Category: 2026
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
اور ان دونوں سے مو دبانہ گزارشات :سید عتیق الرحمن گیلانی
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف
حضرت مولانا اشرف صاحب سلیمانی کا واقعہ
(ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم)
پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے کہا کہ سالِ اول کے طالب علم سرفراز چند دن میڈیکل کالج میں گزارنے کے بعد ہمارے شیخ و مربی مولانا محمد اشرف (سابق پروفیسر و صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی) سے ملنے کیلئے آیا۔ برخوردار تبلیغی دینی لحاظ سے فکر مند تھا، ملتے ہی کہا، ”حضرت میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑنا چاہتا ہوں یہاں کا مخلوط ماحول اور بے دین فضا مجھے بالکل پسند نہیں”۔ فرمایا ”بھلے آدمی!لڑکیاں تو نہیں بھاگ رہیں تو مرد ہو کر ہتھیار ڈال رہا ہے۔ یہ تعلیم چھوڑ کر کرو گے کیا؟”اس نے کہاکہ دینی مدرسے جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا دیکھو علما ء بہت ہیں علما ء کے خادم کم ہیں۔ تم ڈاکٹر بن کر علما ء کا خادم بنو۔ ڈاکٹر بنا، حضرت کی صحبت کا نتیجہ کہ عملی لحاظ سے کئی علما ء کیلئے قابلِ رشک بنا اور واقعی علماء کا ایسا خادم بنا کہ جہاں بھی رہا وہاں کے علماء کی خوب خدمت کی۔ ایک حادثے میں شہادت ہوگئی لیکن آج تک ان کی خدمات دوست احباب اور علمائے کرام کے حلقوں میں یادگار ہیں۔ ہمارے حضرت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے مریدوں کو دنیا کے کاموں میں ایسا چلاتے تھے کہ اس دنیا کو دین اور عبادت بنا دیتے تھے۔
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
مسلک صاحبِ فتاوی
صاحبِ فتاوی مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر طعن نہیں کرتے
احقر العباد بندہ رشید احمد گنگوہی عفا اللہ تعالی عنہ بخدمت اربابِ فہم و دیانت عرض کرتا ہے کہ بندہ کا مذہب حسب مسلکِ حق جملہ حق و دین یہ ہے کہ جس مسئلہ میں صحابہ و مجتہدین علیہم الرحمة کا اختلاف ہو تو اس میں جس جانب کو اپنی تحقیق سے یا تقلید کسی مجتہد اہل حق سے راجح سمجھے اس پر عمل درآمد رکھے اور دوسری جانب پربھی بے جا کوئی طعن و تشنیع نہ کرے۔ عند الضرورت اس پر بھی عمل کر لے۔ اسی وجہ سے یہ بندہ عاجز حنفی المذہب ہے کسی اہل مذہب پر طعن نہیں کرتا اور نہ اپنے مذہب کی خواہ مخواہ ترجیح کے درپے ہوتا ہے مگر عندالضرورت جہاں کچھ رفعِ فساد یا اصلاح متصور ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں کچھ لکھ دیتا ہے۔فقط کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
تبصرہ: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب1982میں رائیونڈ کے اندر حاجی عبدالوہاب سے میں نے مشورے کا کہا تو فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ نہیں لینا”۔ کانیگرم کے مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ جماعت میں تشکیل کریں ۔ مولانا شاہ حسین محسود نے کہا کہ نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ لیں۔ دارالعلوم کراچی میں انڈسڑیل ایریا کی وجہ سے داخلہ لیا جہاں کام بھی ملا لیکن جب میں نے کہا کہ زکوٰة میرے لئے جائز نہیں اور بلا معاوضہ دین کی خدمت کروں گا تو داخلے سے انکار کردیا۔ پھر مولانا یوسف لدھیانوی شہید سے کہا کہ والدین کی اجازت نہ ہو جبکہ میری خدمت کی ان کو ضرورت نہیں تو کیامیرے لئے علم حاصل کرنا جائز ہے ؟۔فرمایا: مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔ میں نے کہا کہ مشورہ نہیں فتویٰ مانگ رہاہوں تو فرمایا کہ ”پھر پڑھ سکتے ہو”۔ ایک سال مدرسہ میں پڑھا تو بہت فضول لگا اسلئے کہ سارے معاملات الٹ تھے اور اپنے مرشد حاجی عثمان سے کہا کہ علم چھوڑ کر حفظ کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا : میں عالم نہیں ہو ں ،کسی استاذ سے مشورہ لو۔ میں مولانا عبدالیقوم چترالی کے پاس گیا تو فرمایا کہ ”حفظ کی ایسی حیثیت نہیں علم حاصل کرو”۔ آج اگر مولانا چترالی کا مشورہ نہیں ہوتا تو میں علم کی یہ خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ رحمان بابا نے فرمایا:
” جب تم علم کے بغیر پیری فقیری کروگے تو اپنی کھوپڑی کو آگ لگادوگے”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی اور عمر ضائع کردی”۔ اسلئے مولانا بنوری نے علماء کو قرآن، حدیث اور عربی سکھانے کیلئے مدرسہ کھول دیا لیکن جب دارالعلوم کراچی شہر سے کورنگی منتقل ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت آگئی اور درس نظامی کی تکمیل کیلئے پھر جت گئے۔ الحمدللہ مولانا بنوری کے اخلاص کی برکت سے اساتذہ کرام سے تعلیم کی درست رہنمائی مل گئی۔
ــــــــــ
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
” ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک مکان و زمان کی قید سے آزاد و مطلق ہے ۔ روح مطلق ہوتواسکے نزدیک ماضی، مستقبل، حال، ظاہر باطن سب برابر ہیں ۔ روح کے نزدیک ہر چیز ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہمارے آقا نبی کریم ۖ اگر آپ عقل یا دل سے سوچیں تو آقا نبی کریم ۖسنتے ہیں۔
فتحِ مکہ کے دن، جب ہمارے آقا نبی کریم ۖ کعبہ کے پاس تھے، تو ایک شخص آیا، اس نے اپنے دل میںکہا: ‘آج میں محمد (ۖ)کو قتل کر دوں گا عربوں کو ان سے نجات دلاؤں گا۔ ”ہمارے آقا نبی کریم ۖ وفود کا استقبال کر رہے تھے اور فتح کا موقع تھا، جبکہ وہ کہہ رہا تھا: ”آج میں محمد(ۖ)کو قتل کر کے عربوں کو ان سے راحت دلاؤں گا۔اس نے ایک خنجر (چھری)لیا اور ہمارے آقا نبی کریم ۖ کے قریب آنے لگا، اور اپنے دل میں کہہ رہا تھاوہ کیا کہہ رہا تھا؟ ”آج میں محمد (ۖ) کو قتل کر کے مخلوق کو ان سے آرام دلاؤں گا۔”
ہمارے آقا نبی کریمۖ دیکھ رہے تھے۔ وہ شخص رسول اللہ ۖ کے پاس کہہ رہا تھا، چاہے وہ زبان سے کہتا یا دل میں سوچتا، ایک ہی بات تھی، ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اس سے فرمایا:تم نے کیا کہا؟۔
اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول!میں تو اللہ سے استغفار کر رہا تھا، میں تو استغفار کر رہا تھا۔آپ ۖ نے فرمایا: نہیں، سچ بتا تم نے کیا کہا تھا، کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ آج میں محمد کو قتل کر کے اس سے خلقت کونجات دلاؤں گا؟۔اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں! پھر ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اسے اپنے پاس کیا، اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ وہ شخص کہتا ہے: رسول اللہ ۖنے مجھے اس حال میں چھوڑا کہ آپ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو چکے تھے۔
شایدیہ ہے کہ ہمارے آقا نبی کریم ۖکی روحِ مبارک مطلق (آزاد)ہے، اسلئے ان کے ہاں ظاہر باطن برابر ہیں۔ اور یہ چیز ہم نے اللہ کے ولیوں کے ہاں بھی دیکھی ہے۔ ولی کے پاس جب اس کی روح مطلق ہوتی ہے چاہے آپ اپنے دل میں سوچیں یا اپنی زبان سے بولیں، دونوں ایک ہی بات ہوتی ہے؛ چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ سوچ رہے ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عقل تسلیم نہیں کر سکتی، یہ روح کی دنیا ہے، اور روح کی دنیا کا جسمانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، روح کی دنیا میں ہر چیز (موجود)ہے۔
مثال کے طور پر، آپ اپنے شیخ سے ملتے ہیں، آپ اور شیخ کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے شیخ سے ملتے ہیں، تو وہ دوسرا شیخ آپ سے کہتا ہے: کیا آپ کے شیخ نے اس دن آپ سے یہ بات نہیں کہی تھی؟۔ روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر اولیاء کی روحوں کا یہ حال ہے تو ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک کا مقام کیا ہوگا؟ ہمارے یہ آقا نبی کریم ۖہر چیز کو دیکھتے ہیں، ہر چیز کو سنتے ہیں، ہر چیز میں اجازت دیتے ہیں اور ہر چیز میں تصرف فرماتے ہیں۔
یہ ہم ایسی باتیں کر سکتے ہیں جسے شاید (ظاہری)عقل قبول نہ کرے، لیکن روحِ محمدی ایسی روح ہے جس کی کوئی سرحد و حد نہیں۔ تمام کائناتیں رسول اللہ ۖکے نور سے پیدا کی گئیں، اور فرشتے رسول اللہ ۖکے نور سے تخلیق کیے گئے، اور آپ ۖ تمام موجودات کے سردار ہیں، اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کا اور اس کی مخلوق کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔
تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رحمة للعالمین ۖ سے یہ فرمایا کہ
فلم تقتلوھم و لٰکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولیکن اللہ رمٰی ولیبلی المؤمنین منہ بلآئً حسنًا ان اللہ سمیع علیمO
”تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے وہ کنکر پھینکے تاکہ مسلمانوں کو اچھی آزمائش میں مبتلا ء کردے۔ بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (سورہ الانفال آیت:17)
پھر غزوہ ، احزاب اور غزوہ حنین میں مشکل کا اللہ نے شکار کیا۔ تاکہ صوفیا ء کرام تزکیہ نفس کو مشاہدات کے علاوہ آزمائش کے حقیقی میدانوں میں بھی جانچ سکیں۔ کبھی کمزور انسان کو اللہ بلا سے لڑادیتا ہے۔جیسے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام لڑے۔
ــــــــــ
مودبانہ گزارشات
سید عتیق الرحمن گیلانی
ڈاکٹر فداء محمد ہمارے بچپن میں غالبًا کانیگرم تشریف لائے تھے اور مولانا اشرف ہمارے ہاں اللہ کے ولی مشہور تھے جن کی ہمارے مرشد حاجی عثمان نے بھی تعریف کی تھی۔
مولانا اللہ یار خان نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔1982ء میں اسٹیل مل میں ان کے مرید تھے اور ان کے رسالہ ”المرشد” کے مضامین مجھے بہت اچھے اور اعتدال والے لگے۔ خاص طور پر نبیۖ کے نور وبشریت پر ادنیٰ مثال کرنٹ والے بجلی کے تار اور عام تار میں فرق کا دیا تھا اور مجھے انہوں نے پیشکش کی تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہیں کریں ،براہ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت ہوگی لیکن میں نے پہلے سے منع کردیا تھا۔ امام مسجد مولانا بیعت تھے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نبیۖ کی زیارت کی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ میری ایسی قسمت کہاں ؟۔ پہلی بار آپ کیلئے یہ پیشکش سنی ہے۔ سردار امان الدین شہید نے انکے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اخوان تحریک ،MNAجنوبی وزیرستان مولانا نور محمد شہید اور مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی تھی۔ مشرق اخبار کی معروف کالم نگار مریم گیلانی نے امان الدین شہید کی طرف سے تحریک کو اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ جبکہ مولانا اکرم اعوان نے وزیرستان کے لوگوں کیلئے فرمایا تھا کہ ” اس بیچ کو اللہ نے انقلاب کیلئے رکھا ہے”۔ اگر تحریک طالبان و دیگر ہتھیار اٹھانے والی سب تنظیمیں ہتھیار رکھ دیں اور علماء و صوفیاء اور ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں قرآن کے احکام کی طرف آجائیں تو بغیر کسی مشکلات کے دنیا میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔ سب اس نظام سے تنگ اور مایوس ہوچکے ہیں۔
مشاہدات، خواب اور انقلابی جدو جہد کے نتائج دیکھنے کی حسرت اس وقت پوری ہوسکتی ہے کہ جب قرآن کے احکام کو معاشرے میں زندہ کریں گے اور مردہ لوگوں کی روح کو زندگی مل جائے گی۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور ہندوستان کے مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے زندہ و تابندہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹ لیں گے۔ جب اسلامی جمہوری محاذ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان میں ہوا تھا اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی زندہ تھے۔ قبر پر فاتحہ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے۔ عقائد میں سب ایک ہوسکتے ہیں۔ مولانا خان محمد شیرانی سے اس وقت جمعیت علماء اسلام کا ایک عالم دین الجھ رہاتھا تو میں نے اجازت مانگ کر مطمئن کیا تھا اور اس نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے بتادیا۔ اس نے کہا کہ مجھے پہلے گمان تھا کہ آپ ہوسکتے ہیں۔ آپ نے چھڑا دیا۔
ہمیں ہار جیت کیلئے نہیں اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے مسلمانوں کو ہی نہیں تمام مذاہب کو بھی قرآن کی درست تعبیرات سے وہ نشان منزل قائم کرنا چاہیے جس سے جلد منزل کو پہنچ جائیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم!(خاتون کی آواز ہے)
پارلیمنٹ میں بیٹھے بہت سے افراد پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک جن کے آبا اجداد ملک و ملت اور مذہب سے غداری اور برطانیہ سے وفاداری کے صلے میں اس مقام تک پہنچے ۔
سب سے پہلے بھٹو خاندان کا شجرہِ نسب یہ ہے: غلام مرتضی بھٹو، ان کا بیٹا شاہنواز بھٹو اور ان کا بیٹا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت اصفہانی ایرانی لڑکی دوسری بیوی تھی جن سے بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ خاندان کی کہانی یہ ہے کہ1843میں چارلس نیپئیر کی قیادت میں انگریز نے سندھ پر قبضہ کیا اور دولت کی لوٹ مار کیلئے انگریز نے خاص طبقہ پیدا کیا جسکے ذمے عوام سے لگان یعنی ٹیکس کی وصولی تھی۔ برصغیر کی غریب عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریز کی مہربانیوں سے بھٹو برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں غربت کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔
بہر حال خدابخش خان اور اسکے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور انکے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ باری باری وفات پا گئے۔ مگر انہی میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے صلح کر لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا گوارا نہ کیا اور یہاں سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انگریز نے شاہنواز بھٹو کو بہت نوازا اور یہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ شاہنواز بھٹو1888میں پیدا ہوا اور1957میں فوت ہوا۔ یہ ممبئی حکومت میں مشیرِ اعلی، جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان اور انگریز کی بمبئی پریذیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ اس کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلےCIEاور بعد میں برطانیہ نے”سر” کا خطاب دیا۔ خاندان کے ابتدائی افراد، جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریز کے خلاف مزاحمت کی بعد کی نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ نے ”سر”، ”نواب” اور ”بہادر”کے خطابات دئیے۔ خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بے شمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب ہاریوں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے۔ سکھر اور جیکب آباد عملاً ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ خود انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین (David Cheesman) نے اپنی کتاب
Landlord Power and Rural Indebtedness in Colonial Sind
کے مطابق سندھ میں یہ وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھیں مگر برطانیہ کے وفادار رہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان کے علاوہ انگریز کے وفادار میں وڈیرو غلام قدیر درخان، میر عبدالحسین خان تالپور موجودہ سیاستدان فریال تالپور کے اجداد ہیں، اس کے علاوہ غلام رسول جتوئی اور جتوئی خاندان انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے، شامل تھے۔
شاہ محمود قریشی جو مخدوم کہلواتا ہے سکھوں کے ابتدائی دور اسکے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود، درگاہ کے گدی نشین تھے۔1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو فتح کیا تو مخدوموں کو ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی جو بڑی رقم تھی۔1847میں سکھ کی قوت لڑکھڑانے لگی اور برطانیہ نے یونین جیک کا جھنڈا برصغیر پر گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے انگریز کو جو خفیہ خبریں دیں، جو مخدوموں کے نئے آقا کیلئے انتہائی مفید اور مددگار ثابت ہوئیں۔ انگریزنے ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تاحیات1700روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا۔1857کی جنگِ آزادی کے خونی ہنگاموں کے دوران اس یارِ وفادار نے سرکاری فوج میں20ہزار سوار اور کافی پیادے بھرتی کروائے اور25سواروں کی پلٹن بنا کر جب کرنل ہیملٹن، رائے احمد خان کھرل اور انکے مجاہدین کے خلاف خونی لڑائی لڑ رہا تھا تب مخدوم شاہ محمود نے خفیہ مخبر کے علاوہ انگریز کی قوت بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔
جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی رہنما انگریزوں کی امداد کر رہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہدِ آزادی پر بہت برا اثر پڑا۔ اور مخدوم شاہ محمود کو30ہزار روپے نقد کے علاوہ1800روپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوؤں پر مشتمل زمین برطانیہ نے دی۔ شاہ محمود قریشی کی1859میں وفات کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش سجادہ نشین بنا۔ اس کی دستار بندی انگریز ڈپٹی کمشنر نے بڑی شان و شوکت سے اپنے ہاتھوں سے کی۔ انگریز اور افغان کے درمیان جنگ ہوئی تو انگریز کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ جہاں مجاہدین پاکستان کے پہاڑوں میں انگریز کیخلاف لڑائی لڑ رہے تھے تو گدی نشین انگریز کا ساتھ دیکر امت سے غداری کے بدلے میں بھاری رقم وصول کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اجداد اور مرزا غلام احمد قادیانی خاندان کا انگریز کی ایجنٹی میں کردار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلم مزاحمت کو کچلنے اور انگریز کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کی۔ دوسرے خاندان سے کذاب نبی نے جنم لیا جس کی باقیات آج بھی ہم پر مرزائیوں کی صورت میں مسلط ہیں اور تفصیل سن لیں۔ وکیل انجم کی کتاب ”سیاست کے فرعون”
ویڈیو لنک درج ذیل ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔
حرام حلالہ سینٹرز
ویڈیو کی تفصیل دیکھ لیں ۔ یہاں کچھ اقتباس دیتے ہیں۔
میزبان: کراچی، لاہور، اسلام آباد، بہالپور ایسے شہروں میں حلالہ سینٹر ہیں۔ پیسے لے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔
تہمینہ شیخ : یہاں کیا کرتے ہیں؟ کہتے ہیں دو لاکھ روپیہ دو، حلالہ کرا دیں۔ بہالپور میں دو لاکھ کا باقاعدہ ہ ا شتہار۔
تہمینہ شیخ: بہت بہترین قسم کا یہ کیس ہے جس سے لوگوں کو سبق بھی مل سکتا ہے۔ ہر خبر میں سبق ضرور ہوتا ہے لیکن لوگ صرف خبر کا مزہ ضرور لیتے ہیں لیکن سبق نہیں حاصل کرتے۔ اس خبر میں جو ذکر ہے، جو سبق ہے وہ حلالہ ہے۔ وہ دین ہے، وہ دنیا ہے اور وہ آخرت ہے ایک عورت کی۔ لیکن پتہ نہیں مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ کیوں بربادی کی طرف چل پڑے ہیں، چل نہیں پڑے دوڑ پڑے ہیں سارے کے سارے۔ یہ کیس پشاور کا ہے اور ایک موضع ہے جسے کہتے ہیں متھرا۔ ہدایت اللہ نامی شخص ایک عورت کا شوہر۔ ہوتا کیا ہے؟2010میں والدین اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں ہدایت اللہ سے اور اس میں بیٹی جو ہے اس کا نام زینب ہے۔ یہ شادی15سال بڑی بہترین انداز میں چلی زینب کو شوہر بہت زیادہ مارتا پیٹتا تھا۔ ہر دفعہ برداشت کرتی تھی، ایک دن سامنے اکڑ کے کھڑی ہوگئی، خبردار جو اب ہاتھ لگایا۔ پتہ نہیں وہ طاقت، وہ حوصلہ، وہ ہمت کہاں سے اس کے اندر آیا۔ جس دن اس نے آواز اٹھائی فرسٹ ٹائم، میں 15سال بتا رہی ہوں کہ شادی رہی، اسی دن اس کو تین طلاقیں ہوئیںموقع پہ۔ میں غیرت مند آدمی ہوں اور میں کیسے برداشت کروں کہ میری عورت کی آواز مجھ سے بلند ہوئی۔ اوکے ڈن، طلاق ہوگئی۔
اب اکٹھی تین طلاقیں ہوئیں نا، تو یہاں پر کردار ہے ایک اسلامک سکالر کا، وہ بہت اچھے سے بتا سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہم نے سنا، غلطی بھول چوک معاف کہ اکٹھی تین طلاقیں ہوتی نہیں۔ دین تو یہ کہتا ہے۔ باقی اسلامک سکالر، مفتی حضرات جو ہیں ہم سے بہت بہتر علم بھی رکھتے ہیں اور وہ بتائیں گے اس حوالے سے۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں ہوتی ہیں۔
پھر بیٹھ گئے۔ مسئلے کا حل نکالتے ہیں، کسی کو بتایا تو نہیں؟ نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے ماں باپ کو؟ نہیں بتایا۔ اوکے۔ چلو پھر اس کا حل حلالہ ہے۔ میں تو نہیں مانتی یہ کیا ؟۔ میں مولوی کو لاتا ہوں، مولوی آگیا۔ میاں بیوی، مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ مسئلہ سننے کے بعد مولوی کہتے ہیں حل واقعی حلالہ ہے، اگر دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ بتا کون رہا ہے؟ مولوی صاحب۔۔ اچھا جی اب یہ طے پا گیا۔ اب کس کے ساتھ اس کا حلالہ کرواؤں؟ ایک اس کا بڑا بیسٹ بڈی ہے، دوست ہے اس کا، اس دوست کا نام ہے راجبری۔
میزبان: اگر حلالہ کی بات کریں تو دین ہمیں جو بتاتا ہے کہ اس مرد کی اب وہ سابقہ بیوی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو کسی اور مرد کیساتھ نکاح کرنا پڑے گا، ازدواجی تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد جو نیا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے گا تب جا کر جو بیوی ہے اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور وہ تب جا کر حلال ہوگی، یہ پورا ایک کنسیپٹ ہے۔
تہمینہ شیخ: شرعی حیثیت بالکل آپ نے جو کہا یہ ہے سچویشن۔ مگر شرعی حیثیت میں پری پلانڈ اگر کیا جائے تو ہوتا ہی نہیں ۔
میزبان: ہاں پیسے دیکر حلالہ کروا لیا جائے یا اس نیت سے کروایا جائے کہ طلاق دینی ہے پھر بیوی نے واپس جانا ہے۔
تہمینہ شیخ: بالکل۔ جیسے ہم کیس میں بات کر رہے ہیں اب شوہر دوست ڈھونڈ کے اس کیساتھ حلالے کیلئے بھیجے، واپس لے آئے، تو یہ ہوتا ہی نہیں ہے نا، دین تو ایسا نہیں کہتا۔ راجبری کو کہا کہ میرا جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے طلاق دے دی، حلالہ کرنا ہے تیرے ساتھ۔ وہ اس کا منہ دیکھ رہا ہے، کیا بول رہا ہے اپنی بیوی کے بارے میں؟ پانچ سے دس منٹ کی اس نے کونسلنگ، راجبری کو ایگری کر دیتا ہے نکاح کیلئے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے پھر کل نکاح کریں؟ کہتا ہے ہاں کریں۔ اب راجبری کے ساتھ نکاح کر دیا جاتا ہے باقاعدہ طور پر اور نکاح میں مولوی بیٹھا ہے اور اس نکاح میں کچھ گواہ بھی بیٹھے ہیں۔ رخصت ہو کر چلی گئی جو کوئی گھر یا فلیٹ ہوگا۔ صبح ہوئی، بڑا ہنسی خوشی جاتا ہے راجبری کے اسی فلیٹ پر جہاں پر اپنی بیوی کو رخصت کر کے آیا ہے یہ۔ حیران اور پریشان ہوں میں، مجھے سناتے ہوئے بعض اوقات شرم آتی ہے میں کیا بتاؤں عوام کو، لیکن جو صورتحال ہے وہ بتانی اتنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو کم سے کم اویئرنس تو آئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ نہ کھلے، پھر کھٹکھٹایا نہ کھلے۔ دھیان گیا سائیڈ پر چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے دروازے کو،، فون کیا، فون بند۔ چار دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے بعد فون آن ہوا اور رابطہ ہوا۔ راجبری تم کہاں چلے گئے یار؟ تمہارے ساتھ میرا طے ہوا تھا؟ تم کون بات کر رہے ہو؟ جواب آرہا ہے۔ شاک۔ میں کون بات کر رہا ہوں؟ یار میں نے حلالے کیلئے اپنی بیوی کا نکاح نہیں تم سے کرایا تھا؟ کہتا ہے اچھا اچھا۔ اپنی بیوی کا نہیں اب وہ میری بیوی ہے اور میں ہنی مون پیریڈ پر ہوں۔ کہتا ہے کیا مطلب ہے تم ہنی مون پہ ہو، میں نے واپس لینی تھی، تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا۔ کہتا ہے میری بات سنو، طے میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، لیکن میرا اب دل آگیا اس پہ، میں نے نہیں چھوڑنی بھائی میری بیوی ہے۔ زینب کی آوازیں آرہی ہیں پیچھے سے۔ کہتا ہے بیٹھ کر بات تو کر لو تم لوگ۔ ٹائم سیٹ کرتے ہیں۔یہ بیٹھ جاتے ہیں سیٹنگ میں، زینب، راجبری، اس کا وہ شوہر پچھلا۔ بیٹھ گئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے یار یہ میری بیوی ہے میں نے نہیں چھوڑنی۔
میزبان: زینب کا کیا موقف ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا اتنا انٹرسٹنگ مؤقف ہے۔ یہ کہتا ہے میں نے بیوی نہیں چھوڑنی دل آگیا۔ وہ کہتا ہے زینب، چلو نا گھر، دیکھو یہ کیا فضول باتیں کر رہا ہے۔بچے انتظار کر رہے ہیں۔ زینب کیا کہتی ہے؟ کیا مطلب ہے چلو نا چلیں گھر؟ میرا گھر تو یہی ہے جس کے میں نکاح میں ہوں، تم چلو یہاں سے باہر، نکلو باہر کمرے سے۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا حلالہ، کیا تم بھول گئیں وہ15سال شادی کے، وہ تین بچے۔ زینب آگے سے کہتی ہے ہاں میں بھول گئی تھی تب جب تم نے مجھے کہا تھا تین مرتبہ طلاق اور جب ہر دفعہ تم مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ مارتے تھے، میں بدظن ہوگئی۔ اس نے مجھے ایک ہفتے میں اتنا کمفرٹیبل رکھا ہے کہ میں نے اب اس کو چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ یہی میرا حقیقی شوہر ہے، اسکے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس نے کیا کرنا تھا۔ اب یہ سارا جھگڑا ہوگیا بہت زیادہ۔
3جنوری تاریخ ہے اور ایک لاش ملتی ہے، ہوتی ہے زینب کی۔ زینب کی جب لاش ملتی ہے، پولیس کو پتہ چلتا ہے، پرچہ درج ہوتا ہے، ٹریسنگ شروع ہوتی ہے، ملزم تک پہنچ جاتے ہیں، تو ملزمان میں جو گرفتاری ہے وہ آتی ہے ایک تیسرے بندے کی اور اس تیسرے بندے کا نام ہوتا ہے نقیب اللہ۔
میزبان: نقیب اللہ کون ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا سگا بھائی۔ پولیس پوچھتی ہے کہ یہ معاملہ کیاہے، کہاں اس کا شوہر، کیا تم لوگوں کے چکر کیا ہیں؟ نقیب اللہ پولیس کو بتاتا ہے کہ ایک بندہ میرے پاس آیا اور کہتا ہے اس ڈالے میں چلنا ہے اور چل کے آگے یہ کام ہے، اتنے پیسے ہوں گے، اوکے ڈن۔ میں یہ کرتا تھا، میں چلا گیا۔ ڈالے میں بیٹھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت اللہ بھی ہے، زینب کا پچھلا شوہر۔ ڈالے کے فرش کو دیکھتا ہوں تو عورت کی لاش پڑی ہے۔ چہرہ دیکھنا چاہا، آگے بڑھا، چادر ہٹائی تو زینب کی لاش تھی۔بہن اس کی؟سگی بہن۔ پولیس نے کہا اچھا پھر؟ بڑی عجیب سٹوری ہے، ایسے میں نے بہت کم کیسز دیکھے۔ اب مجھے وہاں پر گن پوائنٹ پر بلیک میل کر کے یہ کہا جاتا ہے ہدایت اللہ کی جانب سے کہ اس لاش کو اٹھانا ہے ، وہاں پھینک کے آنا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تیری لاش بھی ہوگی۔ اب میرے پاس کوئی نہ وہاں پر موقع نہ کچھ مجھے کرنا پڑا مجبور ہو کے، میں نے اٹھایا اس کو پھینک دیا۔ اب وہ سی سی ٹی وی فوٹیج جو لاش پھینکنے کی ہے اس میں نظر آرہا ہے نقیب اللہ، تو پولیس کو اور سب کو تو لگے گا کہ قاتل نقیب اللہ ہے۔ اس پر جا کے پولیس نے کہا کہ کیا ٹائم تھا کال کا، کیا سلسلہ تھا سارا، پھر وہ کال کی ٹائمنگز، چیزیں میچ کرتے کرتے پتہ لگا کہ واقعی اصل گیمر اس میں ہدایت اللہ ہی ہے، سابقہ شوہر، کہ میری نہیں تو تیری بھی نہیں۔
تہمینہ شیخ: قیامت آنے والی نہیں ہے، قیامت آچکی ہے۔ مائیں بچے قتل کر رہی ہیں۔ شوہر بیویاں دے رہے ہیں حلالے کیلئے اپنے ہاتھوں سے بھائی زبانوں کو قابو کرو تاکہ نہ طلاق طلاق کہنا پڑے، نہ کل کو پچھتانا پڑے، نہ بیوی کسی غیر آدمی کے بستر پر چھوڑ کے آنی پڑے، کراچی، بہاولپور، اسلام آباد یہاں پر حلالہ سینٹر ہیں۔ یوٹیوبر بہن صحافی نے کال کی حلالہ سینٹر لائیو ریکارڈنگ ، یہ بہاولپور کا تھا، کتنا ریٹ؟ دو لاکھ۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالے کے نام پر سینٹرز کھول کے کمائی کر رہے ہیں، کس کی گردن پکڑیں؟ کدھر ہیں ہمارے ٹھیکے دار جو اس ملک کو سیاسی بنیادوں پر کسی نے آواز اٹھائی؟ کسی ہائر لیول پر آپ مجھے بتائیں، میں نے تو نہیں سنا۔ اٹھائی بھی ہوگی تو اسی طرح میں نے آپ نے اسی نے اسی نے کسی نے آواز اٹھا لی، بھائی جن کے ہاتھوں میں اختیارات ہیں، جن کی قلم میں پاور ہے، انہوں نے آواز اٹھائی؟ بالکل نہیں اٹھائی۔ آج یہ ہو رہا ہے تو کل اس سے اگلا اسٹیپ ہوگا۔
میزبان: کراچی کا ایک کیس مجھے یاد ہے۔ شوہر نے بیوی کو طلاق دی غصے میں ، احساس ہوا کہ نہیں غلطی ہوگئی، اس نے اپنے بھائی کیساتھ نکاح کروا دیا۔ وہ دونوں نکاح کے بعد گئے، بندہ برداشت نہیں کر سکا، ہارٹ اٹیک آگیا اور موت ہوگئی۔
تہمینہ شیخ: اب میری بات سے بہت غصہ آئے گا۔ وہ موت، وہ اٹیک جو ہے نا کاش وہ پہلے ہی ہو جاتا جب مار پیٹ رہا تھا بیوی کو یا جب طلاق دے رہا تھا بیوی کو۔ شاید دوسرے اٹیک کی تو امید ہوتی ہے نا ایک انسان تین اٹیک برداشت کر لیتا ہے، میں کہتی ہوں یہ اٹیک پہلے ہی ہو جاتا تاکہ نہ اس کی عزت تار تار ہوتی، نہ اس کا تماشہ بنتا، نہ ہم آج اس کو خبر کے طور پہ رپورٹ کر رہے ہوتے۔(مکمل ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیل دیکھیں)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ ایلن کیسر
السلام علیکم، میرا نام ایلن کیسلرAllenKeislerامریکہ میں بیٹھ کر ہمیشہ… پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب انصاف، سچائی، اخلاق، رحمت، معافی، ہمیشہ اللہ پاک کو یاد کرنا اور ذکر کرتے ہی رہنا۔ مجھے اور سب کو بتا دیا آج وہی دن ہے جس کاانتظار ہم ہزاروں سالوں سے کر رہے ہیں۔ جب انصاف اور سچائی قائم ہو جائے گی پوری دنیا میں، صرف اس سیارے پہ نہیں بلکہ کائنات میں۔ یہ وہی دن ہے۔ تو کتنی خوشی کی بات ہے۔ مسیحا کا مطلب مہدی حقیقت میں۔ مسیحا صرف یسوع مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام نہیں، بہت سارے مہدی ہیں ہماری استادنی نے یہی بتایا۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں ایک ہی مہدی ہو سکتا ہے۔ ، نہیں بہت سارے۔
ویڈیومیں تفصیلات ہیں اور قارئین خودبھی دیکھ سکتے ہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔
مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار!
ڈاکٹر اکمل سومرو
پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔
ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔
السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔
یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔
سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔
انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔
بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔
جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔
یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔
برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔
1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔
1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔
اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔
پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔
1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔
مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔
برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔
ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔
یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔
یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
آدم کا قصہ اور نظریہ ارتقاء
مرد عورت کا ارتقاء
عظمیٰ رومی
عظمیٰ رومی کا سائنسی پروگرام اچھا۔ سائنس منڈے چڑھی مگر علماء قرآنی کائناتی ماڈل نہیں سمجھتے۔اسرائیلیات کا نبیۖ نے فرمایا کہ ہم نہ تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔انسان ایک جان سے پیدا ہیں۔سائنس الحاد کو روکے گی۔ لباس نشانی تاکہ شرم گاہوںکو چھپائیں ۔ ریش پنک زینت اور موسم سے بچاؤ۔ فطری لباس کو جنسی تعلق نے اتارا ۔ پتوں سے موجودہ دور تک۔ اسی جوڑے سے نسل کی بقاء اور نہ ختم ہونے والا ملک ملا ۔ ابوالعلاء معری نے شادی نہ کی۔ قبرپر کتبہ:ہذا جناہ أبی علیّ وما جنیت علی احد”یہ میرے باپ کا گناہ ہے جو اس نے مجھ پر کیا،میں نے یہ گناہ کسی پر نہیں کیا”۔سلیمان و قاسم اور وائٹ ٹیرن کا فرق ؟ ہابیل مقتول خوش توقابیل قاتل پریشان! قرآن کو سائنس سے دیکھا جائے توپہلے جوڑے کا قدرتی لباس ثابت ہوگا اور اس کی ایک نشانی لڑکی کا پردہ بکارت موجود ہے!
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تقریرعلامہ ساجد نقوی کے قائم مقام علامہ عارف واحدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین والصلو والسلام علی سید الانبیا والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد فقد قال اللہ الحکیم ‘‘الذین یبلغون رسالات اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ” وقال فی مقام آخر ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم وکنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منہا” وقال فی مقام آخر ”ولا تنازعوا فتفشلوا وتذہب ریحکم”
میں انتہائی شکر گزار ہوں حضرت قبلہ علامہ مفتی عبدالرحیم صاحب کا، ان کی پوری ٹیم کا۔ عرصہ سے آرزو تھی۔ جامعہ الرشید کے بارے میں سنتا ہوں جا کر نزدیک سے دیکھوں۔ آ کر دیکھا کیا خوبصورت یہ پھول آپ نے کاشت کئے، ان کو بڑا کریں، تربیت کریں، پرورش کریں اور آج جو خوبصورت گلدستہ سجایا ہے، یقینا یہ لائقِ تحسین ہے میں الفاظ میں اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتا۔ سوچتا تھا کہ وہ وقت آئے گا کہ جامعہ الرشید میں اپنے ان بچوں سے خطاب کروں گا۔ بہت سی غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ یہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی بنائی اور اس کو پورے ملک میں آٹھ نو مہینے سے ہم متحرک ہیں ہر جگہ جا رہے ہیں بڑے بڑے اداروں میں، بڑے بڑے مراکز میں اور اللہ کا شکر ہے بڑی کامیابی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں آج جیسے مفتی صاحب نے فرمایا آج سب سے بڑا دن ہے، حدیثِ مبارکہ حضور اکرم کی العلم نور یقیفہ اللہ فی قلب من یشا من عبادہ آپ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اللہ نے وہ نورِ علم آپ کے دل میں ڈالا ہے اور انشا اللہ اس میں بہتری ہوگی اور مزید آگے بڑھیں گے۔
دینِ مکمل اسلام ہے ”ان الدین عند اللہ الاسلام” فتی صاحب نے کہا۔ خوشی ہے کہ مفتی طارق مسعود بیٹھے ہیں، اسلام مکمل ضابطہ، قرآن کہتا ہے، قرآن میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ حضور کی23سالہ زندگی میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ بلکہ خلفاء راشدین، میں چیلنج کرتا ہوں جو حضرت ابوبکر، حضرت علی کے درمیان اختلاف کی بات کرتے ہیں میں پوچھتا ہوں بتا حضور کے دور میں کیا سب ایک مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے؟ کیا خلفاء راشدین کے دور میں اکٹھے نمازیں نہیں پڑھتے تھے؟ اور میں آگے لے جاتا ہوں،61ہجری میں کربلا میں نواسہ رسول شہید ہوئے، ان کے خطبے کتابی شکل میں ہیں کہیں کسی مسلک کی بات نہیں ،بات ہے تو اللہ کی توحید ، اسلام ، قرآن کی ہے۔ آئیں اسی اصول کو لیکر چلیں، مشترکات کو لے کر چلیں۔
خدا گواہ ہے ہمارے بزرگان کا فتوی، سعودیہ، مصر کے علما ء نے آیت اللہ خامنہ ای کو لکھا انہوں نے فتوی دیا آیت اللہ سیستانی کا فتوی ہے کہ صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار، ازواجِ مطہرات کی توہین حرام ہے شرعاً۔ میں یہ دعوی کر رہا ہوں ،میں علامہ ساجد نقوی کا نمائندہ اور وائس پریذیڈنٹ ہوں، اعلان کرتا ہوں جو توہین کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہے، وہ توہین امت میں انتشار کا سبب ہے اور ہم نے قرآن کے اس حکم پہ عمل کرنا ہے ”ان ہذہ امتکم ام واحد وانا ربکم فاعبدون” باتیں بہت ساری ہیں۔ میں صرف ایک جملے میں عرض کرتا ہوں ہمارے سر کا تاج ہیں، ہماری آنکھوں کا نور ہیں اہل بیتِ اطہار، صحابہ کرام، ازواجِ مطہرات، خدا کی قسم ہمارے دل میں کوئی کدورت نہیں ہے، اگر کوئی جذباتی آ کر صحابہ کرام اور اہل بیت کے نام پہ ہمیں لڑاتا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔
میں ہاتھ دے رہا ہوں آپ کو آئیں، مل کر چلیں جناب عثمان بھائی کو کہوں گا کسی وقت یہاں نشست رکھیں، ہم آ جائیں گے ۔ بیشک ساری کمیٹی آئے نہ آئے میں آنے کیلئے تیار ہوں ان اپنے بچوں کیساتھ بیٹھوں گا۔ جو سوال بہت ساری غلط فہمیاں ہیں، یہ ماتم پتہ نہیں کیا ہے یہ فلاں، بہت سی چیزیں ہیں میں آپ کیساتھ بیٹھ کر گفتگو کروں گا انشا اللہ ہم توحید کے موضوع پہ، رسالت کے موضوع پہ، قرآن کے موضوع پہ، قیامت کے موضوع پہ، اہل بیت اور صحابہ کے موضوع پہ ہم اکٹھے ہیں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے یہ ہمارا مشترکہ عقیدہ ہے۔ آئیں دلوں سے کدورتیں اور انتشار و اختلاف نکالیں اور کامیابی کیساتھ آگے بڑھیں، اسی میں اسلام کی قوت ہے۔ قرآن جو مکمل ضابطہ حیاتِ انسانی ہے، بشری زندگی کیلئے مکمل ترین قانون ہے اور آئین ہے آئیں اس کو سامنے رکھیں، اس کے مطابق چلیں۔
مفتی صاحب ہمارے بڑے ہیں جس طرح یہاں آج خوبصورت گلدستہ سجایا ہے اور خوشبو انشا اللہ اس کی پوری دنیا میں اور پورے پاکستان میں بکھرے گی۔ میں سمجھتا ہوں اس کو لیکر ہم آگے بڑھیں گے بھرپور قوت کیساتھ۔ دل سے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میرے عزیز بچوں، میرے اپنے شاگرد ہیں بیرون ملک بھی پڑھ رہے ہیں پاکستان میں بھی ہیں۔ جیسے مجھے وہ عزیز ہیں میں آپ کے مبارک چہروں کو دیکھ کے اسی طرح خوشی کا اظہار کر رہا ہوں۔ ہماری جان ہیں، ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں۔ آگے بڑھیں اسلام کو پڑھیں اور اسلام کو پھیلائیں جو اسلام کا اصل پیغام ہے۔ انشا اللہ ایک جملہ اقبال کا علامہ صاحب مجھے کہہ رہے ہیں، آپ فرماتے ہیں ”اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہوشیار باش” وہ اہل بیت ہیں وہ صحابہ کرام ہیں اور جملہ یہ کہوں گا کہ حضور کے دو بازو تھے، ایک اہل بیت تھے ایک صحابہ کرام تھے اگر ان میں ایک بھی نہ ہوتا اسلام آج نہ ہوتا۔ اسلام ہے تو اہل بیتِ اطہار اور صحابہ کرام کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ انشا اللہ اس مشن کو لے کے آگے بڑھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مولانا طاہر اشرفی صدر متحدہ علماء کونسل کا بیان
آپ ذرا اسے دیکھئے تو سہی ۔ پچھلے ایک ہفتے کے اندر آپ کوئی عرب اسلامی ملک، ایران اور پاکستان کس طرح خون بہہ رہا ہے اور کیا ہم یہ خون بہتا دیکھتے رہیں؟ بچے قتل ہوتے رہیں، ماؤں کے سامنے ڈرون آئیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ان کی گود میں شہید ہو جائیں اور ہم کہیں نہیں نہیں ابھی مصلحتیں ابھی تو یہ ہوگا ۔علماء حق کے نام جنہوں نے حق کوببانگ دہل تسلیم کیا،
مصلحتوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ آپ کا فیلڈ مارشل ایک ایسے شخص کا بیٹا ہے کہ جو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتا ہے، جو اسکول ٹیچر تھا۔ اور یہ لوگ آج57اسلامی ملکوں میں ایک بادشاہ ہے جو حافظِ قرآن ہے اور ایک سپہ سالار ہے جو حافظِ قرآن ہے، زندگی کے36سال مولانا سمیع الحق شہید کے ساتھ گزارے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ آئین پاکستان پر پوری پوری رات، ایک ایک لائن پہ بحث ہوتی تھی۔ مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی جعفر حسین، یہ لوگ، مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، واللہ العظیم یہ جو ہمارے اکابر تھے ان کی تقوی کی قسمیں فرشتے بھی کھاتے ہیں ۔ صرف اتنا بتا دوں کہ میرے پیر و مرشد حضرت دین پوری ، میں نے آخری ملاقات میں پوچھا کہ حضرت ہم یہ سنتے ہیں کہ آپ کو مولانا عبیداللہ سندھی نے کہا تھا کہ انگریزی تعلیم حاصل کریں، علی گڑھ جائیں، کہا نہیں کہا نہیں تھا میری انگلی پکڑ کر لیکر گئے تھے اور کہا تھا انگلش نہیں سیکھو گے تو انگریز کا مقابلہ کیسے کرو گے؟ تو جامعہ الرشید وہی کام کر رہی ہے جو مولانا عبیداللہ سندھی کا کام ہے، جو ہمارے اکابر کا کام ہے، جو شیخ الہند کا کام ہے اور حضرت مفتی صاحب ہمیں آپ پر فخر ہے، ہمیں آپ پر ناز ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
قرآن میں یہ شجرہ کیا ہے؟
والشجرة ملعونة فی القراٰن ”اور قرآن میں ملعونہ درخت”
زوج منگیتراور جس کیساتھ نکاح ہو اس کو بھی کہتے ہیں اور ”بعل” ازدواجی تعلقات والا شوہر ہے
وہ سمجھتے ہیں علی خلیفہ نہیں؟،بنی مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا، سفینہ رضی اللہ عنہ ابوداؤد4646
و یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا ھذہ الشجرة…… الم انھکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبینO(الاعراف:19تا22)
” اور اے آدم رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور کھاؤ جیسے چاہو اور قریب مت جاؤ اس شجرہ کے تو ظالم ٹھہرجاؤ گے ۔ پھر شیطان نے دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ دکھادے دونوں کو جس کو ان سے چھپایا گیا دونوں کی شرم گاہوں میں سے اور کہا کہ تمہارے رب نے نہیں روکا مگر اسلئے کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا تم دوام پانے والے نہ ہوجاؤ۔اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کررہاہوں۔ تو دھوکہ سے دونوں کونشاندہی کردی جب دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھا دونوں کی شرم گاہیں کھل گئیںاور وہ جنت کے پتوں سے خود کو ڈھانکنے لگے اور دونوں کو ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تمہیں تمہارے دونوں کے شجرہ(اعضائے مخصوصہ) سے منع نہیں کیا تھا؟اور تمہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے”۔
عربی الفاظ ”الم انھکما عن تلکما الشجرة” واضح ہیں کہ دونوں کے شجرہ سے شرمگاہ مراد ہے خارجی درخت نہیں۔ یہ شجرہ نسب جو ہمیشہ کی بقاء نسل اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت ہے۔ نظریہ ارتقاء ہوتوتب بھی عورت کی پردہ بکارت کی طرح یہ پہلے جوڑے کا قدرتی لباس ہے جس کی چھیڑ خانی سے دونوں کا بے لباس ہونا اور پتے سے شرمگاہ کو چھپانا بالکل واضح ہے۔
یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواٰتکم وریشاولباس التقویٰ ذٰلک خیر ذٰلک من اٰیٰت اللہ …… انا جعلنا الشیا طین اولیاء للذین لا یؤمنونO (سورة الاعراف:آیت26،27)
”اے بنی آدم !ہم نے تم پر لباس اتارا ، تاکہ تمہاری شر م گاہوں کو چھپائے اور خوبصورتی سردی گرمی کیلئے۔ اور تقوی کا لباس بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ہوسکتا ہے تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے اور اس کا قبیلہ بھی اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو متولی بنادیا ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے”۔
قرآن میں حضرت آدم و حواء کا قصہ حفظ ما تقدم کے طور پر مذہبی حلالہ کی لعنت کو روکنے کیلئے بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔
مروان ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حلالہ کی لعنت کوبدترین جھوٹ اور حجاج بن یوسف نے جبراًمسلط کیا۔
واذا فعلوا فاحشة ً قالوا وجدنا علیھا اٰبآء نا واللہ امرنا بھا قل ان اللہ لایأمر بالفحشاء اتقولون علی اللہ مالا تعلمونO( سورہ الاعراف:آیت:28)
”اور جب وہ فحاشی (حلالہ ) کریںتو کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر اپنے اجداد کو پایا اور اللہ نے ہمیںاس کا حکم دیا کہہ دو کہ اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ، کیا اللہ پر کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ”۔
اس آیت سے بنی آدم میں حلالہ کی لعنت مراد ہے ۔ فحاشی حلالہ مشرکین مکہ و یہود میں اللہ کا حکم بتاکرنسل در نسل چالورہا۔ یہود پرحضرت داؤد اور عیسٰی کی زبان سے قرآن میںلعنت ہے اور امت میں حلالہ کی لعنت جاری کرنے والے مروان بن حکم اور حلالہ کی لعنت چالو کرنے والی اس کی اولاد پر نبی کریمۖ کی زبان سے اللہ کی لعنت کی گئی ۔ تفصیلات بھی سمجھ لیجئے گا۔
مروان کی دادی زرقاء (نیلی آنکھوں والی) بدچلن تھی ۔ مروان نے منبر نبوی ۖ پر کہا :یزید کی نامزدگی ابوبکر و عمر کی سنت ہے تو عبدالرحمن بن ابی بکر نے کہا : بلکہ قیصرو کسریٰ کی۔ مروان : عبدالرحمن کے خلاف آیت اتری،اماں عائشہ نے فرمایا: ”کذب مروان واللہ مانزلت فیہ” مروان نے جھوٹ بولا ،میرے بھائی کے متعلق یہ نازل نہیں ہوئی۔ ہماری شان میں صرف آیت برأت آئی لیکن نبی ۖ نے مروان کے ابا پر لعنت کی جس میں مروان تھا۔ (صحیح بخاری ) ۔ مروان اور اس کی اولاد نے حلالہ کو حضرت عمراور قرآن کے نام پرمسلط کیاتھا:
حدثنا احمد بن حنبل حدثنا سفیان بن عیینة عن سعید بن جمھان عن سفینة قال :قال رسول اللہ ۖ خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم یوتی اللہ الملک او ملکہ من یشاء قال سعید:قال لی سفینة: امسک : خلافة ابی بکر سنتین ،و عمر عشر سنین و عثماناثنی عشرة سنة و علی کذا۔ قال سعید: قلت لسفینة : ان ھو لاء یزعمون ان علیا علیہ السلام لم یکن بخلیفة: قال :کذبت استاہ بنی الزرقاء ،یعنی بنومروان ۔ (حدیث نمبر4646ابوداؤد)
30خلافت نبوت ہے نبیۖ۔ سعید نے حضرت سفینہ سے کہا کہ یہ لوگ گمان رکھتے ہیں کہ علی خلیفہ نہ تھے تو سفینہ نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنو مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا ۔ ابوداؤد نے علی کی خلافت ثابت کی ۔علی حلالہ کیخلاف تھے ۔ بنی مروان نے حلالہ کو مسلط کیا۔ حلالہ کیلئے علی کی خلافت کا انکار کیا۔ کبھی جاویداحمد غامدی کی بیوی یا بیٹی حلالہ کیلئے ملتی تو میں بھی لعنت جماع کرلیتا ۔
الذین یجتنبوں کبٰئرالاثم والفواحش الا اللمم ان ربک واسع المغفرة…… فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی
”جو بڑے گناہ اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر…. اللہ کی مغفرت وسیع ہے۔.. اپنی جان کو پاک نہ بناؤ ،اللہ جانتا ہے کون متقی؟”(سورہ نجم آیت32)۔
فقلنا یآ دم ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنة …..فاکلا منھافبدت لھما سواٰتھما……و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیا مة اعمٰی O
”پس ہم نے کہا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو تمہیں جنت سے نہ نکلوادے تو مشکل میں پڑیگا۔ تجھے اس میں بھوک لگے گی، نہ ننگا ہوگااور نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ۔ پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہاکہ اے آدم میں تجھے ہمیشہ رہنے والا شجرہ اور دائمی بادشاہی بتاؤں۔ پس دونوں نے کنگھی کی اور انکی شرمگاہیں ان کو دکھ گئیںاور جن پرجنت کے پتے چپکائے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور پھر بھٹکا۔ (سورہ طہ117تا121)
اللہ نے یہاں آدم کو مخاطب کیا اور تھوڑا سخت لفظ کنگھا کرنا استعمال کیا۔ لامستم النساء چھونا جماع ۔ اکل کنگھا کرنا،کیل ٹھونکنا، جماع۔ یونیورسٹی یا جامعہ کو عربی میں”کلیہ” کہتے ہیں۔ کل جمع ۔1جمع1کا کل:2ہے۔
جیسا نکاح کے بعد رخصتی سے قبل لڑکا لڑکی کو کنگھاکرلے ۔ نبیۖ نے فرمایا: بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، حوا نہ ہوتی تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ۔( بخاری)
مصرنے اہرام تک ریکارڈ ترقی کی ،بنی اسرائیل کی تباہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا ترقی نہ کرسکی ورنہ گوشت نہ سڑتا۔ عورت کا چھپ کر حلالہ کرنا خیانت تھی۔زلیخاکویوسف سے حلالہ کرناتھا۔ اگر اللہ نہ بچاتا تو دونوں ھم کرچکے تھے ۔یہی تو اللمم… ہے۔
واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنةً للناس و الشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فما یزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO (سورہ بنی اسرائیل:آیت:60)
”اور جب تیرے رب نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب کو جو تجھے دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں ملعونہ شجرہ کو اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ نہیں بڑھتے مگربڑی سرکشی میں”۔
یہ عالمی اسلامی غلبے کاوہ خواب ہے جو نبیۖ کو دکھایا گیا اور شجرہ ملعونہ حلالہ میں مسلمان اور یہودی مبتلا ہیں۔قرآن سابقہ کتابوں کیلئے درست تعبیر ” مہیمن ” ہے۔
اسرائیلیات میں زلیخا کا شوہر عزیز مصر نامرد؟ مگر3طلاق اور حلالہ کیلئے یوسف علیہ السلام کے پیچھے پڑی ہوگی پھر حضرت یوسف سے عقد ہوگا۔ اوریا کی3طلاق حضرت داؤد پر زبور کے احکام اور99دنبیاں اور ایک دنبی پر تنبیہ مسئلہ حلالہ ہوگا۔ حضرت زید کی3طلاق پرنبیۖ نے چاہا ہو کہ وہ آپس میں جدا نہ ہوں بھلے حلالہ کا معاملہ کرنا پڑے۔
عن انس بن مالک قال: زید بن حارثة یشکوفجعل النبی ۖ یقول ”اتق اللہ وامسک علیک زوجک” قال انس لو کان رسول اللہ ۖ کاتمًا شیئًا لکتم ھذہ ،قال کانت زینب تفخر علی ازواج النبیۖ تقول زوجوکن اھلیکن وزوجنی اللہ تعالی من فوق سبع السموات و عن ثابت۔ ”وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ و تخشی الناس” سورہ الاحزاب37(صحیح بخاری7420)
انس بن مالک نے کہا کہ زید بن حارثہ شکایت کرنے لگے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ”اللہ سے ڈرو ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔حضرت انس نے کہا کہ اگر رسول اللہ ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت زینب جبکہ تمام ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کرائی اور میری اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ جس چیز کو چھپار ہے تھے جس سے اللہ نے ظاہر کرنا ہے ، آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں”۔ حضرت عائشہ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”اگرنبی ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس کو ہی چھپاتے”۔ ازواج مطہرات میں سوکناہٹ تھی اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں کہ یعنی تمہارے لئے کوئی فخر کی بات نہیں۔
ڈاکٹر شبیرا حمد کی کتاب” اسلام کے مجرم ” میں داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری سے مولانا اشرف علی تھانوی تک کا اس واقعہ کے حوالے سے اور داؤد علیہ السلام کے واقعہ کے حوالہ سے بڑا خطرناک مواد ہے اورعلامہ سید کمال حیدری نے شیعہ حدیث کو بھی شرمناک قرار دیا ہے۔ اصل میں حرمت مصاہرت کا من گھڑت مسئلہ فرقوں کے درمیان روایات گھڑنے سے بھی کسی حدتک تمام متضاد اقسام کی حدود پھلانگ چکا ہے۔
یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدًا و مبشرًا و نذیرًاOوداعیًا الی اللہ باذنہ و سراجًا منیرًاOو بشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلًا کبیرًاOولا تطع الکافرین والمنافقین ودع اذاھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلًاOیا ایھا الذین اٰمنوا اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدةٍ تعتدونھا فمتّعوھن و سرحوھن سراحًا جمیلًاO
”اے پیارے نبی! بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بناکر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اللہ کی طرف بلانے والا اس کی اجازت سے اور چراغ روشن۔اور مؤمنوں کو بشارت دو کہ اللہ کا ان پر بڑافضل ہے اور تم کافروں اورمنافقوں کا کہنا نہ مانو۔ اور ان کی اذیت کو چھوڑ دیںاور اللہ پر توکل کریںاوراللہ کی وکالت کافی ہے۔ اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دو ،اس سے پہلے کہ تم نے انہیں چھولیا ہو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرو پس ان کو خرچہ دو اور انہیں اچھے انداز میں رخصت کرو”۔
سورہ الاحزاب کی یہ آیات:45تا49کیا بتاتی ہیں کہ کوئی جاہلیت کا مارا ہوا شکار پھنس جائے تو اس کو حلالہ کی بیڈ نیوز سے آگاہ کریں؟۔ رسول اللہ ۖ نے حلالہ کرنے والے اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جب صرف نکاح ہو تب عربی میں شوہر کو زوج کہا جاتا ہے لیکن بعل نہیں کہا جاتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ صرف نکاح میں عورت پر تمہاری کوئی عدت نہیں ہے اور تمہیں انہیں خرچہ دینا پڑے گا اور چھوڑنا بھی خوبصورتی کیساتھ اچھے انداز میںتاکہ دنیا اسلام کو مانے۔
ایک حلالہ کا گند کیا جائے اور دوسرا اس پر معاوضہ بھی لینے سے بدبخت شرم نہ کریں۔ یہاں پریہ کیسی الٹی گنگا بہتی ہے؟۔
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ
” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ (البقرہ:230)
اگر چہ اس آیت کا سیاق وسباق بالکل واضح ہے کہ شروع کی دو آیات228،229البقرہ میں عدت کے اندر معروف یعنی باہمی صلح کی شرط پر شوہر ہی کو رجوع کا حق ہے اور اس کے بعد کی دو آیات231اور232البقرہ میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے فوراً بعدبھی اور عدت کی تکمیل کے بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی میاں بیوی میں کوئی حلالہ و غیر ہ کی رکاوٹ اللہ نے کھڑی کرنے سے منع کیا ہے۔
اور ان تمام آیات میں رجوع کیلئے بیوی کی رضامندی شرط ہے اور کچھ نہیں اور آیت230سے پہلے آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد ایک مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے جس کی بنیاد عورت کے مالی حق کا تحفظ ہے کہ شوہر کی طرف دی گئی کوئی چیز واپس لینا قطعی حرام ہے جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے ۔لیکن اگر کوئی ایسی چیز شوہر نے دی ہو جو طلاق کے بعد رابطے اور اللہ کی حدود توڑنے یعنی جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر عورت کی عزت بچانے کیلئے عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ یعنی قربان کرنا غلط نہیں ہے اور جب عورت فدیہ دے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ رجوع نہیں چاہتی اور اس کیساتھ آیت230کا حکم منسلک ہے اسلئے کہ عورت راضی نہ ہو تو پھر یہ حکم آیت228میں بھی سرایت کرجاتا ہے اور آیت229میں بھی اورآیات231اور232میں بھی اور قرآنی آیات کی علت رجوع کیلئے عورت کی رضامندی ہے اور یہ اتنی واضح ہے کہ خردماغ لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں بشرط یہ کہ اس پر تھوڑاتدبر کریں۔لیکن بالفرض تمام آیات کو سیاق وسباق سے ہٹا بھی دیں تو بھی آیت230میں صرف نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی آگے پیچھے بھی نہیں دیکھتا ہے اور اس آیت پر اس کی سوئی اٹک جاتی ہے تو بھی ”بعل” بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ نکاح سے صرف زوج بنانا کافی ہے۔ یہ اللہ نے بہت خاص پرو ٹیکشن رکھی ہے۔
حضرت سعید بن جبیر نے جب دیکھا کہ بنو زرقاء بنو مروان حلالہ کی لعنت پر زور ڈال رہے ہیں تو قرآن سے استدلال کیا کہ آیت230البقرہ میں صرف نکاح کی بات ہے جماع کی نہیں ہے۔ حجاج بن یوسف نے شہید کرنے سے پہلے مکالمہ کیا۔ حضرت علی پر جہنمی کا فتویٰ لگانے کیلئے حجاج بن یوسف زور ڈال رہاتھا۔ جلاد سر کو تن سے جدا کرنے کیلئے تیار کھڑا رکھا ہوا تھا۔ اصل معاملہ حلالہ کی لعنت کو مسلط کرنا تھا۔ عربی میں بھی بعل اور زوج کا فرق واضح ہے اور قرآن میں بھی اور دونوں کا حکم بھی بالکل مختلف ہے اور احکام میں بھی بہت فرق ہے۔
سلام علی موسی و ہارونOانا کذٰلک نجزی المحسنینOانھما من عبادنا المؤمنینOوان الیاس لمن المرسلینOاذقال لقومہ الا تتقونOاتدعون بعلًا و تذرون احسن الخالقینOاللہ ربکم و رب اٰبائکم الاولینOفکذبوہ فانھم لمحضرونOالا عباد اللہ المخلصینO
سلام ہو موسیٰ و ہارون پر ،بیشک ہم محسنوں کو ایساہی بدلا دیتے ہیں، بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں تھے اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بعل کو بلاتے ہو اور احسن خالق کو چھوڑ تے ہو، اللہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آبا کا پس انہوں نے اسے جھٹلایا بیشک وہ حاضر کئے جائیں گے مگر اللہ کے مخلص بندے۔(سورہ الصافات:120تا128)
یہود عرصہ دراز سے اللہ کے احکام کو چھوڑ کر حلالے کا بعل بلاتے ہیں ۔
لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذٰلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لا یتنا ھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون O
”لعن کی گئی ہے کفار میں سے بنی اسرائیل میں سے (یہود) پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے۔ وہ منکر (حلالہ ) سے نہیں رکتے تھے جس سے منع کیا گیا تھا اور وہ کرتے تھے۔ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں” ۔(سور المائدہ آیت78،79)
لتجدن اشد الناس عداوة للذین اٰمنوا الیھود والذین اشرکوا و لتجدن اقربھم مودةً للذین امنوا الذین قالوا انا نصارٰی ذٰلک بان منھم قسّیسین و رھبانًا و انھم لا یستکبرونO
”آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی میں یہود اور مشرکوں کو پاؤگے۔اور محبت میں سب سے زیادہ قریب نصاری کو پاؤگے اسلئے کہ ان میں علماء اور صوفی ہیں اوروہ تکبر نہیں کرتے ”۔ (سورہ المائدہ آیت:82)
یہود اور مشرکین مکہ میں حلالہ کی لعنت بھی تھی اور جب کسی اور کی بیوی کے ممنوعہ ”بعل” بنتے ہوں توپھر تکبر بھی آئے گا۔
یہود حضرت موسیٰ وہارون کو مانتے ہیں اور قرآن نے ان پر سلام بھیجا ہے۔ حضرت علی اور ائمہ اہل بیت اطہار کے ساتھ صحیح بخاری اور پرانی ادب کی کتب میں علیہ السلام اور علیہا السلام لکھاہے اوریہ کشتی نوح کی طرح حلالہ کے گند سے بچے تھے۔ مسجد نبویۖ پر بارہ ائمہ اہل بیت کے نام آج لکھے ہیں اور مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہنے ان کو تصوف کیلئے اصل قرار دیا۔
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بڑی قربانی دی تھی والدہ ہند کے والد، چچااور بھائی کو غزوہ بدر میں امیرحمزہ اور علی نے قتل کیا تو ہند نے غزوہ احد میں حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ ام حبیبہ کی قربانی سے خاندان کو ہدایت ملی۔ امام حسن امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ امیر معاویہ نے مروان کو معزول اور اپنے بھتیجے ولید کو گورنر بنادیا۔ امام حسین سے جبری بیعت نہیں لی تو مروان بن حکم نے کہا کہ اس کو قتل کردیتے ۔ جس پر امام حسین نے کہا کہ ”زرقاء کے بیٹے تمہاری یہ اوقات نہیں ہے”۔ مروان بن حکم کو پہلے امام حسن نے بدتمیزی پر زرقاء کا بیٹا کہا تھا۔
شیعہ نے امام حسین سے دغا کیا اور لشکر یزید نے شہید لیکن یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حرنے امام حسین کا ساتھ دیا۔یزید کے بیٹے معاویہ نے امام زین العابدین کومستند خلافت پیش کی جبکہ عبداللہ بن زبیر نے مروان کی بیعت کو بھی قبول نہ کیا اور اس کو بیٹے عبدالملک سمیت مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔
بنوامیہ میں حضرت عثمان اور ابوسفیان اور مروان تینوں کے کردار کو ایک کھاتے میں ڈالنا غلط ہے۔ مروان اور عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں سے بھی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ قرآن سے دوری کے نتیجے میں حلالہ کی لعنت نے امت مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ ایران کے شیعہ بادشاہ اسماعیل صفوی کے دادا کا نام بھی اسماعیل صفوی تھا جو جدید ایران کا بانی سنی تھا، حلالہ سے بچنے کیلئے پوتا شیعہ بن گیا۔ اسلئے ایرانی اور ہندوستانی شیعوں میں بڑا فرق ہے۔ علامہ عارف واحدی کا جامعة الرشید میں خطاب خوش آئند ہے۔
جاویداحمد غامدی نرا بکواسی ہے۔اس کا یہ کہنا کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہوئی ۔ نبی ۖ نے اجتہاد کیا تھا ۔ رکانہ نے اپنی بیوی کو 3 طلاق دی تو نبیۖ نے ان کو پوچھا کہ نیت کیا تھی؟۔اس نے کہا کہ ایک طلاق کی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ حلف اٹھاؤ۔ اس نے قسم اٹھائی تو ایک قرار دی۔ (ابوداؤد )
جاویدغامدی نے کہا کہ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایسے معاملے میں قابل قبول ہے۔ اور یہ نبیۖ کا اجتہاد تھا ۔ جس سے اختلاف کی گنجائش تھی ۔حضرت عمر نے اسکے برعکس اجتہاد کیا اور تین کو تین قرار دیا اور ایک کا اعتبار ختم کیا۔ امت نے حضرت عمر کے اجتہاد کو قبولیت بخش دی۔ گنجائش دونوں پر عمل کرنے کی ہے لیکن نبیۖ کی طرف لوٹانا زیادہ بہتر ہے۔
جاوید احمد غامدی نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ایک عالم دین بھی تھے لیکن اپنی طلاق کا مسئلہ خود حل نہیں کیا بلکہ رسول اللہۖ کی خدمت میں پیش کردیا اور آپ نے سمجھادیا کہ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق اور عدت کا معاملہ ہے۔ علماء کے پاس اپنا معاملہ لیکر جانا چاہیے اور وہ جو بھی فتویٰ دید یں۔
جاویدغامدی نے ایک طرف میڈیا پر عوام کو شعور دینے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے اور دوسری طرف اپنا ٹھیہ بھی لگایا ہواہے تاکہ لوگ سب کو مان کر اس کا ٹھیہ منافع بخش کاروبار بنائے۔
” کل حزب بما لدیھم فرحون” ہر گروہ اپنی کمائی پرخوش ہے ۔یہ جتھے اور جماعتیں منافع بخش کاروبار ہیں۔
ولاتکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوة انکاثًا تتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون امة ھی اربٰی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبینن لکم یوم القیامة ماکنتم فیہ تختلفونO
” اس جماعت کی طرح مت بن جاؤ ، جو اپنا سوت قوت کے بعد توڑ ڈالے۔ تم آپس میں عہد منشور کو بناتے ہو تا کہ ایک جماعت دوسری سے زیادہ منافع بخش بن جائے بیشک اللہ تمہیں اس
سے آزماتا ہے تاکہ قیامت کے دن تمہیں پتہ چل جائے کہ تم کس بات پر آپس میں اختلاف کررہے تھے”۔ (سورہ نحل :92)
جاوید غامدی نے جمع پونجی کی قوت طلاق اوربکواس کی نذر کردی۔ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کا واقعہ دیکھتے تو مسئلہ طلاق پر بک بک نہ کرتے۔ رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار عدت میں تین طلاقیں دیں۔ تکمیل عدت پر معروف کی شرط یعنی رضامندی سے رجوع کی بجائے معروف طریقے سے الگ کیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کیا۔ اس نے بعد میں نامرد ہونے کی شکایت کی اور حضرت رکانہ کے والد عبد بن یزید نے اس کو طلاق دی ۔ پھر رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا مجھے علم ہے اور پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ ابوداؤد
ان دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ سورہ طلاق کی تفسیر اور تین طلاق سے حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ابوداؤد کی حدیث سے زیادہ بڑی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک رکانہ سے قسم کھلانے کا تعلق ہے تو جس طرح عبداللہ بن عمر پر نبیۖ بہت غضبناک ہوگئے تھے تو والدین کے واقعہ کے بعد رکانہ کی ٹھیک طرح سے خبر لی جاتی کہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے لیکن جب قسم کھائی تو یہ نبیۖ کے دربار میں طیش سے بچ نکلے۔
یہ تو انتہائی گھناؤنی بات ہے کہ عوام کی عزتوں کو مذہبی طبقہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور بیوی کے حسن و جمال کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔ واہ غامدی واہ۔ تجھ سے عیسائی خنزیر بھی نہ چرائیں کہ کیا اٹکل پچھو کرلے گا؟۔
قرآن وسنت میں معاملہ اتنا واضح ہے کہ آج دنیا ساری کی ساری قرآنی انقلاب کا ثمرہ ہے۔ عیسائی طلاق نہیں مانتے اور آج قرآن وسنت کے مطابق طلاق بھی دنیا میں رائج ہے اور روس جیسے ملک کا بھی عدت اور اس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا قانون ہے۔ حضرت عمر اورحضرت علی نے کوئی اجتہاد نہیں کیا تھا بلکہ اکٹھی تین طلاق اور حرام کے لفظ پر جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
جیسے یہ کہنا غلط ہوگا کہ رکانہ کے والد نے کسی اور عورت سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دینے کے بعد پہلی کیلئے حلال ہوگئے تو ویسے یہ غلط کہ حسین نے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق کے بعد نکاح کرکے حلالہ کیا۔اس اتفاق سے شیعہ غلط فہمی میں پڑا۔ زید بن باقربن زین العابدین بن امام حسین نے اپنی کتاب ”المجموع” میں لکھا کہ ”عربی عورت کفو کے بغیر نکاح کرے تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر، ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر اور تین کے بعد تحلیل کے بغیر پہلے شوہر سے نکاح جائز ہوگایا نہیں ”۔ حالانکہ یہ تحلیل بکواس ہے۔ اس سے زیادہ مسلک حنفی قرآن کے عین مطابق تھا۔
عائلی قوانین1964ء پاکستان میں طلاق کی عدت اور آپس کی اصلاح سے رجوع کا قانون اور طلاق رجعی ومغلظ کا خاتمہ عالم اسلام ہی نہیں اسرائیل کے کٹر یہود کو بھی ہزاروں سال بعد پہلی مرتبہ حلالہ کی لعنت سے نکال دے گا اور وہ اسلام کی عالمی خلافت کو اپنی عورتوں کی عزت کے بچاؤ کیلئے بخوشی قبول کریں گے اور بیت المقدس بھی مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے۔
گورنر بصرہ مغیرہ بن شعبہ کے خلاف تین افراد نے زناکی گواہی دی اور زیاد نے کہا : ورأیت استہ یضرب استہاو رجلاھا کاذنی الحمار ”میں نے دیکھا کہ مغیرہ کی سرین ام جمیل کی سرین سے ملی ہوئی ہے اورام جمیل کی دونوں ٹانگیں گویا گدھے کے کان کی طرح کھڑی ہیں”۔تین گواہ ابوبکرہ، نافع ، شبل کے نام صحیح بخاری میں ہیں۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد آل مروان نے حلالہ کی لعنت کو تسکین کا ذریعہ بنایاتھا۔ نبیۖنے سمندر کی طغیانی کے مانند فتنے کا ذکر کیا تھا۔ قرآن کی سورہ بنی اسرائیل آیت60میں رسول اللہ ۖ کے خواب کا پوری دنیا پر غلبہ اور قرآن میں شجر ملعونہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پہلے یہود خدا کے غضب کا شکار تھے اور آج ان کی اتباع میں مسلمان بھی بن گئے ہیں۔
ماحول میں مسئلے کا پتہ نہیں ہو تو یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کے دور میں ظہار کا منکر قول اور جھوٹ رائج تھا تو ایک عورت کے مجادلہ پر سورہ مجالہ نازل ہوئی ۔ جب نبیۖ ماریہ قبطیہ سے حرمت کا مروجہ معاملہ کیا تو سورہ تحریم نازل ہوئی اور جب حضرت زید نے بیوی کو تین طلاق دی اور نبیۖ نے چاہا کہ وہ اپنے پاس روکے رکھے تو حضرت زینب پہلے بھی ایک شوہر سے نکاح کرچکی تھیں اور38سال عمر تھی پھر حضرت زید سے بھی شادی ہوئی اوراس کے ذریعے جاہلیت کا ایک مسئلہ حل کرنا تھا جو بے غیرت سوتیلی ماں سے شادی کرتے تھے لیکن منہ بولے بیٹے کی بیوی کو طلاق کے بعد حقیقی بہو سمجھتے تھے۔
حضرت زینب سے پہلے حضرت زید کی شادی حضرت ام ایمن سے ہوچکی تھی جس سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے تھے اور اس کے علاوہ مکی دور میں ایک اور نکاح حضرت ابوبکر کی بہن حضرت شمامہ بنت قحافہ اور پھر مدینہ میں حضرت ہند بنت لبید انصاری خاتون سے ہواتھاپھر3یا4ھ میں حضرت زینب سے نکاح ہوا اور خود ان کی چاہت تھی کہ نہیں رکھے۔ ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ شادی کا دروانیہ رہا ۔ حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب کی طلاق کے بعد معزز قریشی خاتون ام کلثوم بنت عقبہ سے نکاح کیا جن سے زیداور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے۔ دوسرا نکاح رسول اللہ ۖ کی چچازاد درہ بنت ابی لہب سے ہوا۔ پھر ہند بن عوام سے ہوا جو رسول اللہ ۖ کی پھوپھی حضرت صفیہ کی بیٹی اور زبیر بن عوام کی بہن تھیں۔
اللہ نے سورہ حج میں مذہبی تعصبات کا خاتمہ ، خلافت کے قیام اور مختلف انبیاء کرام اور اقوام میں اچھے بروں کی نشاندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال ایک دن کے برابر ہے۔ گویا اسلام کی نشاة اول کے بعد سے موجودہ دور تک ڈیڑھ دن بھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور پھر خلافت کا راستہ پوری دنیا میں ہموار ہوجائے گا اور حق پر عمل کرنا پڑے گا۔
وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO
”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کردیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ” ۔ (سورہ حج آیت52)
اگلی دوآیات53اور54میںاہل باطل اور اہل حق کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیات میں انقلاب کی آمد تک اہل باطل کو قرآن سے شک میں پڑے رہنے کی اور انقلاب کی وضاحت ہے۔
صحابہ کرام اسلام سے قبل مردہ زمین کی طرح تھے لیکن پھر نبیۖ کی صحبت اور قرآن کے احکام سے نہ صرف خود زندہ ہوگئے بلکہ پورے عالم بھی زندگی کا زبردست غلغلہ مچادیا تھا۔
خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا
قرآن کا شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت سے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں حضرات انبیاء کرام کے بعد شیطانی القاؤں سے زندہ ہے اوراس کی تاریخ جنت سے نکالنے کیلئے شروع ہوئی ہے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم کو حضرت حواء کا زوجہ بنادیا لیکن بعل بننے سے روک دیا تھا۔ قابیل نے بھی غلط بعل بننے کیلئے ہابیل کو قتل کردیا تھا۔ امت مسلمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی نیک نیتی کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ ۖ کی تمنا میں شیطان نے اپنی کاروائی کی اور آج تک امت مسلمہ ایک بہت بڑے عذاب کا شکار ہے۔
عبداللہ بن عمر نے بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی تو حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو خبر دی کہ بہو نے گھر میں رونا دھونا مچا رکھا ہے جو ایک فطری بات تھی۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو تو حضرت عمر نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں؟۔
نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم دیا تو اسلئے تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی تھی لیکن عبداللہ نے اس سے طلاق رجعی کا غلط تصور لیا اور کہا: ”اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔(بخاری) یوں بنی زرقاء کو موقع ملا کہ اکٹھی تین طلاق کو مغلظ قرار دیں اورحضرت عمر کا سہارا بنائیں ، حضرت علی نے عورت راضی نہ تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ علی کو سورہ تحریم سے انکار اور کافر و جہنمی قرار دے دیا۔ بخاری ، مسلم ،ابوداؤد ، نسائی اور تاریخ میں سب واضح ہے لیکن ہٹ دھرم نہیں مانتے۔
لعنت حلالہ سے بچنے کیلئے قرآن میں ایک آیت بھی کافی تھی لیکن اللہ نے بہت ساری آیات کی ڈیفنس لائن لگادی ۔
1: حلالہ کیخلاف پہلی دفاعی دیوار
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرینO
”اور تجھ سے حیض کی حالت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ اذیت ہے ،پس حیض کی حالت میں عورتوں کو چھوڑ دو اور انکے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جیسا تمہیں اللہ نے امر کیا ، بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی والوں کو پسند کرتا ہے”۔ (البقرہ آیت222 )
یہاں حیض کی حالت کو اذیت قرار دیا گیا۔اس میں عورتوں سے فاصلہ رکھنے کا حکم ہے اور جب پاک ہوجائیں تو اللہ نے جیسا حکم دیا ویسے آئیں اور اذیت سے توبہ اور ناپاکی سے پاکی اختیار کرنے والوں کو اللہ نے پسندیدہ قرار دیا ہے۔
”الا لہ الخلق والامر” خبردار اسی کیلئے تخلیق اور امر ہے۔ عورت کو حیض آتا ہے تو یہ اذیت اس کی تخلیق ہے اور مردوں کو اس میں دور رہنے اور جب پاک ہوجائیں تو امر کے مطابق ہی ان کے پا س آنے کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں پر اللہ نے تخلیق میں امر کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کیا تھا۔ فرمایا:
ولوط اذقال لقومہ انکم لتاتون الفاحشة ما سبقکم بھا من احدٍ من العالمینOائنکم لتاتون الرجال و تقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقینOقال رب انصرنی علی القوم المفسدینO
”اورلوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم فحاشی کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ تم آدمیوں کے پاس آتے ہو اور جائز راستہ منقع کرتے ہو اور پھر اعلانیہ معروف کی جگہ منکر کرتے ہو۔تو قوم کا جواب نہیں تھا مگر یہ کہ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ کہا کہ اے میرے رب میری مدد فرما قوم فساد کرنے والوں پر ” ۔(عنکبوت:28تا30)
قرآن میں واضح ہے کہ عورت کی تخلیق اور اس کے پاس امر کا حکم کیا ہے؟۔ دونوں راستوں میں سے کونسا راستہ ہے؟۔ جہاں سے حیض آتا ہے معروف راستہ ؟ یا جو مردوں عورتوں میں یکساں ہوتا ہے منکر اور فحاشی کا راستہ؟۔ غلط تو اگر مرد بھی بنتے ہیں تو ٹھنڈے نہیں ہوتے۔لیہ کے حافظ حاشر نے بدمعاش بدکار کیلئے اپنے باپ کا قتل کیا اسلئے کہ پیاس نہیں بجھ رہی تھی۔
علماء نے قوم لوط کی تفسیر کی وہ راستے میں ڈکیتی کرتے تھے لیکن اصل راستہ کو بھول گئے کہ جرم کیا تھا جو بالکل واضح ہے۔ عورت کی عدت میں اضافہ بھی اذیت ہے اور جس طہر میں اس کو طلاق دی جائے تو اس سے پہلے حیض بھی اس عدت کا حصہ خود بخود بن جاتا ہے۔ علماء غلط پڑھاتے ہیں کہ عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت منع ہے۔ حضرت عائشہ نے بھی تین اطہار قرار دیا۔ نبیۖ نے بھی عدت اور طلاق کو تین اطہار کے ساتھ واضح فرمایا لیکن حنفی مسلک میںریاضی کے فہم عقل اور قرآن وسنت سے عاری احمقوں نے اصول فقہ میں یہ شامل کیا کہ ”قرآن کے خاص پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 3عدد خاص ہے جس طہر میں طلاق دی جائے تو اسکا کچھ حصہ شمار ہوگا تو تین کی جگہ ڈھائی بن جائیگا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے اسلئے کہ پھر وہ طہر بھی شمار ہوگا اور تین کی جگہ ساڑھے تین بن جائیگا۔ روزہ میں کچھ کھائے بغیر سورج نکلنے کے بعد بھی روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا ہے اور جس طہر میں مباشرت نہ کی ہو تو وہ طہر بھی پورا شمار ہوگا۔ علماء لکھتے ہیں کہ عدت الرجال طہر اور عدت النساء حیض ہے۔ مگر کرکٹ میں یہ ممکن ہے کہ دن میں بال کی جائے اور رات کو شارٹ مارا جائے؟ اور یہ بہت بڑی حماقت ہے۔ نبی ۖ نے عدت و طلاق کے متعلق تین طہروں کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ نے فرمایا:
یا ایھا لنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن
”اے نبی جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کیلئے دو”۔ (سورہ الطلاق ) جس کامولویانہ ترجمہ یہ بنے گا کہ جب تم لوگ طلاق دو تو حیض کیلئے طلاق دو۔ حالانکہ حیض میں ویسے بھی مقاربت منع ہے اسلئے مولوی ترجمہ وتفسیر نہیں جانتا۔
ان ساری چیزوں کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت کیلئے سب سے بڑی اذیت حلالہ کی لعنت ہے جس کو علماء نے باقاعدہ سزا قرار دیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ عورت کو ایسی اذیت اور سزا دے سکتا ہے جس میں حلالہ کی فحاشی والی لعنت ہو؟۔ جب چھوٹی چھوٹی اذیتوں کا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کا عادی بنادیا جاتا ہے تو پھر وہ گدھی کی طرح حلالہ بھی گدھے سے کرواتی ہے۔
عربی کی کسی لغت میں اذًی کا معنی گند نہیں ہے لیکن علماء نے اس کو گند قرار دیا ہے۔ عربی میں گند کو ”قذر” کہتے ہیں۔ آیت کے آخرمیں توبہ اور طہارت کا ذکر ہے۔ توبہ اذیت سے ہوتی ہے اور طہارت گند سے دور رہنے کی وجہ سے ہے۔ آیت میں دونوں چیزوں کا ذکر ہے اسلئے کہ حیض کی حالت کو ”قذر” کہنا عورت کی توہین اور الفاظ کا چناؤ غلط ہوتا لیکن ساتھ میں اذیت سے مقصود عورت کو تخلیقی و شرعی امور میں اذیت سے بچانا ہے۔
ولونزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبینO
”اور اگر ہم آپ پر کتاب کو کاغذ میںلکھا ہوا اتارتے تو اس کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے تو ضرور کفر کرنے والے لوگ کہتے کہ بیشک یہ تو کھلا جادو ہے”۔ (سورہ الانعام آیت:7)
مولوی بنتے وقت اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن لکھائی میں اللہ کا کلام نہیں صحف تو نقش ہے۔ حالانکہ مکتوب فی المصاحف جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔ یہ فقہی مسئلہ کہ قرآن کے مصحف پر حلف بھی نہیں ہوتا ہے۔زبانی قرآن کی قسم کھائی جائے تو حلف اور کفارہ بنتا ہے۔ ایک طرف دلا اور دلال کہتا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں اور دوسری طرف فتاویٰ قاضی خان سے فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی، مفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان اور مولانا الیاس گھمن تک کی بکواس کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ سے توبہ کی اور مدارس میں وہی پڑھا رہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم و حواء دونوں کو نیچے اترنے کا حکم دیا اور حواء کے پیٹ میں قابیل بھی تھا تو سب بعض بعض کے دشمن بننے کا کیا مطلب ہے؟۔ حضرت آدم و حواء نے توبہ کی اور قابیل کم بخت نے ہابیل کو قتل کرکے ہدایت پر عمل نہیں کیا ۔ امریکہ عرب ممالک وایران ، اسرائیل وفلسطین اور دنیا بھر میں ایکدوسرے سے دشمنی بالکل قرآن کی واضح تفسیر ہے۔
یا ایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذرو ھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمOانما اموالکم و اولادکم فتنة واللہ عند ہ اجر عظیمOفاتقواللہ ما استطعتم واسمعوا وا طیعوا وا نفقوا خیرًا لانفسکم و من یوق شخ نفسہ فاولٰئک ھم المفلحونO
”اے ایمان والو! بے شک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے لئے دشمن ہیں پس ان سے بچتے رہواور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بھی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ پس اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہوسکے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ، یہ تمہاری اپنی جانوں کیلئے بہتر ہے۔جس نے اپنی جان کو لالچ سے بچایا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔(التغابن14تا16)
اللہ نے بتایا کہ شیطان نے کس طرح آدم کو اولاد اور ہمیشہ کی بادشاہت کا لالچ دیکر ورغلایا؟۔ حوا ء زوجہ تھیں مگر ازدواجی تعلق سے اللہ نے منع کیا تھا۔ بنوامیہ وبنو عباس نے اولاد کیلئے ہمیشہ کی بادشاہت کی لالچ میں حلالہ کی لعنت کو رواج دیا تھااور خلفاء راشدین نے خود کو اس لالچ اور فتنے سے محفوظ رکھا تھا۔
حضرت علی کی اولاد نے حلالہ کی لعنت نہیں قرآن کی طرف دعوت دی مگر ان پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کو جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا تھا۔ شیطان نے بھی حکمران اور مذہبی طبقات کو روغلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
2: حلالہ کیخلاف دوسری دفاعی لائن
نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انیٰ شئتم و قدموا لانفسکم واتقوا اللہ واعلموا انکم ملاقوہ و بشرالمؤمنینO
تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں پس اپنے اثاثہ کے پاس جیسے چاہو آؤ اور نیکیاں اپنے لئے آگے بھیجو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم نے اس سے ملنا ہے اور مؤمنوں کو بشارت دو”۔ (سورہ بقرہ آیت:223)
جیسا کہ انگریزی اور اردو میں بھی جو بیٹا یاشاگرد زیاہ اچھا لگتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ میرا اثاثہ ہے۔ قرآن میں اثاثہ کھیتی کیلئے بھی آتا ہے اور اثاثہ جات کیلئے بھی۔ جیسے جو دنیا کا اثاثہ چاہتا ہے اور جو آخرت کا اثاثہ چاہتا ہے۔ تو اس کیلئے بھی حرث استعمال ہوا ہے۔ کیمسٹری میں عناصر Properties اثاثہ جات۔ مالیکیول عناصر کا گچھا ۔عنصر آزاد حالت میں نہیں ہوتا ہے اور ان کو آپس میں جدا کرنے کیلئے جدید سائنس کا استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”میں نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کی ہیں”۔ نکاح کے خطبے میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی ہے۔ عورت کو کھیتی قرار دینا عورت کی توہین ہے کھیتی سے بلی اور کتے کے زیادہ حقوق ہیں۔
اگر مولوی کھیتی کا حق دے تو بھی صحیح لیکن عورت کی حالت تو حلالہ کی لعنت پر کھیتی سے بھی بدتر بنتی ہے۔ اذیت اور تذلیل کی انتہا اور پھر اللہ کے نام پر؟۔ جیسا ایک قیمتی اثاثہ کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے اس طرح شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان الفاظ کے گورکھ دھندے سے رکاوٹ کھڑی کرنا انتہائی غلط بات ہے جس کیلئے اللہ نے بڑی واضح آیات نازل کی ہیں جو بالکل محکمات ہیں اور ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتی ہیں لیکن شیطان کھلا دشمن ہے اسلئے زیادہ مضبوط بند باندھ دیا۔
3: حلالہ کیخلاف تیسری دفاعی لائن
ولا تجعلواللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس و اللہ سمیع علیم
”اور اپنے عہدوں کو ڈھال مت بناؤ کہ نیکی کرو اورتقویٰ اختیار کرو اور لوگوں میں صلح کراؤاللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (البقرہ224)
یہ حلالہ کی لعنت کے خلاف آہنی دیوار ہے۔میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ سے زیادہ بڑا غلط معاملہ کیا ہوسکتا ہے؟۔ یہی نیکی اور تقویٰ ہے کہ دونوں میں تفریق نہیں ہونے دی جائے اور حلالہ تو انتہائی درجہ جرم ہے۔ حکمران، شیطان اور آدم کی اولاد نے حلالہ کیلئے راستہ بنانا تھا لیکن وہ دفاعی دیوار تھی کہ خود کش حملوں اور ایٹم بم بھی اس پر اثر نہیں کرسکتا تھا۔
یہاں یمین سے مراد حلف نہیں ہے بلکہ جن الفاظ سے شوہر اور بیوی کو یہود اور یہود نما مذہبی طبقات نے آپس میں صلح سے روکنا تھا اور نیکی اور تقویٰ میں رکاوٹ ڈالنی تھی اس مسئلے کا حفظ ما تقدم کے طور پر حل ہے۔ اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان صلح کو ناممکن قرار دیا جائے اور حلالہ جیسی فحاشی کے حکم کا توکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہاں اللہ نے فیصلہ کردیا کہ صلح میں رکاوٹ کھڑی کرنا اللہ کے نام پر فتویٰ نہیں بلکہ بالکل واضح فراڈ ہے۔
قرآن کی آیات ایک دوسرے سے فصل بھی ہیں اور مربوط اور ایک دوسرے کی تفسیر بھی۔ سورہ مائدہ میں واضح ہے کہ وہاں یمین سے مراد طلاق نہیں حلف ہے۔
ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم
”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو” ۔ (سورہ المائدہ آیت:89)
جہاں تک طلاق سے متعلق حلف کی بات ہے تو نبیۖ کا حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالے سے حرمت کی بات طلاق والی یمین تھی۔ علامہ فریدالدین دہلوی کی تالیف”فتاویٰ تاتار خنہ” پر مدرسہ شاہی مراد آباد ہندکے مفتی محدث شبیراحمد قاسمی نے بھی لکھا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اگر تمہاری شرمگاہ سے میری شرمگاہ خوبصورت نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے ۔میری لونڈی آزاد ہے ۔ کھڑے تھے تو مرد سے زیادہ عورت کی خوبصورت ہے اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی خوبصورت ہے اور ایک کھڑا اور دوسری بیٹھی ہو تو مجھے بھی پتہ نہیں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل ۔فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ دونوں کا یمین واقع ہونا چاہیے۔ (مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)
یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم واللہ مولاکم و ھو العلیم الحکیمO
"اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے اپنی بیویوں کی خوشنودی کیلئے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ نے تمہاری حرمت کے ایمان کو حلال کرنا فرض کردیا ہے وہ تمہارا مولی ہے اور علیم حکیم ہے”۔ سورہ تحریم
صحیح بخاری میں بیوی کو حرام کہنے پر اختلافی ١قوال ہیں اور حسن بصری نے بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے کہ حرام کہہ دیا تو حلالہ کرنا ہوگا اور بعض نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام کی طرف منسوب کیا ہے کہ حرام تین طلاق ہیں۔ بے غیرت قرآن کو نہیں دیکھتے؟۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام اس طرح کے جاہل نہیں تھے انہوں نے قرآن کے عین مطابق ہی فیصلہ کیا لیکن سبھی فرقے والے اپنے مذہب پر ڈرتے ہیں۔
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فراز اپنی جگر کاویوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاع ہنر بھی صدا کسی کی نہیں
4: حلالہ کیخلاف چوتھی دفاعی لائن
لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفورحلیمO
”اللہ تمہیں تمہارے لغو یمین سے نہیں پکڑتا مگر تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا اور غفور حلیم ہے”۔ (البقرہ225)
لغو یمین سے یہاں مراد طلاق والی لغو یمین ہے اور وہ پھر کیا ہے؟۔ جو سورہ تحریم میں حرام کے لفظ میں واضح ہے۔ اسکے بھی علاوہ جتنے الفاظ طلاق صریح اور کنایہ کے نام پر مذہبی طبقے نے یہود کے نقش قدم پر رائج کئے ہیں وہ سبھی لغویات ہیںاسلئے کہ اس سے پیشتر آیت میں ملاؤں کو خدا نے تنبیہ کی ہے کہ یہود کی پیروی میں میاں بیوی کے درمیان صلح میں کوئی رکاوٹ اللہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح تمام لوگوں صلح ہوسکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ دل کا گناہ کیا ہے؟۔ اس کی اگلی آیات میں تفسیر ہے کہ طلاق کا اظہار کیا تو تین ماہ اور اظہار نہ کیا تو عدت چار ماہ لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ اس پر پکڑ ہے۔
5: حلالہ کیخلاف پانچویں دفاعی لائن
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO
”جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں ان کیلئے چار ماہ ہیں پس اگر وہ آپس میں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر ان کا طلاق کا عزم تھا تو سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ226،227)
رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر رجوع کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورت کو تکلیف نہیں دے سکیں۔ نبیۖ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ والدین سے خواب مشورہ کرکے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ یہ میرا کام ہے والدین کی ضرورت نہیں ، میں رہتا چاہتی ہوں ۔
ناراض ہونا مرد کا حق ہے لیکن راضی ہونا عورت کا حق ہے اور اگر عورت کا حق چھین کر مرد ناراض ہوتا رہے تو خدا بھی اس تکلیف میں ذمہ دار ہوتا جس کی وجہ سے عرب و عجم عورتوں میں الحاد کا بازار گرم ہے اور مذہبی طبقہ حقائق نہیں جانتا اور کانوں کو نیچے کرکے تماشائی بنا ہوا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر جواب دیں۔
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO
”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کیا اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ان پر ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔ اللہ عزیز حکیم ہے”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)
یہ آیت طلاق ، عدت ، رجوع اور بیوی و شوہر کے درمیان برابری کے حقوق کیلئے سنگ میل ہے۔ عائلی قوانین1964ء آئین پاکستان میں یہ آیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلاق اور اس سے رجوع کا تعلق باہمی رضامندی کیساتھ عدت کے ساتھ ہے۔ عدت میں شوہر کو رجوع اور بیوی کو انکار کا پورا پورا حق ہے۔ اس نے حلالہ کو دریا مردار میں غرق کردیا ہے۔ دنیا کی اسلام کی نشاة ثایہ کیلئے پہلی عظیم ریاست پاکستان ہے جس میں قرآن وسنت کے مطابق آئیں سازی کی گئی ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ حلالہ کیلئے نہیں دیا بلکہ قرآن نے انکار کا حق دیا اسلئے کہ خلع میں عورت کے کم حقوق اور طلاق میں زیادہ ہیں۔
سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت20میں طلاق کے حقوق بالکل واضح ہیں۔ بڑے علماء نجی مجالس میں مانتے ہیں لیکن عوامی سطح پر مفتی تقی عثمانی سے خوف کھاتے ہیں کہ مدرسہ کے بورڈ وفاق المدارس پاکستان سے نکلوا دیں گے۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کی زندگی میں ان کا بیان شائع کیا تھا۔
قرآن کا مرکزی نقطہ تمام آیات میں باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن فقہ کی کتابوں میں قرآن کی بنیادی شرط کو فقہاء نے کرائے کے بکروں کی طرح کھالیا ۔
6: حلالہ کیخلاف چھٹی دفاعی لائن
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسانٍ ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے ان تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق والی عورتوں سے کچھ بھی واپس لو ۔ (احسان کیساتھ رخصت کا مطلب اپنے حق سے زیادہ دو ، جو نہیں دیا وہ بھی دو اور جو ان کو دیا ہے وہ واپس لینا خنزیر کے گوشت کی طرح حرام ہے) مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگر اس میں کوئی خاص چیز نہیں دی اوراے فیصلہ کرنے والو!تمہیں بھی یہ خوف ہو کہ واقعی دونوں اس دی ہوئی چیز کو واپس کئے بغیر اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے عورت کی عزت بچانے سے زیادہ اہم نہیں اسلئے فدائی حملے کی طرح قربان کی جائے تو دونوں پر حرج نہیں اور یہ سب اللہ کی واضح حدود ہیں جو بھی ان سے تجاوز کرے تو حقیقت میں وہی لوگ ظالم ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت229)
تین طلاق کے بعد سورہ طلاق میں بھی عورت کی صلح لازمی ہے اور یہاں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے اور سورہ النساء آیت35میں بھی دونوں طرف سے حکم مقرر کرنے کی بات واضح ہے۔ سورہ النساء آیت20،21میں بھی طلاق کے مالی حقوق واضح ہیں لیکن یہاں ایک ااستثناء ہے کہ بعد میں رابطے کا ذریعہ کوئی چیز بنتی ہو جس سے دونوں میں جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر وہ چیز واپس کی جائے اور یہاں یہ کنفرم ہے کہ عورت فدیہ دینے کے بعد رجوع نہیں چاہتی تو اس کے بعد یہ حکم ہے:
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعاان ظنا ان یقیما حدوداللہ وتلک حدود اللہ یبینھا لقومٍ یعلمونO
”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پس اگر اس نے طلاق دیدی تو دونوں پر رجوع کرنے میں حرج نہیں اگر وہ گمان رکھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو سمجھ والوں کیلئے بیان کرتا ہے”۔ (البقرہ230)
یہ طلاق حلالہ کیلئے نہیں ہے بلکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو اس کی مکمل آزادی کیلئے ہے تاکہ شوہر اس پر کہیں بھی شادی کرنے میں کوئی قدغن نہ لگائے۔ اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ اگلی پچھلی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کی بالکل واضح الفاظ میں وضاحت ہے اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی درسگاہ میں مولانا بدیع الزمان صاحب نے نورلانوار ملا جیون میں یہی پڑھایا تھا اور اس کو احادیث کے خلاف لانے پر میری تائید کی فرمائی تھی۔ دوسری آیت نے پہلی کی توثیق کردی جیسا کہ دوبھائی ایک مدرسہ میں رہتے ہوں۔ تقی نے مرحلہ وار تین طلاقیں حکم کی موجودگی میںدیں۔ کوئی چیز گھر بار وغیرہ واپس نہیں لی مگر موبائل کی سم کا خطرہ ہے کہ اگر وہ نہیں دی تو یہ قریب میں دوسرے بھائی کے پاس رہتی ہے اور رابطہ ہوگا اور حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اسلئے وہ سم واپس کردی۔فیصلہ ہوگیا اور وہ عورت اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے بالکل آزادی کیساتھ دوسرے بھائی رفیع سے نکاح کیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ان میں ناچاقی ہوگئی ،اس نے بھی طلاق دی اور اب اس شرط پرپہلے سے رجوع کی اجازت ہوگی کہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اگر تقی کو گمان ہو کہ وہ نامرد طرح کا ہے اور جنسی تسکین نہ کرسکے گا اور عورت کو بھی گمان ہو کہ رفیع کی مردانہ قوت زیادہ ہے اور تقی سے دوبارہ نکاح کیا تو رفیع کے ساتھ جنسی تعلق کا خدشہ رہے گا تو پھر رجوع جائز نہیں ہوگا۔ قرآن کے واضح الفاظ میں ابہام نہیں ہے۔ احادیث میں نامردوں کے ذریعے حلالہ کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا لیکن بنادئیے گئے۔ صحابیات اور صحابہ کرام کے بارے میں نامرد کی باتیں تو وزیرستان کے محسود کہتے ہیں کہ ” شریعت میں شرم نہیں ہے”۔ لوگوں کو آیات واضح سمجھانا مقصد ہونا چاہیے۔
7: حلالہ کیخلاف ساتویں دفاعی لائن
واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ و لا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و ماانزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیمOواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر و اللہ یعلم وانتم لاتعلمونO(سورہ البقرہ 231،232)
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکے اور وہ عدت پوری کرچکیں تو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور ان کو ضرر کیلئے مت روکو تاکہ حدود کو پھلانگ جاؤ۔ اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ تم لوگ مت بناؤ اللہ کی آیات کو مذاق کا ذریعہ ۔ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے کتاب میں احکام کی آیات کی نعمت کو نازل کیا ہے اس کو یاد کرو اور جو تمہیں حکمت دی ہے اس سے کام لو جس کے ذریعے تمہیں وعظ کیا جاتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو ان کو مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ یہ نصیحت صرف ان کیلئے ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔
ان آیات میں عدت کی تکمیل کے بعد اور تاحیات میاں بیوی جب بھی رجوع کرنا چاہیں تو حلالہ کی لعنت کو رکاوٹ بنانا تزکیہ اور طہارت کی جگہ بہت بڑا گند ا دھندہ ہے لیکن مفتی دلا خود بھی آیات نہیں سمجھتا اور جس کو اللہ نے سمجھ دی ہے اس کی بھی نہیں مانتا اسلئے کہ ان کا ریاستی ڈھانچہ ختم ہوگا۔ جب لوگ ان کے کہنے پر بیویاں حلالہ کے نام پر چدھوا سکتے ہیں تو خود کش اور جان کی بازی دینا کونسی بڑی بات ہے؟۔ پہلی کڑی اسلام کی میاں بیوی کے درمیان حکم کے بعد جدائی کا فیصلہ زرقاء کے بیٹے مروان بن حکم نے ختم کیا ۔جاوید غامدی اور مفتی تقی عثمانی کو اسلام نہیں زرقاء کے بیٹے کی پشت سے نکالا ہوا جھوٹ چاہیے حکم نہ ماننے کی وجہ سے خوارج پیدا ہوگئے ،یہ انکا دین ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی ماحول میں بھی دورہ حدیث اور شیخ الحدیث کا تصور نہیں تھا۔ ختم بخاری کا دلہا حلالہ کیلئے تیار ہوتا ہے حالانکہ بخاری میں طلاق کے حوالے سے سبھی احادیث کو بے بنیاد جگہ جوڑ دیا گیاہے لیکن رفع الیدین کی حدیث نہیں مانتے اور حلالہ کی غلط روایت جس کا کوئی جواز نہیں مانتے ہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv