پوسٹ تلاش کریں

آپ دورِ انحطاط پرتوجہ دیں

مولانا اشفاق صدیقی جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم اسلام آباد نے اگر علامہ سید ریاض حسین شاہ کو متوجہ کیا تو امام اعظم ابوحنیفہ کے اس مسلک پر تمام مکاتب فکر متفق ہوسکتے ہیں جو اصول فقہ میں آیت230البقرہ کو دوٹکڑوں میں بانٹ کر پڑھایا جاتاہے اور پھر قرآن وسنت کی طرف لوگوں کے رحجانات بدلیں گے۔
ــــــــــ

نمبر1:حتی تنکح زوجًا غیرہ بمقابلہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل:حنفی اصول فقہ

درس نظامی کا مقصد یہ تھا کہ طالب علم ہر علم میں سے کچھ نہ کچھ سیکھ لے تاکہ اس میں مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور دنیاوی علوم میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن ہر سائنس پڑھنے والا پھر سائنسدان بھی نہیں بنتا ہے۔ اصول فقہ میں حنفی استدلال بتایا گیا ہے کہ آیت سے واضح ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں آزاد قرار دیا گیا گیا ہے لیکن حدیث صحیحہ میں عورت کو نکاح میں ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ جمہور عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر ناجائز قرار دیتے ہیں لیکن حنفی حدیث کو قرآنی آیت سے متصادم قراردیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیتاہے۔

ایک طالب کو عربی ، قرآن اور احادیث کچھ بھی پتہ نہیں مگر عبارت کا مفہوم سمجھ کر امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ چلو ہم نے یہ مان لیا لیکن اس کا نتیجہ ایک حنفی فقیہ کو کیا نکالنا چاہیے تھا؟۔

بڑااچھانتیجہ:وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا”اور انکے شوہر اصلاح کی شرط پراس (عدت) میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق زیادہ حق رکھتے ہیں”۔البقرہ آیت:228

سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے عدت کے تین ادوار کو بھی واضح کیا ہے اور حمل کو بھی۔ اور عدت میں صلح و اصلاح کی شرط پر شوہر ہی کو زیادہ رجوع کا حقدار قرار دیا ہے اور عورتوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ان پر معروف طریقے سے انکے شوہروں کے ہیں۔ یعنی شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے تو بیوی کو رجوع سے انکار کا بھی حق حاصل ہے۔

اگر ہم ذخیرہ احادیث کا بغور جائزہ لیں تو کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی ہے کہ جس کو اس آیت سے متصادم قرار دے دیا جائے۔ جہاں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو اور وہ رجوع کرنا چاہتے ہوں باہمی اصلاح کی شرط پر لیکن نبیۖ نے اس آیت کے برعکس ان کو رجوع سے روک دیا ہو۔

الغرض ایک طرف اگر ہم ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی احادیث صحیحہ کے ذخیرہ سے آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کا ٹکراؤ اوراس سے استنباط دیکھ لیں اور دوسری طرف حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنے والی احادیث کے ذخیرہ سے

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا

کاٹکراؤ اور اس سے استنباط دیکھ لیں تو ہم ایک بہت واضح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو آیت228البقرہ کے اس جملے سے متصادم قرار دیا جائے اور اگر بالفرض کوئی متصادم ہو بھی تو حنفی اصول فقہ کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کو مسترد کردیا جائے اسلئے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ سے استنباط کی ضرورت ہے لیکن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا اس درجہ واضح ہے کہ اس میں کسی استنباط کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایک ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی گئی ہے تو اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جبکہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے” میں استنباط کی ضرورت ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔پھر اس سے احادیث صحیحہ کو واقعی متصادم قرار دینا بھی کوئی ایشو ہے لیکن عدت میں رجوع کے مد مقابل کوئی ایسی حدیث ہی نہیں جو اس سے متصادم ہو ۔

امام اعظم ابوحنیفہ نے صرف اصولوں کی نشاندہی کی تھی مگر قاضی القضاة چیف جسٹس سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب حنفی اپنے اساتذہ کرام سے انحراف کرتے گئے تو امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کا اس میں کیا قصور ہے؟۔ امام ابوحنیفہ نے تلقین کی تھی کہ ضعیف سے ضعیف حدیث کی تطبیق ہوسکے تو مسترد کرنا غلط ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے قاری محمد طیب تو مفتی محمد شفیع کے بھی استاذ تھے اور انہوں نے بھی اجتہاد وتقلید کی شرعی حیثیت پر کتاب لکھی ہے اور مفتی تقی عثمانی نے بھی لکھی ہے۔ دونوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ اگر حضرت عمر کے سامنے پیش کئے جاتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت توڑ دیتے کہ قرآ ن واحادیث کایوں بھی کوئی بیڑہ غرق کرتا ہے یہودیوں کے دلے اور دلال؟۔

قرآن وحدیث میں طلاق شدہ اور کنواری کے احکام الگ الگ ہیں۔

اگر حدیث سے کنواری مراد لی جائے اور آیت سے طلاق شدہ تو قرآن وحدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں میری اس گزار ش پر میری زبردست تائید اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں دوسری کتابیں پڑھ کر اس مسئلے کا حل نکالوں ۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ ” مسلک حنفی میں85%مسائل امام ابو حنیفہ کے خلاف ہیںاور ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کی بات درست ہے یا نہیں؟ مگر امام مھدی آئیںگے تو وہ جو بھی بات کریںگے وہ حق ہوگی”۔

جب امام ابوحنیفہ کے نام پر غلط مسلک رائج کرکے حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزتیں لٹیں تو مہدی کا انتظار کریں؟ یا اگر اس سے پہلے درست بات سمجھ میں آئے توعورتوں کی عزتوں کو امام ابوحنیفہ کے درست مسلک سے بچانا شروع کریں؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے علماء دیوبند کا لکھا کہ ”تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو مہدی کی بھی مخالت ہی کروگے”۔

حنفی مسلک سے علماء کے انحراف کا ایک واضح آئینہ

اصول فقہ کے میرے استاذ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی کے استاذ تھے ۔ جب کراچی میں صرف ایک مدرسہ دارالعلوم کراچی نانک واڑہ تھا۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے بھی مولانا بدیع الزمان استاذ تھے اور ان دونوں کے ایک استاذ مولانا عبدالحق میرے پیر بھائی تھے۔

جب مرشد حاجی عثمان پر فتوے لگانے والوں کو دھول چٹائی تو میں مولانا بدیع الزمان نے اپنے بیٹے مولانا عطاء الرحمن سے پوچھا کہ یہ وہی طالب علم تو نہیں جو چائے زیادہ پیتا تھا اور پھر مولانا بدیع الزمان کے ہاں میں نے حاضری بھی دی تھی۔

حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مد مقابل جو حدیث مسترد ہے فنکاحھا باطل باطل باطل تو یہ کتب میں نہیں ہے۔

اصول فقہ میں 200احادیث کا خلاصہ ہے جس کے متعلق حد تواتر تک پہنچنے کا دعویٰ ہے البتہ متواتر و خبر احاد کی تقسیم بعد کی اصطلاح ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن کی مخالف ہر ایک حدیث غیر متواتر اور خبر واحد ہے جو مسترد ہے اور قرآن سے متصادم نہیں تو ضعیف حدیث بھی مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”امام ابوحنیفہ صرف اور صرف17احادیث مانتے تھے”۔جب عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پونے تین سالہ دور اقتدار میںممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو پھر ان کی وفات کے بعد احادیث صحیحہ کو ضعیف قرار دینے اور من گھڑت احادیث کی کثرت کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا۔

حنفی فقہاء نے ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کو باطل قرار دینے کی احادیث صحیحہ کو اپنے زعم کے مطابق متصادم قرار دیا اور جب میں نے اپنے استاذ مولانا بدیع الزمان کے سامنے بات رکھی تو انہوں نے نہ صرف اس کو قبول کیا بلکہ تھپکی دی کہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ کیونکہ جہاں اتنی ساری احادیث کا انکار تھا تو دوسری طرف جب ضرورت پڑتی تو مسئلہ کفوء کی بنیاد پر کمزور لوگوں کی بیٹیوں کو بھاگنے کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا تھا مگر طاقتور طبقے کی بیٹیوں کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اجازت نہیں تھی۔ بنوامیہ ، بنوعباس اورعربوں کی بیٹیاں عجم کیساتھ بھاگے تو ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ، جعلی عثمانی مفتی تقی عثمانی بیٹی کو ٹیوشن پڑھانے کیلئے استاذ رکھے اور وہ اس پر فریفتہ ہوجائے تو مارپیٹ کر دوسری جگہ شادی کرنے پر مجبور کردے لیکن قرآن سے تصادم کے نام پر احادیث کا ذخیرہ مسترد کیا جاتا رہے؟۔

سورہ بقرہ228میںواضح ہے کہ ”عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے” جس سے صحیح، ضعیف حتی کہ من گھڑت حدیث بھی متصادم نہیں ۔قرآن متصادم نہیں اور اللہ کا دعویٰ باطل تو مدارس ہدایت یاگمراہی کے قلعے ہیں ؟۔

بڑے بڑے حنفی مدارس ایک کاروبار اور بڑامافیا بن گئے۔
مدارس میں اصول فقہ کی کتب اگر سورہ البقرہ آیت230کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک جگہ پڑھائیں تو مالکی، شافعی، حنبلی کے علاوہ اہل تشیع اور اہل حدیث بھی اپنی اپنی فقہ چھوڑ کر امام اعظم ابوحنیفہ کی فقہ کو رائج کردیں گے۔

وجعلوا القرآن عضین ”اور قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”۔حنفی اصول فقہ میں قرآن کو بوٹی بوٹی کرنے کی مثال البقرہ230ہے

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ(سورہ البقرہ آیت230)

فان طلقہا فلاتحل لہ میں”ف” کا تعقیب بلامہلت کا تعلق اس سے متصل فدیہ سے ہے۔ فلاجناح علیھما فما افدت بہ ” اور ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں پھر عورت کی طرف سے وہ فدیہ کرنے میں”۔

اصول فقہ میں حنفی مسلک یہ ہے کہ آیت230البقرہ کی اس طلاق کا تعلق جس میں عورت کیلئے حلالہ کے بغیر چارہ نہیں رہتا ہے اس سے متصل آیت229البقرہ کے آخر فدیہ دینے کی صورت سے ہے جبکہ شافعی مسلک یہ ہے کہ اس کا تعلق اس آیت229البقرہ کے شروع الطلاق مرتان کیساتھ ہے۔

حنفی مدارس جان بوجھ کر اپنے معتقد کی بیوی چودھنے کیلئے یا جہالت کی بنیاد پر واللہ اعلم بالصواب امام ابوحنیفہ کے مسلک پر فتویٰ نہیں دیتے جو اصول فقہ میں آج بھی پڑھایا جارہاہے بلکہ شافعی مسلک کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ جس میں اس طلاق کو آیت229کے آخر فدیہ کے بجائے شافعی مسلک کے عین مطابق آیت کے شروع الطلاق مرتان سے جوڑ دیتے ہیں۔

سوال تعصب کا نہیں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ٹھیک قرار دیا جائے یا امام شافعی کے مسلک کو اور نہ یہ ہے کہ سنی مسلک میں مقلدین کی عورتوں کو حلالہ کی لعنت سے بچایا جائے یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے جس مسلک کو اصول فقہ میں ہمارے مدارس بریلوی دیوبندی پڑھاتے ہیں یہ درست ہے یا غلط ہے؟۔ اگر درست ہے تو فبہا اور غلط ہے تو اصول فقہ سے بھی اس کو یکسر نکال دیں۔ میرے نزدیک مولانا بدیع الزمان نے جو اصول فقہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں پڑھائی تو وہ بالکل درست ہے اور ہدایت کا سب سے بہترین ذریعہ بھی لیکن میرے لئے بہت ہی قابل احترام بریلوی مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے100فیصد حنفی مسلک کی غلط ترجمانی کی ہے کہ فان طلقہا تعقیب بلا مہلت کی وجہ سے اس کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں بنتا تو قرآن و احادیث سے واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔

علامہ سید محمد یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلک حنفی کی بقاء کا ذریعہ صرف اور صرف اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ہی ہیں”۔

مولانا غلام رسول سعیدی نے12جلدوں میں قرآن کی تفسیر تبیان القرآن اور بخاری ومسلم دونوں کی بہت بڑی بڑی شروحات لکھی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”اسکی یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے”۔ لیکن خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ فقہ حنفی کے سر پر عزت کا تاج اس عتیق گیلانی کے ہاتھ سے رکھا جو علماء دیوبند کا ادنیٰ شاگردہے۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کی تفسیر فقہ حنفی کے مؤقف کی تائید حدیث سے کی کہ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔مسلک حنفی کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ ان دونوں طلاق کے بھی ”ف” کی وجہ سے تسریح باحسان ہی کو تیسری طلاق قرار دیا جائے۔ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا عمل بھی واضح کیا۔

جب حنفی مسلک اور احادیث کے مطابق دو مرتبہ طلاق کے ساتھ آیت229میں تسریح باحسان کی تیسری طلاق کو جوڑد دیا اور آیت230میں حلالہ کی طلاق کو اپنے سے متصل فدیہ کے ساتھ جوڑ دیا تو پھر اسلام دین فطرت کی بنیاد کو صحیح رکھ دیا ہے۔

پھر حتی تنکح زوجًا غیرہ سے عورت کی آزادی مراد لینا100فیصد درست ہے لیکن آیت میں آزادی کا ہدف ولی سے نہیں اپنے سابقہ شوہر سے آزادی ہے۔ تاکہ منکر طریقے سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو جائے اور کچھ عرصہ پہلے بنوں شہر پختونخواہ میں ایک شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو مولوی نے فتویٰ دیا اور عورت کا زبردستی کی بنیاد پر حلالہ کیا گیا۔ جس پر عورت نے کیس کیا اور مولوی جیل میں گیا۔ زبرستی سے نکاح کے درست ہونے کا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںبھی موجود ہے جو چھوکرے مفتی زبیر نے مرتب کیا ہے اور جس کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو وفاق المدارس میں پاس کرنے کا جھانسہ دیکرہوس کا نشانہ بنایا تھا تو اس طرح کی سفارشات کا ایک مافیا بن گیا ہے۔

اگر اصول فقہ کی کتابوں میں آیت230البقرہ کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک ساتھ پڑھایا جائے تو اس سے پہلے کی آیات228البقرہ اور229میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر معروف رجوع کی اجازت واضح ہوگی اور بعد کی آیات231اور232میں معروف کی شرط پرباہمی رضا مندی سے رجوع بالکل واضح ہوگا۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں آئے گا اور علماء ومفتیان اور عوام قرآن سے ہدایت پائیں گے اور مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ،اہل حدیث، پرویزی ، غامدیہ کے دلے و دلال سب قرآن ، احادیث صحیحہ اور فقہ حنفی کو ماننے پر بہت خوشی کیساتھ تیار ہوں گے اور مذہب کے نام پر تفریق و انتشار اور فتنہ و فسادات پھیلانے کی سبھی دکانیں بند ہوں گی۔

مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی حتی تنکح پر جماع کا اضافہ حدیث سے نہیں کرتے بلکہ نکاح کو جماع کہتے ہیں۔
سعید بن جبیر نے حلالہ کیلئے نکاح کو کافی کہاتو حجاج نے کافر کہا اور شہید کردیا۔
یہ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا اتفاق تھا کہ عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو 3طلاق ہو یا حرام کا لفظ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتاہے اور نبیۖ کو ایلاء میں بھی ازواج مطہرات کو اختیار کا حکم ملا۔ جو ایک طلاق کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی مانتے ہیںیہ بھی جاہلیت ہے اور تین طلاق کے بھی تو مزید بڑی جاہلیت ہے۔ قرآن، احادیث اور صحابہ کے اندر تضاد نہیں تھا ۔
ــــــــــ

مفتی ثمر قادری کی عقیدت

بالکل چھوٹی عمر تھی سیدی اعلی حضرت کی، نیکر نہیں صرف قمیص پہنی ہے۔ سامنے سے کچھ بازاری عورتیںآرہی تھیں، بے پردہ تو آپ نے جب انہیں دیکھا تو سامنے والا پلو اٹھا کے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ کچھ چھپانے والی چیز ظاہر ہوگئی۔ تو عورتیں ہنسنے لگیں، بازاری تھیں ناں انہیں کیا شرم؟ تو کہنے لگیں بچے چھپانے والی چیز کو ظاہر کردیا اور آنکھوں پر پردہ کرلیا۔ اعلی حضرت نے جو حکیمانہ جواب دیا ہلا کے رکھ دیا اس نے عورتوں کو، اس نے کہا میں نے اپنے گھر سے سنا ہے پہلے آنکھیں گندامنظر دیکھتی ہیں، پھر خیال ذہن میں آتا ہے، پھر وہ لالچ دل میں جاتا ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر بندے کا نفس گناہوں پر آمادہ ہوتا ہے، میں تمہارے جیسا گندا منظر دیکھوں گا نہیں میرے دل میں خیال آئے گا نہیں، میرا دل بہکے گا نہیں۔ اب آپ کو بات سمجھ آرہی ہے کہ نہیں آرہی آپ حضرات کو؟ یہ ہیں اعلی حضرت۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت خضرعلیہ السلام کے عجیب کمالات

مردہ مچھلی کا زندہ ہونا بہت کمال کی بات ہے۔ رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ مردے کیسے زندہ ہوںگے؟۔فرمایا: بنجر زمین سرسبز وشاداب ہوتے نظر آئی ہے۔ کہا کہ ہاں۔ فرمایا: ایسے زندہ ہوں گے۔ قرآن میں مردہ قوموں کے زندہ ہونے کیلئے بنجر زمین شاداب ہونے کی مثال دی گئی ہے۔جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ” مسلمان قوم اپنی امامت کی باری نگل چکی ہے اور یہ کبھی زندہ ہوگی اور نہ اقتدار ملے گا”۔ مسلمان سائنسدان جابر بن حیان نے اپنے دور میں اپنی لیباٹری کے اندر ایسا کاغذ تیار کرنا شروع کیا تھا جس کو آگ نہیں جلاسکتی تھی تاکہ علوم کے ذخائر محفوظ رہیں لیکن جاہل فقہاء اور حکام نے اس کی لیباٹری تباہ کردی۔

حضرت علی نے یہ فرمایا تھا کہ ”میں آبشاروں سے دنیا کو روشن کرسکتا ہوں ”

لیکن اس دور میں بجلی کے موجودہ آلات اور کارخانے نہیں تھے۔ زمانے کی ترقی کیساتھ ایجاد کا فائدہ ہوسکتا تھا۔ حضرت علی نے تین محاذوں پر لڑتے ہوئے فتنوں میں اپنا وقت گزار دیا۔ قابل احترام ساتھیوں عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام، ام المؤمنین حضرت عائشہ کے ساتھ جنگ جمل ہوئی اور اونٹنی کے پیر جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے کاٹے تو وہ تباہ ہوگئے۔ امیر حمزہ نے نشہ میں حضرت علی کی اونٹنی کاٹ ڈالی تھی اور حضرت علی نے جنگ کے خاتمہ کیلئے اماں عائشہ کی اونٹنی کے پیر کاٹے اور احترام سے محمد بن ابی بکر کے ساتھ رخصت کیا۔ صحابہ رہنماتھے توحسین پر یزید کو کیوں تم ترجیح دوگے؟۔

قرآن میں حضرت خضر کے بعد ذوالقرنین کا ذکر ہے۔

قرن زمانے کو کہتے ہیں اور ذوالقرنین کے معنی دو زمانے والا اور آج میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے زمانے والے سب ذوالقرنین ہیں اسلئے کہ ہم موبائل کے جدید نظام کا اپنے بچپن میں تصور نہیں کرسکتے تھے۔قرآنی قصے اسلئے ہیں کہ جب زمانہ کروٹ بدل رہاہو تو مسلمانوں کا غیب پر ایمان متزلزل نہ ہو۔ معتزلہ حسن بصری کے دور میں پیداہوئے ۔ بنوامیہ کے آخری حکمران اور پھر بنوعباس کے کئی حکمرانوں کے بعد آخر میں ان کا جبری خاتمہ کیا گیا۔ پھر سرسید احمد خان، وکالت کے پیشہ میں ناکام شمس العلماء شبلی نعمانی سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ علامہ تمنا عمادی ، غلام احمد پریز اور پھر جاویداحمد غامدی تک جا پہنچا۔ سرسیداحمد خان کا انتقال1898ء میں ہوا۔

hazrat-khizar-alaihi-assalam-ke-ajeeb-kamalat

1930ء کی دہائی میں البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کو دریافت کرکے جدید سائنس کی بنیاد رکھ دی۔

معراج کے سفر کو عقل کی بنیاد پر ناممکن قرار دینے والے کیلئے سائنس کی بنیادپر لمحہ بھر میں طویل سفر ممکن بن گیا۔حضرت خضر کے واقعہ میں حکمت تھی تو صحابہ کے واقعہ میں بھی حکمت تھی۔ اہل عقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔ حضرت علی نے باغیوں اور خوارج کے خلاف بھی جنگیں لڑیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے قیامت تک حضرت علی کو اسلئے اعلیٰ نمونہ قرار دیا۔

1981ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لیہ پنجاب میں اساتذہ اللہ والے تھے اسلئے فیلڈ مارشل اورDGISPRکے والدین کو اللہ والا سمجھتا ہوں۔ بیالوجی کے استاذ حضور بخش بغیر داڑھی اللہ والے تھے۔بیالوجی میں زندگی کے دو متضاد نظرئیے پرسوال اٹھایاتو استاذ نے خاموش تائید کی۔ کتاب پر اعتماد نہ ہوتو پڑھا نہیں جاتا۔ پھر کوٹ ادو میں خدا بخشKBبیالوی کے استاذ کٹر تبلیغی تھا ۔ میں بھی تبلیغی تھا۔ جو ٹیوشن نہیں پڑھتاتھا اس کو مارتا۔ میں نے داخلہ لیا، پڑھانہیں۔ پیسے مانگے تو گھر میں بتایا نہ تھا۔SDOواپڈا بھائی تبلیغی جماعت کا کہتے تھے کہ” راستہ خراب ہے ، اچھے لوگ بگڑ جاتے ہیں”۔KBکا بھائی کو بھی نہیں بتایا اور جان بھی چھڑائی۔

1982ء میں لیہ، رائیونڈ اور چیچہ وطنی کے دوست سے ملتے ہوئے کراچی اسٹیل مل پہنچا۔مولانا اللہ یار خان کے مریدوں نے نوکری اور مشکلات ختم کرنے کا لالچ دیکر بیعت ہونے کیلئے کہا اور پھر انکار کیا تووہ اس بات پر آگئے کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہ ہو، رسول اللہ ۖ سے براہ راست بیعت ہوگی لیکن میں نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کے شاگرد اور ایک اللہ والے کی یہ بات بھی نہیں مانی۔ جب کراچی دارالعلوم میں داخلہ لیا اور بلامعاوضہ دین کی خدمت کرنے کی بات کہی تو اس جرم میں میرا داخلہ کینسل ہوگیا۔ پھر حاجی محمد عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس وقت مشاہدہ دیکھا جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے درجہ اولیٰ میں تھا لیکن مزاحمت کرکے مشاہدہ دیکھنے سے انکار کردیا۔ اقبال نے اپنی عزیمت بھی لکھ دی ہے اور صوفی کو بھی مخاطب کیا ہے۔

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
تری نگاہ میں ہے معجزت کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا

قرآن کی سادہ زبان اور واضح الفاظ میں مسئلہ طلاق کو جاوید غامدی نہیں سمجھتا تو پیچیدگی ؟۔ تحریف کی ضرورت نہیں جدید تسخیرکائنات کا نظریہ قرآن نے پیش کیا۔

غیرت کے نام پر قتل اور عورت کو لباس کی آزادی کا جامعة الرشید کے مفتی ولی مظفر صدر ٹرمپ وغیرہ کو خط لکھے تو عروج ملت اسلامیہ کے فیصلہ کن مرحلے کاآغاز ہوگا۔

مفتی ولی مظفر نے وفاق المدارس میں اپنی خدمات دی ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کا رسالہ ”الفاروق” عربی میں آپ نکالتے تھے۔ کراچی بہادر آباد کے مشہور مدرسہ مولانا یحییٰ مدنی کے جامعہ مہدالخلیل کے منتظم کو مفتی ولی مظفر نے انٹریو دیا ہے جو قارئین کیلئے حوصلے کا باعث ہے۔ سہیل وڑائچ نے جیوپر افراسیاب خٹک کا مختصر انٹرویو کیا ہے وہ بھی بہت معلوماتی ہے۔

مذہبی ، سیاسی اور حکومتی طبقات مفادات سے بالاتر ہوکر صرف ہتک عزت کا قانون بھی سب کیلئے یکساں بنادیتے جیساکہ قرآن میں موجود ہے تو مردہ امت مچھلی کی طرح زندہ ہوسکتی ہے۔
ــــــــــ

ہدایت اللہ بیٹنی کا کارنامہ
وافی چینل شیر عالم برکی: ہدایت اللہ بیٹنی نے کہا: وزیرستان ”جیر :جرک، زیرک سے بنا۔ یہ مدبر تھے”۔ کانیگرم برکی سکندر اعظم کے دورمیں تھے۔ محسود بچے کی بات سے سکندر واپس گیا۔ وزیرستان دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیان میں ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیات، احادیث صحیحہ اور جدید سائنسی اور تاریخی حقائق کا ایک بڑا آئینہ

قرآن کریم کی سورہ کہف میں اللہ فرماتا ہے۔

واری المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفًاO(سورہ کہف آیت53)

”اور دیکھ لی مجرموں نے آگ ، پس گمان کیا کہ بیشک وہ اس میں گرنے والے ہیں اور بچنے کی کوئی راہ نہیں پاتے”۔

اس آیت میں دنیا کے اندر مجرم قوموں کے عذاب کو دیکھنے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کیا اور پھر مشرکین مکہ نے اس معاہدے کو توڑ دیا تو ابوسفیان نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا اور نبیۖ کا سسر بھی تھا اور مشرکین مکہ نے مشاورت سے بھیج دیا تھا کہ اس صلح کو دوبارہ بحال کریں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مجرموں کو پتہ تھا کہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں اور خلاصی کی بھی صورت نہیں پاتے۔ قرآن کی اس آیت میں دنیا کی تاریخ پر مجرموں کا یہی نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک دن اپنے انجام پر گمان بلکہ یقین کی حد تک پہنچ جاتے ہیں جو تاریخ کا آئینہ واضح کرتا ہے۔

آگے اللہ نے تاریخ کے ماضی ، حال اور مستقبل کا بتایا:

”اور کس چیز نے منع کیا ان کو کہ ایمان لائیں جب انکے پاس ہدایت آئی اور اپنے رب سے معافی مانگ لیں مگر انہوں نے گزرے ہوئے لوگوں کی سنت کو زندہ کرنا تھا یا ان کے پاس سامنے سے عذاب آجائے۔ اور ہم نے رسولوں کو نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور انکے ساتھ کافر باطل کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور میری آیات اور جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا مذاق بناتے تھے۔اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو میری آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے تو اس سے منہ موڑ لے اور جو اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا ہے وہ بھی بھول جائے۔ بیشک ہم نے انکے دلوں پرپردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور اس کے کانوں میں بھاری پن ہے اوراگر تم ان کو بلاؤ ہدایت کی طرف تو وہ ہرگز کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکتے ہیں۔ اور تیر ا رب بخشنے والا رحمت والا ہے اور اگر وہ ان کو اپنی کمائی پر پکڑتا تو عذاب میں جلدی کردیتا بلکہ ان کیلئے ایک مقررہ وقت ہے جس سے وہ پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ اور وہ بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کیلئے ایک وقت مقرر کیا ۔ (الکہف54سے59)

ماموں سے خانی پر گل امین نے جھگڑا کیا اور پھر شاید گڑے ہوئے مردے اکھاڑنے سے بچنے کیلئے زمینوں میں دواپنجہ کی تقسیم اور قبضہ میں دیگر کزنوں کی بھی تذلیل کاراستہ اپنایاتھا۔

سورہ کہف میں آیت60سے82تک حضر ت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ ہے اور پھر ذوالقرنین کا۔

واذ قال موسٰی لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین او امضی حقبًاO(سورہ کہف آیت 60)

”اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ میں ٹلوں گا نہیں یہاں تک کہ دو ندی کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا بہت ساری مدتیں گزر جائیں ”۔

یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ ایک حقب80سال کا ہوتا ہے اور یہاں حقب جمع ہے جس میں کم ازکم3حقب ہیں۔ اور80کو3سے ضرب دیں تو240سال کا وقت بنتا ہے۔ جس طرح معراج کا سفر ایک طرف سے لمحہ بھر تھا تو دوسری طرف وہ بہت لمبی مدت کا تھا۔ سورہ معارج میں روح اور ملائکہ کے ایک دن چڑھنے کی مقدار50ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے لیکن آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے ریاضی کے حساب سے اس بات کو ثابت کیا کہ وقت کی رفتار ایک ہی وقت میں مختلف ہے۔ ایٹم بم کا وجود بھی اسی نظریہ سے تشکیل پاسکا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واقعہ کو مختصر بیان کیا ہے لیکن اس میں بہت ہی زبردست حقائق کا نقشہ ہے۔

فلما بلغا مجمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سربًاO

”جب وہ دو ندیوں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں ہی اپنی مچھلی بھول گئے۔ مچھلی نے پانی میں سرنگ کی طرح راستہ بنایا” ۔

خانہ کعبہ میں جس طرح حجر اسود ہے اس طرح سے پانی کے اندر سرنگ بھی بہت تعجب کی بات تھی اور وہ مچھلی مردہ تھی اور زندہ ہوکر وہاں گم ہوگئی۔ غلام احمد پرویز اورجاوید احمد غامدی کو قرآن کے محکمات طلاق کی آیات کا پتہ نہیں چلتا ہے تو سائنس کے اعتبار سے متشا بہات کی آیات عوام کو سمجھاتے لیکن افسوس کہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا کے بالکل صحیح مصداق ہیں۔

فلما جاوزا قال لفتاہ اٰتنا غدا ء نا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبًاO

” پس جب دونوں آگے نکل گئے تو اپنے جوان سے کہا کہ دوپہر کا کھانا لاؤ ہم اپنے اس سفر میں ہدف سے اُلجھ گئے ”۔Something is wrong

”اس نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم چٹان کے پاس رک گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے بھلادیا کہ اس کا تذکرہ کروں۔اس نے تو ندی میں اپنار استہ لیا بہت ہی عجیب طریقے سے ۔ کہا کہ یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پھر لوٹ گئے اپنے نقوش پر دونوں قصے بیان کرتے ہوئے۔ پھر دونوں نے پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں سے جس کو ہم نے اپنی طرف سے رحمت سے نوازا اور اپنی طرف سے ایک علم اس کو سکھایا۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ کیا میںآپکے ساتھ اسلئے رہوں کہ مجھے آپ سکھادو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رشد سکھایا ہے۔ کہا کہ بیشک تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکوگے اور کیسے صبر کروگے جس خبر کا آپ احاطہ نہیں کرسکتے۔کہا کہ آپ مجھے انشاء اللہ صابر پاؤگے اور میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا، کہا : اگر آپ میرے پیچھے چلو تو مجھ سے سوال مت کرو کسی چیز کے بارے میں یہاں تک میں تجھے خود وضاحت نہ دوں”۔

(سورہ کہف 61سے70تک ) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینة خرقہا قال اخرقتہا لتغرق اھلھا لقد جئت شیئًا امر ًاO

پھر وہ دونوں چلے۔یہاں تک جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اسے پھاڑ دیا ۔ کہا کہ آپ نے اسلئے پھاڑ دی کہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کردے ،تحقیق یہ غلط کام کیا۔ (سورہ کہف آیت:71)

فانطلقا وہ دونوں چلے۔لڑکے کو چھوڑ دیا۔ کہاں چلے ؟تو یہ مدتوں کا سفر تھا۔ صدیوں پرانے حالات کے اس سفر میں پہلا واقعہ یہ پیش آگیا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر خیر اور شر کی قوتوں کا یہ کھیل اللہ نے اس آیت میں سمجھانا تھا۔ نمرود اور فرعون نے یہ نہیں چاہا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی پیدائش ہو لیکن اللہ نے شر کی قوتوں کو ناکام بنادیا۔ رسول اللہ ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا لیکن جہاں کربلا میں شریروں نے اپنا کام کیا تو خیر کی قوتوں نے اپنا کام دکھایا۔ خدائی خدمت گار خان عبدالغفار خان کے بیٹے غنی خان نے پشتو میں حضرت حسین پر جو مرثیہ لکھا اور سردار علی ٹکر نے پڑھایا تو وہاں سے یہی معلوم ہوتاہے کہ شریروں نے اپنا کام کیا اور اللہ نے خیروالوں کی تقدیر سے ایک دوسرے قسم کا انقلاب برپا کرنا تھا۔

فانطلقا حتی اذا لقیہ غلامًا

”پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بچہ مل گیا تو اس کو قتل کردیا۔ کہا کہ آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے قتل کیا بہت غلط کام کیا”۔

یہ پھر کسی اور زمانے میں پہنچ گئے دونوں اور بچے کو قتل کیا مگر راز بتانے کی جگہ بتایا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ صبر نہیں کرسکتے۔ پھر موسٰی علیہ اسلام نے آخری چانس بھی مانگ لیا۔

فانطلقا: ”پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں آیا تو ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کیا کہ مہمانی کریں۔ پھر اس میں دیوار ملی جو گرنے والی ہی تھی تو اس کو سیدھا کردیا۔ اس نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تواجرت لے لیتے۔ کہا کہ یہ میری اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ اب میں تجھے ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکتے۔وہ کشتی تو مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے اس کو عیب دار کردینا چاہا اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ اور جو بچہ تھا تو اس کے والدین مؤمن تھے تو ہم ڈرے کہ انہیں بھی سرکشی اور کفر میں نہیں ڈال دے۔تو ہم نے ارادہ کیا کہ انکے بدلے میں بہتر دیں پاکیزگی میں اور رحم میں بڑھ کر دیں۔ جو دیوار تھی تو دو یتیم بچوں کی تھی اور ان کا والد صالح تھا۔تو تیرے رب نے چاہا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ جائیں …” (سورہ کہف)

آفرینش عالم سے پہلے اپنے کردارکیلئے والدین کا انتخاب اپنی مرضی سے ہوتاہے ۔سیداکبر نے صنوبر شاہ کے غلط استعمال میں کردار ادا کیا جیسا کہ حاجی سریرالدین مغالطہ کھاتے تھے اور خضر نے مروان بن حکم اور سیداکبر کو اسلئے قتل نہیں کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور پیرعالم شاہ باباجیسی شخصیات نے آنا تھا۔

مسند احمد، صحیح مسلم ، ترمذی ،تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20 سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔

قرآن میں فانطلقا اور حدیث میںیہی فانطلقنا ہے۔

ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فانطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا . . . . روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔

خلاصہ: عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایاپھر دونوں چلے۔ ایک جگہ پر دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ اس سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے پھر نبیۖ کے کچھ تہنیتی کلمات کے بعد کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو ساتھ سواری پر لے گئے۔ وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے ۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو تکلیف کا احساس تھا۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم قرار دیا۔ جو کچھ بصرہ میں ہیں۔جاوید غامدی کے والد گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔

صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی تھی تو دنیا میں اس کا اثر ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ،سورہ حدید میں دنیا میں رونما ہونے سے پہلے سب لکھا ہوا واضح ہے ۔ سانئس ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کا ثبوت مل جائے گا۔

عبادت و معاشرت کے واضح احکام میں تحریف کر ڈالی اور قرآن میں تسخیرکائنات کی خبر پر توجہ نہ دیکر سائنسی ترقی میں پیچھے رہ گئے، قرآن و حدیث میں سائنسی معاملات متشابہات آیات سے سمجھ سکتے ہیں۔ جاوید غامدی جیسے دلے انکو مشابہ کی جگہ مشتبہ سمجھ کر مسترد کرتے ہیںمگر یہ نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز

احادیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے واقعہ کی بھی مختلف طرح کی تفصیلات ہیں اور عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی روایات اور تفصیلات ہیں۔

اہرام مصر عجوبہ ہے نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔(صحیح بخاری) یعنی سائنس کی ترقی تک وہ پہلے پہنچ جاتے۔ موجودہ دور کے سائنسی ترقی اور انٹرنیٹ کیمرہ موبائل وغیرہ کا احادیث میں ذکرہے۔

عبداللہ بن مسعود اور حضرت موسٰی کا جوان مشابہ تھے البتہ وہ سفر باطنی علوم کا تھا لیکن رسول اللہ ۖ نے عبداللہ بن مسعود کو مستقبل کا آئینہ دکھایا۔ جس کا تعلق اسلامی انقلاب اور جٹ قوم سے تھا۔ جہادی کمانڈرز خالد زبیرشہید، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا مسعود اظہر، مفتی عبدالرحیم سبھی جٹ جن میں کچھ بہت اچھے اور کچھ تکلیف پہنچانے والے محض پدو مار ہیں۔

دریا نیل کے قریب1898ء میں فرعون کی لاش مل گئی تھی جب8جولائی1907ء کو اس کے جسم سے غلافوں کو اتارا گیا تو لاش پر نمک کی ایک تہہ جمی ہوئی تھی جو کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی علامت تھی ۔ جس کا حال1912ء میں لکھی ہوئی کتاب میں درج ہے اور قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

عربی میں بحر سمندر، دریا، ندی اور نالے کو کہتے ہیں ۔ جب قرآن کے الفاظ پر غور کیا جائے تو اس میں دو ندیوں کا ملنا ہی زیادہ قرین قیاس لگتا ہے۔ کانیگرم شہر میں چٹان کی مانند ایک پتھر بھی معجزاتی اور تاریخی لگتا ہے اسلئے کہ جہاں اہرام مصر کے بڑے پتھر سے تعمیر ایک عجوبہ ہے تو کانیگرم میں موجود پتھر سے بھی تعجب ہوتا ہے ۔ کانیگرم میں بچے کی قبر کی عجب کہانی کہ ”اگر فلڈ نے بہا لیا تو پورا شہر بھی میرے پیچھے بہہ جائے گا”۔ ممکن ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا اسلئے کہ اس پہاڑی پر فلڈ کی وجہ سے کٹائی نے اس قبرستان کا نظارہ دکھایا ہے جہاں اوپر نیچے چار چار قبریں بھی ہم نے دیکھی ہیں۔

کانیگرم کبیرالالیائ کی قبر کے پاس سوناملنا مشابہ تھا۔ حاجی قریب برکی نے دیوار بنائی ۔قبرستان کی راہ پر ایک طالب علم کی قبر مشہور ہے جیسے سورہ کہف میں جوان کا ذکر ہے۔ انوکھی بات کانیگرم کی ایک ندی کا نام ”مردار ندی” ہے جس کی وجہ تسمیہ کا پتہ نہیں لیکن ممکن ہے کہ مری ہوئی مچھلی کے گم ہونے کی وجہ سے مردہ مچھلی کی مناسبت یہ نام ہو۔ کانیگرم میں سلام کی جگہ ارمڑی اور پشتو میں الفاظ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو سلام کیا تھا تو حضرت خضر نے سلام کو بنی اسرائیل کا رواج قرار دیا تھا۔ والدہ نے بتایا کہ ماموں غیاث الدین کی آنکھیں خراب تھیں ،بوڑھا شخص نظرآیا تو دم کرنے کا کہا اور پھر وہ غائب ہوا تو بتایا گیا کہ خضر نظری ہوگا اور پھر ٹھیک بھی ہوا۔ میرے کلاس فیلومفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون نے کہا کہ ”خضر نے سکہ دیا” دروغ بر گردن راوی۔

محمود غزنوی نے خضر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ بہت کمال اور اصلاح کا قصہ ہے۔

محمود غزنوی نے دربار میں سب کو مخاطب کر کے کہا ہے کوئی اللہ کا بندہ جو مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکے؟۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ سلطان سے کہا کہ خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکتا ہوںلیکن ایک شرط ہے۔ سلطان محمود غزنوی طیش میںکہا کہ شرطوں پر؟۔ مشیرانِ دربار نے کہاکہ حضور شرط سن لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تو اس نے کہاکہ چھ ماہ کیلئے چلہ کاٹنا پڑے گا، غریب آدمی ہوں اسلئے میرے گھر کا خرچہ اٹھانا پڑے گا۔ شرط منظور ہوگئی۔

چھ ماہ بعد محمود غزنوی نے طلب کیا تو اس نے کہا:وظائف اور عملیات الٹ ہو گئے ، چھ ماہ کا چلہ اور کاٹنا پڑے گا۔ سلطان نے چھ ماہ کا مزید ٹائم دیا ۔پھر دوبارہ دربارِ غزنوی میں طلب کیا کہ پورا سال ہو گیا، اب تو مجھے زیارتِ خضر علیہ السلام کروا۔ اس نے کہا کہ جھوٹ بولا تھا۔ میرے گھر میں فاقہ تھا۔سلطان غزنوی کو بہت تعجب ہوا اور شدید غصہ بھی آیا۔ وزیروں مشیروں کو طلب کیا کہ اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟۔ ایک نے کہا کہ سر قلم کر دیا جائے۔ دربار میں ایک نورانی چہرے والے بزرگ تھے وہ بولے اے بادشاہِ وقت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا۔

سلطان نے ایک اور وزیر سے پوچھا تو اس نے کہاکہ اس کو خونخوار جانوروں کے آگے زندہ ڈال دیا جائے تاکہ سسک سسک کر اور انتہائی اذیت سے مرے ہو۔ نورانی بزرگ نے کہا کہ اے بادشاہِ وقت یہ وزیر بھی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔

پھر غزنوی نے خادم خاص سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟۔ وہ نہایت عقلمند اور سلجھا ہوا آدمی تھا، عرض کی کہ حضور یہ خدا پاک کی عظمت ہے کہ ایک سال تک ایک غریب کا گھر چلتا رہا، بچے پلتے رہے۔ یہ جھوٹ بولنے پر مجبور تھا۔ اس کے جھوٹ سے نہ تو آپ کے خزانے میں کمی آئی اور نہ ہی آپ کی شان میں۔ میں یہ کہوں گا کہ غریب کو معاف کر دیں۔ اگر اس کا سر قلم کر دیا گیا تو گھر تباہ ہو جائے گا اور بچے بھوک سے مر جائیں گے۔

خادم خاص کی بات سن کر نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ محمود غزنوی نے بزرگ سے پوچھا کہ تو ہر ایک کی بات کو صحیح کیوں کہہ رہا ہے؟ تو بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت پہلا وزیر ذات کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گوشت کاٹنا، گلے کاٹنا۔ اس نے اپناDNAخاندانی رنگ دکھایا، غلطی آپ کی ہے کہ قصائی کو وزیر بنایا۔ دوسرے وزیر کے اجداد بادشاہوں کے جانور نہلاتے تھے، جانوروں سے شکار کھیلتے تھے تو اس نے مشورہ دیتے ہوئے اپنے خاندان کا تعارف کروایا۔ یہ بھی آپ کی غلطی ہے کہ اس کو اپنے دربار میں وزیر رکھا۔ جہاں اس قسم کے وزیر ہوں گے وہاں غریب عوام اور لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا جائے گا۔ آخر میں جس خادم خاص نے مشورہ دیا یہ سید زادہ ہے اور سید کی شان ہے کہ وہ اپنا سب کچھ جی ہاں سب کچھ کربلا کے میدان میں بھی لٹا دیتا ہے مگر بدلہ نہیں لیتا اور کبھی بدلہ لینے کا سوچتا بھی نہیں۔

سلطان محمود غزنوی تخت سے کھڑا ہوا اور خادم خاص سے کہا کہ کیوںنہیں بتایا کہ سید زادے ہو؟ تو اس نے کہا کہ آج تک کسی کو علم نہ تھا کہ میں سید ہوں ۔ میں بھی یہ راز کھولتا ہوں کہ یہ بزرگ کوئی عام ہستی نہیں بلکہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔

موجودہ دور کے حکمران طبقات، مشیر، وزیر اور صحافی لوگوں کے اصل نسل حسب نسب چیک کرلیں اسلئے کہ فضاؤں کو آلودہ کرنے اور مظالم ڈھانے میں ان کا بنیادی کردار ہوسکتا ہے۔

قارئین اس بات کا خیال رکھیں کہ دو بھائی بھی ایک جیسے کبھی نہیں ہوتے۔ میں نے اپنے بڑے بھائی امیرالدین شاہ سے کہا کہ آپ جیسے اخلاق خدا مجھے دیتا تو انقلاب آجاتا۔ جبکہ حضرت یوسف کے بھائی ،ایک نبی کے بھائی ،ایک کے بیٹے، ایک کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پڑپوتے تھے۔

میرے ایک ماموں غیاث الدین کے اندر اپنی محسود ماں کی غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میرے بھائی کیلئے رشتہ مانگا تو مامی نے درست کیا کہ گھر والے لینے میں خوش نہیں لیکن ماموں نے کہا کہ رشتہ دینا ہے تو دیدو نہیں تو زندگی بھر بیٹھی رہے گی۔ مامی نے دینے سے انکار کیا اور پھر اچھارشتہ بھی آیا لیکن نہیں دیا۔ ہماری مامی مرحومہ بایزید انصاری کے خاندان سے تھی جبکہ دوسرے ماموں سعدالدین لالا کا یہ حال ہے کہ اسکے بیٹے شہر یار نے اپنی کزن لینے سے انکار کیا تو پھر چاہیے تھا کہ اپنی بیٹی کا بھی کہتے کہ مت لو۔ جس طرح سے تھوپ دی تو میرا کلیجہ بھی جلتا تھا کہ ایک ماموں غیاث الدین فوت ہوگئے ۔پھر بھتیجے کیلئے ایک طرف چچا اور سسر اور دوسری طرف ماں تھی۔ اور جس دن رخصتی ہورہی تھی تو میں اس وقت مامی سے پردہ کرتا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ دلہے اور دلہن کی دوسرے دن شادی ہے مگر بول چال بند ہے۔ پھر مامی کے پاس گیا کہ یہ غلط ہے تو اس نے کہا کہ ”میرے بیٹے کی شادی ہے۔ میرا گلہ تمہارا چھرا ”پھر میں دوسری مامی کو اس کے پاس لایا۔ اس نے کہا کہ میں نہیں جاتی اور ایک لحاظ سے بات ٹھیک تھی کہ بیٹی والی کیلئے مناسب نہیں لیکن دوسری طرف جبری تھوپنے میں شرم نہیں تھی اسلئے اسی کو لیکر آگیا اور پھر یہ دائمی ناچاکی کا باعث تھااسلئے میں نے خطرات کے طوفان میں ماموں سعد الدین لالا کو منانے کی ٹھان لی کہ ایک بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کا رشتہ لو لیکن لالا نے نہیں مانا اور اس کے بعدمعمولی تقسیم پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔

میرے ماموں پیر غیاث الدین اور بھائی اورنگزیب شہید کے سامنے مولوی پیر گل حلیم شاہ کی جو حیثیت تھی وہ سب جانتے ہیں لیکن اس دلے نے میری ماں کا نام لیا اور مجھے بند کروایا ۔

ماموں سعدالدین لالا کی بہو میری بھتیجیاں میرے پاس اپنے والدین کے گھر میں نہیں آسکتی تھیں لیکن اس کی بیوی اور بیٹیاں آجاتی تھیں اور پھر میری گھر والی کو اپنے گھر کی دعوت بھی دے رہے تھے؟۔ہم نے ان کی بیٹی بھائی کی بہو کو عزت دی تو اس پر تذلیل کی کہانی گھڑ دی کہ لالا کی بیٹی ہے؟۔ شہید کی بیٹی کے بچے چھین کر اس کو خون بہانے اور بھائیوں کا خون بہنانے سے دھمکاؤ اور دوسری بہو کی تذلیل کرو تو وہ کتے کی بچیاں؟۔

میرا اصل ہدف14افراد کے قتل کے پیچھے میٹنگ ، لالچ، اوراخلاقی گراؤٹوں کو دور کرنے کیساتھ منہاج اور یوسف شاہ کو آپس میں ایک دوسرے پرسرداری جمانے کا خاتمہ بھی تھا ۔ یوسف شاہ کی بہن ملوث بھی تھی تو مسئلہ نہیں تھا اس کو اپنے بھائی پیر یونس شاہ کا دکھ ہوگا اور اس کی زندگی میں کبھی اس کا تذکرہ میں نے اسلئے نہیں کیا کہ عورت ذات کو تکلیف بھی نہیں پہنچے۔ میرے خیال میں عبدالرحیم کی بیوی اور یوسف شاہ کی غیرت کا مسئلہ ہوسکتا تھا لیکن پیر کریم اور پیر عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ کوڑ کے پیر کہتے ہیں کہ جٹہ قلعہ والے منافق ہیں تو میں اس تعصب میں نہیں آیا اسلئے کہ ہمارا ان کا ساتھ کوئی معاملہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ لوگ دل سے بہت عزت دیتے تھے۔زمینوں پر قبضہ اور تذلیل ہم نے تو نہیں کی تھی۔ ڈاکٹر ظفر علی شاہ نے بہت پہلے کہا تھا کہ حاجی عبدالرزاق نے کہا کہ ”دشمنی خدا کا قہر ہے تو یہ قہر میں مانگتا ہوں”۔لیکن یہ میں نے نہیں بتایا کہ وہ کیوں ایسا کہتا ہے؟۔ پہلے اس نے جس طرح کی تذلیل تمہارے ہاتھوں برداشت کی تو اپنے اقارب کے ہاتھوں بھی؟۔ اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟۔

جب میں نے کریم پیر کو ماموں کے ہاں دیکھااور خدشہ تھا کہ کہیں پلاننگ کے تحت عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں کو پار لگانے کا معاملہ نہ ہو اسلئے پیر کریم سے پوچھا کہ واقعہ کی کچھ معلومات ہیں؟۔ کہتے ہیں کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ لیکن میں چوہے کے پیچھے بھاگا اور حضرت خضر کی مچھلی کی سرنگ مل گئی۔

ہمارا واقعہ وہ عزت تھی جس کے ہم خود کو قابل بھی نہیں سمجھتے اور میں نے اللہ کا شکراداکیا ہے کہ ماموں کا گھر گڈ طالبان کے گھسنے سے بچ گیا جس سے عزت خراب ہوتی۔ جہانزیب نے کہا کہ ”یہ ہماری بے عزتی چاہتے ہیں” ۔ میں نے کہا کہ لالچ ہے۔ منہاج سے کہا کہ ” تم لوگوں نے اس پر فائرنگ کی ” تو اس نے کہا کہ ”وہ تو تم بھی شریک تھے”۔ میں رفع دفع کرنے کے چکر میں تھا کہ ہمارے لئے ایک پہاڑ کھڑا ہے اور اس میں کوئی غیرت نہیں دکھائی اور زمین کے ٹکڑے پر خون خرابہ کریں تو بہت بڑی حماقت اور بے غیرتی سے تاریخ لکھی جائے گی۔

ماموں نے مظفر شاہ کی اولاد کو دبانے کیلئے شاید ان کا حصہ تین بیٹوں کے مقابل چار بیٹوں کا چار بیٹیوں کا رکھا تھا تاکہ وہ اتنا دب جائیں اور تذلیل محسوس کریں کہ خانی کا معاملہ کبھی بھی نہیں چھیڑیںجس کے پیچھے کرائے کے قتل ، شجرہ کی تبدیلی اور خانی پر قبضہ کیلئے گھٹیا ترین حرکت کا پول نہیں کھلے۔

سید ایوب شاہ کو معلوم تھا کہ محمود شاہ نے فراڈ سے محسود قوم میں خانی کی خاطر شمولیت اختیار کی ہے حاجی بدیع الزمان نے کہا تھا کہ مظفرشاہ مولانا عبداللہ درخواستی کے پیر بھائی تھے اور مولانا درخواستی نے ان کو شہید قرار دیا تھا۔ جس کا مطلب فراڈ سے مروایا گیا اور اس پر میرے بھانجے عبدالرحیم نے فخرکیا اور پیرزاہد شاہ کو طعنہ دیا کہ دل بند شاہ کی خانی پر قبضہ کرنے کیلئے ہمارے والوں نے تمہارے والوں کو مروایا تھا۔ پیر منہاج کہتا تھا کہ انگریز کیلئے براہِ راست وزیر کے لشکر پر حملہ کرکے پسپا کیا تھا اور پیر فیاض کہتا تھا کہ وزیروں کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ،وزیر و محسود قومی جنگ میں ان کا بڑا مقاتلہ کیا ہے۔ اقبال شاہ نے کہا کہ ” فلاں خاتون کو ہمارا شجرہ یاد تھا”۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ سیدایوب شاہ کے پاس موجود شجرے کو وہ اپنا نہیں سمجھتا تھا۔

میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ سے پوچھاتھاکہ ”کوئی مشاہدہ ہوا ہے توانہوں نے کہا کہ لیلة القدر کو تین مرتبہ وامتازیوالیوم ایھا المجرمنون سنا”۔
جرائم کا آغاز کرایہ پر قتل ،شجرہ کی تبدیلی، زمینوں پر قبضہ پھر کرایہ پر قتل تک پہنچا؟۔ مجھے غیرت کے نام پربے غیرتی کی میٹنگ کی تلاش ہے۔ ہاہاہا

عبدالرحیم اور عبدالواحد کی خبر لالچ، نفاق اور تکبر کی وجہ سے لی۔چیلنج کیا تھا کہ اگر ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا ۔اگر ڈاکٹر ظفر علی کے کہنے پر امیرالدین مجھے پشاور منہاج کیلئے بلاتا۔ کراچی میں میرا قتل ہوتا تو ضیاء الدین نہیں بتاسکا کہ اسلحہ اکٹھا کرنے کی خبر کیوںدی تھی؟ تو پھر منہاج پر بھی بوجھ پڑتا؟۔ اورنگزیب شہید نے اعتماد کیا اور اب امیرالدین شاہ بھی ؟۔ پھر ڈاکٹر ظفر علی شاہ پر بوجھ آتا؟۔ شہریار اور اسفند یار کاDNAماں نہیں باپ سے ملتا ہے۔

نبیۖ کا داماد قیدہوا تو فدیہ میں حضرت خدیجہ کے جہیز کا ہار دیا،جس پر رسول اللہ ۖ کو دکھ ہوا۔

سیدنا عمر نے ماموں کو قتل کیا۔نبیۖ نے سسر ابوسفیان کو عزت دی ، ہند نے چچا کا کلیجہ چبایا تھا۔ ہم اپنوں کو قتل کرسکتے ہیں اور نہ دشمن کو عزت دے سکتے ہیں۔وہ عظیم لوگ تھے اور ہم اچھے والدین کی عام سی اولاد ہیں۔ منہاج کے بچے شہید چچا کا غم دیکھ چکے ، ماموں پہلے قتل ہوا۔ مصیبت زدہ کومزید تکلیف میں ڈالنا نہیں۔یہ پیکیج میری زندگی تک ہے۔ سوالات کے جواب چاہتا ہوں۔ اگرغیرت خراب ہوئی تو مہربانی ہے چھپ کر حملہ کیا۔ لالچ آئی تو آباپر گئے۔ حسد و بغض تھا تو مسئلہ نہیں ہے۔ کزن کی زمین پر قبضہ کی طرح قومی زمین نہیں کہ کسی کو گھر نہیں بنانے دیا تو جیت لی؟۔ یہ تو وہ گند ہے کہ کوئی تمہیں بھی نہیں بنانے دے گا۔ قبائلیDNAایک نعمت ہے۔ ملنگ پیر نے مفت میں زمین کی پیشکش اسلئے مسترد کی کہ کوڑ والوں کی تھی اور قیمت دیکر خریدی۔ جب حد کراس کی کہ بغیر اجازت چھت میں لکڑی استعمال کی تو چھت اکھاڑ دی ۔نورالھدٰی شاہ نے سندھ کاDNAسمجھایا اور وطن کاDNAآباد کار نہیں سمجھ سکتا ہے۔ سورہ قلم میں اسلئے خالد بن ولید کے باپ کی تذلیل ہوئی کہ وہ اشراف مکہ کاDNAنہیں تھا۔ زنیم حرامی کو نہیں کہتے۔

اگر عورت کی ذہنیت ہو کہ میں نے خاندان کو نقصان پہنچایا تو مسئلہ نہیں لیکن مرد نظرثانی کریں۔ عورت کا مرکزی کردار ہے تو وہ مرد کیاجسے عورت ہنکارہی ہو؟۔قصۂ خضر میں کشتی کابگاڑ ، بچے کا قتل اور یتیموں کی مدد سبق ہے کہ اجداد نے جو کیا ہمارے ساتھ جو ہوایہ قدرت کا راز تھا کیونکہ تحریک کا سہارا جٹ تھے۔ یہ تو ہمارے ساتھیوں کو کہتے تھے کہ ہمارا عزیز ہے…..ہاہاہاہاہا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فاتحہ کے بعد سورہ البقرہ سے آغاز کیوں؟

بنی اسرائیل نے کہا کہ ہمارے ساتھ مذاق ہے اور پھر انہونی بھی ہوگئی تھی

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کررہے ہیں؟۔فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں مذاق کروں۔ البقرہ گائے کو بہت سوالات کے بعد ذبح کیا اور پھر اس کے بعض گوشت کو مردہ کے بعض گوشت سے لگایا تو پھر قاتل کا پتہ چل گیا۔ جس سے چند مسائل اخذ ہوتے ہیں۔

1:قاتل کی تلاش شروع سے ایک بڑا اہم مسئلہ رہاہے۔
2:چیزکو پیچیدہ بنانا بہت غلط ہے سادہ حکم پر عمل کرنا ہوگا۔
3:معجزات کے منکر دلے پہلے بھی موجود رہے ہیں۔
4:انبیاء کرام کے ذریعے ایمان عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔
5:سائنسدان اور صوفیاء بھی قدرتی مظاہرکو سمجھتے ہیں۔
6:جو چیز ممکن ہو وہ معجزہ اور سائنس سے حاصل ہوسکتی ہے۔
7:جاوید غامدی سے ہندو لڑکی کی توحید کی دعوت بہتر ہے۔
8:تسخیر کائنات کا نظریہ سائنسی اور تصوف کی بنیاد پر ہے۔
9:سائنس معجزات کو ثابت کررہی ہے۔
10:اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے ہوگی۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں؟۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے اولین مخاطب عربی سمجھنے والے یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب تھے۔ قرآن نے طلاق و رجوع کے مسائل پر بہت زور دیا اور بہت ساری جاہلانہ رسوم کا خاتمہ کیا لیکن ایک طرف آج سے صرف300سال پہلے عیسائیوں کو طلاق کا معاملہ سمجھ میں آگیا اور دوسری طرف یہودی حلالہ کی لعنت میں مسلمان بھی پھنس گئے۔ اسلئے کوئی الزام نہیں لگا سکتا ہے کہ اسلام عیسائیوں اور یہودیوں سے متاثر ہوکر وجود میں آیا اور آج دنیا نے سائنس میں ترقی کی ہے ۔اگر سائنسدان کوئی ایسی چیز بنانے میں کامیاب ہوگئے کہ گائے ذبح کرنے کے بعد مردہ کے جسم سے خاص رموز بتانے لگے تو اس کا سب سے بڑا مرکز ہندوستان بن سکتا ہے جہاں گائے کو دیوی کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ ایک لڑکی ہندو سادھنا پٹھ جس انداز میں توحید کے حوالے سے درس دے رہی ہے یہ ایک انقلاب ہے۔

ابراہیم نے پرندوں کو ٹکڑے کیا تو بلانے سے آگئے تھے یہ دل کا اطمینان تھا۔ جس کو ہندو لڑکی سمجھ سکتی ہے غامدی نہیں۔

مفتی زرولی نے مولانا شاہ احمد نورانی کے جنازے پر متحدہ مجلس عمل کو گندہ قرار دیا ۔ مفتی نظام شامزئی سے کہا: پنج پیری ہو تو مشرک کا جنازہ پڑھا؟۔ کہا: ”مولانا فضل الرحمن کا حکم تھا”۔ افہام وتفہیم اور خلوص سے معاملات حل ہوں گے۔ انشاء اللہ۔ ہم کمزور لوگ ہیں طاقتور ساتھ دیں گے تو سبھی کا بھلا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ریشما سوات لاپتہ

سوات کی12سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کے پیچھے اس کی ماں اور گھروالوں کی حالت بہت خراب ہے۔ خدا کے قہر سے ڈریں اور جہاں کہیں بھی ہو تو اس کو اپنی جگہ پر پہنچائیں۔ دلے اور دلال علماء کی بات رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مقابلے میں غلط ہے۔ کوئی بچی جبری اغوا کی جائے یا رضامندی سے تو رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مطابق یہ نکاح باطل ہے جبکہ عدالت نے16یا18سال کے بعد جو پروٹکشن دی ہے وہ تو مفتی تقی عثمانی اپنے لئے اور میرے لئے قبول نہیں کرتا کہ عربی نسل کیلئے ولی کی اجازت ضروری ہے لیکن پٹھان، پنجابی، بلوچ اور سندھی کیلئے فتویٰ جواز کا ہے۔ یہ غلط ہے۔

بالفرض اگر ریشما12سال میں بالغ ہوچکی ہے اور مسلک حنفی کے مطابق اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی ، اخلاقی اور مذہبی طاقت سے اس کو پناہ دی ہے اور حکومت نے ایسے حادثات سے بچنے کیلئے لڑکی کی عمر18سال کا قانون بنایا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا تو فتویٰ یہ ہے کہ جبری اغواء کرلی تب بھی نکاح درست اور جج خلع بھی نہیں دے سکتا۔پھرتو اسلام مسائل کو حل نہیں پیدا کرتا ہے؟۔

دلے طبقے نے دین کو چودین بنادیا۔

قرآن و حدیث کو مسخ نہ کیا ہوتا تو لڑکی پرپھر والدین اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے۔

و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا

”اور تم اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور نہ کرو،اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں”۔ غلط تفسیر کر ڈالی کہ” اگر تمہاری لونڈیاں پاکدا منی چاہتی ہوں تو ان کو بدکاری پر مجبور مت کرو”۔
نبیۖ کے پاس ایک عورت نے شکایت کی کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح ہوا ہے تو نبیۖ اس کو معطل کردیا۔ نہ کسی ولی کو اجازت ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرے اور نہ اغواء کرکے اس کا جبری نکاح جائز ہے۔ شکار پور سندھ کے کچہ میں ملا وحید قتل کردیا گیا لیکن فتویٰ کس کا چل رہاہے؟۔ جس کی وجہ سے کچہ کا علاقہ مظلوم لڑکیوں ، بچیوں اور خواتین سے بھرا ہوا ہے؟۔ جس طرح حلالہ کی لعنت کیلئے عورت کو شوہر پیش کرتا ہے اور معاشرہ سمجھتا ہے کہ یہ لعنت مجبوری ہے اسی طرح

کچے کے علاقے میں اغواء اور خرید وفروخت کے پیچھے مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہے۔
ــــــــــ

خان جرنلسٹ نے نمائندہBBCاردو پشاور عبدالحی کاکڑ کا حقائق سے بھرپور انٹرویو کیا

مگر پشتو زبان میں ہے جس میں سوات اور قبائل کے طالبان میں بہت فرق بتایا کہ ایک طرف پنج پیری میںشدت پسندی کے علاوہ خواتین سے زبردستی کا نکاح بھی کیا جاتا اور دوسری طرف بیت اللہ محسود کی شادی میں روایتی ڈھول تھا اور لوگوں پر سختی نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قبائل آزاد منش ہیں اور کسی کو ذاتی مداخلت کی اجازت نہیں دیتے اور سوات میں قبائلی اقدار نہیں ہیں۔ میزبان نے کہا کہ سوات میں روایتی ڈھول ناچ کا کوئی تصور بھی نہیں ہے تو عبدالحی کاکڑ نے کہا کہ ملافضل اللہ اور مسلم خان نے تبلیغ کے ذریعے سوات کی خواتین کو بھی متاثر کیا تھا اور پھر رضامندی اور جبری شادی کا بھی معاملہ چلایا تھا۔

اس پشتو پوڈ کاسٹ کو مکمل طور پر اردو میں بھی آنا چاہیے

اور عوام کو پھر یہ تاریخی تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ننگرہارکے اخوند درویزہ بابا نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور پیر بابا کے مرید تھے۔ جس کی شہرت وزیرستان کی معروف شخصیت پیر روشان بایزید انصاری کے مقابلے کی وجہ سے ہوئی۔ مغل اکبر بادشاہ نے ایک طرف آئین اکبر اور دین الٰہی کی بنیاد رکھ دی تو دوسری طرف بایزیدانصاری کی بغاوت کیخلاف اخوند درویزہ بابا کو مکمل سپورٹ کیا۔ اخون دویزہ بابا کا پشاور کے پاس مزار ہے اور کئی کتابوں کے مصنف اور مشہور شخصیت پیر بابا کے خلیفہ تھے اور ان کی کتابیں اسی وقت سے حکومت کی مدد سے شائع ہوتی رہی ہیں لیکن بایزیدانصاری کی کتاب ”خیرالبیان” جرمنی کی لائلبریری سے ملی اور1980ء کی دہائی میں پہلی بار شائع کی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس کے صرف قلمی نسخے تھے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علم نے کہا کہ ”مذہب سے زیادہ مضبوط بیانیہ قومی روایات کا ہوتا ہے”۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ”اسلام عرب میں نازل ہوا اور عربوں کی جاہلانہ اقدار کا خاتمہ کیا اور قوم کی اچھی اقدار کو معروف کے نام پر سپورٹ کیا۔ قرآن کا مخاطب نشاة ثانیہ میں عالم انسانیت ہے اور پوری انسانیت میں منکرات کا خاتمہ اور معروف اقدار کو سپوٹ کرنا قرآنی احکام کا تقاضہ ہے”۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ کی بعثت کے وقت میں ایک طرف دنیا اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ فارس کے بادشاہ کو عرب شہزادی پسند آئی تو جبری نکاح پر ریاست بھی تہس نہس کی اور بادشاہ کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ پھر شہزادی ہندبنت نعمان کو بچانے کیلئے عرب قبائل نے فارس کیساتھ جنگ کرکے شکست دیدی۔ اس وقت لوگ فرسودہ مذہبی نظام سے بیزار تھے۔ کچھ صحابہ کرام جیسے ابوبکر صدیق اکبر نے بتوں سے ویسے ہی اپنی شدید بیزاری کا اظہار کیااور اسلام کو بلا چوں چراں قبول کرلیا۔

سورہ مجادلہ ظہار کیخلاف حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی مزاحمت سے بارگاہ پیمبرۖمیں نازل ہوئی۔

سورہ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو انصار کے سردار سعد بن عبادہ نے اپنی غیرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کردیا۔ دنیا میں حضرت خولہ کی جرأت سے ظہار کا خاتمہ ہوگیا لیکن حضرت سعد بن عبادہ کی غیرت سے انصار نے بھی درگزر کی درخواست کردی۔ جو بیوی کو طلاق کے بعد کسی اور شادی کی اجازت نہیں دیتاتھا۔ قرآن میں رسول اللہ ۖ کی ازواج کا یہ حکم تھا کہ امہات المؤمنین ہیں اور ان سے نکاح کی کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی بیویاں بھاگ کر مدینہ آگئیں تو رسول اللہۖ نے واپس نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی تائید کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ”وہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں اور یہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں” اور ساتھ میں قبائلی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے حکم دیا کہ اپنی کوافر بیگمات سے تم بھی مت چمٹے رہو۔حضرت عمر نے کافرہ بیوی کو چھوڑ دیا تو اس کے ساتھ امیر معاویہ نے شادی کرلی تھی۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا مگر رسول اللہ ۖ نے پناہ دی۔ رسول اللہ ۖ کے بعد امت کے پہلے مولانا علی نے سمجھا کہ جب دو طرفہ مشرک و مؤمنہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کیلئے حلال نہیں تو رسول اللہۖ کی رہنمائی سے معاملہ حل ہوگیا اور جب رسول اللہ ۖ سے خولہ نے ظہار پر مجادلہ کیا تو اللہ نے عورت کے حق میں حکم نازل فرمایا اور رسول اللہۖ نے بھی عورت کے حق میں فیصلہ فرمایا۔

جب حضرت عمر کے دور میں شاید حضرت سعد بن عبادہ کی طلاق شدہ بیگمات نے شادیاں کیں تو انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا اور شام میں دمشق کے قریب گاؤں میں رہائش اختیار کرلی لیکن شاید جن بیگمات کو طلاق کے بعد شادی نہیں کرنے دی تھی تو ان کے نئے شوہروں نے کہیں پہلے کا حساب چکایا نہ ہو۔ جس کو پھر جنات کے کھاتے میں ڈال دیا گیا تھا۔

ہمارے واقعہ میں13فراد مہمانوں سمیت شہید ہوگئے

اور طالبان نے معافی بھی مانگی لیکن یہ ہمارے اندر کا کوئی معاملہ تھا یا مذہبی شدت پسندی کا؟۔ اس پر جب تک درست تحقیق نہ ہو تو بہت ساری آراء ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے واقعات کے محرکات تلاش کئے جائیں تو شدت پسندی کے حوالے سے اس کی بہت کم مقدار ہوسکتی ہے۔

جہاں تک سوات میں عورتوں کی جبری شادیوں کا معاملہ ہے تو وقت ٹی وی نے بھی بہت ساری خبریں دی تھیں۔البتہ سوات جیسے غیرتمند لوگوں کی بیٹیوںکے حوالہ سے طالبان جبری شادیاں کیسے کرسکتے ہیں؟۔

2007ء میں مفتی تقی عثمانی کا ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم” شائع ہوئی ہے اور اس میں جبری نکاح کو شریعت کا تحفظ دیا گیا ہے۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو کیا پتہ ہے کہ ان علماء ومفتیان نے کیا کیا گل کھلائے ہیں؟۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم2022ء میں دوبارہ شائع ہوئی اور مرتب کرنے والے لونڈے مفتی زبیر کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح کتے کو ہڈی جہاں سے بھی ملے تو اس پر لڑنے کیلئے تیار ہوتاہے۔ اسی طرح فرقہ واریت اور تنظیموں سے لیکر جہاں سے اوجھڑی میں کچھ بھی جارہاہو تو جو علماء اس کیلئے بک جائیں تو وہ بعلم باعوراء کی طرح ہیں جس کی مثال قرآن نے کتے سے دی ہے کہ اس کو چھوڑ دو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے اوربوجھ ڈالو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے۔
ــــــــــ

سلطان رنداور صوبہ سندھ

سلطان رند کے چینل پر بہت ساری اغواء شدہ بچیوں اور بچوں کی ویدیوز ہیں۔ یہ سندھی میں بندہ کہہ رہاہے کہ اغواء کار پر پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے۔ جب قوم اپنے اندر چھوٹے بدمعاش طبقات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوں تو ریاست پر بھی تھو تھو کرنے کے بجائے پہلے معاشرے میں برائی خلاف ایک پرامن آواز اٹھانے اور ہاتھ کے ذریعے برائی کو ختم کرنے کیلئے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔SSPشکار محمد کلیم نے بھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے پریشر پڑا اور حورم پٹھان کیساتھ دیگر خواتین بھی بازیاب ہوگئی ہیں اور ملا عبدالوحید بھی مارا گیا۔ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کا ماحول بھی نہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بحری قذاقوںکی تحویل میں یاسرکی فریاد

کراچی میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے ہاں بحری قذاقوں کے ہاتھوں اغواء یاسر کی بیوی اور دیگر مغویاں کی بیگمات نے اپنی آواز اصحاب اقتدار تک پہنچائی کہ اگر بروقت مدد نہیں کی تو رابطہ بھی ختم ہوسکتا ہے اور پینے کا پانی بھی ختم ہے۔

انہوں نے حافظ نعیم صاحب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی آواز کو اٹھانے میں ان کی بھرپور مدد کی۔ بہت بڑا المیہ ہے کہ جہاں جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی موجودگی میں بھی یہ ماجراء ختم نہیں ہوتا کہ بحری قذاق لوگوں کو یرغمال بنالیتے ہیں ۔

پاکستان عالم اسلام اور عالم انسانیت کے تعاون سے بحریہ اور فضائیہ کی ایک ایسی پاک فورس تیار کرے جسکا کام دنیا بھر کے مظلوموں کو ظالم قذاقوں سے تحفظ فراہم کرنا ہو۔

فیلڈ مارشل ، وزیراعظم ، صدر مملکت، وزیر خارجہ، وزیراعلیٰ سندھ مغویاں کو جلد سے جلد اپنے پیاروں تک پہنچانے میں کار کردگی دکھائیں اور محلہ ، شہر، تحصیل ، صوبہ اور ملک کی سطح پر بے حس طبقہ دوسروں پر زبان چلانے اور ہاتھ اٹھانے کے بجائے اپنا فرض ادا کرے اور نظام کو پرامن طریقے سے بدلنے کی کوشش کرے۔ اللہ نے فرمایا کہ

”اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خودکو نہیں بدلتے”۔ (سورہ رعد)۔

حرکت میں برکت ہے اور سبھی کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنے کیلئے متحرک ہونا ہی پڑے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آفریدی محسود قبائل جرگہ میں تنازعہ کا حل

آفریدی و محسود قبائل جرگہ میں اتنا کمال ہے کہ مسئلہ فلسطین و اسرائیل کو بھی یہ حل کرسکتے ہیں۔ قبائل روایات کے امین عظیم وکیل ہیں جو اخلاقیات، اقدار، قانون، دھونس اور تحفظات کے اعلیٰ معیارپر پورا اترتے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے فرد کیساتھ کھڑے ہیں۔ علمائ، مذاہب، سیاسی جماعتوں، علاقائی معاملات اوربین الاقوامی تنازعات کو ان کے حوالے کیا توحل بھی کرلیںگے۔ قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا اور جمعیت لکی مروت کی پولیس کمیٹی سے الجھ گئی ۔میرا مشورہ ہے کہ محسود اور آفریدی قبائل کو ثالثی سونپ دیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈنڈابرداروں اور فتویٰ فروشوں کو ہمارے مہمانوں کیخلاف لگایا تو مولانا فضل الرحمن کو آخر میں شرمندہ ہوکر میرے گھر آنا پڑا تھا اسلئے کہ قبائل سے میری نسبت ہے۔

شاہد آفریدی کے بھائی طارق آفریدی اور محسود کاروباری یاسر کے درمیان تنازعہ ہے۔بادشاہی خان محسود نے کہا کہ ”یہاں آنے کے بعد تین دفعہ لڑکے کا فون آیا ہے کہ مجھے بہت اذیت دی جارہی ہے۔ کرنٹ لگارہے ہیں اور میری برداشت ختم ہوچکی ہے۔میری دکانیں، پلازے اور اثاثے ان کے نام کردو لیکن عذاب سے مجھے نکالو۔ جبکہ محسود قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر اس طرح ہم لوگوں کیلئے بلیک میلنگ میں آئے توبڑا بھگتنا پڑے گا ،لوگ اغواء برائے تاوان سے لوٹ لیںگے ۔ اسلئے اگر یاسر کو یہ لوگ کاٹ کر بھون بھی لیں تو ہم نے ایک روپیہ نہیں دینا ہے۔ ہماری حکومت سے کوئی دشمنی نہیں اسلئے کہ یہ شاہد آفریدی کا معاملہ ہے۔ اگر وہ محسود قوم کے ساتھ دشمنی مول لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن یہ ہمارا فیصلہ ہے”۔

آفریدی رہنما نے کہا کہ ”دنیا میں ہر چیز کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ تم لوگ محسود قبائل ہمارے لئے بہت قابل احترام ہو اور ہمارے مہمان ہو۔ جرگے کا اصول یہ ہے کہ آپ نے ہم تک بات پہنچائی۔ اب ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ مسئلہ کیا ہے؟۔ پھر دونوں فریق کی باتیں سن کر کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کس کی بات میں وزن اور کیا مسئلہ ہے؟”۔

چونکہ سوشل میڈیا پر باتوں کی ترتیب کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ کس نے کیا کہا ،جواب میں کیا کہہ دیا ؟۔ اسلئے گفتگو کو من و عن نقل کرنا مشکل ہے۔ فریقین کا تصادم سے گریز اور بات چیت سے مسئلہ کا حل خوش آئند ہے۔ ایک محسود قبائلی رہنما نے بہت مؤثر تقریر کی کہ ہم تمہارے پاس آئے ہیں ۔ خدا کرے کہ تم ہمارا بندہ اغواء کرکے قتل کردو۔ ہم انگریز دور میں18ہزار شمار ہوئے (اب تو لاکھوں میں ہیں) اور ایک بندے کے قتل سے ہم بالکل بھی کم نہیں ہوتے لیکن یہ تمہارے لئے عار ہے۔

قبائل فطرت کے ترجمان ہیں۔ طالبان نے کئی بہت اچھے اچھے نامور محسود قتل کئے تو انہوں نے ایکشن نہیں لیا لیکن جب ہمارے واقعہ میں تین آفریدی سمیت مہمان شہید ہوگئے تو وہ محسود جو خود کو امریکہ سمجھتے تھے لیکن مہمانوں کے قتل سے بہت خراب ہوگئے۔ حالت اتنی پتلی ہوگئی کہ مولانا فضل الرحمن نے حالت زار دیکھی تو طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔

آفریدیوں سے ایک محسود قبائلی رہنما نے کہا کہ” ایک ایسا شخص جس کا کاروبار ہے ۔ ہم بھی ذمہ داری اٹھاتے ہیں کہ اس نے بھاگنا نہیں ہے تو پہلے آپ اس کو آزاد کریں اور پھر اس پر بات کریں اور بالکل وہ کہیں بھی جائے گا تو ہم ذمہ دار ہیں”۔

آفریدی رہنما نے کہا کہ ” ذمہ راری اس بات کی لو کہ اگر پیسہ نکلتا ہے تو اس رقم کی ادائیگی بھی آپ کی ذمہ داری ہوگی”۔ طارق آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گلٹی ہونے کے ثبوت ہیں اور وہ میرے پاس نہیں۔ میں نے قانونی مقدمہ درج کیا ہے اور متعدد مرتبہ فیصلوں کے بعد مجبوری تھی” ۔

امید ہے کہ عدل وانصاف کے مثالی تقاضوں کے مطابق معاملہ حل ہوگا۔ پہلے مرحلہ فریقین دلائل پیش کریںگے ۔پھر ثالثی مان کر دونوں کی خواہشات پر نہیں بلکہ حق پر فیصلہ ہوگا۔ قبائل میں پوری دنیا کے مسائل نمٹانے کی صلاحیت بھی ہے اور کمزوریاں بھی۔ کمزوری پر قابو پالیا تو پھر امام بن سکتے ہیں۔

قرآن میں منافقین کا جہنم میں نچلا درجہ ہے اور ایمان نفاق کی ضد ہے۔ ایک آدمی اپنی اولاد کو گالیاں دیتا تھا اور مقامی رسم کے مطابق دعوت میں لوگوں کو گوشت ہاتھ میں دیا جاتا تھا اور وہ شخص گالی کیساتھ اپنوں کو گوشت کا بڑا حصہ بھی تھمادیتا تھا۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی گالی دو تاکہ گوشت بھی ملے۔

مولانا فضل الرحمن نے26ویں ترمیم سے پہلے بڑی گرم گرم تقریریں کرکے مغالطہ دیا اور آخر میں مقتدرہ کو رسکیو کردیا۔ ممکن ہے کہ طالبان کو رسکیو کرنے کیلئے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا ہو اسلئے کہ افغان طالبان کی حامی ہماری ریاست بھی تھی اور اس کو دجال اور دجال کا لشکر قرار دینے پر نیٹو کے خلاف جہاد کا جذبہ ختم ہوسکتا تھا۔ پاکستانی ریاست اپنے خلاف جہاد کی حامی نہیں تھی۔ بیت اللہ محسود نے قاری حسین کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن قاری نے کہا کہ تمہارے کہنے پر خاندان محسود اور اس کی فیملی کو شہید کیا تو تجھے بھی قتل کیلئے خود کو پیش کرنا ہوگا۔ قاری نے قبائل سے کہا کہ طاقت میں بیت اللہ محسود سے کمزور ہوں لیکن دلائل کی بنیاد پر پلڑا بھاری ہے۔ جب قوم اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی توبیت اللہ محسود کمزور ہوگیا۔ کانیگرم میں طالبان نے جرگہ رکھا تھا تو محسود قوم نہیں آئی۔

اصل میں اقدار کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

مذہبی طبقہ ایمان کیساتھ عمل صالح عبادات کو سمجھتا ہے ۔حالانکہ عبادات تمام مذاہب کے الگ الگ ہیں۔ سورہ حج میں تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کے تحفظ اور ان میں اللہ کا نام کثرت سے ذکر کی سند سب کو حاصل ہے اور اس انقلابی فکر سے دنیا بھر میں بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے کہ قرآن نے لائن میں تمام مذاہب کی عبادگاہوں میں سب سے آخر میں مساجد کا ذکر کیا ہے۔

یہود ونصاریٰ نے مذہبی وعبادات اور دنیاوی معاملات کو بانٹ دیا تھا۔اعمال صالحہ کا تعلق عبادات سے نہیں معاملات سے ہے۔ صالح کا معنی درست اور اس کی ضد مفسد ہے۔ جب مشرک بیٹا مانگتا تھا تو صالح مانگتا تھا لیکن صالح کا معنی تندرست تھا اور جب اقدار بدل جائیں گی۔ یہودو نصاریٰ کی طرح ہم بھی مساجد میں حاجی صاحب اور معاملات میں ماجی صاحب بن جائیں گے تو صالح ہونے کے تصورات بھی ختم ہوں گے۔

جنرل پرویز مشرف کے ایمر جنسی کو مولانا فضل الرحمن نے1973ء کے آئین کی روشنی میں پارلیمنٹ سے منظوری دیدی پھر حامد میر کے پروگرام میں انصار الاسلام عباسی نے انکشاف کیا کہ مولانا صاحب نےGHQسے زمینیں بھی لے لی ہیں اور اس سے بڑھ کر سودی بینکاری کو مشرف بہ اسلام قرار دیا ہے تو پھر بقول مولانا منظور مینگل کے اسلامی ہیرہ منڈی نام رکھ دو لیکن کنجریوں میں بھی غیرت ہوتی ہے۔نواب آف کالاباغ نے ایک کو زبردستی سے نچانے کیلئے لایا تو اس نے زہر کھالیا۔

دارالعلوم کراچی کے چھپے ہوئے مواعظ ہیں کہ شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پھر بھی مفتی تقی عثمانی نے سودکو جواز بخش دیا ہے۔

علماء ومفتیان میں کچھ لوگوں کا ضمیر قوم لوط کے عمل کی وجہ سے بالکل ناکارہ ہوجاتا ہے۔

مولانا محمدیوسف لدھیانوی کو شہید کرکے ان کی مقبول کتاب”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” مارکیٹ سے غائب نہیں کی جاتی تو علماء ، مفتی صاحبان ، حکمران، عوام اور سب لوگوں کو آئینہ میں اپنی شکل نظر آتی اور اعمال کی اصلاح بھی کرتے۔

مولانا محمدامیر بجلی گھر نے مجھ سے کہا کہ ”اتحادکا جذبہ اچھا ہے لیکن فضل الرحمن اور مولاناسمیع الحق اکٹھے نہیں ہوں گے”۔ پھر جب جنرل پرویزمشرف کی قید سے رہا ہوئے تو تقریر میں کہا کہ

” ملاؤں نے بھی سودی زکوٰة کھانا شروع کردی”۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہر بندہ بھگوان خدا کا خلیفہ ہے:ہندولڑکی

گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاںرا رہنما
خدا ایشوراور اللہ والا بھگوان
ہر بندہ بھگوان خدا کا خلیفہ ہے:ہندولڑکی

ہندو سادھنا پٹھ نے کہا:آج کا موضوع ہے کہ ”آتم گیان (خود شناسی) کیا ہے؟۔” کیا اپنی طاقتوں یا صلاحیتوں (Capabilities)کے تئیں باخبر ہو جانا؟ نہیں!یہ میں نے اسلئے بولا کہ کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں (Hidden abilities)کو جان لینا ہی خود شناسی یعنی آتم گیان ہے، لیکن وہ آتم گیان نہیں ہے۔ ہمارے اندر جو ایشور (خدا)ہیں، اس خدائی صفت کے ذریعے مکمل آگاہی (Awareness)آ جانا آتم گیان(خود شناسی) ہے۔

سننے میں تو یہ کافی متضاد (Contradictory)اور کبھی کبھی گستاخانہ (Disrespectful)بھی لگتا ہے کہ کیا انسان اپنے آپ کو بھگوان سمجھنے لگتا ہے؟۔ ہم جانتے نہیں ہیں کیونکہ ابھی ہم بھٹکے ہوئے ہیں۔ خود شناسی کا یہی سفر ہے کہ آپ آگاہ ہوجائیں اپنے اندر کے بھگوان سے۔ اپنے آپ کو اتنا پاک اور خالص (Refine) کیجیے۔ یہ بات تو سنی ہے کہ ہمارے اندر بھگوان ہیںتو آگاہی کی کیا ضرورت ہے؟ ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ”لفظوں میں جانتے ہیں،(Experience) تجربے میںنہیں جانتے۔ہمیں اس کا احساس اور تجربہ نہیں ہے کہ یہ جیون فانی ہے، روح کپڑوں کی طرح جسم بدلتی رہتی ہے۔ پتہ تو سب کچھ ہے، لیکن ہم نے اس کا تجربہ کیا ؟ نہیں کیا ہے؟کیونکہ اب تک کا گیان تو سنا سنایا اور پڑھا پڑھایا گیان ہے۔ لیکن اس کو آگے بڑھانے کیلئے تجربے میں اتارنا ضروری ہے۔ آگے میں کوئی پروچن (وعظ و نصیحت) دوں کہ ”نہیں بھائی، آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہو، یہ آپ کا مسئلہ ہے”۔ تو وہ جاننے کیلئے مجھے خود وہ تجربہ ہونا چاہیے۔

سوچ سکتے ہیں کہ بھگوان ہمارے اندر ہیں تو محسوس کیوں نہیں ہوتے؟ کیونکہ پرابلم موجودگی (Presence) کی نہیں ، مسئلہ آگاہی(Awareness) کا ہے۔ پرابلم توجہ (Attention)کی ہے، کیونکہ ہماری جبلت و شعور مستقل باہر کی طرف دوڑ رہی ہے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لوگ کیا سوچ رہے ہیں، ہم کیا دے رہے ہیں، ہمیں کیا مل رہا ہے۔ جیسے کہ سورج چمک رہا ہے لیکن اگر ہم نے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ سورج چمک رہا ہے۔ اسی طرح ایشور (خدا) کو پانا نہیں ہے، دیکھنا ہے اور ایشور کو دیکھنے کیلئے کیا چاہیے؟ جاگتا ہوا شعور، جاگتی ہوئی بیداری۔ بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے اس بات میں کہ ”ہم جانتے ہیں ایشور ہے اورہم نے ایشور کو اپنے اندر محسوس کیا ہے”۔ ان دو اسٹیٹمنٹ کے بیچ۔ یہ احساس کہ جو میں خود ڈھونڈ رہا ہوں، وہ تو میں خود ہی ہوں، یہ احساس آنے میں وقت لگتا ہے لیکن ایسا ہوتا ہے۔

جیسے لوگ بولنے آئیں گے کہ ”ارے یہ سب سچ نہیں ہوتا، سب حقیقی نہیں ہوتا” وغیرہ۔ لیکن بھائی، اگر آپ کو گڑ کا ذائقہ جاننا ہے تو گڑ کھانا تو پڑے گا ناں؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ گڑ کیسا ہوتا ہے؟ اور میں کہوں کہ میٹھا ہوتا ہے۔ آپ کو لگے گا کہ میٹھا کیسا میٹھا؟ چینی جیسا میٹھا؟ میں کہوں کہ نہیں مٹیالا (Earthy) میٹھا ۔ توآپ سوچیں گے یہ ارتھی میٹھا کیا ہوتا ہے؟۔ کیا مٹی کا ذائقہ آتا ہے؟ نہیں۔ لیکن اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے، یہ جاننے کیلئے آپ کو خود تھوڑا چکھنا تو پڑے گا نا۔اسی طرح سادھنا (روحانی مشق)کام کرتی ہے یا نہیں ؟، بھگوان ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے، یہ فیصلہ (Judgment) سنانے کیلئے آپ کو پہلے وہ قدم اٹھانا ہوگا۔ کہ ”انسان تھوڑی بھگوان ہوتا ہے، بھگوان نے انسان کو بنایا ہے” یہ کہنے کیلئے آپ پہلے سادھنا (روحانی مشق)کر کے دیکھو۔ پھر آپ بتاؤ، پھر آپ فیصلہ کرو، لیکن آپ صرف پڑھ کر ایسا نہیں کر سکتے۔یہ لکھا ہوا تو بہت جگہ ہے کہ ”ہم ہی ایشور ہیں”، اہم برہماسمی (میں ہی سچ ہوں/میں ہی خدا ہوں)۔ لیکن صرف ”اہم برہماسمی” بولنے سے ہم ایشور تھوڑی ہو جاتے ہیں، جب تک کہ ہم اپنے اندر کے ایشور کو بیدار نہیں کر لیتے ہیں تب تک ہم میں ایشور کی کوئی صفات ہی نہیں ہو سکتیں، اور آپ کے اندر خدائی صفات تب ہی ہو سکتی ہیں جب آپ دوسرے کے اندر بھی اس ایشور کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔”

حجاب خاص کے پردے اٹھے ہیں کیف و مستی میں
نہ جانے کس کی ہستی دیکھتا ہوں اپنی ہستی میں
نہ بہکا آج تک میں نشۂ الفت کی مستی میں
بتوں کو بھی اگر پوجا تو پوجا حق پرستی میں
تلاش بت میں مجھ کو دیکھ کر جنت میں سب بولے
یہ کافر کیوں چلا آیا مسلمانوں کی بستی میں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وماقدروااللہ حق قدرہ- اورانہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا قدر کرنیکا حق تھا(قرآن)

وماقدروااللہ حق قدرہ

اورانہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا قدر کرنیکا حق تھا(قرآن)

دیوبندی بریلوی اہلحدیث شیعہ اگراس قدر کی ترازومیں کھڑے ہوں توپھرسدھر بھی جائیںگے

پاکستان میں دیوبندی بریلوی اکثریت ہے اور درس نظامی مدارس کا نصاب ایک ہے۔ جمہور کے مقابلے میں یہ حنفی ہیں۔ امام شافعی امام مالک کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل کے استاذ تھے۔ اہل حدیث اور شیعہ بھی احناف کے خلاف ہیں۔

درس نظامی میں دین کے4اصول ہیں۔ قرآن، حدیث، اجماع اور پھر آخر میں ان تینوں پر کسی چیز کا قیاس کرنا ہے۔

دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ

”قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہے مگرلفظی بھی ہے جو جان بوجھ کر کی یا مغالطہ سے” ۔
(فیض الباری شرح صحیح بخاری)

کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان کے قاضی عبدالکریم نے مفتی محمد فرید کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ ”یہ عبارت پڑھ کر میرے پیروں سے زمین نکل گئی کہ کافروں کی طرف تو ہم یہ نسبت نہیں کرسکتے ہیں کہ جان بوجھ کر تحریف کی یا مغالطہ سے اوراگر صحابہ کرام کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں تو ہم دوسروں پر کفر کے فتوے جس بنیاد پر لگاتے ہیں اس کے مرتکب ہم خود ہیں”۔

اس پر علامہ غلام رسول سعیدی نے دارالعلوم کراچی سے فتویٰ لیا تو اس پر کفر اور کافر کا فتویٰ لگادیا گیا۔ دیوبندیوں کے خلاف فتوؤں کا طوفان آتا لیکن میں نے لکھاکہ” یہ درس نظامی کا معاملہ ہے”۔ شیعہ پر دیوبندی نے تین وجوہات سے فتویٰ لگایا کہ قادیانی سے بدتر کا فر ہیں ۔ پہلی وجہ قرآن کی تحریف کا عقیدہ تھا پھر دیوبندی اپنے اس فتویٰ سے پیچھے ہٹ گئے ۔

اتحاد، اتفاق اور وحدت کیلئے ضروری ہے کہ پیمانہ (قدر) ایک ہی ہو۔ جب پیمانہ اور ترازو میں فرق ہوگا تو اتحاد، اتفاق اور وحدت کے نام پر ڈھکوسلہ ہوسکتا ہے حق اور حقیقت نہیں۔

اصول فقہ میں ہے کہ ” شافعی کے ہاں خبر واحد کی حدیث حجت ہے لیکن قرآن کی کوئی اضافی آیت نہیں اور حنفی کے ہاں قرآن سے باہر آیت بھی حجت ہے لیکن حدیث صحیحہ نہیں”۔

عورت کا نکاح بغیر اجازت ولی باطل ہونا200احادیث حد تواتر ہیں لیکن احناف خبرواحد کے نام پر مسترد کرتے ہیں اور کفارہ یمین میں متتابعات کا لفظ قرآن کی خبر واحد ہے جو حنفی کے ہاں آیت اور شافعی کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔

چلو قرآن وحدیث پر اتفاق نہیں تو اجماع پر اتفاق ہے؟۔ ”اہل سنت کا اجماع معتبر ہے، ائمہ مجتہدین ، اہل مدینہ کا بھی اور اہل بیت کا بھی ”۔(نورالانوار: ملاجیون) گویا انتشار کا نام بھی اجماع رکھ دیا ہے۔ ایک کا اجماع کچھ تو دوسرے کا کچھ؟۔

مولانا منبر پر کہتا ہے کہ قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہوئی، ایک ایک لفظ محفوظ ہے لیکن کتابوں میں بدل جاتا ہے۔ صدر تنظیم المدارس مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھاکہ قرآن میں اصل کے اندر آیت ”وماخلق الذکر والانثیٰ” نہیں ہے بلکہ ”والذکر والانثیٰ ” ہے۔لیکن عوام میں فتنہ برپا ہوگا اسلئے اس پر گزارہ کرنا چاہیے۔ سورہ احزاب کا لکھا ہے کہ آدھی غائب( تبیان القرآن: علامہ غلام رسول سعیدی)۔

جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ

”سورہ النساء و دیگر سورتوں کا کچھ حصہ قرآن اور باقی قرآن نہیں اضافہ ہے”۔

مصحف ابن کعبمیں سورہ احزاب سورہ بقرہ جتنی تھی، زانی کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ دعائِ قنوت ”سورہ خلع” اور”سورہ حفد” تھیں۔ رضاعت اور سنگسار والی آیات بکری کھاگئی۔ابن ماجہ

صدر وفاق المدارس مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ بخاری نے حضرت علی کی روایت اسلئے نقل کی ہے کہ ”رسول اللہ ۖ نے مابین الدفتین (دو گتوں میں) کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑا” کہ شیعہ کی تردید ہے کہ تم قرآن کی تحریف کا عقیدہ غلط رکھتے ہو اسلئے کہ تمہارے حضرت علی نے قرآن کی تحریف کی تردید کی ہے لیکن جہاں تک قرآن میں تحریف کے عقیدے کی بات ہے تو امام بخاری تحریف کے قائل تھے اور قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ (کشف الباری)

قرآن :” جو رسول پر نازل ہوا مصاحف میں لکھا ہوا نقل متواتر بلاشبہ”۔ مصاحف میں لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں، لکھائی نقوش ہیں۔ متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں، بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے اور شک اتنا قوی ہے کہ اس کا منکر کافر نہیں ”۔

لکھائی قرآن نہیں، اس پر حلف نہیں ہوتا ،سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے (قاضی خان اور فتاویٰ شامی )

قرآن متواتر ہے توغیر متواتر آیات کیوں؟

۔ اپنی تعریف کو خود بھی نہیں مانتے؟۔ پھر عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں متعہ غیر متواتر آیت لیکن حنفی پھر کیوں نہیں مانتے ہیں؟۔بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی تو ذٰلک الکتٰب لاریب فیہ پر ایمان ختم؟۔

امام مالک کے ہاں نماز میں بسم اللہ پڑھی تو نماز نہیں ہوگی اور امام شافعی کے ہاں نہیں پڑھی تو نماز نہیں ہوگی مگر یہ کیوں؟۔

ٹانک کے مولانا فتح خان (مولانا فضل الرحمن نے اپنی بچکانہ حرکت سے ڈسٹرکٹ خطیب کا سرکاری منصب چھین کر کسی اور کے حوالہ کے کیا تھا)سے پوچھ لیا کہ ” جب بسم اللہ قرآن وحدیث میں ہے تو کیا پھر اس پر اجتہاد کی گنجائش ہے کہ مالکیہ کے ہاں قرآن کا حصہ نہیں ، شوافع کے ہاں قرآن اور سورہ فاتحہ کا حصہ ہے اور احناف کے نزدیک قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے؟”۔ تو مولانا فتح خان نے فرمایا کہ ” پیر صاحب تجھ پر اللہ کا فضل ہے ،اگر میں یہ بات کروں گا تو میری مسجد کو گرا دیں گے اور گھر پر حملہ کرکے ہم سب کو مار دیں گے۔ آپ بازارمیں گھومتے ہیںاور کوئی کچھ نہیں کہتا۔ آپ کے ذریعے راستہ ہموار ہوگا تو اپنی زبان کھول سکیں گے ۔ شیخ الحدیث مولانا زکریاکی اورادکو شروع کیا تو تبلیغی جماعت نے پروپیگنڈہ کیا کہ سفید داڑھی کے بعد گمراہ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے میں نے وہ اللہ کا ذکر چھوڑ دیا۔ دین کا علم اور سمجھ ہمارے پاس ہے مگر آپ جتنی جرأت نہیںرکھتے ہیں’ ‘۔

شدت پسندی ہم کو نبی کریمۖ نے سکھائی نہیں
ابن ابی کی لاش بھی بے حرمتی سے دفنائی نہیں
دین کے نام پر دنیا ہم نے الحمد للہ کمائی نہیں
اسلام انقلاب ہے ملاؤں کی جگ ہنسائی نہیں
میں بندہ گناہ گار ہوں مانا مری بے خطائی نہیں
پر ہاشمی حسنی حسینی سید ہوں حلالے کا فدائی نہیں
ٹھوکریں کھائیں بہت لیکن تحریک مرجھائی نہیں
رکنا محال ہے جب تک دنیا ہم نے سلجھائی نہیں
ہرمشکل کے ساتھ آسانی مایوسی کفر لب کشائی نہیں
واللہ خیر الماکرین سادگی ہے بدچلن خدائی نہیں

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شیعہ وکیل جو سنی حافظ عالم لگتا تھا جب میں نے کہا کہ قرآن میں سورہ مجادلہ میں نبیۖ کی رائے کے خلاف وحی نازل ہوئی، اس طرح بدری قیدیوں سے فدیہ لینے اور انشاء اللہ کہنے وغیرہ پر تو کیا ائمہ اہل بیت نبیۖ سے بڑھ کر تھے کہ ان سے اختلاف کی گنجائش نہ ہو؟۔ اس نے کہا کہ ”آپ نے میری سوچ کا محور بدل دیا ، اس زاویہ سے سوچوں گا” لیکن بدقسمتی سے وہ شہید کردئیے گئے اپنوں یا غیر کے ہاتھوں؟۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ قرآن کی وجہ سے شیعہ کا عقیدہ امامت بھی ٹھیک ہوجائے گا جس کو علامہ ضیا ء الرحمن فاروقی نے سنی شیعہ اختلاف کا محور قرار دیاہے۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری سے پوچھا کہ نبی اکرم ۖ سے اختلاف جائز تھا؟۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں سورہ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا اور دیکھنے کے بعد کہا کہ ”یہ متشابہات میں سے ہے”۔ میں نے کہا کہ ”یہ محکمات میں سے ہے”اور وہ مان بھی گیا اور مولانا فتح خان کی طرح کہا کہ ”آپ اپنا کام کریں تو ہمارے لئے بھی راستہ ہموار ہوگا”۔ میں اور پیر عبدالوہاب شاہ ڈاکٹر اسرار احمد کے پاس گئے اور قرآن کے تحفظ کے حوالہ سے درس نظامی کا بھانڈہ پھوڑ دیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ”میں کھل کر ساتھ نہیں دے سکتا مگر جس طرح امام زید کا چھپ کر امام ابوحنیفہ نے ساتھ دیا ،میری خاموش حمایت ہوگی”۔

فما لھم عن التذ کرة معرضینOکانھم حمر مستنفرةOفرت من قسورةO

”اور انہیں کیا ہوا ہے کہ تذکرہ سے اعتراض کرتے ہیں۔گویا بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہیں”۔ (سورہ مدثر آیات49،50،51 )

دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv