امام ابو حنیفہ وامام مالک کے نزدیک رسول اللہۖ محمود بن لبید کی روایت میں غضبناک ہوگئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے لیکن چونکہ نبیۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا اسلئے اس پر عمل نہیں ہوسکا تو اگر بعد میں کوئی عمل کرتا ہے تو یہ بدعت ہے لیکن جہاں تک رجوع کا تعلق ہے تو قرآن اور سنت اور فطرت سب میں رجوع کی گنجائش ہے۔ اگر پھر بھی کوئی خارش اور خار کھاتا ہے اسلئے کہ شیطان نے انگلی دی ہوتی ہے تو وہ مولوی کے پاس جاتا ہے اس نے بھی شیطان کی بنیاد پر حیلے تراش کر اپنا کام نکالنا ہوتا ہے اور قرآن چھوڑنے کی سزا مل جاتی ہے۔

امام بخارینے الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان غلط جگہ درج کی ہے
لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس سے بھی بڑی جہالت کی ہے کہ جب قرآن میں دو طلاق واقع ہوسکتی ہیں تو تین بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ حالانکہ قرآن میں دو مرتبہ سے دو کی بھی نفی ہے لیکن جب عورت راضی نہ ہو تو پھر آیت228میں بھی واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا اور229میں بھی معروف کی شرط پر ہی رجوع ہے اور معروف کی شرط پر تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی آیات231اور232البقرہ میں واضح ہے۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس سے بڑی حماقت کی ہے کہ دو تو ایک ساتھ واقع ہوسکتی ہیں مگر تیسری مغلظ ہے اسلئے نہیں واقع ہوسکتی ہے ۔ یہ وہ کم عقل فقہاء ہیں جنہوں نے دو طلاق جیب میں ہوں تب بھی تیسری طلاق کے واقع ہونے کا فتویٰ دیا ہے ۔ حالانکہ آیت230البقرہ میںتیسری طلاق نہیں بلکہ فدیہ کی صورت میں ہے کہ جب یہ کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی اور جب اس بات کو کنفرم کیا جائے تو پھر ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv